Ayah 6:35ارشاد ہے :
وَاِنْ کَانَ کَبُرَ عَلَیْکَ اِعْرَاضُُھُمْ فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ تَبْتَغِیَ نَفَقًا فِی الْاَرْضِ اَوْ سُلَّمًا فِی السَّمَآئِ فَتَاْتِیَھُمْ بِاٰیَۃٍ ط وَلَوْ شَآئَ اللہ ُ لَجَمَعَھُمْ عَلَی الْھُدٰی فَلاَ تَکُوْنَنَّ مِنَ الْجٰھِلِیْنَ ۔ (الانعام : 35)
(اگر ان کا اعراض تم پر گراں گزر رہا ہے تو اگر تم زمین میں کوئی سرنگ یا آسمان میں کوئی زینہ ڈھونڈ سکو کہ ان کے پاس کوئی نشانی لا دو تو کردو اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر جمع کردیتا تم جذبات سے مغلوب ہوجانے والوں میں سے نہ بنو )
کفار کے ایمان نہ لانے پر پریشان نہ ہوں
اس آیت کریمہ میں سب سے پہلی بات جو معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ پر عتاب فرمایا جا رہا ہے ‘ لیکن میں پہلے یہ کہہ چکا ہوں کہ بظاہر اس عتاب کے مخاطب تو حضور ہیں لیکن اصل روئے سخن ان بڑے بڑے کافروں کی طرف ہے جو ضد اور ہٹ دھرمی میں اسلام کی طرف آنے کے لیے بالکل تیار نہیں تھے۔ کافر چونکہ اللہ کے خطاب کا مستحق نہیں ہوتا اس لیے اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر سے اس طرح خطاب فرماتے ہیں کہ جو بات کافروں سے کہنے کی ہوتی ہے ‘ ان کو سنا دی جاتی ہے ‘ لیکن ان سے براہ ِ راست نہیں کہی جاتی۔ لیکن اس عتاب کا جو سبب ہے ‘ اس کو پیش نظر رکھیں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک محبت آمیز عتاب ہے۔ کیونکہ اس کا سبب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی طبیعت اور آپ کے مزاج میں انسانی ہمدردی اور خیر خواہی کوٹ کوٹ بھری ہوئی تھی ‘ آپ دن بھر جن ظالموں کے ظلم کا شکار ہوتے تھے۔ رات کو انہی کی ہدایت کے لیے دعائیں مانگتے تھے۔ آپ کی یہ شدید خواہش ہوتی کہ کسی طرح یہ کافر اسلام کی طرف آجائیں تاکہ جہنم میں جانے سے بچ جائیں ‘ اللہ کے رسول کو چونکہ کافر کے انجام کے بارے میں اس طرح کا یقین ہوتا ہے گویا کہ وہ اپنی نگاہوں سے دیکھ رہا ہے۔ اس لیے وہ بےتاب ہو کر ان کو سمجھانے کی کوشش کرتا ہے اور جب وہ اس پر نئی نئی نشانیاں دکھانے کا مطالبہ کرتے ہیں ‘ تو اللہ کے رسول کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ اگر یہ مطلوبہ نشانیاں ان کو دکھا دی جائیں تو ممکن ہے یہ لوگ راہ راست اختیار کرلیں اور ایمان لے آئیں۔ چناچہ اسی بےساختہ خواہش کے حوالے سے آنحضرت پر یہ محبت آمیز عتاب فرمایا جا رہا ہے کہ ہر ممکن طریقے سے زبردستی ان کو ایمان دینا اللہ کی سنت اور اس کی مشیت کے تو خلاف ہے لیکن آپ اس کے لیے بہت ہی خواہش مند ہیں تو پھر اپنی سی کوشش کر دیکھیے۔ زمین میں گھس کر یا آسمان پر چڑھ کر کوئی ایسا معجزہ لانے کی کوشش کرو ‘ جو تمہارے خیال میں اس بےیقینی کے جمود کو توڑ سکے اور ان کافروں کو ایمان لانے پر مجبور کرسکے۔ اس طرح سے کافروں کو یہ بات سنائی جا رہی ہے کہ تم بار بار حضور سے جو مطالبات کر رہے ہو ‘ اس کا کوئی فائدہ نہیں حضور تمہارے ہادی بن کر آئے ہیں ان سے ہدایت حاصل کرنے کی کوشش کرو نہیں کرو گے تو اپنا ہی انجام بگاڑو گے۔
اس کے بعد پروردگار اپنی سنت کو بیان فرما رہے ہیں کہ ہمارا یہ قانون نہیں ہے کہ ہم کسی کو زبردستی ایمان پر مجبور کریں اور ان کو ایسی ایسی نشانیاں دکھائیں کہ وہ مجبور ہو کر اسلام قبول کرلیں۔ اگر اللہ کو یہ منظور ہوتا تو یہ سارا کام تو اس کے ایک تخلیقی اشارے سے ممکن تھا۔ پھر اسے پیغمبر بھیجنے اور کتابیں اتارنے کی کیا ضرورت تھی ؟ ہر بچہ پیدا ہوتے ہی کلمہ پڑھنے لگتا اور بڑا ہو کر شریعت کے احکام اس کی فطرت کی آواز بن جائے وہ زندگی بھر خودبخود اس پر چلتا رہتا۔ اس نے انسانی اصلاح کے لیے جو طریقہ اختیار کیا ہے وہ یہ زبردستی کا طریقہ نہیں اور نہ حیرت انگیز نشانیاں دکھا کر قلب و دماغ کو معطل کرنے کا طریقہ ہے بلکہ اس نے جو طریقہ پسند کیا ہے وہ یہ ہے کہ لوگ اپنے کان ‘ آنکھ اور عقل و ادراک کو استعمال کریں۔ آفاق وانفس کے دلائل پر غور کریں ‘ اللہ کے رسول کی باتیں سنیں ‘ ان پر غور و فکر کے بعد اپنے اختیار و ارادہ سے ایمان کی راہ اختیار کریں۔ کیونکہ انسان کو اللہ نے عقل و ادراک اور اختیار و ارادہ کی جس قوت سے بہرہ ور فرمایا ہے ایمان اصل میں اسی کی آزمائش ہے اور اس کے لیے اللہ کے نبیوں نے استدلال کی قوت سے کام لیا ہے۔ بعض دفعہ ان کے ہاتھ سے معجزات کا جو ظہور ہوتا ہے ‘ وہ صرف یہ بتانے کے لیے ہوتا ہے کہ وہ اللہ کے نبی ہیں۔ انسانی ہدایت کا دارومدار ان معجزات پر نہیں ہوتا بلکہ وہ ان کی استدلالی قوت ‘ ان کی مضبوط شخصیت ‘ ان کے دل موہ لینے والے اخلاق ‘ اور ان پر ایمان لانے والوں میں روز بروز خیر کی طلب اور خوبصوررت سیرت و کردار پر ہوتا ہے۔ یہ وہ چیزیں ہیں جو دعوت الی اللہ کا اصل سرمایہ ہیں۔ آنحضرت ﷺ سے یہ فرمایا جا رہا ہے کہ آپ اسی فطری طریق پر کام جاری رکھیں۔ جو انبیاء اور رسولوں کا ہمیشہ طریقہ رہا ہے۔ رہے ان کے مطلوبہ معجزات تو آپ ان چیزوں کو اپنی طبیعت پر غالب نہ آنے دیں اور یہ نہ سمجھیں کہ اگر یہ ان کے مطالبات پورے کردیئے جائیں تو شاید وہ ایمان لے آئیں۔ یہ چیز اللہ کی سنت کے موافق نہیں۔ اس لیے آپ اللہ کی سنت کے مطابق اپنے کام کو جاری رکھیں یعنی آپ ان کے ایمان کی آرزو میں جذبات سے اتنے مغلوب نہ ہوجائیں کہ اللہ کی حکمت اور سنت نگاہوں سے اوجھل ہوجائے۔ اسی کے بارے میں فرمایا :
