9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsاحکام القرآن

Ayahs 9:12–15

وَ اِنْ نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَ طَعَنُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ فَقَاتِلُوْۤا اَئِمَّةَ الْكُفْرِ١ۙ اِنَّهُمْ لَاۤ اَیْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَنْتَهُوْنَ Open ayah 9:12 in the Quran reader

اور اگر عہد کرنے کے بعد اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمہارے دین میں طعنے کرنے لگیں تو (ان) کفر کے پیشواؤں سے جنگ کرو (یہ بےایمان لوگ ہیں اور) ان کی قسموں کا کچھ اعتبار نہیں ہے۔ عجب نہیں کہ (اپنی حرکات سے) باز آجائیں۔

اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ وَ هَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَ هُمْ بَدَءُوْكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ؕ اَتَخْشَوْنَهُمْ١ۚ فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْهُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:13 in the Quran reader

بھلا تم ایسے لوگوں سے کیوں نہ لڑو (جنہوں نے اپنی) قسموں کو توڑ ڈالا اور پیغمبر (خدا) ﷺ کے جلا وطن کرنے کا عزم مصمم کرلیا اور انہوں نے تم سے (عہد شکنی کی) ابتداء کی ؟ کیا تم ایسے لوگوں سے ڈرتے ہو ؟ حالانکہ ڈرنے کے لائق خدا ہے بشرطیکہ ایمان رکھتے ہو۔

قَاتِلُوْهُمْ یُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَیْدِیْكُمْ وَ یُخْزِهِمْ وَ یَنْصُرْكُمْ عَلَیْهِمْ وَ یَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 9:14 in the Quran reader

ان سے خوب لڑو۔ خدا انکو تمہارے ہاتھوں سے عذاب میں ڈالے گا اور رسوا کرے گا اور تم کو ان پر غلبہ دے گا اور مومن لوگوں کے سینوں کو شفا بخشے گا۔

وَ یُذْهِبْ غَیْظَ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ یَتُوْبُ اللّٰهُ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:15 in the Quran reader

اور انکے دلوں سے غصہ دور کرے گا اور جس پر چاہے گا رحمت کریگا اور خدا سب کچھ جانتا (اور) حکمت والا ہے۔

