6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsروح القرآن

Ayah 6:103

لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ١٘ وَ هُوَ یُدْرِكُ الْاَبْصَارَ١ۚ وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ Open ayah 6:103 in the Quran reader

اس کو نگاہیں نہیں پاتیں لیکن وہ نگاہوں کو پا لیتا ہے وہ بڑا باریک بین اور بڑا باخبر ہے

ارشاد ہوتا ہے : لَا تُدْرِکُہُ الْاَبْصَارُ ز وَھُوَ یُدْرِکُ الْاَبْصَارَ ج وَھُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ ۔ (الانعام : 103) (اس کو نگاہیں نہیں پاتیں لیکن وہ نگاہوں کو پا لیتا ہے وہ بڑا باریک بین اور بڑا باخبر ہے ) نگاہیں اللہ تعالیٰ کا احاطہ نہیں کرسکتیں ادراک کے دو معنی ہوتے ہیں ایک ہے دیکھنا ‘ دوسرا ہے احاطہ کرلینا۔ یعنی انسانی نگاہیں اللہ کو دیکھ نہیں سکتیں کیونکہ انسانی نگاہوں میں وہ قوت نہیں جو اس کی ذات کا ادراک کرسکیں اور اس کے جمال اور جلال کا تحمل کرسکیں۔ ایک مخلوق اپنے خالق کے دیدارکا تحمل کر بھی کیسے سکتی ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جسے اللہ سے محبت نصیب ہوجاتی ہے وہ ہر محبت کرنے والے اور چاہنے والے کی طرح وصال محبوب کو اپنا مقصد بنا لیتا ہے وہ جاہتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح میں اپنے محبوب کے وصال سے بہرہ ور کیا جاؤں۔ دنیا کے تمام عشاق ہمیشہ محبوب کے وصال کے لیے تڑپتے رہے ہیں۔ اگر یہ زندگی اس کے لیے کفایت نہیں کرتی تو ان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ ایک اور زندگی بھی ملے تو ہم وصال محبوب کی خواہش میں اسے گزار دیں۔ غالب کہتا ہے ؎ یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا کچھ اور جیتے ہوتے یہی انتظار ہوتا اللہ سے عشق اور محبت تو سب سے پاکیزہ اور سب سے عظیم جذبہ ہے جسے یہ نصیب ہوجاتا ہے اس کے فرط شوق کا کیا ٹھکانہ ہوسکتا ہے۔ ہزار ادب مانع ہو دل تو اسی کے لیے مچلتا ہے۔ حضرت موسیٰ کلیم اللہ چونکہ اللہ کی بارگاہ میں بہت مقرب تھے اس لیے اسی جذبے کے ہاتھوں مجبور ہو کر جرأت کر بیٹھے کہ یا اللہ مجھے اپنے دیدار سے نواز میں تجھے دیکھنا چاہتا ہوں۔ پروردگار نے فرمایا : لَنْ ترانِی تم مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتے اور محض تسلی کے لیے فرمایا کہ پہاڑ کو دیکھو جو اپنی سنگینی اور صلابت میں اپنی مثال آپ ہے۔ ایک انسان کی استقامت ظاہر ہے اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ فرمایا اس کو دیکھو اگر یہ اپنی جگہ کھڑا رہ گیا تو تم بھی مجھے دیکھ لو گے چناچہ جب اللہ کی تجلی اس پر پڑی تو وہ ریزہ ریزہ ہوگیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان چاہے موسیٰ کلیم اللہ جیسا پیغمبر کیوں نہ ہو وہ اللہ کو دیکھنے کا حوصلہ نہیں رکھتا اور اس کے دیدار کا تحمل نہیں کرسکتا۔ اس لیے فرمایا کہ نگاہیں اسے نہیں پا سکتیں یعنی اسے دیکھ نہیں سکتیں البتہ یہ ضرور ہے کہ قیامت میں اہل جنت ‘ جنت میں اللہ کا دیدار کریں گے۔ جب اہل جنت ہر طرح کی نعمتوں سے نواز دیئے جائیں گے اور ان کی خوشیاں اور ان کی مسرتیں انتہائوں کو چھو رہی ہوں گی کہ اچانک ایک دن آواز آئے گی کہ اے جنت کے باسیو ! کیا تمہیں کسی اور نعمت کی خواہش ہے تاکہ ہم تمہیں وہ بھی دے دیں۔ تمام اہل جنت کہیں گے یا اللہ یہاں وہ کچھ پایا جس کو کسی آنکھ نے دیکھا نہیں تھا اور وہ نغمے سماعت نواز ہوئے جو کسی کان نے سنے نہیں تھے اور دل و دماغ کو ان نعمتوں کی خوشیوں سے مشرف کیا گیا جو کبھی تخیل کی بلند پروازی کے باوجود تخیل میں نہ آسکی تھیں۔ اب ایسی اور کون سی نعمت ہوسکتی ہے جس کی ہم خواہش کریں۔ نعمتیں غالب آگئیں اور ہماری خواہشیں مغلوب ہوگئیں۔ آواز آئے گی کہ ایک نعمت ابھی باقی ہے ‘ درمیان سے پردہ ہٹ جائے گا۔ پروردگار اپنے حسن و جمال کی تابانیوں کے ساتھ سامنے جلوہ فرما ہوں گے۔ اہل جنت اپنی پروردگار کے دیدار سے آنکھیں روشن کریں گے اور ایسے مسحور و مخمور ہوں گے کہ جنت کی نعمتیں اس کے سامنے گرد ہو کر رہ جائیں گی۔ لیکن دنیا میں اس نعمت کی صرف چاہت پالی جاسکتی ہے۔ اس نعمت کو حاصل نہیں کیا جاسکتا لیکن جنت میں چونکہ یہ نعمت ملنے والی ہے اس لیے اعتراض ہوسکتا ہے کہ یہاں یہ فرمایا گیا ہے کہ نگاہیں اسے دیکھ نہیں سکتیں حالانکہ اہل جنت تو اسے دیکھیں گے۔ اس لیے اس کا یہ ترجمہ کیا گیا ہے کہ نگاہیں اس کا احاطہ نہیں کرسکیں گی۔ دنیا میں تو دیکھ بھی نہیں سکتیں قیامت کو دیکھیں گی لیکن احاطہ نہیں کر پائیں گی۔ اسی بات کی تائید آنحضرت ﷺ کے ایک ارشاد سے ہوتی ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر تمام مخلوق جو پہلے دن سے آج تک پیدا ہوئی اور قیامت تک پیداہو گی وہ سب جمع ہو کر اللہ کی ذات کا احاطہ کرنا چاہے تو نہیں کرسکے گی۔ قیامت میں فی الجملہ دیدار تو ہوگا لیکن ذات خداوندی کا احاطہ نہیں ہو سکے گا۔ رہی یہ بات کہ معراج کے سفر میں کیا آنحضرت ﷺ نے پروردگار کو دیکھا تھا یا نہیں ؟ حضرت عائشہ تو فرماتی ہیں کہ میں نے خود آنحضرت ﷺ سے سوال کیا تھا تو آپ نے فرمایا تھا کہ میں اسے کیسے دیکھ سکتا تھا ؟ اس سے تو بات ختم ہوجانی چاہیے لیکن سورة النجم کے بعض اشاروں سے بعض اہل علم یہ گمان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ کا دیدار کیا تھا لیکن وہ اس سر کی آنکھوں سے نہیں بلکہ دل کی آنکھوں سے کیا تھا۔ محی الدین ابن عربی نے ایک اور بات کہی ہے وہ ظاہر ہے ان کی ذاتی رائے ہے۔ جو صحیح بھی ہوسکتی ہے اور غلط بھی۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ دنیا آسمانوں اور زمین کے درمیان محدود ہے۔ سدرۃ المنتہیٰ سے آگے کائنات ختم ہوجاتی ہے اور یہ معلوم ہے کہ آنحضرت ﷺ کو آگے بھی لے جایا گیا اس کے آگے جو کچھ ہے ان کے بقول وہ عالم آخرت ہے اس کے احکام بالکل جدا ہیں وہاں اگر حضور نے اللہ کو دیکھا ہو تو اس پر تعجب نہیں ہونا چاہیے کیونکہ انسانی آنکھ حتیٰ کہ پیغمبر بھی اللہ کو اس دنیا میں نہیں دیکھ سکتے عالم آخرت میں تو سارے اہل جنت دیکھیں گے یہ تو ایک ضمنی بحث تھی۔ اللہ ہر چیز کو دیکھتا ہے اصل بات جو کہی جا رہی ہے وہ یہ ہے کہ دیکھو تم اپنے اللہ کے بارے میں یقین کرتے ہوئے یہ بات کبھی نہ بھولو کہ وہ برابر تمہاری نگرانی کر رہا ہے اگرچہ تمہاری نگاہیں اسے نہیں پا سکتیں لیکن وہ تو تمام نگاہوں کو پا رہا ہے۔ تم اس کا ادراک نہیں کرسکتے لیکن تم تو اس کی نگاہوں میں ہو۔ ایک چاہنے والے کی صرف وصال محبوب ہی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے یہ بات بس کرتی ہے کہ میں اگرچہ اپنے محبوب کے وصال سے مشرف نہیں کیا جا رہا لیکن میرے لیے یہ بات کیا کم ہے کہ میں اپنے محبوب کی نگاہوں میں ہوں۔ اس کی مجھ پر نظر ہے اور وہ ہمیشہ مجھے اپنی نگاہوں میں رکھتا ہے۔ عشاق کا تو یہ حال ہوتا ہے اور وہ اسی میں مخمور رہتے ہیں ؎ گو سرسری ہی دیکھتے ہیں دیکھتے تو ہیں ہم خوش ہیں کہ ہیں کسی کی نگاہ میں اللہ تعالیٰ علیم اور خبیر ہے آیت کے دوسرے جملے میں پہلے جملے کی بات کو اپنی صفات سے مدلل فرمایا کہ یہ جو فرمایا کہ تم اسے نہیں دیکھ سکتے کہا اس لیے نہیں دیکھ سکتے کہ وہ لطیف ہے اور لطیف چیز نگاہوں میں نہیں آیا کرتی۔ لطیف کثیف کا متضاد ہے۔ کثیف چیز وہ ہوتی ہے جس کو حواس محسوس کرسکیں اور لطیف کو حواس محسوس نہیں کرسکتے۔ البتہ ! لطیف چیز کو اگر محسوس کرنا ہو تو ضرور ہے کہ کثیف کو اس کے ساتھ لگا دیا جائے۔ کثافت جب لطافت کے ساتھ لگ جائے گی تو لطیف کا احساس ہونے لگے گا۔ غالب نے کیا خوب کہا ؎ لطافت بےکثافت جلوہ آرا ہو نہیں سکتی چمن زنگار ہے آئینہ باد بہاری کا بادِ بہاری نظر نہیں آتی اسکا احساس اس وقت ہوتا ہے جب چمن کا زنگار اس کے ساتھ شامل ہو کر اسکا احساس دلاتا ہے وہ ایک ایک پھول سے چھو کر گزرتی ہے اور مشام جان کو معطر کرتی ہوئی اپنا احساس دلاتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی ذات چونکہ ہر طرح کی کثافتوں سے ماورا اور پاک ہے اور پھر اس کی لطافت بھی ایک مخلوق کی لطافت نہیں جس میں فی الجملہ محسوس ہونے کی رمق پائی جاتی ہے۔ بلکہ یہ خالق کی لطافت ہے جس کا احساس صرف مخلوقات کے آئینہ میں تو کیا جاسکتا ہے اور جس کا ادراک ایک ایک مخلوق کے پردے میں واضح ہے لیکن براہ راست اس کا احساس اور ادراک ممکن نہیں۔ لطیف کا دوسرا معنی ہے باریک بین۔ کہ اللہ وہ ذات ہے کہ تم اسے دیکھ تو نہیں سکتے لیکن وہ خود اتنا باریک بین ہے کہ کوئی چیز ہزار پردوں کے پیچھے بھی چھپی ہوئی ہو اس کی نگاہوں میں بالکل نمایاں ہوتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ خبیر بھی ہے کہ ہر چیز دنیا میں اس کے سامنے ہے اس کی نگاہوں میں روشن ہے۔ لیکن ساتھ ہی اس کا علم اور اس کی خبر بھی مکمل ہے وہ نہایت باخبر ذات ہے کہ ایک خیال کرنے والا اپنے خیال کو بھول سکتا ہے ایک عمل کرنے والا اپنے عمل سے بےبہرہ ہوسکتا ہے لیکن اللہ کے علم و خبر سے کوئی چیز بھی مخفی نہیں۔ بعض دفعہ بڑے سے بڑا دانشور اپنے تخیلات میں الجھ کے رہ جاتا ہے۔ اس کے خیالات کا تانا بانا اس کی اپنی گرفت میں نہیں آتا لیکن اللہ سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ جس ذات کا علم اور جس کی آگاہی اس قدر مکمل اور محیط ہو چاہنے والوں کے لیے تو بڑی دولت ہے کہ وہ ہر وقت اس کے سامنے ہیں۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ تصور کہ انسان خطا کا پتلا ہے نجانے کب اس کے تخیل میں کوئی برائی داخل ہوجاتی ہے کب اس کا احساس بھٹکنے لگتا ہے کب اس کی نظر پاکیزگی کھو دیتی ہے ‘ کب اس کی خواہش نفس اس کو مغلوب کرلیتی ہے ‘ کب اس کی نیت میں فساد پیدا ہوجاتا ہے ‘ وہ ذات جس کے علم و خبر کے سامنے ان میں سے ایک ایک چیز ظاہر و باہر ہے اگر وہ ان پر گرفت کرنے لگا تو پھر کیا ہوگا اس لیے بعض اہل علم نے کہا کہ لطیف کا ایک معنی مہربان بھی ہے کہ وہ خبیر ذات جس طرح اپنے علم و آگہی میں مکمل ہے اسی طرح اس کی رحمت اس کے غضب پر حاوی ہے۔ اس کی مہربانیاں بندوں کی کمزوریوں کو ہمیشہ نظر انداز فرماتی ہیں۔ شاید اسی تصور میں ڈوب کر کسی پنجابی شاعر نے کہا تھا ؎ جے میں ویکھاں عملاں ولے کجھ نئیں میرے پلے جے ویکھاں تیری رحمت ولے بلے بلے بلے غور فرمایئے ! سلسلہ بیان کس طرح قدم قدم آگے بڑھ رہا ہے ایسا معلوم ہوتا ہے اس کلام کے مخاطب ایک ایسے متکلم کے سامنے ہیں جو ان سے انتہا درجے کی ہمدردی اور غمگساری کا جذبہ رکھتا ہے وہ چاہتا ہے کہ میں اپنے مخاطبوں کو وہ آب حیات ضرور پلا دوں جو ان کے لیے زندگی بخش ہے اور جس سے دور رہ کر یہ لوگ ہلاکت کا شکار ہوئے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔ اس لیے وہ نہایت رحمت و رأفت سے فطری اصول کے مطابق اپنی گفتگو کے اسالیب بار بار بدلتا ہے۔ دل کے خیالات کو بدلنے کے لیے دلائلِ آفاق اور دلائل انفس سے کام لیتا ہے اور عقل کو سپرانداز کرنے کے لیے الزامی طرز تکلم اختیار کرتا ہے اور اس سلسلے میں اپنے مخاطب کے احساسات کو بار بار کچوکے دے کر راہ راست اختیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ کبھی کبھی اس کے احساسات کو چھیڑ کر اس کے انجام سے اسے باخبر کرتا ہے اور اللہ کے تعلق کے حوالے سے اس کے انفعالی جذبوں کو ہوا دیتا ہے اس طرح زندگی کے تمام پہلو بار بار اس کے خطاب کا ہدف بنتے ہیں۔ مقصود صرف یہ ہے کسی طرح اپنے مخاطبوں کو اس برے انجام سے بچایا جائے جس کی طرف وہ اپنی جہالت ‘ عصبیت ‘ کور ذوقی ‘ بےعقلی ‘ ضد اور ہٹ دھرمی کے باعث بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ ایسی تمام کوششوں کو بروئے کار لاتے ہوئے گفتگو کو سمیٹ کر ایک نتیجے پر لانے کے لیے ایک ایسی بات کہی جا رہی ہے جس سے اتمام حجت بھی ہو رہا ہے اور سوچنے کے لیے کچھ لمحے میسر بھی آرہے ہیں۔ ارشاد فرمایا جا رہا ہے :
