Ayahs 9:38–40دشمن کے مقابلہ کے لئے نکلنے اور جہاد کرنے کی فرضیت کا بیان
قول باری ہے (یآیھا الذین اٰمنوا مالکم اذا قیل لکم انفروا فی سبیل اللہ اثاقلتم الی الارض۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! تمہیں کیا ہوگیا کہ جب تم سے اللہ کی راہ میں نکلنے کے لئے کہا گیا تو تم زمین سے چمٹ کر رہ گئے) تا قول باری (الا تنفروا یعذبکم عذاباً الیماً ویستبدل قوما غیرکم۔ تم نہ اٹھوگے تو خدا تمہیں درد ناک سزا دے گا اور تمہاری جگہ کسی اور گروہ کو اٹھائے گا۔
جہاد فرض عین ہے یا کفایہ ؟
ظاہر آیت اس شخص پر بھی جہاد کے لئے اٹھ کھڑ ا ہونے کو واجب قرار دیتی ہے جسے اس کی دعوت نہ دی گئی ہو۔ اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (انفروا خفافا وثقالا۔ نکلو، خواہ ہلکے ہو یا بوجھل) اللہ تعالیٰ نے نفیر یعنی جہاد کے لئے نکل کھڑے ہونے کو مطلقاً واجب کردیا اور اس میں بلائے جانے کی شرط نہیں لگائی۔ اس لئے ظاہر آیت ہر اس شخص پر جہاد کے وجوب کی مقتضی ہے جو اس کی استطاعت رکھتا ہو۔
ہمیں جعفر بن محمد الواسطی نے روایت بیان کی، انہیں جعفر بن الیمان نے، انہیں ابو عبید نے انہیں ابو الیمان اور حجاج نے جریر بن عثمان سے، انہوں نے عبدالرحمن بن میسرہ اور ابن ابی ملال سے، انہوں نے ابو راشد الجرانی سے، وہ کہتے ہیں کہ میری ملاقات حضرت مقداد بن الاسود ؓ سے اس وقت ہوئی جب آپ جہاد پر جانے کی تیاریوں میں مصروف تھے، میںے عرض کیا کہ اللہ تعایلٰ کے ہاں آپ کا عذر قابل قبول ہے (یا شاید ابو راشد نے ان سے یہ کہا) جنگ پر نہ جانے میں اللہ کے نزدیک آپ کا عذر قابل قبول ہے یہ سن کر حضرت مقداد ؓ نے فرمایا : سورة برات ہمارے پاس یہ آیت لے کر آئی ہے (انفروا خفافاً وثقالاً )
ابو عبید کہتے ہیں کہ ہمیں اسماعیل بن ابراہیم نے ایوب سے روایت بیان کی ہے انہوں نے ایوب سے، انہوں نے ابن سیرین سے کہ حضرت ابو ایوب انصاری حضور ﷺ کے ہمراہ معرکہ بدر میں شریک ہوئے تھے پھر ایک سال کے سوا کسی بھی غزوہ میں آپ پیچھے نہیں رہے۔ ایک جنگ میں ایک نوجوان شخص کو لشکر کا سالار مقرر کیا گیا آپ نے اس موقع پر یہ فرمایا : مجھے اس سے کیا غرض کہ کون شخص مجھ پر سالار بنایا گیا ہے، اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے (انفروا خفافاً وثقالاً ) اور میں تو اپنے آپ کو ہلکا یا بوجھل ضرور پاتا ہوں۔ یعنی میں بہرصورت جہاد کروں گا۔ ابو عبید نے اپنی سند سے روایت بیان کی ہے انہیں یزید نے حماد بن مسلمہ سے، انہوں نے علی بن زید سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک ؓ سے کہ حضرت ابو طلحہ نے آیت (انفروا خفافاً وثقالاً ) کی تلاوت فرمائی اور فرمایا کہ ” میرے خیال میں اللہ تعالیٰ نے ہم سب کو جہاد پر نکلنے کا حکم دے دیا ہے۔ ہمارے جوانوں کو بھی اور بوڑھوں کو بھی، اس لئے جہاد پر جانے کے لئے میرے واسطے سامان تیار کرو۔ “ چناچہ ہم نے ان کے لئے سامان جہاد تیار کردیا۔ اور وہ فوج کے ساتھ کشتی میں سوار ہوگئے۔ اسی غزوہ میں ا ن کی وفات ہوگئی۔ ہمیں ان کی تدفین کے لئے ساتویں دن ایک جریرہ ملا۔
ابو عبید کہتے ہیں کہ ہمیں حجاج نے ابن جریج سے اور انہوں نے مجاہد سے اس آیت کی تفسیر میں روایت سنائی کہ لوگوں نے تو کہا کہ ” ہمارے اندر ثقیل یعنی بوجھل لوگ بھی ہیں۔ ضرورت مند بھی ہیں۔ صنعت و حرفت سے تعلق رکھنے والے بھی اور ایسے بھی ہیں جن کے ذاتی حالات پراگندہ ہیں۔ “ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (انفروا خفاف وثقالاً ) ۔ ان حضرات نے اس آیت کو نفیر یعنی از خود جہاد پر نکلنے کی فرضیت پر محمول کیا خواہ اس کے لئے باوا نہ بھی آیا ہو جبکہ پہلی آیت ظاہراً وبلاوا آنے پر جہاد کے لئے نکل پڑنے کی فرضیت کی مقتضی ہے اس آیت کی تاویل میں کئی وجہ بیان کئے گئے ہیں :
پہلی تفسیر کے مطابق یہ بات غزوئہ تبوک کے موقع پر پیش آئی جب حضور ﷺ نے لوگوں کو جہاد پر نکلنے کے لئے کہا تھا۔ آپ نے جن لوگوں کو نکلنے کے لئے کہا تھا ان پر آپ کے ساتھ نکل پڑنا فرض تھا۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے (ماکان لاھل المدینۃ ومن حولھم من الاعراب ان یتخلفوا عن رسول اللہ ولا یرغبوا بانفسھم۔ مدینے کے باشندوں اور گردو نواح کے بدیوں کو ہرگز یہ زیبا نہ تھا کہ اللہ کے رسول کو چھوڑ کر گھر بیٹھ رہتے اور اس کی طرف سے بےپروا ہوکر اپنے اپنے نفس کی فکر میں لگ جاتے) ان حضرات کا کہنا ہے کہ حضور ﷺ کے سوا کسی اور کے ساتھ جہاد پر نکل پڑنے کا یہ حکم نہیں ہے۔
ایک قول کے مطابق یہ آیت منسوخ ہوچکی ہے ہمیں محمد بن بکر نے روایت بیان کی، انہیں ابودائود نے، انہیں احمد بن محمد المروزی نے، انہیں علی بن الحسین نے اپنے والد سے، انہوں نے یزید النحوی سے، انہوں نے عکرمہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے کہ آیت (الا تنفروا یعذبکم عذاباً الیماً ویستبدل قوماً غیرکم) نیز آیت (ماکان لاھل المدینۃ ومن حولھم من الاعراب ان یتخلفوا عن رسول اللہ) کو اس کے بعد آنے والی آیت (وما کان المومنون لینفروا کافۃ اور یہ کچھ ضروری نہ تھا کہ اہل ایمان سارے کے سارے نکل کھڑے ہوتے) نے منسوخ کردیا ہے۔
بعض دوسرے حضرات کا قول ہے کہ مذکورہ بالا دونوں آیتوں میں سے کسی آیت کے اندر نسخ نہیں ہوا ان دونوں کا حکم ثابت اور باقی ہے۔ ان دونوں کے حکموں کا دو حالتوں کے ساتھ تعلق ہے۔ جب سرحد پر موجود مسلمانوں میں دشمن سے تنہا مقابلہ کی تاب نہ ہو اور وہ دوسرے مسلمانوں کو جہاد پر نکلنے کے لئے کہیں تو پھر تمام لوگوں پر جہاد کے لئے نکلنا فرض ہوجائے گا تاکہ سرحدات پر پہنچ کر دشمن کے خلاف معرکہ کارزار گرم کرسکیں اگرچہ سرحدات پر موجود لوگوں کی وجہ سے باقی ماندہ لوگوں کی کوئی خاص ضرورت نہ بھی پیش آئے پھر بھی ان پر اس کی فرضیت عائد رہے گی خواہ انہیں جہاد پر نکلنے کے لئے کہا گیا ہو یا نہ کہا گیا ہو۔ جب دشمن کے مقابلہ میں صف آرا لوگ جہاد کا فرض پورا کررہے ہوں اور انہیں اندرون ملک رہنے والے لوگوں سے مدد حاصل کرنے کی ضرورت نہ ہو تو اس صورت میں ایسے لوگوں پر جہاد فرض نہیں ہوگا۔ الا یہ کہ ان میں سے کوئی جہاد پر اپنی مرضی سے جانا چاہے تو وہ فرض جہاد کا ادا کرنے والا شمار ہوگا اگرچہ شروع سے ہی جہاد میں حصہ نہ لینے کے سلسلے میں اس کا عذر قابل قبول ہوگا۔ اس لئے کہ جہاد فرض کفایہ ہے اگر ایک گروہ یہ فرض ادا کردے تو باقی ماندہ لوگوں سے ان کی فرضیت ساقط ہوجاتی ہے۔
