8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsاحکام القرآن

Ayahs 8:61–62

وَ اِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 8:61 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کی طرف مائل ہوجاؤ اور خدا پر بھروسہ رکھو۔ کچھ شک نہیں کہ وہ سب کچھ سنتا (اور) جانتا ہے۔

وَ اِنْ یُّرِیْدُوْۤا اَنْ یَّخْدَعُوْكَ فَاِنَّ حَسْبَكَ اللّٰهُ١ؕ هُوَ الَّذِیْۤ اَیَّدَكَ بِنَصْرِهٖ وَ بِالْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 8:62 in the Quran reader

اور اگر یہ چاہیں کہ تم کو فریب دیں تو خدا تمہیں کفایت کرے گا۔ وہی تو ہے جس نے تم کو اپنی مدد سے اور مسلمانوں (کی جمعیت) سے تقویت بخشی۔

صلح کے معاہدے کا بیان قول باری ہے (وان جنحوالسلم فجنح لھا و توکل علی اللہ۔ اور اے نبی ﷺ ! اگر دشمن صلح و سلامتی کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کے لئے جھک جائو اور اللہ پھر بھروسہ کرو) جنوح میلان اور جھکائو کو کہتے ہیں۔ اگر کشتی ایک طرف کو جھک جائے تو کہا جاتا ہے ” جنحت السفینۃ “ اور سلم مسالمت کو کہتے ہیں جس کے معنی جنگ سے سلامتی چاہنے کے ہیں۔ آیت میں حضور ﷺ کو صلح و سلامتی کی طرف مائل ہونے اور اسے قبول کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے (فاجنح لھا) فرمایا اسئے کہ یہ لفظ صلح و سلامتی سے کنایہ ہے اس حکم کے باقی ہونے کے بارے میں اختلاف رائے ہے۔ سعید اور معمر نے قتادہ سے روایت کی ہے کہ یہ حکم قول باری (فاقتلوا المشرکین حیث رجدتموھم مشرکین کو جہاں کہیں بھی پائو قتل کرو) کی وجہ سے منسوخ ہوچکا ہے۔ حسن بصری سے بھی اسی قسم کی روایت ہے۔ ابن جریج اور عثمان بن عطا نے عطاء خراسانی سے اور انہوں نے حضرت عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ اس قول باری کو قول باری (قاتلوا الذین لا یومنون باللہ والیوم الاخر، ان لوگوں سے جنگ کرو جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتے) لا قول باری (وھم صاغرون) نے منسوخ کردیا ہے۔ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ آیت منسوخ نہیں ہوئی اس لئے کہ اس آیت کا تعلق اہل کتاب سے صلح و سلامتی کے معاہدے کے ساتھ ہے جبکہ قول باری (فاقتلوا المشرکین) کا تعلق بت پرستوں سے ہے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ حضور ﷺ جب مدینہ تشریف لے گئے تو آپ نے مشرکین کے مختلف گروہوں سے معاہدے کئے تھے۔ ان میں بنو قینقاع، بنو نظیر اور بنو قریظہ شامل تھے۔ اسی طرح آپ ﷺ نے کئی مشرک قبائل سے بھی معاہدے کئے تھے۔ پھر آپ ﷺ نے قریش کے ساتھ صلح حدیبیہ کی۔ اس صلح کا اختتام اس وقت ہوگیا جب قریش نے حضور ﷺ کے حلیف قبیلے بنو خزاعہ کے خلاف جنگی کارروائی کر کے خود اسے توڑ دیا۔ اصحاب سیر اور اہل مغازی کے بیانات اس بارے میں یکساں ہیں۔ یہ اس وقت کی بات تھی جب مسلمانوں کی تعداد ابھی کم تھی، ان میں قوت و طاقت کی بھی کمی تھی لیکن جب مسلمانوں کی تعداد بڑھ گئی اور دین کا معاملہ قوت پکڑ گیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں مشرکین کے خلاف ہتھیار اٹھا لینے کا حکم دے دیا اور اب مشرکین سے اسلام یا تلوار پر فیصلہ کے سوا کوئی تیسری صورت باقی نہیں رکھی گئی۔ چناچہ ارشاد ہوا (فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموھم) نیز اہل کتاب سے بھی قتال کا حکم دیا گیا۔ یہاں تک کہ وہ اسلام لے آئیں یا جزیہ ادا کرنے پر رضامند ہوجائیں (قاتلوا الذین لا یومنون باللہ والیوم الاخر) تا قول باری (وھم صاغرون) اہل علم کا اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ سورة برات نزول کے اعتبار سے قرآن کی آخری سورتوں میں سے ہے۔ اس کا نزو ل اس وقت ہوا تھا جب حضور ﷺ نے حضرت ابوبکر ؓ کو 9 ھ میں امیر حج بنا کر روانہ کیا تھا۔ سورة انفال کا نزول جنگ بدر کے فوراً بعد ہوا تھا۔ اس میں انفال، غنائم عہود اور مصالحتوں کا ذکر ہوا تھا اس لئے سورة برأت کے حکم کو اس امر پر محمول کیا جائے گا جس کا اس میں ذکر ہوا ہے یعنی جب مشرکین صلح کے لئے ہاتھ بڑھائیں تو تم بھی ایسا ہی کرو اس بنا پر آیت کا یہ حکم منسوخ نہیں سمجھا جائے گا بلکہ یہ ثابت اور باقی تسلیم کیا جائے گا۔ دونوں آیتوں کے حکم میں اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ ان کے نزول کا پس منظر مجختلف ہے۔ جس پس منظر میں مسلمانوں کو صلح کی طرف مائل ہونے کا حکم دیا ہے۔ اس میں مسلمانوں کی تعداد کم اور ان کے دشمنوں کی تعداد زیادہ تھی لیکن جس پس منظر میں مشرکین کو قتل کرنے اور اہل کتاب سے جزیہ دینے پر رضامندی تک قتال کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس میں صورت حال یکسر بدلی ہوئی تھی۔ اب مسلمانوں یک تعداد بھی بڑھ گئی تھی اور دشمنوں کے مقابلہ میں طاقت و قوت پکڑ گئے تھے چناچہ ارشاد باری ہے (فلا تھنوا و تدعوا الی السلم و انتم الاعلون واللہ معکم سو تم ہمت نہ ہارو اور انہیں صلح کی طرف مت بلائو اور تم ہی غالب ہو گے اور اللہ تمہارے ساتھ ہے) جب دشمن پر غلبہ حاصل کرنے اور انہیں تہہ تیغ کرنے کی قوت و طاقت حاصل ہو تو ایسی حالت میں مسلمانوں کو صلح کی طرف پیش قدمی کرنے سے منع کردیا گیا ہے۔ ہمارے اصحاب کا بھی یہی قول ہے کہ جب سرحدی علاقوں میں بسنے والے مسلمان اور ان کے حکمران کافروں کے خلاف جنگی کارروائی کرنے اور ان کے بالمقابل صف آراء کی قوت و طاقت اپنے اندر پائیں تو اس صورت میں کافروں کے ساتھ صلح کرنا جائز نہیں ہوگا۔ نہ ہی کافروں کو ان کے کفر پر برقرار رہنے دینا درست ہوگا بلکہ اعلائے کلمۃ اللہ کی خاطر ان کے خلاف ہتھیار اٹھانا واجب ہوگا الا یہ کہ وہ جزیہ دینے پر رضامند ہوجائیں۔ اگر مسلمانوں میں ان کے مقابلہ کی بھی سکن نہ ہو تو اس صورت میں کافروں کے ساتھ صلح کرنا درست ہوگا جس طرح حضور ﷺ نے کفار کے مختلف گروہوں سے صلح اور جنگ نہ کرنے کے معاہدے کئے تھے اور یہ معاہدے ان پر جزیہ عائد کئے بغیر کر لئے گئے تھے۔ ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ اگر اپنے ضعف اور کمزوری کی بنا پر کافروں سے صلح کرلی جائے اور پھر مسلمانوں میں قوت و طاقت پیدا ہوجائے جس کی بنا پر وہ کافروں کے خلاف جنگی کارروائیوں کے قابل ہوجائیں تو پھر وہ ان سے معاہدے کے خاتمے کا کھلم کھلا اعلان کردیں اور پھر ان کے خلاف جنگی کاروائی شروع کردی۔ ہمارے اصحاب کا یہ بھی قول ہے کہ اگر مسلمانوں کے لئے مال دیئے بغیر دشمنوں سے چھٹکارا پانا ممکن نہ ہو تو ان کے لئے مال خرچ کردینا بھی جائز ہے اس لئے کہ حضور ﷺ نے جنگ خندق کے موقع پر عینیہ بن حسن فزاری وغیرہ سے مدینہ کے پھلوں کی آٰدھی پیداوار کی شرط پر صلح کا معاہدہ کرلیا تھا۔ پھر جب آپ نے صحابہ کرام ؓ سے مشورہ کیا تو حضرات انصار نے عرض کیا کہ آیا یہ حکم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے یا آپ ﷺ کی اپنی رائے اور جنگی چال کے طور پر ہے۔ آپ نے فرمایا کہ یہ میری اپنی رائے ہے اس لئے کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ تمام عربوں نے متحد ہو کر تمہارے اوپر تیر چلایا ہے اور تمہارے خلاف متحدہ محاذ بنا لیا ہے۔ میں نے یہ چاہا کہ انہیں تم سے کسی نہ کسی دن تک کے لئے دور رکھوں “۔ یہ سن کر حضرت سعد بن عبادہ ؓ اور حضرت سعد بن معاذ ؓ نے عرض کیا کہ ” اللہ کے رسول ! جب ہم کفر کی حالت میں تھے اس وقت بھی عرب کے لوگ ہم سے صرف اس بات کی توقع کی جرأت کرسکتے تھے کہ ہم اپنے باغات کے پھلوں کے ذریعے ان کی مہمان نوازی کرلیں یا پھر یہ پھل ان کے ہاتھ فروخت کردیں۔ اب جبکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اسلام کی بنا پر عزت عطا کردی ہے تو انہیں اپنی آدھی پیداوار کس طرح حوالہ کرسکتے ہیں۔ ہم ایسا نہیں کریں گے ہم انہیں صرف تلوار اور اس کی دھار دیں گے “۔ یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ جب مسلمانوں کو مشرکین کی طرف سے خطرہ ہو اور وہ ان کے مقابلہ پر آنے کی سکت نہ رکھتے ہوں تو ایسی صورت میں ان کے لئے یہ جائز ہوگا کہ مال دے کر ان سے اپنا پیچھا چھڑا لیں۔ یہ وہ احکام ہیں جن میں بعض تو قرآن سے ثابت ہیں اور بعض کا سنت سے ثبوت ہے۔ ان پر ان حالات میں عمل کیا جائے گا جن میں عمل کرنے کا اللہ نے حکم دیا ہے اور حضور ﷺ نے بھی ان پر عمل کیا ہے۔ ان احکام کی نظیر وہ حکم ہے جو حلیف کی میراث کے تحت ہم نے بیان کیا ہے کہ یہ حکم ثابت ہے منسوخ نہیں ہوا چناچہ ارشاد باری ہے (والذین عقدت ایمانکم فاتوھم نصیبھم وہ لوگ جن کے ساتھ تمہارے عہد و پیمان ہوں انہیں ان کا حصہ دو ) ہم نے اس مقام پر یہ بیان کیا ہے کہ جب رشتہ دار اور غلام آزاد کردینے کی بنا پر حاصل ہونے والی ولاء موجود نہ ہو تو اس صورت میں درج بالا آیت کے حکم پر عمل کرتے ہوئے انہیں ان کا حصہ دے دیا جائے گا۔ لیکن جب رشتہ دار یا ولاء عتاق موجود ہو تو وہ حلیف سے بڑھ کر میراث کا حقدار ہو گا… جس طرح بیٹا بھائی کے مقابلہ میں میراث کا زیادہ حق دار ہوتا ہے لیکن اس کا یہ استحقاق بھائی کو ورثاء کی فہرست سے خارج نہیں کرتا۔
Ayahs 8:63–64

