Ayah 9:33بعثت نبوی کی غرض و غایت ، غلبہ اسلام کے لئے ہے
قول باری ہے (ھو الذی ارسل رسولہ بالھدیٰ ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ۔ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اسے پوری جنس دین پر غالب کردے) اس میں حضور ﷺ اور اہل ایمان کے لئے بشارت ہے کہ اللہ ان کی مدد کرے گا اور ان کے دین کو تمام دوسرے ادیان پر غالب کردے گا۔ یعنی حجت و دلائل کی قوت اور غلبے کے ذریعے یہ دوسری تمام امتوں پر اس امت کو غلبہ عطا کرکے اللہ تعالیٰ دین اسلام کا پرچم بلند کردے گا۔ آیت میں جس امر کی خبر دی تھی واقعاتی دنیا میں بھی ایسا ہی پیش آیا۔ یہ امت دین اسلام کی مخالفت اور دشمن قوتوں اور قوموں پر غالب آگئی اور ان پر اسے بالادستی حاصل ہوگئی۔
اس میں حضور ﷺ کی نبوت کی صداقت پر دلالت موجود ہے۔ نیز یہ دلالت بھی ہے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور اللہ کے پاس سے حضور ﷺ پر نازل ہوا ہے اس لئے کہ اس قسم کی پیشین گوئیاں اندازے لگانے والوں نیز طن و تخمین کی بنیاد پر آئندہ کی باتیں بتانے والوں اور جھوٹی خبریں دینے والوں کو میسر نہیں آسکتیں جبکہ قرآن میں کثرت سے غیب کی خبریں بتائی گئی ہیں۔ اور غیب کی خبر اللہ کے سوا کسی اور کو نہیں ہوسکتی اس لئے قرآن مجید، اللہ کا کلام ہے اور اس میں بیان ہونے والی باتیں اللہ کی طرف سے دی ہوئی خبریں ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنا کلام صرف اپنے رسولوں پر نازل کرتا ہے۔
Ayah 9:34اخبار و رہبان کی اکثریت لوگوں کے مال باطل طریقے سے ہڑپ کرتی ہے
قول باری ہے (یایھا الذین اٰمنوا ان کثیراً من الاحبار والرھبان لیاکلون اموال الناس باباطل اے ایمان لانے والو ! ان اہل کتاب کے اکثر علماء اور درویشوں کا حال یہ ہے کہ وہ لوگوں کے مال باطل طریقوں سے کھاتے ہیں) باطل طریقوں سے مال کھانے کا مفہوم یہ ہے کہ مال پر ناجائز طریقوں سے قبضہ کرلیا جائے جن سے مروی ہے کہ یہ لوگ فیصے کرنے میں رشوتیں لیتے تھے۔ یہاں صرف اکل یعنی کھانے کا ذکر ہوا ہے لیکن مراد تمام منافع و فوائد اور تصرفات ہیں چونکہ مال کا سب سے بڑا فائدہ اکل و شرب کی صورت میں حاصل ہوتا ہے اس لئے اس کا ذکر ہوا۔ اس کی نظیر یہ قول باری ہے (لاتاکلوا اموالکم بینکم بالباطل۔ آپس میں باطل طریقوں سے ایک دوسرے کا مال نہ کھائو) اس سے منافع کی تمام صورتیں مراد ہیں یا جس طرح یہ قول باری ہے (ولا تاکلوا اموالھم۔ ان کے مال نہ کھائو) نیز (ان الذین یاکلون اموال الیتامیٰ ۔ جو لوگ یتیموں کا مال کھاجاتے ہیں) وغیرہا۔
انفاق کلی مراد ہے یا بعض ؟
قول باری ہے (والذین یکنزون الذھب والفضۃ ولا ینفقو نھا فی سبیل اللہ جو لوگ سونا چاندی جمع کرکے رکھتے ہیں اور انہیں خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ہیں ) تا آخر آیت۔ ظاہر آیت اس امر کی مقتضی ہے کہ سارا مال اللہ کی راہ میں خرچ کردیا جائے اس لئے وعید اس شخص کو لاحق ہورہی ہے جو سارا مال اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتا۔ اس لئے کہ قول باری ہے (ولا ینفقونھا) اللہ نے یہ نہیں فرمایا : ” ولا ینفقون منھا۔ (وہ اپنے مال میں سے خرچ نہیں کرتے)
اگر یہ کہا جائے کہ سارا مال خرچ کردینا اگر مراد ہوتا تو آیت کے الفاظ یہ ہوتے۔ ” ولا ینفقونھا (اور وہ سونا چاندی خرچ نہیں کرتے) تو اس کے جواب میں یہ کہاجائے گا کہ آیت کے الفاظ اس طرح نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ کلام ایسے امر کی طرف راجع ہے جو پورا مال خرچ کردینے کے مفہوم کا مدلول ہے گویا یوں ارشاد ہوا ” ولاینفقون الکنوز “ (اور اپنے خزانوں یعنی جمع شدہ اموال کو خرچ نہیں کرتے) دوسری توجیہ یہ ہے کہ ایجاذ کے طور پر ایک چیز یعنی چاندی کے ذکر کو سونے کے ذکر کے لئے کافی سمجھ لیا گیا۔ جس طرح یہ قول باری ہے (واذا راوتجارۃ اولھون انفضوا الیھا۔ اور جب کوئی تجارت یا کھیل تماشہ دیکھتے ہیں تو اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں) یہاں ایجاز کے طور پر صرف تجارت کا ذکر ہوا جس کی طرف لوگ دوڑ پڑتے تھے۔ شاعر کا قول ہے۔
نحن بما عندا وانت بما عندک راض والرای مختلف
ہمارے پاس جو چیز ہے اس پر ہم راضی ہیں اور جو تمہارے پاس جو کچھ ہے اس پر تم راضی ہو، ہمارے تمارے درمیان صرف آراء کا اختلاف ہے۔
یہاں شاعر نے ایجاز کے طور پر ” راض “ کا لفظ ایک دفعہ بیان کیا جس کا تعلق انت کی ضمیر کے ساتھ ہے جبکہ مفہوم کے لحاظ سے اس کا تعلق نحن کے ساتھ بھی ہے لیکن الفاظ میں مذکور نہیں ہے اس لئے معنی کے لحاظ سے یہاں ’ رضوان ‘ کا لفظ بھی موجود ہے۔
قول باری میں انفاق کا تعلق سونا اور چاندی دونوں سے ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ اگر اس کا رجوع صرف ایک کی طرف ہوتا دوسرے کی طرف نہ ہوتا تو اس صورت میں ان میں سے ایک خبر سے خالی رہ جاتا اور پھر یہ ایک منقطع کلام بن جاتا جو بےمعنی ہوتا۔ اس لئے کہ قول باری (والذین یکنزون الذھب والفضۃ) کو خبر کی ضرورت ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ آیت کے صرف اتنے حصے پر اقتصار کرلینا کسی طرح درست نہیں ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ ایک اور حصہ بھی چاہیے جو خبر کی جگہ لے سکے۔
ظاہر آیت کے معنوں میں کئی روایات منقول ہیں۔ موسیٰ بن عبیدہ نے بیان کیا ہے کہ انہیں عمران بن ابی انس نے مالک بن اوس بن الحدثان سے اور انہوں نے حضرت ابوذر ؓ سے یہ روایت کی ہے کہ میں نے حضور ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اونٹوں میں زکوٰۃ ہے جو شخص دینار یا درہم یا سونا چاندی جمع کرتا ہے جسے وہ کسی قرض خواہ کے قرض کی ادائیگی کے لئے تیار نہیں رکھتا اور نہ ہی اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے تو وہ لوہا تیار کرتا ہے جس کے ذریعے قیامت کے دن اسے داغا جائے گا۔ “ راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : حضور ﷺ کے اس ارشاد پر غور فرمائیے۔ کیونکہ لوگوں کے پاس ان اموال کی ؟ ؟ ہوگئی ہے۔ یہ سن کر حضرت ابو ذر ؓ نے فرمایا : کیا تم قرآن کی یہ آیت نہیں پڑھتے (والذی یکنزون لذھب والفضۃ) تاآخر آیت۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ ظاہر حدیث اس امر کی مقتضی ہے کہ اونٹوں میں زکوٰۃ ہے سارے اونٹ دینا مراد نہیں ہے۔ صرف فرض شدہ زکوٰۃ ادا کرنا ضروری ہے لیکن سونا اور چاندی میں سارے کا سارا خرچ کردینا ضروری ہے۔ حضرت ابوذر ؓ کا مسلک یہی تھا کہ سونا چاندی ذخیرہ کرنا جائز نہیں ہے۔ محمد بن عمر ؓ نے ابو سلمہ سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : مجھے یہ بات پسند نہیں کہ احد پہاڑ کے برابر میرے پاس سونا ہو اور تین دن گزر جانے کے بعد اس میں سے کچھ بھی میرے پاس باقی رہ جائے الا یہ کہ مجھے صدقہ قبول کرنے والا کوئی نہ ملے یا کہ میں اسے اپنا قرض اتارنے کے لئے کچھ چھوڑوں۔ “ اس روایت میں یہ مذکور ہے کہ حضور ﷺ نے اپنی ذات کیلئے سونا چاندی ذخیرہ کرنا پسند نہیں کیا بلکہ اسے خرچ کردینا پسند فرمایا لیکن آپ ﷺ نے خرچ نہ کرنے والے کے لئے کسی وعید کا ذکر نہیں کیا۔
