6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsروح القرآن

Ayah 6:84

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ كُلًّا هَدَیْنَا١ۚ وَ نُوْحًا هَدَیْنَا مِنْ قَبْلُ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِهٖ دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْسُفَ وَ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَۙ Open ayah 6:84 in the Quran reader

اور ہم نے اس کو اسحاق اور یعقوب عطا کئے ان میں سے ہر ایک کو ہدایت بخشی اور نوح کو بھی ہم نے ہدایت بخشی اس سے پہلے اور اس کی ذریت میں سے دائود ‘ سلیمان ‘ ایوب ‘ یوسف ‘ موسیٰ اور ہارون کو بھی اور ہم خوب کاروں کو اسی طرح صلہ دیا کرتے ہیں

وَوَھَبْنَا لَہٗٓ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ ط کُلّاً ھَدَیْنَا ج وَ نُوْحًا ھَدَیْنَا مِنْ قَبْلُ وَمِنْ ذُرِّیَّتِہٖ دَاؤدَ وَ سُلَیْمٰنَ وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْسُفَ وَ مُوْسٰے وَ ھٰرُوْنَ ط وَکَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ ۔ (الانعام : 74) (اور ہم نے اس کو اسحاق اور یعقوب عطا کیے ‘ ان میں سے ہر ایک کو ہدایت بخشی ‘ اور نوح کو بھی ہم نے ہدایت بخشی اس سے پہلے اور اس کی ذریت میں سے دائود ‘ سلیمان ‘ ایوب ‘ یوسف ‘ موسیٰ اور ہارون کو بھی ‘ اور ہم خوب کاروں کو اسی طرح صلہ دیا کرتے ہیں) اولادِ حضرت ابراہیم سب سے پہلے یہاں حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب (علیہما السلام) کا ذکر فرمایا گیا۔ درحقیقت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹوں میں سے دو بیٹے سب سے زیادہ نامور ہوئے ‘ حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق۔ حضرت اسماعیل سب سے بڑے اور حضرت اسحاق ان سے چھوٹے ہیں۔ قریش حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد ہیں۔ نبی کریم ﷺ انہی کی اولاد میں سے ہیں اور ان کا ذکر آگے آرہا ہے اور حضرت اسحاق یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دوسرے بیٹے ہیں اور ان کے بیٹے حضرت یعقوب (علیہ السلام) ہیں حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا خطاب اسرائیل تھا۔ اسرائیل عبرانی لفظ ہے اسکا معنی ہے عبد اللہ۔ بنی اسرائیل کا مطلب جس قوم کو بنی اسرائیل کہا جاتا ہے وہ حضرت یعقوب کی اولاد ہیں کیونکہ بنی اسرائیل کا معنی ہے حضرت یعقوب کی اولاد۔ ظاہر ہے کہ حضرت یعقوب کی اولاد حضرت اسحاق کی اولاد ہے اور حضرت اسحاق کی اولاد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد ہے اس لحاظ سے اسماعیل اور اسحاق دونوں کی اولادیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل ہیں۔ قریش مکہ کو یہاں یہ بتایا جا رہا ہے کہ تم جانتے ہو کہ جس طرح تم حضرت اسماعیل کے واسطے سے حضرت ابراہیم کی نسل سے تعلق رکھتے ہو اسی طرح بنی اسرائیل بھی حضرت ابراہیم کی نسل سے ہیں۔ چناچہ تم دونوں کے جو جد امجد ہیں یعنی حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق ذرا اندازہ کرو وہ کیسے تھے اور آگے ان کی اولاد کیسی تھی کیا وہ لوگ شرک کرتے تھے یا وہ صرف اللہ کی توحید کی قائل تھے اور اس کی بندگی میں کسی اور کو شریک کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ انھوں نے اپنی زندگی بھی اسی توحید پر قائم رہ کر گزاری اور اپنی قوم اور اپنی اولاد کو اسی کی تعلیم دیتے رہے اور جو ان پر ایمان نہ لائے زندگی بھر اسی توحید ہی کی وجہ سے ان کے ساتھ ان کی کشمکش جاری رہی اور جب ان کا آخری وقت آیا تو بجائے اس کے کہ انھیں یہ فکر ہوتی جیسا کہ دنیا میں ہر باپ کو ہوتی ہے کہ میرے بعد میرے بچے کس طرح جئیں گے اور ان کی زندگی کی ضروریات کا کیا بنے گا۔ اس بارے میں وہ انھیں ہدایات دیتے اور نصیحتیں کرتے لیکن قرآن کریم نے ہمیں بتایا ہے کہ آخری وقت میں بھی انھیں اگر فکر تھی تو صرف اس بات کی کہ یہ کہیں اللہ کے ساتھ کسی کو شریک تو نہیں ٹھہرائیں گے۔ چناچہ سورة بقرہ کے سولہویں رکوع میں حضرت یعقوب جو حضرت ابراہیم کے پوتے اور بنی اسرائیل کے جدامجد ہیں کے بارے میں بتایا گیا ہے : اَمْ کُنْتُمْ شُھَدَآئَ اِذْ حَضَرَ یَعْقُوْبَ الْمَوْتُ لا اِذْ قَالَ لِبَنِیْہِ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ م بَعْدِیْط قَالُوْا نَعْبُدُ اِلٰھَکَ وَاِلٰہَ اٰبَآئِکَ اِبْرٰھِمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ اِلٰھًا وَّاحِدًا ج صلے وَّ نَحْنُ لَہٗ مُسْلِمُوْنَ ۔ (کیا تم اس وقت موجود تھے جب یعقوب اس دنیا سے رخصت ہو رہے تھے اس نے مرتے وقت اپنے بیٹوں سے پوچھا بچو میرے بعد تم کس کی بندگی کرو گے ان سب نے جواب دیا ہم اسی ایک خدا کی بندگی کریں گے جسے آپ نے اور آپ کے بزرگوں ابراہیم اسماعیل اور اسحاق نے خدا مانا ہے اور ہم اسی کے مسلم ہیں ) (البقرہ : 133) حضرت یعقوب نے اپنی اولاد سے صرف اللہ کی بندگی کا عہد لیا تھا اس سے آپ اندازہ کریں کہ حضرت یعقوب آخری وقت میں اپنی اولاد کے بارے میں کسی اور بات کی فکر مندی کا اظہار نہیں فرما رہے انھیں اس بات کی کوئی فکر معلوم نہیں ہوتی کہ ان کے بعد ان کی ضرورتوں کا کیا بنے گا ‘ انھیں صرف فکر اس بات کی ہے کہ یہ میرے بعد کسی اور کی بندگی شروع نہ کردیں یعنی کسی اور کے سامنے سر نہ جھکائیں ‘ کسی اور کی نماز نہ پڑھنے لگیں ‘ کسی اور کو سجدہ نہ کریں ‘ کسی اور سے مدد نہ مانگیں ‘ کسی اور کی غیر مشروط اطاعت نہ کریں ‘ کسی اور کو اللہ کی کسی صفت میں شریک نہ بنائیں۔ کیونکہ یہ سارے حقوق اللہ کے ہیں ‘ اس کے سوا کسی کے ساتھ یہ معاملات نہیں کیے جاسکتے۔ بچوں نے اپنی اس تربیت کے مطابق جو انھیں اپنے باپ سے ملی تھی جو جواب دیا ہے وہ یہود اور قریش مکہ کی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے کہ ہم تو اسی ایک اللہ کی بندگی اور عبادت کریں گے اور ہم اسی ایک معبود کے عبد بن کے رہیں گے جو آپ کے بزرگوں یعنی حضرت ابراہیم ‘ حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق کا خدا ہے اور ہم اپنی پوری زندگی اسی کے مسلم بن کر اسی کے سپرد کردیں گے اور ہماری زندگی کا کوئی شعبہ اس سے آزاد نہیں ہوگا اور ہمارا کوئی فیصلہ اس کے احکام سے ہٹا ہوا نہیں ہوگا اس سے پہلے کی آیت میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حضرت ابراہیم ‘ حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب نے اپنے بیٹوں کو یہ وصیت کی تھی کہ دیکھنا جس طرح تمہاری زندگی صرف ایک اللہ کی بندگی میں گزرے اس طرح تمہاری موت بھی اسی طریقے پر آنی چاہیے۔ اس قدر واضح تاریخی شواہد کے بعد آخر اس بات کی کیا گنجائش رہ جاتی ہے کہ قریش یا یہود جو اپنے آپ کو حضرت ابراہیم سے نسبی اور دینی وراثت میں شریک سمجھتے ہیں وہ کسی اور کو اللہ کی ذات وصفات میں شریک کریں اور پھر اس بات کا بھی کیا جواز ہے کہ وہ اپنی دنیا کے بارے میں اور دنیوی ضرورتوں کے حوالے سے ہمیشہ پریشان بھی رہیں اور اس کے لیے ہر ممکن مساعی بھی بروئے کار لائیں۔ لیکن انھیں اس بات کی کبھی فکر نہ ہو کہ جس دین اور جس توحید اور جس صراط مستقیم کی دعوت حضرت ابراہیم اور ان کی اولاد نے اپنی اولاد اور لوگوں کے سامنے رکھی تھی اور مرتے وقت بھی جس کی فکر کی تھی اس کی انھیں کبھی کوئی فکر نہ ہو۔ اہلِ ایمان ہمیشہ آخرت کے بارے میں فکر مند ہوتے ہیں معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے نبی اور ان کے راستے پر چلنے والے لوگ ہمیشہ اپنی زندگی کے آخری لمحوں تک جس بات کی فکر میں ہمیشہ ڈوبے رہتے ہیں وہ دنیا نہیں بلکہ آخرت ہوتی ہے۔ ضروریات دنیا نہیں بلکہ دین ہوتا ہے۔ وہ وسائل دنیا کو ضرورت کی حد تک حاصل کرتے ہیں لیکن ان کا مقصد زندگی ہمیشہ دین ہوتا ہے اور وہ مرتے ہوئے بھی اپنی اولاد کو اسی کی وصیت کرتے ہیں اور یہی ان کے نزدیک سب سے بڑا سرمایہ ہے جو اپنی اولاد کے سپرد کر کے جاتے ہیں۔ اسلامی تاریخ تو ایسی مثالوں سے مالا مال ہے۔ ہمارے خلفائے راشدین کی زندگیاں اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں لیکن میں یہاں صرف پانچویں خلیفہ راشد حضرت عمر بن عبدالعزیز کا ذکر کروں گا کہ جب ان کا آخری وقت آیا تو انھوں نے اپنے گیارہ بیٹوں کو بلایا۔ سب آکر سامنے کھڑے ہوگئے۔ فرمایا بیٹو میں تمہارے لیے دنیا چھوڑ کر نہیں جا رہا۔ میرے پاس جو کچھ تھا تم پر خرچ کرنے میں کبھی دریغ نہیں کیا لیکن یہ میں کبھی نہ کرسکا کہ بیت المال میں سے تمہیں وہ کچھ دے دوں جو تمہارا حق نہیں۔ لیکن یہ بات میری یاد رکھنا کہ اگر تم نے اپنے اندر نیکی پیدا کی اور اللہ سے لو لگائی اور اس سے وفاداری کا ثبوت دیا تو اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ اپنے نیک بندوں کو کبھی ضائع نہیں کرتا اس لیے تمہیں بھی ضائع نہیں ہونے دے گا۔ تمہیں دنیا بھی دے گا اور آخرت بھی۔ چناچہ تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ ان بچوں نے باپ کی نصیحت پلے باندھی۔ دنیا بھی کمائی لیکن ترجیح ہمیشہ دین کو دی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کے بڑے بیٹے کو لوگوں نے اس حال میں دیکھا کہ انھوں نے ایک دن میں سو غلام خرید کے آزاد کیے۔ اگر ایک غلام چند ہزار کا بھی سمجھا جائے تو اندازہ لگایئے کہ اللہ نے انھیں کتنی بڑی دولت عطا کی تھی حالانکہ اپنے باپ سے انھیں صرف پانچ درہم وراثت میں ملے تھے۔ اس کے برعکس حضرت عمر بن عبدالعزیز کے بعد آنے والے خلیفہ ہشام بن عبدالملک کے بھی گیارہ بیٹے تھے اور وہ اپنے پیچھے لاکھوں کی صورت میں وراثت چھوڑ کر گیا تھا اس لیے ہر ایک کے حصے میں ایک بڑی دولت آئی تھی۔ لیکن انقلابات زمانہ ملاحظہ فرمایئے کہ ہشام کے بیٹوں کو لوگوں نے بازار میں بھیک مانگتے دیکھا۔ کہنا صرف یہ ہے کہ مشرکینِ مکہ کو توجہ دلائی جا رہی ہے کہ تم نے اپنے شرک کے لیے حضرت ابراہیم کو حوالہ بنایا حالانکہ ان کی اور ان کی اولاد کی سوچ کا عالم تو یہ تھا کہ وہ اپنی زندگیوں میں بھی اور مرتے ہوئے بھی صرف اللہ کے دین کی وصیت کرتے تھے اور اسی پر قائم رہنے کی تلقین کرتے تھے اور اللہ کے دین کی بنیاد کلمہ توحید ہے جس میں شرک کو ایک لمحے کے لیے بھی برداشت نہیں کیا جاتا۔ اس کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ نوح (علیہ السلام) حضرت ابراہیم کے آبائو اجداد میں سے تھے۔ تورات میں اگرچہ اس کا ذکر نہیں لیکن تالمود سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نوح نے حضرت ابراہیم کی تربیت فرمائی تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ براہ راست ان سے نسبی اور اصلاحی رشتہ رکھتے تھے۔ تالمود کی یہ روایت میں نہیں کہہ سکتا کہاں تک صحیح ہے یہ زمانہ چونکہ قبل از تاریخ کا زمانہ کہا جاتا ہے اس لیے کوئی حتمی بات کہنا بہت مشکل ہے۔ البتہ ! قرآن کریم کے اس انداز بیان سے یہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اجداد میں سے تھے۔ جہاں تک نوح (علیہ السلام) کی زندگی اور دعوت کا تعلق ہے قرآن کریم اور دوسری آسمانی کتابوں نے اس بات کی گواہی دی ہے کہ انھوں نے لمبی عمر پائی اور سینکڑوں سالوں تک وہ لوگوں کو اللہ کی توحید کی دعوت دیتے رہے اور جب قوم کی اکثریت نے نو سو سال کی کشمکش کے بعد بھی اسے ماننے سے انکار کردیا تو بالآخر طوفانِ نوح نے اس قوم کو تباہ کردیا اور پھر حضرت نوح اور جو ان پر ایمان لائے تھے ان کی اولاد سے دوبارہ دنیا آباد ہوئی۔ اس سے قریش مکہ کو یہ بات بتائی جا رہی ہے کہ حضرت ابراہیم ہی نہیں بلکہ ان کے آبائو اجداد بھی توحید ہی کی دعوت اور خدمت کے لیے دنیا میں بھیجے گئے تھے اور ان کی دعوت کو قبول نہ کرنے کے نتیجے میں دنیا ایک بہت بڑی تباہی کا سامنا کرچکی ہے۔ لیکن تمہاری جسارت کی انتہاء ہے کہ تم اب تک شرک پر اصرار کر رہے ہو اور اپنے شرک کا جواز حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کو بناتے ہو حالانکہ اللہ نے ان سب کو اسی صراط مستقیم کی ہدایت دی تھی جس کی طرف رسول اللہ ﷺ تمہیں بلا رہے ہیں۔ پھر حضرت ابراہیم کی اولاد میں چند بڑے بڑے نام لیے جا رہے ہیں جن سے قریش مکہ اور یہود دونوں واقف تھے اور جن میں قدر مشترک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں کسی نہ کسی صورت میں دینی اور دنیوی دونوں طرح کی سیادت سے نوازا تھا۔ ان میں سب سے پہلے حضرت دائود (علیہ السلام) کا ذکر ہے جو حضرت طالوت کے جانشین بنے اور پھر بالآخر اللہ نے انھیں رسالت دی اور ایک بڑی حکومت سے نوازا۔ پھر ان کے جانشین ان کے صاحبزادے حضرت سلیمان (علیہ السلام) ہوئے وہ اللہ کے نبی بھی ہیں اور ایک بہت بڑے تاجدار بھی۔ اللہ نے ان کو ایسی حکومت عطا فرمائی جیسی نہ اس سے پہلے کسی کو ملی تھی نہ اس کے بعد کسی کو عطا ہوئی۔ اسی طرح حضرت ایوب (علیہ السلام) اللہ کے نبی ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے قبیلے کے سربراہ اور خاندانی وجاہت رکھتے تھے اور اللہ نے دینی قیادت و سیادت کے ساتھ ساتھ دنیوی امارت سے بھی نوازا تھا۔ اس کے بعد یوسف (علیہ السلام) کا ذکر ہے ان کا واقعہ تو قرآن کریم نے تفصیل سے بیان کیا ہے۔ وہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے فرزند ارجمند ‘ اللہ کے نبی اور مصر کے تاجدار گزرے ہیں۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کا تذکرہ ہے یہ دونوں اللہ کے نبی تھے اور بنی اسرائیل جیسی بہت بڑی قوم کے دینی اور دنیوی سربراہ بھی تھے۔ اللہ نے ان سب سے بندوں کی ہدایت کا کام لیا انھیں بڑی عظمتیں بخشیں۔ اہل دنیا میں بھی سر بلند رہے اور آخرت میں بھی اللہ کے یہاں ان کا بڑا مقام و مرتبہ ہے اور تاریخ میں ہمیشہ اپنے کارناموں اور اپنی دینی ہدایت کے باعث زندہ و تابندہ رہیں گے۔ لیکن یہ جو کچھ انھیں عطا ہوا قریش مکہ کو بتایا جا رہا ہے کہ یہ اس وجہ سے عطا نہیں ہوا تھا کہ وہ حضرت ابراہیم کی اولاد تھے اور اس وجہ سے اللہ نے انھیں دنیوی اور اخروی سعادتوں سے بہرہ ور فرمایا بلکہ یہ سب کچھ انھیں اس لیے عطا ہوا کہ وہ محسنین میں سے تھے اور اللہ محسنوں کو اسی طرح بدلہ دیتا ہے۔ محسن سے مراد یہ ہے کہ اللہ نے ان کو مقصد زندگی سے بہرہ ور فرمایا اپنی شریعت ان پر نازل فرمائی ‘ اپنے احکام سے انھیں آگاہ کیا ‘ صراط مستقیم ان پر کھول دی اور ان پر اس کے حوالے سے ذمہ داریاں ڈالی گئیں۔ ان کا کام یہ ہے کہ انھوں نے اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی اور اللہ سے وفاداری کا حق ادا کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی بلکہ وہ ہمیشہ اس کے لیے زیادہ سے زیادہ وفاداری ‘ جاں سپاری اور ایثار و قربانی سے کام لیتے رہے جو کچھ ان کے بس میں تھا انھوں نے سب کچھ اس راستے میں جھونک دیا اللہ کی رضا کے حصول میں اپنی ہمت و استطاعت سے بڑھ کر اطاعت و عبدیت کا حق ادا کرنا ‘ اسے احسان کہتے ہیں اور یہ لوگ اس صفت احسان کے حامل تھے۔ اسی وجہ سے اللہ نے ان کو سارے مرتبے عطا فرمائے۔ تمہیں ان کی زندگیوں سے سبق لینا چاہیے اور یہ سمجھ لینا چاہیے کہ تم بھی اگر چاہتے ہو کہ تمہیں اللہ کے یہاں آخرت میں سرخرو ہونے کا موقع ملے اور اللہ دنیا میں بھی تمہیں اپنے انعامات سے نوازے تو وہ راستہ اختیار کرو جو انھوں نے اختیار کیا تھا کہ صرف اللہ ہی سے اپنا تعلق جوڑا اور اسی کی اطاعت میں زندگی گزاری اور اس کی عبادت اور بندگی میں کسی کو اس کا شریک نہیں ٹھہرایا۔ لیکن تم اس سے سرکشی اختیار کر کے شرک کا ارتکاب کرتے ہو اور غضب یہ کہ اسے حضرت ابراہیم کی طرف منسوب بھی کرتے ہو یہ ایک ایسی ڈھٹائی ہے جس سے دنیا بھی تباہ ہوسکتی ہے اور آخرت بھی۔ اس کے بعد کچھ مزید انبیاء کا تذکرہ کیا گیا۔
Ayahs 6:85–86

