Ayahs 8:42–44(سابقہ آیت کی بقیہ تفسیر)
آنحضور ﷺ کی وفات کے بعد خمس کا مصرف
حضور ﷺ کی وفات کے بعد خمس میں آپ کے حصے کے مصرف کے متعلق سلف کے مابین اختلاف رائے ہے۔ سفیان نے قیس بن مسلم سے انہوں نے حسن بن محمد بن الحنفیہ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ کی وفات کے بعد آپ کے حصے اور آپ کے قرابت داروں کے حصے کے متعلق لوگوں میں اختلاف رائے پیدا ہوگیا۔ ایک گروہ کا خیال یہ تھا کہ آپ کے بعد آپ کا حصہ آپ کی خلیفہ کو ملنا چاہیے۔ ایک اور گروہ کا خیال تھا کہ آپ کے قرابت داروں کا حصہ خلیفہ کے قرابت داروں کو ملنا چاہیے پھر سب کا اس پر اجماع ہوگیا کہ یہ دونوں حصے جہاد فی سبیل اللہ کے لئے سازوسامان اور ہتھیاروں کی تیاری نیز اس مقصد کے لئے گھوڑوں وغیرہ کی پرورش پر صرف کئے جائیں۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ حضور ﷺ کا حصہ صرف اس وقت تک کے لئے تھا جب تک آپ زندہ تھے، آپ کی وفات کے بعد یہ حصہ بھی اسی طرح ساقط ہوگیا جس طرح صفی کا سقوط ہوگیا یعنی مال غنیمت میں آپ کے لئے مخصوص حصہ یا مخصوص چیز کا حکم آپ کی وفات کے ساتھ ہی ساقط ہوگیا۔ آپ کی وفات کے بعد آپ کے حصے کو نیز صفی کو مال غنیمت میں شامل کرلیا گیا اور اسے اجتماعی ضرورت کے مصرف میں خرچ کرنے کے لئے نہیں رکھا گیا۔ آپ کے قرابت داروں کے حصے کے مصرف کے متعلق فقہاء میں اختلاف رائے ہے۔ جامع صغیر کی روایت کے مطابق امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک خمس کو تین حصوں پر تقسیم کیا جائے اور ان حصوں کو فقراء مساکین اور مسافروں پر خرچ کیا جائے گا۔ بشربن الولید نے امام ابویوسف سے اور انہوں نے امام ابوحنیفہ سے روایت کی ہے کہ اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ دونوں کے لئے ایک خمس ہے یعنی مال غنیمت کے خمس کا پانچواں حصہ۔ قرابت داروں کے لئے پانچواں حصہ اور آیت میں مذکورہ تین اصناف یعنی تیامی، مساکین اور مسافروں میں سے ہر ایک صنف کے لئے پانچواں حصہ ہے۔ اس طرح مال غنیمت کے خمس کے پانچ حصے کئے جائیں گے سفیان ثوری کا قول ہے کہ حضور ﷺ کے لئے مال غنیمت کے خمس میں سے پانچواں حصہ ہے اور باقیماندہ چار حصے ان اصناف کے لئے ہوں گے جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے آیت کے اندر فرمایا ہے۔
امام مالک ؓ کا قول ہے کہ امام المسلمین اپنی صوابدید اور اجتہاد کے مطابق مال غنیمت کے خمس میں سے حضور ﷺ کے قرابت داروں کو دے گا۔ اوزاعی کا قول ہے کہ مال غنیمت کا خمس ان اصناف کے لئے ہے جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے آیت میں فرمایا ہے۔ امام شافعی کا قول ہے کہ حضو ر ﷺ کے قرابت داروں کا حصہ ان کے اغنیاء اور فقراء کے درمیان تقسیم کردیا جائے گا۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ قول باری (ولذی القربی) ایک مجمل لفظ ہے جس بیان اور تفصیل کی ضرورت ہے اس میں عموم نہیذں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ذوی القربیٰ حضور ﷺ کے قرابت داروں کے ساتھ خاص نہیں ہے۔ دوسری طرف یہ بات واضح ہے کہ اس سے تمام لوگوں کے قرابت دار مراد نہیں ہیں۔ اس لئے یہ فقط مجمل بن گیا اور اسے بیان کی ضرورت پیش آ گئی۔ سلف کا اس پر اتفاق ہے کہ اس سے حضور ﷺ کے قرابت دار مراد ہیں۔ پھر ان سے کچھ حضرات کا قول ہے کہ آپ کے قرابت داروں میں سے خمس کے پانچویں حصے کے مستحقین صرف وہی لوگ تھے جو آپ کی نصرت کرتے تھے اور اس حصے کا استحقاق دو باتوں پر مبنی تھا، ایک قرابت داری اور دوسری نصرت، آپ کی وفات کی وفات کے بعد پیدا ہونے والے آپ کے رشتہ دار جن کا آپ کی نصرت میں کوئی حصہ نہیں تھا وہ فقر کی بناء پر اس حصے کے مستحق ہوں گے جس طرح دوسرے تمام فقراء اس کے مستحق ہیں۔
ان حضرات نے اپنے اس مسلک کے لئے اس روایت سے استدلال کیا ہے جسے زہری نے سعید بن المسیب سے اور انہوں نے حضرت جبیر بن مطعم ؓ سے روایت کی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ جب حضور ﷺ نے ذوی القربیٰ کچا حصہ بنو ہاشم اور بنو المطلب کے درمیان تقسیم کردیا تو میں اور عثمان آپ کے پاس آئے اور عرض کیا کہ بنو ہاشم کو جو فضیلت حاصل ہے اس کا ہم انکار نہیں کرتے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس خاندان میں پیدا فرمایا، لیکن بنو المطلب کو آپ نے حصہ دیا اور ہمیں یعنی بنو عبد شمس کو محروم رکھا، آخر اس کی کیا وجہ ہے ؟ جب کہ آپ سے ان کی اور ہماری قرابت یکساں ہے۔ یہ سن کر آپ نے فرمایا : ” بنو المطلب نے میرا ساتھ کبھی نہیں چھوڑا نہ زمانہ جاہلیت میں اور نہ ہی زمانہ اسلام میں، میرے لئے بنو ہاشم اور بنو المطلب ایک ہی چیز ہیں۔ “ یہ فرماتے ہوئے آپ نے اپنی انگلیوں کی تشبیک کی یعنی انہیں ایک دوسرے میں داخل کردیا۔ یہ روایت دو وجوہ سے اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ صرف قرابت کی بناء پر اس حصے کا استحقاق نہیں ہوتا تھا۔ ایک وجہ تو یہ کہ بنو المطلب اور بنو عبد شمس قرابت کے لحاظ سے حضور ﷺ سے یکساں درجے پر تھے۔ لیکن آپ نے بنو المطلب کو حصہ دیا اور بنو شمس کو کوئی حصہ نہ دیا۔ گر قرابت کی بنا پر استحقاق ہوتا تو آپ ان دونوں خاندانوں کچو مساوی طور پر حصہ دیتے۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ آیت میں ذوی القربیٰ کے ذکر میں جو اجمال تھا حضور ﷺ کا یہ فعل اس اجمال کا بیان اور اس کی تفصیل بن گیا اور حضور ﷺ کا کوئی فعل جب بیان کے طور پر وارد وتا ہے تو اسے وجوب پر محمول کیا جاتا ہے۔ جب حضور ﷺ نے قرابت ک ساتھ نصرت کا بھی ذکر فرمایا تو اس سے یہ دلالت حاصل ہوئی کہ اللہ کے ہاں بھی یہی مراد ہے اس لء جن قرابت داروں کا حضور ﷺ کی نصرت میں کوئی حصہ نہیں ہے۔ وہ فقر کی بنا پر ذوی القربیٰ کے حصے کے مستحق ہوں گے۔ نیز چاروں خلفائے راشدین اس بات پر متفق ہیں کہ اس کا استحقاق فقر کی بنا پر ہوتا ہے۔ محمد بن اسحاق کہتے ہیں کہ میں نے محمد بن علی سے دریافت کیا تھا کہ حضرت علی ؓ نے ذوی القربیٰ کے حصے کی تقسیم کس طرح کی تھی۔ انہوں نے جواب دیا کہ جب آپ خلیفہ بنے تو اس معاملے میں آپ نے حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ کا طریقہ اپنایا۔ آپ یہ بات ناپسند کرتے تھے کہ ان دونوں حضرات کی مخالفت کا آپ پر الزام عائد کیا جائے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ اگر اس بارے میں حضرت علی ؓ کی اپنی بھی یہ رائے نہ ہوتی تو آپ ہرگز یہ فیصلہ نہ کرتے اس لئے کہ آپ نے بہت سے مسائل میں ان دونوں حضرات سے مختلف مسلک اختیار کیا تھا۔ مثلاً میراث میں دادا کے حصے کے متعلق اسی طرح وظائف میں یکسانیت کے بارے میں آپ کی رائے ان دونوں حضرات سے مختلف تھی۔ اسی طرح کئی اور مسائل ہیں جن میں آپ نے ان حضرات سے اختلاف کیا تھا اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ حضرت علی ؓ کو اس بارے میں حضر ابوبکر ؓ اور عمر ؓ سے اتفاق تھا کہ ذوی القربیٰ کے حصے کا استحقاق حضور ﷺ کے صرف ان رشتہ داروں کو تھا جو فقراء تھے۔
جب چاروں خلفاء راشدین اس امر پر متفق ہوئے تو ان کے اجماع کی بنا پر اس مسئلے کی حجت اور قطعیت ثابت ہوگئی اس لئے حضور ﷺ کا ارشاد ہے (علیکم بسنتی و سنۃ الخلفاء الراشدین من بعدی۔ تم پر میری سنت اور میرے بعد آنے والے خلفائے راشدین کے طریقے کی اتباع لازم ہے۔ ) یزید بن ہرمز نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ جب نجدہ حروری (خوراج کا ایک بڑا سردار) نے حضرت ابن عباس ؓ سے ذوی القربیٰ کے حصے کے متعلق دریافت کروایا تو آپ نے اسے جو تحریر لکھی تھی اس میں یہ درج تھا۔ ” ہمارا خیال تھا کہ یہ حصہ ہمارے لئے ہے، حضرت عمر ؓ نے ہمارے خاندان والوں کو بلا کر یہ پیشکش کی تھی کہ اس حصے کی مد میں آنے والے مال سے ہم اپنی بین بیاہی اور بیوہ خواتین کی شادیاں کرا دیں اور قرض داروں کے قرض ادا کردیں لیکن ہم اس بات پر اڑ گئے تھے کہ یہ حصہ ہمیں نہ دیا جائے۔ ہماری قوم یعنی خاندان والوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کردیا تھا۔ ” بعض روایات کے الفاظ یہ ہیں۔ لیکچن ہمارے بنو عم نے یہ بات تسلیم نہیں کی تھی۔ “ حضرت ابن عباس ؓ نے یہ بتایا کہ ان کی قوم نے جو سب کے سب حضور ﷺ کے صحابہ کرام تھے۔ یہ سمجھا تھا کہ یہ حصہ ان کے فقراء کے لئے ہے، اغنیاء کے لئے نہیں ہے۔
رہ گیا حضرت ابن عباس ؓ کا یہ قول کہ ” ہم سمجھتے ہیں تھے کہ یہ حصہ ہمارے لئے ہے۔ “ دراصل ان کی اپنی رائے تھی اور اسی بنا پر انہوں نے یہ بات کہی تھی، لیکن سنت اور خلفاء اربعہ کے متعفقہ طرزعمل کے مقابلہ میں اس رائے کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کے اس بیان کی روشنی میں جو انہوں نے حضرت عمر ؓ سے نقل کیا ہے، حضرت عمر (رح) کے قول کی صحت پر زہری کی وہ حدیث دلالت کرتی ہے جو انہوں نے عبداللہ بن الحارث بن نوفل سے روایت کی ہے اور انہوں نے المطلب بن ربیعہ بن الحارث سے بیان کیا ہے کہ مطلب ؓ اور فضل بن عباس ؓ دونوں نے حضور ﷺ سے عرض کیا کہ ہم شادی کی عمر کو پہنچ گئے ہیں اور ہمارے پاس مہر میں دینے کے لئے کچھ نہیں ہے ۔ ہم آپ کے پاس اس لئے آئے ہیں کہ ہمیں صدقات کی وصولی پر مقرر کردیا جائے اور پھر ہم اس کی وصولی کر کے دوسرے عمال کی طرح آپ کو لا کردیں اور ان کی طرح اس میں سے ہمیں بھی حصہ مل جائے۔ اس پر حضور ﷺ نے انہیں فرمایا (ان الصدقۃ لا تنبغی لال محمد، انماھی اوساخ الناس) ۔
زکوٰۃ کا مال آل محمد کے گھروں میں نہیں جانا چاہیے تو یہ لوگوں کا میل کچیل ہے) پھر آپ نے محمیہ کو حکم دیا کہ ان دونوں کو مہر کی رقم کی مقدار خمس میں سے دے دیں۔ یہ روایت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ ذوی القربیٰ کے حصے کا استحقاق فقر کی بنا پر ہوتا ہے کیونکہ حضور ﷺ نے ان دونوں کو مہر کی مقدار دینے کا حکم دیا تھا، انہیں نکاح کرنے کے لئے اتنی ہی مقدار کی ضرورت تھی۔ آپ نے انہیں ان کی ضرورت سے زائد دینے کا حکم نہیں دیا۔ خمس کو حصول کے مطابق تقسیم کرنا ضروری نہیں ہے بلکہ اس کی تقسیم کا مسئلہ امام المسلمین کی رائے اور اس کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ اس پر حضور ﷺ کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے (مالی من ھذا الامال الا الخمس والخمس مردود فیکم۔ اسمال غنیمت سے میرے لئے صرف پانچواں حصہ ہے اور یہ پانچواں حصہ بھی تمہارے اوپر صرف کردیا جاتا ہے) آپ نے اس میں اپنی قرابت داری کی کوئی تخصیص نہیں کی اور دوسروں کو اس سے خارج نہیں کیا۔ یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ خمس کے معاملے میں حضور ﷺ کے قرابت دار دوسرے فقراء کی طرح ہیں اس میں ان کا صرف اتنا ہی حصہ ہوگا جو ان کی ضرورت پوری کرنے کے لئے کافی ہوجائے۔ اس پر حضور ﷺ کا یہ ارشاد بھی دلالت کرتا ہے (یذھب کسری فلا کسری بعدہ ابدا و یذھب قیصر فلا قیصر بعدہ ابدا والذی نفسی بیدہ لتنفقن کنوزھما فی سبیل اللہ۔ کسریٰ ، یعنی شہنشاہ ایران ختم ہوجائے گا اور اس کے بعد کبھی کوئی کسریٰ پیدا نہیں ہوگا۔ قیصر یعنی شاہ روم ختم ہوجائے گا اور اس کے بعد کبھی کوئی قیصر پیدا نہیں ہوگا۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تم لوگ ان دونوں کے خزانوں کو اللہ کے راستے میں خرچ کرو گے) آپ نے یہ بتایا کہ ان کے خزانے اللہ کے راستے میں خرچ ہوں گے۔ آپ نے ان خزانوں کے ساتھ کسی قوم کی تخصیص نہیں کی۔ خمس کی تقسیم کا معاملہ حضور ﷺ کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا تھا اس پر یہ امر دلالت کرتا ہے کہ آپ نے خمس میں ان لوگوں کو بھی دیا تھا جو مولفۃ القلوب کے ضمن میں آتے تھے حالانکہ آیت خمس میں ان کا ذکر نہیں ہے۔ یہ چیز ہماری بیان کردہ بات پر دلالت کرتی ہے۔ اس پر یہ امر بھی دلالت کرتا ہے کہ آیت خمس میں جن لوگوں کا ذکر کیا گیا انہیں صرف فقر کی بنا پر مستحق قرار دیا گیا ہے۔ یہ یتامیٰ ، مساکین اور ابن السبیل یعنی مسافر لوگ ہیں اس لئے ذوی القربیٰ بھی ایسے ہی لوگ ہونے چاہئیں۔ اس لئے کہ انہیں بھی خمس سے حصہ ملتا ہے۔ اس پر یہ بات بھی دلالت کرتی ہے کہ جب حضور ﷺ کے قرابت داروں پر زکوۃ و صدقات کا مال حرام کردیا گیا تو اس کی جگہ ان کے لئے خمس میں سے حصہ مقرر کردیا گیا اس سے یہ ضروری ہوگیا کہ اس حصے کے صرف وہی لوگ حقدار بنیں جو ان میں سے فقراء ہوں۔ جس طرح اصل یعنی زکوٰۃ و صدقات کے صرف وہی لوگ مستحق قرار پائے جو فقراء و مساکین ہوتے ہیں۔ اس لئے کہ خمس کا یہ حصہ اس اصل کے قائم مقام قرار دیا گیا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ بنو ہاشم کے موالی یعنی ان کے آزاد کردہ غلاموں اور ان کے ساتھ عقد موالات کرنے والوں کے لئے زکوٰۃ و صدقات کا مال حلال نہیں ہوتا لیکن یہ لوگ خمس کے حصے کے مستحقین میں شامل نہیں ہیں۔ اس کے جواب میں کا ہ جائے گا کہ یہب ات غلط ہے۔ اس لئے کہ بنو ہاشم کے موالی کے لئے خمس کے اندر حصہ ہوتا ہے بشرطیکہ وہ فقراء ہوں جس طرح بنو ہاشم کے لئے حصہ ہوتا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ جب حضور ﷺ کے قرابت دار فقر اور حاجت کی بنا پر خمس کے حصے کے حق دار شمار ہوتے ہیں تو پھر آیت میں خصوصیت کے ساتھ ان کے ذکر کی کیا وجہ ہے جب کہ یہ مساکین کے گروہ میں شامل ہیں۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا ان کے ذکر کی وہی حیثیت ہے جو یتامیٰ اور ابن السبیل کے ذکر کی ہے حالانکہ یتامیٰ اور ابن السبیل فقر کی بنا پر ہی خمس کے حصے کے مستحق ہوتے ہیں۔ نیز اللہ تعالیٰ نے جب خمس کو یتامیٰ ، مساکین اور ابن السبیل کے لئے مخصوص کردیا جس طرح صدقات کی اپنے اس قول کے ذریعے تخصیص کردی (انما الصدقات للفقراء والمساکین) تا آخر آیت۔ دوسری طرف حضور ﷺ نے فرما دیا (ان الصدقۃ لا تحل لال محمد آل محمد کے لئے صدقات حلال نہیں) تو اگر آیت خمس میں ان قرابت داروں کا ذکر نہ ہوتا تو کوئی یہ گمان کرسکتا تھا کہ خمس میں سے انہیں دینا جائز نہیں ہے جس طرح زکوٰۃ و صدقات میں سے انہیں دینا جائز نہیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے آیت خمس میں ان کا ذکر کر کے یہ بتادیا کہ خمس کے مال میں ان کا حکم زکوۃ و صدقات کے مال کے حکم سے مختلف ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ حضور ﷺ نے اپنے چچا حضرت عباس ؓ کو خمس میں سے دیا تھا، حالانکہ وہ مالدار تھے جس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ خمس میں ذوالقربیٰ کا حصہ ان کے فقراء اور اغنیاء سب کے لئے ہے ۔ اس اعتراض کا جواب دو طرح سے دیا جائے گا۔ ایک تو یہ کہ حضور ﷺ نے یہ بتادیا تھا کہ آپ نے انہیں قرابت داری اور نصرت کی بنا پر خمس میں سے یہ حصہ دیا تھا۔ چناچہ آپ کا ارشاد ہے (انھم لم یفار قونی فی الجاھلیۃ ولا اسلام۔ ان لوگوں نے زمانہ جاہلیت اور زمانہ اسلام دونوں میں میرا ساتھ نہیں چھوڑا) اس لئے قرابت اور نصرت میں یکسانیت کی بناء پر آپ کے تمام رشتہ دار خواہ وہ فقیر ہوں یا غنی خمس میں ذوی القربیٰ کے حصے کے یکساں مستحق ہوں گے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ شاید آپ نے حضرت عباس ؓ کو یہ حصہ فقراء بنی ہاشم کے درمیان تقسیم کرنے کے لئے دیا ہو، خود ان کی ذات کو نہ دیا ہو۔
حضور ﷺ کے قرابت دار کون ہیں ؟
حضور ﷺ کے قرابت دار کون ہیں اس مسئلے میں فقہاء کے مابین اختلاف رائے ہے۔ ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ آپ کے قرابت دار وہ لوگ ہیں جن پر زکوۃ و صدقات کا مال حرام ہے۔ یعنی آپ ﷺ کے رشتہ دار اور آپ ﷺ کی آل، یہ لوگ آل جعفر، آل عقیل اور حارث بن عبدالمطلب کی اولاد ہیں۔ زید بن ارقم سے اسی قسم کی روایت منقول ہے۔ بعض حضرات کا قول ہے کہ عبدالمطلب کا سارا گھرانہ اس میں داخل ہے اس لئے کہ حضور ﷺ نے انہیں خمس میں سے حصہ دیا تھا۔ بعض دوسرے حضرات کا قول ہے کہ پورا قبیلہ قریش حضور ﷺ کا قرابت دار ہے۔ خمس میں ان سب کا حصہ ہے۔ البتہ حضور ﷺ کو یہ اختیار تھا کہ اپنی صوابدید کے مطابق ان میں سے جسے چاہیں حصہ دے دیں۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ جن رشتہ داروں کا ہم نے ذکر کیا ہے ان کے متعلق فقہاء کچا اتفاق ہے کہ یہ حضور ﷺ کے قرابت دار ہیں۔ بنو المطلب اور بنو عبد شمس قرابتداری میں یکساں درجے پر ہیں۔ اگر بنو مطلب کا ایسے قرابت داروں میں شامل ہونا ضروری ہے جن پر زکوۃ و صدقات کا مال حرام ہے تو پھر بنو عبدشمس کا بھی ان کی طرح ہونا ضروری ہوگا اس لئے کہ حضور ﷺ سے قرابت داری میں بنو عبدشمس بنو مطلب کے ہم پلہ اور یکساں درجے پر ہیں۔ اب رہی یہ بات کہ حضور ﷺ نے بنو مطلب کو خمس میں طے حصہ دیا تھا اور بنو عبدشمس کو نہیں دیا تھا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ بنو مطلب کو یہ حصہ آپ کی نصرت کرنے کی بنا پر ملا تھا اس لئے کہ آپ نے خود فرما دیا تھا کہ ان لوگوں نے زمانہ جاہلیت اور زمانہ اسلام دونوں میں آپ کا ساتھ نہیں چھوڑا تھا۔ رہ گئی زکوۃ اور دیگر صدقات تو تمام فقہاء کے نزدیک اس کی تحریم کا نصرت سے کوی تعلق نہیں ہوتا۔ اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ بنو المطلب بنی عبدشمس کی طرح حضور ﷺ کی آل میں سے نہیں ہیں جن پر زکوۃ حرام ہوتی ہے۔ بنو ہاشم کے موالی پر زکوۃ حرام ہوتی ہے حالانکہ ان کی حضور ﷺ سے کوئی قرابت داری نہیں ہوتی۔ یہ لوگ قرابت کی بنیاد پر خمس کے مستحق نہیں ہوتے۔ حضرت فاطمہ ؓ نے آپ ﷺ سے خمس کے مال میں سے ایک خدمت گار طلب کیا تھا تو آپ نے انہیں تسبیحات پڑھنے کے لئے کہا تھا اور کچھ بھی نہیں دیا تھا۔