Ayah 6:104

قَدْ جَآءَكُمْ بَصَآئِرُ مِنْ رَّبِّكُمْ١ۚ فَمَنْ اَبْصَرَ فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ عَمِیَ فَعَلَیْهَا١ؕ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِحَفِیْظٍ Open ayah 6:104 in the Quran reader

اب تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے بصیرت بخش آیتیں آچکی ہیں تو جو بصیرت سے کام لے گا اپنے ہی کو نفع پہنچائے گا اور جو اندھا بنا رہے گا اس کا وبال اسی پر آئے گا اور میں تم پر کوئی نگران مقرر نہیں

قَدْ جَآئَتْکُمْ بَصَآئِرُ مِنْ رَّبِّکُمْ ج فَمَنْ اَبْصَرَ فَلِنَفْسِہٖ ج وَمَنْ عَمِیَ فَعَلَیْھَا ط وَمَآ اَنَا عَلَیْکُمْ بِحَفِیْظٍ ۔ (الانعام : 104) (اب تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے بصیرت بخش آیتیں آچکی ہیں تو جو بصیرت سے کام لے گا اپنے ہی کو نفع پہنچائے گا اور جو اندھا بنا رہے گا اس کا وبال اسی پر آئے گا اور میں تم پر کوئی نگران مقرر نہیں ) کھلی دلیل کے بعد جس نے بصیرت سے کام لیا اس نے اپنا ہی فائدہ کیا، جو اندھا بنا رہا اس نے اپنا ہی نقصان کیا اس آیت کریمہ میں بصائر کا لفظ استعمال ہوا ہے جو بصیرت کی جمع ہے۔ بصیرت سوجھ بوجھ کو بھی کہتے ہیں اور سوجھ بوجھ پیدا کرنے والے دلائل وبراہین کو بھی کہا یہ جا رہا ہے اور کہنے والی ذات کریم بظاہر رسول اللہ ﷺ کی ہے لیکن حقیقت میں اس کلام کا متکلم اللہ تعالیٰ ہے۔ اندازہ فرمایئے کہ جب پروردگار اپنی مخلوق اور نبی اپنی امت کو یہ بات کہے کہ ہماری طرف سے تمام سوجھ بوجھ کی باتیں آگئی ہیں جو سوجھ بوجھ کو انگیخت کرنے والی ہیں اور جن سے عقل روشن ہوتی راستے کھلتے ‘ دل کی بند کلی کھلتی اور دماغ کی الجھنیں دور ہوتی ہوں اور جس کے آنے کے بعد اگر آدمی ہٹ دھرم نہیں ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ اسے اطمینان خاطر اور سکون قلوب میسر نہ آئے تو اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ایک طرح سے اتمام حجت کیا جا رہا ہے کہ ایسے واضح دلائل کے آجانے کے بعد بھی اگر تم ایمان نہیں لاتے ہو تو خود سوچو کہ تم کس انجام کی طرف بڑھ رہے ہو۔ پھر اس اتمام حجت کو مزید واضح کرنے کے لیے فرمایا کہ ایسی روشن دلیلوں کے بعد ضرورت اس بات کی نہیں کہ مزید معجزات اور دلائل نازل ہوں بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ کھلی آنکھوں سے انھیں دیکھا جائے ‘ کھلی عقل سے ان پر غور کیا جائے اور کھلے دل سے ان کو قبول کیا جائے اور ساتھ ہی ساتھ یہ بات بھی یاد رہے کہ جو آدمی ایسا کرے گا وہ اپنا بھلا کرے گا اس کی اپنی قسمت سنور جائے گی اس کی دنیا بھی بن جائے گی اور اس کی آخرت بھی اس کے لیے خوشیوں کا سبب بنے گی۔ کیونکہ دنیا اور آخرت کی کامیابی کا دارومدار اس فیصلے پر ہے کہ وہ اس ہدایت کو قبول کرتا ہے یا نہیں۔ اگر وہ قبول کرلیتا ہے تو اس نے اپنے آپ کو بچا لیا لیکن اگر وہ ایسا نہیں کرتا بلکہ اندھے پن کا ثبوت دیتا ہے کہ بجائے اس کے کہ وہ ان دلائل پر کھلے دل و دماغ سے غور کرے وہ انھیں سننے سے بھی انکار کردیتا ہے اور اگر سنتا ہے تو بےخیالی اور بےدلی سے سن کر انھیں جھٹک دیتا ہے اور کسی طرح بھی غور و فکر کا کوئی لمحہ اس پر صرف کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا تو یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کسی کے سر پر سورج چمک رہا ہو لیکن وہ آنکھیں کھولنے سے انکار کر دے۔ دھوپ اس کی آنکھوں پر پڑ رہی ہو لیکن وہ بار بار چیخ چیخ کے یہ کہے کہ میں اس دھوپ کی افادیت سے انکار کرتا ہوں ‘ میں اس روشنی کے وجود کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسا آدمی یقینا کسی نہ کسی کھائی میں گر کر مرے گا۔ اسے دنیا کی کوئی طاقت اس برے انجام سے نہیں بچا سکتی۔ کیونکہ راستے کی کھائیوں یا خطرناک موڑوں سے بچنے کے لیے دو ہی چیزوں کی ضرورت ہے۔ ایک چشم بینا اور دوسری روشنی۔ اگر روشنی نہ ہو تو آنکھ کا وجود بےکار ہے اور اگر آنکھ نہ ہو تو روشنی بےسود ہے۔ اللہ نے ہر بینا آدمی کو دل و نگاہ کی آنکھیں بخشی ہیں اب ضرورت اس بات کی ہے کہ زندگی کے سفر میں اسے راہنمائی کا نور بھی عطا کیا جائے لیکن اس نور کے آنے کے بعد اگر وہ آنکھیں کھولنے سے انکار کر دے تو اسے تباہی سے بچانا کسی کے بس کی بات نہیں۔ لیکن آنحضرت ﷺ کو چونکہ ایک انتہائی غم گسار دل دے کر بھیجا گیا ہے جو اپنے مخاطبوں کے ایمان نہ لانے سے کڑھتا اور جلتا ہے اس لیے آنحضرت کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا جا رہا ہے کہ ہم نے آپ کو ان پر نگران بنا کر نہیں بھیجا یعنی آپ اس کے ذمہ دار نہیں ہیں کہ یہ لوگ ایمان قبول کرتے ہیں یا نہیں۔ آپ کا کام مسلسل تبلیغ و دعوت سے کام لے کر ان کو راہ راست پر لانے کی کوشش کرنا ہے سو وہ آپ کر رہے ہیں یہ اگر آپ کی کوششوں سے فائدہ نہیں اٹھاتے اور انھوں نے اپنی بد اعمالیوں سے اپنے دلوں کو پتھر بنا لیا ہے تو اس کے لیے آپ سے بازپرس نہیں ہوگی اس لیے آپ ان سے صاف کہہ دیجئے کہ میرا کام تم تک دین پہنچانا تھا سو میں نے پہنچا دیا۔ میں تم پر کوئی نگران بن کر نہیں آیا ہوں کہ ضرور ہی تمہیں ایمان کی دولت دے کر چھوڑوں۔ اس آیت کا آخری جملہ بھی اللہ کا کلام ہے لیکن آنحضرت کی زبان سے اسے اس طرح ادا کرایا گیا ہے کہ درمیان میں لفظ قُلْنہیں آیا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کی وحی براہ راست لسان نبوت پر ہے یوں ارشاد نہیں ہوا کہ ان لوگوں سے کہہ دو بلکہ کہنے کی بات پیغمبر نے خود براہ راست فرما دی۔ وحی کی یہ قسم روح نبوت کے غائت قرب و اتصال کی دلیل ہے۔ گویا منبع فیض کا فیضان خود زبان رسالت سے چھلک پڑا ہے۔ ” گُفتہ اُو گُفتہ اللہ بود “ شاید اسی حقیقت کی تعبیر ہے۔