وَ زَكَرِیَّا وَ یَحْیٰى وَ عِیْسٰى وَ اِلْیَاسَ١ؕ كُلٌّ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَۙ Open ayah 6:85 in the Quran reader

اور زکریا ‘ یحیٰ ‘ عیسیٰ اور الیاس کو بھی ‘ یہ سب نیکوکاروں میں سے تھے

وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ یُوْنُسَ وَ لُوْطًا١ؕ وَ كُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 6:86 in the Quran reader

اور اسماعیل ‘ یسع ‘ یونس اور لوط کو بھی اور ان میں سے ہر ایک کو ہم نے عالم والوں پر فضیلت بخشی

وَزَکَرِیَّا وَ یَحْیٰی وَ عِیْسٰی وَ اِلْیَاسَ ط کُلٌّمِّنَ الصّٰلِحِیْنَ ۔ وَاِسْمٰعِیْلَ وَ الیَسَعَ وَ یُوْنُسَ وَ لُوْطًا ط وَ کُلًّا فَضَّلْنَا عَلَی الْعٰلَمِیْنَ ۔ (الانعام : 75۔ 86) (اور زکریا ‘ یحیٰ ‘ عیسیٰ اور الیاس کو بھی ‘ یہ سب نیکوکاروں میں سے تھے اور اسماعیل ‘ یسع ‘ یونس اور لوط کو بھی اور ان میں سے ہر ایک کو ہم نے عالم والوں پر فضیلت بخشی) بنی اسماعیل و بنی اسرائیل کے آبائو اجداد ایک اللہ کو ماننے والے تھے یہ چاروں اللہ کے مشہور اور عظیم پیغمبر ہیں۔ عیسیٰ (علیہ السلام) تو عیسائی امت کی وجہ سے بہت ممتا زشخصیت کے مالک ہیں۔ ان کو اللہ نے غیر معمولی معجزات سے نوازا تھا۔ ان کی دنیوی زندگی کا بظاہر اختتام بھی غیر معمولی طریقے سے ہوا اور مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق وہ قرب قیامت میں آنحضرت ﷺ کے خلیفہ کی حیثیت سے دوبارہ تشریف لائیں گے اور غلبہ اسلام کو مکمل کریں گے۔ حضرت یحییٰ انہی کے ہمعصر ‘ پیش رو اور عزیزوں میں سے ہیں۔ حضرت زکریا حضرت یحییٰ کے والد گرامی اور حضرت الیاس وہی پیغمبر ہیں جنھیں تورات ایلیا کے نام سے یاد کرتی ہے۔ ان چاروں میں قدر مشترک ان کا زہد ‘ فقر اور دنیا سے بےرغبتی ہے۔ یہ دنیا اور اہل دنیا سے بےنیاز خالصتاً اللہ کی رضا میں شاکر ‘ اللہ کے برگزیدہ بندے تھے اور انہی صفات کے اشتراک کے باعث انھیں ایک ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ ان کی غیر معمولی شخصیتوں کے حوالے سے لوگوں نے ان کے بارے میں بہت کچھ افراط وتفریط سے بھی کام لیا ہے۔ اس لیے ان کے بارے میں فرمایا جا رہا ہے کہ ان کی شخصیتوں میں صفات کے اعتبار سے کتنا بھی غیر معمولی پن ہو لیکن اپنی ذات میں وہ اللہ کے نیک بندوں میں سے تھے خدا نہیں تھے۔ جیسے لوگوں نے ان میں سے بعض کی پوجا شروع کردی اور عیسائی صرف ان کی وجہ سے گمراہ ہوئے اور ان کو جو کچھ معجزات عطا ہوئے اور ان کی شخصیتوں میں جو ایک جاذبیت عظمت اور غیر معمولی پن نظر آتا ہے وہ صرف اس ہدایت اور اس صلاح وتقویٰ کے باعث ہے جو اللہ سے تعلق کے باعث ان کی شخصیتوں کا امتیازی پہلو تھا۔ وہ اپنی تمام تر عظمتوں میں اللہ پر ایمان رکھنے والے اس کی شریعت پر چلنے والے اللہ کی ذات وصفات میں شریک نہ کرنے والے اور قوم کو توحید کی دعوت دینے والے اللہ کے نیک بندے تھے ‘ جنھوں نے دنیا میں ہر طرح سے شرک کی جڑ مارنے کی کوشش کی اور لوگوں کو اللہ کی وحدانیت پر ایمان لانے کی ترغیب دی اے مشرکینِ مکہ اور اے امت نصاریٰ تم نے نجانے یہ شرک کا مرض کہاں سے پال لیا ہے۔ دیکھو جہاں جہاں بھی عظمتیں نظر آتی ہیں وہ سب اللہ کی بندگی کے باعث اور اللہ کی توحید سے وابستگی کا نتیجہ ہیں۔ اگلی آیت میں مزید چار پیغمبروں کا ذکر فرمایا گیا۔ جن میں پہلے نمبر پر حضرت اسماعیل ہیں جو قریش کے جد امجد اور حضرت ابراہیم کے بڑے صاحبزادے ہیں اس رکوع کے آغاز میں جہاں انبیاء کا ذکر شروع ہوا وہاں سب سے پہلے حضرت اسحاق جو حضرت اسماعیل کے بھائی ہیں ان کا ذکر کیا گیا اور پھر ان کی اولاد میں اٹھنے والے جستہ جستہ پیغمبروں کا ذکر ہے۔ اب آخر میں حضرت اسماعیل کا ذکر کیا جا رہا ہے تاکہ سلسلہ ابراہیمی کو مکمل کرتے ہوئے یہ بتایا جائے کہ وقت کی سب سے بڑی قومیں بنی اسرائیل اور بنی اسماعیل دونوں کے آبائو اجداد توحید کے علمبردار تھے اور وہ دنیا میں اسی کی تعلیم اور ترغیب کے لیے تشریف لائے تھے اور اسی بنیاد پر ان کی اپنی قوموں سے کشمکش جاری رہی۔ لیکن نجانے ان دونوں قوموں نے شرک کا جواز کہاں سے پیدا کرلیا۔ حضرت اسماعیل کے بعد حضرت یونس کا ذکر ہے جو اللہ کے مشہور پیغمبر ہیں جو نینوا میں مبعوث ہوئے اور ایک لاکھ انسانوں کی ہدایت کے لیے بھیجے گئے اور اس کے بعد حضرت لوط کا ذکر ہے یہ حضرت ابراہیم کے بھتیجے ہیں انہی کے زیر تربیت رہے۔ اللہ نے انھیں نبوت سے نوازا انھوں نے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی ‘ بری عادتوں کو چھوڑنے کا حکم دیا ‘ مکارم اخلاق کی تعلیم دی۔ لیکن قوم نے بجائے قبول کرنے کے جب انتہائی دشمنی اور کمینگی کا ثبوت دیا تو اللہ نے ان پر عذاب نازل کیا اور آج بھی وہ قوم بحر مردار کے نیچے ابدی نیند سو رہی ہے اور اس کے گرد و پیش میں ان کے کھنڈرات پھیلے ہوئے ہیں۔ درمیان میں حضرت یسع کا ذکر آیا ہے یہ ہماری تاریخ کے لیے ایک غیر معروف نام ہے لیکن پہلی آسمانی کتابوں میں الیسع سے ملتے جلتے دو نبیوں کے ناموں کا ذکر ہے ایک الیشع جن کا زمانہ 713 قبل مسیح بتایا جاتا ہے۔ دوسرے یسعیاہ جن کا زمانہ 620 قبل مسیح کہا جاتا ہے۔ پہلا نام قرآن کے تلفظ کے زیادہ قریب ہے اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ شاید یہی پیغمبر مراد ہیں۔ یہاں جن پیغمبروں کا ذکر ہوا ہے صرف یہی نسل ابراہیمی سے تعلق نہیں رکھتے بلکہ جیسے اس سے پہلے عرض کیا جا چکا کہ مشرق وسطیٰ میں آنے والے بیشتر انبیاء حضرت ابراہیم ہی کی اولاد سے تھے۔ ان میں سے اس مختصر تعداد کا ذکر کرنا صرف اس وجہ سے ہے کہ یہ وہ پیغمبر ہیں جن سے اس وقت کی قومیں متعارف تھیں۔ یہ مقصود نہیں ہے کہ تمام انبیاء کا ذکر کیا جائے بلکہ صرف یہ توجہ دلانا ہے کہ اللہ نے حضرت ابراہیم کی نسل سے جتنے پیغمبر اٹھائے جن میں سے چند ایک یہ ہیں وہ سب اسی سلسلہ ہدایت کے افراد تھے جس ہدایت کو لے کر رسول اللہ ﷺ مبعوث ہوئے ہیں اور وہ دنیا کو صرف اللہ کے آستانے پر جھکانے کے لیے آئے تھے اور باقی ہر آستانے سے ان کا تعلق توڑ کر صرف ایک اللہ سے وابستگی ان کا مقصود تھا تاکہ مشرکینِ مکہ کو اپنے غلط طرز عمل کا احساس ہو سکے۔ البتہ ایک بات جو یہاں قابل توجہ ہے وہ یہ ہے کہ یہاں چونکہ ان انبیاء کا تذکرہ ہو رہا ہے جو حضرت ابراہیم کی اولاد میں سے تھے لیکن ان میں دو پیغمبر ایسے ہیں جنھیں حضرت ابراہیم کی ذریت قرار دینا صحیح معلوم نہیں ہوتا۔ ان میں سے ایک تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں آپ کو اللہ نے بغیر باپ کے پیدا فرمایا اور سلسلہ نسب چونکہ باپ سے چلتا ہے۔ تو ان کو حضرت ابراہیم کی اولاد میں سے کیسے کہا جاسکتا ہے اور دوسرے حضرت لوط (علیہ السلام) ہیں وہ حضرت ابراہیم کے بھتیجے ہیں۔ اس لیے ان کے بارے میں بھی یہ کہنا کہ وہ آپ کی اولاد میں سے ہیں یہ صحیح نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بھتیجے کو بیٹا کہنا اور چچا کو باپ کہنا یہ عرب کی طرح تقریباً ہر قوم میں ایک معروف بات رہی ہے اس لیے یہاں اسی عرف کے مطابق حضرت لوط کو آپ کی اولاد میں شامل کیا گیا۔ جہاں تک حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا تعلق ہے انھیں یقینا اللہ نے اپنی قدرت سے بغیر باپ کے پیدا کیا لیکن یہ ہم جانتے ہیں کہ ان کی والدہ محترمہ حضرت ابراہیم کی نسل سے تھیں۔ اس لحاظ سے وہ حضرت ابراہیم کی دختری اولاد تھے اور دختری اولاد کو اپنی اولاد کہنا اور اپنے سلسلہ نسب میں شامل کرنا کوئی تعجب کی بات نہیں۔ خود نبی کریم ﷺ کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ آپ کی صاحبزادی حضرت فاطمہ کی اولاد نسب کے اعتبار سے آنحضرت ﷺ کی طرف منسوب ہے۔ سیدوں کو حضور کی اولاد میں شمار کیا جاتا ہے جبکہ وہ آپ کی صاحبزادی کی اولاد ہیں۔ آخر میں تمام انبیاء کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے ان سب کو جہان والوں پر فضیلت دی تھی۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ دنیا میں کتنے ایسے پیغمبر گزرے ہیں کہ اہل دنیا نے جن کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کردیا بلکہ ان میں ایک خاصی تعداد انہی کی نافرمان امت کے ہاتھوں قتل بھی ہوئی اور ایک معتد بہ تعداد ایسے پیغمبروں کی بھی ہے جن کو گنتی کے پیروکار ملے وہ ساری زندگی اپنی قوم کے ساتھ کشمکش میں مبتلا رہے۔ لیکن ان کی تمام تر تبلیغی مساعی کے باوجود قوم کی غالب اکثریت ان کی دعوت کو قبول کرنے سے منکر رہی۔ ظاہر ہے ایسے پیغمبر جو لوگوں کے ہاتھوں قتل ہوئے یا ان کی دعوت کو قبول عام نہ مل سکا ان کے بارے میں یہ کہنا کہ اللہ نے انھیں اہل جہان پر فضیلت عطا فرمائی تھی یہ کہاں تک صحیح ہے۔ انبیاء کو اللہ تعالیٰ نے جہان والوں پر فضیلت دی ہے بات اصل میں یہ ہے کہ وہ فضیلت جس کا تعلق نبوت سے ہے وہ سراسر اللہ کی عطا ہے وہ ایک منصب ہے جسے اہل دنیا نہیں بلکہ اللہ عطا فرماتے ہیں اور یہ منصب جسے مل جاتا ہے وہ اپنی اس منصب کی عظمت کے باعث تمام دنیا سے بالابلند ہوجاتا ہے دنیا چاہے اسے قبول کرے یا نہ کرے وہ اپنی اس منصبی فضیلت کے باعث ہرحال میں عزت و شرف کا مالک رہتا ہے۔ کسی چمن میں اگر پھول کھلتا ہے تو اس کی شادابی اور رعنائی اور اس کی دلکشی اور عطر بیزی اس بات کی محتاج نہیں کہ اس کے گردوپیش میں رہنے والے اس سے اپنے مشام جان کو معطر کرتے ہیں یا نہیں۔ وہ بےذوقوں کے ہجوم میں رہ کر بھی پھول ہی رہتا ہے اور اس کی انفرادیت میں کبھی کمی پیدا نہیں ہوتی۔ اندھوں کا کوئی ہجوم اگر پتھروں کے ڈھیر پر زندگی گزار رہا ہو اور ان کے سامنے اگر ہیرے رکھ دیئے جائیں تو وہ اپنی بصارت سے محرومی کے باعث ان ہیروں کے ساتھ بھی وہی سلوک کریں گے جو وہ پتھروں کے ساتھ کر رہے ہیں۔ وہ بیشک انھیں اٹھا کر پھینک دیں یا انھیں توڑ پھوڑ دیں کیونکہ وہ دیکھ نہیں پاتے کہ ان کی آب و تاب کا عالم کیا ہے لیکن ان کی اس ناقدری کے باوجود ہیرے کی عظمت اور اس کی آب و تاب میں کبھی کمی نہیں آتی۔ اسی طرح پیغمبر اپنی قوم کی جانب سے چاہے کسی بھی سلوک کا مستحق سمجھا جائے لیکن وہ اپنی ذاتی وجاہت ‘ شخصی عظمت ‘ تعلیم کی کشش ‘ مقصد کی شناخت ‘ مکارم اخلاق کی انفرادیت اور انسانیت کے ساتھ ہمدردی اور خیر خواہی کے باعث ہرحال میں ایسی ہی چمک دمک کا مالک رہتا ہے جیسے گھٹاٹوپ اندھیرے میں ایک جلتی ہوئی شمع یا بادلوں میں گھرا ہوا چاند۔ وقت کے حالات کا تنائو ‘ غلط رویوں کا چلن ‘ بگڑی ہوئی قوم کی ضد اور انانیت کا غبار ہوسکتا ہے کہ وقتی طور پر اس سورج کی چمک کو دبائے رکھے لیکن تاریخ بالآخر ان کی عظمت کو سلام کرنے پر مجبور ہوجاتی ہے۔ اور وہ چند افراد جو پیغمبر کی زندگی میں مشرف بہ اسلام ہوتے ہیں وہ بڑھتے بڑھتے ایک امت کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک کی زندگیوں کو دیکھ لیجئے۔ ان کی قوموں نے انکے ساتھ کیا سلوک کیا وہ اپنے پیچھے گنتی کے چند متبعین چھوڑ کے گئے لیکن آج دنیا کی بڑی بڑی قومیں انکے نقوش قدم کو تلاش کر رہی اور ان کی عظمتوں کو سلام کر رہی ہیں۔ اس سے قرآن پاک کا یہ کہنا ایک حقیقت بن کر ابھرتا ہے کہ ہم نے ان کو جہانوں پر فضیلت دی تھی۔ یہاں چونکہ ایک بہت مختصر تعداد کا ذکر ہوا ہے اس لیے ہوسکتا ہے کہ یہ غلط فہمی پیدا ہو کہ کیا دنیا کو ہدایت کے راستے پر چلانے کے لیے صرف یہی ایک مختصر سا گروہ بھیجا گیا تھا کیا یہی توحید کے پرستاروں کا قافلہ ہے جو چندنفوس قدسیہ پر مشتمل ہے جبکہ دنیا اہل شرک سے بھری ہوئی ہے اس لیے اگلی آیت میں اس غلط فہمی کا ازالہ فرمایا گیا۔
Ayah 6:87

وَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ اِخْوَانِهِمْ١ۚ وَ اجْتَبَیْنٰهُمْ وَ هَدَیْنٰهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 6:87 in the Quran reader

اور ان کے آبائو اجداد ‘ ان کی اولاد اور ان کے بھائی بندوں میں سے بھی ہم نے ہدایت یافتہ بنائے اور ان کو برگزیدہ کیا اور ان کو ہم نے صراط مستقیم کی ہدایت بخشی

وَمِنْ اٰبَآئِہِمْ وَ ذُرِّیّٰتِھِمْ وَ اِخْوَانِہِمْ ج وَاجْتَبَیْنٰھُمْ وَ ھَدَیْنٰھُمْ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ۔ (الانعام : 87) (اور ان کے آبائو اجداد ‘ ان کی اولاد اور ان کے بھائی بندوں میں سے بھی ہم نے ہدایت یافتہ بنائے اور ان کو برگزیدہ کیا اور ان کو ہم نے صراط مستقیم کی ہدایت بخشی) لوگوں کو ہدایت دینا اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے یہ نہ سمجھا جائے کہ توحید کے پرستار اور ہدایت پر چلنے والے یہی چند گنتی کے نفوس ہیں جن کا یہاں ذکر ہوا ہے بلکہ ان کے آبائو اجداد میں سے بھی ان کی اولاد میں سے بھی اور ان کے بھائی بندوں میں سے بھی اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کتنی بڑی تعداد کو نبوت کے شرف سے مشرف فرمایا اور پھر انھوں نے اللہ کی توحید کی دعوت دیتے ہوئے اور اس کی ہدایت کو عام کرتے ہوئے کتنے ملکوں اور کتنی قوموں کو فیض یاب کیا اور کہاں کہاں یہ ہدایت کا سلسلہ پھیلا اور کتنی نسلیں اس سے مستفید ہوتی رہیں اور اسی طرح اللہ نے ان کی اولادوں میں سے کتنے لوگ اور ان کی برادری میں سے کتنے افراد اور ان کے آبائو اجداد میں سے کتنے گروہ ایسے تھے جنھیں انبیاء کے راستے پر چلایا اور جو کام دنیا میں انبیاء کرام انجام دینے کے لیے آتے ہیں وہ ان کے ہاتھوں سے انجام دلوایا اور انھوں نے نبیوں ہی کی طرح جان جوکھوں میں ڈال کر مسلسل دکھ اٹھا کر اپنا سب کچھ اسی راستے میں جھونک کر اللہ کے دین کو سربلند کیا اور دنیا کو توحید سے آشنا کر کے اللہ سے ان کا ربط مستحکم کیا اور انسان جو اللہ سے کٹ کر اور شیطان سے جڑ کر خود اپنا دشمن ہوجاتا ہے اس کو اللہ کے راستے پر ڈال کر اس کی انسانیت کو زندہ کیا اور اس طرح انسانی قافلے کو اپنی اصل منزل کا مسافر بنایا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت کے یہی دو راستے نکالے ہیں کہ وہ لوگوں کی ہدایت اور اصلاح کے لیے اپنے پیغمبر بھیجتا ہے اور پیغمبروں کی معیت اور ان کی نصرت کے لیے ان کے ماننے والوں کو مکلف بناتا ہے اور جب پیغمبر دنیا سے اپنا فرض انجام دینے کے بعد چلے جاتے ہیں تو ان پر ایمان لانے والے لوگ نئے آنے والے پیغمبر تک اس تبلیغ و دعوت کے فرض کو انجام دیتے رہتے ہیں۔ چناچہ چند انبیاء کے تذکرے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنی اسی سنت کا ذکر فرمایا ہے کہ ان کے آبائو اجداد اور ان کی اولاد اور ان کی برادریوں میں ہم نے دونوں طرح کے لوگ اٹھائے ‘ نبوت بھی صرف انہی پر محدود نہیں اور بھی نبی آتے رہے اور پھر یہ ہدایت کا کام نبیوں ہی پر منحصر ہو کر نہیں رہا بلکہ ان پر ایمان لانے والے اس فرض کی انجام دہی کو آگے بڑھاتے رہے اور یہ سفر جاری رہا کیونکہ جب تک زمین پر نوع انسانی باقی ہے اس کا ایک ایک فرد اس ہدایت کا مخاطب اور ذمہ دار ہے جس ہدایت کو لے کر اللہ کے نبی آتے ہیں جن میں سے سب سے پہلا نقطہ ‘ نقطہ توحید ہے۔ جس کے بارے میں سب سے پہلے سوال ہوگا۔ اس لیے یہ بات ناقابل فہم ہے کہ نوع انسانی کے افراد کی موجودگی میں ہدایت کا یہ سلسلہ رک جائے ‘ نبی مبعوث نہ ہوں یا ان کے راستوں پر چلنے والے سلسلہ دعوت کو روک دیں اگر ایسا ہوجائے تو یہ کہا جائے گا کہ انسانوں کو ہدایت دینا اللہ نے اپنے ذمے لیا تھا کیونکہ قرآن کریم میں صاف فرمایا گیا ہے اِنَّ عَلَیْنَا لَلْھُدٰی ” بیشک ہدایت دینا ہماری ذمہ داری ہے “۔ اللہ تعالیٰ نے سلسلہ دعوت کو روک کر اپنی ذمہ داری ادا نہیں کی۔ یہ بات چونکہ ناممکن ہے اس لیے پروردگار نے اپنی ذمہ داری ادا فرماتے ہوئے اور انسانوں کی اس کمزوری کا لحاظ فرماتے ہوئے سلسلہ ہدایت کو کبھی رکنے نہیں دیا۔ ہر دور میں پیغمبر آتے رہے یا ان کے متبعین کام کرتے رہے۔ اب رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے بعد چونکہ سلسلہ نبوت ختم کردیا گیا اور انسانوں کو ایک مرکز اور ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے بار بار تبدیلی کے عمل کو روک دیا گیا تو اب یہ ذمہ داری اس امت مسلمہ کی ٹھہری کہ وہ اس فرض کو انجام دے جو ہر دور میں انبیاء کے ذریعہ انجام دیا جاتا رہا اور اس صراط مستقیم کی طرف لوگوں کو بلائے جس پر چل کر آخرت کی کامیابیوں کا حصول ممکن ہوسکتا ہے۔ کیونکہ یہی وہ اللہ کی ہدایت اور وہ راستہ ہے اس کے علاوہ کوئی ہدایت اور کوئی اور طریقہ اللہ کے یہاں قابل اعتبار نہیں۔ اگلی آیت میں اسی کا ذکر فرمایا جا رہا ہے۔
Ayah 6:88

ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ یَهْدِیْ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ لَوْ اَشْرَكُوْا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:88 in the Quran reader

یہ اللہ کی ہدایت ہے اس سے وہ سرفراز فرماتا ہے اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اور اگر وہ شرک کرتے تو ان کا سارا کیا دھرا اکارت ہو کر رہ جاتا

