9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsاحکام القرآن

Ayah 9:47

لَوْ خَرَجُوْا فِیْكُمْ مَّا زَادُوْكُمْ اِلَّا خَبَالًا وَّ لَاۡاَوْضَعُوْا خِلٰلَكُمْ یَبْغُوْنَكُمُ الْفِتْنَةَ١ۚ وَ فِیْكُمْ سَمّٰعُوْنَ لَهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 9:47 in the Quran reader

اگر وہ تم میں (شامل ہو کر) نکل بھی کھڑے ہوتے تو تمہارے حق میں شرارت کرتے اور تم میں فساد ڈلوانے کی غرض سے دوڑے دوڑے پھرتے۔ اور تم میں انکے جاسوس بھی ہیں۔ اور خدا ظالموں کو خوب جانتا ہے۔

قول باری ہے (لو خرجوا فیکم مازادوکم الا خبالاً ولا وضعوا خللکم یبغونکم الفتنۃ۔ اگر وہ تمہارے ساتھ نکلتے تو تمہارے اندر خرابی کے سوا کسی چیز کا اضافہ نہ کرتے اور تمہارے درمیان فتنہ پردازی کے لئے دوڑ دھوپ کرتے) آیت میں ان کی اس نیت کا ذکر ہے جسے لے کر وہ مسلمانوں کے ساتھ نکلتے، اگر انہیں نکلنے کا ارادہ ہوتا۔ آیت میں یہ بتادیا گیا کہ ان کانہ نکلنا ہی مسلمانوں کے مفاد میں تھا۔ یہ امر اس پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپن نبی ﷺ سے آیت (لواذنت لھم) میں جس انداز سے خطاب فرمایا تھا وہ اس پر مبنی تھا کہ اللہ کو اس بات کا علم تھا کہ اگر حضور ﷺ ان منافقین کو بیٹھ رہنے کی اجازت نہ بھی دیتے تو بھی یہ نہ نکلتے اور اس طرح ان کا کذب اور منافق مسلمانوں پر واضح ہوجاتا اب اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی کہ اگر یہ نکل بھی پڑتے تو مذکورہ بالا نیت اور ارادے کے ساتھ ان کا نکلنا سراسر معصیت اور کفر ہوتا اور مسلمانوں کے لئے پریشانی کا باعث ہوتا۔ قول باری (مازادوکم الا خبالاً ) میں خیال کے معنی رائے کا اضطراب اور انتشار کئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بتادیا کہ اگر یہ لوگ لشکر اسلام کے ساتھ نکل بھی پڑتے تو پھر مسلمانوں کو آپس میں لڑانے، دلوں میں فساد پیدا کرنے اور دشمنوں کے مقابلہ میں انہیں پست ہمت کرنے کی پوری کوشش کرتے جس کے نتیجے میں مسلمانوں کی آراء میں انتشار اور اضطراب پیدا ہوجاتا اور ان کی یکسوئی اور یک جہتی ختم ہوجاتی۔ اگر کوئی یہ کہے کہ اللہ تعالیٰ نے (مازادوکم الا خبالا) کیوں فرمایا حالانکہ مسلمانوں میں کوئی فکری انتشار نہیں تھا جس میں یہ منافقین اضافہ کردیتے تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ اس فقرے میں دو معنوں کا احتمال ہے ایک تو یہ کہ استثناء منقطع ہے اور اس صورت میں عبارت کچھ اس طرح ہے ” مازادوکم قوۃ لکن طلبوا لکم الخیال “ (یہ تمہاری قوت میں اضافے کا سبب نہ بنتے البتہ تمہارے اندر فکری انتشار پیدا کرنے کا کوئی وسیلہ ضرور تلاش کرتے) دوسرا احتمال یہ ہے کہ انتشار آراء کی یہ کیفیت مسلمانوں کے کسی گروہ میں موجود ہو جس کی بنیاد طبیعتوں کی تلون مزاجی ہو اور پھر بعد میں ان کی آراء میں ٹھہرائو اور مستقل مزاجی کی کیفیت پیدا ہوگئی ہو۔ ایسے لوگوں کی تلون مزاجی کو منافقین کی حرکتوں سے تقویت ملتی اور ان کے خیالات درست راستے سے بھٹک کر فکری انتشار کے شکار ہوجاتے۔ قول باری (ولا دفعوا خلاکم) کی تفسیر میں حسن کا قول ہے کہ یہ لوگ تمہارے آپ کے تعلقات بگاڑنے کے لئے ایک دوسرے کی چغلی کھات اور اس مقصد کے لئے دوڑ دھوپ کرتے۔ قول باری (یبغونکم الفتنۃ) میں فتنہ سے مراد وہ آزمائش اور ابتلاء ہے جو مسلمانوں کو ان کے آپس کے اختلافات اور فکری انتشار کی بنا پر پیش آتی۔ فتنہ سے کفر مراد لینا بھی درست ہے اس لئے کہ کفر کو اسی نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ قول باری ہے (وقاتلوھم حتی لاتکون فتنۃ۔ اور ان سے لڑو حتیٰ کہ کوئی فتنہ یعنی کفر باقی نہ رہے) اسی طرح ارشاد ہے (والفتنۃ اشد من القتل۔ اور فتنہ یعنی کفر قتل سے بھی زیادہ گھنائونا جرم ہے) ۔ قول باری ہے (وفیکم سماعون لھم۔ اور تمہارے گروہ کا یہ حال ہے کہ ابھی اس میں بہت سے ایسے لوگ موجود ہیں جو ان کی باتیں کان لگا کر سنتے ہیں) حسن اور مجاہد کا قول ہے کہ ان کے جاسوس تمہارے اندر موجود ہیں جو تم سے باتیں سن کر انہیں پہنچا دیتے ہیں۔ قتادہ اور ابن اسحاق کا قول ہے کہ تمہارے اندر ایسے لوگ موجود ہیں جو ان منافقین کی باتیں سن کر انہیں قبول کرلیتے ہیں۔
Ayah 9:48

لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ وَ قَلَّبُوْا لَكَ الْاُمُوْرَ حَتّٰى جَآءَ الْحَقُّ وَ ظَهَرَ اَمْرُ اللّٰهِ وَ هُمْ كٰرِهُوْنَ Open ayah 9:48 in the Quran reader

یہ پہلے بھی طالب فساد رہے ہیں اور بہت سی باتوں میں تمہارے لئے الٹ پھیر کرتے رہے ہیں۔ یہاں تک کہ حق آپہنچا اور خدا کا حکم غالب ہوا اور وہ برا مانتے ہی رہ گئے۔

قول باری ہے (لقد ابتغوا الفتنۃ میں قبل۔ اس سے پہلے بھی ان لوگوں نے فتنہ انگیزی کی کوششیں کی ہیں) یعنی انہوں نے فتنہ انگریزی کی ہے۔ یہاں فتنہ سے مراد وہ اختلاف ہے جو الفت کے بعد فرقت کا موجب ہوتا ہے اور جس کی وجہ سے جڑے ہوئے دل ایک دوسرے سے علیحدہ ہوجاتے ہیں۔ قول باری ہے (وقلبوا لک الامور۔ اور تمہیں ناکام کرنے کے لئے یہ ہر طرح کی تدبیروں کا الٹ پھیر کرچکے ہیں) یعنی کسی نہ کسی تدبیر اور چال تک رسائی کے لئے جس کے ذریعے اللہ کا روشن کیا ہوا ہدایت کا چراغ بجھ جائے اور اسلام کا کام ختم ہوجائے، انہوں نے اپنی تدابیر کا کئی پہلوئوں سے جائزہ لیا ہے اور انہیں کئی طریقوں سے آزمایا ہے لیکن اللہ تعالیٰ اپنے دین کو غالب کرنے، اپنے نبی ﷺ کی عزت اور مرتبہ کو بلند کرنے اور آپ کو ان کے مکرو فریب اور چالوں سے بچانے کے سوا کسی اور بات پر راضی نہ ہوا۔
Ayahs 9:49–50

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ ائْذَنْ لِّیْ وَ لَا تَفْتِنِّیْ١ؕ اَلَا فِی الْفِتْنَةِ سَقَطُوْا١ؕ وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِیْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:49 in the Quran reader

اور ان میں کوئی ایسا بھی ہے جو کہتا ہے کہ مجھے تو اجازت ہی دیجئے۔ اور آفت میں نہ ڈالئے۔ دیکھو یہ آفت میں پڑگئے ہیں اور دوزخ سب کافروں کو گھیرے ہوئے ہے۔

اِنْ تُصِبْكَ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْكَ مُصِیْبَةٌ یَّقُوْلُوْا قَدْ اَخَذْنَاۤ اَمْرَنَا مِنْ قَبْلُ وَ یَتَوَلَّوْا وَّ هُمْ فَرِحُوْنَ Open ayah 9:50 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ اگر تم کو آسائش حاصل ہوتی ہے تو انکو بری لگتی ہے۔ اور اگر کوئی مشکل پڑتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنا کام پہلے ہی (درست) کرلیا تھا۔ اور خوشیاں مناتے لوٹ جاتے ہیں۔

قول باری ہے (ومنھم من یقول ائذن لی ولا تفتنی ان میں سے کوئی ہے جو کہتا ہے کہ مجھے رخصت دے دیجئے اور مجھ کو فتنے میں نہ ڈالیے) حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد کا قول ہے کہ آیت کا نزول الجدبن قیس کے بارے میں ہوا۔ حضور ﷺ نے اسے غزوہ تبوک پر جب چلنے کے لئے فرمایا تو کہنے لگا کہ ” مجھے رخصت دے دیجئے اور شام میں لے کر زرد رنگ رومیوں کی عورتوں کے فتنے میں نہ ڈالیے، اس لئے کہ میں عورتوں کے معاملہ میں بڑا دل پھینک واقع ہوا ہوں۔ “ حسن، قتادہ اور ابو عبیدہ کے نزدیک اس کا مفہوم ہے۔ ” اس مخالفت کی وجہ سے جو پھوٹ او تفرقہ کا موجب ہے مجھے عصیان میں مبتلا کرکے گنہگار نہ کیجئے۔ “
Ayahs 9:51–52

قُلْ لَّنْ یُّصِیْبَنَاۤ اِلَّا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَنَا١ۚ هُوَ مَوْلٰىنَا١ۚ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 9:51 in the Quran reader

کہہ دو کہ ہم کو کوئی مصیبت نہیں پہنچ سکتی بجز اسکے کہ جو خدا نے ہمارے لئے لکھ دی ہو۔ وہی ہمارا کارساز ہے اور مومنوں کو خدا ہی کا بھروسہ رکھنا چاہئے۔

قُلْ هَلْ تَرَبَّصُوْنَ بِنَاۤ اِلَّاۤ اِحْدَى الْحُسْنَیَیْنِ١ؕ وَ نَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمْ اَنْ یُّصِیْبَكُمُ اللّٰهُ بِعَذَابٍ مِّنْ عِنْدِهٖۤ اَوْ بِاَیْدِیْنَا١ۖ٘ فَتَرَبَّصُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْ مُّتَرَبِّصُوْنَ Open ayah 9:52 in the Quran reader

کہہ دو کہ تم ہمارے حق میں دو بھلائیوں میں سے ایک کے منتظر ہو۔ اور ہم تمہارے حق میں اس بات کے منتظر ہیں کہ خدا (یا تو) اپنے پاس سے تم پر کوئی عذاب نازل کرے یا ہمارے ہاتھوں سے (عذاب دلوائے) تو تم بھی انتظار کرو ہم بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتے ہیں۔

قول باری ہے (قل لن یصیبنا الا ما کتب اللہ لنا ھو مولنا۔ ان سے کہو ” ہمیں ہرگز کوئی برائی یا بھلائی نہیں چنچتی مگر وہ جو اللہ نے ہمارے لئے لکھ دی ہے۔ اللہ ہی ہمارا مولیٰ ہے) حسن سے مروی ہے کہ جو برائی یا بھلائی ہمیں پہنچتی ہے یہ لوح محفوظ میں اللہ کی طرف سے لکھی ہوئی ہوتی ہے۔ “ اس بارے میں کافروں کا یہ تو ہم غلط ہے کہ ہمیں اپنی کوتاہی اور غفلت کی بنا پر برائی پہنچتی ہے اور اس کا ہمارے رب کی تدبیر سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ایک قول کے مطابق اس کی تفسیر یہ ہے کہ انجام کار ہمیں وہی نصیب ہوگا جس کا وعدہ اللہ نے کررکھا ہے یعنی اس کی مدد اور نصرت۔ “
Ayahs 9:53–54

قُلْ اَنْفِقُوْا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا لَّنْ یُّتَقَبَّلَ مِنْكُمْ١ؕ اِنَّكُمْ كُنْتُمْ قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 9:53 in the Quran reader

کہہ دو کہ تم (مال) خوشی سے خرچ کرو یا ناخوشی سے تم سے ہرگز قبول نہیں کیا جائیگا۔ تم نافرمان لوگ ہو۔

وَ مَا مَنَعَهُمْ اَنْ تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقٰتُهُمْ اِلَّاۤ اَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ بِرَسُوْلِهٖ وَ لَا یَاْتُوْنَ الصَّلٰوةَ اِلَّا وَ هُمْ كُسَالٰى وَ لَا یُنْفِقُوْنَ اِلَّا وَ هُمْ كٰرِهُوْنَ Open ayah 9:54 in the Quran reader

اور ان کے خرچ (اموال) کے قبول ہونے سے کوئی چیز مانع نہیں ہوئی سوا اس کے کہ انہوں نے خدا سے اور اس کے رسول ﷺ سے کفر کیا اور نماز کو آتے ہیں تو سست و کاہل ہو کر اور خرچ کرتے ہیں تو ناخوشی سے۔

قول باری ہے (قل انفقوا طوعاً اوکرھاً لن یتقبل منکم۔ ان سے کہہ دو ” تم اپنے مال خواہ راضی خوشی خرچ کردیا بکراہت، بہرحال وہ قبول نہیں کیے جائیں گے) “ آیت کے الفاظ کو امر۔ کے صیغے کی صورت میں لایا گیا ہے لیکن مراد اطاعت اور معصیت پر تمکین یعنی قدرت و اختیار کا بیان ہے جس طرح یہ قول باری ہے (فمن شاء فلیومن ومن شاء فلیکفر۔ جو چاہے ایمان لے آئے اور جو چاہے کفر کرلے) ایک قول کے مطابق امر کا یہ صیغہ یعنی جملہ انشائیہ اس جملہ خبریہ کے معنوں میں ہے جس میں ” ان “ شرطیہ داخل ہوتا ہے اور اس کی جزا ہوتی ہے جس طروح کثیر کا شعر ہے۔ اسیئی بنا او احسنی لا ملومۃ لدینا ولا مقلیۃ ان تقلت اے محبوبہ ! خواہ تو ہمارے ساتھ برائی سے پیش آ، یا بھلائی سے، بہرصورت تو ہماری نظروں میں قابل ملامت نہیں ٹھہرے گی۔ صرف یہی نہیں بلکہ اگر تم سے نفرت کا اظہار کرے گی تو بھی تو ہمارے نزدیک قابل نفرت نہیں ہوگی۔ شعر میں امر کے دو صیغوں کا مفہوم ہے۔ ” اگر تو نیکی کرے یا بدی، تم پر کوئی ملامت نہیں۔ “
Ayah 9:55

فَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ تَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 9:55 in the Quran reader

تم ان کے مال اور اولاد سے تعجب نہ کرنا۔ خدا چاہتا ہے کہ ان چیزوں سے دنیا کی زندگی میں انکو عذاب دے۔ اور (جب) ان کی جان نکلے تو ( اس وقت بھی) وہ کافر ہی ہوں۔

قول باری ہے (فلا تعجبک اموالھم ولا اولادھم انما یرید اللہ لیعذبھم بھا فی الحیوٰۃ الدنیا۔ ان کے مال و دولت اور ان کی کثرت اولاد کو دیکھ کر دھوکا نہ کھائو۔ اللہ تعالیٰ تو ان چیزوں کے ذریعے ان کو دنیا ہی کی زندگی میں مبتلائے عذاب کرنے والا ہے) اس آیت کی تفسیر میں تین اقوال ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ اور قتادہ کا قول ہے کہ ” دنیا میں ان کے مال و دولت اور ان کی کثرت اولاد کو دیکھ کر دھوکا نہ کھائو۔ اللہ تعالیٰ تو ان چیزوں کے ذریعے ان کو دنیا ہی کی زندگی میں مبتلائے عذاب کرنے والا ہے) اس آیت کی تفسیر میں تین اقوال ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ اور قتادہ کا قول ہے کہ ” دنیا میں ان کے مال و دولت اور ان کی کثرت اولاد کو دیکھ کر دھوکا نہ کھائو، اللہ تعالیٰ انہیں آخرت میں ان چیزوں کی وجہ سے مبتلائے عذاب کرنے والا ہے۔ اس طرح ان دونوں حضرات کے نزدیک کلام میں تقدیم و تاخیر ہے ۔ حسن کا قول ہے۔ ” اللہ تعالیٰ انہیں زکوٰۃ کے سلسلے میں راہ خدا کے اندر انفاق کے ذریعے مبتلائے عذاب کرنے والا ہے۔ “ گویا اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ان پر ایک بوجھ ہے اور اسے وہ اپنے لئے ایک سزا اور عذاب سمجھتے ہیں۔ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ ” اللہ تعالیٰ انہیں مصائب کے ذریعے مبتلائے عذاب کرنے والا ہے۔ “ ایک قول کے مطابق دنیا میں بعض دفعہ کافر عذاب الٰہی کے اندر اس طرح مبتلا کیے جاتے ہیں کہ وہ گرفتار ہوجاتے ہیں اور ان کے اموال مسلمانوں کے لئے مال غنیمت بن جاتے ہیں۔ قول باری (لیعذبھم) میں وارد حرف لام، لام عاقبت ہے جس طرح اس قول باری میں ہے (لیکون لھم عدواً وحزنا تاکہ وہ ان کا دشمن اور غم بن جائے) ۔
Ayahs 9:56–57

وَ یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ اِنَّهُمْ لَمِنْكُمْ١ؕ وَ مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَ لٰكِنَّهُمْ قَوْمٌ یَّفْرَقُوْنَ Open ayah 9:56 in the Quran reader

اور خدا کی قسمیں کھاتے ہیں کہ وہ تمہیں میں سے ہیں۔ حالانکہ وہ تم میں سے نہیں ہیں اصل یہ ہے کہ یہ ڈرپوک لوگ ہیں۔

لَوْ یَجِدُوْنَ مَلْجَاً اَوْ مَغٰرٰتٍ اَوْ مُدَّخَلًا لَّوَلَّوْا اِلَیْهِ وَ هُمْ یَجْمَحُوْنَ Open ayah 9:57 in the Quran reader

اگر ان کو کوئی بچاؤ کی جگہ (جیسے قلعہ) یا غار ومغار یا (زمین کے اندر) گھُسنے کی جگہ مل جائے تو اسی طرف رسیاں تڑاتے ہوئے بھاگ جائیں

