9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsاحکام القرآن

Ayah 9:1

بَرَآءَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَى الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَؕ Open ayah 9:1 in the Quran reader

(اے اہل اسلام اب) خدا اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے مشرکوں سے جن سے تم نے عہد کر رکھا تھا بیزاری (اور جنگ کی تیاری ہے)

معاہدہ مشرکین سے اعلان برأت قول باری ہے (براء ۃ من اللہ و رسولہ الی الذین عاھدتم من المشرکین اعلان برأت ہے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ان مشرکین کو جن سے تم نے معاہدے کئے تھے) ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ برأت قطع موالات اور امان کے خاتمہ نیز بچائو کے مرتفع ہوجانے کا نام ہے۔ ایک قول کے مطابق اس کے معنی ہیں۔ نذہ براء ۃ من اللہ و رسولہ “ اسی بناء لفظ براۃ مرفوع ہے۔ ایک قول ہے کہ ’ براۃ ‘ مبتدا ہے اور اس کی خبر حرف الی میں موجود ظرفیت کا معنی ہے اس بناء پر یہ آیت اس معاہدہ کے خاتمہ کی مقتضی ہے جو حضور ﷺ اور مشرکین کے درمیان طے پایا تھا نیز امان کے ارتفاع۔ حالت جنگ کی بحالی اور قتال کے اعلان کی بھی مقتضی ہے۔ یہ آیت اس قول باری کی طرح ہے (و اما تخافن من قوم خیانۃ فانبذالیھم علی سواء اور اگر کبھی تمہیں کسی قوم سے خیانت کا اندیشہ ہو تو اس کے معاہدے کو علانہ اس کے آگے پھینک دوض اس طرح زیر بحث آیت میں برات کچا جو ذکر ہے وہ گویا اس معاہدے کو علانیہ ان کے آگے پھینک دینے اور معاہدہ ختم کردینے کے مترادف ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ درج بالا آیت میں معاہدے کو علانیہ پھینک دینے کا حکم ان مشرکین کے ساتھ خاص تھا جو اپنے دلوں میں خیانت چھپائے ہوئے تھے اور معاہدے سے غداری اور بدعہدی کا ارادہ رکھتے تھے۔ اس بنا پر زیر بحث آیت میں مذکورہ لفظ برأت کا تقاضا تو یہ تھا کہ مشرکین کو اعلان برأت کے ساتھ ہی معاہدہ کا خاتمہ وہ جاتا لیکن جب اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے فواً بعد یہ فرمایا (فسیحوا فی الارض اربعۃ اشھر۔ پس تم لوگ ملک میں چار مہینے اور چل پھر لو) تو اس کے ذریعے یہ بیان کردیا کہ معاہدے کے خاتمہ کی ابتدا چار ماہ بعد ہوگی اور جن مشرکین سے اس قسم کے معاہدے کئے گئے تھے وہ چار ماہ کی مدت کے اختتام تک باقی رہیں گے۔ حسن کا قول ہے کہ اس وقت جن مشرکین کے ساتھ چار ماہ سے زائد مدت تک کے معاہدے تھے ان کی مدت گھٹا کر چار ماہ کردی گئی اور جن کے ساتھ کئے گئے معاہدے کی مدت چار ماہ سے کم تھی وہ بڑھا کر چار ماہ کردی گئی۔ ایک قول یہ ہے کہ ان چار مہینوں سے عہد یعنی اعلان کے مہینے مراد ہیں جن کی مشرکین کو مہلت دی گئی تھی۔ اس کی ابتدا بیس (20) ذی قعدہ سے ہوئی تھی، اور ذی الحجہ، محرم اور صفر کے مہینے اس میں شامل کر کے دس ربیع الاول کو اس کا اختتام ہوا تھا۔
Ayah 9:2

فَسِیْحُوْا فِی الْاَرْضِ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللّٰهِ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ مُخْزِی الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:2 in the Quran reader

تو (مشرکو تم) زمین میں چار مہینے چل پھر لو اور جان رکھو کہ تم خدا کو عاجز نہ کرسکو گے اور یہ بھی کہ خدا کافروں کو رسوا کرنے والا ہے۔

