6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsروح القرآن

Ayah 6:3

وَ هُوَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ فِی الْاَرْضِ١ؕ یَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَ جَهْرَكُمْ وَ یَعْلَمُ مَا تَكْسِبُوْنَ Open ayah 6:3 in the Quran reader

اور وہی اللہ آسمانوں میں بھی ہے اور زمین میں بھی ‘ وہ تمہارے خفیہ اور علانیہ کو جانتا ہے اور جو کمائی تم کر رہے ہو اسے بھی جانتا ہے

آیات کا مرکزی مضمون سورة انعام کی پہلی دو آیتوں میں توحید اور آخرت پر جو مضبوط دلائل دیئے گئے ‘ اس کے بعد کسی اشتباہ کی گنجائش رہتی ہے نہ انکار کی۔ اس لیے کہ اہل دانش کے لیے بھی اس میں غور و فکر کا پورا سامان فراہم کردیا گیا ہے اور عام لوگوں کے لیے خودان کے مسلمات کو دلیل بنا کر اس کے لازمی نتائج کو ان کے سامنے واضح کردیا گیا ہے۔ مگر اس کا کیا کیا جائے ضدی اور متعصب طبیعتیں ‘ بجائے عقل و دانش کی بات ماننے کے ‘ اپنے تعصبات کی اس حد تک اسیر ہوتی ہیں کہ جلدی کوئی بات ان کے دل و دماغ میں اترنے نہیں پاتی۔ جب وہ دلائل کی دنیا میں اپنے آپ کو بےبس محسوس کرتی ہیں تو قسم قسم کے شبہات کا اظہار کر کے اپنے تعصبات کو پختہ کرنے اور صحیح بات کی قبولیت کے سامنے دیوار کھڑی کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ یہاں بھی مشرکینِ مکہ ایسی ہی کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔ وہ توحید کے دلائل کا رد تو نہیں کرسکے اور نہ آخرت کا جواب دینا ان کے لیے ممکن رہا۔ لیکن دونوں حوالوں سے انھوں نے اپنے اشتباہات کا ذکر کیا ہے اور اپنے تئیں انھوں نے یہ سمجھا کہ ایسے اشتباہات کی موجودگی میں ہم اللہ کی وحدانیت اور قیامت کے وقوع پذیر ہونے کو کیسے مان سکتے ہیں۔ چناچہ دونوں حوالوں سے جو انھوں نے اعتراضات اور اشتباہات پیش کیے ‘ ان کا خلاصہ یہ ہے کہ انھوں نے پروردگار عالم کو بھی دنیوی بادشاہوں پر قیاس کیا اور یہ خیال کیا کہ جس طرح دنیا کا کوئی بادشاہ مرکز سے دور دراز علاقوں میں خود آجا نہیں سکتا اور براہ راست ان علاقوں کی نگرانی کرنا اور وہاں کے انتظامات کی دیکھ بھال کرنا ‘ اس کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ اس لیے تمام بادشاہوں کا طریقہ یہ ہے کہ وہ دور دراز علاقوں میں اپنے صوبیدار مقرر کرتے ہیں یا اپنے نمائندے بھیج کر ان علاقوں کے انتظامی معاملات کو چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یقینا اللہ تعالیٰ بھی ایسی ہی حدود میں محدود رہ کر کائنات کا نظام چلا رہا ہے۔ آسمانوں اور زمین کے درمیان بےحد و حساب فاصلہ ہے ‘ وہ چونکہ آسمانوں پر مقیم ہے ‘ اس لیے کیسے ممکن ہے کہ اپنے مرکز سے نہایت دور فاصلے پر واقع اس زمین کے کرہ کی اور اس پر بسنے والی انسانی مخلوق کی ‘ وہ خود نگرانی کرسکے ‘ ان کی ضروریات کا خیال کرسکے اور تمام ضروری معاملات کو نبٹا سکے ؟ یقینا اس نے بھی زمین کے انتظامات چلانے کے لیے اپنے کچھ نمائندے مقرر کر رکھے ‘ ہیں جن کو اس نے کچھ اختیارات سونپ رکھے ہیں۔ چناچہ کوئی ان میں لوگوں کے رزق کا سامان کر رہا ہے ‘ کوئی اولاد عطا کرنے پر لگا ہوا ہے ‘ کوئی مصیبتوں کو دور کرتا ہے ‘ کوئی بارشیں برساتا ہے۔ اس لیے اگر ہم اپنی ان ضرورتوں کو پورا کرنا چاہتے ہیں تو لازم ہے کہ اللہ کے ان کارندوں یا نمائندوں کو ہم براہ راست خوش کرنے کی کوشش کریں ‘ ان کا ذکر کریں ‘ ان کی پوجا پاٹ کریں ‘ ان کے نام پر قربانیاں دیں ‘ ان کے سامنے دست دعا پھیلائیں اور اس میں شرک کی ایسی کوئی بات نہیں کیونکہ یہ اللہ ہی کے مقرر کردہ لوگ ہیں۔ بڑی ذات وہی ہے اور اسی بڑی ذات نے ان کو اپنے اختیارات میں شریک کر رکھا ہے ‘ انہی اشتباہات کے جوابات ان آیات میں دئیے گئے ہیں۔ وَھُوَ اللہ ُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ فِی الْاَرْضِط یَعْلَمُ سِرَّکُمْ وَ جَھْرَکُمْ وَ یَعْلَمُ مَا تَکْسِبُوْنَ ۔ (الانعام : 3) (اور وہی اللہ آسمانوں میں بھی ہے اور زمین میں بھی ‘ وہ تمہارے خفیہ اور علانیہ کو جانتا ہے اور جو کمائی تم کر رہے ہو اسے بھی جانتا ہے) زمین و آسمان کا صرف ایک ” الٰہ “ ہے وَھُوَ اللہ ُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ فِی الْاَرْضِط ” اور وہی اللہ آسمانوں میں بھی ہے اور زمین میں بھی “۔ یعنی تم غلط سمجھے ہو کہ آسمان پر اس کی حکمرانی ہے اور زمین پر کسی اور کی۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح وہ آسمانوں پر پورے جاہ و جلال اور مکمل اختیارات کے ساتھ حکمرانی کر رہا ہے ‘ اسی طرح زمین پر بھی کر رہا ہے۔ ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا : وَھُوَ الَّذِیْ فِی السَّمَآئِ اِلٰہٌ وَّ فِی الْاَرْضِ اِلَہٌط وَھُوَ الْحَکِیْمٌالْعَلِیْمُ (الزخرف : 84) وہی ہے جو آسمان کا بھی معبود ہے اور وہی زمین کا بھی معبود ہے اور وہ علیم و حکیم ہے۔ آیت کے اس ٹکڑے میں صرف یہی بات نہیں کہ ان کے اس فاسد خیال کا ازالہ کیا گیا ہے کہ زمین اور آسمان دونوں کا الہ ایک نہیں ہوسکتا کیونکہ اتنے دور دراز فاصلوں کا وہ انتظام نہیں چلا سکتا بلکہ اس میں دونوں کا الہ اور معبود ہونے کی دلیل بھی دی گئی ہے۔ دلیل یہ ہے کہ اگر آسمان اور زمین دونوں کا خدا ایک نہ ہوتا بلکہ آسمان کا خدا اور ہوتا اور زمین کا اور تو یہ دونوں کبھی قائم نہ رہ سکتے کیونکہ زمین و آسمان میں کائنات کے مجموعی مقاصد کو بروئے کار لانے کے لیے جو ہم آہنگی سازگاری اور موافقت رکھی گئی ہے ‘ وہ ان دونوں میں ایک خدا کے وجود اور ایک ہی خدا کے ارادہ کے کارفرما ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ اگر دونوں کے خدا جدا جدا ہوتے تو دو ہی صورتیں ممکن تھیں یا تو دونوں برابر کے اختیارات رکھتے مگر برابر کے اختیارات رکھنے والوں میں یہ کبھی ممکن نہیں ہوتا کہ ان میں تصادم نہ ہو۔ زمین اگر قوت روئیدگی کو بروئے کار لانا چاہتی تو آسمان اپنے اثرات کو روک لیتا اور آسمان اگر کرم فرمائی کرتا تو زمین اس کے سامنے اپنا سینہ بند کرلیتی۔ نتیجہ یہ ہوتا کہ اس زمین پر گھاس کا ایک تنکا نہ اگتا۔ زمین کی ضرورت ہوتی کہ آسمان سے پانی برسے اور آسمان کا خدا اس پر آگ برساتا۔ اہل زمین روشنی اور دھوپ کے محتاج ہوتے اور آسمان میں چمکنے والاسورج اپنی روشنی روک لیتا۔ غرضیکہ ایک دوسرے سے عدم تعاون اور دونوں جگہ مختلف ارادوں کی کارفرمائی اور اس کے نتیجے میں ہونے والا یقینی تصادم ‘ دونوں کو تباہ کردیتا۔ اس لیے قرآن کریم نے ایک جگہ کہا کہ اگر زمین و آسمان میں دو ” الٰہ “ ہوتے تو زمین و آسمان تباہ ہوجاتے۔ دوسری صورت یہ ہوسکتی تھی کہ ایک خدا زیادہ طاقت کا مالک ہوتا اور دوسرا خدا اس کے سامنے کمزور ہوتا۔ وہ جب اپنی قدرت کا اظہار کرتا تو کمزور خدا اس کے سامنے دبکا رہتا حالانکہ اہل علم یہ بات جانتے ہیں کہ خدا تو ہوتا ہی وہ ہے ‘ جو سب سے عظیم ‘ سب سے اکبر اور تمام قدرتوں کا مالک ہوتا ہے۔ اس لیے دو خدائوں میں سے چھوٹا خدا اور سب کچھ ہوسکتا ہے ‘ لیکن خدا نہیں ہوسکتا۔ مختصر یہ کہ آسمان و زمین کا قیام وبقاء اور ان دونوں کے نظم و نسق کامیابی اور سازگاری سے رواں دواں رہنا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آسمان و زمین کا خدا ‘ معبود اور الٰہ ایک ہی ہے۔ مشرکین کے آخرت پر اشتباہات اور ان کا جواب دوسرا اشتباہ ان کا آخرت کے بارے میں تھا۔ انھیں اولاً تو آخرت کے وقوع پذیر ہونے کا یقین نہیں تھا۔ وہ بار بار ایک سیدھی سی بات کہتے تھے کہ ہم جب مر کے قبروں میں چلے جائیں گے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زمین ہماری لاشوں کو کھاجائے گی اور ہم مٹی میں تبدیل ہوجائیں گے اور ہمارے جسم کا کوئی حصہ باقی نہیں رہے گا تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ہمیں دوبارہ زندہ کردیا جائے ؟ سابقہ آیت کریمہ میں اس کا جواب دیا گیا کہ تمہیں یہ بات تسلیم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا ‘ تمہارے جسم کے تمام اجزاء مٹی سے تیار ہوئے ہیں اور مٹی ہی سے تمہیں غذا مہیا کی جا رہی ہے تو یہ کیسی عجیب بات ہے کہ پہلی دفعہ تو اللہ تعالیٰ نے تمہیں مٹی سے پیدا کردیا ‘ اب جب دوبارہ تم مٹی ہوجاؤ گے تو پھر وہ تمہیں مٹی سے کیوں زندہ نہیں کرسکتا ؟ لیکن اس آیت کریمہ کے دوسرے حصے میں اسی آخرت کے حوالے سے ان کے ایک اور اعتراض کا جواب دیا گیا ہے۔ وہ یہ کہتے تھے کہ چلیے یہ بات مان بھی لی جائے کہ ہم دوبارہ زندہ کیے جائیں گے تو یہ بات کیسے باور کی جاسکتی ہے کہ ہمارے ایک ایک عمل کا وہاں ریکارڈ موجود ہوگا اور زندگی میں تمام کیے ہوئے کاموں کا وہاں ہم سے حساب لیا جائے گا۔ یہ تو سراسر انہونی باتیں ہیں ‘ جنھیں عقل قبول نہیں کرسکتی۔ مزید وہ یہ بات بھی کہتے تھے کہ چلیے ہم بدرجہ آخر یہ بھی مان لیتے ہیں کہ حساب کتاب ہوگا۔ لیکن ہمیں اس کا کیا ڈر کیونکہ اگر حساب کتاب کے نتیجے میں ہمیں وہاں کوئی مشکل پیش آئی بھی تو آخر جن قوتوں کو ہم اپنی زندگی میں پوجتے رہے ہیں ہمیشہ ان کے نام کی ہم نے قربانیاں دی ہیں اور زندگی بھر انھیں خوش کرنے کی کوشش کی ہے تو کیا یہ اللہ کی شریک قوتیں وہاں ہمارے کسی کام نہیں آئیں گی ؟ وہ اس بات کا یقین رکھتے تھے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں پکڑا بھی تو یہ ہمارے شرکاء ہمیں اللہ کی گرفت سے چھڑا لیں گے۔ مشرکین مکہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں سمجھتے تھے اور یہ گمان رکھتے تھے کہ بیٹیاں اپنے باپوں سے ضد کر کے ہر بات منوا لیا کرتی ہیں تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ بیٹیاں اپنے اللہ سے ہمیں نہ چھڑا سکیں ؟ ان کے اس طرح کے بےسروپا اشتباہات اور اعتراضات تھے ‘ جن کا یہاں جواب دیا گیا۔ ارشاد ہوا : یَعْلَمُ سِرَّکُمْ وَ جَھْرَکُمْ وَ یَعْلَمُ مَا تَکْسِبُوْنَ ۔ (وہ تمہارے خفیہ اورا علانیہ کو جانتا ہے اور جو کمائی تم کر رہے ہو اسے بھی جانتا ہے) اس میں ان کے دونوں اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے کہ اے مشرکین عرب ! تم یہ سمجھتے ہو کہ اگر قیامت وقوع پذیر ہوئی بھی تو اللہ تعالیٰ تمہارے تمام اعمال کا حساب کیسے لے گا ؟ اس لیے کہ تم میں سے ایک ایک فرد کے اعمال کی تفصیل یقینا اس کے علم میں نہیں ہوگی۔ اسے کیا خبر کہ تم تنہائیوں میں خفیہ طریقے سے کیا کرتے رہے ہو اور تمہاری زندگی کے معمولات کی تفصیلات کیا ہیں ؟ تمہارے یہ تصورات سراسر غلط ہیں۔ تم نے اللہ تعالیٰ کو بھی مخلوق پر قیاس کرتے ہوئے ایک محدود علم کا مالک سمجھا ہے۔ تم یہ سمجھتے ہو ‘ انسانوں کی طرح اس کی رسائی بھی تمہاری تنہائیوں تک نہیں ہے۔ جیسے ایک انسان دوسرے انسان کے تمام معاملات سے آگاہ نہیں ہوسکتا ‘ اسی طرح پروردگار بھی نہیں ہوسکتا حالانکہ اس کے علم کی وسعت ‘ اس کی قدرت کی وسعت کی طرح بےپناہ ہے۔ وہ دنیا کی ہر چیز سے واقف ہے۔ وہ تو فرماتا ہے کہ صحرا کی وسعتوں میں کوئی پتہ نہیں گرتا ‘ مگر وہ اسے جانتا ہے اور کوئی رطب و یابس ایسا نہیں جو اس کے علم کی وسعتوں سے باہر ہو۔ سمندر کی انتہائی تہہ میں اگر کوئی مچھلی حرکت کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی حرکت سے واقف ہے۔ انسانی اعمال تو دور کی بات ‘ انسانی احساسات تک سے پروردگار آگاہ ہے اور پھر یہی نہیں کہ اس کے علم کی وسعتیں بےکنار ہیں بلکہ اس کی قدرتوں کا عالم یہ ہے کہ جب وہ حساب کتاب لے گا تو وہاں کوئی آدمی جھوٹ بول کر یا سخن سازی سے کام لے کر بچ نہیں سکے گا ‘ وہاں منہ پر مہر لگا دی جائے گی ‘ ہر آدمی کے ہاتھ اللہ سے باتیں کریں گے اور اس کے پائوں اس کے اعمال کی گواہی دیں گے۔ ایسی صورت حال میں یہ بدگمانی کرنا کہ پروردگار ہمارا حساب کتاب نہیں لے سکے گا ‘ سراسر جہالت اور نادانی کی بات ہے۔ دوسری بات اس آیت کریمہ میں یہ فرمائی جا رہی ہے کہ تم یہ سمجھتے ہو کہ جن قوتوں کو تم نے اللہ کا شریک بنا رکھا ہے ‘ وہ تمہیں اللہ کی گرفت اور اس کے عذاب سے بچا لیں گی۔ وہ اللہ سے سفارش کریں گی اور اللہ تعالیٰ ان کی سفارش کے سامنے مجبور ہو کر تمہاری ساری نافرمانیوں کو بخش دے گا۔ اس لیے تم زندگی میں ہر طرح کے عمل کرنے کے لیے آزاد ہو کیونکہ وہاں کی داروگیر سے تمہیں کوئی خطرہ نہیں۔ اس آیت میں یہ تصور دیا جا رہا ہے کہ اندازہ کرو ‘ اگر شفاعت اور سفارش کے اس لایعنی تصور کو قبول کرلیا جائے تو پھر آخرت کے وقوع پذیر ہونے کا فائدہ ہی کیا ہے اور اللہ تعالیٰ بار بار ہمیں قیامت سے ڈرنے اور اس دن کی تیاری کرنے کا جو حکم دیتا ہے اس کا کیا حاصل بلکہ دنیا کے دارالعمل ہونے کا تصور ہی غلط ہو کر رہ جاتا ہے۔ جس طالب علم کو یہ معلوم ہو کہ میں کورس کی کتاب کو چاہے ہاتھ لگائوں یا نہ لگائوں ‘ مجھے صرف یہ تکلف کرنا ہے کہ امتحان کے دنوں میں کمرہ امتحان میں بیٹھوں اور کاغذ پر الٹی سیدھی لکیریں کھینچ کر چلا آئوں ‘ میرے والد کی سفارش ایسی زور دار ہے کہ ایگزامینرز کو مجھے پاس کیے بغیر چارہ نہیں۔ اس تصور کی موجودگی میں اندازہ فرمایئے کہ یہ طالب علم پڑھنے کی زحمت کیوں کرے گا۔ پھر اس طالب علم کے لیے آخر اس امتحان کا تصور کیا معنی رکھتا ہے تو کیا اللہ کے بارے میں بھی ہم ایسا ہی تصور رکھتے ہیں کہ اس نے زمین پر انسانوں کو پیدا کیا ‘ ان کی طرف پیغمبر بھیجے ‘ کتابیں اتاریں ‘ احکام شریعت کا انھیں پابند کیا اور بار بار یہ بتایا کہ دنیا میں جیسی زندگی گزارو گے قیامت کے دن اسی کا پھل کاٹو گے۔ حسن عمل کے نتیجے میں جنت کے مستحق ٹھہرو گے اور بدعملی اور نافرمانی کی صورت میں جہنم کا ہولناک انجام تمہارا مقدر ہوگا۔ اگر سفارش کا یہ تصور قبول کرلیا جائے تو یہ سارے اسلامی تصورات ایک کھیل بن کے رہ جاتے ہیں اور اگر اس میں مزید ایک بات کا اضافہ کرلیا جائے ‘ جو سفارش کے اس بیہودہ تصور کے حاملین میں ہمیشہ موجود رہتا ہے تو پھر آخرت کا تصور اور بھی مضحکہ خیز ہوجاتا ہے۔ وہ تصور یہ ہے کہ ایسے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جب کسی کو پکڑتا ہے تو عموماً فرشتوں کی غیر مصدقہ یا نا مکمل اطلاعات پر پکڑتا ہے اور ان کے سفارشی دنیا کے سفارشیوں کی طرح پروردگار سے جا کر یہ کہیں گے کہ یا اللہ ! آپ نے جس آدمی کو پکڑا ہے ‘ آپ نہیں جانتے یہ شخص کیسا ہے۔ آپ کو غلط اطلاعات پہنچائی گئیں ہیں اور آپ نے ذاتی طور پر علم نہ ہونے کی وجہ سے ان اطلاعات پر اعتماد کرتے ہوئے ‘ اس شخص کو سزا دینے کا حکم دے دیا ہے۔ ہم آپ کے بھروسے کے لوگ ہیں اور ہم اس شخص کو جانتے ہیں کیونکہ یہ ہمارے دامن گرفتہ لوگوں میں سے ہے۔ ہم اپنے ذاتی علم کی بناء پر سفارش کرتے ہیں کہ یہ شخص بہت اچھا ہے۔ آپ کو پہنچنے والی اطلاعات جھوٹی یا نامکمل ہیں۔ اس لیے ہماری سفارش پر آپ اس کو چھوڑ دیں۔ اندازہ فرمایئے کہ جو آدمی اللہ کے علم کے بارے میں یہ تصور رکھتا ہو اور اس لیے سفارش کو ضروری سمجھتا ہو ‘ نجانے وہ اللہ کریم کے بارے میں کیا تصورات رکھتا ہے۔ ان سب کا جواب دیتے ہوئے یہ فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے وہ کام بھی جانتا ہے ‘ جو تم نے اعلانیہ انجام دیئے اور تمہارے ان اعمال سے بھی واقف ہے ‘ جو تم نے تنہائیوں میں خفیہ طریقے سے تمام نگاہوں سے چھپا کر کیے۔ تمہارا کوئی سفارشی اس کے علم سے بڑھ کر تمہارے اعمال سے واقف نہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے مکمل واقفیت اور اپنی مکمل قدرت کی بناء پر جو تمہیں سزا دے گا ‘ وہ جس طرح حقیقت اور عدل پر مبنی ہوگی ‘ اسی طرح وہ مکمل علم پر بھی مبنی ہوگی کیونکہ وہ جانتا ہے جو کچھ تم زندگی میں کرتے رہے ہو۔ شفاعت کی شرائط یہاں ایک بات سمجھ لینی چاہیے تاکہ کسی طرح کی غلط فہمی نہ ہو کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ انبیاء و رسل اور اپنے نیک بندوں کو شفاعت کا حق عطا کرے گا اور یہ لوگ لوگوں کی شفاعت کریں گے ‘ لیکن اس کی چند شرائط ہیں۔ 1 شفاعت اس کی ہوگی جس ‘ کا خاتمہ ایمان پر ہوگا۔ کافر کی سفارش کوئی پیغمبر اور رسول ‘ نہ دنیا میں کرسکتا ہے ‘ نہ آخرت میں کرسکے گا۔ 2 شفاعت اس کے لیے ہوگی ‘ جس کے اعمال میں قانونِ نجات کے حوالے سے کچھ کمی رہ جائے گی۔ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو یہ عزت بخشیں گے کہ وہ ایسے آدمی کی سفارش کریں اور اس کی نجات میں جو کچھ کمی رہ گئی ہے ‘ اللہ تعالیٰ اس سے درگزر فرمائیں۔ 3 یہ جلیل القدر شخصیات بھی اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی مرضی سے شفاعت نہیں کرسکیں گی بلکہ اس کی سفارش کریں گے جس کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجازت مرحمت ہوگی۔ قرآن کریم نے کئی جگہ شفاعت کا ذکر فرمایا ہے اور ہر جگہ اس کے ساتھ بِاِذْنِہٖ کی قید لگائی ہے یعنی جو بھی سفارش کرے گا ‘ اس ( اللہ) کی اجازت سے کرے گا ‘ اپنی مرضی سے نہیں۔ سب سے زیادہ شفاعت کا حق رسول اللہ ﷺ کو دیا گیا ہے۔ آپ شفاعت کبریٰ کے منصب پر فائز کیے جائیں گے اور گناہ گار بندوں کی بہت بڑی تعداد میں سفارش فرمائیں گے۔ احادیث میں اس کا جابجا ہمیں ذکر ملتا ہے۔ لیکن ساتھ ہی ایسی احادیث بھی کم نہیں ہیں ‘ جن میں یہ ذکر کیا گیا ہے کہ جب بھی کسی صحابی نے آنحضرت ﷺ سے شفاعت کی درخواست فرمائی تو آپ نے فرمایا کہ ” اپنے اچھے اعمال سے میری مدد کرنا ‘ تاکہ میں تمہاری شفاعت کرسکوں “۔ اگلی آیات میں ‘ توحید اور آخرت کے حوالے سے ‘ ان کے اشتباہات کا جواب دینے کے بعد ‘ تعجب کے اظہار کے طور پر فرمایا جا رہا ہے۔
Ayahs 6:4–5

