8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsاحکام القرآن

Ayahs 8:1–6

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْاَنْفَالِ١ؕ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَصْلِحُوْا ذَاتَ بَیْنِكُمْ١۪ وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 8:1 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ ! مجاہد لوگ) تم سے غنیمت کے مال کے بارے میں دریافت کرتے ہیں (کہ کیا حکم ہے) کہہ دو کہ غنیمت خدا اور اس کے رسول کا مال ہے۔ تو خدا سے ڈرو اور آپس میں صلح رکھو۔ اور اگر ایمان رکھتے ہو تو خدا اور اس کے رسول کے حکم پر چلو۔

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ اِذَا تُلِیَتْ عَلَیْهِمْ اٰیٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِیْمَانًا وَّ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚۖ Open ayah 8:2 in the Quran reader

مومن تو وہ ہے مہ جب خدا کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب انہیں اسکی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان کا ایمان اور بڑھ جاتا ہے اور وہ اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں۔

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَؕ Open ayah 8:3 in the Quran reader

(اور) وہ جو نماز پڑھتے ہیں اور جو مال ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے (نیک کاموں میں) خرچ کرتے ہیں۔

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا١ؕ لَهُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ مَغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌۚ Open ayah 8:4 in the Quran reader

یہی سچے مومن ہیں۔ اور ان کے لئے پروردگار کے ہاں (بڑے بڑے) درجے اور بخشش اور عزت کی روزی ہے۔

كَمَاۤ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْۢ بَیْتِكَ بِالْحَقِّ١۪ وَ اِنَّ فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ لَكٰرِهُوْنَۙ Open ayah 8:5 in the Quran reader

(ان لوگوں کو اپنے گھروں سے اس طرح نکلنا چاہئے تھا) جس طرح تمہارے پروردگار نے تم کو تدبیر کے ساتھ اپنے گھر سے نکالا اور (اس وقت) مومنوں کی ایک جماعت ناخوش تھی۔

یُجَادِلُوْنَكَ فِی الْحَقِّ بَعْدَ مَا تَبَیَّنَ كَاَنَّمَا یُسَاقُوْنَ اِلَى الْمَوْتِ وَ هُمْ یَنْظُرُوْنَؕ Open ayah 8:6 in the Quran reader

وہ لوگ حق بات میں اس کے ظاہر ہوئے پیچھے تم سے جھگڑنے لگے۔ گویا موت کی طرف ڈھکیلے جاتے ہیں اور اسے دیکھ رہے ہیں۔

