6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsروح القرآن

Ayah 6:59

وَ عِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ وَ مَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَةٍ اِلَّا یَعْلَمُهَا وَ لَا حَبَّةٍ فِیْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَ لَا رَطْبٍ وَّ لَا یَابِسٍ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 6:59 in the Quran reader

اور غیب کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں۔ اس کے سوا ‘ ان کو کوئی نہیں جانتا اور بر و بحر میں جو کچھ ہے ‘ اس سے وہ واقف ہے۔ کوئی پتہ نہیں گرتا ‘ مگر وہ اس کو جانتا ہے اور نہ زمین کی تہوں میں کوئی دانہ گرتا ہے اور نہ کوئی تر اور خشک چیز ہے مگر وہ ایک روشن کتاب میں مندرج ہے

ارشاد فرمایا : وَعِنْدَہٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُھَآ اِلَّا ھُوَ ط وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ ط وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَۃٍ اِلَّا یَعْلَمُھَا وَلَا حَبَّۃٍ فِیْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَّلَا یَابِسٍ اِلَّا فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ ۔ (الانعام : 59) (اور غیب کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں۔ اس کے سوا ‘ ان کو کوئی نہیں جانتا اور بر و بحر میں جو کچھ ہے ‘ اس سے وہ واقف ہے۔ کوئی پتہ نہیں گرتا ‘ مگر وہ اس کو جانتا ہے اور نہ زمین کی تہوں میں کوئی دانہ گرتا ہے اور نہ کوئی تر اور خشک چیز ہے ‘ مگر وہ ایک روشن کتاب میں مندرج ہے) غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اس آیت کریمہ میں مفاتح کا لفظ استعمال ہوا ہے یہ مفتح اور مفتح دونوں کی جمع ہوسکتی ہے پہلی صورت میں اس کا معنی ہوگا خزانے اور دوسری صورت میں اس کا معنی ہوگا خزانوں کی کنجیاں یا چابیاں۔ بات ایک ہی ہے کہ اسی کے پاس غیب کے خزانے ہیں یا غیب کے خزانوں کی کنجیاں ہیں۔ ظاہر ہے کہ جس کے پاس کنجیاں ہوں گی خزانے بھی اسی کے پاس ہوں گے۔ پھر یہاں عِنْدَہٗ کے لفظ کو مقدم کر کے قواعد عربیت کے مطابق حصر اور اختصاص کی طرف اشارہ کردیا گیا ہے یعنی ان خزائن غیب کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اللہ تعالیٰ کی صفاتِ کمال مثلاً حیات ‘ علم ‘ قدرت ‘ سمع ‘ بصر ‘ ارادہ ‘ مشیت ‘ خلق اور رزق وغیرہ بہت ساری ہیں۔ وہ ان تمام صفات میں ایسا کامل ہے کہ اس کے سوا کوئی مخلوق کسی صفت میں اس کے برابر نہیں ہوسکتی۔ لیکن ان صفات میں دو صفتیں ایسی ہیں جن پر قرآن کریم نے سب سے زیادہ زور دیا ہے ایک صفت علم اور دوسری صفت قدرت ‘ اس کا علم تمام موجود اور غیر موجود ظاہر اور مخفی بڑے اور چھوٹے ہر ذرہ ذرہ پر حاوی اور محیط ہے۔ اسی طرح اس کی قدرت بھی ایک ایک چیز پر حاوی ہے۔ ان دونوں صفتوں کو قرآن کریم نے بار بار اس لیے بیان کیا ہے کہ اگر کوئی آدمی ان صفتوں کا یقین اور استحضار اپنے اندر پیدا کرلے تو وہ کبھی گناہ کے قریب نہیں جاسکتا۔ اگر ایک آدمی کو اس بات کا یقین ہوجائے اور یہ یقین ہر وقت اس کے دل و دماغ میں مستحضر رہے کہ میرا کوئی لمحہ ایسا نہیں جو اللہ کے علم میں نہ ہو میں ہزار تاریکوں اور تنہائیوں میں چھپ کر بھی کوئی کام کروں لیکن میرا اللہ اس سے واقف ہے۔ میں برابر اس کی نگاہوں میں ہوں۔ اس کے علم سے کوئی چیز مخفی نہیں رہ سکتی۔ اسی طرح اس کی نافرمانی کرنے والا ایک عام فرد ہو یا کوئی وقت کا شہنشاہ یا وہ نافرمانی کرنے والے چند آدمی ہوں یا دنیا بھر کے لوگ اللہ کی قدرت ایسی بےپناہ ہے کہ اس کی گرفت اور پکڑ سے کوئی نہیں بچ سکتا۔ شہنشاہ بھی اس کے سامنے اسی طرح عاجز ہیں جیسے ایک عام بےیارو مددگار شخص اور جسطرح اس کی قدرت ایک آدمی کی گرفت کرسکتی ہے اسی طرح ساری دنیا کو اس کے لیے پکڑنا آسان ہے۔ جب اس کی ان دو صفات کا علم کسی کے رگ و پے میں اتر جاتا ہے تو پھر نہ تو وہ اللہ کی نافرمانی کرتا ہے اور نہ کبھی وہ غیر خدا سے ڈرتا ہے اسے چونکہ اس بات کا یقین ہے کہ اللہ میرے حال سے واقف ہے اور میں اس کے دین کی خاطر بڑی قوتوں سے ٹکرا رہا ہوں اور اسے یقین ہے کہ اللہ سے بڑھ کر کسی کی قدرت نہیں تو پھر وہ وقت کے فراعنہ اور نماردہ کو بھی پتلیوں سے زیادہ حیثیت دینے کو تیار نہیں ہوتا۔ وہ بڑی بڑی حکومتوں کو ڈھلتے ہوئے سایوں کی طرح دیکھتا ہے۔ مفاتح الغیب کا مطلب اس آیت میں مفاتح الغیب کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ یعنی غیب کے خزانے اس لیے اس بات کو سمجھ لینا چاہیے کہ غیب سے مراد وہ چیزیں ہیں جو ابھی وجود میں نہیں آئیں یا وجود میں تو آچکی ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے ان پر کسی کو مطلع نہیں ہونے دیا۔ پہلی قسم کی مثال وہ تمام حالات و واقعات ہیں جو قیامت سے متعلق ہیں یا کائنات میں آئندہ پیش آنے والے واقعات سے تعلق رکھتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ کوئی ستارہ یا سیارہ کب کیا شکل اختیار کرے گا۔ اس کی گردشیں اور اس کے آثار کائنات میں کیا نتائج پیدا کریں گے۔ یا سائنسدانوں کے بقول کائنات جو برابر وسعت پذیر ہوتی رہتی ہے اس کا انجام کیا ہوگا کیونکہ بقول اقبال ؎ یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید کہ آرہی ہے دما دم صدائے کن فیکوں یا اس طرح کی باتیں کہ کون کب اور کہاں پیدا ہوگا ؟ کیا کیا کام کرے گا ؟ کتنی عمر ہوگی ؟ عمر میں کتنی دفعہ سانس لے گا ؟ کتنے قدم اٹھائے گا ؟ کہاں مرے گا ؟ کہاں دفن ہوگا ؟ وغیرہ۔ اور دوسری قسم کی مثال وہ حمل ہے جو عورت کے رحم میں وجود تو اختیار کرچکا ہے لیکن اس کے تغیرات سے کوئی واقف نہیں نہ اس کی جبلتوں سے کوئی آگاہ ہے، نہ کوئی یہ جانتا ہے۔ وہ کتنی عمر لے کر آئے گا شقی ہوگا یا سعید ہوگا ‘ نیک خصلت ہوگا یا بد خصلت ہوگا ‘ اس طرح کی چیزیں وجود میں آجانے کے باوجود بھی مخلوق کے علم و نظر سے غائب ہیں۔ یہ جو تفصیل عرض کی گئی ہے اگر اس کو پیش نظر رکھا جائے تو مسئلہ علم غیب پر سطحی نظر میں جو شبہات عوام کو پیش آیا کرتے ہیں خود بخود ختم ہوجائیں۔ لیکن عام طور پر لوگ غیب کے لغوی معنی لیتے ہیں کہ جو چیز ہمارے علم و نظر سے غائب ہو خواہ دوسروں کے نزدیک اس کا علم حاصل کرنے کے ذرائع موجود ہوں ‘ اس کو بھی غیب کہنے لگتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں طرح طرح کے شبہات سامنے آتے ہیں مثلاً علمِ نجوم یا پامسٹری وغیرہ سے جو آئندہ واقعات کا علم حاصل کیا جاتا ہے یا کشف والہام کے ذریعے کسی شخص کو آئندہ واقعات کا علم ہوجاتا ہے یا مون سون کا رخ اور اس کی قوت و رفتار کو دیکھ کر موسمیات کے ماہرین ہونے والے باد و باراں کے متعلق پیشین گوئیاں کرتے ہیں اور ان میں بہت سی باتیں صحیح بھی ہوجاتی ہیں اور یہ سب چیزیں عوام کی نظر میں علم غیب ہوتی ہیں ‘ اس لیے آیت مذکورہ پر یہ شبہات ہونے لگتے ہیں کہ قرآن کریم میں تو علم غیب کو ذات خداوندی کی خصوصیت بتلایا گیا ہے اور مشاہدہ یہ ہے کہ وہ دوسروں کو بھی حاصل ہوجاتا ہے۔ جواب واضح ہے کہ کشف والہام یا وحی کے ذریعہ اگر اللہ تعالیٰ نے اپنے کسی بندہ کو کسی آئندہ واقعہ کی اطلاع دے دی تو قرآنی اصطلاح میں وہ علم غیب نہ رہا۔ اسی طرح اسباب و آلات کے ذریعہ جو علم حاصل کیا جاسکے وہ بھی اصطلاح قرآنی کے لحاظ سے علم غیب نہیں جیسے محکمہ موسمیات کی خبریں یا نبض دیکھ کر مریض کے مخفی حالات بتلا دینا یا علم نجوم یا پامسٹری کی مدد سے کچھ اندازے کرلینا۔ خلاصہ یہ ہے کہ علم کے متعلق دو چیزیں حق تعالیٰ کی خصوصیات میں سے ہیں ‘ جن میں کوئی فرشتہ یا رسول یا کوئی دوسری مخلوق شریک نہیں ‘ ایک علم غیب ‘ دوسرے موجودات کا علم محیط ‘ اس آیت کریمہ کے پہلے جملہ میں پہلی خصوصیت کا بیان ہے عِنْدَہٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُھَا اِلَّا ھُوَ اور بعد کے جملوں میں تمام کائنات و موجودات کے علم محیط کا ذکر اس طرح فرمایا کہ پہلے ارشاد ہوا وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ یعنی اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے ہر اس چیز کو جو خشکی میں ہے اور جو دریا میں ہے۔ مراد اس سے کل کائنات و موجودات ہے۔ جیسے صبح و شام کا لفظ بول کر پورا زمانہ اور مشرق و مغرب کا لفظ بول کر پوری زمین مراد لی جاتی ہے۔ اسی طرح بر و بحر یعنی خشکی اور دریا بول کر مراد اس سے پورے عالم کی وسعتیں ہیں ‘ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ جل شانہٗ کا علم تمام کائنات پر محیط ہے۔ آگے اس کی مزید تشریح و تفصیل اس طرح بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کا تمام کائنات پر احاطہ علمی صرف یہی نہیں کہ بڑی بڑی چیزوں کا اس کو علم ہو بلکہ ہر چھوٹی سے چھوٹی مخفی سے مخفی چیز بھی اس کے علم میں ہے۔ فرمایا : وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَۃٍ اِلَّا یَعْلَمُھَا یعنی سارے جہاں میں کسی درخت کا کوئی پتہ نہیں گرتا جو اس کے علم میں نہ ہو ‘ مراد یہ ہے کہ ہر درخت کا ہر پتہ گرنے سے پہلے اور گرنے کے وقت اور گرنے کے بعد اس کے علم میں ہے ‘ وہ جانتا ہے کہ جو پتہ درخت پر لگا ہوا ہے کتنی مرتبہ الٹ پلٹ ہوگا اور کب اور کہاں گرے گا اور پھر وہ کس کس حال سے گزرے گا ‘ گرنے کا ذکر شاید اسی لیے کیا گیا ہے کہ اس کے تمام حالات کی طرف اشارہ ہوجائے کیونکہ پتہ کا درخت سے گرنا اس کے نشو و نما اور نباتی زندگی کا آخری حال ہے ‘ آخری حال کا ذکر کر کے تمام حالات کی طرف اشارہ کردیا گیا۔ اس کے بعد ارشاد فرمایا : وَلَا حَبَّۃٍ فِیْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ یعنی ہر وہ دانہ جو زمین کی گہرائی اور اندھیری میں کہیں پڑا ہے ‘ وہ بھی اس کے علم میں ہے۔ پہلے درخت کے پتہ کا ذکر کیا جو عام نظروں کے سامنے گرتا ہے اس کے بعد دانہ کا ذکر کیا جو کاشتکار زمین میں ڈالتا ہے یا خود بخود کہیں زمین کی گہرائی اور اندھیری میں مستور ہوجاتا ہے ‘ اس کے بعد پھر تمام کائنات پر علم باری تعالیٰ کا حاوی ہونا تر اور خشک کے عنوان سے ذکر فرمایا اور فرمایا کہ یہ سب چیزیں اللہ کے نزدیک کتاب مبین میں لکھی ہوئی ہیں ‘ کتاب مبین سے مراد بعض حضرات مفسرین کے نزدیک لوح محفوظ ہے اور بعض نے فرمایا کہ اس سے مراد علم الٰہی ہے اور اس کو کتاب مبین سے اس لیے تعبیر کیا گیا ہے کہ جیسے لکھی ہوئی چیز محفوظ ہوجاتی ہے اس میں سہو و نسیان کی راہ نہیں رہتی ‘ اسی طرح اللہ جل شانہٗ کا یہ علم محیط صرف تخمینی نہیں بلکہ یقینی ہے۔ قرآن مجید کی بہت سی آیات اس پر شاہد ہیں کہ اس طرح کا علم محیط جس سے کائنات کا کوئی ذرہ اور اس کا کوئی حال خارج نہ ہو صرف ذات حق جل شانہٗ کے ساتھ مخصوص ہے۔ سورة لقمان میں ہے : اِنَّھَا اِنْ تَکُ مِثْقَالَ حَبَّۃٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَکُنْ فِیْ صَخْرَۃٍ اَوْ فِی السَّمٰوٰتِ اَوْ فِی الْاَرْضِ یَاْتِ بِھَا اللہ ُ ط اِنَّ اللہ َ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌ (لقمٰن : 16) (یعنی اگر کوئی دانہ رائی کے برابر ہو پھر وہ پتھر کے جگر میں پیوست ہو یا آسمانوں میں یا زمین میں کہیں ہو اللہ تعالیٰ ان سب کو جمع کرلیں گے ‘ بیشک اللہ تعالیٰ لطیف اور ہر چیز سے خبردار ہے) جس طرح اللہ تعالیٰ جنگل میں گرنے والے ایک ایک پتے کو اور زمین کی تاریکیوں میں گرنے والے ایک ایک دانے کو جانتا ہے اور ہر رطب و یابس اس کے علم میں ہے اور وہ اپنے علم کے مطابق اپنی قوت کاملہ سے ان کی دیکھ بھال اور نمود و پرداخت فرما رہا ہے اسی طرح انسانی جنگل میں پیدا ہونے والا ہر شخص اور موت سے ہمکنار ہو کر دانے کی طرح زمین کی وسعتوں میں سما جانے والا ہر آدمی اللہ کے علم میں ہے اور اس کی قدرت کاملہ برابر اس کی دیکھ بھال بھی کر رہی ہے اور اسے حیات و موت کے تسلسل سے گزار بھی رہی ہے۔ چناچہ اسی سلسلے میں اگلی آیت میں فرمایا :
Ayah 6:60

