6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsروح القرآن

Ayahs 6:128–129

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا١ۚ یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَكْثَرْتُمْ مِّنَ الْاِنْسِ١ۚ وَ قَالَ اَوْلِیٰٓؤُهُمْ مِّنَ الْاِنْسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ وَّ بَلَغْنَاۤ اَجَلَنَا الَّذِیْۤ اَجَّلْتَ لَنَا١ؕ قَالَ النَّارُ مَثْوٰىكُمْ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ Open ayah 6:128 in the Quran reader

اور اس دن کا دھیان کرو ‘ جس دن وہ ان سب کو اکٹھا کرے گا۔ کہے گا ‘ اے جنوں کے گروہ ! تم نے تو انسانوں میں سے بہتوں کو اپنا لیا اور انسانوں میں سے ان کے ساتھی کہیں گے ‘ اے ہمارے رب ! ہم نے ایک دوسرے کو استعمال کیا اور ہم پہنچ گئے اپنی اس مدت کو ‘ جو تو نے ہمارے لئے ٹھہرائی۔ فرمائے گا ! تمہارا ٹھکانہ اب جہنم ہے ‘ ہمیشہ کیلئے اس میں رہو۔ مگر جو اللہ چاہے ‘ بیشک تیرا رب حکیم وعلیم ہے

وَ كَذٰلِكَ نُوَلِّیْ بَعْضَ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ۠ Open ayah 6:129 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم مسلط کردیتے ہیں ظالموں کو ایک دوسرے پر ‘ بسبب ان کی کرتوتوں کے

چناچہ ارشاد فرمایا جا رہا ہے : وَ یَوْمَ یَحْشُرُھُمْ جَمِیْعًا ج یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَکْثَرْتُمْ مِّنَ الْاِنْسِ ج وَقَالَ اَوْلِیٰٓؤُھُمْ مِّنَ الْاِنْسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ وَّ بَلَغْنَآ اَجَلَنَا الَّذِیْٓ اَجَّلْتَ لَنَا ط قَالَ النَّارُ مَثْوٰکُمْ خٰلِدِیْنَ فِیْھَآ اِلَّا مَا شَآئَ اللہ ُ ط اِنَّ رَبَّکَ حَکِیْمٌ عَلِیْمٌ۔ وَکَذٰلِکَ نُوَلِّیْ بَعْضَ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضًام بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ ۔ (الانعام : 128۔ 129) (اور اس دن کا دھیان کرو ‘ جس دن وہ ان سب کو اکٹھا کرے گا۔ کہے گا ‘ اے جنوں کے گروہ ! تم نے تو انسانوں میں سے بہتوں کو اپنا لیا اور انسانوں میں سے ان کے ساتھی کہیں گے ‘ اے ہمارے رب ! ہم نے ایک دوسرے کو استعمال کیا اور ہم پہنچ گئے اپنی اس مدت کو ‘ جو تو نے ہمارے لیے ٹھہرائی۔ فرمائے گا ! تمہارا ٹھکانہ اب جہنم ہے ‘ ہمیشہ کے لیے اس میں رہو۔ مگر جو اللہ چاہے ‘ بیشک تیرا رب حکیم وعلیم ہے اور اسی طرح ہم مسلط کردیتے ہیں ظالموں کو ایک دوسرے پر ‘ بسبب ان کی کرتوتوں کے) اس آیت کریمہ کا سب سے پہلا لفظ ” یوم “ نہایت قابل توجہ ہے اس میں جنوں اور انسانوں کو خطاب کر کے یہ فرمایا جا رہا ہے کہ آج تمہیں اسلامی دعوت اپنی ساری اثر انگیزی اور اثر آفرینی کے باوجود اپیل نہیں کر رہی۔ تم نہ صرف اسے قبول کرنے سے انکاری ہو بلکہ اس کی مخالفت میں پوری طرح تلے ہوئے ہو۔ لیکن تمہیں کچھ اندازہ بھی ہے کہ تم ہمیشہ یہاں نہیں رہو گے موت کا شکار بنو گے ‘ پھر ایک وقت آئے گا جب تمہیں زندہ کیا جائے گا اور اللہ کے حضور تمہاری پیشی ہوگی اور اس دن تم پر کیا گزرے گی۔ کیا اس دن کی ہولناکی کے بارے میں تم نے کبھی سوچا ہے یہ زندگی کا سفر کوئی بہت طویل نہیں اس کے بعد عالم برزخ میں تم قیامت کا انتظار کرو گے لحاظ سے عملی طور پر قیامت کے آنے میں اور تم میں تمہاری چند سالہ دنیوی زندگی ہی تو حائل ہے چند سالوں کے بعد تم جن مراحل میں مبتلا ہونے والے ہو اور تمہارا انجام جن ہولناکیوں سے دوچار ہونے والا ہے کیا تم نے کبھی اس کا بھی خیال کیا ہے تم سے ایک ایک بات کی بازپرس ہوگی۔ تمہاری ایک ایک حرکت تمہارے سامنے کھول دی جائے گی تمہارے کرتوت خود بولیں گے۔ جہنم تمہارے سامنے دھک رہا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ پورے جلال میں ہوں گے۔ بتائو اس دن کیا کرو گے ؟ اور آج تم اسلام کی مخالفت میں جس طرح ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہو اور تم سمجھتے ہو کہ تمہاری اس اجتماعی قوت کو کوئی نہیں توڑ سکتا لیکن تمہیں اس بات کا خیال نہیں آتا کہ تم سب کے سب اجتماعی طور پر اللہ کے سامنے مجرموں کے کٹھرے میں کھڑے کیے جانے والے ہو۔ وہاں تم ایک دوسرے کی کوئی مدد نہیں کرسکو گے اور تم سب کو ایک ایسے ہمہ گیر عذاب کا شکار ہونا ہوگا جس سے تمہیں کوئی نہیں بچا سکے گا۔ کسی کی سفارش کام نہیں آئے گی تمہاری مدد کو کوئی نہیں پہنچے گا۔ اس دن اللہ کی مشیت کے سوا کسی چیز کی حکمرانی نہیں ہوگی۔ اس طرح تم سب اللہ کے حضور جمع کیے جاؤ گے۔ اب بجائے اس کے کہ تم آج اس کے ازالے اور تدارک کے لیے سوچو اور اس سے بچ نکلنے کی تدبیر کرو لیکن تمہاری بےبصیرتی اور کوتاہ فہمی کا حال یہ ہے کہ جو طوفان تمہارے سر پر تلا کھڑا ہے اس کے بارے میں تمہیں سوچنا بھی نصیب نہیں ہو رہا۔ حساب، جنوں اور انسانوں دونوں سے لیا جائے گا اس آیت میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ خطاب جنوں اور انسانوں دونوں سے ہو رہا ہے وجہ اس کی یہ ہے کہ جس طرح تکلیف شرعی کے مکلف یعنی احکام شریعت کی بجاآوری کے پابند انسان ہیں اس طرح جنات بھی ہیں جس طرح اپنی زندگی کے ایک ایک لمحے کا حساب انسانوں کو دینا ہے اس طرح جنوں کو بھی ان تمام مراحل سے گزرنا ہے۔ اس لیے اس دن کی یاد دہانی کے بعد دونوں سے خطاب فرمایا جا رہا ہے لیکن جن چونکہ ایک بالادست قوت ہے اور پھر جنات کے بارے میں مشرکین مکہ مشرکانہ تصورات بھی رکھتے تھے اس لیے سب سے پہلے انہی کو خطاب کیا جا رہا ہے تاکہ مشرکین مکہ کو اندازہ ہو کہ کل کو جس طرح ہم پکڑے جائیں گے اسی طرح جن جنات کو ہم اپنی مدد کے لیے پکارتے ہیں وہ بھی پکڑے جانے والے ہیں اور دوسری وجہ دونوں سے خطاب کی یہ بھی ہے کہ عرب جاہلیت میں جنوں کو عربوں کی مذہبی اور سماجی زندگی میں بڑا دخل ہوگیا تھا۔ کہانت اور ساحری کی گرم بازاری تو ان کے دم قدم سے تھی ہی شاعری تک کے متعلق ان کا خیال یہ تھا کہ یہ جنات الہام کرتے ہیں اور ہر بڑے شاعر کے ساتھ کوئی نہ کوئی جن ضرور ہوتا ہے۔ اسی بناء پر وہ آنحضرت کے متعلق بھی یہ کہتے تھے کہ ان کے ساتھ بھی کوئی جن ہے ہر وادی کے الگ الگ جن مانے جاتے تھے اور سفر و حضر ‘ جنگ و صلح اور فتح کے معاملات میں ان کے تصرفات کا بڑا دخل سمجھا جاتا تھا۔ اس لیے دونوں سے بیک وقت خطاب فرمایا جا رہا ہے اور جنوں کے بارے میں جیسا کہ میں نے عرض کیا عرب مشرکانہ خیالات رکھتے تھے اور ان کی ایک طرح سے پوجا پاٹ بھی کرتے تھے اور ان سے مدد کے طالب بھی ہوتے تھے اس لحاظ سے سب سے پہلے انہی سے خطاب فرمایا اور بجائے اس کے کہ ان کے ذاتی ایمان و عمل کو حوالہ بنایا جاتا اصل مخاطب چونکہ انسان ہیں اس لیے ان کے اس جرم کا ذکر کیا جا رہا ہے جو انھوں نے انسانوں کے حوالے سے کیا ہے۔ کفارِ مکہ جنوں کو مشکل کشا سمجھتے تھے یعنی صرف یہی نہیں کہ انھوں نے اللہ کی توحید اور اس کے دین کا حق ادا نہ کیا بلکہ انھوں نے انسانوں کے بگاڑنے میں بھی کوئی کسر نہ چھوڑی اور پھر یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہیے کہ یہاں تمام جن مخاطب نہیں ہیں بلکہ ان میں سے بھی وہ بگڑے ہوئے لوگ مراد ہیں جنھوں نے انسانوں میں بگاڑ اور مشرکانہ تصورات پیدا کرنے میں اپنا کردار ادا کیا اور وہ کام کیا جو ان کے جد امجد اور ان کے پیر و مرشد ابلیس نے اللہ کے سامنے کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا بلکہ پوری ڈھٹائی کے ساتھ اس عزم صمیم کا اظہار کیا تھا کہ اے پروردگار آپ نے چونکہ آدم کو سجدہ نہ کرنے کی پاداش میں مجھے راندہ درگاہ قرار دیا ہے اس لیے آدم کی اولاد کی تباہی اور گمراہی میں میں کوئی کسر نہیں چھوڑوں گا۔ یہ ابلیس قرآن کے ارشاد کے مطابق چونکہ جن ہے اس کی اولاد ظاہر ہے جنات پر مشتمل ہے اور ان بیشمار صدیوں میں اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس کی تعداد کہاں تک پھیل چکی ہوگی اور پھر وہ جنات بھی جو اس کی اولاد میں شامل نہیں لیکن اس کی فکر کے حامل اور اس کے خیالات کے امین ہیں وہ بھی ان میں شامل ہیں۔ ان تمام نے مل کر انسانوں کے بگاڑ میں اپنا کردار ادا کیا ہے اور ابلیس نے جو کچھ اپنے رب کے حضور میں سرکشی دکھاتے ہوئے کہا تھا اس کو پوری طرح بروئے کار لانے کی کوشش کی ہے۔ قرآن کریم نے ایک سے زیادہ جگہ اس کا تذکرہ کیا ہے ایک جگہ اس نے کہا : اَرَئَیْتَکَ ھٰذَا الَّذِیْ کَرَّمْتَ عَلَیَّ ز لَئِنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ لَاَحْتَنِکَنَّ ذُرِّیَّتَہٗ اِلَّا قَلِیْلًا۔ (بنی اسرائیل : 61) (بھلا یہ ہے وہ ‘ جس کو تو نے میرے اوپر فضیلت بخشی ہے ؟ اگر تو نے مجھے قیامت تک کے لیے مہلت دی تو میں اس کی ساری ذریت کو چٹ کر جاؤں گا ‘ صرف تھوڑے ہی مجھ سے بچ رہیں گے) شیطان انسانوں کو گمراہ کرتا ہے دوسرے مقام پر ہے : لَاَقْعُدَنَّ لَھُمْ صِرَاطَکَ الْمُسْتَقِیْمَ ۔ ثُمَّ لَاٰتِیَنَّھُمْ مِّنْم بَیْنِ اَیْدِیْھِمْ وَ مِنْ خَلْفِھِمْ وَ عَنْ اَیْمَانِھِمْ وَ عَنْ شَمَآئِلِھِمْ ط وَلَا تَجِدُ اَکْثَرَھُمْ شٰکِرِیْنَ ۔ (میں تیری سیدھی راہ پر ان کی گھات میں بیٹھوں گا ‘ پھر میں ان کے آگے سے ‘ ان کے پیچھے سے ‘ ان کے داہنے سے ‘ ان کے بائیں سے ‘ ان کی راہ ماروں گا اور تو ان میں سے اکثر کو اپناشکر گزار نہ پائے گا) (اعراف : 16-17) یہاں اصحابِ ذوق آسانی سے سمجھ سکتے ہیں کہ ” اِسْتَکْثَرْتُمْ “ کے لفظ میں نہایت لطیف تلمیح ہے۔ ابلیس کے قول { وَلَا تَجِدُ اَکْثَرَھُمْ شٰکِرِیْنَ اور لَاَحْتَنِکُنَّ ذُرِّیَّتَہٗ اِلَّا قَلِیْلًا } کی طرف۔ یعنی اللہ تعالیٰ ابلیس کے ان فرزندان معنوی کو خطاب کر کے فرمائے گا کہ تم نے تو اپنے پیشوا ابلیس کا مشن بڑی کامیابی سے پورا کیا کہ ذریت آدم میں سے بہتوں کو اپنے فتراک ضلالت کا نخچیر بنا لیا اور بڑی سعادتمند نکلی یہ اولادِ آدم کہ اس سادہ لوحی کے ساتھ تمہارے دام فریب میں پھنس گئی۔ اس طرح سے جنات کی اپنی بدعملیوں کے ساتھ ساتھ انسانوں کو گمراہ کرنے کا اصل جرم ان کے سامنے رکھ دیا جائے گا اور ساتھ ساتھ انسانوں کو شرم اور غیرت دلانے کے لیے یہ بتایا جائے گا کہ جنات نے تو تمہیں گمراہ کر کے اپنے پیشوا ابلیس کا مشن بڑی کامیابی سے پورا کیا لیکن تم نے اللہ کے رسول کی دعوت کو قبول کرنے سے تو انکار کیا لیکن اپنے دشمنوں کے ہتھے ایسے چڑھے کہ انہی کے اشاروں پر چلتے ہوئے اپنی دنیا اور آخرت برباد کرلی اس کے بعد جنات کی طرف سے کوئی جواب مذکور نہیں معلوم ہوتا ہے کہ انھیں اپنی سرکشی کے انجام کو دیکھتے ہوئے یہ ہمت نہیں پڑے گی کہ وہ اپنی کارستانیوں کا کوئی جواب دے سکیں بلکہ وہ اس حد تک سہم جائیں گے کہ معذرت کرنا بھی ان کے لیے مشکل ہوجائے گا۔ لیکن انسانوں کا وہ گروہ جنھوں نے ان شیاطین جن کی پیروی کر کے اپنی عاقبت تباہ کی وہ یہ کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہم نے ایک دوسرے کی معیت اور رفاقت سے دنیا میں خوب ایک دوسرے سے فائدہ اٹھایا یہاں تک کہ اس یوم الحساب کو پہنچ گئے جو تو نے ہمارے لیے مقرر کیا تھا۔ فائدہ اٹھانے کا مطلب یہ ہے کہ ہم ان کے آلہ کار بنے ہم نے ان کی پوجا کی ‘ ان کے تھانوں پر نذریں اور قربانیاں پیش کیں اور ان کے کہے پر حلال کو حرام اور حرام کو حلال بنایا۔ اسی طرح ہمارے کاہنوں ‘ ساحروں اور سیانوں نے ان کو اپنے مقاصد مذمومہ کے لیے طرح طرح سے استعمال کیا۔ یہاں تک کہ یہ دن آیا اور ہمیں اپنے اس عمل کے انجام پر غور کرنے کی توفیق نہ ملی۔ اس اعترافِ جرم کے بعد وہ یہ چاہیں گے کہ ہم اللہ سے معافی کی درخواست کریں اور چونکہ ہم نے یہ جرائم جنوں کی رفاقت میں کیے ہیں اس لیے دونوں کے لیے اللہ سے عفو و درگزر مانگیں۔ لیکن پروردگار ان کی بات تمہید پوری ہونے سے پہلے ہی کاٹ دے گا اور ان کو معذرت اور درخواست ِ معافی کا موقع دیئے بغیر ہی اپنا فیصلہ سنا دے گا کہ بس اب تمہارا ٹھکانہ یہی دوزخ ہے جس میں تمہیں ہمیشہ رہنا ہے اب باتیں بنانے کی کوشش نہ کرو۔ عذر ‘ معافی ‘ توبہ اور اصلاح کے سب دروازے بند ہوگئے ہیں۔ یہاں یہ جو فرمایا گیا کہ تم اب اس جہنم میں ہمیشہ رہو گے مگر وہ جو تیرا رب چاہے۔ اس سے بعض لوگوں کو یہ اشتباہ پیش آیا ہے کہ قرآن کریم نے اور کئی جگہ واضح طور پر ارشاد فرمایا کہ کافر ہمیشہ جہنم میں رہیں گے اور وہ کبھی اس سے نکالے نہیں جائیں گے لیکن یہا استثناء کرتے ہوئے فرمایا جا رہا ہے کہ جو تیرا رب چاہے۔ حالانکہ بات واضح ہے کہ یہاں مَا ہے مَنْ نہیں۔ من کا اطلاق بالعموم ذی روح اور ذی شعور مخلوقات پر ہوتا ہے لیکن مَا کا اطلاق بالعموم جمادات و نباتات اور حیوانات پر ہوتا ہے یا کسی اور ایسی چیز پر جس میں نہ جان ہو نہ ادراک۔ اس طرح صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہاں یہ بتانا مقصود نہیں ہے کہ کچھ لوگ جہنم سے نکال بھی لیے جائیں گے بلکہ مقصود یہ معلوم ہوتا ہے کہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی پکڑ اور اس کے عذاب سے شفاعت کرنے والے کسی نہ کسی طرح بچا لیں گے یا اور کسی طرح ان مجرمین کو مدد پہنچ جائے گی اور یہ عذاب سے بچ نکلیں گے اس لیے یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ وہاں اللہ کی مشیت اور اس کی مرضی کے بغیر کسی کا کوئی کچھ نہیں کرسکے گا۔ نہ کوئی مدد دے سکے گا نہ کسی کی شفارش کام آئے گی وہاں تو وہی ہوگا جو اللہ کی مشیت چاہے گی۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہنا چاہیے کہ یہاں بحث یہ نہیں ہے کہ کون ہمشہ جہنم میں رہے گا اور کون نہیں بلکہ بتلانا صرف یہ ہے کہ قیامت کے دن حکمرانی تکوینی اور تشریعی طور پر صرف اللہ ہی کی ہوگی اور اگر دوسرا مفہوم بھی لیا جائے تو تب بھی بات صاف ہے۔ کیونکہ دوسری نصوص میں قرآن شاہد ہے کہ اللہ تعالیٰ بھی نہیں چاہے گا کہ کسی کافر کو جہنم سے نکالے اس لیے اسے ہمیشہ یہیں رہنا پڑے گا۔ کافروں کے بارے میں قرآن کریم کی بیان کردہ یہ سزا کہ وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے ‘ بعض لوگوں کے نزدیک نہایت سخت ہے ان کا کہنا یہ ہے کہ جس آدمی نے کفر اور شرک کا ارتکاب کیا ہے ظاہر ہے کہ یہ گناہ اس نے صرف اپنی زندگی میں کیا ہے اور زندگی اس کی چند سالوں پر محیط ہے۔ عجیب بات ہے کہ جو گناہ چند سالوں کی مدت میں کیا گیا ہے اس کی سزا ابد الآباد تک ہو یہ کسی طرح بھی جرم اور سزا میں مناسبت نہیں رکھتا انصاف کا تقاضہ یہ ہے کہ سزا ہمیشہ جرم کے مطابق ہونی چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ بات سراسر کوتاہ فہمی پر دلالت کرتی ہے۔ دنیا میں کوئی عدالت سزا دیتے ہوئے یہ نہیں دیکھتی کہ جرم کرنے والے نے جرم کرتے ہوئے کتنا وقت لگایا ہے بلکہ یہ دیکھتی ہے کہ اس کے جرم کی نوعیت کیا ہے اور اس نے جرم کر کے نقصان کتنا پہنچایا ہے ایک آدمی جو کئی گھنٹے بہت مشقت اٹھا کر کسی گھر میں یا کسی دکان میں نقب لگاتا ہے لیکن وہ چند سو یا چند ہزار چرا پاتا ہے اور دوسرا شخص ایک مختصر وقت میں حفاظتی انتظام کو معطل کر کے بینک کا سیف کاٹ کر لاکھوں یا کروڑوں روپے نکال کرلے جاتا ہے تو وقت تو پہلے مجرم نے زیادہ صرف کیا اور دوسرے نے کم لیکن سزا دوسرے مجرم کو زیادہ ملے گی۔ کیونکہ اس نے نقصان زیادہ کیا ہے اسی طرح کوئی آدمی دن بھر کسی کو حبس بےجا میں رکھتا ہے اور تشدد کرتا ہے اور دوسرا آدمی کسی عفت مآب خاتون کی عزت لوٹتا ہے یا ایک لمحے میں کسی کی جان لے لیتا ہے تو آپ خوب جانتے ہیں کہ سزا کس کو زیادہ ملے گی حالانکہ جان لینے والے یا عزت لوٹنے والے نے وقت بہت مختصر صرف کیا ہے لیکن نقصان ایسا کیا ہے جس کی کوئی تلافی ممکن نہیں ‘ شرک اور کفر کا ارتکاب کرنے والا اگرچہ اپنی مختصر عمر میں ایک جرم کا ارتکاب کرتا ہے لیکن وہ جرم ایسا کرتا ہے جس کی شناعت اور قباحت کی کوئی انتہا نہیں۔ اس عالم کون و مکاں کی سب سے قیمتی متاع اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی حرمت ہے۔ جو آدمی شرک کرتا ہے وہ اس کی حرمت کو چیلنج کرتا ہے اور جو کفر کرتا ہے وہ اس کی ذات کو تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سے بڑے گناہ اور جرم کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے اس پر جو سزا تجویز کی گئی ہے وہ خلود فی النار یعنی ہمیشہ جہنم میں رہنا ہے۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا کہ تیرا رب حکیم اور علیم ہے یعنی جو کچھ فرمایا جا رہا ہے یہ محض کسی حکمران کی ذاتی ناراضگی اور اس کے غضب کا نتیجہ نہیں بلکہ تمہارے اس رب کے فیصلے ہیں جو تمام حکمتوں اور ہر طرح کے علم سے متصف بلکہ سرچشمہ ہے۔ کافر جن اور گمراہ انسان ایک دوسرے کے دوست ہیں گزشتہ آیت کریمہ میں ہمیں یہ بتایا گیا کہ دنیا میں انسانوں اور جنوں نے اللہ کی نافرمانی اور شرک کے ارتکاب میں ایک دوسرے کیساتھ ہمیشہ تعاون کیا۔ انسانوں نے جنات کی مدد سے اپنی کہانت اور ساحری کا دھندا چلایا اور لوگوں کو گمراہ کیا اور جنوں نے ان گمراہ انسانوں سے اپنی بندگی کروائی۔ اگلی آیت کریمہ میں یہ فرمایا جا رہا ہے کہ انکے درمیان یہ سازگاری اور باہمی موافقت یہ اس وجہ سے ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے ظالموں اور مشرکوں اور دوسرے تمام بگڑے ہوئے لوگوں میں یہ بات رکھی ہے کہ وہ گمراہی اور بگاڑ کے پھیلانے میں ایک دوسرے کے معاون اور مددگار ہوتے ہیں جس طرح ہر مخلوق اپنے ہم جنس سے پیار کرتی ہے اسی طرح خیالات میں ہم آہنگی رکھنے والے اور ذوق میں اشتراک کے حامل ہمیشہ ایک دوسرے سے قریبی تعلق محسوس کرتے ہیں اور وہ برائی کے سفر میں ہمیشہ ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہیں۔ جنات اور انسانوں میں بظاہر کوئی قدر مشترک نہیں لیکن برائی سے تعلق اور پیار انکو ایک دوسرے کے قریب کردیتا ہے اور پھر وہ اس کام میں ایک دوسرے کے معاون ثابت ہوتے ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ جن و انس میں یہ موافقت تو بہت غورو فکر کے بعد سمجھ میں آتی ہے لیکن آج اگر ہم پورے عالم اسلام کے حکمرانوں اور غیر مسلم دنیا کے حکمرانوں کو دیکھیں تو صاف نظر آتا ہے کہ نام نہاد دہشت گردی کی مخالفت کے حوالے سے جسطرح انھوں نے دینی قوتوں اور دین کی ہر قدر کو تباہ کرنے میں ایک دوسرے سے تعاون کیا ہے اور جسطرح اسلامی تشخص کو پامال کیا ہے وہ تو ہمارے سامنے کی بات ہے کہ عالم اسلام کے بیشتر حکمرانوں نے اس مقصد کے لیے غیر مسلم حکمرانوں کے ساتھ مکمل تعاون کیا ہے اور یہ بھول گئے کہ ہمارے تعاون کے نتیجے میں جو کچھ مسلمانوں پر گزرے گی جسطرح ان کا خون بہے گا ‘ جس طرح اسلامی تاریخ لہولہان ہوگی ‘ جس طرح اسلامی تہذیب کو نقصان پہنچے گا ‘ صدیوں میں اس کی تلافی شاید نہ ہو سکے اور پھر اس کے بارے میں ایک دن اللہ کے حضور بھی جواب دینا پڑے گا لیکن ان کی باہمی یگانگت اور باہمی موافقت نے ان کو نہ صرف کسی بات پر غور کرنے کا موقع نہ دیا بلکہ جس نے انکو سمجھانا چاہا وہ اس کے بھی دشمن ہوگئے۔ اس حقیقت کو بیان کرنے کے لیے اس آیت کریمہ میں نُوَلِّی کا لفظ استعمال ہوا جس کا ایک معنی یہ ہے کہ ہم دوست بنا دیتے ہیں اور باہمی موافقت پیدا کردیتے ہیں جس کی وضاحت ہم نے اوپر کی ہے اور دوسرا معنی اس کا اہل علم نے یہ کیا ہے کہ ہم بعض ظالموں کو بعض پر مسلط کردیتے ہیں۔ گزشتہ آیت کریمہ میں ہم نے پڑھا ہے کہ جنات انسانوں کو گمراہی پھیلانے میں استعمال کرتے ہیں اور اپنی مرضی پر انھیں چلا کر خودانھیں بھی تباہ کرتے ہیں اور انکے زیر اثر لوگوں کو بھی اس کے بارے میں پروردگار فرما رہے ہیں کہ وہ خود سے ایسا نہیں کرسکتے وہ اس لیے ایسا کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں کہ ہم انھیں ایسا کرنے دیتے ہیں ‘ مطلب اسکا یہ ہے کہ اللہ نے جنات کو یہ قوت نہیں دی کہ وہ جس آدمی پر چاہیں قبضہ جما لیں اور جیسے چاہیں اسے استعمال کریں۔ لیکن جب ایک آدمی اسلامی شریعت کے احکام سے روگردانی کرتا ہے اور وہ اپنی مرضی سے اسلام کے خلاف طرز عمل اختیار کرلیتا ہے اور اپنی زندگی اسلامی احکام کے بالکل برعکس گزارنے میں فخر محسوس کرتا ہے اور قرآن و سنت کو کبھی اپنے قریب نہیں آنے دیتا تو وہ اپنے اعمال سے اللہ تعالیٰ کی حفاظت کے حصار سے نکل جاتا ہے یہ وقت ہوتا ہے جب شیطانی جناتی قوتوں کو اسے ورغلانے یا اسے نقصان پہنچانے کا موقع ملتا ہے۔ جن انسانوں کا ذکر سابقہ آیات میں کیا گیا ہے وہ ایسے ہی لوگ تھے جنھوں نے اللہ کے دین کو ماننے سے انکار کیا اور ایک مشرکانہ زندگی اپنی مرضی سے اختیار کی چناچہ اللہ کا قانون حرکت میں آیا۔ اللہ کا حفاظت کرنے والا ہاتھ ان سے اٹھ گیا اور وہ آہستہ آہستہ شیاطین کے قبضے میں آگئے۔ جو قرآنی تعلیمات سے منہ پھیر لیتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر ایک شیطان مسلط کردیتا ہے قرآن کریم نے ایک اور جگہ اسی حقیقت کو بیان فرمایا : وَمَنْ یَّعْشُ عَنْ ذِکْرِ الرَّحْمَانِ نُقَیِّضْ لَہُ شَیْطَاناً فَھُوَ لَہُ قَرِیْنٌ۔ (الزخرف : 36) (جو آدمی اللہ کے ذکر سے اعراض کرتا ہے ‘ ہم اس پر ایک شیطان مسلط کردیتے ہیں۔ پھر وہ اس کا ساتھی بنا رہتا ہے) ذکر سے مراد ہر اچھی بات کی نصیحت بھی ہے اور قرآن کریم بھی ہے کیونکہ ذکر قرآن پاک کے ذاتی ناموں میں سے ایک نام ہے یعنی جب کوئی آدمی اللہ کی کتاب یعنی قرآن کی تعلیمات سے منہ پھیر لیتا ہے اور اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اسے تسلیم کرنے سے انکار کردیتا ہے یا اس پر عمل کرنے سے فرار اختیار کرلیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر ایک شیطان مسلط کردیتے ہیں وہ ہمیشہ اسے اس طرح کھینچے پھرتا ہے جیسے ایک مخمور آدمی کا ہاتھ پکڑنے والا اسے جہاں چاہے لے جاتا ہے یا جیسے ایک سوار اپنے گھوڑے کے قابو آجائے تو وہ اسے جس کھائی میں چاہتا ہے پھینک دیتا ہے یہی حال اس آدمی کا ہوتا ہے کہ وہ سمجھتا یہ ہے کہ جو زندگی میں گزار رہا ہوں یہ میں شاید اپنی مرضی سے گزار رہا ہوں حالانکہ وہ تو ایک شیطان کے قبضے میں ہوتا ہے جو اسے جہاں چاہتا ہے لیے پھرتا ہے اور جو چاہتا ہے اس سے کرواتا ہے لیکن یہ صورت حال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب وہ شخص اللہ کے دین کو چھوڑ دیتا ہے۔ آج بھی ہم چاروں طرف ہمیشہ اس طرح کی شکایتیں سنتے ہیں کہ آسیب اور جنات کا اثر عام ہوتا جا رہا ہے اور پھر ہم اس کے لیے پیشہ ور عاملوں کے چکر لگاتے ہیں۔ حالانکہ اگر ہم اپنے گھروں کو اسلامی احکام کی مخالفت سے پاک کرلیں اور رسول اللہ ﷺ کی ہدایات کے مطابق اپنے اور اپنے گھروں کے معمولات کو درست کرلیں تو کوئی جن یا کوئی شیطان ہمیں نقصان نہیں پہنچا سکتا ان کو یہ جرأت اس وقت ہوتی ہے جب ہم اپنے آپ کو اللہ کی رحمت سے محروم کرلیتے ہیں۔ کاش ہم کبھی اپنے اعمال پر غور کرسکیں تو دنیا کے نقصان سے بھی بچیں اور آخرت بھی سنوار لیں۔
Ayah 6:130

یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اَلَمْ یَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْ وَ یُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ؕ قَالُوْا شَهِدْنَا عَلٰۤى اَنْفُسِنَا وَ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ شَهِدُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰفِرِیْنَ Open ayah 6:130 in the Quran reader

اے جنوں اور انسانوں کے گروہ ! کیا تمہارے پاس تمہیں میری آیتیں سناتے اور تمہارے اس دن کی ملاقات سے تم کو ہوشیار کرتے ہوئے ‘ تم میں سے رسول نہیں آئے ؟ وہ بولیں گے ہم خود اپنے خلاف شاہد ہیں اور ان کو دنیا کی زندگی نے دھوکے میں رکھا اور وہ خود اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ بیشک وہ کافر رہے

تمہید اگلی آیت کریمہ میں ایک اور سوال کا ذکر کیا جا رہا ہے جو جنوں اور انسانوں سے قیامت کے دن پوچھا جائے گا۔ جس سے صرف یہ تصور دینا مقصود ہے کہ اس دن تم اس سوال کا جواب اگرچہ اپنے گناہوں کا اعتراف کر کے اور اپنے قصور کو تسلیم کر کے دو گے لیکن اس وقت تمہارا اعتراف تمہارے کسی کام نہیں آئے گا بجز اس کے کہ تمہارے پچھتاوے میں اضافہ ہو لیکن اگر آج تم اس تصور کو یقینی بنا کر کوئی فائدہ اٹھا سکو تو کل کو اس یقینی پیش آنے والے انجام سے بچ سکتے ہو اور مزید اس سے یہ تصور دینا بھی مقصود ہے کہ تم خود اس دن اعتراف کرو گے کہ ہمارے پاس عذر پیش کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ اگر آج تم اپنی حالت پر اس دن پیش آنے والی صورت حال کو سامنے رکھ کر غور کرنے کی زحمت کرلو تو اس سے تمہاری دنیا بھی بن سکتی ہے اور آخرت بھی چناچہ ارشاد فرمایا جا رہا ہے : یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اَلَمْ یَاْتِکُمْ رُسُلٌمِّنْکُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْکُمْ اٰیٰتِیْ وَ یُنْذِرُوْنَکُمْ لِقَآئَ یَوْمِکُمْ ھٰذَاط قَالُوْا شَھِدْنَا عَلٰیٓ اَنْفُسِنَا وَ غَرَّتْھُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا وَ شَھِدُوْا عَلیٰٓ اَنْفُسِھِمْ اَنَّھُمْ کَانُوْا کٰفِرِیْنَ ۔ (الانعام : 130) (اے جنوں اور انسانوں کے گروہ ! کیا تمہارے پاس تمہیں میری آیتیں سناتے اور تمہارے اس دن کی ملاقات سے تم کو ہوشیار کرتے ہوئے ‘ تم میں سے رسول نہیں آئے ؟ وہ بولیں گے ہم خود اپنے خلاف شاہد ہیں اور ان کو دنیا کی زندگی نے دھوکے میں رکھا اور وہ خود اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ بیشک وہ کافر رہے) پروردگار جن و انس سے قیامت کے دن یہ سوال فرمائے گا کہ کیا دنیا میں تمہارے پاس میرے فرستادہ لوگ تمہیں سمجھانے کے لیے نہیں آئے تھے۔ انھوں نے کیا میرے احکام تم تک نہیں پہنچائے تھے اور کیا تمہیں کھول کھول کر یہ بات واضح نہیں کردی تھی کہ تمہاری زندگی اور آخرت کی کامیابی اللہ کے احکام کو ماننے اور اس کے مطابق زندگی گزارنے میں ہے ؟ اور پھر تمہیں انھوں نے کیا ان امتوں کی مثالیں دے کر اور ان کے واقعات بیان کر کے (جن امتوں کی تاریخ سے تم خود واقف بھی تھے) نہیں سمجھایا تھا کہ اگر تم نے اپنی روش نہ بدلی اور اللہ سے اپنا تعلق استوار نہ کیا اور اس کے احکام کی اطاعت نہ کی تو تم اس عذاب اور اس انجام سے نہیں بچ سکو گے جسکا شکار وہ معذب قومیں ہوئیں ؟ اور تمہیں ہر پہلو سے تمہاری طرف سے تکلیفیں اور اذیتیں برداشت کر کے پوری طرح یہ بات واضح کرنے کی کوشش نہیں کی کہ تمہیں یہاں ہمیشہ نہیں رہنا ہر ایک کو ایک نہ ایک دن موت کا مزا چکھنا ہے اور پھر برزخی زندگی گزار کر ایک نہ ایک دن اللہ کے سامنے حاضری دینی ہے اور یقینا اس کی عدالت میں پیش ہونا ہے وہاں تم سے تمہارے ایک ایک عمل اور زندگی کے ایک ایک لمحے کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ آج اگر تم نے اس کی فکر نہ کی تو بتائو کل اس کا کیا جواب دے سکو گے۔ چناچہ اس سوال کے جواب میں یہ لوگ جو آج کسی طرح بھی اللہ کے نبی کی دعوت پر کان دھرنے کے لیے تیار نہیں بلکہ اس دعوت کا مذاق اڑانا اور توہین کرنا ان کا معمول بن گیا ہے اور وہ اپنے نخوت وتکبر میں کوئی سی نصیحت سننے کے روادار نہیں ‘ لیکن اس دن صاف صاف اپنے گناہوں کا اعتراف کریں گے اور اپنے قصور کو تسلیم کریں گے اور برملا اس بات کو مانیں گے کہ یقینا تیرے سمجھانے والے اور راہ راست دکھانے والے ہمارے پاس آئے تھے لیکن ہم نے ان کی ایک بات بھی مان کے نہ دی اور ہم نے اپنے کفر ‘ شرک اور سرکشی میں کوئی تبدیلی لانا گوارا نہ کیا۔ کفار اور مشرکین کا یہ جواب صرف یہیں نہیں قرآن کریم نے اور بھی بعض جگہ نقل کیا ہے۔ سورة الملک میں بیان فرمایا گیا ہے : کُلَّمَآ اُلْقِیَ فِیْھَا فَوْجٌسَاَلَھُمْ خَزَنَتُھَآ اَلَمْ یَاْتِکُمْ نَذِیْرٌ۔ قَالُوْا بَلٰی قَدْ جَآئَنَا نَذِیْرٌ5 لا فَکَذَّبْنَا وَ قُلْنَا مَا نَزَّلَ اللہ ُ مِنْ شَیْئٍ جصلے اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ کَبِیْرٍ ۔ وَقَالُوْا لَوْ کُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا کُنَّا فِیْٓ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِ ۔ فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْبِھِمْ ج فَسُحْقًا لاَِّصْحٰبِ السَّعِیْرِ ۔ (الملک : 8-11) (جب جب اس میں جھونکی جائے گی کوئی پارٹی۔ دوزخ کے داروغے اس سے سوال کریں گے ‘ کیا تمہارے پاس کوئی آگاہ کرنے والا نہیں آیا تھا ؟ وہ کہیں گے ‘ ہاں ! بیشک ہمارے پاس آگاہ کردینے والا آیا تھا۔ لیکن ہم نے اس کو جھٹلا دیا اور کہا کہ خدا نے کوئی چیز نہیں اتاری ہے ‘ تم لوگ تو ایک بڑی گمراہی میں مبتلا ہو۔ اور وہ کہیں گے ‘ اگر ہم سننے اور سمجھنے والے لوگ ہوتے تو دوزخ میں پڑنے والے نہ بنتے۔ پس وہ اپنے جرم کا اعتراف کرلیں گے ‘ پس دفع ہوں یہ دوزخ والے) تصور فرمایئے کہ مشرکین مکہ کا طرز عمل جو سراسر تکبر اور نخوت پر مبنی تھا جس میں رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کے لیے بجز تحقیر اور استہزاء اور اذیت رسانی کے ان کے پاس کچھ نہیں تھا وہ یہ سمجھتے تھے کہ ہمیں جس بات کی طرف دعوت دی جا رہی ہے اس کی نہ کوئی حقیقت ہے اور نہ ہماری زندگی میں اس کے لیے کوئی گنجائش لیکن جب وہ قیامت کے دن اس بےبسی کا شکار ہوں گے جس کا اس آیت کریمہ میں ذکر کیا گیا ہے تو اندازہ نہیں کیا جاسکتا کہ ان کے دل کی کیا کیفیت ہوگی اور وہ کس طرح خون کے آنسو روئیں گے۔ لیکن آج ان کا رونا کسی کام نہیں آئے گا قرآن کریم یہ جذباتی اور ہولناک منظر ان کے سامنے رکھ کر انھیں توجہ دلانا چاہتا ہے کہ نادانو ! آج ہی کچھ غور کرلو تو شاید کل کو اپنے اس انجام بد سے بچ سکو ورنہ اس انجام کا آنا تو اس قدر یقینی ہے جس طرح آج تمہارا وجود تمہارے سامنے ہے جس طرح تم آج سورج کو طلوع ہوتا اور ڈوبتا دیکھتے ہو اسی طرح اس انجام کو بھی دیکھو گے لیکن پھر اس سے بچنے کی تمہارے پاس کوئی صورت نہیں ہوگی۔ آگے بڑھنے سے پہلے اس آیت کریمہ میں دو باتوں کی تشریح ضروری ہے۔ ایک تو یہ کہ ان کے اعتراف گناہ کو بیان کرتے ہوئے جملہ معترضہ کے طور پر اس حقیقت کو بیان فرمایا گیا ہے کہ یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کی دعوت کو آخر قبول کیوں نہیں کرتے حالانکہ اللہ کے رسول کی ذات خود اپنے اندر اس قدر اعجازی شان رکھتی ہے کہ معمولی سوج بوجھ والا آدمی بھی پیغمبر کو دیکھنے کے بعد متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا اس کی دل آویز شخصیت ‘ اس کا دل موہ لینے والا سراپا ‘ اس کے چہرے کا نور ‘ اس کی پیشانی سے اٹھتی ہوئی روشنی ‘ اس کی زبان سے ٹپکنے والا امرت اور اس کے معاملات کی سچائی ‘ اس کے اخلاق کی بلندی ‘ اس کی خاندانی شرافت ‘ اس کی امانت و صداقت ان میں سے کون سی بات ہے کہ دشمن بھی جس سے انکار کرنے کی جرأت کرسکیں اور پھر اس کی زبان سے ادا ہونے والا اللہ کا کلام جو اپنی فصاحت و بلاغت میں معجزانہ شان کے ساتھ ساتھ معانی اور مفاہیم کا ایسا سمندر کہ جس کی گہرائی کا اندازہ کرنا انسانی بس سے ماورا ہے جس کا پیش کردہ نظام زندگی ہر طرح کے تضاد سے پاک ‘ ہر طرح کی نارسائی سے مبرا اور صداقت و حقانیت اور واقعیت کی ہر ترازو میں تلنے والا اور جس کی پیش کردہ پیشگوئیاں اور علمی انکشافات تاریخ کا ناقابل تردید باب ‘ لیکن مشرکین مکہ اور اس دور کے دوسرے کفار جو قیامت کے دن اعتراف کرنے پر مجبور ہوں گے ‘ لیکن آج وہ کسی طرح بھی قرآن اور صاحب قرآن سے متاثر ہونے کے لیے تیار نہیں۔ اس کی حقیقت کھولتے ہوئے بیان فرمایا گیا ہے کہ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ان کو ان کی دنیا کی زندگی نے فریب میں مبتلا کردیا ہے۔ انھوں نے جب یہ دیکھا کہ جو لوگ اللہ کے دین کی دعوت لیکر ہمارے سامنے آئے ہیں وہ دنیوی اعتبار سے ہمارے مقابلے میں نہایت فروتر ہیں ‘ انھیں کوئی خوشحال زندگی میسر نہیں معمولی ضروریاتِ دنیا سے بھی تہی دامن ہیں اور ہم ان کے مقابلے میں نہایت پر تکلف زندگی بسر کر رہے ہیں ‘ دنیا کی ہر آسودگی ہمیں میسر ہے ‘ ہمارے پاس وہ سب کچھ ہے جسکا وہ خواب بھی نہیں دیکھ سکتے اور پھر جس زندگی کے رویے سے ہمیں وہ روکنا چاہتے ہیں اگر وہ رویہ غلط ہوتا تو یقینا پروردگار ہمیں اس کی سزا دیتا اور دنیوی خوشحالی ہم سے چھین لیتا سزا کے طور پر ہمیں مختلف مصائب کا شکار کرتا اور ہمارے مقابلے میں پیغمبر اور اس کے ماننے والوں کو دنیوی نعمتوں سے نوازتا۔ لیکن جب ایسا نہیں ہو رہا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اللہ کی نگاہ میں پسندیدہ لوگ ہیں اور ہمیں جس بات کی دعوت دی جارہی ہے اس میں قطعاً کوئی سچائی نہیں۔ مشرکین مکہ دراصل اس فریب میں مبتلا ہوئے کہ اگر ہمارا طرز عمل غلط ہوتا تو ہم یقینا سزا کے مستحق ہوتے اور دنیوی اقتدار اور اس کی خوشحالیاں ہمیں کبھی میسر نہ آتیں حالانکہ دنیا کا یہ نظام جزا و سزا کے اصول پر نہیں چل رہا بلکہ ابتلا کے اصول پر چل رہا ہے جس میں حق کے ساتھ باطل کو بھی مہلت ملی ہوئی ہے۔ جس طرح حق کے لیے اس بات کی گنجائش ہے کہ وہ جدوجہد کے نتیجے میں اپنے لیے راستہ نکالے اسی طرح باطل کے لیے بھی کوئی رکاوٹ نہیں وہ جسطرح چاہے زندگی گزارے اور جس طرح چاہے اپنے لیے نفوذ کے وسائل پیدا کرے یہاں انفرادی طور پر بھی ہر شخص کی آزمائش ہو رہی ہے اور اجتماعی طور پر بھی قومیں آزمائی جا رہی ہیں کسی کو نعمتیں دے کر آزمایا جا رہا ہے کہ وہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہے یا نہیں اور کسی کو فقر و فاقہ میں مبتلا کر کے آزمایا جاتا ہے کہ وہ بدحالی میں بھی صبر کر کے اللہ کو یاد کرتا ہے یا نہیں اور قومیں کبھی دولت اور اقتدار سے آزمائی جاتی ہیں اور کبھی قومی مسائل سے دوچار کر کے اور اقتدار سے محروم کر کے آزمائی جاتی ہیں۔ رہی جزا اور سزا یہ دنیا اس کی جگہ نہیں اس کی جگہ آخرت ہے۔ مشرکین مکہ اور دوسرے کفار چونکہ اس بات کو نہیں سمجھے اس لیے دنیوی زندگی کے دھوکے میں آگئے اور اپنی دولت مندی اور خوشحالی کو اللہ کے ہاں رضامندی کی دلیل سمجھ کر اس پر اڑ گئے اور تباہ ہوگئے اس میں ہمارے لیے غور و فکر کا ایک وسیع باب موجود ہے کہ ہم بھی اپنی حالت پر غور کریں اور یہ دیکھیں کہ کہیں ہم بھی اسی فریب نظر کا شکار تو نہیں ہمارا مقتدر اور خوشحال طبقہ کیا اسی طرح کی فریب خوردگی میں مبتلا تو نہیں اور کیا ہمارا پسماندہ طبقہ اور غریب لوگ کیا تقدیر کے شاکی ہو کر ایسی ہی صورت حال سے دوچار تو نہیں۔ کیا جنوں کے الگ رسول تھے ؟ دوسری بات جو اس آیت میں وضاحت طلب ہے وہ یہ ہے کہ اس میں رُسُلٌمِّنْکُمْکا لفظ استعمال ہوا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اے جنوں اور انسانو ! اللہ نے تمہی میں سے تمہارے پاس رسول بھیجے ہیں یعنی انسانوں میں سے انسانوں کو رسول بنا کر بھیجا ہے اور جنوں میں سے جنوں کو اور یہ بات قرین عقل بھی معلوم ہوتی ہے کہ انسانی اصلاح و ہدایت کے لیے اگر کسی جن کو رسول بنا کر بھیجا جاتا تو یقینا اس کی زبان اور ہوتی وہ اپنی اصل حیثیت میں کبھی نظر نہ آتا اسکا مزاج اور اس کی طبیعت انسانوں سے یکسر مختلف ہوتی۔ اس کے سوچنے سمجھنے کا انداز ‘ اس کے احساسات کی دنیا یقینا انسانوں سے متفاوت ہوتی۔ ایسی صورت حال میں انسان اس کی تعلیم و تبلیغ اور اس کی عملی نمونے سے کیا فائدہ اٹھاتے اور وہ کس طرح انسانوں کے سامنے اللہ کی طرف سے اتمام حجت کرسکتا بالکل یہی صورت حال اس وقت بھی ہوتی جب انسان جنوں کی طرف اللہ کے رسول بن کے آتے۔ وہ بھی ان کے لیے نہ اسوہ ثابت ہوتے نہ عملی پیکر بنتے نہ اتمام حجت کرسکتے زیادہ سے زیادہ دونوں میں کوئی اشتراک ہوسکتا تو عقائد اور اخلاق کے بعض اصولوں میں ہوسکتا۔ رہی شریعت ‘ قانون اور معاشرت یقینا اس کے مسائل دونوں میں الگ الگ ہیں اس لیے ان میں کسی اشتراک کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اس لیے یہ بات سمجھنا عقل کے عین مطابق ہے کہ انسانوں کی طرف انسان رسول بن کے آئے اور جنوں کی طرف جنات۔ قرآن و سنت میں چونکہ اس بارے میں واضح طور پر کوئی بات نہیں کہی گئی اس لیے علما نے اس سلسلے میں مختلف طرز عمل اختیار کیے ہیں۔ بعض کا کہنا یہ ہے کہ رسول اور نبی صرف انسان ہی ہوئے اور ہوتے چلے آئے ہیں ‘ جنات کی قوم میں سے کوئی شخص رسول بلا واسطہ نہیں ہوا بلکہ ایسا ہوا ہے کہ انسانی رسول اور پیغمبر کا کلام اپنی قوم کو پہنچانے کے لیے جنات کی قوم میں کچھ لوگ ہوئے ہیں جو درحقیقت رسولوں کے قاصد اور پیغامبر ہوتے تھے ‘ مجازی طور پر ان کو بھی رسول کہہ دیا جاتا ہے ‘ ان حضرات کا استدلال قرآن مجید کی ان آیات سے ہے ‘ جن میں جنات کے ایسے اقوال مذکور ہیں کہ انھوں نے نبی کا کلام یا قرآن سن کر اپنی قوم کو پہنچایا مثلاً : وَلَّوْا اِلٰی قَوْمِھِمْ مُّنْذِرِیْنَ اور سورة جن کی آیت قَالُوْا اِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبًا یَّھْدِیْ اِلَی الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِہٖ وغیرہ حضرت محمد ﷺ جنوں اور انسانوں سب کی طرف رسول ہیں لیکن ایک جماعت علماء اس آیت کے ظاہری معنی کے اعتبار سے اس کی بھی قائل ہے کہ خاتم الانبیاء ﷺ سے پہلے ہر گروہ کے رسول اس گروہ میں سے ہوتے تھے ‘ انسانوں کے مختلف طبقات میں انسانی رسول آتے تھے اور جنات کے مختلف طبقات میں جنات ہی میں سے رسول ہوتے تھے ‘ حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کی یہ خصوصیت ہے کہ آپ ﷺ کو سارے عالم کے انسانوں اور جنات کا واحد رسول بنا کر بھیجا گیا اور وہ بھی کسی ایک زمانہ کے لیے نہیں بلکہ قیامت تک پیدا ہونے والے تمام جن و انس آپ ﷺ کی امت ہیں اور آپ ﷺ ہی سب کے رسول و پیغمبر ہیں۔ اس بات کی تائیدبعض روایات سے بھی ہوتی ہے جس میں آنحضرت ﷺ کی جنات سے ملاقاتوں کا تذکرہ ہے حضرت عبد اللہ ابن مسعود ( رض) ایک سے زیادہ مرتبہ آنحضرت کے ساتھ جنات سے ملاقات کے لیے گئے ان کو ایک دائرہ میں بٹھا کر آپ خود آگے بڑھ گئے۔ حضرت عبد اللہ وہاں بیٹھے کچھ سایوں کو آتے جاتے دیکھتے رہے اور آنحضرت کو انھوں نے قرآن پاک پڑھتے بھی سنا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور مختلف اوقات میں قرآن پاک کی تعلیم اور اللہ کے احکام پہنچانے کے لیے جنات سے ملاقاتیں فرماتے تھے اور پھر امت کے بڑے بڑے اہل علم اور اکابر اولیا کے بارے میں تواتر سے یہ باتیں تاریخ میں نقل ہوئی ہیں کہ جنات ان کے حلقہ تلمذ میں شامل رہے اور اپنی اصلاح کے لیے ان سے اکتساب فیض بھی کرتے رہے اور وہ ہمیشہ آنحضرت ﷺ پر ایمان ہی کا تذکرہ کرتے رہے انھوں نے اپنے کسی پیغمبر کا کبھی ذکر نہیں کیا اس سے یہ بات سمجھنا آسان ہوجاتا ہے کہ حضور کی بعثت سے پہلے ممکن ہے ان میں خود ان کے اندر سے پیغمبر آتے رہے ہوں لیکن آنحضرت کی تشریف آوری کے بعد جن و انس سب کے رسول حضور ہی ہیں۔ البتہ ان کی اصلاح و ہدایت کے لیے جس طرح آج انسانوں میں انسان کام کر رہے ہیں اسی طرح ان میں جنات کام کر رہے ہیں اور ان پر ہماری پوری شریعت بلا کم وکاست نافذ ہے یا ان کے لیے کچھ خصوصی احکام بھی ہیں ان تفصیلات کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اگلی آیت کریمہ میں اس اہتمام کی وجہ بیان کی جا رہی ہے کہ آخر ایسا کیوں ہوتا رہا ہے کہ اللہ نے انسانوں اور جنوں کی ہدایت کے لیے ہمیشہ رسول مبعوث کیے اور ہمیشہ ان پر اپنے احکام نازل فرمائے۔
Ayah 6:131

ذٰلِكَ اَنْ لَّمْ یَكُنْ رَّبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّ اَهْلُهَا غٰفِلُوْنَ Open ayah 6:131 in the Quran reader

یہ اس وجہ سے ہے کہ تیرا رب بستیوں کو ان کے ظلم کی پاداش میں ‘ اس حال میں ہلاک کرنے والا نہیں ہے کہ ان کے باشندے بیخبر ہوں