وَ اَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ١ؕ لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مَّاۤ اَلَّفْتَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ اَلَّفَ بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:63 in the Quran reader

اور ان کے دلوں میں الفت پیدا کردی۔ اگر تم دنیا بھر کی دولت خرچ کرتے تب بھی ان کے دلوں میں الفت پیدا نہ کرسکتے۔ مگر خدا ہی نے ان میں الفت ڈال دی۔ بیشک وہ زبردست (اور) حکمت والا ہے۔

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَسْبُكَ اللّٰهُ وَ مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 8:64 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ! خدا تم کو اور مومنوں کو جو تمہارے پیرو ہیں کافی ہے۔

اخوت اسلامی قول باری ہے (والف بین قولبھم لو انفقت ما فی الارض جمیعا ما اتفت بین قلوبھم اور مومنوں کے دل ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ دیئے۔ تم روئے زمین کی ساری دولت بھی خرچ کر ڈالتے تو ان کے دل جوڑ نہ سکتے تھے) تا اخر آیت۔ ایک روایت ہے کہ اس سے قبیلہ اوس اور خزرج مراد ہیں۔ یہی دو قبیلے مدینے کے اصلی باشندے تھے اور ان کے درمیان اسلام سے قبل انتہائی درجے کی دشمنی اور بغض و عداوت تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اسلام کے ذریعے ان کے دل ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ دیئے اور یہی لوگ پھر حضرات انصار کہلائے بشیر بن ثابت الانصاری، ابن اسحاق اور سدی سے یہی مروی ہے مجاہد کا قول ہے کہ اس سے مراد وہ تمام لوگ ہیں جو صرف اللہ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرتے اور الفت رکھتے ہیں۔
Ayah 8:65

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلَى الْقِتَالِ١ؕ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ یَغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ یَّغْلِبُوْۤا اَلْفًا مِّنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 8:65 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ! مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دو اگر تم میں بیس آدمی ثابت قدم رہنے والے ہوں گے تو دو سو کافروں پر غالب رہیں گے۔ اور اگر سو (ایسے) ہوں گے تو ہزار پر غالب رہیں گے اس لئے کہ کافر ایسے لوگ ہیں کہ کچھ بھی سمجھ نہیں رکھتے۔

مقابلے کے لئے اسلامی لشکر کا تناسب قول باری ہے (وان یکن منکم عشرون صابرون یغلبوا مائتین، اگر تم میں سے بیس صبر کرنے والے آدمی ہوں گے تو وہ دو سو پر غالب آئیں گے) تاآخر آیت۔ ہمیں جعفر بن محمد الواسطی نے روایت سنائی، انہیں جعفر بن محمد بن الیمان نے، انہیں ابو عبید نے، انہیں عبداللہ بن صالح نے معاویہ بن صالح سے، انہوں نے علی بن ابی طلحہ سے، انہوں نے حضرت ابن عباس (رح) سے کہ اللہ تعالیٰ نے مذکورہ بالا آیت کے ذریعے یہ حکم دیا تھا کہ ایک مسلمان دس کافروں کا مقابلہ کرے یہ بات مسلمانوں کے لئے مشکل ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا اور ارشاد ہوا (فان یکن منکم مائۃ صابرۃ یغلبوا مائتین و ان یکن منکم الف یغلبوا الفین۔ اگر تم میں سے سو صابر آدمی ہوں گے تو وہ دو سو پر غالب آئیں گے، اگر اس طرح کے ایک ہزار آدمی ہوں گے تو وہ دو ہزار پر غالب آئیں گے) ہمیں جعفر بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں جعفر بن محمد بن الیمان نے، انہیں ابو عبید نے انہیں اسماعیل بن ابراہیم نے ابن ابی نجیح سے، انہوں نے عطاء سے اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے۔ انہوں نے فرمایا : جو مسلمان دشمن کے تین آدمیوں کے… مقابلہ سے راہ فرار اختیار کرے گا وہ فرار ہونے والا قرار نہیں پائے گا لیکن جو دشمن کے دو آدمیوں کے مقابلہ سے بھاگے گا وہ فرار ہونے والا کہلائے گا۔ “ حضرت ابن عباس ؓ کا اشارہ اس حکم کی طرف تھا جو اس آیت میں مذکور ہے۔ اسلام کی ابتداء میں ایک سملمان پر دس کافروں کا مقابلہ فرض تھا اس لئے کہ اس وقت مسلمانوں کی بصیرت درست تھی اور ان کا یقین کامل تھا لیکچن جب دوسری قومیں بھی اسلام میں داخل ہوگئیں تو مسلمانوں کے ساتھ ایسے لوگ بھی آ ملے جن کی دروں بینی اور یقین اس درجے کا نہیں تھا جو صدر اسلام کے اہل ایمان کا تھا اس لئے تمام مسلمانوں کا بوجھ ہلکا کردیا گیا اور سب کو ایک ہی درجے پر رکھا گیا اور پھر ایک مسلمان پر دشمن کے دو آدمیوں کا مقابلہ فرض کردیا گیا۔
Ayah 8:66

اَلْئٰنَ خَفَّفَ اللّٰهُ عَنْكُمْ وَ عَلِمَ اَنَّ فِیْكُمْ ضَعْفًا١ؕ فَاِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ صَابِرَةٌ یَّغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ اَلْفٌ یَّغْلِبُوْۤا اَلْفَیْنِ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 8:66 in the Quran reader

اب خدا نے تم پر سے بوجھ ہلکا کردیا اور معلوم کرلیا کہ (ابھی) تم میں کسی قدر کمزوری ہے۔ پس اگر تم میں ایک سو ثابت قدم رہنے والے ہوں گے تو دو سو پر غالب رہیں گے، اور اگر ایک ہزار ہوں گے تو خدا کے حکم سے دو ہزار پر غالب رہیں گے۔ اور خدا ثابت قدم رہنے والوں کا مددگار ہے۔

