6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsروح القرآن

Ayahs 6:76–81

فَلَمَّا جَنَّ عَلَیْهِ الَّیْلُ رَاٰ كَوْكَبًا١ۚ قَالَ هٰذَا رَبِّیْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَاۤ اُحِبُّ الْاٰفِلِیْنَ Open ayah 6:76 in the Quran reader

پس یوں ہوا کہ جب رات نے اس کو ڈھانپ لیا ‘ اس نے ایک تارے کو دیکھا ‘ بولا کہ یہ میرا رب ہے۔ پھر جب وہ ڈوب گیا ‘ اس نے کہا ! میں ڈوب جانے والوں کو دوست نہیں رکھتا

فَلَمَّا رَاَ الْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ هٰذَا رَبِّیْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَئِنْ لَّمْ یَهْدِنِیْ رَبِّیْ لَاَكُوْنَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّآلِّیْنَ Open ayah 6:77 in the Quran reader

پھر جب اس نے چاند کو چمکتے دیکھا ‘ بولا ! یہ میرا رب ہے۔ پھر جب وہ بھی ڈوب گیا ‘ اس نے کہا ! اگر میرے رب نے میری رہنمائی نہ فرمائی تو میں گمراہوں میں سے ہو کر رہ جائوں گا

فَلَمَّا رَاَ الشَّمْسَ بَازِغَةً قَالَ هٰذَا رَبِّیْ هٰذَاۤ اَكْبَرُ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَتْ قَالَ یٰقَوْمِ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَ Open ayah 6:78 in the Quran reader

پھر جب اس نے سورج کو چمکتے دیکھا ‘ بولا ! یہ میرا رب ہے ‘ یہ سب سے بڑا ہے۔ پھر جب وہ بھی ڈوب گیا تو اس نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو ! میں ان چیزوں سے بری ہوں ‘ جن کو تم شریک ٹھہراتے ہو

اِنِّیْ وَجَّهْتُ وَجْهِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۚ Open ayah 6:79 in the Quran reader

میں نے تو اپنا رخ بالکل یکسو ہو کر اس کی طرف کیا ‘ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور میں تو مشرکوں میں سے نہیں ہوں

وَ حَآجَّهٗ قَوْمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوْٓنِّیْ فِی اللّٰهِ وَ قَدْ هَدٰىنِ١ؕ وَ لَاۤ اَخَافُ مَا تُشْرِكُوْنَ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ رَبِّیْ شَیْئًا١ؕ وَسِعَ رَبِّیْ كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا١ؕ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 6:80 in the Quran reader

اور اس کی قوم ‘ اس سے جھگڑنے لگی۔ اس نے جواب دیا : کیا تم اللہ کے بارے میں مجھ سے جھگڑتے ہو ؟ درآنحالیکہ اس نے میری رہنمائی فرمائی اور میں ان سے نہیں ڈرتا ‘ جن کو تم اس کا شریک ٹھہراتے ہو۔ مگر یہ کہ کوئی بات میرا رب ہی چاہے۔ میرے رب کا علم ہر چیز کو محیط ہے۔ تو کیا تم لوگ دھیان نہیں کرتے ؟

وَ كَیْفَ اَخَافُ مَاۤ اَشْرَكْتُمْ وَ لَا تَخَافُوْنَ اَنَّكُمْ اَشْرَكْتُمْ بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ عَلَیْكُمْ سُلْطٰنًا١ؕ فَاَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ اَحَقُّ بِالْاَمْنِ١ۚ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَۘ Open ayah 6:81 in the Quran reader

اور میں ان چیزوں سے کیسے ڈروں ‘ جن کو تم شریک ٹھہراتے ہو اور تمہارا حال یہ ہے کہ تم اس بات سے نہیں ڈرتے کہ تم نے ایسی چیزوں کو خدا کا شریک بنا رکھا ہے ‘ جن کے باب میں اس نے تم پر کوئی دلیل نہیں اتاری۔ تو ہم دونوں گروہوں میں سے امن و اطمینان کا زیادہ سزاوار کون ہے اگر تم جانتے ہو ؟