وَ هُوَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰىكُمْ بِالَّیْلِ وَ یَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ ثُمَّ یَبْعَثُكُمْ فِیْهِ لِیُقْضٰۤى اَجَلٌ مُّسَمًّى١ۚ ثُمَّ اِلَیْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ یُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 6:60 in the Quran reader

اور وہی ہے ‘ جو تمہیں رات میں وفات دیتا ہے اور جانتا ہے ‘ جو کچھ تم نے دن میں کیا ہے پھر تمہیں اس میں اٹھاتا ہے ‘ تاکہ مدت معین پوری کی جائے پھر اسی کی طرف تمہارا لوٹنا ہے پھر وہ تمہیں باخبر کرے گا ‘ اس چیز سے جو تم کرتے رہے

وَھُوَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰکُمْ بِالَّیْلِ وَ یَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّھَارِ ثُمَّ یَبْعَثُکُمْ فِیْہِ لِیُقْضٰٓی اَجَلٌمُّسَمًّیج ثُمَّ اِلَیْہِ مَرْجِعُکُمْ ثُمَّ یُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۔ (الانعام : 60) (اور وہی ہے ‘ جو تمہیں رات میں وفات دیتا ہے اور جانتا ہے ‘ جو کچھ تم نے دن میں کیا ہے۔ پھر تمہیں اس میں اٹھاتا ہے ‘ تاکہ مدت معین پوری کی جائے۔ پھر اسی کی طرف تمہارا لوٹنا ہے۔ پھر وہ تمہیں باخبر کرے گا ‘ اس چیز سے جو تم کرتے رہے ) نیند اور موت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور نیند بھی موت ہی کی طرح ہے اس سے پہلے یہ بات گزر چکی کہ مشرکین مکہ کے لیے بات سمجھنا مشکل ہو رہا تھا کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا اور پھر ایک ایک آدمی کے اعمال کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا باخبر ہونا اور اس پر باز پرس کرنا یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے۔ ان کی اسی بات کا جواب دینے کے لیے گزشتہ آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی وسعت علم اور قدرت کاملہ کو ذکر فرمایا۔ اب اسی بات کو مزید واضح فرمایا جا رہا ہے اور اس کے لیے ایک ایسی آسان مثال دی جا رہی ہے کہ معمولی عقل کا آدمی بھی اس پر غور کرے تو اس کے لیے مرنے کے بعد زندہ ہونا اور پھر قیامت کا وقوع پذیر ہونا اور اس میں جواب دہی کے عمل کو سمجھنا کوئی مشکل نہیں رہتا۔ فرمایا جا رہا ہے کہ تم روزانہ رات کو جب نیند آتی ہے تو سو جاتے ہو۔ اگر غور کیا جائے تو یہ بات سمجھنا کوئی مشکل نہیں ہے کہ نیند بھی اللہ کی طرف سے مسلط کی جاتی ہے ‘ وہ اس کا ایک بیش بہا عطیہ ہے۔ اگر وہ کسی سے نیند کی صلاحیت چھین لے تو آدمی اپنے طور سے یا ڈاکٹروں کی مدد سے اس نعمت کو حاصل نہیں کرسکتا۔ اس لیے جب ایک آدمی سوتا ہے تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سلانے سے سوتا ہے اور پھر جب آدمی گہری نیند سو جاتا ہے تو اس کے حواس معطل ہوجاتے ہیں نہ وہ دیکھتا ہے ‘ نہ سنتا ہے ‘ نہ سونگھتا ہے ‘ نہ محسوس کرتا ہے اور نہ کسی بات کو سمجھتا ہے۔ اس کو پڑے ہوئے دیکھ کر صاف محسوس ہوتا ہے کہ یہ شخص موت کی وادی میں پہنچ گیا ہے۔ اسی لیے شاید نیند کو موت کی بہن کہا جاتا ہے اور پھر جب صبح ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ سونے والوں کو نیند سے اٹھاتا ہے۔ چناچہ اس آیت کریمہ میں نیند کو وفات سے تعبیر کیا گیا ہے اور بیداری کو موت کے بعد دوبارہ جی اٹھنے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ کہا یہ وہ عمل ہے جس سے تم روزانہ گزرتے ہو کہ پہلے تم بیدار تھے پھر سو گئے اور سونے کے بعد پھر اٹھ کھڑے ہوئے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے ایک آدمی زندہ ہوتا ہے پھر وہ مرجاتا ہے پھر وہ لمبی مدت تک اپنی قبر میں رہے گا اور جب قیامت آئے گی تو اسے قبر سے زندہ کر کے اٹھایا جائے گا تو وہ اٹھتے ہی پوچھے گا کہ کس نے مجھے میری نیند سے اٹھا دیا۔ گویا اسے عالم برزخ کا قیام جو موت کے بعد شروع ہوتا ہے ایک نیند محسوس ہوگا اور قیامت کے دن زندہ ہو کر اٹھنا اسے ایسے ہی لگے گا جیسے آدمی نیند سے بیدار ہوتا ہے۔ اس آیت کریمہ میں یہ فرمایا جا رہا ہے کہ تم روزانہ اس عمل سے گزرتے ہو کہ بیداری کے بعد تم نیند کا شکار ہوتے ہو اور نیند کے بعد تم بیدار ہوتے ہو تمہیں اس میں کبھی کوئی شبہ نہیں ہوتا تو جب تمہیں اس زندگی کے خاتمے پر موت آئے گی تو ایسے ہی ہے جیسے نیند آجائے۔ اور پھر قیامت کے دن تمہیں زندہ کر کے اٹھایا جائے گا تو ایسے ہی ہے جیسے کوئی نیند سے اٹھ کھڑا ہو۔ تو تم نیند اور بیداری کو تو سمجھتے ہو تو مرنے اور اس کے بعد پھر زندہ ہونے سے انکار کیوں کرتے ہو ؟ آخر ان دونوں میں کیا جوہری فرق ہے ؟ زیادہ سے زیادہ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ نیند ایک ہلکی موت ہے اور موت ایک گہری نیند ہے۔ تو یہ شدت اور خفت کا فرق ہوا ‘ جوہری فرق تو کوئی نہ ہوا اسی طرح زندگی کے خاتمے پر جب ہم اللہ کے روبرو حاضر کیے جائیں گے تو اگر اس پر اسس کو پوری طرح سمجھ لیاجائے تو کوئی اشتباہ نہیں ہونا چاہیے بجز اس کے کہ آدمی کج فہمی کا شکار ہوجائے۔ اسی طرح اس آیت کریمہ میں یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ جب تم نیند سے اٹھتے ہو تو تم نے رات کی نیند سے پہلے دن میں جو اعمال کیے ہوتے ہیں کیا اللہ تعالیٰ ان اعمال سے بیخبر ہوتا ہے ؟ کیا تمہاری نیند سے اللہ تعالیٰ کے علم سے تمہارے اعمال نکل جاتے ہیں ؟ یا کیا تم خود اپنے اعمال کو بھول جاتے ہو ؟ اگر ایسا نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ تمہاری دن بھر کی کارکردگی سے پوری طرح آگاہ رہتا ہے تو آخر تمہارے زندگی بھر کے اعمال سے وہ کیوں آگاہ نہیں ہوگا اور تمہارے نامہ عمل کی شکل میں اسے تمہارے سامنے پیش کرنے اور اس کے بارے میں باز پرس کرنے میں آخر اسے کیا مشکل پیش آئے گی ؟ اصل میں جو چیز قیامت کے تصور کو قبول کرنے میں تمہارے لیے رکاوٹ بن رہی ہے وہ یہ ہے کہ جب تمہیں یہ بتایا جاتا ہے کہ جب اللہ کے روبرو تمہاری حاضری ہوگی تو وہ تمہیں بتائے گا کہ تم کس طرح کے اعمال کرتے آئے ہو اور اس کے نتیجے میں جس صورتحال سے تمہیں واسطہ پڑے گا وہ تمہارے لیے ایک ایسا ڈرائونا خواب ہے جسے تم کسی طرح بھی دیکھنا نہیں چاہتے۔ اس لیے تم قیامت کا انکار کرتے ہو لیکن اگر آنکھیں بند کرنے سے خطرہ ٹل سکتا ہے تو پھر تو ٹھیک ہے۔ لیکن اگر یہ ایک احمقانہ حرکت ہے تو پھر تمہیں اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ تمہیں اپنے اللہ کے پاس ہی جانا ہے ‘ وہ تمہیں بتلائے گا جو کچھ تم دنیا میں کرتے رہے ہو۔ اللہ تعالیٰ کی صفت علم کی وسعتوں کو بیان کرنے کے بعد اگلی آیت کریمہ میں اس کے کمال قدرت کو بیان کیا جا رہا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے :
Ayahs 6:61–62

وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ وَ یُرْسِلُ عَلَیْكُمْ حَفَظَةً١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَ هُمْ لَا یُفَرِّطُوْنَ Open ayah 6:61 in the Quran reader

اور وہ اپنے بندوں پر پوری طرح حاوی ہے اور وہ تم پر اپنے نگران مقرر رکھتا ہے ‘ یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آپہنچتا ہے تو ہمارے فرستادے ہی اس کی روح قبض کرتے ہیں اور وہ اس کام میں کوتاہی نہیں کرتے

ثُمَّ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ١ؕ اَلَا لَهُ الْحُكْمُ١۫ وَ هُوَ اَسْرَعُ الْحٰسِبِیْنَ Open ayah 6:62 in the Quran reader

پھر وہ سب اپنے مولائے حقیقی ‘ اللہ ہی کی طرف لوٹ جائیں گے خبردار کہ فیصلے کا سارا اختیار اسی کے ہاتھ میں ہے اور وہ سب سے زیادہ تیز حساب چکانے والا ہے

وَھُوَ الْقَاھِرُ فَوْقَ عِبَادِہٖ وَ یُرْسِلُ عَلَیْکُمْ حَفَظَۃً ط حَتّٰٓی اِذَا جَآئَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْہُ رُسُلُنَا وَ ھُمْ لَا یُفَرِّطُوْنَ ۔ ثُمَّ رُدُّوْٓا اِلَی اللہِ مَوْلٰھُمُ الْحَقِّ ط اَلَا لَہٗ الْحُکْمُ قف وَھُوَ اَسْرَعُ الْحٰسِبِیْنَ ۔ (الانعام : 61۔ 62) (اور وہ اپنے بندوں پر پوری طرح حاوی ہے اور وہ تم پر اپنے نگران مقرر رکھتا ہے ‘ یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آپہنچتا ہے تو ہمارے فرستادے ہی اس کی روح قبض کرتے ہیں اور وہ اس کام میں کوتاہی نہیں کرتے ‘ پھر وہ سب اپنے مولائے حقیقی ‘ اللہ ہی کی طرف لوٹ جائیں گے۔ خبردار کہ فیصلے کا سارا اختیار اسی کے ہاتھ میں ہے اور وہ سب سے زیادہ تیز حساب چکانے والا ہے ) اللہ نے انسانوں پر اپنے نگران مقرر کر رکھے ہیں اللہ تعالیٰ کی ذات صرف کمال علم سے متصف نہیں یعنی وہ ہر چیز کو جانتی تو ہو لیکن ضروری نہیں کہ ہر چیز اس کے قبضہ اختیار میں بھی ہو اس آیت کریمہ میں فرمایا جا رہا ہے کہ جس طرح وہ کائنات کے ایک ایک ذرے اور نوع انسانی کے ایک ایک فرد سے آگاہ ہے اسی طرح وہ اپنی مخلوقات میں سے ہر ایک پر حاوی بھی ہے۔ قاہر کا معنی پیچھے گزر چکا۔ قاہر کا معنی ہوتا ہے کنٹرولر ‘ یعنی وہ اپنے بندوں پر اور بندوں میں صرف نوع انسانی ہی نہیں تمام مخلوقات شامل ہیں پوری طرح حاوی ہے ‘ ان پر نگران ہے ان پر گرفت کرسکتا ہے ‘ اپنے احکام دینے کا حق رکھتا ہے اور تکوینی احکام سے تو مخلوقات میں سے کسی کو بھی مفر نہیں۔ مخلوقات میں سے ہر مخلوق زندگی اور موت، زندگی کی ضروریات ‘ زندگی کے امکانات اور اپنی قسمتوں کے بارے میں اللہ کے احکام کی پابند ہے اور پھر ایسا نہیں کہ وہ دنیا کو پیدا کرنے کے بعد پوری طرح ان کے وجود اور ان کی ضروریات سے آگاہ نہ ہو۔ جس طرح کسی بھی گلے کا چرواہا اپنی بھیڑوں کو بعض دفعہ گم کر بیٹھتا ہے اور اس کی نگاہ ہٹ جانے کی وجہ سے بعض دفعہ کوئی بکری اور بھیڑ ادھر ادھر بھاگ نکلتی ہے۔ اللہ اپنی کسی بھیڑ سے بیخبر نہیں۔ وہ مخلوقات کا ایسا نگران ہے کہ اس کا علم بھی مکمل ہے اور اس کی گرفت اور اسکا کنٹرول بھی کامل ہے۔ یہاں تک کہ اس نے کارکنان قضا و قدر اور اپنے غیر مرئی حفاظتی دستوں کو نوع انسانی کے جسم و جان اور ان کی ضروریات کی حفاظت کے لیے اس طرح مقرر کر رکھا ہے کہ جب بھی کوئی آدمی کسی ان دیکھے خطرے کا شکار ہوتا ہے یا اپنی ضرورت کے ہاتھوں مجبور ہوتا ہے تو اس کے یہ غیبی لشکر برابر اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ ہمارے سائنسدان بتاتے ہیں کہ اربوں کی تعداد میں روزانہ زمین کی طرف شہاب ثاقب گرتے ہیں جن میں سے بعض دفعہ ایک ایک شہاب ثاقب ٹنوں وزن کا ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے انھیں زمین پر آنے سے کون روکتا ہے اگر اللہ تعالیٰ راستے میں حفاظتی قوتوں کو مقرر نہ فرماتا تو زمین اور اس پر بسنے والی مخلوق اشہب ثاقب کی بارش سے تباہ ہوجاتی۔ خود زمین کی حرکتوں کا توازن اور زمین سمیت تمام کروں کا اپنے محور میں سمٹ کر رہنا ‘ کسی نگرانی کے بغیر تو ممکن نہیں اور اگر ایسا نہ ہوتا تو زمین اور اہل زمین تباہی کا شکار ہوجاتے اور پھر اسی مقرر کردہ رفتار کے نتیجے میں شب و روز وجود میں آتے ہیں۔ اگر اس رفتار میں کمی بیشی کردی جائے تو ماہ جون کا گرم دن طویل ہوسکتا ہے اور جنوری کی ٹھنڈی راتیں وسعت پذیر ہوسکتی ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ زمین پر بسنے والی مخلوق یا جھلس کر مرجائے گی یا منجمد ہو کر تباہ ہوجائے گی۔ آغاز آفرینش میں جب زمین ٹھنڈی ہوئی تو دو گیسیں یعنی نائیٹروجن اور آکسیجن باہم مل کر ہوا میں تبدیل ہوگئیں۔ نائٹروجن کی مقدار 78.09 فیصد تھی اور آکسیجن 20.95 فیصد۔ آکسیجن ایک آتش پذیر گیس ہے اگر فضا میں اس کی مقدار زیادہ ہوتی تو آسمانی بجلی کے ایک شرر سے آگ بھڑک اٹھتی اور سب کچھ جل جاتا اور اگر موجودہ مقدار سے نصف ہوتی تو نہ چولہوں میں آگ جلتی اور نہ حیوانی زندگی باقی رہتی۔ سمندر کے پاس ہوا کا دبائو 15 پائونڈ فی انچ ہوتا ہے اور ہزار فٹ کی بلندی پر تقریباً 14.5 پائونڈ فی انچ۔ انسان کے کندھے اندازاً دس مربع انچ جگہ گھیرتے ہیں ان پر ہوا کا دبائو گیارہ سو ساٹھ پائونڈ یعنی ساڑھے چودہ من ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ انسان اس بوجھ کے نیچے پس کیوں نہیں جاتا جواب یہ ہے کہ اس حکیم مطلق اور عقل کل نے ہوا اور پانی دونوں میں یہ خاصیت رکھی ہے کہ ان کا دبائو ہر سمت سے ہر سمت کو ہوتا ہے یعنی اوپر سے نیچے اور نیچے سے اوپر اس لیے اس بوجھ کا احساس نہیں ہوتا۔ اسی طرح غیر مرئی مخلوقات جو ہمارے گردوپیش میں موجود ہیں وہ بالعموم انسان کو نقصان پہنچانے سے عاجز رہتی ہیں۔ انھیں انسان کو نقصان پہنچانے سے کون روکتا ہے اور کون ہیں جو انسان کی حفاظت کرتے ہیں۔ وہی ہیں جس کو پروردگار یہاں حَفَظَۃ کے نام سے تعبیر کر رہا ہے۔ حَفَظَہ جمع ہے حافظ کی، حفاظت کرنے والا۔ یعنی انسانی زندگی اور اس طرح باقی مخلوقات کی زندگی کی حفاظت کرنے کے لیے اللہ نے ایسے لشکر مقرر کر رکھے ہیں جسے ہم دیکھ نہیں پاتے۔ لیکن اپنے گردوپیش میں محسوس ضرور کرسکتے ہیں اور یہ جو چند مثالیں پیش کی گئی ہیں ان کے آئینے میں ان کی جھلک دیکھ بھی سکتے ہیں۔ جس ذات والا صفات کے یہ بےپناہ انتظامات ہیں کون آدمی یہ تصور کرسکتا ہے کہ اس کی قدرت کی وسعتوں کا عالم کیا ہوگا اور کون ہے جو اس کی گرفت سے نکل کر بھاگ سکتا ہے۔ اس لیے یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ اے مشرکین مکہ تم جو اپنے اللہ پر دلیر ہوتے جا رہے ہو تمہیں کچھ خبر بھی ہے کہ اس کی قدرتیں بےپناہ ہیں۔ تمہارا اس زمین پر رہنا اور یہاں قسم قسم کی نعمتوں سے متمتع ہونا حتیٰ کہ اللہ کی بارگاہ میں سرکشی کر گزرنا یہ بھی صرف اس کے حلم اور رحمت کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔ ورنہ تم اس کی گرفت سے کسی وقت بھی آزاد نہیں ہو وہ جب چاہے تمہیں پکڑ سکتا ہے اور جب چاہے اس کے مقرر کردہ نگران تم پر عذاب مسلط کرسکتے ہیں۔ اب بجائے اس کے کہ تم اللہ کے انعامات اور احسانات کی قدر کرو اور اس کا شکر بجا لائو تم برابر دلیر ہو کر اس کی بارگاہ میں گستاخیاں کرتے ہو اور اس کے رسول سے بار بار عذاب کا مطالبہ کرتے ہو لیکن تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ زندگی ہمیشہ کی زندگی نہیں ہے۔ تمہیں یہاں رہنے کی ایک مقرر مدت دی گئی ہے جیسے ہی وہ مدت پوری ہوجائے گی تمہاری واپسی کا فیصلہ ہوجائے گا۔ یہی واپسی کا فیصلہ ہے جسے موت کہا جاتا ہے چناچہ جب تمہاری موت کا وقت آجائے گا تو پھر یہ مت سمجھو کہ تم اللہ کی مقرر کردہ موت سے بچ نکلو گے بلکہ وہ فرشتے جو تمہارے گردو پیش میں ہیں جیسے ہی انھیں اللہ کی طرف سے حکم آئے گا وہ فوراً تمہاری جان قبض کرلیں گے اور وہ فرشتے اور وہ کارکنان قضا و قدر اس قدر اللہ کے احکام کی تعمیل میں سراپا انتظار رہتے ہیں کہ ادھر حکم ملتا ہے ادھر تعمیل حکم میں جت جاتے ہیں۔ اللہ کے حکم سے سرتابی انھیں جس فطرت پر پیدا کیا گیا ہے اس میں ممکن ہی نہیں۔ اس لیے کبھی وہ جان قبض کرنے میں کوتاہی نہیں کرتے جس طرح وہ ایک آدمی کی جان نہایت آسانی سے نکالتے ہیں بڑے سے بڑا شہنشاہ بھی اسی طرح ان کے ہاتھوں میں بےدست و پا ہوتا ہے۔ ہم نے اپنی آنکھوں سے بارہا دیکھا کہ ایک نہایت صحت مند اور توانا آدمی جس کی قوت کے مقابل بعض دفعہ کوئی نہیں ہوتا لیکن جب موت آجاتی ہے تو اس کی ساری قوتیں دھری رہ جاتی ہیں۔ آنِ واحد میں وہ موت کا لقمہ بن کے رہ جاتا ہے۔ تخت نشیں بادشاہوں کو اس کے کارندے اس طرح دبوچتے ہیں کہ تخت و تاج اس کا صرف ماتم کرنے کے لیے باقی رہ جاتے ہیں۔ پھر اسی پر بس نہیں کہ اللہ کے اس عالمی قانون کے تحت تمہیں بھی موت آئے گی اور اللہ کے فرستادے تمہاری بھی جان قبض کریں گے بلکہ تمہیں اور باقی ساری دنیا کو بھی اللہ ہی کی طرف لے جایا جائے گا یعنی ایک ایک آدمی جو موت کا شکار ہوتا ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ مرنے کے بعد وہ زندگی کی ذمہ داریوں سے چھوٹ جاتا ہے بلکہ موت اصلاً اسے اس دارالعمل سے دارالجزاء کی طرف لے جانے کا نام ہے۔ اسے ڈیوٹی سے واپس بلا کر دارالجزاء میں حساب دینے کے لیے کھڑا کردیا جاتا ہے کہ بتائو تم نے اپنے فرائض کی ادائیگی اور اپنی ڈیوٹی کے انجام دینے میں کہاں تک اخلاص اور دیانت و امانت کا ثبوت دیا ہے اور مزید یہ بھی یاد رکھو کہ تمہیں جس اللہ کی بارگاہ میں لے جایا جائے گا کاش تم آج اس بات پر غور کرلو کہ وہی تمہارا حقیقی مولیٰ ہے۔ اس آیت میں مولیٰ کا لفظ اسی طرف توجہ دلانے کے لیے استعمال ہوا ہے۔ مولیٰ کا معنی ہوتا ہے خیر خواہ ‘ حمایتی ‘ ذمہ دار ‘ نگران ‘ کارساز۔ ان تمام حوالوں سے اگر کوئی مولیٰ کہلانے کا حق رکھتا ہے تو وہ صرف خداوند ذوالجلال ہے۔ کہا اس کے مولیٰ ہونے کا تو تمہیں یہ فائدہ اٹھانا چاہیے تھا کہ اس کے احکام کے مطابق زندگی گزارتے ‘ اس کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرتے اور پھر قیامت کے دن اس کی مہربانیوں سے فیض یاب ہوتے اور وہی چونکہ حقیقی خیر خواہ اور حمایتی ہے۔ جب ایمان و اطاعت کا سرمایہ لے کر اس کی بارگاہ میں پہنچتے تو کیسے کیسے اس کی محبت اور حمایت تمہارے کام آتی۔ لیکن تم نے اس کی ولایت اور حمایت چھوڑ کر نجانے کس کس کو مولیٰ بنایا اب جب کہ تم قیامت میں اس کی عدالت میں کھڑے کیے جاؤ گے تو وہاں تمہارے یہ شرکا جن کو تم اپنے مولیٰ اور اپنے سفارشی سمجھتے تھے ‘ تمہارے کسی کام نہیں آئیں گے۔ بلکہ وہ اس بات پر الٹا شاکی ہوں گے کہ ان بدبختوں نے ہمیں اللہ کا شریک کیوں بنایا۔ ہم نے تو ان سے ہرگز یہ نہیں کہا تھا کہ ہم اللہ کی صفات میں شریک ہیں۔ وہاں وہ بھی اسی کے حکم کے بندہ بےدام ہوں گے اور اسی کے حکم کے انتظار میں لرزاں و ترساں کھڑے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ سب سے بہتر حساب کرنے والا ہے آیت کے آخری حصے میں فرمایا وَھُوَ اَسْرَعُ الْحٰسِبِیْنَ وہ حساب لینے میں سب سے زیادہ تیز ہے۔ یہ اس لیے فرمایا گیا کہ مشرکین مکہ کو قیامت کے دن حساب کتاب کے سلسلے میں جو شبہات تھے ان میں ایک شبہ یہ تھا کہ اربوں کھربوں مخلوق کے بیشمار اعمال کا حساب آخر کس طرح ممکن ہوگا۔ اولاً تو یہ اعمال کسی کے علم میں ہی نہیں ہوں گے اور اگر مان بھی لیا جائے کہ اللہ ایک ایک آدمی کے عمل سے واقف ہے تو یہ بات تو کسی طرح بھی قرین عقل نہیں کہ اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات کا حساب لے ڈالے۔ اس لیے فرمایا کہ نادانو ! تم اللہ کو بھی اپنے اوپر قیاس کرتے ہو۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تھی اس وقت تو کسی کو یہ اندازہ نہیں ہوسکتا تھا کہ کبھی ایسی مشینیں بھی ایجاد ہوجائیں گی جو پوری پوری کمپنیوں کا حساب چند گھنٹوں میں ختم کردیں لیکن آج جبکہ اس طرح کے تجربات ہمارے سامنے ہیں ‘ آج بھی نجانے کتنے ذہن ہیں جن میں ابھی تک اس طرح کے واہمے تیر رہے ہیں۔ اس لیے فرمایا کہ تمہیں اللہ کے اگر کمال قدرت کا یقین ہو تو تمہارے لیے اتنی بات بس کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ سب سے تیز حساب لینے والا ہے۔ ظاہر ہے اس کی تیزی اس کی اپنی شان کے لائق ہے اور اس کے لیے تو شاید چند لمحوں کی بھی ضرورت نہ ہو۔ لیکن آنحضرت ﷺ نے محض ہمارے سمجھانے کی غرض سے معلوم ہوتا ہے ارشاد فرمایا کہ ” ساری دنیا کا حساب صبح سے لے کر دوپہر تک کے وقت میں ختم کردیا جائے گا “۔ یعنی اتنی دیر لگے گی جتنی دیر میں صبح سے دوپہر تک دن ڈھلتا ہے۔ اگلی آیات کریمہ میں انسان کی نفسیاتی کمزوری اور توحید پر ایک داخلی دلیل کی طرف توجہ دلائی ہے۔
Ayahs 6:63–64