سورة الانفال مال غنیمت اور اس کے احکام ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس ؓ مجاہد، ضحاک ، قتادہ، عکرمہ اور عطاء کا قول ہے کہ انفال غنائم کو کہتے ہیں۔ عطاء نے حضرت ابن عباس ؓ سے ایک اور روایت کی ہے کہ انفال ان تمام چیزوں کا نام ہے جو مشرکین سے قتال کے بغیر مسلمانوں کے ہاتھ لگیں خواہ وہ کوئی سواری ہو غلام یا مال ومتاع۔ اسی لئے حضور ﷺ کو یہ اختیار تھا کہ آپ ان چیزوں کو جہاں چاہیں کھپا دیں۔ مجاہد سے ایک روایت ہے کہ انفال خمس یعنی مال غنیمت کے پانچویں حصے کو کہتے ہیں جو ان لوگوں کا حق ہوتا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے ان کا حق دار ٹھہرایا ہے جن کا قول ہے کہ انفال کا تعلق ان فوجی دستوں سے تھا جو اصل فوج کے آگے آگے ہوتے تھے۔ لغت میں نفل اس چیز کو کہتے ہیں جو اصل حق سے زائد ہوتی ہے۔ اسی سے نافلہ کا لفظ بنا ہے جو تطوع کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے ہمارے نزدیک نفل مال غنیمت محفوظ کرلینے سے پہلے دیا جاتا ہے لیکن اس کے بعد یہ صرف پانچویں حصے سے دیا جاسکتا ہے۔ وہ اس طرح کہ سپہ سالار یا امام کسی سر یہ یعنی فوجی دستے سے کہہ دے کر خمس نکالنے کے بعد تمہارے لئے چوتھائی حصہ ہوگا۔ یاخمس نکالنے سے پہلے پورے مال غنیمت میں سے چوتھائی حصہ ہوگا یا یوں اعلان کر دے کہ جس شخص کو جو چیز ہاتھ لگے وہ اس کی ہوگی، یہ بات قتال پر ابھارنے اور دشمن کے خلاف بھڑکانے کی خاطر کہی جائے۔ یا یوں کہے کہ جس شخص نے کسی دشمن کو قتل کردیا اسے اس کا سارا سامان یعنی سلب مل جائے گا لیکن جب مال غنیمت محفوظ کرلیا جائے تو پھر امام کے لئے لشکر کے حصے میں سے کسی کو بطور نفل کچھ دینا جائز نہیں ہوگا۔ تاہم اس کے لئے پانچویں حصے میں سے کسی کو بطور نفل کچھ دے دینا بھی جائز ہوگا۔ اس آیت کے نزول کے سبب کے متعلق اختلاف رائے ہے۔ حضرت سعد ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا : جنگ بدر میں ایک تلوار میرے ہاتھ لگی میں اسے لے کر حضور ﷺ کے پاس آگیا اور عرض کیا کہ یہ تلوار مجھے بطور نفل دے دیجئے “۔ آپ ﷺ نے یہ سن کر فرمایا کہ اسے تم نے جہاں سے اٹھایا ہے وہیں لے جا کر رکھ دو “۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی یسئلونک عن الانفال۔ تم سے انفال کے متعلق پوچھتے ہیں۔ پھر حضور ﷺ نے مجھے بلا کر فرمایا کہ جائو اور جا کر اپنی تلوار لے لو “۔ معاویہ بن صالح نے علی بن ابی طلحہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے قول باری یسئلونک عن الانفال کی تفسیر میں روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا :” انفال ان غنائم کا نام تھا جو صرف حضور ﷺ کے لئے مخصوص ہوتے تھے اور ان میں کسی اور کا کوئی حصہ نہیں ہوتا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی واعلموا انما غنمتم من شئی فان اللہ خمسہ وللرسول اور تمہیں معلوم ہو کہ جو کچھ مال غنیمات تم نے حاصل کیا ہے ان کا پانچواں حصہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ ……کا ہے) تا آخر آیت۔ ابن جریج نے کہا ہے کہ مجھے سلیمان نے مجاہد سے یہ بات بتائی ہے۔ حضرت عبادہ بن الصامت ؓ اور حضرت ابن عباس ؓ اور دیگر حضرات کا قول ہے کہ حضور ﷺ نے معرکہ بدر کے دن مختلف انفال تقسیم کئے آپ ﷺ نے فرمایا جس شخص کو کوئی چیز ہاتھ لگی ہو وہ اس کی ہے “۔ اس پر صحابہ کرام کے درمیان اختلاف پیدا ہوگیا، کچھ لوگ تو اس بارے میں ہماری رائے رکھتے تھے جبکہ کچھ دوسرے حضرات یہ کہتے تھے کہ ہم نے حضور ﷺ کی حفاظت کی اور آپ ﷺ کے گرد اپنی جانوں کا حلقہ باندھ دیا جب ہمارے اختلافات بڑھ گئے اور ہمارے اخلاق بگڑ گئے تو اللہ تعالیٰ نے وہ سارا مال ہمارے ہاتھوں سے چھین کر اپنے رسول ﷺ کے حوالے کردیا جسے آپ ﷺ نے خمس نکالنے کے بعد تمام لوگوں میں تقسیم کردیا۔ اس میں تقویٰ اور حضور ﷺ کی اطاعت اور آپس کے تعلقات کو درست کرنے کی بات تھی) اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یسئلونک عن الانفال قل لانفال للہ وللرسول) حضرت عبادہ بن الصامت فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا تھا لیروقوی المسلمین علی ضعیفھم۔ مسلمانوں میں سے جو قوی اور طاقت ور ہیں وہ کمزوروں پر اس مال کو لوٹا دیں) اعمش نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا تھا تم سے پہلے سیاہ سر رکھنے والی کسی قوم کے لئے مال غنیمت حلال نہیں تھا۔ آسمان سے ایک آگ اترتی اور مال غنیمت کو جلا دیتی “۔ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ معرکہ بدر کے دن لوگوں نے مال غنیمت کے لئے بڑی جلد بازی کا مظاہرہ کیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی لولاکتاب من اللہ سبق لمستکم فیما اخذتم عذاب عظیم فکلوا مما غنمتم حلالاً طیباً اگر اللہ کا نوشتہ پہلے نہ لکھا جا چکا ہوتا تو جو کچھ تم لوگوں نے کیا ہے اس کی پاداش میں تم کو بڑی سزا دی جاتی۔ پس جو کچھ تم نے حاصل کیا ہے اسے کھائو کہ وہ حلال اور پاک ہے) ۔ حضرت عبادہ ؓ اور حضرت ابن عباس ؓ کی روایت میں یہ ذک رہے کہ حضور ﷺ نے معرکہ بدر کے دن جنگ شروع ہونے سے قبل اعلان فرمایا تھا ” جو چیز کسی کے ہاتھ آئے وہ اس کی ہوگی “۔ نیز ” جو شخص کسی کو قتل کر دے گا اس کا سامان اسے مل جائے گا “۔ اور قول کے مطابق یہ بات غلط ہے بلکہ حضور ﷺ نے معرکہ حنین کے روز یہ اعلان فرمایا تھا من قتل قتیلا فلہ سلبہ جو شخص کسی کو قتل کرے گا اس کا سامان اسے مل جائے گا) درج بالا بات کے غلط ہونے کی وجہ یہ ہے کہ حضور ﷺ سے یہ مروی ہے کہ آپ نے فرمایا تھا لم تحل الغنائم لقوم سودالروس غیرکم۔ تمہارے سوا سیاہ سر رکھنے والی کسی قول کے لئے مال غنیمت حلال نہیں تھا) نیز یہ کہ قول باری یسئلونک عن الانفال) کا نزول میدان بدر میں مال غنیمت سمیٹ لینے کے بعد ہوا تھا۔ اس سے ہمیں یہ بات معلوم ہوئی کہ جن حضرات نے یہ نقل کیا ہے کہ حضور ﷺ نے جنگ شروع ہونے سے پہلے جو چیز جس کے ہاتھ لگی تھی وہ اسے بطور نفل دے دی تھی ان کی یہ روایت غلط ہے کیونکہ مال غنیمت کی اباحت جنگ کے بعد ہوئی تھی۔ اس بات کے غلط ہونے پر یہ امر بھی دلالت کرتا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا تھا من اخذشیئاً فھولہ) نیز فرمایا تھا من قتل قتیلاً فلہ کذا) پھر آپ ﷺ نے مال غنیمت لوگوں کے درمیان مساوی طور پر تقسیم کردیا۔ اس روایت کے غلط ہونے کا یہیں سے پتہ چلتا ہے کیونکہ حضور ﷺ کی ذات سے وعدہ خلافی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی یہ سوچا جاسکتا ہے کہ آپ ایک شخص کے لئے کوئی چیز مخصوص کردیں اور پھر اس سے وہ چیز لے کر کسی اور کو دے دیں اس بارے میں درست بات یہ ہے کہ جنگ شروع ہونے سے پہلے حضور ﷺ کی طرف سے مال غنیمت کے متعلق کوئی اعلان نہیں ہوا تھا۔ پھر جب مسلمان جنگ سے فارغ ہوگئے اور مال غنیمت کی تقسیم کے سلسلے میں تنازعہ اٹھ کھڑا ہوا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی یسئلونک عن الانفال) اللہ تعالیٰ نے مال غنیمت کا معاملہ حضور ﷺ کے سپرد کردیا کہ اس میں جس کو جتنا چاہیں دے دیں آپ ﷺ نے سارا مال لوگوں کے درمیان مساوی طور پر تقسیم کردیا۔ پھر یہ حکم اس قول باری کے ذریعہ منسوخ کردیا گیا (واعلموا انما غنمتم من شئی) تا آخر آیت جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد سے مروی ہے کہ آپ نے پانچواں حصہ اپنے اہل کو اور ان مسلمانوں کو دے دیا جن کا آیت میں ذکر ہے اور باقی چار حصے جنگ میں شریک ہونے والوں کے درمیان تقسیم کردیئے حضور ﷺ نے سوار اور پیدل سپاہی کے حصول کی بھی وضاحت فرما دی تھی۔ مال غنیمت اکٹھا کرلینے سے پہلے کسی کو بطور نفل کچھ دے دینے کا حکم باقی رہ گیا۔ مثلاً امام یا سالار لشکر یہ اعلان کر دے “۔ جو شخص کسی دشمن کو قتل کر دے گا اس کا سامان اسے مل جائے گا “ یا ” جو چیز کسی کے ہاتھ آجائے گی وہ اس کی ہوگی “۔ اسی طرح خمس میں سے کسی کو بطور نفل کچھ دے دینے کا حکم بھی باقی رہ گیا، اسی طرح قتال کے بغیر مشرکین کا کوئی گرا پڑا مال بھی اسی حکم کے تحت رہا۔ یہ تمام مال نفل کے ذیل میں آتا تھا اور حضور ﷺ کو یہ اختیار تھا کہ اس میں سے جس کو جتنا چاہیں دے دیں۔ اس نفل کا حکم منسوخ ہوگیا تھا جو مال غنیمت اکٹھا ہوجانے کے بعد خمس کے ماسوا باقی ماندہ چار حصوں میں سے کسی کو دے دیا جاتا۔ غزوہ بدر میں ہاتھ آنے والے مال غنیمت کی تقسیم حضور ﷺ نے اپنی صوابدید کے مطابق کی تھی اور وہ تقسیم اس طرح نہیں تھی جس طرح اب غنائم کی تقسیم ہوتی ہے اس پر یہ بات دلالت کرتی ہے کہ حضور ﷺ نے بدر کے موقع پر سارا مال غنیمت جنگ کے شرکاء میں مساوی طور پر تقسیم کردیا تھا اور اس میں سے خمس بھی علیحدہ نہیں کیا تھا۔ اس موقع پر جو تقسیم ہوئی وہ اگر اس تقسیم کے مطابق ہوتی جس پر تقسیم غنائم کے حکم کو استقرار ہوگیا تھا تو پھر آپ خمس ضرور نکالتے اور سوار سپاہی کو پیدل سپاہی سے زیادہ حصہ دیتے۔ اس موقع پر پورے لشکر میں صرف دو گھوڑے تھے۔ ایک حضور ﷺ کا اور دوسرا حضرت مقداد ؓ بن الاسود کا۔ جب آپ ﷺ نے غنائم بدر کو تمام شرکاء کے درمیان مساوی طور پر تقسیم کردیا تو ہمیں اس سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ قول باری قل الانفال للہ والرسول) تقسیم غنائم کا معاملہ حضور ﷺ کو تفویض کرنے کا مقتضی ہے تاکہ اپنی صوابدید کے مطابق جس کو جتنا چاہیں دے دیں پھر مال غنیمت محفوظ کرلینے کے بعد کسی کو بطور نفل کچھ دینے کا حکم منسوخ ہوگیا لیکن مال غنیمت کو محفوظ کرلینے سے قبل لشکر اسلامی کو قتال پر ابھارنے اور انہیں دشمنوں کے خلاف پر انگیختہ کرنے کی خاطر کسی کو بطور نفل کچھ دے دینے کا حکم باقی رہ گیا۔ اسی طرح اس مال کو بطور نفل دینے کا حکم بھی باقی رہ گیا جو قتال کے بغیر مسلمانوں کے ہاتھ آجائے نیز اس مال کا بھی جس کی تقسیم نہ ہوسکتی ہو اور اس کے ساتھ خمس میں سے کسی کو کچھ دے دینے کا حکم بھی۔ یوم بدر کے موقع پر حضور ﷺ نے یہ اعلان نہیں کیا تھا کہ من اصاب شیئاً فھولہ جو شے کسی کے ہاتھ آجائے وہ اس کی ہوگی) یا یہ کہ آپ ﷺ نے یہ فرمایا تھا کہ من قتل قتیلاً فلہ سلبہ۔ جو شخص دشمن کے کسی آدمی کو قتل کر دے گا اسے مقتول کا سامان مل جائے گا۔ جس روایت میں یہ ذکر ہے کہ آپ ﷺ نے یوم بدر کے موقع پر یہ دونوں اعلانات کئے تھے اس کے غلط ہونے پر یہ روایت دلالت کرتی ہے جو ہمیں محمد بن بکر نے سنائی۔ انہیں ابودائود نے انہیں ہناد بن السری نے ابوبکر سے انہوں نے عاصم سے انہوں نے مصعب بن سعد سے انہوں نے اپنے والد سے وہ فرماتے ہیں کہ میں معرکہ بدر کے موقع پر ایک تلوار لے کر حضور ﷺ کی خدمت میں آیا اور عرض کیا :” اللہ کے رسول، آج اللہ تعالیٰ نے دشمنوں کے خلاف میرے دل میں لگی ہوئی آگ کو ٹھنڈا کردیا ہے اس لئے یہ تلوار مجھے بطور ہبہ عطا کر دیجئے۔ یہ سن کر آپ ﷺ نے فرمایا :” یہ تلوار نہ میری ہے اور نہ تمہاری “۔ جب آپ ﷺ نے یہ فرمایا تو میں یہ سوچتے ہوئے واپس چلا گیا کہ آج یہ تلوار اس شخص کو مل جائے گی جس کی کارکردگی مجھ سے کم تر ہوگی۔ میں ابھی اسی سوچ میں تھا کہ اتنے میں حضور ﷺ کا قاصد مجھے بلانے آگیا میں نے سوچا کہ جو گفتگو میں نے آپ سے کی تھی اس کے متعلق شاید میرے بارے میں خدا کی طرسے کوئی حکم نازل ہوا ہے چناچہ میں حاضر ہوگیا مجھے دیکھتے ہی آپ ﷺ نے فرمایا :” تم نے مجھ سے یہ تلوار مانگی تھی اس وقت تک یہ تلوار نہ میر ی تھی نہ تمہاری، اب اللہ تعالیٰ نے اسے میری ملکیت میں دے دیا ہے اس لئے میں اسے تمہیں دیتا ہوں “۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ یسئلونک عن الانفال قل الانفال للہ والرسول) حضور ﷺ نے یہ بات بتادی کہ سورة انفال کے نزول سے پہلے وہ تلوار نہ تو آپ کی ملکیت تھی نہ حضرت سعد ؓ کی۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے یہ معاملہ آپ ﷺ کے ہاتھ میں دے دیا تو آپ ﷺ نے اس کی ملکیت کے لئے حضرت سعد کو ترجیح دی۔ اس پوری روایت میں اس روایت کے فساد کی دلیل موجود ہے جس میں یہ ذکر ہے کہ حضور ﷺ نے جنگ شروع ہونے سے پہلے لوگوں کو بطور نفل کچھ دینے کا اعلان ان الفاظ میں فرمایا تھا کہ من اخذشیئاً فھولہ)
Ayahs 8:7–8