فَلَمَّا جَنَّ عَلَیْہِ الَّیْلُ رَاٰکَوْکَبًا ج قَالَ ھٰذَا رَبِّیْ ج فَلَمَّآ اَفَلَ قَالَ لَآ اُحِبُّ الْاٰفِلِیْنَ ۔ فَلَمَّا رَاَ الْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ ھٰذَا رَبِّیْ ج فَلَمَّآ اَفَلَ قَالَ لَئِنْ لَّمْ یَھْدِنِیْ رَبِّیْ لَاَکُوْنَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّآلِّیْنَ ۔ فَلَمَّا رَاَ الشَّمْسَ بَازِغَۃً قَالَ ھٰذَا رَبِّیْ ھٰذَآ اَکْبَرُ ج فَلَمَّآ اَفَلَتْ قَالَ یٰقَوْمِ اِنِّیْ بَرِیْٓئٌمِّمَّا تُشْرِکُوْنَ ۔ (الانعام : 76۔ 77۔ 78) (پس یوں ہوا کہ جب رات نے اس کو ڈھانپ لیا ‘ اس نے ایک تارے کو دیکھا ‘ بولا کہ یہ میرا رب ہے۔ پھر جب وہ ڈوب گیا ‘ اس نے کہا ! میں ڈوب جانے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔ پھر جب اس نے چاند کو چمکتے دیکھا ‘ بولا ! یہ میرا رب ہے۔ پھر جب وہ بھی ڈوب گیا ‘ اس نے کہا ! اگر میرے رب نے میری رہنمائی نہ فرمائی تو میں گمراہوں میں سے ہو کر رہ جاؤں گا۔ پھر جب اس نے سورج کو چمکتے دیکھا ‘ بولا ! یہ میرا رب ہے ‘ یہ سب سے بڑا ہے۔ پھر جب وہ بھی ڈوب گیا تو اس نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو ! میں ان چیزوں سے بری ہوں ‘ جن کو تم شریک ٹھہراتے ہو) ان آیات کریمہ میں ستارے ‘ چاند اور سورج کو مدار بحث اور مدار دلیل بنایا گیا ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم ‘ یوں تو بیشمار بتوں کو پوجا کرتی تھی۔ لیکن ان کے شرکاء میں سب سے زیادہ جن کی پوجا ہوتی اور جن کی طاقت کو اپنی زندگی میں موثر مانا جاتا تھا وہ ستارے چاند اور سورج تھے یا یوں کہہ لیجئے کہ مظاہر فطرت کو ان کی زندگیوں میں دیوتائوں کی حیثیت حاصل تھی اور بادشاہ کو بھی انہی میں سے کسی دیوتا کا اوتار مان کر اس کی پوجا کی جاتی تھی۔ اس لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے سب سے پہلے عام دعوت میں انہی کو اپنے سامنے رکھا اور موضوع بحث بنایا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ رات کے کسی موقع پر لوگ کسی جشن یا تقریب میں جمع ہوں گے اور زہرا ان کے سروں پر چمک رہا ہوگا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ادھر جا نکلے۔ آپ چونکہ ایک بڑے باپ کے بیٹے بھی تھے اور اپنے باغیانہ خیالات کی وجہ سے شہرت بھی پاچکے تھے ‘ اس لیے لوگوں نے انھیں گھیر لیا تو آپ نے اس موقع کو غنیمت جان کر ایک خاص انداز میں ان کے سامنے اپنی دعوت پیش فرمائی اور ان کے تمام مذہبی خیالات کا دارومدار جن مظاہر فطرت کی پرستش پر تھا ‘ ان کا بطلان بھی کیا۔ وہ چونکہ ستاروں میں سے زہرا کی پوجا کرتے تھے اور اس وقت اتفاق سے سر پر زہرا چمک رہا تھا ‘ اسی کی طرف متوجہ ہو کر ان کو سناتے ہوئے خود کلامی کے انداز میں آپ نے فرمایا : ھٰذَا رَبِّیْ ” یہ ہے میرا رب “ یعنی تمہارے خیال کے مطابق ‘ یہی میرا رب ہوسکتا ہے۔ کیونکہ اس وقت تمام ستاروں میں اسی کی چمک اور اسی کی درخشندگی سب سے نمایاں ہے۔ لوگوں نے ان کی زبان سے یہ بات سن کر ایک اطمینان اور خوشی محسوس کی کہ یہ نوجوان تو اللہ کے سوا کسی اور کو مانتا ہی نہیں۔ اب اگر اس نے زہرا کو اپنا رب کہا ہے تو اس سے بڑھ کر اطمینان بخش بات اور کیا ہوسکتی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ آپ زہرا کو پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے رہے اور ہوسکتا ہے اس کی چمک دمک کی تعریف بھی کی ہو ‘ تاکہ سننے والوں میں یہ بات اچھی طرح راسخ ہوجائے کہ زہرا کی ربوبیت کی اگر کوئی وجہ ہوسکتی ہے تو اس بلند آسمان پر اس کا وجود اور اس کی درخشندگی ہے۔ اس کی یہ نور افشانی اور اس کی یہ رعنائی اور دلکشی ‘ یقینا بےسبب تو نہیں ہوسکتی۔ جس میں یہ چمک دمک اور عظمت ہو اسے ضرور رب ہی ہونا چاہیے۔ زہرا چونکہ باقی ستاروں میں جلدی ماند پڑجانے والا ستارہ ہے۔ چناچہ جب کچھ دیر کے بعد وہ روشنی کھونے لگا ‘ حتٰی کہ وہ ڈوب گیا تو آپ نے خود کلامی کے انداز میں لیکن انھیں سناتے ہوئے فرمایا کہ میری پسندیدگی کی وجہ یا اس کو رب کہنے کا سبب ‘ اس کا طلوع ہونا اور اس کا بلندیوں پر چمکنا تھا۔ لیکن اگر یہ بھی بےنور ہوجاتا اور ڈوب جاتا ہے تو ایسی بےثبات چیزوں سے میں دل نہیں لگا سکتا۔ ڈوب جانے والی چیزیں تو مجھے یوں بھی پسند نہیں ‘ چہ جائیکہ میں انھیں اپنا رب بنا لوں۔ غور فرمایئے کہ اس میں دعوت کا انداز بالکل نہیں سننے والوں سے بالکل خطاب نہیں کیا جا رہا۔ البتہ ایک خاص طریقے سے ایک بات ضرور کہہ دی گئی ہے ‘ جس سے سننے والے دل و دماغ اثر قبول کیے بغیر نہیں رہ سکتے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس پہلے موقع سے اتنا ہی فائدہ اٹھانا مقصود تھا۔ تاکہ اس قوم کو بھڑکنے کا موقع نہ ملے۔ لیکن سننے والے ضرور سوچنے پر مجبور ہوجائیں۔ پھر رات کے کسی ایک ایسے ہی موقع پر چاند پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ ستارہ تو صرف دمکتا ہے ‘ ٹمٹماتا ہے ‘ زہرا کی درخشندگی نسبتاً نمایاں ہوتی ہے۔ لیکن چاند تو اپنی خوبی، رعنائی اور اپنی چمک دمک میں ستاروں سے کہیں زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔ اس لیے اس کی موجودگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پھر اپنے مخصوص انداز میں خود کلامی کرتے ہوئے فرمایا کہ ” یہ ہوگا میرا رب “ یعنی جیسے تم اس کو رب سمجھتے ہو بلکہ تم تو اوروں کو بھی سمجھتے ہو ‘ لیکن یہ ان میں چونکہ نمایاں ہے۔ اس لیے ممکن ہے ‘ یہ میرا رب ہو۔ لیکن صاف نظر آتا ہے کہ یہ چاند کے رب ہونے کا اعتراف نہیں بلکہ ان کے عقیدے کو ان کے سامنے بیان کر کے ان کی کمزوری کو واشگاف کرنا مقصود ہے۔ انداز وہ اختیار کیا گیا ہے ‘ جس سے وہ لوگ مشتعل ہونے کی بجائے یہ سمجھ کے قریب آئیں کہ شاید انہی کی بات کو مانا جا رہا ہو۔ لیکن جب چاند بھی اپنے وقت پر ڈوب گیا تو اب آپ نے ایک قدم آگے بڑھایا۔ لیکن خطاب ان سے پھر بھی نہیں فرمایا۔ صرف اپنے آپ کو مخاطب کرکے کہا کہ میں تو اس کی چمک دمک کا اسیر ہوگیا تھا اور اس کے حسن نے مجھے اپنی گرفت میں لے لیا تھا۔ لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اس کا یہ سارا حسن اور اس کی یہ روشنی بھی فریب نظر یا خدمت کی انجام دہی کے سوا اور کچھ نہیں۔ یہ چمکتا ہے تو خود نہیں ‘ بلکہ اسے کوئی اور چمک دیتا ہے۔ لیکن یہ ڈوب جانے کے لیے اسی طرح مجبور ہے ‘ جس طرح ستارے ڈوب جاتے ہیں۔ ڈوب جانے والوں کو اگر رب مان لیا جائے تو اس سے بڑی گمراہی اور کیا ہوگی۔ لیکن اس کے حسن کی تاثیر نے ایک دنیا کو مبہوت کر رکھا ہے۔ وہ صرف اس کا حسن اور رعنائی دیکھتی ہے۔ وہ اس کے اختتام اور اس کے ڈوب جانے کو نہیں دیکھتی اور یہ مرحلہ اتنا گراں ہے کہ اس میں میرے رب نے اگر میری رہنمائی نہ کی تو میں بھی شاید راہ راست پر نہ رہ سکوں۔ پہلی آیت میں ستارے کے ڈوبنے پر صرف اتنا ہی فرمایا تھا کہ میں ڈوبنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ لیکن اس آیت میں سوچنے والوں کو قدم آگے بڑھانے کا اشارہ دیا ہے کہ ڈوبنے والوں کو پسند کرنا تو صرف غلطی ہوگی۔ لیکن ان کو رب بنا لینا ‘ یہ تو ضلالت اور گمراہی ہے اور کسی ضلالت کا ارتکاب کرنا ‘ یہ ایسی بات نہیں کہ جسے آرام سے قبول کرلیا جائے۔ یہ تو نہایت تأسف کی بات ہے۔ اس لیے میں خود بھی اسے اختیار نہیں کرسکتا اور اگر کوئی اور اختیار کرتا ہے تو اس پر دکھ کا اظہار کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ تیسری آیت کریمہ میں سورج کا ذکر فرمایا گیا۔ پہلے دونوں واقعے تو رات کے ہیں ‘ لیکن معلوم ہوتا ہے کہ کسی روز دن کے وقت تبلیغ و دعوت کا کوئی موقع ہاتھ آیا تو آپ نے اس سے بھی فائدہ اٹھایا۔ اب معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا لب و لہجہ پہلے سے کچھ بدلا ہوا ہے اور تیکھا ہوگیا ہے۔ کیونکہ آپ نے سورج کو دیکھ کے فرمایا ‘ جو پوری آب و تاب سے آسمان پر چمک رہا تھا کہ ” یہ ہوگا میرا رب “ اور ساتھ ہی طنز کیا کہ یہ سب سے بڑا جو ہے۔ کیونکہ آپ جانتے تھے کہ اس قوم کو جس چیز نے دھوکہ دے رکھا ہے ‘ وہ ان ستاروں کا آسمان کی بلندیوں پر ہونا ‘ پھر ان کا آب و تاب سے چمکنا۔ یہ ان کی عظمت کے دلائل ہیں اور جہاں بھی عظمت پائی جاتی ہو ‘ وہاں ربوبیت بھی پائی جانی چاہیے۔ اس لیے انھوں نے ان کو اپنا رب بنا رکھا تھا۔ آپ نے انھیں طنز کرتے ہوئے فرمایا کہ دیکھو ! یہ سورج سب سے زیادہ چمکدار بھی ہے اور سب سے بڑا بھی لیکن میں تمہیں اس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ یہ اپنی چمک دمک اور بڑائی کے باوجود کیا اپنی حالت کو قائم رکھ سکتا ہے ؟ ظاہر ہے ‘ وہ بھی اپنی حالت کو کیسے قائم رکھ سکتا ہے۔ اپنے وقت پر وہ بھی ڈوب گیا۔ اس طرح گویا آسمان پر ان کے سارے معبود جب ایک ایک کر کے زوال کا شکار ہوگئے اور ان کی عظمتیں فنا ہوگئیں تو تب آپ ان سے مخاطب ہو کر فرمانے لگے ‘ اے قوم ! میں ان چیزوں سے بری ہوں جن کو تم اللہ کے شریک ٹھہراتے ہو۔ اس طرح آپ نے پہلی دونوں آیتوں میں اپنی فطرتِ سلیم کا آئینہ ان کے سامنے رکھا ‘ تاکہ وہ لوگ اس آئینہ میں اپنے منہ دیکھ لیں اور ساتھ ساتھ دلائل سے ان کو قائل بھی کرتے گئے اور جب یہ دلائل مکمل ہوگئے اور بات اپنے انجام کو پہنچ گئی تو آپ نے صاف طور پر انھیں دعوت دیتے ہوئے ان کی گمراہی پر توجہ دلائی اور پھر وہ کلمہ حق جس سے پوری طرح راہ راست کھل کر سامنے آجائے ‘ اس کا واشگاف انداز میں اعلان فرمایا : اِنِّیْ وَجَّھْتُ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ۔ (الانعام : 79) (میں نے تو اپنا رخ بالکل یکسو ہو کر اس کی طرف کیا ‘ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور میں تو مشرکوں میں سے نہیں ہوں ) یہ ملت ابراہیم اور اسلام کا وہ کلمہ جامعہ ہے ‘ جس سے اسلام کے اساسی عقیدے ‘ یعنی عقیدہ توحید کا اظہار ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم جب نماز کی نیت باندھتے ہیں اور نماز چونکہ سب سے زیادہ بندے کی عبدیت اور اللہ کی الوہیت کو دل و دماغ میں راسخ کرتی ہے ‘ تو ہم اسی آیت سے نماز کا آغاز کرتے ہیں۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے سامنے اپنی دعوت پیش کرتے ہوئے اسی کلمہ اسلام کو پیش فرمایا ‘ جس میں آپ کی پوری دعوت بھی سمٹ آئی ہے اور اپنے بارے میں بھی پوری طرح بات کو کھول دیا گیا ہے اور اس دلیل کی طرف بھی اشارہ کردیا گیا ہے ‘ جس سے ان کا پوری طرح بطلان ہوجاتا ہے۔ یعنی سب سے پہلے یہ بات فرمائی کہ تم نے اپنی پوری زندگی تقسیم کر رکھی ہے۔ تم اللہ کو مانتے بھی ہو ‘ لیکن زندگی کے تمام فیصلے اور زندگی کے تمام رویوں میں اس کے احکام ماننے کی بجائے غیر اللہ کی اطاعت کرتے ہو اور جابجا ان کی پرستش بھی کرتے ہو۔ اس لیے میری دعوت کا نقطہ آغاز یہ ہے کہ میں نے اپنی ذات کو اللہ کے سپرد کردیا ہے۔ کیونکہ یہاں ” وَجَّھْتُ “ اَسْلَمْتُ کے معنی میں ہے۔ میری زندگی کا کوئی لمحہ ‘ اس کی بندگی سے آزاد نہیں۔ جس طرح میری عبادت اس کے لیے ہے ‘ اسی طرح میری اطاعت بھی اسی کے لیے ہے۔ جس طرح میں عبادت گاہ میں اس کے سامنے جھکتا ہوں ‘ اسی طرح اجتماعی زندگی میں بھی میرا وہی آستانہ ہے۔ جس سے میں راہنمائی طلب کرتا ہوں۔ پھر اس پر دلیل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ تم آسمانوں کی بلندیوں پر چمکنے والے ستاروں کی چمک دمک کے اسیر ہو کر ان کی پوجا کرتے ہو اور زمین پر تخت و تاج کے مالک بندوں کے سامنے سر جھکاتے ہو اور نجانے کتنی زمینی قوتیں ہیں ‘ جن کو تم اپنے معبود سمجھتے ہو۔ حالانکہ زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا تو صرف اللہ ہے۔ تم جن قوتوں کو اپنا معبود سمجھتے ہو ‘ وہ تمہاری طرح اللہ کی بےبس مخلوق ہیں۔ اس لیے اس کی موجودگی میں ‘ یعنی خالق کے ہوتے ہوئے ‘ مخلوق کو رب کیسے مانا جاسکتا ہے ؟ ایک دوسری جگہ بھی قرآن کریم نے اسی دلیل کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : لَا تَسْجُدُوْا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوْ لِلّٰہِ الَّذِیْ خَلَقَھُنَّ (حم السجدہ : 37) (سورج اور چاند کو سجدہ نہ کرو ‘ اس اللہ کو سجدہ کرو ‘ جس نے ان کو پیدا کیا ہے) پھر حنیف کا لفظ کہہ کر توحید کی گرفت کو مزید واضح فرمایا کہ میں نے اس طرح اپنا آپ اللہ کے سپرد کردیا ہے کہ اب میرا کوئی ایسا تعلق غیر اللہ کے ساتھ نہیں ہوسکتا ‘ جو اللہ کے تعلق سے متصادم یا اس کو کمزور کرنے والا ہو۔ کیونکہ جس طرح غیر اللہ کی عبادت کرنا اور ان کی غیر مشروط اطاعت کرنا اور اللہ کی ذات وصفات میں کسی حد تک بھی شریک کرنا شرک ہے ‘ اسی طرح اس کی عبادت و اطاعت میں کسی کو اس طرح شریک کرنا کہ جس سے اللہ کے تعلق کو نقصان پہنچتا ہو اور عبدیت کے مزاج میں شکست و ریخت پیدا ہوتی ہو ‘ وہ بھی سراسر عقیدہ توحید کے خلاف ہے اور شرک کو تقویت دینے کا باعث ہے۔ کہا میں ان میں سے کسی بھی گمراہی کے لیے تیار نہیں کیونکہ میں ایک موحد ہوں ‘ مشرکین میں سے نہیں ہوں۔ یہ سارے شرک کے انداز ہیں اور میں ان سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں۔ اللہ کے نبیوں نے جب بھی بگڑی ہوئی قوم کے سامنے اپنی دعوت توحید پیش کی ہے اور ان کے شرک کی تردید کی ہے تو قوم نے کبھی بھی اسے آسانی سے قبول نہیں کیا۔ بلکہ جہاں تک ان کا بس چلا ‘ انھوں نے دعوت کا راستہ بھی روکا اور دعوت پیش کرنے والے کو اذیتیں بھی پہنچائیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم بھی اس دعوت کے مقابلے میں اٹھ کھڑی ہوئی اور اس کے لیے انھوں نے ہر وہ حربہ اختیار کیا ‘ جو مشرک قومیں اختیار کرتی رہی ہیں۔ اگلی آیات کریمہ میں اسی کا ذکر ہے۔ فرمایا : وَحَآجَّہٗ قَوْمُہٗ ط قَالَ اَتُحَاجُّوْٓنِّیْ فِی اللہِ وَ قَدْ ھَدٰنِ ط وَلَآ اَخَافُ مَاتُشْرِکُوْنَ بِہٖٓ اِلَّآ اَنْ یَّشَآئَ رَبِّیْ شَیْئًا ط وَسِعَ رَبِّی کُلَّ شَیْئٍ عِلْمًا ط اَفَلَا تَتَذَکَّرُوْنَ ۔ وَکَیْفَ اَخَافُ مَآ اَشْرَکْتُمْ وَلَا تَخَافُوْنَ اَنَّکُمْ اَشْرَکْتُمْ بِ اللہ ِ مَالَمْ یُنَزِّلْ بِہٖ عَلَیْکُمْ سُلْطٰنًا ط فَاَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ اَحَقُّ بِالْاَمْنِ ج اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ۔ (الانعام : 70۔ 81) (اور اس کی قوم ‘ اس سے جھگڑنے لگی۔ اس نے جواب دیا : کیا تم اللہ کے بارے میں مجھ سے جھگڑتے ہو ؟ درآنحالیکہ اس نے میری رہنمائی فرمائی اور میں ان سے نہیں ڈرتا ‘ جن کو تم اس کا شریک ٹھہراتے ہو۔ مگر یہ کہ کوئی بات میرا رب ہی چاہے۔ میرے رب کا علم ہر چیز کو محیط ہے۔ تو کیا تم لوگ دھیان نہیں کرتے ؟ اور میں ان چیزوں سے کیسے ڈروں ‘ جن کو تم شریک ٹھہراتے ہو اور تمہارا حال یہ ہے کہ تم اس بات سے نہیں ڈرتے کہ تم نے ایسی چیزوں کو خدا کا شریک بنا رکھا ہے ‘ جن کے باب میں اس نے تم پر کوئی دلیل نہیں اتاری۔ تو ہم دونوں گروہوں میں سے امن و اطمینان کا زیادہ سزاوار کون ہے اگر تم جانتے ہو ؟ ) جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم ایک جھگڑالو قوم تھی ‘ بال کی کھال اتارنا اور بات بات میں الجھنا ‘ یہ ان کا محبوب مشغلہ تھا۔ چناچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تبلیغ و دعوت میں بھی انھوں نے اسی رویے سے کام لیا۔ اللہ کے بارے میں قسم قسم کی باتیں کہنے لگے ‘ جیسے ہر دور کے مشرکین کہتے رہے ہیں۔ اس کے جواب میں ابراہیم (علیہ السلام) فرما رہے ہیں کہ تم اللہ کے بارے میں مجھ سے کس بنیاد پر جھگڑتے ہو ؟ کیونکہ اللہ کی ذات وصفات کے بارے میں کچھ بھی جاننے کا ذریعہ وحی الٰہی کے سوا اور کچھ نہیں۔ یہ کوئی ایسی بات نہیں ‘ جسے وضعی علوم کے واسطے سے جان لیا جائے وحی الٰہی صرف اللہ کے رسولوں پر اترتی ہے۔ انہی کے واسطے سے دنیا کو پتہ چلتا ہے کہ اللہ کی ذات کیسی ہے ‘ اس کی صفات کیا ہیں ‘ وہ وحدہٗ لاشریک ہے ‘ کسی کو اس کے سامنے دم مارنے کی مجال نہیں ‘ کوئی بھی اس کی ذات میں شریک نہیں ‘ وہ کن باتوں میں راضی ہے اور کن باتوں سے ناراض ہوتا ہے۔ یہ سراسر وہ علم ہے ‘ جو رسولوں پر نازل ہوتا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ مجھے اللہ نے نبوت دی ہے مجھ پر وحی اترتی ہے۔ اس لیے اللہ کی راہنمائی کے مطابق اور اس کے دیئے ہوئے علم سے میں تمہاری رہنمائی کرسکتا ہوں۔ لیکن تم اس علم سے بالکل بیخبر ہو تو پھر تم مجھ سے اللہ کے بارے میں کس طرح جھگڑتے ہو کیونکہ راستے کا جاننے والا اور راستے سے بیخبر ‘ دونوں برابر تو نہیں ہوتے۔ اگر منزل پر پہنچنا مقصود ہو تو عقل کی بات یہ ہے کہ جو راستے سے واقف ہو اسی کو راہنما بنایا جانا چاہیے۔ وہ چھوٹا بھی ہو تو محض اس لیے اس کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ وہ چھوٹا ہے بڑے اس کے پیچھے کیسے چلیں۔ دنیا کا قاعدہ ہے کہ کسی راستے پر چلنے والے بھی ‘ چلنے سے پہلے پوچھتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی اس راستے کو جاننے والا ہے ؟ اور اگر ان میں سے کوئی بھی چھوٹا ہونے کے باوجود راستے کو جاننے والا ہو تو اسی سے کہا جاتا ہے کہ تم آگے چلو اور ہمیں راستہ دکھائو۔ جو لوگ اس بنیادی اصول کی خلاف ورزی کرتے ہیں وہ کبھی بھی منزل تک نہیں پہنچ پاتے ‘ ہمیشہ راستے کی بھول بھلیوں میں الجھ کر منزل گم کر بیٹھتے ہیں۔ یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہی فرما رہے ہیں کہ مجھے اللہ نے ہدایت دی ہے۔ میں بتاسکتا ہوں کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے اور توحید کا صحیح تصور کیا ہے۔ تم بےعلمی سے اگر میری بات قبول کرنے سے انکار کرو گے تو اپنا ہی نقصان کرو گے۔ دوسری بات اس آیت کریمہ میں یہ کہی جا رہی ہے کہ ان لوگوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے نام نہاد معبودوں سے ڈرانا شروع کیا کہ ہم نے اللہ کے ساتھ جن کو شریک بنا رکھا ہے تم اگر ان کی تردید کرتے ہو اور ہمیں بھی ان کو معبود ماننے اور اللہ کی صفات میں ان کو شریک جاننے سے روکتے ہو تو یاد رکھو کہ یہ بہت پہنچے ہوئے لوگ ہیں ان میں بڑی قوتیں ہیں یہ تمہیں نقصان پہنچائیں گی تم پر ان کی مار پڑ سکتی ہے تم کسی نہ کسی بڑے حادثے سے دوچار ہوسکتے ہو۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس آیت کریمہ میں یہ فرما رہے ہیں کہ جن چیزوں کو تم نے اللہ کا شریک بنا رکھا ہے میں ان سے نہیں ڈرتا۔ میں جانتا ہوں کہ وہ باقی مخلوقات کی طرح بےبس مخلوق ہیں۔ وہ نفع و نقصان کی مالک نہیں ‘ اللہ کے مقابلے میں ان کے پاس کوئی طاقت نہیں۔ اگر اللہ نہ چاہے تو وہ میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ ہاں ! اگر اللہ کو منظور ہو کہ مجھے کوئی نقصان پہنچے تو پھر کسی کے ذریعے بھی پہنچ سکتا ہے۔ لیکن اگر اللہ میری حفاظت فرمائیں تو دنیا کی ساری مخلوق بھی میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ اس لیے جن سے تم مجھے ڈراتے ہو میں ان سے ہرگز نہیں ڈرتا۔ مزید فرمایا کہ جس طرح اللہ کی قدرت بےپناہ ہے اور اس کے مقابلے میں کسی کو کوئی طاقت حاصل نہیں اسی طرح اس کا علم بھی ہر چیز کو محیط ہے۔ وہ میری کسی ضرورت اور کسی کمزوری سے بیخبر نہیں ‘ وہ میری ہر حالت سے آگاہ ہے۔ اس لیے اگر اسے میری بھلائی منظور ہے تو کوئی مجھے نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ کیونکہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ اس کی بیخبر ی میں مجھے کوئی نقصان پہنچائے۔ نقصان پہنچانے والے بیخبر ہوسکتے ہیں ‘ لیکن اللہ کی ذات کسی چیز سے بیخبر نہیں۔ اس کی قدرت بھی بےپناہ ہے اور اس کا علم بھی بےپایاں۔ جس آدمی کو اللہ کے علم اور قدرت پر بھروسہ ہو اور وہ اپنے آپ کو پوری طرح اس کے سپرد کرچکا ہو اس کو اللہ تعالیٰ دل کا ایسا اطمینان اور ایسی قوت سے مشرف فرماتے ہیں کہ راہ حق میں بڑی سے بڑی رکاوٹ اس کا راستہ نہیں بدل سکتی اور اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے دنیا بھر کی مخالفت بھی اس کو کبھی پریشان نہیں کرسکتی۔ وہ اس راستے میں ہر آنے والی تکلیف کو اللہ کا انعام سمجھتا ہے۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ میں اس کی نگاہوں میں ہوں اور اس کی حفاظت ہر وقت میرے ساتھ ہے۔ مجھے اگر پھر بھی کوئی نقصان پہنچتا ہے تو یہ میرے کسی گناہ کا نتیجہ ہے۔ مجھے اپنے گناہوں کی فکر ہونی چاہیے۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ اللہ کی حفاظت مجھ سے اٹھ جائے۔ چناچہ ہم نے دیکھا ہے کہ اس گئے گزرے دور میں بھی جن کو اس طرح کا یقین میسر آجاتا ہے وہ اللہ کے راستے میں سر تو کٹوا دیتے ہیں ‘ لیکن دشمن اپنی ساری طاقتوں کے باوجود انھیں کلمہ حق کہنے سے روک نہیں سکتا اور نہ انھیں جھکنے پر مجبور کرسکتا ہے۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ صلاح الدین شہید مدیر ” تکبیر “ ایک دفعہ پنجاب یونیورسٹی میں میرے مہمان تھے۔ انھوں نے بتایا کہ افغان مجاہدین نے مجھ سے کہا کہ آپ کی زندگی کو بہت خطرہ ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہم آپ کے تحفظ کے لیے کوئی انتظام کریں۔ صلاح الدین صاحب نے ان سے کہا کہ آپ کا بہت شکریہ ‘ زندگی موت اللہ کے قبضے میں ہے۔ جب تک اس کو منظور ہے ‘ میرا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ پھر ان سے انھوں نے ایک سوال کیا کہ آپ مجھے یہ بتایئے کہ کیا آپ مصر کے صدر انوار السادات جیسا میرا تحفظ کرسکتے ہیں یا ہندوستان کے وزیراعظم اندراگاندھی جیسی سکیورٹی مجھے فراہم کرسکتے ہیں ؟ وہ کہنے لگے کہ یہ تو ہم سے ممکن نہیں۔ صلاح الدین صاحب نے کہا : دیکھ لیجئے ! اس قدر سکیورٹی کے باوجود ‘ وہ دونوں اپنی موت کو نہ روک سکے اور میرا بھی جو موت کا وقت مقرر ہے ‘ مجھے بھی آپ اس سے نہیں بچا سکیں گے۔ اس کے بعد کی آیت کریمہ میں اظہار تعجب کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ کس قدر عجیب بات ہے کہ تم اللہ جیسی عظیم ذات کے ساتھ اس کی مخلوق کو شریک ٹھہرا رہے ہو اور پھر ان کے ساتھ وہ معاملہ کر رہے ہو ‘ جو تمہیں اللہ کے ساتھ کرنا چاہیے۔ ان سے امیدیں باندھتے ہو ان سے خوف کھاتے ہو ‘ ان کے سامنے دست سوال دراز کرتے ہو ان کے سامنے سرجھکاتے ہو ‘ غرضیکہ تم نے انھیں اللہ کی صفات میں شریک کر رکھا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے کوئی دلیل تم پر نازل نہیں کی۔ جس کی بنیاد پر تم نے انھیں اللہ کا شریک ٹھہرا رکھا ہے۔ ذرا غور کرو ! اس سے بڑھ کر اور کیا جرم ہوگا ؟ اگر تم دنیا کے بادشاہوں میں سے کسی بادشاہ کے ساتھ کسی اور کو اس کے اختیار میں شریک قرار دے کر اس کے ساتھ ویسے ہی ادب و احترام اور خوف و رجا کا معاملہ کرنے لگو ‘ جیسے بادشاہوں کے ساتھ کیا جاتا ہے اور بادشاہ کے اختیارات تم اپنے تئیں اسے سونپ دو تو جب بادشاہ کو اس کی خبر ہوگی کہ تم نے اس طرح کی حرکت کی ہے تو اندازہ کرسکتے ہو کہ بادشاہ تمہارے ساتھ کیا سلوک کرے گا۔ حالانکہ بادشاہ بھی باقی انسانوں کی طرح ایک انسان ہے۔ وہ بھی احتیاجات سے پاک نہیں۔ کسی اور کو اس کا ہمسر بنادینا ‘ یہ کوئی غیر معمولی واقعہ بھی نہیں۔ بایں ہمہ اس کی غیرت جوش میں آئے گی تو وہ تمہیں وہ سزا دے گا ‘ جو دوسروں کے لیے عبرت بن جائے۔ لیکن اللہ جیسی عظیم ذات جو خالق کائنات ‘ ہر طرح کی احتیاج سے پاک اور ہر طرح کی ہمسری سے ماورا ہے ‘ تم اس کے ساتھ اس کی مخلوقات میں سے کسی کو شریک کرتے ہو۔ جبکہ اس نے تمہیں اس شرکت کا حق نہیں دیا تو کیا تم اس بات سے نہیں ڈرتے کہ اس پر تمہاری گرفت ہوسکتی ہے اور تمہیں کسی خطرناک انجام سے دوچار ہونا پڑ سکتا ہے ؟ بلکہ تمہاری جسارت کا عالم یہ ہے کہ بجائے اس کے کہ تم اپنے انجام سے ڈرو ‘ تم اپنے نام نہاد شرکاء کے عتاب سے مجھے ڈرا رہے ہو حالانکہ وہ بھی میری طرح ایک مخلوق ہیں ‘ جو احتیاجات میرے ساتھ لگی ہیں ‘ ان سے وہ بھی مبرا نہیں۔ پھر عجیب بات یہ ہے کہ اللہ کے ساتھ تم یہ معاملہ اس صورت میں کر رہے ہو کہ تم اللہ کے وجود کو مانتے بھی ہو ‘ اس کی قدرتوں کے بھی قائل ہو یہ بھی تسلیم کرتے ہو کہ کائنات کا خالق وہی ہے اور زندگی اور موت اسی کے قبضے میں ہے۔ اس ایمان کے اعتبار سے تو میں اور تم دونوں برابر ہیں۔ لیکن میں صرف اس کی ذات اور اس کی چند صفات ہی کو تسلیم نہیں کرتا ‘ بلکہ اس کو ہر طرح وحدہ لاشریک بھی سمجھتا ہوں اور اسی کو اس کائنات کا اور اپنا حقیقی حکمران جانتا ہوں۔ اب تم ہی بتائو کہ اپنے انجام سے ڈرنا مجھے چاہیے یا تمہیں ؟ ہم دو گروہ ٹھہرے ‘ تم ہی فیصلہ کرو ‘ ہم دونوں میں سے کون سا گروہ ہے جو اللہ کے عتاب اور غضب سے اور اس کے عذاب سے امن میں ہے ‘ میں یا تم ؟ کیا تم اتنی واضح باتوں کے بعد بھی ہوش میں نہیں آئو گے اور اپنی گمراہیوں پر اور اپنے انجام پر غور نہیں کرو گے جبکہ اس کی ذات وصفات کا معاملہ اس قدر نازک ہے اور وہ اس معاملے میں اس قدر غیرت مند ہے کہ اس میں معمولی کمی بیشی بھی انسان کو خوفناک انجام سے دوچار کرسکتی ہے۔ اس حوالے سے ارشاد فرمایا :
Ayah 6:82