اگر یہ کہا جائے کہ آپ نے حضرت فاطمہ ؓ کو خمس میں سے اس لئے نہیں دیا تھا کہ وہ آپ کے ذوی القربیٰ کے ضمن میں نہیں آتی تھیں اس لئے کہ وہ حضور ﷺ کے قرابت داروں سے بڑھ کر آپ کی قرابت دار تھیں۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ آپ ﷺ نے حضرت علی ؓ کو بھی اسی خطاب سے پکارا تھا جبکہ حضرت علی ؓ آپ کے ذوی القربی کے ضمن میں شامل تھے۔ اسی طرح آپ نے اپین بعض چچازاد بہنوں کو جب وہ حضرت فاطمہ ؓ کے ساتھ آپ ﷺ سے خدمت گار طلب کرنے گئی تھیں فرما دیا تھا (سبتکن یتامی بدر، جو لوگ بدر میں شہید ہوئے تھے ان کی یتیم اولاد تم سے سبقت لے گئی) یعنی ان کی ضروریات پہلے پوری کردی گئیں جبکہ ان یتیموں میں ایے بھی تھے جن کا تعلق بنو ہاشم سے نہیں تھا۔ اس لئے کہ ان میں اکثر حضرات انصار کی اولاد تھی۔ اگر حضرت فاطمہ ؓ اور ان کے ساتھ جانے والی حضور ﷺ کے چچازاد بہن قرابت کی بنا پر کسی چیز کی مستحق ہوتیں جس سے انہیں روکنا جائز نہ ہوتا تو حضور ﷺ ہرگز ان سے ان کا حق نہ روکتے اور کسی اور کو نہ دیتے۔ اس امر میں دو باتوں پر دلیل موجود ہے۔ ایک تو یہ کہ خمس میں ذوی القربیٰ کے حصے کی تقسیم کا معاملہ حضور ﷺ کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا تھا کہ آپ ان میں سے جسے چاہتے اس حصے میں سے دے دیتے۔ دوسری بات یہ کہ انہیں خمس میں سے دینے یا نہ دینے کا تحریم صدقات کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ جو لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ قریش کا سارا قبیلہ آپ کا قرابت دار ہے وہ اس بات سے استدلال کرتے ہیں کہ جب قول باری (و انذر عشیرتک الاقربین اور اپنے کنبہ کے عزیزوں کو ڈراتے رہیں) کا نزول ہوا تو آپ نے قبیلہ قریش کے بطون یعنی مختلف شاخوں کا نام لے کر مثلاً ” اے بنی فہر، اے بنی عدی،۔ اے بنی فلاں وغیرہ “ ان سے فرمایا (انی نذیرلکم بین یدی عذاب شدید، میں تمہیں ایک زبردست عذاب کی آمد سے ڈرا رہا ہوں) آپ سے یہ بھی مروی ہے کہ اس موقع پر آپ نے یہ بھی فرمایا تھا : اے بنی کعب بن لوئی، اے بنی ہاشم۔ اے بنی قصی، اے بنی عبد مناف “ آپ کا یہ قول بھی مروی ہے : ’ دشاید میں بنی ہاشم کو جمع کرلوں۔ “ بنو ہاشم کے افراد کی تعداد چالیس تھی۔ ان حضرات کا کہنا ہے کہ جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ قبیلہ قریش سارے کا سارا آپ کا قرابت دار ہے اور خمس میں سے انہیں کچھ دینے کا معاملہ آپ کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا تھا تو آپ نے ان میں سے صرف ایسے لوگوں کو کچھ دیا، جنہوں نے آپ کی نصرت کی تھی۔ دوسروں کو کچھ نہیں دیا۔
ابوبکرجصاص کہتے ہیں قرابت کے اسم کا ان سب پر اطلاق ہوتا ہے اس لئے کہ حضور ﷺ نے درج بالا آیت کے نزول کے بعد ان سب کو اسلام کی دعوت دینے کے لئے اکٹھا کیا تھا جس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ قرابت کا اسم ان سب کو شامل ہے۔ اس طرح حضور ﷺ کے ذوی القربیٰ کے ساتھ تین احکام کا تعلق ہوگیا۔ اول خمس کے ایک حصے میں ان کا استحقاق اس لئے کہ قول باری ہے (وللرسول ولذی القربی) تاہم ان شرطوں کے مطابق ان کا فقراء ہونا ضروری ہوگا جن کا ہم نے ان کے معتلق اختلاف رائے رکھنے والوں کے اقوال کی صورت میں ذکر کردیا ہے۔ دوسرا حکم یہ ہے کہ ان پر زکوٰۃ و صدقات کا مال حرام ہے۔ یہ آل علی، آل عباس، آل عقیل، آل جعفر اور حارث بن عبدالمطلب کی اولاد ہیں۔ یہ اہل بیت نبی کہلاتے ہیں، بنو المطلب کے ساتھ اس حکم کا کوئی تعلق نہیں ہے اس لئے کہ یہ لوگ حضور ﷺ کے اہل بیت میں شمار نہیں ہوتے۔ اگر یہ لوگ آپ کے اہل بیت میں داخل ہوتے تو اس صورت میں بنو امیہ بھی آپ کے اہل بیت اور آل میں شامل ہوتے جب کہ اس پر سب کا اتفاق ہے کہ بنی امیہ کو یہ حیثیت حاصل نہیں ہے اس لئے بنو المطلب کو بھی یہی حیثیت ہوگی اس لئے کہ حضور ﷺ سے رشتہ داری کے اندر ان دونوں خاندانوں کو یکساں درجہ حاصل ہے۔
تیسرا حکم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کے لئے اپنے قرابت داروں کو اللہ کے عذاب سے ڈرانے کی تخصیص فرما دی۔ یہ چیز قبیلہ قریش کی تمام شاخوں کو شامل تھی جیسا کہ روایت میں آیا ہے کہ آیت (وانذر عشیرتک الاقربین) کے نزول پر حضور ﷺ نے قریش کے پورے قبیلے کو عذاب الٰہی سے ڈرایا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو یہ حکم اس لئے دیا تھا کہ آیت کے نزول پر یہ طریق کار دین کی طرف بلانے کے لئے زیادہ موثر تھا اور اس کے ذریعہ اللہ کی طرف دعوت کے کام میں نرمی نہ دکھانے اور باہمی تعلقات الفت و نظرانداز کردینے کا بھوپر مظاہرہ ہوا تھا۔ اس لئے جب تمام لوگوں کو اس بات کا علم ہوگیا ہو گا کہ آپ نے اپنے قبیلے کے لوگوں کی بت پرستی کو برداشت نہیں کیا بلکہ انہیں اس کے انجام سے ڈرایا اور انہیں اس سے روکا تو انہیں یہ محسوس ہوگیا ہو گا کہ آپ دوسرے لوگوں کی بت پرستی کو کیسے برداشت کرسکتے ہیں۔ اس لئے کہ اگر باہمی الفت و محبت اور رشتہ داری اس کے آڑے آسکتی تو پھر آپ کے قرابت دار تمام لوگوں سے بڑھ کر اس لحاظ کے مستحق ہوتے۔
یتیم کسے کہتے ہیں ؟