ہمیں محمد بن بکر نے روایت بیان کی، انہیں ابودائود نے، انہیں عثمان بن ابی شیبہ نے ، انہیں جریر نے منصور سے، انہوں نے مجاہد سے، انہوں نے طائوس سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے کہ حضور ﷺ نے فتح مکہ کے دن فرمایا (لاھجرۃ ولکن جھدونیۃ وان اتنفرتم فانفروا اب ہجرت کا حکم باقی نہیں رہا لیکن جہاد کا سلسلہ جاری رہے گا اور نیت کا ثواب ملتا رہے گا اور اگر تمہیں جہاد پر نکلنے کے لئے کہا جائے تو نکل کھڑے ہو) آپ نے جہاد کے لئے بلاوے پر نکل کھڑے ہونے کا حکم دیا۔ آپ کا یہ فرمان ظاہر قول باری (یآیھا الذین اٰمنوا مالکم اذا قیل لکم انفروا فی سبیل اللہ اثا قلتم الی الارض) سے مطابقت رکھتا ہے۔ جیسا کہ ہم نے ذکر کیا اس قول باری کو اس صورت پر محمول کیا جائے گا جب ضرورت کے وقت لوگوں کو جہاد پر نکلنے کی نفیر عام مل جائے اس لئے کہ سرحدات پر موجود لوگ دشمن کے مقابلہ کے لئے اپنے آپ کو کافی سمجھتے ہوں اور انہیں دوسرے مسلمانوں سے مدد مانگنے کی ضرورت نہ ہو تو ایسی صورت میں وہ عام طور پر لوگوں کو جہاد کے لئے نکلنے کو نہیں کہیں گے لیکن اگر امام المسلمین لوگوں کہ جہاد پر نکلنے کے لئے کہے جبکہ سرحدات پر موجود مسلمان اور فوج حالات پر قابو رکھنے کے لئے کافی ہوں لیکن امام المسلمین برسرپیکار دشمن پر آگے بڑھ کر حملہ کرنا اور دشمن کے علاقے کو روندنا چاہتا ہو تو ایسی صورت میں جن لوگوں کو وہ جہاد پر نکلنے کے لئے کہے گا ان پر نکل پڑنا لازم ہوگا۔ اس صورت میں فرضیت جہاد کے بارے میں فقہاء کے درمیان اختلاف رائے ہے۔
ابن شریر اور سفیان ثوری نیز دیگر حضرات سے منقول ہے کہ جہاد ایک نفلی عبادت ہے۔ یہ فرض نہیں ہے ان کا قول ہے کہ آیت (کتب علیکم القتال تم پر قتال فرض کردیا گیا ہے) وجوب پر محمول نہیں ہے۔ بلکہ ندب اور استحباب پر محمول ہے جس طرح یہ قول باری استحباب پر محمول ہے (کتب علیکم اذا حضر احدکم الموت ان ترک خیران الوصیۃ للوالدین والاقربین۔ تم پر فرض کیا گیا ہے کہ جب تم میں سے کسی کو موت کا وقت آئے اور وہ اپنے پیچھے مال چھوڑ رہا ہو تو والدین اور رشتہ داروں کے لئے معرو طریقے سے وصیت کرے) حضرت ابن عمر ؓ سے بھی اس قسم کی ایک روایت ہے اگرچہ ان سے اس روایت کی صحت کے بارے میں اختلاف ہے۔
یہ روایت ہمیں جعفر بن محمد بن الحکم نے بیان کی، انہیں جعفر بن محمد بن ایمان نے، انہیں ابو عبید نے، انہیں علی بن معید نے ابو ملیح الرتی سے، انہوں نے میمون بن مہران سے، وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمر ؓ کے پاس موجود تھا۔ ایک شخص حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص کے پاس آکر ان سے فرائض کے متعلق پوچھنے لگا۔ حضرت ابن عمر ؓ اتنی دور بیٹھے تھے جہاں سے وہ ان کی گفتگو سن سکتے تھے۔ سائل کے جواب میں حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص نے فرمایا : فرائض یہ ہیں، اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا، رمضان کے روزے رکھنا اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ “ میمون کہتے ہیں کہ شاید حضرت ابن عمر ؓ کو اس آخری بات پر غصہ آگیا تھا۔ آپ نے فرمایا فرائض یہ ہیں، اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ نماز قائم کرنا، زکوٰۃ اد ا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا، رمضان کے روزے رکھنا۔ “ راوی کا کہنا ہے کہ ابن عمر ؓ نے جہاد کا ذکر نہیں کیا۔
عطاء اور عمرو بن دینار سے بھی اسی طرح کی روایت ہے ہمیں جعفر بن محمد نے روایت بیان کی انہیں جعفر بن ایمان نے، انہیں ابو عبید نے ، انہیں حجاج نے ابن جریج سے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے عطاء سے پوچھا کہ آیا غزو یعنی جہاد کرنا لوگوں پر واجب ہے ؟ تو انہوں نے اور عمرو بن دینار دونوں نے جواب دیا : ” ہمیں اس بات کا علم نہیں ہے “ امام ابو حنیفہ، اما ابو یوسف، امام محمد، امام مالک اور دوسرے تمام فقہائے امصار کا قول ہے کہ جہاد قیامت تک کے لئے فرض ہے۔ البتہ یہ فرض کفایہ ہے کہ اگر کچھ لوگ یہ فریضہ ادا کرلیں تو باقیوں سے اس کی فرضیت ساقط ہوجاتی ہے اور ان کے لئے اسے ترک کردینے کی گنجائش پیدا ہوجاتی ہے۔
ابو عبید نے ذکر کیا ہے کہ سفیان ثوری فرمایا کرتے تھے کہ جہاد فرض نہیں ہے لیکن لوگوں کے لئے اس بھی گنجائش نہیں ہے کہ وہ ترک جہاد پر ایکا کرلیں بلکہ ان میں سے بعض کی طرف سے اس کی ادائیگی دوسروں کے لئے بھی کفایت کرجائے گی۔ “ گر سفیان ثوری کا یہ قول ہے تو اس سے یہ بات علوم ہوئی کہ وہ بھی جہاد کے فرض کفایہ ہونے کے قائل ہیں اور یہ مسلک ہمارے اصحاب کے اس مسلک سے مطابقت رکھتا ہے جس کا ابھی ہم نے ذکر کیا ہے۔ یہ بات تو واضح ہے کہ تمام مسلمان اس عقیدے کے حامل ہیں کہ جب سرحدات پر موجود مسلمانوں کو دشمن کے حملے کا خوف ہو اور ان میں اس کے مقابلہ کی سکت نہ ہو جس کے نتیجے میں مسلمانوں کو اپنی جان و مال اور اہل و عیال کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ پیدا ہوجائے تو ایسی صورت میں پوری امت پر یہ فرض عائد ہوجائے گا کہ ایسے لوگ فوری طورپر سرحدوں پر پہنچ جائیں جو مسلمانوں کو دشمن کی چیرہ دستیوں سے بچالیں۔ امت کے اندر اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اس لئے کہ کوئی مسلمان بھی اس صورت حال میں اس بات کے جواز کا قائل نہیں ہوگا کہ دشمن کے مقابلہ پر جانے کی بجائے مسلمان اپنے گھروں میں بیٹھ رہیں اور دشمن کو ان کا خون بہانے اور ان کے اہل و عیال کو قیدی بناکر لے جانے کا موقع مل جائے۔
البتہ اختلاف اس بارے میں ہے کہ جب دشمن کا مقابلہ کرنے والے موجود ہوں اور وہ دشمن کے خلاف صف آرا ہوں نیز انہیں دشمن کے غالب آنے کا خطرہ بھی نہ ہو تو اس صورت میں دوسرے مسلمانوں کے لئے اس دشمن کے خلاف ترک جہاد جائز ہوگا۔ یہاں تک کہ وہ یا تو مسلما ہوجانے یا جزیہ ادا کرنے پر رضامند ہوجائے۔ حضرت ابن عمر ؓ ، عطاء، عمرو بن دینار اور ابن بشرمہ کا یہ قول تھا کہ امام المسلمین نیز مسلمانوں کے لئے یہ جائز ہوگا کہ وہ ایسے دشمن کے خلاف جنگ نہ کریں اور اپنا ہاتھ روک لیں۔
دوسرے حضرات کا قول ہے کہ امام المسلمین نیز مسلمانوں پر ایسے دشمن کے خلاف جنگی کارروائیاں کرتے رہنا ضروری ہوگا یہاں تک کہ وہ یا تو مسلمان ہوجائیں یا جزیہ ادا کرنے پر رضامند ہوجائیں۔ ہمارے اصحاب کا اور سلف میں سے حضرت مقداد بن الاسود ؓ ، حضرت ابو طلحہ ؓ نیز دیگر صحابہ کرام اور تابعین جن کا ہم نے ذکر کیا ہے یہی مسلک ہے۔ حضرت حذیفہ بن ایمان ؓ کا قول ہے کہ اسلام کے آٹھ حصے ہیں۔ آپ نے جہاد کو ایک حصہ قرار دیا۔