وَ مَا تَاْتِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّهِمْ اِلَّا كَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَ Open ayah 6:4 in the Quran reader

اور نہیں آتی ان کے پاس ان کے رب کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی مگر یہ اس سے اعراض کرنے والے بنے ہوئے ہیں

فَقَدْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ؕ فَسَوْفَ یَاْتِیْهِمْ اَنْۢبٰٓؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 6:5 in the Quran reader

سو انہوں نے واضح حق کو بھی جھٹلا دیا جبکہ وہ ان کے پاس آیا تو عنقریب اس چیز کی خبریں ان کے پاس آئیں گی جس کا وہ مذاق اڑاتے رہے ہیں

وَمَا تَاْتِیْھِمْ مِّنْ اٰیَۃٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّھِمْ اِلَّا کَانُوْا عَنْھَا مُعْرِضِیْنَ ۔ فََقَدْ کَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآئَھُمْ ط فَسَوْفَ یَاْتِیْہِمْ اَنْبٰٓؤُا مَا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِئُوْنَ ۔ (الانعام : 504) (اور نہیں آتی ان کے پاس ‘ ان کے رب کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی ‘ مگر یہ اس سے اعراض کرنے والے بنے ہوئے ہیں۔ سو انھوں نے واضح حق کو بھی جھٹلا دیا ‘ جبکہ وہ ان کے پاس آیا تو عنقریب اس چیز کی خبریں ان کے پاس آئیں گی ‘ جس کا وہ مذاق اڑاتے رہے ہیں) حق مبین ” حضور ﷺ اور قرآن پاک توحید و قیامت پر اس قدر ٹھوس دلائل اور ان کے تمام اعتراضات کا جواب مل جانے کے بعد ‘ ان باتوں کی تکذیب کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی۔ لیکن حیرت ہے کہ یہ لوگ پھر بھی اللہ کی آیات سے اعراض کر رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے تعصبات میں اس قدر پختہ ہوچکے ہیں کہ حق کی کوئی بات اور حق کی تائید میں کوئی دلیل ‘ ان کے دل و دماغ پر اثر انداز نہیں ہوتی۔ وہ اپنے آبائو اجداد کے رویے کو کسی قیمت پر بھی چھوڑنے کو تیار نہیں۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے بعد ایک سے ایک بڑا معجزہ ‘ انھوں نے دیکھا اور ایک سے ایک بڑھ کر نشانی ‘ ان کے سامنے آئی۔ مگر ان کے اعراض میں کوئی کمی نہیں آئی۔ ان کا آنحضرت ﷺ اور اسلام کے بارے میں جو رویہ سالہاسال پہلے تھا ‘ وہ آج بھی اسی پر قائم ہیں اور حق سے اعراض کی ان کی انتہاء یہ ہے کہ کھلا اور واضح حق ان کے سامنے آیا تو اس کو ماننے سے انھوں نے انکار کردیا، اس سے مراد قرآن کریم ہے۔ اسے حق سے تعبیر اس لیے کیا گیا ہے کیونکہ اس کے من جانب اللہ ہونے میں اہل مکہ کو کم از کم کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ اس کے بارے میں چند ایسے واضح دلائل ہیں کہ جن کا انکار کرنا اہل مکہ کے لیے ممکن نہیں۔ مثلاً سب سے پہلی یہ بات کہ یہ قرآن کریم ‘ جس ذات عزیز پر نازل ہوا ‘ وہ کہیں باہر سے تشریف نہیں لائے بلکہ مکہ میں انہی میں سے ایک معزز خاندان قریش اور بنو ہاشم میں پیدا ہوئے۔ ان کے خاندان سے مکہ والے واقف تھے ‘ پھر ان کا بچپن اور لڑکپن ان کے سامنے گزرا۔ ایک بےعیب جوانی جس کی نظیر شاید دنیائے عرب میں ممکن نہ ہو ‘ اس کے ایک ایک لمحے سے اہل مکہ واقف تھے۔ جب وہ عملی زندگی میں داخل ہوا تو ان کی شب و روز کامیابیاں ‘ حتیٰ کہ ان کے بڑھتے ہوئے تجارتی تعلقات اور معاملات ‘ اس کا کوئی حصہ ان کی نگاہوں سے اوجھل نہیں۔ ایک معزز خاندان میں ان کی شادی ہوئی۔ اس کے بعد ایک عائلی زندگی ‘ انہی کی ہمسائیگی میں انھوں نے گزاری۔ وہ خوب جانتے ہیں کہ عرب کی زندگی سے مختلف زندگی سے وہ کبھی واقف نہیں رہے۔ انھوں نے دینیات کے حوالے سے کبھی کسی سے کچھ نہیں سیکھا۔ تجارت کے سلسلے میں باہر کے چند سفر ان کو ضرور پیش آئے ‘ اس کے علاوہ انھوں نے کبھی کسی ملک میں جا کر نہیں دیکھا۔ انہی کی طرح وہ اپنی ذات میں بھی پڑھے لکھے نہ تھے۔ وہ حروف تہجی کی شناخت نہ رکھتے تھے ‘ اپنا نام لکھنا نہیں جانتے تھے ‘ حتیٰ کہ لکھے ہوئے کو پڑھ نہیں سکتے تھے۔ ایسا پاکیزہ شخص ‘ جس کی زندگی میں کوئی تصنع نہیں ‘ جو انہی کی طرح علمی زندگی سے بالکل سادہ اور علمی تجربات سے یکسر کورا ‘ اسی حالت میں ان کے سامنے اس نے چالیس سالہ زندگی گزاری۔ یہ اسے ہمیشہ صادق اور امین کہہ کر پکارتے رہے۔ ان چالیس سالوں میں کبھی ایک دفعہ بھی جھوٹ بولنا اس سے ثابت نہیں بلکہ جب اس نے پوری قوم سے پوچھا کہ بتائو تمہیں کبھی مجھ سے جھوٹ کا تجربہ ہوا ہے تو سب نے بیک زبان کہا کہ تو ہماری نگاہوں میں صادق اور امین ہے۔ چالیس سالہ زندگی گزارنے کے بعد اچانک وہ پاکیزہ شخص غار حرا سے اتر کر آتا ہے اور اس کی زبان مبارک سے ایک ایسے کلام پاک کا چشمہ ابلنے لگتا ہے کہ جس کی فصاحت و بلاغت ‘ جس کی علمی سنجیدگی ‘ جس کے خیالات کی بلندی ‘ جس کے پیش کردہ نظام کی ہم آہنگی ‘ یکایک اپنے سننے والوں کو حیرت میں ڈال دیتی ہے۔ وہ ایک ایسا کلام لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہے ‘ جس کے اسلوب پر مشتمل کلام چالیس سالوں میں کبھی کسی نے اس سے نہیں سنا۔ وہ قوموں کے بارے میں اور سابقہ مذاہب کے حوالے سے ‘ وہ باتیں کہتا ہے ‘ جس سے نہ وہ خود واقف تھا ‘ نہ اس کی قوم واقف تھی۔ وہ معرفتِ حق سے لے کر کائنات اور انسان کے عرفان کے حوالے سے ایسی ایسی باتیں کہتا ہے ‘ جس کا تصور بھی اس معاشرے اور اس ماحول میں ممکن نہیں اور پھر وہ بار بار اپنی قوم سے کہتا ہے کہ لوگو ! جس نے زندگی بھر کبھی جھوٹ نہ بولا ہو ‘ کیا وہ اللہ پر کبھی جھوٹ باندھنے کی جرأت کرسکتا ہے ؟ اور پھر جو کلام میں تمہارے سامنے اللہ کے حوالے سے پیش کر رہا ہوں ‘ تم اگر اسے میرا کلام سمجھتے ہو تو میں تمہاری ہی طرح ایک عرب ہوں ‘ تم اہل زبان ہو ‘ تم اس جیسا کلام تیار کرکے دکھا دو ۔ میں یہ نہیں کہتا کہ اس جیسی پوری کتاب لے آئو میں تو کہتا ہوں ‘ اس جیسی دس سورتیں بلکہ ایک ہی سورة بنا کر دکھا دو ۔ اتنا واضح اور حتمی چیلنج جو اس کتاب میں آج بھی موجود ہے ‘ شاید ہی کسی صاحب ِکتاب نے اپنے مخاطبوں کے سامنے پیش کیا ہو۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ اس کی قوم نے اسے اذیتیں پہنچائیں ‘ دکھ دیئے ‘ اس پر ایمان لانے والوں کے لیے زندگی اجیرن کردی ‘ حتیٰ کہ وہ ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے۔ پھر بھی انھوں نے انھیں آرام سے بیٹھنے نہ دیا۔ مسلسل لڑائیوں تک نوبت پہنچی ‘ اہل مکہ نے بار بار شکست کے زخم اٹھائے ‘ مسلمانوں کو شہید کیا تو خود بھی اس راستے میں مرتے رہے اور اپنے بچوں کو قربان کراتے رہے ‘ بالآخر اسی کشمکش میں مکہ سرنگوں ہوگیا۔ ان کی طاقت ٹوٹ گئی ‘ اللہ نے بیشتر کو ایمان کی دولت سے نوازا ‘ لیکن قرآن کا چیلنج اپنی جگہ باقی رہا۔ یہ دو بالکل سامنے کی دلیلیں ہیں ‘ ایک ذات رسالت مآب ﷺ کی شخصیت اور دوسرا قرآن کریم کا معجز ہونا۔ ان دونوں حوالوں سے پروردگار ارشاد فرما رہے ہیں کہ اتنا واضح حق ان کے سامنے آیا ‘ لیکن انھوں نے اتنے واضح حق سے بھی فائدہ نہیں اٹھایا بلکہ یہ برابر اس کا تمسخر اڑاتے رہے۔ جب اللہ کے پیغمبر ‘ ان سے یہ کہتے کہ تم حق کے انکار کرنے سے باز آجاؤ ورنہ ہوسکتا ہے پہلی قوموں کی طرح تم پر بھی عذاب کا کوڑا برسے ‘ تو یہ لوگ بجائے ڈر کر راہ راست اختیار کرنے کے ‘ اس کا مذاق اڑاتے بلکہ بار بار مطالبہ کرتے کہ جس عذاب سے ہمیں ڈرا رہے ہو ‘ اسے لے کیوں نہیں آتے ؟ جب کبھی آنحضرت ﷺ انھیں اسلام کے غلبہ عمومی کے بارے میں آگاہ فرماتے کہ وہ وقت دور نہیں جب خود اس مکہ پر اسلام کا غلبہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ زمین کے بڑے حصے پر مسلمانوں کو خلافت عطا فرمائے گا۔ اسی زندگی میں ان کو ایسی عزت و سرفرازی اور خوشحالی سے نوازا جائے گا ‘ جس کا آج تم تصور بھی نہیں کرسکتے۔ اس پر وہ مسلمانوں کی غربت کا مذاق اڑاتے کہ ماشاء اللہ یہ ہیں وہ لوگ جنھیں کل کو تمام دنیا کی امامت و قیادت ملنے والی ہے ‘ آج ان کے پاس کھانے کو روٹی ہے ‘ نہ پہننے کو کپڑا اور خواب یہ دیکھ رہے ہیں قیصر و کسریٰ پر حکومت کرنے کے۔ انہی دنوں میں بعض دفعہ ایسے واقعات بھی پیش آئے کہ حضور ﷺ نے ذاتی حیثیت میں بعض باتوں کی نشاندہی فرمائی ‘ لیکن مشرکینِ عرب کسی بات کا اثرقبول کرنا تو دور کی بات ہے ‘ اس کو سنجیدگی سے لینے کو بھی تیار نہ تھے۔ حدیث میں آتا ہے کہ آپ نے کعبۃ اللہ کے کلید بردار عثمان بن طلحہ سے کعبۃ اللہ کا دروازہ کھولنے کو کہا۔ اس نے نہایت بدتمیزی سے انکار کردیا۔ آپ نے اصرار فرمایا تو اس نے جھڑک دیا۔ تب آپ نے فرمایا کہ عثمان وہ کیسا وقت ہوگا ‘ جب اللہ کے گھر کی چابی میرے پاس ہوگی ‘ میں جسے چاہوں گا دوں گا ؟ تو اس نے حیران ہو کر کہا کہ کیا اس وقت قریش ذلیل ہوگئے ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا نہیں اس وقت قریش کی عزت میں اضافہ ہوگا۔ یہی وہ کامیابی کی خبریں ہیں ‘ جو ہجرت کے بعد اسلام کے غلبہ عمومی کی شکل میں تمام دنیا کے سامنے آنے والی تھیں اور اس آیت کریمہ کے آخری حصے میں اسی کا تذکرہ کیا جا رہا ہے کہ آج تم جن کامیابیوں کو محض فرضی دعوے سمجھ کر تمسخر کا نشانہ بنا رہے ہو ‘ وہ وقت دور نہیں جب وہ حقیقت بن کر تمہارے سامنے آئیں گے اور اسی طرح جس عذاب کو تم استہزاء میں اڑا رہے ہو ‘ وہ اگرچہ اجتماعی شکل میں تو نہیں آئے گا لیکن جزوی شکل میں ضرور اس کا اظہار ہوگا۔ چناچہ جنگ بدر اللہ کی طرف سے ان پر عذاب ہی کی ایک جزوی شکل تھی جس طرح تین سو تیرہ نہتے مسلمانوں سے ایک ہزار مکہ کے جنگجو سپاہیوں کو نہ صرف شکست سے دوچار ہونا پڑا بلکہ ان کی قیادت کی پہلی صف پوری کی پوری قتل ہوگئی اور دوسری صف تقریباً گرفتار ہوگئی اور پیچھے صرف وہ لوگ رہ گئے ‘ جو صرف اپنے مقتولوں اور اپنے گرفتار شدگان کا مرثیہ کہہ سکتے تھے۔ پھر ان لوگوں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ حیران کن طریقے سے ان کی گرفتاریاں ہوئیں اور ان کی آنکھوں کے سامنے سر کٹ کے گرتے رہے جبکہ بعض مسلمانوں کے ہاتھوں میں تلواریں تک بھی نہ تھیں۔ خود بعض گرفتار ہونے والوں نے بعد میں بتایا کہ ہمیں جس نے گرفتار کیا ‘ وہ مسلمانوں میں سے کوئی بھی نہیں تھا اور بعض لوگ جو قتل ہوئے ان کی لاشوں پر سیاہ نشان پڑے ہوئے تھے ‘ جو اس بات کی علامت تھے کہ یہ کسی مسلمان کی ضرب سے قتل نہیں ہوئے بلکہ ان کے قاتل انسانوں کے علاوہ کوئی اور ہیں۔ بعد میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ بعض فرشتوں نے ان کو گرفتار کیا اور بعض فرشتوں نے ان کی گردنوں پر ضربیں لگائیں۔ ظاہر ہے کہ جس جنگ میں فرشتے اپنا کردار ادا کریں ‘ وہ ایک طرف اگر مسلمانوں کی اللہ کی طرف سے کھلی کھلی نصرت اور تائید ہے تو دوسری طرف غیر مسلموں کے لیے ‘ وہ اللہ کا عذاب ہے۔ پھر یہ سلسلہ رکا نہیں ‘ فتح مکہ تک یہ لوگ مسلسل اس طرح کے عذابوں اور سزائوں سے دوچار ہوتے رہے۔ بعض دفعہ ان پر قحط کی صورت میں ایسا شدید عذاب آیا کہ تمام اہل مکہ بلبلا اٹھے اور ابوسفیان نے کافر ہوتے ہوئے بھی آنحضرت ﷺ کو پیغام بھیجا کہ آپ کی قوم بھوکی مر رہی ہے۔ چناچہ آپ نے ان کی مدد کے لیے مدینہ منورہ سے غلے کے اونٹ لاد کے بھیجے اور عذاب ٹلنے کی دعا بھی فرمائی۔ حقیقت یہ ہے کہ جب کوئی رسول اپنی امت کی عداوت سے ہجرت کرجاتا ہے تو عموماً اس قوم کو سنبھلنے کا موقع نہیں ملتا بلکہ اسے عذاب کا شکار ہونا پڑتا ہے۔ لیکن مشرکین مکہ جزوی عذابوں کا شکار تو ہوئے ‘ اجتماعی عذاب سے اس لیے بچ گئے کہ مکہ کے رہنے والوں نے مجموعی طور پر اللہ کے دین کا انکار نہیں کیا بلکہ مختلف اوقات میں ان میں اسلام کا سلسلہ جاری رہا اور اسلام لانے والے چھپ چھپ کر مدینہ طیبہ پہنچتے رہے اور معاہدہ حدیبیہ کے بعد ساحل سمندر کو انھوں نے اپنا ٹھکانہ بنایا۔ جہاں تک اسلام کے غلبہ عمومی کا تعلق ہے ‘ جس کا آنحضرت ﷺ مختلف وقتوں میں مشرکین مکہ کے سامنے تذکرہ فرماتے تھے اور جیسا کہ عرض کیا جا چکا ‘ وہ اس کا مذاق اڑاتے تھے ‘ لیکن ہجرت کے فوراً بعد آنحضرت ﷺ کی بیان کردہ ایک ایک خبر صداقت کے قالب میں ڈھلنے لگی۔ کوئی دن نہیں گزرتا تھا ‘ جب اسلام اور مسلمانوں کی کامرانیوں کا سفر آگے نہیں بڑھتا تھا۔ دوسرے ہی سال جنگ بدر میں مسلمانوں کی فتح نے سیاسی ‘ نفسیاتی اور جنگی نکتہ نگاہ سے پورے جزیرہ عرب میں ایک بہت بڑی تبدیلی کا راستہ کھول دیا۔ پھر چند سالوں میں مدینہ طیبہ کے اندر یہود کی قوت تباہ ہوگئی اور بیرونِ مدینہ سینکڑوں میل تک پھیلا ہوا علاقہ ‘ بڑی تیزی سے اسلام کی قلمرو میں شامل ہوگیا۔ جنگ خندق میں کفر نے اپنی تمام قوتوں کو مجتمع کر کے اسلامی قوت کو مٹانا چاہا ‘ لیکن ناکامیوں کی رسوائی کے سوا انھیں کچھ حاصل نہ ہوا۔ تین ہی سال بعد آخر مکہ سرنگوں ہوگیا اور اس طرح کفر کی قوت اسلام کے سامنے ڈھیر ہوگئی۔ یہ مختصر سی ان کامیابیوں کی تاریخ ہے ‘ جس کے بارے میں اس آیت کریمہ کے آخر میں فرمایا کہ عنقریب تم ان خبروں کو اپنی آنکھوں سے وقوع پذیر ہوتا دیکھو گے ‘ جن کا آج تم تمسخر اڑا رہے ہو۔ واقعہ یہ ہے کہ اہل مکہ نے جو دیکھا سو دیکھا ‘ ان کے سردار ابوسفیان نے تو اپنی آنکھوں سے ایک ایسا منظر دیکھا ‘ جس نے یقینا ان کی پوری شخصیت کو ہلا کے رکھ دیا ہوگا ‘ مسلمانوں کی فوجیں جب فتح مکہ کے لیے اہل مکہ کے سر پر جا پہنچیں اور انھوں نے رات کو دور دور تک اپنے چولہے جلائے تو مکہ والے یہ آگ دیکھ کر حیران اور سراسیمہ ہو کر مکہ سے باہر نکل آئے۔ ابو سفیان ان میں سب سے آگے تھا۔ حضرت عباس ( رض) نے ان کو دیکھ لیا۔ پکڑ کے لے گئے آنحضرت ﷺ سے ان کے لیے امان حاصل کی ‘ پھر ایک بلند چوٹی پر کھڑا کر کے کہا ‘ میں تمہیں مسلمانوں کی قوت کا نظارہ کرانا چاہتا ہوں ‘ چناچہ جب مسلمان فوج حرکت میں آئی اور ایک ایک قبیلہ اپنی مخصوص وردی میں ‘ اپنے مخصوص ہتھیاروں کے ساتھ دریا کی موجوں کی طرح ٹھاٹھیں مارتا ہوا آگے بڑھا تو ابو سفیان سراسیمہ ہو کے رہ گیا۔ بالآخر حیرانی کے عالم میں انھوں نے حضرت عباس ( رض) سے کہا کہ عباس تمہارا بھتیجا تو بہت بڑا بادشاہ ہوگیا۔ حضرت عباس ( رض) نے فرمایا : ابوسفیان اب بھی آنکھیں کھولو ‘ معلوم ہوتا ہے تمہاری آنکھوں کا پردہ اب بھی دور نہیں ہوا۔ یہ بادشاہت نہیں ‘ نبوت ہے۔ اندازہ فرمایئے ! ابوسفیان جب حضرت عباس ( رض) سے یہ باتیں کر رہے تھے تو کیا ان کے کان میں کوئی کہہ نہیں رہا ہوگا کہ ابوسفیان ‘ یہ اسلامی غلبے کا وہی منظر ہے ‘ جس کے بارے میں تمہیں مکی زندگی میں آنحضرت ﷺ خبریں دیا کرتے تھے اور تم مذاق اڑایا کرتے تھے۔ آج دیکھو ! وہ حقیقت بن کر تمہاری آنکھوں کے سامنے ہے۔ قرآن کریم ‘ ذات رسالت مآب ﷺ اور پیش آنے والے حالات سے استدلال کرنے کے بعد ‘ اب اگلی آیت میں مشرکین مکہ کے سامنے ایک تاریخی شہادت پیش کررہا ہے کہ اگر وہ اپنے تعصبات میں اس قدر اندھے ہوگئے ہیں کہ نہ انھیں آنحضرت کی ذات میں حق کی کوئی نشانی دکھائی دیتی ہے اور نہ قرآن کریم میں تو کم از کم تاریخ کے آئینہ کو تو غور سے دیکھیں۔ اس سے تو انھیں کوئی کد نہیں ہونی چاہیے۔
Ayah 6:6

