6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsروح القرآن

Ayah 6:29

وَ قَالُوْۤا اِنْ هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا وَ مَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ Open ayah 6:29 in the Quran reader

کہتے ہیں کہ زندگی تو بس یہی دنیا کی زندگی ہے اور مرنے کے بعد ‘ ہم اٹھائے نہیں جائیں گے

ارشاد ہے : وَقَالُوْٓااِنْ ھِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ ۔ (الانعام : 29) (کہتے ہیں کہ زندگی تو بس یہی دنیا کی زندگی ہے اور مرنے کے بعد ‘ ہم اٹھائے نہیں جائیں گے) آخرت کا انکار ہی اصل میں ہمیشہ سے انسانی بگاڑ کی بنیادی وجہ رہی ہے یعنی اہل مکہ اور باقی انسانوں کے بگاڑ کے نتیجے میں ان کے ہولناک انجام کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ اس زندگی کے بعد کوئی اور زندگی نہیں۔ یہ شب و روز کا سلسلہ جو چل رہا ہے موت اس کا اختتام ہے اور زندگی کی اس شام کے بعد کسی اور صبح کے طلوع ہونے کا تصور بھی محال ہے اور اگر کچھ لوگ اس کو کسی حد تک مانتے بھی تھے تو یقین انھیں بھی نہیں تھا کہ قیامت واقعی آئے گی۔ اپنے اس اعتقاد کی وجہ سے وہ یہ بات سننے کے بھی روادار نہ تھے کہ اپنی زندگی کے معمولات میں اس لیے کمی بیشی کی جائے اور اپنے اختیار پر اس لیے کچھ پابندیاں قبول کرلی جائیں کہ قیامت کے دن چونکہ حساب دینا ہے ‘ اس لیے اگر ہم نے ان پابندیوں کو قبول نہ کیا اور من مرضی کی زندگی اختیار کرتے رہے تو وہاں کیا جواب دے سکیں گے۔ جب ایسی کوئی بات ان سے کہی جاتی تھی تو وہ آپے سے باہر ہوجاتے تھے اور کہتے تھے کہ جب ایسی کسی زندگی کا تصور ہمارے نزدیک ممکن ہی نہیں تو تم آخرہ میں اس سے ڈراتے کیوں ہو ؟ ہم تو یہ جانتے ہیں کہ موت کے بعد قبر میں جانا ہے اور قبر میں مٹی کے ساتھ مل کر مٹی ہوجانا ہے۔ دوبارہ جی اٹھنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تو جواب دہی کیسے ہوگی ؟ جواب دہی کا مرحلہ تو جب آئے گا ‘ جب ہم واقعی دوبارہ زندہ کیے جائیں گے اور واقعی کوئی عدالت قائم ہوگی۔ جب یہ ساری انہونی باتیں ہیں تو تم ہماری زندگی کا عیش مکدر کیوں کرتے ہو۔ یہیں کے غم اصل غم ہیں اور یہیں کی خوشیاں اصل خوشیاں ہیں۔ جس نے ان غموں پر قابو پا لیا اور ان خوشیوں کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا ‘ اس نے گویا زندگی کی کامیابیاں حاصل کرلیں اور جو یہاں کی خوشیاں حاصل کرنے میں ناکام رہا ‘ محرومیاں ایسے شخص کا مقدر ہوں گی۔ اس لیے ہمیں جو کچھ کرنا ہے ‘ اسی دنیا میں اور اسی دنیا کے لیے کرنا ہے۔ ہمارا مقصد اس دنیا اور اس زندگی میں خوشیوں کا حصول اور عیش و عشرت کی زندگی گزارنا ہے۔ اس میں اس بحث کی کوئی گنجائش نہیں کہ کیا جائز ہے اور کیا ناجائز۔ کیا ہونا چاہیے ‘ اور کیا نہیں ہونا چاہیے یہ سراسر کتابی باتیں ہیں اور کمزور لوگوں کے بہلاوے ہیں۔ جس شخص کو زندگی پر سوار ہونے کی قدرت حاصل ہے ‘ اسے اپنی قدرت اور قوت کے بل بوتے پر زندگی کی ہر خوشی کو حاصل کرنے کا حق حاصل ہے۔ اس لیے تم بار بار آخرت کے تذکرے سے ہمارے رنگ میں بھنگ مت ڈالو۔ یہ کیا مصیبت ہے کہ ہم سونا چاہتے ہیں تو تم ہمیں آنے والے دن کا تصور دے کر جگا دیتے ہو۔ ہم دولت کے حصول کے لیے کوئی بھی ذریعہ اختیار کرنا چاہتے ہیں ‘ جس سے ایک بڑا دولت کا انبار ہمارے ہاتھ آئے اور تم جواب دہی کا تصور لے کر بیٹھ جاتے ہو۔ ہم تو تمہارے ان تصورات سے تنگ آگئے۔ اس لیے مہربانی کرو ‘ ہمیں اپنی مرضی کی زندگی گزارنے دو یہ وہ تصورات تھے ‘ جن کے تحت وہ زندگی گزارتے تھے اور آج کا انسان بھی انہی تصورات کے ساتھ جی رہا ہے۔ اس لیے وہ کسی بھی پابندی کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اس کا معبود مادہ ہے اور دولت وہ آستانہ ہے جس پر اس کا سر جھکتا ہے اور عہدہ و منصب ‘ وہ قبلہ مقصود ہے ‘ جسکا وہ زندگی بھر طواف کرتا رہتا ہے اور قوت و لذت وہ منزل ہے ‘ جس کے حصول کے لیے وہ ہمیشہ سرگرم سفر رہتا ہے۔ چناچہ یہی بات مشرکینِ مکہ کہتے تھے کہ ہماری زندگی تو یہ دنیا کی زندگی ہے ہمیں یقین ہے کہ ہم دوبارہ اٹھائے نہیں جائیں گے۔ اس لیے ہم تمہاری کسی بات کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ چناچہ اگلی آیت کریمہ میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ قیامت کے انکار کی صورت میں ان نادانوں کے ساتھ قیامت کے دن کیا گزرنے والی ہے۔
Ayah 6:30

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ وُقِفُوْا عَلٰى رَبِّهِمْ١ؕ قَالَ اَلَیْسَ هٰذَا بِالْحَقِّ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ رَبِّنَا١ؕ قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 6:30 in the Quran reader

اور اگر تم دیکھ پاتے اس وقت کو ‘ جب یہ اپنے رب کے حضور کھڑے کئے جائیں گے ‘ وہ ان سے پوچھے گا ! کیا یہ امر واقعہ نہیں ہے وہ جواب دیں گے ‘ ہاں ! ہمارے رب کی قسم ‘ یہ امر واقعہ ہے۔ (اللہ) فرمائے گا ! پس چکھو عذاب ‘ اپنے کفر کی پاداش میں