حجۃ الوداع سے پہلے حج ذی قعدہ میں ہوا اس لئے کہ اس سال کا حج ذی قعدہ میں ہوا جس میں حضرت ابوبکر ؓ کو امیر حج بنا کر بھیجا گیا تھا۔ اور حضرت علی ؓ نے مکہ میں مشرکین کو حضور ﷺ کے حکم کے بموجب سورة برأت پڑھ کر سنائی تھی۔ پھر اگلے سال حج ذی الحجۃ میں ہوا تھا جس میں حضور ﷺ نے فریضہ حج ادا کیا تھا اور جو حجۃ الوداع کے نام سے مشہور ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی مہینے کو حج کا مہینہ قرار دے دیا۔ اس لئے کہ مشرکین حج کے مہینے کو آگے پیچھے کردیا کرتے تھے۔ اس طرح حضور ﷺ نے جس سال فریضہ حج ادا کیا اتفاق سے اس سال حج اس مہینے میں ادا کی گیا جس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر ابتدا ہی سے حج فرض کردیا تھا اور انہیں لوگوں کو حج کے لئے بلانے کا حکم دیا تھا چناچہ ارشاد ہے (و ادنفی الناس بالحج یا توک رجالا اور لوگوں میں حج کا اعلان کر دو وہ تمہارے پاس پیدل آئیں گے) تا آخر آیت۔ اسی بنا پر حضور صلی اللہ الیہ وسلم نے عرفات میں کھڑے ہو کر یہ اعلان کیا تھا (الا ان الزمان قد استدارکھیئتہ یوم خلق السماوات والارض۔ لوگو ! آگاہ ہو جائو کہ زمانہ اپنی اس اصل حالت کی طرف پلٹ آیا ہے جو آسمانوں اور زمین کی پیدائش کے وقت اس کی تھی) اسی طرح ذی الحجہ کی نویں تاریخ یعنی یوم عرفہ حج کا دن مقرر ہوا اور دسویں تاریخ یوم النحر قرار پائی۔ یہ ان لوگوں کا قول ہے جو یہ کہتے ہیں کہ آیت میں مذکور چار مہینے یہی تھے جن میں مشرکین کو ملک میں چلنے پھرنے کی اجازت تھی اور ان کے گزر جانے کے ساتھ ہی مشرکین سے کئے گئے معاہدوں کا خاتمہ ہوگیا اور ان کی جان و مال کی حفاظت کا سلسلہ منقطع ہوگیا۔ معاہدے کی مدت کے اختتام سے پہلے معاہدے کو توڑ دینے اور اسے علانیہ ان کے آگے پھینک دینے نیز حالت جنگ بحال کرنے اور امان یعنی جنگ نہ کرنے کی حالت کو ختم کرنے کے جواز کی کئی صورتیں بیان کی گئی ہیں۔ ایک صورت یہ ہے کہ دشمن کی بدعہدی اور اس کی خیانت اور بدنیتی کا خطرہ ہو۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اس بات کا ثبوت مل جائے کہ وہ خفیہ طور پر اس معاہدے سے پھرگئے ہیں اس صورت میں علانیہ اس معاہدے کو ان ک آگے پھینک دیا جائے۔ تیسری صورت یہ کہ معاہدے کی ایک شق یہ ہو کہ امام المسلمین جب تک چاہے گا انہیں امان یعنی جنگ بندی کی حالت پر برقرار رکھے گا اور جب چاہے گا جنگ بندی کی حالت ختم کر دے گا۔ جس طرح حضور ﷺ نے اہل خیبر سے فرمایا تھا (اقرکم ما اقرکم اللہ۔ جب تک اللہ تعالیٰ تمہیں اس حالت پر برقرار رکھنا چاہے گا میں بھی تمہیں اس پر برقرار رکھوں گا) ایک اور صورت یہ ہے کہ معاہدے میں ایک مدت کی تعیین کے ساتھ یہ شرطیں بھی رکھی گئی ہوں کہ انہیں جنگ سے امان حاصل ہوجائے گی اور انہیں آگاہ کئے بغیر ان پر حملہ نہیں کیا جائے گا۔ نہ ہی انہیں غافل پا کر ان پر دھاوا بولا جائے گا نیز انہیں جب بتادیا جائے گا تو جنگ سے امان کی حالت ختم ہوجائے گی۔ اس قسم کے معاہدے کو مدت کے اختتام سے پہلے توڑ دینا جائز ہوگا اس لئے کہ معاہدے کے مضمون میں یہ بات واضح کردی گئی تھی اس میں خواہ دشمن کی طرف سے غداری کا خطرہ ہو یا نہ ہو یہ کہ معاہدے میں یہ شرط رکھ دی گئی ہو کہ ہم جب چاہیں گے ہمیں اس معاہدے کو ختم کردینے کا اختیار ہوگا یا یہ شرط نہ بھی ہو۔ ان تمام صورتوں میں ہمیں جب وقت بھی اسلام کی سربلندی اور غلبے کا کوئی موقع نظر آئے گا ہمارے لئے دشمن کے سامنے اس معاہدے کو پھینک کر اسے توڑ دینا جائز ہوگا۔ ایسا اقدام بدعہدی نہیں کہلائے گا جس میں قصداً خیانت کا ارادہ کیا گیا ہو نہ ہی یہ عہد سے بےوفائی کہلائے گا۔ اس لئے کہ معاہدے میں مذکور امان کی خلاف ورزی اور نقص عہد اس صورت میں لازم آتا جب امام المسلمین امان کے بعد ایسے وقت ان پر حملہ آور ہوتا جب وہ ہماری اس امان کی بنا پر اس حملے سے غافل ہوتے لیکن جب ہماری طرف سے معاہدے کر ان ک آگے پھینک دیا جائے تو پھر امان کی حالت ختم ہوجائے گی اور ان کے ساتھ حالت جنگ بحال ہوجائے گی، معاہدے کو ان کے سامنے پھینک دینے کے لئے ان کی رضامندی حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اسی بنا پر ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ امام المسلمین کو جب مسلمانوں میں کمزوری نظر آئے اور وہ انہیں دشمنوں کے خلاف جنگ کرنے کے قابل نہ سمجھتا ہو تو ایسی صورت میں اس کیلئے دشمن کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ کرلینا جائز ہوگا۔ پھر جب مسلمانوں کے اندر قوت پیدا ہوجائے گی اور ان میں دشمن سے ٹکر لینے کی سکت آ جائے گی تو امام کے لئے جنگ بندی کے اس معاہدے کو دشمن کے سامنے پھینک کر ان سے قتال کرنا جائز ہوگا۔ اسی طرح امام کے لئے ہر ایسا قدم اٹھانا درست ہوگا جس میں مسلمانوں کی بھلائی کا پہلو موجود ہو۔ دشمن کی طرف سے بدعہدی اور خیانت کے خطرے پر رفع امان اور جنگ بندی کے خاتمہ کا جواز موقوف نہیں ہوتا۔ حرمت کے مہینے حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ آیت زیر بحث میں مذکور چار مہینوں سے اشہر حرم یعنی حرمت کے مہینے مراد ہیں جو یہ ہیں۔ رجب، ذی قعدہ، ذی الحجہ اور محرم، سورة برأت کا نزول اس وقت ہوا تھا جب حضور ﷺ نے حضرت ابوبکر ؓ کو امیر حج بنا کر مکہ بھیجا تھا۔ اس سال حج ذیقعدہ کے مہینے میں ادا کیا گیا تھا۔ اس قول کے مطابق مشرکین کو گویا شہر حرم کے اختتام تک مہلت مل گئی تھی جریر نے مغیرہ سے، انہوں نے شعبی سے، انہوں نے المحرر بن ابی ہریرہ سے اور انہوں نے اپنے والد حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کی ہے۔ وہ فرماتے ہیں : حضور ﷺ نے جب حضرت علی ؓ کو مشرکین سے برأت کا اعلان کرنے کے لئے مکہ بھیجا تو میں بھی ان کے ساتھ تھا۔ میں اعلان کرتا رہا حتیٰ کہ میری آواز بیٹھ گئی۔ حضور ﷺ نے ہمیں ان باتوں کے اعلان کا حکم دیا تھا، اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرسکے گا۔ کوئی شخص برہنہ حالت میں کعبہ کا طواف نہیں کرے گا جنت میں صرف وہی شخص داخل ہوگا جو صاحب ایمان ہوگا نیز جس شخص کے ساتھ حضور ﷺ کا کوئی معاہدہ امن ہے اس کی مدت با چار مہینے ہے، چار ماہ گزر جانے کے بعد اللہ اور اس کا رسول مشرکین سے بری الذمہ ہوں گے۔ “ یہ کہنا بھی درست ہے کہ چار مہینوں کی ابتدا اس اعلان برأت کے ساتھ ہوگئی تھی اور اس سے اشہر حرم کے اختتام تک کے چار مہینے مراد لینا بھی درست ہے۔ سفیان نے ابو اسحاق سے، انہوں نے زید بن تییع سے اور انہوں نے حضرت علی ؓ سے روایت کی ہے کہ… ہر سال ذی الحجۃ میں حج اکبر ہے حضور ﷺ نے انہیں حج اکبر کے دن یہ اعلان کرنے کے لئے مکہ بھیجا تھا کہ کوئی شخص برہنہ حالت میں بیت اللہ کا طواف نہ کرے۔ جنت میں صرف مسلمان داخل ہوگا اس سال کے بعد آئندہ کوئی مشرک حج نہیں کرسکے گا اور جس شخص کے ساتھ حضور ﷺ کا کوئی معاہدہ ہے وہ اس کی مدت کے اختتام تک باقی رہے گا۔ حضرت علی ؓ کی اس روایت میں معاہدہ کی مدت کو اس کی مدت کے اختتام تک باقی رہنے کا اعلان ہے اس میں چار ماہ کی تخصیص نہیں ہے۔ جبکہ ابوہریرہ کی روایت میں چار ماہ تک کی مدت کا ذکر ہے۔ دونوں باتوں کا درست ہونا ممکن ہے۔ وہ اس طرح کہ آپ ﷺ نے بعض معاہدوں کے لئے چار ماہ کی مدت یا اشہر حرم کے اختتام تک کی مدت مقرر کی اور بعض مشرکین کے ساتھ کئے گئے معاہدوں کی مدت وہ مقرر کی جو معاہدوں میں طے پائی تھی خواہ یہ مدت طویل تھی یا مختصر۔ مشرکین کو چار ماہ کی مہلت حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت میں چار مہینوں کا جو ذکر ہے وہ قول باری (فسیحوا فی الارض اربعۃ اشھر) سے مطابقت رکھتا ہے جبکہ حضرت علی ؓ کی روایت میں معاہدے کی اصل مدت کو برقرار رکھنے کا ذکر قول باری (الا الذین عاھدتم من المشرکین ثم لم ینقصوکم شیئا ولم یظاہرو اعینکم احدا فاتموا الیھم عھدھم الی مدتھم بجز ان مشرکین ک جن سے تم نے معاہدے کئے پھر انہوں نے اپنے عہد کو پورا کرنے میں تمہارے ساتھ کوئی کمی نہیں کی اور تمہارے خلاف کسی کی مدد کی تو ایسے لوگوں کے ساتھ تم بھی مدت معاہدہ تر وفا کرو) کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے۔ اس طرح ان لوگوں کے ساتھ معاہدے کئے گئے معاہدوں کی مدت چار ماہ مقرر کی گئی جن کی طرف سے بدعہدی اور خیانت کا خطرہ تھا اور جن لوگوں کی طرف سے اس قسم کا کوئی خطر نہیں تھا ان کے ساتھ کئے گئے معاہدوں میں طے شدہ مدت کو پورا کرنے کا اعلان کردیا گیا۔ یونس نے ابو اسحاق سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے 9 ھ میں حضرت ابوبکر ؓ کو امیر حج بنا کر روانہ کردیا۔ حضرت ابوبکر ؓ کی روانگی کے بعد سورة برأت نازل ہوئی جس میں حضور ﷺ اور مشرکین کے درمیان معاہدے کو توڑ دینے کا اعلان تھا۔ اس معاہدے کی یہ شقیں تھیں کہ بیت اللہ میں آنے سے کسی شخص کو روکا نہیں جائے گا اور حرمت والے مہینے میں کسی کو خوفزدہ نہیں کیا جائے گا۔ یہ حضور ﷺ اور تمام اہل شرک کے درمیان ایک عام معاہدہ تھا۔ اس کے علاوہ آپ کے اور قبائل عرب کے درمیان کچھ خصوصی معاہدے بھی تھے جن میں مدتوں کا تعین تھا۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی (براء ۃ من اللہ و رسولہ الی الذین عاھدتم من المشرکین) یعنی مشرکین عرب سے جو عام معادہ ہوا تھا اس میں شریک تمام اہل شرک سے برأت کا اعلان کردیا گیا۔ پھر فرمایا (فسیحوا فی الارض اربعۃ اشھر) یعنی اس حج کے بعد اللہ تعالیٰ یک طرف سے اعلان برأت ہے۔ قول باری (الا الاذین عاھدتم من المشرکین) سے مراد وہ خاص معاہدے ہیں جن میں مدتوں کا تعین کردیا گیا تھا۔ پھر فرمایا (فاذا تسخ الاشھر الحرم۔ جب حرمت کے مہینے گزر جائیں) یعنی وہ چار مہین جن کی انہیں مہلت دی گئی تھی۔ قول باری (الا الذین عاھدتم عند المسجد الحرام۔ مگر وہ لوگ جن کے ساتھ تم نے مسجد حرام کے پاس معاہدہ کیا تھاض سے مراد بنو بکر کے قبائل ہیں جو حدیبیہ میں طے پانے والے معاہدے میں قریش کے ساتھ اس بات تک کے لئے شامل ہوئے تھے جو حضور ﷺ اور قریش کے درمیانطے پائی تھی۔ اس معاہدے کی خلاف ورزی صرف قریش کے قبیلے اور بنو دئل نے کی تھی حضور ﷺ کو یہ حکم دیا گیا کہ بنو بکر میں سے جن لوگوں نے اس معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کی تھی ان ک ساتھ مدت کے اختتام تک یہ معاہدہ برقرار رکھا جائے۔ چناچہ ارشاد ہوا (فما استقاموا لکم فاستقیموا تھم جب تک یہ تمہارے ساتھ سیدھے رہیں تم بھی ان کے ساتھ سیدھے رہو) معاویہ بن صالح نے علی بن ابی طلحہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے قول باری (فسیحوا فی الارض اربعۃ اشھر) کی تفسیر میں ان کا یہ قول نقل کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لئے جن کے ساتھ حضور ﷺ کا معاہدہ تھا، چار ماہ کی مدت مقرر کی کہ اس مدت میں وہ جہاں چاہیں چلیں پھریں۔ جن لوگوں کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں تھا۔ ان کی مدت اشہر جحرم کا اختتام یعنی پچاس دن مقرر کئے پھر حضور ﷺ کو حکم دیا کہ اشہر حرم کے گزر جانے پر ان لوگوں کا فیصلہ تلوار سے کریں جنہوں نے معاہدے کئے تھے لیکن وہ اسلام میں داخل نہیں ہوئے تھے، آپ کو یہ حکم ملا کہ ان لوگوں کے ساتھ کئے گئے تمام معاہدے اور میثاق ختم کردیئے جائیں۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس ؓ کی اس روایت میں ان لوگوں کے لئے چار مہینوں کو عہد یعنی مہلت کے مہینے قرار دیا جن کے ساتھ کوئی معاہدہ تھا لیکن جن مشرکین کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں تھا ان کی مدت ماہ محرم کا اختتام مقرر کی۔ یہ مدت حج کے وقت یعنی دسویں ذی الحجہ سے محرم کے آخر تک پچاس دنوں کی تھی، محرم کا اختتام اشہر حرم کا آخر ہوتا ہے۔ ابن جریج نے مجاہد سے قول باری (براء ۃ من اللہ و رسولہ الی المین عاھدتم من المشرکین) کی تفسیر میں نقل کیا ہے کہ اس س مراد وہ مشرکین ہیں جنہوں نے معاہدے کر رکھے تھے۔ یہ بنو خزاء اور بنو مدلج اور دیگر قبائل تھے پھر آنحضور ﷺ نے حضرت ابوبکر ؓ اور علی ؓ کو مکہ اس مقصد کے لئے بھیجا تھا کہ وہ جا کر معاہدوں والے مشرکین کو یہ اعلان سنا دیں کہ انہیں چار ماہ تک بےخوف و خطر چلنے پھرنے کی اجازت ہے۔ یہ چار ماہ اشہر حرم تھے جو دس ذی الحجہ سے شروع ہو کر دس ربیع الآخر تک تسلسل کے ساتھ آتے تھے ان چار مہینوں کے بعد ان کے ساتھ کسی قسم کا کوئی معاہدہ باقی نہیں رہے گ۔ مجاہد کہتے ہیں ان مہینوں کو اشر حرم اس لئے کہا گیا ہے کہ مشرکین کو ان میں بےخوف و خطر امن کے ساتھ چلنے پھرنے کی اجازت دے دی گئی تھی۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ مجاہد اشہر حرم سے مہلت والے چار مہینے مراد لئے ہیں اور یہ رائے دی ہے کہ ان میں قتال کی تحریم کی بنا پر انہیں اشہر حرم کہا گیا ہے، یہ وہ اشہر حرم نہیں ہیں جن کا ذکر اس قول باری میں ہوا ہے۔ (منھا اربعۃ حرم۔ ان میں سے چار حرمت کے مہینے ہیں) اسی طرح ان کا ذکر ایک اور آیت میں ہوا۔ حرمت کے مہینوں کی جنگ (یسئلونک عن الشھر الحرام قتال فیہ۔ آپ سے حرمت کے مہینے میں جنگ کے متعلق فتویٰ پوچھتے ہیں ) اس لئے کہ یہ حرمت کے چار مہینے ذی قعدہ، ذی الحجہ، محرم اور رجب کے مہینے ہیں ان کے بارے میں کسی کا اختلاف نہیں ہے۔ حضور ﷺ سے بھی یہی قول منقول ہے۔ اس بارے میں مجاہد نے جو کہا ہے وہ احتمال کے درجے میں ہے۔ قول باری (فسیحوا فی الارض اربعۃ اشھر) کی تفسیہ میں سدی نے کہا ہے کہ اس سے وہ مدت مراد ہے جو دس ذی الحجہ سے شروع ہو کر دس ربیع الآخر پر اختتام پذیر ہوتی ہے۔ اس کے بعد نہ کسی کے لئے امان ہے اور نہ کوئی معاہدہ، اس کے بعد صرف اسلام ہوگا یا تلوار، ہمیں عبداللہ بن اسحاق المروزی نے روایت بیان کی، انہیں حسن بن ابی الربیع الجرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے، انہیں معمر نے زہری سے قول باری (فسیحوا فی الارض اربعۃ اشھر) کی تفسیر میں بیان کیا کہ اس کا نزول شوال میں ہوا، اس طرح چار ماہ یہ ہوئے۔ شوال، ذی قعدہ، ذی الحجہ اور محرم۔ قتادہ کا قول ہے کہ اس چر ماہ میں ذی الحجہ کے بیس دن، محرم، صفر، ربیع الاول اور ربیع الآخر کے دس دن شامل ہیں۔ یہی مدت وہ مہلت کی مدت تھی جو انہیں دی گئی تھی۔ سورہ برأت کا زمانہ نزول ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ قتادہ کا قول مجاہد کے قول سے مطابقت رکھتا ہے جسے ہم نے ابھی اوپر بیان کیا ہے لیکن زہری کے قول کو میں ان کا وہم خیال کرتا ہوں اس لئے کہ راویوں کا اس پر اتفاق ہے کہ سورة برأت کا نزول ذی الحجہ کے مہینے میں ہوا تھا یہ وہ وقت تھا جب حضور ﷺ حضرت ابوبکر (رح) کو امیر حج بنا کر مکہ کی طرف روانہ کرچکے تھے۔ ان کے جانے کے بعد یہ سورة نازل ہوئی۔ آپ نے حضرت علی ؓ کو اس مقصد کے لئے مکہ کی طرف روانہ کردیا تاکہ وہ منیٰ میں موجود لوگوں کو یہ سورت پڑھ کر سنا دیں۔ درج بالا سطور میں ہم نے جن روایات کا ذکر کیا ہے ان کی روشنی میں یہ بات ثابت ہوگئی کہ حضور ﷺ اور مشرکین کے درمیان ایک عام معاہدہ تھا جس کی شقیں یہ تھیں کہ کسی شخص کو بیت اللہ سے روکا نہیں جائے گا اور کسی کو حرمت کے مہینے میں خوفزدہ نہیں کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس معاہدے کی مدت چارماہ مقرر کردی اور فرما دیا (فسیحوا فی الارض اربعۃ اشھر) حضور ﷺ اور کچھ مخصوص قبیلوں کے درمیان بھی معاہدے موجود تھے جن میں مدتوں کا تعین تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان معاہدوں کو ان کی مدتوں کے اختتام تک پورا کرنے کا حکم دیا بشرطیکہ دوسری جانب سے بد عہدی اور خیانت کا خطرہ نہ ہو، چناچہ ارشاد باری ہے (الا الاذین عاھدتم من المشرکین ثم لم ینقصو کم شیئا ولم یضاھروا علیکم احد فاتموا الیھم عھدھم الی مدتھم۔ یہ بات اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ ان کی مدت یا تو اشہر حرم کے اختتام تک تھی جن میں اللہ تعالیٰ نے قتال کی تحریم کردی تھی یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کی مدت معاہدہ توڑنے کے اعلان کے وقت یعنی دس ذی الحجہ سے شروع ہو کر دس ربیع الآخر تک تھی۔ ان مہینوں کو اشہر حرم اس لئے کہا گیا کہ بقول مجاہد ان میں قتال کی تحریم کردی گئی تھی۔ اس مدت کے اختتام کے بعد کسی کے ساتھ کسی قسم کا کوئی معاہدہ باقی نہیں رکھا گیا بلکہ اس مدت کے گزر جانے کے بعد تمام معاہدات کو ختم کرنا واجب کردیا گیا۔ اس حکم میں وہ مشرکین بھی شامل تھے جن کے ساتھ کوئی خصوصی معاہدہ تھا اور وہ تمام مشرکین بھی جن کے ساتھ ایک عام معاہدہ تھا جس کی مشقیں یہ تھیں کہ بیت اللہ میں کسی کو داخل ہونے سے روکا نہیں جائے گا اور اشہر حرم میں کسی کا خون نہیں بہایا جائے گا۔ اس سے ماہ محرم کا نکل جانا بھی مراد ہوسکتا ہے اس لئے کہ اس کے ذریعے اشہر حرم کا اختتام ہوجاتا ہے جن میں اللہ تعالیٰ نے قتال کی تحریم کا حکم دے رکھا تھا ہم نے اس قول کی روایت حضرت ابن عباس ؓ سے بھی کی ہے۔
Ayahs 9:3–4