قول باری ہے (ولیحلفون باللہ انھم لمنکم ۔ وہ خدا کی قسم کھا کھا کر کہتے ہیں کہ ہم تمہی میں سے ہیں) عظمت والی ذات کا واللہ، باللہ کے الفاظ یا قسموں والے حروف کے ساتھ ذکر کے ذریعے جملے میں دی گئی خبر کی تاکید کو حلف کہتے ہیں۔ قسم اور یمین بھی اسی طرح منعقد ہوتے ہیں۔ تاہم حلف میں خبر کو عظمت والی ذات کی نسبت سے بیان کیا جاتا ہے۔ قول باری (ولیحلفون باللہ) میں ان کے متعلق یہ خبردی گئی ہے کہ انہوں نے اللہ کی قسم کھائی ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ اس میں مستقبل کی یہ خبر دی گئی ہے کہ یہ لوگ عنقریب اللہ کی قسم کھائیں گے۔ اگر کوئی شخص یہ کہے ” احلف باللہ “ تو یہ قسم ہوگی اور اگر حلف کے ذکر کو مخدوف کرکے صرف باللہ کہے تو بھی یہ قسم ہوجائے گی اس لئے کہ اس کی حیثیت اس قول جیسی ہوگی ” انا حالف باللہ ( میں اللہ کے نام کا حلف اٹھاتا ہوں) البتہ اگر حلف لینے والا اس سے وعدہع مراد لے تو اس صورت میں یہ فقرہ قسم پر محمول نہیں ہوگا بلکہ وعدہ کے معنوں پر محمول ہوگا۔ تاہم ظاہری طور پر اس فقرے کا مفہوم یہی ہے کہ کہنے والا اس کے ذریعے حلف واقع کررہا ہے جس طرح کوئی یہ کہے انا اعتقدالاسلام (میں اسلام کا عقیدہ رکھتا ہوں) اس فقرے میں وعدہ کے معنوں کا بھی احتمال ہے۔ لیکن ” باللہ “ کا قول تو اس کے ذریعے قسم ہی واقع ہوگی اگرچہ اس میں لفظ ’ احلف ‘ (میں حلف اٹھاتا ہوں ) یا ٖ ’ حلقت ‘ (میں نے حلف اٹھایا) پوشیدہ ہے۔ ایک قول کے مطابق لفظ ’ حلف ‘ کو اس لئے محذوف کردیا گیا تاکہ یہ حلف کے وقوع پر دلالت کرے اور وعدہ کا احتمال ختم ہوجائے۔ جس طرح فقرہ ” واللہ لا فعلن “ (بخدا میں کروں گا) میں لفظ حلف مغذوف ہے تاکہ یہ دلالت حاصل ہوجائے کہ اس فقرہ کا قائل حلف اٹھارہا ہے وعدہ نہیں کررہا ہے۔ قول باری (انھم لمنکم) کا مفہوم ہے کہ ہم ” ہم ایمان، طاعت ، دین اور ملت کے لحاظ سے تمہی میں سے ہیں “ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول کی تکذیب کردی اور انہیں جھوٹا قرار دیا۔ مسلمانوں کی طرف منافقین کی اضافت اور نسبت اس وقت درست ہوتی جب یہ مسلمانوں کے دین کے پیروکار ہوتے۔ جس طرح یہ قول باری ہے (والمومنون والمومنات بعضھم اولیاء بعض مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں آپس میں ایک دوسرے کے دلی دوست ہیں) نیز (المنافقون والمنافقات بعضھم من بعض منافق مرد اور منافق عورتیں بعض کا بعض سے تعلق ہے) دونوں آیتوں میں بعض کی نسبت بعض کی طرف کی گئی ہے اس لئے کہ دین اور ملت کے لحاظ سے ان کا آپس میں اتفاق ہے۔
Ayah 9:58

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّلْمِزُكَ فِی الصَّدَقٰتِ١ۚ فَاِنْ اُعْطُوْا مِنْهَا رَضُوْا وَ اِنْ لَّمْ یُعْطَوْا مِنْهَاۤ اِذَا هُمْ یَسْخَطُوْنَ Open ayah 9:58 in the Quran reader

اور ان میں بعض ایسے بھی ہیں کہ (تقسیم) صدقات میں تم پر طعنہ زنی کرتے ہیں۔ اگر انکو اس میں سے (خاطر خواہ) مل جائے تو خوش رہیں اور اگر (اس قدر) نہ ملے تو جھٹ خفا ہوجائیں۔

قول باری ہے (ومنھم من یلزمک فی الصدقات۔ اے نبی ! ان میں سے بعض لوگ صدقات کی تقسیم میں تم پر اعتراضات کرتے ہیں) حسن کے قول کے مطابق ” یعیبک “ (آپ پر عیب لگاتے ہیں) ۔ ایک قول ہے کہ (لمز خفیہ طور پر عیب لگانے کو کہتے ہیں اور ھمز (میم کی زیر کے ساتھ) عیب لگانے کو کہتے ہیں۔ قتادہ کے قول کے مطابق ” یطعن علیک “ (آپ پر اعتراضات کرتے ہیں) ایک قول کے مطابق یہ منافقین کا ایک گروہ تھا جو یہ چاہتا تھا کہ حضور ﷺ صدقات یعنی زکوٰۃ کے مال میں سے انہیں بھی دیں جبکہ انہیں زکوٰۃ کا مال دینا جائز نہیں تھا کیونکہ وہ زکوٰۃ کے مستحقین میں شامل نہیں تھے۔ جب یہ لوگ اس طرف سے مایوس ہوگئے تو انہوں نے صدقات کی تقسیم میں حضور ﷺ پر اعتراضات کرنے شروع کردیئے۔ اور یہ بکواس کرنے لگے کہ آپ اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کی دوسروں پر ترجیح دیتے ہیں۔ اس پر یہ قول باری دلالت کرتا ہے (فان اعطوا منھا رضوا وان لم یعطوا منھا اذا ھم یسخطون۔ اگر اس مال میں سے انہیں کچھ دے دیا جائے تو خوش ہوجائیں اور نہ دیا جائے تو بگڑ نے لگتے ہیں ) ساتھ ہی یہ بتادیا کہ صدقات میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ صدقات تو فقراء اور مساکین کا حق ہے نیز ان لوگوں کا جن کا آیت میں ذکر ہوا ہے۔
Ayah 9:59

وَ لَوْ اَنَّهُمْ رَضُوْا مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ١ۙ وَ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ سَیُؤْتِیْنَا اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ وَ رَسُوْلُهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِلَى اللّٰهِ رٰغِبُوْنَ۠ Open ayah 9:59 in the Quran reader

اور اگر وہ اس پر خوش رہتے جو خدا اور اسکے رسول ﷺ نے ان کو دیا تھا۔ اور کہتے کہ ہمیں خدا کافی ہے اور خدا اپنے فضل سے اور اسکے پیغمبر ﷺ (اپنی مہربانی سے) ہمیں (پھر) دیدینگے (اور) ہمیں تو خدا ہی کی خواہش ہے (تو انکے حق میں بہتر ہوتا)

قول باری ہے (ولو انھم رضوا مااتاھم اللہ ورسولہ وقالوا حسبنا اللہ سیوتینا اللہ من فضلہ ورسولہ۔ کیا اچھا ہوتا کہ اللہ اور رسول نے جو کچھ بھی انہیں دیا تھا اس پر وہ راضی رہتے اور کہتے کہ ” اللہ ہمارے لئے کافی ہے وہ اپن فضل سے ہمیں اور بہت کچھ دے گا اور اس کا رسول بھی) اس کا جوب محذوف ہے ۔ فقرہ اس طروح مقدر ہوگا۔ ولو انھم رضوا مااتاھم اللہ ورسولہ لکان خیرا لھم واعود علیھم (اگر یہ لوگ اس پر راضی ہوجاتے جو اللہ اور رسول نے انہیں دیا تھا تو یہ ان کے لئے بہتر ہوتا یا یہ ان کے لئے زیادہ فائدہ مند ہوتا) ایسے مقام پر جواب کو محذوف کردینا زیادہ بلیغ ہوتا ہے اس لئے کہ خبر میں اتنی تاکید ہوتی ہے کہ جواب کے ذکر کی ضرورت باقی نہیں رہتی، اس کے ساتھ یہ بات بھی ہے کہ اگر جواب حذف کردیا جائے تو انسانی ذہن اپنی استعداد کے مطابق کئی جواب تلاش کرلیتا ہے لیکن جواب اگر ذکر کردیا جائے تو ذہن صرف ایک صورت کے اندر محدود ہوجاتا ہے اور دوسری صورتوں کی گنجائش نہیں رہتی۔ آیت میں یہ بھی بتادیا گیا ہے کہ اللہ کے فعل پر راضی رہنا جسے رضا بقضا کہتے ہیں اللہ کی طرف سے مزید بھلائی اور مہربانی کا موجب ہوتا ہے جو سز اور ثواب کے طور پر اسے دیا جاتا ہے۔