قول باری ہے (الان خفف اللہ عنکم و علم ان فیکم ضعفا۔ اب اللہ نے تمہارا بوجھ ہلکا کردیا اور اسے معلوم ہوگیا کہ ابھی تمہارے اندر کمزوری ہے) آیت میں جسمانی اور قویٰ کی کمزوری مراد نہیں ہے بلکہ مشرکین سے مقابلہ کی نیت میں کمزوری مراد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کمزور ارادوں والے مسلمانوں پر جو چیز فرض قرار دی وہی چیز تمام مسلمانوں پر فرض کردی گئی۔ یعنی اب ایک مسلمان پر دشمن کے دو آدمیوں کا مقابلہ فرض کردیا گیا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کا قول ہے کہ میرے دل میں کبھی یہ خیال نہیں گزرا تھا کہ کوئی مسلمان مشرکین کے خلاف قتال میں اللہ کی خوشنودی کے سوا کسی اور چیز کی نیت بھی کرسکتا ہے حتیٰ کہ یہ آیت نازل ہوئی (منکم یرید الدنیا و منکم من یرید الاخرۃ۔ تم میں سے ایسے لوگ بھی تھے جو دنیا کے طلب گار تھے اور ایسے بھی تھے جن کے پیش نظر آخرت تھی) صدر اول کے مسلمانوں کی نیتیں خالص تھیں اور للہیت پر مبنی ہوتی تھیں لیکن جب ان کے ساتھ ایسے لوگ بھی آ ملے جن کے پیش نظر دنیاوی فوائد و منافع تھے تو اللہ تعالیٰ نے اس فرض میں سب کو یکساں کردیا۔ اس آیت میں ان لوگوں کے قول کے بطلان پر دلالت موجود ہے جو حضور ﷺ کی شریعت میں نسخ کو تسلیم نہیں کرتے اگرچہ ایسے لوگ قابل اعتنا نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آیت (الان خفف اللہ عنکم و علیم ان فیکم ضعفا فان یکن منکم مائۃ صابرۃ یغلبوا مائتین) میں تخفیف کی خبر دی اور تخفیف کی صورت صرف یہی ہے کہ شروع میں فرض ہونے والے حکم کے کچھ حصے میں کمی کردی جائے یا اس حکم کو ایسے حکم یک طرف منتقل کردیا جائے جو پہلے کے مقابلہ میں ہلکا ہو۔ اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ دوسری آیت پہلی آیت میں فرض ہونے والے حکم کی ناسخ ہے نسخ کو تسلیم نہ کرنے والے شخص کا یخال یہ ہے کہ آیت میں امر یعنی حکم نہیں ہے بلکہ وعدہ ہے جو ایک شرط کے ساتھ مشروط ہے۔ اس لئے جب شرط پوری کردی جائے گی اللہ تعالیٰ کا وعدہ پورا ہوجائے گا اللہ تعالیٰ نے ہر قوم کو اس کی استطاعت کے مطابق صبر کرنے کا مکلف بنایا ہے اس بنا پر صدر اول کے مسلمانوں پر یہ لازم تھا کہ ان میں سے بیس افراد دشمن کے دو سو کا مقابلہ کریں بعد میں آنے والے لوگوں میں چونکہ اس پائے کی بصیرت نہیں تھی جو پہلے مسلمانوں کو حاصل تھی اس لئے انہیں اس بات کا مکلف بتایا گیا کہ ان کا ایک آدمی دشمن کے دو آدمیوں اور ایک سو آدمی دشمن کے دو سو آدمیوں کا مقابلہ کریں۔ ان صاحب کا کہنا یہ ہے کہ بیس مسلمانوں پر دو سو کافروڈ کا مقابلہ فرض نہیں تھا اسی طرح سو مسلمانوں پر دو سو کافروں کا مقابلہ فرض نہیں ہے بلکہ بقدر امکان صرف صبر کرنا فرض ہے۔ جہاں تک صبر کرنے کا معاملہ ہے اس میں لوگ اپنی اپنی استطاعت کے لحاظ سے ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں اس لئے آیت میں کوئی نسخ نہیں ہے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ ان صابح کا یہ کلام پریشان یخالی اور تناقض کی منہ بولتی تصویر ہے نیز امت کے سلف اور خلف سب کے اقوال کے دائرے سے خارج ہے۔ اس لئے کہ اہل تفسیر اور اہل روایت سب کا اس پر اتفاق ہے کہ اسلام کے ابتدائی دور میں ایک مسلمان پر دس کافروں کا مقابلہ فرض تھا۔ نیز یہ بھی واضح ہے کہ قول باری (ان یکن منکم عشرون صابرون یغلبوا مائتین اگرچہ الفاظ کے لحاظ سے جملہ خبر یہ ہے کہ لیکن معنی کے لحاظ سے یہ امر ہے۔ جس طرح یہ قول باری ہے (والوالدات یرضعن اولادھن۔ مائیں اپنے بچوں کو دودھ پلائیں گی) نیز (والمطلقات یتربصن بانفسھن۔ اور طلاق یافتہ عورتیں اپنے آپ کو انتظار میں رکھیں گی) زیر بحث آیات میں کسی امر کے وقوع پذیر ہوجانے کی خبر نہیں دی گئی ہے بلکہ یہ حکم دیا گیا ہے کہ ایک مسلمان دس کافروں کے مقابلہ سے راہ فرار اختیار نہ کرے۔ اگر آیت میں صرف خبر کی حد تک بات ہوتی تو پھر قول باری (الان خفف اللہ عنکم) کے کوئی معنی نہ ہوتے۔ اس لئے کہ تخفیف کا عمل اس چیز میں ہوتا ہے جس کے کرنے کا حکم دیا گیا ہو اس بات میں نہیں ہوتا جس کی خبر دی گئی ہو۔ نیز یہ بھی واضح ہے کہ وہ مسلمان جنہیں یہ حکم دیا گیا تھا کہ ایک آدمی دس مشرکوں کا مقابلہ کرے وہ سب قول باری (الان خفف اللہ عنکم و علم ان فیکم ضعفا) میں دالخ ہیں۔ اس لئے انہیں جس حکم کا پابند بنایا گیا تھا اس میں لامحالہ نسخ واقع ہوگیا حالانکہ ان حضرات کی بصیرت میں نہ تو کوئی کمی آئی تھی اور نہ یہ ان کے صبر کی قوت میں کوئی نقص پیدا ہوا تھا۔ بلکہ بات یہ ہوئی تھی کہ ان حضرات کے ساتھ ایسے لوگ آ ملے تھے جو اپنی دروں بینی اور اخلاص نیت کے لحاظ سے ان کے درجے پر نہیں تھے۔ یہی لوگ اس قول باری (و علم ان فیکم ضعفا) میں مراد ہیں۔ ہماری اس وضاحت کی روشنی میں نسخ کو تسلیم نہ کرنے والے صابح کا قول باطل ہوگیا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ان صاحب نے یہ تسلیم کیا ہے کہ دوسری آیت کی بنا پر صدر اول کے مسلمانوں کو جس حکم کا مکلف بنایا گیا تھا اس کا کچھ حصہ ساقط اور زائل ہوگیا ہے۔ نسخ کے بھی یہی معنی ہیں اس طرح ان صاحب نے نسخ کا اقرار کرلیا ہے۔ واللہ اعلم !
Ayahs 8:67–68

مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّكُوْنَ لَهٗۤ اَسْرٰى حَتّٰى یُثْخِنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَا١ۖۗ وَ اللّٰهُ یُرِیْدُ الْاٰخِرَةَ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:67 in the Quran reader

پیغمبر کو شایان نہیں کہ اس کے قبضے میں قیدی رہیں جب تک (کافروں کو قتل کر کے) زمین میں کثرت سے خون (نہ) بہا دے۔ تم لوگ دنیا کے مال کے طالب ہو۔ اور خدا آخرت (کی بھلائی) چاہتا ہے۔ اور خدا غالب حکمت والا ہے۔

لَوْ لَا كِتٰبٌ مِّنَ اللّٰهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِیْمَاۤ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 8:68 in the Quran reader

اگر خدا کا حکم پہلے نہ ہوچکا ہوتا تو جو (فدیہ) تم نے لیا ہے اس کے بدلے تم پر بڑا عذاب نازل ہوتا۔