وَ اِذْ یَعِدُكُمُ اللّٰهُ اِحْدَى الطَّآئِفَتَیْنِ اَنَّهَا لَكُمْ وَ تَوَدُّوْنَ اَنَّ غَیْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُوْنُ لَكُمْ وَ یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَ یَقْطَعَ دَابِرَ الْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 8:7 in the Quran reader

اور (اس وقت کو یاد کرو) جب خدا تم سے وعدہ کرتا تھا کہ (ابو سفیان اور ابو جہل کے) دو گرہوں میں ایک گردہ تمہارا مسخر) ہوجائے گا۔ اور تم چاہتے تھے کہ جو قافلہ بے (شان و) شوکت (یعنی بےہتھیار) ہے وہ تمہارے ہاتھ آجائے اور خدا چاہتا تھا کہ اپنے فرمان سے حق کو قائم رکھے اور جو کافروں کی جڑ کاٹ کر (پھینک) دے۔

لِیُحِقَّ الْحَقَّ وَ یُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَۚ Open ayah 8:8 in the Quran reader

تاکہ سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کر دے۔ گو مشرک ناخوش ہی ہوں۔

غزو بدر میں وعدہ خداوندی قول باری ہے واذیعدکم اللہ احدی الطائفتین انھالکم۔ یاد کرو وہ موقع جب کہ اللہ تم سے وعدہ کر رہا تھا کہ دونوں گروہوں میں سے ایک تمہیں مل جائے گا) اس واقعہ میں حضور ﷺ کی نبوت کی صداقت کے کئی دلائل موجود ہیں ایک تو یہ کہ آپ نے لوگوں کو یہ بتادیا تھا کہ قافلہ قریش اور لشکر قریش میں سے ایک کے ساتھ مسلمانوں کو واسطہ پڑے گا قریش کا یہ تجارتی قافلہ واپسی کے سفر پر تھا اور اس میں پورے قریش کا سرمایہ لگا ہوا تھا اس کی حفاظت اور حمایت کے لئے قریش کا لشکر مکہ سے چل پڑا تھا پھر وہی کچھ ہوا جس کا آیت میں وعدہ کیا گیا تھا۔ قول باری ہے وتودون ان غیر ذات الشوکۃ تکون لکم۔ اور تم چاہتے تھے کہ کمزور گروہ تمہیں ملے) یعنی مسلمان تجارتی قافلے پر کامیابی حاصل کرنا چاہتے تھے اس لئے کہ اس میں مال و اسباب کی فراوانی تھی اور معرکہ آرائی کی کم سے کم گنجائش مسلمانوں کو یہ خیال اس لئے آیا تھا کہ وہ جنگ کی پوری تیاری کر کے نہیں نکلے تھے۔ انہیں یہ خیال بھی نہیں تھا کہ قریش والے ان سے پنجہ آزمائی کے لئے آدھمکیں گے۔ قول باری ہے ویریداللہ ان یحق الحق بکلماتہ ویقطح دابر الکافرین۔ مگر اللہ کا ارادہ یہ تھا کہ اپنے ارشادات سے حق کو حق کر دکھائے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے) اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے کافروں کی جڑ کاٹ کر رکھ دینے اور انہیں تہ تیغ کرنے کا جو عدہ فرمایا تھا اس آیت میں اس وعدے کی تکمیل کی طرف اشارہ ہے۔
Ayahs 8:9–10

اِذْ تَسْتَغِیْثُوْنَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ اَنِّیْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُرْدِفِیْنَ Open ayah 8:9 in the Quran reader

جب تم اپنے پروردگار سے فریاد کرتے تھے تو اس نے تمہاری دعا قبول کرلی (اور فرمایا کہ) (تسلی رکھو) ہم ہزار فرشتوں سے جو ایک دوسرے کے پیچھے آتے جائیں گے تمہاری مدد کریں گے۔

وَ مَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰى وَ لِتَطْمَئِنَّ بِهٖ قُلُوْبُكُمْ١ۚ وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 8:10 in the Quran reader

اور اس مدد کو خدا نے محض بشارت بنایا تھا کہ تمہارے دل اس سے اطمینان حاصل کریں۔ اور مدد تو اللہ ہی کی طرف سے ہے بیشک خدا غالب حکمت والا ہے۔

فرشتوں کے ذریعہ مدد قول باری ہے فاستجاب لکم انی ممدکم بالف من الملائکۃ مردفین وما جعلہ اللہ الا بشری ولتطمین بہ قلوبکم۔ جواب میں اس نے فرمایا کہ میں تمہاری مدد کے لئے پے در پے ایک ہزار فرشتے بھیج رہا ہوں۔ یہ بات اللہ نے تمہیں صرف اس لئے بتادی کہ تمہیں خوشخبری ہو اور تمہارے دل مطمئن ہوجائیں) یہ تمام باتیں واقعاتی طور پر اسی طرح پیش آئیں جس طرح آیت میں بتائی گئی تھیں اور اس طرح یہ باتیں مسلمانوں کے دلوں میں طمانیت کا ذریعہ بن گئیں۔
Ayahs 8:11–15

اِذْ یُغَشِّیْكُمُ النُّعَاسَ اَمَنَةً مِّنْهُ وَ یُنَزِّلُ عَلَیْكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً لِّیُطَهِّرَكُمْ بِهٖ وَ یُذْهِبَ عَنْكُمْ رِجْزَ الشَّیْطٰنِ وَ لِیَرْبِطَ عَلٰى قُلُوْبِكُمْ وَ یُثَبِّتَ بِهِ الْاَقْدَامَؕ Open ayah 8:11 in the Quran reader

جب اس نے (تمہاری) تسکین کے لئے اپنی طرف سے تمہیں نیند (کی چادر) اڑھا دی اور تم پر آسمان سے پانی برسا دیا تاکہ تم کو اس سے (نہلا کر) پاک کر دے اور شیطانی نجاست کو تم سے دور کر دے۔ اور اس لئے بھی کہ تمہارے دلوں کو مضبوط کر دے اور اس سے تمہارے پاؤں جمائے رکھے۔

اِذْ یُوْحِیْ رَبُّكَ اِلَى الْمَلٰٓئِكَةِ اَنِّیْ مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ سَاُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَ اضْرِبُوْا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍؕ Open ayah 8:12 in the Quran reader

جب تمہارا پروردگار فرشتوں کو ارشاد فرماتا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ تم مومنوں کو تسلی دو کہ ثابت قدم رہیں۔ میں ابھی ابھی کافروں کے دلوں میں رعب اور ہیبت ڈالے دیتا ہوں تو ان کے سر مار (کر) اڑا دو اور اس کا پور پور مار (کر توڑ) دو ۔

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَآقُّوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ۚ وَ مَنْ یُّشَاقِقِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 8:13 in the Quran reader

یہ (سزا) اس لئے دی گئی کہ انہوں نے خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کی اور جو شخص خدا اور اسکے رسول کی مخالفت کرتا ہے۔ تو خدا بھی سخت عذاب دینے والا ہے۔

ذٰلِكُمْ فَذُوْقُوْهُ وَ اَنَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابَ النَّارِ Open ayah 8:14 in the Quran reader

یہ (مزہ تو یہاں) چکھو اور یہ (جانے رہو) کہ کافروں کے لئے (آخرت میں) دوزخ کا عذاب (بھی تیار ہے)

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوْهُمُ الْاَدْبَارَۚ Open ayah 8:15 in the Quran reader