Ayah 6:105

وَ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ وَ لِیَقُوْلُوْا دَرَسْتَ وَ لِنُبَیِّنَهٗ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 6:105 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم اپنی دلیلیں مختلف اسلوبوں سے پیش کرتے ہیں (تاکہ ان پر حجت قائم ہو) اور تاکہ وہ بول اٹھیں کہ تم نے اچھی طرح پڑھ کر سنا دیا اور تاکہ ہم اس کو اچھی طرح واضح کردیں ان لوگوں کیلئے جو جاننا چاہیں

اسی بات کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے ارشاد فرمایا : وَ کَذٰلِکَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ وَلِیَقُوْلُوْا دَرَسْتَ وَلِنُبَیِّنَہٗ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ ۔ (الانعام : 105) (اور اسی طرح ہم اپنی دلیلیں مختلف اسلوبوں سے پیش کرتے ہیں تاکہ ان پر حجت قائم ہو اور تاکہ وہ بول اٹھیں کہ تم نے اچھی طرح پڑھ کر سنا دیا اور تاکہ ہم اس کو اچھی طرح واضح کردیں ان لوگوں کے لیے جو جاننا چاہیں ) اللہ تعالیٰ اپنی دلیلیں کھول کھول کر بیان کرتا ہے یعنی جس طرح ہم نے گزشتہ کئی آیات میں اپنی نشانیاں جو کائنات میں پھیلی ہوئی ہیں اور جس کا تعلق انسانی زندگی سے ہے۔ جن میں سے بعض کے رشتے خود انسانی ضمیر کے اندر پیوست ہیں اور بعض ایسی نشانیاں جن سے عقل راہنمائی حاصل کرتی اور دل کو جلا ملتی ہے۔ مختلف پہلوئوں سے پوری طرح کھول کر بیان کی ہیں۔ اسی طرح پورے قرآن کریم میں بار بار ان نشانیوں کو مختلف اسالیب سے بیان کیا گیا مقصود اس سے صرف یہ ہے کہ انسانوں کو اس بات کی شکایت نہ رہے کہ ایمان کو قبول کرنے کے لیے ہمیں وہ آسانیاں فراہم نہ کی گئیں جس سے ہمارے دل و دماغ ہموار ہوتے اور ہماری دماغی اور قلبی الجھنیں دور ہوتیں اور ہم آسانی سے ایمان قبول کرلیتے یعنی اتمام حجت اور انسان کی راہنمائی کے لیے جیسے جیسے دلائل ضروری تھے ہم نے یہاں بھی اور پورے قرآن کریم میں بھی جا بجا ان کی چمن آرائی کی ہے ‘ جو آدمی بھی اس گلستان میں داخل ہوتا ہے اسے یہ شکایت نہیں رہتی کہ میرے مشام جاں کو معطر کرنے کا ساماں نہیں کیا گیا یا یہاں رنگا رنگ پھولوں کی کمی ہے میں نظر افروزی کے اسباب کہاں سے لائوں۔ چناچہ دلائل اور نشانیاں اس فراوانی اور زور دار طریقے سے بیان کی گئی ہیں کہ جو لوگ ایمان قبول نہیں بھی کرتے وہ بھی بالعموم پکار اٹھتے ہیں یا دلوں میں اس بات کے قائل ہوجاتے ہیں چاہے اپنے دوسرے مفادات کی وجہ سے ایمان قبول کرنے کا اعلان نہ کریں کہ واقعی پیغمبر نے اللہ کی کتاب کو سنانے اور دعوت دین پیش کرنے میں کوئی کمی نہیں کی اور اس نے پوری طرح ایک ایک بات ہمیں پڑھ کر سنا دی ہے۔ اس لیے اس آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے کہ ہم نے اس طرح مختلف طریقوں سے آیات بیان کی ہیں کہ بالآخر یہ لوگ کہہ اٹھیں دَرَسْتَ کہ واقعی اے پیغمبر تو نے اللہ کی کتاب پڑھ کر ہمیں سنا دی۔ چاہے وہ اس بات کا اعتراف اپنی زبان قال سے کریں اور چاہے زبان حال سے۔ ” دَرَسْتَ “ کا مطلب دَرَسْتَ کا یہاں میں نے ترجمہ کیا ہے کہ تو نے پڑھ کے سنا دیا ‘ واقعی ہم اس کے قائل ہوگئے اور ہم تک یہ بات پہنچ گئی حقیقت یہ ہے کہ یہ محض قرآن کا دعویٰ نہیں بلکہ امر واقع ہے۔ پہلی امتوں میں بھی لوگ اس اعتراف پر مجبور ہوتے رہے۔ خود رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں جن لوگوں سے آپ کو واسطہ پڑا اور آپ نے جس طرح ان کو اللہ کا دین پہنچایا اور جس طرح کتاب اللہ کی آیتیں بار بار ان کو پڑھ کر سنائیں اور اس کی تعلیمات جس طرح طریقے طریقے سے ان کے گوش گزار کرنے کی کوشش کی اس کا نتیجہ یہ تھا کہ آپ کا بدترین دشمن ابوجہل بھی اپنی بےمثل دشمنی کے باوجود اس بات کا اعتراف کیے بغیر نہ رہ سکا حالانکہ اس کی بےمثل دشمنی کا تقاضہ یہ تھا کہ وہ اس بات کا اعتراف کبھی نہ کرتا اور کبھی حضور کی صداقت کی بات زبان پر نہ لاتا کیونکہ اس کی دشمنی تاریخ میں ایک ضرب المثل کی حیثیت اختیار کرگئی ہے۔ ہر پیغمبر کو اپنے مرتبہ اور مقام کے مطابق دشمنوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بد ترین دشمن فرعون سے واسطہ پڑا لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنی دشمنی میں ثابت قدم نہ رہ سکا۔ جب موت سامنے نظر آئی اور بحرقلزم میں ڈوبنے لگا تو اس کی زبان پر کلمہ جاری ہوگیا لیکن قرآن کریم ہمیں بتاتا ہے کہ اس کے ایمان کو قبول نہیں کیا گیا بلکہ فرمایا گیا کہ تم اب ایمان لاتے ہو جب کہ اس سے پہلے تم نافرمان رہے ہو اور تم بدترین مفسدین میں سے تھے۔ لیکن ابوجہل جب جنگ بدر میں زخمی ہو کر سکرات الموت میں مبتلا تھا۔ حضرت عبد اللہ ابن مسعود اس کے سر پر پہنچے اسے ملامت کرتے ہوئے کہنے لگے کہ اب تم نے دیکھ لیا اپنا انجام تو وہ نہایت بےفکری سے کہنے لگا کہ کیوں شیخی بگھارتے ہو ایک آدمی کو اس کی قوم نے مار ڈالاتو اس میں شیخی بگھارنے اور بڑھ ہانکنے والی کیا بات ہے اور جب حضرت عبد اللہ ابن مسعود اس کے سینے پر بیٹھ کر اس کی گردن کاٹنے لگے تو کہنے لگا کہ نیچے سے گردن کاٹنا تاکہ لمبی گردن دیکھ کر لوگوں کو اندازہ ہو کہ یہ کسی سردار کی گردن ہے۔ ایسا بدترین دشمن جو مرتے دم تک اپنا رویہ نہ بدلے شاید ہی تاریخ میں کسی نے دیکھا ہو۔ اس لیے آنحضرت ﷺ نے اسے اس امت کا بدترین فرعون قرار دیا۔ لیکن اس کے اعتراف کا حال یہ تھا کہ اپنے ایک ساتھی کے سوال کے جواب میں اس نے ایک دفعہ کہا کہ میں محمد ﷺ کو جھوٹا نہیں کہتا وہ ہمارے سامنے پلا بڑھا اور جوان ہوا اور اب اس کے سر میں سفید بال آگئے ہیں لیکن اس نے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ اس لیے میں یہ نہیں کہتا کہ وہ نبوت کے بارے میں جھوٹ بولتا ہے میں جو اس پر ایمان نہیں لاتا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ قبیلہ بنو ہاشم کا آدمی ہے اس کی عزت اور اس کی کامیابی بنو ہاشم کی عزت اور کامیابی ہے ہم قبیلوں میں ہمیشہ چشمک جاری رہتی ہے اور ہر قبیلہ دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے۔ ہم مسلسل بنو ہاشم سے مقابلہ کرتے رہے اب جبکہ ہم ان کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوگئے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ہم میں ایک نبی بھی ہے اب اگر ہم اسے بطور نبی قبول کرلیں تو یہ ایک ایسی عزت اور تفوق کی بات ہے جس میں ہم ان کی کبھی ہمسری نہیں کرسکتے۔ اس لحاظ سے بنو ہاشم ہمیشہ کے لیے ہم سے آگے بڑھ جائیں گی۔ اس وجہ سے میں محمد ﷺ کی نبوت پر ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ آپ اندازہ فرمایئے کہ رسول اللہ ﷺ کی تبلیغ و دعوت کا یہ اثر ہے کہ بدترین دشمن بھی آپ کی صداقت کا انکار کرنے سے عاجز ہے۔ دَرَسْتَ کا دوسرامعنی ایک اور ہے وہ یہ ہے کہ تم جو ایک حیرت انگیز کلام ہمارے سامنے پیش کر رہے ہو جس کی زبان فصاحت و بلاغت میں اس مقام کو پہنچی ہوئی ہے کہ جس کا مقابلہ کرنا انسانی طاقت سے ماورا ہے اور اس میں جو علوم و معارف بیان کیے جا رہے ہیں ہمارے ماحول میں تو کیا پوری دنیا میں بھی اس کی مثال موجود نہیں۔ اس میں ایسے ایسے تاریخی حقائق ذکر کیے جا رہے ہیں جس سے انسان آج تک بیخبر رہا ہے اور اگر کہیں کوئی پیشگوئی کی جا رہی ہے تو وہ بالآخر نوشتہ دیوار اور پتھر کی لکیر ثابت ہوتی ہے۔ ایسی حیرت انگیز کتاب محمد ﷺ کے بس کی بات تو نہیں ہوسکتی وہ تو ہمارے بھائی کے بیٹے ‘ ہمارے سردار کے پوتے ہیں ‘ اسی ماحول میں ان کی تربیت ہوئی جس میں ہم پلے بڑھے وہ ہماری طرح بالکل امی محض ہیں۔ ان کی معلومات کے ذرائع وہی ہیں جو ہمارے ہیں اور وہ وہی زبان بولتے ہیں جو ہم سب قریش بولتے ہیں۔ اس لیے یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ ایسی بےمثال زبان اور ایسے علوم و معارف کی حامل کتاب ہمارے سامنے پیش کردیں جس کی ان سے کسی طرح توقع نہیں کی جاسکتی۔ بلکہ جب وہ قرآن سے ہٹ کر کوئی بات کہتے ہیں تو اس کی زبان میں اور قرآن کی زبان میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ یہ کتاب انھوں نے تو نہیں لکھی البتہ کوئی انھیں سکھاتا پڑھاتا ہے یا لکھ کے دے دیتا ہے اور وہ اسے لا کر لوگوں کو سنا دیتے ہیں۔ چناچہ یہی بات کہی جا رہی ہے کہ تم کہیں سے پڑھ کے آگئے ہو یا تمہیں کسی نے سکھا پڑھا دیا ہے۔ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے اس سلسلے میں کسی عجمی غلام کا نام بھی لیا جو مکہ معظمہ میں رہتا تھا لیکن جس کا اصل تعلق کسی عجمی ملک سے تھا۔ وہ وہاں کی چونکہ بعض باتیں ذکر کرتا رہتا تھا اس لیے لوگوں نے یہ سمجھا کہ شاید یہ حیرت انگیز باتیں وہ حضور کو سکھاتا ہے تو قرآن کریم نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ نادانوں وہ ایک عجمی شخص ہے وہ ٹھیک سے عربی بھی نہیں بول سکتا اور یہ قرآن تو عربی مبین میں ہے تو آخر اس نے ایسی فصیح وبلیغ زبان میں کتاب کیسے پیش کردی اور پھر ایک عجمی آدمی بقول تمہارے ایسی کتاب لاسکتا ہے تو تم سارے ِمل کر اس کی مثال کیوں نہیں پیش کرتے۔ آپ جانتے ہیں کہ قرآن کریم میں مختلف مواقع پر عربوں کو اور باقی ساری دنیا کو بار بار یہ چیلنج دیا کہ تم اس قرآن جیسی کتاب لکھ کے لائو یا اس جیسا کوئی حصہ بنا کرلے آئو اور اس میں جنات سے اگر مدد لے سکتے ہو تو وہ بھی لے لو لیکن صدیاں گزرنے کے بعد بھی آج تک اس چیلنج کا جواب نہ دیاجا سکا مزید فرمایا کہ جن لوگوں کے دلوں میں روگ ہے اور جو اس قرآن سے کوئی فائدہ نہیں اٹھانا چاہتے ان کا حال تو یہی ہے کہ وہ کسی نہ کسی بات کے پردے میں اپنی محرومی کو چھپانا چاہتے ہیں۔ لیکن جو لوگ علم کے طالب ہیں ہم نے مختلف اسالیب میں قرآنی تعلیمات کو ان کے لیے کھول کر بیان کردیا ہے جو لوگ اس سے کچھ سیکھنا چاہتے ہیں ان کی تشنگی دور کرنے کا سامان اس میں موجود ہے۔ ان آیات پر جب ہم غور کرتے ہیں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی دعوت ایک سخت کشمکش کے دور سے گزر رہی ہے۔ قرآن کریم بارش کی طرح نازل ہو رہا ہے۔ دلائل کی روشنی سورج کی کرنوں کی طرح پھیل رہی ہے۔ لیکن بجائے اس کے کہ اس کی قبولیت کے لیے دل کھلیں ‘ مخالفت زور پکڑتی جا رہی ہے اور مخالفین مخالفت میں ہر طرح کا حربہ آزمانے پر تل گئے ہیں۔ وہ آنحضرت کو ناکام کرنے کے لیے آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو اذیتیں بھی پہنچا رہے ہیں اور نئے سے نئے مطالبوں کے ساتھ الجھانے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔ فطری بات ہے کہ آنحضرت اور مسلمان اس صورت حال سے متاثر ہو کر پریشان بھی ہوتے ہیں اور بار بار اللہ سے ان کو ایمان دینے کی دعائیں بھی کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں آنحضرت اور مسلمانوں کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا جا رہا ہے :
Ayahs 6:106–107

اِتَّبِعْ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:106 in the Quran reader