ہمیں جعفر بن محمد نے روایت بیان کی انہیں جعفر بن الیمان نے انہیں ابو عبید نے، انہیں حجاج نے ابن جریج سے کہ معمر کہتے تھے کہ مکحول قبلے کی طرف رخ کرلیتے پھر دس دفعہ قسمیں کھا کر کہتے کہ جہاد واجب ہے، پھر فرماتے کہ اگر تم لوگ چاہو تو میں یہی بات اس سے زائد بار قسمیں کھا کر بھی کہہ سکتا ہوں۔ “ ہمیں جعفر بن محمد نے روایت بیان کی ، انہیں جعفر بن یمان نے، انہیں ابو عبید نے، انہیں عبداللہ بن صالح نے معاویہ بن صالح سے، انہوں نے العدء بن الحارث یا کسی اور سے، انہوں نے ابن شہاب سے انہوں نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں پر جہاد فرض کردیا ہے خواہ وہ بیٹھ رہیں یا جہاد پر چلے گئے جو شخص بیٹھ رہے گا وہ بھی گویا تیاری پر ہوگا کہ ضرورت پڑنے پر جس وقت اسے مدد کے لئے کہاجائے گا وہ مدد کرے گا اور جب اسے محاذ پر جانے کے لئے بلایا جائے گا تو وہ فوراً نکل کھڑا ہوگا اور اگر اس کی مطلقاً ضرورت نہیں پڑے گی تو گھر بیٹھ رہے گا۔ “ ابن شہاب کا یہ قول ان لوگوں کے مسلک کے مطابق ہے جو جہاد کے فرض کفایہ ہونے کے قائل ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ ، عطاء اور عمرو بن دینار کے اس قول سے کہ جہاد فرض نہیں ہے ان حضرات کی مراد یہ ہو کہ جہاد فرض عین نہیں ہے کہ ہر متعین شخص پر اس کی فرضیت ثابت ہو جس طرح نماز اور روزہ فرض عین ہے بلکہ یہ فرض کفایہ ہے۔
فرضیت جہاد پر قرآنی آیات
جہاد کی فرضیت کی موجب آیات بہت زیادہ ہیں، ارشاد باری ہے (وقاتلوھم حتی لاتکون فتنۃ ویکون الدین للہ، ان سے لڑو حتیٰ کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سارے کا سارا اللہ کا ہوجائے) یہ آیت کا ئووں سے قتال کے وجوب کی مقتضی ہے حتیٰ کہ وہ اسلام قبول کرلیں۔ ارشاد ہوا (قاتلوھم یعذبھم اللہ بایدیکم ویخزھم۔ ان سے لڑو اللہ تمہارے ہاتھوں ان کو سزا دے گا اور رسوا کرے گا) تا آخر آیت، فرمایا (قاتلوا الٓین لایومنون باللہ والیوم الاخر۔ ان لوگوں سے لڑو جو اللہ اور یوم آخر پر ایمان نہیں رکھتے) تا آخر آیت۔ ارشاد ہوا۔ (فلاتھنوا وتدعوا الی السلم وانتم الاعلمون واللہ معکم۔ تم کمزوری نہ دکھائو اور انہیں صلح کی طرف نہ بلائو اور تم ہی غالب ہوگے اور اللہ تمہارے ساتھ ہے) نیز فرمایا (فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموھم۔ مشرکین کو جہاں پائو قتل کردو) ارشاد ہوا (وقاتلوا المشرکین کافۃ کما یقاتلونکم کافۃ ۔ تم سب مل کر مشرکین سے لڑو جس طرح وہ سب مل کر تم سے لڑتے ہیں) نیز فرمایا (انفروا خفافاً وثقالاً وجاھدوا باموالکم وانفسکم فی سبیل اللہ۔ نکل پڑو ہلکے اور بوجھل اور اپنے مال اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرو) نیز (الا تنفروا یعذبکم عذاباً الیما ویستبدل قوما غیرکم۔ اگر تم نہیں نکلوگے تو اللہ تعالیٰ تمہیں درد ناک عذاب دے گا اور تمہاری جگہ کسی اور گروہ کو کھڑا کردے گا) نیز ارشاد ہوا (فانفروا ثبات اوانفرو جمیعاً ۔ پھر گروہ درد گروہ کوچ کرو یا اکٹھے ) فرمایا (یایھا الذین اٰموا ھل ادلکم علی تجارۃ تنجیکم من عذاب الیم تومنون باللہ ورسولہ وتجاھدون فی سبیل اللہ باموالکم وانفسکم۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! کیا میں تمہیں ایک ایسی تجارت کا پتہ نہ بتادوں ؟ جو تمہیں دردناک عذاب سے بچالے گی، اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائو اور اللہ کی راہ میں اپنے مال او اپنی جانوں کے ساتھ جہاد کرو) اللہ تعالیٰ نے یہ بتادیا کہ اس کے عذاب سے نجات کی صورت ہی یہی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا جائے اور جان و مال کے ساتھ اس کی راہ میں جہاد کی جائے۔
یہ آیت دو وجوہ سے فرضیت جہاد کے معنی کو متضمن ہے۔ ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ایمان اللہ وبالرسول کی فرضیت کے ساتھ مقرون کرکے بیان کیا اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ بتادیا کہ اس کے عذاب سے ایمان اور جہاد کے ذریعے نجات مل سکتی ہے اور یہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ واجبات یعنی فرائض کو ترک کرنے پر ہی کوئی شخص عذاب کا مستحق قرار پاتا ہے۔ ارشاد ہے (کتب علیکم القتال تم پر قتال فرض کردیا گیا) یہاں کتب کے معنی فرض کے ہیں یعنی تم پر فرض کردیا گیا جس طرح روزے کی فرضیت کے بارے میں قول باری ہے (کتب علیکم الصیام تم پر روزے فرض کردیئے گئے)
اگر یہ کہا جائے کہ محولہ بالا آیت کا حکم اسی طرح ہے جس طرح آیت (کتب علیکم اذا حضر احدکم الموت ان ترک خیران الوصیۃ للوالدین ولاقربین بالمعروف جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت قریب آجائے اور وہ اپنے پیچھے مال چھوڑ رہا ہو تو تم پر فرض کردیا گیا ہے کہ ایسی صورت میں معروف طریقے سے والدین اور رشتہ داروں کے لئے وصیت کرجائو) اس میں امر کو استحباب پر محمول کیا گیا ہے فرضیت پر نہیں۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ اس آیت کی بنا پر وصیت کبھی فرض ہوا کرتی تھی۔ یہ اس وقت کی بات تھی جب اللہ تعالیٰ نے ابھی میراث کی فرضیت کا حکم نازل نہیں کیا تھا پھر میراث کے حکم کے ساتھ وصیت کی فرضیت کا حکم منسوخ ہوگیا تاہم آیت کے الفاظ ایجاب پر دلالت کرتے ہیں الا یہ کہ استحباب پر دلالت قائم ہوجائے لیکن جہاد کے سلسلے میں کوئی ایسی دلالت قائم نہیں ہوئی ہے جس سے معلوم ہوجائے کہ جہاد مستحب ہے۔
حضور ﷺ پر جنگ کی دوسری ذمہ داری
ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت اور دیگر آیات کے ذریعے تمام مکلفین پر بقدر مکان جہاد کی فرضیت کو موکد کردیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو فرمادیا (فقاتل فی سبیل اللہ لا تکلف الا نفسک وحرمض المومنین۔ اللہ کی راہ میں قتال کرو، تم اپنی ذات کے سوا کسی اور کے ذمہ دار نہیں ہو اور اہل ایمان کو قتال پر ابھارو) اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ پر جہاد کے سلسلے میں دوہری فرضیت عائد کردی اور فرضیت تو یہ کہ بذات خود جہاد کریں، جہاد میں شریک ہوں اور میدان جہاد میں موجود ہوں اور دوسری یہ کہ لوگوں کو جہاد پر ابھاریں، انہیں اس کی ترغیب دیں اور ان کے سامنے اس کی فضیلتیں بیان کریں۔
حضور ﷺ کے پاس چونکہ مال نہیں تھا اس لئے جہاد کے سلسلے میں آپ ﷺ کو انفق مال کا حکم نہیں دیا گیا جبکہ دوسروں کو اس حکم ان الفاظ میں دیا گیا :