وَ اَذَانٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَى النَّاسِ یَوْمَ الْحَجِّ الْاَكْبَرِ اَنَّ اللّٰهَ بَرِیْٓءٌ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ١ۙ۬ وَ رَسُوْلُهٗ١ؕ فَاِنْ تُبْتُمْ فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللّٰهِ١ؕ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ Open ayah 9:3 in the Quran reader

اور حج اکبر کے دن خدا اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے لوگوں کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ خدا مشرکوں سے بیزار ہے اور اس کا رسول ﷺ بھی (ان سے دستبردار ہے) پس اگر تم توبہ کرلو تو تمہارے حق میں بہتر ہے اور اگر نہ مانو (اور خدا سے مقابلہ کرو) تو جان رکھو کہ تم خدا کو ہرا نہیں سکو گے اور (اے پیغمبر ﷺ ! ) کافروں کو دکھ دینے والے عذاب کی خبر سنا دو ۔

اِلَّا الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ ثُمَّ لَمْ یَنْقُصُوْكُمْ شَیْئًا وَّ لَمْ یُظَاهِرُوْا عَلَیْكُمْ اَحَدًا فَاَتِمُّوْۤا اِلَیْهِمْ عَهْدَهُمْ اِلٰى مُدَّتِهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:4 in the Quran reader

