9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsاحکام القرآن

Ayah 9:107

وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَّ كُفْرًا وَّ تَفْرِیْقًۢا بَیْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ لَیَحْلِفُنَّ اِنْ اَرَدْنَاۤ اِلَّا الْحُسْنٰى١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 9:107 in the Quran reader

اور (ان میں ایسے بھی ہیں) جنہوں نے اس غرض سے مسجد بنائی ہے کہ ضرر پہنچائیں اور کفر کریں اور مومنوں میں تفرقہ ڈالیں۔ اور جو لوگ خدا اور اس کے رسول سے پہلے جنگ کرچکے ہیں ان کے لئے گھات کی جگہ بنائیں اور قسمیں کھائیں گے کہ ہمارا مقصود تو صرف بھلائی تھی مگر خدا گواہی دیتا ہے کہ یہ جھُوٹے ہیں۔

مسجد ضرار کا مقصد قول باری ہ والذین اتخذوا مسجد ا ً ضرانا ً و تعریقا ً بین المومنین وارصادا لمن حارب اللہ ورسولہ من قبل کچھ اور لوگ ہیں جنہوں نے ایک مسجد بنائی اس غرض کے لیے دعوت حق کو نقصان پہنچائیں اور خدا کی بندگی کرنے کی بجائے کفر کریں اور اہل ایمان میں پھوٹ ڈالیں اور اس بظاہر عبادت گاہ کو اس شخص کے لیے کمین گاہ بنائیں جو اس سے پہلے خدا اور اسکے رسول کے خلاف برسر پیکارہوچکا ہے تا آخر سلف کی ایک جماعت سے مروی ہے کہ اس لوٹے میں اوس اور خزرج کے بارہ آدمی شامل تھے، ان حضرات نے ان کے نام بھی گنوائے ہیں ۔ انہوں نے حضور ﷺ سے جاڑے کی راتوں نیز گرمی اور بارش میں نماز پڑھنے کے لیے ایک مسجد کی تعمیر کی اجازت مانگی ، حالانکہ یہ ان کا مقصد نہیں تھا، ان کا اصل ارادہ مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے اور ان میں گروہ بندی پیدا کرنے کا تھا کہ ایک گروہ ایک مسجد میں نماز ادا کرتا اور دوسرا گروہ دوسری مسجد میں اور اس طرح ان کے اتحاد و اتفاق میں رخنہ پڑجاتا ایک دوسرے کے ساتھ لگائو ختم ہوجاتا اور ان میں اجتماعیت کی جو کیفیت پیدا ہوگئی تھی اس کا شیراز بکھر جاتا ، ان کے یہ ارادے بھی تھے کہ اس مسجد میں بیٹھ کر آزادی سے حضور ﷺ کے خلاف طعن و تشنیع سے کام لے کر اپنے کفر کا اظہار کریں گے۔ مسلمانوں کی گرفت سے بےخوف ہو کر مل بیٹھیں گے اور عملی اقدامات کے لیے باہم مشورے کریں گے اس لیے کہ اس مسجد میں ان لوگوں کے سوا اور کوئی مسلمان نماز پڑھنے کے لیے نہ آتا۔ قول باری ( وارصادا ً لمن حارک اللہ ورسولہ من قبل کی تفسیر میں حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد کا قول ہے کہ اس سے ابو عامر مردود مراد ہے ۔ اسے اس سے قبل ابو عامر راہب کہا جاتا تھا۔ اس کمبخت کو حضور ﷺ کی ذات سے شدید دشمنی تھی اس دشمنی کا سبب وہ حسد اور عناد تھا کو قبیلہ اوس کی سرداری کے ہاتھ سے نکل جانے کی بنا پر آپ ﷺ کے خلاف اس کے دل میں پیدا ہوگیا تھا۔ آپ کی ہجرت مدینہ سے قبل اسے قبیلہ اوس کے اندر یہ سرداری اور امتیازی حیثیت حاصل تھی ۔ اس کمبخت نے منافقین سے کہہ رکھا تھا کہ عنقریب شہنشاہ روم قیصر مدینے پر حملہ آورہونے والا ہے اس کے ساتھ میں بھی ایک لشکر لائوں گا اور پھر محمد ﷺ اور ان کے ساتھیوں کو مدینے سے نکال دیں گے۔ ان منافقین نے یہ مسجد اس لیے بنائی تھی کہ اسے کمین گاہ کے طور پر استعمال کریں اور اس میں بیٹھ کر قیصر اور اس کے لشکر کا انتظار کریں۔ ایک فعل پر حسن و قبح کے لحاظ سے نتیجہ مرتب ہونے کی بنیاد ارادہ ہے ، ارادہ ہی وہ امر ہے جو فعل کے اندر وہ معانی پیدا کردیتا ہے جنہیں پیدا کرنا یا جن سے روکنا حکمت الٰہی کا تقاضا اور منشاء ہوتا ہے ۔ زیر بحث آیت ان باتوں پر دلالت کرتی ہے۔ اس لیے کہ اگر یہ لوگ اس مسجد کی تعمیر میں اقامت صلوٰۃ کا ارادہ کرتے تو ان کا یہ کام عین طاقت الٰہی شمار ہوتا لیکن چونکہ ان کے ارادے کچھ اور تھے جن کی اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں خبر دے دی اس لیے تعمیر مسجد کے اس عمل میں نہ صرف قابل مذمت ٹھہرے بلکہ کافر قراردیے گئے۔ قول باری ہے لا تقسم فیہ ابدا ً المسجد اسس علی التقوی من اولی یوم احق ان تقوم فیہ تم ہرگز اس عمارت میں کھڑے نہ ہوناجو مسجد روز اول سے تقویٰ پر قائم کی گئی تھی وہی اس کے لیے زیادہ موزوں ہے تم اس میں عبادت کے لیے کھڑے ہو اس میں یہ دلالت موجود ہے کہ جو مسجد مسلمانوں کو نقصان پہنچانے اور معاصی کے ارتکاب کی خاطر بنائی جائے اس میں عبادت کے لیے کھڑا ہونا جائز نہیں ہے بلکہ اسے منہدم کردینا واجب ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو اس مسجد میں عبادت کے لیے کھڑے ہونے سے روک دیا تھا جو مسلمانوں کو نقصان پہنچانے اور ان میں فساد پھیلانے کی خاطر تعمیر کی گئی تھی اس مسجد کی تعمیر کرنے والوں کو حضور ﷺ کے قیام سے محروم کر کے ایک طرح ان کی تذلیل کی گئی اور ان کا مذاق اڑایا گیا جبکہ تقویٰ پر قائم ہونے والی مسجد کا معاملہ اس کے برعکس رکھا گیا ۔ یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ بعض مقامات میں نماز کی ادائیگی دوسرے مقامات کی بہ نسبت اولیٰ ہوتی ہے ، نیز بعض مقامات میں نماز پڑھنے کی ممانعت ہوتی ہے۔ آیت اس پر بھی دلالت کرتی ہے کہ مسجد میں نماز کی فضلیت کی بنیاد اس نیت پر ہوتی ہے جسے سامنے رکھ کر مسجد کی تعمیر کی گئی ہو، نیز اس پر بھی دلالت ہو رہی ہے کہ اس مسجد میں نماز کی فضلیت زیادہ ہوتی ہے جو پہلے بنائی گئی ہو ۔ یعنی بعد میں بننے والی مسجد میں نماز پڑھنے کی فضلیت کم ہوتی ہے۔ اس لیے کہ قول باری ہے اسس علی التقوی من اولی یوم اور یہی قول باری احق ان تقوم فیہ کے معنی ہیں ، کیونکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر اس مسجد ضرار میں نماز کے لیے کھڑا ہونا حق اور جائز بھی ہوتا تو بھی وہ مسجد جس کی بنیاد تقولی پر رکھی گئی ہے اس کی بہ نسبت نماز کے لیے قیام کی زیادہ مستحق ہوتی جب کہ مسجد ضرار میں قیام جائز ہی نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو اس میں قیام سے منع فرما دیا تھا اگر یہاں یہ مفہوم نہ ہوتا جس کا ہم نے ذکر کیا ہے تو عبارت کی ترتیب اس طرح ہوتی لمسجد اسس علی التقوی احق ان تقوم فیہ من مسجد لا یجوزا لقیام فیہ جس مسجد کی بنیادتقویٰ پر رکھی گئی ہے وہی اس کے لیے زیادہ موزوں ہے کہ تم اس میں کھڑے ہو بہ نسبت اس مسجد کے جس میں قیام جائز نہیں ہے اور پھر اس کلام کی وہی حیثیت ہوتی جو اس قول کی کہ فرض کی ادائیگی اسے ترک کردینے سے بہتر ہے ۔ اس مفہوم کی ہاں گنجائش ہوسکتی ہے لیکن پہلا مفہوم ہی کلام کی اصل توجیہ ہے۔ وہ کون سی مسجد ہے جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ، اس کی تعیین میں احتلاف ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ اور سعید بن المسیب سے مروی ہے کہ یہ مدینہ کی مسجد ہے۔ حضرت ابی بن کعب ؓ اور حضرت ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ ھو مسجدی ھذا وہ مسجد یہ میری مسجد ہے، حضرت ابن عباس ؓ ، حسن بصری اور عطیہ سے مروی ہے کہ یہ مسجد قبا ہے۔
Ayahs 9:108–110