قول باری ہے (والیتامی) یتیم کے اصل معنی تنہا رہ جانے کے ہیں۔ اسی بناء پر ریگستان میں تنہا ٹیلے کو یتیمہ کہتے ہیں۔ اسی طرح وہ عورت بھی یتیمہ کہلاتی ہے جو شادی کے جھمیلوں سے اپنے آپ کو الگ رکھتی ہے ۔ تاہم عرف عام میں یتیم اس نابالغ بچے کو کہا جاتا ہے جس کا باپ گزر چکا ہو۔ جب اس کا اطلاق ہوتا ہے تو اس سے فقیر کے معنی کا بھی احساس پیدا ہوتا ہے۔ اسی بناء پر ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ اگر کوئی شخص کسی خاندان کے یتیموں کے لئے کچھ وصیت کر جائے اور اس خاندان میں بیشمار یتیم ہوں تو وصیت درست ہوگی اور ان میں جو فقراء ہوں گے انہیں یہ وصیت مل جائے گی نیز اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ آیت زیر بحث میں یتیمی کے ساتھ فقر بھی مراد ہے اور مالدار یتیموں کا خمس کے اندر کوئی حق نہیں ہوتا۔ یتیم کے لفظ کا اطلاق اس نابالغ پر ہوتا ہے جس کا باپ فوت ہوگیا ہو، بالغ پر نہیں ہوتا اس پر حضور ﷺ کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے کہ (لا یتم بعد حلم۔ بلوغت کے بعد کوئی یتیمی نہیں رہتی) ایک قول ہے کہ انسان کے سوا ہر جاندار کا بچہ اپنی ماں کے مرجانے پر یتیم کہلاتا ہے لیکن انسان کا بچہ باپ کے مرجانے پر یتیم شمار ہوتا ہے۔
ابن السبیل
قول باری ہے (وابن السبیل) اس سے مراد وہ مسافر ہے جو اپنے گھر سے بچھڑ گیا ہو اور اسے اپنے گھر تک پہنچنے کے لئے مدد حاصل کرنے کی ضرورت ہو خواہ گھر پر مال کیوں نہ موجود ہو۔ اس کی حیثیت اس فقیر جیسی ہوگی جس کے پاس کوئی مال نہیں، اس لئے کہ فقیر کو خمس میں سے دینے کے وجوب کی علت یہ ہے کہ اسے مال کی حاجت ہوتی ہے۔ اس لئے ایسا شخص جس کے پاس مال تو ہو لیکن اس کی دسترس سے باہر ہو اس شخص کی طرح ہوتا ہے جس کے پاس سرے سے مال ہی نہیں ہوتا۔ ان دونوں میں احتیاج کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں ہوتا۔ مسکین کے متعلق فقاء کے مابین اختلاف رائے ہے ہم اس کا صدقات کی آیت کی تفسیر میں ذکر کریں گے۔ جب تمام کا اس پر اتفاق ہوگیا کہ ابن السبیل اور یتیم اپنے نام اور لیبل کی بنا پر خمس کے اندر حصے کے مستحق نہیں ہوتے بلکہ فقر اور حاجت مندی کی بنا پر ہوتے ہیں تو اس سے یہ دلالت حاصل ہوگئی کہ خمس کا مقصد صرف یہ ہے کہ اسے مساکین پر صرف کیا جائے۔
اگر یہ کہا جائے کہ جب فقر استحقاق کی علت قرار پایا ہے تو پھر ذوی القربیٰ کے ذکر کا کیا فائدہ ہوا۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ ان کے ذکر میں بہت بڑا فائدہ پوشیدہ ہے۔ وہ یہ کہ جب آل نبی ﷺ پر صدقات و زکوۃ کا مال حرام کردیا گیا تو کسی شخص کے ذہن میں یہ بات آسکتی تھی کہ ان پر صدقات کی طرح خمس بھی حرام ہے کیونکہ خمس کا مصرف بھی فقراء تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آیت خمس میں، ان کا ذکر کر کے یہ واضح فرما دیا کہ فقر کی بناء پر ذوی القربیٰ بھی خمس کے اندر حصوں کے حقدار ہوں گے اور انہیں اس علت کی بناء پر حصہ دینا جائز ہوگا۔ اس اعتراض سے خود معترض پر یہ اعتراض لازم آتا ہے کہ پھر اسے نام کی نبی اد پر یتیموں اور مسافروں کو خمس میں سے حصہ دینا چاہیے اور فقر و حاجت مندی کو نظرانداز کردینا چاہیے۔ اس لئے ذوی القربیٰ کی صورت میں اگر معترض کا اعتراف تسلیم کرلیا جائے تو یہی بات ابن السبیل اور یتامیٰ کے بارے میں بھی کہی جاسکتی ہے کہ جب استحقاق فقر کی بنیاد پر ہوتا ہے تو پھر آیت خمس میں ابن السبیل اور یتامیٰ کے ذکر کا کوئی فائدہ نہیں جب کہ یہ دونوں فقرز ہی کی بنا پر خمس کے اندر کسی حصے کا استحقاق رکھ سکتے ہیں۔
Ayah 8:45جنگ میں یاد خدا
قول باری ہے (واذالقیم فئۃ فاذکوا اللہ کثیرا۔ جب کسی گروہ سے تمہارا مقبالہ ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ کو کثرت سے یاد کرو) ایک قول کے مطابق الفئۃ اس گروہ کو کہتے ہیں جو دوسرے گروہ سے بچھڑ چکا ہو۔ اس کی اصل اس محاورہ سے ماخوذ ہے۔ فاوت راسہ بالسیف (میں نے تلوار سے اس کا سر کاٹ دیا) اس لفظ سے یہاں کفار کا گروہ مراد ہے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ان کے مقابلہ میں ڈٹ جانے اور ان سے جنگ کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ آیت اس قول باری کے معنوں میں ہے (وذالقتم الذین کفروا زحفا فلا تولوھم الادبار۔ جب تم ایک لشکر کی صورت میں کفار سے دوچار ہو تو ان کے مقابلہ میں پیٹھ نہ پھیرو۔
اس آیت میں جو صورتیں بیان کی گئی ہیں یعنی میدان جنگ سے پیچھے ہٹ آنے یا مسلمانوں کے کسی اور فوج سے جا ملنے اور ان کے ساتھ مل کر دوبارہ جنگ کرنے کا جواز وغیرہ ان پر آیت زیر کا مجفہوم مرتب ہے، اس کا مفہوم اس آیت کے مفہوم پر بھی مرتب ہے جو بعد میں مذکور ہے یعنی الان خفف اللہ عنکم وعلم ان فیکم ضعفا فان یکن منکم مائۃ صابرۃ یغلبوا مائتین و ان یکن منکم یغلبوا الفین باذن اللہ۔ اچھا ! اب اللہ نے تمہارا بوجھ ہلکا کیا اور اسے معلوم ہوا کہ ابھی تم میں کمزوری ہے، پس اگر تم میں سے سو آدمی صابر ہوں تو وہ دو سو پر ا اور ہزار آدمی ایسے ہوں تو دو ہزار پر اللہ کے حکم سے غالب آئیں گے) مسلمانوں کو کافروں کے مقابلہ میں ڈٹے رہنے کا صرف اس وقت حکم ہے جب ان کی تعداد مسلمانوں سے دوگنا ہو، اگر ان کی تعداد تین گنا ہو تو پھر ان کے لئے میدان جنگ سے ہٹ کر مسلمانوں کے کسی گروہ سے مل جانا جائز ہے تاکہ ان کے ساتھ مل کر پھر دشمن کا مقابلہ کریں۔