اے اہل ایمان ! جب میدان جنگ میں کفار سے تمہارا مقابلہ ہو تو ان سے پیٹھ نہ پھیرنا۔

دوران جنگ نیند قول باری ہے اذیغشیکم العناس امنۃ منہ۔ اور وہ وقت جبکہ اللہ نے اپنی طرف سے غنودگی کی شکل میں تم پر اطمینان اور بےخوفی کی کیفیت طاری کردی تھی جب کیل کانٹے سے مسلح دشمن کو اپنے بالمقابل صف آرا دیکھ کر عام حالات میں نیند اڑجاتی ہے خاص طور پر جبکہ دشمن ا ن سے کئی گناہ تھا۔ بارش کے ذریعہ مدد پھر فرمایا وینزل علیکم من السماء ماء لیطھرکم بہ۔ اور آسمان سے تمہارے اوپر پانی برسا رہا تھا تاکہ تمہیں پاک کرے) یعنی جنابت سے پاک کرے اس لئے کہ اسلامی لشکر میں کچھ افراد ایسے تھے جنہیں غسل جنابت کی ضرورت تھی۔ جنابت شیطان کی ڈالی ہوئی نجاست ہے اس لئے کہ اس کے وسوسے کی بنا پر یہ صورت پیش آتی ہے۔ قول باری ہے ولیربط علی قلوبکم۔ اور تاکہ تمہاری ہمت بندھا دے) یعنی مسلمانوں کے دلوں میں جو سکون اور اطمینان پیدا ہوگیا تھا اور اللہ کے وعدے پر انہوں نے جس طرح بھروسا کرلیا تھا اس کی بنا پر ان کی ہمت بندھ گئی تھی۔ قول باری ہے ویثبتہ بہ الاقدام۔ اور اس کے ذریعے سے تمہارے قدم جما دے) قدم جمانے کی بات میں دو احتمال ہیں، ایک تو یہ کہ صحت بصیرت، امن و اطمینان اور اللہ کے وعدے پر بھروسہ یہ تمام باتیں قدم جمانے کا موجب بن گئیں۔ دوم یہ کہ مسلمانوں کا پڑائو جس جگہ تھا وہ ریتلی اور نرم جگہ تھی اس میں قدم دھنس جاتے تھے۔ جب بارش ہوئی تو ریت کی تہہ جم گئی جس کی بنا پر انکے قدم سطح زمین پر ٹکنے لگے۔ تفسیر میں اس بات کی روایت کی گئی ہے۔ قول باری اذیوحی ربک الی الملئکۃ معکم۔ اور وہ وقت جبکہ تمہارا رب فرشتوں کو اشارہ کر رہا تھا کہ ” میں تمہارے ساتھ ہوں “۔ یعنی تمہاری مدد کروں گا فثبتوا الذین امنو۔ تم اہل ایمان کو ثابت قدم رکھو) اس میں دو صورتوں کا احتمال ہے ایک تو فرشتوں کی طرف سے یہ بات مسلمانوں کے دلوں میں ڈال دی گئی اور انہیں آگاہ کردیا گیا کہ اللہ تعالیٰ عنقریب ا ن کی مدد کرے گا۔ یہ چیز مسلمانوں کے قدم جمنے اور کافروں کے قدم اکھڑنے کا سبب بن گئی اور دوسرا احتمال یہ ہے کہ حضور ﷺ نے مسلمانوں کو آگاہ کردیا تھا کہ اللہ تعالیٰ عنقریب آپ کی اور مسلمانوں کی مدد کرے گا۔ حضور ﷺ کی طرف سے اس بات کی اطلاع مسلمانوں کو ثابت قدم رہنے کی دعوت اور پکار بن گئی۔
Ayah 8:16

وَ مَنْ یُّوَلِّهِمْ یَوْمَئِذٍ دُبُرَهٗۤ اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَیِّزًا اِلٰى فِئَةٍ فَقَدْ بَآءَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ مَاْوٰىهُ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 8:16 in the Quran reader

اور جو شخص جنگ کے روز اس صورت کے سوا کہ لڑائی کے لئے کنارے کنارے چلے (یعنی حکمت عملی سے دشمن کو مارے) یا اپنی فوج میں جا ملنا چاہے۔ ان سے پیٹھ پھیرے گا تو (سمجھو کہ) وہ خدا کے غضب میں گرفتار ہوگیا اور اسکا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے۔