لَا تَقُمْ فِیْهِ اَبَدًا١ؕ لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَى التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِیْهِ١ؕ فِیْهِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَهَّرُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُطَّهِّرِیْنَ Open ayah 9:108 in the Quran reader

تم اس (مسجد) میں کبھی (جا کر) کھڑے بھی نہ ہونا۔ البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے اس قابل ہے کہ اس میں جایا (اور نماز پڑھایا) کرو۔ اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنے کو پسند کرتے ہیں۔ اور خدا پاک رہنے والوں کو ہی پسند کرتا ہے۔

اَفَمَنْ اَسَّسَ بُنْیَانَهٗ عَلٰى تَقْوٰى مِنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٍ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ اَسَّسَ بُنْیَانَهٗ عَلٰى شَفَا جُرُفٍ هَارٍ فَانْهَارَ بِهٖ فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 9:109 in the Quran reader

بھلا جس شخص نے اپنی عمارت کی بنیاد خدا کے خوف اور اس کی رضامندی پر رکھی وہ اچھا ہے یا وہ جس نے اپنی عمارت کی بنیاد گر جانے والی کھائی کے کنارے پر رکھی کہ وہ اس کو دوزخ کی آگ میں لے گری ؟ اور خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

لَا یَزَالُ بُنْیَانُهُمُ الَّذِیْ بَنَوْا رِیْبَةً فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلَّاۤ اَنْ تَقَطَّعَ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 9:110 in the Quran reader

یہ عمارت جو انہوں نے بنائی ہے ہمیشہ ان کے دلوں میں (موجب) خلجان رہے گی (اور ان کو متردد رکھے گی) مگر یہ کہ انکے دل پاش پاش ہوجائیں اور خدا جاننے والا حکمت والا ہے۔

قول باری ہے فید رجال یحبون ان یتطھروا واللہ یحب المتطھرین اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنا پسند کرتے ہیں اور اللہ کو پاکیزگی اختیار کرنے والے ہی پسند میں اس میں اس امر پر دلالت موجود ہے کہ اہل مسجد کی فضلیت اس مسجد کی اور اس میں نماز پڑھنے کی فضلیت ہوتی ہے۔ قول باری یحبون ان یتطھروا کی تفسیر میں حسن سے مروی ہے کہ وہ لوگ گناہوں سے پاکیزگی اختیار کرنا پسند کرتے تھے ۔ ایک قول ہے کہ اس سے مراد پانی کے ذریعے طہارت حاصل کرنا ہے۔ ہمیں محمد بن بکر نے روایت بیان کی ، انہیں ابو دائود نے ، انہیں محمد بن العلاء نے ، انہیں معاویہ بن ہشام نے یونس بن الحارث سے ، انہوں نے ابراہیم بن ابی میمونہ سے ، انہوں نے ابو صالح سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے اور انہوں نے حضور ﷺ سے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ” یہ آیت اہل قبا کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ یہ روایت دو باتوں پر مشتمل ہے ۔ اول یہ کہ وہ مسجد جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی تھی وہ مسجد قبا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ پانی سے استنجاء کرنا ڈھیلوں سے استنجاء کرنے کی بہ نسبت افضل ہے۔ ڈھیلوں سے استنجاء کی روایت حضور ﷺ سے قولا ً اور رفعلا ً تواتر کے ساتھ ثابت ہے اور یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے پانی کے ساتھ بھی استنجاء کیا ہے۔
Ayah 9:111

اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ١ؕ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَیَقْتُلُوْنَ وَ یُقْتَلُوْنَ١۫ وَعْدًا عَلَیْهِ حَقًّا فِی التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِیْلِ وَ الْقُرْاٰنِ١ؕ وَ مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ مِنَ اللّٰهِ فَاسْتَبْشِرُوْا بِبَیْعِكُمُ الَّذِیْ بَایَعْتُمْ بِهٖ١ؕ وَ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:111 in the Quran reader

خدا نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال خرید لئے ہیں (اور اس کے) عوض میں ان کے لئے بہشت (تیار کی) ہے۔ یہ لوگ خدا کی راہ میں لڑتے ہیں تو مارتے بھی ہیں اور مارے جاتے بھی ہیں۔ یہ تورات اور انجیل اور قرآن میں سچا وعدہ ہے جس کا پورا کرنا اسے ضرور ہے اور خدا سے زیادہ وعدہ پورا کرنے والا کون ہے ؟ تو جو سودا تم نے اس سے کیا ہے اس سے خوش رہو اور یہی بڑی کامیابی ہے۔

خدا کی خریداری کا مطلب قول باری ہے ان اللہ اشتری من المومنین انفسھم واموالھم بان لھم الجنۃ حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے مومنوں سے ان کے نفس اور ان کے مال جنت کے بدلے خرید لیے ہیں ۔ یہاں خریدنے کا ذکر بطور مجاز کیا گیا ہے اس لیے کہ حقیقت میں خریدار وہ ہوتا ہے جو ایسی چیز کی خریداری کرتا ہے جو اس کی ملکیت میں نہیں ہوتی جبکہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہماری جانوں اور اموال کا مالک ہے ۔ لیکن یہ طرز بیان اسی طرح ہے جس طرح یہ قول ہے من ذالذی یقرض اللہ قرضا ً حسنا ً کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے ؟ اللہ نے آیت زیر بحث میں اسے خرید کر نام سے موسوم کیا جس طرح یہاں صدقہ کو قرض کے نام سے موسوم کیا اس لیے کہ دونوں صورتوں میں ثواب کی ضمانت دی گئی ہے اس لیے لفظ کو اس صورت پر محمول کیا گیا جس میں معاملہ کرنے والا مالک نہیں ہوتا اس کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کو جہاد اور صدقہ کی ترغیب دی جائے اور انہیں اس طرف مائل کیا جائے۔ قول باری ہے السائعون اللہ کی طرف بار بار پلٹنے والے ایک قول کے مطابق اس سے مراد روز دار ہیں ۔ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا سیاحۃ امتی الصوم روزہ میری امت کے لیے سیاحت ہے حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ ، حضرت ابن عباس ؓ ، سعید بن جبیر اور مجاہد سے مروی ہے کہ اس سے مراد روزہ ہے۔
Ayahs 9:112–116

اَلتَّآئِبُوْنَ الْعٰبِدُوْنَ الْحٰمِدُوْنَ السَّآئِحُوْنَ الرّٰكِعُوْنَ السّٰجِدُوْنَ الْاٰمِرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ النَّاهُوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ الْحٰفِظُوْنَ لِحُدُوْدِ اللّٰهِ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:112 in the Quran reader

توبہ کرنے والے عبادت کرنے والے حمد کرنے والے روزہ رکھنے والے رکوع کرنے والے سجدہ کرنے والے نیک کاموں کا امر کرنے والے اور بری باتوں سے منع کرنے والے خدا کی حدوں کی حفاظت کرنے والے (یہی مومن لوگ ہیں) اور (اے پیغمبر ﷺ مومنوں کو (بہشت کی) خوشخبری سنا دو ۔

مَا كَانَ لِلنَّبِیِّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ یَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِیْنَ وَ لَوْ كَانُوْۤا اُولِیْ قُرْبٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمْ اَنَّهُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ Open ayah 9:113 in the Quran reader

پیغمبر اور مسلمانوں کو شایاں نہیں کہ جب ان پر ظاہر ہوگیا کہ مشرک اہل دوزخ ہیں۔ تو ان کے لئے بخشش مانگیں گو وہ ان کے قرابت دار ہی ہوں۔

وَ مَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِیْمَ لِاَبِیْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِیَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنْهُ١ؕ اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَاَوَّاهٌ حَلِیْمٌ Open ayah 9:114 in the Quran reader

اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لئے بخشش مانگنا تو ایک وعدے کے سبب تھا جو وہ اس سے کرچکے تھے۔ لیکن جب انکو معلوم ہوگیا کہ وہ خدا کا دشمن ہے تو اس سے بیزار ہوگئے۔ کچھ شک نہیں کہ ابراہیم بڑے نرم دل اور متحمل تھے۔

وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُضِلَّ قَوْمًۢا بَعْدَ اِذْ هَدٰىهُمْ حَتّٰى یُبَیِّنَ لَهُمْ مَّا یَتَّقُوْنَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 9:115 in the Quran reader