قتادہ نے شہر بن حوشب سے اور انہوں نے حضرت ابو امامہ سے روایت کی ہے کہ اہل صفہ میں سے ایک صحابی کا انتقال ہوگیا۔ اس کے پاس سے ایک دینا برآمد ہوا تو حضور ﷺ نے فرمایا :
اس کے ذریعہ قیامت میں اسے داغا جائے گا۔ یہ ممکن ہے کہ آپ کو شاید پتہ چل گیا ہو کہ مرنے والے نے یہ دینار حاصل کیا تھا حالانکہ انہیں اس کی ضرورت نہیں تھی۔ جس طرح حضور ﷺ سے یہ مروی ہے کہ جس شخص نے مالدار ہوتے ہوئے کسی کے سامنے دست سوال دراز کیا اس نے گویا اپنے لئے جہنم کے انگاروں کا ڈھیر لگالیا “ صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ اس کی مال داری کی کیا حد ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اس کی حد یہ ہے کہ اس کے اہل خانہ کے پاس اتنا مال موجود ہو جس سے وہ اپنے اہل و عیال کے لئے صبح و شام کی دو وقت خوراک کا انتظام کرسکتا ہو۔ “ یہ اس وقت کی بات تھی جب لوگ انتہائی ضرورت مند ہوتے تھے اور نہایت عزت سے زندگی گزارتے تھے جس کی بنا پر ایک دوسرے کی خبر گیری اور مدد ان پر واجب تھی۔
حضرت عمر بن عبدالعزیز سے مروی ہے کہ سارا سونا چاندی خرچ کردینے کا حکم ہے۔ قول باری (خذ من اموالھم صدقۃ تطھرھم بھا۔ آپ ان کے اموال میں سے صدہق لیں جس کے ذریعے آپ انہیں پاک کردیں) ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ نقل مستفیض کی بنا پر حضور ﷺ سے یہ بات ثابت ہے کہ آپ نے دو سو درہم میں پانچ درہم اور بیس دینار میں نصف دینار زکوٰۃ کے طور پر واجب کردیا تھا۔ جس طرح آپ نے مویشیوں میں زکوٰۃ کے وجوب کا حکم دیا تھا اور ساے مویشی اللہ کی راہ میں دے دینا واجب قرار نہیں دیا تھا۔ اگر سارے کا سارا سونا اور چاندی خرچ کرنیا واجب ہوتا تو پھر نصاب مقرر کرنے نیز اس نصاب پر زکوٰۃ لازم کرنے کا کوئی فائدہ نہ ہوتا۔ نیز صحابہ کرام میں ایسے حضرات بھی موجود تھے جو بڑے خوشحال تھے اور جن کے پاس وافر مقدار میں مال و دولت موجود تھی۔ مثلاً حضرت عثمان ؓ اور حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ وغیرہما۔ حضور ﷺ کو ان کی اس دولت مندی کا علم بھی تھا لیکن آپ ﷺ نے انہیں سارے کا سارا مال اللہ کی راہ میں خرچ کردینے کا حکم نہیں دیا۔
اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ سارے کا سارا سونا چاندی خرچ کردینا واجب نہیں ہے۔ بلکہ صرف فرض زکوٰۃ نکالنا واجب ہے الا یہ کہ کوئی ایسی صورت پیش آجائے جو ہمدردی اور خبرگیری نیز مدد کو واجب کردیتی ہو مثلاً بھوک کے ہاتھوں مجبور انسان یا افلاس کا مارا ہوا تن بدن پر کپڑے سے عاری شخص آجائے یا کسی بےگورو کفن میت کی تجہیز و تکفین کا مسئلہ سامنے آجائے تو ان صورتوں میں ایک شخص کو اپنے مال میں سے خرچ کرنا چاہیے۔ زکوٰۃ ادا کرنے کے بعد اسے ان صورتوں میں پیسہ خرچ کرنے سے ہاتھ اٹھالینا نہیں چاہیے۔ شریک نے ابو حمزہ سے، انہوں نے عامر سے، انہوں نے حضرت فاطمہ بنت قیس سے اور انہوں ن ے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا (فی السمال حق سوی الزکوٰۃ۔ زکوٰۃ کے سوا بھی مال میں حق ہے) اس موقع پر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی (لیس البر ان تولوا وجوھکم قبل المشرق والمغرب۔ نیکی یہ نہیں کہ تم اپنا رخ مشرق اور مغرب کی طرف پھیرو) تا اخر آیت۔
قول باری (ولا ینفقونھا فی سبیل اللہ) میں یہ احتمال ہے کہ اس سے ولاینفقون منھا۔ مراد ہو، حرف من حذف کردیا گیا ہو لیکن معنی کے لحاظ سے وہ مراد ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس مراد کو اپنے اس قول (خذ من اموالھم صدقۃ ) سے بیان کردیا ہو۔ اور اس طرح مال کا بعض حصہ وصول کرنے کی ہدایت دے دی گئی کل مال وصول کرنے کی نہیں۔ اس سے پہلی آیت کے نسخ کا وجوب نہیں ہوتا اس لئے کہ اس سے ولاینفقون منھا۔ مراد لینا درست ہے اس لئے نسخ لازم نہیں آتا۔
کنز کسے کہتے ہیں ؟
کنز ایک چیز کو بھینچ دینا اور اسے اچھی طرح دبا کر رکھنے کو کہتے ہیں۔ الھندلی کا شعر ہے۔
لادر دری ان الطعمت نازلسکم قرف الحتی وعندی البر مکنوز
خدا کرے میں خوش حال نہ رہوں اگر میں تمہارے مہمان کو بھوسے کی روٹی کا تنور میں رہ جانے والا چھلکا کھلائوں یعنی جلی ہوئی روٹی دوں جب کہ میرے گندم کا آٹا موجود ہو جو ٹھسا ہوا رکھا ہے۔
جب آپ کھجور کو بانس کی ٹوکری میں دبا دبا ر رکھیں تو اس وقت کہا جاتا ہے : کنرت التمر۔ شریعت میں کنز اس مال کا نام ہے جس کی زکوٰۃ ادا نہ کی گئی ہو۔ حضرت عمر ؓ ، حضرت ابن عباس ؓ ، حضرت ابن عمر ؓ حسن، عامر، سدی اور دیگر حضرات سے مروی ہے کہ جس مال کی زکوٰۃ ادا نہ کی گئی ہو وہ کنز کہلائے گا۔ پھر ان میں سے بعض کا یہ قول ہے کہ اگر زکوٰۃ نہ نکالی گئی ہو تو وہ مال خواہ ظاہر ہو یعنی دفینے کی صورت میں نہ ہو کہ کنز کہلائے گا اور اگر زکوٰۃ نکال دی گئی ہو تو وہ مال خواہ دفینے کی صورت میں ہو کنز نہیں کہلائے گا۔ یہ بات تو واضح ہے کہ شرعی اسماء توقیف یعنی شرعی دلیل اور رہنمائی کے ذریعے ہی مقرر کئے جاتے ہیں اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ کنز ہر اس مال کا نام ہے جس کی مقررہ زکوٰۃ نہ نکالی گئی ہو۔ جب بات اس طرح ہے تو قول باری (والذین لا یکنزون الذھب والفضۃ) کی عبارت کچھ اس طرح ہوگی۔ الذین لایودون زکاۃ الذھب والفضۃ (جو لوگ سونے اور چاندی کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتے) پھر فرمایا (ولاینفقونھا) یعنی زکوٰۃ کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے۔ اس صورت میں آیت صرف وجوب زکوٰۃ کی مقتضی ہوگی کسی اور مفہوم کی نہیں۔