ذٰلِکَ ھُدَی اللہِ یَھْدِیْ بِہٖ مَنْ یَّشَآئُ مِنْ عِبَادِہٖ ط وَلَوْ اَشْرَکُوْا لَحَبِطَ عَنْھُمْ مَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔ (الانعام : 88) (یہ اللہ کی ہدایت ہے اس سے وہ سرفراز فرماتا ہے اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اور اگر وہ شرک کرتے تو ان کا سارا کیا دھرا اکارت ہو کر رہ جاتا) اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اس آیت کریمہ میں سب سے پہلے ھُدَی اللہِ پر زور دیا گیا ہے ” یہ اللہ کی ہدایت ہے “ یعنی زندگی کا طریقہ جس پر چل کر دنیا اور آخرت دونوں سنور سکتی ہیں اور زندگی صحیح رخ پر رواں دواں رہ سکتی ہے اور انفرادی اور اجتماعی مصالح ٹھیک ٹھیک بروئے کار لائے جاسکتے ہیں اور انسانی تہذیب و تمدن افراط وتفریط سے محفوظ رہ سکتے ہیں اور حقوق و فرائض کی تقسیم اپنے صحیح محمل میں رہ کر جاری وساری رہ سکتی ہے۔ کیونکہ یہ طریقہ اور یہ راہنمائی اللہ کی عطا کردہ اور اس کی نازل کردہ ہے۔ پروردگار چونکہ ہماری فطرت کو پیدا کرنے والا اور ہماری ضرورتوں سے آشنا ہے۔ وہ ہمارے حسن و خوبی سے بخوبی واقف اور ہمارے احساسات سے خم و پیچ سے کما حقہ شناسا ہے اس لیے جب زندگی گزارنے کا طریقہ وہ عطا فرما رہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے پیش نظر ہماری زندگی کی تمام ضرورتیں اور تمام تقاضے ہیں۔ جب ہم اس ہدایت پر عمل کریں گے اور جب ایک ایک ضرورت کو پورا ہونے کا موقع ملے گا اور ایک ایک تقاضہ اپنا جواب پائے گا تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ کہیں اشتعال پیدا ہو یا کہیں تشنگی کا احساس پریشان کرے یا کہیں محرومی کے سائے پڑنے کا اندیشہ ہو اس لیے اگر انسانی قافلہ خود اپنا دشمن نہیں تو اسے یہ بالکل سامنے کی بات پلے باندھ لینی چاہیے کہ یہی زندگی کا طریقہ اور یہی انسانی سدھار کا نسخہ ہے جس سے مجھے بہرصورت فائدہ اٹھانا ہے تاکہ میں خسارے میں نہ پڑوں ورنہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ زندگی کے بیشمار راستے ہیں اور زندگی کی راہنمائی دینے والے لاتعداد رہنما ہیں ہر ایک نے اپنی اپنی صوابدید کے مطابق زندگی کی ضرورتوں کو پورا کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن اس بات کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں کہ جو آدمی کسی مشین کو پوری طرح نہیں سمجھتا وہ اس کے مقاصد سے واقف نہیں وہ اسے آپریٹ کرنا نہیں جانتا ‘ اسے نہیں معلوم اس سے کون سی پیداوار لی جاسکتی ہے ‘ یہ کس کس خرابی کا شکار ہوسکتی ہے ‘ وہ اس کے بارے میں گائیڈ بک تیار کرنے بیٹھ جائے تو اس سے بڑی حماقت اور کیا ہوگی لیکن عجیب بات ہے کہ ہم ہر مشین کو چلانے کے لیے اس کے ماہر انجینئرکو تلاش کرتے ہیں اور ہر کام کرنے سے پہلے اس کام کے سمجھنے والے کو ڈھونڈتے ہیں لیکن انسانی مشین اور انسانی زندگی جو سب سے نازک اور سب سے پیچیدہ ہے یہ نجانے ہم نے کس کس اناڑی کے سپرد کر رکھی ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ صدیوں تک انسانی قافلہ ٹھوکریں کھاتا ہے لیکن اس کو یہ بالکل جانی پہچانی سی بات سمجھ میں نہیں آتی کہ جب تک تم وہ راہنمائی قبول نہ کرو گے جو انسانی زندگی کے خالق اور اس کے عالم نے مہیا کی ہے اس وقت تک تم ان ٹھوکروں سے کبھی نہیں بچ سکو گے۔ اس لیے یہاں بڑا زور دے کر فرمایا گیا کہ ہدایت تو صرف اللہ کی ہدایت ہے۔ نقصانات سے یا ناکامیوں سے بچنا چاہتے ہو اور کامیابیوں سے ہمکنار ہونا چاہتے ہو تو سیدھے طریقے سے اس ہدایت کو اختیار کرلو لیکن ساتھ ہی یہ بات یاد رکھو کہ یہ ہدایت ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی یہ اسے ملتی ہے جسے اللہ چاہتا ہے۔ اس کے دو مطلب ہیں ایک تو یہ کہ اللہ جسے چاہتا ہے اسے نبوت کے منصب پر فائز کرتا ہے پھر اس پر اپنی ہدایت نازل فرماتا ہے اور اس کے واسطے سے باقی انسانوں کو ملتی ہے۔ اگر انسان از خود چاہیں کہ وہ اللہ سے اس راہنمائی کو طلب کرلیں تو یہ ان کے لیے ممکن نہیں، اس لیے جتنے رسول دنیا میں آئے ہیں وہی منارہ نور ہیں۔ انسان کو رہنمائی کے لیے انہی کی طرف دیکھنا چاہیے۔ روشنی کا آخری منبع ومصدر محمد رسول اللہ ﷺ ہیں جن پر سلسلہ نبوت کو ختم کردیا گیا اور قیامت تک کے لیے انسانی ضرورتوں کی رہنمائی کے لیے ان پر آخری کتاب اتار دی گئی اور انھیں منبع نور بنا کر قیامت تک کے لیے انسانوں کو ان سے اکتسابِ فیض کرنے کا حکم دیا گیا۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ جو آدمی اس ہدایت کو اختیار کرنا چاہتا ہے اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اس ہدایت کے حتمی اور صحیح ہونے کا یقین پیدا کرے اور پھر کامل اخلاص کے ساتھ ہر طرح کے ذہنی تحفظات سے آزاد ہو کر اسی راہنمائی کو اپنا مقصود بنائے اور پھر اس راستے پر چلنے کا عزم لے کر اللہ سے اس کی توفیق مانگے۔ یہ وہ صحیح طریقہ ہے جس کے نتیجے میں اللہ کی ہدایت نصیب ہوتی ہے اور یہاں یہ جو فرمایا گیا کہ اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے، اس کا یہی مفہوم ہے۔ اگر اللہ کے برگزیدہ بندے بھی شرک کرتے تو ان کے سب نیک اعمال اکارت جاتے تیسری بات اس آیت میں یہ کہی گئی ہے کہ سابقہ آیات میں جن برگزیدہ افراد کا ذکر کیا گیا ہے اور جن کے بارے میں بتایا گیا کہ اللہ نے ان کو بڑے بڑے مقامات سے نوازا اور یہ اللہ کے نہایت برگزیدہ بندے تھے۔ اگر یہ بھی اللہ کی ذات وصفات میں کسی کو شریک ٹھہراتے جس طرح اے مشرکو تم اس کے ساتھ شریک ٹھہرا رہے ہو تو یاد رکھو باوجود اس کے کہ یہ لوگ بڑے بڑے مقامات کے حامل اور اللہ کے یہاں قرب خاص کے مستحق ہیں اور انھوں نے زندگی بھر اللہ کی اطاعت اور اپنے فریضہ کی ادائیگی میں کبھی کوتاہی نہیں کی اگر یہ بھی کہیں اس جرم کا ارتکاب کر بیٹھتے تو انھوں نے اپنی زندگی میں جو بڑے بڑے کارہائے نمایاں انجام دیئے اور اطاعت وفدویت کی جو اعلیٰ مثالیں قائم کیں اور جو نمونہ کے اعمال کیے وہ سب دھرے رہ جاتے اور اللہ کا غضب ان پر ایسا نازل ہوتا کہ ان کی یہ ساری کاوشیں اور ان کے یہ تمام اعمال ان کے کسی کام نہ آتے اور یہ قیامت کے دن نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کو جو کچھ بھی اللہ کی جانب سے عطا ہوا اس کا سبب صرف یہ تھا کہ انھوں نے موحد بن کر زندگی گزاری۔ اپنی عبادت اطاعت اور بندگی میں کبھی اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا۔ لیکن اگر یہ تمہاری طرح کہیں یہ جرم کر بیٹھتے تو یہ مقامات تو کیا اللہ کی معمولی رضا کو بھی کھو دیتے اور یہ بات ان کے کسی کام نہ آتی کہ وہ حضرت ابراہیم کی اولاد ہیں کیونکہ اللہ کے یہاں نسب کام نہیں آتا بلکہ اعمال کام آتے ہیں اور اعمال بھی وہ جو خالصتاً اللہ کے لیے کیے جائیں اگر ان میں کہیں شرک کا شائبہ بھی شامل ہوجائے تو اللہ کبھی انھیں قبول نہیں کرتا۔ اس آیت کریمہ میں جسے اللہ کی ہدایت کہہ کر اس کے اتباع پر زور دیا گیا ہے ‘ اگلی آیت کریمہ میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ اس ہدایت کو حاصل کرنے کا اصل ذریعہ کیا ہے۔
Ayah 6:89

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ١ۚ فَاِنْ یَّكْفُرْ بِهَا هٰۤؤُلَآءِ فَقَدْ وَ كَّلْنَا بِهَا قَوْمًا لَّیْسُوْا بِهَا بِكٰفِرِیْنَ Open ayah 6:89 in the Quran reader

یہ لوگ ہیں جن کو ہم نے کتاب اور حکم اور نبوت عطا فرمائی تو اگر یہ لوگ اس کا انکار کردیں گے تو کچھ پرواہ نہیں ہم نے اس کیلئے ایسے لوگ مامور کردیئے ہیں جو اس کے منکر نہیں

ارشاد ہوتا ہے : اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰھُمْ الْکِتٰبَ وَالْحُکْمَ وَالنُّبُوَّۃَ ج فَاِنْ یَّکْفُرْ بِھَا ھٰٓؤُلَآئِ فَقَدْ وَکَّلْنَا بِھَا قَوْمًا لَّیْسُوْا بِھَا بِکٰفِرِیْنَ ۔ (الانعام : 89) (یہ لوگ ہیں جن کو ہم نے کتاب اور حکم اور نبوت عطا فرمائی تو اگر یہ لوگ اس کا انکار کردیں گے تو کچھ پرواہ نہیں ہم نے اس کے لیے ایسے لوگ مامور کردیئے ہیں جو اس کے منکر نہیں ) زندگی کی راہنمائی کے لیے تین چیزیں درکار ہوتی ہیں۔ 1 ایک ایسی کتاب جس میں زندگی کے تمام معاملات کے حوالے سے ایک قانون دیا گیا ہو پھر قانون کے نافذ کرنے کے لیے قوت حاکمہ کی ہیئت ترکیبی کی تفصیل بھی دی گئی ہو اور اللہ سے چونکہ بندوں کا تعلق صرف ضابطے کا نہیں بلکہ رابطے کا بھی ہے۔ اس لیے اس میں پروردگار سے تعلق جوڑنے کی تمام ممکن ہدایات بھی دی گئی ہوں اور پھر اس کے لیے ترغیب اور ترہیب سے کام بھی لیا گیا ہو۔ انسانی زندگی صرف قانون کی عملداری سے مکمل نہیں ہوتی بلکہ اس کی حقیقی پہچان اخلاقیات سے ہوتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس کتاب میں مکارم اخلاق کی تفصیل بھی ہو اور ساتھ ہی ساتھ حقوق و فرائض کا ایک پورا ضابطہ جسے اخلاق کے ساتھ مربوط کردیا جائے اور قانون کا تحفظ بھی اسے حاصل ہو۔ 2 کتاب کے صحیح فہم کا ایک نمونہ اور ایک آئیڈیل ہمارے سامنے ہو جس کو دیکھ کر ہم اندازہ کرسکیں کہ کتاب کے سمجھنے اور اس کے مفاہیم کے تعین میں ہمیں کن حدود کا خیال رکھنا ضروری ہے اور حتی الامکان یہ نمونہ ایسا ہو جو کتاب کے مبہمات کو کھول دے ‘ اس کے اجمالات کی تفصیل بیان کر دے ‘ احکام کو عملی شکل دے دے اور آداب کو شخصیت کا سراپا عطا کر دے۔ 3 اس کتاب پر عمل درآمد کے لیے ایک ایسی مرکزی شخصیت ہو جو پورے جوش و جذبہ سے اس کتاب کے علم کو عام کرے ‘ اس کے فہم کو آسان کرے ‘ اس کے مطابق اخلاق تیار کرے اور پھر اس کے ہمہ جہتی نفاذ کے لیے پوری کوششیں بروئے کار لائے۔ انہی تینوں ضرورتوں کو یہاں کتاب ‘ حکم اور نبوت کے نام سے یاد فرمایا گیا کہ اللہ نے ہدایت دینے کے لیے جو انبیاء مبعوث فرمائے انکے ذریعے سے یہ تینوں ضرورتیں پوری فرمائیں۔ ان پر کتاب نازل کی گئی جو انسانی ہدایت کی تمام ضرورتوں کو پورا کرتی تھی اور پھر انھیں اس کتاب کا صحیح فہم اور اس کے اصولوں کو معاملات زندگی پر منطبق کرنے کی صلاحیت اور مسائل حیات میں فیصلہ کن رائے قائم کرنے کی خداداد قابلیت بھی عطا فرمائی تھی۔ اور پھر انھیں انسانی زندگی کی راہنمائی کے لیے پوری طرح کتاب سے آشنا کرنے اور ان کی زندگیوں میں اس کتاب کو نافذ کرنے کا ایک عزم بالجزم بھی عطا فرمایا تھا جو انکے تمام احساسات پر غالب آگیا تھا۔ اس کو یہاں نبوت سے تعبیر فرمایا گیا۔ یعنی یہ لوگ جنکا یہاں ذکر ہوا ہے انھیں اللہ نے یہ کتاب ‘ حکم اور نبوت کی نعمت سے مشرف فرمایا تھا اور انھوں نے اس نعمت کی قدر کی خود بھی برگزیدہ ہوئے اور انسانوں کو بھی اس سے سیراب فرمایا۔ اب رسول اللہ ﷺ کے واسطے سے مشرکینِ مکہ کو توجہ دلائی جا رہی ہے کہ اب یہی نعمتیں ہم نے محمد رسول اللہ ﷺ کو عطا کی ہیں اور انکے واسطے سے ہم تمہیں نوازنا چاہتے ہیں۔ اب ہونا تو یہ چاہیے کہ تم اس نعمت کی قدر کرو اور تم بھی اللہ کے انعامات کے مستحق ٹھہرو جو پہلے اس کی قدر کرنے والے حاصل کرچکے ہیں لیکن اگر تم نے اس کی قدر کرنے کی بجائے اپنا یہی رویہ جاری رکھا تو پھر رسول اللہ ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ اس کی ہرگز پرواہ نہ کریں ہم نے اس ذمہ داری کو اٹھانے کے لیے ایسے لوگوں کو مقرر کردیا ہے جو اس کو اٹھانے میں کبھی تساہل سے کام نہیں لیں گے اور کبھی اس کی ناقدری نہیں کریں گے۔ جن حالات میں یہاں یہ بات کہی جا رہی ہے حقیقت یہ ہے ان حالات کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا پڑتا ہے کہ یہ اس کتاب خداوندی کی حقانیت اور رسول اللہ ﷺ کی نبوت کی صداقت کی بہت بڑی دلیل ہے۔ رسول اللہ ﷺ کو تسلی ہم جانتے ہیں کہ یہ سورة مکی سورتوں میں سے ہے اور مکہ معظمہ میں مسلسل تیرہ سال بتدریج جس طرح مخالفت کی چکی شدید سے شدید تر ہوتی گئی ہے وہ کسی بھی تاریخ کے طالب علم سے مخفی نہیں ہے۔ ہر آنے والا دن آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کے لیے اذیت رسانی اور مخالفت کا نیا پیغام بن کر طلوع ہوتا رہا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ مشرکینِ مکہ میں انتقام کی آگ شدید ہوتی گئی۔ زندگی کا کوئی دکھ اور انسانی طاقت کا کوئی حربہ ایسا نہیں جو انھوں نے اس تحریک کا راستہ روکنے اور مسلمانوں کو ہراساں کرنے کے لیے استعمال نہ کیا ہو۔ بار بار آنحضرت ﷺ کو قتل کرنے کے منصوبے بنے۔ مسلمان اس اذیت رسانی کے عمل سے تنگ آکر ایک سے زیادہ مرتبہ ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔ سازشوں اور منصوبوں کی بڑھتی ہوئی آگ سے بچنے کے لیے تین سال تک آنحضرت اور آپ کے ساتھیوں نے شعب ابی طالب میں محصور رہ کر وقت گزارا۔ حتیٰ کہ مکی زندگی کے آخری سال جب حضور نے طائف کا سفر کیا تو اس میں جو قیامت گزری ہے ہر مسلمان اس سے واقف ہے۔ انہی سالوں میں جبکہ مخالفت کی بھٹی پورے جوش سے دہک رہی تھی ‘ یہ سورة نازل ہوئی ہے۔ اور اس میں یہ فرمایا جا رہا ہے کہ آپ ان کی مخالفت کی پرواہ نہ کریں۔ حالانکہ ان کی مخالفت مسلمانوں کے لیے ایک بڑا عذاب بن چکی ہے اور تحریک اسلامی کے بچ نکلنے یا آگے بڑھنے کی کوئی صورت بظاہر دکھائی نہیں دیتی۔ ظاہر بیں نگاہیں صاف دیکھ رہی ہیں کہ اس صورتحال سے بچ نکلنا مسلمانوں کے لیے ناممکن ہوتا جا رہا ہے جو مسلمان مکہ معظمہ میں باقی ہیں وہ مسلسل اذیتوں سے حوصلہ ہار دیں گے اور یا موت سے ہمکنار ہوجائیں گے اور آنحضرت ﷺ کو قریش مکہ کسی وقت بھی موقع پا کر قتل کردیں گے اور جو مسلمان ہجرت کر کے دوسرے ملکوں میں جا چکے ہیں وہ غریب الوطنی کی موت مارے جائیں گے۔ لیکن پروردگار فرما رہے ہیں کہ اے پیغمبر آپ ان کے رویے اور ان کی مخالفت کی ہرگز پرواہ نہ کریں اگر یہ آپ پر ایمان نہیں لا رہے تو نہ لائیں ہم نے ایمان لانے کے لیے ایک ایسی قوم مقرر کردی ہے جو اس ذمہ داری کا بوجھ اٹھائے گی اور تم ان کو دیکھو گے کہ وہ کبھی بھی اس ذمہ داری سے پہلو تہی نہیں کرے گی۔ ایسے ناگفتہ بہ اور ناموافق حالات میں اتنی بڑی پیش گوئی اور وہ بھی پوری تحدی اور قطعیت کے ساتھ کرنا جبکہ حالات دور دور تک اس کا ساتھ دیتے نظر نہیں آتے یہ کسی بھی انسان کے بس کی بات نہیں۔ ایسی پیش گوئی پورے یقین کے ساتھ اللہ کی ذات کے سوا اور کوئی نہیں کرسکتا اس لیے کہ اگر رات کے گھٹاٹوپ اندھیرے میں جبکہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دیتا ہو کوئی آدمی یہ کہے کہ ابھی اس تاریکی سے سورج طلوع ہونے والا ہے تو کوئی سننے والا کبھی اس کا یقین نہیں کرے گا۔ جھلس ڈالنے والے صحرا میں جہاں دور دور تک پانی کا نشان تک نہ ہو کوئی آدمی چشمہ ابلنے کی بات کرنے لگے تو یقینا سننے والے اس کی دماغی صحت کا مذاق اڑائیں گے جبکہ یہ دونوں باتیں کسی نہ کسی حد تک ممکن دکھائی دیتی ہیں۔ صحرا میں چشمے کا نکل آنا اور اندھیرے کے بعد سورج کا طلوع ہوجانا کوئی ناممکن بات نہیں۔ لیکن ڈوبتی ہوئی تحریک اور بند گلی میں گھر جانے والا قافلہ کسی انقلاب کا پیش خیمہ بن جائے یا مستقبل قریب میں اس کے ہاتھوں انقلاب کی شمع جلنے لگے ‘ یہ ایک ایسی انہونی بات ہے کہ جس کا کبھی یقین نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن قرآن کریم پورے یقین و اذعان سے یہ بات کہہ رہا ہے کہ یہ آفتاب طلوع ہو کے رہے گا البتہ کب طلوع ہوگا یہ تم نہیں جانتے ہو۔ یہ ہم جانتے ہیں۔ تمہارا کام صرف اس سحر کی امید میں رات کی تاریکی سے لڑنا ہے اور اپنے سفر کو جاری وساری رکھنا ہے۔ تم اپنے حوصلوں کو باقی رکھو اور اس نوید جانفزا کو یقینی سمجھ کر اس کے انتظار میں اس کشمکش میں ثابت قدم رہو۔ اس لحاظ سے اگر اتنے بڑے دعوے کو قرآن پاک کے سچا ہونے اور رسول اللہ ﷺ کے برحق ہونے کی دلیل نہ کہا جائے تو اور کیا کہا جائے۔ دوسری بات جو اس آیت سے معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ یہاں جس طرح یہ نوید سنائی جا رہی ہے کہ عنقریب ایک قوم اس ذمہ داری کا بوجھ اٹھائے گی اور پھر یہ انقلاب تیزی سے آگے بڑھے گا اسی طرح یہ بات بھی اس سے مترشح ہوتی ہے کہ جو لوگ اس وقت تک اسلام قبول کرچکے اور اذیتوں سے گزر رہے ہیں لیکن انھوں نے کسی وقت بھی استقامت کا دامن نہیں چھوڑا۔ انھیں اور مستقبل قریب میں ایمان لانے والوں کی استقامت کو خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے اور یا یوں کہہ لیجئے کہ اللہ کے راستے میں ان کی ثابت قدمی اور استقامت کو شرف قبول بخشا جا رہا ہے۔ چناچہ تاریخ ان دونوں باتوں کو ثابت کرتی ہے کہ مکہ سے مدینہ ہجرت کرنے کے بعد جس طرح تیزی سے اسلام پھیلا اور حدیبیہ کے معاہدے کے بعد جس طرح اس میں مزید تیزی آئی اور فتح مکہ کے بعد جس طرح فوج در فوج لوگوں نے اسلام قبول کرنا شروع کیا وہ تمام اس کی زندہ مثالیں ہیں۔ اور پروردگار کے اس دعویٰ کی روشن دلیلیں ہیں۔ اسی طرح آنحضرت ﷺ کی حیات طیبہ میں اسلام اور مسلمانوں کو جن مراحل سے گزرنا پڑا اور پھر حضور کے انتقال پر ملال کے بعد صحابہ کو عرب کی جس عظیم بغاوت کو کچلنا پڑا اور پھر جس طرح وقت کی بڑی بڑی قوتیں اسلام اور مسلمانوں کے مقابلے میں اٹھ کھڑی ہوئیں اور جس طرح مسلمانوں نے استقامت اور شجاعت سے ان کا مقابلہ کیا وہ قرآن کریم کے اس کلمہ تحسین کی زندہ گواہیاں ہیں جو صحابہ کی سرفروشانہ کارناموں نے تاریخ کے سپرد کی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں پروردگار جس طرح یہ فرما رہا ہے کہ یہ لوگ اگر ایمان نہیں لاتے تو نہ لائیں آپ کو ہرگز اس کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔ کیونکہ ہم نے اس کے لیے ایک ایسی قوم اٹھا دی ہے اور مقرر کردی ہے کہ جو اس راستے پر ایسی ثابت قدمی سے چلے گی کہ کبھی لڑکھڑاہٹ ان کے قدموں میں نہیں آئے گی اور کبھی کفر اور نافرمانی کا چھینٹا ان کے دامن پر نہیں پڑنے پائے گا اس حوالے سے جب ہم صحابہ کی زندگیوں کو دیکھتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے کہ کیسے کیسے نامساعد حالات میں آنحضرت ﷺ ان کے سامنے جب اس طرح کی پیش گوئیاں فرماتے تھے تو وہ اس کا یقین کیسے کرلیتے تھے اور پھر بڑی سے بڑی مخالفت میں ثابت قدم کیسے رہتے تھے۔ یہ ہر سوچنے والے دماغ کے لیے ایک ایسا لمحہ فکریہ ہے جو قوموں کی تاریخ میں غور کرنے والوں کو ہمیشہ سوچنے پر مجبور کردیتا ہے۔ مکی زندگی میں جس طرح یہ پیش گوئی ناقابل یقین معلوم ہوتی ہے لیکن مسلمانوں نے اسے دل و جان سے قبول کیا۔ اسی طرح جنگ بدر کے موقع پر جب حضور مسلمانوں کو لے کر قریش کے ایک ہزار کے عظیم اور مسلح لشکر کے مقابلے میں نکلے تو ہر دیکھنے والی نگاہ سہمی جا رہی تھی کہ یا اللہ آخر یہ کیا مقابلہ ہے کہ ایک طرف مسلح لوگوں کا ایک عظیم لشکر ہے اور دوسری طرف مٹھی بھر مدینہ کے بخار کے مارے ہوئے ‘ فاقوں کے ستائے ہوئے غیر مسلح لوگ ہیں۔ لیکن انھوں نے جس پامردی اور حوصلہ مندی سے اس پوری صورتحال کا مقابلہ کیا وہ حیران کردینے والی بات ہے اور دنیا میں شاید ہی ہمیں اس کی کوئی مثال مل سکے۔ سلسلہ نبوت کی آخری کڑی آنحضرت ﷺ سے پہلے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ جب ان کی گرفتاری کا وقت آیا تو ان کے وہ بارہ حواری جو ان کے خاص مقرب لوگ تھے وہ بھی ثابت قدم نہ رہ سکے اور انھیں تنہا چھوڑ کر بھاگ گئے۔ لیکن ادھر صحابہ کا حال یہ تھا کہ جب راستہ میں آنحضرت ﷺ نے ان سے مشورہ لیا کہ ایک طرف قافلہ تجارت ہے اور دوسری طرف قریش کا لشکر بتائو کدھر جانا چاہیے۔ لیکن ساتھ ہی اشاروں سے یہ بات بھی واضح کردی کہ میں تو لشکر کے مقابلے میں جانے کو ترجیح دیتا ہوں اور اللہ تعالیٰ نے دونوں میں سے ایک میں کامیابی کا وعدہ فرمایا ہے تو صحابہ نے جواب میں جو کہا وہ تاریخ میں ہمیشہ آب زر سے لکھا جائے گا۔ مہاجرین میں سے حضرت مقداد بن عمرو نے اس سوال کے جواب میں عرض کیا۔ یا رسول اللہ جدھر آپ کا رب آپ کو حکم دے رہا ہے اسی طرف چلیے ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ ہم بنی اسرائیل کی طرح یہ کہنے والے نہیں ہیں کہ جاؤ تم اور تمہارا خدا دونوں لڑیں ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔ نہیں ہم کہتے ہیں چلیے آپ اور آپ کا خدا دونوں لڑیں اور ہم آپ کے ساتھ جانیں لڑائیں گے جب تک ہم میں سے ایک آنکھ بھی گردش کر رہی ہے۔ انصار میں سے حضرت سعد بن معاذ اٹھے۔ انھوں نے عرض کی : لقد اٰمنا بک و صدقناک و شھدنا ان ما جئت بہ ھو الحق و اعطیناک عھودنا ومواثیقنا علی السمع والطاعۃ۔ فامض یا رسول اللہ لما اردت۔ فوالذی بعثک بالحق لو استعرضت بنا ھٰذا البحر فخضتہ لخضناہ معک وما تخلف منا رجل واحد وما نکرہ ان تلقی بناعدونا غدًا انا لنصبر عند الحرب صُدُقٌعندک اللقآء و لعل اللہ یریک منا ما نقر بہٖ عینک نسربنا علیٰ برکۃ اللہ ” ہم آپ پر ایمان لائے ہیں ‘ آپ کی تصدیق کرچکے ہیں کہ آپ جو کچھ لائے ہیں وہ حق ہے اور آپ سے سمع وطاعت کا پختہ عہد باندھ چکے ہیں۔ پس اے اللہ کے رسول ‘ جو کچھ آپ نے ارادہ فرما لیا ہے اسے کر گزریئے۔ قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے۔ اگر آپ ہمیں لیکر سامنے سمندر پر جا پہنچیں اور اس میں اتر جائیں تو ہم آپ کے ساتھ کو دیں گے اور ہم میں سے ایک بھی پیچھے نہ رہے گا۔ ہم کو یہ ہرگز ناگوار نہیں ہے کہ آپ کل ہمیں لے کر دشمن سے جا بھڑیں۔ ہم جنگ میں ثابت قدم رہیں گے ‘ مقابلہ میں سچی جانثاری دکھائیں گے اور بعید نہیں کہ اللہ آپ کو ہم سے وہ کچھ دکھوا دے جسے دیکھ کر آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوجائیں پس اللہ کی برکت کے بھروسے پر آپ ہمیں لے چلیں “۔ صحابہ کی زندگی ایسی سرفروشانہ مثالوں سے بھرپور ہے۔ ان کے اسی کردار کی یہاں تحسین فرمائی جا رہی ہے اور آنے والے حالات میں ان کی مزید استقامت کی پیش گوئی بھی فرمائی گئی ہے۔ اگلی آیت کریمہ اسی سلسلہ بیان سے منسلک ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی ذریت کے حوالے سے اس رکوع میں چل رہا ہے۔