اور خدا ایسا نہیں کہ کسی قوم کو ہدایت دینے کے بعد گمراہ کر دے جب تک ان کو وہ چیز نہ بتادے جس سے وہ پرہیز کریں۔ بیشک خدا ہر چیز سے واقف ہے۔

اِنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ؕ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 9:116 in the Quran reader

خدا ہی ہے جس کے لئے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے۔ وہی زندگنی بخشتا اور (وہی) موت دیتا ہے اور خدا کے سوا تمہارا کوئی دوست اور مددگار نہیں ہے۔

قول باری ہے والحافظون لحدود اللہ اور اللہ کے حدود کی حفاظت کرنے والے اللہ کی اطاعت کرنے ، اس کے اوامر پر ڈٹے رہنے اور اس کے نواہی سے رکے رہنے کے وصف کو مبالغہ کے طور پر بیان کرنے کا یہ سب سے بلیغ اور بھر پور انداز ہے ، وہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اوامر ، اپنے نواہی ، اپنی ترغیبات کو مستحبات یا اباحات کے حدود مقرر کردیے ہیں ۔ اسی طرح بندوں کو بعض احکامات کے اندر دو باتوں میں سے ایک کو اختیار کرلینے نیز غیر اولیٰ کو چھوڑ کر اولیٰ پر عمل کرنے کی گنجائش ملی ہیں تا کہ اس کے ذریعہ اللہ کے حکم کی موافقت کی حتیٰ الامکان جستجو ہوجائے۔ یہ تمام باتیں حدود اللہ ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو اس وصف سے متصف کردیا ہے جو لوگ ایسے ہوں گے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عائد کردہ تمام فرائض کو ادا کرنے والے اور اس کے تمام احکامات کو بروئے کار لانے والے قرار پائیں گے۔ ان لوگوں سے کون مراد ہیں اس کا ذکر اس سے پہلی آیت میں ہوچکا ہے ، یعنی وہ صحابہ کرام جنہوں نے بیعۃ الرضوان کے موقع پر درخت کے نیچے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی ، چناچہ ارشاد باری فاستبشروا ببیعکم الذین بایعتم بہ پس خوشیاں منائو اپنے اس سودے پر جو تم نے خدا سے چکا لیا ہے ، پھر اس پر اس قول کو عطف کیا التائبون توبہ کرنے والے تا آخر آیت ۔ اس آیت میں دینداری اور اسلام کے اندر ان کے مرتبہ ومقام اور اللہ کے ہاں ان کی قدر و منزلت کو بیان کیا گیا ہے۔ بندوں کی اللہ تعالیٰ کی طاعت پر کمر بستگی کی صفت کو اس سے زیادہ بلیغ اور پر شکوہ انداز میں بیان نہیں کیا جاسکتا جو قول باری والحافظون لحدود اللہ میں بیان ہوا ہے۔
Ayah 9:117

لَقَدْ تَّابَ اللّٰهُ عَلَى النَّبِیِّ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ فِیْ سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِنْۢ بَعْدِ مَا كَادَ یَزِیْغُ قُلُوْبُ فَرِیْقٍ مِّنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّهٗ بِهِمْ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌۙ Open ayah 9:117 in the Quran reader

بیشک خدا نے پیغمبر پر مہربانی کی اور مہاجرین اور انصار پر جو باوجود اس کے کہ ان میں سے بعضوں کے دل جلد پھرجانے کو تھے۔ مشکل کی گھڑی میں پیغمبر کے ساتھ رہے۔ پھر خدا نے ان پر مہربانی فرمائی۔ بیشک وہ ان پر نہایت شفقت کرنے والا (اور) مہربان ہے۔

قول باری ہے لقد تاب اللہ علی لنبی والمھاجرین والانصار والذین اتبعوا فی ساعۃ العسرۃ اللہ نے معاف کردیا نبی کو اور ان مہاجرین کو جنہوں نے بڑی تنگی کے وقت میں نبی کا ساتھ دیا ۔ عسرت کی معاملے کی تنگی ، اس کی شدت اور اس کی سختی کو کہتے ہیں ۔ یہ صورت حال غزوہ تبوک کے موقع پر پیش آئی تھی ۔ اس لیے کہ حضور ﷺ اس غزوہ پر اس وقت نکلے تھے جب انتہائی گرمی تھی، نیز پانی اور رسد کی بھی انتہائی قلت تھی اور سواری کے جانوروں کی تعدا د بھی توڑی تھی ۔ اللہ تعالیٰ نے توبہ کے ذکر کے ساتھ ان لوگوں کو مخصوص کردیا جنہوں نے تنگی اس گھڑی میں حضور ﷺ کا ساتھ دیا تھا ۔ اس لیے کسی صورت حال میں ساتھ دینے اور پیروی کرنے کا مرتبہ بہت اونچا ہوتا ہے اور اس کے بدلے میں ملنے والے ثواب کا درجہ بھی بہت بلند ہوتا ہے ، کیونکہ اس صورت میں انہیں بہت سی مشقتیں جھیلنی پڑتی ہیں ، انہیں برداشت کرنا پڑتا ہے اور دوسری طرف ان کی بصیرت اور یقین کو بایں معنی مزید جلاحاصل ہوتا ہے کہ موسم کی کوئی شدت اور راستے کی کوئی مشقت انہیں اپنے ارادے اور راہ عمل سے ہٹا نہیں سکتی ۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے ایک ایسے گروہ کا بھی ذکر کیا ہے جن کے دل بس راہ حق سے ہٹنے ہی والے تھے چناچہ ارشاد ہے من بعد ما کادیر یغ قلوب فریق منھم ۔ اگرچہ ان میں سے کچھ لوگوں کے دل کجی کی طرف مائل ہو چلے تھے ۔ زیغ حق سے دل کے اچٹ ہوجانے کو کہتے ہیں۔ اہل ایمان کا ایک گروہ اس کے قریب ہی پہنچ چکا تھا لیکن ابھی انہوں نے اس کجی اور حق سے میلان کے مطابق عمل نہیں کیا تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان سے مواخذہ نہیں کیا اور ان کی توبہ قبول کرلی ۔ اللہ تعالیٰ نے سختی کی اس گھڑی میں حضور ﷺ کا ساتھ دینے الوں کو جس کیفیت کی بنا پر دوسروں پر فضلیت دی اسی کیفیت کی بنا پر حضرات مہاجرین کو حضرات انصار پر فضلیت عطا کی ۔ اور اسی کیفیت کی بنا پر ایمان اور اسلام میں سبقت لے جانے والوں کو دوسرے تمام لوگوں پر فضلیت دی اس لیے کہ انہیں مشقتیں برداشت کرنا پڑی تھیں اور انہوں نے ایسے وقت میں حضور ﷺ کی پیروی کر کے اپنی زبردست بصیرت اور یقین کامل کا اظہار کردیا تھا جبکہ اہل ایمان کو انگلیوں پر گنا جاسکتا تھا اور دوسری طراہل کفر کو پورا غلبہ حاصل تھا اور ان کی طرف سے جو گنتی کے چند اہل ایمان تھے انہیں مسلسل اذیتیں دی جاتی تھیں ، نیز ان کی تعذیب کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔
Ayah 9:118

وَّ عَلَى الثَّلٰثَةِ الَّذِیْنَ خُلِّفُوْا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا ضَاقَتْ عَلَیْهِمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَ ضَاقَتْ عَلَیْهِمْ اَنْفُسُهُمْ وَ ظَنُّوْۤا اَنْ لَّا مَلْجَاَ مِنَ اللّٰهِ اِلَّاۤ اِلَیْهِ١ؕ ثُمَّ تَابَ عَلَیْهِمْ لِیَتُوْبُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 9:118 in the Quran reader

اور ان تینوں پر بھی جن کا معاملہ ملتوی کیا گیا تھا۔ یہاں تک کہ جب زمین باجود فراخی کے ان پر تنگ ہوگئی اور ان کی جانیں بھی ان پر دوبھر ہوگئیں اور انہوں نے جان لیا کہ خدا (کے ہاتھ) سے خود اس کے سوا کوئی پناہ نہیں۔ پھر خدا نے ان پر مہربانی کی تاکہ توبہ کریں۔ بیشک خدا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔

قول باری ہے وعلی الثلاثۃ الذین خلفوا اور ان تینوں کو بھی اس نے معاف کردیا جن کے معاملے کو ملتوی کردیا گیا تھا ۔ حضرت ابن عباس ؓ ، حضرت جابر ؓ ، مجاہد اور قتادہ کا قول ہے کہ یہ تین افراد حضرت کعب بن مالک ؓ ، حضرت بلال بن امیہ ؓ اور حضرت مرارہ بن الربیع تھے ۔ مجاہد کا قول ہے کہ ان حضرات کی توبہ کا معاملہ موخر کردیا گیا تھا جبکہ قتادہ کے قول کے مطابق یہ حضرات غزوہ ٔ تبوک میں لشکر اسلام کے ساتھ جانے کی بجائے پیچھے رہ گئے تھے ۔ یہ تینوں حضرات دوسرے لوگوں کے ساتھ پیچھے رہ گئے تھے حالانکہ ان کا اسلام پکا اور انکا ایمان پختہ تھا۔ جب حضور ﷺ غزوۂ تبوک سے واپس تشریف لے آئے تو منافقین نے آپ کے پاس آ کر جھوٹی قسمیں کھائیں اور اپنا اپنا عذر بیان کیا ۔ اللہ تعالیٰ نے ان منافقین کی اصل حقیقت کی اطلاع ان آیات کے ذریعے دے دی سیعلفون باللہ لکم اذا القلبتم الیھم لتعرضوا عنھم فاعرضوا عنھم تمہاری واپس پر یہ تمہارے سامنے قسمیں کھائیں گے تا کہ تم ان سے صرف نظر کرو تو بیشک تم ان سے صرف نظر ہی کرو نیز یحلفون لکم لترضوا عنھم فان ترضوا عنھم فان اللہ لا یرضی عن القوم الفاسقین تمہارے سامنے قسمیں کھائیں گے تا کہ تم ان سے راضی ہوجائے ۔ حالانکہ اگر تم ان سے راضی ہو بھی گئے تو اللہ ہرگز ایسے فاسق لوگوں سے راضی نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں سے صرف نظر کرنے کا حکم دیا اور ان سے رضا مندی کے اظہار سے منع فرما دیا اس لیے کہ یہ لوگ اپنی معذرت خواہی میں جھوٹے تھے اور انہوں نے اپنے دلوں میں جو کچھ چھپا رکھا تھا اسے اپنی زبان پر نہیں لاتے تھے۔ رہ گئے وہ تین افراد جن کا ذکر آیت میں ہوا ہے، وہ سچے مسلمان تھے اور انہوں نے اپنے بارے میں حضور ﷺ کے سامنے کسی دروغ بیانی سے کام نہیں لیا تھا بلکہ کھلے الفاظ میں اعتراف کرلیا تھا کہ ہم بغیر کسی عذر کے پیچھے رہ گئے اور لشر اسلام میں شامل نہیں ہوئے۔ انہوں نے اس پر اپنی شرمساری کا اظہار بھی کیا اور اللہ کے آگے تو بہ بھی کی ۔ حضور ﷺ نے ان سے فرمایا : تم لوگوں نے اپنے باری میں سچی بات بیان کردی ہے ، اب جائو ، میں دیکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ تمہارے بارے میں کیا حکم نازل کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ سخت رویہ اختیار کرنے کا حکم نازل فرمایا اور اپنے نبی ﷺ کو ان سے قطع کلامی کا امر فرمایا نیز یہ حکم بھی دیا کہ آپ مسلمانوں کو بھی ان سے کلام کرنے سے روک دیں ۔ ان تینوں نے اسی کیفیت میں تقریباً پچاس دن گزارے ۔ اس کے یہ معنی نہیں تھے کہ ان کی توبہ رد کردی گئی تھی اس لیے کہ انہیں توبہ کرنے کا حکم دیا گیا تھا اور وہ اس کے پابند تھے۔ یہ بات حکمت الٰہیہ کے بالکل خلاہے کہ اس شخص کی توبہ اس وقت قبول نہ کیا جائے جب وہ حسب امرالٰہی توبہ کرلے ۔ بلکہ حقیقت میں اللہ تعالیٰ نے قبول توبہ کے حکم کو دیر سے نازل کرکے نیز مسلمانوں کو ان سے کلام کرنے سے روک کر ان کی ابتلا اور آزمائش میں اور سختی پیدا کرنے کا ارادہ فرمایا تھا۔ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے ان کے اصلاح نیزدوسرے تمام اہل اسلام کی اصلاح کرنی چاہی تھی تا کہ آئندہ نہ وہ خود اور نہ ہی دوسرے مسلمان ایسی حرکت کریں اس لیے کہ اللہ کے علم میں یہ بات تھی کہ ان لوگوں کی اصلاح ہوسکتی ہے ۔ منافقین کے اندر یہ صورت حال نہیں تھی ، انہوں نے جھوٹے عذر اور بہانے تو کیے تھے لیکن ان کی اصلاح کی کوئی گنجائش نہیں تھی اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان سے صرف نظر کرنے کا حکم دیا ۔ اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ ان تینوں افراد سے لوگوں کو ترک کلام کا حکم نیز ان کی توبہ کا حکم نازل کرنے میں تاخیر سزا کے طور پر نہیں کی تھی ۔ بلکہ یہ ایک آزمائش تھی اور بندگی کی جہت سے نیز مکلف ہونے کی حیثیت سے ایک سختی تھی ۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسی ہم اس شخص پر واجب ہونے والی حد کے ایجاب کے سلسلے میں کہتے ہیں جس نے اپنے جرم سے توبہ کرلی ہو کہ اسے بطورسزا حد نہیں لگ رہی ہے بلکہ یہ صرف ایک آزمائش اور اظہار بندگی ہے اگرچہ ابتداء میں یہ سزا تھی اور اگر توبہ سے قبل اس کا اجزاء ہوتا تو یہ سزا ہی ہوتی ۔ قول باری ہے حتی اذا ضاقت علیھم الارض بما رجت جب زمین اپنی ساری وسعت کے باوجود ان پر تنگ ہوگئی یعنی اپنی کشادگی کے باوجود زوضاقت علیھم انفسھم اور ان کی اپنی جانیں بھی ان پر بارہونے لگیں یعنی ان کے سینے غم کے اس بوجھ کی بنا پر تنگ ہوگئے جو ان پر نزول توبہ کی تاخیر ، حضور ﷺ اور صحابہ کرام کی طرف سے ترک کلام اور مقاطعہ نیز بیویوں کو ان سے علیحدہ رہنے کے حکم کی بنا پر آپڑا تھا۔ قول باری ہے وظنوا ان ملجا من اللہ الا الیہ اور انہوں نے جان لیا کہ اللہ سے بچنے کیلئے کوئی جائے پناہ خود اللہ ہی کے ذامن رحمت کے سوا نہیں ہے۔ یعنی انہیں یقین ہوگیا کہ جس ابتلاء اور آزمائش کے جال میں وہ پھنس چکے ہیں اس سے چھٹکارے کے لیے نیز اس سے بچ نکلنے کے لیے اللہ کی ذات کے سوا اور کوئی سہارا نہیں ہے۔ اللہ کی ذات کے سوا کسی اور کے قبضہ قدرت میں یہ نہیں ہے نیز ان کے لیے کسی اور ات سے اس کی طلب بھی جائز نہیں ہے۔ صرف اللہ کی عبادت کے ذریعے اور اس کی توجہ اور میلان کے ذریعے یہ رہائی حاصل ہوسکتی ہے۔ جب یہ لوگ یقین کے اس درجے پر پہنچ گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول ہوجانے کا حکم اپنے نبی ﷺ پر نازل فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کی یہ عادت ہے کہ جو شخص تمام سہاروں سے یکسو ہوکر صرف اس کی ذات کو اپنا سہارا بنا لیتا ہے اور یہ یقین کرلیتا ہے کہ اس کے غم کو اس کی ذات کے سوا اور کوئی دور نہیں کرسکتا تو اس وقت وہ اسے نجات بھی دلادیتا ہے اور اس کا غم بھی دور کردیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضر ت لوط (علیہ السلام) کا واقعہ نقل کرتے ہوئے فرمایا ہے ولما جاء ت رسلنا لوطا ً سی بھم وضاق بھم ذرعا ً وقال ھذا یومعصب اور جب ہمارے فرشتے لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو ان کی آمد سے وہ بہت گھبرایا اور دل تنگ ہوا ، کہنے لگا کہ آج بڑی مصیبت کا دن ہے تا قول بدی لو ان لی بکم قوۃ ً او اوی الی رکن شدید کاش میرے پاس اتنی طاقت ہوتی کہ تمہیں سیدھا کردیتا یا کوئی مضبو ط سہارا ہی ہوتا کہ اس کی پناہ لیتا۔ حضرت لوط نے اس موقع پر اپنی قوت و طاقت نیز دوسرے لوگوں کی مدد سے مکمل مایوسی اور بیزاری کا اظہار کیا اور انہیں یقین ہوگیا کہ انہیں اس مصیبت سے صرف اللہ کی ذات نجات دلا سکتی ہے۔ اس وقت اللہ کی طرف سے اس پریشانی سے باہر نکلنے کا راستہ پیدا کردیا گیا اور فرشتوں نے ان سے کہا انا رسل ربک لن یصلوا الیک ہم تیرے رب کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں یہ لوگ تیرا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے نیز ارشاد باری ہے ومن یتق اللہ یجعل لہل مخوجا اور جو شخص اللہ سے ڈ رتا رہتا ہے اللہ اس کے لیے کوئی نہ کوئی سبیل پیدا کردیتا ہے۔ جو شخص تمام سہاروں کو چھوڑ کر صراس کی ذات کو اپنا سہارا بنا لیتا ہے اور دنیاوی علائق سے کنارہ کشی اختیار کر کے صرف اسی کا ہو رہتا ہے تو جب بندہ اس مرتبے پر پہنچ جاتا ہے اللہ اس کے لیے کوئی نہ کوئی مخرج اور راستہ پیدا کردیتا ہے اس لیے کہ اسے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسے دو بھلائیوں میں سے ایک بھلائی ضرور حاصل ہوجائے گی یا تو اللہ تعالیٰ اسے ابتلاء اور آزمائش کی کیفیت سے خلاصی دے گا اور اس طرح اسے چھٹکارا نصیب ہوجائے گا جس طرح انبیاء (علیہم السلام) سے ابتلاء اور آزمائش کی گھڑی میں ان کی زبان پر آنے والے کلمات کی قرآن کی آیات میں حکایت کی گئی ہے۔ مثلاً حضرت ایوب (علیہ السلام) کا قول قرآن کے الفاظ میں انی مسنی الشیطان بنصب و عذاب کہ شیطان نے مجھے رنج و آزار پہنچایا ہے۔ حضرت ایوب علیہ السلا م نے اللہ تعالیٰ سے اس وسوسہ سے نجات دلانے کے لیے التجاء کی جو شیطان ان کے دل میں ڈال رہا تھا کہ اگر اللہ کے ہاں تمہارا کوئی مرتبہ ہوتاتو تم اس مصیبت میں نہ پھنستے جس میں اس وقت پھنسے ہوئے ہو۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) نے شیطان کے ان وساوس کو کبھی قبول نہیں کیا تھا البتہ اتنی بات ضرور تھی کہ یہ وساوس آپ کے دل و دماغ کو پریشان رکھتے اور آپ یکسو ہو کر وہ تدبر و تفکر نہ کرسکتے جو ان خیالات پریشان سے بہر حال بہتر تھے ۔ جب آپ اس مقام پر پہنچ گئے تو اللہ تعالیٰ نے آپ سے فرمایا ارکض رجلک ھذا مغتسل باردو شراب اپنا پائوں زمین پر مارو، یہ ٹھنڈا پانی ہے نہانے کا اور پینے کا یہی کیفیت ہر اس شخص کی ہوتی ہے جو بایں معنی تقویٰ اختیار کرتا ہے کہ اللہ کی طرف پوری طرح مائل ہوجاتا ہے اور یہ یقین کرلیتا ہے کہ اللہ ہی کی ذات اس کی اس تکلیف کو دور کرسکتی ہے، اس کی تکلیف دور کردینا کسی بندے کے بس کی بات نہیں اس صورت میں اس سے دو بھلائیوں میں سے ایک بھلائی ضرور حاصل ہوجاتی ہے یا تو فوری رہائی نصیب ہوجاتی ہے یا پھر ابتلاء اور آزمائش پر صبر کرنے کی صورت میں اللہ کی طرف سے جس بدلے اور ثواب کا اس سے وعدہ کیا گیا ہے اس پر اس کا دل پوری طرح مطمئن ہوجاتا ہے ، یقینا اللہ کی طرف سے دیا جانے والا ثواب اس کے حق میں دنیا و مافیہا سے بہتر ہوتا ہے۔ قول باری ہے ثم تاب علیھم لیتم لوا پھر اللہ اپنی مہربانی سے ان کی طرف پلٹتا ہے تا کہ وہ اس کی طرف پلٹ آئیں ۔ یعنی واللہ اعلم اللہ تعالیٰ نے ان تینوں افراد کی توبہ قبول کرلی اور حضور ﷺ پر قبو ل توبہ نازل فرمادیا تا کہ اہل ایمان اپنے گناہوں سے اللہ کی طرف یہ جانتے ہوئے توبہ کریں کہ اللہ ان کی توبہ قبول کرنے والا ہے۔
Ayah 9:119