قیدیوں کا بیان قول باری ہے (ما کان لبنی ان یکون لہ اسری حتی یثخن فی الارض کسی نبی کے لئے یہ زیبا نہیں ہے کہ اس کے پسا قیدی ہوں جب تک وہ زمین میں دشمنوں کو اچھی طرح کچل نہ دے۔ فدیہ لے کر قیدیوں کو چھوڑ دینا ہمیں محمد بن بکر نے روایت بیان کی، انہیں ابودائود نے، انہیں احمد بن حنبل نے، انہیں ابونوح نے، انہیں عکرمہ بن عمار نے، انہیں سماک الحنفی نے، انہیں حضرت ابن عباس نے، انہیں حضرت عمر ؓ نے کہ جب بدر کا معرکہ پیش آیا اور حضور ﷺ نے قیدیوں کا فدیہ قبول کرلیا تو اللہ تعالیٰ نے درج بالا آیت نازل فرمائی تا قول باری (لمسکم فیما اخذتم تو جو کچھ تم نے لیا ہے اس کی پاداش میں تمہیں بڑی سزا دی تھی) یعنی جو فدیہ تم نے لیا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کیلئے غنائم کو حلال کردیا۔ ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی، انہیں بشر بن موسیٰ نے، انہیں عبداللہ بن صالح نے، انہیں ابولاحوص نے اعمش سے، انہوں نے ابو صالح سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے کہ معرکہ بدر کے دن مسلمانوں میں سے کچھ لوگوں نے جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مال غنیمت اکٹھا کرلیا اس چیز پر حضور ﷺ نے ان سے فرمایا کہ تمسے پہلے سیاہ سروں والی کسی قوم کے لئے ما لغنیمت حلال نہیں تھا۔ جب کوئی نبی اور اس کے رفقاء مال غنیمت حاصل کرتے تو اسے ایک جگہ ڈھیر کردیتے، آسمان سے ایک آگ اترتی اور اسے کھا جاتی “ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (لولا کتاب من اللہ سبق لمسکم فیما اخذتم عذاب عظیم فکلوا مما غنمتم حلالا طیبا۔ اگر اللہ کا نوشتہ پہلے نہ لکھا جا چکا ہوتا تو جو کچھ تم نے لیا ہے اس کی پاداش میں تم کو بڑی سزا دی جاتی۔ پس جو کچھ تم نے مال حاصل کیا ہے اسے کھائو کہ وہ پاک اور حلال ہے۔ اسیران بدر کے بارے میں مشورے اور حضور ﷺ کا فرمان اس سلسلے میں ایک اور روایت بھی ہے۔ اعمش نے عمرو بن مرہ سے روایت کی ہے۔ انہوں نے ابو عبیدہ سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ (رح) سے کہ حضور ﷺ نے بدر کے معرکہ میں ہاتھ آنے والے قیدیوں کے متعلق حضرات صحابہ کرام سے مشورہ کیا۔ حضرت ابوبکر ؓ نے ان پر رحم کرنے کا مشورہ دیا جبکہ حضرت عمر ؓ نے ان کی گردنیں اڑا دینے کا اور حضرت عبداللہ بن رواحہ نے انہیں آگ میں جلا دینے کا مشورہ دیا۔ حضور ﷺ نے حضرت ابوبکر ؓ سے مخاطب ہو کر فرمایا : ابوبکر ؓ تمہاری مثال حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرح ہے۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے یہ عرض کیا تھا (فمن تبعنی فانہ منی و من عصانی فانک غفور رحیم۔ جو شخص میری پیروی کرے اس کا تعلق مجھ سے ہوگا اور جو میری نافرمانی کرے گا تو تو غفور رحیم ہے) اسی طرح تمہاری مثال حضرت عیسیٰ جیسی ہے، انہوں نے اپنے رب سے عرض کیا تھا۔ (ان تعذبھم فانھم عبادک و ان تغفرلھم فانک انت العزیز الحکیم۔ اگر تو انہیں عذاب دے گا تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں معاف کر دے گا تو تو بڑا زبردست اور حکمت والا ہے) ۔ پھر آپ ﷺ نے حضرت عمر ؓ سے مخاطب ہو کر فرمایا : ” عمر ؓ ! تمہاری مثال حضرت نوح (علیہ السلام) جیسی ہے۔ انہوں نے اپنے رب سے عرض کیا تھا (رب لا تذر علی الارض من الکافرین دیارا۔ اے میرے پروردگار ! زمین پر کافروں میں سے ایک بھی باشندہ زندہ نہ چھوڑ) نیز تمہاری مثال حضرت موسیٰ جیسی ہے، انہوں نے اپنے پروردگار سے عرض کیا تھا (ربنا اطمس علی اموالھم۔ اے ہمارے رب، ان فرعونیوں کا مال و اسباب تباہ کر دے) تا آخر آیت “ پھر آپ ﷺ نے تمام صحابہ ؓ سے مخاطب ہو کر فرمایا (انتم عالۃ فلا ینفلتن منھما احد الا لفداء او ضربۃ عنق۔ تم سب لوگ تنگدست ہو اس لئے ان قیدیوں میں سے کوئی شخص فدیہ ادا کئے بغیر جانے نہ پائے یا اس کی گردن مار دی جائے) یہاں حضرت ابن مسعود ؓ نے بات کاٹتے ہوئے عرض کیا : سہیل بن بیضاء کے سوا، اس لئے کہ اس نے اسلام لانے کا ذکر کیا ہے “۔ یہ سن کر حضور ﷺ خاموش ہوگئے پھر فرمایا : سہیل بن بیضا، کے سوا ‘’ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ دو آیتیں نازل فرمائیں (ما کان لنبی ان یکون لہ اسری) تا آخر آیتین۔ حضور ﷺ کا احساس ذمہ داری حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے بدر کے قیدیوں کے بارے میں حضرت ابوبکر ؓ ، حرت عمر ؓ اور حضرت علی ؓ سے مشورہ طلب کیا۔ حضرت ابوبکر ؓ نے فدیہلے کر چھوڑ دینے اور حضرت عمر ؓ نے ان کی گردنیں اڑا دینے کا مشورہ دیا۔ حضور ﷺ نے حضرت ابوبکر ؓ کے مشورے کی طرف اپنے رجحان کا اظہار فرمایا۔ حضرت عمر ؓ کے شمورے کی طرف مائل نہ ہوئے۔ جب میں دوسرے دن صبح حضور ﷺ کی خدمت میں آیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ آپ ﷺ اور حضرت ابوبکر ؓ دونوں بیٹھے رو رہے ہیں۔ میں نے گھبرا کر رونے کی وجہ دریافت کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ” میرے رونے کی وجہ وہ مشورہ ہے جو ان قیدیوں سے فدیہ لینے کے متعلق تمہارے ساتھیوں نے مجھے دیا تھا۔ با اس سلسلے میں تم پر اللہ کی طرف سے جو سزا میرے سامنے پیش کی گئی ہے وہ اس درخت سے بھی زیادہ قریب ہے۔ ‘ ذ یہ فرماتے ہوئے آپ نے پاس ہی ایک درخت یک طرف اشارہ کیا۔ پھر فرمایا : اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ہے (ما کان لنبی ان یکون لہ اسریٰ حتیٰ یثخن فی الارض) تا آخر آیت “ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس ؓ کی پہلی روایت اور حضرت ابوہریرہ ؓ کی مذکورہ روایت میں یہ بیان ہوا کہ قول باری (لو لا کتاب من اللہ سبق لمسکم فیما اخذتم عذاب عظیم) کا نزول غنائم لینے کی بنا پر ہوا جبکہ حضرت ابن مسعود ؓ کی روایت اور حضرت ابن عباس کی روایت میں یہ ذکر ہوا کہ وعید کا سبب یہ تھا کہ حضور ﷺ کو صحابہ کرام کی طرف سے قیدیوں سے فدیہ لینے کا مشورہ دیا گیا تھا لیکن پہلی بات آیت کے معنی کے زیادہ مناسب ہے اس لئے کہ ارشاد ہوا (لمستکم فیما اخذتم) یہ نہیں فرمایا کہ لمسم فیما عرضتم واشرتم۔ یعنی جو تم نے پیش کیا اور جس کا تم نے مشورہ دیا اس کی بنا پر تمہیں عذاب عظیم دیا جاتا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی محال ہے کہ حضور ﷺ کے کسی قول پر وعید کا ذکر کیا جائے اس لئے کہ آپ اپنی مرضی سے کوئی بات زبان پر نہیں لاتے تھے جو بات آپ کی زبان مبارک سے نکلتی وہ اللہ یک طرف سے بھیجی ہوئی وحی ہوتی۔ بعض لوگ حضور ﷺ کی ذات اقدس کے لئے سا بات کے جواز کے قائل ہیں کہ آپ اپنی رائے اور اجتہاد کی بنا پر کوئی بات کہہ سکتے ہیں۔ یہاں پر یہ کہنا بھی درست ہے کہ آپ نے مسلمانوں کے لئے فدیہ لینے کی اباحت کردی تھی جو ایک معصیت صغیرہ تھی جس پر اللہ تعالیٰ نے آپ سے اور تمام مسلمانوں سے اپنی ناراضی کا اظہار فرمایا۔ اس بحث کی ابتدا میں مذکورہ روایت کے اندر یہ بیان ہوچکا ہے کہ مال غنیمت ہمارے نبی ﷺ سے قبل کسی نبی کے لئے حلال نہیں تھا۔ آیت بھی اس پر دلالت کرتی ہے ارشاد ہے (ما کان لنبی ان یکون لہ اسری حتی یثخن فی الارض) انبیائے سابقین کی شریعتوں میں غنام کی تحریم تھی اور ہمارے نبی ﷺ یک شریعت میں بھی اس کی تحریم تھی جب تک زمین میں کفر کی طاقت کو کچل نہ دیا جاتا۔ ظاہر آیت اس بات کی مقتضی ہے کہ کفر کی طاقت کو کچل دینے کے بعد غنائم لینے اور قیدیوں کو پکڑنے کی اباحت ہوتی، بدر کے دن مسلمانوں کو مشرکین کو تہ تیغ کرنے کا حکم دیا گیا تھا چناچہ ارشاد ہے (ناضربوا فوق الاعناق واضربو منھم کل بنان پس تم ان لوگوں کی گردنوں پر ضرب اور جوڑ جوڑ پر چوٹ لگائو) دوسری آیت میں فرمایا (فاذا یقتم الذین کفروا فضرب الرقاب حتیٰ اذا اثختنموھم فشدوا الوثاق۔ جب تمہارا مقابلہ کافروں سے ہوجائے تو ان کی گردنیں مارتے چلو یہاں تک کہ جب ان کی خوب خونیریز کر چکو تو خوب مضبوطباندھ لو) اس وقت جو بات فرض تھی وہ یہ تھی کہ مشرکین کو تہتینہ کیا جائے حتیٰ کہ جب انہیں کچل دیا جائے تو پھر فدیہ لینے کی اباحت تھی۔ مشرکین ک تہ تیغ کرنے سے پہلے اور ان کی طاقت کچل ڈالنے سے قبل فدیہ لینے کی ممانعت تھی۔ حضور ﷺ کے صحابہ کرام نے بدر کے دن مال غنیمت اکٹھا کرلیا تھا، قیدی پکڑ لئے تھے اور ان سے فدیہ کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کا یہ فعل اللہ کے حکم کے مطابق نہ تھا جو اس سلسلے میں اللہ نے انہیں دیا تھا اس بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان سے پاین ناراضی کا اظہار کیا۔ اصحاب سیر اور غزوات کے راویوں کا اس پر اتفاق ہے کہ حضور ﷺ نے اس کے بعد ان سے فدیہ لیا تھا اور یہ فرمایا تھا کہ ان میں سے کوئی بھی فدیہ دیئے بغیر جانے نہ پائے یا اس کی گردن اتار دی جائے۔ یہ بات اس کی موجب ہے کہ قیدیوں کو پکڑنے اور ان سے فدیہ وصول کرنے کی ممانعت، جس کا ذکر اس آیت (ما کان لنبی ان یکون لہ اسری) میں ہوا ہے اس قول باری (لو لا کتب من اللہ سبق لمسکم فیما اخذتم عذاب الیم) کی بناء پر منسوخ ہوچکی ہے۔ حضور ﷺ نے ان سے فدیہ لیا تھا۔ اگر یہ کہا جائے کہ اس حکم کا منسوخ ہونا کس طرح درست ہوسکتا ہے جب کہ اسی حکم کی خلاف ورزی پر اللہ کی طرف سے ناراضی کا اظہار ہوا تھا۔ ایک ہی چیز میں اباحت اور ممانعت دونوں کا وقوع ممتنع ہے۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ غنائم لینے اور قیدیوں کو پکڑنے کا عمل بنیادی طور پر اس وقت وقوع پذیر وہا تھا جب اس کی ممانعت تھی۔ اس لئے جو کچھ انہوں نے لیا تھا اس کے یہ مالک نہیں بنے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی اباحت کردی اور لی ہوئی چیزوں پر ان کی ملکیت کی توثیق کردی اس لئے بعد میں جس عمل کی اباحت کردی گئی تھی وہ اس سے مختلف تھا جس کی پہلے ممانعت کی گئی تھی۔ اس لئے ایک ہی چیز میں اباحت اور ممانعت دونوں کا وقوع لازم نہیں آیا۔ قول باری (لو لا کتاب من اللہ سبق لمسکم فیما اخذتم عذاب عظیم) کی تفسیر میں اختلاف رائے ہے۔ ابورمیل نے حرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ مسلمانوں کے لئے اللہ کی رحمت ان کی جانب سے معصیت کے ارتکاب سے قبل سبقت کرگئی تھی۔ “ حسن سے بھی ایک روایت کے مطابق یہی قول منقول ہے۔ یہ امر اس پر دلالت کرتا ہے کہ ان دونوں حضرات کی رائے میں یہ معصیت صغیرہ تھی۔ اللہ تعالیٰ نے کبائر سے اجتناب کی صورت میں معصیت صغیرہ کو معاف کرنے کا وعدہ فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بات مسلمانوں کے حق میں اس وقت لکھ دی تھی جب کہ ابھی انہوں نے معصیت صغیرہ کا ارتکاب نہیں کیا تھا۔ حسن بصری سے ایک اور روایت کے مطابق نیز مجاہد سے منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ اس امت کو مال غنیمت کھلانے والا تھا لیکن مسلمانوں نے مال غنیمت کی حلت سے پہلے ہی بدر کے موقع پر اسے سمیٹنے کی غلطی کرلی تھی۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ کہ مستقبل میں مسلمانوں کے لئے مال غنیمت حلال کردیا جائے گا۔ اس کی تحلیل سے پہلے اس پر لگی ہوئی ممانعت کے حکم کو زائل نہیں کرتا اور اس کی سزا میں تخفیف کا سبب نہیں بنتا۔ اس لئے آیت کی یہ تاویل درست نہیں ہے کہ مسلمانوں سے سزا اس لئے ہٹا لی گئی تھی کہ اللہ کے علم میں یہ بات تھی کہ اس کے بعد ان کے لئے مال غنیمت حلال کردیا جائے گا۔ حسن اور مجاہد سے یہ بھی منقول ہے کہ اللہ کی طرف سے یہ امر پہلے سے طے شدہ ہے کہ وہ کسی قوم کو اس وقت تک عذاب نہیں دیتا جب تک پہلے سے انہیں اس کی اطلاع نہیں دے دی جاتی، مسلمانوں کو مال غنیمت سمیٹنے پر عذاب کی اطلاع پہلے سے نہیں دی گئی تھی۔ حسن اور مجاہد کی یہ تاویل درست ہے اس لئے کہ مسلمانوں کو اس بات کی خبر نہیں تھی کہ انبیائے سابقین کی امتوں پر مال غنیمت حرام تھا اور حضور ﷺ کی شریعت میں بھی یہی حکم برقرار رکھا گیا تھا۔ مسلمانوں نے اپنے طور پر یہ سمجھتے ہوئے کہ مال غنیمت مباح ہوتا ہے اسے مباح کرلیا تھا۔ دوسری طرف حضور ﷺ کی طرف سے بھی اس کی تحریم کے سلسلے میں کوئی ہدایت نہیں دی گئی تھی اور نہ ہی مسلمانوں کو یہ بتایا گیا تھا کہ گزشتہ امتوں پر مال غنیمت حرام تھا۔ اس لئے بدر کے معرکہ میں مال غنیمت سمیٹنے کی جو غلطی مسلمانوں سے ہوئی تھی وہ معصیت نہیں تھی جس پر وہ کسی عذاب کے مستحق قرار پاتے۔
Ayahs 8:69–71

فَكُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰلًا طَیِّبًا١ۖ٘ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 8:69 in the Quran reader

تو جو مال غنیمت تم کو ملا ہے سے کھاؤ (کہ وہ تمہارے لئے) حلال (طیب) ہے اور خدا سے ڈرتے رہو بیشک خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّمَنْ فِیْۤ اَیْدِیْكُمْ مِّنَ الْاَسْرٰۤى١ۙ اِنْ یَّعْلَمِ اللّٰهُ فِیْ قُلُوْبِكُمْ خَیْرًا یُّؤْتِكُمْ خَیْرًا مِّمَّاۤ اُخِذَ مِنْكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 8:70 in the Quran reader

اے پیغمبر ﷺ جو قیدی تمہارے ہاتھ میں (گرفتار) ہیں ان کے کہہ دو کہ اگر خدا تمہارے دلوں میں نیکی معلوم کرے گا تو جو (مال) تم سے چھن گیا ہے اس سے بہتر تمہیں عنایت فرمائے گا اور تمہارے گناہ بھی معاف کر دیگا۔ اور خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:71 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ تم سے دغا کرنا چاہیں گے تو یہ پہلے ہی خدا سے دغا کرچکے ہیں تو اس نے ان کو (تمہارے) قبضہ میں کردیا۔ اور خدا دانا حکمت والا ہے۔

