6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsروح القرآن

Ayah 6:9

وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ مَلَكًا لَّجَعَلْنٰهُ رَجُلًا وَّ لَلَبَسْنَا عَلَیْهِمْ مَّا یَلْبِسُوْنَ Open ayah 6:9 in the Quran reader

اگر ہم رسول بنا کر بھیجتے ‘ کسی فرشتہ کو تو وہ بھی آدمی ہی کی صورت میں ہوتا اور ان کو اسی شبہ میں ڈالتے ‘ جس میں اب پڑ رہے ہیں

وَلَوْ جَعَلْنٰہُ مَلَکًا لَّجَعَلْنٰہُ رَجُلًا وَّ لَلَبَسْنَا عَلَیْھِمْ مَّا یَلْبِسُوْنَ ۔ (الانعام : 9) (اگر ہم رسول بنا کر بھیجتے ‘ کسی فرشتہ کو تو وہ بھی آدمی ہی کی صورت میں ہوتا اور ان کو اسی شبہ میں ڈالتے ‘ جس میں اب پڑ رہے ہیں) کیا پیغمبر انسان نہیں ہوتے ؟ مشرکینِ مکہ کے اس مطالبے کا ایک پس منظر ہے۔ وہ یہ ہے کہ باقی بہت سی قوموں کی طرح ان کا انسان کے بارے میں یہ تصور تھا کہ وہ فرشتوں کے مقابلے میں ایک کم تر درجہ کی مخلوق ہے اور اللہ کا نمائندہ اور اس کا پیغمبر چونکہ اللہ سے قریبی تعلق رکھنے کا دعویٰ رکھتا ہے اور وہ یہ کہتا ہے کہ میں اللہ کی طرف سے پیغام وصول کرتا ہوں اور انسانوں تک پہنچاتا ہوں۔ ظاہر ہے ‘ اللہ سے باتیں کرنا ‘ اس کے احکام سننا اور اس کا پیغام وصول کرنا ‘ یہ کسی انسان کا کام تو نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ کام انسان کے مرتبے سے بہت بلند ہے۔ اس لیے کسی پیغمبر کا انسان ہونا یا کسی انسان کا پیغمبر ہونا ‘ یہ ان کے نزدیک ناقابل فہم بات تھی۔ عجیب بات یہ ہے کہ قرآن کریم نے کئی جگہ اس کا تذکرہ کیا اور خود رسول اللہ ﷺ کی زبان سے قرآن کریم میں یہ اعلان کروایا گیا کہ میں انسان ہوں ‘ فرشتہ نہیں۔ لیکن اس کے باوجود مسلمانوں میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں ‘ جو انسان کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اس لیے وہ اس بات کو ماننے کے لیے تیار نہیں کہ انسان پیغمبر بھی ہوسکتا ہے یا پیغمبر انسان ہوسکتا ہے۔ جہاں جہاں قرآن کریم نے پیغمبر کے انسان ہونے کو واضح کیا ہے ‘ وہ ان مقامات کی عجیب و غریب تأویلیں کرتے ہیں حالانکہ بالکل سامنے کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی بعض آیات میں انسان کی عزت و عظمت کی گواہی دی ہے اور ایسی جگہوں کی قسم کھائی ہے ‘ جن کا تعلق انبیاء کرام کی دعوت اور ان کی شخصیتوں سے ہے اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ تمام انبیاء کرام حضرت آدم کی اولاد سے ہیں اور آدم کو اللہ نے مسجود ملائک بنایا تھا اور مزید یہ بات بھی کہ اللہ کے نبی دنیا میں انسانوں کی اصلاح کے لیے آتے ہیں اور انسانی اصلاح کے لیے صرف یہ کافی نہیں کہ انھیں اصلاح کی ہدایات جاری کردی جائیں اور زندگی کے معمولات کو مرتب کرنے کے لیے چند احکامات دے دیئے جائیں بلکہ انسانی کمزوری یہ ہے کہ جب تک وہ احکام اور ہدایت کے مطابق عمل نہیں دیکھتا ‘ اس وقت تک اس کی طبیعت عمل پر آمادہ نہیں ہوتی۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ کسی بھی ہدایت پر عمل کرنا اس وقت ممکن ہوتا ہے جب آدمی اس کے عملی نمونہ کو دیکھے اور اگر اس حکم کا تعلق دل و دماغ کی کیفیوں سے بھی ہو تو پھر تو یہ ہرگز ممکن نہیں کہ محض حکم سے وہ نتائج حاصل کیے جاسکیں۔ اگر یہ باتیں واقعی صحیح ہیں اور انسانی ہدایت کے لیے واقعی ضرورتیں ہیں تو یہ ضرورتیں انسان تو مہیا کرسکتا ہے ‘ کوئی جن یا فرشتہ تو نہیں کرسکتا۔ انسان نماز میں خشوع و خضوع پیدا کرنا چاہتا ہے تو اس کا تعلق دل کے گداز سے ہے۔ فرشتہ تو دل کے احساسات سے ہی بیخبر ہے ‘ وہ سوز و گداز کی کیا تعلیم دے سکتا ہے۔ روزہ ‘ اس لیے مشروع کیا گیا ہے کہ آدمی اپنی جسمانی ضرورتوں یعنی بھوک ‘ آرام اور جنسی خواہش پر غلبہ حاصل کرسکے۔ ظاہر ہے ‘ یہ چیزیں انسانی خصوصیات میں سے ہیں۔ فرشتوں کو اللہ نے ان سے معرا پیدا فرمایا ہے۔ مختصر یہ کہ اگر کوئی فرشتہ پیغبر بن کر آتا تو وہ انسانوں کو عملی ہدایت دینے سے ہرگز قاصر رہتا۔ نہ اسے بھوک لگتی ‘ نہ اسے موسم کی شدت پریشان کرتی ‘ نہ اسے کبھی کوئی بیماری لاحق ہوتی ‘ نہ اسے بیوی بچوں کی ضرورت ہوتی ‘ نہ وہ گھر بنانے کا محتاج ہوتا ‘ نہ وہ انسانی معاشرت کی ضرورتوں کو سمجھ سکتا ‘ نہ وہ انسانی معاش کے خدوخال کو پہچانتا۔ غرضیکہ وہ پوری انسانی زندگی سے فرشتہ ہونے کی وجہ سے بےبہرہ ہوتا تو وہ انسانوں کو کیا راہنمائی دیتا۔ اس لیے یہاں یہ فرمایا جا رہا ہے کہ تم جس بات کا مطالبہ کر رہے ہو ‘ وہ تو سراسر عقل و دانش اور انسانی اصلاح و ہدایت کی ضرورتوں سے ہٹا ہوا مطالبہ ہے۔ اس لیے پیغمبر کا انسان ہونا انسانی ہدایت کے لیے ازبس ضروری ہے۔ دوسری بات اس میں جو ارشاد فرمائی جا رہی ہے ‘ وہ یہ ہے کہ چلیے اگر تمہارے مطالبے پر ہم کسی فرشتے ہی کو پیغمبر بنا کر بھیج دیتے تو ہم اس کو فرشتے کی شکل میں تو نہیں بھیج سکتے تھے۔ وہ اپنی اصلی شکل میں تو تمہیں دکھائی نہیں دے سکتا کیونکہ فرشتہ ایک لطیف مخلوق ہے اور لطیف مخلوق انسانی نگاہ میں نہیں آسکتی تو آخر اس کا تمہارے پاس آنے کا کیا فائدہ ہوتا ؟ دو صورتیں ممکن تھیں۔ ایک یہ کہ تمہیں اس کو اصلی شکل میں دکھایا جاتا۔ مگر تم اس کا تحمل نہیں کرسکتے تھے۔ جیسا کہ حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) کو دو دفعہ ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے۔ ایک دفعہ مکہ معظمہ میں ‘ وہ زمین و آسمان کے درمیان ایک بہت بڑی کرسی پر فروکش تھے۔ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ آپ کے وجود نے پورے آسمان کو گھیرا ہوا تھا اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ آپ کے سینکڑوں پر ہیں ‘ جو مشرق و مغرب میں پھیلے ہوئے ہیں۔ چناچہ ان کو دیکھ کر آنحضرت ﷺ ایسے مرعوب ہوئے کہ آپ کو بخار چڑھ گیا اور گھر میں اس حال میں تشریف لائے کہ آپ بار بار فرما رہے تھے کہ مجھے کوئی کپڑا اوڑھا دو ۔ چناچہ کوئی چادر لے کر لیٹ گئے اور جب طبیعت سنبھلی تو تب آپ نے حضرت خدیجہ الکبریٰ ( رض) کو یہ واقعہ سنایا۔ ہم جانتے ہیں کہ رسول اللہ عام انسانوں کی نسبت اللہ کی جانب سے مضبوط دل و دماغ اور اعلیٰ صلاحیتیں اور توانائیاں دے کر پیدا کیے گئے تھے۔ اگر آپ کا حضرت جبرائیل کو دیکھ کر یہ حال ہے تو دوسرا کوئی آدمی کسی فرشتے کو دیکھنے کا تحمل کیسے کرسکتا ہے ؟ دوسری صورت یہ ہے کہ فرشتے کو انسانی شکل میں بھیجا جائے۔ چناچہ حضرت جبرائیل جب بھی حضور کے پاس حاضرہوتے تو عموماً انسانی شکل میں ہوتے۔ حضرت دحیہ کلبی ( رض) صحابہ کرام میں بہت خوبصورت شخصیت کے مالک تھے۔ حضرت جبرائیل عام طور پر ان کی شکل میں آیا کرتے تھے۔ بعض دفعہ حضرت عائشہ صدیقہ ( رض) نے انھیں آنحضرت ﷺ سے باتیں کرتے سنا اور ایک دفعہ تو بیسیوں صحابہ نے انھیں دیکھا۔ یہ مشہور حدیث ہے ‘ جو حدیث جبرائیل کے نام سے پہچانی جاتی ہے۔ غالباً حضرت عمر فاروق ( رض) ہی اس کے راوی ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ ایک دن ہم رسول اللہ ﷺ کی صحبت میں بیٹھے تھے کہ اچانک ایک شخص مسجد میں داخل ہوا اور حضور کے سامنے آ کر سلام کہہ کردو زانو بیٹھ گیا۔ لیکن عجیب بات یہ کہ بجائے اپنے گھٹنوں پر ہاتھ رکھنے کے ‘ اس نے حضور ﷺ کے گھٹنوں پر ہاتھ رکھے۔ پھر اس نے حضور ﷺ سے سوالات شروع کیے۔ سب سے پہلا سوال یہ تھا کہ ایمان کیا ہے ؟ آپ نے اس کا جواب دیا تو اس نے دوسرا سوال پوچھا کہ اسلام کیا ہے ؟ پھر تیسرا سوال احسان کے بارے میں تھا اور چوتھا قیامت کے بارے میں۔ صحابہ کرام اس بات پر حیران ہو رہے تھے کہ وہ ہر سوال کے جواب پر کہتا صدقت یا محمد ” اے محمد ﷺ آپ نے سچ کہا “ صحابہ کو حیرت ہو رہی تھی کہ وہ سوال بھی کرتا ہے اور تصدیق بھی کرتا ہے۔ سوال کا مطلب تو یہ ہے کہ اسے اس کا جواب معلوم نہیں اور تصدیق کا مطلب یہ ہے کہ اسے جواب پہلے سے معلوم ہے اور مزید حیرت کی بات یہ تھی کہ صحابہ اس کے لباس کو دیکھتے تھے تو اس پر گرد کا نشان تک نہ تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کہیں پڑوس سے اٹھ کر آیا ہے۔ لیکن جب اس کی شکل دیکھتے تھے تو وہ کسی کی پہچان میں نہیں آتا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مدینے سے باہر کا کوئی اجنبی آدمی تھا۔ انہی حیرتوں میں اس شخص نے حضور سے اجازت چاہی اور سلام کہہ کر چلا گیا۔ تھوڑی دیر بعد حضور ﷺ نے حضرت عمر فاروق ﷺ سے فرمایا کہ اس جانے والے کو واپس بلائو۔ وہ باہر نکلے تو باہر کوئی نہیں تھا۔ بہت حیران ہوئے کہ کیا اس کو زمین نگل گئی ‘ آخر وہ کہاں گیا ؟ حضور ﷺ نے مسکرا کر فرمایا کہ وہ جبرائیل امین تھے ‘ جو تمہاری تعلیم کے لیے آئے تھے۔ اس سے ہم اندازہ کرسکتے ہیں کہ کسی فرشتے کو اس کی اصلی شکل میں دیکھنا تو انسانوں کے بس کی بات نہیں۔ البتہ یہی ایک صورت ممکن ہے کہ فرشتہ انسانی شکل میں آئے۔ جیسے حضرت جبرائیل تشریف لاتے تھے۔ لیکن ایسی صورت میں بھی سوال اٹھانے والے پھر یہی سوال اٹھائیں گے کہ یہ پیغمبر فرشتہ نہیں ‘ بلکہ انسان ہے۔ یہی وہ بات ہے جو اس آیت کریمہ کے آخر میں کہی جا رہی ہے کہ فرشتے کے انسانی شکل میں آنے سے بھی وہی گھپلا پیش آتا ‘ جو اب پیش آرہا ہے کہ جن لوگوں کو پیغمبر پر ایمان نہیں لانا تھا ‘ وہ برابر یہی کہتے کہ ہم نے تو فرشتے کا مطالبہ کیا تھا ‘ ایک انسان کو پیغمبر بنا کر کیوں بھیج دیا۔ پیغمبر کو انسان نہ سمجھنے کی وجہ اور اس کا جواب یہاں تک تو مشرکین مکہ کے شبہات کا جواب تھا۔ لیکن اس ضمن میں پہلی قوموں اور خود مسلمانوں کے حوالے سے اس بات کا تذکرہ بھی ہوا کہ بہت سے لوگ نبوت اور بشریت میں تضاد سمجھتے تھے۔ ان کا خیال یہ ہے کہ نبوت ایک مرتبہ عظیم کا نام ہے اور انسان یا بشر ہونا یہ پستی کی علامت ہے تو ایسی پست مخلوق کو اتنا بلند مرتبہ عطا نہیں کیا جاسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں میں اب تک اس طرح کی بحثیں جاری ہیں کہ پیغمبر انسان ہوسکتا ہے یا نہیں حالانکہ امر واقعہ یہ ہے کہ انسانوں کے لیے باقی تمام مخلوقات پر افضل ہونے کی جو سب سے بڑی دلیل ہے ‘ وہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی مخلوق کو نبوت عطا نہیں فرمائی سوائے انسانوں کے۔ جب بھی دنیا میں کوئی نبی اور رسول آیا ‘ وہ انسانوں ہی میں سے آیا۔ کس قدر عجیب بات ہے کہ جو چیز انسانوں کے لیے قدر و منزلت کا باعث ہوئی ہے ‘ انسان اسی کو قبول کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ اس غلط فہمی کی بنیاد اصل میں یہ ہے کہ جب آدمی اپنی کمزوریوں کو دیکھتا ہے اور گردو پیش میں پھیلے ہوئے انسانوں کو اخلاق رذیلہ کا ارتکاب کرتے ہوئے محسوس کرتا ہے تو وہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ اصل میں انسان یہی لوگ ہیں ‘ پیغمبر بھی اگر انسان ہیں تو وہ بھی یقینا ایسی ہی کمزوریوں کے حامل ہوں گے ؟ حالانکہ حقیقت اگر دیکھی جائے تو وہ یہ ہے کہ ہم جنھیں انسان سمجھتے ہیں ‘ یہ انسانوں کی شکلیں تو ہیں ‘ لیکن انسانیت کے پیکر نہیں۔ حقیقی انسان تو اللہ کے نیک بندے ‘ اس کے ولی اور سب سے کامل ترین انسان اللہ کے نبی ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں جہاں انسان کو احسن تقویم میں پیدا کرنے کا ذکر فرمایا گیا ہے ‘ وہاں قسمیں ان چیزوں کی کھائی ہیں ‘ جن سے اولوالعزم رسولوں کی تاریخ وابستہ ہے۔ ان کے واسطے سے مقصود یہ بتانا ہے کہ اگر حقیقی انسان دیکھنا چاہتے ہو تو ان اولوالعزم رسولوں کو دیکھو ‘ جن کی یہ نسبتیں ہیں۔ رسول ہی انسان بلکہ کامل ترین انسان ہوتے ہیں۔ یہ انسانیت کی وہ منزل ہے ‘ جس کی طرف انسانیت بڑھتی ہے۔ یہ وہ نمونہ ہے ‘ جس کی نقل اختیار کرنے کے لیے ہمیشہ انسانیت سرگرم عمل رہتی ہے۔ یہ وہ مینارہ نور ہیں ‘ جس سے نوع انسانی کو روشنی ملتی ہے۔ یہ حق کا وہ مظہر ہیں ‘ جس سے اللہ کی حقانیت اور صداقت نمایاں ہوتی ہے۔ یہ اپنی ذات میں یقینا انسان ہوتے ہیں۔ لیکن اپنی صفات میں ملکوتی صفات سے بڑھ کر تقدس اور پاکیزگی رکھتے ہیں۔ ان کے قلب منور میں انوار الٰہی اس طرح جاں گزین ہوتے ہیں کہ شاید فرشتے بھی اس کے تحمل سے عاجز ہوں۔ اس کو مثال کے طور پر یوں سمجھئے کہ پہاڑ سے نکلنے والا ہر پتھر ‘ پتھر ہی کہلاتا ہے اور ہیرا بھی پہاڑ ہی سے نکلتا ہے۔ اپنی ذات میں وہ بھی پتھر ہی ہے۔ لیکن اپنی قدر و قیمت میں وہ دنیا بھر کے پتھروں سے بالا قیمت اور قدرو منزلت میں کہیں بڑھ کر ہے کیونکہ وہ اپنی ذات میں پتھر ضرور ہے ‘ لیکن اپنی صفات میں وہ پتھر نہیں۔ یہی حال اللہ کے نبیوں اور رسولوں کا ہے کہ وہ اپنی ذات میں انسان اور بشر ہوتے ہیں ‘ لیکن اپنی صفات میں وہ انسانیت کے لیے آخری منزل ‘ اعلیٰ مثال اور اعلیٰ ہدف ہوتے ہیں۔ بالخصوص سرکار دوعالم ﷺ تو وہ ذات گرامی ہیں ‘ جو انسانیت کے گل سرسبد اور انسانیت کبریٰ کی معراج ہیں۔ قدرت نے انھیں ذات وصفات کے حوالے سے انسانیت کے اس اعلیٰ مقام پر فائز کیا ہے ‘ جس کی دوسری مثال شاید فطرت کے تصور میں بھی نہیں۔ بقول اسد ملتانی ؎ اے سب جمیلوں سے جمیل ‘ اے سب حسینوں سے حسیں اے رحمتہ للعالمیں اے وہ کہ تیری مثل فطرت کے تصور میں نہیں اے رحمتہ للعالمیں مشرکین مکہ کے سوالات کی بحث کو لپیٹتے ہوئے اگلی آیت میں پروردگار نے نبی کریم ﷺ کو تسلی دی ہے۔
Ayah 6:10

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 6:10 in the Quran reader

اور تم سے پہلے بھی رسولوں کا مذاق اڑایا گیا تو جن لوگوں نے ان میں سے مذاق اڑایا ان کو اس چیزنے آن گھیرا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے

وَلَقَدِ اسْتُھْزِیَٔ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِکَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْھُمْ مَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِئُ وْنَ ۔ (اور تم سے پہلے بھی رسولوں کا مذاق اڑایا گیا تو جن لوگوں نے ان میں سے مذاق اڑایا ان کو اس چیز نے آن گھیرا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے) (الانعام : 10) جیسے کہ اس سے پہلے تذکرہ ہوچکا ہے کہ اس سورة کی بیشتر آیات کا نزول مکی زندگی کے آخری دور میں ہوا اور یہ وہ زمانہ ہے ‘ جس میں آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں پر مظالم کی انتہاء ہوگئی تھی اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اہل مکہ نے دعوت حق کی طرف سے کان بالکل بند کرلیے ہیں اور اسلامی تحریک جیسے ایک بند گلی میں داخل ہوگئی ہے ‘ جس کا بظاہر کوئی مستقبل نہیں۔ ایسی صورتحال میں رسول اللہ ﷺ پر جو گزرتی ہوگی اس کا تصور کرنا بھی مشکل ہے۔ اس لیے سرکار دو عالم کو تسلی دی جا رہی ہے کہ آپ اس بات کی بالکل پرواہ نہ کریں کہ یہ لوگ آپ کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ حقیقت میں یہ لوگ آپ کا مذاق نہیں اڑاتے بلکہ اللہ کے دین کا مذاق اڑاتے ہیں۔ مزید یہ بات بھی کہ اللہ کے رسول کے ساتھ لوگوں کا یہ رویہ ‘ پہلی دفعہ وجود میں نہیں آیا بلکہ یہ تو کافروں کی ایک مستقل روایت رہی ہے کہ جب بھی کوئی دنیا میں اللہ کا رسول ‘ اللہ کی طرف سے دعوت حق لے کر آیا ہے تو انھوں نے ہمیشہ اس کا مذاق اڑایا ‘ اس کو تکلیفیں پہنچائیں اور حتی الامکان کوشش کی کہ اس کی دعوت پھیلنے نہ پائے تو یہ تو ان کا پرانا وطیرہ ہے۔ لیکن اس کے مقابلے میں اللہ کے رسولوں نے ہمیشہ اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے امکانی مساعی سے کبھی دریغ نہیں کیا اور وہ برابر اپنی دعوت میں لگے رہے۔ اس لیے آپ انبیاء کرام اور ان کی قوموں کی اس پوری تاریخ کو سامنے رکھتے ہوئے ‘ دل گرفتہ ہونے کی بجائے حوصلہ مندی اور اولوالعزمی کی نئی مثالیں قائم فرمائیں کیونکہ ؎ زمانہ یونہی اپنے محسنوں کو تنگ کرتا ہے وہ درس صلح دیتے ہیں یہ ان سے جنگ کرتا ہے اس آیت کریمہ کے دوسرے حصے میں ارشاد فرمایا گیا کہ اے پیغمبر ! آپ یہ بھی نہ سمجھئے کہ یہ لوگ جو تمسخر اڑا رہے ہیں ‘ ان کو ہمیشہ اس کی کھلی چھٹی ملی رہے گی۔ ایسا نہیں ہوگا ‘ بلکہ وہ وقت دور نہیں ‘ جب یہ لوگ اپنے جرائم کی پاداش میں پکڑے جائیں گے اور یہی استہزاء اور یہی ان کی حرکتیں ‘ ان کے لیے وبال جان ثابت ہوں گی اور عذاب کا باعث بن جائیں گی۔
Ayah 6:11

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ ثُمَّ انْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 6:11 in the Quran reader

کہو ! ملک میں چلو پھرو اور دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا ؟