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 9:119 in the Quran reader

اے اہل ایمان ! خدا سے ڈرتے رہو اور راستبازوں کے ساتھ رہو۔

قول باری ہے یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وکونوا مع الصارقین ۔ اے لوگوں جو ایمان لائے ہو ، اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کا ساتھ دو ۔ حضرت ابن مسعود ؓ سے ان کی یہ تفسیر مروی ہے کہ سچائی کو لازم پکڑو اور اس سے ہرگز روگردانی نہ کرو اس لیے کہ جھوٹ کی کسی حالت میں بھی گنجائش نہیں ہے ؟ نافع اور ضحاک کا قول ہے کہ دنیا میں عمل صالح کے ذریعے انبیاء اور صدیقین کی معیت حاصل کرو۔ اللہ تعالیٰ نے سورة بقرہ میں ارشاد فرمایا لیس البر ان تولوا وجو ھکم قبل المشرق والمغرب ولکن البر من امن باللہ والیوم الاخر نیکی یہ نہیں ہے کہ تم اپنے چہرے مشرق اور مغرب کی طرف کرلو لیکن نیکی تو اس شخص کی ہے جو اللہ پر اور ریوم آخر پر ایمان لائے ۔ تا قول باری اولیک الذی صدقوا یہی لوگ سچے ہیں۔ اجماع صحابہ ؓ حجت ہے درج بالا آیت میں حضور ﷺ کے صحابہ کرام یعنی حضرات مہاجرین و انصار کی صفت بیان کی گئی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے زیر بحث آیت میں فرمایا کونوا مع الصادقین اور سچے لوگوں کا ساتھ دو ۔ ان سب آیات کا مضمون اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ صحابہ کرام ؓ کی پیروی اور انکے نقش قدم پر چلنا لازم ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے مذکورہ آیات میں یہ بتادیا کہ جو لوگ ان صفات سے متصف ہوں گے۔ وہ سچے ہوں گے اور پھر اس آیت میں فرمایا وکونوا مع الصادقین یہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ صحابہ کرام کا اجماع ہمارے لیے دلیل اور حجت کی حیثیت رکھتا ہے اور ہمارے لیے ان کی مخالفت کسی طرح جائز نہیں ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان کی پیروی کا حکم دیا ہے۔ قول باری ہے لقد تاب اللہ علی النبی والمھاجرین والانصار الذین اتبعوا فی ساعۃ السعرۃ ۔ اللہ نے معاف کردیا نبی ؐ کو اور ان مہاجرین و انصار کو جنہوں نے بڑی تنگی کے وقت میں نبی کا ساتھ دیا آیت میں حضور ﷺ کے صحابہ کرام ؓ کی تعریف کی گئی ہے ۔ یعنی وہ حضرات مہاجرین و انصار جو حضور ﷺ کے ساتھ غزوۂ تبوک میں گئے تھے نیز اللہ تعالیٰ نے ان حضرات کے باطن کی صحت اور قلب و ضمیر کی طہارت کی بھی اطلاع دی اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اس بات کی خبر ، کہ اس نے انہیں معاف کردیا صراسی وقت دی ہے جبکہ وہ ان سے راضی ہوگیا اور ان کے افعال اسے پسند آ گئے آیت ان لوگوں کی تردید کے لیے نص ہے جو صحابہ کرام پر زبان طعن و تشنیع دراز کرتے اور ایسے افعال کی طرف ان کی نسبت کرتے ہیں جن کی طرف اللہ نے ان کی نسبت نہیں کی ہے، اللہ نے ان کی نسبت پاکیزگی اور طہارت کی طرف کی ہے اور انہیں اس وصف سے متصف فرمایا ہے کہ ان کے قلوب پاکیزہ اور ان کا باطن درست ہے ؓ ! !!
Ayahs 9:120–121

مَا كَانَ لِاَهْلِ الْمَدِیْنَةِ وَ مَنْ حَوْلَهُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ اَنْ یَّتَخَلَّفُوْا عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَرْغَبُوْا بِاَنْفُسِهِمْ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ لَا یُصِیْبُهُمْ ظَمَاٌ وَّ لَا نَصَبٌ وَّ لَا مَخْمَصَةٌ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَطَئُوْنَ مَوْطِئًا یَّغِیْظُ الْكُفَّارَ وَ لَا یَنَالُوْنَ مِنْ عَدُوٍّ نَّیْلًا اِلَّا كُتِبَ لَهُمْ بِهٖ عَمَلٌ صَالِحٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَۙ Open ayah 9:120 in the Quran reader