ارشاد خداوندی ہے۔ وَلَوْ تَرٰٓی اِذْ وُقِفُوْا عَلٰی رَبِّھِمْ ط قَالَ اَلَیْسَ ھٰذَا بِالْحَقِّ ط قَالُوْا بَلٰی وَ رَبِّنَا ط قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا کُنْتُمْ تَکْفُرُوْنَ ۔ (الانعام : 30) (اور اگر تم دیکھ پاتے اس وقت کو ‘ جب یہ اپنے رب کے حضور کھڑے کیے جائیں گے ‘ وہ ان سے پوچھے گا ! کیا یہ امر واقعہ نہیں ہے ؟ وہ جواب دیں گے ‘ ہاں ہمارے رب کی قسم ‘ یہ امر واقعہ ہے۔ (اللہ) فرمائے گا ! پس چکھو عذاب اپنے کفر کی پاداش میں) اس آیت کے پہلے جملے کے الفاظ تو نہایت مختصر ہیں جس کا ترجمہ ہم نے یہ کیا ہے کہ ” اگر تم دیکھ پاتے اس وقت کو ‘ جب یہ اپنے رب کے حضور کھڑے کیے جائیں گے “ لیکن اگر ہم تصور میں کسی طرح اس منظر کو سمیٹ سکیں تو ممکن نہیں ہے کہ ہمارے جسم پر کپکپی نہ چھوٹے۔ غور کیجئے ! بےبس انسانوں کا ایک جم غفیر اپنے گناہوں کا پشتارہ اٹھائے ہوئے اور اپنے جرائم کی فائل لیے نہایت بےبسی کے عالم میں ایک ایسی عدالت میں کھڑا ہوگا ‘ جسکا منصف اعلیٰ ہمہ مقتدر خداوند ذوالجلال ہوگا۔ اگر کسی آدمی کو ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ جیسی معمولی عدالت میں کھڑے ہونے کا بھی اتفاق ہوا ہو تو اسے اندازہ ہوسکتا ہے کہ کسی بھی عدالت میں اپنی جزا سزا کا انتظار اور عدالت کے جج کا سامنا کس قدر مشکل کام ہے حالانکہ یہ عدالتیں انسانوں کی عدالتیں ہیں۔ اس میں فیصلہ سنانے والا بھی ایک بےبس انسان ہوتا ہے۔ لیکن جس عدالت میں سامنا خداوند ذوالجلال سے ہوگا ‘ اس میں قطع نظر اس سے کہ فیصلہ کیا ہوتا ہے ‘ خود پروردگار کے سامنے کھڑا ہونا ہی بجائے خود ایک دل دہلا دینے والی بات ہے۔ اس لیے قرآن کریم نے ایک جگہ بتلایا ہے کہ جو آدمی اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرا یہی ہے جس نے نفس کو لگام دے لی اور اپنی خواہشات پر قابو پا لیا اور بالآخر جنت اس کا ٹھکانہ ہوگا اب قیامت کے دن فی الواقع اللہ کے سامنے کھڑا ہونا ہوگا۔ ایک بےبس اور بےکس انسان جو کمزوریوں اور ناتوانیوں کا پتلا ہے ‘ وہ اس منظر کی تاب کیسے لاسکے گا۔ پروردگار اپنی قدرت کاملہ سے شاید اس لیے ان کو زندہ رکھے گا تاکہ یہ جہنم کا عذاب چکھیں ‘ ورنہ انسان کے بس کی بات نہیں کہ وہ ایسی صورت حال میں اپنے آپ کو سنبھال سکے اور دل اس کا پھٹنے سے بچ جائے۔ چناچہ جس وقت انسانوں کا یہ جم غفیر پروردگار کے جلال سے پانی پانی ہو رہا ہوگا کہ اچانک ان سے پوچھا جائے گا بتلائو ! تم دنیا میں جس قیامت کا انکار کرتے رہے ‘ آج اس قیامت کا منظر تمہارے سامنے ہے ‘ اب جواب دو کہ کیا یہ امر واقعہ ہے یا نہیں وہ جواب میں کہیں گے ” بَلٰی وَ رَبِّنَا “ ہاں ! ہمارے رب کی قسم ‘ یہ امر واقعہ ہے۔ جس قیامت کا وہ زندگی بھر انکار کرتے رہے ‘ اب کس آمادگی کے ساتھ وہ اس کا اقرار کریں گے اور ساتھ ہی اپنے رب کی قسم کھائیں گے اور رَبِّنَا کہہ کر اللہ کو یاد کریں گے لیکن یہ آمادگی ‘ یہ تسلیم اور یہ اطاعت وانقیاد بعد از مرگ واویلا سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتیں ‘ اس لیے کہ آج ان کا قیامت کو تسلیم کرنا اس لیے ہے کہ اس کا انکار کرنے کی گنجائش نہیں ‘ وہ خود قیامت کے حصار میں ہیں ‘ ان کا انجام انھیں دکھائی دے رہا ہے۔ پروردگار کا جلال انھیں سراسیمہ کر رہا ہے ‘ اس لیے اس وقت کا اقرار اور یقین ایک بےقدر و قیمت چیز ہے کیونکہ ایمان دنیا میں انسان کے عقل و شعور کا امتحان ہے۔ دنیا میں ہزاروں ایسے مواقع ہیں ‘ جو انسان کو ایمان سے روکتے بلکہ اس کے خلاف اکساتے ہیں۔ لیکن اللہ اپنے دلائل انفس و آفاق دکھا کر اور اپنے رسول اور کتابیں بھیج کر انسان کے لیے ایمان کو آسان بھی کرتا ہے اور اس کی دعوت بھی دیتا ہے۔ اس لیے جب تک آدمی دنیا میں ہے ‘ وہ اس امتحان اور آزمائش میں ہے کہ آیا وہ ایمان لاتا ہے یا نہیں۔ لیکن جب وہ موت کی وادی میں داخل ہوجاتا ہے تو ہر چیز اس کے مشاہدے میں آنا شروع ہوجاتی ہے ‘ اب اگر وہ ایمان لانا چاہے تو اس کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا کیونکہ آنکھوں دیکھا ایمان اللہ کے نزدیک ایمان نہیں بلکہ مشاہدہ ہے۔ یہ تو بالکل ایسے ہی ہے کہ کسی آدمی کو کسی امتحان کی تیاری کے لیے ایک مدت تک موقع دیا جائے اور جب وہ کمرہ امتحان میں پہنچ جائے ‘ تو وہاں جا کر یہ کہے کہ مجھے اب تک اس بات کا یقین نہیں تھا کہ واقعی امتحان ہوگا ‘ اب مجھے یقین آگیا ہے اس لیے اب مجھے اس کی تیاری کا موقع دیا جائے۔ ظاہر ہے کسی بھی امیدوار کو اس کا موقع نہیں دیا جائے گا۔ اس لیے یہاں قیامت کے دن یہ لوگ اگرچہ اب قیامت کا اعتراف کریں گے لیکن بجائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ ان کے اقرار و ایمان کی قدر فرمائے۔ انھیں جہنم کا مزا چکھنے کا حکم دیں گے۔ جہنم کوئی چکھنے کی چیز نہیں بلکہ یہ تو جسم و جان کے سب سے بڑے ابتلا کا نام ہے۔ لیکن دنیا میں جہنم کا انکار کرنے والوں نے دنیا کو بجائے آخرت کی تیاری کے لیے استعمال کرنے کے صرف دنیا کی نعمتوں کو کھانے پینے کی چیز سمجھا اور ساری زندگی لذت کام و دہن میں گزاری اس لیے ان سے کہا جارہا ہے کہ چونکہ تمہیں لذت ہی دنیا کی سب سے بڑی حقیقت معلوم ہوتی رہی ہے آج اسی لذت کے حوالے سے ہم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ اب جہنم کے عذاب کو بھی چکھ کر دیکھو ‘ تاکہ تمہیں اندازہ ہو کہ اپنے خالق ومالک کے احکام کا انکار کرنا اور حقائق کو تسلیم نہ کرنا کیسے ہولناک نتائج کا پیش خیمہ ہوسکتا ہے۔ جہنم کے عذاب کی شدت ‘ وسعت اور اس کی گہرائی تو واقعی دل دہلا دینے والی ہے اور کوئی بھی قرآن پاک کا پڑھنے والا یا اسلامی تعلیمات کو جاننے والا اس سے بےبہرہ نہیں ہوسکتا لیکن اگر مزید غور کیا جائے تو جہنم کی سزا کے بارے میں بعض اور ہولناک چیزیں سامنے آتی ہیں ‘ جو پتہ پانی کردینے کے لیے کافی ہیں۔ مثلاً دنیا میں کوئی ایسی سزا نہیں جس کی کیفیت اور کمیت میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کمی نہ ہوتی ہو۔ کسی آدمی کو اگر عمر قید ہوجائے تو ہر دن کے گزرنے سے اس کی قید کی مدت میں ایک دن کی کمی ہوجاتی ہے اور جیسے جیسے دن گزرتے ہیں اس کی مدت قید کم ہوتی جاتی ہے اور قیدی کو یہ امید زندہ رکھتی ہے کہ ایک نہ ایک دن یہ قید کے دن گزر جائیں گے اور میں آزاد فضا میں سانس لے سکوں گا۔ لیکن جہنم کی سزا عجیب سزا ہے کہ کافروں کو چونکہ ابدی عذاب کی سزا ملے گی ‘ اس لیے کسی دن کے گزرنے سے ان کے عذاب کی مدت میں کمی نہیں ہوگی۔ کیونکہ ان کی سزا لاانتہا ہے ‘ اس لیے ہر گزرنے والا دن ان کی سزا میں اضافہ محسوس کرائے گا ‘ کمی کا احساس نہیں ہوگا۔ اسی طرح دنیا میں شدید سے شدید سزا کی شدت میں بھی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کمی ہوجاتی ہے ‘ جس آدمی کو چکی پیسنے کا حکم ملتا ہے۔ شروع دنوں میں اس کے ہاتھوں میں چھالے پڑتے ہیں ‘ پھر وہ زخموں میں تبدیل ہوتے ہیں ‘ پھر خون بہتا ہے ‘ آخر گٹے بننے لگتے ہیں۔ گٹے بننے کے بعد چکی پیسنے والے کی تکلیف میں کمی ہوجاتی ہے۔ اب نہ اس کو زخم پریشان کرتے ہیں نہ اس کے بازو شل ہوتے ہیں کیونکہ روز کی مشقت نے اس کے اعصاب کو سخت کردیا ہے۔ لیکن جہنم کی سزا عجیب سزا ہے کہ جیسے جیسے وقت گزرے گا ‘ اس کی کیفیت اور شدت میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ جہنم کی آگ جب جہنمیوں کی کھالوں کو جلا دے گی اور ان کی کھالیں جل کر جھڑ جائیں گی تو اللہ فرماتا ہے ہم ان کو نئی کھالیں پہنا دیں گے۔ نئی کھال پہننے کے بعد ہر جہنمی از سر نو جلنے کی تکلیف محسوس کرے گا چونکہ کسی کو مرنے نہیں دیا جائے گا اس لیے بار بار کھالیں بدلنے سے بار بار ان کی اذیت میں اضافہ ہوگا اس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ جہنم کا عذاب کیسا ہولناک عذاب ہوگا ‘ جس کے بارے میں یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ تم اپنے کفر کے باعث اب اس عذاب کا مزا چکھو گے جس کا تم مذاق اڑایا کرتے تھے۔ جہنم میں اہل جہنم پر جو گزرے گی ‘ وہ تو ایک دلخراش داستان ہے ہی لیکن ان قیامت کا انکار کرنے والوں کے اپنے احساسات بھی ان کے لیے نہایت تکلیف دہ ہوں گے۔ ایک آدمی جب محسوس کرتا ہے کہ میں جس مصیبت میں گرفتار ہوں وہ میری اپنی کوتاہیوں کا نتیجہ ہے تو وہ وقت سے پہلے اور عذاب شروع ہونے سے پہلے اپنے ہی پیدا کردہ عذاب کی گرفت میں ہوتا ہے۔ یہاں بھی ایسا ہی ہوگا کہ جب قیامت کا انکار کرنے والوں کو اچانک قیامت سے سابقہ پیش آئے گا تو وہ خود اپنے آپ کو ملامت کریں گے۔ چناچہ ان کے احساس کی کیفیت قرآن کریم نے اگلی آیت میں بیان کی ہے۔
Ayah 6:31

قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰهِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَتْهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً قَالُوْا یٰحَسْرَتَنَا عَلٰى مَا فَرَّطْنَا فِیْهَا١ۙ وَ هُمْ یَحْمِلُوْنَ اَوْزَارَهُمْ عَلٰى ظُهُوْرِهِمْ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ Open ayah 6:31 in the Quran reader

گھاٹے میں رہے وہ لوگ ‘ جنہوں نے اللہ سے ملاقات کو جھٹلایا یہاں تک کہ جب وہ گھڑی اچانک آپہنچے گی ‘ وہ کہیں گے کہ ہائے افسوس ! ہماری اس کوتاہی پر ‘ جو اس باب میں ہم سے ہوئی اور وہ اپنے بوجھ اپنی پیٹھوں پر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ جان رکھو کہ نہایت ہی برا ہوگا وہ بوجھ ‘ جو یہ اٹھائیں گے

ارشاد ہے۔ قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ کَذَّبُوما بِلِقَآئِ اللہِ ط حَتّٰیٓ اِذَا جَآئَتْھُمُ السَّاعَۃُ بَغْتَۃً قَالُوْ یٰحَسْرَتَنَا عَلیٰ مَا فَرَّطْنَا فِیْھَا لا وَھُمْ یَحْمِلُوْنَ اَوْ زَارَھُمْ عَلیٰ ظُھُوْرِِھِمْ ط اَلَا سَآئَ مَا یَزِرُوْنَ ۔ (الانعام : 31) (گھاٹے میں رہے وہ لوگ ‘ جنھوں نے اللہ سے ملاقات کو جھٹلایا۔ یہاں تک کہ جب وہ گھڑی اچانک آپہنچے گی ‘ وہ کہیں گے کہ ہائے افسوس ! ہماری اس کوتاہی پر ‘ جو اس باب میں ہم سے ہوئی اور وہ اپنے بوجھ اپنی پیٹھوں پر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ جان رکھو کہ نہایت ہی برا ہوگا وہ بوجھ ‘ جو یہ اٹھائیں گے) اس آیت کریمہ میں چند باتوں کا ذکر فرمایا گیا ہے پہلی یہ بات کہ قیامت کا انکار کرنے والے ہمیشہ یہ سمجھتے رہتے ہیں کہ چونکہ قیامت کا کوئی وجود نہیں اس لیے جو لوگ قیامت کی تیاری میں اپنی زندگی پر بہت سی پابندیاں لگائے رکھتے ہیں اور حلال و حرام ‘ جائز و ناجائز اور صحیح و غلط کے بکھیڑے میں پڑے رہتے ہیں ‘ جس کے نتیجے میں زندگی کی بیشتر خوشیوں اور عیش و عشرت سے انھیں محروم ہونا پڑتا ہے ‘ وہ سراسر اپنی دنیوی زندگی کے لیے خود ایک عذاب پیدا کرتے ہیں اور خود ہی اپنے لیے بہت ساری تکلیفیں اٹھاتے اور برداشت کرتے رہتے ہیں اس لیے عقل کی بات یہ ہے کہ وہ بھی ہماری طرح قیامت کے تصور سے جان چھڑائیں اور ہماری طرح زندگی کی ہر جائز و ناجائز نعمت سے لذت اندوز ہوں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان لوگوں نے گھاٹے کا سودا کیا ہے ‘ یہ بیوقوف یہ سمجھتے رہے کہ قیامت چونکہ محض ایک بیوقوفوں کا تصور ہے ‘ اس لیے اسکی تیاری کا کیا سوال ؟ لیکن جب قیامت ان کے سروں پر آپہنچے گی تو تب ان کو اندازہ ہوگا کہ ہم جس کو کامیاب زندگی سمجھتے تھے وہ تو سراسر خسارے اور گھاٹے کا سودا تھا۔ اور اس وقت ان کا یہ احساس سوائے انھیں دکھ دینے کے اور کچھ نہ دے سکے گا۔ کہا جاتا ہے کہ ایک ملحد نے حضرت علی ( رض) سے کہا کہ تم مسلمان چونکہ قیامت پر یقین رکھتے ہو اس لیے اس کی تیاری میں بہت ساری چیزوں سے دست کش ہوجاتے ہو ‘ اور بہت ساری مشقتیں برداشت کرتے ہو۔ پانچ وقت کی نمازیں ‘ سردیوں کے موسم میں ٹھنڈے پانی سے وضو ‘ گرمیوں میں جلتی ہوئی مسجد میں ظہر اور عصر کی نمازیں ‘ پھر اپنی محنت سے کمائی ہوئی دولت سے انفاق فی سبیل اللہ اور زکوٰۃ کے نام سے دولت کا نقصان اور جہاد فی سبیل اللہ کے لیے سب کچھ تیاک دینے کا عزم اور نجانے کیا کیا مصیبتیں ہیں جو تم نے اپنے سر لے رکھی ہیں۔ حالانکہ قیامت ایک موہوم تصور کے سوا کچھ نہیں تو تم کیوں اتنی تکلیفیں اٹھاتے ہو ممکن ہے آپ یہ سمجھیں کہ یہ پرانی باتیں ہیں ‘ آج تو اس طرح شاید کوئی نہ سوچتا ہو ‘ لیکن واقعہ یہ ہے کہ آج کا دانشور بھی خوف فسادِ خلق سے زبان سے کہنے کی ہمت کرے یا نہ کرے لیکن دل میں اس کا یقین ہرگز نہیں رکھتا بلکہ ہمارے یہاں تو ایسے شعراء اور ادیب بھی موجود ہیں جنھوں نے کھل کر اس کا مذاق بھی اڑایا۔ ان میں ایک بڑا نام مرزا غالب کا ہے انھوں نے تو اس کا مذاق اڑاتے ہوئے ‘ اس کا انکار تک کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا وہ فرماتے ہیں ؎ کہاں کا آنا کہاں کا جانا فریب ہے امتیاز عقبیٰ نمود ہر شے میں ہے ہماری کوئی ہمارا وطن نہیں ہے اور جواب دہی کے تصور کو ہلکا کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں : پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر نا حق آدمی اپنا کوئی دمِ تحریر بھی تھا مزید فرماتے ہیں : گناہوں کی بھی حسرت کی ملے داد یا رب اگر ان کردہ گناہوں کی سزا ہے اور عدم صاحب بھی مذاق اڑاتے ہوئے فرماتے ہیں : آگے چل کر حساب ہونا ہے اس لیے بےحساب پی لیجیے دو ہی گھونٹ ہیں جام کے اندر کر کے زیر نقاب پی لیجیے حضرت علی ( رض) نے اس ملحد کے جواب میں فرمایا کہ بات یہ ہے کہ تم یہ کہتے ہو کہ قیامت کا کوئی وجود نہیں اگر تمہاری بات کل کو صحیح نکلی تو میں بھی بچ گیا اور تم بھی بچ گئے ‘ رہی یہ بات دنیا میں بعض پابندیاں قبول کرنے کی تو ہم اسے مشقت نہیں ‘ اپنے لیے راحت سمجھتے ہیں اور اس کے نتیجے میں ایک صاف ستھری زندگی گزارتے ہیں۔ لیکن اگر تمہاری بات غلط نکلی اور میری بات صحیح ثابت ہوئی اور قیامت واقعی آگئی تو میں تو بچ گیا تم بتائو تمہارا کیا بنے گا۔ چناچہ جب قیامت واقعی بپا ہوجائے گی تو اس کے حوالے سے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جن لوگوں نے اسکا انکار کیا تھا وہ گھاٹے میں پڑے۔ آج انکے پاس سوائے پچھتانے کے اور کچھ نہیں ہوگا۔ پھر انکے حالات کی منظر کشی کی گئی ہے کہ جب اچانک قیامت انکے سروں پر آپہنچے گی اور وہ دیکھ لیں گے کہ جسکا ہم انکار کرتے رہے وہ تو حقیقت نکلی تو تب وہ پچھتائیں گے اور تأسف کا اظہار کرتے ہوئے کہیں گے کہ ہائے ہماری شامت اب ہم کیا کریں۔ کیونکہ آج ہم جس صورت حال میں گرفتار ہوگئے ہیں وہ ہماری اپنی کوتاہیوں اور اپنی کم فہمیوں کا نتیجہ ہے ہمیں ہر ممکن طریقے سے اللہ کے رسول نے سمجھایا لیکن ہم نے اس کی کوئی بات مان کے نہیں دی۔ اور ہم اپنے انکار پر اڑے رہے۔ اب قیامت سامنے ہے ایک ایک لمحے اور ایک ایک عمل کا حساب پوچھا جائے گا۔ ہم نے چونکہ اس کی تیاری ہی نہیں کی اس لیے ہمارے پاس سوائے پچھتاوے کے اور کچھ نہیں۔ آیت کے آخر میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ اب انکا حال یہ ہوگا کہ یہ اپنے کفر و معصیت کے بوجھ اور اپنی زندگی بھر کی بداعمالیاں اپنی کمروں پر اٹھائے کھڑے ہوں گے۔ ممکن ہے آپکے ذہن میں یہ بات آئے کہ انسانی اعمال جسم تو نہیں رکھتے جنھیں اٹھانے کی نوبت آئے اور نہ ان کا وزن ہوتا ہے کہ انکا بوجھ محسوس ہو لیکن یہ باتیں اب ماضی کا قصہ ہیں۔ اب تو ہم اپنی گاڑیوں کے ٹائروں میں باقاعدہ تلوا کر ہوا بھرواتے ہیں۔ اگر ہوا کا وزن ہماری گرفت میں آگیا ہے تو کل اگر اعمال کے وزن کا بھی اندازہ ہوجائے تو کوئی تعجب کی بات نہیں اور پھر وہ عدالت تو دنیا کی عدالت نہیں ہوگی وہ تو اللہ کی عدالت ہے جس میں ہمیں بتایا گیا ہے کہ ہر عمل کو مجسم شکل میں سامنے لایا جائے گا حتیٰ کہ دنیا میں ہم نے جن چیزوں کی چوری کی ہوگی اور جو کچھ چرایا ہوگا وہ اسی حالت میں ہمارے کندھوں پر لاد دیا جائے گا اور ہم اسی حالت میں بارگاہ حق میں کھڑے کیے جائیں گے۔ حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک دن خطبہ ارشاد فرمایا اور اس میں کہا کہ لوگو کل میں تمہیں اس حالت میں نہ دیکھوں کہ تم میں سے کسی نے کسی کا اونٹ چوری کیا ہو اور وہ قیامت کے دن اس حال میں میرے پاس آئے کہ اونٹ اس کی گردن پر بیٹھا بلبلا رہا ہو اور وہ مجھ سے فریاد کرے کہ حضور مجھے اس بوجھ سے نجات دلایئے۔ فرمایا میں اسوقت کسی کی مدد نہیں کروں گا کیونکہ آج میں نے تمہیں اللہ کے احکام پہنچا دیئے ہیں۔ اس کے بعد حضور نے مختلف جانوروں کا ذکر کیا ‘ زمین کا ذکر فرمایا ‘ سونا چاندی ‘ درہم و دینار کا بھی تذکرہ کیا اور یہ فرمایا کہ تم جو کچھ بھی چوری کرو گے کل کو وہی چیز تمہاری گردن پر سوار ہوگی۔ اے کاش آج ہم بھی سوچ لیں کہ ہم نے جسطرح خیانت ‘ رشوت اور غبن میں دنیا بھر میں نام پیدا کیا ہے اور بالخصوص ہمارا بالائی طبقہ جسطرح اس میں گرد ن تک دھنسا ہوا ہے اسے آج سوچ لینا چاہیے کہ کل کو قیامت کے دن اسکا کیا جواب دے سکیں گے۔
Ayah 6:32

وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ١ؕ وَ لَلدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 6:32 in the Quran reader

دنیا کی زندگی تو ایک کھیل اور ایک تماشہ ہے۔ آخرت ہی کا مقام ان لوگوں کیلئے بہتر ہے ‘ جو زیاں کاری سے بچنا چاہتے ہیں پھر کیا تم لوگ عقل سے کام نہ لو گے ؟

قیامت کے انکار کے نتائج اور اس کا انجام ذکر کرنے کے بعد یہ فرمایا جا رہا ہے کہ چونکہ قیامت کا انکار دنیا کی حقیقت کو نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے اور دنیا سے غائت درجہ محبت کا ثمر ہے اس لیے ضروری ہے کہ دنیا کی حقیقت واضح کردی جائے۔ اس لیے ارشاد فرمایا : وَمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَآ اِلَّا لَعِبٌوَّ لَھْوٌط وَلَلدَّارُ الْاٰخِرَۃُ خَیْرٌلِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ ط اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ ۔ (الانعام : 32) ” دنیا کی زندگی تو ایک کھیل اور ایک تماشہ ہے۔ آخرت ہی کا مقام ان لوگوں کے لیے بہتر ہے ‘ جو زیاں کاری سے بچنا چاہتے ہیں۔ پھر کیا تم لوگ عقل سے کام نہ لو گے ؟ “۔ یعنی یہ دنیا کی زندگی جس نے تمہیں آخرت سے غافل کردیا ہے ‘ سوائے بےنتیجہ لھو و لعب اور چند روزہ دل بہلاوے کے اور کیا ہے ؟ اصل شے تو دار آخرت اور اس کی زندگی ہے جو آخرت سے ڈرنے والوں کے لیے اس دنیا کی زندگی سے کہیں بہتر ہے بس کیا تم سمجھتے نہیں ہو۔ اس آیت کریمہ میں یہ جو فرمایا گیا کہ دنیا کی زندگی تو صرف ایک کھیل اور تماشہ ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ دنیا کی زندگی میں کوئی سنجیدگی نہیں ہے اور یہ محض کھیل اور تماشے کے طور پر بنائی گئی ہے۔ دراصل اس کا مطلب یہ ہے کہ آخرت کی حقیقی اور پائیدار زندگی کے مقابلہ میں یہ زندگی ایسی ہے جیسے کوئی شخص کچھ دیر کھیل اور تفریح میں دل بہلائے اور پھر اصل سنجیدہ کاروبار کی طرف واپس ہوجائے۔ نیز اسے کھیل اور تماشے سے تشبیہ اس لیے بھی دی گئی ہے کہ یہاں حقیقت کے مخفی ہونے کی وجہ سے بےبصیرت اور طاہر پرست انسانوں کے لیے غلط فہمیوں میں مبتلا ہونے کے بہت سے اسباب موجود ہیں اور ان غلط فہمیوں میں پھنس کر لوگ حقیقت نفس الامری کے خلاف ایسے ایسے عجیب طرز عمل اختیار کرتے ہیں جن کی بدولت ان کی زندگی محض ایک کھیل اور تماشا بن کر رہ جاتی ہے۔ مثلاً جو شخص یہاں بادشاہ بن کر بیٹھتا ہے اس کی حیثیت حقیقت میں تھیئٹر کے اس مصنوعی بادشاہ سے مختلف نہیں ہوتی جو تاج پہن کر جلوہ افروز ہوتا ہے اور اس طرح حکم چلاتا ہے گویا کہ وہ واقعی بادشاہ ہے حالانکہ حقیقی بادشاہی کی اس کو ہوا تک نہیں لگی ہوتی۔ ڈائریکٹر کے ایک اشارے پر وہ معزول ہوجاتا ہے ‘ قید کیا جاتا ہے اور اس کے قتل تک کا فیصلہ صادر ہوجاتا ہے۔ ایسے ہی تماشے اس دنیا میں ہر طرف ہو رہے ہیں۔ کہیں کسی ولی یا دیوی کے دربار سے حاجت روائیاں ہو رہی ہیں ‘ حالانکہ وہاں حاجت روائی کی طاقت کا نام و نشان تک موجود نہیں۔ کہیں کوئی غیب دانی کے کمالات کا مظاہرہ کر رہا ہے ‘ حالانکہ غیب کے علم کا وہاں شائبہ تک نہیں۔ کہیں کوئی لوگوں کا رازق بنا ہوا ہے حالانکہ بیچارہ خود اپنے رزق کے لیے کسی اور کا محتاج ہے۔ کہیں کوئی اپنے آپ کو عزت اور ذلت دینے والا ‘ نفع اور نقصان پہنچانے والا سمجھے بیٹھا ہے اور یوں اپنی کبریائی کے ڈنکے بجا رہا ہے گویا کہ وہی گرد و پیش کی ساری مخلوق کا خدا ہے ‘ حالانکہ بندگی کی ذلت کا داغ اس کی پیشانی پر لگا ہوا ہے اور قسمت کا ایک ذرا سا جھٹکا اسے کبریائی کے مقام سے گرا کر انہی لوگوں کے قدموں میں پامال کرسکتا ہے ‘ جن پر وہ کل تک خدائی کر رہا تھا۔ یہ سب کھیل جو دنیا کی چند روزہ زندگی میں کھیلے جا رہے ہیں ‘ موت کی ساعت آتے ہی یکلخت ختم ہوجائیں گے اور اس سرحد سے پار ہوتے ہی انسان اس عالم میں پہنچ جائے گا ‘ جہاں سب کچھ عین حقیقت کے مطابق ہوگا اور جہاں دنیوی زندگی کی ساری غلط فہمیوں کے چھلکے اتار کر ہر انسان کو دکھا دیا جائے گا کہ وہ صداقت کا کتنا جوہر اپنے ساتھ لایا ہے جو میزان حق میں کسی وزن اور کسی قدر و قیمت کا حامل ہوسکتا ہو۔ تقویٰ والوں کے لیے آخرت بہتر ہے اس آیت کریمہ میں اگر مزید تدبر سے کام لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کے دو جملے ہیں اور دونوں جملوں میں جو بات کہی گئی ہے ان میں تقابل پایا جاتا ہے پہلے جملے میں ارشاد فرمایا گیا کہ یہ زندگی صرف لہو و لعب ہے اور دوسرے جملے میں کہا گیا ہے کہ آخرت کا گھر ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جو اللہ سے ڈرتے ہیں کیونکہ جو لوگ اللہ سے نہیں ڈرتے ان کے لیے تو یہ گھر دارالعذاب ہوگا وہ تو بہتری کا تصور بھی نہیں کرسکتے اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا اور آخرت فی نفسہٖ ایک دوسرے پر فوقیت نہیں رکھتیں ‘ بلکہ دونوں اللہ کی مخلوق ہیں۔ دنیا اللہ نے آخرت کی تیاری کے لیے پیدا فرمائی اور آخرت دنیا میں کیے ہوئے اعمال کا نتیجہ اور ان کی جزا ہے۔ جن لوگوں نے اس دنیا کو درالعمل سمجھ کر لہو و لعب میں زندگی نہیں گزاری۔ یعنی انھوں نے زندگی کے مقاصد کو پہچانا اور پوری دنیوی زندگی ان مقاصد کے حصول کی تگ و دو میں صرف کر ڈالی وہ دنیا کو ایک کھلنڈرے کا کھیل سمجھنے کی بجائے اس کی سنجیدگی کو لیے ہوئے زندگی گزارتے رہے اور ہمیشہ ان کے سامنے آخرت کی منزل رہی۔ زندگی کے ہر مرحلے میں خوف خدا سے ان کا احساس اور ان کا ہر عمل گراں بار رہا۔ ایسے لوگوں کے لیے یہ زندگی بالکل آخرت ہی کی طرح اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے کیونکہ اگر مقصود آخرت ہے تو اس مقصود کو حاصل کرنے کے لیے دنیا کی زندگی کا ہونا ضروری ہے ‘ اگر یہ دنیا کی زندگی نہ ہوتی تو ہم آخرت کو حاصل کرنے کے لیے کچھ بھی نہ کرسکتے۔ اہل علم کے نزدیک یہ بات مسلم ہے کہ جو چیز محبوب ہوتی ہے اس تک پہنچنے کا ذریعہ بھی محبوب ہوتا ہے جو چیز واجب ہوتی ہے اس کا مقدمہ اور اس کا ذریعہ بھی واجب ہوتا ہے ‘ اس لحاظ سے یہ کہنا چاہیے کہ آخرت بھی صرف اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے بہتر ہے اور دنیا بھی ایسے ہی لوگوں کے لیے بہتر ہے ‘ جنھوں نے اللہ سے ڈر کر آخرت کی تیاری کی۔ رہی یہ بات کہ اسے پھر لہو و لعب سے تعبیر کیوں کیا گیا ہے تو اس کا ذکر پہلے کیا جا چکا ہے کہ اس دنیا میں لہو و لعب کی طرف لے جانے والی چیزیں اس کثرت سے پائی جاتی ہیں اور خود لہو و لعب کے میلانات خواہشات کی صورت میں آدمی کے اندر اس فراوانی سے پائے جاتے ہیں کہ ان سے بچنا صرف اسی آدمی کے لیے ممکن ہے ‘ جس پر آخرت ‘ کی طلب اللہ کی محبت اور اس کی ناراضگی کا خوف غالب رہتا ہے۔ اگلی آیت کریمہ میں براہ راست آنحضرت ﷺ کو خطاب ہے اور مکہ کے ماحول میں جو کچھ آپ کے ساتھ گزر رہی تھی اس پر آپ کو تسلی دی گئی ہے۔
Ayah 6:33