تمہید گزشتہ رکوع میں پروردگار عالم نے توحید ‘ رسالت اور آخرت جیسے اساسی عقائد کو بیان فرمایا اور ان کی تفہیم اور اثبات کے لیے ایسے دلائل فراہم کیے ‘ جن کے بعد ان عقائد کا انکار کرنا کم از کم ایک صاحب عقل و دانش اور تعصب سے خالی آدمی کے لیے ممکن نہیں رہتا۔ پھر اس ضمن میں مشرکینِ مکہ نے توحید ‘ آخرت اور ذات رسالت مآب ﷺ کے حوالے سے اعتراضات کے ساتھ ساتھ ‘ بعض عجیب و غریب مطالبات بھی کیے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا جواب بھی عطا فرمایا۔ لیکن اس تمام اتمام حجت اور افہام و تفہیم کے بعد بھی ‘ جب مشرکینِ مکہ نے اپنا رویہ نہ بدلا ‘ بلکہ بجائے ایمان لانے کے تمسخر اور استہزاء میں اور بڑھتے چلے گئے اور وقت کے ساتھ ساتھ آنحضرت ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو اذیت دینے میں اور کھل کھیلنے لگے تو گزشتہ رکوع کی آخری آیت میں پروردگار نے آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ آپ ان بدبختوں کی ایذارسانی اور تمسخر سے دل برداشتہ نہ ہوں۔ اس لیے کہ یہ رویہ آپ کے ساتھ ایک نافرمان قوم کے حوالے سے کوئی پہلا واقعہ نہیں بلکہ تمام انبیاء و رسل کو نافرمان قوموں کے اسی رویہ سے واسطہ پڑتا رہا۔ اس راہ کی دو لازمی سنتیں رہی ہیں۔ ایک یہ کہ جب بھی کوئی رسول کسی قوم کی طرف اللہ کا دین لے کر آیا ہے تو اس قوم نے حتی الامکان اس دعوت کو قبول کرنے کی بجائے ‘ اس آنے والے رسول کا تمسخر اڑایا اور اس کے لیے زندگی دشوار کردی۔ دوسری سنت یہ رہی ہے کہ اس رویے پر اللہ کے اولوالعزم رسولوں نے کبھی حوصلہ نہیں ہارا اور انھوں نے اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی اور تبلیغ و دعوت کے فرض کی انجام دہی میں ‘ کبھی کمی نہیں آنے دی۔ یہ دونوں سنتیں یعنی دونوں رویے تبلیغ و دعوت کی تاریخ میں پہلو بہ پہلو چلتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ اس لیے اے پیغمبر ﷺ آپ کو اس سے ہرگز اثر قبول نہیں کرنا چاہیے بلکہ آپ کو اپنی تبلیغ و دعوت کی مساعی میں اضافہ کردینا چاہیے کیونکہ آپ کی نگاہوں کے سامنے ان بدبختوں کا انجام پوری طرح واضح ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ جو قوم بھی کسی رسول کی دعوت کو رد کردیتی ہے۔ بالآخر اللہ کے عذاب کا شکار ہوتی ہے۔ انھیں معلوم نہیں ہوتا کہ ان کا یہ استہزاء آمیز رویہ ‘ ان کے لیے کس بدترین عذاب کا باعث بننے والا ہے۔ لیکن آپ کو ان کے انجام سے متعلق چونکہ پوری آگاہی ہے ‘ اس لیے ان کو اس بدترین انجام سے بچانے کی یہی ایک صورت ہے کہ آپ اپنی کوششوں کو مزید تیز کردیں۔ یہ وہ باتیں ہیں جو ہم پچھلے رکوع میں پڑھ چکے ہیں۔ آج کے رکوع کی پہلی آیت میں آنحضرت ﷺ کو حکم دیا جا رہا ہے کہ آپ ان مشرکینِ مکہ کو سمجھایئے کہ تمہیں اگر دلائل کے حوالے سے میری دعوت سمجھ نہیں آرہی اور معجزات کا ظہور تمہارے لیے بےاثر ثابت ہو رہا ہے تو پھر کم از کم تاریخ کے آئینے میں ان قوموں کا انجام دیکھنے کی کوشش کرو جو تم سے پہلے اس صورتحال سے گزری تھیں۔ چناچہ ارشاد خداوندی ہے۔ قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ ثُمَّ انْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُکَذِّبِیْنَ ۔ (الانعام : 11) ” کہو ! ملک میں چلو پھرو اور دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا ؟ “۔ اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس کے انبیاء کی تکذیب کرنے والوں کا انجام دیکھو ! انبیاء ان کی طرف دعوت لے کر آئے۔ لیکن انھوں نے اسے درخورِ اعتناء سمجھنے کی بجائے ‘ وہی رویہ اختیار کیا ‘ جو تم کرچکے ہو۔ تو دیکھو پھر ان کا انجام کیا ہوا۔ ان کی تاریخ تمہارے اپنے ملک میں جابجا پھیلی ہوئی ہے۔ تم ان قوموں کی تاریخ کے پیشتر واقعات سے واقف ہو کیونکہ وہ آج تک تمہاری قوم میں سینہ بہ سینہ منتقل ہوتے رہے ہیں اور مزید یہ کہ تم اپنے تجارتی اسفار ‘ میں ان کے کھنڈرات سے بھی گزرتے ہو اور ان کے یہ کھنڈرات ‘ ان کے اقتدار ‘ ان کی عظمت ‘ ان کی خوشحالی اور ان کی طاقت کے منہ بولتے ثبوت ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ساری قومیں ‘ اپنے اپنے وقتوں میں نہایت ترقی یافتہ قومیں تھیں اور نہایت پر تعیش زندگی گزار رہی تھیں۔ لیکن ان کے عقائد اور اخلاق کے بگاڑ نے جب ناگفتہ بہ صورت اختیار کرلی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی اصلاح کے لیے پیغمبر اور رسول بھیجے۔ جب انھوں نے ان کی دعوت قبول کرنے کی بجائے ان کے ساتھ وہی رویہ اختیار کیا جو مشرکینِ مکہ آنحضرت ﷺ سے اختیار کرچکے ہیں تو بالآخر ان میں سے ایک ایک قوم اللہ کے بدترین عذاب کا شکار ہوئی۔ یہ تاریخ کی ایسی یقینی اور قطعی شہادت ہے کہ جس سے انکار کرنا مشرکینِ مکہ کے لیے ممکن نہ تھا کیونکہ جیسا کہ عرض کیا گیا ہے ‘ وہ اپنے تجارتی اسفار میں ان علاقوں سے گزرتے تھے ‘ جہاں کبھی یہ قومیں آباد تھیں۔ ان کی توجہ اس چیز کی طرف دلائی جا رہی ہے کہ ذرا ان کھنڈرات پر کھڑے ہو کر غور کرنے کی زحمت کرو کہ یہ اتنی ترقی یافتہ قومیں ‘ آخر اس بدترین انجام کا شکار کیوں ہوئیں ؟ کہیں ایسا نہ ہو کہ جس طرح انھوں نے اپنے پیغمبروں کی ہر بات کو سمجھنے سے انکار کیا اور بالآخر اس انجام کو پہنچیں ‘ کہیں اے مشرکینِ مکہ ! تمہارا بھی یہی انجام نہ ہو۔ اس آیت کریمہ میں اگرچہ دونوں جملے آپس میں پوری طرح پیوست اور نہایت مربوط ہیں ‘ لیکن حقیقت میں دو الگ الگ باتیں ہیں ‘ جو اپنی انتہاء میں تو ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہیں ‘ لیکن اپنی ابتداء میں دونوں جدا جدا ہیں۔ پہلا یہ حکم دیا جا رہا ہے کہ زمین میں چل پھر کر دیکھو۔ اس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ شاید یہ کوئی سیرسپاٹے کا حکم ہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ تباہ شدہ قوموں کے آثار شاید انسانوں کے لیے دلچسپی اور خوشی کا باعث ہوتے ہیں۔ اس لیے جا کر ایسی تباہ شدہ قوموں کے کھنڈرات اور ان کے آثار کو دیکھ کر خوشی حاصل کرو اور وقت گزاری کا اچھا سامان پیدا کرو۔ لیکن دوسرے جملے میں واضح طور پر اس حکم کی وجہ بیان کی جا رہی ہے کہ ان علاقوں میں جا کر سیر کرنا مقصود نہیں ‘ نہ وہاں سے کلچر یا تاریخ نکالنا مقصود ہے۔ بلکہ مقصود صرف یہ ہے کہ اصلاً یہ تباہ شدہ بستیاں ان قوموں کی ہیں ‘ جنھوں نے اللہ کی دعوت قبول کرنے سے انکار کردیا تھا اور پیغمبروں کی تکذیب کی تھی۔ اس لیے یہ معلوم کرنے کی کوشش کرو کہ آخر یہ قومیں اس انجام کو کیوں پہنچیں ؟ جب تم اس نیت اور اس ارادے سے وہاں جاؤ گے تو تم جیسے جیسے ان کے اعمال سے واقف ہوتے جاؤ گے ‘ تمہیں ویسے ویسے وہاں سے عبرت اور نصیحت کا خزانہ ہاتھ آئے گا۔ تم اپنے بارے میں سوچنے پر مجبور ہوجاؤ گے کہ کہیں ہم اس رویے کو اختیار تو نہیں کرچکے ‘ جس رویے کے نتیجے میں ان قوموں کو یہ انجام دیکھنا پڑا۔ اس سے ہمیں یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اسلام ہمیں یہ بات بتانا چاہتا ہے کہ جب کبھی تم ایسی بستیوں سے گزرو ‘ جو کبھی اللہ کے عذاب کا شکار ہوئیں اور اچانک انھیں صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا تو وہاں کسی اور چیز کو تلاش مت کرو ‘ بلکہ وہاں سے عبرت حاصل کرو۔ معذب مقامات کے متعلق حضور ﷺ کا طرز عمل یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب جنگ تبوک کے لیے تشریف لے جا رہے تھے تو راستے میں قوم صالح کے کھنڈرات سے گزرے۔ لیکن وہاں رکے نہیں۔ اگرچہ آپ نے حضرت صالح (علیہ السلام) کی طرف منسوب بعض چیزوں کی نشاندہی بھی فرمائی اور یہ بھی فرمایا کہ دیکھو ! یہ وہ کنواں ہے ‘ جس سے حضرت صالح (علیہ السلام) کی اونٹنی پانی پیا کرتی تھی۔ لیکن مسلمانوں کو حکم دیا کہ جلدی سے یہاں سے گزرنے کی کوشش کرو کیونکہ یہ ایک منحوس جگہ ہے۔ یہاں اللہ کا عذاب نازل ہوچکا ہے۔ یہاں سے جلدی نکلو اور ساتھ ہی اللہ سے پناہ مانگو کہ یا اللہ ! ہمیں ایسی صورتحال میں کبھی مبتلا نہ کرنا کہ ہم دنیا کے لیے عبرت بن کر رہ جائیں۔ اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ منیٰ کے پہلو میں وہ جگہ ہے ‘ جہاں ابرہہ پر پرندوں کے ذریعے اللہ نے سنگ باری کروائی تھی اور جس کے نتیجے میں اس کی ہزاروں افراد پر مشتمل فوج تباہ ہو کر رہ گئی اور خود ابرہہ بھی اس حال میں جہنم رسید ہوا کہ اس کا گوشت گل گل کر گرتا جا رہا تھا ‘ حتی کہ راستے ہی میں اسے موت آگئی۔ وہاں بھی آنحضرت ﷺ نے حجاج کو ٹھہرنے سے منع فرمایا ہے کہ یہ جگہ جائے عبرت ہے ‘ جائے قیام نہیں۔ اس سے مہذب قوموں کی تباہ شدہ بستیوں کے بارے میں اسلامی رویہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ ہم نے آج باقی دنیا کی طرح ایسی بستیوں کو یہ سمجھ رکھا ہے کہ یہ ہمارے اہل علم کی تحقیق اور ریسرچ کی جگہ ہے۔ موہنجو داڑو اور ہڑپہ جیسی جگہیں ہمارے لیے سیر گاہیں اور دلچسپی کی جگہ بن کے رہ گئی ہیں۔ ہمارے اہل علم وہاں سے کلچر نکالنے میں مصروف رہتے ہیں۔ اگرچہ بجائے خود یہ تصور کہ کلچر تباہ شدہ کھنڈرات سے نکلتا ہے اور یہ نظریات سے جنم نہیں لیتا بہت محل نظر ہے۔ تاہم میں اس کی مخالفت نہیں کرتا۔ آپ یہ کام بھی جاری رکھیئے ‘ لیکن ایسے کھنڈرات اور تباہ شدہ بستیوں سے صرف کلچر ہی نہیں ‘ عبرت حاصل کرنے کی بھی کوشش کی جائے کیونکہ اصل مقصود تو یہی ہے۔ لیکن یہاں تو حال یہ ہے ‘ جیسے مقصود انور نے نوحے کے انداز میں کہا تھا ؎ عبرت کی اک چھٹانک برآمد نہ ہو سکی کلچر نکل پڑا ہے منوں کے حساب سے مکذب قوم کسے کہتے ہیں ؟ اس آیت کا ایک اور پہلو بھی نہایت قابل توجہ ہے۔ وہ یہ کہ اس میں یہ فرمایا گیا ہے کہ اس سرزمین ‘ یعنی زمین عرب میں گھوم پھر کے دیکھو کہ مکذب قوموں کا انجام کیا ہوا۔ سوال یہ ہے کہ جن کو مکذبین کہا گیا ہے ‘ انھوں نے کس بات کی تکذیب کی ؟ اور اصل وہ موضوعِ بحث کیا تھا ‘ جس میں وہ اللہ کے رسولوں سے الجھتے تھے ؟ موضوع بحث یہ تھا کہ اللہ کے رسول انھیں یہ دعوت دیتے تھے کہ اس پوری کائنات اور خود تمہارا خالق اللہ ہے۔ اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے ‘ اسی نے تمہیں زندگی دی ہے ‘ اسی نے تمہارے لیے زندگی کے امکانات پیدا کیے ہیں ‘ وہی تمہیں رزق دیتا ہے ‘ اس کی بیشمار نعمتیں ہیں ‘ جن سے تم لذت اندوز ہوتے ہو۔ تمہاری ساری صلاحیتیں ‘ توانائیاں ‘ احساسات ‘ انفعالات ‘ آرزوئیں اور امنگیں ‘ سب اس کی عطا کردہ ہیں۔ تم از اول تاآخر اس کے زیر احسان ہو اور اسی کی قدرت کی گرفت میں بھی ہو۔ اب سوال یہ ہے کہ جب تم اسی کی دی ہوئی زندگی گزار رہے ہو ‘ اسی کا دیا ہو ارزق کھاتے ہو ‘ اسی کی زمین پر رہتے ہو ‘ اسی کی عطاکی ہوئی قوتوں سے متمتع ہو رہے ہو ‘ تو کیا تمہاری زندگی ‘ تمہارے احساسات ‘ تمہاری صلاحیتوں ‘ تمہاری عقل و دانش اور تمہارے گھروں سے لے کر تمہارے اجتماعی اداروں تک ‘ صرف اسی کی حکومت اور اسی کی مرضی کا تسلط نہیں ہونا چاہے ؟ جب اسی نے تمہیں وجود دیا اور تمہیں زندگی بخشی ہے تو کیا اس کا یہ حق نہیں ہے کہ وہ اس وجود اور زندگی پر حکمرانی کرے ؟ جب اس نے تمہیں شعور اور عقل سے نوازا ہے تو کیا اس شعور اور عقل کی حدود مقرر کرنا اور فکری رہنمائی مہیا کرنا اسی کا حق نہیں ہے ؟ اگر تم ان باتوں کو مانتے ہو تو پھر تم اس کے سوا کسی اور کے سامنے کیسے جھکتے ہو ؟ تم اس کی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کی بجائے اپنی مرضی کی زندگی کیوں گزارتے ہو ؟ لیکن ان قوموں نے بجائے ان باتوں کو سمجھنے اور قبول کرنے کے اس سے انکار کا رویہ اختیار کیا اور انھوں نے صاف کہا کہ ہم قانون خداوندی کو نہیں مانتے۔ ہم تو قانون نفس پر چلتے ہیں۔ ہم یہ مانتے ہیں کہ ہمیں سب کچھ ہمارے پروردگار نے عطا کیا ہے ‘ لیکن ہم اس پر کوئی پابندی قبول کرنے کو تیار نہیں۔ ممکن ہے یہ باتیں آپ کو عجیب لگتی ہوں کہ ان باتوں میں بڑی دانش اور بڑی اپیل ہے تو آخر وہ اس دعوت کو قبول کیوں نہیں کرتے تھے۔ لیکن اگر ہم خود اپنا جائزہ لے کر دیکھیں کہ ہم اپنی انفرادی زندگی سے لے کر اجتماعی زندگی تک ‘ کس کی راہنمائی میں زندگی گزارتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہمارا رویہ معذب قوموں سے مختلف نہیں کیا ہم اپنی ذات میں شریعت اسلامی کی پابندیوں کو قبول کرتے ہیں اور کیا ہمارے اجتماعی ادارے ‘ اللہ کے بھیجے ہوئے قانون کی پیروی کرنے کے لیے تیار ہیں ؟ باوجود اس کے کہ ہم اللہ کی حاکمیت کے قائل ہیں ‘ لیکن کیا ہم اپنا تخت اقتدار اللہ کی شریعت کے لیے خالی کرنے کی زحمت گوارا کرسکتے ہیں ؟ پورا عالم اسلام ‘ ان تمام باتوں کو تسلیم کرتا ہے۔ لیکن عملی زندگی میں ان تمام باتوں کا انکار کرتا ہے۔ یہی رویہ ان کا بھی تھا۔ بالآخر اسی کی پاداش میں اللہ کے عذاب کا شکار ہوئے۔ یہاں معلوم ہوتا ہے پروردگار اس بات کی طرف توجہ دلانا چاہتے ہیں کہ لوگو ! اگر تمہیں انبیاء کی دعوت ویسے سمجھ نہیں آتی اور تم اسے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہو تو یہ بات سمجھنے کی کوشش کرو کہ تمہاری طرح ان قوموں نے بھی اسی طرح کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کیا تھا تو آج ان کا انجام تمہارے سامنے ہے۔ کیا ان کی تباہی اور بربادی کی داستانیں اور ان کے کھنڈرات تمہیں سمجھانے کے لیے کافی نہیں ہیں ؟ کاش ! کوئی ان کھنڈرات پر کھڑا ہو کر اسی طرح ان کی تباہی کے اسباب پوچھ سکتا اور اللہ کے نبیوں کی دعوت کی صداقت و حقانیت کے متعلق بھی ان سے سوال کرسکتا ‘ جیسے آنحضرت ﷺ نے غزوہ بدر کے بعد مقتولین بدر سے کیا تھا۔ آپ نے ان تمام بڑے بڑے قریش کے سرداروں سے ‘ جن کی لاشیں آپ نے ایک بند کنویں میں پھنکوا دیں تھیں ‘ کنویں کے منڈیر پر کھڑے ہو کر پوچھا تھا کہ اے ابوجہل ! اے عتبہ ! اے شیبہ اور اے فلاں اے فلاں تمہیں اب تو معلوم ہوگیا ہوگا کہ میں تمہیں جو کچھ کہتا تھا ‘ وہ سچ تھا اور تمہارا رویہ غلط تھا۔ حضرت عمر فاروق ( رض) نے عرض کیا کہ حضور ﷺ یہ لوگ تو مرچکے ہیں۔ یہ تو اب کچھ بھی سن نہیں سکتے۔ آپ نے فرمایا : یہ سنتے ہیں ‘ لیکن جواب نہیں دے سکتے۔ یہاں مکذبین کے انجام کی طرف توجہ دلا کر مشرکینِ مکہ سے بھی وہی سوال کیا جا رہا ہے جو ان قوموں اور ان کے رسولوں کے درمیان موضوع بحث اور کشمکش کا عنوان بنا رہا۔ ارشاد فرمایا :
Ayah 6:12