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یَلْبِسُوْۤا اِیْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ۠ Open ayah 6:82 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کو شرک سے آلودہ نہیں کیا ‘ وہی لوگ ہیں ‘ جن کیلئے امن اور چین ہے اور وہی راہ یاب ہیں

آیت : 82 اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یَلْبِسُوْٓا اِیْمَانَھُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓئِکَ لَھُمُ الْاَمْنُ وَھُمْ مُّھْتَدُوْنَ ۔ (جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے اپنے ایمان کو شرک سے آلودہ نہیں کیا ‘ وہی لوگ ہیں ‘ جن کے لیے امن اور چین ہے اور وہی راہ یاب ہیں) توحید کے باب میں یہ آخری بات ہے ‘ جس سے عقیدہ توحید کی نزاکت کا احساس ہوتا ہے کہ خدا کو مان لینا اور اس کی کسی حد تک عبادت بھی کرلینا ‘ اس کا اعتبار اس وقت تک نہیں ہوسکتا اور اللہ کے یہاں اس کی کوئی قدر و قیمت اس وقت تک نہیں ہوسکتی تاوقتیکہ آدمی ہر طرح کے ظلم سے اپنے آپ کو محفوظ نہ رکھے۔ ظلم سے مراد یہاں ہر طرح کی کوتاہی نہیں اور نہ حدود سے تجاوز ہے ‘ بلکہ اس سے مراد شرک ہے کیونکہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو صحابہ کرام ظلم سے مراد حقوق و فرائض سے کوتاہی سمجھے اور اس وجہ سے بہت پریشان ہوئے کہ کون ایسا آدمی ہوگا ‘ جو زندگی میں کبھی نہ کبھی حد سے تجاوز یا کوتاہی کا ارتکاب نہیں کرتا ؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ معمولی کو تاہیاں بھی قیامت کے دن ہمیں امن سے محروم رکھیں گی اور ہم وہاں فلاح و کامیابی حاصل نہیں کر پائیں گے۔ چناچہ بعض صحابہ اسی پریشانی کے باعث آنحضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی پریشانی اور خوف کا اظہار کیا آنحضرت نے فرمایا کہ اس سے مراد وہ نہیں ‘ جو تم سمجھ رہے ہو۔ بلکہ اس سے مراد شرک ہے۔ جیسے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا گیا ہے : اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌعَظِیْم (بےشک شرک بہت بڑا ظلم ہے) اس لیے اگر کوئی آدمی قیامت کے دن ‘ عذاب سے بچنا چاہتا ہے اور اس کی یہ آرزو ہے کہ میں اللہ کے عتاب سے امن میں رہوں تو اسے توحید کے معاملے میں نہایت محتاط رہنا چاہیے اور اللہ کی ذات وصفات میں کبھی شرک کی پرچھائیں بھی گوارا نہیں کرنی چاہیے۔ لیکن اگر رویہ یہ ہوجائے جیسے ہمارا ہے کہ ہم اس معاملے میں حد درجہ غافل ثابت ہوئے ہیں۔ ہمارے یہاں اس حوالے سے بڑی بڑی باتیں نہ صرف برداشت کرلی جاتی ہیں بلکہ ان پر تنقید کرنا رواداری کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے دینی اعتقادات میں جابجا ایسی دراڑیں پڑی ہیں ‘ جس سے عقیدہ توحید بھی معرض خطر میں ہے۔ مولانا الطاف حسین حالی نے اس صورت حال کی طرف گہرے طنز کے انداز میں توجہ دلائی تھی۔ اے کاش ! اس سے ہم اپنے رویے پر غور کرنے کے لیے تیار ہوجائیں۔ انھوں نے کہا تھا کرے غیر گر بت کی پوجا تو کافر جو ٹھہرائے بیٹا خدا کا تو کافر جھکے آگ پر بہر سجدہ تو کافر جو کو کب میں مانے کرشمہ تو کافر مگر مومنوں پر کشادہ ہیں راہیں پرستش کریں شوق سے جس کی چاہیں نبی کو جو چاہیں خدا کر دکھائیں اماموں کا رتبہ نبی سے بڑھائیں شہیدوں سے جا جا کے مانگیں دعائیں مزاروں پہ دن رات نذریں چڑھائیں نہ توحید میں کچھ خلل اس سے آئے نہ اسلام بگڑے نہ ایمان جائے
Ayah 6:83