دشمن کی طرف جانے والے لشکر سے فرار کا بیان قول باری ہے ومن یولھم یومئذدبرہ الامتحرفاً لقتال اومتحیزاً الی فئۃ فقد باء بغضب من اللہ وماولہ جھنم۔ جس نے ایسے موقع پر پیٹھ پھیری۔ الایہ کہ جنگی چال کے طور پر ایسا کرے یا کسی دوسری فوج سے جا ملنے کے لئے۔ تو وہ اللہ کے غضب میں گھر جائے گا اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہوگا) ابونضرہ نے حضرت ابوسعید ؓ سے روایت کی ہے کہ یہ بات معرکہ بدر کے لئے کہی گئی تھی ابونضرہ کہتے ہیں کہ اگر اس دن مسلمان کسی دوسری فوج سے جا ملتے تو وہ مشرکین کی فوج کے سوا اور کوئی فوج نہ ہوتی اس لئے کہ ان مسلمانوں کے سوا اس دن مسلمانوں کا کوئی اور جتھا نہیں تھا۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ ابونضرہ کی یہ بات درست نہیں ہے اس لئے کہ مدینہ کے اندر انصار کے بہت سے لوگ موجود تھے حضور ﷺ نے انہیں اسلامی لشکر کے ساتھ چلنے کا حکم نہیں دیا تھا اور خود یہ لوگ جنگ کے امکان کے بارے میں سوچ نہیں رہے تھے۔ انکا خیال تھا کہ بس تجارتی قافلے سے مڈبھیڑ ہوگی اس لئے حضور ﷺ ان ہی لوگوں کے ساتھ نکل کھڑے ہوئے جو آپ ﷺ کے ساتھ چل پڑے تھے۔ اس لئے ا بونضرہ کا یہ قول غلط ہے کہ اس دن بدر کے میدان میں موجود مسلمانوں کے سوا اور کہیں مسلمان نہیں تھے۔ نیز یہ کہ اگر مسلمان کسی فوج کے ساتھ جا ملتے تو وہ مشرکین کی فوج ہوتی۔ ایک قول یہ ہے کہ اس دن مسلمانوں کے لئے کسی اور فوج کے ساتھ جا ملنا جائز ہی نہیں تھا اس لئے کہ مسلمان حضور ﷺ کی معیت میں تھے اور حضور ﷺ کی معیت چھوڑ کر کسی اور کی معیت اختیار کرلینا جائز نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ماکان لاھل المدینۃ ومن حولھم من الاعراب ان یتخلفوا عن رسول اللہ ولایرغبوا بانفسھم عن نفسہ۔ مدینے کے باشندوں اور گرد و نواح کے بدویوں کو یہ ہرگز زیبا نہ تھا کہ اللہ کے رسول ﷺ کو چھوڑ کر گھر بیٹھ رہتے اور اس کی طرف سے بےپروا ہو کر اپنے اپنے نفس کی کر میں لگ جاتے) اس لئے مسلمانوں کے واسطے حضور ﷺ کا ساتھ چھوڑ کر واپس ہوجانا اور آپ کو تنہا چھوڑ جانا جائز ہی نہیں تھا اگرچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی مدد اور لوگوں سے آپ کی حفاظت کی ذمہ داری خود اٹھانی تھی چناچہ ارشاد باری ہے واللہ یعصمک من الناس۔ اللہ تعالیٰ آپ کو لوگوں سے محفوظ رکھے گا) حضور ﷺ کا ساتھ دینا مسلمانوں پر فرض تھا خواہ دشمنوں کی تعداد زیادہ ہوتی یا کم۔ نیز آیت زیر بحث میں وارد لفظ فئۃ کا اس دن مصداق حضور ﷺ کی ذات اقدس تھی اس لئے جو شخص اس دن میدان کارزار سے کنارہ کشی کرتا تو اس کی یہ کنارہ کشی اس صورت میں جائز ہوتی جب وہ کسی فئۃ یعنی پشت پناہ سے جا ملنے کا ارادہ کرتا اور ظاہر ہے کہ اسی دن اس لفظ کا مصداق حضور ﷺ کی ذات اقدس کے سوا اور کوئی نہیں تھا۔ آپ ہی مسلمانوں کے لئے فئۃ یعنی پشت پناہ تھے۔ اس کی مزید وضاحت اس روایت سے ہوتی ہے حضرت ابن عمر ؓ کا بیان ہے کہ میں ایک فوجی دستے میں شامل تھا کچھ لوگ میدان کارزار سے پیچھے ہٹے اور مدینہ کی طرف واپس ہوگئے، میں بھی ان لوگوں میں شامل تھا۔ ہم نے سوچا کہ میدان سے بھاگ کر ہم تو فرار ہونے والے بن گئے اور آیت میں مذکورہ وعید کے سزاوار ہوگئے۔ اس پر حضور ﷺ نے ہمیں تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ تم فرار ہونے والے قرار نہیں پاتے۔ میں تمہارے لئے فئۃ یعنی پشت پناہ ہوں۔ یعنی تم لوگ بھاگ کر میری طرف آئے ہو اس لئے آیت میں مذکورہ وعید کے مستحق نہیں بنوگے۔ اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ جو شخص حضور ﷺ سے دور ہوتا جب وہ کفار کے مقابلے سے ہٹ آتا تو اس کے لئے فئۃ کی طرف پلٹ آنا جائز ہوجاتا اس لئے کہ ایسی حالت میں حضور ﷺ کی ذات اقدس اس کے لئے فئۃ بن جاتی لیکن جب حضور ﷺ خود مسلمانوں کے ساتھ جنگ میں شریک ہوتے تو اس صورت میں آپ ﷺ کی ذات کے سوا مسلمانوں کے لئے کوئی اور فئۃ نہ ہوتا جس کی طرف ان کے لئے ہٹ آنا جائز ہوتا۔ ایسی صورت میں پھر کسی مسلمان کے لئے میدان کارزار سے ہٹنا جائز نہیں ہوسکتا۔ قو ل باری ومن یولھم فومئذ دبرہ) کے متعلق حسن کا قول ہے کہ اس میں اہل بدر پر سختی کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ان الذین تولوا منکم یوم التقی الجمعن انما استزلھما الشیطن ببعض ماکسبوا۔ تم میں سے جو لوگ پیٹھ پھیر گئے تھے ان کی لغزش کا سبب یہ تھا کہ ان کی بعض کمزوریوں کی وجہ سے شیطان نے ان کے قدم ڈگمگا دیئے تھے) ایسا اس لئے کہا گیا کہ یہ لوگ حضور ﷺ کا ساتھ چھوڑ کر بھاگ گئے تھے۔ معرکہ حنین کے دن بھی مسلمانوں سے یہی لغزش ہوئی تھی اللہ تعالیٰ نے اپنے قول ویوم حنین اذا عجبتکم کثرتکم فلم یغن عنکم شیئاً وضاقت علیکم الارض بمارحبت ثم ولیتم مدبرین۔ ابھی غزوہ حنین کے روز (تم اس کی دستگیری کی شان دیکھ چکے ہو) اس روز تمہیں اپنی کثرت تعداد کا غرہ تھا مگر وہ تمہارے کچھ کام نہ آئی اور زمین اپنی وسعت کے باوجود تم پر تنگ ہوگئی اور تم پیٹھ پھیر کر بھاگ نکلے) کے ذریعہ ان پر عتاب فرمایا۔ جنگ سے فرار کے اصول مسلمانوں کے میدان کارزار چھوڑکر بھاگنے کے عدم جواز کا یہ حکم اس لئے تھا کہ جب حضور ﷺ بنفس نفیس ان کے ساتھ ہوتے تھے خواہ دشمن کی تعداد تھوڑی ہوتی یا زیادہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اس صورت میں ان کے لئے اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں رکھا۔ اللہ تعالیٰ نے ایک اور آیت میں ارشاد فرمایا یایھا النبی حرض المومنین علی القتال ان یکن منکم عشرون صابرون یغلبوا ممائتین وان یکن منکم مائۃ یغلبوا الفاً من الذین کفروا۔ اے نبی ﷺ ! مومنوں کو جنگ پر ابھارو، اگر تم میں سے بیس آدمی صابرہوں تو وہ دو سو پر غالب آئیں گے اور اگر سو آدمی ایسے ہوں تو منکرین حق میں سے ہزار آدمیوں پر بھاری رہیں گے) یہ حکم۔۔ واللہ اعلم…اس صورت کے لئے تھا جب حضور ﷺ ان کے ساتھ موجود نہ ہوتے اس صورت میں بیس آدمیوں پر دو سو کے مقابلہ میں ڈٹ جانا ضروری ہوتا اور انہیں پیچھے ہٹنے کی اجازت نہ ہوتی جب دشمنوں کی تعداد اس سے زیادہ ہوتی تو ان کے لئے میدان کارزار چھوڑ کر مسلمانوں کے کسی گروہ کی طرف پلٹ آنا جائز ہوتا جس کی مدد لے کر پھر دوبارہ میدان کارزار گرم کرتے پھر یہ حکم اس قول باری کے ذریعے منسوخ ہوگیا۔ اچھا ! اب اللہ نے تمہارا بوجھ ہلکا کیا اور اسے معلوم ہوا کہ ابھی تم میں کمزوری ہے پس اگر تم میں سے سو آدمی صابر ہوں تو وہ دو سو پر اور ہزار آدمی ایسے ہوں تو وہ دو ہزار پر اللہ کے حکم سے غالب آئیں گے) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ مسلمانوں پر یہ فرض تھا کہ ان کا ایک آدمی دس کے مقابلہ سے بھی نہ بھاگے۔ پھر یہ بوجھ ہلکا ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا الان خفف اللہ عنکم تا آخر آیت مسلمانوں پر یہ فرض کردیا گیا کہ ان کے ایک سو آدمی دو سو کے مقابلہ سے نہ بھاگیں۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ اگر ایک شخص دو کے مقابلے سے بھاگے گا تو وہ فرار ہونے والا کہلائے گا لیکن اگر وہ تین کے مقابلہ سے بھاگے گا تو اسے فرار ہونے والا نہیں کہیں گے۔ ابن عباس ؓ کا قول ابوبکر حبصاص حضرت ابن عباس ؓ کے قول کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جو شخص دو کے مقابلہ سے بھاگے گا وہ اس زحفا یعنی لشکر سے فرار ہونے والا کہلائے گا جو آیت میں مراد ہے آیت میں ایک مسلمان پر دو کافروں کے مقابلہ میں ڈٹ جانا واجب کردیا گیا ہے اگر کافروں کی تعداد دو سے زائد ہو تو اسی صورت میں اس ایک مسلمان کے لئے میدان سے ہٹ کر مسلمانوں کے کسی ایسے گروہ کی طرف پلٹ آنا جائز ہوگا جو میدان کارزار گرم کرنے کے لئے اس کی مدد کرسکتا ہو لیکن یہ ایک مسلمان اگر مسلمانوں کے کسی ایسے گروہ کی طرف پلٹ جانے کی نیت سے میدان کارزار چھوڑ دے گا۔ جو اس کی مدد کے لئے آمادہ نہ ہو تو اس صورت میں فرار ہونے والا یہ شخص اس وعید کا مستحق قرار پائے گا جس کا ذکر اس آیت میں ہے ومن یولھم یومئذ دبرہ) تا آخر آیت۔ اسی بنا پر حضور ﷺ کا ارشاد ہے انا فئۃ کل مسلم۔ میں ہر مسلمان کے لئے پشت پناہ ہوں۔ حضرت عمر ؓ کو جب یہ اطلاع ملی کہ ابوعبید بن مسعود ؓ نے جنگ کے دن لڑائی جاری رکھی اور جان جوکھوں میں ڈال کر لڑتے رہے یہاں تک کہ شہید ہوگئے لیکن پسپا نہیں ہوئے تو آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ابوعبیدہ پر رحم فرمائے اگر وہ میدان جنگ سے ہٹ کر میری طرف پلٹ آتے تو میں ان کے لئے فئۃ بن جاتا “۔ پھر جب ابوعبید کے رفقا میدان چھوڑ کر حضرت عمر ؓ کے پاس پہنچ گئے تو آپ ؓ نے ان سے فرمایا کہ ” میں تمہارے لئے فئۃ ہوں “۔ آپ نے میدان چھوڑنے کی بنا پر ان پر کوئی سختی نہیں کی ہمارے نزدیک یہ حکم اس وقت تک ثابت رہے گا جب تک مسلمانوں کے لشکر کی تعداد بارہ ہزار تک نہ پہنچ جائے۔ پسپائی بطور جنگی چال اگر بارہ ہزار سے تعداد کم ہو تو ان کے لئے اپنے سے دو چند دشمن کے مقابلہ سے پسپا ہونے کی صرف وہ صورتیں جائز ہوں گی ایک تو جنگی چال کے طور پر پسپائی اختیار کرنا درست ہوگا، اس کی صورت یہ ہوگی کہ دشمن کو چکمہ دینے کی خاطر اپنی جگہ سے ہٹ کر کسی اور جگہ چلے جائیں مثلا تنگ جگہ سے نکل کر کشادہ جگہ میں آجائیں یا اس کے برعکس صورت اختیار کریں یا دشمن کی گھات پر چھپ کر بیٹھ جائیں یا کوئی صورت جس میں جنگ سے منہ پھیر کر بھاگنا نہ پایا جاتا ہو۔ جواز کی دوسری صورت یہ ہے کہ دشمن کے سامنے سے پسپائی اختیار کر کے مسلمانوں کے کسی اور فوج یا گروہ سے جا ملیں اور ان کے ساتھ ملکر دوبارہ میدان کارزار گرم کریں لیکن جب مسلمانوں کے لشکر کی تعداد بارہ ہزار ہوجائے تو امام محمد بن الحسن کے قول کے مطابق ان کے لئے کسی بھی صورت میں پسپائی اختیار کرنا جائز نہیں ہوگا خواہ دشمن کی تعداد کتنی زیادہ کیوں نہ ہو۔ امام محمد نے اس مسئلے میں ہمارے اصحاب کے درمیان کسی اختلاف کا ذکر نہیں کیا ہے۔ بہترین لشکر انہوں نے اس مسئلے میں ابن شہاب زہری کی روایت سے استدلال کیا ہے جسے انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ سے نقل کیا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا کہ حضور ﷺ کا ارشاد ہے خیرالاصحاب اربعۃ وخیرالسرایا اربح مائۃ وخیرالجیوش اربعۃ آلاف ولن یوتی اثنا عشرالضامن قلۃ ولن یغلب۔ بہترین رفاقت وہ ہے جس میں چار افراد شامل ہوں بہترین فوجی دستہ وہ ہے جس میں چار سو کی نفری ہو اور بہترین لشکر وہ ہے جس میں چار ہزار کی نفری ہو بارہ ہزار نفری پر مشتمل فوج قلت تعداد کی بنا پر شسکت نہیں کھا سکتی اور کبھی مغلوب نہیں ہوسکتی) بعض طرق میں ہے ماغلب قوم یبعثون اثنی عشرالفا اذاجتمعت کلمتھم۔ وہ قوم کبھی مغلوب نہیں ہوسکتی جو بارہ ہزار نفری پر مشتمل فوج کھڑی کر دے بشرطیکہ اس فوج میں مکمل اتحاد ہو۔ طحاوی نے ذکر کیا ہے کہ امام مالک سے کسی نے سوال کیا کہ آیا ہمارے لئے ایسے لوگوں کے مقابلہ سے پیچھے ہٹ آنے کی گنجائش ہے جو اللہ کے احکام کو چھوڑ کر اپنے احکام کے مطابق فیصلے کرتے ہوں “۔ انہوں نے اس کے جواب میں فرمایا اگر تمہارے ساتھ تمہاری طرح بارہ ہزار کی نفری ہو تو پھر تمہارے لئے پیچھے ہٹنے کی گنجائش نہیں۔ اگر یہ تعداد نہ ہو تو پھر تمہارے لئے پیچھے ہٹ آنے کی گنجائش ہے۔ امام مالک سے یہ سوال عبداللہ بن عمر بن عبدالعزیز بن عبداللہ بن عمر ؓ نے کیا تھا۔ یہ مسلک امام محمد کے ذکر کردہ مسلک سے مطابقت رکھتا ہے۔ بارہ ہزار نفری کے متعلق حضور ﷺ سے جو روایت منقول ہے وہ اس مسئلے کی بنیاد ہے۔ اگر مشرکین کی تعداد زیادہ بھی ہو تو بھی بارہ ہزار نفری کو ان کے مقابلہ سے پسپا ہونے کی اجازت نہیں ہے۔ خواہ مشرکین ان سے کئی گنا زیادہ کیوں نہ ہوں۔ اس لئے کہ حضور ﷺ کے ارشاد کے مطابق اس صورت میں پسپائی اختیار کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے البتہ اس صورت میں ان پر جو چیز واجب کی گئی ہے وہ ان کا اتحاد اور ان کی یکجہتی ہے۔
Ayahs 8:17–24