اَلَمْ یَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ مَّكَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ مَا لَمْ نُمَكِّنْ لَّكُمْ وَ اَرْسَلْنَا السَّمَآءَ عَلَیْهِمْ مِّدْرَارًا١۪ وَّ جَعَلْنَا الْاَنْهٰرَ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمْ فَاَهْلَكْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ وَ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَ Open ayah 6:6 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی قوموں کو ہلاک کردیا ‘ جن کو ہم نے ملک میں وہ قوت و سطوت دے رکھی تھی ‘ جو تم کو نہیں دی اور ہم نے ان پر خوب مینہ برسائے اور نہریں جاری کیں ‘ جو ان کے نیچے بہتی تھیں۔ پھر ہم نے ان کو ان کے گناہوں کی پاداش میں ہلاک کردیا اور ان کے بعد ہم نے دوسری قومیں اٹھا کھڑی کیں

اَلَمْ یَرَوْاکَمْ اَھْلَکْنَا مِنْ قَبْلِھِمْ مِّنْ قَرْنٍ مَّکَّنّٰھُمْ فِی الْاَرْضِ مَالَمْ نُمَکِّنْ لَّکُمْ وَ اَرْسَلْنَا السَّمَآئَ عَلَیْھِمْ مِّدْرَارًا ص وَّجَعَلْنَا الْاَنْھٰرَ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھِمْ فَاَھْلَکْنٰھُمْ بِذُنُوْبِھِمْ وَاَنْشَاْنَا مِنْم بَعْدِھِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَ ۔ (الانعام : 6) (کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی قوموں کو ہلاک کردیا ‘ جن کو ہم نے ملک میں وہ قوت و سطوت دے رکھی تھی ‘ جو تم کو نہیں دی اور ہم نے ان پر خوب مینہ برسائے اور نہریں جاری کیں ‘ جو ان کے نیچے بہتی تھیں۔ پھر ہم نے ان کو ان کے گناہوں کی پاداش میں ہلاک کردیا اور ان کے بعد ہم نے دوسری قومیں اٹھا کھڑی کیں) ” مکہ “ پورے جزیرہ عرب کا تجارتی مرکز تھا مکہ والوں کو ہدایت قبول کرنے میں جن چیزوں نے روکا ‘ ان میں سے ایک چیز ان کا یہ پندار تھا کہ ہم پورے جزیرہ عرب میں سب سے زیادہ مالدار ‘ خوشحال اور طاقتور قوم ہیں۔ اپنی اس خوشحالی پر اس قدر نازاں تھے کہ اس کے مقابلے میں کوئی بھی نصیحت قبول کرنے کو تیار نہیں تھے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ وہ اپنے انجام کے بارے میں سوچنے کے لیے بھی تیار نہیں تھے۔ ممکن ہے ‘ آپ کو یہ خیال آئے کہ وہ تو نہایت پسماندہ علاقے کے رہنے والے لوگ تھے ‘ جہاں خوشحالی نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ سال بہ سال حاجی وہاں زیارت کعبہ کے لیے جاتے تو حج کے دنوں میں کوئی تجارت ہوجاتی ‘ اس پر ان کے سال بھر کی گزربسر کا دارومدار تھا۔ ان کے پاس ایسی کون سی خوشحالی تھی ‘ جس کی وجہ سے وہ اپنے انجام سے بےفکر ہوگئے تھے۔ واقعہ یہ ہے کہ مکہ اور اہل مکہ کی تاریخ کے حوالے سے ہمارے یہاں بہت سی غلط فہمیاں ہیں۔ یہ موقع نہیں کہ ان کی تفصیل بیان کی جائے ‘ بس اتنا جان لیجئے کہ مکہ پورے جزیرہ عرب میں مرکز اجتماع بھی تھا اور مرکز اعصاب بھی۔ پوری قبائلی زندگی کی قوت کا سرچشمہ اسی شہر کو کہا جاسکتا ہے۔ اس کا فیصلہ پورے جزیرہ عرب میں تسلیم کیا جاتا تھا۔ جہاں تک خوشحالی کا تعلق ہے ‘ یہ لوگ اتنے بڑے تاجر تھے کہ ایک طرف ان کے قافلہ ہائے تجارت اگر یمن کی طرف جاتے تھے تو دوسری طرف عراق ‘ شام ‘ مصر اور چین تک ‘ ان کی تجارت پھیلی ہوئی تھی۔ چمڑے کی صنعت خود مکہ معظمہ میں بڑی ترقی پر تھی اور بھی بعض چیزیں خود مکہ میں تیار ہوتی تھیں۔ وہ ایسا پسماندہ شہر نہیں تھا ‘ جیسا تصور ہماری تاریخوں نے دے رکھا ہے۔ مزید یہ کہ خانہ کعبہ کے متولی ہونے کی وجہ سے پورے جزیرہ عرب میں آزادی سے تجارتی کارواں لے کر صرف قریش ہی کو آنے جانے کی سہولت حاصل تھی کیونکہ ان کے احترام کے باعث کوئی قبیلہ بھی کبھی ان پر دست درازی کی جرأت نہیں کرتا تھا۔ ان تجارتی سفروں کے نتیجے میں غیر ملکی اشیاء نہ صرف یہ کہ ان کے زیر استعمال تھیں بلکہ ان کے بازاروں میں ان کی بھرمار تھی۔ مکہ کے بازار بہت پررونق بازار تھے۔ مزید جس چیز نے انکا دماغ خراب کر رکھا تھا ‘ وہ ان کی زمینیں اور وہ باغات تھے ‘ جو طائف سے لے کر نجران تک ایک بڑے وسیع علاقے میں پھیلے ہوئے تھے۔ ایسی صورتحال میں اگر انھیں اپنی دولت و امارت پر غرہ نہ ہوتا اور اس کے نتیجے میں ان میں نخوت پیدا نہ ہوتی تو یہ تعجب کی بات ہوتی۔ لیکن قرآن کریم ان کی دو طرح سے غلط فہمی دور کرنا چاہتا ہے۔ ایک یہ کہ تم ہزار دولت مند ‘ ہزار قوت و سطوت کے مالک سہی ‘ لیکن تمہاری خوشحالی اور دولتمندی اور تمہاری قوت و سطوت اس کا عشر عشیر بھی نہیں ‘ جیسی قوت اور خوشحالی ہم نے ان قوموں کو دے رکھی تھی ‘ جنھیں تم قوم عاد اور قوم ثمود یا قوم شعیب اور قوم لوط کے نام سے جانتے ہو۔ انھیں جو اقتدار اور اثر و رسوخ میسر تھا ‘ تم اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے اور انھوں نے اپنے پیچھے جو تہذیبی ‘ تمدنی اور ثقافتی آثار چھوڑے ہیں ‘ وہ ان کی عظمت کے منہ بولتے ثبوت ہیں۔ تم آخر کون سی دولتمندی اور امارت ہے ‘ جس پر ناز کر رہے ہو ؟ قوموں کی تباہی کا اصل سبب شریعت کی نافرمانی ہے دوسری یہ بات کہ اگر خوشحالی اور قوت بقاء کی ضمانت ہوتیں تو یہ قومیں آج تاریخ میں عبرت نہ بن چکی ہوتیں۔ جب ان جیسی قومیں باقی نہ رہیں تو کیا تم محض اپنی دولت اور قوت کے باعث باقی رہ جاؤ گے ؟ حقیقت یہ ہے کہ کسی قوم کی زندگی اور اس کی بقاء صرف اس بات سے وابستہ ہے کہ اس کا اپنے رب اور اس کے بندوں سے کیسا رشتہ ہے ؟ کیا وہ اپنی حدود بندگی کو پہچانتی ہے یا نہیں ؟ کیا اسے احساس ہے کہ اس کائنات میں اس کی حیثیت کیا ہے ؟ اور اس حوالے سے اس پر کیا ذمہ داریاں ہیں ؟ جس نے ان اخلاقیات کو پیدا کرلیا ‘ اسے ایک عمر درازمیسر آئی اور وہ دوسری قوموں میں نیک نامی کے ساتھ یاد رکھی گئی ‘ لیکن جس نے ان حقیقتوں سے سرتابی کی ‘ وہ مذکورہ قوموں کی طرح تباہی اور بربادی کی علامت بن گئی۔ اس لیے تم اگر اس انجام سے بچنا چاہتے ہو تو اپنی طاقت و امارت کو نہ دیکھو بلکہ یہ دیکھو کہ کہیں تم بھی تو وہی غلطی نہیں کر رہے ‘ جو تم سے سابقہ قوموں نے کی اور تباہ ہوگئیں۔ اس لیے تمہیں اپنے اندر عرفانِ ذات اور حقیقت کا شعور پیدا کرنا چاہیے کیونکہ اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اللہ کا قانون ایک قطعی اور انمٹ قانون ہے ‘ اس میں کوئی لچک نہیں۔ وہ تمام قوموں کے ساتھ یکساں سلوک کرتا ہے اور وہ قانون وہ ہے ‘ جس کا اس آیت میں ذکر فرمایا گیا ہے کہ دیکھو ! ہم نے ان قوموں کو کس قدر ترقی دی تھی۔ اس زمین میں ان کو کیسا تمکن اور کیسی خوشحالی عطا کی تھی کہ ان کے گھروں کے نیچے سے نہریں بہتی تھیں اور موسلادھار بارشوں نے ان کی سرزمینوں کو سرسبز بنا رکھا تھا اور وہ اپنے پاس ایسے لہلہاتے باغ رکھتے تھے کہ صنعائے یمن کی طرح ان کے باغوں کے نیچے سے کوئی آدمی سر پر ٹوکری رکھ کر گزر جاتا تھا تو باغ سے باہر نکلتے نکلتے اس کی ٹوکری پھلوں سے اٹ جاتی تھی۔ یعنی قدرت نے انھیں ایسی سرسبز و شاداب زمین عطا کی تھی ‘ جس میں ایسے رسیلے پھلوں کے باغات تھے اور ایسے محلات سے انھیں نوازا تھا کہ جن کے دائیں بائیں سے نہریں رواں تھیں۔ لیکن جب انھوں نے اللہ کے قانون کو توڑا یعنی بجائے اللہ کی اطاعت کرنے کے ‘ انھوں نے اللہ کی نافرمانی کی تو ہمارا قانون حرکت میں آیا۔ اسی کا ذکر یہاں فرمایا جا رہا ہے : فَاَھْلَکْنٰھُمْ بِذُنُوْبِھِمْ (ہم نے ان کو ان کے گناہوں کی پاداش میں ہلاک کردیا) یعنی ہم کسی قوم کو بلا وجہ نہیں پکڑتے بلکہ جب بھی ہم کسی کو پکڑتے ہیں تو اس کے گناہ کی پاداش میں پکڑتے ہیں۔ قرآن کریم نے ایک اور جگہ بھی اس اصول کو بیان فرمایا : فَکُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْبِہِ (العنکبوت : 40) (ہم نے ہر ایک کو اس کے گناہ کی پاداش میں پکڑا) اور اس کے بعد کئی قوموں پر آنے والے عذاب کا ذکر فرمایا گیا ہے کہ کسی پر تیز آندھی آئی ‘ کسی کو ایک تیز چیخ نے آپکڑا ‘ کسی کو زمین میں دھنسا دیا گیا ‘ کسی کو پانی میں غرق کردیا گیا۔ لیکن ان تمام عذابوں کا سبب صرف ایک تھا۔ وہ تھا قوموں کا گناہوں کا ارتکاب کرنا۔ گناہ کیا ہے ؟ اللہ کی شریعت کی نافرمانی۔ اللہ تعالیٰ جن باتوں کے کرنے کا حکم دیتا ہے ‘ اسے نہ کرنا اور جن باتوں سے رکنے کا حکم دیتا ہے ‘ اس کے ارتکاب پر اصرار کرنا۔ یہ وہ گناہ ہے ‘ جس پر ہمیشہ اللہ کے عذاب کا کوڑا برستا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ جب تک ان گناہوں کا ارتکاب افراد کی حد تک رہتا ہے تو قدرت اغماض سے کام لیتی ہے۔ لیکن جب گناہوں کا ارتکاب وبائی شکل اختیار کرلیتا ہے اور اجتماعی ادارے اس کا شکار ہونے لگتے ہیں اور اقتدار اسکا پشت پناہ بن جاتا ہے تو پھر بالعموم اللہ کا عذاب آجاتا ہے۔ لیکن عذاب آنے سے پہلے پہلے افراد کو بھی اور اداروں کو بھی اور بعض دفعہ حکومتوں کو بھی مختلف جھٹکے دیئے جاتے ہیں ‘ مختلف مصائب کا شکار کیا جاتا ہے ‘ مختلف حوادث سے انھیں دوچار کیا جاتا ہے ‘ تاکہ وہ اللہ کی طرف لوٹ آئیں۔ ایسی صورتحال میں جب کچھ لوگوں کے ہاتھ اللہ کے سامنے پھیلتے ہیں اور وہ اپنی مصیبتوں کا شکوہ کرتے ہیں تو وہاں سے بقول اکبر ایک ہی جواب ملتا ہے ؎ جب میں کہتا ہوں کہ یا اللہ میرا حال دیکھ حکم ہوتا ہے کہ اپنا نامہ اعمال دیکھ اللہ کے جس قانون اور اس کی جس سنت کا یہاں تذکرہ ہوا ہے کہ وہ ہمیشہ گناہوں کی پاداش میں پکڑا کرتا ہے ‘ کیا ہمارے لیے ضروری نہیں کہ اس آئینہ میں ہم بھی اپنی قسمت تلاش کرنے کی کوشش کریں اور اپنی اصل صورت کی شناخت کریں ؟ اپنی پوری تاریخ کو غور سے دیکھیں کہ کیا ہم نے انفرادی گناہوں کے ساتھ ساتھ کہیں اجتماعی گناہوں کا ارتکاب تو نہیں کیا ؟ ہم میں سے ہر شخص واقف ہے کہ یہ ملک ہم نے اسلام کے نام پر اللہ سے مانگا تھا اور بار بار اس سے یہ وعدہ کیا تھا کہ تو ہمیں ہندو کی غلامی سے نجات دے دے اور ایک قطعہ زمین عطا فرما ‘ جس پر ہم اپنی مرضی کی زندگی گزار سکیں۔ ہم تجھ سے وعدہ کرتے ہیں کہ وہاں ہم تیرے قانون کو نافذ کریں گے اور تیرے رسول کی سنت کا وہاں چلن ہوگا۔ لیکن اس طویل تاریخ میں ہم نے یہ وعدہ کہاں تک ایفا کیا ہے ‘ اس کا جواب صرف اپنے آپ سے ہی پوچھا جانا چاہیے۔ کیا ہم شریعت کے پاسدار ہیں ؟ اس ملک کے حاصل کرنے کے بعد جس طرح ہمارے امراء ‘ جاگیرداروں اور سیاستدانوں نے ‘ اس ملک کے وسائل کی لوٹ مار کی ہے اور یہاں کے بسنے والوں کے لیے ‘ جس طرح زندگی عذاب بنائی ہے۔ اگر یہ بھی کوئی گناہ ہے تو اس کا ارتکاب ہم نے اس وسعت کے ساتھ کیا ہے کہ دنیا بھی ہماری کرپشن پر بلبلا اٹھی ہے اور عجیب بات یہ ہے کہ ہمیں اپنی تباہی صاف نظر آرہی ہے ‘ ہم عالمی استعمار کے ہدف بن کر رہ گئے ہیں ‘ ہماری سرحدیں بری طرح غیر محفوظ ہیں ‘ اندرون ملک لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ درپیش ہے۔ بایں ہمہ ! ہمارے اندر اس احساس کی شاید شدید کمی ہے کہ جب بھی ہمیں کبھی اپنی قیادت کے انتخاب کا موقع ملتا ہے تو ہم انہی لوگوں کا انتخاب کرتے ہیں ‘ جنھوں نے اس سے پہلے برس ہا برس تک ہمیں زخم لگائے۔ اے کاش ! ہم اس آیت کریمہ سے سبق سیکھیں اور اللہ کے عذاب کے نازل ہونے سے پہلے اپنی عاقبت کے لیے کچھ کرلیں۔ اس آیت کریمہ کے آخر میں فرمایا گیا : وَاَنْشَاْنَا مِنْم بَعْدِھِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْن ” ان کے بعد ہم نے دوسری قومیں اٹھا کھڑی کیں “۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کو بیان کیا جا رہا ہے کہ مشرکین مکہ اپنے آپ کو نجانے کیا سمجھتے ہیں۔ اللہ کی قدرت کے سامنے وہ بڑی بڑی قومیں نہ ٹھہر سکیں کہ آج ان کے ناموں کے سوا کچھ بھی باقی نہیں رہا۔ اگر ان پر خدا کا عذاب آیا تو آخر یہ کس طرح باقی رہ سکیں گے ؟ لیکن ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ یہ نہ سمجھنا کہ زمین کی آبادی تمہارے دم قدم سے ہے۔ اللہ کی قدرت کاملہ کا تو عجیب حال ہے کہ وہ ایک طرف اگر بڑی بڑی قوموں کو تباہ کرتا ہے تو ساتھ ہی دوسری قوموں کو اس طرح بسا بھی دیتا ہے کہ دیکھنے والوں کو یہ محسوس ہی نہیں ہوتا کہ زمین سے کوئی قوم اٹھا لی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اس قدرت و حکمت کا کیا کہنا کہ روزانہ لاکھوں انسان ہلاک ہوتے رہتے ہیں ‘ مگر کہیں خلاء نظر نہیں آتا۔ ٹھیک کہا کسی نے ؎ خدا جانے یہ دنیا جلوہ گاہ ناز ہے کس کی ہزاروں اٹھ گئے رونق وہی باقی ہے مجلس کی ایک مرتبہ میدان عرفات میں جہاں تقریباً بیس لاکھ انسانوں کا مجمع تھا یہ خیال آیا کہ آج سے تقریباً ستر اسی سال پہلے ‘ اس سارے مجمع میں سے کسی انسان کا وجود نہ تھا اور اس جگہ پر تقریباً اتنے ہی انسان دوسرے موجود تھے ‘ جن کا آج نام و نشان نہیں ہے۔ اسطرح انسانوں کے ہر اجتماع اور لوگوں کے ہر جھرمٹ کو ‘ جب اس کے ماضی اور مستقبل کیساتھ ملا کر دیکھا جائے تو یہ ایک بہت ہی موثر واعظ نظر آتا ہے۔ اس لیے ایک صاحب بصیرت آدمی کے لیے اس میں کس قدر بصیرت اور عبرت کا سامان ہے کہ لوگ آتے اور جاتے ہیں ‘ اس کائنات کا خالق اس مخلوق کو اپنے قانون کے مطابق بقاء بھی دیتا ہے اور ہلاک بھی کرتا ہے۔ اس لیے ہم اگر یہاں بقاء حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس آیت کریمہ کے دیئے ہوئے اصول سے فائدہ اٹھا کر اپنی بقاء کا سامان کرنا چاہیے۔ مشرکین مکہ نے اپنی دین دشمنی اور اندھے تعصب کے باعث جس طرح قرآن کریم اور آنحضرت ﷺ کی ذات کو ماننے سے انکار کیا ‘ اس کا ذکر ہم پہلے پڑھ چکے ہیں۔ اب اگلی آیات میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ صرف یہی نہیں کہ وہ قرآن کریم کو ماننے کے لیے تیار نہیں تھے بلکہ اس کے لیے انھوں نے کچھ ایسے اعتراضات تیار کر رکھے تھے ‘ جن کی وجہ سے وہ یہ سمجھتے تھے کہ ہمارا قرآن کریم جیسے واضح حق کو تسلیم نہ کرنا چنداں قابل تعجب نہیں ہے کیونکہ جب تک ہمارے اعتراضات دور نہیں ہوتے ‘ ہم قرآن کریم کو ایسے کیسے قبول کرسکتے ہیں ؟ چناچہ اگلی آیات میں قرآن کریم نے ان کے اعتراضات کا ذکر بھی کیا ہے اور جواب بھی دیا ہے۔
Ayah 6:7