مال غنیمت کی حلت قول باری ہے (فکلوا مما غنمتم حلالاً طیباً ۔ پس جو کچھ تم نے حاصل کیا ہے اسے کھائو کہ وہ حلال اور پاک ہے) آیت میں غنائم کی اباحت کا حکم ہے جب کہ اس سے پہلے اس کی ممانعت تھی۔ ہم نے اعمش کی روایت کا ذکر کردیا ہے جو انہوں نے ابو صالح سے کی ہے، اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ہے (لم تحل الغنائم لقوم سود الرئوس قبلکم۔ تم سے پہلے سیاہ سروں والی کسی قوم کے لئے مال غنیمت حلال نہیں تھا) زہری نے سعید بن المسیب سے روایت کی ہے انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے اور انہوں نے حضور ﷺ سے کہ آپ نے فرمایا (اعطیت خمسالم یعطھن احد قبلی، جملت لی الارض مسجد و طھورا، و نصرت بالرعب واحلت لی الغنائم، و ارسلت الی الاحمر والابیض واعطیت الشفاعۃ۔ مجھے پانچ چیزیں عطا کی گئی ہیں۔ مجھ سیپ ہلے کسی نبی کو یہ عطا نہیں کی گئیں، میرے لئے روئے زمین کو سجدہ گاہ اور طہارت حاصل کرنے کا ذریعہ بنادیا گیا، دشمنوں کے دل میں رعب ڈال کر میری نصرت کی گئی، میرے لئے مال غنیمت حلال کردیا گیا، مجھے سرخ و سفید سب کے لئے رسول بنا کر بھیجا گیا اور مجھے قیامت کے دن شفاعت کا اعزاز بخشا گیا) ۔ حضور ﷺ نے ان دونوں روایتوں میں یہ بتادیا کہ آپ سے پہلے کسی بھی نبی اور کسی بھی امت کیلئے مال غنیمت حلال نہیں تھا۔ قول باری (فکلوا مما غنمتم) اس امر کا مقتضی ہے کہ جب مسلمان مال غنیمت اپنے قبضے میں کرلیں تو اس پر ان کی ملکیت ثابت ہوجاتی ہے۔ اگرچہ آیت کے الفاظ میں اس کے اکل یعنی کھانے کا ذکر ہے۔ خصوصیت کے ساتھ اس کے ذکر کی وجہ یہ ہے کہ مملوکہ اشیاء کا سب سے بڑا فائدہ اکل کے ذریعے حاصل ہوتا ہے کیونکہ خوراک پہ ہی جسمانی قوت اور زندگی کی بقاء کا دارومدار ہوتا ہے۔ لفظ اکل کا ذکر کر کے اس سے منافع اور فوائد کی تمام صورتوں کی تملیک مراد لی گئی ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے (حرمت علیکم المیتۃ والدم و لحم الخنزیر تم پر مردار، خون اور سور کا گوشت حرام کردیا گیا ہے) یہاں سور کے گوشت کا ذکر کیا گیا ہے جبکہ اس کے تمام اجزاء کی تحریم مراد ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سور سے جن فوائد کی طلب ہوسکتی ہے۔ ان کا زیادہ تر حصہ اس کے گوشت میں ہوتا ہے۔ جس طرح یہ قول باری ہے (اذا نودی للصلوۃ من یوم الجمعۃ فاسعوا الا ذکر اللہ وذروالبیع۔ جب جمعہ کے دن نماز جمعہ کی اذان ہوجائے تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑ پڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو ) اللہ تعالیٰ اس وقت خرید و فروخت کی ممانعت کا خصوصیت کے ساتھ ذکر کردیا جبکہ مراد یہ ہے کہ نماز جمعہ سے مشغول رکھنے والے تمام کاموں کی ممانعت ہے۔ بیع کی تخصیص کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت میں تمام مشغولیات سے حاصل ہونے والے فوائد اور منافع کا بیشتر حصہ خرید و فروخت کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ جب اس کی ممانعت ہوگئی تو اس سے کم تر چیز کی بطریق اولیٰ ممانعت ہوگئی۔ یہ بات آیت کے الفاظ سے خودبخود سمجھ میں آتی ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری بھی ہے۔ (ان الذین یاکلون اموال الیتمی ظلما جو لگ ازروئے ظلم یتیموں کا مال کھا جاتے ہیں) یہں خصوصیت کے ساتھ اکل یعنی کھا جانے کا ذکر وا لیکن اس کے ذریے اس امر پر بھی دلالت ہوگئی کہ اکل کی جہت کے علاوہ کسی اور جہت سے یتیم کے مال لینے اور اسے ضائع کرنے کی بھی ممانعت ہے جب لفظ کا درود اس صورت میں ہوتا ہے تو اس کا حکم ہمارے بیان کردہ معنی پر محمول ہوتا ہے اگر دلالت قائم نہ ہوجاتی اور لفظ سے اس کے معنی اس طریق پر سمجھ میں نہ آتے جس کا ذکر ہم نے کیا ہے تو مال غنیمت کھانے کی اباحت اس کی تملیک کی موجب نہ بن سکتی۔ اسی بنا پر ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ اگر کوئی شخص اپنا طعام کسی اور کو کھانے کی اجازت دے دے تو اس سے یہ لازم نہیں آئے گا کہ وہ طعام اس کی ملکیت ہوجائے گا اور وہ اسے لے جاسکے گا۔ اسے تو صرف اس طعام کو کھا لینے کا حق ہوگا اور بس۔ آیت زیربحث میں خطاب باری سے جو بات سمجھ میں آتی ہے وہ اس طریق پر تملیک کی بات ہے جس کا ہم نے ذکر کیا ہے اس لئے آیت تملیک کا موجب بن گی۔ اللہ تعالیٰ نے ایک اور آیت میں ارشاد فرمایا (واعلموا انما غنمتم من شیء فان للہ خمسہ) اس میں اللہ تعالیٰ نے باقی ماندہ چار حصوں کو مجاہدین کے لئے مال غنیمت قرار دیا۔ اور یہ بات تملیک کی مقتضی ہے۔ اسی طرح ظاہر قول باری (فکلوا مما غنمتم) بھی تملیک کا مقتضی ہے اس لئے کہ جب غنیمت کی نسبت جنگ میں شریک لوگوں کی طرف کی گئی تو اس سے یہ معلوم ہوا کہ آیت میں لفظ غنیمت کا اطلاق کر کے مال غنیمت کو جنگ میں شریک لوگوں کی ملکیت میں دے دیا گیا ہے۔ پھر اس پر اکل کا عطف اس تملیک کی نفی نہیں کرتا جسے آیت متضمن ہے۔ جس طرح اگر یہ ارشاد ہوتا (کلوا مما ملکتم “ (جس چیز کے تم مالک بن گئے ہو اس میں سے کھائو) تو اکل کے لفظ کا اطلاق ملکیت کی صحت کیلئے مانع نہ بنتا۔ اس بات پر یہ امر دلالت کرتا ہے کہ حرف فاء اس پر داخل کیا گیا ہے گویا یوں ارشاد ہوا قد ملکتم ذلک فکلوا “ (تم اس کے مالک بن چکے ہو اس لئے اس میں سے کھائو) کفار سے قتال کے ذریعے جو مال و اسباب حاصل کیا جاتا ہے غنیمت کا لفظ اس کے لئے اہم ہے۔ اس کا پانچواں حصہ اللہ کے لئے ہوتا ہے اور باقی چار حصے مال غنیمت حاصل کرنے والوں کے لئے ہوتے ہیں چناچہ ارشاد باری ہے۔ (واعلموا انما غنمتم من شیء فان للہ خمسہ) غنیمت اور فئی کا فرق فئی مشرکین کے ان اموال کا نام ہے جو قتال کے بغیر مسلمانوں کے ہاتھ لگ جائیں۔ غنیمت اور فئی کے درمیان اس فرق کو عطاء بن السائب اور سفیان ثوری سے نقل کیا گیا ہے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ فئی مشرکین کے ان تمام اموال کو کہتے ہیں جو قتال کے ذریعے یا بغیر قتال کے مسلمانوں کے ہاتھ لگ جائیں اس لئے کہ کفر وہ سبب ہے جس کی بنا پر یہ مال مسلمانوں کے ہاتھ آتا ہے۔ ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ جزیہ فئی ہے اسی لئے خراج اور وہ تمام اموات بھی فئی کہلاتے ہیں جو امام المسلمین اپنے دشمنوں سے صلح اور سلامتی کے معاہدے کی بناء پر لیتا ہے۔ قول باری ہے (ما افاء اللہ علی رسولہ من اھل القریٰ فلقد و للرسول۔ جو کچھ اللہ اپنے رسول کو دوسری بستیوں والوں سے بطور فئی دلوائے سو وہ اللہ ہی کا حق ہے اور رسول کا) ایک قول کے مطابق اس سے مراد وہ فئی ہے جو مسلمانوں نے جنگی کارروائی کئے بغیر حاصل یکا تھا مثلاً فدک نیز اہل بخران سے حاصل شدہ مال، حضور ﷺ کی صوابدید پر چوڑ دیا گیا تھا کہ آپ ﷺ فئی کو ان مصارف میں جس طرح چاہیں صرف کریں۔ ایک قول ہے کہ یہ آیت غنام کے بارے میں تھی پھر قول باری (واعلموا انما غنمتم من شیء فان اللہ خمسہ) کی بناء پر منسوخ ہوگئی۔ ہمارے نزدیک اس بات کی گنجائش ہے کہ آیت کو منسوخ نہ کہا جائے بلکہ آیت غنیمت کو ان صورتوں پر محمول کیا جائے جن میں مسلمانوں نے گھوڑوں اور اونٹوں کے ذریعے فوج کشی کی ہو اور جنگ کی بنا پر غلبہ حاصل کیا ہو اور سورة حشر کی آیت فئی کو ان صورتوں پر محمول کیا جائے جن می مسلمانوں کو گھوڑے اور اونٹ دوڑانے یعنی جنگی کارروائی کی ضرورت پیش نہ آئی ہو بلکہ کافروں سے یہ مال صلح اور سلامتی کے معاہدوں کی بنا پر حاصل ہوا ہو۔ مثلاًحضور ﷺ کو اہل نجران اور اہل فدک سے کسی جنگ کے بغیر حاصل ہونے والے اموال وغیرہ۔ واللہ اعلم۔
Ayah 8:72