(نکلو ہلکے اور بوجھل اور اپنے مال اور اپنی جانوں کے ساتھ جہاد کرو) اس آیت کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے ہر اس شخص پر جو اہل قتال ہو اور اس کے پاس مال بھی ہو، جان و مال سے جہاد کرنا فرض کردیا پھر دوسری آیت میں فرمایا (وجآء المعذرون من الاعراب لیوذن لھم وقعد الذین کذبوا اللہ ورسولہ سیصیب الذین کفروا منھم عذاب الیم۔ لیس علی الضعفآء ولا علی المرض ولا علی الذین لا یجدون ماینفقون حرج اذا نصحوا للہ ورسولہ۔ بدوی عربوں میں سے بہت سے لوگ آئے جنہوں نے عذر کیے تاکہ انہیں بھی پیچھے رہ جانے کی اجازت دی اجئے۔ اس طرح بیٹھ رہے وہ لوگ جنہوں نے اللہ اور رسول سے ایمان کا جھوٹا عہد کیا تھا۔ ان بدویوں میں سے جن جن لوگوں نے کفر کا طریقہ اختیار کیا ہے عنقریب وہ دردناک سزا سے دوچار ہوں گے۔ ضعیف اور بیمار لوگ اور وہ لوگ جو شرکت جہاد کے لئے زاد راہ نہیں پاتے اگر پیچھے رہ جائیں تو کوئی حرج نہیں جبکہ وہ خلوص دل کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول کے وفادار ہوں) اللہ تعالیٰ نے درماندگی اور مال کی عدم موجودگی کی بنا پر جن لوگوں سے اپنی جان و مال کے ساتھ جہاد کی فرضیت کو ساقط کردیا ان پر کم از کم اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ وفاداری اور خیر خواہی کا فریضہ ضرور عائد کردیا۔ اس لئے تمام مکلفین پر درجہ بدرجہ جہاد کی فرضیت ہے جیسا کہ ہم درج بالا سطور میں بیان کر آئے ہیں اس حکم سے کوئی مکلف بھی خارج نہیں ہے۔
فرضیت جہاد پر ارشادات نبوی
جہاد کی فرضیت کی تاکید میں بکثرت رواتیں منقول ہیں۔ ہمیں عمرو بن حفص سدوسی سے روایت بیان کی گئی، انہیں عاصم بن علی نے، انہیں قیس بن الربیع نے جبلہ بن سحیم سے، انہوں نے موثر بن عفارہ سے اور انہوں نے حضرت بشیر بن لاخصاصیہ ؓ سے، وہ فرماتے ہیں کہ میں حضور ﷺ کی خدمت میں بیعت کرنے کی نیت سے حاضر ہوا۔ میں نے عرض کیا، اللہ کے رسول، آپ مجھ سے کن باتوں پر بیعت لیں گے ؟ یہ سن کر حضور ﷺ نے اپنا دست مبارک آگے بڑھایا اور فرمایا : ” میں تم سے اس پر بیعت لیتا ہوں کہ تم یہ گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمد (ﷺ) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں پانچ فرض نمازیں ان کے اوقات میں اداکرو، فریضہ زکوٰۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو، بیت اللہ کا حج کرو اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو۔ “ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول، میں ان میں سے دو باتوں پر عمل کرنے کی طاقت نہیں رکھتا ہوں، زکوٰۃ دینے کی استطاعت نہیں رکھتا اس لئے کہ میرے اہل خاندان کے پاس بار برداری کی اونٹنیاں ہیں نیز وہ لوگ کام کاج کرتے رہتے ہیں۔ ان دونوں صورتوں میں جو آمدنی ہوتی ہے اس میں سے کچھ مجھے بھی مل جاتا ہے اور بس۔ میں جہاد بھی نہیں کرسکتا اس لئے کہ میں ڈرپوک انسان ہوں۔ خطرہ ہے کہ کہیں ڈر کے مارے میدان جہاد سے بھاگ کھڑا نہ ہوں اور اس طرح اللہ کے غضب کا مستحق بن کر نہ لوٹوں۔ “ یہ سن کر حضور ﷺ نے اپنی مٹھی بیھنچ لی اور فرمایا : ” بشیر ! نہ تم جہاد کرو نہ صدقہ دو ۔ تو پھر جنت میں کیسے جائو گے ؟ “ میں نے یہ سنتے ہی عرض کیا : ” اللہ کے رسول ! ہاتھ آگے کیجئے “ آپ ﷺ نے اپنا دست مبارک آگے کردیا اور میں نے مذکورہ بالا باتوں پر آپ سے بیعت کرلی۔
ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی ہے، ابراہیم بن عبداللہ نے ، انہیں حجاج نے ، انہیں حماد نے ، انہیں حمید نے حضرت انس بن مالک ؓ سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (جاھدو المشرکین باموالکم وانفسکم والسنتکم مشرکین کے خلاف اپنے مال، اپنی جان اور اپنی زبان کے ساتھ جہاد کرو) ۔ آپ ﷺ نے ہر اس چیز کے ذریعے جہاد واجب کردیا جس کے ساتھ جہاد کرنا ممکن ہو۔ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے کے بعد کوئی ایسا فرض نہیں ہے جس کی فرضیت جہاد کی فرضیت سے زیادہ موکد اور اولیٰ ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جہاد کے ذریعے اسلام کو غلبہ حاصل ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں دوسرے تمام فرائض کی ادائیگی ہوجاتی ہے لیکن اگر جہاد کا فریضہ ترک کردیا جائے تو اس کے نتیجے میں مسلمانوں پر ان کے دشمن غالب آجاتے ہیں، دین مٹ جاتا اور اسلام ختم ہوجاتا ہے تاہم جیسا کہ ہم پہلے بیان کر آئے ہیں، جہاد فرض کفایہ ہے۔
اگر کوئی شخص اس روایت سے استدلال کرے جسے عاصم بن محمد بن زید بن عبداللہ بن عمر نے واقدبن محمد س انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر ؓ سے نقل کی ہے کہ حضور ﷺ کا ارشاد ہے (نبی الاسلام علی خمس۔ اسلام کی بنیاد پانچ باتوں پر رکھی گئی ہے) آپ نے اس سلسلے میں شہادتیں کا ذکر فرمایا، نیز نماز، روزہ، کوٰۃ اور حج کا تذکرہ کیا۔ آپ نے یہ پانچ چیزیں بیان کیں لیکن جہاد کا ذکر نہیں کیا جس سے یہ دلالت حاصل ہوتی ہے کہ جہاد فرض نہیں ہے۔ ابوبکر جصاص اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ روایت دراصل مرفوع روایت نہیں ہے بلکہ اس کا سلسلہ اساد حضرت ابن عمر ؓ پر جاکر ختم ہوجاتا ہے جس کی بنا پر یہ موقوف روایت ہے۔ اسے وہب نے عمر بن محمد سے انہوں نے زید سے انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر ؓ سے کہ انہوں نے فرمایا : ” میں نے یہ پایا ہے کہ اسلام کی بنیاد پانچ باتوں پر ہے۔ “ حضرت ابن عمر ؓ کا یہ کہنا کہ ” میں نے پایا ہے “ اس امر کی دلیل ہے کہ انہوں نے یہ بات اپنی رائے کی بنا پر کہی ہے جس میں یہ گنجائش موجود ہے کہ ان کے سوا اور دوسرے صحابہ کرام کو اسلام کی بنیاد ان پانچ سے زائد باتوں پر نظر آتی ہو چناچہ حضرت حذیفہ بن الیمان ؓ کا قول ہے کہ اسلام کی بنیاد آٹھ اجزاء پر رکھی گئی ہے جن میں سے ایک جز جہاد ہے۔ یہ قول حضرت ابن عمر ؓ کے قول کے معارض ہے۔
اگر یہ کہا جائے کہ بعید اللہ بن موسیٰ نے روایت کی ہے۔ انہیں حنظلہ بن ابی سفیان نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ میں نے عکرمہ بن خالد کو طائوس سے یہ کہتے ہوئے سنا تھ کہ ایک شخص حضرت ابن عمر ؓ کے پاس آیا اور کہنے لگا : ابو عبدارلحمن ! آپ جہاد پر کیوں نہیں جاتے ؟ حضرت ابن عمر ؓ نے اسے جواب دیتے ہوئے فرمایا میں نے حضور ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اسلام کی بنیاد پانچ باتوں پر رکھی گئی ہے۔ “ اس حدیث کی سند درست ہے اور حضور ﷺ تک پہنچتی ہے جس کی بنا پر روایت مرفوع ہے۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ ہوسکتا ہے کہ آپ نے صرف پانچ باتوں کے ذکر پر اس لئے اقتصار کیا ہو یہ ہر انسان پر فرض عین ہیں اور ہر شخص پر اس کی ذاتی حیثیت میں لازم ہوتی ہیں۔ آپ نے اس فرض کا ذکر نہ کیا ہو جس کی حیثیت فرض عین کی نہیں بلکہ فرض کفایہ کی ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ امر بالمعروف، نہی عن المنکر، اقامت حدود، علم دین کا حقول اور مردوں کا غسل اور ان کی تجہیز و تکفین سب فرائض میں داخل ہیں لیکن آپ نے اسلام کے بنیادی فرائض کا ذکر کرتے ہوئے ان کا تذکرہ نہیں کیا تاہم آپ کا انہیں ذکر نہ کرنا اس امر کا مقتضی نہیں ہے کہ یہ باتیں فرائض کے دائرے سے خارج ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے درج بالا ارشاد میں ان فرائض کے ذکر تک بات محدود رکھی ہے جو ہر انسان کو انفرادی طور پر اور اس کی ذاتی حیثیت میں لازم ہوتی ہیں نیز جن کے لئے مقررہ اوقات ہیں اور کوئی اور فرض ان اوقات میں ان کے قائم مقام نہیں ہوسکتا اور نہ ان کی خانہ پری کرسکتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں جہاد فرض کفایہ ہے جیسا کہ ہم نے اس کی وضاحت کی ہے اسی بنا پر حضور ﷺ نے اس کا تذکرہ نہیں فرمایا۔
حضرت ابن عمر ؓ نے حضور ﷺ سے جہاد کے وجوب پر دلالت کرنے والی روایت نقل کی ہے۔ ہمیں عبداللہ بن شیرویہ سے اس حدیث کی روایت کی گئی ہے انہیں اسحاق بن راہویہ نے ، انہیں جریر نے لیث بن ابی سلیم سے، انہوں نے عطا سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر ؓ سے کہ : ہم پر ایک ایسا زمانہ بھی گزرا ہے جب ہم میں سے کوئی شخص بھی اپنے مسلمان بھائی کے مقابلہ میں اپنے آپ کو درہم و دینار کا زیادہ حق دار نہیں سمجھتا تھا اور اب حالت یہ ہوگئی ہے کہ مسلمان بھائی کی بہ نسبت ہمیں درہم و دینار سے زیادہ محبت ہے حالانکہ میں نے حضور ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ : جب درہم و دینار پر لوگوں کا یقین بڑھ جائے اور لوگ آپس میں چیزوں کو ان کی اصلی قیمت سے زیادہ قیمت پر ادھار خریدوفروخت کریں اور گایوں کی دموں کے پیچھے لگے رہیں اور جہاد چھوڑ بیٹھیں تو اللہ تعالیٰ انہیں ایسی ذلت میں مبتلا کردے گا جو ان سے اس وقت تک دور نہیں ہوگی جب تک وہ دین کی طرف پوری طرح رجوع نہیں کرلیں گے۔
ہمیں خلف بن عمرو العبکری سے روایت بیان کی گئی ہے، انہیں المعلی بن المہدی نے ، انہیں عبدالوارث نے، انہیں لیث نے عبدالملک بن ابی سلیمان سے، انہوں نے عطا سے، انہوں نے حضرت ابن عمر ؓ سے اور انہوں نے حضور ﷺ سے اس سے ملتی جلتی روایت کی ہے۔ روایت کے الفاظ جہاد کے وجوب کے مقتضی ہیں اس لئے کہ حضور ﷺ نے یہ بتادیا کہ جہاد ترک کرنے کی سزا کے طور پر اللہ تعالیٰ انہیں ذلت میں مبتلا کردے گا اور سزائیں صرف اس صورت میں لازم ہوتی ہیں جب واجبات یعنی فرائض تک کردیئے جائیں۔ یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ کا مسلک بھی یہی ہے کہ جہاد فرض کفایہ ہے اس لئے فرض جہاد کی نفی کے سلسلے میں ان سے جو روایت منقول ہے وہ اس معنی پر معمول ہے جو ہم نے بیان کیا ہے کہ جہاد کا فریضہ ہر زمانے اور حالت میں ہر شخص پر لازم نہیں ہوتا یعنی یہ فرض عین نہیں ہے۔ جہاد فرض کفایہ ہے اس پر قول باری (وما کان المومنون لینفروا کافۃ) اور قول باری (فانفروا ثبات اوانفروا جمیعاً ) دلالت کرتے ہیں۔ نیز فرمایا (لایستوی القاعدون من المومنین غیر اولی الضرروا امجاھدون فی سبیل اللہ باموالھم وانفسھم، فضل اللہ المجاہدین باموالھم وانفسھم علی القاعدین درجۃ وکلا وعداللہ الحسنیٰ ۔ اہل ایمان میں سے جہاد سے بیٹھ رہنے والے۔ بجز اس کے کہ انہیں کوئی معذوری ہو اور اللہ کی راہ میں اپنے مال اور جان کے ساتھ جہاد کرنے والے یکساں نہیں ہوسکتے۔ اللہ تعالیٰ نے مال و جان سے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر ایک درجہ فضیلت دی ہے اور ہر ایک کے لئے اللہ تعالیٰ نے بھلائی ہی کا وعدہ کیا ہے) اگر ہر شخص پر اس کی ذاتی حیثیت میں جہاد فرض ہوتا تو جہاد سے گھر بیٹھ رہنے والوں کے ساتھ بھلائی کا وعدہ نہ کیا جاتا۔ بلکہ ترک جہاد کی بنا پر ان کی مذمت کی جاتی اور عذاب کا مستحق گردانا جاتا۔
ہمیں جعفر بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں جعفر بن محمد بن الیمان نے، انہیں ابو عبید نے ، انہیں حجاج نے ابن جریج اور عثمان بن عطاء سے، انہوں نے عطاء خراسانی سے، انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے قول باری (فانفرواثبات اوانفروا جمیعاً ) اور (انفروا خفافاً وثقالاً ) کی تفسیر میں ان کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ان دونوں آیتوں کو قول باری (وما کان المومنون لینفروا کافۃ، فلولا نفر من کل فرقۃ منھم طائفۃ لیتفقھوا فی الدین ولینذروا قومھم اذا رجعوا الیھم لعلھم یحذرون۔ اور یہ کچھ ضروری نہ تھا کہ اہل ایمان سارے کے سارے ہی نکل کھڑے ہوتے مگر ایسا کیوں نہ ہو کہ ان کی آبادی کے ہر حصے میں سے کچھ لوگ نکل کر آتے اور دین کی سمجھ پیدا کرتے اور واپس جاکر اپنے علاقے کے باشندوں کو خبردار کرتے تاکہ وہ (غیر مسلمانہ روش سے پرہیز کرتے) اللہ تعالیٰ نے یہ فرمادیا کہ ایک گروہ جہاد کے لئے نکل جائے اور ایک گروہ حضور ﷺ کے ہمراہ رہے۔ حضور ﷺ کے ساتھ رہ جانے والے لوگ دین میں سمجھ پیدا کریں اور جہاد پر جانے والے بھائیوں کو ان کی واپسی پر اللہ کی آیات، اس کے نازل کردہ احکامات اور اس کے مقرر کردہ حدود کے متعلق انہیں باخبرکریں تاکہ وہ بھی اللہ کی نافرمانی سے پرہیزکریں۔
ہمیں جعفر بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں جعفر بن الیمان نے، انہیں ابو عبید نے، انہیں عبداللہ بن صالح نے معاویہ بن صالح سے، انہوں نے علی بن ابی طلحہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کی تفسیر میں ان کا قول نقل کیا ہے کہ اس سے مراد وہ فوجی مہمات ہیں جو وقتاً فوقتاً مختلف اطراف میں بھیجی جاتی تھیں جنہیں سرایا (جمع سریہ) کہا جاتا ہے۔ یہ سرایا جب مدینے سے روانہ ہوتے تو ان کے جانے کے بعد اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ آیات و احکامات کو حضور ﷺ کے پاس ٹھہرجانے والے لوگ سیکھ لیتے۔ جب یہ سرایا واپس ہوتے تو ان میں شامل لوگ مدینہ منورہ میں ٹھہر جاتے اور حضور ﷺ پر نازل ہونے والی آیات و احکامات کی اپنے ٹھہرے رہنے والے بھائیوں سے تعلیم حاصل کرتے اور ان کی جگہ دوسرے لوگوں پر مشتمل فوجی دستوں کو مہمات پر روانہ کردیا جاتا۔
اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا (یتفقھوا فی الدین ولینھذروا قومھم اذا رجعوا الیھم) ہم نے اوپر جن آیات کا حوالہ دیا ہے اور ان کی جو تفسیر پیش کی ہے اس سے فرضیت جہاد کا لزوم ثابت ہوگیا نیز اس پر بھی دلالت ہوگئی کہ جہاد فرض کفایہ ہے اور ہر شخص کے لئے اس کی ذاتی حیثیت میں لازم نہیں ہے یعنی فرض عین نہیں ہے اور ہر شخص کی جان و مال میں اس کا لزوم نہیں ہے جبکہ اس کی ادائیگی کے لئے دوسرے افراد موجود ہوں اور یہ فرضہ ادا کررہے ہوں۔
Ayah 9:41قول باری ہے (انفروا خفافاً وثقالاً وجاھدوا باموالکم وانفسکم فی سبیل اللہ) تا آخر آیت۔ حسن، مجاہد اور ضحاک سے مروی ہے کہ ہلکے اور بوجھل سے مراد جوان اور بوڑھے ہیں، ابو صالح سے مروی ہے کہ دولت مند اور فقراء مراد ہیں جبکہ حسن سے ایک اور روایت کے مطابق مصروف کار اور غیر مصروف کار مراد ہیں۔ ایک روایت کے مطابق حضرت ابن عباس ؓ اور قتادہ کے نزدیک چست و چالاک اور سست و کاہل مراد ہیں۔ حضرت ابن عمر ؓ کا قول ہے کہ سوار اور پیادو مراد ہیں۔ ایک قول کے مطابق ہنر مند اور غیر ہنر مند مراد ہیں۔
ابو بکر جصاص کہتے ہیں کہ الفاظ میں مذکورہ بالا تمام وجوہ کا احتمال ہے اس لئے تخصیص کی دلالت موجود نہ ہونے کی بنا پر مدلول و مفہوم کو عام رکھنا واجب ہے۔ قول باری (وجاھدوا باموالکم وانفسکم فی سبیل اللہ) میں جان اور مال دونوں کے ذریعے جہاد فرض کردیا گیا ہے۔ اگر کسی شخص کے پاس مال ہو اور وہ خود بیمار ہو یا اپاہج ہو یا کمزور ہو جس کی بنا پر وہ میدان جنگ میں جانے کے قابل نہ ہو تو اس پر مال کے ذریعے جہاد فرض ہوگا یعنی اس کے لئے یہ ضروری ہوگا کہ وہ اپنا مال خرچ کرکے کسی اور کو جہاد پر بھیج دے جس طرح اگر کسی شخص میں اتنی طاقت اور سکت ہو کہ وہ قتال کی تکلیفیں جھیل سکے تو اس پر اپنی جان کے ذریعے جہاد فرض ہے خواہ وہ صاحب مال نہ بھی ہو اور اس مالی استطاعت موجود بھی نہ ہو۔ اسے صرف اتنی گنجائش مل جانا کافی ہے جس کے ذریعے وہ میدان جنگ یا محاذ پر پہنچ سکتا ہو۔
جس شخص کے پاس جان ومال دونوں کی گنجائش ہو اس پر جان اور مال دونوں کے ذریعے جہاد کرنا لازم ہے، اگر کوئی شخص جان و مال دونوں کے لحاظ سے گیا گزرا ہو تو اس پر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لئے خلوص دل کے ساتھ وفاداری کے ذریعے جہاد کرنا فرض ہوگا اس لئے کہ قول باری ہے (لیس علی الضعفاء ولا علی المرضیٰ ولا علی الذین لا یجدون ماینفقون حرک اذا نصحوا للہ ورسولہ ۔ ضعیف اور بیمار لوگ اور وہ لوگ جو شرکت جہاد کے لئے زاد راہ نہیں پاتے اگر پیچھے رہ جائیں تو کوئی حرج نہیں جبکہ وہ خلوص دل کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول کے وفادار ہوں۔
قول باری ہے (ذلکم خیر لکم۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے) جبکہ ترک جہاد میں کوئی خیر اور بھلائی نہیں ہے۔ اس لئے اس کی دو توجیہیں کی گئی ہیں ایک تو یہ کہ یہ بات اس بات کی بہ نسبت بہتر ہے کہ جہاد پر جانے کے بجائے مباح عمل کو اس صورت میں اختیار کرلیا جائے جبکہ حالات کے تحت اس پر جہاد فرض عین کی طرح لازم نہ ہوگیا ہو۔ دوسری توجیہ یہ ہے کہ جہاد کرنے میں بھلائی ہے۔ ترک جہاد میں کوئی بھلائی نہیں ہے۔
قول باری ہے (ان کنتم تعلمون۔ اگر تم جانو ایک قول کے مطابق مفہوم یہ ہے کہ اگر تمہیں فی الجملہ یہ معلوم ہو کہ خیر اور بھلائی کا کیا مفہوم ہے تو تمہیں معلوم ہونا چائ ہے کہ یہ بھلائی ہے۔ ایک قول کے مطابق اگر تم یہ جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے ثواب اور جنت کا جو وعدہ کیا ہے اس کا وعدہ سچا ہے۔
Ayah 9:42منافقین کا جہاد کے بارے میں رویہ
قول باری ہے (وسیحلفون باللہ لواستطعنا لخرجنا معکم۔ اب وہ خدا کی قسم کھا کھا کر کہیں گے کہ اگر ہم چل سکتے تو یقیناً تمہارے ساتھ چلتے) تا آخر آیت۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے قول (لواستطعنا لخرجنا معکم) کے ذریعے منافقین کو جھٹلادیا تو اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ یہ لوگ استطاعت رکھتے تھے لیکن اس کے باوجود جہاد پر نہیں نکلے۔ اس سے فرقہ، جبریہ کے اس قول کا بطلان ہوتا ہے کہ اہل تکلیف کو مکلف بنانے کی حالت میں جس فعل کا مکلف بنایا گیا ہو اس کے صدور سے پہلے وہ اس فعل کو استطاعت نہ رکھنے والے شمارہوں گے۔ بطلان کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے منافقین کے اس دعوے کی تکذیب کردی جو وہ جہاد کے لئے نکلنے سے قبل ہی اپنی ذات سے استطاعت کی نفی کے متعلق کررہے تھے۔ اس میں حضور ﷺ کی نبوت کی صداقت کی دلالت بھی موجود ہے اس لئے کہ حضور ﷺ نے یہ بتادیا تھا کہ یہ منافقین عنقریب تمہارے پاس آکر اپنی سچائی ثابت کرنے کے لئے کہ حضور ﷺ نے یہ بتادیا تھا کہ یہ منافقین عنقریب تمہارے پاس آکر اپنی سچائی ثابت کرنے کے لئے قسمیں کھائیں گے، چناچہ منافقین آگئے اور انہوں نے قسمیں بھی کھائیں، اس طرح حضور ﷺ کی اطلاع کہ ایسا ہوگا بالکل درست ثابت ہوگئی۔
Ayah 9:43عفا اللہ کے معانی
قول باری ہے (عفا اللہ عنک لم اذنت لھم حتی یتبین لک الذین صدقوا وتعلم الکاذبین۔ اے نبی ﷺ ! اللہ تمہیں معاف کرے، تم نے کیوں انہیں رخصت دے دی ؟ (تمہیں چاہیے کہ خود رخصت نہ دیتے) تاکہ تم پر کھل جاتا کہ کون لوگ سچے ہیں اور جھوٹوں کو بھی تم جان لیتے) عضو کے کئی معانی ہیں۔ تسہیل و توسعہ کو بیھ عفو کہتے ہیں جس طرح حضور ﷺ کا یہ ارشاد ہے (اول الوقت رضوان اللہ واخرہ عفو اللہ۔ اول وقت میں نماز کی ادائیگی سے اللہ کی رضامندی اور خوشنودی حاصل ہوتی ہے اور آخر وقت کی ادائیگی میں اللہ کی طرف سے گنجائش اور وسعت ہوتی ہے) عفو ترک کے معنوں میں بھی آتا ہے جس طرح آپ ﷺ کا ارشاد ہے (احفوا الشوارب واعفوا اللحیٰ ۔ مونچھیں خوب کتروائو اور ڈاڑھی کے بال چھوڑ دو ) عفو کثرت کے معنوں میں بھی آتا ہے جس طرح یہ قول باری ہے (حتیٰ عفو ! یہاں تک کہ ان کی کثرت ہوگئی) یعنی ان کی تعداد بہت ہوگئی۔
اسی طرح محاورہ ہے۔ ” اعفیت فلانا من کذا وکذا (میں نے فلاں کی فلاں چی سے جان چھڑا دی) یہ فقرہ اس وقت استعمال ہوتا ہے جب کوئی شخص کسی شخص کے لئے کسی چیز کو چھوڑ دینا آسان بنادے۔ گناہ سے درگزر کرنا بھی عفو کہلاتا ہے۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ گنہگار کو اس گناہ کے نتائج سے چھٹکارا دے کر اسے اس کی سزا نہ دی جائے۔ اس مقام پر عفو کا لفظ غفران کے ہم معنی ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس کے اصل معنی تسہیل کے ہوں جب خدا اپنے بندے کے گناہ معاف کردیتا ہے تو گویا وہ اس سے اس کا بدلہ نہ لے کر اس کے لئے معاملہ آسان کردیتا ہے۔
اس لفظ کے مذکورہ بالا تمام معانی کے اندر اس بات کی گنجائش ہے کہ اصل معنی ترک اور توسعہ کے ہوں بعض لوگوں کا قول ہے کہ منافقین کو اجازت دے کر گویا حضور ﷺ سے گناہ صغیرہ کا صدور ہوگیا تھا اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (عضا اللہ عنک لم اذنت لھم) اس لئے کہ ہمارے لئے یہ فقرہ کہنا درست نہیں ہوتا کہ ” تم نے وہ کام کیوں کیا جس کے کرنے کے لئے میں نے تمہیں کہا تھا ” جس طرح یہ کہنا درست نہیں ہے کہ تم نے وہ کام کیوں کیا جس کے کرنے کا میں نے تمہیں حکم دیا تھا “ اس لئے اس فعل پر عفو کا اطلاق درست نہیں ہوگا جسے کرنے کے لئے کہا گیا۔ جس طرح یہ درست نہیں ہوگا کہ جس کام کے کرنے کا حکم دیا گیا ہو اس کے سلسلے میں کرنے والے کو معافی دے دی جائے۔ ایک قول یہ ہے کہ حضور ﷺ نے انہیں اجازت دے کر کسی صغیرہ یا کبیرہ گناہ کا ارتکاب نہیں کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے زیر بحث آیت میں حضور ﷺ کو جن الفاظ کے ساتھ خطاب کیا ہے اس کا مفہوم یہ ہے کہ آپ نے وہ کام کیوں کیا جس کے کرنے کی اگرچہ اجازت تھی لیکن ایک دوسرا کام اس سے بہتر اور اولیٰ تھا اس لئے کہ یہ جائز ہے کہ حضور ﷺ کو دو باتوں میں سے کسی ایک کا اختیار دے دیا جائے اور ایک بات دوسری سے اولیٰ ہو۔
اس کی مثال یہ قول باری ہے (فلیس علیھن جناح ان یضعن ثیابھن غیر متبرجات بزینۃ وان یستعففن خیر لھن۔ ان پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ اپنے زائد کپڑے اتار رکھیں بشرطیکہ زینت کا مظاہرہ کرنے والی نہ ہوں اور اگر اس سے بھی احتیاط کریں تو ان کے حق میں اور بہتر ہو) اللہ تعالیٰ نے دونوں باتیں مباح کردیں لیکن ان میں سے ایک کو اولیٰ قرار دیا۔ شعبہ نے قتادہ سے قول باری (عفا اللہ عنک لم اذنت لھم) کی تفسیر میں روایت کی ہے کہ یہ حکم اسی طرح تھا جیسا کہ تم سنتے ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے سورة نور میں یہ آیت نازل فرمائی (واذا کانو معہ علی امر جامع ثم یذھبوا حتی یستاذنوہ ۔ اور جب رسول کے ساتھ کسی ایسے کام پر ہوتے ہیں جس کے لئے لوگوں کو جمع کیا گیا ہو تو جب تک تم سے اجازت نہیں لیتے نہیں جاتے) تا قول باری (فاذن لمن مشئت منھم تو تم ان میں سے جس کو چاہو اجازت دے دو ) اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں رخصت اور اجازت دے دی۔
علی بن ابی طلحہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے قول باری (انما یستاذنک الذین لایومنون باللہ والیوم الاٰخر وارتابت قلوبھم فھم فی ریبھم یترددون۔ جو لوگ سچے دل سے اللہ اور یوم آخر پر ایمان رکھتے ہیں وہ تو کبھی تم سے درخواست نہیں کریں گے کہ انہیں اپنی جان و مال کے ساتھ جہاد کرنے سے معاف کیا جائے) کی تفسیر میں روایت کی ہے کہ یہ آیت بعینہ منافقین کے بارے میں ہے جب انہوں نے جہاد سے گھر بیٹھ رہنے کی اجازت مانگی تھی حالانکہ انہیں عذر بھی درپیش نہیں تھا۔ دوسری طرف اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے عذر کو قبول کرتے ہوئے فرمایا (وآذا کانوا معہ علی امر جامع لم یذھبوا حتی یستاذنوہ) عطاء خراسانی نے حضرت ابن عباس ؓ سے قول باری (انما یستاذنک الذین لایومنون) الخ کی تفسیر میں نقل کیا ہے کہ اسے اس قول باری نے منسوخ کردیا ہے (واذا کانوا معہ علی امر جامع لم یذھبوا حتی یستاذنوہ) تا قول باری (فاذن لمن شئت منھم) اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو دو باتوں میں سے اعلیٰ بات کو اختیار کرنے کی اجازت دے دی۔
ابو بکر جصاص کہتے ہیں ممکن ہے کہ قول باری (عفا اللہ عنک لم اذنت لھم) منافقین کے ایک گروہ کے متعلق ہوج سے نفاق کی تہمت لگ چکی ہو اور حضور ﷺ نے گھر بیٹھ رہنے کی اجازت نہ دے کر ان لوگوں کی حقیقت حال کو پرکھنا چاہا ہو تاکہ جو لوگ جہاد میں نکل پڑنے کے حکم کے بعد بھی نہ نکلیں ان کا نفاق ظاہر ہوجائے۔ اس صورت میں ایسے لوگوں کے متعلق آیت کا حکم ثابت رہے گا منسوخ نہیں سمجھا جائے گا اس پر قول باری (حتی یتبین لک الذین صدقوا وتعلم الکاذبین ) بھی دلالت کرتا ہے۔ اس بنا پر قول باری (واذا کانوا معہ علیٰ امر جامع لم یھذبوا حتیٰ یستاذنوہ) نیز (فاذن لمن شئت منھم) ان اہل ایمان کے بارے میں ہوگا جنہیں اگر اجازت نہ ملتی تو نہ جاتے۔ اس تفسیر کی بنا پر دو نوں میں سے کوئی بھی آیت دوسری آیت کو منسوخ نہیں کرے گی۔
Ayahs 9:44–45قول باری ہے (لایستاذنک الذین یومنون باللہ والیوم الاٰخر۔ جو لوگ سچے دل سے اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہیں وہ تو کبھی تم سے درخواست نہیں کریں گے) تا قول باری (باموالھم وانفسھم۔ اپنی جا و مال کے ساتھ) تا آخر آیت۔ یعنی اہل ایمان تم سے اس بات کی درخواست نہیں کریں گے کہ انہیں اپنی جان و مان کے ساتھ جہاد کرنے سے معاف رکھا جائے۔ قول باری (ان یجاھذوا) میں حرف لا پوشیدہ ہے اس لئے کہ اس پر کلام دلالت کررہا ہے۔ یہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ جہاد سے پیچھے رہ جانے کی اجازت طلب کرنا ان کے لئے ممنوع تھا اور یہ بات قول باری (عفا اللہ عنک) کی اس تفسیر کی صحت پر دلالت کرتی ہے جس کے مطابق آیت کو کسی گناہ سے عفو پر محمول کیا گیا ہے اگرچہ گناہ صغیرہ ہی کیوں نہ ہو۔ حسن سے قول باری (ان یجاھدوا) کی تفسیر میں مروی ہے کہ یہاں لفظ کراھۃ مقدر ہے اور عبارت یوں ہے کراھۃ ان یجاھدوا۔ اس کے معنی بھی وہی ہیں جو حرف لا پوشیدہ ماننے کی صورت میں معنی ہوں گے۔ اس لئے کہ حرف لا کا اضمار اور لفظ کراھۃ کا اضمار معنی کے لحاظ سے یکساں ہے۔
یہ آیت بھی جان و مال کے ساتھ جہاد کی فرضیت پر دلالت کرتی ہے۔ اس لئے کہ اللہ نے فرمایا (ان یجاھدوا باموالھم وانفسھم) اللہ تعالیٰ نے جان و مال کے ساتھ ترک جہاد کی اجازت مانگنے پر ان کی مذمت کی۔ مال کے ساتھ جہاد کی دو صورتیں ہیں۔ ایک تو یہ کہ اپنے لئے جنگی ہتھیار، گھوڑا، زادراہ اور ضرورت کی تمام دوسری اشیاء تیار کرنے کی غرض سے مال خرچ کرے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ کسی اور کو جہاد پر جانے کے لئے تیار کرنے کی غرض سے کھانے پینے کی چیزوں سے لے کر ہتھیار تک ضروری اشیاء کی فراہمی پر اپنا مال خرچ کرے۔ جان کے ساتھ جہاد کی کئی صورتیں ہیں۔ ایک صورت تو یہ ہے کہ خود جہاد کے لئے نکل کر عملی طور پر میدان کارزار میں سرگرم ہوجائے، دوسری صورت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جہاد کی فرضیت، اس کی اہمیت، اس پر ملنے والے ثواب جزیل اور اس سے کوتاہی پر سخت عذاب کے موضوع کو لوگوں کے سامنے زبان و قلم کے ذریعے بیان کرے۔ لوگوں کو جہاد پر ابھارے اور انہیں اس کا حکم دے۔
ایک صورت یہ بھی ہے کہ دشمن کے خفیہ حالات، ان کی خفیہ چالیں اور جنگی تدبیریں معلوم کرے۔ اور مسلمانوں کو ان سے آگاہ کرے۔ اسی طرح جنگ کے بارے میں صحیح مشورہ دینا نیز بہتر طریقوں اور زیادہ کارآد صورتوں کی طرف رہنمائی کرنا بھی جہاد بالنفس میں داخل ہے جیسا کہ حضرت حباب بن المنذر ؓ نے حضور ﷺ سے بدر کے معرکہ میں عرض کیا تھا کہ ” اللہ کے رسول ﷺ ! آپ ﷺ نے جو یہاں پڑائو ڈالا ہے یہ اللہ کے حکم کے تحت اور اس کی وحی کی رہنمائی میں ہوا ہے یا آپ ﷺ نے اپنی رائے سے یہ قدم اٹھایا ہے ؟ آپ ؐ نے جواب دیا میں نے اپنی رائے سے یہ قدم اٹھایا ہے۔ اس پر حضرت حباب ؓ نے عرض کیا ! ” میری رائے تو یہ ہے کہ آپ کسی کنویں پر پڑائو ڈالیں اور کنوئیں کو اپنی پشت کی جانب رکھیں اور دشمن کی سمت جتنے کنویں ہوں انہیں بند کردیں۔ “ حضور ﷺ نے حضرت حباب ؓ کا مشوروہ قبول کرتے ہوئے یہی طریق کار اختیار کیا۔ اس میں وہ تمام مشورے شامل ہیں جن پر عمل کرکے مسلمانوں کو تقویت حاصل ہوا اور دشمن کو کمزوری۔