قُلْ لِّمَنْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلْ لِّلّٰهِ١ؕ كَتَبَ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ١ؕ لَیَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:12 in the Quran reader

ان سے پوچھو ! آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے ‘ وہ کس کا ہے ؟ کہہ دو ! اللہ ہی کا ہے۔ اس نے اپنے اوپر رحمت واجب کر رکھی ہے۔ وہ تم کو جمع کر کے ضرور لے جائے گا ‘ قیامت کے دن کی طرف ‘ جس میں ذرا شبہ نہیں ‘۔ جنہوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈالا وہی ہیں ‘ جو اس پر ایمان نہیں لاتے

قُلْ لِّمَنْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط قُلْ لِّلّٰہِ ط کَتَبَ عَلیٰ نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ ط لَیَجْمَعَنَّکُمْ اِلیٰ یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ لَا رَیْبَ فِیْہِ ط اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْآ اَنْفُسَھُمْ فَھُمْ لاَ یُؤْمِنُوْنَ ۔ (الانعام : 12) (ان سے پوچھو ! آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے ‘ وہ کس کا ہے ؟ کہہ دو ! اللہ ہی کا ہے۔ اس نے اپنے اوپر رحمت واجب کر رکھی ہے۔ وہ تم کو جمع کر کے ضرور لے جائے گا ‘ قیامت کے دن کی طرف ‘ جس میں ذرا شبہ نہیں ‘۔ جنھوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈالا وہی ہیں ‘ جو اس پر ایمان نہیں لاتے) اللہ کی رحمت کا لازمی تقاضہ ” قیامت کا ظہور ہے “ معذب قوموں کی تاریخ کا آئینہ مشرکینِ مکہ کے سامنے رکھ کر ‘ ان سے سوال کیا جا رہا ہے کہ یہ قومیں ‘ جن پر اللہ کا عذاب آیا ‘ وہ اللہ کی حاکمیت کو قبول کرنے سے منکر تھیں اور اپنے اختیار اور ارادے کو اللہ کے سامنے سپرانداز کرنے کے لیے تیار نہ تھیں اور اپنی طاقت ‘ حکومت اور خوشحالی پر انھیں اتنا غرہ تھا کہ وہ یہ سمجھتی تھیں کہ کوئی ان کی گرفت نہیں کرسکتا۔ مشرکینِ مکہ سے کہا جا رہا ہے کہ دیکھو ! یہ قومیں عبرت کا سامان بن کے رہ گئی ہیں۔ ان کے کھنڈرات ‘ ان کی تباہی کی داستانیں دھراتے ہیں۔ اس آئینہ کو دیکھتے ہوئے ‘ اب تم جواب دو کہ آسمانوں اور زمینوں کا مالک کون ہے ؟ اگر وہ قومیں خود اپنی مالک ہوتیں تو اس طرح تباہی کا شکار نہ ہوتیں اور اگر اللہ ہر چیز پر قادر نہ ہوتا اور تمام قوتوں کا مالک نہ ہوتا تو ان خود سر قوموں کو کبھی تباہ نہ کرسکتا۔ کیا تمہیں اب بھی یہ بات سمجھ میں نہیں آئے گی کہ زمین و آسمان کا مالک اللہ کے سوا اور کوئی نہیں ؟ قرآن کریم کا یہ سوال افہام و تفہیم کی ایک آخری کوشش بھی ہے اور اتمام حجت بھی کیونکہ مشرکینِ مکہ اگر اس قدر وضاحت اور معذب قوموں کی تاریخ سے واقف ہونے کے بعد بھی سمجھنے کے لیے تیار نہیں اور وہ بھی اسی انجام سے دوچار ہونا چاہتے ہیں ‘ جس سے پہلی قومیں دوچار ہوچکی تھیں تو پھر انھیں اس دن کا انتظار کرنا چاہیے ‘ جس دن تمام بڑے بڑے بادشاہ اور حکمران اور تمام جبابرہ و قیاصرہ دم بخود اپنے انجام کی فکر میں کھڑے ہوں گے اور فضا پر اللہ کا جلال برس رہا ہوگا ‘ کسی کو کسی کا ہوش نہ ہوگا۔ انتہائی سراسیمگی کی حالت میں اچانک ایک پر جلال آواز تمام لوگوں کی قوت سماعت سے ٹکرائے گی : لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَ ط (بتلائو آج کس کی حکومت ہے ؟ ) ظاہر ہے اس کے جواب میں سناٹا اور گہرا ہوجائے گا۔ سینوں میں دل ڈوبنے لگیں گے۔ کسی کو لب ہلانے کی جرأت نہیں ہوگی۔ پھر خود ہی پروردگار جواب دیں گے : لِلّٰہِ الْوَاحِدِ الْقَھَّارِ (المومن : 16) (آج ! خدائے واحد وقہار کی حکومت ہے) جن لوگوں کو آج اس کی حکومت کا یقین نہیں ‘ وہ جب یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے اور اپنے کانوں سے سنیں گے تو سوائے خون کے آنسو رونے کے اور کچھ نہیں کہہ سکیں گے۔ اس لیے مشرکینِ مکہ پر اتمام حجت کرتے ہوئے ‘ ان سے یہ سوال کیا جا رہا ہے۔ ظاہر ہے ‘ وہ اس کا کیا جواب دیں گے حالانکہ وہ عقیدۃً اس بات کو مانتے ہیں کہ آسمانوں اور زمین کا خالق ومالک اللہ ہی ہے ‘ لیکن چونکہ اس کے نتائج اور لوازم کو ماننے سے انکار کر رہے ہیں ‘ اس لیے وہ اس کا جواب دینے کی جرأت نہیں کریں گے۔ اس لیے پروردگار نے آنحضرت ﷺ کو حکم دیا کہ آپ سبقت کرتے ہوئے ‘ خود ہی فرمایئے قُلْ لِلّٰہِ ” کہہ دیجئے ! (آسمانوں اور زمین پر حکومت) اللہ ہی کی ہے “۔ یہاں ذہنوں میں ایک سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ اس میں کیا شبہ ہے کہ آسمانوں اور زمین کا مالک اللہ ہی ہے ؟ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ زمین پر بسنے والے ‘ اس کے محبوب فرستادہ لوگوں کا نہ صرف انکار کرتے ہیں ‘ تمسخر اڑاتے ہیں ‘ اذیتیں پہنچاتے ہیں ‘ بلکہ ان کی زندگی دشوار کردیتے ہیں۔ لیکن پروردگار ان میں سے کسی کو نہیں پکڑتا تاوقتیکہ اجتماعی عذاب نہ آجائے۔ ان اوباشوں میں سے کسی کے ہاتھ نہیں توڑتا ‘ کسی کو سزا نہیں دیتا۔ سوچنے والا سوچ کر رہ جاتا ہے کہ آخر یہ کیا ہے ‘ اگر چند لوگ اپنے انجام کو پہنچیں تو شاید باقیوں کے ہوش ٹھکانے آجائیں ؟ اس کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا جا رہا ہے کَتَبَ عَلیٰ نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ ( اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر رحمت واجب کرلی ہے) قوموں کے مجرمانہ رویے ‘ اللہ کے قانون اور اس کے پیغمبروں کے ساتھ ظالمانہ طرز عمل کا نتیجہ تو یہی ہونا چاہیے کہ انھیں فوراً اس کی پاداش میں پکڑ لیا جائے۔ قومیں بھی اس عذاب کا شکار ہوں اور اس اجتماعی عذاب سے پہلے افراد بھی فرداً فرداً اسی بھٹی میں ڈالے جائیں۔ مگر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ مکافاتِ عمل کے اس قانون کا نتیجہ تو یہی ہونا چاہیے ‘ لیکن اللہ تعالیٰ کی بےپایاں رحمت کا کیا ٹھکانہ ہے کہ اس نے اپنے اوپر رحمت واجب کرلی ہے۔ اس لیے وہ مکافات عمل کے قانون کو رحمت کی چھلنی میں چھاننے کے بعد کام کرنے کا موقع دیتا ہے یعنی ایسی مکذب قوموں کے رویے کی سزا تو یہی ہونی چاہیے۔ لیکن اس کی رحمت کا تقاضہ یہ ہے کہ جس طرح ایک پودا بیماری کا شکار ہوتا ہے تو اسے فوراً موت کے حوالے نہیں کردیا جاتا بلکہ اس کے باغبان کو موقع دیا جاتا ہے کہ وہ علاج کے ذریعے اسے بچا لے۔ کوئی آدمی بیماری کی گرفت میں آتا ہے تو فوراً اس کا آخری وقت نہیں آجاتا بلکہ بیمار کو سنبھلنے ‘ علاج کرانے اور صحت کی تدابیر کو بروئے کار لانے کا موقع دیا جاتا ہے۔ اسی طرح جب کوئی فرد یا قوم بداعمالیوں کا شکار ہوتی ہے یا تکذیب کی راہ پر چل نکلتی ہے تو فوراً اس کو سزا نہیں دی جاتی بلکہ اسے بھی سوچنے سمجھنے اور سنبھلنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ قرآن پاک میں ایک جگہ پروردگار نے فرمایا کہ اگر لوگوں کی بداعمالیوں پر اللہ تعالیٰ فوراً گرفت فرماتا تو زمین پر کوئی چلنے پھرنے والا باقی نہ رہتا کیونکہ کون ہے ‘ جو کسی نہ کسی بدعملی کا شکار نہیں ہوتا ؟ لیکن یہ اس کی رحمت کا تقاضہ ہے کہ اس نے یہاں نباتات ‘ حیوانات اور انسانوں میں بھی ایک تاجیل کا قانون مقرر کردیا ہے کہ یہاں ہر ایک کو موقع دیا گیا ہے کہ وہ اپنے آپ کو سنبھالنے کی کوشش کرے۔ مگر جب وہ اس موقع سے فائدہ نہیں اٹھاتا اور وہ اجل آپہنچتی ہے ‘ جو اس کی مہلت کی آخری حد ہے تو پھر اس کو مزید موقع نہیں دیا جاتا۔ یہاں بھی اسی قانون کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ یہ لوگ اگر ابھی تک اللہ کے عذاب سے بچے ہوئے ہیں تو صرف اس لیے کہ اللہ کی رحمت کا تقاضہ یہ ہے کہ انھیں مہلت دی جائے۔ شاید یہ اپنے آپ کو سنبھال لیں۔ لیکن جب یہ مہلت ختم ہوجائے گی تو پھر اللہ کے عذاب سے انھیں کوئی نہیں بچا سکے گا۔ پیغمبر کی دعوت کے نتیجہ میں ہمیشہ دو گروہ وجود میں آتے ہیں جس طرح اس کی رحمت کا تقاضہ یہ ہے کہ کسی بھی مجرم کو جلد سزا نہ دی جائے بلکہ اسے پورا سنبھلنے کا موقع ملنا چاہیے۔ اسی طرح اس کا تقاضہ ایک اور بھی ہے، وہ یہ کہ اس دنیا میں خیر و شر کی ایک کشمکش ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خیر کی بالا دستی کے لیے ‘ اپنے پیغمبر اور رسول بھیجے۔ ان کی تبلیغ و دعوت کے نتیجے میں ہمیشہ دو جماعتیں پیدا ہوتی رہیں۔ ایک جماعت ‘ جنھوں نے اللہ کی دعوت کو قبول کیا اور اپنی زندگی کو اللہ کے احکام کے مطابق مقدور بھر گزارنے کی کوشش کی اور پھر اس دین کی بالا دستی کے لیے انھوں نے امکانی مساعی کو بروئے کار لاتے ہوئے جو ان سے ہوسکتا تھا انھوں نے کیا۔ اس راستے میں مال بھی لٹایا ‘ پسینہ بھی بہایا ‘ بچوں کا مستقبل بھی قربان کیا ‘ اگر ضرورت پڑی تو جان بھی نچھاور کردی۔ دوسری جماعت ‘ خیر کی بالادستی کی مخالف اور پیغمبروں کی دعوت کی دشمن بن کر اٹھتی ہے اور وہ اپنی زندگی میں کوئی بھی تبدیلی قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتی۔ وہ جیسے جیسے اس دعوت کے نفوذ کو دیکھتے ہیں ‘ ان کا غصہ بھڑکتا ہے اور وہ پیغمبر اور ان کے ساتھیوں کو اذیتوں کا نشانہ بناتے ہیں ‘ جو ان سے بڑا سے بڑا ظلم ممکن ہوتا ہے وہ کر گزرتے ہیں۔ بعض دفعہ ان کو ملک سے نکلنے پر مجبور کردیتے ہیں۔ بس چلے تو ان کی جان لینے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ اب سوال یہ ہے کہ خیر و شر کی اس کشمکش میں ‘ ایک نے ظلم کیا ‘ دوسرے نے ظلم سہا۔ ایک نے دکھ دیا ‘ دوسرے نے دکھ اٹھایا۔ ایک نے درندگی کی ‘ دوسرا درندگی کانشانہ بنا۔ ایک نے عزت لوٹی ‘ دوسرے کی عزت لٹی۔ ایک نے قتل کیا ‘ دوسرا مقتول ہوا۔ اگر اس کائنات میں یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہے تو سوال یہ ہے کہ خیر کی بالادستی کے لیے پھر کون قربانی دینے ‘ پسینہ بہانے ‘ مال لٹانے اور جاں فروشی کے لیے تیار ہوگا ؟ وہ دیکھے گا کہ اس دنیا میں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ عموماً خیر کی قوتیں ناکام ہوجاتی ہیں کوئی ان کا پرسانِ حال نہیں ہوتا۔ خیر و شر کی کشمکش سے قطع نظر بھی ‘ اگر صرف عام انسانی زندگی کو دیکھا جائے تو اس میں بھی ہم آئے دن حوادث کا سامنا کرتے ہیں۔ مثلاً کسی کا گھر لٹ رہا ہے۔ کسی کا بیٹا اندھی گولی کا نشانہ بن رہا ہے۔ کسی کا سہاگ اجاڑا جا رہا ہے۔ کسی کی جان لی جا رہی ہے۔ یہ لوگ وقت کے قانون کو پکارتے ہیں ‘ لیکن بالعموم شنوائی نہیں ہوتی۔ اگر کبھی ہوتی بھی ہے تو ضروری نہیں کہ مجرم پکڑا جائے اور جس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے ‘ اس کی اشک شوئی کا سامان ہو سکے۔ مثال کے طور پر ایک خاتون جوانی میں بیوہ ہوجاتی ہے۔ اس کا ایک ہی بیٹا ہے۔ اسی کی دیکھ بھال اور پرورش کے لیے وہ اپنے آپ کو وقف کردیتی ہے۔ لوگوں کے گھروں میں کام کرتی ہے ‘ برتن مانجھتی ہے ‘ لوگوں کے کپڑے دھوتی ہے ‘ زندگی کا ہر دکھ اٹھاتی ہے تاکہ وہ اپنے بچے کو پال سکے۔ حتیٰ کہ اللہ کے کرم سے بچہ جوان ہوجاتا ہے۔ محنت مزدوری کر کے گھر کی ضروریات کو پورا کرنے لگتا ہے۔ ماں کی خوشیوں کا اب کوئی ٹھکانہ نہیں ‘ وہ اللہ کا شکر ادا کرتی ہے کہ اسے لوگوں کے گھروں کی محنت کی ذلت سے نجات ملی۔ اچانک ایک دن اس کا بیٹا کسی اندھی گولی کا نشانہ بن جاتا ہے۔ اس خاتون کی نگاہوں میں دنیا اندھیر ہوجاتی ہے۔ اب اس کے سوا اس کے لیے کوئی چارہ نہیں کہ لوگوں سے جا جا کر فریاد کرے ‘ پولیس تھانوں کے پھیرے لگائے ‘ عدالتوں کے چکر لگائے ‘ شاید اس کے بیٹے کے قاتل کو سزا مل سکے اور اس کا کلیجہ ٹھنڈا ہو۔ لیکن ایک دن پولیس اسے یہ کہہ کر کیس داخل دفتر کردیتی ہے کہ ہم نے ہرچند کوشش کی ‘ لیکن تمہارے بیٹے کا قاتل ہم تلاش نہ کرسکے۔ سوال یہ ہے کہ یہ خاتون جب راتوں کو اٹھ اٹھ کر اللہ کے سامنے ہاتھ پھیلا پھیلا کر یہ شکایت کرے گی تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات تو اس کا جواب کون دے گا ؟ یہ ایک اندوہناک کہانی اس ماں کی ہے ‘ جس کے بیٹے کا قاتل پکڑا نہیں جاسکا۔ لیکن اس سے بھی زیادہ اذیتناک کہانیاں اور بھی ہیں کہ کسی بدبخت نے کہیں بم پھینکا ‘ سینکڑوں لوگ لقمہ اجل ہوگئے۔ کسی دہشت گرد نے پٹڑی اکھاڑ دی ‘ سینکڑوں لوگ حادثے کا شکار ہوگئے یا کسی بڑی طاقت کے ظالم حکمران نے کسی چھوٹے ملک کے کمزور باسیوں کو موت کا نشانہ بنایا اور یہ سارے قاتل پکڑے بھی گئے۔ ظالم حکمران کو تو خیر کون سزا دے گا ؟ لیکن دہشت گرد اگر سزا پا بھی لے تو کون سی عدالت ہے ‘ جو ایک دہشت گرد سے سینکڑوں جانوں کا بدلہ لے سکے۔ اس کے پاس تو صرف ایک جان ہے۔ صرف وہی جان چھینی جاسکتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ دنیا اندھیر نگری ہے ‘ یہاں کسی ظالم کے ظلم کی سزانھیں۔ کسی بڑے ظالم کو پکڑا نہیں جاسکتا ‘ کسی سینکڑوں جانیں لینے والے دہشت گرد سے ایک جان کے سوا اور جان نہیں لی جاسکتی ؟ اگر اللہ نے اپنے اوپر رحمت لازم کر رکھی ہے تو کیا اس کی رحمت کا تقاضہ نہیں کہ وہ جس طرح ان مجرموں کو قرار واقعی سزا دے ‘ اسی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ ضروری یہ ہے کہ جن لوگوں نے اس کے راستے میں قربانیاں دی ہیں ‘ تکلیفیں اٹھائی ہیں ‘ بعض دفعہ سرکٹوایا ‘ ان کی خدمتوں اور قربانیوں کا صلہ دے ؟ اگر ایسا نہ ہو سکے تو پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ پروردگار نہ رحمن ہے ‘ نہ رحیم ہے۔ اس لیے پروردگار ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ نے اپنے اوپررحمت واجب کرلی ہے۔ اس کی رحمت کا تقاضہ یقینا یہی ہے کہ اس کے جاں نثار نوازے جائیں اور مجرم اپنے انجام کو پہنچیں۔ لیکن اس کے لیے اس دنیا کی وسعتیں کافی نہیں۔ اس کے لیے ایک اور دنیا بسانی ہوگی اور وہاں پوری طرح اللہ کی صفت رحمت کا ظہور ہوگا۔ اس لیے فرمایا لَیَجْمَعَنَّکُمْ اِلیٰ یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ لَا رَیْبَ فِیْہ (وہ تم کو جمع کر کے ضرور لے جائے گا ‘ قیامت کے دن کی طرف ‘ جس میں ذرا شبہ نہیں ہے) یہ رحمت کے ذکرکے بعد قیامت میں جمع کرنے کا تذکرہ ‘ اسی حوالے سے ہے کہ رحمت کا لازمی تقاضہ قیامت کا وجود ہے کیونکہ یہی وہ دن ہے ‘ جس میں پیغمبروں سے لے کر عام صالحین تک ‘ اپنی اپنی قربانیوں اور خدمتوں کا صلہ پائیں گے بلکہ ایک حدیث کے مطابق ‘ جب اس راستے پر چلنے والوں کو ان کی تکلیفوں کا صلہ ملے گا تو وہ تمنا کریں گے کہ کاش ! ہماری کھالیں ‘ قینچیوں سے کاٹی گئی ہوتیں۔ اسی طرح ‘ ہر چھوٹا بڑا مجرم اپنے انجام کو پہنچے گا۔ جس نے جتنی جانیں لی ہوں گی ‘ اسے اتنی دفعہ جان دینے کے دردناک انجام سے دوچار کیا جائے گا۔ جب اسے جہنم میں جلایا جائے گا اور اس کی کھال جل کر جھڑ جائے گی تو اسے نئی کھال پہنا دی جائے گی اور ہر دفعہ اسے نئی اذیت سے گزرنا ہوگا۔ اللہ ہر خیر و شر کے کام کی مکمل جزا و سزا دے گا بات اگرچہ طویل ہوتی جا رہی ہے ‘ لیکن جی چاہتا ہے کہ پروردگار کی رحمت کا ایک اور پہلو آپ کی خدمت میں پیش کروں۔ وہ یہ کہ ہم لوگ اپنے علم کی کوتاہی کے باعث صرف اتنا جانتے ہیں کہ جب ایک آدمی کوئی جرم کرتا ہے تو اس جرم کی فوری سزا اسے ملنی چاہیے۔ اسی طرح جب کوئی آدمی کوئی بھلائی کرتا ہے یا کوئی بڑا کارنامہ سرانجام دیتا ہے تو اسے فوری طور پر کسی انعام سے نوازا جانا چاہیے۔ لیکن یہ بات ہمارے تصور میں کبھی نہیں آتی کہ ہم اس دنیا میں اس بات کا بالکل اندازہ نہیں کرسکتے کہ وقتی طور پر ہونے والا جرم ‘ کیا کیا وسعتیں رکھتا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اس کے نتائج کس قدر وسعت پذیر ہوسکتے ہیں۔ مثلاً ایک آدمی نے قتل کیا۔ ہم صرف اتنا جانتے ہیں کہ اس نے ایک آدمی کی جان لی اور اگر وہ شخص صاحب اولاد تھا تو اس نے ایک گھر کو ویران کیا اور بچوں کو یتیم بنا کر لاوارث کردیا۔ لیکن اس کے بعد کیا ہونے والا ہے ‘ ہم اس سے بالکل بیخبر ہیں حالانکہ ہمارے مشاہدے کی بات ہے کہ جو عورت شوہر کے قتل ہونے کے بعد بیوہ ہوگئی۔ بہت امکان ہے کہ وہ حالات کے دبائو کا مقابلہ نہ کرسکے اور کسی غلط راستے پر چل نکلے۔ بچے جب یتیم ہوگئے ‘ اسکا قوی امکان ہے کہ وہ تعلیم نہ حاصل کرسکیں ‘ مناسب تربیت نہ ہونے کے نتیجے میں وہ بگاڑ کا شکار ہوجائیں اور معاشرے کے لیے ان کا وجود ایک مصیبت کا باعث بن جائے۔ ایک شخص نے ان کے باپ کی جان لی تھی۔ یہ اس عمل کے نتیجے میں اگر بگاڑ کا شکار ہوتے ہیں تو نجانے کتنے لوگوں کی جانیں لیں گے۔ ان کے باپ کے قاتل نے ایک گھر اجاڑا تھا۔ لیکن یہ بچے بدراہ ہو کر نجانے کتنے گھر اجاڑیں گے۔ پھر اگر یہ تفکر و تدبر کا سفر جاری رکھا جائے تو یہ آئندہ چل کر اجڑنے والے گھر ‘ وہاں بگڑنے والے بچے اور بیوہ ہونے والی عورتیں ‘ نجانے وقت کے ساتھ ساتھ کتنے معاشروں کی تباہی کا باعث بنیں گی اور اس کے نتائج کہیں خیر میں تبدیل ہوں گے بھی یا نہیں۔ اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو اللہ کے علم میں مستقبل کی چونکہ پوری تصویر موجود ہے۔ اس لیے اس کے علم کے مطابق ‘ جس آدمی نے کسی کو قتل کر کے آئندہ دور تک بگاڑ اور مسائل کا جو سلسلہ جنم دیا ‘ ہونا یہ چاہیے کہ پروردگار اپنے علم کے مطابق صرف اس سے قصاص لینے کا حکم نہ دے ‘ بلکہ اس کے لیے جہنم کی دائمی سزا رکھے۔ کیونکہ ایک ایسا عمل ‘ جس نے غیر متناہی تباہی کا راستہ کھولا ہے ‘ اس کی سزا بھی غیر متناہی ہونی چاہیے۔ لیکن آپ اللہ کی رحمت کا اندازہ فرمائیں کہ وہ قاتل کو اس بات کا موقع دیتا ہے کہ وہ قصاص میں قتل ہونے سے پہلے پہلے اگر اخلاص سے توبہ کرلیتا ہے تو اسکا قصاص میں قتل ہونا ہی اس کے لیے ایک مکمل سزا بن جائے گا اور آخرت میں عین ممکن ہے کہ اللہ کے یہاں وہ مغفرت کا سزاوار ٹھہرے۔ بالکل اسی طرح ایک آدمی جب کوئی بھلائی کرتا ہے تو ہم اس کا صلہ وقتی طور پردے کر اس کا حق نبٹا دینا چاہتے ہیں حالانکہ برائی کی طرح ‘ بھلائی بھی نتیجہ خیز ہوتی ہے۔ جس نے کسی یتیم کے سر پر ہاتھ رکھا ‘ اس بےسہارا کو سہارا دیا ‘ اسے تعلیم و تربیت سے آراستہ کر کے معاشرے کا ایک کارآمد فرد بنایا ‘ عین ممکن ہے آئندہ چل کر یہ بےسہارا لڑکا بہت سے بےسہارا لوگوں کا سہارا بن جائے۔ اسی طرح کوئی بھی آغاز کیا جانے والا نیا کام ‘ بظاہر ایک ذرے کی حیثیت رکھتا ہے اور شاید اس کی افادیت ایک دانے جتنی بھی نہ ہو۔ لیکن جس طرح ایک دانہ ‘ سات سو دانوں میں تبدیل ہوتا ہے اور ایک ذرہ ‘ صحرا کی وسعتوں میں پھیل جاتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ ہر نیک کام کو ‘ جسے اخلاص سے شروع کیا جائے ‘ ایسی وسعتیں عطا فرماتا ہے کہ جس کا اندازہ کرنا لمحہ موجود میں ممکن نہیں ہوتا۔ مثلاً دارالعلوم دیوبند کا آغاز ایک انار کے درخت کے نیچے ایک استاد اور ایک طالب علم سے ہوا تھا۔ لیکن ہماری تاریخ میں اس کی جو خدمات اور کارنامے ہیں ‘ تاریخ اس سے ہمیشہ گراں بار رہے گی۔ علی گڑھ کی ابتداء ایک سکول سے ہوئی تھی۔ لیکن وہ بڑھتے بڑھتے ایک تحریک کی شکل اختیار کر گیا اور پھر وہاں سے نکلنے والے لوگوں نے تحریک پاکستان کی بنیاد رکھی۔ ایسی بیشمار مثالیں ہیں ‘ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایک معمولی نیک کام ‘ ایک بہت بڑے خیر کا پیش خیمہ بن جاتا ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی رحمت ِ بےکراں کا اندازہ اس طرح ہوتا ہے کہ پروردگار ہر عمل کا ٹھیک ٹھیک صلہ قیامت کے دن عطا فرمائیں گے اور وہ صلہ دنیا میں اس کے محدود آغاز کے حوالے سے نہیں ہوگا۔ بلکہ اس نے اپنی تمام وسعتوں سمیت جو آخری شکل اختیار کی ہوگی ‘ اس کی نسبت سے اس کو صلہ دیا جائے گا تو صلہ لینے والا خود حیران ہوگا کہ میرے نامہ عمل میں تو ایسا کوئی عمل نہ تھا ‘ جس سے میں اتنا نوازا جاتا۔ تب اسے معلوم ہوگا کہ راہ حق میں تیرا دیا ہوا ایک ایک پیسہ اور اس راستے میں بہنے والے پسینے کا ایک ایک قطرہ ‘ آج اجر وثواب کے پہاڑ اور سمندر میں تبدیل ہوچکا ہے اور وہی ہے ‘ جس کو آج تم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو۔ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا وہ پہلو ہے ‘ جو بالعموم انسانی نگاہوں سے اوجھل رہتا ہے۔ اس کے بعد فرمایا : اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْآ اَنْفُسَھُمْ فَھُمْ لاَ یُؤْمِنُوْنَ ” جنھوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈالا وہی ہیں جو اس پر ایمان نہیں لاتے “۔ اس آیت کریمہ میں ایک دفعہ پھر تدبر فرمایئے کہ پہلے علم و دانش کی روشنی میں اور اس کے بعد تاریخ کے آئینے میں ‘ اللہ تعالیٰ کی صفت حاکمیت کو واضح فرما کر یہ ثابت کیا ہے کہ اللہ کی شریعت کے مطابق زندگی گزارنا اور اللہ کی حاکمیت کے تقاضوں کو بروئے کار لانا ‘ یہ علم و دانش اور تاریخ کی وہ شہادت ہے ‘ جس سے انکار ممکن نہیں۔ لیکن مشرکینِ مکہ اس کو سمجھنے کی بجائے الٹے رخ پر سفر کرنے پر صرار کر رہے ہیں۔ انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے کرتوت تو اس قابل ہیں کہ ان پر اللہ کا عذاب آجائے ‘ لیکن وہ صرف اس لیے ٹلا ہوا ہے کہ اللہ کی رحمت کا تقاضہ یہ ہے کہ انھیں مزید سنبھلنے کا موقع دیا جائے۔ لیکن اگر اب بھی وہ اس مہلت سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار نہیں ہیں تو پھر انھیں سوچ لینا چاہیے کہ وہ گھاٹے کا سودا کر ہے ہیں۔ اس کا احساس انھیں اس وقت ہوگا جب وہ قیامت کو اپنے سامنے پائیں گے۔ لیکن تب انھیں اس احساس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ قیامت اور آخرت کے منکرین کو جو اشتباہات رہے ہیں۔ ان میں سے بعض کا تعلق تو اللہ کی بےپایاں قدرت سے ہے۔ اس کا ذکر تو اس آیت کریمہ میں ہوگیا۔ لیکن بعض اشتباہات کا تعلق ‘ اس بات سے ہے کہ انھیں یہ بات سمجھ میں نہیں آتی تھی کہ چلیئے اگر مان بھی لیا جائے کہ تمام دنیا کو ایک دفعہ فنا کردیا جائے گا اور پھر دوبارہ اسے زندہ کیا جائے گا۔ ایک میدان حشر ہوگا ‘ جس میں سب جمع ہوں گے اور حساب کتاب کے مرحلے سے گزریں گے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آخر ایک ایک آدمی کے اعمال کی خبر کسے ہوگی۔ اربوں ‘ کھربوں مخلوق میں ‘ ایک ایک آدمی اپنی زندگی میں کروڑوں اعمال کرتا ہے۔ اس سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ پوری دنیا کے اعمال کی تعداد کہاں تک پہنچے گی کیا یہ ممکن ہے کہ ایک ایک آدمی کا اعمال نامہ پوری طرح محفوظ ہو اور اس کے اندھیرے ‘ اجالے کے تمام اعمال کا علم ہر لحاظ سے مکمل ہو ؟ یہ وہ بات ہے جسکا سمجھ میں آنا آسان نہیں۔ چناچہ اسی حوالے سے ارشاد فرمایا جا رہا ہے۔
Ayah 6:13