دین پر زبان درازی ناقابل برداشت ہے قول باری ہے (ان نکثوا ایمانھم من بعد عھدھم و طعنوا فی دینکم فقاتلوا ائمۃ الکفر اور اگر عہد کرنے کے بعد یہ پھر اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمہارے اوپر حملے شروع کردیں تو کفر کے علمبرداروں سے جنگ کرو) اس میں دلالت موجود ہے کہ معاہدہ ج کرنے والے اگر معاہد کی کسی شق کی خلاف ورزی کے مترکب پاے جائیں اور ہمارے دین کے متعلق زبان درازی پر اترائیں تو وہ معاہدہ توڑنے کے مرتکب قرار پائیں گے۔ اس لئے کہ قسموں کو توڑنے کی صورت یہ ہوتی ہے کہ جن چیزوں کے بارے میں قسمیں کھائی گئی ہوں ان میں سے بعض کی خلاف ورز یکر لی جائے۔ اگر قسم نفی کی صورت میں کھائی گئی ہو، مثلاً کسی نے یہ قسم کھائی ہو کہ بخ دائیں نہ زید سے کلام کروں گا اور نہ عمرو سے اور نہ میں اس گھر میں داخل ہوں گا نہ اس گھر میں۔ “ اگر یہ شخص ان میں سے کوئی کام بھی کرلے گا و حانث ہوجائے گا اور اپنی قسم توڑ بیٹھے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جب اس کے ساتھ دین کے بارے میں زبان درازی کو بھی شام کردیا تو اس سے یہ دلالت حاصل ہوئی کہ غیرمسلموں کے ساتھ کئے گئے معاہدے کی بقا کی ایک شرط یہ بھی ہے کہ وہ ہمارے دین کے بارے میں کوئی زبان درازی نہ کریں، نیز یہ کہ ذمیوں کو مسلمانوں کے دین پر حملے کی اجازت نہیں ہے۔ شاتم رسول واجب القتل ہے یہ چیز ان فقاء کے قول کے لئے شاہد کی حیثیت رکھتی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ ذمیوں میں سے اگر کسی نے حضور ﷺ کی ذات اقدس کے بارے میں سب دشتم کا اظہار کیا تو وہ نقص عہد کا مرتکب قرار پائے گا اور واجب القتل ٹھہرے گا تاہم اس مسئلے میں فقاء کے مابین اختلاف رائے ہے۔ ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ اسے تعزیری سزا دی جائے گی قتل نہیں کیا جائے گا۔ سفیان ثوری کا بھی یہی قول ہے۔ ابن القاسم نے امام مالک سے روایت کی ہے کہ یہود و نصاریٰ میں سے کوئی شخص بھی اگر سب و شتم کرے گا تو اس کی گردن اڑا دی جائے گی الا یہ کہ وہ مسلمان ہوجائے۔ ولید بن مسلم نے اوزاعی اور امام مالک سے روایت کی ہے کہ جو شخص ایسا کرے گا وہ مرتد ہوجائے گا۔ اس سے توبہ کرنے کے لئے کہا جائے گا اگر توبہ کرلے گا تو اسے بہرحال سخت سزا دی جائے گی اور اگر ر توبہ نہیں کرے گا تو اس کی گردن اڑا دی جائے گی امام ماملک کا قول ہے کہ ایسے شخص کی سزا کی صورت یہ ہوگی کہ پہلے سو کوڑے لگائے جائیں گے پھر چھوڑ دیا جائے گا حتیٰ کہ جسانی طور پر صحت یاب ہوجائے اس کے بعد پھر اسے سو کوڑے مارے جائیں گے۔ امام مالک نے اس بارے میں مسلمان اور ذمی کے درمیان کوئی فرق نہیں رکھا ہے۔ لیث بن سعد کچا قول ہے کہ اگر کوئی مسبلمان ایسی حرکت کرے گا تو اسے نہ تو مہلت دی جائے گی، نہ توبہ کے لئے کہا جائے گا بلکہ فوراً ہی اس کی گردن اڑا دی جائے گی۔ یہی حکم یود و نصاری کے لئے بھی ہے۔ نقض عہد کی مثالیں امام شافعی کا قول ہے کہ کافرں سے جو صلغ کی جائے اس میں ایک شرط یہ بھی رکھی جائے اگر ان کا کوئی آدمی اللہ کی شان میں یا حضور ﷺ کی ذات اقدس کے بارے میں کوئی نازیبا کلمہ کہے گا یا کسی مسلمان عورت کے ساتھ زنا کا ارتکاب کرے گا یا ناح کے نام پر اس سے ہمبستری کرے گا یا کسی کو اس کے دین سے برگشتہ کرنے کی کوشش کرے گا یا کسی مسلمان کی راہزنی کرے گا یا مسلمانوں کے ساتھ برسرپیکار کافروں یعنی اہل حرب کی مدد کرے گا تو ان تمام صورتوں میں وہ نقض کا مرتکب قرار پائے گا اور اس کی جان اور اس کے مال کی حفاظت کی اللہ اور اس کے رسول نے جو ذمہ داری اٹھائی تھی وہ ختم ہوجائے گی اور اس کی گردن اڑا دینا حلال ہوجائے گا۔ ظاہر آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ جو شخص حضور ﷺ پر سب و شتم کرے گا اگر وہ معاہد ہوگا تو اس حرکت کی بنا پر نقض عہد کا مرتکب ہوگا اس لئے کہ قول باری ہے (ان نکثوا ایمانھم من بعد عھدھم و طعنوا فی دینکم فقاتلوا ائمۃ الکفر) اللہ تعالیٰ نے طعن فی الدین کو بمنزلہقسم توڑنا قرار دیا کیونکہ یہ بات تو واضح ہے کہ نقض عہد کے لئے قسم توڑنے اور دین کے بارے میں زبان درازی کرنے کی دونوں باتوں کے مجموعے کو شرط قرار دینا آیت میں مراد نہیں ہے اس لئے کہ اگر آیت میں مذکورہ لوگ اپنی قسم توڑ کر مسلمانوں سے برسرپیکار ہوجاتے تو دین کے بارے میں زبان درازی نہ کرنے کے باوجود بھی وہ نقض عہد کے مرتکب قرار دیئے جاتے۔ حضور ﷺ نے اپنے حلیف قبیلہ بنی خزاعہ کے خلاف بنی بکر کی امداد کرنے پر قبیلہ قریش کو نقض عہد کا مترکب قرار دیا تھا حالانکہ قریش نے یہ سب کچھ خفیہ طور پر کیا تھا اور علانیہ دین اسلام کے متعلق زبان درازی بھی نہیں کی تھی اس سے یہ ثابت ہوگئی کہ آیت کے معنی یہ ہیں ک اگر یہ لوگ عہد کرنے کے بعد اپنی قسمیں توڑ دیں یا دین کے بارے میں زبان درازی کریں تو کفر کے علمبرداروں سے جنگ کرو “۔ حضور ﷺ پر سب و شتم دین پر حملے کی گھنائونی شکل ہے جب یہ بات ثابت ہوگئی تو معاہدہ میں شامل کوئی شخص اگر حضور ﷺ پر سب و شتم کا اظہار کرے گا وہ نقض عہد کا مرتکب ہوگا۔ اس لئے کہ حضور ﷺ کی ذات اقدس پر سب و شتم کرنا دین پر حملے کی ایک انتہائی گھنائونی شکل ہے۔ درج بالا مسلک کے قائلین کے استدلال کی یہ صورت ہے اس مسلک کے حق میں اس روایت سے بھی استدلال کیا جاتا ہے جو امام ابو یوسف نے حصین بن عبدالرحمن سے نقل کی ہے انہوں نے ایک شخص سے، اس شخص نے ابو عر سے کہ کسی نے ان سے کہا کہ میں نے ایک راہب کو حضور ﷺ پر سب و شتم کرتے سنا تھا۔ یہ سن کر ابوعمر کہنے لگے کہ اگر میں سنتا تو اسے ضرور قتل کردیتا۔ ہم نے ان سے معادہ کر کے ایسی حرکت کرنے کی اجازت نہیں دی ہے لیکن سا روایت کی سند ضعیف ہے۔ اس میں یہ بھی ممکن ہے کہ معاہدہ میں یہ شرط رکھی گئی ہو کہ یہ لوگ حضور ﷺ پر سب و شتمکا اظہار نہیں کریں گے۔ سعید نے قتادہ سے اور انہوں نے حضرت انس ؓ سے روایت کی ہے کہ ایک یہودی حضور ﷺ کے پاس سے گزرا ار خبث باطن سے کام لیتے ہوئے کہا : ” السام علیک “ (تمہیں موت ہو) نعوذ باللہ ! حضور ﷺ نے صحابہ کرام ؓ سے فرمایا ” تمہیں پتہ چلا کہ اس نے کیا کہا ہے ؟ “ صحابہ کرام نے اثبات میں جواب دیا۔ پھر وہی یہودی واپس آیا تو واپسی میں بھی یہی کلمہ کہا، آپ نے صحابہ کرام سے فرمایا۔ ” جب اہل کتاب میں سے کوئی شخص تمہیں اس طرح سلام کرے اس کے جواب میں صرف یہ کہہ دیا کرو ” علیک “۔ زہری نے عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ سے روایت کی ہے کہ ایک دفعہ یہودیوں کی ایک جماعت حضور ﷺ کے پاس آئی اور آتے ہی “ لسام علیکم کہا۔ حضرت عائشہ ؓ فماتی ہیں میں سمجھ گئی اور جواب میں میں نے کہا و علیکم السام واللعنۃ (تم پر موت اور لعنت ہو) اس پر حضور ﷺ نے فرمایا : عائشہ ! سنو، اللہ تعالیٰ ہر معاملے میں نرمی کو پسند کرتا ہے “ میں نے عرض کیا کہ آپ ﷺ نے نہیں سنا کہ انہوں نے کیا کہا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ میں نے بھی انہیں ” وعلیکم “ ہی کہا ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ اگر کوئی مسلمان ایسی بات کہتا تو وہ مرتد ہو کر قتل کا سزاوار قرار پاتا۔ حضور ﷺ نے اس بات پر ان یہودیوں کو قتل کردینے کا حکم نہیں دیا۔ شعبہ نے ہشام بن یزید سے اور انہوں نے حضرت انس ؓ سے روایت کی ہے کہ ایک یہودی عورت حضور ﷺ کے پاس بکری کا زہر آلود گوشت لے کر آئی، آپ ﷺ نے اس میں سے کھالیا، اس عورت کو پکڑ کر آپ ﷺ کے پاس لایا گیا۔ صحابہ نے عرض کیا کہ آپ ﷺ اسے قتل کردینے کا حکم نہیں دیں گے ؟ آپ نے فرمایا ” نہیں “ مسلمان شاتم رسول واجب القتل ہے حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ مجھے حضور ﷺ کے تمام رویوں میں یہی نرمی ہمیشہ نظر آتی رہی۔ اہل اسلام کے درمیان اس امر میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ دین اسلام کا کوئی مدعی اگر حضور ﷺ کی ذات اقدس کے متعلق یہ ریہ اختیار کرے گا تو وہ مرتد ہوجائے گا اور واجب القتل قرار پائے گا۔ آپ ﷺ نے اس یہودی عورت کی حرکت پر اسے واجب القتل قرار نہیں دیا اس لئے کہ اگر کوئی ذمی آپ پر سب و شتم کا اظہار کرے گا وہ بھی واجب القتل قرار نہیں پائے گا، لیکن اگر کوئی مسلمان ایسی حرکت کرے گا وہ قتل کا سزا وار ٹھہرے گا، اس معاملے میں ذمی پر عائد ہونے والا حکم مسلمان پر عائد ہونے والے حکم سے مختلف ہے قول باری (فقاتلوا المۃ الکفر) کی تفسیر میں حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد سے مروی ہے کہ اس سے مراد قریش کے رئوسا ہیں۔ قتادہ کے قول کے مطابق ابوجہل امیہ بن خلف، عتبہ بن ربیعہ اور سہیل بن عمرو مراد ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے حضور ﷺ کو مکہ سے نکلوانے کی سازش کی تھی۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ سورة براء ۃ فت مکہ کے بعد نازل ہوئی تھی اور حضور ﷺ نے حضرت علی کو مکہ بھیجا تھا کہ وہ جا کر وہاں موجود تمام لوگوں کو یہ سورت پڑھ کر سنا دیں۔ یہ 9 ھ کا واقعہ ہے اور اسی سال حضرت ابوبکر ؓ کو امیر حج بنا کر بھیجا گیا تھا۔ جبکہ ابوجہل، امیہ بن خلف اور عتبہ بن ابی ربیعہ بدر کے معرکہ میں قتل ہوگئے تھے۔ نیز سورة براء ۃ کے نزول ک وقت زوساء قریشی میں سے ایک بھی ایسا شخص باقی نہیں رہ گیا تھا جو کفر کا اظہار کرسکتا۔ یہ امر اس پر دلالت کرتا ہے کہ جن حضرات سے یہ مروی ہے کہ زیربحث آیت میں رئوساء قریش مراد ہیں ان کا یہ قول وہم ہے حقیقت نہیں ہے۔ الا یہ کہ اس سے قریش کا وہ گروہ مراد لیا جائے جس نے فتح مکہ کے موقع پر اسلام کا اظہار کردیا تھا اور وہ طلقا، یعنی آزاد کہلائے تھے۔ مثلا ابو سفیان اور ان کا گروہ، ان کا دل ابھی تک کفر سے پوری طرح پاک نہیں ہوا تھا۔ اس طرح یہ لوگ آیت زیربحث میں مراد ہوسکتے ہیں۔ آیت میں وہ مشرکین مراد نہیں ہیں جن کے ساتھ حضور ﷺ نے معاہدہ کیا تھا اور انہوں نے اسلام کا اظہار بھی نہیں کیا تھا۔ ابو سفیان نے اپنے ساتھیوں سے مل کر حضور ﷺ کو مکہ سے نکلوانے کی سازش کی تھی لیکن ہجرت کے بعد اللہ تعالیٰ نے جنگ و قتال کے ذریعے اس گروہ کو بکھیر کر رکھ دیا تھا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آیت میں وہ لوگ مراد ہوں جن کا ہم نے ابیھ ذکر کیا ہے اور ان کے علاوہ وہ تمام روساء عرب بھی مراد ہوں جو حضور ﷺ اور مسلمانوں کے خلاف جنگ میں ہمیشہ قریش کی مدد کیا کرتے تھے، اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ حکم دے دیا کہ ایسے لوگ اگر اپنی قسمیں توڑ لیں اور تمہارے دین پر حملے شروع کردیں تو تم انہیں قتل کرو اور ان سے لڑو۔ قول باری ہے (انھم لا ایمان لھم۔ کیونکہ ان کی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں) یعنی ان کی قسمیں ایسی ہیں جو درحقیقت پکی نہیں ہیں اور نہ ہی ان پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے۔ اس سے ان کی قسموں کے وجود کی نفی ہیں ہوتی، اس لئے پہلے ارشاد ہو چک ہے (و ان نکثوا ایمانھم من بعد عھدھم) نیز اس پر یہ قول باری عطف ہے (الا تقاتلون قوما نکثوا ایمانھم۔ کیا تم نہ لڑو گے ایسے لوگوں سے جو اپنے عہد توڑتے رہے ہیں) اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ قول باری الا ایمان لھم) سے سرے سے قسموں کی نفی مراد نہیں ہے بلکہ قسموں پر قائم رہنے کی نفی مراد ہے۔ یہ امر اس پر دلالت کرتا ہے کہ حرف لا کا اطلاق کر کے فعل کی نفی مراد لینا اور اصل کی مراد نہ لینا جائز ہے، احادیث اور کلام عرب میں اس کی مثالیں موجود ہیں جس طرح حضور ﷺ کا ارشاد ہے (لا صلوۃ لجاد المسجد الا فی المسجد۔ مسجد کے پڑوسی کی نماز مسجد کے سوا اور کہیں نہیں ہوتی) یا (لیس بمومن من لا یامن جارہ بوائقہ۔ وہ شخص مومن نہیں ہے جس کا پڑوسی اس کے شر و فساد سے محفوظ نہ ہو) یا (لا وضوء لم لم یذکر اسم اللہ۔ جس نے اللہ کا نام نہیں لیا اس کا کوئی وضو نہیں) یا اسی طرح کی اور مثالیں۔ ائمہ کفر کون ہیں ؟ آیت میں کفر کے اندر امامت کا ذکر ہوا۔ اس لئے کہ امام وہ شخص ہوتا ہے جو خبر و شر میں لوگوں کا مقتداء ہوتا ہے اور لوگ اس کی پیروی کرتے ہیں۔ ارشاد باری ہے۔ (وجعلنا ھم ائمۃ یدعون الی النار ہم نے انہیں مقتدا بنایا جو لوگوں کو آگ کی طرف بلاتے تھے) یہ شر کی مثال تھی۔ خیر کی مثال یہ قول باری ہے (وجعلنا ھم ائمۃ یھدون بامرنا۔ ہم نے انہیں مقتدا بنایا جو ہمارے حکم سے لوگوں کی رہنمائی کرتے تھے) اس طرح جو شخص خیر میں مقتدا اور امام ہوتا ہے وہ خود بھی ہدایت یافتہ ہوتا ہے اور دوسروں کو بھی ہدایت دیتا اور ان کی رہنمائی کرتا ہے لیکن جو شخص شر میں پیشوا ہوتا ہے وہ خود بھی گمراہ ہوتا اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتا ہے۔ ایک قول ک مطابق اس آیت کا نزول ان یہودیوں کے بارے میں ہوا تھا جنہوں نے حضور ﷺ سے بد عہدی کرتے ہوئے اپنے اس عہد و پیمان اور قسموں کو توڑڈالا تھا کہ وہ آپ کے خلاف مشرکین کی مدد نہیں کریں گے۔ انہوں نے منافقوں اور کافروں کے تعاون سے آپ کو مدینہ منورہ سے نکلوانے کی سازش بھی کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بتادیا کہ بد عہدی اور معاہدے کی خلاف ورزی کی ابتدا انہوں نے کی ہے۔ اللہ نے ایسے لوگوں سے جنگ کرنے کا حکم دیا۔ چناچہ ارشاد ہے (و قاتلوھم یعذبھم اللہ یایدیکم۔ ان سے جنگ کرو تمہارے ہاتھوں سے انہیں سزا دلوائے گا) یہاں یہ کہنا بھی درست ہے کہ مذکورہ بالا تمام امور قول باری (و ان نکثوا ایمانھم من بعد عھدھم) پر مرتب مانے جائیں اور یہھی درست ہے کہ قول باری (الا تقاتلون قوما نکثوا ایمانھم) کی رو سے انہوں نے نقض عہد کیا تھا۔
Ayah 9:16