فَلاَ تَکُوْنَنَّ مِنَ الْجٰھِلِیْنَ
(کہ آپ جاہلوں میں سے مت بنیں )
یہاں جاہل کے لفظ کو سمجھ لینا چاہیے تاکہ غلط فہمی پیدا نہ ہو بات یہ ہے کہ عربی میں جہل کا لفظ علم اور حلم دونوں کی ضد کی حیثیت سے آتا ہے بلکہ اس کا غالب استعمال ’ حلم ‘ کے ضد کی حیثیت ہی سے ہے۔ اسی وجہ سے اس کے معنی ہوتے ہیں جذبات سے مغلوب ہوجانا۔ حضرات انبیاء (علیہم السلام) اپنی طہارت فطرت کے سبب سے جذباتِ نفس اور خواہشاتِ نفس سے تو کبھی مغلوب نہیں ہوتے لیکن جذبات خیر میں سے کسی جذبہ کا غلبہ ان پر بھی کبھی کبھی اتنا ہوجاتا ہے جو حد مطلوب سے زیادہ ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ بجائے خود نہایت اعلیٰ بات ہے لیکن حضرت انبیاء چونکہ معیار اور کسوٹی ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ اس پہلو میں بھی ان کو حد مطلوب سے آگے نہیں بڑھنے دیتا۔ اس کو مثال سے یوں سمجھئے کہ نبی کے اندر اس بات کی شدید آرزو ہوتی ہے کہ اس کی قوم ایمان لائے تاکہ وہ عذاب الٰہی سے بچ جائے۔ یہ جذبہ نبی کی رافت و رحمت کی دلیل اور اس کی غیرت حق کی شہادت ہے۔ لیکن یہ جذبہ بھی مطلوب اسی حد تک ہے جس حد تک اللہ تعالیٰ کی اس سنت سے ہم آہنگ ہے۔ جو لوگوں کے کفر و ایمان کے معاملے میں اللہ تعالیٰ نے پسند فرمائی ہے اور جس کی طرف آیت 34 میں اشارہ گزرا ہے۔ اگر اس حد سے اس کے آگے بڑھنے کے آثار ظاہر ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کو اس سے روک دیتا ہے۔
چناچہ یہاں بھی آنحضرت ﷺ کو غیرت حق اور انسانوں کے ایمان لانے کے حوالے سے انتہا درجے کی خیر خواہی کے جذبے سے مغلوب ہونے سے روکا ہے کہ یہ جذبہ اپنے تئیں کتنا بھی محمود کیوں نہ ہو اللہ کی اس سنت کے موافق نہیں جو اس نے انسانی ہدایت کے لیے مقرر فرمائی ہے۔ اس لیے آپ کو حکم دیا جا رہا ہے کہ آپ بجائے اس جذبہ خیر خواہی سے مغلوب ہونے کے اللہ کی سنت کے مطابق اپنے کام کو جاری رکھیئے اور اس کے نتائج کو خدا پر چھوڑیئے اور یہ نہ خیال کیجئے کہ اگر ان کو بڑی بڑی نشانیاں نہ دکھائی گئیں تو یہ ایمان نہیں لائیں گے ‘ جنھیں ایمان لانا ہوتا ہے ‘ انھیں بڑی نشانیاں دیکھنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ بلکہ اس کے لیے چند بنیادی صفات کا پیدا کرنا ضروری ہوتا ہے جس کا آغاز اس صفت سے ہوتا ہے جس کا ذکر اگلی آیت میں کیا جا رہا ہے۔
Ayah 6:36ارشاد فرمایا :
اِنَّمَا یَسْتَجَیْبُ الَّذِیْنَ یَسْمَعُوْنَ ط وَالْمَوْتٰی یَبْعَثُھُمُ اللہ ُ ثُمَّ اِلَیْہِ یُرْجَعُوْنَ ۔ (الانعام : 36)
(بات تو وہی مانیں گے ‘ جو سنتے سمجھتے ہیں۔ رہے یہ مردے تو اللہ ان کو اٹھائے گا ‘ پھر یہ اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے)
قبولِ حق کے لیے سننے اور سمجھنے کی صلاحیت ضروری ہے
یعنی ایمان لانے کے لیے اور اللہ کے رسول کی دعوت کو قبول کرنے کے لیے سب سے پہلی صفت جو درکار ہے وہ یہ ہے کہ جس کو دعوت دی جائے وہ اسے غور سے سنے اور سمجھے (اس آیت کریمہ میں یَسْمَعُوْنَ اپنے مکمل معنی میں ہے یعنی جو سنیں بھی اور سمجھیں بھی) جو مخاطب سرے سے سنتا ہی نہیں یا سنتا ہے لیکن سمجھتا نہیں تو اس کے لیے حق کو قبول کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس لیے قرآن کریم نے ایک سے زیادہ جگہوں پر ایسے کافروں کے لیے جو حق کے ساتھ متذکرہ رویہ اختیار کرتے ہیں۔ ارشاد فرمایا ہے کہ ان لوگوں کی آنکھیں ہیں لیکن دیکھتے نہیں ‘ ان کے دل ہیں ‘ لیکن سمجھتے نہیں ‘ ان کے کان ہیں لیکن سنتے نہیں ‘ یہ ڈنگروں جیسے ہیں بلکہ ان سے بھی گئے گزرے۔ کیونکہ حیوانات میں سے بھی اکثر حیوانات اپنے مالک کی بات سنتے ہیں اور اس کے مطابق چلنے کی کوشش کرتے ہیں ‘ اگرچہ بہیمیت کے وصف کے باعث سرکشی ان میں غالب ہوتی ہے لیکن پھر بھی فی الجملہ وہ مالک کی اطاعت کرتے ہیں لیکن جو شخص انسان ہوتے ہوئے اپنی آنکھوں سے حقیقت نہیں دیکھتا اور کانوں سے سن کر سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا اور سمجھنے کے باوجود دل کو قبولیت کے لیے کھلنے نہیں دیتا۔ وہ یقینا حیوانات سے بھی گیا گزرا ہے۔ تو جو لوگ حیوانات سے بھی گزرجائیں ان کے بارے میں یہ سوچنا کہ وہ نشانیاں اور معجزات دیکھ کر ایمان لے آئیں گے یہ بہت بڑی خوش فہمی ہے یا ان کے ساتھ خیر خواہی کے جذبے سے مغلوب ہوجانے والی بات ہے یہاں یہی بات فرمائی جا رہی ہے کہ آپ اس جذبے سے مغلوب نہ ہوں کیونکہ یہ لوگ چونکہ آپ کی بات کو نہ سنتے ہیں نہ سمجھتے ہیں اس لیے ان سے کسی طرح بھی حق کی قبولیت کی امید رکھنا عبث ہے۔ یہ تو فی الحقیقت مردہ ہیں۔ جن کے بظاہر جسم بڑے تنو مند ‘ شخصیتیں بڑی دلکش ‘ باتوں کے بہت تیز ‘ دنیوی معاملات میں بڑے معاملہ فہم ‘ لیکن حق اور سچ کے حوالے سے اور اساسی حقائق کی قبولیت کے اعتبار سے یہ مردہ ہیں۔ جن کے دل و دماغ کی ساری صلاحیتیں بالکل مفلوج ہوچکی ہیں۔ اس لیے ان سے کسی قسم کی توقع رکھنا تو ایسے ہی ہے جیسے کسی مردے سے زندگی کی توقع رکھی جائے کیونکہ زندگی جسم کی حرکت کا نام نہیں بلکہ دل کی بیداری کا نام ہے اور جب دل مرجاتا ہے تو پھر آدمی بظاہر زندہ ہو کر بھی زندہ نہیں ہوتا اس لیے اقبال نے کہا ؎
