6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsروح القرآن

Ayah 6:153

وَ اَنَّ هٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْهُ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ Open ayah 6:153 in the Quran reader

اور یہ کہ یہی میرا راستہ سیدھا راستہ ہے۔ تو اس کی پیروی کرو اور دوسری پگڈنڈیوں پر نہ چلو کہ وہ تمہیں اس کی راہ سے الگ کردیں ‘ یہ باتیں ہیں جن کی تمہیں ہدایت فرمائی ‘ تاکہ تم اس کے غضب سے بچو

ارشاد فرمایا : وَ اَنَّ ھٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْہُ ج وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیْلِہٖ ط ذٰلِکُمْ وَصَّکُمْ بِہٖ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ ۔ (الانعام : 153) (اور یہ کہ یہی میرا راستہ سیدھا راستہ ہے۔ تو اس کی پیروی کرو اور دوسری پگڈنڈیوں پر نہ چلو کہ وہ تمہیں اس کی راہ سے الگ کردیں ‘ یہ باتیں ہیں جن کی تمہیں ہدایت فرمائی ‘ تاکہ تم اس کے غضب سے بچو) یہ دسواں حکم ہے جس سے احکام عشرہ مکمل ہوگئے اور اس میں پروردگار نے نہایت فصاحت و بلاغت سے اس حکم کی اہمیت کو نمایاں کرنے کے لیے مثبت اور منفی دونوں پہلو جمع کردیئے ہیں۔ سب سے پہلے صراط مستقیم کی خبر دی گئی ہے اور اس کے ساتھ ہی نہایت اہتمام سے یہ بات واضح کردی ہے کہ اے پیغمبر ان سے کہہ دیجئے کہ میں تمہیں جس راستے کی دعوت دے رہا ہوں اور جس پر میں خود اور میرے ماننے والے چل رہے ہیں یہی وہ راستہ ہے جو سیدھا راستہ ہے اور جس پر چل کر چلنے والے اپنی منزل تک پہنچ سکتے ہیں اور انھیں اللہ کی رضا حاصل ہوسکتی ہے۔ اس لیے اس آیت میں مُسْتَقِیْمًا جو صراط کی صفت ہے اسے حال کے طور پر لایا گیا ہے تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ یہ میرا راستہ اس طرح کا صراط مستقیم ہے کہ مستقیم ہونا اس کی لازمی صفت ہے جو کبھی اس سے الگ نہیں ہوسکتی۔ اس لیے اب اگر سیدھے راستے پر چلنا چاہتے ہو تو پھر میرا اتباع کرو کیونکہ اب کسی اور کے اتباع کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ پہلے پیغمبروں اور پہلی کتابوں کا وقت گزر گیا اور پھر ان کے ماننے والوں نے اس میں بہت سی تحریف اور ترمیم کر ڈالی اور ان کے راستے کو ایسا گڈمڈ کردیا کہ اب اس پر چلنا ممکن نہیں رہا۔ اب اس صراط مستقیم کو بتانے اور اس پر چلانے کے لیے محمد رسول اللہ ﷺ کو بھیجا گیا ہے۔ اس لیے اب جو بھی اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لیے صراط مستقیم پر چلنا چاہتا ہے اسے آنحضرت کا اتباع کرنا ہوگا۔ اس طرح مثبت طریقے سے اس راستے کی اہمیت اور اس کے راہنما کی خبر دے دی گئی ہے اور پھر منفی پہلو سے واضح طور پر فرمایا گیا کہ دیکھنا لوگوں نے اس راستے کے ساتھ ساتھ بہت سی پگڈنڈیاں نکال لی ہیں ان پگڈنڈیوں پر چلنے سے احتراز کرنا۔ اگر تم نے اس میں ذرا سے تساہل سے کام لیا تو وہ تمہیں اس راہ راست سے بھٹکا دیں گی۔ حدیث میں آتا ہے کہ ایک دن آنحضرت ﷺ نے صحابہ کے سامنے ایک سیدھا خط کھینچا ‘ فرمایا یہ صراط مستقیم ہے پھر اس خط کے ساتھ ساتھ دونوں طرف آپ نے چھوٹے چھوٹے خط کھینچے۔ فرمایا یہ وہ راستے اور پگڈنڈیاں ہیں جو انسانوں اور شیطانوں نے خود نکالی ہیں۔ مزید فرمایا کہ ان میں سے ہر راستے پر ایک شیطان مسلط ہے جو مسلسل لوگوں کو اس کی طرف دعوت دیتا رہتا ہے ذرا سا غور کیا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے نبی ہمیشہ اس صراط مستقیم پر چلانے کے لیے آتے ہیں۔ اس راستے کی راہنمائی کے لیے وہ اپنے ماننے والوں کو اللہ کی کتاب اور اپنی سنت دے کر جاتے ہیں۔ لیکن ہر رسول کی امت نے جب گمراہی کا راستہ اختیار کیا تو کتاب کو تحریف اور ترمیم کے ذریعے بگاڑا اور ہر سنت کے مقابلے میں کوئی نہ کوئی بدعت ایجاد کی اور اس طرح صراط مستقیم کے پہلو بہ پہلو بیشمار راستے نکال دیئے جن میں الجھ کر امتیں بھٹک گئیں۔ دکھ تو یہ ہے کہ یہ آخری امت جس پر انبیاء کرام کی ذمہ داریاں ڈالی گئی ہیں اور جس نے قیامت تک انسانوں کو اس راہ راست پر چلنے کی دعوت دینی ہے اور اللہ کا دین ٹھیک ٹھیک ان تک پہنچانا ہے خود ان کا حال یہ ہے کہ دین کے تقریباً ہر شعبے میں انھوں نے بدعات ایجاد کرلی ہیں ہر سنت کے ساتھ کسی نہ کسی بدعت کا اضافہ کرلیا گیا ہے اذان سن کے دیکھ لیجئے کس طرح اس کے ساتھ اضافے ملحق کرلیے گئے ہیں جس کا نصف صدی پہلے کوئی وجود نہ تھا اور اصرار یہ ہے کہ یہی وہ اذان ہے جو ہمیں رسول اللہ ﷺ سے ملی ہے۔ بچہ پیدا ہوتا ہے تو سیدھے سادے مسنون طریقے کو چھوڑ کر عجیب و غریب بدعات سے بچے کا استقبال کیا جاتا ہے اور اس کے تحفظ کی کوشش کی جاتی ہے۔ عقیقہ متروک ہوتا جا رہا ہے اور اس کی جگہ نئی نئی خرافات نے لے لی ہے۔ کوئی موت واقع ہوجاتی ہے تو بجائے اس کے کہ مسنون طریقے سے تین دن سوگ منایا جائے اور مرحوم کے لیے دعائے مغفرت جاری رہے ہم نے نجانے کیا کیا طریقے نکال لیے ہیں اور اس کو دین سمجھتے ہیں۔ بعض باتوں کو تو دیکھ کر تعجب ہوتا ہے کہ ایک معمولی عقل کا آدمی بھی اس بات کو سمجھ سکتا ہے کہ جو آدمی صاحب نصاب نہیں یعنی ایک غریب آدمی ہے اس پر نہ حج فرض ہوتا ہے نہ قربانی واجب ہوتی ہے اور نہ اسے زکوٰۃ دینا پڑتی ہے۔ لیکن رسوم جو بدعات بن کر دین میں داخل ہوگئی ہیں ان کی گرفت اتنی شدید ہے کہ یہ سارے ارکان مجبوری کی وجہ سے تو ساقط ہوسکتے ہیں۔ لیکن غریب سے غریب آدمی نہ قلوں کی رسم چھوڑ سکتا ہے اور نہ چالیسویں سے معذرت کرسکتا ہے حالانکہ اہل علم خوب جانتے ہیں کہ ان رسموں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ لیکن ہم نے ان کو ہر فرض سے بڑھ کر فرض سمجھ لیا ہے۔ جب سے شادی بیاہ میں کھانے پر پابندی لگی ہے اس وقت سے چالیسویں زیادہ پررونق ہوگئے ہے اور اب چالیسویں میں بالکل اسی طرح اہتمام ہوتا ہے جیسے کبھی ولیمے میں ہوتا تھا اور لوگ اس لیے اس میں شوق سے شریک ہوتے ہیں کہ ایک پر تکلف کھانا کھانے کو ملے گا۔ آخر اس سنگ دلی کی کوئی انتہا بھی ہے کہ ہم مرنے والے کی موت کا غم لگانے کی بجائے اس کے نام پر دعوتیں اڑاتے ہیں۔ تین دن نہیں گزرتے کہ قلوں کے نام پر فروٹ پارٹی ہوتی ہے ہر ساتویں دن یعنی جمعرات کو ایک پر تکلف کھانا تیار ہوتا ہے اور پھر چالیسویں کا تو ذکر ہی کیا وہ تو ایک ایسی تقریب بن گئی ہے کہ جو شادیوں سے زیادہ پررونق ہوگئی ہے۔ اکبر مرحوم نے طنزیہ انداز میں اس کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا ؎ میں تم کو بتائوں مرنے کے بعد کیا ہوگا پلائو کھائیں کے احباب اور فاتحہ ہوگا یہ تو چند رسموں کا ذکر ہم نے کیا ورنہ ایسی ایسی رسمیں ہمارے معاشرے میں پیدا ہوگئی ہیں جن کو سن کر آدمی دنگ رہ جاتا ہے اور تصور یہ ہے کہ اگر یہ رسمیں ادا نہ کی جائیں تو ایک مسلمان کے ایمان میں شاید کوئی کمی واقع ہوجاتی ہے۔ اس لیے یہاں تاکید سے فرمایا کہ صراط مستقیم اور سنت کے راستے پر چلنا ‘ ان پگڈنڈیوں کی پرواہ نہ کرنا ورنہ تم اصل راستے سے بھٹک جاؤ گے۔ اب اگلی آیت کریمہ میں ملت ابراہیمی اور اللہ کی طرف سے ملنے والی رہنمائی کے تسلسل کو بیان کیا جا رہا ہے۔
Ayah 6:154