فَلَمْ تَقْتُلُوْهُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ قَتَلَهُمْ١۪ وَ مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى١ۚ وَ لِیُبْلِیَ الْمُؤْمِنِیْنَ مِنْهُ بَلَآءً حَسَنًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 8:17 in the Quran reader

تم لوگوں نے ان (کفار) کو قتل نہیں کیا بلکہ خدا نے انہیں قتل کیا۔ اور (اے محمد ﷺ جس وقت تم نے (کنکریاں) پھینکی تھیں تو وہ تم نے نہیں پھینکی تھیں بلکہ اللہ نے پھینکی تھیں۔ اس سے یہ غرض تھی کہ مومنوں کو اپنے (احسانوں) سے اچھی طرح آزما لے۔ بیشک خدا سنتا جانتا ہے۔

ذٰلِكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ مُوْهِنُ كَیْدِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 8:18 in the Quran reader

بات یہ (ہے) کہ کچھ شک نہیں کہ خدا کافروں کی تدبیر کو کمزور کردینے والا ہے۔

اِنْ تَسْتَفْتِحُوْا فَقَدْ جَآءَكُمُ الْفَتْحُ١ۚ وَ اِنْ تَنْتَهُوْا فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَعُوْدُوْا نَعُدْ١ۚ وَ لَنْ تُغْنِیَ عَنْكُمْ فِئَتُكُمْ شَیْئًا وَّ لَوْ كَثُرَتْ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 8:19 in the Quran reader

(کافرو) اگر تم (محمد ﷺ پر) فتح چاہتے ہو تو تمہارے پاس فتح آچکی۔ (دیکھو) اگر تم (اپنے افعال سے) باز آجاؤ تو تمہارے حق میں بہتر ہے اور اگر پھر (نافرمانی) کرو گے تو ہم بھی پھر (تمہیں عذاب) کریں گے۔ اور تمہاری جماعت خواہ کتنی ہی کثیر ہو تمہارے کچھ بھی کام نہ آئے گی۔ اور خدا تو مومنوں کے ساتھ ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَوَلَّوْا عَنْهُ وَ اَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَۚۖ Open ayah 8:20 in the Quran reader

اے ایمان والو ! خدا اور اس کے رسول کے حکم پر چلو اور اس سے رو گردانی نہ کرو اور تم سنتے ہو۔

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ هُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 8:21 in the Quran reader

اور ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو کہتے ہیں کہ ہم نے (حکم خدا) سن لیا مگز (حقیقت میں) نہیں سنتے۔

اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 8:22 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ خدا کے نزدیک تمام جانداروں سے بدتر بہرے گونگے ہیں جو کچھ نہیں سمجھتے۔

وَ لَوْ عَلِمَ اللّٰهُ فِیْهِمْ خَیْرًا لَّاَسْمَعَهُمْ١ؕ وَ لَوْ اَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوْا وَّ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 8:23 in the Quran reader

اور اگر خدا ان میں نیکی (کا مادہ) دیکھتا تو ان کو سننے کی توفیق بخشتا۔ اور اگر (بغیر صلاحیت ہدایت کے) سماعت دیتا تو منہ پھیر کر بھاگ جاتے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا یُحْیِیْكُمْ١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَحُوْلُ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ قَلْبِهٖ وَ اَنَّهٗۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 8:24 in the Quran reader

مومنو ! خدا اور اس کے رسول کا حکم قبول کرو۔ جبکہ رسول خدا تمہیں ایسے کام کے لئے بلاتے ہیں جو تم کو زندگی (جاوداں) بخشتا ہے۔ اور جان رکھو کہ خدا آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہوجاتا ہے اور یہ بھی کہ تم سب اسکے روبرو جمع کئے جاؤ گے۔

ومارمیت اذرمیت کا مفہوم پھر فرمایا ومارمیت اذرمیت ولکن اللہ رمی اور تم نے نہیں پھینکا جب پھینکا بلکہ اللہ نے پھینکا) یہ بات اس طرح ہوئی کہ حضور ﷺ نے ایک مٹھی مٹی لے کر کافروں کے چہروں کی طرف پھینک دی اور کافروں کے قدم اکھڑ گئے۔ ایک بھی کافر ایسا نہیں بچا جس کی آنکھ میں اس مٹی کا کچھ حصہ نہ پڑا ہو، اس میں اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ مٹی ان کافروں کے چہروں اور ان کی آنکھوں تک پہنچا دی تھی۔ اس لئے کہ کسی مخلوق کی یہ طاقت نہیں تھی کہ حضور ﷺ جس جگہ کھڑے تھے وہاں سے یہ مٹی ان کافروں کی آنکھوں تک پہنچا سکے۔ یہ تمام باتیں آپ ﷺ کی نبوت کی صداقت کی نشانیاں تھیں۔ نیز ان واقعات کا ہو بہو اسی طرح وقوع پذیر ہونا جس طرح آپ ﷺ نے اطلاع دی تھی نبوت کی نشانی تھی ظن و تخمین اور اٹل کی بنا پر بتائی ہوئی باتیں اس طرح وقوع پذیر نہیں ہوسکتیں۔ اسی طرح یہ بات بھی آپ ﷺ کی نبوت کی نشانی تھی کہ بارش کی وجہ سے ریت کی تہ جم گئی اور اس پر مسلمانوں کے قدم جم گئے اور پھر مسلمان کافروں پر قہر الٰہی بن کر ٹوٹ پڑے۔ اس لئے کہ روایت میں ہے کہ کافروں کا جس جگہ پڑائو تھا وہ جگہ بارش کی وجہ سے کیچڑ بن گئی اور ان کے لئے اس پر چلنا پھرنا مشکل ہوگیا۔ ایک نشانی یہ بھی تھی کہ مسلمانوں کو کافروں کے لشکر کا سامنا کرنا پسند نہیں تھا لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے دلوں میں طمانیت کی کیفیت پیدا کردی گئی۔ پھر یہ بھی ایک نشانی تھی کہ ان پر ایسے موقع پر غنودگی طاری کردی گئی جب گھبراہٹ کی وجہ سے آنکھوں سے نیند اڑ جاتی ہے ایک اور نشانی یہ تھی کہ حضور ﷺ نے کافروں پر ایک مٹھی مٹی پھینکی تھی جس کی وجہ سے ان کے قدم اکھڑ گئے تھے اور انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
Ayahs 8:25–32