اہل مدینہ کو اور جو ان کے آس پاس دیہاتی رہتے ہیں انکو شایاں نہ تھا کہ پیغمبر خدا سے پیچھے رہ جائیں اور نہ یہ کہ اپنی جانوں کو ان کی جان سے زیادہ عزیز رکھیں۔ یہ اس لئے کہ انہیں خدا کی راہ میں جو تکلیف پہنچتی ہے پیاس کی یا محنت کی یا بھوک کی یا وہ ایسی جگہ چلتے ہیں کہ کافروں کو غصہ آئے یا دشمنوں سے کوئی چیز لیتے ہیں تو ہر بات پر ان کے لئے عمل صالح لکھا جاتا ہے کچھ شک نہیں کہ خدا نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔

وَ لَا یُنْفِقُوْنَ نَفَقَةً صَغِیْرَةً وَّ لَا كَبِیْرَةً وَّ لَا یَقْطَعُوْنَ وَادِیًا اِلَّا كُتِبَ لَهُمْ لِیَجْزِیَهُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 9:121 in the Quran reader

اور (اسی طرح) وہ جو خرچ کرتے ہیں تھوڑا بہت یا کوئی میدان طے کرتے ہیں تو یہ سب کچھ انکے لئے (اعمال صالحہ میں) لکھ لیا جاتا ہے تاکہ خدا ان کو ان کے اعمال کا بہت اچھا بدلہ دے۔

جنگ میں کمانڈ ر کا ساتھ دینا ضروری ہے قول باری ہے ما کان لا ھل المدینۃ ومن حولھم من الاعراب ان یتخلفواعن رسول اللہ ولا یرغبوا فانفسھم عن نفسہ ۔ مدینے کے باشندوں اور گردو نواح کے بدویوں کو ہرگز یہ زیب نہ تھا کہ اللہ کے رسول کو چھوڑ کر گھر بیٹھ رہتے اور اس کی طرف سے بےپرواہ ہو کر اپنے اپنے نفس کی فکر میں لگ جاتے اس آیت میں یہ بیان کردیا گیا ہے کہ اہل مدینہ پر حضور ﷺ کے کے ساتھ غزوات میں جانا واجب تھا البتہ معذور ین نیز وہ لوگ اس حکم سے مستثنیٰ تھے جنہیں حضور ﷺ نے رہ جانے کی اجازت دے دی تھی ۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے سابقہ آیات میں منافقین کی اس بنا پر مذمت کی کہ وہ حضور ﷺ کے پاس آ کر رہ جانے کی اجازت مانگتے تھے۔ قول باری ولا یرغبوا فانفسھم عن نفسہ کا مفہوم یہ ہے کہ اہل مدینہ حضور ﷺ کی طرف سے بےپرواہ ہو کر اپنی جانیں بچانے کی صورت میں منفعت طلب نہ کرتے۔ بلکہ ان پر یہ فرض تھا کہ وہ اپنی جانیں دے کر حضور ﷺ کی جان کی حفاظت کرتے۔ حضرات مہاجرین و انصاری میں ایسے لوگ بھی موجود تھے جنہوں نے متعدد مواقع پر اپنی جانیں دے کر حضور ﷺ کی جان کی حفاظت کی تھی۔ راہ حق میں لڑنا عمل صالح ہے قول باری ہے ولا یطئنو موطا ً یغیظ الکفار ولا ینالون من عدو نیلا ً الا کتب لھم بہ عمل صالح اس لیے کہ ایسا کبھی نہ ہوگا کہ منکرین حق کو جو راہ ناگوار ہے اس پر کوئی قدم وہ اٹھائیں اور کسی دشمن سے عداوت حق کا کوئی انتقام وہ لیں اور اس کے بدلے ان کے حق میں ایک عمل صالح نہ لکھا جائے۔ اس میں یہ دلالت موجود ہے کہ دشمنان حق کے علاقوں کو روندنا ان سے انتقام لینے کے مترادف ہے۔ انہیں قتل کر ڈالنا یا ان کے اموال پر قبضہ کرلینا یا انہیں ان کے علاقوں سے نکال باہر کرنا یہ سب ان سے انتقام لینے اور انہیں زک پہنچانے کی صورتیں ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے علاقے کے روندنے میں جس سے کافروں کو طیش آ جائے نیز وہ غیظ و غضب میں مبتلا ہوجائیں اور انہیں زک پہنچانے میں کوئی فرق نہیں کیا بلکہ ان دونوں کو یکساں درجے پر رکھا۔ یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ کافروں کے علاقوں کو روند ڈالنا جس کی وجہ سے ان کے اندرغصے کی لہر دوڑ جائے اور وہ ذلت کے شکار ہوجائیں ۔ اس اقدام کی حیثیت وہی ہے جو انہیں قتل کرنے ، قیدی بنانے اور ان کے اموال بطور مال غنیمت حاصل کرنے کی ہے۔ اس کے اندر یہ دلیل موجود ہے کہ لشکر اسلام کے سوار اور پیادہ فوجیوں کے مال غنیمت میں حصوں کا اعتبار دشمنوں کی سر زمین میں داخل ہونے کی بنا پر کیا جائے گا مال غنیمت جمع کرنے اور دشمن سے قتال کرنے کے ساتھ نہیں کیا جائے گا اس لیے کہ دشمن کی سر زمین میں داخل ہوجانا مال غنیمت جمع کرنے اور انہیں قتل کرنے نیز قیدی بنانے کے مترادف ہے۔ ہم نے جو بات بیان کی ہے اس پر دلالت کے لحاظ سے اس آیت کی نظیریہ قول باری ہے وما افاء اللہ علی رسولہ منھم فما اوجفتم علیہ من خیل ولا رکاب اور جو کچھ اللہ نے اپنے رسول کو ، ان سے بطور فی دلوایا سو تم نے اس کے لیے نہ گھوڑے دوڑائے اور نہ اونٹ آیت دارالحرب میں گھوڑے اور اونٹ دوڑانے کے اعتبار کی مقتضی ہے اسی بنا پر حضرت علی ؓ کا قول ہے جس قوم کے گھروں کو روند ڈالا جائے وہ ذلیل ہوجاتی ہے۔
Ayahs 9:122–129

وَ مَا كَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا كَآفَّةً١ؕ فَلَوْ لَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَآئِفَةٌ لِّیَتَفَقَّهُوْا فِی الدِّیْنِ وَ لِیُنْذِرُوْا قَوْمَهُمْ اِذَا رَجَعُوْۤا اِلَیْهِمْ لَعَلَّهُمْ یَحْذَرُوْنَ۠ Open ayah 9:122 in the Quran reader

اور یہ تو ہو نہیں سکتا کہ مومن سب کے سب نکل آئیں۔ تو یوں کیوں نہ کیا کہ ہر ایک جماعت میں سے چند اشخاص نکل جاتے تاکہ دین (کا علم سیکھتے اور اس) میں سمجھ پیدا کرتے اور جب اپنی قوم کی طرف واپس آتے تو ان کو ڈر سناتے تاکہ وہ حذر کرتے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَاتِلُوا الَّذِیْنَ یَلُوْنَكُمْ مِّنَ الْكُفَّارِ وَ لْیَجِدُوْا فِیْكُمْ غِلْظَةً١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:123 in the Quran reader

اے اہل ایمان ! اپنے نزدیک کے (رہنے والے) کافروں سے جنگ کرو۔ اور چاہئے کہ وہ تم میں سختی (یعنی محنت وقوت جنگ) معلوم کریں۔ اور جان رکھو کہ خدا پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔

وَ اِذَا مَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ فَمِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ اَیُّكُمْ زَادَتْهُ هٰذِهٖۤ اِیْمَانًا١ۚ فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَزَادَتْهُمْ اِیْمَانًا وَّ هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ Open ayah 9:124 in the Quran reader

اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو بعض منافق (استہزا کرتے اور) پوچھتے ہیں کہ اس سورت نے تم میں سے کس کا ایمان زیادہ کیا ہے ؟ سو جو ایمان والے ہیں ان کا تو ایمان زیادہ کیا اور وہ خوش ہوتے ہیں۔

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ فَزَادَتْهُمْ رِجْسًا اِلٰى رِجْسِهِمْ وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 9:125 in the Quran reader

اور جن لوگوں کے دلوں میں مرض ہے ان کے حق میں خبث پر خبث زیادہ کیا اور وہ مرے بھی تو کافر کے کافر۔

اَوَ لَا یَرَوْنَ اَنَّهُمْ یُفْتَنُوْنَ فِیْ كُلِّ عَامٍ مَّرَّةً اَوْ مَرَّتَیْنِ ثُمَّ لَا یَتُوْبُوْنَ وَ لَا هُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 9:126 in the Quran reader