ہمیں محمد بن بکر نے روایت بیان کی۔ انہیں ابودائود نے، انہیں عثمان بن ابی شیبہ نے، انہیں یحییٰ بن یعلی المحاربی نے، انہیں ان کے والد نے ، انہیں غیلان نے جعفر بن ایاس سے، انہوں نے مجاہد سے۔ اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے کہ جب آیت زیر بحث نازل ہوئی تو مسلمان اس سے بڑے فکرمند ہوگئے۔ حضرت عمر ؓ فرمانے لگے کہ میں اس پریشانی کو دور کرنے کا چارہ کرتا ہوں۔ یہ کہہ کر آپ حضور ﷺ کی خدمت میں پہنچ گئے اور عرض کیا کہ اس آیت سے آپ ﷺ کے صحابہ کو بڑی پریشانی لاحق ہوگئی ہے اس پر آپ ﷺ نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کی فرضیت صرف اس لئے کی ہے کہ تمہارا باقی ماندہ مال تمہارے لئے پاک و طیب ہوجائے۔ اسی طرح تم پر میراث کی فرضیت اس لئے کی گئی ہے کہ یہ مال تمہارے پس ماندگان کو مل جائے۔ “ جب حضرت عمر ؓ نے آپ ﷺ کی زبان مبارک سے یہ بات سنی تو خوشی میں آکر اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا پھر حضور ﷺ نے مزید فرمایا : ” میں تمہیں نہ بتادوں کہ انسان کے لئے اس کا بہترین خزانہ کونسا ہے اس کی وہ نیک بیوی ہے کہ جب اس پر نظر ڈالے تو خوش ہوجائے اور جب کوئی کام کہے تو فوراً کرلے۔ اور جب اس کے پاس موجود نہ ہو تو اس دوران اس کی نگہبانی کرے۔ “ یعنی اپنی عزت و آبرو اور اپنے شوہر کے مال کی حفاظت کرے۔ اس حدیث میں آپ ﷺ نے بیان فرمادیا کہ انفاق سے مال کا کچھ حصہ خرچ کرنا مراد ہے۔ سارا مال خرچ کردینا مراد نہیں ہے۔
اور قول باری (الذین یکنزون) سے وہ لوگ مراد ہیں جو زکوٰۃ نہیں نکالتے۔ ابن لھیعہ نے روایت بیان کی ہے، انہیں دراج نے ابو الہیثم سے، انہوں نے حضرت ابو سعید ؓ سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (اذا ادیت زکوٰۃ مالک فقد قضیت الحق الذی یجب علیک۔ جب تم اپنے مال کی زکوٰۃ نکال دو تو تم نے گویا وہ حق ادا کردیا جو تم پر واجب ہوا تھا) اس حدیث میں بھی یہی بیان کیا گیا کہ مال میں واجب ہونے والے حق کا نام زکوٰۃ ہے۔
سہیل بن ابی صالح نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (مامن صاحب کنز لایودی زکوٰۃ کنزہ الاجی بہ یوم القیامۃ وبکنزہ فیحمی بھا جنبہ وجبینہ حتیٰ یحکم اللہ بین عبادہ۔ جس شخص کے پاس کنز یعنی خزانہ ہو اور وہ اس کی زکوٰۃ ادانہ کرے تو قیامت کے دن اسے اس کے خزانے کے ساتھ لایا جائے گا اور پھر اس کے خزانے کو پگھلا کر اس کے پہلو اور پیشانی کو داغا جاتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے متعلق اپنے فیصلہ سنادے گا) اس حدیث میں بھی حضور ﷺ نے بتادیا کہ کنز یعنی خزانے میں واجب ہونے والا حق زکوٰ ۃ کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ نیز یہ کہ سارا خزانہ خرچ کردینا واجب نہیں ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد (فیحمیٰ بھا جنبہ وجبینہ) اس پر دلالت کرتا ہے کہ آپ نے یہ فرما کر وہی معنی لئے ہیں جو اس قول میں مذکور ہیں (ولذین یکنزون الذھب والفضۃ) تا قول باری (فتکویٰ بھا جباھم وجنوبھم وظھورھم ھذا ماکنزتم لانفسکم۔ اور پھر اسی سونے چاندی سے ان لوگوں کی پیشانیوں اور پہلوئوں اور پیٹھوں کو داغا جائے گا۔ یہ ہے وہ خزانہ جو تم نے اپنے لئے جمع کررکھا تھا) یعنی تم لوگوں نے اس کی زکوٰۃ ادا نہیں کی۔
ہمیں عبدالباقی بن قانے نے روایت بیان کی۔ انہیں بشر بن موسیٰ نے، انہیں عبداللہ بن صالح نے، انہیں عبدالعزیز بن ابی سلمہ الماجشون نے عبداللہ بن دینار سے اور انہوں نے حضرت عمر ؓ سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (ان الذی لایودی زکوٰتہ یمثل لہ شجاع اقرع لہ زبیبتان بلزمہ اویطوقہ فیقول ا ناکترک، اناکنزک۔ جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ نہیں نکالتا قیامت کے دن اس کے اس مال کو ایک زہریلے گنجے سانپ کی شکل دے دی جائے گی جس کی آنکھوں کے اوپر دو سیاہ نقطے ہوں گے، پھر یہ سانپ اس کے ساتھ چپکا رہے گا یا اس کی گردن کے گرد لپٹا رہے گا۔ اور اس سے کہتا رہے گا کہ میں تیرا خزانہ ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں) ۔
ہمارے بیان سے جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ قول باری (والذین یکنزون الذھب والفضۃ) تا آخر آیت میں زکوٰۃ کی عدم ادائیگی مراد ہے، آیت کے عموم نے ہر قسم کے سونا چاندی میں زکوٰۃ کے ایجاب کو لازم کردیا ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے حکم کو سونے چاندی کے اسم کے ساتھ معلق کردیا ہے، اس لئے آیت اسم کے وجود کے ساتھ سونے چاندی کی زکوٰۃ کے ایجاب کی مقتضی ہوگی، اس کے وجوب کے لئے سونے چاندی کے اسم کا وجود ضروری ہے، سونے چاندی سے متعلقہ کاریگری کی ضرورت نہیں ہے یعنی جس شخص کے پاس سونا یا چاندی خواہ کسی بھی شکل میں ہو اس پر زکوٰۃ واجب ہوجائے گی۔ دوسرے الفاظ میں اس کے پاس ڈھلا ہوا سونا یا چاندی ہو یا سکوں کی شکل میں ہو یا ڈلیوں کی صورت میں ہو اس پر لفظ کے عموم کی بنا پر زکوٰۃ واجب ہوجائے گی۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے آیت زیر بحث میں سونا اور چاندی دونوں کا ایک ساتھ ذکر کرکے ان کے مجموعے پر زکوٰۃ کا حق واجب کردیا ہے۔ اس لئے اس سے یہ دلالت حاصل ہوتی ہے کہ نصاب زکوٰۃ مکمل کرنے کے لئے سونے کو چاندی کے ساتھ ملانا واجب ہے۔
زیورات کی زکوٰۃ
زیورات کی زکوٰۃ کی مسئلے میں فقہاء کے مابین اختلاف رائے ہے۔ ہمارے اصحاب نے زیورات پر زکوٰۃ واجب کردی ہے۔ حضرت عمر ؓ اور حضرت ابن مسعود سے اسی قسم روایت ہے سفیان ثوری (رح) نے حماد سے اس کی روایت کی ہے انہوں نے ابراہیم نخعی سے، انہوں نے علقمہ سے اور انہوں نے حضرت ابن مسعود ؓ سے ، حضرت جابر ؓ ، حضرت ابن عمر ؓ اور حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ زیورات میں زکوٰۃ نہیں ہے۔ امام مالک (رح) اور امام شافعی (رح) کا یہی قول ہے۔ حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ زیورات کی صرف ایک دفعہ زکوٰۃ نکالی جائے گی اور اس کے بعد اس کی زکوٰۃ نکالنے کی ضرورت نہیں۔ ہم نے زیورات میں زکوٰۃ کے وجوب پر آیت کی دلالت کی وجہ بیان کردی ہے جو یہ ہے کہ سونے اور چاندی کا اسم زیورات کو بھی شامل ہے۔ حضور ﷺ سے زیورات میں زکوٰۃ کے وجوب پر دلالت کرنے والی روایات منقول ہیں۔
