6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsروح القرآن

Ayah 6:121

وَ لَا تَاْكُلُوْا مِمَّا لَمْ یُذْكَرِ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَ اِنَّهٗ لَفِسْقٌ١ؕ وَ اِنَّ الشَّیٰطِیْنَ لَیُوْحُوْنَ اِلٰۤى اَوْلِیٰٓئِهِمْ لِیُجَادِلُوْكُمْ١ۚ وَ اِنْ اَطَعْتُمُوْهُمْ اِنَّكُمْ لَمُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 6:121 in the Quran reader

اور تم نہ کھائوان چیزوں میں سے جن پر خدا کا نام نہ لیا گیا ہو بیشک یہ نافرمانی ہے اور شیاطین القاء کر رہے ہیں اپنے ایجنٹوں کو تاکہ وہ تم سے جھگڑیں اور اگر تم ان کا کہا مانو گے تم بھی مشرک ہوجائو گے

ارشاد فرمایا : وَلَا تَاْکُلُوْا مِمَّا لَمْ یُذْکَرِ اسْمُ اللہِ عَلَیْہِ وَ اِنَّہٗ لَفِسقٌط وَاِنَّ الشَّیٰطِیْنَ لَیُوْحُوْنَ اِلٰیٓ اَوْلِیٰٓئِھِمْ لِیُجَادِلُوْکُم ج وَاِنْ اَطَعْتُمُوْھُمْ اِنَّکُمْ لَمُشْرِکُوْنَ ۔ (الانعام : 121) (اور تم نہ کھائوان چیزوں میں سے جن پر خدا کا نام نہ لیا گیا ہو بیشک یہ نافرمانی ہے اور شیاطین القاء کر رہے ہیں اپنے ایجنٹوں کو تاکہ وہ تم سے جھگڑیں اور اگر تم ان کا کہا مانو گے تو تم بھی مشرک ہوجاؤ گے) جن پر اللہ کا نام نہیں لیا جاتا ان کو نہ کھائو ‘ ورنہ مشرک ہوجاؤ گے گزشتہ آیات میں ان چیزوں کے کھانے کا حکم دیا گیا تھا جن کو انھوں نے اپنے شرکیہ عقائد کے تحت حرام قرار دے رکھا تھا لیکن اللہ نے انھیں حلال قرار دیا اور یہ فرمایا کہ اگر انھیں اللہ کا نام لے کر ذبح کیا جائے تو تم انھیں شوق سے کھائو۔ وہ اللہ کی نعمتیں ہیں جن سے تمہیں ہر طرح فائدہ اٹھانے کا حق ہے اب اس آیت میں اہل عرب کے عقیدے کی رو سے ان مباح چیزوں کے کھانے کی ممانعت فرما دی جن پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہنا چاہیے کہ پہلے مشرکین عرب کی اس گمراہی پر تنقید فرمائی کہ تم نے بعض جانور جو اپنے شرکیہ عقائد کے تحت حرام کرلیے ہیں تمہیں آخر ان کو حرام کرنے کا کیا حق ہے اور اب ان کی اس گمراہی پر توجہ دلائی جا رہی ہے کہ جتنے حلال اور مباح جانور ہیں ان کی جان لینا اور انھیں ذبح کر کے کھانا یہ کسی کا بھی اپنا اختیار نہیں یہ اختیار صرف اس کا ہے جس نے انھیں جان عطا کی ہے تم اپنے بتوں کا نام لے کر یا بغیر کسی کا نام لیے اپنے مرضی سے ان کی گردن کاٹ دیتے ہو تو آخر تمہیں ان کی جان لینے کا حق کس نے دیا ان کا گوشت صرف اسی صورت میں حلال ہوسکتا ہے کہ ان کی جان لیتے ہوئے اس کا نام لیاجائے جو ان کا خالق ہے اور اگر اس کا نام نہ لیا جائے تو پھر وہ حلال اور مباح جانور بھی حرام ہوجائے گا۔ چناچہ جب قرآن پاک کی یہ آیت نازل ہوئی تو وہ لوگ جو پہلے ہی اس بات پر برافروختہ تھے کہ اس نبی نے ہمارے عقائد کے مطابق جو حرام جانور تھے ان کو حلال کردیا ہے اور اب وہ مزید سیخ پا ہوئے یہ سن کر کہ جن پر اللہ کا نام نہ لیا جائے اس کا کھانا حرام ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اب تک ہمارے آبائو اجداد جو اللہ کے نام کے بغیر جانور ذبح کرتے رہے اور کھاتے رہے کیا وہ سب حرام خور تھے اور آج ہم بھی حرام خوری کر رہے ہیں یقینا اس پروپیگنڈے نے شدت اختیار کی ہوگی اور مسلمانوں کی مخالفت میں اس کی وجہ سے مزید تیزی آئی ہوگی۔ چناچہ اہل کتاب نے جب یہ دیکھا کہ آگ دہک اٹھی ہے تو انھوں نے اس میں مزید ایندھن ڈالا اور مشرکینِ مکہ کو یہ پٹی پڑھائی کہ تم مسلمانوں سے یہ کہو کہ تم عجیب لوگ ہو جس کو اللہ مارتا ہے یعنی وہ طبعی موت مرتا ہے جس کو مردار کہتے ہیں اسے تو تم حرام کہتے ہو لیکن جس کو تم خود مارتے ہو یعنی ذبح کرتے ہو چاہے اللہ کا نام لے کر ہی سہی اسے حلال کہتے ہو۔ یہ کیا بےعقلی کی بات ہے اس طرح ایک طرف سے عقل کے نام پر مسلمانوں پر بےعقلی کا الزام لگایا جا رہا تھا اور دوسری طرف آبائو اجداد کے حوالے سے جذبات میں آگ لگائی جا رہی تھی۔ اس صورت حال میں اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ لوگ کس طرح آنحضرت اور مسلمانوں کے ساتھ الجھتے بھی ہوں گے اور مذاق بھی اڑاتے ہوں گے۔ چناچہ اس پوری صورتحال کی منظر کشی کرتے ہوئے قرآن کریم نے کہا کہ ان کے بڑے بڑے اشرار اور ان کے سرغنے وہ اس مخالفت میں ایک دوسرے کو مہمیز بھی کر رہے ہیں اور استعمال بھی اور ایسی صورت حال میں اس پروپیگنڈے اور مخالفت کے طوفان سے کمزور مسلمانوں کا متاثر ہوجانا خلاف توقع نہیں۔ اس لیے صاف فرمایا جا رہا ہے کہ یہ معاملہ چونکہ بہت اصولی ہے اور عقیدہ توحید سے اس کا گہرا تعلق ہے اس لیے اگر تم نے ان کی بات مانی تو جس طرح وہ مشرک ہیں تم بھی مشرک ہوجاؤ گے کیونکہ ان کا رویہ کھلی کھلی اللہ کی نافرمانی ہے اور نافرمانی کو تو کسی طرح برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ مندرجہ بالا بحث کو دیکھتے ہوئے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کسی جانور کے ذبح کے وقت اللہ کا نام لینا اس قدر ضروری کیوں قرار دیا گیا ہے کہ اس کے بغیر اس کا کھانا ہی حرام ہو آخر اس میں کیا حکمت ہے ؟ حقیقت میں اس کے اندر کیسی کیسی حکمتیں پوشیدہ ہیں یہ تو اللہ ہی بہترجانتا ہے لیکن غور و فکر کے بعد بہت ساری حکمتیں ذہنی افق پر ابھرتی ہیں جن میں سے ہم چند ایک کا ذکر کرتے ہیں۔ 1 بالکل سامنے کی بات ہے کہ جس طرح ہم اپنے اندر جان رکھتے ہیں اور اس سرمائے کو اس حد تک عزیز رکھتے ہیں کہ حتی المقدور اس پر آنچ نہیں آنے دیتے اس کو بچانے کے لیے بڑے سے بڑے خطرے سے لڑ جاتے ہیں اور اگر کوئی ظالمانہ طریقے سے کسی بھی انسان کی جان لیتا ہے تو انسانی تہذیب اس پر چیخ اٹھتی ہے اور اسے انسانیت کا دشمن اور ظالم قرار دیا جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح ہر جاندار اور ہر ذی روح اپنی روح اور جان کو عزیز سمجھتا ہے اور اس کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے اور اگر اسے بولنے یا لکھنے کا موقع ملے تو وہ بھی احترامِ جان پر نجانے کیا کچھ کہے اور لکھے اور کبھی اس بات کی اجازت نہ دے کہ کوئی شخص بھی اس کی جان لینے کا روادار ہو۔ اب سوال یہ ہے کہ جب ہر جاندار کی جان ہماری ہی طرح قابل احترام ہے تو پھر ہم اپنی مرضی سے کسی کی جان کیسے لے سکتے ہیں اور کسی بھی جانور کی جان لینا ہمارے لیے کس طرح جائز ہوسکتا ہے جاندارخود اجازت دے نہیں سکتا کیونکہ وہ بول نہیں سکتا اور اگر وہ بول بھی سکتا تو تب بھی اس کی اجازت بےمعنی ہوتی کیونکہ وہ خود اپنی جان کا مالک نہیں بلکہ یہ تو کسی بڑی ذات کا عطیہ ہے البتہ اس کی جان لینے کی اجازت صرف ایک ہی صورت میں ہوسکتی ہے کہ جس نے یہ امانت اس کے سپرد کی ہے یا یوں کہہ لیجئے کہ جس نے یہ جان پیدا کی ہے اور جو اس جاندار کا خالق ہے وہ اگر اجازت دے تو تب تو اس کا جان لینا جائز ہوسکتا ہے ورنہ اس کے علاوہ کوئی اور دوسری صورت ممکن نہیں۔ تو اس کی اجازت دینے کی یہی ایک صورت ہے کہ جن جانوروں کو اس نے حلال قرار دیا ہے یعنی ہمیں ان سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دی ہے ہم ان کی جان لیتے ہوئے اس کا نام لیں گویا یہ ایک طرح کا اعلان ہوگا کہ ہم اپنی مرضی سے اس کی جان نہیں لے رہے بلکہ جو اس کا خالق ہے اس کا نام لے کر اس کی اجازت سے اور اس کے دیئے ہوئے حق کو ہم استعمال کرتے ہوئے اس کی جان لے رہے ہیں۔ اس طرح اللہ کے خالق ومالک ہونے پر یقین اور پختہ ہوجائے گا اور اس کی کبریائی کو دل و دماغ میں مستحکم ہونے کا راستہ ملے گا۔ -2 کسی بھی منعم کی عطا کردہ نعمت کا حقیقی شکر یہ ہے کہ اس کی نعمت کو استعمال کرتے ہوئے اس بات کا احساس بھی کیا جائے اور اعلان بھی کہ فلاں منعم نے یہ نعمت مجھے عطا کی ہے۔ یہ ایک طرح سے اس کے منعم ہونے کا اعتراف بھی ہوتا ہے اور اس اعتراف سے جس پر نعمت کی گئی ہے اس کے دل و دماغ میں اپنے منعم کے لیے جذباتِ عقیدت میں گہرائی پیدا ہوتی ہے۔ دنیا کی ہر نعمت اللہ نے اپنے بندوں کو عطا فرمائی ہے ضروری ہے کہ دنیا کے عام قاعدے کے مطابق اپنے منعم کے احسانات کا اعتراف ہو تاکہ دل و دماغ میں اس کے لیے جذبات عقیدت و محبت پیدا ہوں اور اس کی دھرتی پر رہنے والوں کو پتہ چلے کہ اس دھرتی پر احسانات کرنے والی ذات اور انعامات دینے والا منعم حقیقت میں کون ہے اور اگر نعمتوں کو استعمال تو کیا جائے لیکن اللہ جیسے منعم حقیقی کا نام لینا بھی پسند نہ کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ کسی بھی جانور یا کسی نعمت کا تصرف کرنے والا شخص حقیقی تصرف نہیں کر رہا بلکہ وہ ظالمانہ اور غاصبانہ تصرف کر رہا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ غصب سے کوئی حق قائم نہیں ہوتا بلکہ یہ جسارت اور بےجا جرأت ہے جو اللہ کے یہاں سزا کا باعث بنے گی کیونکہ دنیا و آخرت میں کسی بھی غاصب کو غصب کرنے کی وجہ سے سزا سے چھوڑا نہیں جائے گا۔ -3 آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے کہ جو کام بھی اللہ کا نام لیے بغیر کیا جائے وہ بےبرکت ہوتا ہے برکت کا مطلب یہ ہے کہ اس میں حقیقی اضافہ نہیں ہوتا ‘ اس کا فیض جاری ہونے سے رک جاتا ہے۔ اس کے جو حقیقی مقاصد ہیں وہ کبھی بروئے کار نہیں آتے بلکہ بعض دفعہ اس کا رد عمل یہ ہوتا ہے کہ بجائے برکت کے اس میں بےبرکتی پیدا ہوتی ہے اور کام کرنے والی کی سیرت و کردار پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یہ اصول اگر عام معاملات میں ہے تو کسی جانور کی جان لینا تو اپنے اندر اس سے کہیں بڑھ کر نزاکت رکھتا ہے اس نزاکت کا تقاضہ یہ ہے کہ اس معاملہ میں حد درجہ احتیاط برتی جائے اسی احتیاط کا پہلا سبق یہ ہے کہ جب بھی اس طرح کا کوئی کام کرو ‘ خاص طور پر کسی جانور کو ذبح کرو تو اللہ کا نام لے کر کرو تاکہ تمہاری زندگیوں میں خالق اور مخلوق کے درمیان جو رشتہ ہونا چاہیے اس کا صحیح احساس پیدا ہو اور منعم اور منعم علیہ کے درمیان جو جذبات عقیدت و محبت پیدا ہونے چاہئیں وہ پیدا ہوں اور اس کے نتیجے میں سیرت و کردار کی تعمیر میں مدد ملے۔ -4 اس سے شرک کا ایک بہت وسیع دروازہ بھی بند ہوجاتا ہے۔ ادیان کی تاریخ پر جن لوگوں کی نظر ہے وہ جانتے ہیں کہ جانوروں کی قربانی ان کی نذر اور ان کے چڑھاوے کو ابتدائے تاریخ سے عبادات میں بڑی اہمیت حاصل رہی ہے اس اہمیت کے سبب سے مشرکانہ مذاہب میں بھی اس کو بڑا فروغ حاصل ہوا جو قوم بھی کسی غیر اللہ کی عقیدت و نیاز مندی میں مبتلا ہوئی اس نے مختلف شکلوں سے غیر اللہ کو راضی کرنے کے لیے جانوروں کی بھینٹ چڑھائی۔ قرآن میں شیطان کی جو دھمکی انسانوں کو گمراہ کرنے کے باب میں مذکور ہوئی ہے اس میں بھی اس ذریعہ ضلالت کا شیطان نے خاص طور پر ذکر کیا ہے۔ اسلام میں شرک کے ان تمام راستوں کو بند کردینے کے لیے جانوروں کی جانوں پر اللہ تعالیٰ کے نام کا قفل لگا دیا گیا ہے۔ جس کو خدا کے نام کی کنجی کے سوا کسی اور کنجی سے کھولنا حرام قرار دے دیا گیا۔ اگر اس کنجی کے بغیر کسی اور کنجی سے اس کو کھولنے یا اس کو توڑنے کی کوشش کی گئی تو یہ کام بھی ناجائز اور جس جانور پر یہ ناجائز تصرف ہوا وہ جانور بھی حرام۔ -5 اس سے معلوم ہوا کہ اسلام میں صرف یہی چیز ناجائز نہیں ہے کہ کسی جانور کو غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا جائے بلکہ یہ بھی ناجائز ہے کہ کسی جانور کو اللہ کا نام لیے بغیر ہی ذبح کردیا جائے اس سے مستثنیٰ صرف وہ صورت ہوسکتی ہے جس میں بھول چوک کا دخل ہو اور یہ بھول چوک بھی معاف صرف اہل ایمان کے لیے ہے اس لیے کہ ان کے دل اور ارادے میں اللہ کا ایمان اور اس کا نام موجود ہوتا ہے صرف کسی وقتی غفلت سے اس کے اظہار میں سہو ہوسکتا ہے۔ ہم مسلسل ان آیات کے بین السطور میں یہ محسوس کر رہے ہیں کہ یہ آیتیں مکی زندگی کے اس دور میں نازل ہوئی ہیں جبکہ مسلمانوں اور مشرکینِ مکہ کے درمیان کشمکش اپنے عروج پر تھی اور مشرکینِ مکہ مسلانوں کو ہراساں کرنے اور ان کو اس نئے دین سے پھیرنے کے لیے تمام امکانی حربے استعمال کر رہے تھے۔ نئے نئے سوالات اور مطالبے بھی کیے جا رہے تھے ‘ اذیت میں تیزی پیدا کی جا رہی تھی ‘ کمزور مسلمانوں کو بری طرح ادھیڑا کھدیڑا جا رہا تھا ‘ استہزا اور تمسخر کا نشانہ بھی بنایا جا رہا تھا ایسی صورت حال میں معنوی تربیت اور دل و دماغ کی آبیاری کے لیے دلائل کی بارش بھی ہو رہی ہے۔ مناسب احکام بھی دیئے جا رہے ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ طبیعتوں کو حوصلہ دینے کے لیے تسلی بھی دی جا رہی ہے اور حوصلہ افزائی بھی کی جا رہی ہے۔ چناچہ اگلی چند آیات میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ مسلمانوں کو مختلف طریقوں سے ان کی اصل حیثیت کا احساس دلا کر ان کے حوصلوں کو بلند کیا جا رہا ہے اور ساتھ ساتھ تسلی کا مضمون بھی نازل کیا جا رہا ہے۔
Ayahs 6:122–123

اَوَ مَنْ كَانَ مَیْتًا فَاَحْیَیْنٰهُ وَ جَعَلْنَا لَهٗ نُوْرًا یَّمْشِیْ بِهٖ فِی النَّاسِ كَمَنْ مَّثَلُهٗ فِی الظُّلُمٰتِ لَیْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا١ؕ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِلْكٰفِرِیْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:122 in the Quran reader

کیا وہ شخص جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اسے زندگی بخشی اور اس کو وہ روشنی عطا کی جس کے اجالے میں وہ لوگوں کے درمیان زندگی کی راہ طے کرتا ہے اس کی شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو تاریکیوں میں پڑا ہوا ہو اور کسی طرح ان سے نکلنے والا نہیں کافروں کیلئے تو اسی طرح ان کے اعمال خوشنما بنا دیئے گئے ہیں

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا فِیْ كُلِّ قَرْیَةٍ اَكٰبِرَ مُجْرِمِیْهَا لِیَمْكُرُوْا فِیْهَا١ؕ وَ مَا یَمْكُرُوْنَ اِلَّا بِاَنْفُسِهِمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 6:123 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں اس کے بڑے بڑے مجرموں کو لگا دیا ہے کہ وہاں اپنے مکر و فریب کا جال پھیلائیں دراصل وہ اپنے فریب کے جال میں آپ پھنستے ہیں مگر انہیں اس کا شعور نہیں ہے

چناچہ ارشادہوتا ہے : اَوَ مَنْ کَانَ مَیْتًا فَاَحْیَیْنٰہُ وَجَعَلْنَا لَہٗ نُوْرًا یَّمْشِیْ بِہٖ فِی النَّاسِ کَمَنْ مَّثَلُہٗ فِی الظُّلُمٰتِ لَیْسَ بِخَارِجٍٍ مِّنْھَا ط کَذٰلِکَ زُیِّنَ لِلْکٰفِرِیْنَ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔ وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا فِیْ کُلِّ قَرْیَۃٍ اَکٰبِرَ مُجْرِمِیْھَا لِیَمْکُرُوْا فِیْھَا ط وَمَا یَمْکُرُوْنَ اِلَّا بِاَنْفُسِھِمْ وَمَا یَشْعُرُوْنَ ۔ (الانعام : 122۔ 123) (کیا وہ شخص جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اسے زندگی بخشی اور اس کو وہ روشنی عطا کی جس کے اجالے میں وہ لوگوں کے درمیان زندگی کی راہ طے کرتا ہے اس کی شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو تاریکیوں میں پڑا ہوا ہو اور کسی طرح ان سے نہ نکلتا ہے کافروں کے لیے تو اسی طرح ان کے اعمال خوشنما بنا دیئے گئے ہیں اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں اس کے بڑے بڑے مجرموں کو لگا دیا ہے کہ وہاں اپنے مکر و فریب کا جال پھیلائیں دراصل وہ اپنے فریب کے جال میں آپ پھنستے ہیں مگر انھیں اس کا شعور نہیں ہے) یہاں اس آیت کریمہ میں موت سے مراد جہالت و بےشعوری کی حالت ہے اور زندگی سے مرد علم و ادراک اور حقیقت شناسی کی حالت ہے جس شخص کو صحیح اور غلط کی تمیز نہیں اور جسے معلوم نہیں کہ راہ راست کیا ہے وہ طبیعات کے نقطہ نظر سے چاہے ذی حیات ہو مگر حقیقت کے اعتبار سے اس کو انسان کی زندگی میسر نہیں وہ زندہ حیوان تو ضرور ہے مگر زندہ انسان نہیں۔ زندہ انسان درحقیقت صرف وہ شخص ہے جسے حق اور باطل ‘ نیکی اور بدی ‘ راستی اور نا راستی کا شعور حاصل ہے۔ زندگی فرائض کی ادائیگی کا نام ہے حقیقت یہ ہے کہ زندگی اور موت ایک تو طبعی چیز ہے کہ جب تک آدمی کے اندر جان ہے ہم اسے زندہ سمجھتے ہیں اور جب اس کے اندر سے جان نکل جاتی ہے تو اسے مردہ قرار دے دیا جاتا ہے لیکن زندگی صرف اسی چیز کا نام نہیں بلکہ حقیقی زندگی اس سے بڑھ کر ایک اور چیز کا نام ہے وہ یہ ہے کہ اللہ نے ہر مخلوق کو جبلی طور پر یا شعوری طور پر زندگی کے کچھ نہ کچھ مقاصددے کر پیدا فرمایا ہے چناچہ وہ مخلوق جب تک ان مقاصد کو بروئے کار لاتی اور اپنا یہ فرض ادا کرتی رہتی ہے اس وقت تک اسے زندہ کہا جاتا ہے لیکن جب وہ اپنا فرض انجام دینا بند کردیتی ہے یا فرض انجام دینے سے عاجز ہوجاتی ہے تو اسے مردہ قرار دے دیا جاتا ہے عام مخلوقات کو دیکھیے زمین کی نباتات ‘ آسمان کے ثوابت ‘ سیارے اور ستارے ‘ پانی ‘ ہوا اور آگ۔ یہ سب اپنی جبلت کے تحت اپنی اپنی زندگی کے فرائض ادا کرتے ہیں اور جب تک یہ فرائض ادا کرتے رہتے ہیں انھیں زندہ سمجھا جاتا ہے درخت جب تک سایہ دیتا یا پھل پیدا کرتا ہے تو اسے باقی رکھا جاتا ہے کیونکہ وہ زندہ ہے۔ پانی جب تک بہتا ہے اور پیاس بجھانے اور آبیاری کا کام دیتا ہے تو اس کی زندگی باقی رہتی ہے۔ پھول جب تک مہکتا ہے ‘ کلی چٹکتی ہے ‘ آگ جلاتی ہے اور گھاس مخملیں فرش کی طرح بچھ جاتی ہے تو انھیں محنت سے باقی رکھا جاتا ہے لیکن جب یہ اپنے فرائض انجام دینے سے انکار کردیتے ہیں تو انھیں اکھاڑ کر پھینک دیا جاتا ہے خود انسانوں کو دیکھیے کہ جو انسان کہیں ملازمت کرتا ہے جب تک وہ ملازمت کے فرائض ادا کرتا ہے وقت پر آتا اور جاتا ہے اور مفوضہ ڈیوٹی انجام دیتا ہے تو اسے اس کے کام پر باقی رکھا جاتا ہے لیکن جب وہ اپنا کام کرنا چھوڑ دیتا ہے یا کام سے عاجز ہوجاتا ہے تو اسے اس کام سے فارغ کردیا جاتا ہے اور زندہ ہونے کے باوجود اسے مردہ قرار دے کر نکال دیا جاتا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زندگی اصل میں مقاصد کو بروئے کارے کار لانے اور فرائض کے انجام دینے کا نام ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ انسان کا مقصد زندگی کیا ہے اور اس کے فرائض کیا ہیں ؟ جو شخص انسان کو خود رو پودے کی طرح سمجھتا ہے تو وہ یقینا یہ خیال کرتا ہے کہ انسان گھاس پھوس کی طرح خود پیدا ہوتا ہے اور اسی طرح ایک دن مل دل کے ختم ہوجائے گا اور جو اسے ایک حیوان کی طرح سمجھتا ہے اور ایک انسان ‘ گدھے اور کتے میں کوئی فرق نہیں کرتا تو وہ یقینا یہی سمجھے گا کہ انسان کا کام بھی صرف کھانا پینا ‘ بچے پیدا کرنا ‘ نفسانی خواہشات کو بروئے کار لانا ہے۔ لیکن جس آدمی کو اللہ نے بصیرت عطا کی ہے وہ یقینا انسان کو نباتات و جمادات اور حیوانات سے مختلف سمجھتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ باقی ساری مخلوقات اپنی جبلت اور حواس کے تحت زندگی گزار رہی ہیں اور اسی کے مطابق ان کو فرائض بھی دیئے گئے ہیں اور وہ اپنے فرائض ادا کرنے کی اس طرح پابند ہیں کہ اس سے انحراف کرنے کی ان کے اندر طاقت ہی نہیں لیکن انسان کو اللہ تعالیٰ نے جبلت اور حواس کے علاوہ جوہر عقل بھی عطا کیا ہے اور ساتھ ساتھ اختیار کی آزادی بھی دی ہے اور اس کو یہ حق دیا ہے کہ تم اس دنیا میں رہ کر اپنا راستہ طے کرنے کے لیے آزاد ہو چاہے صحیح راستہ اختیار کرو چاہے غلط اور اس پر مزید یہ کہ زندگی کے وہ مسائل جو عقل کی گرفت میں نہیں آتے یا بعض دفعہ عقل اس کے بارے میں غلط فیصلہ بھی کرسکتی ہے۔ اس کی راہنمائی کے لیے اللہ نے رسول مبعوث کیے ‘ ان پر اپنی کتابیں اتاریں اور اپنے رسولوں کو معصومیت کے ساتھ ساتھ وحی کی راہنمائی بھی بخشی اور انھیں اس بات کا پابند ٹھہرایا کہ وہ انسانی زندگی کی جتنی بھی ضرورتیں ہیں اور انسان کے جتنے مسائل ہیں وحی الٰہی کی روشنی میں انسانوں کے سامنے اس کا حل پیش کریں اور ایسے بنیادی اصول دیں جس سے انسانی زندگی ہمیشہ اکتساب فیض کرتی رہے۔ اس طرح پوری تفصیل کے ساتھ ان کے لیے مقاصد زندگی متعین کردیئے اور انھیں بروئے کار لانے کا طریقہ بھی واضح کردیا۔ مسلمانوں کو ایسی روشنی دی گئی ہے جس سے وہ خود بھی راہ پاتے ہیں اور دوسروں کو بھی راہ دکھاتے ہیں ہم اس سے پہلے یہ بات واضح کرچکے ہیں کہ چونکہ مقاصد زندگی کو بروئے کار لانا اور اپنے فرائض کو ادا کرنا یہی زندگی ہے تو اسی اصول کے مطابق زندہ انسان وہ ہوگا جو اللہ کی طرف سے مقرر کردہ مقاصد زندگی اور عائد کردہ فرائض کو ادا کرنے کی کوشش کرے گا اور اللہ کے رسول کی تعلیمات کو حرز جان بنائے گا۔ چناچہ اس آیت کریمہ میں یہی فرمایا گیا ہے کہ انسان اللہ کی اس راہنمائی کو قبول کیے بغیر ایسا ہے کہ جیسے ابھی اس کو زندگی نہیں ملی اور وہ حالت عدم میں ہے۔ لیکن جب اس کے سامنے اللہ کی طرف سے کوئی رسول مبعوث ہوتا اور وحی الٰہی اترتی اور کتاب نازل ہوتی ہے تو یہ وہ نور اور روشنی ہے جو اس کی اندھیری رات میں چراغ بن کر چمکتی ہے اور اسے موت کی تاریکیوں سے نکال کر زندگی کا نور عطا کرتی ہے۔ اب اگر وہ اسے قبول کرلیتا ہے تو وہ زندہ انسان ہے لیکن جو اسے قبول نہیں کرتا وہ مردہ ہے کہ اس نے اپنے لیے عدم کو پسند کیا عدم کا رہنے والا ظاہر ہے ہستی کا باسی تو نہیں ہوسکتا۔ یہ مشرکینِ مکہ اور دوسرے لوگ جو اللہ کے رسول کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کر رہے ہیں یہ دراصل زندگی کو قبول کرنے سے انکار کر رہے ہیں اور مسلمان چونکہ اس دعوت کو قبول کرچکے ہیں اس لیے وہ زندہ ہیں تو اس طرح سے مسلمانوں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے کہ تم ان شیاطینِ جن و انس کی غوغا آرائیوں کی پرواہ نہ کرو تم کو اللہ نے زندگی بخشی ہے تو زندگی کا پیام لے کر آگے بڑھو۔ تمہیں جو روشنی عطا ہوئی ہے اس روشنی میں خود بھی چلو اور دوسروں کو بھی روشنی دکھائو اب تمہارے لیے یہ زیبا نہیں کہ اندھیرے میں ٹھوکریں کھانے والوں کی خرافات پر کان دھرو۔ یہ کافر لوگ چونکہ اپنے اوہام اور اپنی بدعات کی تاریکیوں میں بھٹک رہے ہیں اور وہ موت کی ان وادیوں سے نکلنے کے لیے کسی طرح تیار نہیں ہیں اور وہ دیوانوں کی طرح تاریکیوں میں ڈبکیاں کھاتے ہوئے ہاتھ پائوں مار رہے ہیں اور ساتھ ساتھ کیچڑ بھی اچھالتے ہیں تو تمہیں ان کی ہرگز پرواہ نہیں کرنی چاہیے بلکہ اس بات پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے تمہیں ان مردوں جیسا نہیں رکھا بلکہ تمہیں زندگی کی نعمت عطا فرمائی اور ساتھ ہی فرمایا کہ ان لوگوں کو جو ہم نے نور اور روشنی عطا کی ہے یہ اس کو لے کر لوگوں میں چلتے پھرتے ہیں مطلب یہ ہے کہ روشنی گھر میں چھپا کے رکھنے کی چیز نہیں ہوتی اسے تو دیوار کی منڈیر پر رکھا جاتا ہے تاکہ اس کی روشنی گھر میں بھی پھیلے اور دوسرے بھی اس سے فائدہ اٹھائیں اور ساتھ ہی اس میں یہ اشارہ بھی موجود ہے کہ اللہ نے اب جو روشنی قرآن و سنت کی شکل میں مسلمانوں کو دی ہے یہ کسی مسجد ‘ خانقاہ یا کسی حجرے کی چیز نہیں ہے کہ وہیں یہ ٹمٹماتی رہے بلکہ مسلمانوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ جہاں جہاں زندگی کے دوائر موجود ہیں وہاں وہاں وہ اس روشنی کو لے کر پہنچیں اور وہاں وہاں اس روشنی کو پھیلائیں جہاں تاریکیوں نے بسیرا کررکھا ہے کیونکہ ایک مومن کی ذمہ داری دین کی روشنی سے صرف اپنے آپ کو روشن کرلینے اور اپنے دل کو مزین کرلینے سے پوری نہیں ہوتی بلکہ دوسروں کے گھروں کو معاشرے کی ہر بند گلی کو اور زندگی کے ہر پرپیچ راستے کو روشن کرنا بھی مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کیونکہ ان کے ہاتھ میں ایک مشعل دی گئی ہے اور باقی سب لوگ اس روشنی کے محتاج بھی ہیں اور انتظار میں بھی، ضروری ہے کہ مشعل بردار ہر ضرورت کی جگہ اس مشعل کو لے کر پہنچے اور اگر لوگ محض اس لیے ٹھوکریں کھا کھا کر گرتے رہے کہ کسی نے ان کو روشنی نہ دکھائی تو اللہ کے یہاں مسلمانوں سے اس کا سخت حساب لیا جائے گا کہ تم جانتے تھے کہ دنیا قسم قسم کی تاریکیوں میں مبتلا ہے اور تم پر جو روشنی اتاری گئی تھی وہ ان تمام تاریکیوں کو دور کرسکتی تھی لیکن تم صرف اپنی ذات کی حد تک ہی اس روشنی کو لے کر بیٹھے رہے حالانکہ تمہاری ذمہ داری یہ تھی کہ تم اس بات کا احساس اپنے اندر پیدا کرتے کہ ہم کو بخشی ہیں خدا نے دہری دہری خدمتیں خود سراپا نور بن جانے سے کب چلتا ہے کام خود تڑپنا ہی نہیں اوروں کو تڑپانا بھی ہے ہم کو اس ظلمت کدے میں نور پھیلانا بھی ہے اس آیت کے آخری جملے میں مسلمانوں کو تسلی دیتے ہوئے ایک ایسی حقیقت کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے جسکا ذکر پہلے بھی مختلف حوالوں سے ہوچکا ہے کہ یہ لوگ جو اس تاریکی میں پڑے رہنے پر بضد ہیں اور اسلام کی دعوت پر کان دھرنے کے لیے تیار نہیں۔ اور اللہ کی عطا کردہ روشنی سے وحشت زدہ ہو رہے ہیں اس سے تمہیں دلبرداشتہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ تمہیں خوب معلوم ہے کہ اللہ کا یہ قانون ہے کہ اس نے چونکہ انسان کو اختیار کی آزادی دے رکھی ہے وہ اپنے اختیار سے جس راستے پر چلنا پسند کرتا ہے وہ وہی راستہ اس کے لیے کھول دیتا ہے اور جو چیز اسے مرغوب ہوتی ہے وہی چیز اس پر مسلط کردی جاتی ہے۔ وہ کسی پر جبر نہیں کرتا ہدایت اور ضلالت دونوں میں اس نے انسان کو آزادی دے دی ہے اور دونوں کے اس نے وسائل پیدا فرما دیئے ہیں۔ اب ان میں انتخاب کرنا یہ انسان کا اپنا کام ہے جب وہ صحیح راستے کا انتخاب کرلیتا ہے اور پھر اللہ سے توفیق مانگتا ہے تو اللہ اپنی توفیق سے اسے نواز دیتے ہیں اور اللہ نے مزید آسانیاں پیدا کرنے کے لیے اپنے رسول اور کتابیں بھیجیں اور یہ وحی کی روشنی اتاری لیکن جو شخص اس روشنی کے سامنے آنکھیں بند کرلیتا ہے بلکہ روشنی دکھانے والوں کا دشمن ہوجاتا ہے کہ تمہاری روشنی سے میری نیند خراب ہوتی ہے میرے مفادات پر چوٹ پڑتی ہے۔ میرے برے ارادوں کو بروئے کار آنے میں دشواری پیدا ہوتی ہے تو یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ اس کو ایسا کرنے دو ۔ وہ قانون قدرت کے تحت ایسا کر رہا ہے۔ مسلمانوں کو ان باتوں سے اثر لیے بغیر اپنا سفر جاری رکھنا چاہیے کیونکہ مردہ آدمی کی موت سے عبرت تو حاصل کی جاسکتی ہے لیکن زندگی کے سفر میں رکاوٹ نہیں آنی چاہیے۔ کفار و مشرکین گمراہیوں کے حصار میں ہیں جس سے وہ نکلنا نہیں چاہتے اس آیت کریمہ میں اللہ کے جس قانون کا ذکر فرمایا گیا ہے اس کے لیے تزیین کا لفظ استعمال ہوا ہے اس کی ہم نے اگرچہ وضاحت کردی ہے لیکن بہتر ہے کہ اس کو مزید کھول دیا جائے بات یہ ہے کہ ہم اگر اپنی حالت پر غور کریں یا اپنے گرد و پیش میں دیکھیں تو آپ کو ہر آدمی بالخصوص پڑھا لکھا اور علم و دانش رکھنے والا آدمی اس بات کا مریض ملے گا کہ وہ اپنی سوچ ‘ اپنے خیالات اور اپنی بات کے سوا کسی اور کی سوچ اور بات کو مناسب اہمیت دینے کو کبھی تیار نہیں ہوتا بالخصوص کسی دانشور سے بات کر کے دیکھیے تو آپ یہ دیکھ کر حیران رہ جائیں گے کہ وہ بات بات پر اپنی ذات کا حوالہ دیتا ہے کہ میرا یہ خیال ہے ‘ میں یہ سمجھتا ہوں ‘ میرے مطالعے کا حاصل یہ ہے۔ چاہے اس کا مطالعہ یک رخا کیوں نہ ہو اور چاہے وہ اپنی سوچ اور علم میں بہت محدود حیثیت کا مالک کیوں نہ ہو۔ لیکن اسے اپنی نارسائی ‘ اپنی کوتاہ علمی اور اپنی بصیرت میں کمی کا کبھی احساس نہیں ہوتا وہ اس احساس سے کبھی نکلنے نہیں پاتا کہ میرے علاوہ بھی میرے گردو پیش میں بہت سے ایسے لوگ ہوسکتے ہیں جو علم و دانش میں مجھ سے بہت آگے ہیں اور مزید یہ بھی کہ میرا علمی میدان اگر طبیعات تک محدود ہے تو بالکل سیدھی سی بات ہے کہ میں الٰہیات ‘ روحانیات اور آسمانی مذاہب کے بارے میں زیادہ جاننے کا دعویٰ نہیں کرسکتا لیکن یہ ایک ایسا گہرا مرض ہے کہ اتنی کھلی اور واضح بات کو بھی سمجھنا اکثر لوگوں کے لیے دشوار ہوجاتا ہے وہ اپنے محدود اور یک رخے علم کے باوجود آپ کو اپنی بات پر ہمیشہ اصرار کرتے دکھائی دیں گے۔ علامہ اقبال نے ایک موقع پر فرمایا تھا کہ ” بعض لوگ کنج تنہائی میں بیٹھے بیٹھے ہمہ دانی کا دعویٰ کرنے لگتے ہیں “ انھوں نے چونکہ اپنی تنہائی کے گوشے یا اپنی چھوٹی سی لائبریری سے باہر کبھی جھانک کے نہیں دیکھا وہ کنویں کے مینڈک کی طرح اسی کو ساری دنیائے علم سمجھتے ہیں نتیجہ ظاہر ہے کہ چونکہ وہ اس کے سوا کچھ اور جانتے نہیں۔ اس لیے جب اپنے علم سے مختلف بات سنتے ہیں تو اس کا تسلیم کرنا انھیں مشکل ہوجاتا ہے پھر وہ اسی میں عافیت سمجھتے ہیں کہ انھوں نے اپنے گرد علم کے نام سے جو ایک بیخبر ی کا حصار کھینچ رکھا ہے اس سے کبھی نکلنے نہ پائیں۔ مولانا روم نے ٹھیک فرمایا تھا کہ اصلاً آدمی اپنی ذات کا عاشق ہوتا ہے اسے اپنی ذات اور اپنے خیالات ہر چیز سے زیادہ عزیز ہوتے ہیں وہ ہمیشہ اس آدمی سے پیار کرتا ہے جس میں اسے اپنی ذات کا عکس نظر آتا ہے یا جس سے اسے اپنے خیالات کی تائید ملتی ہے وہ ایک اچھے خطیب ‘ ادیب ‘ قلم کار ‘ مصور یا کھلاڑی کا جو سراپا بنا لیتا ہے بس جو اس سراپا کے مطابق اسے نظر آتا ہے اس سے وہ پیار کرنے لگتا ہے۔ حالانکہ حقیقت میں وہ اپنی ذات سے پیار کرتا ہے بس یہ ایک ایسی فطری بات ہے جو اللہ کے دوسرے قوانین فطرت کی طرح انسانوں میں کارفرما ہے اب جب تک کوئی آدمی اپنے اس حصار کو توڑ کر باہر نہیں نکلتا وہ باہر کی بڑی سے بڑی حقیقت سے بھی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ اللہ کے نبی انہی حقیقتوں کو واشگاف کرنے کے لیے آتے ہیں کیونکہ وہ سب سے زیادہ اللہ کے قوانین فطرت کا علم رکھتے ہیں اس لیے ان قوانین کے مطابق زندگی گزارنے کا ہنر سکھاتے ہیں۔ یہ مشرکینِ مکہ بھی اسی قانون فطرت کی گرفت میں تھے۔ وہ اپنے اسی حصار میں رہنے پر اصرار کر رہے تھے جس کا ڈھانچہ انھوں نے از خود تیار کیا اور پھر قانون فطرت کے مطابق جب پیار کرتے کرتے اس کے اسیر ہوگئے تو یہ ڈھانچہ ان کے لیے حصار بن گیا جس طرح گھر کی چار دیواری میں سمٹ کے رہنے والا باہر آئی ہوئی بہار سے کبھی فائدہ نہیں اٹھاتا وہ کواڑ بند کر کے جب تک گھر میں سمٹا رہے گا اسے کیا خبر کہ چمن میں کیسے پھول کھلے ہیں ‘ کیسی کلیاں چٹک رہی ہیں ‘ کس طرح گھٹا تلی کھڑی ہے ‘ ہوائیں کس طرح اٹھکیلیاں کرتی پھر رہی ہیں ‘ زمین نے کس طرح سبز مخمل کا لباس پہن لیا ہے۔ اس باتوں سے وہ تب روشناس ہوگا جب وہ گھر کے حصار سے نکلے گا۔ یہ مشرکینِ مکہ بھی پیغمبر کی دعوت سے اس وقت فائدہ اٹھائیں گے جب وہ اپنے شرک اور کفر کے حصار سے نکل کر اس دعوت کو سمجھنے کی کوشش کریں گے اس سے نکلنے کی کوشش ان کا کام ہے۔ اس کے بعد اس راستے کو آسان کرنا اور راستے کی مشکلات کو دور کرنا یہ اللہ کا کرم ہے جو ہمیشہ وہ اپنے بندوں پر فرماتا ہے۔ اگلی آیت کریمہ میں اسی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے ایک دوسرے پہلو سے مسلمانوں کو تسلی دی جا رہی ہے۔ تم دیکھ رہے ہو کہ اسلامی دعوت کے مقابلے میں اشراف قریش روز بروز اپنی مخالفتوں اور اذیتوں میں تیزی پیدا کرتے جا رہے ہیں اور ان کی ہر ممکن کوشش ہے کہ کسی طرح اس روشنی کو بجھا دیں اور اسلام کی اس مشعل کو ہمیشہ کے لیے گل کردیں تو تمہیں اس سے ہرگز خوف زدہ نہیں ہونا چاہیے یہ دنیا کا کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ جب بھی کسی بستی میں دعوت حق بلند ہوئی ہے تو وہاں کے بڑے بڑے لوگوں میں جن کا باطل سے مفاد وابستہ ہوتا ہے وہ ہمیشہ یہی رویہ اختیار کرتے ہیں وہ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ اگر یہ دعوت کامیاب ہوگئی تو ہمارے مفادات خطرے میں پڑجائیں گے اور ہم نے جو لوگوں کو آج تک غلام بنا رکھا ہے اور بھیڑ بکریوں کی طرح انھیں ہمیشہ ہانکتے رہے ‘ جب ان میں آزادی کا شعور پیدا ہوگا تو یہ لوگ غلامی کا جوا اپنی گردن سے اتار پھینکیں گے۔ اور یہ اللہ کے سامنے جھکنے والے کسی اور کے سامنے جھکنے سے انکار کردیں گے اور جب وہ دیکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتیں سب کے لیے پیدا کی ہیں تو وہ استیصال کرنے والے ہاتھ توڑ ڈالیں گے تو یہ باتیں انھیں ڈرائونے خواب کی طرح بدحواس کردیتی ہیں۔ جس کے نتیجے میں وہ اسلامی قوت کا راستہ روکنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ پھر وہ طرح طرح سے تدبیریں کرتے ہیں ‘ سازشوں کے جال پھیلاتے ہیں ‘ لوگوں کے جذبات انگیخت کرتے ہیں اور ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ اس تحریک کو ختم کردیا جائے تو جب ہمیشہ ہر اٹھنے والی صداقت کے ساتھ یہی حادثہ پیش آیا ہے اور یہ اس راستے کی لازمی سنت ہے تو پھر اس سے اثر قبول کرنے کا کوئی جواز نہیں۔ اس لیے مسلمانوں کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ یہ لوگ تو اسی تاریخی روایت کے مطابق اپنی حرکتیں جاری رکھیں گے اور تمہیں اللہ کے حکم کے مطابق اپنی کوششیں جاری رکھنی چاہئیں لیکن وہ وقت دور نہیں کہ یہ ان کی سازشیں اور تدبیریں الٹی انہی پر آگریں گی اور یہی لوگ آہستہ آہستہ یا تو اس دعوت کو قبول کر کے اپنی آخرت بنالیں گے اور یا وہ ہمیشہ کے لیے عبرت کا نشان بن کے رہ جائیں گے۔ چناچہ مشرکینِ مکہ کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا کہ انھوں نے اپنی اذیتوں سے اگرچہ مسلمانوں کو وطن چھوڑنے پر مجبور کردیا اور پھر وہاں بھی ان کو اطمینان کا سانس نہیں لینے دیا لیکن ہجرت کے آٹھویں سال ہی میں بالآخر مکہ سرنگوں ہوگیا اور اہل مکہ یا تو مسلمان ہوگئے اور یا ختم ہوگئے۔ ابھی ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ مشرکین مسلسل اسلامی دعوت کے مقابلے میں آئے دن نئی نئی تدبیر میں سوچتے اور نئی نئی شرارتیں کرتے تھے۔ انہی تدبیروں اور شرارتوں میں سے ایک کا ذکر اگلی آیت کریمہ میں آرہا ہے۔
Ayah 6:124

وَ اِذَا جَآءَتْهُمْ اٰیَةٌ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ حَتّٰى نُؤْتٰى مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ رُسُلُ اللّٰهِ١ؔۘؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ١ؕ سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا صَغَارٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عَذَابٌ شَدِیْدٌۢ بِمَا كَانُوْا یَمْكُرُوْنَ Open ayah 6:124 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس آتی کوئی آیت تو کہتے ہم تو ماننے کے نہیں جب تک ہم کو بھی وہی کچھ نہ ملے جو اللہ کے رسولوں کو ملا اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ وہ اپنا منصب رسالت کس کو بخشے جو لوگ شرارت کر رہے ہیں اللہ کے ہاں ان کو ان کی اس چالبازی کی پاداش میں ذلت اور عذاب شدید نصیب ہوگا

ارشاد فرمایا : وَاِذَا جَآئَتْھُمْ اٰیَۃٌقَالُوْا لَنْ نُّوْمِنَ حَتّٰی نُؤْتٰی مِثْلَ مَآ اُوْتِیَ رُسُلُ اللہِ ط اَﷲُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلَ رِسَالَتَہٗ ط سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا صَغَارٌعِنْدَ اللہِ وَ عَذَابٌشَدِیْدُٗم بِمَا کَانُوْا یَمْکُرُوْنَ ۔ (الانعام : 124) (اور جب ان کے پاس آتی کوئی آیت تو کہتے ہم تو ماننے کے نہیں جب تک ہم کو بھی وہی کچھ نہ ملے جو اللہ کے رسولوں کو ملا اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ وہ اپنا منصب رسالت کس کو بخشے جو لوگ شرارت کر رہے ہیں اللہ کے ہاں ان کو ان کی اس چالبازی کی پاداش میں ذلت اور عذاب شدید نصیب ہوگا ) کفار رسالت کا مطالبہ کرتے ہیں مطلب یہ ہے کہ جب ان کے پاس اللہ کی کوئی آیت ‘ عام اس سے کہ وہ کوئی نشانی ہو یا کوئی ہدایت و تنبیہ ‘ آتی تو وہ یہ کہتے کہ ہم تو اس وقت تک ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں جب تک ہمیں بھی وہ رسالت نہ ملے جس کے مدعی یہ رسول ہیں آخر ان کو کیا سرخاب کے پر لگے ہوئے تھے کہ انھیں خدا نے اپنا رسول بنایا اور ہمیں نظر انداز کردیا۔ درآنحالیکہ پشتہا پشت سے قیادت و سیادت اور دولت و امارت ہمارا حصہ ہے۔ ٹھیک یہی بات ‘ جیسا کہ قرآن میں تفصیل سے بیان ہوئی ‘ قریش کے اکابر کہتے تھے۔ ان کو بھی وہی گھمنڈ تھا جو ان کے پیشرو مستکبرین اور مکذبین انبیاء کو تھا کہ اگر خدا کسی کو رسالت ہی دینے والا تھا تو کیا اس تاج کے لیے اس کو انہی (محمد۔ ) کا سر موزوں نظر آیا ‘ آخر مکہ یا طائف کے کسی سردار پر اس کی نظر کیوں نہ پڑی ؟ ظاہر ہے کہ یہ بات وہ تو محض چالبازی کے طور پر کہتے تھے ‘ اس سے مقصود ان کا محض اپنی انانیت اور خود فریبی کے لیے ایک پردہ فراہم کرنا اور اپنے عوام کو بیوقوف بنانا ہوتا تھا۔ سادہ لوح عوام دینوی اسباب و وسائل کو بڑی چیز سمجھتے ہیں۔ وہ جن کو دنیا میں بڑا دیکھتے ہیں ‘ سمجھتے ہیں کہ خدا کے نزدیک بھی یہی بڑے ہوں گے۔ اس ذہن کے لوگ آسانی سے اس قسم کے چکموں میں آجاتے ہیں۔ اسی وجہ سے قرآن نے اس بات کو مکر سے تعبیر کیا ہے یعنی یہ ایک سیاسی اشغلا تھا۔ اَﷲُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلَ رِسَالَتَہٗ یہ ان مستکبرین کو جواب ہے اور گو لفظاً سخت نہیں ہے لیکن معناً بہت سخت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ منصب رسالت ایسی چیز نہیں ہے جس کا اہل ہر کس و ناکس بن جائے یہ اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ یہ تاج وہ کس کے سر پر رکھے۔ یہ مخمل اور زربفت کی جھول نہیں ہے جو بسا اوقات گدھوں پر بھی نظر آجاتی ہے۔ بلکہ یہ خلعت الٰہی اور تشریف آسمانی ہے جو انہی کو نصیب ہوتی ہے جن کا انتخاب اللہ تعالیٰ فرمائے۔ رسالت اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے عطا کرتا ہے اس ٹکڑے سے جہاں یہ بات نکلتی ہے کہ نبوت و رسالت ایک موہبت ربانی اور ایک عطیہ الٰہی ہے جو صرف اسی کو حاصل ہوتی ہے جس کو اللہ تعالیٰ اس کے لیے انتخاب فرمائے وہیں یہ بات بھی اس سے نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے لیے انتخاب انہی کو فرماتا ہے جو اپنی اکتسابی صلاحیتوں اور خوبیوں کے اعتبار سے نوع انسانی کے گل سرسبد نخل فطرت کے بہترین ثمر اور کمال انسانیت کے مظہر اتم ہوتے ہیں۔ سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا صَغَارٌعِنْدَ اللہِ وَ عَذَابٌشَدِیْدُٗم بِمَا کَانُوما یَمْکُرُوْنَ ۔ اَجْرَمُوْا میں اگرچہ انکے وہ تمام جرائم اور ان کی وہ ساری چال بازیاں شامل ہیں جن کے وہ مرتکب ہوئے لیکن یہاں اس سے انکے اس استکبار کی طرف خاص اشارہ ہو رہا ہے جسکا اظہار انھوں نے لَنْ نُوْمِنُ حَتّٰی نُؤْتِی مِثْلَ مَا اُوْتِیَ رُسُل اللہ میں کیا۔ اسی استکبار کے تعلق سے ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں ذلت بھی ہے اور عذاب شدید بھی۔ کفار کو شدید ذلت و عذاب شدید ہوگا چناچہ جو لوگ رسول اللہ ﷺ پر ایمان نہ لائے اور برابر اس استکبار کے مرض میں مبتلا رہے اللہ نے انھیں دنیا ہی میں اس کی سزا دی۔ جنگ بدر میں ان کے بڑے بڑے سرداروں کی پہلی صف نہایت ذلت آمیز عذاب کا شکار ہوئی۔ ستر قتل ہوئے اور ستر گرفتار ہوئے ان کے بڑے بڑے سرداروں کو کھینچ کر ایک بند کنویں میں پھینکا گیا تو کنویں کی منڈیر پر کھڑے ہو کر آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس کا مفہوم یہ ہے کہ او قتل ہونے والے سردارو تمہیں اب تو معلوم ہوگیا ہوگا کہ میں تمہیں جس چیز کی طرف بلاتا تھا وہ حق تھی اور میں واقعی اللہ کا رسول ہوں اور تمہیں میں جس عذاب سے ڈراتا تھا وہ عذاب اب تمہارے سامنے ہے۔ حضرت عمر فاروق نے یہ سن کر عرض کیا کہ حضور آپ جن لوگوں سے مخاطب ہیں وہ تو مرچکے ہیں وہ تو آپ کی بات سن نہیں سکتے آپ نے فرمایا کہ وہ تم سے زیادہ سنتے ہیں۔ البتہ جواب نہیں دے سکتے۔ یعنی یہ آنحضرت ﷺ کا معجزہ تھا کہ وہ آنحضرت کی باتیں سن رہے تھے اور سمجھ رہے تھے اور یقینا اس ذلت کو بھی محسوس کر رہے ہوں گے جس ذلت کا وہ شکار ہوئے اور اسی طرح جو باقی بچے اور پھر وہ ایمان نہ لائے تو فتح مکہ کے موقع پر ان میں سے ایک ایک آدمی جو اپنے آپ کو نجانے کیا سمجھ رہا تھا ہاتھ باندھے آنحضرت ﷺ کے سامنے کھڑا تھا اور آپ نے جب پر جلال انداز میں فرمایا کہ بتائو آج میں تم سے کیا سلوک کروں وہ جو کچھ آج تک آنحضرت کی شان میں اور مسلمانوں کے ساتھ کرچکے تھے اس کی ایک ایک بات انھیں ان کے قتل ہونے کا یقین دلاتی تھی۔ لیکن ساتھ ہی وہ مردم شناس لوگ تھے وہ آنحضرت ﷺ کے مکارمِ اخلاق سے پوری طرح واقف تھے۔ وہ جانتے تھے کہ اللہ نے آپ کو رحمت بنا کر بھیجا ہے اور عفو و درگزر آپ کی خصوصی صفات ہیں۔ چناچہ سب نے بیک زبان کہا کہ آپ کریم ہیں کریم کے بیٹے ہیں ہم آپ کی کرامت نفس کو جانتے ہوئے آپ سے بہتر سلوک کے امیدوار ہیں۔ تب آپ نے فرمایا کہ جاؤ آج تم سب آزاد ہو میں تم سے وہی کہتا ہوں جو حضرت یوسف نے اپنے بھائیوں سے کہا تھا کہ آج تم پر کوئی گرفت نہیں اللہ تمہارے گناہ معاف کرے کیونکہ وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے پھر ان کے تکبر اور استکبار پر مزید چوٹ لگانے کے لیے آپ نے حضرت بلال کو حکم دیا کہ کعبے کی چھت پر چڑھ کر اذان کہو چناچہ جیسے ہی کعبے کی چھت پر حضرت بلال نے اذان کہنا شروع کی تو یہ لوگ جو ہاتھ باندھے کھڑے تھے تلملاتے اور کھولتے رہے کہ یہ وہ غلام ہے جو کوڑیوں میں بکتا تھا اور جس کے ساتھ ہم نے بدترین سلوک روا رکھا تھا آج اللہ کے گھر کی چھت پر ہمارے سامنے اللہ کی کبریائی کا اعلان کر رہا ہے اور ہمارے تکبر پر ٹھوکریں لگا رہا ہے اور جہاں تک قیامت کے عذاب کا تعلق ہے وہ تو اپنے کفر اور شرک کے باعث سب مشرکوں اور کافروں کو پہنچے گا لیکن ایسے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو عذاب بھی دگنا دیا جائے گا ایک ان کے کفر و شرک کا اور دوسرا ان کے استکبار کا۔