وَ لَوْ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ كِتٰبًا فِیْ قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوْهُ بِاَیْدِیْهِمْ لَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 6:7 in the Quran reader

اگر ہم تم پر کوئی ایسی کتاب اتارتے ‘ جو کاغذ میں لکھی ہوئی ہوتی اور یہ اس کو اپنے ہاتھوں سے چھو بھی لیتے ‘ جب بھی یہ کفر کرنے والے یہی کہتے کہ یہ تو بس ایک کھلا ہوا جادو ہے

وَلَوْ نَزَّلْنَا عَلَیْکَ کِتٰبًا فِیْ قِرْطَاسِ فَلَمَسُوْہٗ بِاَیْدِیْہِمْ لَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِنْ ھٰذَآ اِلَّا سِحْرٌمُّبِیْنٌ۔ (الانعام : 7) (اگر ہم تم پر کوئی ایسی کتاب اتارتے ‘ جو کاغذ میں لکھی ہوئی ہوتی اور یہ اس کو اپنے ہاتھوں سے چھو بھی لیتے ‘ جب بھی یہ کفر کرنے والے یہی کہتے کہ یہ تو بس ایک کھلا ہوا جادو ہے ‘) عبد اللہ ابن ابی امیہ کا حضور ﷺ سے معجزے کا مطالبہ حدیث میں آتا ہے کہ عبد اللہ بن ابی امیہ نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے ایک معاندانہ مطالبہ پیش کیا اور کہا کہ میں تو آپ پر اس وقت تک ایمان نہیں لاسکتا ‘ جب تک کہ میں یہ واقعہ نہ دیکھ لوں کہ آپ آسمان میں چڑھ جائیں اور وہاں سے ہمارے سامنے ایک کتاب لے کر آئیں ‘ جس میں میرا نام لے کر یہ لکھا ہو کہ میں آپ کی تصدیق کروں اور یہ سب کہہ کر یہ بھی کہہ دیا کہ اگر آپ یہ سب کچھ کر بھی دکھائیں ‘ میں تو جب بھی مسلمان ہوتا نظر نہیں آتا۔ قرآن کریم نے اس کا جو جواب دیا ہے ‘ اس کا ذکر کرنے سے پہلے میں رسول اللہ ﷺ کا ایک معجزہ ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ وہ یہ کہ یہ صاحب جنھوں نے یہ معاندانہ مطالبہ پیش کیا تھا اور ساتھ ہی یہ کہا تھا کہ آپ یہ کر بھی دکھائیں تو میں پھر بھی مسلمان نہیں ہوں گا۔ یہ صاحب مسلمان ہوئے اور اللہ نے ان کو ایسی استقامت عطا فرمائی کہ غزوہ طائف میں وہ شہید ہوئے۔ قرآن کریم نے اس کا جو جواب دیا ہے ‘ اس کی بنیاد ان کے رویے پر رکھی گئی ہے۔ یعنی ان کا رویہ یہ ہے کہ اس مطالبے سے پہلے وہ بیسیوں معجزات دیکھ چکے ہیں۔ انھوں نے اپنے کانوں سے کنکریوں کو کلمہ پڑھتے ہوئے سنا ‘ اپنی آنکھوں سے پتھروں کو دیکھا کہ آنحضرت ﷺ کو سلام کہہ رہے ہیں ‘ ان کی ایک بہت بڑی تعداد نے چاند کو دو ٹکڑے ہوتے ہوئے دیکھا ‘ ان کے سامنے کھانے میں اضافہ ہوا اور اس طرح کے کئی معجزات ان کی آنکھوں سے سامنے ظہور پذیر ہوئے۔ اگر صرف معجزہ ان کی ہدایت کے لیے کافی ہوتا تو یہ اس سے پہلے معجزات دیکھ کر ایمان لا چکے ہوتے۔ لیکن ان کا رویہ یہ رہا کہ جب بھی ان کے سامنے کسی معجزے کا ظہور ہوا ‘ انھوں نے ہمیشہ اسے جادو کہہ کر اس کا تمسخر اڑایا اور حق کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ اب بھی اللہ کے لیے یہ کوئی مشکل کام نہیں کہ وہ آسمان سے تحریری شکل میں قرآن پاک کو نازل کر دے۔ وہ اگر تورات کو پتھر کی تختیوں پر کندہ کر کے دے سکتا ہے تو قرآن کریم کو تحریری شکل میں نازل کرنا اس کے لیے کوئی مشکل بات نہیں۔ لیکن یہ مشرکینِ مکہ چونکہ معجزات کا مطالبہ قبولیت حق کے ارادے سے نہیں کر رہے بلکہ ان کا مقصود کج حجتی کے سوا اور کچھ نہیں۔ اس لیے معجزات کا ظاہر کرنا کوئی کھیل نہیں ہے کہ ایسے غیر سنجیدہ لوگوں کے کہنے پر معجزات اترنے شروع ہوجائیں۔ اس کے بعد کی آیت کریمہ میں ان کا ایک اور مطالبہ اور اس کا جواب ذکر کیا گیا ہے۔
Ayah 6:8

وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ مَلَكٌ١ؕ وَ لَوْ اَنْزَلْنَا مَلَكًا لَّقُضِیَ الْاَمْرُ ثُمَّ لَا یُنْظَرُوْنَ Open ayah 6:8 in the Quran reader

کہتے ہیں کہ اس نبی پر کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا ؟ اگر کہیں ہم نے فرشتہ اتار دیا ہوتا تو اب تک کبھی کا فیصلہ ہوچکا ہوتا ‘ پھر انہیں کوئی مہلت نہ دی جاتی

وَ قَالُوْا لَوْ لَآ اُنْزِلَ عَلَیْہِ مَلَکٌط وَلَوْ اَنْزَلْنَا مَلَکًا لَّقُضِیَ الْاَمْرُ ثُمَّ لَا یُنْظَرُوْنَ ۔ (الانعام : 8) (کہتے ہیں کہ اس نبی پر کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا ؟ اگر کہیں ہم نے فرشتہ اتار دیا ہوتا تو اب تک کبھی کا فیصلہ ہوچکا ہوتا ‘ پھر انھیں کوئی مہلت نہ دی جاتی) مشرکین مکہ کا دوسرا مطالبہ ان کا کہنا یہ تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے واقعی اپنا پیغمبر بھیجا ہے تو پھر یہ عجیب بات ہے کہ خداوندکائنات کا پیغمبر اور وہ دنیا میں اس طرح آئے کہ نہ ساتھ کوئی ہٹو بچو کہنے والا ہو ‘ نہ کوئی اس کی حفاظت کرنے والا ‘ نہ کوئی اس کی خدمت بجا لانے والا ‘ جس کا جو جی چاہے اسے کہہ ڈالے تو اسے روکنے والا کوئی نہیں۔ جو تکلیف اسے پہنچانا چاہے ‘ ہاتھ پکڑنے والا کوئی نہیں۔ عجیب بات ہے کہ خداوند ذوالجلال کا پیغمبر اور اس طرح بےیارو مددگار کہ پتھر کھانے اور گالیاں سننے کے لیے رہ جائے۔ اگر یہ اللہ کا پیغمبر ہوتا تو یقینا اس کے ساتھ کوئی فرشتہ اترتا ‘ جو اس کی حفاظت کرتا۔ اسکا رعب بٹھاتا اور لوگوں کو یقین دلاتا کہ یہ واقعی اللہ کا بھیجا ہوا پیغمبر ہے اور مافوق الفطری طریقے سے اس کے کام انجام دیتا اور بعض لوگ یہ کہتے کہ آپ جو کہتے ہیں کہ مجھ پر ایک فرشتہ وحی لے کر اترتا ہے اور وہ فرشتہ مجھ سے باتیں کرتا ہے تو وہ صرف آپ ہی سے باتیں کیوں کرتا ہے اور آپ ہی کو نظر کیوں آتا ہے ؟ وہ ہمیں دکھائی کیوں نہیں دیتا ؟ اور وہ کھلم کھلا آپ کی نبوت کی منادی کرتا ہوا نظر کیوں نہیں آتا ؟ تاکہ سب لوگ اسے دیکھیں اور سب سنیں۔ معتبر ایمان پروردگار نے اس اعتراض کے جواب میں فرمایا : وَلَوْ اَنْزَلْنَا مَلَکًا لَّقُضِیَ الْاَمْرُ (اگر ہم کہیں فرشتہ اتار دیتے تو اب تک کبھی کا فیصلہ ہوچکا ہوتا) مطلب اس کا یہ ہے کہ ایمان لانے اور اپنے طرز عمل کی اصلاح کرلینے کے لیے ‘ جو مہلت تمہیں ملی ہوئی ہے۔ یہ اسی وقت تک ہے ‘ جب تک حقیقت پردہ غیب میں پوشیدہ ہے۔ ورنہ جہاں غیب کا پردہ چاک ہوا ‘ پھر مہلت کا کوئی موقع باقی نہ رہے گا۔ اس کے بعد تو صرف حساب ہی لینا باقی رہ جائے گا۔ اس لیے کہ دنیا کی زندگی تمہارے لیے ایک امتحان کا زمانہ ہے اور امتحان اس امر کا ہے کہ تم حقیقت کو دیکھے بغیر عقل و فکر کے صحیح استعمال سے ‘ اس کا ادراک کرتے ہو یا نہیں اور ادراک کرنے کے بعد اپنے نفس اور اس کی خواہشات کو قابو میں لا کر اپنے عمل کو حقیقت کی مطابق درست رکھتے ہو یا نہیں۔ اس امتحان کے لیے غیب کا غیب رہنا شرط لازم ہے۔ تمہاری دنیوی زندگی جو دراصل مہلت امتحان ہے ‘ اسی وقت تک قائم رہ سکتی ہے ‘ جب تک غیب ‘ غیب ہے۔ جہاں غیب شہادت میں تبدیل ہوا ‘ یہ مہلت لازماً ختم ہوجائے گی اور امتحان کی بجائے نتیجہ امتحان نکلنے کا وقت آپہنچے گا۔ لہٰذا تمہارے مطالبہ کے جواب میں یہ ممکن نہیں ہے کہ تمہارے سامنے فرشتے کو اس کی اصلی صورت میں نمایاں کردیا جائے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ابھی تمہارے امتحان کی مدت ختم نہیں کرنا چاہتا۔ مختصر یہ کہ ایمان وہ معتبر ہے ‘ جو غیب میں رہتے ہوئے ‘ آفاق وانفس اور عقل و فطرت کے ان دلائل کی بنیاد پر لایا جائے ‘ جن کی انبیاء دعوت دیتے ہیں۔ اس ایمان کا کوئی بھروسہ نہیں اور اللہ کے یہاں اس کا کوئی اعتبار نہیں ‘ جو کشف حجاب اور حقائق کا بچشم سر مشاہدہ کرلینے کے بعد لایا جائے۔ بعض لوگوں نے ایک تیسرا مطالبہ کیا تھا کہ بجائے انسان کو پیغمبر بنانے کے فرشتے کو پیغمبر بنا کر کیوں نہیں بھیجا ؟ چناچہ قرآن کریم اس کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے :