Ayah 6:133ارشاد فرمایا :
وَرَبُّکَ الْغَنِیُّ ذُو الرَّحْمَۃِ ط اِنْ یَّشَاْ یُذْھِبْکُمْ وَ یَسْتَخْلِفْ مِنْم بَعْدِکُمْ مَّا یَشَآئُ کَمَآ اَنْشَاَکُمْ مِّنْ ذُرِّیَّۃِ قَوْمٍ اٰخَرِیْنَ ۔ (الانعام : 133)
(اور تیرا رب ‘ بےنیاز رحمت والا ہے۔ اگر وہ چاہے ‘ تم کو فنا کر دے اور تمہارے بعد تمہاری جگہ جس کو چاہے لائے ‘ جس طرح اس نے تم کو پیدا کیا دوسروں کی نسل سے )
اللہ غنی اور رحیم ہے
آیت کی تشریح سے پہلے آیت کے پہلے جملے کو دیکھیے۔ ارشاد فرمایا گیا ہے ” تیرا رب غنی رحمت والا ہے “ اس میں رب کی دو صفات بیان ہوئی ہیں ” غنی “ اور ” رحمت والا “ قاعدے کے اعتبار سے غنی کے بعد ’ واو ‘ یعنی حرف عطف آنا چاہیے تھا لیکن یہاں حرف عطف ساقط کردیا گیا اس میں ایک اہم بات کی طرف اشارہ ہے وہ یہ کہ ایک موصوف میں کئی صفات ہوسکتی ہیں اور اللہ تعالیٰ تو بیشمار صفات سے متصف ہیں مثلاً ایک آدمی خطیب بھی ہوسکتا ہے ادیب بھی ‘ شاعر بھی ہوسکتا ہے نثر نگار بھی ‘ فلسفی بھی ہوسکتا ہے سائنسدان بھی ‘ لیکن ہر صفت اپنے اپنے وقت میں ظہور پذیر ہوتی ہے۔ لیکن جب کسی موصوف کے حوالے سے صرف اس کی صفات کا تذکرہ مقصود ہو یعنی یہ بتلانا مقصود ہو کہ اس میں یہ یہ صفات پائی جاتی ہیں تو ہر صفت کے بعد دوسری صفت کے ساتھ حرف عطف لایاجائے گا۔ لیکن جب کہیں ایک سے زیادہ صفات بغیر حرف عطف کے لائی جائیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ صفات بیک وقت موصوف میں پائی جاتی ہیں ان کا ظہور موصوف سے ایک ہی وقت میں ہوتا ہے۔ یہاں بھی یہی بتلانا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک ہی وقت میں بےنیا زبھی ہیں اور رحمت والے بھی ہیں۔ ان سے بےنیازی کا ظہور بھی ہوتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ رحمت بھی اپنا عمل جاری رکھتی ہے۔ مراد اس سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ غنی اور بےنیاز ہے یعنی اس کی کوئی غرض کسی سے اٹکی ہوئی نہیں ہے اس کا کوئی مفاد کسی سے وابستہ نہیں وہ اپنی کسی بات میں کسی کا محتاج نہیں اس کی شان اور عظمت ایک ایسی اٹل حقیقت ہے کہ کسی مثبت یا منفی بات سے اس میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں۔ ساری دنیا اس کی حمد وثناء کے ترانے گانے لگے اور دن رات اس کی عبادت اور بندگی میں جتی رہے تو اس کی شان میں کوئی اضافہ نہیں ہوسکتا اور اگر دنیا کا ایک ایک فرد اس کی بندگی سے انکار کر دے تو اس کی شان اور عظمت میں کوئی کمی نہیں ہوسکتی۔ جس طرح آنحضرت ﷺ نے ایک حدیث میں ارشاد فرمایا۔ جس کا مفہوم کچھ اس طرح ہے کہ ” اگر تم میں سے ہر مسلمان کا دل اس طرح اللہ کی محبت سے بھرپور اور روشن ہوجائے جس طرح محمد ﷺ کا دل ہے تو اللہ کی شان میں کوئی اضافہ نہیں ہوسکتا اور اگر تم میں سے ہر شخص ابلیس کی طرح نافرمان ہوجائے تو اس کی شان میں کوئی کمی نہیں ہوسکتی “۔ وہ نہ تمہاری سلامیوں کا محتاج ہے نہ تمہاری نذر و نیاز کا ‘ اپنے بیشمار خزانے تم پر لٹا رہا ہے لیکن وہ اس کے بدلے میں تم سے کچھ نہیں چاہتا۔ اس کی اصل شان اس کے استغناء میں ہے۔ ہر چیز اس کی محتاج ہے لیکن وہ ہر احتیاج سے پاک ہے۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق اور اپنے بندوں سے ایسا ہی مستغنی ہے تو پھر وہ اپنے بندوں کو راہ راست پر چلانے کے لیے اپنے رسولوں اور کتابوں کے ذریعے بار بار راہنمائی کیوں دیتا ہے اور وہ کیوں اپنے رسولوں کو اس راستے میں مخالفتیں برداشت کرنے اور اذیتیں سہنے پر مجبور کرتا ہے اس کے نافرمان بندے اس کے رسولوں سے جو بھی سلوک کریں اور اس کے دین کا کیسا ہی تمسخر اڑائیں وہ بالعموم برداشت کرتا ہے اور لوگوں کو ڈھیل پر ڈھیل دیتا چلا جاتا ہے اور پھر یہ سلسلہ ایک دو روز کا نہیں بلکہ حضرت آدم سے لے کر خاتم النبین کی بعثت تک یہی سلسلہ جاری رہا ہے اور آج بھی اس کے راستے پر چلنے والے انہی راہوں کو روشن رکھے ہوئے ہیں اور اس کو نہ ماننے والے اپنی اپنی روش پر قائم ہیں۔ اس کے استغناء کا تقاضہ تو یہ تھا کہ وہ کبھی لوگوں کے حال پر توجہ نہ دیتا۔ زیادہ سے زیادہ ضابطے کی کارروائی تک اپنے آپ کو محدود رکھتا۔ لیکن جس طرح ان کی اصلاح و ہدایت کے لیے ہمیشہ سے کوششیں ہوتی آئی ہیں اس سے تو ایسا لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ گویا انسانوں کی طرف سے ان کی بندگی اور عبادت کا محتاج ہے کہ اگر یہ ایسا نہیں کریں گے تو اس کی کبریائی میں کوئی کمی آجائے گی اس لیے یہاں بتایا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات میں غنی اور بےنیاز ہے اسے تمہاری کسی بات کی پرواہ نہیں لیکن وہ ساتھ ہی ساتھ رحمت والا بھی ہے اور مہربانی اس کا شیوہ ہے اور یہ اس کی مہربانی اور رحمت کا ظہور یوں تو مختلف شانوں کے ساتھ ہر وقت جاری رہتا ہے لیکن ہدایت کے معاملے میں اس کا ظہور دو طرح سے ہوتا ہے ایک تو یہ کہ وہ انسانوں کو راہ راست پر چلنے کی جو تلقین کرتا ہے اور حقیقتِ نفس الامری کے خلاف طرز عمل اختیار کرنے سے جو منع کرتا ہے تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ تمہاری راست روی سے اس کو کوئی فائدہ اور غلط روی سے اس کو کوئی نقصان پہنچتا ہے بلکہ اس کی وجہ دراصل یہ ہے کہ اس راست روی میں تمہارا اپنا فائدہ اور غلط روی میں تمہارا اپنا نقصان ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اگر تم اس کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق معاشرت اختیار نہیں کرو گے تو تمہارے گھر اجڑ جائیں گے۔ تمہارا معاشرہ تباہ ہوجائے گا اگر تم اس کی راہنمائی کو نظر انداز کر کے اور اس کے احکام سے سرتابی کر کے کاروبارِزندگی چلائو گے تو تہذیب بھی تباہ ہوگی ‘ تمدن بھی اپنا راستہ بدل لے گا اور زندگی اس طرح غلط رخ پر چل نکلے گی کہ تمہاری اجتماعی زندگی طبقات کا شکار ہو کر تباہی کے راستے پر جا پڑے گی اور اگر تم نے اس کی کبریائی کو تسلیم کر کے اس کے عطا کردہ قانون کی پابندی نہ کی تو تم آمریت کی زد میں آجاؤ گے اور کچھ بعید نہیں کہ تم غلامی کی زنجیروں میں جکڑ دیئے جاؤ۔ ان تمام قباحتوں سے بچانے کے لیے وہ تمہیں صحیح طرز عمل کی تعلیم دیتا ہے اور یہ سراسر اس کی رحمت کا تقاضہ ہے کیونکہ اس کی رحمت تمہارے کسی نقصان ‘ کسی دکھ اور کسی حادثے کو برداشت نہیں کرتی وہ تمہیں ایسے تمام حوادث سے بچانا چاہتی ہے بلکہ جب ہم تدبر کا ایک قدم اور آگے بڑھاتے ہیں تو یہ دیکھ کر حیرانی ہوتی ہے کہ اس کی رحمت جس طرح انسانوں کو راست روی کی تعلیم دیتی ہے اسی طرح یہ بھی دکھائی دیتا ہے کہ اگر انسان غلط روی سے رکتے نہیں ہیں تو اس کی رحمت کے ظہور کی دوسری صورت یہ ہے کہ وہ انسانوں کی کوتاہیوں پر کبھی جلدی گرفت نہیں کرتا۔ وہ انسانوں کو سزا دینے پر کبھی خوش نہیں ہوتا۔ وہ ہر ممکن طریقے سے انھیں غلط انجام سے روکنا چاہتا ہے اس لیے وہ گرفت میں جلدی کرنے کی بجائے ڈھیل پے ڈھیل دیتا چلا جاتا ہے اور ساتھ ساتھ تبلیغ و دعوت کے ذریعے ان کی غلطیاں بھی ان پر واضح کرتا ہے تاکہ لوگ اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کو سمجھ کر صحیح راستے کی طرف پلٹ آئیں اور پھر اس کی رحمت کی انتہاء یہ ہے کہ جس طرح وہ تبلیغ و دعوت کے سلسلے کو بند نہیں کرتا کہ وہ کفار کے کفر اور مشرکین کے شرک اور نافرمانوں کی نافرمانیوں سے ناراض ہو کر اللہ کے نبیوں کا بھیجنا اور کتابوں کا اتارنا بند کر دے اسی طرح وہ ان تمام نافرمانوں کی روزی کبھی نہیں روکتا جس طرح وہ اپنے ماننے والوں کو رزق دیتا ہے اسی طرح نہ ماننے والوں کو بھی دیتا ہے بلکہ بعض دفعہ ان کی آزمائش کے لیے انھیں زیادہ رزق دیتا ہے تاکہ وہ اللہ کی رحمت کو محسوس کر کے یا تو پلٹ آئیں اور یا کفران نعمت کی انتہاء پر پہنچ کر تباہی کا شکار ہوجائیں۔
اللہ تعالیٰ کفار کو ختم کر کے نئی نسل پیدا کرنے پر قادر ہے
اللہ کی رحمت کا یہ طرز عمل بعض دفعہ بگڑے ہوئے انسانوں میں راہ راست کی طرف آنے کی بجائے یہ سوچ پیدا کرتا ہے کہ ہم اللہ کی نافرمانی پہ نافرمانی کرتے ہیں لیکن وہ نہ تو اپنی نعمتیں ہم سے روکتا ہے اور نہ اس کا پیغمبر اپنی کاوشیں ترک کرتا ہے بلکہ اس کی رحمتیں ہیں کہ بڑھتی ہی چلی جاتی ہیں۔ ہمارے انکار اور طغیان کا نتیجہ تو یہ ہونا چاہیے تھا کہ ہم پر عذاب کا کوڑا برستا لیکن بجائے عذاب آنے کے اس کا رسول رحمت اللعالمین بن کے آیا اور جو اس پر کتاب اتری ہے اس کی شان بھی یہ ہے کہ وہ بھی اپنے ماننے والوں کے لیے رحمت بن کے آئی ہے اور پھر اس کی کتاب میں بار بار ہمیں ترغیب دے دے کر راہ ہدایت کی طرف لانے کی کوشش کی جاتی ہے اور اس کا پیغمبر نا صرف کہ اپنی شخصیت کی پوری توانائیاں ہمیں ہدایت دینے کے لیے صرف کر رہا ہے بلکہ راتوں کو جاگ جاگ کر ہمارے ایمان کے لیے دعائیں بھی کرتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جس عذاب اور جس گرفت سے ہمیں ڈرایا جا رہا ہے وہ محض ایک افسانہ ہے اللہ میں ہرگز اس کی قوت نہیں کہ وہ ہمیں سزا دے سکے اگر ایسا ہوتا تو یہ ہمیں ڈھیل پر ڈھیل نہ ملتی شاید اسی وسوسے کے ازالے کے لیے اور اسی غلط سوچ کو دور کرنے کے لیے ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ تمہیں یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کو تمہیں سزا دینے کی قدرت حاصل نہیں اس کی قدرت کا عالم تو یہ ہے کہ وہ اگر چاہے تو چشم زدن میں تمہیں تباہ و برباد کر دے بلکہ تمہارا نام و نشان مٹا دے کیونکہ یہاں لفظ ہلاکت کا استعمال نہیں ہوا۔ یُذْھِبْکُمْ کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کا معنی ہے کہ تمہیں لے جائے یعنی تمہارا نام و نشان تک مٹا دے اور تمہیں ملیامیٹ کر دے اور پھر یہ نہ سمجھو کہ تمہیں تباہ کردینے سے دنیا بےآباد ہوجائے گی اور زمین پر بسنے والا کوئی نہیں ہوگا۔ فرمایا جس طرح اس میں تمہیں تباہ کرنے کی قدرت ہے اسی طرح دنیا کو آباد کرنے کی بھی اس میں قدرت ہے۔ آخر ایک صدی پہلے جو نسل آج زمین پر آباد ہے ان میں سے کون اس زمین پر آباد تھا یقینا وہ اور لوگ تھے جو تم سے پہلے زمین پر رہتے تھے۔ لیکن آج ان میں سے کوئی بھی زندہ نہیں اس طرح جب وہ تمہیں مٹا دے گا تو تمہاری جگہ اور لوگوں کو لے آئے گا اور یہ سلسلہ ہمیشہ سے آج تک جاری وساری ہے قومیں آتی اور جاتی ہیں لیکن زمین اس کی قدرت سے ہمیشہ آباد رہتی ہے۔ پھر ساتھ ہی ساتھ مَا کا لفظ لا کر ایک اور سوال کا جواب بھی دے دیا گیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نوع انسانی کا سلسلہ نسل انسانی سے قائم ہے اگر تمام انسان ایک دفعہ مٹا دیئے جائیں تو نئے انسان آخر کس نسل سے وجود میں آئیں گے۔ یہاں مَنْ کی بجائے مَا کا لفظ لا کر اس سوال کا جواب دیا گیا ہے کیونکہ مَا کا غالب استعمال بےجان چیزوں کے لیے ہوتا ہے اور مَنْ کا استعمال جاندار چیزوں کے لیے۔ یہاں یہ بتایا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا عالم تو یہ ہے کہ وہ اس بات کا محتاج نہیں کہ وہ انسانوں کو انسانوں ہی سے پیدا کرے وہ جب چاہے انسانوں کو بغیر کسی سبب کے بھی پیدا کرسکتا ہے۔ اس کی قدرت سے یہ کوئی بعید نہیں کہ وہ اس صحرا کی جس چیز کو چاہے تمہاری جگہ لینے کے لیے کھڑی کر دے۔ سیدنا مسیح (علیہ السلام) نے ایک جگہ بنی اسرائیل کو مخاطب کر کے فرمایا ہے کیونکہ بنی اسرائیل بھی قریش کی ہی طرح ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد ہونے پر بڑا ناز کرتے تھے اس لیے حضرت مسیح نے ان سے فرمایا کہ تم اس بات پر گھمنڈ نہ کرو کہ تم ابراہیم کی اولاد ہو میرا خداوند چاہے تو ریگستان کے ذروں سے ابراہیم کے لیے اولاد کھڑی کر دے۔ یہاں قریش سے بھی ان کے غرور پر ضرب لگاتے ہوئے یہی فرمایا جا رہا ہے کہ تم اللہ کی نگاہ میں بےجان مخلوق کی مانند ہو جس طرح صحرا میں خودرو پودے اگتے ہیں تم اس سے بھی زیادہ بےقدر و قیمت ہو اس لیے تم جیسے پودوں کو مسل کر تم سے بہتر پودوں کو اٹھا کھڑا کرنا اللہ کے لیے کوئی مشکل بات نہیں۔
حاصل کلام یہ کہ جس ذات والا صفات کا حال یہ ہے کہ وہ اپنی ذات میں غنی ہے لیکن بندوں کے معاملات میں وہ رحیم و کریم ہے اور قدرتیں اس کی بےپناہ ہیں جب چاہے اپنے ماننے والوں کو نواز سکتا ہے اور اپنے نافرمانوں کو تباہ کرسکتا ہے اور وہ صاف صاف اپنے پیغمبروں کے ذریعے یہ بات واضح کر رہا ہے کہ نبی آخر الزماں کے آجانے کے بعد تمہاری قسمت میزان میں ہے اور تمہارا عمل تمہارے لیے فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے تم اگر اس دعوت کو قبول کرو گے تو اللہ کی نعمتوں کے مستحق ٹھہرو گے اور قیامت کے دن جنت تمہارے انتظار میں ہوگی اور اگر اس دعوت کو رد کردو گے تو عین ممکن ہے کہ انکار کردینے والی قوموں پر جس طرح عذاب آتا رہا ہے تم پر بھی وہ عذاب آجائے ورنہ قیامت کا آنا تو بہرحال یقینی ہے اور اس دن تمہیں جواب دینا پڑے گا کہ تم نے اس دعوت کے ساتھ یہ سلوک کیوں کیا ؟ چناچہ یہی بات اگلی آیت کریمہ میں فرمائی جا رہی ہے۔
Ayah 6:134اِنَّ مَا تُوْعَدُوْنَ لَاٰتِ لا وَّ مَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ ۔ (الانعام : 134)
(اور جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے ‘ وہ آکے رہے گی اور تم ہمارے قابو سے باہر نہیں جاسکتے )
اللہ نے جس کا وعدہ کیا ہے وہ آ کر رہے گی اور کوئی اللہ کے قابو سے باہر نہیں ہوگا
رسول اللہ ﷺ اہل مکہ کے سامنے اپنی دعوت پیش کرتے ہوئے جہاں دعوت کی افادیت ‘ اہمیت اور اس کی ضرورت پر گفتگو فرماتے وہاں دو باتوں کا تذکرہ بھی ہوتا۔ ایک تو یہ بات کہ تمہارے گردوپیش میں ان قوموں کے کھنڈرات موجود ہیں اور تم اپنے تجارتی اسفار میں ان کھنڈرات سے گزرتے بھی ہو جنھوں نے اللہ کے رسولوں کی دعوت کو قبول نہ کیا اور بالآخر عذاب کا شکار ہوگئیں۔ تم نے بھی اگر آج اس دعوت کو قبول نہ کیا اور اپنے رویے کو نہ بدلا تو ایسا ہی عذاب تم پر بھی آسکتا ہے اور دوسری یہ بات کہ تمہیں یہاں ہمیشہ تو زندہ نہیں رہنا ہر مرنے والے کی طرح تمہیں بھی مرنا ہے اور تم یہ غلط سمجھتے ہو کہ موت کے ساتھ تم ہمیشہ کے لیے فنا ہوجاؤ گے تمہیں یقین رکھنا چاہیے کہ ایک دن جسے قیامت کہتے ہیں سب انسانوں کو زندہ کر کے اٹھایا جائے گا باقی انسانوں کے ساتھ تم بھی محشر میں جمع کیے جاؤ گے۔ اللہ کے سامنے حاضری ہوگی وہاں تمہیں اس بات کا جواب دینا پڑے گا کہ تم نے اسلام کو قبول کرنے سے کیوں انکار کیا ؟ کہا یہ دونوں باتیں ہو کے رہیں گی۔ اگر تم نے اپنا رویہ نہ بدلاتو اللہ کا عذاب بھی آسکتا ہے اور قیامت تو بہرصورت اپنے وقت پر آئے گی اور ساتھ ہی ساتھ یہ بات بھی یاد رکھو کہ اگر اس کا عذاب آگیا تو تمہیں یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ تم اس عذاب کی گرفت سے بچ نکلو گے یا قیامت کے دن تمہارے شریک تمہیں اللہ کے عذاب سے بچا لیں گے۔ اس کی پکڑ سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ معجزین کا ایک معنی تو یہ ہے کہ تم اس کو پکڑنے سے اور عذاب دینے سے عاجز کرنے والے نہیں ہو اور دوسرا معنی اس کا یہ ہوتا ہے کہ تم ایسے نہیں ہو کہ اللہ تمہیں پکڑے اور تم اس کے قبضے سے نکل جاؤ اور وہ تم پر قابو نہ پا سکے۔ تم جو اب تک اس کی گرفت سے بچے ہوئے ہو تو یہ محض اس کی رحمت کا ظہور ہے کہ اس نے تمہیں ڈھیل دے رکھی ہے لیکن جب وہ گرفت کرنا چاہے گا تو پھر اس کی گرفت سے تم نہیں بچ سکتے۔ مصر کے فراعنہ ‘ عراق کے نماردہ اور اسی طرح اور بڑے بڑے طاقت و جمروت کے پیکروں کی تاریخ تمہارے سامنے ہے وہ جب اللہ کی گرفت میں آئے تو پھر ان کی طاقت و حشمت انھیں نہ بچا سکی وہ تاریخ میں آج عبرت کے طور پر یاد کیے جا رہے ہیں۔ تم ان کے مقابلے میں کسی بھی حیثیت کے مالک نہیں ہو اس لیے جب پروردگار تمہیں پکڑنا چاہے گا تو تم اس کی پکڑ سے کس طرح بچ سکو گے۔
ان آیات پر غور کیجئے تبلیغ و دعوت کے حوالے سے اور افہام و تفہیم کی رو سے کوئی پہلو ایسا باقی نہیں رہ گیا جس کے حوالے سے مشرکینِ مکہ کو سمجھانے کی کوشش نہ کی گئی ہو۔ ترغیب اور ترہیب کا کوئی گوشہ ایسا باقی نہیں رہ گیا جسے چھیڑا نہ گیا ہو استدلال کا کوئی پہلو ایسا نہیں بچا جس سے دماغوں کو ہموار کرنے کی کوشش نہ کی گئی ہو۔ اب اس کے بعد ایک ہی بات باقی رہی جاتی ہے جس کا ذکر اگلی آیت کریمہ میں فرمایا جا رہا ہے۔
Ayah 6:135قُلْ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰی مَکَانَتِکُمْ اِنِّیْ عَامِلٌج فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ لا مَنْ تَکُوْنُ لَہٗ عَاقِبَۃُ الدَّارِ ط اِنَّہٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ ۔ (الانعام : 135)
(کہہ دو ‘ اے میرے ہم قومو ! تم اپنے طریقے پر چلو ‘ میں اپنے طریقے پر چلتا ہوں۔ تم جلد جان لو گے کہ انجام کار کی کامیابی کس کا حصہ ہے۔ یقینا ظالم فلاح پانے والے نہیں ہوسکتے)
رسول اللہ ﷺ کو فرمایا جا رہا ہے کہ کفار کو کہہ دیں تم اپنے طریقے پر چلو میں اپنے طریقے پر چلتا ہوں
اے پیغمبر ان سے کہہ دو کہ تم نے اگر میری دعوت کو قبول نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور میری کوئی دلیل تم پر اثر انداز نہیں ہو رہی اور تمہارے دل پتھروں سے بڑھ کر سخت ہوگئے ہیں اور تم نے انسانیت سے بالکل ناطہ توڑ لیا ہے اور ترغیب اور ترہیب کا کوئی لہجہ تم پر اثر انداز نہیں ہو رہا تو اسکا مطلب یہ ہے کہ تبلیغ و دعوت کا معاملہ اپنی انتہاء کو پہنچ گیا کیونکہ کاوشیں مکمل ہوگئیں ‘ انکار کی روش بھی مکمل ہوگئی یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جس میں اتمام حجت کا اعلان ہوجاتا ہے۔ یہاں آنحضرت ﷺ سے اتمام حجت کرایا جا رہا ہے کہ تم نے اگر یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ تم کسی قیمت پر میری دعوت پر کان نہیں دھرو گے تو پھر میں آخری بات کہے دیتا ہوں
تم اپنی خو نہ بدلو گے ہم اپنی وضع کیوں چھوڑیں
سبک سر ہو کے کیوں پوچھیں کہ ہم سے تم خفا کیوں ہو
کہ تم اپنے انکار پر قائم رہو اور اپنی اذیت رسانی کے عمل کو جاری رکھو لیکن میں اپنے کام سے نہیں رک سکتا میں تمہاری اذیتوں کے مقابلے میں بھی تمہیں اللہ کے دین کی دعوت دیتا رہوں گا ‘ البتہ یہ ضرور ہے کہ تمہیں اگر یہ قبول نہیں تو تم مجھے یہ کام دوسروں میں کرنے دو ۔ لیکن یہ کام بہرحال ہوگا کیونکہ تم اگر اپنی جفائیں نہیں چھوڑ سکتے تو میں اپنی وفائیں کیسے چھوڑ دوں۔ مریض اگر کھانا پینا بالکل چھوڑ دے تو تیمار دار آخری دم تک مریض کو کھلانے کی کوشش جاری رکھتا ہے۔ یہ کفر اور شرک کے مریض جب تک آخری ہچکی نہیں لے لیتے پیغمبر اپنے کام سے کبھی فارغ نہیں ہوتا۔ جب تک اسے ہجرت کا حکم نہیں ملتا وہ آخری لمحے تک اپنے کام کو جاری رکھتا ہے اس کا طرز عمل کچھ اس طرح کا ہوتا ہے
جفا سے ہٹو تم وفا سے ٹلوں میں
نہ یہ بات ہوگی نہ وہ بات ہوگی
البتہ ! ایک بات یاد رکھو کہ یہ بات میں تمہیں برملا بتائے دیتا ہوں کہ آج تم بیشک میری دعوت کو قبول نہ کرو لیکن تم عنقریب دیکھ لو گے کہ اچھا انجام کس کو ملتا ہے اور کون برے انجام سے دوچار ہوتا ہے۔
یہاں عَاقِبَۃُ الدَّارِکا لفظ استعمال ہوا ہے۔ یوں تو عاقبت کا معنی صرف انجام ہوتا ہے خواہ نیک انجام ہو یا بد لیکن بعض اوقات یہ مخصوص طور پر خیر و فلاح کے انجام کے معنی میں استعمال ہوتا ہے کیونکہ قابل ذکر انجام تو وہی ہے جو اس فلاح وسعادت کا حامل ہو کیونکہ یہ فلاح وسعادت ہی کائنات کی تخلیق کا اصل مقصد ہے نا مرادی اور خسران کا انجام وہ تو اس مقصد سے انحراف کا لازمہ ہے۔ چناچہ یہاں بھی یہ لفظ اسی خیر و فلاح کے انجام کے معنی میں استعمال ہو رہا ہے۔ مشرکینِ مکہ سے یہ کہا جا رہا ہے کہ تمہیں عنقریب اندازہ ہوجائے گا کہ یہ خیر و فلاح کس کا مقدر بنتی ہے تم بظاہر دنیا کی خوش عیشیوں میں مبتلا ہو کر اپنے آپ کو کامیاب و کامران سمجھتے ہو لیکن تمہیں اندازہ نہیں کہ تم ہلاکت اور بربادی کے انجام کی طرف بڑھ رہے ہو اور مسلمان جو تمہاری اذیتوں کی وجہ سے زار و نزار ہیں تمہیں معلوم نہیں کہ وہ ایک روشن مستقبل کو سامنے پا رہے ہیں جو عنقریب ان کے انتظار میں ہے اور یہ روشن مستقبل اور یہ خوبصورت انجام دو صورتوں میں ان کا استقبال کرے گا۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ آخرت میں تو بالکل واضح ہے کہ آخرت کی کامیابیاں تو یقینا اہل ایمان کا حصہ ہیں۔ جہاں تک دنیا کی فلاح و کامرانی کا تعلق ہے اس لفظ میں اس کی طرف بھی اشارہ ہے اسی وجہ سے الدار کو بغیر صفت کے لایا گیا ہے اگر اس سے مراد صرف دار آخرت ہوتا تو پھر الدارالاخرۃ آتا۔ یہاں صرف الدار لا کر اس کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد دار دنیا اور دار آخرت دونوں ہیں اس لحاظ سے یہ ایک پیش گوئی بھی ہے اور ایسے وقت میں کی جا رہی ہے جب کہ اسلامی دعوت کے پھلنے پھولنے اور آگے بڑھنے کے امکانات روز بروز مسدود ہوتے جا رہے تھے اور دشمن یہ دیکھ کر خوش ہو رہا تھا کہ یہ نوزائدہ تحریک چند دنوں تک خود اپنی موت آپ مرجائے گی۔ لیکن یہاں پیش گوئی فرمائی جا رہی ہے کہ اے مشرکین مکہ تم اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے کہ اسلامی دعوت کا انجام کیا ہوتا ہے اور تمہاری اس ہٹ دھرمی کا انجام کیا ہوتا ہے ؟ چناچہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ہجرت کے سات سال بعد ہی اس پیش گوئی کے پورا ہونے کا وقت آگیا کہ وہ لوگ جو اسلام کا نام سننے کے روادار نہیں تھے اور جنھوں نے آنحضرت ﷺ کے قتل کے منصوبے بنائے تھے ان میں بڑے بڑے سردار تو جنگ بدر میں قتل کردیئے گئے اور جو باقی بچے وہ فتح مکہ کے موقع پر آنحضرت کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے معافی کے طلبگار تھے اور وہ نہایت لجاجت سے حضور ﷺ سے اپنی جان بخشی کی درخواست کر رہے تھے اس سے انھوں نے بھی اور ساری دنیا نے اس پیش گوئی کی صداقت پورے ہوتے دیکھی کہ کفر کی قسمت میں سوائے ذلت و ندامت کے اور کچھ نہ آیا اور مسلمانوں کو اللہ نے اپنی پیش گوئی کے مطابق ایک روشن اور کامیاب مستقبل سے نوازا اور یہ جو بظاہر کفار مکہ کو زندگی ملی اور پھر وہ اسلام کی دولت سے مشرف ہوئے یہ بھی اس لیے ہوا کہ مکہ میں ہجرت کے بعد بھی اسلام کی قبولیت کا سلسلہ رکا نہیں۔ اندر ہی اندر تبلیغ و دعوت کا یہ سلسلہ جاری رہا اور فرداً فرداً لوگ اسلام قبول کرتے رہے اگر یہ لوگ کہیں بالکل اسلام قبول کرنے سے انکار کردیتے تو اللہ کی سنت کے مطابق آنحضرت کی ہجرت کے بعد اللہ کا عذاب ان پر نازل ہوجاتا۔ البتہ جن لوگوں کو بالکل اسلام قبول نہ کرنا تھا وہ جنگ بدر اور اس کے بعد کی جنگوں میں اللہ کے عذاب کا شکار ہو کر جہنم واصل ہوئے یہ جو میں نے عرض کیا کہ یہ لوگ اس لیے اجتماعی عذاب سے بچ گئے کہ ان میں قبولیت ایمان کا سلسلہ دھیرے دھیرے جاری رہا۔ یہ میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ واقعہ حدیبیہ کے موقع پر جس طرح کی صورت حال پیدا ہوئی اس میں صاف نظر آرہا تھا کہ اب مسلمانوں اور قریش مکہ میں تصادم ہوا ہی چاہتا ہے لیکن اللہ نے محض اپنے فضل و کرم سے اس تصادم سے جانبین کو محفوظ رکھا اور اس کی وجہ قرآن کریم میں یہ بیان فرمائی گئی کہ مکہ معظمہ میں ایک معتد بہ تعداد نومسلم لوگوں کی تھی جن سے مسلمان بالکل ناواقف تھے اگر یہ تصادم ہوجاتا تو ممکن تھا کہ خود یہ نومسلم مسلمانوں ہی کے ہاتھوں مارے جاتے۔ اللہ کو یہ بات منظور تھی کہ ان کی زندگی بچائی جائے اور ان سے اللہ کے دین کی سربلندی میں کام لیا جائے۔ چناچہ حدیبیہ کے ایک ہی سال بعد ہم دیکھتے ہیں کہ مکہ سے جو لوگ چھپتے چھپاتے ساحل سمندر تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے ان کی تعداد ستر (70) کے قریب تھی اور جو لوگ نہ نکل سکے اور فتح مکہ کے بعد مسلمانوں میں شامل ہو سکے ان کی تعداد ان سے بھی زیادہ تھی۔ یہی وہ قبولیت ایمان کا سلسلہ تھا جس نے اہل مکہ کو اجتماعی عذاب سے محفوظ رکھا۔ چناچہ یہاں آخرت کی کامیابی کے ساتھ ساتھ اسی کامیابی کی پیش گوئی کی گئی ہے جو چند ہی سالوں میں حرف بحرف پوری ہوئی۔