وَ اتَّقُوْا فِتْنَةً لَّا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْكُمْ خَآصَّةً١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 8:25 in the Quran reader

اور اس فتنے سے ڈرو جو خصوصیت کے ساتھ انہیں لوگوں پر واقع نہ ہوگا جو تم میں گنہگار ہیں۔ اور جان رکھو کہ خدا سخت عذاب دینے والا ہے۔

وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ اَنْتُمْ قَلِیْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِی الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ یَّتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَاٰوٰىكُمْ وَ اَیَّدَكُمْ بِنَصْرِهٖ وَ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 8:26 in the Quran reader

اور (اس وقت کو) یاد کرو جب تم زمین (مکہ) میں قلیل اور ضعیف سمجھے جاتے تھے اور ڈرتے رہتے تھے کہ لوگ تمہیں اڑا (نہ) لے جائیں (یعنی بےخانماں نہ کریں) تو اس نے تم کو جگہ دی اور اپنی مدد سے تم کو تقویت بخشی اور پاکیزہ چیزیں کھانے کو دیں تاکہ (اس کا) شکر کرو۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 8:27 in the Quran reader

اے ایمان والو ! نہ تو خدا اور رسول کی امانت میں خیانت کرو اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔ اور تم (ان باتوں کو) جانتے ہو۔

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 8:28 in the Quran reader

اور جان رکھو کہ تمہارا مال اور اولاد بڑی آزمائش ہے۔ اور یہ کہ خدا کے پاس (نیکیوں) کا بڑا ثواب ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَتَّقُوا اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا وَّ یُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 8:29 in the Quran reader

مومنو ! اگر تم خدا سے ڈرو گے تو وہ تمہارے لئے امر فارق پیدا کر دے گا (یعنی تم کو ممتاز کر دے گا) اور تمہارے گناہ مٹا دیگا اور تمہیں بخش دے گا۔ اور خدا بڑے فضل والا ہے۔

وَ اِذْ یَمْكُرُ بِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِیُثْبِتُوْكَ اَوْ یَقْتُلُوْكَ اَوْ یُخْرِجُوْكَ١ؕ وَ یَمْكُرُوْنَ وَ یَمْكُرُ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الْمٰكِرِیْنَ Open ayah 8:30 in the Quran reader

اور (اے محمد ﷺ ! اس وقت کو یاد کرو) جب کافر لوگ تمہارے بارے میں چال چل رہے تھے کہ تم کو قید کردیں یا جان سے مار ڈالیں یا (وطن سے) نکال دیں تو (ادھر تو) وہ چال چل رہے تھے اور (ادھر) خدا چال چل رہا تھا اور خدا سب سے بہتر چال چلنے والا ہے۔

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا قَالُوْا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَآءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هٰذَاۤ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 8:31 in the Quran reader

اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں (یہ کلام) ہم نے سن لیا ہے۔ اگر ہم چاہیں تو اسی طرح کا (کلام) ہم بھی کہہ دیں۔ اور یہ ہے ہی کیا ؟ صرف اگلے لوگوں کی حکایتیں ہیں۔

وَ اِذْ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 8:32 in the Quran reader

اور جن انہوں نے کہا کہ اے خدا اگر یہ (قرآن) تیری طرف سے برحق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی اور تکلیف دینے والا عذاب بھیج۔

فتنہ کا مفہوم قول باری ہے واتقوافتنۃ لاتصیبن الذین ظلموا منکم خاصۃ۔ اور بچو اس فتنے سے جس کی شامت مخصوص طور پر صرف ان ہی لوگوں تک محدود رہے گی جنہوں نے تم میں سے گناہ کیا ہو) الفتنۃ کی تفسیر میں کئی اقوال منقول ہیں۔ حضرت عبداللہ ؓ سے مروی ہے کہ اس کے معنی وہی ہیں جو اس آیت انما اموالکم والولادکم فتنۃ۔ تمہارے اموال اور تمہاری اولاد آزمائش ہیں) میں موجود لفظ فتنہ کے ہیں حسن کا قول ہے کہ فتنہ وبال اور آفت کو کہتے ہیں۔ ایک قول ہے کہ اس سے مراد عذاب ہے۔ ایک قول کے مطابق یہ اس شادمانی کا نام ہے جس کے تحت لوگ مست ہو کر ظلم ڈھانے پر اتر آتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ان کا یہ قول مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ اپنے اندر کسی منکر اور خلاف شریعت کام کو جگہ نہ دیں ورنہ اللہ تعالیٰ ان پر ایسا عذاب نازل کرے گا جس کی لپیٹ میں تمام لوگ آجائیں گے۔ ان ہی معنوں میں حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ سے کسی نے سوال کیا کیا ہم ہلاک کردیئے جائیں گے جبکہ ہمارے درمیان صالحین بھی ہوں گے ؟ آپ ﷺ نے جواب میں فرمایا : ” ہاں ! جب برائی کی کثرت ہوجائے گی۔ “۔ حضور ﷺ سے یہ بھی مروی ہے کہ جب کسی قوم کے اندر معاصی کا ارتکاب کیا جارہا ہو اور ارتکاب کرنے والوں کی اکثریت ہو لیکن وہ ان معاصی کو نہ روکیں تو اللہ تعالیٰ ان پر ایسا سخت عذاب نازل کرے گا جو اپنی لپیٹ میں سب کو لے لے گا “ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس آیت کے ذریعے اس عذاب سے ڈرایا ہے جو اپنی لپیٹ میں نافرمانوں اور فرمانبرداروں سب کو لے لے گا۔ اگر فرمانبردار ان معاصی کے آگے بند نہیں باندھیں گے۔ ایک قول ہے کہ فتنہ اس لحاظ سے عام ہوگا کہ خوشحالی و شادمانی اور اس کے تحت پیدا ہونے والی برائیاں جب کسی معاشرہ کو اپنے پنجے میں جکڑ لیں گی تو اس کا نقصان ہر شخص کو لاحق ہوگا اور ہر فرد اس سے متاثر ہوگا۔
Ayahs 8:33–38

وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ Open ayah 8:33 in the Quran reader

اور خدا ایسا نہ تھا کہ جن تک تم ان میں تھے انہیں عذاب دیتا۔ اور نہ ایسا تھا کہ وہ بخش مانگیں اور انہیں عذاب دے۔

وَ مَا لَهُمْ اَلَّا یُعَذِّبَهُمُ اللّٰهُ وَ هُمْ یَصُدُّوْنَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ مَا كَانُوْۤا اَوْلِیَآءَهٗ١ؕ اِنْ اَوْلِیَآؤُهٗۤ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 8:34 in the Quran reader

اور (اب) انکے لئے کونسی وجہ ہے کہ وہ انہیں عذاب نہ دے جبکہ وہ مسجد محترم (میں نماز پڑھنے) سے روکتے ہیں ؟ اور وہ اس مسجد کے متولی بھی نہیں۔ اس کے متولی صرف پرہیزگار ہیں۔ لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے۔

وَ مَا كَانَ صَلَاتُهُمْ عِنْدَ الْبَیْتِ اِلَّا مُكَآءً وَّ تَصْدِیَةً١ؕ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 8:35 in the Quran reader

اور ان لوگوں کی نماز خانہ کعبہ کے پاس سٹیاں اور تالیاں بجانے سوا کچھ نہ تھی۔ تو تم جو کفر کرتے تھے اب اس کے بدلے عذاب (کا مزہ) چکھو۔

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ لِیَصُدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ فَسَیُنْفِقُوْنَهَا ثُمَّ تَكُوْنُ عَلَیْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ یُغْلَبُوْنَ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى جَهَنَّمَ یُحْشَرُوْنَۙ Open ayah 8:36 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہیں اپنا، مال خرچ کرتے ہیں کہ (لوگوں کو) خدا کے راستے سے روکیں۔ سو ابھی اور خرچ کریں گے مگر آخر وہ (خرچ کرنا) ان کے لئے (موجب) افسوس ہوگا۔ اور وہ مغلوب ہوجائیں گے اور کافر لوگ دوزخ کی طرف ہانکے جائیں گے۔