البتہ جن مشرکوں کے ساتھ تم نے عہد کیا ہو اور نہوں نے تمہارا کسی طرح کا قصور نہ کیا ہو اور نہ تمہارے مقابلے میں کسی کی مدد کی ہو تو جس مدت تک ان کے ساتھ عہد کیا ہو اسے پورا کرو (کہ) خدا پرہیزگاروں کو دوست رکھتا ہے۔

قول باری ہے (واذاک من اللہ و رسولہ الی الناس یوم الحج الاکبر ان اللہ بریء من المشرکین و رسولہ۔ اطلاع عام ہے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے حج کے بڑے دن، تمام لوگوں کے لئے کہ اللہ مشرکین سے بری الذمہ ہے اور اس کا رسول بھی) یعنی اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلان ہے کہا جاتا ہے اذنیٰ بکذا مجھے اس نے یہ بات معلوم کرائی اور مجھے اس کا علم ہوگیا۔ حج اکبر کے بارے میں تعبیرات ” یوم الحجۃ الاکبر “ کی تفسیر میں اختلاف ہے۔ بعض روایات میں حضور ﷺ سے منقول ہے کہ اس سے مراد یوم عرفہ ہے۔ حضرت علی ؓ ، حضرت عمر ؓ ، حضرت ابن عباس ؓ ، عطاء اور مجاہد سے مختلف روایات کی صورت میں یہی منقول ہے کہ اس سے یوم النحر یعنی دسویں ذی الحجہ مراد ہے۔ حضرت علی ؓ ، حضرت ابن عباس ؓ ، حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ ، حضرت عبداللہ بن ابی اوفی ؓ ، ابراہیم نخعی اور سعید بن جبیر ؓ سے مختلف روایات کی صورت میں یہ قول بھی منقول ہے کہ اس سے ایام حج مراد ہیں۔ یہ تعبیر عربی زبان میں عام ہے جس طرح نگ صفین میں کئی دنوں تک لڑائی ہوتی رہی لیکن اس کی تعبیر یوم صفین کے الفاظ سے کی جاتی ہے۔ حماد نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ حج اکبر حج قرآن کو کہتے ہیں اور حج اصغر حج افراد کچا نام ہے۔ لیکن یہتفسیر اس بنا پر ضعیف ہے کہ اس سے یہ بات ضروری ہوجاتی ہے کہ حج افراد کے لئے ایک معین دن ہوتا ہے اور حج قرآن کے کلیے بھی ایک معین دن۔ جبکہ یہ بات واضح ہے کہ حج افراد کے لئے بھی وہی دن ہے جو قرآن کے لئے ہے۔ اس صور میں حج اکبر کے دن کی فضیلت کا فائدہ باطل وہ جائے گا۔ اس صورت میں یہ واجب تھا کہ برأت کا یہ اعلان حج قران کے دن کیا جاتا۔ دوسری طرف قو باری (یوم الحج الاکبر) سے جب یوم عرفہ یا یوم النحر مراد ہوتا اور حج اصغر عمرہ کو کہا جاتا تو اس سے یہ ضروری ہوجاتا کہ حج کے ایام عمرہ کے ایام سے جدا ہوتے اور عمرہ ایام حج میں ادا نہ کیا جاتا۔ ابن سیرین سے ان کا یہ قول منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے (یوم الحج الاکبر) صرف اس لئے فرمایا کہ تمام مذاہب کی عیدیں اس میں جچمع ہوگئی ہیں۔ نیز یہ وہ سال تھا جس میں حضور ﷺ نے فریضہ حج ادا کیا تھا۔ ابن سیرین کی اس تفسیر کے متعلق کہا گیا ہے کہ یہ غلط ہے اس لئے کہ برأت کا اعلان اس سال ہوا تھا جس سال حضرت ابوبکر ؓ نے امیر حج کی حیثیت سے فریضہ حج ادا کیا تھا نیز جس سال حضور ﷺ نے فریضہ حج ادا کیا تھا اس سال مشرکین پر حج کے دروازے بند کردیئے گئے تھے۔ اس لئے کہ انہیں ایک سال قبل ہی آئندہ کے لئے بیت اللہ میں داخل ہونے کی ممانعت کردی گئی تھی۔ حضرت عبداللہ بن شداد کا قول ہے کہ حج اکبر یوم النحر ہے اور حج اصغر عمرہ ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ عمرہ حج اصغر ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے بھی اسی قسم کا قول منقول ہے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ قول باری (الحج الاکبر) اس بات کا مقتضی ہے کہ کوئی حج اصغر بھی ہونا چاہیے اور یہ عمرہ ہے جیسا کہ حضرت عبداللہ بن شداد ؓ اور حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے۔ حضور ﷺ سے بھی منقول ہے کہ آپ نے فرمایا (العمرۃ الحج الصغریٰ عمرہ چھوٹا حج ہے۔ جب یہ باتثابت ہوگئی کہ حج کا اسم عمرہ پر بھی واقع ہوتا ہے پھر حضور ﷺ نے حضرت اقرع بن جابس ؓ ک اس سوال پر کہ آیا حج کا فریضہ ہر سال ادا کیا جائے گا یا صرف ایک مرتبہ ؟ ارشاد فرمایا کہ (لا بل حجۃ واحدۃ نہیں بلکہ صرف ایک حج) یہ بات عمرہ کے وجوب کی نفی پر دلالت کرتی ہے اس لئے کہ حضور ﷺ نے ایک حج کے سوا حج کے وجوب کی نفی فرما دی۔ پھر آپ ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے کہ (الحج عرفہ حج عرفہ ہے) یعنی عرفات کے میدان میں کھڑے ہونے کا نام ہے۔ یہ اس پر دلالت کرتا ہے حج اکبر کا دن عرفہ کا دن ہے۔ اس میں یوم النحر کوھی حج اکبر کا دن ہونے کا احتمال ہے اس لئے کہ اس دن مناسک کی ادائیگی کی تکمیل ہوتی اور میل کچیل دور کیا جاتا ہے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ اس سے ایام منیٰ مراد ہوں جیسا کہ مجاہد سے منقول ہے۔ اسے اکبر کی صفت سے موصوف کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ایام منیٰ میں صرف حج کے ارکان ادا کئے جاتے ہیں عمرہ ادا نہیں کیا جاتا۔ ایک قول ہے کہ یوم عرفہ کی بہ نسبت یوم النحر کا یوم حج اکبر بننا اولیٰ ہے اس لئے کہ یوم النحر میں تمام حاجیوں کا اجتماع وہ جاتا ہے جبکہ عرفات میں بعض حاجی رات کے وقت آتے ہیں اور بعض دن کے وقت جہاں تک سورة برأت کے اعلان کا تعلق ہے اس میں یہ ممکن ہے کہ اس کا اعلان یوم عرفہ کو ہوا ہو اور اس کا بھی امکان ہے کہ یوم النحر کو ہوا ہو۔
Ayah 9:5

فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ وَ خُذُوْهُمْ وَ احْصُرُوْهُمْ وَ اقْعُدُوْا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ١ۚ فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:5 in the Quran reader

جب عزت کے مہینے گزر جائیں تو مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کردو اور پکڑ لو اور گھیر لو اور ہر گھات کی جگہ پر ان کی تاک میں بیٹھے رہو۔ پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز پڑھنے اور زکوٰۃ دینے لگیں تو ان کی راہ چھوڑ دو ۔ بیشک خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