اس آیت کریمہ کے آخری جملے میں اس پوری صورتحال کو سمیٹتے ہوئے ایک اصولی بات فرمائی گئی کہ تم بھی اور قیامت تک آنے والے انسان بھی اس بات کو یاد رکھیں کہ اللہ کا قانون یہ ہے کہ یہاں فلاح و کامرانی ظالموں کو کبھی نصیب نہیں ہوتی۔ اگر ظالم کہیں بظاہر کامیاب دکھائی دیتے ہیں تو اس کی دو صورتیں ہوتی ہیں ایک تو یہ کہ جسے کامیابی سمجھا جاتا ہے وہ کامیابی کی صورت ہوتی ہے حقیقت نہیں اور دوسری یہ بات کہ ظالموں کو کامیابی اس وقت ملتی ہے جب مظلوم اللہ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق اللہ سے مدد مانگتے ہوئے ظالم کے مقابلے میں اٹھنے سے کمزوری کا اظہار کرتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں چونکہ ظالم کے سامنے کوئی مقابل قوت نہیں ہوتی تو ایک مختصر وقت کے لیے قدرت ایسے ظالموں کو من مانی کرنے کے لیے چھٹی دے دیتی ہے اور ان سے ان مظلوموں کو سزا دلوانے کو کام لیتی ہے جو ان ظالموں کے خلاف جدوجہد سے انکار کرتے یا تساہل سے کام لیتے ہیں۔ اس لیے کہ قدرت کا یہ بھی قانون ہے کہ وہ ظالموں سے ظالموں کو سزا دلواتا ہے اور جس طرح ایک ڈاکٹر نشتر سے ناسور زدہ حصے کو کاٹنے کا کام لیتا ہے اسی طرح ان ظالموں کو بھی تقدیر کے نشتر کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے لیکن اصول اپنی جگہ ہے کہ اللہ ظالموں کو کبھی کامیابی عطا نہیں فرماتا۔
یہاں یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ ظالموں سے کیا مراد ہے ہم پیچھے پڑھ چکے ہیں کہ ظلم شرک کا دوسرا نام ہے کائنات میں چونکہ اللہ کا تکوینی نظام کارفرما ہے اور یہاں کی ہر چیز اس کی حاکمیت کی پابند ہے۔ چھوٹے بڑے کرے اسی کے حکم کے تحت محو گردش ہیں۔ اس کا ایک قطعی قانون ہے جس کے مطابق پوری کائنات محو سفر ہے اور اسی میں اس کائنات کی زندگی کا راز مضمر ہے جس دن سورج اپنا اصل فرض انجام دینے سے قاصر رہے گا تو وہ بجھ کے رہ جائے گا جو کرہ اپنے مدار سے نکل جائے گا وہ ٹوٹ کر تباہ ہوجائے گا ‘ جو درخت اپنی جڑوں سے اکھڑ جاتا ہے وہ موت کا شکار ہوجاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کائنات کی زندگی اللہ کے اس قانون کی پابندی میں ہے۔ جس قانون کا اسے پابند بنایا گیا ہے۔ اسی طرح انسان بھی ایک تکوینی قانون کے ساتھ ساتھ تشریعی قانون کا پابند بنایا گیا ہے۔ اسی کے لیے اللہ نے اپنے رسول بھیجے اور کتابیں اتاری ہیں اور اسی قانون کی پابندی اور اس کے مطابق عمل کرنے میں اس کی فلاح و کامرانی کا راز مضمر ہے اور یہ بتادیا گیا ہے کہ جس طرح پوری کائنات اللہ کی اطاعت میں زندگی گزار رہی ہے اور جس سمت میں اس کا سفر جاری ہے تم بھی اپنی زندگی کا سفر اگر تشریعی نظام کی اطاعت کرتے ہوئے اسی سمت میں جاری رکھو گے تو کامیابی اور کامرانی تمہارا نصیب ہوگی لیکن اگر تم اس کی الٹی سمت چلنے کی کوشش کرو گے تو تباہ و برباد ہوجاؤ گے اور یہ الٹی سمت سفر کرنے کو ہی کفر اور شرک کے نام سے یاد کیا گیا ہے اور انسانوں پر انسان جو ظلم توڑتے ہیں وہ بھی اس وقت ممکن ہوتا ہے جب انسان اس نظام شریعت سے باغی ہوجاتے ہیں۔ اسی سے آج کی امت مسلمہ کی نامرادی اور بدنصیبی کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ آج امت مسلمہ جس طرح قدم قدم پر ناکامیوں اور نامرادیوں سے دوچار ہے اس کی وجہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ اس نے اجتماعی ظلم کا رویہ اختیار کر رکھا ہے۔ اس نے ہر قدم پر کفر اور شرک کا ارتکاب کیا ہے۔ اللہ کے دین اور اس کے احکام کو ماننے سے انکار کرنا یہ کفر ہے اور اللہ کے احکام اور اس کے قانون میں کسی دوسرے قانون کو شریک کرنا اللہ کی کبریائی اور حاکمیت میں کسی دوسرے کی حاکمیت کو دخیل کرنا یہ شرک ہے اور پوری امت مسلمہ آج اس کفر اور شرک کا ارتکاب کر رہی ہے۔ اللہ کا وہ قانون جو قرآن و سنت کی شکل میں ہمارے پاس محفوظ ہے تمام ممالک اسلامیہ میں کہیں بھی پوری طرح نافذ نہیں۔ سعودی عرب میں حدود اللہ نافذ ہیں پورا دین نہیں اور باقی کسی ملک میں حدود اللہ بھی نافذ نہیں۔ ہم یا تو اسے قبول کرنے سے انکار کرچکے اور یا ہمارا طرز عمل یہ ہے کہ ہم مسجد میں جا کر اللہ کی بندگی کرتے ہیں اور مسجد سے باہر نکل کر باقی تمام شعبہ ہائے زندگی میں دوسرے قوانین کی پیروی کرتے ہیں اور اللہ کے قانون کو نظر انداز کردیتے ہیں۔ آپ خود اندازہ فرما لیجئے کہ اس صورت حال کو کفر اور شرک کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے اور یہی وہ ظلم ہے جس کے بارے میں فرمایا جا رہا ہے کہ ظالم کبھی فلاح نہیں پاتے۔
اگلی آیات کریمہ میں مشرکین عرب کے اس ظلم یعنی شرک کی تفصیل بیان کی جا رہی ہے دور جاہلیت میں جس پر یہ لوگ عامل تھے اللہ کے ساتھ ان کا شرک مختلف انواع پر مشتمل تھا بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ شرک کی ایسی کوئی قسم باقی نہیں رہ گئی تھی جس کا یہ لوگ ارتکاب نہیں کرتے تھے اور ویسے بھی دیکھا جائے تو جس طرح دنیا بھر کے موحدین اپنے نظریہ توحید میں موافقت اور مماثلت رکھتے ہیں اسی طرح مشرکین میں بھی بہت حد تک دنیا بھر میں توافق پایا جاتا ہے کسی بھی علاقہ کے مشرکین کو دیکھ لیجئے شرک کے اظہار کی صورتوں میں تھوڑا بہت اختلاف آپ کو ملے گا لیکن بنیادی مشرکانہ تصورات میں آپ کو مکمل موافقت نظر آئے گی چناچہ ان آیات میں ان کے شرک کی تمام تفصیلات کو ذکر کرنا ممکن نہیں البتہ اس کی اہم تر صورتوں کو ذکر کردیا گیا ہے اور اسی پر باقی کو قیاس کیا جاسکتا ہے ارشاد خداوندی ہے :
Ayah 6:136وَ جَعَلُوْا لِلّٰہِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْاَنْعَامِ نَصِیْبًا فَقَالُوْا ھٰذَا لِلّٰہِ بِزَعْمِھِمْ وَھٰذَا لِشُرَکَآئِنَا ج فَمَا کَانَ لِشُرَکَآئِھِمْ فَلَا یَصِلُ اِلَی اللہِ ج وَمَا کَانَ لِلّٰہِ فَھُوَ یَصِلُ اِلٰی شُرَکَآئِھِمْ ط سَآئَ مَا یَحْکُمُوْنَ ۔ (الانعام : 136)
(ان لوگوں نے اللہ کے لیے خود اسی کی پیدا کی ہوئی کھیتیوں اور مویشیوں میں سے ایک حصہ مقرر کیا ہے اور کہتے ہیں یہ اللہ کے لیے ہے ‘ ان کے گمان کے مطابق اور یہ ہمارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کے لیے ہے۔ پھر جو حصہ ان کے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کے لیے ہے ‘ وہ تو اللہ کو نہیں پہنچتا۔ مگر جو اللہ کے لیے ہے ‘ وہ ان کے شریکوں کو پہنچ جاتا ہے۔ کیسے برے فیصلے کرتے ہیں یہ لوگ)
مشرکین اللہ کے لیے الگ حصہ نکالتے اور اپنے معبودوں کے لیے الگ حصہ نکالتے
اس آیت کریمہ میں ان کے شرک کی تین جہتوں کو بیان کیا گیا ہے اور ساتھ ہی ایک بنیادی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تردید بھی فرمائی گئی ہے۔ سب سے پہلی بات یہ فرمائی گئی ہے کہ انھوں نے کھیتیوں اور مویشیوں میں سے دو حصے مقرر کر رکھے ہیں ایک اللہ کے لیے اور ایک ان دیویوں اور دیوتائوں اور فرشتوں اور جنات اور آسمانی ستاروں اور بزرگان سلف کی ارواح کے لیے جن کے بارے میں ان کا گمان ہے کہ وہ ان پر نظر کرم رکھتے ہیں اور انہی کے واسطے سے اللہ کی نعمتیں اور اس کی عنایات انھیں میسر آتی ہیں اور دوسرا حصہ خود اللہ تعالیٰ کے لیے جو کہ تمام نعمتوں کا خالق ہے اور اسی نے اپنے بندوں کو یہ سب کچھ عطا کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس پر گرفت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جب تم اس بات کو تسلیم کرتے ہو کہ یہ سارے مویشی اللہ ہی کے پیدا کردہ ہیں اور اسی کی مہربانیوں سے تمہیں میسر آئے ہیں تو پھر تم کس حق کے تحت دوسروں کے لیے حصہ مقرر کرتے ہو ؟ اور کس حوالے سے ان کو نذر و نیاز پیش کرتے ہو ؟ یہ نمک حرامی نہیں تو اور کیا ہے کہ تم اپنے محسن کے احسان کو جو اس نے سراسر خود اپنے فضل و کرم سے تم پر کیا ہے دوسروں کی مداخلت اور ان کے توسط کا نتیجہ قرار دیتے ہو اور شکریہ کے استحقاق میں انھیں اس کے ساتھ شریک کرتے ہو اور دوسری بات یہ ارشاد فرمائی کہ یہ جو اللہ کا حصہ تم نے مقرر کیا ہے یہ تم نے اپنے گمان اور اپنے ارادے سے کیا ہے اور تم خود اپنے قانون ساز بن بیٹھے ہو کہ تم جو حصہ چاہتے ہو اللہ کے لیے مقرر کردیتے ہو اور جو حصہ چاہتے ہو دوسروں کے لیے طے کردیتے ہو حالانکہ اپنی بخشش کا اصل مالک و مختار خود اللہ ہے اور یہ بات اسی کی شریعت کے مطابق طے ہونی چاہیے کہ اس بخشش میں سے کتنا حصہ اس کے شکریہ کے لیے نکالا جائے اور باقی میں کون کون حق دار ہے یعنی تم دو طرح کے شرک کا ارتکاب کر رہے ہو ایک تو یہ کہ اللہ کی پیدا کردہ نعمتوں میں تم نے بغیر کسی اختیار کے حق تصرف استعمال کیا اور دوسری یہ بات کہ تم نے بغیر کسی حق کے قانون سازی کا حق بھی استعمال کرنا شروع کردیا۔
کفار اللہ کی پرواہ کیے بغیر اپنے شرکاء کا حصہ بڑھادیتے
حالانکہ عقل کی بات یہ ہے کہ جو کسی نعمت کا مالک ہے وہی اس بات کا حق رکھتا ہے کہ اس میں تصرف کرے اور پھر اس میں حصے مقرر کرنا اور کسی کو دینا یا نہ دینا اس کا تعلق سراسر قانون سازی سے ہے اس کا حق بھی اسی کو پہنچتا ہے جو اس نعمت کا مالک ہے تو تم نے یہ دونوں حقوق آخر کس اختیار سے حاصل کیے۔ جبکہ ان نعمتوں میں سے نہ تم کسی چیز کے خالق ہو اور نہ کسی کے مالک ہو اور تیسری بات جو اور بھی حیران کن ہے وہ یہ ہے کہ تم حقوق کے تعین اور حقوق کی ادائیگی میں اپنے شرکاء کو اللہ پر ترجیح دیتے ہو حالانکہ تم جانتے ہو کہ خالق ومالک تو صرف اللہ ہے اور جنھیں اس تخلیق اور ملکیت میں کوئی دخل نہیں تم نے انھیں اللہ پر فوقیت دے کر ان کے مرتبے کو بڑھایا اور اللہ کے مرتبے کو گھٹا کر اللہ کی توہین کی مشرکین مکہ کا طریقہ یہ تھا کہ جو حصہ وہ خدا کے نام پر نکالتے تھے اس میں طرح طرح کی چالبازیاں کر کے کمی کرتے رہتے تھے اور ہر صورت سے اپنے خودساختہ شریکوں کا حصہ بڑھانے کی کوشش کرتے جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ جو دلچسپی انھیں اپنے شریکوں سے ہے وہ خدا سے نہیں۔ ان کے اس طرز عمل کی دو وجوہ معلوم ہوئی ہیں۔ ایک تو یہ کہ مشرکین جن کو خدا کے ساتھ شریک ٹھہراتے تھے ان کے بارے میں ان کا خیال یہ ہوتا کہ ان کی تمام نقد ضروریات انہی سے وابستہ ہیں اور اگر خدا سے کوئی ضرورت وابستہ ہے بھی تو بہرحال وہ بھی انہی کی وساطت سے پوری ہوتی ہے یہاں تک کہ اگر خدا نہ بھی پوری کرنی چاہے جب بھی اگر یہ شرکاء چاہیں تو کسی نہ کسی طریقے سے پوری کرا ہی لیتے ہیں۔ ایسے تصورات کی موجودگی میں خدا کی حیثیت نعوذ باللہ من ذالک گھر کے ایک بڑے بوڑھے ناکارہ وجود کی سی ہوجاتی ہے۔ چناچہ یہ مشرکین اسی حیثیت سے اس کے ساتھ معاملہ کرتے تھے۔ اس کے نام پر روایت کے تحت کچھ نکال تو دیتے لیکن اگر اتفاق سے کسی بت کے نام کی بکری مرگئی یا چوری ہوگئی یا اس کے نام کا غلہ چوہے کھا گئے تو اس کی تلافی لازماً خدا کے حصے میں سے کردی جاتی اور اگر یہ کسی قسم کی کوئی آفت خدا کے نام پر نکالے ہوئے حصہ پر آجاتی تو یہ ممکن نہ تھا کہ اس کی تلافی فرعومہ معبودوں کے حصے کے مال سے کرنے کی جرأت کریں۔ فرمایا کہ کتنا برا فیصلہ ہے جو یہ کرتے ہیں۔ اول تو سب کچھ بخشا ہوا خدا کا اور اس کے حصہ میں یہ من مانا بٹوارا اور پھر فرضی معبودوں کی یہ ناز برداری اور معبود حقیقی سے یہ لاپرواہی اور اس کی یہ ناقدری۔