لِیَمِیْزَ اللّٰهُ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ وَ یَجْعَلَ الْخَبِیْثَ بَعْضَهٗ عَلٰى بَعْضٍ فَیَرْكُمَهٗ جَمِیْعًا فَیَجْعَلَهٗ فِیْ جَهَنَّمَ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 8:37 in the Quran reader

تاکہ خدا ناپاک کو پاک سے الگ کر دے۔ اور ناپاک کو ایک دوسرے پر رکھ کر ایک ڈھیر بنا دے پھر اس کو دوزخ میں ڈال دے۔ یہی لوگ خسارہ پانے والے ہیں۔

قُلْ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ یَّنْتَهُوْا یُغْفَرْ لَهُمْ مَّا قَدْ سَلَفَ١ۚ وَ اِنْ یَّعُوْدُوْا فَقَدْ مَضَتْ سُنَّتُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 8:38 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ کفار سے کہہ دو کہ اگر وہ اپنے افعال سے باز آجائیں تو جو ہوچکا وہ انہیں معاف کردیا جائیگا۔ اور اگر پھر (وہی حرکات) کرنے لگیں گے تو اگلے لوگوں کا (جو) طریق جاری ہوچکا ہے (وہی ان کے حق میں برتا جائے گا۔

قوم کو پیغمبر کی موجودگی میں عذاب الٰہی نہیں ہوتا قول باری ہے وماکان اللہ لیعذبھم وانت فیھم وماکان اللہ معذبھم وھم یستغفرون۔ اس وقت تو اللہ ان پر عذاب نازل کرنے والا نہیں تھا جب کہ تو ان کے درمیان موجود تھا اور نہ یہ اللہ کا باقاعدہ ہے کہ لوگ استغفار کر رہے ہوں اور وہ ان کو عذاب دے دے) یعنی اللہ تعالیٰ انہیں ایسا عذاب دینے والا نہیں تھا جو ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دیتا جبکہ حضور ﷺ کے درمیان موجود ہوتے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا تھا اس لئے آپ ﷺ کے ہوتے ہوئے انہیں عذاب نہیں دیا جائے گا جب آپ ﷺ ان کے یعنی اہل مکہ کے درمیان سے نکل جائیں گے تو یہ لوگ عذاب کے مستحق قرار پائیں گے۔ اللہ کی دی ہوئی نعمت ان سے سلب کرلی جائے گی اور سب کے سب اللہ کے عذاب کی لپیٹ میں آجائیں گے آپ نہیں دیکھتے کہ پہلی امتیں جب عذاب الٰہی کی زد میں آکر مٹ جانے کے مرحلے پر پہنچ جاتیں تو اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں کو ان کے درمیان سے نکل جانے کا حکم دے دیتا۔ حضرت لوط، حضرت صالح اور حضرت شعیب (علیہم السلام) کی قوموں کے ساتھ یہی کچھ ہوا۔ قول باری وماکان اللہ معذبھم وھم یستغفرون) کی تفسیر میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ جب حضور ﷺ مکہ سے ہجرت کر گئے تو مسلمانوں کی ایک چھوٹی سی تعداد وہاں رہ گئی۔ مجاہد، قتادہ اور سدی کا قول ہے کہ اگر یہ لوگ استغفار کرتے تو اللہ انہیں عذاب نہ دیتا۔ قول باری ہے وما لھم الایعذبھم اللہ وھم یصدوان عن المسجد الحرام لیکن اب کیوں نہ وہ ان پر عذاب نازل کرے جبکہ وہ مسجد حرام کا راستہ روک رہے ہیں) یہ عذاب اس عذاب سے مختلف ہے جس کا ذکر پہلی آیت میں ہوا ہے اس لئے کہ یہ آخرت کا عذاب ہے اور پہلا عذاب دنیا میں ملنے والا عذاب ہے جس سے ان کی جڑ کٹ کر رہ جاتی۔ قول باری ہے وماکانوا اولیاء ہ حالانکہ وہ اس مسجد کے جائز متولی نہیں ہیں) اس کی تفسیر میں دو قول ہیں۔ حسن کے قول کے مطابق ان مشرکین کا یہ دعویٰ تھا کہ ہم مسجد حرام کے متولی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس دعوے کی تردید کردی۔ دوسرا قول یہ ہے کہ مشرکین مسجد حرام کے متولی نہیں ہیں بلکہ اس کے جائز متولی وہ لوگ ہیں جو تقویٰ اور پرہیزگاری کے وصف سے متصف ہیں۔ اگر اس سے مسجد حرام کے متولی مراد ہیں تو اس میں یہ دلالت موجود ہے کہ انہیں مسجد حرام میں داخل ہونے اور اسے آباد کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ احترام مساجد اہل ایمان کا کام ہے اس کی نظیر یہ قول باری ہے ماکان للمشرکین ان یعمروا مساجد اللہ ۔ مشرکین کو اللہ کی مسجدیں آباد کرنے کی اجازت نہیں ہے) قول باری ہے وماکان صدرتھم عند البیت الامکاء و تصدیۃ۔ بیت اللہ کے پاس ان کی نماز کیا ہوتی ہے بس سیٹیاں بجاتے اور تالیاں پیٹتے ہیں) مکاء سیٹیاں بجانے کو کہتے ہیں اور تالیاں پیٹنے کو۔ حضرت ابن عباس ؓ ، حضرت ابن عمر ؓ ، حسن، مجاہد، عطیہ، قتادہ اور سدی سے یہی مروی ہے۔ سعید بن جبیر سے منقول ہے کہ تصدیہ کے معنی ہیں ” بیت اللہ میں داخل ہونے سے لوگوں کو ان کا روکنا “ مکاء اور تصدیہ کو صلاۃ کا نام دیا گیا اس لئے کہ مشرکین دعا اور تسبیح کی بجائے سیٹیاں بجایا کرتے تھے اور تالیاں پیٹتے تھے ۔ ایک قول ہے کہ وہ اپنی نمازوں میں یہ حرکتیں کرتے تھے۔
Ayahs 8:39–40

وَ قَاتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّ یَكُوْنَ الدِّیْنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِ١ۚ فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اللّٰهَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 8:39 in the Quran reader

اور ان لوگوں سے لڑتے رہو یہاں تک کہ فتنہ (یعنی کفر کا فساد) باقی نہ رہے اور دین سب خدا ہی کا ہوجائے۔ اور اگر باز آجائیں تو خدا ان کے کاموں کو دیکھ رہا ہے۔

وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَوْلٰىكُمْ١ؕ نِعْمَ الْمَوْلٰى وَ نِعْمَ النَّصِیْرُ Open ayah 8:40 in the Quran reader

اور اگر روگردانی کریں تو جان رکھو کہ خدا تمہارا حمایتی ہے (اور) وہ خوب حمایتی اور خوب مددگار ہے۔

جنگ کا مقصود غلبہ دین ہے قول باری ہے وقاتلوھم حتی لاتکون فتنۃ ویکون الدین کلہ للہ۔ اے ایمان لانے والو ! ان کافروں سے جنگ کرو۔ یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ ہے اور دین پورے کا پورا اللہ کے لئے ہوجائے) حضرت ابن عباس ؓ اور حسن کا قول ہے کہ شرک باقی نہ رہے۔ محمد بن اسحاق کا قول ہے کہ ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ کسی مومن کو اس کے دین سے ہٹانے کا عمل باقی نہ رہے۔ اس مقام پر فتنہ سے کفر مراد لینا بھی درست ہے اور سرکشی و فساد مراد لینا بھی جائز ہے اس لئے کہ کفر کو اس کے اندر پائے جانے والے فساد کی بنا پر فتنہ کا نام دیا گیا ہے۔ اس لئے آیت کفار سرکشوں اور فساد مچانے والوں کیخلاف قتال کے حکم کو متضمن ہوگی۔ آیت بغاوت پر آمادہ گروہ کے خلاف جنگی کارروائی کے وجوب پر بھی دلالت کرتی ہے۔ قول باری ویکون الدین کلہ للہ) تمام اقسام کے کافروں کے خلاف جنگ کرنے کے وجوب پر دلالت کرتا ہے۔ اس حکم سے صرف وہ لوگ خارج ہوں گے جن کی کتاب و سنت کے ذریعہ تخصیص کردی گئی ہے۔ یہ اہل کتاب اور مجوس ہیں ان سے جزیہ لے کر اپنے مذہب پر برقرا رہنے دیا گیا ہے۔ اس آیت سے وہ لوگ استدلال کرتے ہیں جو اہل کتاب اور مجوسیوں کے سوا باقی ماندہ کافروں کو ذمی بنا کر ان کے مذہب پر برقرار رکھنے کے قائل نہیں ہیں۔ اہل کتاب اور مجوسیوں کو جزیہ لے کر ان کے مذہب پر برقرار رکھنے کے جواز پر دلالت موجود ہے۔