ثُمَّ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ تَمَامًا عَلَى الَّذِیْۤ اَحْسَنَ وَ تَفْصِیْلًا لِّكُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ بِلِقَآءِ رَبِّهِمْ یُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 6:154 in the Quran reader

پھر ہم نے موسیٰ کو کتاب دی ‘ اپنی نعمت پوری کرنے کیلئے اس پر جو خوب کار تھا اور ہر چیز کی تفصیل اور ہدایت اور رحمت ‘ تاکہ وہ اپنے رب کی ملاقات پر ایمان لائیں

ارشاد فرمایا : ثُمَّ اٰتَیْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ تَمَامًا عَلَی الَّذِیْٓ اَحْسَنَ وَ تَفْصِیْلًا لِّکُلِّ شَیْئٍ وَّ ھُدًی وَّ رَحْمَۃً لَّعَلَّھُمْ بِلِقَآئِ رَبِّھِمْ یُؤْمِنُوْنَ ۔ (الانعام : 154) (پھر ہم نے موسیٰ کو کتاب دی ‘ اپنی نعمت پوری کرنے کے لیے اس پر جو خوب کار تھا اور ہر چیز کی تفصیل اور ہدایت اور رحمت ‘ تاکہ وہ اپنے رب کی ملاقات پر ایمان لائیں) تورات مکمل ہدایت اور رحمت تھی اس آیت کریمہ میں سب سے پہلا لفظ ثمَّ ہے اس کا معنی ہے ” پھر “ یہ ترتیب پر دلالت کر رہا ہے یعنی جس طرح ہم نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو یہ دس احکام دیئے تھے جو ان کی شریعت کی اساس تھے اس طرح ہم نے یہ احکام حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی دیئے جو ان کی شریعت کی اساس بنے۔ آج بھی تورات اٹھا کر دیکھ لیجئے۔ اس میں یہ تمام کے تمام احکام موجود ہیں الفاظ اور ترتیب میں فرق ہوسکتا ہے۔ بنیادی مضمون میں کوئی فرق نہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) چونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد سب سے بڑے جلیل القدر رسول ہو کر آئے اور ان کے ماننے والی امت یہود چونکہ حضور کے سامنے تھی۔ اس لیے بطور خاص ان کا ذکر کیا گیا ہے تاکہ یہ بات معلوم ہو سکے کہ نبی کریم ﷺ جو شریعت لے کر آئے ہیں اور جس میں یہ تمام احکام شامل ہیں وہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہ وہی احکام ہیں جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ملت ابراہیمی کے طور پر دیئے گئے تھے۔ پھر یہی احکام حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو الواح پر کندہ کرا کے دیئے گئے اور اب یہی وہ دس احکام ہیں جو قرآن میں نازل کیے گئے ہیں۔ اس لیے لوگوں کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ قرآن کریم کسی نئی بات کی دعوت لے کر نہیں آیا بلکہ یہ اس زنجیر کی آخری کڑی ہے جو پہلے رسول سے شروع ہوئی اور آنحضرت ( رض) پر آکر مکمل ہوگئی۔ اس کے بعد اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کا ذکر کیا ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دی گئی اور پھر اس کی چند صفات بیان کی گئیں۔ ایک تو اس کی صفت یہ بیان فرمائی گئی کہ وہ کتاب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اس لیے دی گئی تاکہ ان پر اور ان کے ماننے والے مسلمانوں پر اللہ کی ہدایت کی نعمت کو مکمل کیا جائے اور ملت ابراہیمی کے بعد پوری وسعت کے ساتھ ان کو وہ احکام دے دیئے جائیں جس کی انھیں اپنے وقت میں ضرورت ہے اور اسی کو یہاں قرآن کریم نے ہر چیز کی تفصیل کا نام دیا ہے یعنی انسانی ہدایت کے لیے جس جس چیز کی ضرورت تھی اور جس جس چیز کے احکام مطلوب تھے وہ سارے تورات میں موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل کردیئے گئے۔ مزید فرمایا کہ اس کتاب کی صفات میں سے ایک صفت یہ تھی کہ وہ ہدایت بن کے آئی تھی یعنی وہ کتاب صرف اس لیے نازل نہیں کی گئی تھی کہ لوگ اسے پڑھ کر صرف ثواب حاصل کریں یا اپنے مرحومین کو ایصال ثواب کریں اور یا بیماروں کے لیے اسے پڑھ پڑھ کے پھونکیں یا تعویذ بنا کر گلے میں ڈالیں تاکہ بیماروں کو شفا نصیب ہو۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پہلی آسمانی کتابوں اور آج قرآن مجید سے بھی یہ تینوں فوائد حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ اسے پڑھنے سے ثواب بھی ملتا ہے اس سے ایصال ثواب بھی کیا جاتا ہے اور اس کی آیات سے شفا بھی حاصل کی جاتی ہے۔ لیکن یہاں کہنا یہ ہے کہ یہ اس کتاب کے ضمنی فوائد ہیں۔ کتابیں آسمانوں سے ان فوائد کے لیے نازل نہیں ہوتیں بلکہ وہ تو ایک انقلاب برپا کرنے کے لیے آتی ہیں جس سے دنیا میں نیا انسان وجود میں آتا ہے اور نئی سوسائٹی جنم لیتی ہے لیکن ہماری کوتاہ فہمی یہ ہے کہ ہم قرآن کریم کو یہود و نصاریٰ کی طرح صرف انہی مقاصد پر منحصر سمجھتے ہیں۔ توپیں اس لیے نہیں ڈھالی جاتیں کہ اس سے کو وں کا شکار کیا جائے بلکہ وہ تو قلعوں کے دمدمے اور مورچے اڑانے کے لیے فائر کی جاتی ہیں۔ لیکن اگر ان کے فائر کے راستے میں کوئی بڑا چھوٹا جانور آجائے تو یقینا مر وہ بھی جائے گا۔ یہاں پر یہ فرمایا جا رہا ہے کہ تورات جو موسیٰ (علیہ السلام) کو دی گئی اس کی ایک صفت یہ تھی کہ وہ دنیا میں ہدایت بن کے آئی۔ یعنی وہ انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے لیے رہنما اور قانون بن کے آئی۔ وہ انسان کی انفرادی زندگی میں آداب زندگی کا درس دیتی ہے اور عدالتوں میں زندگی کے فیصلے کرتی ہے اور حاکمیت کے اداروں سے قانون بن کے بولتی ہے یہ اس کتاب کی اصل حیثیت ہے اور یہ اس کی مخصوص حیثیت نہیں بلکہ جو کتاب بھی اللہ کی طرف سے نازل ہوئی ہے وہ اپنے ماننے والوں کے لیے اس طرح رہنمائی اور قانون کا فرض انجام دیتی رہی ہے اور اپنے نتیجے کے اعتبار سے ہر کتاب اسی تورات کی طرح رحمت بن کے آئی ہے۔ یعنی اس پر عمل کرنے کے نتیجے میں زندگی کے ہر شعبے میں ایک ہمواری اور استواری پیدا ہوتی ہے۔ گھر جنت کا نمونہ بن جاتے ہیں اور معاشرہ مروت ‘ خیر خواہی اور ہمدردی کا غماز بن جاتا ہے اور پورے ملک پر اللہ کی رحمتیں اس طرح برستی ہیں کہ ان کے غلوں میں اضافہ ہوجاتا ہے ‘ ان کی فصلیں لہلہانے لگتی ہیں ‘ ان کے پھل معمول سے زیادہ رس دینے لگتے ہیں ‘ ایک عام خوشحالی کی فضا پیدا ہوجاتی ہے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ اس کتاب پر ایمان لانے والے شکر کی تصویر بھی بن جاتے ہیں۔ مسلمان اگر قرن اول کی تاریخ پڑھیں تو انھیں اندازہ ہوگا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے خلافت راشدہ اور اس کے بعد بھی مختلف ادوار میں مسلمانوں پر رحمتیں نازل فرمائیں۔ حق و باطل کے ہر معرکے میں ان کو سرخرو فرمایا اور اہل زمین میں ان کو وہ عزت عطا فرمائی کہ سر اور دل ان کے سامنے جھکتے چلے گئے اور مؤرخین بتاتے ہیں کہ اس دور کی کھجور کی گٹھلیاں دیر تک حکومت کے خزانوں میں محفوظ رہیں جس سے بعد کے آنے والوں کو اندازہ ہوسکتا تھا کہ اللہ کی رحمت جب نازل ہوتی ہے تو کس طرح ہر چیز کا حجم بڑھ جاتا ہے ‘ کس طرح ایک ایک انار سے گلاس بھر جاتے تھے اور تھوڑا کھانا بہت سے لوگوں کے لیے کفایت کرجاتا تھا۔ عجیب بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جانوروں تک کی حفاظت فرماتے ہیں۔ مؤرخین بتاتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کے عہد میں ایک دن ایک گڈریے نے چیخ ماری۔ لوگ آواز سن کے دوڑے آئے پوچھا تمہیں کیا ہوا اس نے کہا کہ جب سے حضرت عمر بن عبدالعزیز برسراقتدار آئے اللہ کی حفاظت ہمارے شامل حال رہی کہ کبھی کسی بھیڑیے کو میری بکریوں پر حملہ کرنے کی جرأت نہ ہوئی۔ آج ایک بھیڑیا میری بکری اٹھا کرلے گیا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آج دنیا میں وہ ہمارا پاسبان زندہ نہیں رہا۔ چناچہ بعد میں تحقیق سے معلوم ہوا کہ اسی دن حضرت عمر بن عبدالعزیز کا انتقال ہوا تھا۔ اس کے بعد نبوت ‘ شریعت اور کتاب کے نزول کے اصل مقصد کو بیان کیا گیا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو ہم نے یہ کتاب اس لیے دی تھی تاکہ لوگ اس پر عمل کر کے اپنے رب سے ملاقات کا یقین پیدا کریں اور یہی اصل میں وہ مقصد حقیقی ہے جس کے لیے دنیا میں کتابیں آتی ہیں اور جس کے لیے پیغمبر تشریف لاتے ہیں۔ کیونکہ انسان کے بگاڑ کا سب سے بڑا سبب اللہ سے برگشتہ ہونا ہے اور یہ برگشتگی اس وقت شروع ہوتی ہے جب اللہ کے سامنے جواب دہی کا یقین ختم ہوجاتا ہے۔ اللہ ہمیں اس سے محفوظ رکھے۔
Ayahs 6:155–157

وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ فَاتَّبِعُوْهُ وَ اتَّقُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَۙ Open ayah 6:155 in the Quran reader

اور یہ کتاب ہے جو ہم نے اتاری ہے سراپا خیر و برکت تو اس کی پیروی کرو اور ڈرو تاکہ تم پر رحمت کی جائے

اَنْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اُنْزِلَ الْكِتٰبُ عَلٰى طَآئِفَتَیْنِ مِنْ قَبْلِنَا١۪ وَ اِنْ كُنَّا عَنْ دِرَاسَتِهِمْ لَغٰفِلِیْنَۙ Open ayah 6:156 in the Quran reader

مبادا تم کہو کہ کتاب بس ان دو گروہوں پر اتاری گئی جو ہم سے پہلے تھے اور ہم ان کے پڑھنے پڑھانے سے بالکل بیخبر رہے

اَوْ تَقُوْلُوْا لَوْ اَنَّاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْكِتٰبُ لَكُنَّاۤ اَهْدٰى مِنْهُمْ١ۚ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ١ۚ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ صَدَفَ عَنْهَا١ؕ سَنَجْزِی الَّذِیْنَ یَصْدِفُوْنَ عَنْ اٰیٰتِنَا سُوْٓءَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا یَصْدِفُوْنَ Open ayah 6:157 in the Quran reader