اشہر حرم گزرنے پر مشکین سے قتال قول باری ہے (فاذا انسلخ الاشھر الحرم فاقتلو المشرکین حیث و جدتموھم پس جب حرمت کے مہینے گزر جائیں تو مشرکین کو قتل کرو جہاں پائو) معاویہ بن صالح نے علی بھ ابی طلحہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ قول باری (لست علیھم بسطیطر آپ ﷺ ان پر کچھ مسلط تو نہیں ہیں) نیز (وما انت علیھم بجبار اور آپ ان پر جبر کرنے والے بنا کر نہیں بھیجے گئے) نیز (قل للذین امنوا یغفروا للذین لا یرجون ایام اللہ جو لوگ ایمان لے آئے ہیں ان سے کہہ دیجئے کہ وہ ان لوگوں کے ساتھ درگزر سے کام لیں جو اللہ کے معاملات کا یقین نہیں رکھتے) ان سب کو ان دو آیات نے منسوخ کردیا ہے۔ پہلی آیت یہ ہے (فاقتلو المشرکین حیث و جدتموھم) اور دوسری آیت یہ ہے (قاتلوا الذین لا یومنون باللہ والیوم الاخر۔ ان لوگوں سے جنگ کرو جو اللہ اور یوم آخرت پر یقین نہیں رکھتے) تا آخر آیت۔ موسیٰ بن عقبہ کا قول ہے کہ اس سے قبل حضور ﷺ اس قول باری (و القوا الیکم السلم فما جعل اللہ لکم علیھم سبیلا اور تمہاری طرف صلح و آشتی کا ہاتھ بڑھائیں تو اللہ نے تمہارے لئے ان پر دست درازی کی کوئی سبیل نہیں رکھی ہے) کی بنا پر ان مشرکین سے اپنا ہاتھ روک رکھتے جو آپ سے جنگنہ کرتے پھر قول باری (براء ۃ من اللہ و رسولہ) نے اس حکم کو منسوخ کردیا۔ پھر فرمایا (فاذا انسلخ الاشھر الحرم فاقتلوا المشرکین۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں آیت زیر بحث کا عموم تمام مشرکین کو خواہ وہ اہل کتاب ہوں یا غیر اہل کتاب قتل کرنے کی مقتضی ہے۔ نیز یہ کہ ان سب سے اسلام یا تلوار کے سوا اور کوئی بات قبول نہ کی جائے لیکن اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کو جزیہ کے بدلے ان کے مذہب پر برقرار رکھ کر ان کی تخصیص کردی چناچہ ارشاد باری ہے (قاتلوا الذین لا یومنون باللہ والیوم الاخر) تا آخر آیت۔ حضور ﷺ نے ھجر کے علاقے میں رہنے والے مجوسیوں سے جزیہ وصول کیا تھا۔ علقمہ بن مرثد کی روایت میں جو انہوں نے ابن بریدہ سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضور ﷺ سے نقل کی ہے کہ آپ جب کوئی فوجی مہم یعنی سریہ روانہ کرتے تو اس میں شامل مجاہدین کو یہ ہدایات دیتے کہ ” جب مشرکین سے تمہارا مقابلہ ہوجائے تو پہلے انہیں اسلام کی دعوت دو ، اگر وہ انار کریں تو انہیں جزیہ ادا کرنے کے لئے کہو اگر وہ یہ بات مان جائیں تو ان سے جزیہ وصول کرلو اور اپنا ہاتھ ان سے روک لو۔ “ اس حکم میں تمام مشرکین کے لئے عموم ہے لیکن ہم نے آیت کی بنا پر ان مشرکین ی تخصیص کردی جو مشرکین عرب میں سے نہیں تھے اور قول باری (فاقتلوا المشرکین حیث و جدتموھم) کا حکم مشرکین عرب کے ساتھ خاص ہوگیا دوسرے مشرکین اس حکم میں داخل نہ رہے۔ محاصرہ سے مشرکین کو غور و خوض کا موقع مل جائے گا قول باری (وخدوھم احصروھم اور انہیں پکڑو اور گھیرو) اس پر دلالت کرتا ہے کہ انہیں پکڑنے کے بعد قید کردیا جائے اور انہیں قتل کرنے میں سست روی اختیار کی جائے تاکہ انہیں اسلام کے متعلق سوچنے اور اسے قبول کرنے کا موقع مل جائے اس لئے کہ حصر کے معنی حبس یعنی قید کرنے کے ہیں۔ یہ اس پر بھی دلالت کرتا ہے کہ مشرکین کو ان کے قلعوں اور شہروں میں محصور کردینا بھی جائز ہے جبکہ ان میں بچے اور عورتیں موجود ہوں جن کا قتل جائز نہیں ہے۔ نیز یہ کہ محاصرہ کے ذریعے ان کا مقابلہ کیا جائے۔ قول باری (فاقتلوا لمشرکین) کا عموم مشرکین کو قتل کی تمام صورتوں کے ذریعے قتل کرنے کے جواز کا مقتضی ہے تاہم حضور ﷺ کی سنت سے مثلہ کرنے یعنی اعضاء و جوارح کاٹ ڈالنے اور باندھ کر تیروں سے قتل کرنے کی ممانعت ثابت ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے : (اعف الناس قتلۃ اہل الایمان۔ اہل ایمان کے قاتلین مکروہ ترین لوگ ہیں) نیز آپ نے فرمایا (اذا قتلتم فاحسنوا القتلۃ) جب تم کسی کو قتل کرو تو یہ عمل بھی اچھے طریقے سے انجام دو ) حضرت ابوبکر نے جب مرتدین کو آگ میں جلا کر، سنگسار کر کے، پہاڑوں سے نیچے گرا کر اور کنووں میں ہلاک کیا تھا تو عین ممکن ہے کہ انہوں نے ظاہر آیت سے استدلال کیا ہو، حضرت علی ؓ نے بھی مرتدین کے ایک گروہ کو آگ میں جلا کر ہلاک کیا تھا، اور یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت ابوبکر ؓ نے آیت کے عموم کا اعتبار کیا ہو۔ قول باری ہے (فان تابوا و اقامو الصلوۃ و اتوا الزکوۃ فخلوا سبیلھم، اگر یہ توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں تو ان کا راستہ چھوڑ دو ) آیت میں مذکور افعال ک وجود یا تو ان سے قتل کا حکم ٹل جانے کے لئے شرط قرار پائے گا یا ان کو قبول کرتے ہوئے اللہ کے حکم کے آگے سر تسلیم خم کردینا ہی اس حکم کے ٹل جانے کے لئے کافی ہوگا۔ ان افعال کے وجود کی کوئی شرط نہیں ہوگی۔ یہ بات تو واضح ہے کہ شرک سے توبہ کا وجود ہی اس حکم کے ٹل جانے کے لئے لامحالہ شرط ہے۔ نیز اس امر میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ اگر مشرکین نماز اور زکوۃ کی ادائیگی کے سلسلے میں اللہ کا حکم تسلیم کرلیں لیکن وہ وقت نماز کا وقت نہ ہو تو وہ مسلمان کہلائیں گے اور ان کی جان مفحظو ہوجائے گی اس سے ہمیں یہ بات معلوم ہوئی کہ اگر مشرکین اللہ کے اوامر کو قبول کرلیں اور ان کے لزوم کا اعتراف بھی کرلیں تو اس کے ساتھ ان کے قتل کا حکم مل جائے گا۔ نماز کی ادائیگی یا زکوۃ کا اخراج اس کے لئے شرط نہیں ہے۔ نیز زکوۃ نکالنے کا حکم نفس اسلام کے لئے لازم نہیں ہوتا بلکہ سال گزر جانے کے بعد اس کا لزوم ہوتا ہے۔ اس لئے زکوۃ کی ادائیگی کو قتل کے حکم کے ٹل جانے کے لئے شرط قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ اسی طرح نماز کی ادائیگی بھی اس کے لئے شرط نہیں ہے۔ اس حکم کو ٹالنے کی شرط صرف یہ ہے کہ ان فرائض کو قبول کرلیا جائے۔ ان کا التزام کچیا جائے اور ان کے وجوب کا اقرار و اعتراف کیا جئاے۔ اگر یہ کہا جائے کہ جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا (فان تابوا و اقاموالصلوۃ و اتوالزکوۃ) تو اس میں توبہ کے ساتھ نماز کی ادائیگی اور زکوۃ کے اخراج کی شرط عائد کی۔ یہ تو سب کو معلوم ہے کہ کفر سے مکمل طور پر قطع تعلقی کر کے اسلام کی طرف لوٹ آنے کا نام توبہ ہے۔ اس لئے آیت میں توبہ کے ذکر کے ساتھ ان فرائض کے التزام اور ان کے اقرار کا مفہوم خودبخود ذہن میں آ جاتا ہے۔ اس لئے کہ اس کے بغیر توبہ درست ہی نہیں ہوسکتی۔ پھر جب توبہ کے ساتھ نماز اور زکوۃ کی شرط عائد کردی تو اس سے اس امر پر دلالت ہوگئی کہ مشرکین سے قتل کے حکم کو ٹالنے والی علت دراصل یہ ہے کہ ایمان کا اس کی شرائط کے ساتھ اعتقاد اور نماز کی ادائیگی نیز زکوۃ کا اخراج پایا جائے۔ یہ چیز نماز اور زکوٰۃ کے وجوب کے باوجود نماز نہ ڑھنے والے اور زکوٰۃ ادا نہ کرنے والے کے قتل کو واجب کردیتی ہے۔ چاہے ایسا شخص ایمان کا اعتقاد اور اس کی شرائط کے لزوم کا اعتراف کیوں نہ کرتا ہو۔ اس ک جواب میں کہا جائے گا کہ اگر نماز کی ادائیگی اور زکوٰۃ کا اخراج قتل کا حکم ٹل جانے کے لئے شرط قرار دیا جاتا تو یہ حکمران مشرکین سے ہرگز نہ ٹلتا جو نماز کی ادائیگی اور زکوٰۃ کے اخراج کے اوقات کے سوا کسی اور وقت میں مسلمان ہوجاتے۔ جب سب کا اس پر اتفاق ہوگیا کہ اگر ایک مشرک ایمان کا اس کی شرائط کے ساتھ اعتقاد کرے اور اس کے لزوم کا اعتراف کرلے تو اس سے قتل کا حکم ٹل جاتا ہے۔ اس سے ہمیں یہ بات معلوم ہوگئی کہ نماز کی ادائیگی اور زکوٰۃ کا اخراج قتل کا حکم ٹل جانے کی شرائط میں سے نہیں ہے۔ بلکہ اس کی شرط یہ ہے ک مشرک ایمان کا اظہار کرے اور اس کے احکامات کو قبول کرلے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ جب ایمان کا اظہار اور احکامات کا التزام اس حکم کے ٹل جانے کے لئے شرط قرار دیئے گئے تو ان میں بعض کو ترک کرنے کی بنا پر ایسے شخص سے قتل کا حکم زائل نہیں ہوتا۔ قرآن کی ایک آیت کا انکار پورے قرآن کا انکار ہے حضرات صحابہ کرام نے مانعین زکوٰۃ کی عورتوں اور بچوں کو گرفتار کیا تھا اور ان کے لڑنے والے مردوں کو قتل کردیا تھا اور انہیں اہل ردہ یعنی مرتدین کے نام سے موسم کیا تھا اس لئے کہ انہوں نے زکوٰۃ کی فرضیت کو قبول کرنے اور اس کی ادائیگی کا التزام کرنے سے انکار کردیا تھا اسی بنا پر وہ مرتدین قرار دیئے گئے تھے۔ اس لئے کہ جو شخص قرآن کی ایک آیت کا انکار کرتا ہے وہ گویا پورے قرآن کا منکر ہوتا ہے۔ حضرت ابوبکر ؓ نے تمام صحابہ کرام کے ساتھ مل کر مرتدین کے خلاف اسی طریق کار کو اپنایا اور ان کے ساتھ قتال کیا۔ زکوٰۃ کی فرضیت کو قبول کرنے سے انکار کی بنا پر ان کے مرتد ہوجانے پر وہ روایت دلالت کرتی ہے جسے معمر نے زہری سے نقل کیا ہے، انہوں نے حضرت انس ؓ سے اس کی روایت کی ہے کہ جب حضور ﷺ کی وفات ہوگئی تو تمام عرب میں ارتداد کا فتنہ پھیل گیا۔ حضرت عمر ؓ نے حضرت ابوبکر ؓ سے کہا کہ آپ پورے عرب سے جنگ کرنا چاہتے ہیں۔ حضرت ابوبکر ؓ نے جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ ” حضور ﷺ نے یہ فرمایا ہے کہ (جب لوگ اس بات کی گواہی دے دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، اور نماز قائم کریں نیز زکوٰۃ ادا کریں تو پھر وہ مجھ سے اپنا خون اور اپنے اموال محفوظ کرلیں گے) خدا کی قسم ! اگر یہ لوگ مھ سے ایک رسی کی ادائیگی بھی روک دیں جسے وہ حضور ﷺ کو ادا کرتے تھے تو اس پر بھی میں ان سے جنگ کروں گا۔ حضرت ابوبکر ؓ کا جرأت مندانہ اقدام مبارک بن فضالہ نے حسن سے روایت کی ہے کہ جب حضور ﷺ کی وفات ہوگئی تو عرب کے لوگ اسلام سے مرتد ہوگئے۔ صرف مدینہ منورہ اور کچھ دوسرے علاقوں کے لوگ اس سے محفوظ رہے حضرت ابوبکر ؓ نے ان کے خلاف جنگ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ انہوں نے کہا، ہم اللہ کی وحدانیت اور معبودیت کی گواہی دیتے ہیں، نماز بھی پڑھتے ہیں لیکن ہم زکوٰۃ دینے کے لئے تیار نہیں ہیں “۔ حضرت عمر ؓ اور دیگر بدری صحابہ کرام حضرت ابوبکر ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ تجویز پیش کی کہ انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے۔ جب اسلام ان کے دلوں میں گھر کر جائے گا تو یہ خود زکوٰۃ کی ادائیگی شروع کردیں گے۔ یہ سن کر حضرت ابوبکر ؓ نے دو ٹوک الفاظ میں فرمایا : بخدا اگر یہ لوگ مجھے ایک رسی بھی دینے سے انکار کردیں جسے وہ حضور ﷺ کو زکوٰۃ میں دیا کرتے تھے تو اس پر بھی میں ان سے جنگ کروں گا۔ حضور ﷺ نے تین باتوں کو نہ ماننے پر لوگں سے جنگ کی تھی۔ کلمہ طیبہ کے عدم اقرار پر اور نماز نیز زکوٰۃ کی عدم ادائیگی پر، اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے (فان تابوا و اقامو الصلوۃ و اتوالزکوۃ فخلو سبیلھم۔ اگر یہ توبہ کرلیں۔ اور نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں تو ان کا راستہ چھوڑ دو ) بخدا میں ان سے نہ اس سے زائد کا مطالبہ کرتا ہوں اور نہ اس سے کم کا۔ “ مانعین زکوٰۃ نے کہا کہ ہم زکوٰۃ نکالیں گے لیکن آپ کے حوالے نہیں کریں گے۔ اس پر حضرت ابوبکر ؓ نے انہیں جواب دیا۔ نہیں، بخدا نہیں، جب تک زکوٰۃ تم لوگوں سے وصول نہیں کروں گا جس طرح حضور ﷺ وصول کرتے تھے، اور جب تک زکوٰۃ کو اس کے صحیح مصارف میں خرچ نہیں کروں گا اس وقت تک میں چین سے نہیں بیٹھوں گا۔ حماد بن زید نے ایوب سے اور انہوں نے محمد بن سیرین سے اسی طرح کی روایت کی ہے۔ زہری نے عبید اللہ بن عبداللہ سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کی ہے ہ جب حضور ﷺ کا انتقال ہوگیا اور حضرت ابوبکر ؓ خلیفہ بن گئے اور عرب کے لوگ مرتد ہوگئے تو حضرت ابوبکر ؓ نے ان سے جنگ کرنے کے لئے فوجیں روانہ کیں۔ اس موقع پر حضرت عمر ؓ نے حضرت ابوبکر ؓ سے کہا کہ آپ ؓ نے حضور ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا تھا کہ ” مجھے یہ حکم ملا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک لڑتا رہوں جب تک وہ یہ نہیں کہتے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ جب وہ اس کا اقرار کرلیں گے تو مجھ سے اپنی جانیں اور اپنے اموال محفوظ کرلیں گے۔ الا یہ کہ حق کی بنا پر کسی کی جان یا مال پر ہاتھ ڈالاجائے اور ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہوگا۔ “ حضرت ابوبکر نے یہ سن کر فرمایا : خدا کی قسم ! اگر یہ لوگ ایک رسی بھی مجھے دینے سے انکار کردیں جسے وہ حضور ﷺ کو زکوٰۃ میں ادا کرتے تھے تو میں اس پر بھی ان سے جنگ کروں گا۔ “ ان تمام راویوں نے یہ بتایا ہے کہ عرب کے جو لوگ مرتد ہوگئے تھے ان کا ارتداد اس بنا پر تھا کہ انہوں نے زکوٰۃ ادا کرنے سے انکار کردیا تھا۔ ہمارے نزدیک یہ امر اس پر محمول ہے کہ انہوں نے زکوٰۃ کے فریضہ کو رد کرتے ہوئے اور اسے قبول نہ کرتے ہوئے اس کی ادائیگی سے انکار کیا تھا اسی بنا پر انہیں مرتدین کے نام سے موسم کیا گیا تھا۔ منکرین زکوٰۃ فرضیت زکوٰۃ کے قائل تھے حسن کی روایت کے مطابق حضرت ابوبکر نے یہ بتایا تھا ک آپ ان سے زکوٰۃ کی عدم ادائیگی کی بنا پر جنگ کر رہے ہیں اگرچہ وہ اس کی فرضیت کا اقرار کرتے تھے اس لئے کہ انہوں نے یہ کہا تھا کہ ہم زکوۃ نکالیں گے لیکن اسے آپ کے یعنی حضرت ابوبکر ؓ کے حوالے نہیں کریں گے، اس پر حضرت ابوبکر ؓ نے جواب دیا تھا کہ نہیں بخدا نہیں، میں ان سے زکوٰۃ اسی طرح وصول کروں گا جس طرح حضور ﷺ وصول کیا کرتے تھے “ حضرت ابوبکر ؓ کے قول میں دو باتوں پر دلالت ہو رہی ہے۔ ایک تو یہ کہ جو شخص زکوٰۃ اپنے اوپر لازم سمجھتے ہوئے اور اس کے وجوب کا اعتقاد نہ رکھتے ہوئے اس کی ادائیگی سے انکار کرے وہ مرتد کہلائے گا، دوسری بات یہ کہ جو شخص زکوٰۃ کے وجوب کا اقرار کرتا ہو لیکن زکوٰۃ امام المسلمین کے حوالے کرنے سے انکار کرتا ہو وہ اس بات کا سزاوار گردانا جائے گا کہ اس کے خلاف جنگ کی جائے۔ اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ جو شخص اپنے مویشیوں کی زکوٰۃ فقراء ومساکین کے حوالے کر دے گا تو امام المسلمین اس کا احتساب نہیں کرے گا لیکن اگر وہ اسے امام المسلمین کو ادا کرنے سے انکار کر دے گا تو وہ اس پر اس شخص سے جنگ کرے گا۔ مویشیوں کی زکوۃ کے بارے میں ہمارے اصحاب کا بھی یہ مسلک ہے جہاں تک اموال کی زکوٰۃ کا تعلق ہے تو حضور ﷺ، حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر (رح) ان کی زکوٰۃ مویشیوں کی زکوٰۃ کی طرح خود وصول کرتے تھے۔ لیکن جب حضرت عثمان ؓ کی خلافت کا زمانہ آیا تو آپ نے لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا : لوگو ! یہ تمہاری زکوٰۃ کی ادائیگی کا مہینہ ہے “ اس لئے جس شخص پر کوئی قرض ہو وہ اپنا قرض ادا کر دے اور پھر باقی ماندہ مال کی زکوٰۃ ادا کر دے “۔ حضرت عثمان ؓ نے زکوٰۃ کی ادائیگی کی ذمہ داری خود زکوٰۃ نکالنے والوں پر ڈال دی تھی اور یہ لوگ اس کی ادائیگی میں گویا امام المسلمین کے وکیل اور کارنے بن گئے تھے۔ حضرت ابوبکر ؓ نے مانعین زکوٰۃ کے خلاف جو اقدام کیا تھا اس میں انہیں صحابہ کرام کی پوری حمایت حاصل تھی، جب اس معاملہ میں حضرت ابوبکر ؓ کی رائے اور اجتہاد یک صحت ان حضرات کے سامنے واضح ہوگئی تو پھر کسی نے آپ سے اختلاف نہیں کیا۔ زیربحث آیت سے وہ لوگ استدلال کرتے ہیں جو جان بوجھ کر نماز نہ پڑھنے والے اور زکوٰۃ ادا نہ کرنے والے کو واجب القتل سمجھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ آیت شرک کے قتل کو واجب کرتی ہے الا یہ کہ وہ ایمان لے آئے، نماز قائم کرے اور زکوٰۃ ادا کرے۔ ہم نے قول باری (واقاموالصلوۃ و الوا الزکوۃ) کی تفسیر کرتے ہوئے یہ واضح کردیا تھا کہ اس سے راد یہ ہے کہ وہ ان دونوں باتوں کے لزوم اور فرضیت کا اقرار کرلیں اور ان کی فرضیت کا التزام کرلیں تو ان کے لئے یہی کافی ہوگا اور دونوں کو بجا لانا ضروری نہیں ہے۔ نیز آیت میں ان لوگوں کے مسلک کے حق میں کوئی دلالت موجود نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آیت صرف مشرکین کے قتل کی موجب وہتی ہے۔ لیکن جو شخص شرک سے توبہ کر کے اسلام میں داخل ہو جاء اور اس کے فرائض کو لازم سمجھے اور اس کا اقرار کرلے وہ بالاتفاق مشرک نہیں ہوگا۔ اس طرح آیت ایسے شخص کے قتل کی مقتضی نہیں ہوگی۔ کیونکہ آیت کا حکم صرف اس شخص کے قتل کے ایجاب تک محدود ہے جو مشرک ہو جبکہ تارک صلوۃ اور مانع زکوٰۃ مشرک نہیں ہوتا۔ اگر یہ لوگ یہ کہیں کہ مشرک سے قتل کا حکم دو شرطوں کی بنیاد پر ٹل جاتا ہے۔ ایک توبہ یعنی ایمان لانا اور اس کی شرائط کو تسلیم کرنا دوسری یہ کہ نماز پڑھنا اور زکوٰۃ ادا کرنا تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ارشاد (فاقتلوا المشرکینض کے ذریعے بنیادی طور پر مشرکین کے قتل کو واجب کردیا۔ اس لئے جب ایک شخص سے شرک کی علامت دور ہوجائے گی تو قتل کا حکم بھی اس سے ٹل جائے گا۔ اس صورت میں معترض کے لئے ایسے شخص کے قتلے ایجاب پر آیت کے سوا کوئی اور دلالت پیش کرنا ضروری ہوگا۔ اگر معترض یہ کہے کہ آپ کی وضاحت کے نتیجے میں آیت کے اندر بیان کردہ دونوں شرطوں کا ذکر بےفائدہ قرار پائے گا تو اس کے جواب میں کا ہ جائے گا کہ یہ بات اس طرح نہیں ہے جس طرخ معترض نے سوچا ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں عبادتوں یعنی اقامت صلوۃ اور ادائے زکوۃ کو مشرکین کے راستے سے ہٹ جانے کے وجوب کی شرط قرار دیا ہے کیونکہ ارشاد ہے (فان تابوا و اقامو الصلوۃ و اتوالزکوۃ فخلو سبیلھم) اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر مشرکین کو گھیر کر قتل کرنے کے حکم کے بعد کیا ہے۔ جب شرک کی علامت زائل ہونے کی بنا پر قتل کا حکم بھی زائل ہوجائے گا تو ترک صلوۃ اور منع زکوۃ کی بنا پر گھیرنے اور قید میں رکھنے کا حکم باقی رہے گا۔ اس لئے کہ جو شخص جان بوجھ کر نماز چھوڑ دے اور اس پر مصر ہوجائے اسی طرح زکوٰۃ ادا نہ کرے اسے امام المسلمین قید میں ڈا سکتا ہے۔ اس صورت میں اس کی رہائی صرف اس صورت میں واجب ہوگی جب وہ نمازیں پڑھے گا اور زکوٰۃ نکالے گا۔ اس لئے زیربحث آیت مشرک کے قتل اور اسلام لانے کے بعدتارک صلوۃ نیز مانع زکوٰۃ نے حبس کے احکام پر مشتمل ہے تاوقتیکہ موخر الذکر دونوں اشخاص نماز پڑھنا اور زکوٰۃ نکالنا شروع نہ کردیں۔
Ayahs 9:6–10