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَكُوْا وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَ لَمْ یَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لَا رَسُوْلِهٖ وَ لَا الْمُؤْمِنِیْنَ وَلِیْجَةً١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 9:16 in the Quran reader

کیا تم لوگ یہ خیال کرتے ہو کہ (بےآزمائش) چھوڑ دیے جاؤ گے ؟ اور ابھی تو خدا نے ایسے لوگوں کو متمیز کیا ہی نہیں جنہوں نے تم سے جہاد کئے اور خدا اور اس کے رسول ﷺ اور مومنوں کے سوا کسی کو دلی دوست نہیں بنایا۔ اور خدا تمہارے (سب) کاموں سے واقف ہے۔

راہ حق میں آزمائش شرط لازم ہے قول باری ہے (ام حسبتم ان تترکوا ولما یعلم اللہ الذین جاھدوا منکم ولم یتخذوا من دون اللہ ولا رسولہ ولا المومنین ولیجۃ۔ کیا تم وگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یونہی چھوڑ دیئے جائو گے حالانکہ ابھی اللہ نے یہ تو دیکھا ہی نہیں کہ تم میں سے کون وہ لوگ ہیں جنہوں نے ص اس راہ میں) جانفشانی کی اور اللہ اور رسول اور مومنین کے سوا کسی کو دلی دوست نہ بنایا) اس کے معنی یہ ہیں ” کیا تم لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یونہی چھوڑ دیئے جائو گے حالانکہ ابھی تم نے جہاد نہیں کیا۔ “ اس لئے کہ جب وہ جہاد کریں گے تو اللہ کو ان کی یہ بات معلوم وہ گی۔ علم کے اسم کا اطلاق کر کے اس سے فریضہ جہاد کی ادائیگی مراد لی گئی ہے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰٓ کو ان کے اندر اس فریضہ کی ادائیگی کے وجود کچا علم ہوجائے۔ قول باری (ولم یتخذوا من دون اللہ ولا رسولہ ولا المومنین ولیجۃ) مومنین کی پیروی کے لزوم اور انہیں چھوڑ کر کسی اور کی طرف نہ جانے کے حکم کا مقتضی ہے جس طرح تمام مسلمانوں پر حضور ﷺ کی پیروی لازم ہے۔ اس سے اجماع کی حجت کی دلیل ملتی ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے۔ (و من یشاقق الرسول من بعد ما تبین لہ الھدین و شتبع غیر سبیل المومنین تولہ ما تولیٰ مگر جو شخص رسول کی مخالفت پر کمر بستہ ہو اور اہل ایمان کی روشنی کے سوا کسی اور روش پر چلے درآں حالیکہ اس پر راہ راست واضح ہوچکی ہو تو اس کو ہم اسی طرف چلائیں گے جدھر وہ خود پھر گیا ) ولیجہ، مدخل یعنی جائے دخول کو کہتے ہیں۔ جب کوئی شخص داخل ہو تو کہا جاتا ہے ” ولج فلان “ (فلاں شخص داخل ہو ! ) گویا اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا ” یہ جائز نہیں کہ اس کیلئے مسلمانوں کے مدخل کے سوا اور کوئی جائے دخول ہو۔ “ ایک قول ہے کہ ولیجہ کے معنی دخلیہ اور بطانۃ کے ہیں یعنی ہر چیز کا اندرونی حصہ، بھید اور راز۔ یہ لفظ مداخلت، مخالطت اور موانست کے ہم معنی ہے۔ اگر اس لفظ کے یہ معنی لئے جائیں تو پھر اسے یہ دلالت حاصل ہوگی کہ مسلمانوں کو غیرمسلموں کے ساتھ گھل مل جانے، ان میں جا گھسنے اور دین کے معاملات میں ان سے مدد حاصل کرنے کی ممانعت کردی گئی ہے جس طرح یہ ارشاد باری ہے (لا تتخذوا بطانۃ من دونکم) اپنے لوگوں کے سوا کسی اور کو اپنا رازدان نہ بنائو)
Ayahs 9:17–22

مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِیْنَ اَنْ یَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰهِ شٰهِدِیْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ١ۖۚ وَ فِی النَّارِ هُمْ خٰلِدُوْنَ Open ayah 9:17 in the Quran reader

مشرکوں کو زیبا نہیں کہ خدا کی مسجدوں کو آباد کریں (جبکہ) وہ اپنے آپ پر کفر کی گواہی دے رہے ہوں۔ ان لوگوں کے سب اعمال بیکار ہیں اور یہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔

اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَ وَ لَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰهَ فَعَسٰۤى اُولٰٓئِكَ اَنْ یَّكُوْنُوْا مِنَ الْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 9:18 in the Quran reader

خدا کی مسجدوں کو تو وہ لوگ آباد کرتے ہیں جو خدا پر اور روز قیامت پر ایمان لاتے اور نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے۔ یہی لوگ امید ہے کہ ہدایت یافتہ لوگوں میں (داخل) ہوں گے۔

اَجَعَلْتُمْ سِقَایَةَ الْحَآجِّ وَ عِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ جٰهَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ لَا یَسْتَوٗنَ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۘ Open ayah 9:19 in the Quran reader

کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجد محترم (یعنی خانہ کعبہ) کو آباد کرنا اس شخص کے اعمال جیسا خیال کیا ہے جو خدا اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے۔ اور خدا کی راہ میں جہاد کرتا ہے ؟ یہ لوگ خدا کے نزدیک برابر نہیں ہیں۔ اور خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ۙ اَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 9:20 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور وطن چھوڑ گئے اور خدا کی راہ میں مال اور جان سے جہاد کرتے رہے خدا کے ہاں ان کے درجے بہت بڑے ہیں اور وہی مراد کو پہنچنے والے ہیں۔

یُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ وَ رِضْوَانٍ وَّ جَنّٰتٍ لَّهُمْ فِیْهَا نَعِیْمٌ مُّقِیْمٌۙ Open ayah 9:21 in the Quran reader

ان کا پروردگار ان کو اپنی رحمت کی اور خوشنودی کی اور بہشتوں کی خوشخبری دیتا ہے جن میں ان کے لئے نعمت ہائے جاودانی ہے۔

خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 9:22 in the Quran reader

(اور وہ) ان میں ابدا لآباد رہیں گے۔ کچھ شک نہیں کہ خدا کے ہاں بڑا صلہ (تیار) ہے۔

مساجد اللہ پر تولیت صرف مسلمانوں کی ہو قول باری ہے (ما کان للمشرکین ان یعمروا مساجد اللہ۔ مشرکین کا یہ کام نہیں کہ وہ اللہ کی مسجدوں کے مجاور اور خادم بنیں) عمارۃ المسجد کے دو معنی ہیں۔ اول مسجد کی زیارت اور اس میں موجودگی یعنی اسے آباد کرنا، دوم مسجد کی تعمیر اور اس کے شکستہ حصوں کی مرمت و تجدید۔ اس لئے کہ جب کوئی زیارت کرے تو کہا جاتا ہے۔ اعتمر فلان (فلاں نے زیارت کی) اسی سے عمرہ کا لفظ ماخوذ ہے اس میں بیت اللہ کی زیارت ہوتی ہے۔ جب کوئی شخص بکثرت مساجد میں آتا جاتا ہو اور وہاں وقت گزارتا ہو تو کہا جاتا ہے ’ دفلان من عمار المساجد “ (فلاں شخص مساجد کو آباد رکھنے والوں میں سے ہے) اسی طرح اگر کوئی شخص کسی کی مجلس میں اکثر آئے جائے تو کہا جاتا ہے ” فلان یعمر مجلس فلان “ (فلاں شخص فلاں کی مجلس آباد رکھتا ہے ) اس بنا پر آیت درج ذیل دو باتوں کی مقتضی ہے، کافروں کو مساجد میں داخل ہونے سے روک دیا جائے اور مساجد یک تعمیر، ان کی دیکھ بھال نیز ان کی تولیت کی انہیں اجازت نہ دی جائے اس لئے کہ آیت کے الفاظ ان دونوں باتوں پر مشتمل ہیں۔
Ayahs 9:23–27

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰبَآءَكُمْ وَ اِخْوَانَكُمْ اَوْلِیَآءَ اِنِ اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ عَلَى الْاِیْمَانِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 9:23 in the Quran reader

اے اہل ایمان ! اگر تمہارے (ماں) باپ اور (بہن ' بھائی) ایمان کے مقابلے کفر کو پسند کریں تو ان سے دوستی نہ رکھو۔ اور جو ان سے دوستی رکھیں گے وہ ظالم ہیں۔

قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِیْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالُ اِ۟قْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَاۤ اَحَبَّ اِلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِیْ سَبِیْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 9:24 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر تمہارے باپ اور بیٹے اور بھائی اور عورتیں اور خاندان کے آدمی اور مال جو تم کماتے ہو اور تجارت جس کے بند ہونے سے ڈرتے ہو اور مکانات جن کو پسند کرتے ہو خدا اور اس کے رسول ﷺ سے اور خدا کی راہ میں جہاد کرنے سے تمہیں زیادہ عزیز ہوں تو ٹھہرے رہو یہاں تک کہ خدا اپنا حکم (یعنی عذاب) بھیجے۔ اور خدا نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ فِیْ مَوَاطِنَ كَثِیْرَةٍ١ۙ وَّ یَوْمَ حُنَیْنٍ١ۙ اِذْ اَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَیْئًا وَّ ضَاقَتْ عَلَیْكُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّیْتُمْ مُّدْبِرِیْنَۚ Open ayah 9:25 in the Quran reader

خدا نے بہت سے موقعوں پر تم کو مدد دی ہے۔ اور (جنگ) حنین کے دن جبکہ تم کو اپنی (جماعت کی) کثرت پر غرہّ تھا تو وہ تمہارے کچھ بھی کام نہ آئی۔ اور زمین باوجود (اتنی بڑی) فراخی کے تم پر تنگ ہوگئی۔ پھر تم پیٹھ پھیر کر پھرگئے۔

ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا وَ عَذَّبَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزَآءُ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:26 in the Quran reader

پھر خدا نے اپنے پیغمبر ﷺ پر اور مومنوں پر اپنی طرف سے تسکین نازل فرمائی اور (تمہاری مدد کو فرشتوں کے) لشکر جو تمہیں نظر نہیں آتے تھے (آسمان سے) اتارے اور کافروں کو عذاب دیا۔ اور کفر کرنے والوں کی یہی سزا ہے۔

ثُمَّ یَتُوْبُ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:27 in the Quran reader

پھر خدا اس کے بعد جس پر چاہے مہربانی سے توجہ فرمائے۔ اور خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

دین میں رشتوں کی اہمیت قول باری ہے (یا ایھا الذین امنوا لا تتنخذوا اباء کم و اخوانکم اولیاء ان استحبوا الکفر علی الایمان۔ اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو، اپنے باپوں اور بھائیوں کو بھی اپنا رفیق نہ بنائو اگر وہ ایمان پر کفر کو ترجیح دیں) آیت میں مسلمانوں کو کافروں سے دوستی کرنے، ان کی مدد کرنے، ان سے مدد حاصل کرنے اور اپنے معاملات ان کے حوالے کرنے سے روک دیا گیا ہے نیز ان سے بیزاری کا اظہار اور ان کی ترک تعظیم و تکریم واجب کردی گئی ہے۔ اس معاملے میں باپ بھائی سب یکساں حیثیت رکھت ہیں تاہم کافر باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے اور معروف طریقے سے وقت گزارنے کا حکم دیا گیا ہے چناچہ ارشاد باری ہے (ووصینا الانسان بوالدیہ۔ ہم نے انسان کو اس کے والدین کے بارے میں وصیت کی ہے) تا قول باری (وان جاھداک علی ان تشرک بی مالیس لک بہ علم فلا تطعھما و صاحبھما فی الدنیا معروفا اور اگر وہ تم پر دبائو ڈالیں کہ تم میرے ساتھ ایسی چیز کو شریک ٹھہرائو جس کی تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں تو تم ان کا کہا نہ مانو اور دنیا میں ان کے ساتھ اچھے طریقے سے وقت گزارتے رہو۔ آیت زیر بحث میں مسلمانوں کو یہ حکم اس لئے دیا گیا ہے کہ وہ منافقین سے بالکل الگ اور جدا نظر آئیں کیونکہ منافقین جب کافروں سے ملتے تو ان کے ساتھ دوستی گانٹھتے اور ان کی تعظیم و تکریم کا اظہار کرتے نیز انہیں اپنی و رفاقت کا یقین دلاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے زیر بحث آیت میں جس چیز کا حکم دیا ہے اسے مسلمانوں اور منافقوں کے درمیان علامت اور فرق کا پیمانہ قرار دیا ہے اور ساتھ ہی یہ بتادیا ہے کہ جو شخص ایسا نہیں کرے گا وہ خود اپنا نقصان کرے گا اور اپنے رب کی طرف سے سزا کا مستحق قرار پائے گا۔
Ayah 9:28

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ فَلَا یَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هٰذَا١ۚ وَ اِنْ خِفْتُمْ عَیْلَةً فَسَوْفَ یُغْنِیْكُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖۤ اِنْ شَآءَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:28 in the Quran reader

مومنو ! مشرک تو نجس ہیں تو اس برس کے بعد وہ خانہ کعبہ کے پاس نہ جانے پائیں اور اگر تم کو مفلسی کا خوف ہو تو خدا چاہے گا تو تم کو اپنے فضل سے غنی کردے گا۔ بیشک خدا سب کچھ جانتا (اور) حکمت والا ہے۔