ارشاد فرمایا : ذٰلِکَ اَنْ لَّمْ یَکُنْ رَّبُّکَ مُھْلِکَ الْقُرٰی بِظُلْمٍ وَّ اَھْلُھَا غٰفِلُوْنَ ۔ (الانعام : 131) (یہ اس وجہ سے ہے کہ تیرا رب بستیوں کو ان کے ظلم کی پاداش میں ‘ اس حال میں ہلاک کرنے والا نہیں ہے کہ ان کے باشندے بیخبر ہوں) اللہ تعالیٰ بغیر اپنی ہدایت پہنچائے کسی بستی والوں کو ہلاک نہیں کرتا اللہ تعالیٰ نے جتنی مخلوقات بھی پیدا فرمائی ہیں محض اپنے فضل و کرم سے اپنے اوپر یہ پابندی عائد کی ہے کہ ان تمام کو زندگی گزارنے کا طریقہ میں سکھائوں گا۔ چناچہ آپ تمام حیوانات حتیٰ کہ حشرات الارض تک کو دیکھ لیجئے ان میں سے ہر ذی روح اچھی طرح جانتا ہے کہ مجھے جس مقصد کے لیے پیدا کیا گیا ہے اس کے مطابق مجھے زندگی کس طرح گزارنی ہے ؟ پرندے کو سکھایا گیا ہے کہ ہوا میں کس طرح اڑنا ہے ‘ مچھلی کو بتایا گیا ہے کہ پانی میں کس طرح تیرنا ہے ‘ جنگل کے جانور پوری طرح اپنی جبلت اور احساسات کے تحت اپنے زندگی کے فرائض ادا کرنے اور زندگی کے وسائل حاصل کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔ گندگی میں پلنے والا کیڑا بھی خوب جانتا ہے کہ اسے کس طرح زندگی گزارنی ہے کیونکہ یہ اللہ کی رحمت ہے کہ اسکا فیضان جس طرح تخلیقی عمل کی صورت میں جاری ہے اسی طرح ہدایت یعنی زندگی کی رہنمائی کی شکل میں بھی رواں دواں ہے۔ انسان حیوانی مخلوقات کی ایک برتر شکل ہے اس کو حواس کے ساتھ ساتھ جوہر عقل سے بھی نوازا گیا اور پھر چونکہ اسے ایک مکلف مخلوق بنایا گیا اور اس بات کا پابند ٹھہرایا گیا کہ تمہاری زندگی کے مقاصد صرف اس زندگی تک محدود نہیں بلکہ اس کا رشتہ اگلی زندگی سے جڑا ہوا ہے اس لیے تم نے یہ زندگی اس طرح گزارنی ہے جس سے آخرت کی زندگی سدھر جائے۔ آخرت کی زندگی کا سدھار اور کامیابی چونکہ صرف انسانی حواس اور عقل سے ممکن نہیں تھی اس لیے اللہ نے وحی الٰہی کے ذریعے انسانوں کی رہنمائی فرمائی اور جہاں کہیں بھی انسانوں کو پیدا فرمایا وہیں اپنے رسول بھیجے ‘ اپنی کتابیں اتاریں اور پوری طرح انسانوں اور جنوں پر اتمام حجت کردیا تاکہ کل کو وہ یہ نہ کہہ سکیں کہ ہم سے جن باتوں کا سوال کیا جا رہا ہے ہمیں ان کے بارے میں کوئی راہنمائی نہیں دی گئی تھی کیونکہ اگر انسانوں کو یہ نہ بتایا جاتا کہ تمہاری زندگی گزارنے کا صحیح طریقہ کیا ہے اور کن باتوں میں تمہارا پروردگار راضی ہے اور پھر قیامت کے دن ان سے انہی باتوں کا سوال ہوتا اور انہی پر ان کو سزا بھی ملتی تو یقینا یہ ان پر بڑا ظلم ہوتا۔ جس نوکر کو یہ نہ بتایا جائے کہ تمہاری ڈیوٹی کیا ہے لیکن اسے پکڑ کر سزا دے دی جائے تو ہر کوئی یہی کہے گا کہ اس نوکر کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے کہ جب وہ جانتا ہی نہیں کہ مجھے کرنا کیا ہے تو آخر اسے سزا کس بات پر دی جا رہی ہے۔ چناچہ یہاں اللہ تعالیٰ یہی بیان فرما رہے ہیں کہ ہم نے جو انسانوں اور جنوں میں رسول بھیجے اور راہنمائی عطا فرمائی اس کی وجہ یہی ہے کہ تیرا رب رحیم و کریم ہے وہ کسی بستی والوں کو اس طرح سزا نہیں دیتا کہ پہلے ان کو یہ نہ بتایا جائے کہ تمہارا خالق ومالک تم سے کیا چاہتا ہے اگر یہ بعثت انبیاء کا سلسلہ نہ ہوتا تو ظاہر ہے کہ کسی کو بھی دنیا میں اس بات کی خبر نہ ہوسکتی تھی کہ ہم وہ زندگی کس طرح گزاریں جس سے ہمارا اللہ راضی ہو ؟ چناچہ بعثت انبیاء کا حقیقی مقصد یہی اتمام حجت رہا ہے تاکہ کل کو جن و انس میں سے کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ہمیں تو کوئی سمجھانے والا نہیں آیا آخر ہمیں سزا کس بات کی دی جا رہی ہے ؟ حیرانی کی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محض اپنی رحمت کی وجہ سے اپنی اس خود عائد کردہ ذمہ داری کو جس طرح پورا فرمایا ہے اس سے زیادہ کا تو کیا اس سے برابر کا تصور کرنا بھی مشکل ہے۔ انسانی ہدایت اور اس کی راہنمائی کے لیے یہ بات کافی تھی کہ کسی طرح سے بھی اللہ تعالیٰ کے احکام کا کوئی مجموعہ انسانوں کی ہر بستی میں بھیج دیا جاتا اور انھیں حکم دے دیا جاتا کہ اس کی پابندی کرو اور جو اس سے انکار کرتا اسے تباہ کردیا جاتا لیکن جو طریقہ پروردگار نے اختیار فرمایا کہ اپنے رسول بھیجے ‘ کتابیں اتاریں اور پھر اپنے انبیاء اور رسولوں کو زندگی بھر اس کام پر لگائے رکھا ان کی قوموں نے ہرچند اذیتیں پہنچائیں ‘ رکاوٹیں کھڑی کیں لیکن ان کی سرکشی کے باوجود بھی اس کام کو روکنے کی کبھی اجازت نہ فرمائی۔ بعض انبیاء شہید ہوئے دنیا کا ہر دکھ رسولوں نے اٹھایا لیکن یہ سلسلہ مسلسل جاری رہا۔ کبھی کبھی قوموں پر عذاب بھی آئے۔ لیکن عموماً صدیوں تک قوموں کی ہر طرح کی سرکشی کو برداشت کیا لیکن یہ سلسلہ ہدایت کبھی رکنے نہ پایا ‘ اسی سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ کفر اور شرک پر ابدی عذاب کیوں رکھا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ جب تبلیغ و دعوت کے عمل میں انتہا سے بڑھ کر کوشش فرمائی گئی ہے اور انسانی قافلے کے گلہائے سرسبد اس کے لیے کوشاں رہے ہیں اور اس کوشش کی ہر قیمت ادا بھی کرتے رہے اور انسانوں کے کسی گروہ نے اگر پھر بھی اپنی سرکشی اور بغاوت کا رویہ نہیں چھوڑا اور وہ بھی کسی معمولی حاکم کے مقابلے میں نہیں بلکہ کائنات کے حاکم اعلیٰ کے مقابلے میں تو معمولی عقل کا آدمی بھی یہ سمجھ سکتا ہے کہ ایسے شدید جرم کی سزا ایسی ہی ہونی چاہیے اور مزید یہ بات کہ اللہ حاکم الحاکمین ہے ‘ شہنشاہِ کائنات ہے۔ بادشاہ جو بھی کرے اسے قانون کی حیثیت حاصل ہوتی ہے لیکن وہ شہنشاہِ کائنات یہ فرما رہا ہے کہ اگر کسی بستی والوں کو ہم بغیر راہنمائی کا حق ادا کیے سزا میں ہلاک کردیتے تو یہ ان پر ظلم ہوتا اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی صفت رحمت کا سب سے بڑا تقاضہ اس کی صفت عدل ہے اور یہی وہ صفت ہے جس نے کائنات کے نظام کو ثبات وقرار بخشا ہے اور اور اسی کے نتیجے میں بعثت انبیاء اور ہدایت کا سلسلہ وجود میں آیا اور یہی وہ صفت ہے جنت اور جہنم کا وجود جس کا اظہار ہے اس لیے اس صفت کے بروئے کار لانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس حد تک ہم پر احسان فرمایا ہے کہ کسی بڑے سے بڑے مجرم کو اس کے جرم سے بڑھ کر سزا نہیں دی گئی اور کسی چھوٹے مجرم کو بڑے مجرم کے برابر عذاب نہیں دیا گیا اور ہر چھوٹی بڑی نیکی کا الگ الگ پیمانہ رکھا ہے تاکہ کسی کو اپنی اپنی حیثیت کے مطابق شکایت پیدا نہ ہو سکے۔ چناچہ اگلی آیت کریمہ میں اسی کی طرف اشارہ فرمایا جا رہا ہے :
Ayah 6:132

وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:132 in the Quran reader

اور ہر ایک کے لییدرجے ہیں ‘ ان کے عمل کے اعتبار سے اور تیرا رب اس چیز سے بیخبر نہیں ہے ‘ جو وہ کرتے رہے ہیں

وَلِکُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا ط وَمَا رَبُّکَ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ ۔ (الانعام : 132) (اور ہر ایک کے لیے درجے ہیں ‘ ان کے عمل کے اعتبار سے اور تیرا رب اس چیز سے بیخبر نہیں ہے ‘ جو وہ کرتے رہے ہیں) اللہ تعالیٰ کفار کو ان کے جرم کی نوعیت کے مطابق درجہ بدرجہ سزا دے گا عدل و انصاف میں انسان انتہائی کوشش بھی کرے تو زیادہ سے زیادہ یہ کرسکتا ہے کہ جس آدمی نے جو جرم کیا ہے اور اس سے جو نقصان پہنچا ہے اسے سامنے رکھ کر سزا تجویز کرے کہ ایک سزا چوری کی ہو اور ایک ڈاکے کی ‘ ایک قتل کی ہو اور ایک مارپیٹ کی ‘ ایک عزت لوٹنے کی ہو اور ایک مال لوٹنے کی ‘ ایک کسی ایک انسان کی جان لینے کی ہو اور ایک کسی بستی اجاڑ دینے کی۔ یہ الگ الگ سزائیں مقرر کرنا یقینا عدل و انصاف کا تقاضہ ہے اور انسان اس پر قدرت بھی رکھتا ہے۔ لیکن اگر انسانوں کا ایک گروہ مل کر کہیں ڈاکہ ڈالتا ہے اس میں عزتیں بھی لٹتی ہیں اور کچھ لوگ مارے بھی جاتے ہیں اگر ڈاکوئوں کا یہ گینگ پکڑا جاتا ہے تو سب کو ایک ہی سزا ملتی ہے یہ متعین کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے کہ صرف مال کس نے لوٹا ہے ‘ عزت کس نے پامال کی اور قتل کس نے کیا اور پھر اس بات کا تعین کہ ان جرائم میں تمام شریک لوگ جرم کے احساس اور شدت میں سب برابر تھے یا ان میں فرق تھا اس کا جاننا تو انسانوں کے لیے ہرگز ممکن نہیں۔ اسی طرح جو آدمی اللہ کے ساتھ شریک کرتا ہے ‘ اس کے دین کی توہین کرتا ہے ‘ اس کے پیغمبر کی بےادبی کرتا ہے ‘ مسلمانوں کی تحقیر کرتا ہے ‘ اس کے احساسات کو جاننا اور اس طرح کے تمام جرائم کرنے والوں کو الگ الگ حیثیتوں میں تقسیم کرنا یہ کسی بھی انسان کے بس کی بات نہیں کیونکہ اس کے لیے صرف ظاہری نگاہ کافی نہیں بلکہ ایسی نگاہ کی ضرورت ہے جو دلوں کے احساسات کا جائزہ لے سکے ‘ جو جرم کے پس منظر میں جھانک سکے ‘ جو ہر گناہ کی شدت کو ترازو میں تول سکے۔ لیکن پروردگار کے عدل و انصاف پر قربان جایئے اس آیت کریمہ میں بتایا جا رہا ہے کہ قیامت کے دن جب ہم ان کافروں اور مشرکوں کو سزا دیں گے تو سب کی سزا یکساں نہیں ہوگی۔ جس طرح کافر اور منافق کی سزا میں فرق ہوگا اسی طرح ایک عام کافر اور ایک معاند کافر میں بھی فرق ہوگا۔ ایسے لوگ بھی ہوں گے جنھوں نے صرف اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرایا ہوگا یا اسکا انکار کیا ہوگا لیکن وہ لوگ بھی ہوں گے جنھوں نے اللہ کے دین کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی ہوں گی اللہ کے پیغمبر اور مسلمانوں کو ستایا ہوگا پھر اس بہیمیت اور درندگی میں بھی احساس اور شدت کے مدارج ہوں گے ان تمام کا لحاظ رکھتے ہوئے سب کو یکساں عذاب نہیں دیا جائے گا بلکہ ہر طرح کے کافروں کی الگ الگ کیٹیگریز ہوں گی اور ان کے مطابق نہیں جہنم کی مختلف وادیوں میں بھیجا جائے گا اور اس لیے شاید جہنم کو ایک وادی نہیں رکھا گیا بلکہ اس کو مختلف وادیوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ہر وادی عذاب دہی کی شدت میں دوسری وادی سے مختلف ہے۔ حضور فرماتے ہیں کہ جہنم کی بعض وادیاں ایسی ہیں کہ باقی جہنم اس سے پناہ مانگتا ہے۔ ہم مشرکینِ مکہ کا جب تفصیلی مطالعہ کرتے ہیں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ ابوجہل تو ایک ہی تھا دوسرا کوئی لعین اس کا ہم پلہ نہ تھا اگرچہ مکہ اس وقت مخالفین سے بھرا ہوا تھا لیکن مخالفت میں سب یکساں نہ تھا۔ بعض ایسے لوگ بھی جو بعد میں مسلمان ہوئے ‘ کفر کی حالت میں بھی مسلمانوں سے ہمدردری رکھتے تھے۔ شعب ابی طالب میں بعض کفار درپردہ کچھ نہ کچھ اشیائِ خوردو نوش بھیجتے رہتے تھے۔ اسی سے اندازہ ہوتا ہے کہ تمام مجرموں کا جرم ایک سطح کا نہیں ہوتا لیکن انسانی قانون ہمیشہ ان سے ایک طرح کا سلوک کرتا ہے لیکن اللہ فرماتا ہے کہ ہم نے ہر ایک کے لیے درجات رکھے ہیں یعنی ہر جرم کا ارتکاب کرنے والوں میں درجے ہیں اور اس کا دارومدار ان کے اعمال کی نوعیت اور حیثیت پر ہے۔ لیکن ان باتوں کا تعین چونکہ انسانی عقل اور انسانی علم سے ماورا ہے۔ اس لیے فرمایا کہ تمہارا رب چونکہ ہر ایک کے عمل سے اور اس کے تہہ منظر سے بھی واقف ہے اس لیے اس کے لیے کوئی دشواری نہیں کہ وہ ان کے اعمال سے اعتبار سے ان میں درجہ بندی کرے اور پھر اس کے مطابق انھیں سزا دے۔ خود آنحضرت ﷺ نے اللہ کے دیئے ہوئے علم کے مطابق فتح مکہ کے موقعہ پر بعض لوگوں کو قتل کرنے کا حکم دیا حالانکہ ان میں سے کوئی ایسا نہ تھا جو اپنے جرائم کے اعتبار سے قتل کا مستحق نہ ہو لیکن ان میں سے چند ایک کا انتخاب یقینا اس وجہ سے تھا کہ ان کے کفر اور دشمنی کی شدت دوسروں سے کہیں بڑھ کر تھی اور انصاف کا یہی تقاضہ تھا کہ ان کے ساتھ یہی سلوک ہوتا۔ اسی سے اشارۃً یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح عذاب میں درجہ بندی ہوگی اس طرح عطا و بخشش میں بھی درجہ بندی ہوگی۔ اللہ کی بندگی اور اس کی اطاعت انسانی بخشش و نجات کا ذریعہ ہے اور یہی دولت انسان کو جنت میں لے جائے گی۔ لیکن جنت بھی ایک درجے کا نام نہیں وہاں اللہ کی بندگی اور اطاعت کرنے والے ‘ اطاعت و بندگی میں اپنے مدارج کے اعتبار سے جنت میں مختلف درجات میں رکھے جائیں گے۔ شہداء جنت کے اس درجے میں ہوں گے جو ان کے لیے مخصوص ہوگا لیکن درجات کا تفاوت ان میں بھی ہوگا کیونکہ شہادت میں جان تو سارے دیتے ہیں لیکن احساسات میں یقینا فرق ہوتا ہے اور اس کا جاننے والا صرف پروردگار ہے۔ وہی جانتا ہے اور وہی اپنے علم کے مطابق درجہ بندی کرے گا۔ یہی حال باقی نیکیوں کا بھی ہے اس میں اللہ تعالیٰ کا علم اپنے انصاف کے مطابق عطا و بخشش کے فیصلے کرے گا اور لوگ اس سے بہرہ ور ہوں گے۔ انسانی سرشت عجیب واقع ہوئی ہے یہ بعض دفعہ خیر سے شر کا مفہوم نکالتی اور بعض دفعہ شر سے خیر کا پہلو اخذ کرتی ہے۔ دناءت پسند طبیعتیں بالعموم احسانات سے متاثر ہونے کی بجائے اور زیادہ اکڑتی اور بگاڑ کا شکار ہوتی ہیں۔ بجائے اپنے محسن کے سامنے جھکنے اور اس کے احسانات کا شکریہ ادا کرنے کے اسی کے خلاف معاندانہ رویہ اپنا لیتی ہیں کفر اور شرک تمام برائیوں کی جڑ ہے جس طبیعت میں یہ دونوں چیزیں جگہ بنا لیتی ہیں وہاں کسی بھی اچھائی اور خوبی کا باقی رہنا مشکل ہوجاتا ہے۔ مشرکینِ مکہ اور دیگر کفار کا یہی حال تھا کہ وہ بجائے اس کے کہ اللہ کے آخری نبی کی کاوشوں اور تبلیغ دین کی محنتوں کو اللہ کا احسان جان کر اس کا شکریہ ادا کرتے اور آگے بڑھ کر اسلام کی آغوش میں آجاتے۔ انھوں نے اسے بھی اپنی خست طبع کے باعث غلط معنوں میں لیا اور بجائے اس سے فائدہ اٹھانے کے اسے تمسخر کا نشانہ بنایا اور اپنے عمل سے یہ ثابت کیا کہ گویا اللہ تعالیٰ ان کی ہدایت قبول کرنے کے محتاج ہیں کہ اگر یہ لوگ ہدایت قبول نہیں کریں گے تو خدا کی خدائی میں شاید کوئی کمی آجائے گی اور پیغمبر کی پیغمبری شاید ان کے بغیر چل نہ سکے گی۔ چناچہ ان کی اس غلط سوچ اور خست طبع کو نمایاں کرنے اور حقیقت حال کو واضح کرنے کے لیے اگلی آیت کریمہ میں نہایت قیمتی باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں جس سے صرف انہی کو راہنمائی دینا مقصود نہیں بلکہ قیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے ایک مشعل جلانا ہے جس سے وہ ہمیشہ ہدایت و ضلالت کے امور میں آسانی سے فیصلہ کرنے کے قابل ہو سکیں۔