ایک روایت کے راوی عمرو بن شعیب ہیں۔ انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے عمرو کے دادا حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت کی ہے۔ حضور ﷺ نے دو عورتوں کے ہاتھوں میں سونے کے کنگن دیکھے۔ آپ نے پوچھا کہ ان کی زکوٰۃ نکالی جاتی ہے ؟ جواب نفی میں ملا۔ اس پر حضور ﷺ نے ان دونوں خواتین سے فرمایا : کیا تمہیں یہ بات اچھی لگے گی کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان دونوں کنگنوں کے بدلے جہنم کی آگ کے دوگنگن تمہیں پہنادے۔ “ آپ ﷺ نے کنگن میں بھی زکوٰۃ واجب کردی۔ ہمیں محمد بن بکر نے روایت بیان کی۔ انہیں ابو دائود نے، انہیں محمد بن عیسیٰ نے، انہیں عتاب نے ثابت بن عجلان سے، انہوں نے عطا سے اور انہوں نے حضرت ام سلمہ ؓ سے، وہ فرماتی ہیں کہ میں سونے کے قازیب پہنا کرتی تھی۔ میں نے حضور ﷺ سے پوچھا کہ آیا یہ کنز میں داخل ہے۔ آپ ﷺ نے جواب میں فرمایا کہ ” جس سونے کی مقدار زکوٰۃ کے نصبا کو پہنچ جائے اس کی زکوٰۃ ادا کرو، وہ کنز نہیں کہلائے گا۔ “ اس روایت میں دو باتوں پر دلالت پائی جاتی ہے ایک تو یہ کہ زیورات میں زکوٰۃ واجب ہے اور دوسری یہ کہ جس مال کی زکوٰۃ ادا نہ کی جائے وہ کنز ہے۔ ہمیں محمد بن بکر نے روایت بیان کی، انہیں ابودائود نے، انہیں محمد بن ادریس الرازی نے، انہیں عمرو بن الربیع بن طارق نے ، انہیں یحییٰ بن ایوب نے عبید اللہ بن ابی جعفر سے، کہ انہیں محمد بن عمرو بن عطاء نے بتایا ہے کہ انہیں حضرت عبداللہ ؓ بن شداد بن الہاد نے یہ خبر دی کہ ہم حضرت عائشہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ وہ فرمانے لگیں کہ ایک مرتبہ حضور ﷺ میرے پاس تشریف لائے۔ اس وقت میرے ہاتھ میں چاندی کے زیور پڑے ہوئے تھے۔ آپ نے دیکھ کر پوچھا کہ یہ زیور کیسے ہیں ؟ میں نے عرض کیا۔ میں نے خود ہی انہیں زیور کی شکل دے دی ہے تاکہ آپ کے سامنے انہیں پہن لیا کروں۔ آپ نے پوچھا کہ اس کی زکوٰۃ ادا کرتی ہو ؟ میں نے نفی میں جواب دیا یا اسی قسم کے ، اللہ جانے، کوئی الفاظ کہے، جسے سن کر آپ ﷺ نے فرمایا (ھو حسبک من النار۔ تمہارے لئے جہنم کی آگ کا اتنا ہی حصہ کافی ہے) ۔
یہ حدیث دو باتوں پر دلالت کرتی ہے۔ ایک تو یہ کہ زیورات پر زکوٰۃ واجب ہے اور دوسری یہ کہ ڈھلی ہوئی چاندی کو بھی ورق کہا جاتا ہے اس لئے کہ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا تھا (فتخان من ورق) حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ (فی الرقۃ ربع العشر۔ چاندی کی ڈلیوں یا سکوں میں چالیسواں حصہ ہے) آپ کا یہ قول ظاہری طور پر زیورات میں زکوٰۃ کے ایجاب کا مقتضی ہے اس لئے کہ رقۃ اور ورق دونوں ہم معنی الفاظ ہیں۔ قیاس اور نظر کی جہت سے بھی اس پر دلالت ہورہی ہے وہ یہ کہ سونے اور چاندی کے عین میں زکوٰۃ کا وجوب ہوتا ہے بشرطیکہ وہ ایسے شخص کی ملکیت میں ہوں جو زکوٰۃ نکالنے کا اہل ہوں۔ زکوٰۃ کا وجوب سونے اور چاندی کی کسی صفت کے ساتھ نہیں ہوتا جو ان کے ساتھ مخصوص ہو۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ سونے یا چاندی کے پگھلے ہوئے ٹکڑوں یا ڈلیوں پر زکوٰۃ واجب ہوجاتی ہے اگرچہ مال کی افزائش کی خاطر نہ رکھا گیا ہو، سونا اور چاندی اسی امر میں دوسرے اموال سے مختلف ہیں اس لئے کہ دوسرے اموال میں صرف زکوٰۃ کے اہل شخص کی ملکیت میں آجانے کی بنا پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی جب تک کہ ان میں نماء یعنی مال کی افزائش کا پہلو نہ پایا جائے۔ اس لئے ڈھلے ہوئے سونے اور زیورات کی شکل میں موجود سونے کے حکم میں کوئی فرق نہیں ہونا چاہیے۔ نیز اس پر سب کا اتفاق ہے کہ زیورات اگر مرد کی ملکیت میں ہوں تو ان پر زکوٰۃ واجب ہوجائے گی اس لئے اگر یہ عورت کی ملکیت میں ہوں تو اس صورت میں بھی ان کا یہی حکم ہونا چاہیے جس طرح درہم و دیار کا حکم ہے۔ نیز جن اموال میں زکوٰۃ لازم ہوتی ہے ان کے حکم میں مرد اور عورت کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں ہوتا۔ اس لئے زیورات کا بھی یہی حکم ہونا چاہیے۔ اور مرد و عورت کے لحاظ میں ان میں کوئی فرق نہیں ہونا چاہیے۔
اگر یہ کہا جائے کہ زیورات کی حیثیت کام کرنے والے بیلوں اور استعمال ہونے والے کپڑوں کی طرح ہے اور چونکہ ان میں زکوٰۃ کا وجوب نہیں ہوتا اس لئے زیورات میں بھی زکوٰۃ واجب نہیں ہونی چاہیے اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ ہم نے پہلے بیان کردیا ہے کہ سونے چاندی کے علاوہ دوسرے تمام اموال میں زکوٰۃ کا وجوب اس وقت ہوتا ہے جب ان میں نماء یعنی افزائش کا پہلو موجود ہو اور انہیں افزائش کی خاطر رکھا گیا ہو۔ اس لئے جن اموال می یہ مفہوم نہیں پایا جائے گا اور ان میں زکوٰۃ کا وجوب نہیں ہوگا جبکہ عین سونا اور عین چاندی پر زکوٰۃ کا وجوب ہوتا ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ درہم و دینار اور سونے چاندی کی ڈھلی ہوئی ڈلیوں پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے جبکہ ڈھلائی کا مقصد صرف یہ ہو کہ ملاوٹ سے انہیں پاک کردیا جائے اور اس کے بعد محفوظ کرلیا جائے۔ مال کی افزائش مقصد نہ ہو۔ نیز ایک پہلو یہ بھی ہے کہ سونے اور چاندی کے اندر کاریگروں کی کاریگری ا کوئی اثر نہیں ہوتا اور اس کاریگری کی وہ سے کسی بھی حالت میں ان کے حکم کے اندر کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی اس سے یہ بات واجب ہوگئی کہ کاریگری کے وجود اور عدم وجود دونوں صورتوں میں حکم کے اندر کوئی فرق نہ آئے۔
اگر یہ کہا جائے کہ زیورات کو عاریت کے طور پر کسی کو دے دینا ہی اس کی زکوٰۃ ہے تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ یہ بات غلط ہے اس لئے کہ عاریت واجب نہیں ہوتی جبکہ زکوٰۃ واجب ہوتی ہے۔ اس لئے عاریت کو زکوٰۃ کا نام دے دینا باطل ہے۔ امام مالک (رح) کا یہ قول کہ زیورات میں صرف ایک مرتبہ زکوٰۃ واجب ہوتی ہے۔ اس کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ اس لئے کہ اگر زیورات زکوٰۃ واجب ہونے والے اموال کی جنس میں شامل ہیں تو ان میں ہر سال زکوٰۃ واجب ہوگی۔
فصل
زیر بحث آیت سونے اور چاندی دونوں کے مجموعے پر زکوٰۃ کے وجوب پر دلالت کرتی ہے۔ اس لئے یہ دلالت ایک کو دوسرے کے ساتھ ضم کردینے کے وجوب کی مقتضی ہے۔ اس بارے میں فقہاء کی آراء مختلف ہیں۔ ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ ایک کو وسرے میں ضم کردیا جائے گا اور اس طرح جب نصاب مکمل ہوجائے گا تو زکوٰۃ نکال دی جائے گی۔ تاہم انضمام کی کیفیت کے متعلق ہمارے اصحاب کے مابین اختلاف رائے ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے کہ قیمت کے ذریعے انضمام ہوگا جس طرح عروض یعنی سامان تجارت میں ہوتا ہے۔ امام ابو یوسف اور امام محمد کا قول ہے کہ یہ انضمام اجزاء کے ذریعے ہوگا۔ ابن ابی لیلیٰ اور امام شافعی (رح) کا قول ہے کہ ایک کو دوسرے کے ساتھ ملایا نہیں جائے گا۔ ایک کو دوسرے میں ضم کرنے کی روایت حسن ، قتادہ اور یکہ بن عبداللہ بن الاشج سے بھی مروی ہے۔ سونا اور چاندی دونوں کے مجموعے پر زکوٰۃ کے وجوب کی دلیل یہ قول باری ہے (والذین یکنزون الذھب والفضۃ ولا ینفقونھا فی سبیل اللہ) اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو ملاکر ان پر زکوٰۃ واجب کردی ہے اس لئے کہ قول باری (ولاینفقونھا) میں ان دونوں کا انفاق مراد ہے۔ دونوں کو ملادینے کے وجوب پر یہ بات بھی دلالت کرتی ہے کہ حق کے وجوب کے لحاظ سے دونوں یکساں ہیں یہ حق چالیسواں حصہ ہے اس لئے ان دونوں کی حیثیت تجارت کی غرض سے موجود مختلف اشیا جیسی ہے تجارت کی ان اشیاء کا چونکہ چالیسواں حصہ بطور زکوٰۃ لیا جاتا ہے اس لئے انہیں ایک دوسرے کے ساتھ ضم کردیا جاتا ہے حالانکہ ان کی جنس ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔ امام شافعی نے یہ فرمایا ہے کہ اگر ایک شخص کے پاس ایک سو درہم نقد ہوں اور ایک سو درہم کا سامان تجارت ہو تو اس صورت میں اس پر زکوٰۃ واجب ہوگی۔ اس طرح انہوں نے سامان کو سو درہم نقد کے ساتھ ملادیا حالانکہ دونوں کی جنس ایک دوسرے سے متخلف ہے۔ اس انضمام کی وجہ یہ ہے کہ چالیسویں حصے کے وجوب کے لحاظ سے دونوں یکساں ہیں۔ تاہم سونا اور چاندی اونٹوں اور بھیڑ بکریوں کی نسبت سے دو جنس کی طرح نہیں ہیں اس لئے کہ اونٹوں اور بھیڑ بکریوں کی زکوٰۃ کا حساب ایک دوسرے سے مختلف ہے۔
اگر یہ کہا جائے کہ پانچ اونٹوں کی زکوٰۃ چالیس بکریوں کی زکوٰۃ کی طرح ہے لیکن واجب ہونے والے حق کے لحاظ سے ان دونوں کی یکسانیت ایک کو دوسرے کے ساتھ ملانے کی موجب نہیں ہے اس کے جوا ب میں کہا جائے گا کہ ہم نے یہ نہیں کہا ہے کہ واجب ہونے والی مقدار میں سونے اور چاندی کی یکسانیت ایک کو دوسرے کے ساتھ ملا دینے کی موجب ہے۔ ہم نے تو صرف یہ کہا ہے کہ ان دونوں کی چالیسویں حصے کے وجوب میں یکسانیت ان دونوں کے انضمام کی سبب ہے جس طرح اشیاء تجارت میں انضمام کے وقت چالیسویں حصے کے وجوب میں یکسانیت ہوتی ہے اس کے برعکس اونٹوں اور بھیڑ بکریوں میں چالیسواں حصہ واجب نہیں ہوتا۔ اس لئے کہ ایک بکری پانچ اونٹوں کا چالیسواں حصہ نہیں ہوتی نہ ہی یہ چالیس بکریوں کا چالیسواں حصہ ہوتی ہے۔ اس لئے کہ ہوسکتا ہے کہ چالیس بکریاں عمدہ قسم کی ہوں اور زکوٰۃ میں لی جانے والی بکری متوسط درجے کی ہو۔ اس طرح یہ بری چالیسویں حصے سے کم ہوگی۔ اس لئے معترض کا یہ الزامی اعتراض ساقط اور باطل ہے۔ اگر یہ حضرات حضور ﷺ کی اس حدیث سے استدلال کریں کہ (لیس فیما دون خمس واق صدقۃ۔ پانچ اوقیہ چاندی سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے) ۔ یہ حدیث چاندی میں زکوٰۃ کو واجب کردیتی ہے خواہ اس کے ساتھ سونا موجود ہو یا نہ ہو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ جس طرح حضور ﷺ کا یہ ارشاد سو درہم کو سامان تجارت کی قیمت کے ساتھ ضم کرنے سے مانع نہیں ہے اور معترض کے نزدیک اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ انضمام اس وقت ہوگا جب اس سو درہم کے ساتھ اس سامان تجارت کے علاوہ دوسری اشیاء نہ ہوں۔ اسی طرح ہم بھی چاندی کو سونے کے ساتھ ملاکر زکوٰۃ نکالنے کے بارے میں کہتے ہیں۔ اس لئے اس حدیث کے ذریعے ہمارے مسلک پر اعتراض نہیں کیا جاسکتا۔
Ayah 9:35مہینوں کی تعداد اور ترتیب، روز اول سے مقرر ہے
قول باری ہے (ان عدۃ الشھود عند اللہ اثنا عشر شھراً فی کتٰب اللہ یوم خلق السموت والارض منھا اربعۃ حرم۔ حقیقت یہ ہے کہ مہینوں کی تعداد جب سے اللہ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے اللہ کے نوشتے میں بارہ ہی ہے اور ان میں سے چار مہینے حرام ہیں) اللہ تعالیٰ نے دیگر مواقع پر فرمایا (الحج اشھر معلومات حج کے معلوم مہینے ہیں/ نیز فرمایا (یسئلونک عن الاھلۃ قلھی مواقیت للناس والحج۔ آپ سے چاند کے گھٹنے بڑھنے کے بارے میں پوچھتے ہیں آپ کہہ دیجئے یہ لوگوں کے لئے تاریخوں کی تعیین کی اور حج کی علامتیں ہیں) اور مہینوں کے ساتھ لوگوں کے بہت سے دینی اور دنیوی مصالح کو معلق کردیا پھر اس آیت میں ان مہینوں کی تعداد واضح طور پر بیان کردی اور یہ بتادیا کہ یہ بارہ مہینے ایک ہی ڈگر پر آتے جاتے ہیں۔ ان میں سے آگے آن والا مہینہ پیچھے نہیں جاتا اور پیچھے آنے والا آگے نہیں آتا۔ قول باری (ان عدۃ الشھور عنداللہ) کے اندر دومعنوں کا احتمال ہے۔ ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان مہینوں کو وضع کیا اور انہیں ان کے ناموں سے اسی ترتیب کے ساتھ موسوم کردیا جو ترتیب اس نے آسمان و زمین کی پیدائش کے دن دی تھی اور پھر اسے اپنے انبیاء پر اپنی بھیجی ہوئی کتابوں کے ذریعے نازل کردیا تھا۔ قول باری (ان عدۃ الشھور عند اللہ) کے یہی معنی ہیں۔ ان مہینوں کی ترتیب کا حکم علی حالہ باقی ہے۔
مشرکین اپنے طور پر ان مہینوں کے ناموں میں تبدیلی کرلیتے تھے اور ان کے ناموں میں تقدیم و تاخیر کرکے مہینوں کو آگے پیچھے کردیتے تھے لیکن مشرکین کے اس عمل سے مہینوں کی ترتیب کی صورت ختم نہیں ہوئی اور یہ ترتیب بحالہ باقی رہی۔ اللہ تعالیٰ نے ہمارے سامنے یہ سب باتیں اس لئے بیان کردیں کہ ہم مہینوں کے بارے میں اللہ کے حکم کی اتباع کریں اور ان کے متعلق زمانہ جاہلیت کے طرز عمل کو ٹھکرادیں جس کے تحت مشرکین مہینوں کے ناموں میں تقدیم و تاخیر کرلیتے تھے اور پھر ان تبدیل شدہ ناموں کے ساتھ احکام کو معلق کردیتے تھے۔
اسی بنا پر حضور ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر حضرت ابن عمر ؓ اور حضرت ابوبکر ؓ کی روایت کے مطابق منیٰ میں عقبہ کے مقام پر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا تھا (ایھا الناس ان الزمان قد استداد۔ زمانہ اپنی اصلی حالت کی طرف پلٹ آیا ہے) حضرت ابن عمر ؓ کی روایت کے مطابق آپ نے فرمایا (فھو کئیتہ یوم خلق السموات والارض۔ اب وہ اپنی اس حالت پر ہے جس پر وہ زمین و آسمان کی پیدائش کے دن تھا) اور حضرت ابوبکر ؓ کی روایت کے مطابق آپ نے فرمایا (قد استداد کھیئۃ یوم خلق السماوات والارض وان عدۃ الشھور عند اللہ اثنا عشر شھرا منھا اربعۃ حرم ثلاث متوالیات ذوالقعدہ وذو الحجۃ والمحرم ورجب مضر الذی بین جمادی و شعبان وان انسی و زیادۃ فی الکفر۔ زمانہ اپنی اس حالت کی طرف پلٹ آیا ہے جس پر وہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش کے دن تھا، اللہ کے نزدیک یعنی اس کے نوشتہ میں مہینوں کی تعداد بارہ ہے جن میں چار حرام مہینے ہیں۔ تین پے در پے آتے ہیں یعنی ذیقعدہ ، ذی الحجہ اور محرم، اور قبیلہ سفر کا رجب جو جمادی الآخر اور شعبان کے درمیان ہے۔ نیز نسی تو کفر میں ایک مزید کا فرانہ حرکت ہے) حضرت ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے یہ اس لئے فرمایا کہ زمانہ جاہلیت میں مشرکین صفر کے مہینے کو ایک سال حرام قرار دیتے اور ایک سال حلال۔ اسی طرح محرم کو ایک سال حرام قرار دیتے ایک سال حلال، نسی (اس کی وضاحت آگے آرہی ہے) کا یہ چکر شیطانی عمل تھا۔ حضور ﷺ نے بتادیا کہ زمانہ یعنی مہینوں کا زمانہ اپنی اس حالت پر لوٹ آیا ہے جس پر وہ آسمان و زمین کی پیدائش کے دن تھا، اور یہ کہ ہر مہینہ اپنے اس مقام پر واپس آگیا ہے جس پر اللہ نے اپنی ترتیب اور اپنے نظام کے لحاظ سے اسے رکھا تھا۔
مجھ سے ایک شخص نے جس کا تعلق ایک نجومی کے خاندان سے تھا، یہ ذکر کیا کہ اس کے دادا نے میرے خیال میں یہ محمد بن موسیٰ منجم تھا جس کی طرف اس خاندان والے اپنی نسبت بیان کرتے ہیں۔ قمری مہینوں کا اس دن سے حساب لگایا تھا جس دن اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی تخلیق کی تھی، اس نے یہ دریافت کیا کہ قمری مہینے سورج اور چاند دونوں کے حساب سے اس وقت کی طرف پلٹ آئے تھے جس کا ذکر حضور ﷺ نے ان الفاظ میں کیا تھا کہ یوم النحر یعنی دسویں ذی الحجہ کو وقت اپنی اصلی حالت کی طرف پلٹ آیا ہے۔ یہ حجۃ الوداع کا یوم النحر تھا۔ اس لئے کہ آپ نے یہ بات منیٰ میں عقبی کے مقام پر اپنے خطبے میں فرمائی تھی۔ مذکورہ بالا منجم نے آٹھ سال میں یہ حساب لگایا تھا۔ اس طرح اس سال کے ذی الحجہ کا دسواں روز یعنی یوم النحر ٹھیک اسی دن آیا تھا جس دن یہ مہینوں یعنی زمانہ کے آغاز کے وقت سے واقع ہوتا چلا آتا تھا۔ نیز سورج اور چاند بھی اس دن اسی مقام پر تھے جس کے بارے میں حضور ﷺ نے فرمایا تھا کہ زمانہ مشرکین کے نسی اور مہینوں کے ناموں کی تبدیلی کی وجہ سے اس مقام سے ہٹ گیا تھا اور پھر اس سال یوم النحر کو اپنے اصلی مقام پر واپس آگیا ہے۔
اسی بنا پر حضرت ابوبکر ؓ نے جس سال حج کیا تھا اس سال حج اس دن نہیں ہوا تھا جو حج کے لئے زمانے کی ابتدا سے مقرر کیا گیا تھا۔ حضور ﷺ نے رجب کا ذکر کرتے ہوئے قبیلہ مضر کی طرف اس کی نسبت کی اور فرمایا کہ یہ وہ رجب ہے جو جمادی الآخر اور شعبان کے درمیان آتا ہے اس سے رمضان کے مہینے کی نفی مراد تھی جسے قبیلہ ربیعہ رجب کا نام دیتے تھے۔
قول باری (ان عدۃ الشھور عند اللہ اثنا عشر شھراً فی کتاب اللہ) کی دوسری توجیہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمانے کو بارہ حصوں میں تقسیم کرکے ان کے برجوں میں سے ہر ایک برج میں سورج گا نزول متعین کردیا۔ اس طرح سورج آسمان کو تین سو پینسٹھ دنوں اور ایک چوتھائی دن میں عبور کرتا ہے۔ اس طرح ہر برج کے حصے میں دنوں کے حساب سے تیس دن اور ایک دن کی کوئی کسر آتی ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے زمانے کو چاند کی گردش کے حساب سے تقسیم کردیا۔ چاند آسمان کو ساڑھے انتیس دن میں قطع کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قمری سال کے تین سوچون ون اور ایک چوتھائی دن بنائے۔ اس طرح سورج کا ایک برج کو قطع کرنا چاند کا پورے آسمان کو قطع کرنے کے تقریباً برابر ہوگیا۔
قول باری (الشمس والقمر بحسبان) سورج اور چاند تک حساب کے پابند ہیں نیز فرمایا (وجعلنا اللیل والنھار آیتین فمعونا ایۃ اللیل وجعلنا ایۃ النھار مبصرۃ لتبتغوا فضلاً من ربکم ولتعلموا عدد السنین والحساب۔ دیکھو ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنایا ہے۔ رات کی نشانی کو ہم نے بےنور بنادیا اور دن کی نشانی کو روشن کردیا تاکہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرسکو اور ماہ و سال کا حساب رکھ سکو) سال کو بارہ برجوں میں سورج کے نزول کے حساب سے تقسیم کردیا گیا اور اس طرح سال کے بارہ مہینے بن گئے۔
مہینہ میں دنوں کی تعداد
تاہم شمسی اور قمری سالوں میں اس کسر کی بنا پر اختلاف ہوگیا جو ان دونوں کے درمیان آتی تھی۔ یہ کسر تقریباً بارہ دنوں کی تھی۔ قمری مہینے تیس اور انتیس دنوں کے ہوگئے ان ہی دنوں کے ساتھ شرعی احکام کا تعلق ہوتا تھا اس آدھے دن کا کوئی حکم نہیں تھا جو انتیس دنوں سے زائد ہوتا تھا۔
یہ تھی وہ تقسیم جس کی رو سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کی تخلیق کے دن سے سال کے بارہ حصے بنادیئے تھے۔ پھر اس ترتیب کو ان امتوں نے بدل ڈالا جو اپنے انبیاء کی شریعتوں سے بہت دور جاچکی تھیں۔ رومی جنتری کے بعض مہینے اٹھائیس دنوں کے ہوتے تھے اور بعض ساڑھے اٹھائیس دنوں کے اور بعض اکتیس دنوں کے۔ یہ بات اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے خلاف تھی جس کے ذریعے مہینوں کا اعتبار ان احکام کے لحاظ سے کیا جاتا تھا جن کا ان مہینوں کے ساتھ تعلق ہوتا تھا۔ پھر ایرانی تقویم کو لے لیجئے۔ اس کے تمام مہینے تیس دنوں کے ہیں، صرف ایک مہینہ جو باد ماہ کہلاتا ہے پینتیس دنوں کا تھا۔ اس تقویم میں ہر ایک سو بیس برس کے بعد پورا ایک مہینہ بڑھا دیا جاتا تھا اور اس طرح وہ سال تیرہ مہینوں کا ہوتا تھا۔
اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے ذریعے یہ بتادیا کہ سال کے مہینوں کی تعداد با رہے نہ اس سے کم نہ اس سے زیادہ۔ یہ قمری مہینے ہیں جن میں مہینہ یا تو انتیس دنوں کا ہوتا ہے یا تیس دنوں کا۔ اسی بنا پر حضور ﷺ نے فرمادیا (الشھر تسع وعشرون والشھر ثلاثون۔ مہینہ انتیس دنوں کا ہوتا ہے اور مہینہ تیس دنوں کا) نیز فرمایا (صوموا الرئویتہ وافطروالزویتہ فان غم علیکم فعدو ثلاثین چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر روزہ ختم کرو اگر کسی وجہ سے تمہیں چاند نظر نہ آئے تو تیس دن گن لو) آپ نے مہینے کے دنوں کے حساب کو رئویت ہلال پر مبنی کردیا۔ اگر بادل یا تاریکی کی بنا پر روئیت ہلال نہ ہوسکے تو پھر میہنہ تیس دنوں کا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ بات اپنے قول (ان عدۃ الشھور عند اللہ اثنا عشر شھراً فی کتاب اللہ یوم خلق السموت والارض) کے ذریعے بتادی یعنی سال کے مہینوں کی تعداد بارہ ہے۔ اس پر کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔ اس کے ذریعے کبیسہ یعنی لیپ کے سال کا تصور باطل کردیا جو ایرانی تقویم کا حصہ تھا جس کے مطابق ہر ایک سو بیس سال کے بعد ایک ماہ کا اضافہ کرکے اسے تیرہ ماہ کا سال بنادیتے تھے۔ حضور ﷺ نے یہ فرمادیا کہ مہینوں کا اختتام رئویت ہلال کے ذریعے ہوگا اس لئے کبھی انتیس دنوں پر مہینے کا اختتام ہوجائے گا اور کبیھ تیس دنوں پر۔
اللہ تعالیٰ نے ہمیں زیر بحث آیت کے ذریعے یہ بتادیا کہ ابتدائے آفرینش سے سالوں اور مہینوں کو درج بالا وضع پر رکھا گیا تھا۔ اور حضور ﷺ نے یہ اطلاع دی کہ زمانہ اپنے اصل وضع پر لوٹ آیا ہے اور اس کے ذریعے اس تبدیلی کو باطل قرار دے دیا جو مشرکین نے مہینوں کی ترتیب اور ان کے نظام میں پیدا کردی تھی۔ اسی طرح سالوں اور مہینوں کے اندر پیدا کردہ اضافے کو بھی باطل قرار دیا۔ نیز یہ بتادیا کہ ماہ و سال کی گردش کا معاملہ اب اس وضع پر آکر ٹھہر گیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے شروع ہی سے اس کے لئے مقرر کردیا تھا۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ بات تھی۔ عبادات اور شرائع کے لحاظ سے لوگوں کے مصالح کا تحفظ اسی صورت میں ہوسکتا تھا کہ ماہ و سال کی گردش اپنے اصل ڈگر پر جاری رہے۔
اس طرح روزے کبھی موسم بہار میں آتے، کبھی گرمیوں میں، کبھی خزاں میں اور سردیوں میں یہی صورت حج کی ہوتی۔ اللہ تعالیٰ اس کی مصلحت سے باخبر تھا۔ ایک روایت کے مطابق عیسائیوں کے روزے بھی اسی طرح سال کے مختلف موسموں میں آتے تھے۔ لیکن جب وہ یہ دیکھتے کہ فلاں سال روزے گرمیوں میں آئیں گے تو وہ انہیں موسم بہار کی طرف منتقل کرلینے پر ایکا کرلیتے اور عدد میں اضافہ کردیتے۔ اس طرح قمری مہینوں کے اعتبار کا انہیں جس طرح پابند بنایا گیا تھا اس پابندی کو وہ توڑ دیتے، قمری مہینوں کے لحاظ سے انہیں اس امر کا پابند کیا گیا تھا کہ سال کے جس موسم میں جو مہینے آجائیں وہ ان مہینوں کا اس حیثیت سے اعتبار کرلیں۔ یہ چیز اور اس طرح کے دوسرے امور ایسے تھے جن کی خلاف ورزی پر اللہ تعالیٰ نے ان کی مذمت کی اور یہ بتایا کہ انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے احبار اور رہبان کو اپنا رب بنالیا ہے کہ وہ ان کے اوامر کی پیروی کرتے ہیں اور ان کے وجوب کا اعتقاد رکھتے ہیں اللہ کے اوامر کے وجوب کا اعتقاد نہیں رک تھے، اس طرح خود بھی گمراہ ہوگئے اور دوسروں کو بھی گمراہی میں مبتلا کرگئے۔
قول باری (منھا اربعۃ حرم) سے مراد وہ مہینے ہیں جو حضور ﷺ کے ارشاد کے مطابق یہ ہیں۔ ذیقعدہ، ذی الحجہ ، محرم اور رجب، عرب کے لوگ کہتے تھے۔ ” ثلاثۃ سردو واحد فرد “ (تین مہینے مسلسل ہیں اور ایک تنہا ہے) ۔
حرمت کے مہینوں کی علت
اللہ تعالیٰ نے دو وجوہ کی بنا پر انہیں حرام مہینے قرار دیا ہے۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ ان مہینوں میں قتال کی حرمت تھی۔ زمانہ جاہلیت میں مشرکین بھی ان میں قتال کو حرام سمجھتے تھے۔ قول باری ہے (یسئلونک عن الشھرا الحرام قتال فیہ قل قتال فیہ کبیر۔ آپ ﷺ سے ماہ حرام میں قتال کے متعلق پوچھتے ہیں آپ کہہ دیجئے کہ اس میں قتال بہت بڑا گناہ ہے) دوسری وجہ یہ ہے کہ ان مہینوں میں اللہ تعالیٰ کے محارم (ایسی چیزیں جن کی پردہ دری جائز نہ ہو) کی بےحرمتی کا گناہ دوسرے مہینوں کی بہ نسبت بڑھ کر ہے۔ جس طرح ان مہینوں میں طاعات کا ثواب دوسرے مہینوں کے مقابلہ میں زیادہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان مہینوں کو یہ مرتبہ اس لئے عطا کیا کہ اس میں بندوں کی بھلائی اور ان کی مصلحت پوشیدہ ہے۔ وہ اس طرح کہ بندے جب ان مہینوں کی اللہ کے ہاں عظمت کے پیش نظر ظلم و ستم اور قتل و قتال سے باز رہیں گے اور اس کی بجائے اللہ کی طاعات یعنی عمرہ و حج، نماز و روزہ وغیرہ کی طرف سبقت کریں گے تو اس کے نتیجے میں انہیں دنیوی اور اخروی دونوں فوائد حاصل ہوں گے جس طرح بعض اوقات کو دوسرے اوقات کے مقابلہ میں فضیلت عطا کی گئی ہے مثلاً جمعہ کی نماز کو ایک خاص دن میں فرض کرکے اس دن کو دوسرے دنوں پر اور رمضان کے روزے ایک خاص مہینے میں فرض کرکے اس مہینے کو سال کے دوسرے مہینوں پر فضیلت عطا کردی گئی۔ اسی طرح بعض مقامات کو دوسرے مقامات کے مقابلہ میں زیادہ بابرکت اور افضل قرار دیا مثلاً بیت اللہ اور مسجد نبوی وغیرہ اور بتادیا گیا ان مقدس مقامات میں طاعت کا ثواب دوسرے اماکن کے مقابلہ میں زیادہ ہے وہاں ان مقامات کی بےحرمتی اور ان میں گناہ کے ارتکاب کا عذاب بھی دوسرے مقامات کے مقابلہ میں بڑھ کر ہے۔
اس طرح ان مہینوں اور ان مقامات میں ظلم و ستم اور گناہ سے اجتناب دوسرے مہینوں اور مقامات میں ان افعال سے اجتناب کا سبب اور داعی بن جائے گا اسی طرح ان مدقس مہینوں اور مقدس مقامات میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری بجالانے اور اس کے احکامات کی پابندی کرنے سے طبیعت کو ایسی مشق مہیا ہوجائے گی اور عادت بن جائے گی کہ دوسرے مقامات اور مہینوں میں ان کی پابندی کرنا انتہائی آسان ہوجائے گا نیز بندگی کی پابندی میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے توفیق شامل حال ہوجاتی ہے جس طرح نافرمانیوں اور معاصی پر کمربستگی، نیزلگائو اور دل چسپی کی بنا پر بندہ توفیق ایزدی سے محروم ہوجاتا ہے۔ اس طرح بعض مہینوں اور بعض مقامات کو محترم و معظم قرار دینے میں بڑی بڑی مصلحتیں پوشیدہ ہیں۔ ان کے ذریعے بندوں کو نیکیوں کی ترغیب ہوتی ہے اور معاصی سے اجتناب کی دعوت ملتی ہے۔ اس میں ایک نفسیاتی پہلو یہ بھی ہے کہ دیکھا دیکھی اطاعت اور بندگی کا شوق پیدا ہوجاتا ہے اس لئے کہ اشیاء اپنی جیسی اشیاء کی طرف کھنچ جاتی اور اپنی اضداد سے دور ہوجاتی ہیں اس بنا پر نیکی اور طاعت کی کثرت لوگوں کو نیکی کی طرف اور بدی کی کثرت لوگوں کو بدی کی طرف بلانے کا باعث بنتی ہے۔
Ayah 9:36قول باری ہے (فلا تقلموا فیھن انفسکم۔ پس ان مہینوں میں تم اپنے نفسوں پر ظلم نہ کرو) حضرت ابن عباس ؓ کے نزدیک قول باری (فیھن) کی ضمیر مہینوں کی طرف راجع ہے جبکہ قتادہ کا قول ہے کہ چار مہینوں کی طرف راجع ہے۔
سب مسلمان مل کر مشرکین کا مقابلہ کریں
قول باری ہے (وقاتلوا المشرکین کافۃ اور مشرکین سے سب مل کر لڑو) اس میں دو احتمال ہیں۔ ایک یہ کہ ہر قسم کے مشرکین سے جنگ کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور اس حکم سے صرف وہی مشرک خارج ہیں جن کے ساتھ عقد ذمہ ہوچکا ہو جس کے تحت انہوں نے جزیہ ادا کرنا قبول کرلیا ہے۔ اس بات کی وضاحت دوسری آیتوں میں کردی گئی ہے دوسرا احتمال یہ ہے کہ ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ ہم مل کر مشرکین کا مقابلہ کریں اور اس میں ایک دوسرے کا پوری طرح ساتھ دیں اور مدد کریں، الگ الگ ٹولیوں میں ان کا مقابلہ نہ کریں۔ چونکہ آیت میں ان دونوں معنوں کا احتمال ہے اس لئے آیت کو ان دونوں معنوں پر محمول کیا جائے گا کیونکہ یہ دونوں معنی ایک دوسرے کے منافی نہیں ہیں اس طرح آیت دو حکموں پر مشتمل ہوگی ایک تو یہ کہ ہر قسم کے مشرکین سے قتال کیا جائے اور دوسرا یہ کہ تمام مسلمان مل کر اور ایکا کرکے مشرکین سے قتال کریں۔
قول باری ہے (کما یقاتلونکم کافۃ جس طرح وہ سب مل کر تم سے لڑتے ہیں) یعنی مشرکین کا گروہ تمہارے اندر یہی چیز دیکھتا ہے اور اسی کا یقین رکھتا ہے کہ تم ان کے خلاف متحد اور مجتمع ہو کر قتال کررہے ہو۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ” جس طرح وہ سب مل کر تم سے لڑتے ہیں “۔ یہ آیت اس قول باری کے ہم معنی ہے (فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموھم ۔ تم مشرکین کو جہاں کہیں پائو قتل کردو) اور یہ ان تمام معاہدوں اور ذمہ داریوں کو ختم کردینے کے اعلان کو متضمن ہے جو حضور ﷺ اور مشرکین کے درمیان طے پائے تھے۔ آیت میں ایک اور حکم کا اضافہ ہے وہ یہ کہ جب مشرکین سے قتال درپیش ہو تو ایسی حالت میں ہمیں متحد و متفق ہوکر اقدام کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
Ayah 9:37نسیٔ کیا ہے ؟
قول باری ہے (انما النسیٔ زیادۃ فی الکفر۔ نسئی نو کفر میں ایک مزید کافرانہ حرکت ہے) نسئی تاخیر کو کہتے ہیں۔ اسی سے ہے۔ ” البیع بالنسیئۃ “ یعنی ادھار سودا، جب آپ بیع کو موخر کردیں تو کہیں گے۔ ’ نسات البیع ‘۔ قول باری ہے (ماننسخ من اٰیۃ اوننسھا۔ جس آیت کو ہم منسوخ کردیتے یا اسے موخر کردیتے ہیں) یعنی ہم اسے موخر کردیتے ہیں۔ حیض موخر ہوجانے کی بنا پر عورت اگر حاملہ ہوجائے تو کہا جاتا ہے ” نسات المرأۃ “۔ جب اونٹنی کی رفترار بڑھانے کے لئے آپ اسے پیچھے سے چلائیں تو کہا جائے گا ” نسات الناقۃ “۔ اس لئے کہ آپ اسے پیچھے رہ جانے سے روکتے اور جھڑکتے ہیں۔ منساۃ لاٹھی کو کہتے ہیں جس کے ذریعے تکلیف دہ چیز کو ہٹایا جاتا ہے اور جانور کو ہنکایا اور جھڑکا جاتا ہے اور اس طرح اسے پیچھے رہ جانے سے روک دیا جاتا ہے یہاں اللہ تعالیٰ نے نسی کا ذکر فرمایا اس سے اس کی مراد وہ تاخیر ہے جو زمانہ جاہلیت میں عرب کے لوگ سال کے مہینوں میں کردیا کرتے تھے اور اس کے نتیجے میں حج اپنے مقرر وقت کے سوا کسی اور وقت میں ادا کرلیا جاتا تھا۔ اور مہینوں کے حرام ہونے کا اعتقاد حرام مہینوں کی جائے غیر حرام مہینوں سے متعلق ہوجاتا۔ حضرت ابن عباس ؓ کے قول کے مطابق یہ لوگ محرم کو صفر قرار دے دیتے تھے۔
ابن نجیح اور دیگر حضرات نے کہا ہے کہ قریش کے لوگ ہر چھ ماہ بعد کچھ دنوں کا شمار کرلیتے جس کے ذریعے وہ ہر تیرہ سال میں ذی الحجۃ کے مہینے کو اس کے درست وقت پر لے آتے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کے لئے حجۃ الوداع کے موقع پر زمانے کو پلٹا کر اس کی اصل حالت پر لے آیا جس حالت پر وہ زمین و آسمان کی پیدائش کے وقت قائم کیا گیا تھا اس طرح اسلام کا زمانہ مہینوں کی تعداد اور اس کی ترتیب کے لحاظ سے درست ڈگر پر آگیا اور حج ذی الحجہ میں ہی ادا ہونے لگا۔
ابن اسحاق کا قول ہے کہ عرب کے ایک بادشاہ نے جس کا نام حذیفہ اور لقب قلمس تھا سب سے پہلے نسی کا طریقہ ایجاد کیا۔ اس نے محرم کو پیچھے کردیا اور پھر وہ اسے ماہ حرام قرار دیتا اور ایک سال ماہ حلال۔ جب وہ محرم کو ماہ حرام قرار دیتا تو حرمت کے تین مہینے پے در پے آجاتے۔ یہی وہ تعداد ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ اسلام کے عہد میں حرمت کا حکم دیا تھا۔ جب یہ بادشاہ محرم کو ماہ حلال قرار دیتا تو اس کی جگہ صفر محرم میں داخل ہوجاتا تاکہ حرمت کے مہینوں کی تعداد پوری ہوجائے۔ پھر وہ کہتا کہ میں نے حرمت کے چار مہینے مکمل کردیئے ہیں جس طرح یہ تھے کیونکہ میں نے اگر ایک مہینے کو ماہ حلال قرار دیا ہ تو اس کی جگہ ایک اور مہینے کو ماہ حرام بنادیا ہے۔ “ جب حضور ﷺ نے فریضہ حج ادا کیا تو اس کے بعد محرم کا مہینہ اپنے اصل وقت پر آیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (ان عدۃ الشھور عند اللہ اثنا عشر شھراً ) اللہ تعالیٰ نے یہ بتادیا کہ نسی کا یہ عمل جو مشرکین کیا کرتے تھے وہ کفر تھا کیونکہ کفر میں اضافہ کفر کے سوا اور کچھ نہیں ہوسکتا۔ اس لئے کہ یہ لوگ نسیٔ کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے حرام کئے ہوئے مہینے کو حلال قرار دیتے اور حلال کئے ہوئے مہینے کو حرام۔ یہ لوگ اپنے مشرکانہ عقائد کی بنا پر کافر تو تھے ہی اور نسیٔ کی بنا پر انہوں نے اپنا کفر اور بڑھالیا تھا۔