دوسری وجہ ان توہمات کی یہ تھی کہ جہلاء عرب اپنے مال میں سے جو حصہ خدا کے لیے نکالتے تھے وہ فقیروں ‘ مسکینوں ‘ مسافروں اور یتیموں وغیرہ کی مدد میں صرف کیا جاتا تھا اور جو حصہ شریکوں کی نذر و نیاز کے لیے نکالتے تھے وہ یا تو براہ راست مذہبی طبقوں کے پیٹ میں جاتا تھا یا آستانوں پر چڑھاؤوں کی صورت میں پیش کیا جاتا تھا اور اس طرح بالواسطہ مجاوروں اور پجاریوں تک پہنچ جاتا تھا اس لیے ان خود غرض مذہبی پیشوائوں نے صدیوں کی مسلسل تلقین سے ان جاہلوں کے دل میں یہ بات بٹھا دی تھی کہ خدا کے حصہ میں کمی ہوجائے تو کچھ مضائقہ نہیں لیکن خدا کے پیاروں کے حصہ میں کمی نہ ہونی چاہیے بلکہ حتی الامکان کچھ بیشی ہی ہوتی رہے تو بہتر ہے۔
اگلی آیت کریمہ میں شرک کے دور رس اثرات میں سے ایک نہایت خطرناک صورت کو بیان کیا گیا ہے۔
Ayah 6:137ارشاد فرمایا :
وَکَذٰلِکَ زَیَّنَ لِکَثِیْرٍ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ قَتَلَ اَوْلَادِھِمْ شُرَکَآؤُھُمْ لِیُرْدُوْھُمْ وَ لِیَلْبِسُوْا عَلَیْھِمْ دِیْنَھُمْ ط وَلَوْ شَآئَ اللہ ُ مَا فَعَلُوْہُ فَذَرْھُمْ وَمَا یَفْتَرُوْنَ ۔ (الانعام : 137)
(اور اسی طرح بہت سے مشرکوں کے لیے ان کے شریکوں نے اپنی اولاد کے قتل کو خوشنما بنادیا ہے۔ تاکہ ان کو ہلاکت میں مبتلا کریں اور ان پر ان کے دین کو مشتبہ بنادیں۔ اگر اللہ چاہتا تو یہ ایسا نہ کرتے۔ لہٰذا انھیں چھوڑ دو کہ اپنی افترا پردازیوں میں لگے رہیں)
مشرکین کے ٹھہرائے ہوئے شریکوں نے اولاد کے قتل کو خوشنما بنا دیا
مشرکین عرب کی جہالت نے ان کے مشرکانہ اثرات کو صرف ان کے مالوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ ان کی جانیں بھی اس اثر سے محفوظ نہ رہیں بہت سے مشرکین اپنے نام نہاد شریکوں کی خوشنودی کے لیے اپنی اولاد بھی ان کی بھینٹ چڑھا دیتے تھے۔ ان کے کاہنوں نے ان کو یہ بات سمجھائی تھی کہ بعض ایسے سرکش جن بھی ہیں جو تمہاری آبادیوں پر مسلط ہیں۔ اگر تم نے اپنی اولاد کی قربانی دے کر ان کی خوشنودی حاصل نہ کی تو وہ تمہیں اور تمہارے خاندان کو تباہ کردیں گے۔ چناچہ ان کی خوشنودی کے حصول کے لیے بعض جہلا اپنے بچوں کو ان کے نام پر قربان کرتے تھے اور یہ جہالت مشرکین عرب یا مشرکین مکہ تک محدود نہ تھی بلکہ دنیا کے مختلف ممالک میں تاریخ ہمیں اس کے شواہد دکھاتی ہے اور ہمارے قریبی ملک ہندوستان میں تو آج بھی اس کی مثالیں مل جاتی ہیں اور یہ شاید انہی خیالات کا نتیجہ ہے کہ آج مسلمانوں میں بھی کہیں نہ کہیں اس طرح کے واقعات پیش آتے ہیں۔ البتہ اس آیت کریمہ میں تین باتیں قابل توجہ ہیں۔
-1 شُرَکَآؤُھُمْ کا لفظ -2 لِیُرْدُوْھُمْ اور -3 وَ لِیَلْبِسُوْا عَلَیْھِمْ دِیْنَھُمْ ۔
جہاں تک شُرَکَآؤُھُمْ کا تعلق ہے یہاں یہ ایک دوسرے معنی میں استعمال ہوا ہے جو پہلے استعمال سے مختلف ہے۔ سابقہ آیت میں جنھیں شریک کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے وہ ان کے معبود ہیں جن کی برکت یا سفارش یا توسط کو یہ لوگ نعمت کے حصول میں مددگار سمجھتے تھے اور شکر نعمت کے استحقاق میں انھیں خدا کے ساتھ حصہ دار بناتے تھے۔ لیکن اس آیت میں شریک سے مراد وہ انسان اور شیطان ہیں جنھوں نے قتل اولاد کو ان لوگوں کی نگاہ میں ایک جائز اور پسندیدہ فعل بنادیا تھا انھیں شریک کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اسلام کے نقطہ نظر سے جس طرح پرستش کا مستحق تنہا اللہ تعالیٰ ہے اسی طرح بندوں کے لیے قانون بنانے اور جائز اور ناجائز کی حدیں مقرر کرنے کا حقدار بھی صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ لہٰذا جس طرح کسی دوسرے کے آگے پرستش کے افعال میں سے کوئی فعل کرنا اسے اللہ کا شریک بنانے کا ہم معنی ہے اسی طرح کسی کے خودساختہ قانون کو برحق سمجھتے ہوئے اس کی پابندی کرنا اور اس کے مقرر کیے ہوئے حدود کو واجب الاطاعت ماننا بھی اسے خدائی میں اللہ کا شریک قرار دینے کا ہم معنی ہے۔ یہ دونوں افعال بہرحال شرک ہیں۔ خواہ ان کا مرتکب ان ہستیوں کو زبان سے الہ اور رب کہے یا نہ کہے۔ جن کے آگے وہ نذر و نیاز پیش کرتا ہے یا جن کے مقرر کیے ہوئے قانون کو واجب الاطاعت مانتا ہے۔
لِیُرْدُوْھُمْ کا معنی ہے تاکہ وہ ان کو ہلاکت میں مبتلا کردیں۔ اس سے مراد اخلاقی ہلاکت بھی ہے کہ جو انسان سنگدلی اور شقاوت کی اس حد کو پہنچ جائے کہ اپنی اولاد کو اپنے ہاتھ سے قتل کرنے لگے۔ اس میں جوہرِ انسانیت تو درکنار جوہر حیوانیت تک باقی نہیں رہتا۔ اسی طرح اس سے مراد بچوں کا تنگدستی کے خوف سے یا آبادی کے بڑھ جانے کے خوف سے ہلاک کرنا بھی ہے جس کے نتیجے میں ایک وقت آتا ہے کہ پوری قوم ہلاکت کے دہانے پر پہنچ جاتی ہے کیونکہ جو قوم اپنے حامیوں اور اپنے تمدن کے کارکنوں اور اپنے میراث کے وارثوں کو پیدا نہیں ہونے دیتی یا پیدا ہوتے ہی خود اپنے ہاتھوں انھیں ختم کر ڈالتی ہے وہ بالآخر تباہی کا شکار ہوجاتی ہے۔ میں محض بات سمجھانے کے لیے کہتا ہوں کہ آج ہماری آبادی چودہ کروڑ کے لگ بھگ ہے اور جس مکار دشمن سے ہمیں واسطہ ہے اس کی آبادی (80) کروڑ سے متجاوز ہے اور یہ بات کہنے کے لیے کسی بڑی عقل کی ضرورت نہیں کہ اگر ہمیں آبرو مندانہ زندگی گزارنی ہے تو ایک نہ ایک دن اس دشمن سے ہمیں فیصلہ کن جنگ لڑنا پڑے گی کیونکہ ایک فوجی شکست ہی ہندوستان کو راہ راست دکھا سکتی ہے وہ ایک بھیڑیا ہے جسے بکریوں جیسی منطق سے مرعوب نہیں کیا جاسکتا۔ اسے اپنی رائے بدلنے کے لیے شیر کا فولادی پنجہ دکھانے کی ضرورت ہے۔ اگر یہ بات صحیح ہے تو کیا یہ بات قرین عقل ہوگی کہ چودہ کروڑ آبادی رکھنے والا ملک (80) کروڑ کے مقابلے میں اپنی آبادی کو کم رکھنے یا کم کرنے کے بارے میں سوچے۔ اسے آسان سے آسان لفظوں میں خود کشی سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ رہی یہ بات کہ ہمارے وسائل کم ہیں تو اس کے لیے صرف یہ گزارش ہے کہ بھٹو صاحب کے زمانے کی ڈرلنگ رپورٹ اگر دیکھ لی جائے تو اس کا جواب آسانی سے مل جائے گا۔