اے دل زندہ کہیں تو نہ مر جائے
کہ زندگانی عبارت ہے تیرے جینے سے
اور ہمیں اسی حقیقت کی طرف متوجہ کرتے ہوئے اس نے توجہ دلائی کہ
دلِ مردہ دل نہیں ہے اسے زندہ کر دوبارہ
کہ یہی ہے امتوں کے مرض کہن کا چارہ
آیت کریمہ کے آخر میں فرمایا جا رہا ہے کہ یہاں اب ان کے راہ راست پر آنے کی کوئی امید نہیں۔ اس لیے کہ اپنی حقیقی زندگی سے یہ لوگ محروم ہوچکے ہیں۔ اس لیے ان مردہ لوگوں کے بارے میں آپ پریشان ہونا چھوڑ دیں۔ اب تو ان مردوں کو اللہ قیامت کے دن ہی اٹھائے گا اور پھر یہ اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ یعنی ان کو یہ بات تو بھول چکی کہ اسی نے ان کو زندگی عطا کی ہے اور اسی نے ان کو دنیا میں ایک خاص مقصد کے لیے بھیجا ہے اب جب کہ ان کو اللہ کی طرف لوٹایا جائے گا تو تب ان کو اندازہ ہوگا کہ انھوں نے کیسی کیسی مجرمانہ خیانتیں کی ہیں ‘ کس طرح یہ ناشکری کا ارتکاب کرتے رہے ہیں اور حق کے مقابلے میں معاندانہ روش اختیار کر کے انھوں نے کس طرح اپنی قسمت پھوڑی ہے۔
اگلی آیت کریمہ میں ان شامت زدوں اور عقل کے دشمنوں کی ایک اور بات کا تذکرہ کیا جا رہا ہے جو ان کی بےبصیرتی کا شاہکار ہے۔
Ayah 6:37ارشاد ہوتا ہے :
وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْہِ اٰیَۃٌمِّنْ رَّبِّہٖ ط قُل اِنَّ اللہ َ قَادِرٌعَلٰٓی اَنْ یُّنَزِّلَ اٰیَۃً وَّلٰکِنَّ اَکْثَرَھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ ۔ (الانعام : 37)
” اور یہ کہتے ہیں اس پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتاری گئی۔ ان سے کہہ دو کہ اللہ اس بات پر قادر ہے کہ کوئی نشانی اتار دے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے “۔
قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کریمہ میں انھوں نے جس نشانی کا مطالبہ کیا وہ کوئی عام معجزہ نہیں بلکہ اس نشانی سے مراد یہ ہے کہ تم جو ہمیں ہمیشہ ڈراتے رہتے ہو کہ اگر تم ایمان نہ لائے اور تم نے میری دعوت قبول نہ کی تو اندیشہ ہے کہ تم پر خدا کا عذاب آجائے ‘ اور پھر تم باقی قوموں کے حوالے دے دے کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہو کہ باقی قومیں بھی اسی طرح تباہ ہوئیں ‘ اگر واقعی تم اپنے دعوے میں سچے ہو تو بہتر ہے کہ عذاب میں سے کچھ حصہ تم ہم پر اتار دو ‘ تاکہ ہمیں معلوم ہو کہ تم واقعی اپنے دعوے میں صحیح ہو اور عجیب بات یہ ہے کہ مشرکین مکہ میں سے بڑے بڑے کافر نہ صرف اس عذاب کا مذاق اڑاتے بلکہ بار بار اس کا مطالبہ کرتے اور کئی دفعہ تو براہ راست اللہ سے دعا کرتے ہوئے کہتے کہ محمد اگر تیرے واقعی پیغمبر ہیں اور یہ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ صحیح ہے تو اس کی پاداش میں ہم پر پتھروں کی بارش برسا ‘ یا ہم پر کوئی اور عذاب الیم لا۔ ایسے ہی لوگوں کے جواب میں ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ ان لوگوں نے عذاب کو بھی کھیل سمجھ لیا ہے۔ انھیں معلوم نہیں کہ اگر عذاب آگیا تو اس کے بعد کیا ہوگا۔ یہ ان کی بےبصیرتی اور کوتاہ فہمی ہے کہ ایک بہت بڑے خطرے کو آواز دے رہے ہیں اور غالباً یہ سمجھ رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ایسا کمزور حکمران ہے کہ وہ ان پر عذاب نازل کرنے پر قادر نہیں۔ جس طرح کسی بھی کمزور سلطنت میں خود سر اور بدمعاش قسم کے لوگ سلطنت کو چیلنج کرنے لگتے ہیں اور سمجھتے یہ ہیں کہ ہمارا کمزور حکمران ہماری گرفت نہیں کرسکتا۔ ان کا شاید اللہ کے بارے میں یہی گمان تھا حالانکہ اللہ تعالیٰ کا ان کو ڈھیل دینا اور پکڑنے میں جلدی نہ کرنا اس کا سبب ہی یہ ہے کہ وہ قادر مطلق ہے ‘ وہ جب کسی کو پکڑنا چاہتا ہے اسے کوئی مشکل پیش نہیں آتی ‘ وہ کمزور حکمرانوں کی طرح جرائم پیشہ لوگوں کو پکڑنے میں جلدی نہیں کرتا۔ مزید فرمایا کہ ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں کہ عذاب نہ آنے کی حکمتیں کیا ہیں۔ جس کی وجہ سے یہ لوگ ابھی تک عذاب سے بچے ہوئے ہیں اللہ کا قانون یہ ہے کہ وہ کسی قوم پر اس وقت تک عذاب نہیں لاتا جب تک اس پر آخری حد تک اتمام حجت نہیں کرلیتا اور یہ بات پوری طرح کھل نہیں جاتی کہ ان میں کوئی ایسا صالح عنصر باقی نہیں رہا جس سے بھلائی کی امید کی جاسکے اور یہ قوم پوری طرح نیکی اور خیر کی صلاحیتوں سے محروم ہوچکی ہے۔ اہل مکہ کے بارے میں ابھی تک چونکہ یہ وقت نہیں آیا اور دعوت اپنے آخری مراحل کو نہیں پہنچی اس لیے یہ لوگ اللہ کے عذاب سے بچے ہوئے ہیں۔ لیکن بجائے اس کے کہ اس کی دی ہوئی مہلت سے فائدہ اٹھائیں ‘ غلط فہمی میں مبتلا ہو کر مزید دلیر ہوتے جا رہے ہیں۔ ان نادانوں کو یہ خیال بھی نہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ان کو نہ پکڑنا ان کے تمام تر کفر اور طغیان کے باوجود اللہ کی رحمت کا ظہور ہے۔ یہ بھی اس کا قانون ہے کہ بجائے غضب ناک ہونے کے عموماً انسانوں کے ساتھ وہ رحمت کا معاملہ کرتا ہے وہ غضب ناک ہوتا تو انکار کے پہلے ہی مرحلے میں تمام منکروں اور کافروں کو جلاکر راکھ کردیتا لیکن اپنے پیغمبر اور ان کے ایمان لانے والوں کو اذیتوں میں مبتلا دیکھ کر بھی انھیں مہلت پہ مہلت دیئے جا رہا ہے کہ شاید یہ اس سے فائدہ اٹھا کر سنبھل جائیں اور اللہ کی رحمت کاملہ کے مستحق بن جائیں۔ رہی یہ بات کہ اللہ کی دی ہوئی یہ مہلت کب ختم ہوتی ہے اور کب اس کی آخری حد آتی ہے ‘ یوں تو اس کا علم سراسر اللہ کو ہوتا ہے ‘ لیکن اس کی آخری علامت یہ ہے کہ جب اللہ اپنے رسول کو ہجرت کرنے کا حکم دیتا ہے اور وہ اپنے دعوت کے مرکز کو چھوڑ کر کسی دوسری طرف کا رخ کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ مہلت کی آخری حد آگئی ‘ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کافروں کو زیادہ دیر دنیا میں زندہ رہنے کا موقع نہیں دیتا ‘ اگر ان کی ایک بڑی تعداد سنبھلنے میں جلدی کرے تو باقی لوگ بچ جاتے ہیں ورنہ سب عذاب کا شکار ہوتے ہیں۔ اللہ کا رسول لوگوں میں اس طرح ہوتا ہے جیسے جسم میں روح ‘ روح نکل جائے تو جسم مرجاتا ہے۔ پھر اس کو باقی رکھنے کا کوئی جواز نہیں ہوتا اسی طرح اللہ کے رسول کے ہجرت کرجانے کے بعد وہ امت چونکہ مردہ ہوجاتی ہے اس لیے اس کو ختم کردیا جاتا ہے چناچہ آنحضرت سے خطاب کر کے سورة انفال میں کہا گیا ہے کہ اے پیغمبر جب تک آپ ان میں موجود ہیں ‘ اس وقت تک ہم ان کو عذاب دینے والے نہیں اسی طرح جب تک آپ کے ساتھی ان میں اللہ کے سامنے استغفار کرنے کے لیے موجود ہیں اور وہ اللہ کا ذکر کرتے ہیں اس وقت تک بھی اللہ ان پر عذاب نہیں بھیجے گا۔ اندازہ فرمایئے کہ قوم جن سے دشمنی کرتی ہے اور جنھیں اذیتیں دیتی ہے وہی اصل میں ان کے لیے روح کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہی کی وجہ سے ان کی زندگی کا رشتہ قائم ہے بلکہ انہی کی وجہ سے ان کو رزق ملتا ہے۔ آج بھی اگر یہ امت کسی بڑے عذاب سے بچی ہوئی ہے تو اس کا سبب وہ اللہ والے اور وہ دین کی دعوت پیش کرنے والے اور وہ دین کے پڑھنے پڑھانے اور سیکھنے سکھانے والے ہیں ‘ جو تکلیفیں اور دکھ اٹھا کر بھی اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے میں کوتاہی نہیں کرتے۔ قوم بدنصیبی سے انھیں ذلیل کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑتی وہ بدنصیب امتوں کی طرح ان کو اپنا دشمن خیال کرتی ہے۔ لیکن حقیقت میں وہی ان کی زندگی ‘ ان کی سرفرازی اور ان کی بقا کے ضامن ہوتے ہیں۔ سچ کہا کسی نے ؎
جنھیں حقیر سمجھ کر بجھا دیا تم نے
وہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی
بلا شبہ کسی بات کو سمجھنے کے لیے بعض دفعہ نشانیوں کی ضرورت بھی ہوتی ہے اور اللہ کے نبیوں کی سچائی کی دلیل بالعموم امتیں معجزات کو ہی سمجھتی رہی ہیں۔ اس لیے معجزات کا طلب کرنا بھی چنداں قابل اعتراض نہیں۔ لیکن منہ مانگی نشانیوں پر اصرار کرنا یا عذاب کو دعوت دینا ‘ یہ ایک ایسی بگڑی ہوئی ذہنیت کا اظہار ہے جس کے بعد قبولیت کے دروازے بند ہوجاتے ہیں اور ہدایت سے محرومی کا فیصلہ ہوجاتا ہے۔ لیکن جہاں تک سلیم الفطرت لوگوں کا تعلق ہے ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کی ایک ایک مخلوق کو بجائے خود اپنی ذات کی نشانی بنایا ہے۔ اس لیے نصیحت حاصل کرنے والے کے لیے یہاں نشانیوں کی کوئی کمی نہیں اسی سلسلے میں ارشاد فرمایا جا رہا ہے۔
Ayah 6:38وَمَا مِنْ دَآبَّۃٍ فِی الْاَرْضِ وَلَا طٰٓئِرٍ یَّطِیْرُ بِجَنَاحَیْہِ اِلَّآ اُمَمٌاَمْثَالُکُمْ ط مَا فَرَّطْنَا فِی الْکِتٰبِ مِنْ شَیٔئٍ ثُمَّ اِلٰی رَبِّھِمْ یُحْشَرُوْنَ ۔ (الانعام : 38)
(اور کوئی جانور نہیں جو زمین پر چلتا ہو اور کوئی پرندہ نہیں جو فضا میں اپنے دونوں بازوئوں سے اڑتا ہو ‘ مگر یہ سب تمہاری ہی طرح امتیں ہیں۔ اور ہم نے اپنی کتاب میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ پھر یہ سب اپنے پروردگار کے حضور اکٹھے کیے جائیں گے)
عقل والوں کے لیے نشانیاں
اس آیت کریمہ میں بظاہر صرف جانوروں اور پرندوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ لیکن اُمَمٌاَمْثَالُکُمْ کہہ کر معلوم ہوتا ہے کہ تمام کائنات کی نشانیوں کی طرف اشارہ ہے اور توجہ دلائی گئی ہے کہ تم ایک نشانی مانگتے ہو یہ آفاق تو نشانیوں سے بھرپور ہیں۔ صرف دیکھنے والی نگاہ چاہیے۔ آسمان سے لے کر زمین تک کوئی چپہ ایسا نہیں جس میں کوئی نہ کوئی نشانی دیکھنے والی نگاہ کے لیے موجود نہ ہو ‘ ہر جگہ دل کو کھینچنے ‘ آنکھوں کو بیدار کرنے اور کانوں کو کھولنے کے لیے دل فریب مناظر ‘ بےحجاب جلوے اور شیریں نغمے موجود ہیں۔ باقی کائنات کو تو چھوڑیئے صرف زمین ہی کو دیکھتے ہیں تو دیکھتے ہی رہ جاتے ہیں۔ کہ اس کی سطح پھلوں اور پھولوں سے لدی ہوئی ہے۔ اس کی تہہ میں آب شیریں کی سوتیں بہہ رہی ہیں۔ گہرائی سے سونا چاندی نکل رہا ہے۔ سائے کے لیے درخت سر اٹھائے کھڑے ہیں۔ چلنے پھرنے کے لیے سبزے کا ایک مخملیں فرش بچھا دیا گیا ہے۔ آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے سبزے کی چادریں بچھا دی گئی ہیں۔ پھولوں میں رنگ و حسن پیدا کردیا گیا ہے۔ میدانوں کے اکتائے ہوئے لوگوں کے لیے سربفلک پہاڑ اٹھا دیئے ہیں ‘ ان میں آبشاریں ہیں جو سینوں کو مسرت سے بھرے دے رہی ہیں۔ اس میں قسم قسم کے درخت ہیں جن کی حسن افروزی اپنی ایک شان رکھتی ہے۔ پھر باغ و انہار ہیں ‘ سبزیاں ہیں ‘ پھل ہیں ‘ قسم قسم کی بیلیں ہیں ‘ پھر زمین کے چارپائے ‘ فضا کے پرند ‘ پانی کی مچھلیاں ‘ یہ سب کیا ہے ؟ ظاہر ہے یہ ساری چیزیں انسان کی ضرورت کے لیے ضروری نہیں تھیں۔ انسان کے لیے لکڑی کی ضرورت تھی۔ لیکن کیا ضروری تھا کہ درختوں کو چھتریاں بنادیا جاتا ‘ انسان کو غلے کی ضرورت تھی لیکن لہلہاتی فصل کو نقرئی لباس پہنانے کی کیا ضرورت تھی۔ پرندے گوشت کے لیے ضروری سہی لیکن ان کی خوبصورت آوازیں ‘ کوئل کی کو ک ‘ مور کا ناچ ‘ پپی ہے کی پی ‘ چڑیوں کے چہچ ہے اور عام پرندوں کے ترانے یہ تو انسان کی ضرورت نہ تھے اور اگر آسمان کی طرف دیکھا جائے تو ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ہم پر ایک چھت تانی گئی ہے۔ لیکن ستاروں کا نظام اور ان کی سیر و گردش ‘ سورج کی روشنی اور اس کی بو قلمونی ‘ چاند کی گردش اور اس کا اتار چڑھائو ‘ فضائے آسمانی کی وسعت اور اس کی نے نیرنگیاں ‘ بارش کا سماں اور اس کے تغیرات یہ سب کیا ہے ؟
سورة النحل کی آیت نمبر 65 تا 69 میں کائنات کی ہم آہنگی کے حوالے سے بعض نشانیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ جو ہمارے روز مرہ کی چیزیں ہیں۔ اور انسان ہدایت پانا چاہے تو یہ اس کی ہدایت کے لیے کافی ہیں۔ ہم اس کا ترجمہ نقل کرتے ہیں :
” اللہ ہی نے آسمان سے پانی اتارا۔ پھر اس سے زمین کو زندہ کیا اس کے خشک ہوجانے کے بعد۔ بیشک اس میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانی ہے جو بات کو سنتے ہیں اور بیشک تمہارے لیے چوپایوں میں بڑا سبق ہے۔ ہم ان کے پیٹوں کے اندر کے گوبر اور خون کے درمیان سے تم کو خالص دودھ پلاتے ہیں۔ پینے والوں کے لیے نہایت خوشگوار اور کھجوروں اور انگوروں کے پھلوں سے بھی۔ تم ان سے نشہ کی چیزیں بھی بناتے ہو اور کھانے کی اچھی چیزیں بھی۔ بیشک اس کے اندر بڑی نشانی ہے۔ ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں اور تمہارے رب نے شہد کی مکھی پر القا کیا کہ تو پہاڑوں اور درختوں اور لوگ جو چھتیں اٹھاتے ہیں ان میں چھتے بنا ‘ پھر ہر قسم کے پھلوں، پھولوں سے رس چوس ‘ پھر اپنے پروردگار کے ہموار راستوں پر چل۔ اس کے پیٹ سے مشروب نکلتا ہے۔ جس کے رنگ مختلف ہوتے ہیں اس میں لوگوں کے لیے شفا ہے۔ بیشک اس کے اندر بڑی نشانی ہے۔ ان لوگوں کے لیے جو غور کرتے ہیں “۔
ان آیات میں اس عالم کی ہمہ گیر ہم آہنگی کی طرف اشارات ہیں۔ بادلوں سے پانی برستا ہے ‘ اس سے زمین لہلہا اٹھتی ہے ‘ اس کی نباتات کو چوپائے چرتے ہیں ان سے ان کے اندر دودھ بنتا ہے۔ آلائشوں اور خون کے اندر سے سفید دودھ کی دھاریں نکلتی ہیں اور یہ دودھ پینے والوں کے لیے نہایت لذیذ اور قوت بخش غذا کا کام دیتا ہے پھر اسی بارش کے پرورش کیے ہوئے انگور اور کھجور کے پھلوں سے انسان اپنی لذت اور ضرورت کی طرح طرح کی چیزیں پیدا کرلیتا ہے۔ پھر شہد کی مکھیاں ہیں جو پہاڑوں کی بلندیوں پر ‘ درختوں کی شاخوں پر ‘ انگور کی ٹٹیوں میں اپنا چھتہ بنا لیتی ہیں۔ پھول پھول کے رس چوس کر ان کو جمع کرتی ہیں۔ جن کے رنگ بھی مختلف اور مزے بھی مختلف۔ انسان ان کو نوش جان کرتا ہے۔ ان سے لذت بھی حاصل کرتا ہے اور بیماریوں میں شفا بھی ‘ ان مناظر کو جو شخص بھی دیدہ عبرت سے دیکھے گا کس طرح باور کرسکتا ہے کہ یہ دنیا اور اس کے یہ تمام حیرت انگیز مظاہر بالکل ایک حادثے کی طرح ظہور میں آگئے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ جس طرح ہم ایک فطرت رکھتے ہیں اسی طرح یہ حیوانات بھی ایک مخصوص جبلت رکھتے ہیں۔ جس طرح ہم شعور ‘ ادراک اور جذبات رکھتے ہیں اسی طرح جانور اور حیوانات اپنے جبلی تقاضوں اور اپنے منشاء تقدیر کے اعتبار سے اپنے اندر شعور ‘ ادراک اور جذبات رکھتے ہیں۔ جس طرح ہمارے اجتماعی شعور نے بعض آثار و نتائج کو جنم دیا ہے اور اس سے بعض حیرت انگیز ادارے وجود میں آئے ہیں۔ اسی طرح جانوروں کی زندگی میں بھی ہمیں اس اجتماعی شعور کی جھلک ملتی ہے۔ ان کے ایک سیاسی نظام کا بھی احساس ہوتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اجتماعی زندگی میں ہر فرد اپنا حصہ ادا کر رہا ہے اسے سمجھنا ہو تو چیونٹیوں کی زیر زمین زندگی کو مطالعہ کرنا چاہیے اور اسی طرح مکھی کے اجتماعی تحفظ کے انتظامات کو دیکھنا چاہیے۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ مستقبل کے حالات سے عہدہ برآ ہونے کے لیے ان کے اندر کیسی پیش بینی پائی جاتی ہے۔ جماعتی فرائض کا کیسا شدید احساس ہے ‘ کیسی اعلیٰ تقسیمِ کار ہے بلکہ بعض دفعہ تو بعض مخلوقات میں ایسی حیرت انگیز صلاحیتوں کا سراغ ملتا ہے جس سے آدمی ششدر رہ جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سمندر میں یوں تو مچھلیوں کی بیشمار انواع ہیں لیکن ان میں خاص طور پر دو طرح کی مچھلیوں کا سفر بہت حیرت انگیز ہے۔
-1 سامن مچھلی :
یہ اگر کسی ندی میں پیدا ہو تو جوان ہونے کے بعد یہ پہلے دریا میں اور وہاں سے سمندر میں چلی جاتی ہے۔ وہاں مدتوں رہتی ہے اور جب اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس کی موت قریب آگئی ہے تو وہ واپس چل پڑتی ہے۔ یہ سمندر اور دریا سے ہوتی ہوی ندی کے اس مقام پر جا رکتی ہے جہاں وہ پیدا ہوئی تھی۔ اگر دوران سفر وہ کسی غلط ندی کی طرف مڑ جائے تو اسے فوراً اپنی غلطی کا احساس ہوجاتا ہے اور واپس آجاتی ہے۔
-2 ایل مچھلی :
یہ کسی ندی میں ہو یا دریا میں جوان ہونے کے بعد اپنے وطن سے چل پڑتی ہے اور ہزاروں میل دور جزائر برمودہ (اوقیانوس) میں چلی جاتی ہے۔ وہاں بچے دے کر مرجاتی ہے۔ یہ بچے وہاں سے چل کر اپنی ماں کے وطن میں آجاتے ہیں اور وہاں سے پھر جزائر برمودہ میں پہنچ کر پہلے بچے دیتے ہیں بعد ازاں مرجاتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب کچھ آپ سے آپ وجود میں آگیا ہے اور اپنے ہی بل پر چل رہا ہے یا اس کے پیچھے کوئی خالق و مدبر ہے ؟ اگر اس کے پیچھے کوئی خالق و مدبر ہے تو کیا وہ سب کچھ بنا کر ایک گوشہ میں بےتعلق ہو کر بیٹھ گیا ہے یا براہ راست اس پوری کائنات کی حفاظت فرما رہا ہے ؟ کیا یہ سب کچھ کسی اندھی بہری قوت قاہرہ کا ظہور ہے یا کسی قدیر وقیوم ‘ علیم و حکیم اور رحمان و رحیم ہستی کی قدرت و رحمت کا فیضان ہے ؟ کیا یہ مختلف ارادوں ‘ متضاد قوتوں اور بیشمار دیویوں دیوتائوں کی ایک رزم گاہ ہے یا ایک ہی خدائے وحدہٗ لا شریک کی قدرت و حکمت اور اس کی رحمت و ربوبیت کی ایک جلوہ گاہ ہے ؟ کیا یہ سارا کارخانہ بالکل بےمقصد ‘ بےغایت اور بےانجام نظر آتا ہے یا اس کی ایک ایک چیز پکار پکار کر شہادت دے رہی ہے کہ اس کے پیچھے ایک عظیم غایت ہے جس کا ظہور قطعی اور یقینی ہے ؟ کیا اس کے ظاہر و باطن سے یہ شہادت مل رہی ہے کہ انسان اس کے اندر شتر بےمہار بنا کر چھوڑ دیا گیا ہے کہ کھائے پیئے ‘ عیش کرے اور ایک دن ختم ہوجائے یا اس سے یہ شہادت مل رہی ہے کہ جس قادرنے یہ دنیا بنائی ہے ‘ جس حکیم نے اس کے ایک ایک ذرے میں اپنی حکمت کی شان دکھائی ہے ‘ جس رحیم نے اپنی ربوبیت و رحمت کے یہ خوان نعمت بچھائے ہیں ‘ وہ ایک دن سب کو ضرور اکٹھا کرے گا اور ہر ایک کی نیکی ‘ بدی کو ضرور تولے گا اور پھر اس کے مطابق اس کے ساتھ معاملہ کرے گا ؟
انسان کی فطرت اگر مسخ اور اس کی عقل اگر مفلوج نہ ہوگئی ہو تو وہ اس اعتراف پر مجبور ہے کہ ان سب باتوں میں سے دوسری ہی بات صحیح ہے۔ اگر یہی صحیح ہے اور بدیہی طور پر یہی صحیح ہے تو قرآن اسی کو ماننے کی دعوت دے رہا ہے۔ پھر اس کو ماننے کے لیے کسی معجزے کی کیا ضرورت ہے۔ اس حقیقت کی شہادت تو اس کائنات کا ذرہ ذرہ دے رہا ہے۔ زمین پر چلنے والا ہر جاندار اور فضا میں اڑنے والا ہر پرندہ اس کا گواہ ہے۔ اگر انسان اپنے وجود کے اندر کی شہادتوں سے آنکھیں بند کیے ہوئے ہے تو باہر کی ان نشانیوں ہی کو آنکھیں کھول کر دیکھ لے جو نیچے بھی موجود ہیں اور اوپر بھی۔
اس آیت کریمہ کے آخری دو جملوں میں مزید دو باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ جس طرح یہ صحیفہ کائنات مختلف لانواع نشانیوں سے لبریز ہے جس میں مشاہداتی نشانیاں بھی ہیں ‘ علمی بھی ‘ آفاقی بھی ہیں ‘ انفسی بھی ‘ تاثراتی بھی ہیں ‘ انفعالی بھی ‘ ذہنی بھی ہیں اور ذوقی بھی۔ ہر طرح کا فرد اپنے اپنے ذوق اور اپنی اپنی استعداد کے مطابق فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ اسی طرح کتاب خداوندی یعنی قرآن کریم بھی ہر طرح کے دلائل اور ہر طرح کی نشانیوں سے بھرپور ہے۔ اللہ کے وجود اس کی وحدانیت انسان کی اصل حیثیت اور اس کی عبدیت ‘ کائنات سے انسان کا رشتہ ‘ خود پروردگار سے اس کے رشتے کی نزاکت ‘ شریعت بطور انسانی ضرورت اور اللہ کی ہدایت اور راہنمائی کی طلب اور حاجت ان میں سے کوئی بات ایسی نہیں جس پر قرآن کریم نے مختلف اسالیب کے ساتھ اور مختلف انداز میں دلائل کا ایک انبار نہ لگایا ہو۔ اسی کے بارے میں ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ ہم نے کتاب میں یعنی قرآن کریم میں دلائل کی حد تک کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ لیکن جن لوگوں نے خود کشی کا ارادہ کرلیا ہے اور ہدایت سے منہ موڑ کر محرومی اپنا مقدر بنا چکے ہیں ان کو نہ صحیفہ کائنات کوئی فائدہ پہنچا سکتا ہے اور نہ صحیفہ قرآن۔ اس لیے اے پیغمبر یہ لوگ اگر اسلام قبول نہیں کرتے تو آپ زیادہ پریشان نہ ہوں۔
دوسری بات یہ ارشاد فرمائی کہ یہ چونکہ ہر طرح کی نشانی سے آنکھیں بند کر کے اپنے آپ کو ہدایت سے محروم کرچکے ہیں۔ اب تو ایک ہی بات کہی جاسکتی ہے کہ جب یہ اپنے رب کی طرف لے جائے جائیں گے اور قیامت کے دن بارگاہ خداوندی میں ان کی حاضری ہوگی۔ تب ان کی آنکھیں کھلیں گی کہ دنیا میں مسلسل ہدایت سے منہ پھیر کر ہم نے کس طرح اپنی تباہی کو دعوت دی اور آج وہ تباہی ہمارے سامنے کھڑی ہے۔ لیکن اس وقت ان کا آنکھیں کھولنا اور اپنے کیے پر پچھتانا ان کے کسی کام نہیں آئے گا۔ اس لیے کہ وہ تو دار الجزاء ہے دارالعمل کا دور تو بیت گیا۔
اگلی آیت کریمہ میں ان کی اس محرومی اور بدنصیبی کا سبب بیان کیا گیا ہے۔
Ayah 6:39ارشاد فرمایا :
وَالَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا صُمٌّوَّ بُکْمٌفِی الظُّلُمٰتِ ط مَنْ یَّشَاِ اللہ ُ یُضْلِلْہٗ ط وَمَنْ یَّشَاْ یَجْعَلْہُ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ۔ (الانعام : 39)
(اور جنھوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا یہ بہرے اور گونگے تاریکیوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے ‘ اور جسے چاہتا ہے اسے سیدھی راہ پر لگا دیتا ہے)