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا اُولٰٓئِكَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یُهَاجِرُوْا مَا لَكُمْ مِّنْ وَّلَایَتِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ حَتّٰى یُهَاجِرُوْا١ۚ وَ اِنِ اسْتَنْصَرُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ فَعَلَیْكُمُ النَّصْرُ اِلَّا عَلٰى قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 8:72 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کر گئے اور خدا کی راہ میں اپنے مال اور جان سے لڑے وہ اور جنہوں نے (ہجرت کرنے والوں کو) جگہ دی اور ان کی مدد کی وہ آپس میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔ اور جو لوگ ایمان تو لے آئے لیکن ہجرت نہیں کی تو جب تک وہ ہجرت نہ کریں تم کو ان کی رفاقت سے کچھ سروکار نہیں۔ اور اگر وہ تم سے دین (کے معاملات) میں مدد طلب کریں تو تم کو مدد کرنی لازم ہے۔ مگر ان لوگوں کے مقابلے میں کہ تم میں اور ان میں (صلح کا) عہد ہو (مدد نہیں کرنی چاہئے) اور خدا تمہارے (سب) کاموں کو دیکھ رہا ہے۔

ہجرت کی بنا پر توارث کا بیان قول باری ہے (ان الذین امنوا و ھاجروا و جاھدوا باموالھم و انفسھم فی سبیل اللہ والذین او وا و نصروا اولئک بعضھم اولیاء بعض۔ والذین امنوا والمربھاجرو مالکم من ولا یتیھم من شیء حتیٰ بھاجروا۔ جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں اپنی جانیں لڑائیں اور اپنے مال کھپائے اور جن لوگوں نے ہجرت کرنے والوں کو جگہ دی اور ان کی مدد کی وہ ی دراصل ایک دوسرے کے دل میں رہے۔ وہ لوگ جو ایمان لو لے آئے مگر ہجرت کر کے (دارالاسلام) میں آ نہیں گئے تو ان سے تمہارا ولایت کا کوئی تعلق نہیں ہے جب تک کہ وہ ہجرت کر کے نہ آ جائیں ض ہمیں جعفر بن محمد الواسطی نے روایت سنائی انہیں جعفر بن محمد بن الیمان نے انہیں ابو عبید نے، انہیں حجاج نے ابن جریج سے نیز عثمان بن عطا سے اور دونوں نے عطا خراسانی سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے درج بالا آیت کی تفسیر میں نقل کیا ہے کہ ایک مہاجر کسی اعرابی یعنی ہجرت نہ کرنے والے کا ولی نہیں ہوتا تھا اور نہ ہی اس کی میراث میں اسے حصہ ملتا تھا اسی طرح ایک اعرابی کسی مہاجر کا وارث نہیں ہوتا تھا پھر اس حکم کو قول باری (و اولوالارحام بعضھم او لی ببعض فی کتاب اللہ۔ اللہ کی کتاب میں خون کے رشتہ دار ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں) نے منسوخ کردیا۔ عقد مواخات میں وراثت عبدالرحمن بن عبداللہ بن مسعود نے قاسم سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے صحابہ کے درمیان عقد مواخات کرا دیا تھا۔ آپ نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ اور حضرت زبیر العوام ؓ کے درمیان مواخات قائم کردی تھی۔ مواخات کی وجہ یہ تھی کہ مکہ سے آنے والے مسلمان اپنے عزیز و اقارب کو چھوڑ کر ہجرت کر کے آ گئے تھے اس لئے مواخات کی بنا پر مسلمان ایک دوسرے کے وارث قرار پاتے رہے۔ لیکن جب میراث کی آیت نازل ہوئی تو یہ حکم منسوخ ہوگیا۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ سلف کا اس بارے میں اختلاف رہا ہے کہ آیا مسلمانوں کے درمیان ہجرت اور رسول اللہ ﷺ کے قائم کردہ عقد مواخات کی بنا پر توارث کا حکم ثابت رہا۔ خونی رشتہ داری کا اس سلسلے میں کوئی اعتبار نہیں کیا گیا نیز یہ کہ زیر بحث آیت میں یہی حکم مراد ہے نیز یہ کہ قول باری (اولئک بعضھم اولیاء بعض) سے ایسے مسلمانوں کے درمیان توارث کا ایجاب مراد ہے اور قول باری (مالکم من ولا یتھم من شیء حتیٰ یھاجروا) میں موالات کی نفی کر کے ایسے مسلمانوں کے درمیان توارث کا موجب ہے۔ اگرچہ اس توارث کے ساتھ موالات کے تحت آنے والے تمام افراد کا تعلق نہیں بلکہ اس توارث کو موکد بنانے والے اسباب کے لحاظ سے بعض کا تعلق ہوتا ہے جس طرح نسب وہ سبب ہے جس کی بنا پر ایک شخص میراث کا حقدار بن جاتا ہے۔ اگر بعض احوال میں نسبی رشتہ داروں میں سے بعض بعض سے بڑھ کر میراث کے حقدار بن جاتے ہیں اس لئے کہ میراث کا سبب ان میں زیادہ موکد طور پر پایا جاتا ہے۔ اس میں دلیل موجود ہے کہ قول باری (و من قتل مظلوما فقد جعلنا لولیہ سلطانا جو شخص ظلما قتل کردیا گیا ہو ہم نے اس کے ولی کو قصاص کے مطالبے کا حق عطا کیا ہے) اس بات کو واجب کرتا ہے کہ مقتول کے تمام ورثاء کو اس کے قصاص کا مطالبہ کا حق ہے اس میں مرد اور عورتیں سب شامل ہیں اس لئے کہ وارث ہونے کی حیثیت سے ان میں یکسانیت اور مساوات ہے۔ اس بات پر بھی دلالت ہو رہی ہے کہ نکاح کے سلسلے میں ولایت کا استحقاق میراث کی بنا پر ہوتا ہے نیز حضور ﷺ کا ارشاد (لا نکاح الا بوالی ولی کے بغیر کوئی نکاح نہیں) ان تمام کے لئے ولایت کے اثبات کا موج بہے جو میت سے قرب اور وراثت کے سبب کے موکد وہنے کی بنا پر وارث قرار پاتے ہوں نیز یہ کہ اگر باپ موجود نہ ہو تو ماں کو اپنی نابالغ اولاد کے نکاح کا حق حاصل ہوتا ہے۔ جیسا کہ امام ابوحنیفہ کا مسلک ہے۔ اس لئے کہ ماں بھی میراث میں استحقاق کی بنا پر ولایت کی اہلیت رکھتی ہے۔ مکہ سے حضور ﷺ کی ہجرت کے بعد سے لے کر فتح مکہ تک مسلمانوں پر ہجرت فرض رہی۔ فتح مکہ کے بعد ہجرت روک دی گئی آپ ﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر یہ اعلان فرما دیا تھا کہ (لا ہجرۃ بعد الفتح ولکن جھاد ونیۃ۔ فتح مکہ کے بعد اب کوئی ہجرت نہیں البتہ جہاد کا سلسلہ جاری رہے گا اور نیت کی بنا پر ثواب ملتا رہے گا) اس طرح ہجرت کی فرضیت کے سقوط سے ہجرت کی بنا پر توارث کا حکم منسوخ ہوگیا اور قول باری (و اولوالارحام بعضھم اولی ببعض فی کتاب اللہ) کی بنا پر نسب کی نبی اد پر توارث کا اثبات ہوگیا۔ حسن کا قول ہے مسلمان آپس میں ہجرت کی بنا پر ایک دوسرے کے وارث ہوتے رہے یہاں تک کہ ان کی تعداد بڑھ گئی پھر اللہ تعالیٰ نے درج بالا آیت نازل فرمائی۔ اس کے بعد خونی رشتہ داری کی بناء پر توارث کا سلسلہ قائم ہوگیا۔ اوزاعی نے عبدہ سے، انہوں نے مجاہد سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کی ہے کہ فتح مکہ کے بعد ہجرت منقطع ہوگئی۔ اوزاعی نے عطاء بن ابی رباح سے اور انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے بھی یہی روایت کی ہے۔ اس روایت میں یہ اضافہ ہے۔ ” لیکن اب جہاد کا سلسلہ باقی رہے گا اور نیت کی بنا پر ثواب ملتا رہے گا۔ ہجرت صرف اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہوتی تھی۔ اہل ایمان اپنی متاع دین لے کر نکل پڑتے تھے تاکہ آزمائش میں پڑنے سے بچ جائیں اور دین کی دولت ان سے چھین نہ لی جائے لیکن اب اللہ تعالیٰ نے اسلام کا بول بالا کردیا ہے اور اسے ہر طرف پھیلا دیا ہے۔ زیربحث آیت ہجرت اور مواخات کی بنا پر توارت کے حکم کو متضمن ہے۔ انساب کی بنا پر توارث کا حکم اس میں داخل نہیں ہے۔ آیت نے ہجرت کرنے والے اور ہجرت نہ کرنے والے کے درمیان توارث کو منقطع کردیا ہے۔ آیت ایسے مومن کی نصرت کے ایجاب کی بھی مقضی ہے جس نے ہجرت نہ کی ہو جب کہ وہ ہجرت کرنے والوں سے ایسے لوگوں کے خلاف نصرت کا طلب گار ہو جن کے ساتھ ان کا معاہدہ نہ ہو چناچہ ارشاد باری ہے (و ان استنصروکم فی الدین فعلیکم النصر الا علی قوم بینکم و بینھم میثاق۔ ہاں اگر وہ دین کے معاملہ میں تم سے مدد مانگیں تو ان کی مدد کرنا تم پر فرض ہے لیکن کسی ایسی قوم کے خلاف نہیں جس سے تمہارا معاہدہ ہو) قول باری (مالکم من ولا یتھم من شیء حتیٰ یھاجروا) میں میراث کی نفی کے سلسلے میں ہم نے اس روایت کا ذکر کردیا ہے حضرت ابن عباس ؓ ، حسن مجاہد اور قتادہ نیز دیگر حضرات سے منقول ہے۔ اس سلسلے میں ایک قول یہ ہے کہ درج بالا آیت میں نصرت کے ایجاب کی نفی مراد ہے۔ اس بنا پر ہجرت کرنے والے پر اس مسلمان کی نصرت فرض نہیں ہوگی جس نے ہجرت رکی ہو البتہ اگر وہ مدد کا طلب گار ہو تو پھر اس کی نصرت لازم ہوگی لیکن کسی ایسی قوم کے خلاف نہیں جس کے ساتھ اس کا معاہدہ ہو وہ اس نصرت کی خاطر اپنا معاہدہ نہیں توڑے گا۔ اگر وایت کی نفی دونوں باتوں یعنی توارث اور نصرت کی نفی کی مقتضی ہوجائے تو اس میں کوئی امتناع نہیں ہوگا اس کے بعد خونی رشتہ داری کی بنا پر میراث واجب کر کے میراث کی نفی کے اس حکم کو منسوخ کردیا گیا۔ اب خونی رشتہ دار ایک دوسرے کے وارث ہوں گے خواہ ان میں سے کوئی مہاجر ہو یا مہاجر نہ بھی ہو۔ صرف ہجرت کی بنا پر توارث کا حکم ساقط کردیا گیا۔ صنرت کے ایجاب کی نفی کا حکم اس قول باری سے ساقط ہوگیا۔ (والمومنون والمومنات یعضھم اولیاء بعض۔ مومن مرد اور مومن عورتیں یہ سب ایک دوسرے کے اولیاء یعنی رفیق ہیں)
Ayahs 8:73–74