وَ لِیَلْبِسُوْا عَلَیْھِمْ دِیْنَھُمْ اور ان پر ان کے دین کو مشتبہ بنادیں۔ شرک کا لازمی نتیجہ دین میں اشتباہ پیدا ہونا ہے کیونکہ جب اصل ماخذ محفوظ نہ رہے اور آئے دن نئی نئی مشرکانہ باتیں اور نئی نئی بدعات پیدا ہوتی رہیں تو پھر دین کا اشتباہ سے محفوظ رہنا ناممکن ہوجاتا ہے۔ چناچہ مشرکین عرب کے ساتھ بھی یہی ہوا کہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) کی جس شریعت کے وہ وارث تھے وہ ان کے مشرکانہ تصورات کی ایسی نذر ہوئی کہ اس کی کوئی چیز بھی اپنی اصل جگہ باقی نہ رہی نتیجتاً ان کا پورا دین مشتبہ ہو کر رہ گیا۔
اس آیت کریمہ کے آخری جملہ میں نبی کریم ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ اگر یہ لوگ اپنا رویہ نہیں بدلتے اور اسلام کو قبول نہیں کرتے تو آپ کو اس پر فکر مند نہیں ہونا چاہیے کیونکہ پیچھے یہ بات گزر چکی ہے کہ اللہ کی مشیت میں کفر اور اسلام ‘ اچھائی اور برائی دونوں کے لیے امکانات کھلے رکھے ہیں۔ جو شخص جس راہ پر جانا چاہتا ہے اسے جانے کا موقع میسر ہے البتہ قیامت میں سب کا فیصلہ ہوجائے گا۔
اگلی تین آیات کریمہ میں ان کی خود ساختہ شریعت جسکا دارومدار سراسر ان کے علماء اور ان کے کاہنوں کے فتاویٰ اور خیالات پر تھا اسکا ذکر فرمایا گیا ہے اور پھر ان کی نامرادی پر تاسف کا اظہار کیا گیا ہے کہ اللہ کے آخری رسول کے آجانے کے بعد بھی وہ لوگ راہ راست کو اختیار نہ کرسکے۔
Ayahs 6:138–140ارشاد ہوتا ہے :
وَقَالُوْا ھٰذِہٖٓ اَنْعَامٌ وَّ حَرْثٌ حِجْرٌ ق صلے لَّا یَطْعَمُھَآ اِلَّا مَنْ نَّشَآئُ بِزَعْمِھِمْ وَ اَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُھُوْرُھَا وَ اَنْعَامٌ لَّا یَذکُرُوْنَ اسْمَ اللہِ عَلَیْھَا افْتِرَآئً عََلَیْہِ ط سَیَجْزِیْھِمْ بِمَا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ ۔ وَ قَالُوْا مَا فِی بُطُوْنِ ھٰذِہِ الْاَنْعَامِ خَالِصَۃٌ لِّذُکُوْرِنَا وَ مُحَرَّمٌ عَلٰٓی اَزْوَاجِنَا ج وَاِنْ یَّکُنْ مَّیْتَۃً فَھُمْ فِیْہِ شُرَکَآئُ ط سَیَجْزِیْھِمْ وَصْفَھُمْ ط اِنَّہٗ حَکِیْمٌ عَلِیْمٌ۔ قَدْخَسِرَ الَّذِیْنَ قَتَلُوْٓا اَوْلَادَھُمْ سَفَھًام بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ حَرَّمُوْا مَا رَزَقَھُمُ اللہ ُ افْتِرَآئً عَلَی اللہِ ط قَدْ ضَلُّوْا وَمَا کَانُوْا مُھْتَدِیْنَ ۔
(الانعام : 1390138۔ 140)
(اور کہتے ہیں ! فلاں فلاں چوپائے اور فلاں فلاں کھیتی ممنوع ہے ‘ ان کو نہیں کھا سکتے ‘ مگر وہی جن کو ہم چاہیں ‘ اپنے گمان کے مطابق اور کچھ چوپائے ہیں ‘ جن کی پیٹھیں حرام ٹھہرائی گئی ہیں اور کچھ چوپائے ہیں ‘ جن پر خدا کا نام نہیں لیتے ‘ محض اللہ پر افترا کے طور پر۔ اللہ عنقریب ان کو اس افترا کا بدلہ دے گا اور کہتے ہیں کہ فلاں قسم کے چوپائیوں کے پیٹ میں جو ہے ‘ وہ بس ہمارے مردوں کے لیے خاص ہے اور ہماری عورتوں کے لیے حرام ہے اور اگر وہ مردہ ہو تو اس میں سب شریک ہیں۔ عنقریب اللہ ان کو ان کی اس تشخیص کی سزا دے گا۔ بیشک ! وہ حکیم وعلیم ہے۔ وہ لوگ نامراد ہوئے ‘ جنھوں نے محض بےوقوفی سے بغیر کسی علم کے اپنی اولاد کو قتل کیا اور اللہ نے انھیں جو روزی بخشی ‘ اس کو اللہ پر افترا کر کے حرام ٹھہرایا ‘ یہ گمراہ ہوئے اور ہدایت پانے والے نہ بنے)
یہ کسی حد تک تفصیل ہے ان کے پروہتوں ‘ مجاوروں اور کاہنوں کے فتاویٰ کی جو انھوں نے سراسر اپنے نفس سے گھڑے اور ان کا انتساب اللہ کی طرف کیا۔ بعض کھیتیوں اور بعض جانوروں کی نذر مان کر یہ پابندی لگا دیتے تھے کہ اس نذر اور نیاز کو ہر ایک نہیں کھا سکتا بلکہ اس کو وہی کھا سکتا ہے جن کے لیے ان کے پروہتوں نے ان کو جائز قرار دے رکھا ہے۔ اسی طرح بعض جانوروں پر سواری انھوں نے ممنوع قرار دے رکھی تھی اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے وہی جانور تھے جن کو وہ کسی استھان کی نذر کردیتے تھے اور بعض جانوروں پر اللہ کا نام لینا ناجائز سمجھتے تھے کیونکہ یہ ان کے کسی نہ کسی بت یا کسی شریک کے نام منسوب کیا جا چکا تھا اس لیے اللہ کا اس پر نام لینا کسی طرح وہ مناسب نہیں سمجھتے تھے یعنی نہ اللہ کے نام سے ان کو وہ ذبح کرنا جائز سمجھتے تھے اور نہ ان پر سوار ہو کر حج کرنا مشروع سمجھتے تھے کیونکہ حج کے دوران جانور پر سوار ہو کر تلبیہ کہنا پڑتا تھا اور اس میں اللہ کا نام آتا تھا اسی طرح یہ نذر کیے ہوئے جانور اگر حاملہ ہوتے تو جو کچھ ان کے پیٹ میں ہوتا اس کو وہ مردوں کے لیے حلال سمجھتے اور عورتوں کے لیے حرام لیکن اگر وہ زندہ پیدا ہونے کی بجائے مردہ حالت میں پیدا ہوتا تو سب کے لیے حلال سمجھتے تھے۔ یہ ان کی خودساختہ شریعت تھی جو ان کے مذہبی اجارہ داروں نے اپنے طور سے بنائی تھی اس طرح سے انھوں نے شریعت مقرر کرنے اور قانون سازی کا حق جو سراسر اللہ کی صفت ہے اپنے لیے مخصوص کرلیا تھا اور یہ شرک کی وہ مکروہ ترین شکل تھی جس کا ذکر بار بار قرآن کریم کر رہا ہے آخری آیت میں ازراہ تاسف فرمایا جا رہا ہے کہ اس شرک کے نتیجے میں اللہ نے جو ان کو اولاد بخشی اس کو انھوں نے قتل کیا اور جو ان کو رزق بخشا اس کو انھوں نے اپنے اوپر حرام قرار دے لیا نتیجہ کیا ہوا کہ گمراہ ہوئے اور ساری کوششوں کے باوجو دراہ ہدایت نہ پا سکے۔ ان تمام تفصیلات میں امت مسلمہ کے لیے ایک سے ایک بڑا درس عبرت ہے کیونکہ ان میں بہت سی ایسی باتیں ہیں جن کا ارتکاب اس امت کے جہلاء بھی کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے حفظ وامان میں رکھے۔