وَ اِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ اسْتَجَارَكَ فَاَجِرْهُ حَتّٰى یَسْمَعَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ اَبْلِغْهُ مَاْمَنَهٗ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 9:6 in the Quran reader

اور اگر کوئی مشرک تم سے پناہ کا خواستگار ہو تو اس کو پناہ دو یہاں تک کہ کلام خدا سننے لگے پھر اس کو امن کی جگہ واپس پہنچا دو ۔ اس لئے کہ یہ بیخبر لوگ ہیں۔

كَیْفَ یَكُوْنُ لِلْمُشْرِكِیْنَ عَهْدٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عِنْدَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَّا الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ۚ فَمَا اسْتَقَامُوْا لَكُمْ فَاسْتَقِیْمُوْا لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:7 in the Quran reader

بھلا مشرکوں کے لئے (جنہوں نے عہد توڑ ڈالا) خدا اور اس کے رسول ﷺ کے نزدیک عہد کیونکر (قائم) رہ سکتا ہے ؟ ہاں جن لوگوں کے ساتھ تم نے مسجد محترم (یعنی خانہ کعبہ) کے نزدیک عہد کیا ہے اگر وہ (اپنے عہد پر) قائم رہیں تو تم بھی اپنے قول وقرار (پر) قائم رہو۔ بیشک خدا پرہیزگاروں کو دوست رکھتا ہے۔

كَیْفَ وَ اِنْ یَّظْهَرُوْا عَلَیْكُمْ لَا یَرْقُبُوْا فِیْكُمْ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّةً١ؕ یُرْضُوْنَكُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ تَاْبٰى قُلُوْبُهُمْ١ۚ وَ اَكْثَرُهُمْ فٰسِقُوْنَۚ Open ayah 9:8 in the Quran reader

(بھلا ان سے عہد) کیونکر (پورا کیا جائے جب انکا حال یہ ہے) کہ اگر تم پر غلبہ پالیں تو نہ قرابت کا لحاظ کریں نہ عہد کا ؟ یہ منہ سے تو تمہیں خوش کردیتے ہیں لیکن ان کے دل (ان باتوں کو قبول نہیں کرتے) اور ان میں سے اکثر نافرمان ہیں۔

اِشْتَرَوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 9:9 in the Quran reader

یہ خدا کی آیتوں کے عوض تھوڑا سا فائدہ حاصل کرتے اور (لوگوں کو) خدا کے راستے سے روکتے ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ جو کام یہ کرتے ہیں برے ہیں۔

لَا یَرْقُبُوْنَ فِیْ مُؤْمِنٍ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّةً١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُعْتَدُوْنَ Open ayah 9:10 in the Quran reader

یہ لوگ کسی مومن کے حق میں نہ تو رشتہ داری کا پاس کرتے ہیں نہ عہد کا۔ اور یہ حد سے تجاوز کرنے والے ہیں۔