کیا یہ دیکھتے نہیں کہ یہ ہر سال ایک یا دو بار بلا میں پھنسا دیئے جاتے ہیں پھر بھی توبہ نہیں کرتے اور نہ نصیحت پکڑتے ہیں ؟

وَ اِذَا مَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ نَّظَرَ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ١ؕ هَلْ یَرٰىكُمْ مِّنْ اَحَدٍ ثُمَّ انْصَرَفُوْا١ؕ صَرَفَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 9:127 in the Quran reader

اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ بھلا تمہیں کوئی دیکھتا ہے ؟ پھر پھرجاتے ہیں۔ خدا نے انکے دلوں کو پھیر رکھا ہے کیونکہ یہ ایسے لوگ ہیں کہ سمجھ سے کام نہیں لیتے۔

لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:128 in the Quran reader

(لوگو) تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک پیغمبر آئے ہیں۔ تمہاری تکلیف انکو گراں معلوم ہوتی ہے اور تمہاری بھلائی کے بہت خواہشمند ہیں۔ (اور) مومنوں پر نہایت شفقت کرنیوالے (اور) مہربان ہیں۔

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِیَ اللّٰهُ١ۖۗ٘ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ۠ Open ayah 9:129 in the Quran reader

پھر اگر یہ لوگ پھرجائیں اور (نہ) مانیں تو کہہ دو کہ خدا مجھے کفایت کرتا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اسی پر میرا بھروسہ ہے اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔

دینی علم حاصل کرنا ضروری ہے قول باری ہے وما کان المومنون لینفروا گا فۃ فلولا نفر من کل فرقۃ منھم طائفۃ لیتفقھوا فی الدین اور کچھ ضروری نہ تھا کہ اہل ایمان سارے کے سارے ہی نکل کھڑے ہوتے ، مگر ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کی آبادی کے ہر حصے میں سے کچھ لوگ نکل کر آئے اور دین کی سمجھ پیدا کرتے ۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ اس آیت نے قول باری انفروا اثبات او انفروا جمعیا ً پھر الگ الگ دستوں کی شکل میں نکلویا اکٹھے ہو کر کو منسوخ کردیا ہے نیز قول باری انفروا اخفا فاً و ثقا لا ً نکل پڑو ہلکے اور بوجھل بھی اس آیت کی بنا پر منسوخ ہوگیا ۔ اللہ تعالیٰ نے زیر بحث آیت میں فرمادیا کہ اہل ایمان کے لیے ضروری نہیں کہ وہ سب کے سب فوجی مہمات میں نکل پڑیں اور حضور ﷺ کو مدینہ میں تنہا چھوڑ جائیں بلکہ ہونایہ چاہیے کہ مدینہ میں کچھ لوگ دین کی سمجھ پیدا کرنے کے لیے رہ جائیں اور جب مجاذ پر جانے والے لوگ واپس آئیں تو یہ لوگ انہیں دین کی باتیں سنا کر اللہ کی ذت سے ڈرائیں ۔ حسن کا قول ہے کہ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ آبادی کے ہر حصے سے لوگ نکل کر آئیں اور دین کی سمجھ پیدا کریں پھر اپنی اپنی قوم کی طرف واپس جا کر پیچھے رہ جانیوالے لوگوں کو دین کی باتیں بتا کر ان کے دلوں میں اللہ کا خوف پیدا کریں ۔ یہ تاویل ظاہر آیت سے زیادہ مشابہ ہے اس لیے کہ ارشاد باری ہے فلو لا نفر من کل فرقۃ منھم طائفۃ لیتفقھم ! فی الدین ظاہر کلام اس امر کا مقتضی ہے کہ نکل کر آنے والے لوگوں کا گروہ ہی دین کی سمجھ پیدا کر کے واپس جا کر اپنے اپنے لوگوں کو دین کی باتیں سنا کر اللہ کے عذاب سے ڈرائے ۔ پہلی تاویل کی بنا پر وہ لوگ دین کی سمجھ پیدا کریں جن میں سے ایک گروہ محاذ پر آگیا ہو اور بعد میں یہی لوگ محاذ پر جانے والے لووں کو ان کی واپسی پر دین کی باتیں بتائیں۔ یہ تاویل دو وجوہ سے بعید ہے۔ اول یہ کہ عطف کا قاعدہ یہ ہے کہ اس کا تعلق اپنے متصل لفظ کے ساتھ ہوتا ہے اس سے پہلے آنے والے لفظ کے ساتھ نہیں ہوتا اس بنا پر قول باری منھم طائفۃ لیتفقھوا میں یہ ضروری ہے کہ طائفہ سے مراد وہ گروہ ہو جو دین کی سمجھ پیدا کرے اور دین کی باتیں بتا کر اللہ کی ذات سے ڈرانے کا کام کرے۔ اس فقرے کے یہ معنی نہیں ہوسکتے کہ ہر ایسے گروہ میں سے جو دین کی سمجھ پیدا کرے ایک طائفہ محاذ کی طرف نکل جائے۔ اس لیے کہ یہ مفہوم کلام کی ترتیب کو اس کے ظاہر سے ہٹادینے کا مقتضی ہے نیز اس سے کلام میں ت قدیم و تاخیر کا اثبات بھی لازم آتا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ قول باری لیتفقھوا فی الدین کو سامنے رکھتے ہوئے آیت میں دار و لفظ طائفہ دین کی سمجھ پیدا کرنے کے کام کے لیے آیت کے لفظ فرقہ سے زیادہ موزوں ہے جس سے پھر ایک طائفہ محاذ پر جانے کے لیے نکلنے والا ہو ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دین کی سمجھ پیدا کرنے کے لیے ایک طائفہ کا نکلنا تو سمجھ میں آنے والی بات ہے کہ اس مقصد کے لیے باہرنکلا جاسکتا ہے۔ لیکن وہ فرقہ جس میں سے ایک طائفہ محاذ کی طرف نکل گیا ہو، دین میں اس لیے سمجھ نہیں پیدا کرتا تا کہ اس کا ایک گروہ نکل کر میدان جنگ میں چلا گیا ہے، اس لیے کہ اس فرقہ کو تفقہ فی الدین تو حضور ﷺ کے مشاہدہ اور آپ کی صحبت میں مسلسل رہنے کی بنا پر حاصل ہوجاتا ہے۔ انہیں تفقہ فی الدین اس لیے حاصل نہیں ہوتا کہ انکا ایک طائفہ محاذ پر چلا گیا ہے۔ اس لیے کلام کو اس معنی پر محمول کرنے سے قول باری لیتفقھوا فی الدین کا کوئی فائدہ باقی نہیں رہے گا ۔ اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ جو لوگ دین کی سمجھ حاصل کرنیوالے ہیں ان سے مراد وہ لوگ ہیں جو آبادیوں میں مقیم لوگوں میں سے نکل کر آتے ہیں اور پھر اپنی اپنی آبادی اور قوم میں واپس جا کر لوگوں کو دین کی باتیں بتا کر اللہ کی ذات سے ڈراتے ہیں۔ اس آیت میں علم دین کی طلب کے وجوب پر دلالت موجود ہے نیز یہ کہ اس کی طلب فرض کفایہ ہے اس لیے کہ آیت اس مفہوم کو متمضن ہے کہ دین میں سمجھ پیدا کرنے کے لیے آبادی میں ایک گروہ کو باہر نکلنے کا حکم دیا گیا جبکہ باقی ماندہ آبادی کو اپنی جگہ ٹھہرنے رہنے کا امر کیا گیا ہے اس لیے کہ ارشاد باری ہے وما کان المومنون لینفروا گا فۃ زیاد بن میمون نے حضرت انس بن مالک سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم ۔ علم یعنی علم دین حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے ۔ یہ روایت ہمارے نزدیک دو معنوں پر محمول ہے اول یہ کہ ایک مسلمان کو اپنی روزمرہ کی زندگی میں جن مسائل اور دینی امور سے سابقہ رہتا ہے۔ انکے متعلق علم حاصل کرنا اس پر فرض ہے ، مثلاً ایک مسلمان کو اگر نماز کے ارکان و شرائط نیز اوقات کا علم نہ ہو تو اس پر ان باتوں کا سیکھنا فرض ہوگا ۔ اسی طرح اگر کوئی مسلمان دو سو درہم کا مالک ہوجائے تو اس پر عائد ہونے والی زکوٰۃ کا علم حاصل کرنا فرض ہوگا ۔ یہی حکم روزہ ، حج اور دیگر تمام فرائض کا ہے۔ روایت کا دوسرا مفہم یہ ہے کہ ہر مسلمان پر علم دین حاصل کرنا فر ض ہے لیکن یہ فرض کفایہ ہے کہ اگر آبادی میں سے چند لو اس کام کے لیے مختص ہوجائیں تو باقی ماندہ لوگوں سے یہ فریضہ ساقط ہوجائے گا ۔ آیت زیر بحث کی اس بات پر بھی دلالت ہو رہی ہے کہ ایسے دینی معاملات میں جن کا تعلق تمام لوگوں سے نہیں ہوتا ورنہ ہی تمام لوگوں کو ان کی ضرورت پیش آتی ہے خبر واحد کے ذریعہ حکم کا لزوم ہوجاتا ہے وہ اس طرح کہ جب ایک گروہ کو انداز پر مامور کرکے اسے لوگوں کو خدا کی ذات سے ڈراتے رہنے کا پابند کردیا گیا ہے تو اس کا مفہوم ہماری درج بالا بات پر دو وجوہ سے دلالت کرے ایک تو یہ کہ انداز یعنی ڈراتے رہنام اس فعل پر عمل کا مقتضی ہے جسے کرنے کا حکم ملا ہو، بصورت دیگر انداز کے کوئی معنی نہیں ہوں گے۔ دوم یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ حکم دیا کہ انداز پر مامور گروہ سے زبان سے دین کی باتیں سن کر ہمارے دلوں میں خوف خدا پیدا ہوجائے اور ہم غیر مسلمانہ روش سے پرہیز کرنے لگ جائیں اس لیے کہ قول باری لعلھم یحذرون تا کہ وہ غیر مسلمانہ روش سے پرہیز کرتے کے معنی لیحذزوراتا کہ وہ پرہیز کرتے اور یہ مفہوم خبر واحد کی بنا پر لزوم عمل کے معنی کو متمضن ہے اس لیے طائفہ کا اسم ایک فرد پر بھی واقع ہوتا ہے۔ خبر واحد پر عمل لازم ہے چنانچہ قول باری ولیشھد عذابھا طائفۃ من المومنین اور ان دونوں کی سزا کو اہل ایمان کا ایک طائفہ اپنی آنکھوں سے دیکھے کی تفسیر میں ایک روایت کے مطابق ایک فرد مراد ہے۔ نیز قول باری ہے وان طائفتان من المومنین اقتلوا اور اگر اہل ایمان کے دو گروہ باہم قتل و قتال پر اتر آئیں ۔ اگر دو مسلمان بھی ایک دوسرے کے خلاف لڑائی پر اتر آئیں تو وہ بھی اس آیت کے حکم میں داخل ہوں گے اس بارے میں کسی کا اختلاف نہیں ہے۔ ایک اور وجہ یہ بھی ہے لغت میں طائفہ کا لفظ بعض اور قطعہ کے الفاظ کی طرح ہے اور یہ مفہوم ایک فرد کے اندر بھی موجود ہوتا ہے۔ اس بنا پر قول باری من کل فرقۃ منھم طائفۃ کی مفہوم کے لحاظ سے وہی حیثیت ہے جو حیثیت اس صورت میں ہوتی جب آیت بعضھما یا شی منھا کے الفاظ پر مشتمل ہوتی ۔ اس لیے خبر واحد جس میں علم کو واجب کرنے کی اہلیت نہیں ہوتی ، اسے قبول کرلینے کے وجوب پر آیت کی دلالت بالکل واضح ہے۔ اگر آیت کی وہ تاویل اختیار کی جائے جو حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ باہر جانے والا گروہ وہ دراصل وہ گروہ ہے جو مدینہ منورہ سے نکل کھڑا ہو اور دین میں سمجھ پیدا کرنے والا گروہ وہ ہے جو حضور ﷺ کے پاس رہ جائے تو اس صورت میں بھی خبر واحد کو قبول کرلینے کے لزوم پر آیت کی دلالت بحالہ قائم رہتی ہے۔ اس لیے کہ محاذ جنگ پر جانے کے لیے نکل کھڑا ہونے والا گروہ جب واپس آئے گا تو پیچھے رہ جانے والا گروہ اسے دین کی باتیں بتا کر اور نازل ہونے والے احکام کی خبردے کر اللہ کی ذات سے ڈرائے گا ۔ یہ چیز بھی مدینہ میں حضور ﷺ کی ذات اقدس کی موجودگی کے باوجود وہاں خبر واحد کو قبول کرلینے کے لزوم پر دلالت آتی ہے اس لیے کہ آیت کے سامعین پر یہ بات لازم کردی گئی ہے کہ مدینہ میں رہ کر دین کی سمجھ پیدا کرنے والوں کی زبان سے باتیں سن کر ان پر غیر مسلمانہ روش سے پرہیز واجب ہے۔ قول باری ہے یایھا الذین امنواقاتلوا الذین یلونکم منالکفار ولیحد وافیکم غلظۃ ۔ اے لوگوجو ایمان لائے ہو ! جنگ کرو ان منکرین حق سے جو تمہارے پاس ہیں اور چاہیے کہ وہ تمہارے اندر سختی پائیں اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان کافروں سے جنگ کو خاص کردیا جو مسلمانوں کے آس پاس ہوں جب کہ سورت کی ابتداء میں فرمایا فاقتلوا المشرکین حیث و جدتموھم مشرکین کو جہاں کہیں پائو قتل کر دو ۔ نیز ایک اور مقام پر ارشاد ہوا وقاتلوا المشرکین گا فۃ اور تمام مشرکین کے خلاف جنگ کرو ۔ اللہ تعالیٰ نے تمام کافروں سے جنگ کو واجب کردیا لیکن خصوصیت کے ساتھ صرف ان کافروں کا ذکر کیا جو ہمارے آس پاس ہوں ، کیونکہ یہ بات واضح ہے کہ تمام کافروں سے بیک وقت لڑنا ہمارے لیے ممکن نہیں ہے۔ صرف کسی ایک گروہ کے خلاف جنگ کرنا ممکن ہے۔ اس بنا پر جو کافر ہم سے قریب ہوں ان کیخلاف جنگی کارروائی کرنا ان کافروں کی بہ نسبت زیادہ موزوں ہوگا جو ہم سے دور ہوں اس لیے کہ اگر ہم قریب کے کافروں سے پنجہ آزمائی ترک کر کے دور کے کافروں کے ساتھ نبر د آزماء میں مشغول ہوجائیں تو اس سے قریب کے کافروں کو مسلمانوں کے بال بچوں پر حملہ کرنے نیز دارالاسلام میں گھس آنے کا موقع مل جائے گا کیونکہ اس صورت میں گھرکا محاذ مجاہدین سے خالی ہوگا جس سے کافر پورا پورا فائدہ اٹھائیں گے۔ اسی بنا پر آس پاس اور قریب وجوار کے کافروں کے خلاف جنگ کرنے کا حکم دیا گیا ۔ اس میں ایک پہلو بھی ہے کہ ابعد یعنی دور کے کافروں کے خلاف جنگ کرنے کا مکلف بنانا درست نہیں ہے اس لیے کہ ابعد کی کوئی حد نہیں ہے جہاں سے قتال کی ابتداء کی جاسکے۔ اس کے برعکس اقرب یعنی قرب جواز اور آس پاس کی حد ہوتی ہے ، نیز دور کے کافروں کے خلاف جنگی کارروائی اسی وقت ممکن ہوسکتی ہے جب قریب کے کافروں کے خلاجنگ کر کے ان پر غلبہ حاصل کرلیا جائے اور انہیں پوری طرح دیا جائے ۔ درج بالا وجوہ قرب و جوا ر اور آس پاس کے کافروں کے خلاف جنگ کرنے کی تخصیص کے حکم کے مقتضی ہیں ۔ قول باری ولیجد وافیکم غلظۃ میں ان کافروں کے ساتھ ہمیں سختی سے پیش آنے کا حکم دیا گیا ہے۔ جنکے خلاف ہمیں جنگ کرنے کے لیے کہا گیا ہے ۔ اس سختی کا اظہار ہمارے قول ، انکے ساتھ ہمارے مذاکرات اور پیغامات کے اندر ہونا چاہیے کیونکہ اس کی وجہ سے ان کے دلوں میں ہماری ہیبت بیٹھ جائے گی ۔ انکے اذہان پر ہمارا رغب قائم ہوجائے گا اور انہیں ہماری طاقت و قوت کا احساس ہوجائے گا۔ دوسری طرف اس سختی کی وجہ سے دین کے بارے میں ہماری بصیرت اور مشرکین کے ساتھ پنجہ آزمائی میں ہمارے جوش و خروش کا اظہار ہوجائے گا اور یہ واضح ہوجائے گا کہ ہم دین کے معاملہ میں کس قدر سختیاں ہیں ۔ اسکے برعکس اگر مسلمانوں کی طرف سے گفتگو اور مذاکرات میں نرم رویہ کا اظہار ہوگا تو اس سے کافروں کے دلوں میں ان کے خلاف جرأت پیدا ہوگی اور وہ انہیں زک پہنچانے کی آس لگا بیٹھیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اپنے دشمنوں کے خلاف جس طرز عمل کو اپنانے کا حکم دیا ہے اس کے یہ حدود ہیں۔