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ اِلَّا تَفْعَلُوْهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِی الْاَرْضِ وَ فَسَادٌ كَبِیْرٌؕ Open ayah 8:73 in the Quran reader

اور جو لوگ کافر ہیں (وہ بھی) ایک دوسرے کے رفیق ہیں تو (مومنو) اگر تم یہ (کام) نہ کرو گے تو ملک میں فتنہ برپا ہوجائے گا اور بڑا فساد مچے گا۔

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 8:74 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کر گئے اور خدا کی راہ میں لڑائیاں کرتے رہے۔ اور جنہوں نے (ہجرت کرنے والوں کو) جگہ دی اور ان کی مدد کی یہی لوگ سچے مسلمان ہیں۔ ان کے لئے (خدا کے ہاں) بخشش اور عزت کی روزی ہے۔

کافر کیسے ایک دوسرے کے دوست ہیں ؟ قول باری ہے (والذین کفروا بعضھم اولیاء بعض۔ جو لوگ منجر حق ہیں وہ ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں ض حضرت ابن عباس ؓ اور سدی کا قول ہے کہ اہل کفر میراث میں ایک دوسرے کے ولی ہیں۔ قتادہ کا قول ہے کہ نصرت اور معاونت میں ایک دوسرے کے ولی ہیں۔ ابن اسحاق کا بھی یہی قول ہے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ جب قول باری (ان الذین امنوا و ھاجرو و جاھدو) تا قول باری (اولئک بعضھم اولیاء بعض) ہجرت کی بنا پر توارث کا موجب ہے اور قول باری (والذین آمنوا ولم بھاجروا مالکم من ولایتھم من شیء حتی یھاجرو) میرا ث کی نفی کرتا ہے تو پھر یہ لازم ہوگیا کہ قول باری (والذین کفروا بعضھم اولیاء بعض ) کافروں کے درمیان توارث کے اثبات کا موجب بن جائے اس لئے کہ ولایت ان کے درمیان توارث کے اثبات سے عارت بن گئی۔ اس کا عموم اس امر کا مقتضی ہے کہ تمام کافروں کے درمیان خواہ ان کے مذاہب ایک دوسرے سے مختلف کیوں نہ ہوں توارث کا اثبات کردیا جائے اس لئے کہ یہ اسم ان سب کو شامل ہے اور ان سب پر اس اسم کا اطلاق ہوتا ہے۔ آیت میں کافروں کے کفر کے بعد ان کے مذاہب کے اختلاف کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں کیا گیا ہے۔ یہ امر اس پر بھی دلالت کرتا ہے کہ کافروں کو اپنی نابالغ اولاد پر ولایت حاصل ہے۔ اس لئے کہ آیت کے الفاظ دیوانگی اور بالغ نہ ہونے کی حالت میں نکاح اور مال میں تصرف کے جواز کے اندر اس امر کے مقتضی ہیں۔ اہل ایمان کو انتظار پر تنبیہ قول باری ہے (الا تفعلوہ تکن فتنۃ فی الارض و فساد کبیر۔ اگر تم (اہل ایمان) ایک دوسرے کی حمایت نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد برپا ہوگا۔ ) مراد یہ ہے… واللہ اعلم… کہ اگر تم وہ امور سرانجام نہیں دو گے جن کا تمہیں ان دونوں آیتوں میں حکم دیا گیا… یعنی ایک دوسرے کے ساتھ سوالات اور ایک دوسرے کی نصرت کا ایجاب نیز مواخات اور ہجرت کی بنا پر توارث، اور ترک ہجرت کی بنا پر عدم توارث… تو زمین پر فتنہ اور بڑا فساد برپا ہوگا۔ اگرچہ لفظی طور پر آیت کا انداز جملہ خبریہ والا ہے لیکن معنی کے لحاظ سے یہ امر ہے۔ اس لئے کہ جب ایک مومن اس شخص سے موالات اور دوستی نہیں کرے گا جو اپنی ظاہیر حالت یعنی ایمان اور اس کی فضیلت کی بنا پر اس مومن کے حسب حال ہے اور دوسری طرف فاجر اور گمراہ شخص سے اس طور پر پانی بیزاری کا اظہار نہیں کرے گا جو اس کی گمراہی اور فسق و فجور کی راہ میں رکاوٹ بن جائے تو اس کے نتیجے میں زمین میں فتنہ و فساد برپا ہوجائے گا۔
Ayah 8:75

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا مَعَكُمْ فَاُولٰٓئِكَ مِنْكُمْ١ؕ وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 8:75 in the Quran reader

اور جو لوگ بعد میں ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کر گئے اور تمہارے ساتھ ہو کر جہاد کرتے رہے۔ وہ بھی تم ہی میں سے ہیں۔ اور رشتہ دار خدا کے حکم کے رو سے ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ خدا ہر چیز سے واقف ہے۔

خونی رشتے اور وراثت قول باری ہے (و اولوالارحام بعضھم اولی ببعض فی کتاب اللہ، مگر اللہ کی کتاب میں خون کے رشتہ دار ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں) اس آیت کے ذریعے ہجرت، حلف اور موالات کی بنا پر توارث کے ایجاب کا حکم منسوخ ہوگیا۔ اس میں عصبات اور غیر غصبات کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا گیا۔ اس میں ایسے ذوی الارحام کی میراث کے اثبات کی حجت اور دلیل موجود ہے جن کے لئے آیت میراث میں کوئی حصہ مقرر نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی وہ عصبات کے ذیل میں آت ہیں۔ ہم نے سورة نساء میں اس کا ذکر کیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کا مسلک یہ ہے کہ ذوی الارحام مولیٰ عتاقہ سے بڑھ کر میراث کے حقدار ہوتے ہیں۔ انہوں نے ظاہر آیت سے استدلال کیا ہے، لیکن دوسرے تمام صحابہ کرام کا یہ مسلک نہیں ہے۔ ولاء میں وراثت ایک روایت کے مطابق حضرت حمزہ ؓ کی بیٹی نے ایک غلام آزاد کردیا تھا، اس کا انتقال ہوگیا اور اس کے پیچھے ایک بیٹی رہ گئی۔ حضور ﷺ نے اس کا آدھا ترکہ اس کی بیٹی کو اور آدھا حضرت حمزہ ؓ کی بیٹی کو ولایت کی بنا پردے دیا، گویا آپ نے حضرت حمزہ ؓ کی بیٹی کو عصبہ قرار دیا اور عصبہ ذوی الارحام سے بڑھ کر میراث کا مستحق ہوتا ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے (الولاء لحمۃ کلحمۃ النسب لا تباع ولا توھب۔ ولاء نسب کی طرح گوشت کا ایک ٹکڑا ہے زاے فروخت کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی بطور ہبہ کسی کو دیا جاسکتا) قول باری (فی کتاب اللہ) کی دو توجیہیں کی گئی ہیں۔ ایک تو یہ کہ ” لوح محفوظ ہیں “ جس طرح یہ ارشاد باری ہے (ما اصاب من مصیبۃ فی الارض ولا فی انفسکم الا فی کتاب من قبل ان نبرھا کوئی سی کبھی مصیبت نہ دنیا میں آتی ہے اور نہ خاص تمہاری جانوں میں مگر یہ کہ سب ایک رجسٹر میں لکھی ہیں قبل اس کے کہ ہم ان جانوں کو پیدا کریں ض دوسری یہ کہ اللہ عاتیٰ کے حکم میں “۔ اختتام سورة انفال۔