قَدْ نَعْلَمُ اِنَّهٗ لَیَحْزُنُكَ الَّذِیْ یَقُوْلُوْنَ فَاِنَّهُمْ لَا یُكَذِّبُوْنَكَ وَ لٰكِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ Open ayah 6:33 in the Quran reader

اے محمد ﷺ ! ہمیں معلوم ہے کہ جو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں ‘ ان سے تمہیں رنج ہوتا ہے۔ لیکن یہ لوگ تمہیں نہیں جھٹلاتے ‘ بلکہ یہ ظالم دراصل اللہ کی آیات کا انکار کر رہے ہیں

ارشاد ہوتا ہے : قَدْ نَعْلَمُ اِنَّہٗ لَیَحْزُنُکَ الَّذِیْ یَقُوْلُوْنَ فَاِنَّھُمْ لَا یُکَذِّبُوْنَکَ وَلٰکِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بِاٰیٰتِ اللہِ یَجْحَدُوْنَ ۔ (الانعام : 33) (اے محمد ! ہمیں معلوم ہے کہ جو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں ‘ ان سے تمہیں رنج ہوتا ہے۔ لیکن یہ لوگ تمہیں نہیں جھٹلاتے ‘ بلکہ یہ ظالم دراصل اللہ کی آیات کا انکار کر رہے ہیں) رسول اللہ ﷺ کی مکی زندگی کے دو حصے ہیں ایک وہ حصہ ہے جو آپ نے چالیس سال کی عمر تک نبوت سے پہلے مکہ میں گزارا اس میں جیسے ہی آپ شعور اور بلوغ کی عمر کو پہنچے جس میں آدمی کے اعمال کا لحاظ شروع ہوتا ہے اور آدمی اپنے اچھے یا برے اعمال سے پہچانا جاتا ہے ‘ اس وقت سے لے کر نبوت کے دعوے تک ایک حیران کن چیز دکھائی دیتی ہے کہ مکہ کا کوئی فرد ایسا نہیں جو آپ کے سیرت و کردار کے گن نہ گاتا ہو۔ لوگ اپنی مجلسوں میں آپ کی پیاری شکل و صورت کے ساتھ آپ کی بلند کرداری کے حوالے دیتے۔ بوڑھیاں جہاں آپ کی من موہنی صورت کی تعریف کرتیں وہیں آپ کے پیارے عادات واطوار کی تعریف میں ہمیشہ رطب اللساں رہتیں۔ مکہ کی عام شہری زندگی میں عام انسانی اخلاق کا معیار انتہائی پست ہونے کے باوجود اعلیٰ اخلاق واطوار کو پسندیدہ نگاہ سے ضرور دیکھا جاتا تھا۔ اس لیے تمام مکہ کے لوگ آپ کے اخلاق واطوار کو دیکھ کر آپ کو الصادق اور الامین کہہ کر پکارتے تھے۔ بہت کم ایسا ہوتا تھا کہ کوئی آپ کو محمد ﷺ کہہ کر پکارے بلکہ جب آپ کو کہیں آتا دیکھتے تو ہمیشہ یہی کہتے کہ امین آگیا اور اگر آپ سے کوئی معاملہ کرتے تو انھیں یہ اعتماد ہوتا کہ وہ ایک صادق آدمی سے معاملہ کر رہے ہیں ‘ لیکن جیسے ہی آپ نے نبوت کا دعویٰ کیا تو کل تک آپ کی بلائیں لینے والے اور محبت سے آپ کا تذکرہ کرنے والے آپ کے دشمن ہوگئے۔ طرح طرح سے آپ کو تکلیفیں دی جانے لگیں۔ اور کوئی ایسا دکھ نہیں تھا جو آپ کو نہیں پہنچایا گیا۔ آپ کو مجنوں اور ساحر تک کہا گیا۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ کبھی کسی نے آپ کو شخصی حیثیت سے جھوٹا کہنے کی جرأت کبھی نہ کی۔ آپ کے کسی سخت سے سخت مخالف نے بھی کبھی آپ پر یہ الزام نہ لگایا کہ آپ دنیا کے کسی معاملے میں کبھی جھوٹ بولنے کے مرتکب ہوئے ہیں۔ انھوں نے جتنی بھی آپ کی تکذیب کی اور جب بھی آپ کو جھوٹا کہا تو وہ اس لیے نہیں کہا کہ وہ شخصی طور پر آپ کو جھوٹا سمجھتے تھے بلکہ اس لیے کہا کہ وہ آپ کی نبوت کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھے۔ ابوجہل آپ کا سب سے بڑا دشمن تھا۔ حضرت علی ( رض) کی روایت ہے کہ ایک دفعہ اس نے خود نبی کریم ﷺ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا : انا لا نکذبک ولکن نکذب ما جئت بہ (ہم آپ کو تو جھوٹا نہیں کہتے مگر جو کچھ آپ پیش کر رہے ہیں ‘ اسے جھوٹ قرار دیتے ہیں) جنگ بدر کے موقع پر اخنس بن شریق نے تخلیہ میں ابوجہل سے پوچھا کہ یہاں میرے اور تمہارے سوا کوئی تیسرا موجود نہیں سچ بتائو ! کہ تم محمد کو سچا سمجھتے ہو یا جھوٹا ؟ ابوجہل نے اللہ کی قسم کھا کر کہا کہ بلا شبہ محمد ﷺ سچے ہیں۔ انھوں نے عمر بھر میں کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ لیکن بات یہ ہے کہ قبیلہ قریش کی ایک شاخ بنو قصی میں ساری خوبیاں اور کمالات جمع ہوجائیں ‘ باقی قریش خالی رہ جائیں ‘ اس کو ہم کیسے برداشت کریں ؟ جھنڈا بنو قصی کے ہاتھ میں ہے۔ حرم میں حجاج کو پانی پلانے کی اہم خدمت وہ انجام دیتے ہیں ‘ بیت اللہ کی دربانی اور اس کی کنجی ان کے پاس ہے۔ اب اگر نبوت بھی ہم انھیں کی تسلیم کرلیں تو باقی قریش کے پاس کیا رہ جائے گا ؟ حقیقت یہ ہے کہ قبائلی زندگی میں ہر قبیلے کا سردار ہر چیز برداشت کرسکتا ہے لیکن دوسرے قبیلے کی عظمت اور عزت کو اپنے سے بڑھتے ہوئے برداشت نہیں کرسکتا ‘ اسے ہر وقت یہ خیال رہتا ہے کہ میں کوئی ایسا کام نہ کروں جس سے میرے قبیلے پر حرف آسکتا ہو یا میری عزت میں کمی آسکتی ہو اور جہاں تک عربوں کا تعلق ہے ‘ بالخصوص قریش ان میں یہ بیماری تو سب سے زیادہ تھی وہ مرجاتے تھے ‘ لیکن بڑائی کا احساس نہیں مرنے دیتے تھے۔ ابوجہل حمیت جاہلی اور قبائلی رعونت کا سب سے بڑا نمائندہ تھا۔ اس لیے آنحضرت ﷺ نے اسے اس امت کا فرعون قرار دیا تھا اس نے آخر دم تک اپنی اس خصوصیت کو باقی رکھا۔ حدیث میں آتا ہے کہ جب بدرکا معرکہ ختم ہوگیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” کون ہے جو دیکھے کہ ابوجہل کا انجام کیا ہوا ؟ “ اس پر صحابہ کرام ( رض) اس کی تلاش میں بکھر گئے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود ( رض) نے اسے اس حالت میں پایا کہ ابھی سانس آجا رہی تھی۔ انھوں نے اس کی گردن پر پائوں رکھا اور سر کاٹنے کے لیے داڑھی پکڑی اور فرمایا او اللہ کے دشمن ! آخر اللہ نے تجھے رسوا کیا نا ؟ اس نے کہا : ” مجھے کا ہے کو رسوا کیا ؟ کیا جس شخص کو تم لوگوں نے قتل کیا ہے اس سے بھی بلند پایہ کوئی آدمی ہے ؟ یا جس کو تم لوگوں نے قتل کیا اس سے بھی اوپر کوئی آدمی ہے ؟ پھر بولاکاش ! مجھے کسانوں کے بجائے کسی اور نے قتل کیا ہوتا ‘ اس کے بعد کہنے لگا مجھے بتائو آج فتح کس کی ہوئی ؟ حضرت عبد اللہ بن مسعود نے فرمایا ‘ اللہ اور اس کے رسول کی۔ اس کے بعد حضرت عبد اللہ بن مسعود سے…جو اس کی گردن پر پائوں رکھ چکے تھے… کہنے لگا : اوبکری کے چرواہے ! تو بڑی اونچی اور مشکل جگہ پر چڑھ گیا… واضح رہے کہ عبد اللہ بن مسعود ( رض) مکہ میں بکریاں چرایا کرتے تھے۔ اس گفتگو کے بعد حضرت عبد اللہ بن مسعود ( رض) نے اس کا سر کاٹ لیا اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لا کر حاضر کرتے ہوئے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! یہ رہا اللہ کے دشمن ابوجہل کا سر “۔ آپ ﷺ نے تین بار فرمایا : ” واقعی۔ اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں “ اس کے بعد فرمایا : اَﷲُ اَکْبَرُ ‘ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ صَدَقَ وَعْدَہٗ وَ نَصَرَ عَبْدَہٗ وَ ھَزَمَ الْاَحْزَابَ وَحَدَہٗ ” اللہ اکبر ‘ تمام حمد اللہ کے لیے ہے ‘ جس نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا ‘ اپنے بندے کی مدد فرمائی اور تنہا سارے گروہوں کو شکست دی “ پھر فرمایا ‘ چلو مجھے اس کی لاش دکھائو۔ ہم نے آپ ﷺ کو لے جا کر لاش دکھائی۔ آپ ﷺ نے فرمایا ‘ یہ اس امت کا فرعون ہے۔ اس واقعہ سے آپ کو قریش کی حمیت جاہلی ‘ پندار نفس اور بگڑی ہوئی ذہنیت کا انداز ہوگیا ہوگا کہ وہ آنحضرت ﷺ کی دعوت کو صرف اس لیے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھے کہ بنو قصی ان پر غالب آجائیں گے جو حضور کا خاندان ہے۔ اس وجہ سے یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو یہ کہہ کر تسلی دی ہے کہ یہ تکذیب دراصل تمہاری نہیں بلکہ ہماری کی جا رہی ہے اور اس آیت کے آخری جملے میں نہایت پیار بھرے انداز میں آپ کو تسلی دی گئی کہ اس تمام خاک بازی اور تمام استہزاء کے ہدف تنہا تم ہی تو نہیں ہو اصل ہدف تو ہم اور ہماری کتاب ہے پھر تم اپنے دل کو آزردہ کیوں کرو۔ معاملے کو ہم پر چھوڑ دو ساتھ ہی ان کے لیے ظالمین کا لفظ استعمال کر کے یہ اشارہ بھی فرما دیا کہ ان کے کرتوتوں کا نقصان خود انھیں کو پہنچے گا کسی اور کو نہیں لیکن یہ بدقسمت اور نامراد لوگ خود اپنی ہی جانوں پر ظلم ڈھا رہے ہیں نہ تمہارا کچھ بگاڑ رہے ہیں نہ خدا کا۔ اس لیے جس طرح ہم تحمل و بردباری کے ساتھ اسے برداشت کیے جا رہے ہیں اور ڈھیل پے ڈھیل دیئے جا رہے ہیں تم بھی انھیں نظر انداز کرو۔
Ayah 6:34