مشرک حربی اگر اسلام فہمی کے لئے امان طلب کرے تو امان دی جائے قول باری ہے (و ان احد من المشرکین استجارک فاجرہ حتی یسمع کلام اللہ اور اگر مشرکین میں سے کوئی شخص پناہ مانگ کر تمہارے پاس آنا چاہے (تاکہ اللہ کا کلام سنے) تو اسے پناہ دے دو یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سن لے) آیت حربی کو امان دینے کے جواز کی مقتضی ہے جب وہ ہم سے اسلام کی صداقت کو ثابت کرنے والے دلائل سننے کی خاطر پناہ مانگ کر ہمارے پاس آنا چاہے تو اسے پناہ دینا ہمارے لئے جائز ہوگا اس لئے کہ قول باری (استجارک) کے معنی ہیں تم سے امان طلب کرے “ اور قول باری (فاجرہ) کے معنی ہیں ” اسے امان دے دو “ تاکہ دلائل موجود ہیں یہ امر اس پر بھی دلالت کرتا ہے کہ اگر کوئی کافر ہم سے یہ مطالبہ کرے کہ اس کے کفر کی تردید میں دلائل دیئے جائیں اور توحید و رسالت کے ثبوت میں براہین پیش کئے جائیں تاکہ اتمام حجت کی بنا پر اور دلائل کی روشنی میں وہ ان دونوں باتوں کو تسلیم کرسکے تو اس پر اتمام حجت کرنا اور توحید باری کو بیان کرنا نیز حضور ﷺ کی نبوت کی صداقت کو ثابت کرنا ہم پر لازم ہوگا۔ ہمارے لئے توحید و رسالت کے دلائل و براہین بیان کئے بغیر اسے قتل کردینا جائز نہیں ہوگا۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم ایسے شخص کو امان دے دیں تاکہ وہ ہمارے پاس آ کر اللہ کا کلام سن سکے۔ آیت میں یہ دلالت بھی موجود ہ کہ جو شخص دین کی کوئی بات سیکھنا چاہے اسے سکھانا ہم پر فرض ہوگا اس لئے کہ جو کافر اللہ کا کلام سننے کی خاطر ہم سے امان کی درخواست کرتا ہے اس کے پیش نظر صرف یہی مقصد ہوتا ہے کدین اسلام کی صداقت اور حقانیت سے کسی نہ کسی طرح وہ آگاہ اور روشناس ہوجائے۔ حربی کو بحفاظت اس کے ٹھکانے پہنچانا ضروری ہے قول باری ہے (ثم ابلغہ ما منہ، پھر اسے اس کے مامن تک پہنچا دو ) یہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ امام المسلمین پر امان لے کر آنے والے اس حربی کی حفاظت ونگداشت نیز لوگوں کو اسے کسی قسم کی گزند پہنچانے سے روکنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اس لئے کہ فرمان الٰہی ہے (فاجدہ) پھر ارشاد ہے (ثم ابلغہ ما منہ) اس میں یہ دلیل بھی موجود ہے کہ امام المسلمین کی یہ ذم داری ہے کہ ذمیوں کی حفاظت کرے، لوگوں کو انہیں نقصان پہنچانے سے روکے رکھے نیز ان پر ظلم و ستم کے ہر اقدام کا سد باب کرے۔ حربی زیادہ عرصہ دارالاسلام میں نہ ٹھہرے ورنہ سال بعد ذمی ہوگا اور خراج دے گا یہ دلالت بھی موجود ہے کہ حربی کو دارالاسلام میں زیادہ عرصے تک ٹھہرے رہنے کی اجازت دینا جائز نہیں ہے۔ اسے صرف اتنا ہی عرصہ قیام کرنے کی اجازت ملنی چاہیے جس میں وہ اپنی ضرورت پوری کرلے۔ اس لئے کہ قول باری ہے (حتیٰ یسمع کلام اللہ ثم ابلغہ مامنہ) اللہ تعالیٰ نے کلام الٰہی سننے کے بعد اسے دارالحرب واپس بھیج دینے کا حکم دیا ہے۔ ہمارے اصحاب کا بھی یہی قول ہے کہ امام المسلمین کے لئے یہ جائز نہیں کہ بلاوجہ اور بلا عذر کسی حربی کو دارالاسلام میں قیام پذیر رہنے کی کھلی چھٹی دے دے بلکہ اس پر یہ ذمہ داری عائد ہوگی کہ وہ اسے دارالحرب واپس جانے کے لئے کہہ دے اگر وہ اس کے بعد بھی یاک سال تک دارالاسلام میں ٹھہرا رہے گا تو ذمی بن جائے گا اور اس پر خراج عائد کردیا جائے گا۔ قول باری ہے (کیف یکون للمشرکین عھذ عند اللہ و عند رسولہ الا الذین عاھدتم عند المسجد الحرام۔ ان مشرکین کے لئے اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک کوئی عد آخر کیسے ہوسکتا ہے… بجز ان لوگوں کے جن سے تم نے مسجد حرام کے پاس معاہدہ کیا تھا) ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ سورت کی ابتدا حضور ﷺ اور مشرکین کے درمیان معاہدوں کے انقطاع کے ذکر سے ہوئی چناچہ ارشاد ہوا (براء ۃ من اللہ و رسولہ الا الایذن عاھدتم من المشرکین) ایک قول کے مطابق یہ ایسے مشرکین تھے جن کے ساتھ حضور ﷺ کا معاہدہ تھا۔ انہوں نے بدعہدی کی تھی۔ نبی ﷺ کو علانیہ طور پر اس معاہدے کو اس کے سامنے پھینک دینے کا حکم دیا اور انہیں چار ماہ تک ملک میں چلنے پھرنے کی اجازت دے دی چناچہ ارشاد ہے (فسیحوا فی الارض اربعۃ اشھر) ایک اور قول کے مطابق آیت میں مذکورہ معاہدہ سے وہ معاہدہ مراد ہے جو آپ کے اور تمام مشرکین کے درمیان طے پایا تھا کہ کسی مشرک کو حج کے لئے مکہ میں داخل وہنے سے نہیں روکا جاء گا، نیز ماہ حرام میں نہ ان کے ساتھ جنگ کی جائے گی اور نہ انہیں قتل کیا جائے گا۔ اس طرح (براء ۃ من اللہ و رسولہ) کا حکم مذکورہ بالا دونوں گروہوں میں سے کسی ایک کے متعلق تھا۔ پھر ان میں سے مشرکین کے اس گروہ کو مستثنیٰ کردیا گیا تھا جس کے ساتھ حضور ﷺ کا کوئی خاص معاہدہ تھا اور انہوں نے نہ بدعہدی کی تھی اور ہی آپ کو کوئی نقصان پہنچانے کی سازش کی تھی۔ ایسے مشرکین کے متعلق ارشاد ہولا۔ الا الذین عاھدتم من المشرکین ثم لم ینقصوکم شیئا ولم یظاہروا علیکم احدا فاتموا الیھم عھد ھم انی مدتھم) اللہ تعالیٰ نے ان مشرکین کے بارے میں پہلے حکم سے مختلف حکم دیا۔ انہوں نے کوئی بدعہدی نہیں کی تھی، مسلمانوں کے خلاف کسی کی مدد نہیں کی تھی اور معاہدے کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی تھی بلکہ معاہدے پر ثابت قدم رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے مشرکین کے ساتھ کئے گئے معاہدے کو اس کی مدت کے اختتام تک باقی رکھنے کا حکم دیا جبکہ پہلے گروہ کے ساتھ کئے گئے معاہدے کو علانیہ طور پر توڑ دینے کی ہدایت کی۔ یہ پہلا گروہ یا تو ایسے مشرکین پر مشتمل تھا جنہوں نے قصدا بدعہدی کی تھی یا وہ ایسے مشرکین تھے جن ک ساتھ حضور ﷺ کا کوئی ایسا خاص معاہدہ نہیں تھا جس میں یہ طے پایا ہو کہ اس پر تمام احوال میں عمل ناگزیر ہے بلکہ اس معاہدے کا تعلق صرف حج کے لئے مکہ میں داخل ہونے اور اشہر حرم میں امان دینے کے ساتھ تھا، جو ان مہینوں میں تمام لوگوں کو حاصل ہوتی تھی۔ قول باری (ولم یظاہروا علیکم احدا) اس پر دلالت کرتا ہے کہ معاہد اگر ہمارے خلاف کسی کی مدد کرے گا تو اس حرکت کی بنا پر معاہدہ ختم ہو جاء گا۔ پھر ارشاد ہوا (فاذا اسلح الاشھر الحرم فقتلوالمشرکین) اشہر حرم گزر جانے پر ہر معاہدے کے خاتمے کا اعلان کردیا گیا خواہ وہ خاص معاہدہ ہو یا عام پھر فرمایا (کیف یکون للمشرکین عھد عند اللہ و عند رسولہ) اس لئے کہ انہوں نے بدعہدی کی تھی اور معاہدے پر قائم نہیں رہے تھے۔ پھر ان سے ان مشرکین کو مستثنیٰ کردیا جن کے ساتھ مسلمانوں نے مسجد حرام کے پاس معاہدہ کیا تھا۔ ابو اسحاق کے قول کے مطابق یہ بنی کنانہ کا ایک گروہ تھا۔ حضرت ابن عباس ؓ کے نزدیک ان کا تعلق قریش سے تھا اور مجاہد کے قول کے مطابق یہ بنی خزاعہ تھے، اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے ساتھ کئے گئے معاہدے کو اس وقت تک برقرار رکھنے کا حکم دیا جب تک یہ لوگ اس پر عمل پیرا ہونے کے سلسلے میں مسلمانوں کے ساتھ اپنا رویہ درست رکھیں۔ یہ ممکن ہے کہ ان کے معاہدے کی دت اشہر حرم کا اختتام نہ ہو بلکہ معاہدے میں طے شدہ مدت ہو۔ اس لئے کہ قول باری ہے (فاذا انسخ الاشھر الحرم فاقتلو المشرکین حیث و جدتموھم) اس کا عموم مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان طے پانے والے تمام معاہدوں کی تنسیخ کا مقتضی ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان کے معاہدے کی مدت اشہر حرم کے اختتام کے بعد تک ہو اور انہیں ان مشرکین کے حکم سے مستثنیٰ کردیا گیا ہو جنہیں اشہر حرم کے گزر جانے کے بعد قتل کردینے کی ہدایت کی گئی تھی نیز اس معاہدے کا تعلق خصوصی طور پر ایسے گروہ کے ساتھ ہو جس میں بدعہدی کرنے والے اور معاہدے کی خلاف ورزی کرنے والے بھی موجود ہوں کیونکہ آگے ارشاد ہے (فما استقاموا لکم فستقیموا لہم۔ جب تک یہ تمہارے ساتھ سیدھے رہیں تم بھی ان کے ساتھ سیدھے رہو) اس میں کسی مدت کا تعین نہیں کیا گیا۔
Ayah 9:11

فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِ١ؕ وَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 9:11 in the Quran reader

اگر یہ توبہ کرلیں اور نماز پڑھنے اور زکوٰۃ دینے لگیں تو دین میں تمہارے بھائی ہیں اور سمجھنے والے لوگوں کے لئے ہم اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں۔

ظاہری اعمال کی بنا پر برتائو ہوگا دل میں چاہے کچھ ہو قول باری ہے (فان تابوا و اقاموا الصلوۃ و اتوالزکوۃ فاخوانکم فی الدین) پس اگر اب یہ توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو تمہارے دینی بھائی ہیں) یہ قول باری اس پر دلالت کرتا ہے ک جو شخص ہمارے سامنے ایمان کا اظہار کرے، نماز قائم کرے اور زکوٰۃ ادا کرے ہم پر دین کے اندر اس کے ساتھ دوستی اور موالات کا برتائو لازم ہے۔ ہم اس کے ظاہر پر انحصار کریں گے خواہ وہ دل میں دین کے خلاف اعتقاد کیوں نہ رکھتا ہو۔