قول باری (واذکرواللہ کثیرا) میں دو معنوں کا احتمال ہے۔ ایک زبان سے اللہ کا ذکر اور دوسرا دل سے اللہ کا ذکر۔ اس کی بھی دو صورتیں ہیں۔ ایک اللہ کے دشمنوں یعنی مشرکین کے خلاف جہاد میں ثابت قدمی دکھانے اور صبر کرنے پر ثواب کا اور مقابلہ سے فرار ہونے پر عذاب کا تصور۔ دوسری اللہ کے قائم کردہ دلائل، اپنے بندوں پر اس کی نعمتوں نیز بندوں پر اس کے اس استحقاق کا تصور کہ ان پر اس کے دشمنوں کے خلاف جہاد کے فریضہ کی ادائیگی لازم ہے۔ اس قسم کے تصورات اور از کار دشمنوں کے مقابلہ میں ڈٹ جانے اور صبر کرنے میں مددگار ہوتے ہیں اور للہ کی نصرت و تائید کا سبب بنتے ہیں نیز ان سے دشمنوں کے مقابلہ میں حوصلہ اور جرأت پیدا ہوتی ہے اور دشمنوں کی پروا نہیں رہتی۔ آیت سے اذکار لسانی اور اذکار قلبی دونوں مراد لینا بھی درست ہے اس لئے کہ لفظ ذکر ان تمام کو شامل ہے۔ حضور ﷺ سے بھی ایسی روایات منقول ہیں جو اس آیت کے مفہوم سے مطابقت رکھتی ہیں۔ ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی، انہیں بشر بن موسیٰ نے، انہیں خلاد بن یحییٰ نے، انہیں سفیان ثوری نے عبدالرحمن بن زیاد سے، انہوں نے عبداللہ بن زید سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (لا تمنوا لقائز العلا واسئلوا اللہ الاعافیۃ، فاذا القیتموھم فثبتوا واذکروا اللہ کثیر و ان اجلبوا او ضبحوا فعلیکم الصمت۔ دشمن سے مڈ بھیڑ کی تمنا نہ کرو اور اللہ سے عافیت طلب کرو۔ لیکن جب ان سے تمہارا مقابلہ ہوجائے تو ثابت قدمی رکھائو اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرو، اگر وہ چیخیں چلائیں یا غل غپاڑہ کریں تو تم پر خاموشی لازم ہے۔
Ayahs 8:46–56جنگ میں اطاعت خدا اور رسول
قول باری ہے (واطیعوا اللہ و رسولہ ولا تنازعوا فتفشلوا و تذھب ریحکم اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑو نہیں ورنہ تمہارے اندر کمزوری پیدا ہوجائے گی اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کا حکم دیا ہے اور آپس کے جھگڑوں اور اختلافات سے منع فرما دیا ہے اور یہ بتادیا ہے کہ آپس کے جھگڑے اور اختلاف کا نتیجہ فشل یعنی دل کے اندر کمزوری پیدا ہونے کی صورت میں نکلے گا۔ فشل کسی نادیدہ خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے دل میں کمزوری پیدا ہوجانے کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک اور آیت میں حکمرانوں کی اطاعت کا حکم دیا ہے تاکہ آپس کے جھگڑوں اور اختلافات کا خاتمہ ہوجائے جن کے نتیجے میں دلوں کے اندر کمزوری پیدا ہوتی ہے چناچہ ارشاد ہے (اطیعو اللہ و اطیعوا الرسول و اولی الامر منکم فان تنازعتم فی شیء فردوہ الی اللہ والرسول۔ اطاعت کرو اللہ کی، اور اطاعت کرو رسول کی، اور ان لوگوں کی جو تم میں سے صاحب امر ہوں۔ پھر اگر تمہارے درمیان کسی معاملہ میں نزاع ہوجائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف پھیر دو ) ایک اور آیت میں فرمایا (ولو اراکھم کثیرا لغثلتم و لتنازعتم فی الامر۔ اگر کہیں وہ انہیں زیادہ دکھا دیتا تو ضرور تم لوگ ہمت ہار جاتے اور لڑائی کے معاملہ میں جھگڑا شروع کردیتے) اللہ تعالیٰ نے یہ بتادیا کہ اس نے ان مشرکین کو تمہارے نیند کے اندر تھوڑا کر کے دکھایا تاکہ تم انہیں زیادہ دیکھ کر لڑائی کے معاملہ میں جھگڑا نہ شروع کر دو اور پھر تمہارے دلوں میں کمزوری نہ پیدا ہوجائے۔
بارہ ہزار کا لشکر اسلام شکست نہیں کھاتا
حضور ﷺ سے مروی ہے کہ (ولن یغلب اثنی عشر الفا من قلۃ اذا اجتمعت کلمتھم۔ بارہ ہزار کی نفری قلت تعداد کی بنا پر مغلوب نہیں ہوسکتی بشرطیکہ ان میں اتفاق و اتحاد موجود ہو) یہ سب آیتیں اختلاف و تنازعہ کی نہی پر مشتمل ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں خبردار کردیا ہے کہ آپس کے جھگڑے اور تنازعات ہمت ہار جانے اور غلب ختم ہوجانے کا سبب ہیں۔ چناچہ فرمایا (وتذھب ریحکم اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی) ایک قول ہے کہ اس سے مراد فتح و نصرت کی ہوائیں ہیں جو اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے ساتھ چلاتا ہے جن کی وہ مدد کرتا ہے اور ان لوگوں کے خلاف چلاتا ہے جو اس کی مدد سے محروم رہتے ہیں۔ قتادہ سے یہ تفسیر مروی ہے ابو عبیدہ کا قول ہے کہ ” تمہارا غلبہ ختم ہوجائے گا “ یہ معنی اس محاورے سے ماخوذ ہے۔ ذہبت ریحہ یعنی اس کا غلبہ ختم ہوگیا۔
Ayah 8:57دشمن پر ضرب کاری کی ضرورت ہے
قول باری ہے (فاما ثقفنھم فی الحرب فشرد بھم من خلفھم۔ پس گر یہ لوگ تمہیں لڑائی میں مل جائیں تو ان کی ایسی خبر لو کہ ان کے بعد جو دوسرے لوگ ایسی روش اختیار کرنے والے ہوں ان کے حواس باختہ ہوجائیں) تثقفھم کے معنی تصادفھم کے ہیں یعنی تمہیں مل جائیں۔ حسن، قتادہ اور سعید بن جبیر نے (فشردبھم من خلفھمض کی تفسیر میں کہا ہے کہ جب تم انہیں گرفتار کرلو تو انہیں ایسی سزا دو کہ اس کے خوف سے دوسرے ناقضین عہد (معاہدہ کی خلاف ورزی کرنے والوں) کے ہوش ٹھکانے آ جائیں۔ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ انہیں اس طرح تہہ تیغ کرو جو لوگ ان کے پیچھے رہ کر تمہارے خلاف جنگ کرنے میں ان کی مدد کرتے رہتے ہیں وہ سب ان کا ساٹھ چھوڑ کر بھاگ جائیں اور ان کی مدد سے دست بردار ہوجائیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حضرت ابوبکر ؓ نے مرتدین کے خلاف جو سخت رویہ اختیار یکا تھا کہ انہیں تہ تیغ کردیا جائے، انہیں آگ میں ڈال کر جلا دیا جائے، پہاڑوں سے نیچے پھینک دیا جائے اور کنووں میں گرا دیا جائے۔ اس اقدام کے لئے آپ نے اسی آیت کی طرف رجوع کیا تھا کہ مرتدین کی قوت کو اس طرح پارہ پارہ کردیا جائے اور انہیں اس طرح بکھیر دیا جائے کہ پھر وہ کبھی بھی مسلمانوں کے خلاف جنگ کے لئے ایک دوسرے کی مدد کرنے اور یک جا ہونے کے قابل نہ ہو سکیں۔
Ayahs 8:58–59دشمن کی بد عہدی کی علانیہ منسوخی
قول باری ہے (واما تخافن من قوم خیانۃ فانبذ علیھم علی سواء ا اور اگر کبھی تمہیں کسی قوم سے خیانت کا اندیشہ ہو تو اس کے معاہدے کو علانیہ اس کے آگے پھینک دو ) تا آخر آیت۔ اس کے معنی… واللہ اعلم… یہ ہیں کہ جب تمہیں ان کی بد عہدی، چال بازی، اور سلمانوں پر ان کے اچانک حملے کا خطرہ ہو، اور اگرچہ ظاہری طور پر نقض عہد نہ کریں لیکن خفیہ طور پر ان تیاریوں میں مصروف ہوں تو پھر تم ان کے معاہدے کو علانیہ ان کے سامنے پھینک دو یعنی تمہارے اور ان کے درمیان صلح کا جو معاہدہ ہو اس کی منسوخی کا کھلم کھلا اعلان کر دو تاکہ سب کو اس کا علم ہوجائے۔ قول باری (علی سوا) کے یہی معنی ہیں تاکہ وہ لوگ یہ نہسوچ سکیں کہ معاہدہ تم نے توڑا ہے اور جنگ کا آغاز کیا ہے۔ ایک قول ہے کہ (علی سواء) کے معنی علی عدل کے ہیں یعنی مساوی طور پر۔ یہ معنی ایک رجزیہ شعر سے ماخوذ ہیں۔