وَ لَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰى مَا كُذِّبُوْا وَ اُوْذُوْا حَتّٰۤى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَا١ۚ وَ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَكَ مِنْ نَّبَاِی الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 6:34 in the Quran reader

اور تم سے پہلے بھی رسولوں کو جھٹلایا گیا تو انہوں نے جھٹلائے جانے اور ایذا دیئے جانے پر صبر کیا یہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد آگئی اللہ کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں اور پیغمبروں کی کچھ سرگزشتیں تو تمہیں پہلے ہی پہنچ چکی ہیں

تمہید گزشتہ آیت کریمہ میں رسول اللہ ﷺ کو ایک خاص پہلو سے تسلی دی گئی تھی جس کا ذکر ہوچکا ہے۔ اگلی آیت کریمہ میں یہی تسلی کا مضمون جاری ہے لیکن اس کا انداز دوسرا ہے اس میں ایک طرف تو کلام کے تیور بدل گئے ہیں اور لہجہ ذرا تیکھا ہوگیا ہے اور ساتھ ہی دعوت و اصلاح اور پیغمبر کی ذمہ داریوں کے حوالے سے چند اصول بیان فرمائے گئے ہیں۔ جن کی پابندی کرنے اور جن کو نگاہوں میں رکھنے کا آنحضرت ﷺ کو حکم دیا گیا ہے۔ جہاں تک ان آیات میں کلام کے تیور بدلنے کا تعلق ہے اس کے بارے میں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ان آیات میں خطاب اگرچہ نبی کریم ﷺ سے ہے ‘ لیکن روئے سخن قریش کے ان ہٹ دھرم اور ضدی لوگوں کی طرف ہے جو کسی طرح بھی راہ راست اختیار کرنے کو تیار نہیں تھے۔ البتہ وقتاً فوقتاً نئے سے نئے معجزات کا مطالبہ کرتے رہتے تھے اور بظاہر تاثر یہ دیتے تھے کہ اگر یہ نشانی اور یہ معجزہ ہمیں دکھا دیا جائے تو ہم ایمان لانے کو تیار ہیں اور اس کے ساتھ ہی رویہ ان کا یہ تھا کہ ان کی مخالفت میں روز بروز شدت پیدا ہوتی جا رہی تھی اور اذیت رسانی کا عمل اپنی انتہا کو چھو رہا تھا ‘ جس کا برداشت کرنا بعض دفعہ مسلمانوں کے لیے مشکل ہو رہا تھا اس سلسلے میں جو اصولی باتیں فرمائی گئی ہیں اور جن کی حیثیت سنت اللہ اور قانون خداوندی کی ہے۔ ان کا ذکر کرنے سے پہلے میں ضروری سمجھتا ہوں کہ ایک اور بات کی وضاحت کردوں تاکہ اللہ کی اس سنت کو سمجھنے میں سہولت پیداہو جائے۔ بات یہ ہے کہ جب آدمی قرآن کریم میں تسلی کے اس مضمون کی تکرار ردیکھتا ہے کہ بار بار آنحضرت ﷺ کو مخالفین کی مخالفت پر تسلی دی جا رہی ہے اور آپ کا حوصلہ بڑھایا جا رہا ہے تو ذہن میں دو سوال ابھرتے ہیں۔ 1 اللہ کے تمام رسول نہایت بلند ہمت اور بلند حوصلہ رہے ہیں ‘ انھوں نے بگڑے ہوئے حالات کے طوفانوں کا مقابلہ کیا ہے اور کبھی سراسیمہ نہیں ہوئے اور محمد رسول اللہ ﷺ تو سید الرسل اور خاتم الرسل ہیں آپ یقینا ان تمام اولوالعزم رسولوں سے بڑھ کر صاحب عزیمت اور حوصلہ مند ہیں پھر کیا وجہ ہے کہ بار بار آپ کو تسلی دینے کی ضرورت پیش آگئی ہے ؟ 2 قرآن کریم عربی فصاحت و بلاغت کا اعلیٰ ترین نمونہ ہے جس کی مثال لانا انسانی صلاحیت سے بالاتر بات ہے۔ لیکن جب ہم اس میں اس مضمون کا تکرار دیکھتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے کہ ایک ہی بات بار بار کیوں کہی جا رہی ہے اس لیے کہ اعلیٰ پائے کی کتابوں میں کسی بھی بات کو دھرا کر کہنا ایک عیب سمجھا جاتا ہے۔ تو قرآن کریم تو ایسے ہر عیب سے پاک ہے تو پھر اس مضمون کے بار بار لائے جانے کا آخر کیا مطلب ہے ؟ یہ دونوں سوال اصل میں قرآن کریم کی حیثیت کو نہ سمجھنے کا نتیجہ ہیں ہم نے اس کتاب کو بھی باقی کتابوں جیسی ایک کتاب سمجھا ہے۔ دنیا بھر میں تمام شعبہ ہائے علم پر لکھی جانے والی تمام کتابوں میں یہ خصوصیت پائی جاتی ہے کہ وہ علم کے جس گوشے پر بحث کرتی ہیں ‘ اس کی اساسی باتیں ‘ اس کے ضمنی مباحث ‘ اس سے پیدا ہونے والے نتائج کے بارے میں ضروری اصلاحات اور ہدایات کو ابواب اور فصول باندھ کر ایک ترتیب سے ذکر کردیا جاتا ہے اور پھر اس کو دھرایا نہیں جاتا اور یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ جس آدمی کو جس شعبہ علم سے استفادہ کرنا ہے وہ اس کی متعلقہ فصل نکال کر ان ضروری باتوں کو ایک دفعہ دیکھ لے گا اور ان سے فائدہ اٹھالے گا۔ اس لیے کسی بھی بات پر بحث کرتے ہوئے کسی ایک بات کو تکرار کے ساتھ ذکر کرنا ایسی کتابوں کے لیے باعث عیب سمجھا جاتا ہے ‘ لیکن جب ہم قرآن کریم کو بھی اسی طرح ایک خالصتاً علمی کتاب سمجھ کر پڑھتے ہیں اور اس میں کسی ایک بات کے تذکرے کو کسی ایک ہی جگہ کافی نہ سمجھ کر بار بار ذکر کرتا ہوا دیکھتے ہیں تو ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ کتاب کے قاری پر یا تو عدم اعتماد کیا جارہا ہے اور یا لکھنے والا لکھنے کا سلیقہ نہیں جانتا حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم اللہ کی وہ واحد کتاب ہے کہ جس کا اپنا ایک مخصوص انداز ہے اور دنیا کی کوئی کتاب اس لحاظ سے اس کی نقل کرنے سے عاجز ہے کیونکہ یہ کتاب صرف تھیوراٹیکل بک نہیں ہے بلکہ حقیقت میں ایک ایسی گائیڈ بک اور راہنما کتاب ہے جو اپنے پیغمبر کے ساتھ نازل ہوتی اور چلتی ہے۔ اس کی دعوت جن حالات سے گزرتی ہے اور خود اسے اور اس کے ساتھیوں کو جن جن مراحل سے جیسے جیسے گزرنا پڑتا ہے یہ کتاب برابر ان کو ہدایات دیتی ہے اور ان کے دل و دماغ میں پیدا ہونے والے سوالات کا جواب دیتی ہے خدشات کو اطمینان سے بدلتی ہے اور اشتعال اور ہراس کی صورت میں کبھی شہد کی طرح مٹھاس بن کر اور کبھی شبنم کی طرح ٹھنڈک بن کر ان کے حوصلے کا سامان کرتی ہے۔ ذرا تصورکیجئے کہ اگر یہ حکم ایک دفعہ دے دیا جاتا کہ لوگو ! دین کی راہ میں تمہیں مشکلات پیش آئیں گی ‘ تمہیں ان پر صبر کرنا ہے اور اس کے بعد مسلسل تیرہ سال مکی زندگی میں اور کئی سال تک مدنی زندگی میں رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی اور صحابہ کرام مسلسل اس کٹھالی میں ڈال کر بےپناہ مصائب سے آزمائے جاتے تو کیا یہ ایک جملے پر مشتمل تسلی اس پورے سفر میں کافی ہوسکتی تھی۔ آنحضرت ﷺ جب مکہ کی سڑکوں پر گزرتے ہوئے دیکھتے کہ حضرت خباب ( رض) کو دھونکنی دی جا رہی ہے اور کبھی انھیں دہکتے انگاروں کی سیج پر لٹایا جا رہا ہے اور کبھی حضرت بلال ( رض) کو دیکھتے کہ ان کا بدبخت آقا آگ کی طرح تپتی ہوئی ریت پر انھیں گھسیٹ رہا ہے اور کبھی ان کے گلے میں رسی ڈال کر اوباشوں کے سپرد کر رہا ہے کہ انھیں پورے مکہ میں گھسیٹتے پھرو۔ ایسے ایک ایک واقعہ پر تکلیف اٹھانے والوں کا جو حشر ہوتا تھا اور خود حضور کا دل جیسے خون ہو ہوجاتا تھا اور جسم و جان کی صلاحیتیں دم توڑنے لگتی تھیں اور آئے دن کی اذیتیں حوصلوں کو شکستہ کرنے لگتی تھیں تو کیا ضرورت نہیں تھی کہ آسمان سے بار بار تسلی اور اطمینان کی شبنم برسے ‘ بار بار جبرائیل آئیں اور حوصلہ دیں اور بار بار اللہ تعالیٰ ظالموں کو وعید سنائیں اور ان مظلوموں کو انعامات کی نوید دیں۔ اگر اس پر غور کیا جائے تو یقینا آپ اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ کوئی بھی تحریک جو جان و تن کے جانگسل مراحل سے گزرتی ہے اس کے لیے سب سے بڑی قوت کا سامان یہ حوصلہ دینے کا عمل ہی ہوتا ہے اور یہی وہ چیز ہے جس سے ایک آدمی حوصلہ پاتا اور آخری دم تک لڑنے کے لیے تیار رہتا ہے۔ یہ وہ سبب ہے جس کی وجہ سے قرآن کریم بار بار آنحضرت ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو تسلی دیتا ہے۔ چناچہ پیش نظر آیت کریمہ میں یہی تسلی کا مضمون ہے ‘ لیکن اس کے ساتھ ہی اللہ نے اپنی سنت کو بھی بیان کردیا ہے تاکہ امت مسلمہ اچھی طرح اس بات کو سمجھ لے۔ ارشاد ہوتا ہے وَلَقَدْ کُذِّبَتْ رُسُلٌمِّنْ قَبْلِکَ فَصَبَرُوْا عَلٰی مَا کُذِّبُوْا وَاُذُوْا حَتّٰیٓ اَتٰھُمْ نَصْرُنَا ج وَلَا مُبَدِّلَ لِکَلِمٰتِ اللہِ ج وَلَقَدْ جَآئَکَ مِنْ نَّبَاِیِ الْمُرْسَلِیْنَ ۔ (الانعام : 34) (اور تم سے پہلے بھی رسولوں کو جھٹلایا گیا تو انھوں نے جھٹلائے جانے اور ایذا دیئے جانے پر صبر کیا یہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد آگئی ‘ اللہ کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں اور پیغمبروں کی کچھ سرگزشتیں تو تمہیں پہلے ہی پہنچ چکی ہیں) تبلیغِ دین میں صبر اور استقامت ضروری ہے اس آیت کریمہ میں چند باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔ 1 آپ کی امت دعوت جس طرح آپ کی تکذیب کر رہی ہے اور آپ کو ایذا پہنچا رہی ہے۔ یہ دنیا کا پہلا واقعہ نہیں آپ سے پہلے جتنے رسول آئے ہیں ان میں سے ہر رسول کے ساتھ یہی کچھ پیش آیا ہے۔ وہ اپنے اللہ کی طرف سے جو ہدایت لے کر آئے ان کی امتوں نے نہ صرف قبول کرنے سے انکار کیا بلکہ ان کو رسول ماننے سے بھی انکار کردیا اور بار بار یہ کہا کہ نہ تم اللہ کے رسول ہو اور نہ وہ دعوت جو تم ہمارے سامنے پیش کرتے ہو ہم اسے قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اور رسولوں نے جب انتہائی خیر خواہی کے ساتھ بار بار اس دعوت کو پیش کیا تو ان کی یہ عدم قبولیت ضد کی شکل اختیار کرگئی اور اس پر چڑ کر اور برہم ہو کر انھوں نے رسولوں اور ان پر ایمان لانے والوں کو اذیتیں دینا شروع کردیں۔ یہاں تک کہ بعض انبیاء اس سلسلے میں قتل کردیئے گئے اور کتنے رسول ہیں جن کو زندگی بچانے کے لیے اللہ کے حکم سے ہجرت کرنا پڑی۔ ہر رسول کو اس بات کا یقین ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بےسہارا نہیں چھوڑیں گے ‘ جب ہماری بےبسی اور مصیبت انتہاء کو پہنچے گی تو یقینا اس کی نصرت نازل ہو کر ہمیں سہارا دے گی۔ لیکن قرآن کریم ہمیں بتاتا ہے کہ اس یقین کے باوجود مخالفتیں اور اذیتیں اس حد تک پہنچ گئیں کہ بار بار ان کا پیمانہ صبر لبریز ہوتا رہا ‘ چناچہ رسول اللہ ﷺ کو یہ بتایا گیا کہ ابھی آپ اور آپ کے ساتھیوں پر تو وہ وقت نہیں آیا ‘ جو پہلے رسولوں اور ان کی امتوں پر گزر چکا ہے۔ ارشاد فرمایا : اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ وَلَمَّا یَاتِکُمْ مَثَلٌالَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِکُمْ مَسَّتْھُمُ الْبَأسَائُ وَالْضَرَّائُ وَزُلزِلُوا حَتیٰ یَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ مَتَیٰ نَصْرُ اللہِ ( کیا تم نے یہ سمجھ لیا ہے کہ تم یونہی جنت میں داخل ہوجاؤ گے ‘ حالانکہ تم پر ابھی وہ وقت نہیں آیا جو تم سے پہلی امتوں پر گزر چکا انھیں جسمانی اور مالی مصیبتیں پہنچیں اور وہ مصائب سے جھنجھوڑ ڈالے گئے یہاں تک کہ رسول اور اس کے ساتھی پکار اٹھے کب آئے گی اللہ کی مدد ) آنحضرت ﷺ کے بعض صحا بہ بھی بعض دفعہ ایسے ہی احساس سے مغلوب ہوئے تو آنحضرت ﷺ کو تسلی دینا پڑی۔ حضرت خباب ( رض) فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ مشرکین نے مجھے بےحد اذیتیں پہنچائیں جب میرے لیے ان کا برداشت کرنا بےحد مشکل ہوگیا تو میں آنحضرت ﷺ کی تلاش کے لیے نکلا ‘ میں نے دیکھا کہ آپ کعبۃ اللہ کے سائے میں بیٹھے تھے۔ میں حضور کے پاس پہنچتے ہی بےساختہ رو پڑا اور عرض کی کہ حضور اب یہ مصیبتیں برداشت نہیں ہوتیں ‘ ظالموں نے دکھ پہنچانے میں انتہا کردی ‘ آپ ان کے لیے اللہ سے بددعا کیوں نہیں فرماتے ؟ کہ اللہ ان پر اپنا عذاب نازل فرمائے۔ حضرت خباب کہتے ہیں کہ یہ سنتے ہی آنحضرت ﷺ کا چہرہ مبارک غصہ سے تمتمانے لگا اور مجھ سے فرمایا کہ خباب تم سے پہلی امتوں پر ایسا وقت گزر چکا ہے کہ لوہے کی کنگھیوں سے زندہ حالت میں ان کا گوشت نوچ ڈالا گیا ‘ کتنے لوگ تھے جن کو دیواروں میں چن دیا گیا لیکن انھوں نے اپنے اللہ سے شکایت نہیں کی۔ آخر اللہ کی نصرت آن پہنچی۔ مزید فرمایا کہ خباب تم جلدی کر رہے ہو ‘ وہ وقت دور نہیں ‘ جب اللہ تعالیٰ اس دین کو غلبہ عطا فرمائے گا اور اس کی برکت سے حالات اس حد تک تبدیل ہوں گے کہ آج جبکہ تمہیں یہ یقین نہیں ہوتا کہ کل کو تمہیں روٹی کھانے کو بھی ملے گی یا نہیں ‘ اس وقت تم زکوٰۃ کا مال جھولیوں میں ڈال کر زکوٰۃ لینے والوں کو تلاش کرو گے اور تمہیں زکوٰۃ لینے والے نہیں ملیں گے۔ مختصر یہ کہ آنحضرت ﷺ سے یہ فرمایا جا رہا ہے کہ آپ کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اہل دنیا نے ہمیشہ اللہ کے رسولوں اور حق کے علمبرداروں کے ساتھ یہی کچھ کیا ہے۔ 2 دوسری بات یہ فرمائی کہ تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو اس صورت حال سے دل برداشتہ ہونے کی بجائے یا بار بار مشرکین کے کہنے پر اللہ سے ان کے منہ مانگے معجزات طلب کرنے کی بجائے اپنا سفر جاری رکھنا چاہیے اور ان کے مصائب پر صبر کرنا چاہیے اور یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ صبر کا معنی بےبسی کی تصویر بن جانا نہیں بلکہ صبر کا مفہوم یہ ہے کہ آپ ہمت اور حوصلے سے حالات کا مقابلہ کریں ‘ اس راستے کی تکلیفوں کو برداشت کریں اور ہر ممکن طریقے سے دعوت الی اللہ کے کام کو جاری رکھیں۔ مصائب کی وجہ سے حوصلہ ہار کر کام کو روک دینا اور دعوت الی اللہ کو ملتوی کردینا یا دینی ذمہ داریوں کو معطل کردینا ‘ اس کی تو کبھی بھی اجازت نہیں البتہ ! اس بات کی گنجائش ضرور ہے کہ آپ حالات کو دیکھتے ہوئے دعوت الی اللہ کے طریقے کو بدلیں حالات کے تیوروں کو پہچانتے ہوئے حکمت عملی میں تبدیلی پیدا کریں۔ جس طرح پانی کا سفر اور اس کی روانی کا عمل کبھی نہیں رکتا ‘ اگر درمیان میں کوئی چٹان حائل ہوجائے تو بجائے اس سے سر پٹخنے کے ‘ پانی دائیں بائیں سے اپنا راستہ نکال لیتا ہے۔ اسی طرح دعوت الی اللہ کے کام کرنے والوں کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ تمہیں بھی اگر ناگفتہ بہ حالات کا سامنا کرنا پڑے تو اپنے فرض سے سبکدوش ہوجانے کا کوئی سوال نہیں ‘ البتہ اپنے طریقے اور حکمت عملی میں تبدیلی کرلینے میں کوئی حرج نہیں۔ یہی صبر کا مفہوم ہے اور آنحضرت ﷺ کو اسی بات کا حکم دیا جا رہا ہے۔ 3 تیسری بات یہ فرمائی جا رہی ہے کہ تمہیں اپنا کام کرنا ہے ‘ جس کی ذمہ داری تم پر ڈالی گئی ہے ‘ اس سے رک جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا چاہے حالات کیسے بھی منہ زور کیوں نہ ہوں اور مخالفین کو اپنا کام کرنا ہے ان کا کام ہے کہ آپ کا راستہ روکنے کے لیے ہر طرح کے موانع پیدا کریں ‘ بدگمانیاں پھیلائیں ‘ تہمتیں دھریں ‘ سراسیمہ کرنے کے لیے جسمانی اذیتیں پہنچائیں ‘ وہ جو کچھ بھی کریں انھیں کرنا چاہیے کیونکہ مخالفین کی سنت یہی ہے لیکن آپ اس کے مقابلے میں اپنی دعوت کے عمل کو جاری رکھیں ‘ ان دونوں طریقوں کے پہلو بہ پہلو چلنے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آپ اس کٹھالی سے کندن بن کر نکلیں گے۔ مسلسل صبر سے آپ کے اندر اللہ پر بےپناہ اعتماد ‘ اپنے مقصد سے بےپناہ لگائو ‘ مشکل حالات میں زندگی گزارنے کا ہنر ‘ جذبات پر قابو پالینے کا طریقہ اللہ کے سامنے رات کی تاریکی اور تنہائی میں تضرع اور عاجزی کا اظہار اور اللہ سے بےپناہ تعلق کے نتیجے میں گناہ سے بچنے کی صلاحیت اور خیر کی طرف لپکنے کا جذبہ ایسی صفات پیدا ہوں گی اور اس کے نتیجے میں جو خوبصورت سیرت و کردار وجود میں آئے گا دشمن اس کا دیر تک مقابلہ نہیں کرسکے گا اور دوسری طرف مخالفین اپنے طرز عمل کے نتیجے میں بعض رزائل کا شکار ہوں گے۔ ان کے اندر سنگدلی پیدا ہوگی ‘ حق سے نفور اور بڑھے گا ‘ دین بیزاری کا جذبہ گہرا ہوجائے گا ‘ دنیا کی محبت ان کو اور اپنا گرویدہ بنا لے گی۔ یہ تو ان لوگوں کا حال ہوگا جو مخالفین کے سرغنہ ہوں گے۔ البتہ انہی میں اس کشمکش کے نتیجے میں ایسے بھی نکلیں گے جو مسلمانوں کے صبر ‘ پامردی اور ان کے خوبصورت سیرت و کردار سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہیں گے۔ اس طرح سے یہ قافلہ خودبخود مضبوط ہو تاجائے گا ورنہ اس کشمکش کا یہ نتیجہ تو بہرصورت نکل کر رہے گا کہ اللہ کی مدد آئے گی ‘ اس کی دو صورتیں ممکن ہیں ‘ ایک تو یہ کہ اللہ دین کو غلبہ دے گا اور مسلمانوں کی جماعت کو غالب کر دے گا۔ جیسے بالآخر اللہ نے رسول اللہ ﷺ کو سرزمین عرب میں غلبہ دیا اور یا پھر یہ ہوگا کہ اللہ کا عذاب آجائے گا اللہ کے رسول اور اس کے ساتھیوں کو وہاں سے نکال لیا جائے گا اور کافر تباہ کردیئے جائیں گے۔ یہ ہے وہ اللہ کی سنت جس کا یہاں ذکر فرمانے کے بعد فرمایا : کہ اللہ کے کلمات کو بدلنے والا کوئی نہیں یعنی دعوت الی اللہ کی کشمکش میں یہ وہ ناگزیر راستے ہیں جن سے رسولوں کو بھی گزرنا پڑتا ہے اور ان پر ایمان لانے والوں کو بھی۔ اگر ان طریقوں کو کسی کے لیے بدلنا ہوتا تو یقینا رسول اللہ ﷺ کے لیے بدلا جاتا کیونکہ آپ سید الرسل اور اس کائنات کے گل سرسبد ہیں لیکن آپ ہی سے فرمایا جا رہا ہے کہ اللہ کی یہ سنت کبھی نہیں بدلتی اور پھر مثال دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ پہلے رسولوں کی سرگزشتیں تو آپ کے پاس آچکیں۔ ان میں سے ایک ایک سرگزشت آپ کو یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ دین کی دعوت دینے والوں کے ساتھ کیا گزرتی ہے اور بالآخر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو کامیاب و کامران فرماتا ہے اور کافروں کو تباہ کردیتا ہے۔ کتنی قومیں ہیں۔ جن کے کھنڈرات سے مشرکینِ مکہ ہمیشہ گزرتے تھے انھیں ان کی طرف اشارہ کر کے بتایا جا رہا ہے کہ ان معذب قوموں کے انجام پر غور کرو کہ یہ کیسی عظیم قومیں تھیں لیکن جب انھوں نے رسولوں کی دعوت ماننے سے انکار کردیا اور اپنے کفر پر قائم رہنے پر اصرار کیا تو بالآخر ان کا انجام کیا ہوا۔ قوم ثمود کو دیکھو ‘ قوم عاد کو دیکھو ‘ اہل مدین کو دیکھو ‘ قوم لوط کو دیکھو ان میں سے ایک ایک کا انجام عبرت حاصل کرنے کے لیے کافی ہے اس لیے تم ان سے عبرت حاصل کرو۔ اگلی آیت کریمہ میں اسی سنت اللہ کے دوسرے پہلو کو بیان فرمایا جا رہا ہے اور اس کے ساتھ ہی آنحضرت ﷺ کی طبیعت کے خاص انداز کو بھی نمایاں کیا جا رہا ہے اور اس پر ہدایات دی جا رہی ہیں۔