وَ لَهٗ مَا سَكَنَ فِی الَّیْلِ وَ النَّهَارِ١ؕ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 6:13 in the Quran reader

اور اسی کے قبضہ قدرت میں ہے ‘ جو چیز شب میں ساکن ہوتی ہے اور جو دن میں متحرک ہوتی ہے۔ وہ سمیع وعلیم ہے

وَلَہٗ مَا سَکَنَ فِی الَّیْلِ وَالنَّھَارِ ط وَھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ۔ (الانعام : 13) (اور اسی کے قبضہ قدرت میں ہے ‘ جو چیز شب میں ساکن ہوتی ہے اور جو دن میں متحرک ہوتی ہے۔ وہ سمیع وعلیم ہے) یعنی لوگوں کو یہ شبہ ہے کہ ایک ایک آدمی کے عمل سے اللہ تعالیٰ کیسے باخبر ہوسکتے ہیں ؟ اس لیے انھیں بتایا جا رہا ہے کہ انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ شب کی تاریکیوں میں جو چیز ساکن ہوتی ہے اور دن کی روشنی میں جو چیز بھی متحرک ہوتی ہے ‘ سب اللہ ہی کے اختیار ‘ اسی کے قبضہ قدرت اور اسی کے کنٹرول میں ہے۔ مجال نہیں کہ کوئی چیز ‘ اس کی نگاہوں سے اوجھل ہو سکے اور اس کے اذن کے بغیر اپنی جگہ سے سرک سکے۔ رات کی تاریکی اور دن کی روشنی ‘ دونوں اس کے لیے یکساں ہیں۔ وہ ہر جگہ سے سب کو اکٹھا کر دے گا اور جس طرح اس کی قدرت سب پر محیط ہے ‘ اسی طرح اس کا علم بھی ‘ ہر چیز پر حاوی ہے۔ اس لیے کہ وہ سمیع وعلیم ہے۔ صحرا میں کوئی پتہ گرتا ہے تو وہ اس کی آہٹ سنتا ہے۔ دل و دماغ میں خیال کی کوئی لہر اٹھتی ہے تو وہ اسے جانتا ہے۔ انسانی دماغ چونکہ اس کے علم کی وسعتوں کا احاطہ نہیں کرسکتا ‘ اس لیے عجیب و غریب شبہات میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ پروردگار عالم کی قدرت کی ہمہ گیری ‘ اس کے علم کی بےانتہاء وسعت اور اس کی رحمت بےکراں کا مدلل ذکر فرمانے کے بعد ‘ آنحضرت ﷺ کی زبان مبارک سے لوگوں کے سامنے ایک سوال رکھا جا رہا ہے ‘ جو بیان کردہ صورتحال کا لازمی اور منطقی نتیجہ ہے۔ ارشاد خداوندی ہے۔