فاضرب وجوہ انعدر للاعداء
حتی یجیبوک الی السواء
دشمنوں کو آگے پیچھے چھوڑنے کی تمام صورتیں اختیار کرو حتیٰ کہ وہ بھی تمہیں اسی طرح جواب دینے پر مجبور ہوجائیں۔ اسی سے وسط کو سواء کہا جاتا ہے۔ حضرت حسان کا شعر ہے۔
یاویح انصار النبی و رھطہ
بعد المغیب فی سواء الملحد
نبی ﷺ کے انصار اور آپ کے قبیلہ کے غم کو ذرا دیکھو جو اس ذات اقدس کے بعد انہیں لاحق ہوا ہے جسے لحد کے درمیان دفن کر کے نظروں سے پوشیدہ کردیا گیا یعنی وسط لحد میں۔ حضور ﷺ نے اہل مکہ پر صلح کے معاہدہ کے بعد لشکر کشی کی تھی۔ آپ نے اس کے لئے صلح کا معاہدہ ختم کرنے کا کھلم کھلا اعلان نہیں کیا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ الہ مکہ نے بنی خزاعہ کے قتل کے اقدام پر بنی کنانہ کی مدد کر کے نقض عہد کیا تھا اور اس معاہدے کو خود ختم کر دیات ھا۔ اسی بنا پر ابو سفیان تجدید معاہدہ کے لئے مدینہ آیا تھا اور حضور ﷺ سے اس درخواست کی تھی لیکن آپ نے اس کی درخواست قبول نہیں کی تھی۔ چونکہ ابو سفیان اور اہل مکہ نے حضور ﷺ کے حلیف قبیلہ بنی خزاعہ کے خلاف جنگ کچی آگ بھڑکا کر خود کی نقض عہد کیا تھا اس لئے اسے یہ کہنے کی ضرورت پیش نہ آئی کہ مسلمانوں کے ساتھ صلح کا معاہدہ ختم ہوگیا ہے۔
حضرت معاویہ ؓ کی پاسداری عہد
آیت کے ان ہی معنوں میں حضور ﷺ سے ایک روایت منقول ہے ہمیں محمد بن بکر نے یہ روایت بیان کی، انہیں ابودائود نے، انہیں حفص بن عمر الخمری نے، انہیں شعبہ نے ابوالفیض سے، انہوں نے سلیم سے (ابوالفیض کے سوا دوسرے راوی نے سلیم کی بجائے سلیم بن عامر، قبیلہ حمیر کے ایک شخص نے، کے الفاظ کہے ہیں) کہ حرت معاویہ ؓ اور رومیوں کے درمیان صلح کا معاہدہ تھا، حضرت معاویہ ؓ رومیوں کے علاقے کی طرف لشکر لے کر بڑھتے رہے تاکہ جب معاہدے کی مدت ختم وہ جائے تو ان پر حملہ کردیا جائے۔ اسی دوران ایک شخص گھوڑے یا ٹٹو پر سوار ہو کر اسلامی لشکر کی طرف آتا دکھائی دیا۔ وہ پکار پکار کر کہہ رہا تھا۔ اللہ اکبر، اللہ اکبر، عہد کی پاسداری کرو، نقض عہد نہ کرو۔ “ جب لوگوں نے دیکھا تو یہ حضرت عمرو بن عنبہ ؓ تھے۔ حضرت معاویہ ؓ نے انہیں بلوایا اور ان سے یہ بات کہنے کی وجہ دریافت کی، انہوں نے فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ (من کان بینہ و بین قوم عہد فلایشد عقدۃ ولا یحلھا حتیٰ ینقضی امدھا اوینبذا الیھم علی سواء جس شخص نے کسی قوم سے معاہدہ کیا ہو تو وہ اس معاہدے کے حل و عقد کے سلسلے میں کوئی اقدام نہ کرے جب تک اس کی مدت ختم نہ ہوجائے یا اس کے خاتمے کا کھلم کھلا اعلان نہ کر دے) گویا حضرت عمرو بن عنبہ ؓ نے حضرت معاویہ کے اس اقدام کی مخالفت کی تھی کہ وہ معاہدے کی مدت ختم ہونے سے پہلے لشکر لے کر کیوں چل پڑے تھے، چناچہ یہ سن کر حضرت معاویہ ؓ لشکر کے ساتھ واپس ہوگئے۔
Ayah 8:60جہاد کے لئے قوت کی فراہمی
قول باری ہے (واعدوا لھم مااستطعتم من قوۃ و من رباط الخیل۔ اور تم لوگ جہاں تک تمہارا بس چلے، زیادہ سے زیادہ طاقت اور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے ان کے مقابلے کے لئے مہیا رکھو) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو قتال کے وقت کی آمد سے پہلے ہتھیار اور گھوڑے تیار رکھنے کا حکم دیا ہے تاکہ دشمن کے دل میں ان کا خوف طاری ہوجائے۔ نیز بندھے رہنے والے گھوڑے پہلے سے تیار رکھجنے کا حکم دیا گیا تاکہ مشرکین سے دو دو ہاتھ کرنے کے لئے پوری تیاری ہوجائے۔ ایک روایت کے مطابق قوت سے مراد تیراندازی ہے۔ ہمیں محمد بن بکر نے روایت بیان کی، انہیں ابودائود نے، انہیں سعید بن منصور نے، انہیں عبداللہ بن وہب نے، انہیں عمرو بن الحارث نے ابو علی ثمامہ بن شفی ہمدانی سے کہ انہوں نے حضرت عقبہ بن عامر ؓ کو یہ کہتے سنا تھا کہ انہوں نے حضور ﷺ کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا ہے کہ (واعدوا لھم ماستطعتم من قوۃ، الا ان القوۃ الرمی، الا ان القوۃ الرمی، الا ان القوۃ الرمی، اور تم جہاں تکتمہارا بس چلے زیادہ سے زیادہ طاقت ان کے مقابلہ کے لئے مہیا کرو… آپ نے فرمایا ” لوگو، آگاہ رہو، قوت تیر اندازی کا نام ہے، قوت تیر اندازی کا نام ہے، قوت تیراندازی کا نام ہے۔ “ ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی ہے، انہیں اسماعیل بن الفضل نے۔ انہیں فضل بن مستحب نے، انہیں ابن ابی اویس نے سلیمان بن بلال سے، انہوں نے عمرو سے۔ انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے عمر کے دادا سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (ارموا وارکبوا، و ان ترموا احب الی من ان ترکموا، و کل لھوالمومن باطل الارمیہ بقوسہ او تادیبہ فرسہ او ملاعبتہ امراتہ فانھن من الحق، تیراندازی اور گھڑ سواری کی مشق کرو، میرے نزدیک تیراندازی گھڑ سواری سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ مومن کے لئے ہر لہو و لعب باطل اور غلط ہے۔ البتہ اگر ایک مومن اپنی کمان سے تیر چلانے کی مشق کرے یا اپنے گھوڑے کو سدھائے یا اپنی بیوی سے ہنسی مذاق کرے۔ یہ باتیں اس کے لئے درست ہیں) ۔ ہمیں محمد بکر نے روایت بیان کی، انہیں ابو دائود نے، انہی (رح) سعید بن منصور نے، انہیں عبداللہ بن المبارک نے، انہیں عبدالرحمان بن زید بن جابر نے، انہیں ابو سلام نے خالد بن زید سے، انہوں نے حضرت عقبہ بن عامر ؓ سے، انہوں نے کہا۔ میں نے حضور ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ (ان اللہ یدخل بالسھم الواحد ثلاثۃ نفرالجنۃ صائعہ یحتسب، فی صنعتہ الخیر والرامی بہ و منبلہ وارموا، وارکبوا، و ان ترموا احب الی من ان ترکبوا لیس من اللھو ثلاثۃ، تادیب الرجل فرسہ، و ملاعبتہ اھلہ و رمیہ بقوسہ و نبلہ و من ترک الرمی بعد ما علمہ رغبۃ عنہ فانھا نعمۃ ترکھا او قال کفرھا۔ اللہ تعالیٰ ایک تیر یک بنا پر تین آدمیوں کو جنت میں داخل کرے گا، تیر بنانے والے کو بشرطیکہ وہ تیر سازی میں اللہ سے اجر ک حصول کی امید کرے۔ تیر چلانے والے کو اور تیر پکڑانے وال کو، تم لوگ تیراندازی اور گھڑ سواری کی مشق کرو، میرے نزدیک تمہاری تیر اندازی گھڑ سواری سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ صرف تین قسم کے لہو و لعب درست ہیں۔ انسان اپنے گھوڑے کو سدھائے اپنی بیوی سے ہنسی مذاق کرے اور کمان سے تیر چلانے کی مشق کرے، جس شخص نے تیراندازی سیکھنے کے بعد بےرغبتی کی بنا پر اس کی مشق ترک کردی اس نے گویا ایک ہاتھ آئی ہوئی نعمت کو ترک کردیا۔ (یا آپ ﷺ نے فرمایا) اس نے کفران نعمت کیا۔
باپ بیٹے کو تربیت جہاد دے
ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی، انہیں حسین بن اسحاق نے، انہیں مغیرہ بن عبدالرحمن نے، انہیں عثمان بن عبدالرحمن نے، انہیں الجراح بن منہال نے ابن شہاب سے، انہوں نے حضرت ابورافع ؓ کے آزاد کردہ غالم ابو سلیمان سے، انہوں نے حضرت ابو رافع ؓ سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (من حق الولد علی الوالد ان یعلمہ کتاب اللہ والسباحۃ والرمی۔ بیٹے کا باپ پر یہ حق ہے کہ باپ اسے کتاب اللہ کی تعلیم دے اور تیراکی نیز تیراندازی سکھائے) حضور ﷺ کا ارشد صالا ال قوۃ الرمی، لوگو، آگاہ رہو قوت تیراندازی کا نام ہے) کے معنی یہ ہیں کہ دشمن سے پنجہ آزمائی کے لئے جس تیاری کی ضرورت ہے تیراندازی اس کا ایک بڑا حصہ ہے۔ آپ نے اس سے تیراندازی کے سوا دوسری تیاریوں کو طاقت اور قوت کا حصہ قرار دینے کی نفی نہیں کی۔ بلکہ لفظ کا عموم ان تمام آلات جنگ اور ہتھیاروں کو شامل ہے جن سے دشمن کے مقابلہ میں کام لیا جاسکتا ہے۔ ہمیں عبدالباقی نے روایت بیان کی ہے، انہیں جعفر بن ابی التقیل نے، انہیں یحییٰ بن جعفر نے، انہیں کثیر بن ہشام نے۔ انہیں عیسیٰ بن ابراہیم الثمالی نے حضرت حکم بن عمیر ؓ سے، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں حضور ﷺ نے حکم دیا تھا کہ ہم جہاد کے اندر اپنے ناخن نہ کٹوائیں، آپ ﷺ نے فرمایا ت ھا کہ قوت ناخنوں میں ہوتی ہے۔ یہ روایت اس پر دلالت کرتی ہے کہ وہ چیز جس کے ی ذریعے دشمن مقابلہ میں قوت حاصل کی جاسکتی ہو اس کی تیاری کا ہمیں حکم دیا گیا ہے۔ قول باری ہے (ولوارادوا الخروج لااعدولہ عدۃ۔ اگر ان منافقین کا جہاد کے لئے نکلنے کا ارادہ ہوتا تو وہ اس کے لئے ضرور سامان تیار کرلیتے) اللہ تعالیٰ نے تیاری نہ کرنے اور دشمن کا سامنا کرنے سے پہلے تیاریاں مکمل نہ کرنے پر ان کی مذمت کی۔ حضور ﷺ سے گھوڑے باندھنے کے سلسلے میں ایسی روایت بھی منقول ہے جو آیت کے مفہوم سے مطابقت رکھتی ہے۔
گھوڑے کے گلے میں پٹہ ڈالاجائے نہ کہ تانت
ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی، انہیں حسین بن اساق التستری نے، انہیں احمد بن عمر نے، انہیں ابن وہب نے ابن لھیعہ سے، انہوں نے عبید بن ابی حکیم ازدی سے، انہوں نے حصین بن حرملہ المھری سے۔ انہوں نے ابو المصبح سے، وہ کہتے ہیں ک میں نے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ کو یہ کہتے ہوئے سنا تھا کہ میں نے حضور ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ (الخیل معقود فی نوا صیھا الخیر والنیل الی یوم القیمۃ و اصحابھا معانون، قلدوھا ولا تقلدوھا الاوتار گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت تک کے لئے خیر اور کامیابی کی گرہ باندھ دی گئی ہے۔ گھوڑوں کے مالکان ان کے لئے تکلیفیں برداشت کرتے ہیں، گھوڑوں کی گردنوں میں پٹے ڈال دیا کرو لیکن ان کی گردنوں میں تانت نہ ڈالا کرو) ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ پہلی حدیث میں آپ نے یہ بیان کیا کہ خیر اجر اور غنیمت کا نام ہے۔ اس میں یہ بات موجود ہے جو جس امر کی موجب ہے کہ گھوڑے باندھنا اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور تقرب الٰہی کا ذریعہ ہے بشرطیکہ اس میں جاہد کی نعمت ہو۔ یہ امر اس پر بھی دلالت کرتا ہے کہ قیامت تک جہاد کا سلسلہ جاری رہے گا۔ اس لئے کہ جہاد فی سبیل اللہ کی خاطر گھوڑوں کی پرورش اور ان کی نگہداشت پر اجر کا استحقاق قیامت تک جاری رہے گا۔ حضور ﷺ ک یارشاد (ولا تقلدوھا الاوتار) کے دو معنی بیان کئے گئے ہیں۔ ایک تو یہ کہ اس سے خطرہ ہوتا ہے کہ کہیں تانت کی وجہ سے گھوڑے کا دم نہ گھٹ جائے۔ دوم یہ کہ الہ جاہلیت کا طریقہ تھا کہ جب انتقام لینے اور بدلہ چکانے کے لئے نکل کھڑے ہوتے تو اپنے گھوڑوں کی گردنوں میں تانت ڈال دیتے۔ صوتر انتقام کو کہتے ہیں اور تانت کو بھی، دونوں میں لفظی مشابہت ہے) تانت ڈال کر وہ یہواضح کرتے ہیں کہ انتقام لینے جا رہے ہیں اور جنہیں قتل کرنا مقصود ہیں انہیں ٹھکانے لگانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے۔ حضور ﷺ نے زمانہ جاہلیت کے انتقام ک اس طریقے کو باطل قرار دیا ہے۔
اسی بنا پر آپ نے فتح مکہ کے دن اعلان کردیا تھا کہ (الا ان کل دم دماثرہ فھر موضوع تحت قدمی ھاتین و اول دم اضعہ دم ربیعۃ بن الحارث، لوگوں آگاہ ہو جائو، خ ہر خون کا بدلہ اور ہر قتل کا انتقام میرے ان دونوں قدموں کے نیچے رکھ دیا گیا، یعنی معاف کردیا گیا اور سب سے پہلے جس قتل کی معافی کا میں اعلان کرتا ہوں وہ میرے شرتہ دار ربیعہ بن الحارث کا خون ہے۔