یا کہو کہ اگر ہم پر کتاب اتاری جاتی تو ہم ان سے زیادہ ہدایت یافتہ ہوتے سو تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک واضح حجت اور ہدایت و رحمت آگئی ہے تو ان سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ کی آیات کو جھٹلائیں اور ان سے دوسروں کو پھیریں جو لوگ ہماری آیات سے اعراض اختیار کر رہے ہیں ہم ان کو اس اعراض کی پاداش میں عنقریب بہت برا عذاب دیں گے

ملت ابراہیمی کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہونے والی کتاب کا ذکر فرمایا اور اب آنحضرت ﷺ پر نازل ہونے والی کتاب کا ذکر کیا جا رہا ہے تاکہ یہ بات واضح ہوجائے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو شریعت ابراہیمی یا ملت ابراہیمی کے جو بنیادی احکام دیئے گئے تھے وہی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت کی بنیاد تھے اور انہی بنیادوں پر اسلامی شریعت کو اٹھایا گیا ہے اور وہی احکام عشرہ ابراہیمی صحیفوں کی طرح تورات میں بھی نازل ہوئے اور اب قرآن کریم میں بھی نازل کیے گئے ہیں ‘ اس لیے اگر تم نے ملت ابراہیمی پر عمل کرنا ہے اور تم اس میں مخلص ہو تو پھر تمہیں اس ہدایت کی طرف رجوع کرنا چاہیے جو ایک تسلسل کے ساتھ نوع انسانی کی طرف آتی رہی ہے اور جس کی تکمیلی اور آخری شکل قرآن پاک کی صورت میں نازل ہو رہی ہے۔ البتہ یہاں ایک اعتراض ہوسکتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد اور بھی کتابیں اتریں اور پھر آخر میں بنی اسرائیل ہی کی طرف آنے والے آخری رسول حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر انجیل نازل ہوئی لیکن یہاں اس کا تذکرہ نہیں کیا گیا جواب اس کا یہ ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) پر جو انجیل نازل ہوئی اس میں شریعت نہیں بلکہ حکمت شریعت کو بیان کیا گیا ہے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم سے اپنی امت کو تورات میں نازل کردہ شریعت پر ہی عمل کرنے کا حکم دیا اور اس سے پہلے آنے والے انبیاء کی امتیں بھی تورات ہی کی شریعت پر عمل کرنے کی پابند تھیں اس لیے تورات اور قرآن کریم کے ذکر کردینے کے بعد باقی کتابوں کا ذکر کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی گئی چناچہ پیش نظر آیات میں اب قرآن کریم کے نزول کی خبر دی گئی ہے اور ساتھ ہی مشرکین عرب کو تنبیہ کی گئی ہے کہ یہ کتاب تم پر آخری حجت کے طور پر نازل کی جا رہی ہے جس کے نتیجے میں تمہارے وہ تمام عذر بھی ختم ہوجائیں گے جو اس کتاب کے نازل نہ ہونے کی صورت میں تم اللہ کے سامنے پیش کرسکتے تھے اور وہ حجت بھی تمام ہوجائے گی جس کے بعد تمہاری بےدینی اور تمہارے موجودہ رویے کا کوئی جواز باقی نہیں رہ جاتا۔ ارشاد فرمایا جا رہا ہے : وَھٰذَا کِتٰبٌاَنْزَلْنٰہُ مُبٰرَکٌفَاتَّبِعُوْہٗ وَاتَّقُوْا لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ ۔ اَنْ تَقُوْلُوْٓا اِنَّمَآ اُنْزِلَ الْکِتٰبُ عَلٰی طَآئِفَتَیْنِ مِنْ قَبْلِنَا ص وَاِنْ کُنَّا عَنْ دِرَاسَتِھِمْ لَغٰفِلِیْنَ ۔ اَوْ تَقُوْلُوْا لَوْ اَنَّآ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْکِتٰبُ لَکُنَّآ اَھْدٰی مِنْھُمْ ج فَقَدْ جَآئَکُمْ بَیِّنَۃٌمِّنْ رَّبِّکُمْ وَ ھُدًی وَّ رَحْمَۃٌج فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ کَذَّبَ بِاٰیٰتِ اللہِ وَ صَدَفَ عَنْھَا ط سَنَجْزِی الَّذِیْنَ یَصْدِفُوْنَ عَنْ اٰیٰتِنَا سُوْٓئَ العَذَابِ بِمَا کَانُوْا یَصْدِفُوْنَ ۔ (الانعام : 155۔ 156۔ 157) (اور یہ کتاب ہے جو ہم نے اتاری ہے سراپا خیر و برکت تو اس کی پیروی کرو اور ڈرو تاکہ تم پر رحمت کی جائے۔ مبادا تم کہو کہ کتاب بس ان دو گروہوں پر اتاری گئی جو ہم سے پہلے تھے اور ہم ان کے پڑھنے پڑھانے سے بالکل بیخبر رہے۔ یا کہو کہ اگر ہم پر کتاب اتاری جاتی تو ہم ان سے زیادہ ہدایت یافتہ ہوتے سو تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک واضح حجت اور ہدایت و رحمت آگئی ہے تو ان سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ کی آیات کو جھٹلائیں اور ان سے دوسروں کو پھیریں جو لوگ ہماری آیات سے اعراض اختیار کر رہے ہیں ہم ان کو اس اعراض کی پاداش میں عنقریب بہت برا عذاب دیں گے) ان آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے نزول کو تمام نوع انسانی اور خاص طور پر عربوں پر اپنا خاص فضل و کرم قرار دیا ہے اور اس حوالے سے پہلی آیت میں قرآن پاک کے لیے ایک لفظ استعمال کیا گیا ہے جو ہم اپنی زبان میں بھی استعمال کرتے رہتے ہیں وہ لفظ ہے ” مبارک “۔ قرآن پاک کی زبان میں مبارک اس بارش کو کہتے ہیں جو زمین کی سیرابی ‘ روئیدگی اور سرسبزی کا ذریعہ بنتی ‘ اس کے خزانوں اور اس کی برکتوں کو ابھارتی اور اس کے مردہ اور بےآب وگیاہ ہوجانے کے بعد اس کو از سرنو حیات تازہ بخشتی ہے۔ اس لفظ کے استعمال سے ایک بہت بڑی حقیقت واشگاف ہو رہی ہے وہ یہ کہ اے عرب کے لوگو اور اے باقی نوع انسانی تم اس وقت روئے زمین پر جس طرح کی زندگی گزار رہے ہو اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ تمہاری انسانیت کے چشمے خشک ہور ہے ہیں۔ تمہارے شجر تہذیب کی جڑیں سوکھتی جا رہی ہیں ‘ تمہاری انفرادی اور اجتماعی زندگی پر جہالت کی ایسی خزاں چھائی ہوئی ہے کہ جس کے نتیجے میں تمہارے اخلاق اور تمہاری اقدار کا ایک ایک پتہ جھڑ گیا ہے اور ایک ایک کونپل سوکھتی جا رہی ہے اگر یہ سلسلہ جاری رہتا ہے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ انسانیت کا کوئی مستقبل نہیں تم انفرادی اور معاشرتی زندگی میں اس حد تک درندگی کا شکار ہوچکے ہو کہ تمہارے معاشرے میں رہنے والے کسی فرد کی زندگی سلامت ہے نہ مال اور آبرو۔ تمہاری بظاہر انسانوں کی آبادیوں میں جنگل کا قانون جاری ہے جہاں ہر طاقت ور کمزور کو ہضم کرتا جا رہا ہے جس کے پاس طاقت ہے اس کے لیے کمزوروں کے حقوق غصب کرلینا ایک معمول کی بات بن چکی ہے اور جہاں تک تمہارے نام نہاد متمدن ملکوں کا تعلق ہے ان کی تمام قوتیں ایک دوسروں کو فتح کرنے اور ادھیڑنے میں لگی ہوئی ہے۔ ایرانی اور رومی طاقتیں یعنی قیصر و کسریٰ کی قوتوں نے ایک دوسرے کو فتح کرنے کے لیے لاکھوں انسانوں کا خون بہایا ہے اور ہزاروں شہر تباہ کر ڈالے ہیں اگر یہ صورتحال جاری رہتی ہے تو خود اندازہ کرو کہ تمہاری بقاء کے کیا امکانات باقی رہ جاتے ہیں۔ اس صورتحال سے تمہیں نجات دینے اور دوبارہ تمہیں انسانیت کے جامے میں لانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی کتاب اتاری ہے جو تمہارے لیے بہار کا پیغام بن کے آئی ہے۔ اگر تم اسے قبول کرلو تو تمہارے خزاں رسیدہ چمن میں پھر سے حیات تازہ کے پھول کھل سکتے ہیں۔ تمہارا معاشرہ اور تمہارا سماج پھر انسانیت کی تصویر بن سکتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ تم اس میں دیئے ہوئے احکام کی پیروی کرو ‘ اس کا بتایا ہوا طرز زندگی اختیار کرو اور زندگی کے ان اصولوں کو قبول کرلو جس کی یہ کتاب دعوت دے رہی ہے اور ساتھ ہی ساتھ اپنے بادشاہوں اور اپنے سرداروں سے ڈرنے کی بجائے اللہ کا خوف اپنے دل میں پیدا کرو اسی کے نتیجے میں تمہیں ہر خوف سے آزادی ملے گی اور اسی سے انسانوں کو وہ حقوق مل سکیں گے جس سے انسانیت کو حیات نو نصیب ہوسکتی ہے اور جس کے نتیجے میں اللہ کی رحمت تم پر مہربان ہوسکتی ہے۔ اس کے بعد اگلی آیت کریمہ میں ان کے ایک عذر کو ختم کیا جا رہا ہے جو قیامت کے دن وہ اللہ کے حضور پیش کرسکتے تھے یعنی وہ قیامت کے دن یہ بات کہہ سکتے تھے کہ آپ ہم سے ہماری جس زندگی کے بارے میں سوالات کر رہے ہیں اور ہماری گمراہیوں پر ہمیں جو سزا دینا چاہتے ہیں آخر ہم اس بگڑی ہوئی زندگی سے کیسے نکل سکتے تھے کیونکہ ہمارے ہاتھوں میں کوئی زندگی کی رہنما کتاب نہیں تھی ‘ کوئی ایسا صحیفہ آسمانی نہیں تھا جس کی روشنی میں ہم زندگی کا سفر خوش اطواری سے طے کرسکتے۔ ہمارے پاس سوائے آبائو اجداد کی چھوڑی ہوئی رسموں کے اور سوائے اپنے جاہلانہ طور اطوار کے اور کچھ بھی نہیں تھا تو ہم آخر اپنی اصلاح کرتے تو کیسے کرتے۔ ہم جس بات کو جانتے ہی نہیں تھے آخر اس پر عمل کیسے کرتے۔ آپ نے ہمارے ہمسائے میں اگرچہ یہودیوں اور عیسائیوں پر کتابیں اتاری تھیں لیکن ہم ان پڑھ لوگ اس کا علم کیسے حاصل کرسکتے تھے اور پھر انھوں نے یہ سمجھ کر کہ ان کتابوں کی رہنمائی صرف بنی اسرائیل کے لیے ہے کبھی اس کی ہدایت سے ہمیں روشناس کرنے کی کوشش نہ کی اور ہمیں خود بھی جہالت کی وجہ سے کبھی ان چیزوں کا پاس نہ رہا تو اس عذر کی موجودگی میں ہم آپ سے رحمت کے طلب گار ہیں ‘ اس لیے آپ ہمیں اس کی سزا نہ دیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے یہ کتاب اس لیے تم پر اتاری ہے کہ کل کو تم اپنی بےعلمی اور بیخبر ی کا بہانہ کر کے اور اس کو جواز بنا کر اللہ سے معافی کے طلبگار نہ بن سکو اور اس کے بعد کی آیت میں ان کی مزید ایک بات کا جواب دیا گیا ہے کہ تم قیامت کے دن یہ بھی کہہ سکتے ہو کہ آپ نے اہل کتاب پر کتابیں اتاریں لیکن انھوں نے اپنی زندگی میں کوئی بڑی تبدیلی پیدا نہیں کی اگر آپ ہم پر کتاب اتارتے تو آپ دیکھتے کہ ہم ان سے زیادہ ہدایت یافتہ ہوتے اور ہم وہ زندگی گزارتے جس کا آج آپ ہم سے مطالبہ کر رہے ہیں اور آج ہمیں جس صورت حال سے سابقہ ہے ہم کبھی اس سے دوچار نہ ہوتے اس لیے پروردگار فرما رہے ہیں کہ ہم نے یہ کتاب اس لیے تم پر اتاری ہے تاکہ یہ آخری حجت تمام کر دے اور تم قیامت کے دن کوئی بہانہ پیش نہ کرسکو اور ساتھ ہی ساتھ اس میں یہ تنبیہ بھی کی جا رہی ہے کہ اگر اس حجت کاملہ کے بعد تم اسے قبول کرنے سے انکار کرتے ہو تو پھر خود سوچ لو تمہارا انجام کیا ہوگا لیکن اس وارننگ کے ساتھ ساتھ جیسا کہ قرآن کریم کا اسلوب ہے اللہ تعالیٰ دلوں کو نرم کرنے کے لیے نہایت مربیانہ طریقے سے اس کتاب کی ان دو صفات کو بھی ذکر فرما رہے ہیں جو اس کی قبولیت کے لیے ترغیب کا سامان فراہم کرتی ہیں۔ فرمایا جس طرح یہ کتاب تمہارے لیے ایک بینہ ہے کہ اس کے بعد تمہارے تمام عذر ختم ہوگئے اسی طرح یہ کتاب ہدایت اور رحمت بھی ہے یعنی یہ کتاب صرف اتمام حجت کے لیے نہیں اور نہ چند ظاہری باتوں کے لیے ہے بلکہ یہ زندگی کی رہنما کتاب ہے یہ کتاب ہدایت ہے جس میں تمہاری زندگی گزارنے کا پورا نظام دیا گیا ہے اس میں تمہارے گھر سے لے کر ایوان حکومت تک زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس کے لیے رہنمائی فراہم نہ کی ہو اور پھر ساتھ ہی ساتھ یہ بات بھی کہ اگر تم اس رہنمائی کو قبول کرلیتے ہو اور اپنی زندگی اس راستے پر ڈال دیتے ہو جس کی طرف یہ کتاب رہنمائی کر رہی ہے تو پھر یہ کتاب تمہارے لیے رحمت کا پیغام ثابت ہوگی۔ تم اس کی رہنمائی میں ایک ایسی زندگی سے آشنا ہوجاؤ گے جس سے تمہاری دنیا تمہارے لیے جنت کا نمونہ بن جائے گی تم زندگی کے ہر مرحلے میں کامیابیوں سے ہمکنار کیے جاؤ گے ‘ تمہاری انفرادی اور اجتماعی زندگی میں شادمانیوں کے وہ پھول کھلیں گے جن کی خوشبو تمہارے مشام جاں کو ہی معطر نہیں کرے گی بلکہ تمہاری عاقبت بھی اس سے سنور جائے گی۔ تم آخرت میں اللہ کی خوشنودی سے سرفراز کیے جاؤ گے اور ایک ایسی ابدی زندگی تمہارا مقدر بنے گی جس میں تم ہر خوف اور ہر حزن سے نجات پاجاؤ گے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ بات بھی یاد رکھو کہ اگر تم نے اس آخری حجت کو جس میں تمہیں رہنمائی اور رحمت مہیا کی گئی ہے قبول نہ کیا بلکہ اس کو ماننے سے انکار کیا اور دوسروں کو بھی اس سے روکتے رہے تو پھر یاد رکھو اللہ کی نگاہ میں تم سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں ہوگا اور اللہ کا قانون یہ ہے کہ وہ ظالموں کو کبھی ہدایت نہیں دیتا۔ وہ کبھی راہ یاب نہیں ہوتے اور کبھی منزل کی خبر انھیں نہیں ملتی۔ ان کے لیے دنیا میں سوائے ناکامیوں کے دھکوں کے اور کچھ نہیں ہوتا۔ ان کی زندگی تلخیوں سے عبارت ہوتی ہے وہ اللہ کا راستہ چھوڑ کر دوسرے راستوں پر ہمیشہ ٹامک ٹوئیاں مارتے رہتے ہیں۔ دنیا ان کے لیے ایک ایسا مذبح بن جاتی ہے جس میں ان کے افراد اور ان کی میں ہلاکت سے دوچار ہوتی ہیں۔ قیامت کے دن ان کے اس اعراض کے رویے پر اللہ تعالیٰ ان کو بدترین سزا دے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں جو کچھ عربوں کو قرآن کریم کے آخری حجت ہونے کے حوالے سے کہا جا رہا ہے وہ صرف ان کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ اس کا مخاطب ہر دور میں نوع انسانی کا ہر گروہ ہے اور بالخصوص مسلمانوں پر تو اس کی ذمہ داری سب سے زیادہ ہے جن لوگوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کیا وہ تو صرف آخرت میں اپنے کفر اور انکار کی سزا بھگتیں گے لیکن دنیا میں انھیں جو مہلت دی جاتی ہے کیونکہ کفر کی پاداش میں بالعموم ان کی گرفت نہیں ہوتی اس کی وجہ سے وہ اسبابِ دنیا کی کشمکش میں اگر اسباب پیدا کرنے میں دوسروں سے آگے نکل گئے تو دنیا میں ان کو دنیوی کامیابیوں سے ہمکنار کیا جائے گا۔ وہ ایک چکاچوند پیدا کرنے والی ترقی سے ہمکنار ہوں گے اور اپنے سے کم ترقی یافتہ قوموں کے لیے ایک خوف کی علامت بن کر زندہ رہیں گے۔ دنیا بظاہر ان کی حیرت انگیز کامیابیوں کو رشک کی نگاہ سے دیکھے گی بلکہ ان کو دوسرے لوگوں کے لیے ایک عذاب بنادیا جائے گا لیکن امت مسلمہ کا مسئلہ اس سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے انھوں نے بظاہر اس کتاب کی رہنمائی کو قبول کیا لیکن حقیقت میں اس سے انکار کیا وہ برابر اللہ کی اس کتاب کی عظمت کا اقرار کرتے رہے لیکن اس کے دیئے ہوئے قانون اور نظام زندگی کو اپنے ملکوں اور اپنی زندگیوں میں نافذ کرنے سے ہمیشہ گریزاں رہے۔ جس کی سزا ان کو یہ ملے گی کہ دنیا میں وہ ذلت کا شکار ہوں گے اور آخرت میں عذاب ان کا مقدر بنے گا اس لیے اس آیت کریمہ میں جو یہ فرمایا جا رہا ہے کہ اللہ کی طرف سے تم پر آخری حجت آچکی ہے تو اس کے مخاطب مسلمان بھی ہیں۔ انھیں اس پر اچھی طرح غور کرنا چاہیے کہ ہم نے اللہ کی کتاب کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے۔ زبان سے اسے مانا ہے لیکن عمل میں داخل کرنے سے انکار کردیا ہے اور قرآن کریم ہی میں ایک سے زیادہ مرتبہ یہ بات کہی ہے کہ ایسے نام نہاد ماننے والوں کو ہم نہ دنیا دیتے ہیں نہ آخرت دیتے ہیں بلکہ دنیا میں وہ ذلت کا شکار ہوں گے اور آخرت میں سخت ترین سزا سے دوچار کیے جائیں گے۔ قرآن کریم کی صورت میں اس آخری حجت کے آجانے کے بعد دو لحاظ سے حجت تمام کردی گئی ایک تو اس لحاظ سے کہ اللہ کی جانب سے قیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے جو رہنمائی آنا تھی وہ آگئی اور اس کی حفاظت کا وعدہ بھی فرما لیا تاکہ زمانے کے نشیب و فراز کے بعد کبھی کوئی قوم یہ نہ کہہ سکے کہ اللہ نے اپنا جو آخری قانون نوع انسانی کے لیے اتارا تھا وہ اب چونکہ محفوظ نہیں رہا اس لیے ہم اس کتاب پر عمل کیسے کرسکتے ہیں اور دوسرا اس لحاظ سے اس کو آخری حجت اور بینہ بنایا گیا ہے کہ قرآن بجائے خود اپنی ذات میں ایک ایسی حجت اور برہان ہے جو کسی خارجی دلیل کی محتاج نہیں اور یہ ایک ایسا معجزہ ہے جس کے چیلنچ کا جواب کبھی دنیا والے نہ دے سکے اور پھر یہ بات بھی کہ یہ تورات کی طرح صرف احکام و ہدایت کا مجموعہ ہی نہیں بلکہ اپنے ہر دعوے اور ہر تعلیم کے دلائل وبراہین بھی اپنے ساتھ لے کر نازل ہوا ہے اور وہ ایسے مضبوط و مستحکم اور ایسے عقلی اور فطری ہیں کہ انسانوں کے لیے اس کی تردید کرنا کٹ حجتی کے سوا اور کچھ نہیں آدمی کی فطرت یہ ہے کہ اگر وہ اپنے انکار اور اپنے رویے پر اڑ جائے اور کٹ حجتی کرنے لگے تو پھر جیسے کھسیانی بلی کھمبا نوچتی ہے اسی طرح مخالفین بھی عجیب و غریب مطالبات میں اپنی انانیت کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں چناچہ قرآن کریم کی دعوت کے سامنے بےبس ہو کر ان لوگوں نے ایسے ہی کچھ مطالبات شروع کردیئے جس کا ذکر اگلی آیت کریمہ میں آرہا ہے۔
Ayah 6:158