تم بس اس چیز کی پیروی کرو جو تمہارے رب کی طرف سے تم پر وحی کی جا رہی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور مشرکوں سے اعراض کرو

وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَاۤ اَشْرَكُوْا١ؕ وَ مَا جَعَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًا١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ Open ayah 6:107 in the Quran reader

اور اگر اللہ چاہتا تو یہ شرک نہ کر پاتے اور ہم نے تم کو ان پر نگران نہیں مقرر کیا ہے اور نہ تم ان کے ضامن ہو

اِتَّبِعْ مَآ اُوْحِیَ اَلَیْکَ مِنْ رّبِّکَ ج لَآ اِلٰہَ اِلَّاھُوَ ج وَاَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِکِیْنَ ۔ وَلَوْ شَآئَ اللہ ُ مَآ اَشْرَکُوْا ط وَمَا جَعَلْنٰکَ عَلَیْھِمْ حَفِیْظًا ج وَمَآ اَنْتَ عَلَیْھِمْ بِوَکِیْلٍ ۔ (الانعام : 106۔ 107) (تم بس اس چیز کی پیروی کرو جو تمہارے رب کی طرف سے تم پر وحی کی جا رہی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور مشرکوں سے اعراض کرو اور اگر اللہ چاہتا تو یہ شرک نہ کر پاتے اور ہم نے تم کو ان پر نگران نہیں مقرر کیا ہے اور نہ تم ان کے ضامن ہو) اللہ کا رسول اسی کی پیروی کرتا ہے جو اس پر نازل ہوتا ہے آنحضرت ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ مشرکین مکہ کا رویہ کچھ بھی ہو مخالفت کی صورت میں اور مطالبات کی شکل میں وہ چاہے کتنا بھی آپ کو الجھانے کی کوشش کریں ‘ ہراساں کر کے آپ کا راستہ بند کرنے کی کوشش کریں یا ایمان کے وعدوں سے مطالبات کے پورا ہونے کی شکل میں آپ کو امیدیں دلائیں ‘ آپ کسی بات پر بھی توجہ نہ دیجئے بلکہ آپ اس چیز کی پیروی کیجئے جو آپ کے رب کی طرف سے آپ پر وحی کی جا رہی ہے جو عقائد آپ پر نازل کیے جا رہے ہیں اور پھر جس طرح دلائل سے مرصع کر کے انھیں آپ کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے آپ انھیں اپنی قوم کے سامنے پیش کریں۔ اخلاقیات کی جو تعلیم دی جا رہی ہے آپ اپنے آپ کو اور اپنے اوپر ایمان لانے والوں کو اس سے مزین کریں۔ دعوت دین کو مقصود بنا کر اپنے سفر کو جاری رکھیں۔ پیش نظر صرف یہ بات رہنی چاہیے کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں یہ جملہ اپنے اندر بڑی وسعت رکھتا ہے۔ مشکلات کو دیکھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ آپ سے یہ کہا جا رہا ہے کہ بیشک آپ کی مخالفت روز بروز آپ کے کام کو سخت کر رہی ہے اور امیدیں روز بروز ٹوٹتی جا رہی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ اسلامی تحریک کسی بند گلی میں داخل ہو رہی ہے لیکن آپ کو اس بات کا یقین رکھنا چاہیے کہ ہر کام کا سررشتہ اللہ کے ہاتھ میں ہے دلوں کا پھیرنے والا بھی وہی ہے تمام قدرتوں اور قوتوں کا مالک بھی وہی ہے اس لیے آپ حالات سے متاثر ہوئے بغیر اپنا کام کرتے رہئے اور انجام کو اللہ کے سپرد کیجئے۔ وہ آپ کو ہر طرح کے خطرے سے محفوظ رکھے گا اور ان لوگوں کو اپنی حدود سے نکلنے نہیں دے گا۔ ہرحال میں حاکم حقیقی صرف اللہ ہی ہے دوسری بات جو اس سے سمجھ میں آتی ہے وہ یہ کہ حالات خواہ کچھ بھی ہوں آپ کی دعوت کا اصل موضوع اور اصل ہدف جو ہمیشہ آپ کے سامنے رہنا چاہیے اور تمام تبلیغی مساعی جس کے گرد جاری رہنی چاہئیں وہ یہ عقیدہ ہے کہ اللہ ہی حاکم حقیقی ہے اس کائنات کا حقیقی مالک وہی ہے۔ ہم اس کے بندے ہیں اس لیے اس کے سوا کسی اور کی بندگی نہیں کرسکتے۔ وہ ہمارا آقا ہے ‘ آقائی اسی کو زیب دیتی ہے اور پھر یہ بندگی اور آقائی جزوقتی اور محدود نہیں بلکہ آدمی پیدا ہونے سے لے کر مرتے دم تک اللہ کا بندہ ہے اور اس کی زندگی کے تمام شعبے اللہ کی بندگی کے حامل ہیں۔ زندگی کا کوئی فیصلہ اور کوئی رویہ اللہ کی حاکمیت اور اس کی کبریائی سے باہر نہیں جس طرح ایک مسلمان اللہ کے گھر میں اس کی بندگی بجا لاتا ہے اسی طرح وہ اپنے گھر میں ‘ بازاروں اور منڈیوں میں کاروبار کرتا ہوا ‘ عدالتی کرسی پر جج ہو کر بھی ‘ حکومت کے ایوان میں حاکم وقت کی حیثیت سے داخل ہونے کے بعد بھی ‘ وہ اللہ ہی کا بندہ ہے۔ اللہ ہی کا قانون مسلمانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی پر غالب ہوتا ہے۔ اسی قانون سے وہ اصول معاشرت ‘ اصولِ معیشت ‘ اصول تہذیب ‘ اصول تعلیم ‘ اصول سیاست اور اصول حکومت لیتا ہے غرضیکہ اس کی زندگی کا کوئی حصہ بھی اللہ کی حاکمیت سے آزاد نہیں ہوتا۔ وہ اول و آخر اللہ کا بندہ ہے اور ہرحال میں اللہ اس کا آقا اور اس کا معبود ہے۔ یہ وہ بنیادی نقطہ ہے جس کے گرد پوری اسلامی تعلیمات گھومتی ہیں اور یہ وہ بنیاد ہے جس پر پوری اسلامی عمارت استوار ہوتی ہے۔ آج بھی دنیا کی اصلاح کا یہی مجرب نسخہ ہے۔ دنیا نے اپنی بھلائی کے لیے مختلف آئین اور قانون اور مختلف زندگی کے رویے اپنا رکھے ہیں۔ آمریت ہی آمر مطلق اور بادشاہت میں بادشاہ سرچشمہ قانون اور حاکمیت کی علامت ہے اور جمہوریت میں عوام کو سرچشمہ اقتدار کہا جاتا ہے اور اشتراکیت میں پارٹی اقتدار کا سرچشمہ ہوتی ہے اور یہی وہ بنائے فساد ہے جس نے پوری دنیا کو فساد سے بھر دیا ہے۔ اس لیے قرآن کریم اس بنیاد کو ڈھا کر ہمیں اسلامی تعلیم کی نئی بنیاد فراہم کرتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ کوئی حاکم حقیقی اور کوئی معبود مطلق نہیں۔ کوئی ایسا نہیں جس کی غیر مشروط اطاعت کی جائے اور تم اپنی بندگی اور اپنی اطاعت میں آزاد نہیں ہو۔ یہی وہ آستانہ ہے جس سے وابستگی تمہاری دنیا اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی آج زبوں حالی کا کوئی سبب اگر ہے تو وہ اسی بنیاد سے کٹ جانا ہے۔ کافر اپنے کفر کے ساتھ قائم ہے کفر اپنے مَالَہُ وَمَا عَلَیْہِ کے اعتبار سے کتنا بھی غلط ہو لیکن دنیا میں اس کے اور اس سے وابستگی کے بھی کچھ فوائد ہیں کیونکہ دنیا میں غلط سے غلط چیز بھی کوئی نہ کوئی فائدہ رکھتی ہے۔ مٹی بھی منفعت سے خالی نہیں ‘ زہر بھی بعض دفعہ تریاق ثابت ہوتا ہے۔ اسی طرح کفر بھی اگرچہ انسانیت کا دشمن اور اخلاقیات کے لیے مہلک ہے لیکن دنیوی اسباب کے ساتھ ساتھ اس کے بھی کچھ فوائد ہیں اور اسلام تو سراسر امن و فلاح کا دین اور دنیوی اور اخروی کامیابیوں کا پیغامبر ہے لیکن آج جو مسلمانوں نے رویہ اختیار کر رکھا ہے کہ وہ نام اسلام کا لیتے ہیں لیکن اسلام کے اجتماعی نظام سے انھیں کوئی سروکار نہیں۔ ان کے اپنے ملکوں کے آئین سراسر اسلام سے بغاوت پر مبنی ہیں۔ ان کی زندگی کا مجموعی رویہ وہی ہے جو کافر قوموں کا ہے ان کی زندگیوں کے کامیابیوں کے پیمانے کافروں ہی سے حاصل کردہ ہیں۔ ان کی تہذیب انہی کی تہذیب ہے ان کی ایک اقلیت مسجدوں میں جا کر سجدہ ریز ہوتی ہے۔ لیکن مسجدوں سے باہر پوری زندگی شیاطین اور طاغوت کے حوالے ہے۔ اس طرح وہ اپنے آپ کو مسلمان بھی کہلانا چاہتے ہیں اور کفر پر لعنت بھی بھیجتے ہیں۔ لیکن زندگی کا رویہ اسلام سے وابستگی نہیں بلکہ اس سے بغاوت پر مشتمل ہے یہ وہ رویہ ہے جسے منافقت کہا جاتا ہے۔ منافقت دنیا میں کبھی عزت کی ضمانت نہیں دیتی۔ اس سے کبھی اجتماعی زندگی میں ہمواری پیدا نہیں ہوتی یہ کبھی بھی قومی توانائی کی باعث نہیں ہوتی۔ اس سے کبھی بھی اجتماعی سیرت و کردار کی تعمیر نہیں ہوتی نتیجتاً قوم ذلت و رسوائی میں مبتلا ہو کر وقت سے پہلے اپنے انجام سے دوچار ہوجاتی ہے۔ آج مسلمان اسی صورت حال سے دوچار ہیں۔ اس لیے یہاں فرمایا گیا ہے کہ آپ کے پیش نظر جو آپ کا اصل ہدف ہے وہی رہنا چاہیے۔ مشرکین سے اعراض کا حکم رہی یہ بات کہ یہ مشرک لوگ کیا کر رہے ہیں آپ ان سے اعراض فرمائیں ‘ آپ تبلیغ و دعوت کا حق ادا کرچکے اب بار بار ان کے پیچھے جانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ بےتابانہ ان کا پیچھا کرنے کی کوئی حاجت نہیں وہ فخر و غرور سے دل کے دروازے اگر بند کرچکے ہیں تو آپ مشتاقانہ ان کے دروازوں پر دستک نہ دیں۔ لوگوں کی ہدایت کے لیے دعا کرنا آپ کے رحمت للعالمین ہونے کا تقاضہ سہی ‘ لیکن ان کی روش کو دیکھتے ہوئے ان کے توہین آمیز رویے کو بڑھتے ہوئے اور آخرت سے مسلسل انکار کرتے ہوئے دیکھ کر بھی اللہ کی بارگاہ میں ہاتھ اٹھا کر اصرار سے ان کی ہدایت کی دعا مانگنا کسی طور ضروری نہیں اور اگر وہ جاو بےجا نئی نئی نشانیاں مانگیں اور نئے نئے مطالبات کریں تو ان پر کان دھرنے کی ہرگز کوئی گنجائش نہیں۔ ان کے کفر کی وجہ سے ان کے انجام کو دیکھتے ہوئے یقینا آپ کے دل کو دکھ ہوتا ہے آپ دل گرفتگی کی کیفیت میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ آپ بہت دفعہ اس کے لیے آبدیدہ ہوجاتے ہیں۔ ہدایت صرف اللہ دیتا ہے یہ سب کچھ اپنی جگہ بجا لیکن ہدایت پیغمبر کی خواہش سے نہیں بلکہ ہدایت حاصل کرنے والے کی طلب اور اخلاص سے نصیب ہوتی ہے اور اللہ کا قانون یہی ہے کہ جو آدمی جس راستے کی طرف بڑھتا ہے وہ اسی راستے کی آسانیاں اس کے لیے مہیا کرتا ہے۔ اس نے ہر انسان کو عقل و شعور اور اختیار کی دولت سے نوازا ہے پھر اس پر پیغمبر بھیج کر اور کتابیں اتار کر اس کی عقل و شعور کا سامان بھی مہیا کردیا ہے۔ اب ان دونوں کی مدد سے اس کے لیے صحیح اور غلط میں امتیاز کرنا یہ اس کا اصل امتحان ہے۔ یہ اللہ کا وہ قانون ہے جو اس نے اپنے بندوں کے لیے مقرر فرمایا ہے۔ جو آدمی رسول اللہ ﷺ کی دعوت کے ساتھ اس قانون کے مطابق جیسا سلوک کرے گا ویسے ہی نتیجے سے اسے سابقہ پیش آئے گا۔ اگر وہ اپنی عقل اور شعور سے کام لے کر آنحضرت کی دعوت کو قبول کرتا ہے تو کامیابیاں اسے خوش آمدید کہیں گی اور اگر وہ اسے قبول کرنے سے انکار کردیتا ہے بلکہ مخالفت پر اتر آتا ہے تو پھر اللہ کے قانون کے مطابق وہ سزا سے نہیں بچ سکتا۔ اب اگر آنحضرت کی دعائوں سے وہ لوگ جو کسی طرح بھی ہدایت کا راستہ اختیار کرنے کے لیے تیار نہیں ‘ ہدایت سے نواز دیئے جائیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ نے اپنا قانون توڑ ڈالا اور اس نے ان لوگوں کو ہدایت دے دی جو ہدایت کے طالب نہیں تھے۔ یہ تو ایک طرح کا جبر ہوگا کہ ایک آدمی دوسرے راستے پر چلنا چاہتا ہے لیکن پروردگار اس کی خواہش کے برعکس اسے دوسرے راستے پر چلا دیتا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ بار بار اس بات کا اظہار کرچکے ہیں کہ ہم کسی پر زبردستی نہیں کرتے اور بالجبر کسی کو صحیح راستہ اختیار کرنے پر مجبور نہیں کرتے۔ اس لیے اگلی آیت کریمہ میں فرمایا جا رہا ہے کہ اگر اللہ چاہتا یعنی وہ زبردستی چاہتا کہ لوگوں کو اپنے راستے پر زبردستی ڈال دے تو کوئی بھی دنیا میں شرک کرنے کی جرأت نہ کرنا جس طرح جن و انس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوقات اللہ کے تکوینی احکام کے تحت زندگی گزارنے کی پابند ہیں۔ زمین کی نباتات اور حیوانات ‘ آسمان کے ثوابت ‘ سیارے اور شمس و قمر حتیٰ کہ فرشوں جیسی مقدس مخلوق بھی اللہ کے تکوینی احکام میں بندھی ہوئی ہے۔ انھیں جس کام اور ڈیوٹی پر لگا دیا گیا ہے وہ اس سے کبھی انحراف نہیں کرسکتے یہ صرف انسان اور جن ہیں جنھیں اطاعت و معصیت کا اختیار دیا گیا ہے اور یہی اختیار ان کا امتحان ہے۔ انسان کو اطاعت و معصیت کا اختیار دیا گیا ہے اب اگر کسی تکوینی حکم کے ذریعے انھیں اللہ کی اطاعت کا پابند کردیا جائے تو پھر ان کا امتحان کہاں رہا وہ تو باقی مخلوقات کی طرح بےاختیار ہو کر اللہ کے احکام کی اطاعت کریں گے اور یہ سراسر انسانوں کے مقصد تخلیق کے خلاف ہے۔ اسے تو پیدا ہی اس لیے کیا گیا ہے اور پھر خلافت کا تاج اس کے سر پر رکھا گیا ہے تاکہ یہ دیکھا جائے کہ یہ زمین پر رہ کر اپنی مرضی اور اپنے ارادے سے اللہ کی اطاعت کرتا ہے اور زمین کو امن و آشتی کا مرکز بنا دیتا ہے یا نافرمانی کرتا ہے اور زمین کو فتنہ و فساد سے بھر دیتا ہے۔ یہی بات ہے جو قرآن پاک نے بعض اور مواقع پر بھی فرمائی ہے۔ ایک جگہ ارشاد فرمایا : لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنَ ” دین میں کوئی جبر نہیں “ یعنی اللہ کی اطاعت اختیار کرنے اس کا دین اختیار کرنے اور اس کے احکام بجا لانے میں اللہ نے جبر کا طریقہ اختیار نہیں فرمایا۔ آگے فرمایا کہ ہم نے ہدایت کو گمراہی سے الگ کر کے اور کھول کے بیان کردیا ہے تاکہ سمجھنے والوں کو راستہ اختیار کرنے میں دشواری پیش نہ آئے۔ یہی وجہ ہے کہ دشمنان دین نے تو مختلف مواقع پر لوگوں کو زبردستی اسلام قبول کرانے کا الزام لگایا لیکن غیر جانبدار ‘ غیر مسلموں نے بھی ہمیشہ اعتراف کیا کہ قرن اول سے لے کر آج تک کبھی کسی کو مسلمانوں نے زبردستی مسلمان نہیں کیا۔ مسلمانوں کے انتہائی عروج میں بھی جب وہ دنیا کے ایک بڑے حصے پر ایک غالب قوت کی حیثیت سے حکومت کر رہے تھے اس وقت بھی ان کی ریاستوں میں غیر مسلم اپنی مذہبی آزادیوں سمیت خوش و خرم زندگی گزار رہے تھے ان کی عبادت گاہیں کھلی تھیں اور ان کے مذہبی اداروں کو مذہبی تعلیم دینے کی آزادی تھی البتہ یہاں ضروری ہے کہ ایک غلط فہمی کا ازالہ کردیا جائے لوگوں نے مذکورہ آیت یعنی لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنَسے غلط مطلب نکالنے کی کوشش کی ہے اس کا صاف اور سیدھا مطلب تو وہی ہے جو ابھی ذکر ہوا کہ دین قبول کرنے میں کوئی اکراہ اور جبر نہیں۔ ہر شخص کو آزادی ہے کہ وہ چاہے دین اسلام قبول کرے اور چاہے نہ کرے اور یہی آزادی اس کا اصل امتحان ہے جس کا نتیجہ قیامت کے دن سامنے آئے گا۔ لیکن لوگوں نے اس کا یہ مطلب لینے کی کوشش کی کہ دین میں کوئی زبردستی نہیں یعنی دین پر عمل کرنے میں یا عمل کرانے میں کوئی پابندی نہیں۔ اس لیے اگر اسلامی حکومت قائم ہوتی ہے تو لوگوں کو اس بات کی آزادی ہوگی کہ وہ نماز پڑھیں یا نہ پڑھیں ‘ زکوۃ دیں یا نہ دیں ‘ احکام شریعت کی پابندی کریں یا نہ کریں ‘ شرم و حیا کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھیں یا نہ رکھیں ‘ اسلامی قانون نافذ کریں یا نہ کریں ‘ غرضیکہ پورے دین اسلام کے بارے میں مسلمان صرف اس بات کے پابند ہیں کہ وہ اسلام کا نام لیں قرآن پڑھیں اور اپنی مرضی سے جس بات پر چاہیں عمل کریں۔ سوال یہ ہے کہ اگر اس آیت کا یہی مفہوم ہے کہ یہ ایک خود اختیاری کام ہے جس پر کسی کو مجبور نہیں کیا جاسکتا تو پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ قرآن کریم کتاب آئین اور کتاب ہدایت نہیں بلکہ صرف ایک کتاب نصیحت ہے۔ حضور دنیا میں ادیان باطلہ کو ختم کر کے دین حق کو غالب کرنے کے لیے نہیں آئے تھے بلکہ چند باتوں کی نصیحت کرنے کے لیے تشریف لائے تھے اور آپ نے مسلسل 23 سال تک باطل قوتوں سے جو چومکھی لڑائی لڑی وہ سب بلا وجہ تھی۔ آپ نے ناحق اس کے لیے جنگیں لڑیں ‘ آپ نے خواہ مخواہ اسلامی شریعت کے نفاذ کے لیے عدالتیں قائم کیں۔ آپ نے نہ جانے کیوں حدود اللہ کا نظام قائم فرمایا ؟ آپ نے ‘ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کیوں شرعی احکام کی بجاآوری اور لوگوں سے اس پر عمل کروانا اسلامی حکومت کی ذمہ داری ٹھہرایا ؟ آنحضرت کے یہ کیے ہوئے سارے کام اگر صحیح تھے تو پھر مان لینا چاہیے کہ اس آیت سے جو مطلب نکالنے کی ناکام کوشش کی گئی ہے وہ سراسر اس آیت پر الزام ہے۔ ایک معمولی عقل بھی اس بات کو سمجھتی ہے کہ جس ریاست میں آئین اور قانون کی بالا دستی ہو اس میں اس کی مخالفت کو کبھی برداشت نہیں کیا جاتا۔ قانون شکنی ایک جرم سمجھی جاتی ہے ‘ احتسابی ادارے ہمیشہ قانون کی پابندی کرواتے اور قانون شکنوں کو گرفتار کرتے اور عدالتیں ان کو سزائیں سناتی ہیں۔ رسول کی ذمہ داری دعوت و تبلیغ ہے ‘ لوگوں کو ایمان پر لانا رسول کی ذمہ داری نہیں اگر اسلام بھی اللہ کا نازل کردہ ایک آئین اور قانون ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ اس پر عمل کرنے کی پابندی نہ ہو اور ریاست اس میں اپنا کردار ادا نہ کرے۔ بہرحال یہ ایک ضمنی بات تھی اصل بحث یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جبراً ان لوگوں کو مسلمان نہیں بنائے گا بلکہ یہ اپنے اختیار سے اگر چاہیں تو اسلام قبول کریں گے۔ آنحضرت سے کہا جا رہا ہے کہ آپ کو ان پر کو توال بنا کر نہیں بھیجا گیا کہ آپ زبردستی اسلام ان کے دلوں میں اتاریں بلکہ آپ کی حیثیت ایک داعی اور مبلغ کی ہے آپ کا کام صرف یہ ہے کہ لوگوں کے سامنے اس روشنی کو پیش کریں اور اظہار حق کا حق ادا کرنے میں اپنی حد تک کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں۔ اب اگر کوئی اس حق کو قبول نہیں کرتا تو نہ کرے۔ آپ کو نہ اس کام پر مامور کیا گیا ہے کہ لوگوں کو حق پرست بنا کر ہی رہیں اور نہ آپ کی ذمہ داری اور جوابدہی میں یہ بات شامل ہے کہ آپ کے حلقہ نبوت میں کوئی شخص باطل پرست نہ رہ جائے۔ لہٰذا اس فکر میں خواہ مخواہ اپنے ذہن کو پریشان نہ کریں کہ اندھوں کو کس طرح بینا بنایا جائے اور جو آنکھیں کھول کر نہیں دیکھنا چاہتے انھیں کیسے دکھایا جائے۔ پس آپ کے لیے صحیح طرز عمل یہ ہے کہ جو روشنی آپ کو دکھا دی گئی ہے اس کے اجالے میں سیدھی راہ پر خود چلتے رہیں اور دوسروں کو اس کی دعوت دیتے رہیں۔ جو لوگ اس دعوت کو قبول کرلیں انھیں سینے سے لگائیں اور ان کا ساتھ نہ چھوڑیں خواہ وہ دنیا کی نگاہ میں کیسے ہی حقیر ہوں اور جو اسے قبول نہ کریں ان کے پیچھے نہ پڑیں۔ جس انجام بد کی طرف وہ خود جانا چاہتے ہیں اور جانے پر مصر ہیں اس کی طرف جانے کے لیے انھیں چھوڑ دیں۔