وَ تِلْكَ حُجَّتُنَاۤ اٰتَیْنٰهَاۤ اِبْرٰهِیْمَ عَلٰى قَوْمِهٖ١ؕ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ Open ayah 6:83 in the Quran reader

یہ ہے ہماری وہ حجت جو ہم نے ابراہیم کو اس کی قوم پر قائم کرنے کے لیے بخشی ہم جس کو چاہتے ہیں درجے پر درجے بلند کرتے ہیں بیشک تیرا رب حکیم اور علیم ہے

اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ذریعے ان کی قوم پر حجت قائم کر دی وَ تِلْکَ حُجَّتُنَآ اٰتَیْنٰھَا اِبْرٰھِیْمَ عَلٰی قَوْمِہٖ ط نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآئُ ط اِنَّ رَبَّکَ حَکِیْمٌ عَلِیْمٌ۔ (الانعام : 73) (یہ ہے ہماری وہ حجت جو ہم نے ابراہیم کو اس کی قوم پر قائم کرنے کے لیے بخشی ہم جس کو چاہتے ہیں درجے پر درجے بلند کرتے ہیں بیشک تیرا رب حکیم اور علیم ہے ) یہ بات ہم ایک سے زیادہ مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ مکی سورتوں کا موضوع عقائد کی اصلاح ہے اور عقائد میں بھی سب سے زیادہ اور سب سے پہلے عقیدہ توحید پر زور دیا جاتا ہے۔ کیونکہ باقی دونوں عقیدے اسی عقیدے سے پھوٹتے ہیں۔ اگر یہ عقیدہ محفوظ نہ رہے تو دوسرے دونوں عقیدے خود بخود ختم ہوجاتے ہیں۔ چناچہ اب تک سورة انعام میں مختلف حوالوں سے اور مختلف اسالیب میں عقیدہ توحید پر بحث کی گئی ہے اور اس سلسلے میں مشرکین کی جانب سے اٹھائے جانے والے اعتراضات اور مطالبات کا مناسب جواب دیا گیا ہے اور بار بار انھیں کبھی تفہیم کے انداز میں اور کبھی تنبیہ کے انداز میں وارننگ دی گئی ہے کہ اگر تم نے اپنے عقائد کی اصلاح نہ کی اور تم شرک سے باز نہ آئے تو تم پر اللہ کا عذاب بھی آسکتا ہے۔ گزشتہ رکوع میں خاص طور پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حوالہ سے عقیدہ توحید کو ایک نئے اسلوب میں واضح فرمایا گیا ہے۔ حضرت ابراہیم سے چونکہ قریش مکہ کا رشتہ دو گونہ تھا وہ اپنے آپ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا نسبی وارث بھی سمجھتے تھے اور دینی وارث بھی۔ اس لحاط سے حضرت ابراہیم ان کے لیے سب سے بڑا سرمایہ افتخار تھے اور ہر بات پر وہ بار بار انہی کا حوالے دیتے تھے۔ چناچہ گزشتہ رکوع میں ان کو یہ بتایا گیا کہ دیکھو حضرت ابراہیم مشرک نہیں تھے بلکہ وہ تو توحید کے سب سے بڑے علمبردار تھے۔ البتہ ان کی قوم مشرک تھی اور اللہ کے ساتھ بہت سی چیزوں کو انھوں نے شریک بنا رکھا تھا اور ابراہیم کی ساری دعوت اپنی قوم کو انہی چیزوں سے ہٹا کر توحید کے راستے پر ڈالنے کے لیے تھی جس طرح تم آج محمد رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کر رہے ہو اسی طرح ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم نے ان کی بھی محض اس لیے مخالفت کی تھی کہ وہ شرک کی تردید کرتے اور توحید کی دعوت دیتے تھے۔ پھر شرک کی تردید میں اور اللہ کی وحدانیت پر جو انھوں نے دلیل پیش فرمائی اور جس دلیل کی بنیاد پر انھوں نے صاف صاف اللہ کی توحید کو پیش کیا اس کا ذکر فرمایا گیا ہے اور یہ وہ دلیل ہے جس نے ابراہیم کی قوم کو اگر ایک طرف لاجواب کیا تو دوسری طرف ان کو اتنا مشتعل کردیا کہ وہ ابراہیم کی دعوت کو ہر ممکن طریقے سے روکنے اور ختم کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے اب اس پیش نظر آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے جو ان کے سامنے دلیل پیش کی تھی وہ ان کے اپنے زرخیر دماغ کی سوچ کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ وہ سراسر اللہ کی دین تھی۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ گزشتہ رکوع سے ہمیں یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) ایک تفکر اور تدبر کرنے والے دماغ کے مالک تھے وہ کائنات کی ایک ایک چیز پر غور کرتے اور اس سے اللہ کی وحدانیت پر استدلال کرتے یا استدلال کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ لیکن یہ دلیل محض ان کے تفکر کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ یہ اللہ کی طرف سے عطا کردہ تھی یعنی اس کا مفہوم یہ ہے کہ ابراہیم مسلسل کائنات پر غور کرتے رہے اور وہ یہ جاننے کی کوشش کرتے رہے کہ یا اللہ یہ تو میں جانتا ہوں کہ تو اس کائنات کا خالق ومالک ہے اور تو نے ہی ہر چیز کو تخلیق فرمایا اور زندگی اور موت تیرے ہی قبضے میں ہے لیکن یہ میں نہیں جانتا کہ تو کیسا ہے ؟ تیری صفات کیا ہیں ؟ تیری رضا کا حصول کس طرح ممکن ہے ‘ میں تیری مخلوق تو ہوں لیکن میری زندگی کا مقصد کیا ہے ؟ میں کیا کروں ؟ جس کے نتیجے میں تجھے پا لوں اور تیری رضا حاصل کرلوں اس طرح کی باتیں ہیں جو نبوت سے پہلے مستقبل کے پیغمبر کے غور و فکر کا موضوع ہوتی ہیں۔ خود آنحضرت ﷺ کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ نبوت ملنے سے چند سال پیشتر آپ میں تنہائی پسندی کا ذوق بڑھ گیا تھا اور آپ مسلسل غور و فکر میں ڈوبے رہتے تھے۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ آپ غار حرا میں کئی کئی دنوں تک قیام فرماتے اعتکاف کی حالت میں رہتے اور آپ کی عبادت حدیث کی زبان میں تحنث کہی گئی ہے یعنی آپ مسلسل اللہ کی صفات کی معرفت اور اپنے مقصد زندگی کے حوالے سے غو رو فکر میں ڈوبے رہتے اور یہ غور و فکر انبیا میں بڑھتا جاتا ہے تاآنکہ اللہ کا فرشتہ آ کر ان کے سامنے حقیقت واشگاف کردیتا ہے اور پھر ان پر اللہ کی کتاب اترتی ہے انھیں ہدایت سے نوازا جاتا ہے اور جب انھیں حکم ملتا ہے کہ جاؤ اپنی قوم کو جا کر سمجھائو تو انھیں قوم کے پاس دعوت لے جانے سے پہلے دعوت کو پیش کرنے کا طریقہ اور اس کو موثر بنانے کے لیے دلائل عطا کیے جاتے ہیں تاکہ وہ قوم کو اس دعوت کو قبول کرنے کے لیے آمادہ کرسکیں۔ اسی طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے غور و فکر کے تسلسل میں بالآخر جب نبوت سے سرفراز ہوئے اور پھر قوم کے سامنے انھیں دعوت پیش کرنے کا حکم دیا گیا تو اللہ نے یہ دلیل انھیں سکھائی جس کا ذکر گزشتہ رکوع میں ہوا اور یہاں یہ فرمایا جا رہا ہے کہ یہ دلیل ہم نے ابراہیم کو عطا کی تھی تاکہ اس دلیل کو پڑھنے والا اس بات میں یکسو ہوجائے کہ اس دلیل میں جو کچھ کہا گیا ہے اور جو اس سے نتیجہ نکالا گیا ہے اس میں غلطی کا کوئی امکان نہیں اس لیے کہ قلب و ذہن کی کاوشوں میں چاہے وہ ہزار اخلاص کا نتیجہ ہوں یہ کبھی نہیں کہا جاسکتا کہ ان میں غلطی کا امکان نہیں ہوسکتا کیونکہ کہ انسان کی کوئی کاوش غلطی سے مبرا نہیں۔ غلطی سے مبرا اور پاک اگر کوئی چیز ہے تو صرف وہ علم ہے جو اللہ کی طرف سے وحی الٰہی کے ذریعے رسولوں کو عطا ہوتا ہے تو جب کسی شعبہ علم یا کسی بات کے بارے میں یہ معلوم ہوجائے کہ اسے اللہ نے نازل فرمایا ہے تو پھر اس کے بارے میں بحث ختم ہوجاتی ہے۔ اب اسے یا ماننا ہے اور سرخرو ہونا ہے اور یا انکار کر کے برباد ہونا ہے۔ اس لیے یہاں ہماری یکسوئی اور ہمارے اطمینان کے لیے ارشاد فرمایا گیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) یقینا غور و فکر کرنے کے عادی تھے لیکن اس دلیل کو ان کے محض غور و فکر کا نتیجہ نہ سمجھنا بلکہ یہ اللہ کی جانب سے عطا کردہ علم ہے جو ہر طرح کی غلطی اور تسامح سے پاک ہے اور دوسری بات اس سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہاں یہ بھی فرمایا جا رہا ہے کہ ہم نے ابراہیم کو یہ حجت اور دلیل اس لیے عطا کی تھی تاکہ وہ اپنی قوم کے مقابل اسے پیش فرمائیں اور ان پر حجت تمام فرمائیں اور ان کے شرک اور کفر کی تردید میں اسے استعمال کریں۔ یہ کام وہ ہے جو پیغمبر نبوت ملنے کے بعد کرتا ہے ‘ اگرچہ وہ نبوت سے پہلے بھی اللہ کے علم میں نبی اور رسول ہوتا ہے لیکن خود اسے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اللہ مجھ پر یہ ذمہ داری ڈالنے والا ہے اس لیے قوم کی اصلاح کے بارے میں وہ ذمہ دار بھی نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم کسی بھی رسول کو نبوت سے پہلے قوم کے عقائد کی اصلاح کے لیے کوشش کرتا ہوا کبھی نہیں دیکھتے وہ ایک سیرت و اخلاق کی نظافت و طہارت اور آب و تاب رکھنے والی شخصیت کا حامل تو ہوتا ہے اس کی اپنی ذات یقینا ہر طرح کے عیب سے پاک ہوتی ہے۔ وہ فکر اور عمل کی کسی کج روی کا شکار نہیں ہوتا اسے مسلسل اللہ کی صفات اور اپنے مقصد حیات کو جاننے کی فکر بھی ہوتی ہے لیکن قوم کی اصلاح کے بارے میں وہ فکر مند ہوتے ہوئے بھی کسی تبلیغ و دعوت سے کام کہیں نہیں لیتا یہ کام وہ اس وقت کرتا ہے جب اللہ کی طرف سے اس پر مامور کیا جاتا ہے۔ یہ دلیل جو آپ کو عطا کی گئی اور پھر کہا کہ اس سے قوم پر حجت تمام کرو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ اس وقت ہوا جب آپ کو نبوت کے منصب پر فائز کیا گیا۔ اس بات کے واضح ہوجانے کے بعد پھر یہ بات سمجھنا کوئی مشکل نہیں رہتا کہ اس دلیل میں اگر ہم تکرار کے ساتھ دیکھتے ہیں کہ غیر خدا کو کہا گیا ہے کہ میرا رب ہے حالانکہ کوئی پیغمبر اپنے رب کے بارے میں کسی شک میں مبتلا نہیں ہوتا تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ یہ محض اپنی قوم کو سمجھانے کے لیے ایک اسلوب بیان تھا ‘ عقیدے کا اظہار نہیں تھا۔ دلیل کا ایک انداز تھا جس کا مفہوم زیادہ سے زیادہ یہ ہوسکتا ہے کہ جیسے تم کہتے ہو کہ یہ ہمارا رب ہے اسی طرح تم یہ بھی سمجھتے ہو کہ یہ میرا بھی رب ہے تو چلو تمہارا سمجھنا اپنی جگہ لیکن آگے بڑھ کر ہم یہ تو دیکھیں کہ جس کی چمک دمک سے تم نے خدائی اخذ کی ہے لیکن ڈوب جانے کے بعد اب اس کی لاش تمہارے قدموں میں پڑی ہے بتائو اب اس کی ربوبیت اور خدائی کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ اللہ تعالیٰ جس کے چاہتا ہے درجے بلند کردیتا ہے اس کے بعد ارشاد فرمایا ہے کہ ہم جس کے چاہتے ہیں۔ درجے بلند کردیتے ہیں بات چونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ہو رہی ہے صاف مطلب یہ ہے کہ ہم نے ابراہیم کے درجات بلند کیے اور درجات کو یہاں جمع لایا گیا اور ساتھ تنوین بھی لائی گئی۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ صرف درجے ہی بلند نہیں کیے گئے بلکہ درجوں پر درجے بلند کیے گئے یعنی مسلسل اللہ کی طرف سے نوازشات کی ایک بارش تھی جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر برستی رہی۔ یوں تو پوری زندگی حضرت ابراہیم کی ذات اللہ کی نوازشات کا مورد رہی ہے لیکن جوانی ‘ آغازِ نبوت اور نبوت کے سفر میں مسلسل یہ انعامات خود بولتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کہ جب تک آپ کو نبوت نہیں ملی تو اللہ کا آپ پر سب سے بڑا انعام یہ تھا کہ آپ کو ایک غور و فکر کرنے والا دماغ عطا فرمایا گیا۔ جوانی دیوانی کہلاتی ہے جس میں غور و فکر تو دور کی بات ہے سرمستیاں اور بداعمالیاں اس کی پہچان سمجھی جاتی ہیں اور اگر کبھی دماغ سوچتا بھی ہے تو ہمیشہ انہی راہوں پر چلنے کے لیے لیکن ایسی سوچ جو بےسمت نہ ہو اور جس کی ایک متعین جہت ہو اور جو مسلسل اپنی منزل کی تلاش میں ہو یہ اللہ کی وہ عطا ہے جس سے اس کی خاص بندے یا اس کے نبی نوازے جاتے ہیں۔ بعض ایسے نوجوان بھی ہوتے ہیں جو جوانی کو عیاشیوں میں ڈبونے سے تو اجتناب کرتے ہیں لیکن یہ بات کہ انھیں اس کائنات میں غور و فکر کی ایک ایسی عادت ہو جس میں وہ صحیح سمت پر آگے بڑھنا چاہتے ہوں ایسے نوجوانوں کو ڈھونڈا جائے تو لاکھوں میں شائد چند مل سکیں۔ سائنسدانوں کو ہم دیکھتے ہیں کہ غور و فکر ہی انھیں سائنس میں آگے بڑھنے میں مدد دیتا ہے لیکن ان کا غور و فکر خاص حد سے کبھی آگے نہیں نکلتا۔ اور ایک خاص دائرے کی حدود سے کبھی تجاوز نہیں کرتا۔ نیوٹن کو دیکھ لیجئے اس نے غور و فکر ہی کے نتیجے میں کیسے کیسے اصول دریافت کیے۔ لیکن اس کا یہ غور و فکر مخلوقات تک محدود رہا لیکن بالکل سامنے کی بات کہ آخر پوری کائنات کو اصول کشش کے ساتھ کس نے باندھ رکھا ہے اور وہ ذات کونسی ہے اس منزل تک کبھی اس کا دھیان نہیں پہنچا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر باقی انبیاء کی طرح اللہ کا پہلا انعام یہ ہے کہ اللہ نے انھیں نہ صرف غور و فکر کی عادت سے نوازا بلکہ ان کو صحیح سمت بھی عطا فرمائی اور بالآخر ان کو منزل آشنا بنایا یہ بات جو میں نے عرض کی ہے کہ کم خوش نصیب لوگ ایسے ہوتے ہیں جو کسی مرحلے پر رک کر کبھی غور و فکر کرنے کے عادی ہوں۔ یہ بات صرف افراد ہی کی حد تک نہیں قومیں بھی اسی شناخت سے گزرتی ہیں جب کسی قوم پر اللہ کا کرم ہوتا ہے تو وہ قوم لا ابالی پن اور حد سے بڑھی ہوئی لاپرواہی سے بچ کر غور و فکر کرنے کی عادت بنا لیتی ہے جب کوئی حادثہ یا سانحہ ہوتا ہے تو اس کے سوچنے سمجھنے والے دماغ مسلسل اس پر غور و فکر کے بعد اپنے لیے صحیح نتائج اخذ کرتے اور اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں۔ لیکن جو قوم اس نعمت سے محروم ہوتی ہے ان کی پیٹھ پر حوادث کا بڑے سے بڑا کوڑا بھی برستا ہے تو وہ چیخنے چلانے کے بعد پھر اپنے ڈگر پر چل پڑتی ہے نہ رکنے کی کوشش کرتی ہے اور نہ رک کر سوچنے کی عادت پیدا کرتی ہے اپنے آپ ہی کو دیکھ لیجئے سقوطِ ڈھا کہ کی صورت میں ہم کتنے بڑے سانحے سے دوچار ہوئے لیکن اس قوم کے سوچنے والے دماغوں نے اس سے کیا نتیجہ اخذ کیا کوئی عدالتی کمیشن بٹھایا بھی تو اس کی رپورٹ کو روک لیا گیا۔ جہاں تک اجتماعی طرز عمل کا تعلق ہے حکمرانوں سے لے کر عوام تک دور دور تک کوئی تبدیلی تو کیا تبدیلی کے آثار تک بھی نظر نہ آئے کسی شاعر نے اسی کا ماتم کرتے ہوئے کہا تھا ؎ سانحے سے بڑا سانحہ یہ ہوا لوگ ٹھہرے نہیں سانحہ دیکھ کر روڈ ایکسیڈنٖٹ میں کسی کا زخمی ہوجانا پریشان کن تو ہے لیکن تعجب خیز نہیں لیکن یہ بات انتہائی تشویش اور تعجب کی ہے کہ سڑک پر زخمی تڑپ رہا ہو اور گزرنے والوں میں کوئی رک کر اس کو مدد دینے کی کوشش نہ کرے۔ ایکسیڈنٹ سے ایک زندگی کو خطرہ ہوتا ہے اور اس رویے سے انسانیت خطرے کا شکار ہوجاتی ہے۔ یہاں اللہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے جن درجات کا ذکر فرمایا ہے ان کی تفصیل تو بہت طویل ہے لیکن ان میں سب سے پہلا درجہ جو انھیں دوسروں سے نمایاں کرتا ہے وہ ان کا صحیح سمت میں مسلسل غور و فکر کرنا تھا جس سے بطور خاص اللہ نے انھیں بہرہ ور فرمایا تھا ‘ اس کے علاوہ جو ان پر انعامات ہوئے ہیں اس کو سمجھنے کے لیے ان کی زندگی میں مسلسل ایثار و قربانی کی داستان کو پڑھ لینا چاہیے کہ وہ ایک ایک کر کے سب کچھ اللہ کے راستے میں قربان کرتے چلے گئے اور قدرت نے اس پر مسلسل انعامات کی بارش برسائی۔ وطن چھوڑا تو اس سے بہتر وطن عطا فرمایا ‘ مشرک عزیزوں سے قطع تعلق کیا تو اللہ نے ایسی صالح اور نامور اولاد عطا فرمائی جن سے امتیں وجود میں آئیں۔ ہجرت کی صورت میں ملکوں ملکوں کی خاک چھاننا پڑی تو اس کے بدلے میں اللہ نے بیت اللہ کی ہمسائیگی عطا فرمائی اور اپنے گھر کا متولی بنا کر دنیا بھر کا امام بنادیا اور مزید انعامات کو دیکھنے کے لیے اس کی بعد کی آیات کو غور و فکر سے پڑھنا چاہیے جن میں سے ایک ایک آیت سے ان پر انعامات کی تفصیل معلوم ہوتی ہے۔ اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ بیشک تیرا رب حکمت والا اور علم والا ہے یعنی جب کسی کو وہ عطا کرتا ہے تو وہ اندھے کی بانٹ کی طرح نہیں ہوتا کہ جو سامنے آیا اس کو دے ڈالا مستحق محروم رہ گیا غیر مستحق کا دامن بھر دیا۔ اللہ کی عطا تو اس کی علم اور حکمت کا نتیجہ ہوتی ہے وہ خوب جانتا ہے کہ کون اس عطا کا استحقاق رکھتا ہے اور کون ہے جو اس کی عطائوں کا حقیقی شکرگزار ہوگا۔ اس لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اس نے جو بیشمار انعامات سے نوازا تو یہ اس کے علم و حکمت کا تقاضہ تھا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یقینا جائز طور پر اس کا استحقاق رکھتے تھے اور پھر انھوں نے شکرگزاری سے ہر طرح اپنے آپ کو اس کا سزاوار ثابت کیا۔ نسبی شرافت بھی اعمالِ صالحہ سے ہی فائدہ مند ہوتی ہے اس کے بعد کی آیات کو پڑھنے سے پہلے دو باتیں ذہن نشین کر لینی چاہئیں پہلی بات یہ کہ ذاتی صلاحیت و شرافت کے علاوہ جو چیز آدمی کو دوسروں سے معزز بناتی اور ممتاز کرتی ہے وہ اس کی نسبی شرافت ہے۔ ایک آدمی اپنی ذات میں کتنا بھی عظیم ہو لیکن اگر وہ نسبی شرافت سے تہی دامن ہے تو کبھی نہ کبھی اس کے چھینٹے اس کی ذات پر پڑے بغیر نہیں رہتے۔ اگرچہ ذاتی شرافت ان چیزوں سے ماورا ہوتی ہے لیکن اللہ کے انعامات میں جہاں آدمی کی ذاتی صلاحیت و شرافت ہے اسی طرح قدرت کا یہ بھی بہت بڑا انعام ہے کہ اسے شرافتِ نسب سے نوازا جائے اور یہ نسبی شرافت اگرچہ صرف اس بات کا نام ہے کہ اس کے آبائو اجداد کیسے ہیں۔ لیکن اگر اس میں اس بات کا بھی اضافہ ہوجائے کہ اس کے آبائو اجداد بھی عظیم ہوں اور آگے اولاد بھی ویسی ہی عظمتوں کی وارث ثابت ہو تو پھر تو عزت و افتخار میں وہ اضافہ ہوتا ہے کہ جس میں کسی اور اضافے کی توقع بھی نہیں کی جاسکتی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے اسی نسبی شرافت سے نوازا تھا کہ آپکے آبائو اجداد میں انبیاء و رسل گزرے تھے اور جہاں تک اولاد کا تعلق ہے اس میں باقی دنیا کے بارے میں تو ہم نہیں جانتے لیکن جہاں تک مشرق وسطیٰ کا تعلق ہے اس میں جتنے نبی اور رسول آئے وہ سارے آپ ہی کی اولاد میں سے تھے۔ جن کی تفصیل ان آیات میں آرہی ہے۔ یہاں یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ انسان کی اللہ کے یہاں سرفرازی اور سرخروئی کے لیے اگرچہ ذاتی ایمان و عمل ہی کام آئیں گے، نام و نسب نہ کوئی فائدہ دے گا نہ کوئی نقصان دے گا۔ اگر آدمی کا دامن ایمان و عمل سے خالی ہے تو اس کے آبائو اجداد کا ایمان و عمل اس کے کسی کام نہیں آئے گا اور اگر وہ خود اس دولت سے بہرہ ور ہے تو اس کے آبائو اجداد خدا نہ کرے اگر کافر بھی ہوں تو اس کا اسے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ لیکن یہ بھی امرواقع ہے کہ اپنے ذاتی ایمان و عمل کے ساتھ ساتھ اگر اللہ تعالیٰ نسبی شرافت بھی عطا فرمائے تو یہ اس کا بہت بڑا انعام ہے اس پر آدمی جائز حد تک فخر بھی کرسکتا ہے اور اللہ کا شکر بھی ادا کرنا چاہیے اور قیامت کے دن یقینا اسے اس نسبی شرافت کا فائدہ بھی پہنچے گا۔ لیکن اگر وہ نسبی شرافت سے بہرہ ور ہو کر بھی اپنی زندگی ایمان و عمل کے خلاف گزارتا ہے تو یہی عظمت قیامت کے دن اس کے عذاب میں اضافے کا سبب بھی بنے گی۔ مثلاً کوئی آدمی سید ہے اور خود بھی ماشاء اللہ بہت نیک آدمی ہے تو آنحضرت ﷺ سے اس کا یہ نسبی رشتہ قیامت کے دن اس کے درجات میں بلندی کا باعث بنے گا لیکن وہ اگر سید ہونے کے باوجود بداعمالیوں کا ارتکاب کرتا ہے اور اسے کبھی خیال نہیں آتا کہ میں آل رسول میں سے ہو کر یہ کیا حرکتیں کرتا ہوں تو قیامت کے دن صرف اپنی بداعمالیوں کی سزا ہی نہیں پائے گا بلکہ سید ہونے کی وجہ سے دوسروں سے بڑھ کر اسے سزا ملے گی۔ دینِ ابراہیمی کے بارے میں قریش مکہ کی غلط فہمی دوسری بات ان آیات کو پڑھنے سے پہلے جو ذہن میں رہنی چاہیے وہ یہ ہے کہ قریش مکہ بار بار اس بات کا دعویٰ کرتے تھے کہ ہم حضرت اسماعیل اور حضرت ابراہیم کی اولاد ہیں اور ہمارا دین ملت ابراہیمی ہے ہم اسی طرح زندگی گزار رہے ہیں جس طرح ہم نے اپنے آبائو اجداد کو پایا انہی کے واسطے سے ہمیں ابراہیم کی یہ وراثت ملی ہے یہی ہمارے لیے فخر کی بات ہے ظاہر ہے ہم اس کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں۔ وہ مسلمانوں سے یہ کہتے تھے کہ تم ابراہیمی دین چھوڑ کر بےدین ہوگئے ہو تمہیں واپس اپنے دین میں آنا چاہیے لیکن تم بجائے اپنی فکر کرنے کے ہمیں سمجھانے پر تلے ہوئے ہو کہ ہم غلط راستے پر ہیں۔ ہمیں اسلام قبول کرلینا چاہیے انھیں یہ بات بتائی جا رہی ہے کہ تم نے حضرت ابراہیم اور ملت ابراہیمی کے بارے میں جو تصورات بنا رکھے ہیں وہ سراسر مصنوعی اور غلط ہیں۔ آئو ! ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ حضرت ابراہیم کے آبائو اجداد کیسے تھے اور آگے ان کی اولاد کیسی تھی ان میں کتنے بڑے بڑے پیغمبر ہوئے وہ دنیا میں صرف اس لیے آئے تھے کہ توحید کی تعلیم دیں اور شرک کا خاتمہ کریں۔ ان کی پوری پوری زندگیاں شرک کی تردید میں اور توحید کو قائم کرنے میں گزریں۔ اسی راستے میں انھوں نے ایک سے ایک بڑھ کے دکھ اٹھائے لیکن مرتے دم تک وہ اسی کی دعوت دیتے رہے لیکن تم نے اس کے بالکل برعکس شرک کو اپنا دین بنا رکھا ہے اور پھر تمہیں اصرار یہ ہے کہ یہی ابراہیم کا طریقہ تھا۔ اس پر انھیں حضرت ابراہیم اور ان کے خاندان کی تفصیل بتائی جا رہی ہے کہ شاید وہ اس سے فائد اٹھا کر اپنی گمراہی سے باز آجائیں چناچہ ارشاد فرمایا جا رہا ہے :