حدود حرم میں مشرکین کا داخلہ ممنوع قول باری ہے (انما المشرکون نجس فلا یقربوا المسجد الحرام بعد عامہم ھذا مشرکین ناپاک ہیں لہٰذا اس سال کے بعد یہ مسجد حرام کے قریب نہ پھٹکنے پائیں) نجس کے اسم کا مشرکین پر اس لئے اطلاق ہوا ہے کہ جس شرک کا وہ اعتقاد رکھتے ہیں اس سے اس طرح اجتناب واجب ہے جس طرح نجاستوں اور گندگیوں سے اجتناب واجب ہے اسی بنا پر اسے نجس کہا گیا ہے۔ نجاست ظاہری و باطنی شریعت میں نجاست کی دو صورتیں ہیں۔ ایک اعیان کی نجاست یعنی ایسی نجات جس کا تعلق ان چیزوں سے ہو جن کا مشاہدہ کیا جاسکتا یا انہیں محسوس کیا جاسکتا ہو دوم گناہوں کی نجاست اسی طرح رجس اور رجز کو بھی ان ہی دو صورتوں پر محمول کیا جاتا ہے چناچہ ارشاد باری ہے (انما الخمر والمیسر والانصاب والازلام رجس من عمل الشیطان۔ بیشک شراب جوا، آستانے اور پانسے یہ سب کے سب گندے شیطانی عمل ہیں) منافقین کے متعلق فرزمایا (سیحلفون باللہ لکم اذا انقلبتم الیھم لتعرضوا عنہم فاعرضوا عنہم انھم رجس۔ تمہاری واپسی پر تمہارے سامنے قسمیں کھائی گے تاکہ تم ان سے صرف نظر کرو، تو بیشک تم ان سے صرف نظر ہی کرلو کیونکہ یہ ایک گندگی ہیں) اللہ تعالیٰ نے منافقین کو رجس کہہ کر پکارا جس طرح مشرکین کو نجس کا نام دیا۔ قول باری (انما المشرکون نجس) یہ بات معلوم ہوگئی کہ مشرکین کا مسجد میں داخلہ ممنوع ہے الا یہ کہ کوئی عذر پیش آ جائے اس لئے کہ مساجد کو نجاستوں سے پاک رکھنا ہم پر فرض ہے۔ قول باری (فلا یقربوا المسجد الحرام بعد عامھم ھذا) کی تفسیر میں اہل علم کے درمیان اختلاف رائے ہے۔ امام مالک اور امام شافعی کچا قول ہے کہ مشرک مسجد حرام میں داخل نہیں ہوگا۔ مشرک مجبوری کے عالم میں داخل مسجد ہوسکتا ہے امام مالک نے مزید فرمایا ہے کہ وہ مسجد حرام کے علاوہ دوسری مساجد میں بھی بلاضرورت داخل نہیں وہ سکے گا۔ مثلا کسی مشرک کو اپنے مقدمے کے سلسلے میں مسجد جا کر حاکم کے سامنے پیش ہونے کی ضرورت لاحق ہوجائے تو ایسی صورت میں وہ مسجد میں داخل ہوسکتا ہے۔ امام شافعی کے نزدیک مشرک مسجد حرام کے سوا ہر مسجد میں داخل ہوسکتا ہے۔ ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ ذمی کے لئے تمام مساجد میں داخل ہونا جائز ہے۔ آیت کے معنی کو دو میں سے ایک مفہوم پر محمول کیا جائے گا۔ یا تو اس نہی کا تعلق خاص طور پر ان مشرکین کے ساتھ ہے جنہیں مکہ نیز تمام مساجد میں داخل ہونے سے روک دیا گیا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ انہیں ذمی قرار نہیں دیا گیا تھا اور ان کے سامنے دو ہی راستے رکھے گئے تھے یا تو اسلام قبول کرلیں یا پھر تلوار کا سامنا کریں۔ ان میں عرب کے تمام مشرکین شامل تھے یا اس سے مراد یہ ہے کہ انہیں حج کے لئے مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔ اسی بنا پر حضور ﷺ نے حضرت ابوبکر ؓ کو حج پر بھیج کر انہیں یوم النحر میں یہ اعلان کردینے کا حکم دیا تھا۔ زہری نے اس کی روایتیں حمید بن عبدالرحمن سے کی ہیں اور انہوں نے حضرت ابوبکر ؓ سے کہ حضور ﷺ نے حضرت ابوبکر ؓ کو ان لوگوں کے ساتھ مکہ روانہ کیا تھا جنہوں نے یوم النحر میں منیٰ کے مقام پر یہ اعلان کردیا تھا کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج کے لئے نہ آئے۔ حضرت ابوبکر نے سب کے سامنے علانیہ طور پر یہ بات کہہ دی تھی جس کے نتیجے میں آئندہ سال جب حضور ﷺ حج کے لئے تشریف لے گئے تو کوفی مشرک مکہ میں موجود نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو اس سال نازل فرمایا تھا جس سال حضرت ابوبکر ؓ نے مکہ جا کر مشرکین کو علانیہ طور پر اس بات کی اطلاع دے دی تھی۔ حضرت علی ؓ سے مروی حدیث میں ہے کہ جب حضور ﷺ نے انہیں سورة براء ۃ پڑھ کر سنانے کے لئے مکہ روانہ کیا تھا تو یہ اعلان کرنے کا بھی حکم دیا تھا کہ آئندہ سال کوئی مشرک حج کے لئے نہ آئے۔ قول باری (فلا یقربوا المسجد الحرام) سے جو مفہوم مراد ہے اس پر درج بالا روایت دلالت کرتی ہے۔ اس پر آیت کا تسلسل بھی دلالت کرتا ہے۔ ارشاد ہے (وان خفتم عیلۃ فسوف یغنیکم اللہ من فضلہ ان شاء، اور اگر تمہیں تنگ دستی کا خوف ہے تو بعید نہیں کہ اللہ چاہے تو تمہیں اپنے فضل سے غنی کر دے) تنگ دستی کا خوف اس لئے تھا کہ مشرکین کو حج پر آنے سے روک دینے کی بنا پر اس موقع پر ہونے والے اجتماعات میں وہ شریک نہیں ہوسکتے تھے اور اس طرح ان اجتماعات میں ہونے والی تجارت وغیرہ سے حاصل ہونے والے فوائد و منافع کا انقطاع ہوگیا تھا۔ یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ آیت زیر بحث میں نہی کا تعلق حج کے ساتھ ہے۔ اس پر اہل اسلام کا یہ اتفاق بھی دلالت کرتا ہے کہ مشرکین کو حج کرنے، عرفات اور مزدلفہ میں وقوف کرنے اور دیگر افعال حج ادا کرنے کی ممانعت ہے۔ خواہ یہ افعال مسجد میں ادا نہ بھی کئے جاتے ہوں۔ اس کے برعکس ذمیوں کو ان مقامات میں جانے کی ممانعت نہیں ہے۔ اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ آیت سے مراد حج ہے، حج کے سوا کسی اور مقصد کے لئے مسجد کے قریب جانا مراد نہیں ہے۔ اس لئے کہ اگر آیت کی مراد کو درج بالا معنوں پر محمول کیا جائے گا تو اس میں تمام مشرکین کے لئے عموم ہوگا اور اگر اسے دخول مسجد پر محمول کیا جائے گا تو یہ صرف دخول مسجد کے ساتھ خاص ہوجائے گا۔ قرب مسجد کا مفہوم اس میں شامل نہیں ہوگا جبکہ ایٓت میں قرب مسجد کی نہی ہے۔ اس لئے اس حکم کے ساتھ مسجد کی تخصیص درست نہیں ہوگی اور مسجد کے اردگرد کی جگہ کو اس سے خارج رکھنا جائز نہیں ہوگا۔ حماد بن سلمہ نے حمید سے، انہوں نے حسن سے اور انہوں نے عثمان بن ابی العاص سے روایت کی ہے کہ جب قبیلہ ثقیف کا وفد حضور ﷺ کی خدمت میں آیا تو آپ ﷺ نے اس کے لئے مسجدنبوی میں شامیانہ لگانے کا حکم دیا۔ لوگوں نے عرض کیا کہ یہ نجس لوگ ہیں یہ مسجد میں کیسے قیام کرسکتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے یہ سن کر فرمایا : ” زمین لوگوں کی نجاستوں سے آلودہ نہیں ہوتی بلکہ لوگوں کی نجاستیں خود ان کی اپنی ذات میں رہتی ہیں “۔ یونس نے زہری سے اور انہوں نے سعید بن المسیب سے روایت کی ہے کہ ابو سفیان کفر کی حالت میں مسجد نبوی میں آئے تھے۔ تاہم مسجد حرام میں اس کی اجازت نہیں تھی اس لئے کہ قول باری ہے (فلا یقربوا المسجد الحرام) ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ ثقیف کا وفد فتح مکہ کے بعد حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا اور آیت کا نزول اس سال ہوا تھا جس سال حضرت ابوبکر ؓ حج پر گئے تھے۔ یہ 9 ھ کا واقعہ ہے۔ حضورں نے اس وفد کو مسجد میں ٹھہرایا تھا اور یہ فرما دیا تھا کہ ان کا نجس ہونا دخول مسجد سے مانع نہیں ہے۔ اس میں یہ دلالت موجود ہے کہ کفر کی نجاست کافر کو مسجد میں داخل ہونے سے نہیں روکتی۔ ابو سفیان معاہدہ کی تجدید کے لئے حضور ﷺ کے پاس آئے تھے یہ واقعہ فتح مکہ سے پہلے کا ہے اس وقت ابو سفیان مشرک تھے۔ آیت کا نزول اگچہ اس واقعہ ک بعد ہوا تھا تاہم یہ مسجد حرام کے قرب کی نہی کی مقتضی ہے دوسری تمام مساجد میں کافروں کے داخلے کی ممانعت کی مقتضی نہیں ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ کافر کے لئے حدود حرم میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے الا (a) یہ کہ وہ غلام یا بچہ ہو اس لئے کہ قول باری ہے (فلا یقربوا المسجد الحرام) (a) نیز زید بن یثیع نے حضرت علی سے روایت کی ہے کہ آپ نے حضور ﷺ کے حکم کے بموجب یہ اعلان کردیا تھا کہ اب کوئی مشرک حدود حرم میں داخل نہ ہو۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ اگر روایت کے الفاظ یہی ہیں تو اس سے یہ مراد ہے کہ کوئی مشرک حج کے لئے حدود حرم میں نہ آئے۔ حضرت علی ؓ سے دوسری روایات کے مطابق یہ منقول ہے کہ آپ نے یہ اعلان کیا تھا کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج کرنے کے لئے نہ آئے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت میں بھی یہ اعلان ان ہی لفظوں میں ہوا تھا۔ اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ معترض نے جس روایت کا حوالہ دیا ہے اس سے حج کے لئے حرم میں داخل ہونا مراد ہے۔ شریک نے اشعث سے ، انہوں نے حسن سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا تھا کہ ” اس سال حج کے بعد مشرکین مسجد حرام کے پاس پھٹکنے نہ پائیں الا (a) یہ کہ کوئی غلام یا لونڈی ہو جو کسی ضرورت کی بنا پر یہاں داخل ہوئی ہو۔ “ آپ نے غلام یا لونڈی کا کسی ضرورت کی بنا پر داخلہ مباح کردیا تھا حج کے لئے داخلہ مباح نہیں کیا تھا۔ یہ امر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ایک ذمی جو آزاد ہو وہ یہاں کسی ضرورت کی بنا پر داخل ہوسکتا ہے اس لئے کہ کسی نے غلام اور آزاد کے درمیان فرق نہیں کیا ہے۔ حضور ﷺ نے غلام اور لونڈی کا خصوصیت سے ذکر کیا تو اس کی وجہ ۔۔۔ واللہ اعلم۔۔۔ یہ ہے کہ ان دونوں کا اکثر احوال میں حج کے لئے یہاں داخلہ نہیں ہوتا۔ ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحٰق المروزی نے روایت بیان کی ہے انہیں حسن بن ابی الربیع الجرجانی نے، انہیں عبدالرزاق نے انہیں ابن جریر نے، اور انہیں ابو الزبیر نے کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ کو قول باری (انما المشرکون نجس فلا یقربوا المسجد الحرام) (a) کی تفسیر میں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ” الا یہ کہ کوئی غلام ہو یا اہل ذمہ میں سے کوئی ہو۔ “ ابو الزبیر نے اس روایت کو حضرت جابر ؓ پر لے جاکر موقوف کردیا ہے۔ یہ دونوں روایتیں درست ہیں۔ حضرت جابر ؓ اس روایت کو کبھی حضور ﷺ سے مرفوعاً بیان کرتے تھے اور کبھی خود اس کا فتویٰ دیتے تھے۔ ابن جریج نے عطاء سے ان کا یہ قول نقل کیا ہے کہ کوئی مشرک مسجد میں داخل نہ ہو۔ عطاء نے اس کے ساتھ یہ آیت تلاوت کی تھی (فلایقربوا المسجد الحرام بعدعا مھم ھذا) (a) مسجد حرام سے مراد حرام ہے عطار کا قول ہے کہ مسجد حرام میں سارا حرم داخل ہے۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ عمرو بن دینار نے بھی مجھے یہی بتایا تھا۔ ابوبکر حصاص کہتے ہیں کہ پورے حرم کو مسجد حرام کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے اس لئے کہ حرم کی حرمت مسجد حرام کی حرمت کی بنا پر ہے۔ اللہ کا ارشاد ہے (والمسجد الحرام الذی جعلنہ للناس سواء ن العاکف فیہ والباد۔ (a) اور مسجد حرام سے جس کو ہم نے مقرر کیا ہے لوگوں کے واسطے کہ اس میں رہنے والا اور باہر سے آنے والا سب برابر ہیں) اس آیت میں مسجد حرام سے پورا حرم مراد ہے۔ اسی طرح یہ قول باری ہے (ثم محلھا الی البیت العتیق۔ (a) پھر اس کے ذبح کے موقع بہت عتیق کے قریب ہے ( یہاں بھی سارا حرم مراد ہے۔ اس لئے کہ حرم کے جس حصے میں بھی قربانی کے اونٹ ذبح کئے جائیں گے قربانی درست ہوجائے گی۔ اس بنا پر قول باری (فلا یقربوا المسجد الحرام) (a) سے حج کے لئے سارا حرم مراد لینا درست ہے اس لئے کہ اکثر مناسک کا تعلق حرم کے ساتھ ہے اس بنا پر سارا حرم مسجد کے حکم میں ہے اور اور اس لئے کہ اکثر مناسک کا تعلق حرم کے ساتھ ہے۔ اس بنا پر سارا حرم مسجد کے حکم میں ہے اور اسی لئے مسجد کے لفظ سے پورا حرم اور حرم کے لفظ سے حج تعبیر ہے۔ اس جگہ مسجد سے مراد حرم ہے اس پر قول باری (الا الذین عاھدتم عند المسجد الحرام فنا استقاموا لکم فاستقیموا لھم) (a) دلالت کرتا ہے یہ بات سب کو معلوم ہے کہ یہ معاہدہ حدیبیہ کے مقام پر ہوا تھا جو حرم کے کنارے پر واقع ہے۔ حضرت مسور بن مخرمہ ؓ اور مروان بن الحکم کے بیان کے مطابق حدیبیہ کا بعض حصہ حرم کے اندر ہے اور بعض حصہ حل یعنی حرم سے باہر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر عند المسجد الحرام (a) کا اطلاق کیا جس کے معنی ’ عند الحرم ‘ (a) یعنی حرم کے پاس کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے مشرکین پر نجس کے اسم کا اطلاق کیا ہے جو امر کا مقتضی ہے کہ مشرکین سے اجتناب کیا جائے اور ان سے گھل مل جانے سے پرہیز کیا جائے اس لئے کہ مکہ ہمیں نجس چیزوں سے دور رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ قول باری (بعدعامھم ھذا) (a) سے قتادہ کے قول کے مطابق وہ سال مراد ہے جس میں حضرت ابوبکر ؓ حج کے لئے گئے تھے اور تمام لوگوں کو سورة برأت پڑھ کر سنائی تھی یہ ہجرت کانوواں سال تھا۔ اس کے بعد 10 ھ؁ میں حضور ﷺ نے فریضہ حج ادا فرمایا تھا جو حجۃ الوداع کے نام سے مشہور ہے۔ قول باری ہے (وان خفتم عیلۃ فسوف یغنیکم اللہ من فضلہ ان شاء۔ (a) اور اگر تمہیں تنگ دستی کا خوف ہے تو بعید نہیں کہ اللہ چاہے تو تمہیں اپنے فضل سے غنی کردے) عیلہ (a) فقر و تنگ دستی کو کہتے ہیں۔ جب کوئی آدمی تنگ دست ہوجائے تو کہا جاتا ہے۔ ” عال فلان یعیل “ (a) (فلان تنگ دست ہوگیا یا ہوجائے گا) شاعر کہتا ہے : وما یدری الفقیر متیٰ غناہ وما یدری الغنی متی یعیل (a) (فقیر کو کیا معلوم کہ وہ کب مال دار ہوجائے گا اور مال دار کو کیا پتہ کہ وہ کب فقیر بن جائے گا) مجاہد اور قتادہ کا قول ہے کہ انہیں یہ خوف تھا کہ مشرکین کو حج پر آنے کی ممانعت سے تجارتی سرگرمیاں ٹھپ ہوکر رہ جائیں گی۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں بتادیا کہ وہ اپنے فضل سے انہیں غنی کردے گا۔ ایک قول کے مطابق اس سے وہ جزیہ مراد ہے جو مشرکین سے لیا جاتا ہے ایک اور قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ یہ تجارتی سرگرمیاں مسلمانوں کی آمد کی بنا پر جاری رہیں گی اس لئے کہ اس کے علم میں یہ بات تھی کہ پورا عالم عرب اور عجم کے علاقے عنقریب دائرہ اسلام میں داخل ہوجائیں گے اور پھر حج کے ارادے سے آنے والے مسلمانوں کے ساتھ تجارت کرکے یہاں کے لوگوں کو وہ منافع اور فوائد حاصل ہوجائیں گے جن کے مشرکین کی آمد کا سلسلہ منقطع ہونے کی وجہ سے ہاتھ سے نکل جانے کا ابھی خوف پیدا ہوگیا تھا۔ کعبۃ اللہ مکان محترم ہے یہ قول باری اس قول باری کی نظیر ہے (جعل اللہ الکعبۃ البیت الحرام قیاماً للناس والشھر الحرام والھدی والقلائد (a) اللہ تعالیٰ نے مکان محترم کعبہ کو لوگوں کے لئے (اجتماعی زندگی کے) قیام کا ذریعہ بنایا اور ماہ حرام اور قربانی کے جانوروں اور قلادوں کو بھی) اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمادیا کہ بیت اللہ کے حج، قربانی کے جانوروں اور قلادوں میں لوگوں کے دنیاوی اور دینی منافع و فوائد اور مصالح رکھ دیئے گئے ہیں۔ نیز اپنے ارشاد (وان خفتم عیلۃ فسوف یغنیکم اللہ من فضلہ ان شاء) (a) اس بات کی اطلاع دے دی کہ مسلمانوں کی حج کے لئے آمد سے یہاں کے لوگوں کو بہت سے فوائد و منافع اور دولتمندی حاصل ہوگی اگرچہ آیت کے نزول کے وقت مسلمانوں کی تعداد تھوڑی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے دولتمندی کو اپنی مشیت کے ساتھ معلق کردیا تو اس کے دو وجوہ بیان کئے گئے ہیں ان میں سے ہر ایک آیت میں مراد ہوسکتی ہے۔ ایک تو یہ کہ ان میں سے چونکہ بہت سے لوگ وفات پاجانے والے تھے اور وہ اس موعود مالداری کو حاصل نہیں کرسکتے تھے اس لئے اسے اپنی مشیت کے ساتھ معلق کردیا۔ دوسری وجہ یہ ہے اس تعبیر سے لوگ اپنے دینی اور دنیوی امور کی اصلاح کے لئے صرف اللہ کی ذات سے اپنی امیدیں وابستہ کرلیتے جس طرح یہ قول باری ہے (لتدخلن المسجد الحرام ان شاء اللہ اٰمنین۔ (a) اگر اللہ چاہے تو تم ضرور مسجد حرام میں امن و اطمینان کے ساتھ داخل ہوگے)