قُلْ مَنْ یُّنَجِّیْكُمْ مِّنْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ تَدْعُوْنَهٗ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةً١ۚ لَئِنْ اَنْجٰىنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 6:63 in the Quran reader

ان سے پوچھو خشکی اور تری کی تاریکیوں سے ان کو کون نجات دیتا ہے جبکہ اسی کو تم پکارتے ہو گڑگڑا کر اور چپکے چپکے کہ اگر اس نے ہم کو نجات دے دی اس مصیبت سے تو ہم اس کے شکرگزار بندوں میں سے بن جائیں گے

قُلِ اللّٰهُ یُنَجِّیْكُمْ مِّنْهَا وَ مِنْ كُلِّ كَرْبٍ ثُمَّ اَنْتُمْ تُشْرِكُوْنَ Open ayah 6:64 in the Quran reader

کہہ دو اللہ ہی تم کو نجات دیتا ہے اس مصیبت سے بھی اور دوسری ہر تکلیف سے بھی لیکن تم پھر شرک کرنے لگتے ہو

ارشاد فرمایا : قُلْ مَنْ یُّنَجِّیْکُمْ مِّنْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ تَدْعُوْنَہٗ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَۃً ج لَئِنْ اَنْجٰنَا مِنْ ھٰذِہٖ لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الشّٰکِرِیْنَ ۔ قُلِ اللہ ُ یُنَجِّیْکُمْ مِّنْھَا وَمِنْ کُلِّ کَرْبٍ ثُمَّ اَنْتُمْ تُشْرِکُوْنَ ۔ (الانعام : 63۔ 64) (ان سے پوچھو خشکی اور تری کی تاریکیوں سے ان کو کون نجات دیتا ہے جبکہ اسی کو تم پکارتے ہو گڑگڑا کر اور چپکے چپکے کہ اگر اس نے ہم کو نجات دے دی اس مصیبت سے تو ہم اس کے شکرگزار بندوں میں سے بن جائیں گے ‘ کہہ دو اللہ ہی تم کو نجات دیتا ہے اس مصیبت سے بھی اور دوسری ہر تکلیف سے بھی لیکن تم پھر شرک کرنے لگتے ہو) انتہائی مصیبت میں انسان صرف اللہ کو پکارتا ہے اس آیت کریمہ میں نہایت اختصار سے کئی بےحد اہم باتوں کیطرف توجہ دلائی گئی ہے۔ سب سے پہلی بات یہ کہ اے مشرکینِ مکہ تمہیں چونکہ اللہ تعالیٰ کی بےپناہ قدرتوں کا یقین نہیں ہے۔ اس لیے تم کبھی قیامت کا مذاق اڑاتے ہو کہ قیامت کا وقوع کیسے ممکن ہے۔ کبھی اس میں حساب کتاب اور اعمال کی جانچ پرکھ کو استہزاء کا موضوع بناتے ہو اور کبھی عذاب کو مذاق کا نشانہ بناتے ہو ‘ یعنی تمہارا بنیادی روگ یہ ہے کہ تمہیں اللہ کی بےپناہ قدرتوں کا ادراک نہیں ہے اگر ایسا ہے تو اے پیغمبر ان سے پوچھئے کہ جب تم کبھی بر و بحر کی ظلمتوں یعنی مصیبتوں میں گھر جاتے ہو یعنی کبھی تمہارے بحری جہاز طوفان میں گھر جاتے ہیں یا خشکی کے کسی سفر میں تم طوفانِ باد و باراں کی نذر ہوجاتے ہو کیونکہ بعض دفعہ ناگہانی آفتیں جسطرح پانی کے سفر میں آتی ہیں ‘ خشکی کے سفر میں بھی تو آتی ہیں اسطرح کے پیش آنے والے واقعات میں تم بتائو تمہیں کون ان مصیبتوں سے نجات دیتا ہے اگر تم سمجھتے ہو کوئی اور نجات دیتا ہے تو اسکا نام لو لیکن اس سوال پر یقینا تمہاری زبانیں گنگ ہوجائیں گی۔ کیونکہ تمہارے اپنے تصورات میں بھی اسکا اور کوئی جواب ممکن نہیں کہ اللہ ہی ایسی مصیبتوں سے نجات دیتا ہے۔ جب حقیقت یہ ہے تو پھر تم بتائو تمہیں اس کے کمال قدرت کا یقین کیوں نہیں آتا اور تم اس کے علم اور قدرت کی وسعتوں پر ایمان کیوں نہیں لاتے ؟ دوسری بات ان کی داخلی کمزوری کو توحید کی دلیل کے طور پر بیان کیا گیا ہے کہ تم جب کبھی بر و بحر کی مصیبتوں میں گرفتار ہوجاتے ہو اور تمہیں یقین ہوجاتا ہے کہ اب ان مصیبتوں سے نجات دینے والا اللہ کے سوا اور کوئی نہیں تو پھر تم اسے گڑگڑا کر اور چپکے چپکے مدد کے لیے پکارتے ہو اور ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہو کہ اگر اللہ نے اس مصیبت سے ہمیں نجات دے دی تو ہم اس کے شکر گزار بندے بن جائیں گے۔ اب سوال یہ ہے کہ جو بات تمہیں مصیبتوں میں گھر کے سمجھ میں آتی ہے وہ تمہیں عام زندگی میں اور زندگی کی ہمہ ہمی میں اور آسودگیوں سے بہرہ ور ہوتے ہوئے اور خوشحالیوں میں شب و روز گزارتے ہوئے سمجھ کیوں نہیں آتی۔ بھنور میں پھنس کر تو تم اللہ کو پکارتے ہو لیکن جب کنارے پر آجاتے ہو تو تمہیں وہ شریک یاد آجاتے ہیں جو تم نے اللہ کے ساتھ بنا رکھے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہاری فطرت کی کچھ آلودگیاں ہیں جس نے تمہاری فطرت کو بگاڑ رکھا ہے اور وہ تم نے باطل عقائد اور غلط تصورات کے نتیجے میں پیدا کر رکھی ہیں۔ جب حالات کا دبائو تمہیں ان آلودگیوں سے آزاد کردیتا ہے اور تمہاری فطرت صحیح کام کرنے لگتی ہے تو تم اللہ کی وحدانیت کو نہ صرف سمجھنے لگتے ہو بلکہ اسے قبول بھی کرلیتے ہو۔ لیکن جب تمہیں پھر وہی گندا ماحول میسر آتا ہے تو جس طرح آنکھوں میں پانی اتر آئے تو آدمی دیکھنے سے معذورہو جاتا ہے یا کانوں میں پردہ آجائے تو آدمی سن نہیں سکتا اسی طرح تم بھی فطرت کی آواز سے محروم ہو کر شرک میں آلودہ ہوجاتے ہو۔ یہ وہ نہایت سہل اور آسان سی دلیل ہے جس کو ایک عام آدمی بھی سمجھ سکتا ہے اور یہی وہ دلیل ہے جس سے کئی لوگوں نے راہ راست پائی۔ پہلے بھی گزر چکا کہ ابوجہل کے بیٹے عکرمہ نے جو فتح مکہ کے بعد بھاگ کر یمن جانا چاہتے تھے اس لیے واپس پلٹ آئے کہ راستے میں جب ان کی کشتی طوفان میں پھنس گئی اور محسوس ہوا کہ اب بچنے کی کوئی صورت نہیں تو تمام مسافروں نے کہا کہ اب صرف اللہ ہی کو پکارنے کا وقت ہے اس کے سوا ہمیں اور کوئی نجات نہیں دے سکتا تو عکرمہ نے دل میں سوچا کہ یہی تو وہ بات ہے جس کی طرف ہمیں محمد رسول اللہ ﷺ بیس سال سے دعوت دے رہے ہیں۔ اگر یہ بات طوفان میں گھرکے صحیح ہے تو اپنے گھر میں صحیح کیوں نہیں۔ یہ دلیل ان کو واپس لے آئی اور وہ مشرف بہ اسلام ہو کر شہادت کے منصب کو پہنچے۔ آج بھی ہم اپنے گردوپیش میں بہت سارے ایسے واقعات دیکھتے ہیں کہ ایک آدمی جس نے کبھی مسجد کا راستہ نہیں دیکھا اور جس کی زبان پر کبھی اللہ کا نام تک نہیں آیا جو مذہب کو ایک مذاق کے سوا کچھ نہیں سمجھتا جب کبھی حالات کی گرفت میں آتا ہے اور مصائب اس کی کمر توڑ دیتے ہیں تو پھر چپکے چپکے راتوں کو چھپ کر اللہ کو پکارتا ہے اور اس کی مدد طلب کرتا ہے۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی داخلی زندگی میں اور اس کی فطرت میں اللہ کی وحدانیت کا ایک ایسا بےپناہ تصورموجود ہے جسے غلط تعلیم و تربیت کے ذریعہ دبایا تو جاسکتا ہے لیکن ختم نہیں کیا جاسکتا۔ تیسری چیز جو اس آیت کریمہ کے بین السطور میں جھلکتی ہے وہ یہ ہے کہ مشرکین مکہ کا بگاڑ یہ تھا کہ جب وہ مصیبتوں میں گھرتے تھے تو اللہ کو پکارتے تھے لیکن جب مصیبتوں سے نکل جاتے تو پھر اللہ سے بےنیاز ہوجاتے اور کبھی انھیں بھول کر بھی خدا کی یاد نہ آتی۔ بلکہ پھر وہی غلط اعتقادات اور غلط خیالات جو انھوں نے بنا رکھے تھے اسی کے مطابق زندگی گزارتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ بتوں کے پجاری تھے اور اللہ کے ساتھ نجانے انھوں نے کس کس کو شریک بنا رکھا تھا۔ بایں ہمہ ! مصیبت کے وقت ان کو اللہ ضرور یاد آتا تھا اور اسی لیے وہ خالصتاً اس کو پکارتے تھے لیکن اس قوم یا اس شخص کے بارے میں کیا رائے قائم کی جاسکتی ہے جو مصیبت کے وقت بھی اللہ کو یاد نہ کرے۔ ہم اس امت میں جو اللہ کو ایک مانتی ‘ رسول اللہ ﷺ کی رسالت کو تسلیم کرتی اور اسلامی شریعت کو قبول کرتی ہے ‘ ایسے بہت سے لوگوں کو جانتے ہیں کہ ان سارے اعتقادات کے باوجود وہ بیماریوں میں مبتلا ہو کر بھی اللہ کو کبھی یاد نہیں کرتے ‘ وہ علاج کی تلاش میں یورپ کا طواف کریں گے ‘ دنیا بھر کی خاک چھانیں گے ‘ ایک ایک آستانے پر جائیں گے۔ لیکن مصیبت کے ان لمحات میں بھی اللہ کے سامنے جھکنا اور اس کے سامنے ہاتھ پھیلانا انھیں گوارا نہیں ہوگا۔ اے کاش ہم اس بات کو سمجھتے کہ ہماری بہت ساری مصیبتیں ہماری بد اعمالیوں کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ قرآن کریم میں پروردگار نے فرمایا ہے : وَمَا اَصَابَکُمْ مِنْ مُّصِیْبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیْکُمْ وَ یَعْفُو عَنْ کَثِیْرٍ (الشوریٰ-30) (جو مصیبت تم کو پہنچتی ہے ‘ وہ تمہارے اعمالِ بد کا نتیجہ ہے اور بہت سے برے اعمال کو اللہ تعالیٰ معاف فرما دیتے ہیں) ایک حدیث میں آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ” قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ کسی انسان کو کسی لکڑی سے معمولی خراش لگتی ہے یا قدم کو کہیں لغزش ہوجاتی ہے یا کسی رگ میں خلش ہوتی ہے یہ سب کسی گناہ کا اثر ہوتا ہے اور جو گناہ اللہ تعالیٰ معاف فرما دیتے ہیں وہ بہت ہیں “۔ مقصد یہ ہے کہ مسلمان کو عام طور پر جب کبھی بیماریوں یا مصائب سے واسطہ پڑتا ہے تو یہ مصائب مسلمانوں کے لیے ایک طرح کی رحمت ہوتے ہیں کہ ان کے ذریعے غافل انسانوں کو چونکایا جاتا ہے تاکہ وہ اپنے اعمالِ بد کا جائزہ لے کر ان سے باز آنے کی فکر میں لگ جائیں اور آخرت کی بڑی اور سخت سزا سے محفوظ رہیں۔ ظاہری اسباب سے کام لینا غلط یا ممنوع نہیں۔ لیکن صرف ظاہری اسباب پر بھروسہ کر کے بیٹھ جانا اور مصیبتوں میں کبھی اللہ کی طرف متوجہ نہ ہونا یہ تو ایک ایسا مکروہ عمل ہے جو مشرکین مکہ کے عمل سے بھی بدتر ہے۔ وہ بھی کم از کم ایسی ناگفتہ بہ حالت میں وقتی طور پر ہی سہی اللہ کی طرف رجوع کرتے تھے اور ہم اگر بالکل اس کی طرف رجوع نہ کریں اور پھر ہم صاحب ایمان بھی ہوں تو اندازہ کریں یہ کس قدر غلط بات ہے۔ مشرکین مکہ کو عذاب نہ آنے کی وجہ سے جب کہ وہ اس کا بار بار مطالبہ کر رہے تھے یہ شبہ ہو رہا تھا کہ شاید عذاب لانا اللہ تعالیٰ کے بس میں نہیں اس لیے ان کی بات کا جواب دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی صفت علم اور صفت قدرت کو واضح کرنا ضروری سمجھا گیا۔ لیکن اب پھر اصل مضمون کو بحث کے اختتام کے طور پر لے لیا گیا ہے اور ایک اچھوتے انداز سے نہایت موثر انداز میں اس کا تذکرہ فرمایا جا رہا ہے۔