اگر یہ کہا جائے کہ پھر کون سا جہاد افضل ہے۔ جان و مال کے ساتھ جہاد یا علم کے ساتھ جہاد ؟ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ تلوار کے ساتھ جہاد علم کے ساتھ جہاد پر مبنی ہے اور اس کی شاخ ہے اس لئے کہ تلوار کے ساتھ جہاد کی صورت میں علم جن باتوں کا موجب ہے ان سے تجاوز کرنا جائز نہیں ہوتا۔ اس لئے علم کے ساتھ جہاد اصل ہے اور جان کے ساتھ جہاد فرع ہے اور اصل بہرحال فرع کے مقابلہ میں افضل ہوتا ہے۔
جہاد بمقابلہ علم
اگر یہ پوچھا جائے کہ علم حاصل کرنا افضل ہے یا مشرکین کے خلاف جہاد کرنا تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ جب دشمن کی طرف سے جارحیت کا خطرہ ہوا اور مسلمانوں پر اس کے حملے کا خوف ہوا اور دوسری طرف اس کا راستہ روکنے کے لئے کوئی دفاعی قوت بھی سدراہ نہ ہو تو اس صورت میں ہر شخص پر جہاد فرض ہوجائے گا اس صورت حال میں علم حاصل کرنے کی بہ نسبت میدان کار زار میں دشمنوں سے نبرد آزما ہونا افضل ہوگا۔ اس لئے کہ اگر دشمن کو مسلمانوں پر بالادستی حاصل کرنے اور انہیں نقصان پہنچانے کا موقع مل گیا تو اس کی تلافی ممکن نہیں ہوگی جب کہ علم کا حصول تمام احوال میں ممکن ہوتا ہے نیز علم حاصل کرنا فرض کفایہ ہے ہر شخص پر اس کی ذاتی حیثیت میں فرض نہیں ہے لیکن جب دشمن کے مقابلہ میں ایسی قوت موجود نہ ہو جو اسے مسلمانوں کے خلاف جارحیت سے باز رکھ سکتی ہو تو ایسی صورت میں فریضہ جہاد کا ہر شخص پر اس کی ذاتی حیثیت میں تعین ہوجاتا ہے اور جب ایک کام فرض عین بن جائے جس میں کسی شخص کے لئے تاخیر کی گنجائش نہ ہو تو وہ اس فعل سے افضل قرار پائے گا جسے کوئی شخص اگر انجام دے دے تو اس کی فرضیت دوسروں سے ساقط ہوجائے گی۔ مثلاً ظہر کا وقت اپنے آخر پر پہنچ رہا ہو ایسے وقت میں علم دین میں مشغولیت کی بہ نسبت ظہر کی نماز ادا کرنا اولیٰ ہوگا اس لئے کہ نماز کی فرضیت اس خاص وقت میں متعلقہ شخص پر متعین ہوچکی ہے۔
زیر بحث مسئلہ کی بھی یہی صورت ہے اگر دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے فریضہ جہاد ادا کرنے والے موجود ہوں اور ان کے ہوتے ہوئے دوسروں کی خدمات کی ضرورت نہ پڑتی ہو تو ایسی صورت میں فریضہ جہاد فرض کفایہ ہوگا جس طرح علم دین حاصل کرنا فرض کفایہ ہے۔ البتہ ایسی حالت میں علم دین حاصل کرنا جہاد کرنے سے افضل ہوگا۔ اس لئے کہ علم دین کا مرتبہ جہاد کے مرتبے سے بلند ہے کیونکہ جہاد کا ثبات علم دین کے ثابت پر مبنی ہے اور علم دین اصل ہے اور جہاد اس کی فرع ہے۔
کی جہاد، فسقا و فجار کی معیت میں جائز ہے ؟
اگر پوچھا جائے کہ آیا فاسق و فاجر لوگوں کی معیت میں جہاد جائز ہے تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ جہاد میں حصہ لینے والا ہر مجاہد صرف اپنی ذات پر عائد شدہ فرض کی ادائیگی میں مصروف ہوتا ہے اس بنا پر کافروں کے خلاف جہاد اس لئے جائز ہے خواہ امیر لشکر اور فوج کے سپاہی فاسق و فاجر ہی کیوں نہ ہوں حضور ﷺ کے صحابہ کرام خلفائے اربعہ کے بعد فاسق سالاروں کی ماتحتی میں فریضہ جہاد ادا کیا کرتے تھے۔ حضرت ابو ایوب انصاری ؓ نے یزید کی سالاری میں جہاد کیا تھا۔ ہم نے گزشتہ اوراق میں حضرت ابو ایوب ؓ کے متعلق روایت بیان کردی ہے کہ آپ نے صرف ایک سال غزوات میں حصہ نہیں لیا تھا اور اس کی وجہ یہ ہوئی تھی کہ ایک نوجوان شخص کو امیر لشکر مقرر کردیا گیا تھا ایک سال کے بعد آپ نے فرمایا : ” مجھے اس سے کیا غرض کہ مجھ پر کون امیر مقرر کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تو فرمادیا ہے (انفروا خفافاً وثقالاً نکلو ہلکے اور بوجھل) اور میں اپنے آپ کو ہلکا یا بوجھل ضرور پاتا ہوں۔ “
یہ روایت اس پر دلالت کرتی ہے کہ فاسقوں کی معیت میں جہاد اسی طرح فرض ہے جس طرح پاکبازوں کی معیت میں، نیز جہاد کو واجب کرنے والی تمام آیات نے فاسقوں کی معیت میں اس کی ادائیگی اور پاکبازوں کی معیت میں اس کی ادائیگی کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا ہے۔ نیز فاسق و فاجر جب جہاد کریں گے تو وہ کم از کم اس فریضہ کی ادائیگی کے لحاظ سے فاسق نہیں رہیں گے بلکہ اطاعت گزار شمار ہوں گے جس طرح نماز روزہ اور دیگر فرائض کی ادائیگی میں انہیں اطاعت گزار ہی شمار کیا جائے گا۔ نیز جاہد امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ایک صورت ہے۔ اگر ہم کسی فاسق کو امر بالمعروف یا نہی عن المنکر کرتا دیکھیں تو اس معاملے میں ہم پر اس کی معانونت واجب ہوگی۔ فریضہ جہاد کی بھی یہی صورت ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اس فرض کو صرف پاکبازوں اور نیکوکاروں کے ساتھ خاص نہیں کردیا کہ اس میں فاسق و فاجر جو لوگ شامل نہ ہوسکتے ہوں۔ جب فرض کی حیثیت یکساں ہے تو پھر فاسقوں اور پاکبازوں کی معیت میں جہاد کرنے کے حکم میں کوئی فرق نہیں ہوگا۔
جہاد کی تیاری پہلے ضروری ہے
Ayah 9:46قول باری ہے (ولو ارادوا الخروج لاعدوا لہ عدۃ۔ اگر ان کا جہاد پر نکلنے کا ارادہ ہوتا تو وہ اس کے لئے تیاری کرلیتے) عدۃ اس سامان اور اسباب کا نام ہے جو انسان اپنے لئے مستقبل میں سرانجام پانے والے کاموں کی خاطر تیار کرتا ہے۔ لفظ ’ اھبہ ‘ کے بھی یہی معنی ہیں۔ یہ قول باری دشمن کے ساتھ جنگ چھڑنے سے قبل ہی جنگ کی تیاریوں کے وجوب پر دلالت کرتا ہے۔ اس کی نظیر یہ قول باری ہے (واعدوا لھم مااستطعتم من قوۃ ومن رباطا الخیل اور تم سے جہاں تک ہوسکے زیادہ سے زیادہ طاقت اور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے ان کے مقابلہ کے لئے مہیا رکھو)
قول باری ہے (ولکن کرہ اللہ انبعاثم فثبتھم۔ لیکن اللہ کو ان کا اٹھنا پسند ہی نہ تھا اس لئے اس نے انہیں سست کردیا) یعنی اللہ تعالیٰ کو ان کا جہاد پر نکعلنا پسند ہی نہیں تھا اس لئے کہ ان منافقین کا جہاد کے لئے نکلنا بھی فساد مچانے، مسلمانوں کا ساتھ چھوڑنے، ان کے دلوں میں دشمن کا خوف طاری کرنے اور ان کے درمیان پھوٹ ڈالنے کی نیت سے ہوتا۔ اس نیت سے جہاد کےئے نکلنا سراسر معصیت اور کفر ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کو ان کا اٹھنا پسند ہی نہ ہوا اور اس نے انہیں سست کردیا۔ اس لئے کہ یہ سراسر معصیت تھی اور اللہ تعالیٰ فساد کو پسند نہیں کرتا۔
قول باری ہے (وقیل اقعدوا مع القاعدین۔ اور ان سے کہا گیا کہ بیٹھ رہنے والوں کے ساتھ تم بھی بیٹھ رہو) یعنی عورتوں اور بچوں کے ساتھ۔ ہوسکتا ہے کہ حضور ﷺ نے یہ بات ان سے فرمائی ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انہوں نے آپس میں ایک دوسرے کو اس بات کی تلقین کی ہو۔