کچھ لوگوں میں قبول حق کی صلاحیت سلب ہوجاتی ہے
یعنی یہ لوگ جو رسول اللہ ﷺ کی انتہائی موثر دعوت اور قرآن کریم کا معجزانہ بیان اور کائنات میں ہر طرف بکھری ہوئی نشانیاں دیکھ کر راہ ہدایت اختیار نہیں کرتے بلکہ ان کا انکار عناد کی صورت اختیار کر گیا ہے ان کی مخالفت دشمنی میں تبدیل ہوگئی ہے اور ہر صحیح اور حق بات انھیں گالی سنائی دیتی ہے۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ جن بنیادی صلاحیتوں کی وجہ سے آدمی اپنی غلطی کو سمجھتا یا صحیح بات کو قبول کرتا ہے یہ ان تمام بنیادی صلاحیتوں سے حتیٰ کہ احساسات سے بھی عاری ہوگئے ہیں کیونکہ کسی بات کو سمجھنے کے لیے تین باتوں کی ضرورت ہے۔ پہلی یہ بات کہ جب اسے کوئی صحیح بات سمجھائی جائے تو وہ گوش ہوش سے سنے اور کھلے دل سے قبول کرے۔ لیکن جو آدمی سننے سے ہی انکار کر دے ‘ اسے ظاہر ہے دنیا کی کوئی طاقت ہدایت نہیں دے سکتی۔
دوسری بات جس کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ آدمی کے اندر صحیح بات کی طلب پیدا ہو اور وہ اسے جاننے کے لیے دوسرے سے خودپوچھے یا اسے اگر کوئی بات سمجھائی جائے اور اسے کوئی بات سمجھ نہیں آتی یا اس کے ذہن میں کوئی سوال یا اشتباہ پیدا ہوتا ہے تو اسے دور کرنے کے لیے خود زبان کھولے۔ لیکن جو آدمی نہ خود پوچھے نہ جاننے کی کوشش کرے نہ اس کے اندر اس کی طلب پیدا ہو ظاہر ہے ایسے آدمی کو کون سمجھا سکتا ہے۔
تیسری بات جس کی ضرورت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ آدمی جہالت اور تاریکی کے ماحول سے نکل کر روشنی اور علم کے ماحول کو اختیار کرے۔ وہ بجائے تاریکی سے پیار کرنے کے روشنی سے پیار کرے اور جہاں جہاں بھی اے روشنی دکھائی دے یا جہاں سے اسے روشنی مل سکتی ہو ‘ دیوانہ وار اس کی طرف لپکے۔ لیکن اگر اسے روشنی سے نفرت ہوجائے اور وہ تاریکی ہی میں رہنا پسند کرے یعنی علم سے اس کو نفور ہو اور جہالت سے محبت تو ایسے آدمی کو بھی راہ راست دکھانا بہت مشکل کام ہے۔ اس آیت میں فرمایا گیا ہے کہ جو لوگ ہماری آیات کی تکذیب کر رہے ہیں اور وہ کسی طرح بھی ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ‘ غور سے دیکھو وہ بہرے ہیں کہ آپ کی دعوت کو سن نہیں سکتے اور گونگے ہیں کہ آپ سے کچھ پوچھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ تاریکیوں میں ڈوبے ہوئے ہیں کہ نہ روشنی کی کوئی کرن ان تک پہنچ سکتی ہے اور نہ وہ خود روشنی تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں وہ اگر اللہ کی آیات کی تکذیب کر رہے ہیں اور ہدایت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں تو اے پیغمبر ! آپ ان کے بارے میں ہرگز پریشان نہ ہوں وہ بالکل اس قابل نہیں ہیں کہ وہ آپ کی باتیں سن کر سمجھ سکیں اور پھر اسے قبول کر کے ایمان کی دولت سے بہرہ ور ہوں کیونکہ وہ ان بنیادی صلاحیتوں سے محروم ہوچکے ہیں۔ ممکن ہے آپ کے ذہن میں یہ خیال پیدا ہو کہ آخر وہ اس صورت حال سے دوچار کیوں ہوئے اور کیوں اپنے بنیادی صلاحیتیں کھو بیٹھے ؟ کیا وہ پیدائشی طور پر معذور لوگ تھے یا وہ کسی سبب سے اس انجام کو پہنچے ؟ چناچہ اس حوالے سے اسی آیت کریمہ کے دوسرے حصے میں اللہ تعالیٰ اپنی اس سنت کی طرف اشارہ فرما رہے ہیں جو قرآن کریم میں متعددمواقع پر ذکر کی گئی ہے۔ اللہ کی سنت یہ ہے کہ اس نے انسان کو حواس خمسہ اور عقل کے جوہر سے نوازا ہے۔ اس کے گرد و پیش میں اور خود اس کی فطرت کے اندر اپنی ذات کے عرفان کے لیے نشانیاں رکھی ہیں تاکہ ان سے کام لے کر آدمی اللہ کی معرفت حاصل کرسکے اور اللہ کے دیئے ہوئے طریقے کو اختیار کرسکے۔ پھر اللہ نے مزید کرم یہ فرمایا کہ صرف اسی پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ انسانی ہدایت اور اس کی راہنمائی کے لیے اپنی کتابیں اتاریں ‘ اپنے رسول بھیجے اور انھوں نے سال ہا سال تک انسانی ہدایت کے لیے جان توڑ کوشش کی۔ جب ان تمام امکانات اور کوششوں کے باوجود ایک آدمی را ہِ راست اختیار نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ اسے ایک خاص حد تک ان صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے مہلت دیتے ہیں۔ آخر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ اسے ان صلاحیتوں سے محروم کردیا جاتا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو دل پر مہر لگانا کہا جاتا ہے اور جو آگے بڑھ کر ان تمام امکانات سے فائدہ اٹھاتا ہے ‘ اللہ کے رسول کی دعوت کو قبول کرتا ہے اللہ اس کے لیے صراط مستقیم کھول دیتے ہیں اور وہ ہدایت کا راستہ پا لیتا ہے۔ یہ اس کی سنت ہے یہ لوگ اس سنت کی گرفت میں ہیں۔ رہی یہ بات کہ ہدایت کی طرف چلنے والے کو اللہ کس طرح توفیق سے نوازتا ہے اور مسلسل انکار کرنے والے کو کس طرح محروم کرتا اور راہ راست سے بھٹکاتا ہے۔ اس کو مختصر طور پر یوں سمجھ لیجئے خدا کا بھٹکانا یہ ہے کہ ایک جہالت پسند انسان کو آیات الٰہی کے مطالعہ کی توفیق نہ بخشی جائے اور ایک متعصب غیر حقیقت پسند طالب علم اگر آیات الٰہی کا مشاہدہ کرے بھی تو حقیقت رسی کے نشانات اس کی آنکھ سے اوجھل رہیں اور غلط فہمیوں میں الجھانے والی چیزیں اسے حق سے دور سے دور تر کھینچتی چلی جائیں۔ بخلاف اس کے اللہ کی ہدایت یہ ہے کہ ایک طالب حق کو علم کے ذرائع سے فائدہ اٹھانے کی توفیق بخشی جائے اور اللہ کی آیات میں اسے حقیقت تک پہنچنے کے نشانات ملتے چلے جائیں۔ ان تینوں کیفیتوں کی بکثرت مثالیں آئے دن ہمارے سامنے آتی رہتی ہیں۔ بکثرت انسان ایسے ہیں جن کے سامنے آفاق اور انفس میں اللہ کی بیشمار نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں۔ مگر وہ جانوروں کی طرح انھیں دیکھتے ہیں اور کوئی سبق حاصل نہیں کرتے اور بہت سے انسان ہیں جو حیوانات (Zoology) ‘ نباتات (Botany) ‘ حیاتیات (Biology) ‘ ارضیات (Geology) ‘ فلکیات (Astronomy) ‘ عضویات (Physiology) ‘ علم التشریح (Anatomy) اور سائنس کی دوسری شاخوں کا مطالعہ کرتے ہیں ‘ تاریخ ‘ آثار قدیمہ اور علوم اجتماع (Social Sciences) کی تحقیق کرتے ہیں اور ایسی ایسی نشانیاں ان کے مشاہدے میں آتی ہیں جو قلب کو ایمان سے لبریز کردیں۔ مگر چونکہ وہ مطالعہ کا آغاز ہی تعصب کے ساتھ کرتے ہیں اور ان کے پیش نظر دنیا اور اس کے فوائد و منافع کے سوا کچھ نہیں ہوتا اس لیے اس مشاہدہ کے دوران میں ان کو صداقت تک پہنچانے والی کوئی نشانی نہیں ملتی ‘ بلکہ جو نشانی بھی سامنے آتی ہے وہ انھیں الٹی دہریت ‘ الحاد ‘ مادہ پرستی اور نیچریت ہی کی طرف کھینچ لے جاتی ہے۔ ان کے مقابلہ میں ایسے لوگ بھی ناپید نہیں ہیں جو آنکھیں کھول کر اس کارگاہِ عالم کو دیکھتے ہیں اور ان کا حال یہ ہے کہ
برگِ درختانِ سبز در نظر ہوشیار
ہر ورقے دفتریست معرفتِ کردگار
گزشتہ آیت کریمہ میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ مشرکین مکہ نے رسول اللہ سے عذاب لانے کا مطالبہ کیا تھا اور مختلف وقتوں میں وہ قیامت کا مذاق تو اڑاتے ہی رہتے تھے۔ اگلی آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ان کے اسی مطالبے کو ایک خوبصورت دلیل انفسی کی صورت میں توحید کی دلیل کے طور پر پیش کیا ہے اور ان کی گمراہی کو اس طرح مبرہن کردیا ہے کہ جس کا جواب دینا ان کے لیے ممکن نہیں۔
Ayahs 6:40–41ارشاد فرمایا :
قُلْ اَرَئَیْتَکُمْ اِنْ اَتٰکُمْ عَذَابُ اللہِ اَوْ اَتَتْکُمْ السَّاعَۃُ اَغَیْرَ اللہِ تَدْعُوْنَ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔ بَلْ اِیَّاہُ تَدْعُوْنَ فَیَکْشِفُ مَا تَدْعُوْنَ اِلَیْہٖ اِنْ شَآئَ وَ تَنْسَوْنَ مَا تُشْرِکُوْنَ ۔ (الانعام : 40۔ 41)
(ذرا غور کر کے بتائو ! اگر کبھی تم پر اللہ کی طرف سے کوئی عذاب آئے یا قیامت تم پر آپہنچے تو کیا اس وقت تم اللہ کے سوا کسی اور کو پکارو گے ؟ بولو اگر تم سچے ہو۔ اس وقت تم اللہ ہی کو پکارو گے پھر وہ اگر چاہے گا تو اس مصیبت کو تم پر سے ٹال دے گا۔ ایسے موقعوں پر تم اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو بھول جاتے ہو )
توحید ہر نفس کے اندر موجود ہے
گزشتہ آیت میں ارشاد ہوا تھا کہ تم ایک نشانی کا مطالبہ کرتے ہو اور حال یہ ہے کہ تمہارے گرد و پیش میں ہر طرف نشانیاں ہی نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں۔ اس سلسلہ میں پہلے مثال کے طور پر حیوانات کی زندگی کے مشاہدہ کی طرف توجہ دلائی گئی۔ اس کے بعد اب ایک دوسری نشانی کی طرف اشارہ فرمایا جا رہا ہے جو خود منکرینِ حق کے اپنے نفس میں موجود ہے۔ جب انسان پر کوئی بڑی آفت آجاتی ہے یا موت اپنی بھیانک صورت کے ساتھ سامنے آکھڑی ہوتی ہے اس وقت ایک اللہ کے دامن کے سوا کوئی دوسری پناہ گاہ اسے نظر نہیں آتی۔ بڑے بڑے مشرک ایسے موقع پر اپنے معبودوں کو بھول کر خدائے واحد کو پکارنے لگتے ہیں۔ غالی سے غالی دہریہ بھی اللہ کے آگے دعا کے لیے ہاتھ پھیلا دیتا ہے۔ اسی نشانی کو یہاں حق نمائی کے لیے پیش کیا جا رہا ہے کیونکہ یہ اس بات پر دلیل ہے کہ خدا پرستی اور توحید کی شہادت ہر انسان کے نفس میں موجود ہے ‘ جس پر غفلت و جہالت کے خواہ کتنے ہی پردے ڈال دیئے گئے ہوں ‘ مگر پھر بھی کبھی نہ کبھی وہ ابھر کر سامنے آجاتی ہے۔ ابوجہل کے بیٹے عکرمہ کو اسی نشانی کے مشاہدے سے ایمان کی توفیق نصیب ہوئی۔ جب مکہ معظمہ نبی ﷺ کے ہاتھ پر فتح ہوگیا تو عکرمہ جدہ کی طرف بھاگے اور ایک کشتی پر سوار ہو کر حبش کی راہ لی۔ راستہ میں سخت طوفان آیا اور کشتی خطرہ میں پڑگئی۔ اول اول تو دیویوں اور دیوتائوں کو پکارا جاتا رہا۔ مگر جب طوفان کی شدت بڑھی اور مسافروں کو یقین ہوگیا کہ اب کشتی ڈوب جائے گی تو سب کہنے لگے کہ یہ وقت اللہ کے سوا کسی کو پکارنے کا نہیں ہے ‘ وہی چاہے تو ہم بچ سکتے ہیں۔ اس وقت عکرمہ کی آنکھیں کھلیں اور ان کے دل نے آواز دی کہ اگر یہاں اللہ کے سوا کوئی مددگار نہیں تو کہیں اور کیوں ہو ؟ یہی تو وہ بات ہے جو اللہ کا وہ نیک بندہ ہمیں بیس برس سے سمجھا رہا ہے اور ہم خواہ مخواہ اس سے لڑ رہے ہیں۔ یہ عکرمہ کی زندگی میں فیصلہ کن لمحہ تھا۔ انھوں نے اسی وقت اللہ سے عہد کیا کہ اگر میں اس طوفان سے بچ گیا تو سیدھا محمد ﷺ کے پاس جاؤں گا اور ان کے ہاتھ میں ہاتھ دے دوں گا۔ چناچہ انھوں نے اپنے اس عہد کو پورا کیا اور بعد میں آکر نہ صرف مسلمان ہوئے بلکہ اپنی بقیہ عمر اسلام کے لیے جہاد کرتے گزار دی اور خلعت شہادت سے سرفراز ہوئے۔