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ یَاْتِیَ رَبُّكَ اَوْ یَاْتِیَ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّكَ١ؕ یَوْمَ یَاْتِیْ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّكَ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُهَا لَمْ تَكُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْ كَسَبَتْ فِیْۤ اِیْمَانِهَا خَیْرًا١ؕ قُلِ انْتَظِرُوْۤا اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ Open ayah 6:158 in the Quran reader

وہ صرف اس بات کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یاتیرا رب آئے یا تیرے رب کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی ظاہر ہو جس دن تیرے رب کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی ظاہر ہوگی تو کسی ایسے نفس کو اس کا ایمان نفع نہ دے گا جو پہلے سے ایمان نہ لایا ہو یا اس نے اپنے ایمان میں نیکی نہ کمائی ہو ‘ کہہ دو تم انتظار کرو ہم بھی منتظر ہی ہیں

ارشاد فرمایا : ھَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ تَاْتِیَھُمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ اَوْ یَاْتِیَ رَبُّکَ اَوْ یَاْتِیَ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّکَ ط یَوْمَ یَاْتِیَ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّکَ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُھَا لَمْ تَکُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْ کَسَبَتْ فِیْ اِیْمَانِھَا خَیْرًا ط قُلِ انْتَظِرُوْٓا اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ ۔ (الانعام : 158) (وہ صرف اس بات کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا تیرا رب آئے یا تیرے رب کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی ظاہر ہو جس دن تیرے رب کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی ظاہر ہوگی تو کسی ایسے نفس کو اس کا ایمان نفع نہ دے گا جو پہلے سے ایمان نہ لایا ہو یا اس نے اپنے ایمان میں نیکی نہ کمائی ہو ‘ کہہ دو تم انتظار کرو ہم بھی منتظر ہی ہیں) اس آیت کریمہ کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ یہ دلائل کا سامنا کرنے سے چونکہ عاجز ہوگئے ہیں اس لیے انھوں نے ہٹ دھرم لوگوں کی طرح کچھ مطالبات شروع کردیئے ہیں اور ان مطالبات کا ذکر قرآن کریم نے متعدد جگہوں پر کیا ہے جن میں سے اکثر وہ اس طرح کی باتوں کا مطالبہ کرتے تھے کہ اگر کوئی فرشتہ قرآن لے کر محمد ﷺ پر اتر سکتا ہے اور وہ روز ان سے ملاقات کرتا ہے تو آخر ہم سے وہ کیوں نہیں ملتا اگر ہم خود اپنی آنکھوں سے فرشتوں کو دیکھیں اور وہ ہمیں آکر بتائیں کہ دیکھو ہم یہ کتاب لے کر محمد ﷺ پر نازل ہوتے ہیں اس لیے تم اس کو مانو تو پھر ہوسکتا ہے ہم اس کو مان لیں لیکن محض محمد ﷺ کے کہنے پر کہ مجھ پر ایک فرشتہ یہ کتاب لے کر اترتا ہے یا اور بھی فرشتے وقتاً فوقتاً میں دیکھتا ہوں ہم اس کو کیسے تسلیم کرلیں اور کبھی وہ اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھ کر کہتے کہ اگر اللہ تعالیٰ ہم سے اپنے احکام کی تعمیل کروانا چاہتا ہے تو وہ ہمیں اپنا دیدار کیوں نہیں کرواتا ‘ وہ کیوں نہیں ایسی صورتحال پیدا کردیتا کہ ہم خود اپنی آنکھوں سے اسے دیکھیں اور کبھی وہ یہ کہتے کہ تم ہمیں جو بار بار ڈراتے ہو کہ اگر تم نے میری دعوت کو قبول نہ کیا اور قرآن پر ایمان نہ لائے تو تم پر اللہ کا عذاب آئے گا تو کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ اللہ کے عذاب کی کوئی ایسی شکل ہمارے سامنے آجائے کہ جس کا انکار کرنا ہمارے لیے مشکل ہوجائے اور ہم مجبور ہو کر اسے تسلیم کرلیں۔ یا اس آیت کریمہ کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ اپنی ہٹ دھرمی اور اپنے مشرکانہ رویے میں اس حد تک آگے بڑھ چکے ہیں کہ انھیں نہ اللہ کے نبی کی دعوت ہدایت دے سکتی ہے اور نہ قرآن کریم جیسی معجزانہ کتاب ان کو راہ راست کی طرف لاسکتی ہے اب تو شاید انھیں ہدایت کا نہیں بلکہ اس بات کا انتظار ہے کہ موت کے فرشتے آکر ان کا گلا دبوچیں اور جب وہ اپنی آنکھوں سے ان فرشتوں کو دیکھیں گے جو ان کی جان نکالنے کے لیے آئیں گے تو انھیں یقین آجائے گا کہ واقعی فرشتوں کا بھی کوئی وجود ہے اور ہم آج تک جو فرشتوں کا مذاق اڑاتے رہے اور آنحضرت پر ان کے نزول کا تمسخر اڑاتے رہے وہ غلط تھا اور یا شاید وہ اس بات کے منتظر ہیں کہ اگر واقعی قیامت آنی ہے تو ٹھیک ہے قیامت آجائے اور یہ جو کہا جا رہا ہے کہ قیامت کے دن اللہ مسند عدالت پر فائز ہوں گے اور وہی ہمارے بارے میں فیصلہ فرمائیں گے تو ٹھیک ہے اللہ کو بھی آنے دو جو فیصلہ ہونا ہے سو ہوجائے اور یا شاید وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ جو کہا جا رہا ہے کہ قیامت کے آنے سے پہلے چند نشانیاں بھی ظاہر ہوں گی جس سے آدمی کو ایمان لانا ضروری ہوجائے گا تو چلیئے وہ نشانیاں بھی آجائیں یا کوئی نشانی آجائے تو پھر ہم بھی ایمان لے آئیں گے۔ دونوں صورتوں میں انجام ایک ہی رہتا ہے کہ یہ لوگ قرآن کریم کی ہدایت قبول کرنے سے محروم ہوگئے ہیں۔ اب تو ان کو ایسی ہی باتوں کا انتظار ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر فرما رہے ہیں کہ نادانو ! اگر تم عالم غیب کی وہ چیزیں دیکھ لو جن پر تمہیں ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے تو اس صورت میں تو تم مشاہدے پر ایمان لائو گے تو مشاہدے پر تو ہر کوئی ایمان لے آتا ہے۔ اپنی دیکھی ہوئی بات کا کون انکار کرسکتا ہے ‘ ایمان تو وہ معتبر ہے جو غیب میں رہ کر لایا جائے کہ تم عالم غیب کی ان تمام باتوں کو مانو جنھیں تم اپنے حواس اور عقل کی مدد سے جان نہیں سکتے لیکن صرف اس لیے ان پر ایمان لے آئو کہ اللہ کے رسول نے ان کی خبر دی ہے یہ تمہاری عقل اور شعور کا امتحان ہے اس میں جو آدمی پاس ہوتا ہے اسی کا ایمان معتبر ہوتا ہے اور یا تم عذاب کی کوئی صورت دیکھ کر کلمہ پڑھنے لگو تو یہ ایمان بھی قابل اعتبار نہیں ہوگا کیونکہ ایمان معتبر صرف وہ ہے جو آنکھ ‘ کان ‘ دل ‘ دماغ اور عقل کی صلاحیتوں کو استعمال کر کے لایا جائے نہ کہ عذاب الٰہی کا ڈنڈا دیکھ کر۔ اسی طرح اگر کوئی آدمی ایمان تو لایا لیکن اس نے ایمان کے مقتضیات پر عمل کرتے ہوئے اس نے اطاعت کی زندگی اختیار نہیں کی بلکہ فسق و فجور میں غرق رہا اور جب عذاب کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی دیکھی تو اب اگر وہ اپنے فسق سے توبہ کرتا ہے تو جس طرح ایسی صورت میں کافر کا ایمان معتبر نہیں ہوتا اسی طرح فاسق کی فسق و فجور کی توبہ بھی قابل اعتبار نہیں ہوتی۔ اس آیت کریمہ میں آیت کا یہ ٹکڑا یَوْمَ یَاْتِیَ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّکَ کا ایک مفہوم تو ہم نے یہ بیان کیا کہ اللہ کے عذاب کی کوئی شکل سامنے آجائے جس سے انکار کرنا مشکل ہوجائے۔ لیکن حدیث سے اس کا ایک اور مفہوم بھی ثابت ہوتا ہے۔ صحیح بخاری میں اس آیت کی تفسیر میں حضرت ابوہریرہ ( رض) کی یہ روایت نقل کی گئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ” قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک یہ واقعہ پیش نہ آجائے کہ آفتاب مغرب کی طرف سے طلوع ہو جب لوگ یہ نشانی دیکھیں گے تو سب ایمان لے آئیں گے یہی وہ وقت ہوگا جس کے لیے قرآن کریم میں یہ ارشاد ہے کہ اس وقت کسی نفس کا ایمان لانا نفع نہیں دے گا “۔ صحیح مسلم میں حضرت حذیفہ بن اسید کی ایک روایت نقل کی گئی ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام علامات قیامت کا تذکرہ آپس میں کر رہے تھے کہ آنحضرت ﷺ تشریف لے آئے اس وقت آپ نے فرمایا کہ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک تم دس نشانیاں نہ دیکھ لو۔ -1 آفتاب کا جانبِ مغرب سے نکلنا ‘ -2 ایک خاص قسم کا دھواں ‘ -3 دابۃ الارض ‘ -4 یاجوج ماجوج کا نکلنا ‘ -5 عیسیٰ (علیہ السلام) کا نازل ہونا ‘ -6 دجال کا نکلنا ‘ -9-8-7 تین جگہوں میں زمین کا دھنس جانا ایک مشرق میں ایک مغرب میں ایک جزیرۃ العرب میں ‘ -10 ایک آگ جو عدن کے قعر سے نکلے گی اور لوگوں کو آگے آگے ہنکا لے جائے گی “۔ حدیث کی روشنی میں علماء کا خیال ہے کہ ان نشانیوں میں سے آخری نشانی آفتاب کا مغرب سے طلوع ہونا ہوگا۔ اس لیے حضرت ابوہریرہ ( رض) کی حدیث میں بطور خاص اس نشانی کا ذکر کیا گیا ہے اور حافظ ابن حجر نے شرح بخاری میں بروایت حضرت عبد اللہ ابن عمر ( رض) یہ بھی نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس واقعہ یعنی مغرب کی طرف سے آفتاب طلوع ہونے کے بعد ایک سو بیس سال تک دنیا قائم رہے گی۔ یہ نشانیاں تو اللہ بہتر جانتا ہے کب ظاہر ہوں گی لیکن یہ بات یاد رکھنے کی ہے اور قرآن کریم نے ہمیں اس کی خبر دی ہے کہ جب آدمی پر آخری وقت آتا ہے یعنی اس پر سکرات الموت طاری ہوتے ہیں تو اس وقت اگر وہ توبہ کرتا ہے تو اس کی توبہ قبول نہیں ہوتی۔ قرآن پاک کی ایک آیت کی تشریح میں آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا : اِنَّ تَوْبَۃً لَعَبْدِ تُقْبَلُ مَا لَمْ یُغَرْغَرْ (بندہ کی توبہ اس وقت تک قبول ہوتی رہتی ہے جب تک اس کی روح حلق میں آکر غرغرہ موت کی صورت پیدا نہ کر دے) کیونکہ اس آخری وقت میں موت کے فرشتے آدمی کو نظر آنے لگتے ہیں۔ اگر وہ نیک آدمی ہے تو جنت کے فرشتے اس کو خوش آمدید کہنے کے لیے سامنے آکھڑے ہوتے ہیں۔ اسی لیے بعض نیک لوگ ان فرشتوں کو دیکھ کر مسکرانے لگتے ہیں۔ اقبال مرحوم نے اسی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا تھا ؎ نشانِ مردِ مومن باتو گویم چو مرگ آید تبسم بر لبِ اوست کہ میں تمہیں مرد مومن کی نشانی بتائوں جب اس کا آخری وقت آتا ہے تو اس کے لب پر تبسم کھیلتا ہے یہ موت کا وقت تو کسی آدمی سے بھی دور نہیں اس لیے ہر آدمی کو توبہ میں کبھی تاخیر نہیں کرنی چاہیے کیونکہ موت کا کوئی وقت مقرر نہیں ہے وہ عمر کے کسی حصے میں بھی آسکتی ہے۔ جس طرح نیک آدمی کو خوش آمدید کہنے کے لیے فرشتے آتے ہیں اسی طرح بدکردار اور بدچلن آدمی کو لینے کے لیے بھی عذاب کے فرشتے آتے ہیں وہ ان کو دیکھ کر آخری وقت میں چیختا ہے یا حواس کھو دیتا ہے وہ انھیں اسے دنیا کی سرحد سے ادھر پکارتے ہوئے کہتے ہیں کہ تم نے زندگی میں کبھی اسلام پر کان نہ دھرا اب ہم تمہیں بتائیں گے کہ تمہارے ساتھ کیا گزرتی ہے۔ اس کے بعد کی آیات کریمہ میں صاف طور پر آنحضرت ﷺ کو یہ بتادیا گیا ہے کہ آپ ان کی روش سے پریشان نہ ہوں۔ افہام و تفہیم کے لیے جس قدر دلائل درکار تھے اور اس سلسلے میں جس حد تک تبلیغ و دعوت مطلوب تھی وہ ہوچکی یہ لوگ اگر اب بھی انہی مختلف راہوں کے مسافر رہتے ہیں جو انھوں نے حق کے رستے کے مقابلے میں خود سے نکال رکھی ہیں تو آپ ان کی طرف سے یکسو ہوجایئے۔ آپ کا رویہ کیا ہونا چاہیے اور آپ کی زندگی کس چیز کی تصویر ہونی چاہیے اور مسلمانوں کو کیا طرز عمل اختیار کرنا چاہیے ان آیات میں اس کی پوری تصویر کھینچ دی گئی ہے۔