Ayah 7:2سورة اعراف
قول باری ہے فلایکن فی صدرک حرج منہ۔ پس اے محمد ﷺ ! تمہارے دل میں اس سے کوئی جھجک نہ ہو) فقرے کا انداز بیان نہی کی صورت میں ہے اور معنی یہ ہیں کہ مخاطب کو حرج یعنی تنگی سے تعرض کرنے سے روکا گیا ہے جن سے مروی ہے کہ حرج کے معنی تنگی کے ہیں۔ یہی اس کے اصل معنی ہیں۔ پورے فقرے کا مفہوم یہ ہے کہ تمہارا دل اس خوف سے تگ نہ ہو کہ کہیں تم اس کا حق ادا کرنے سے قاصر نہ رہ جائو۔ بات یہ نہیں ہے بلکہ تمہارے ذمہ تو صرف اس کے ذریعے لوگوں کو خدا کے عذاب اور اس کی نافرمانی کے نتائج سے ڈراتے رہنا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ ، مجا، سدی اور قتادہ کا قول ہے کہ حرج سے یہاں شک مراد ہے۔ یعنی تمہیں اس بات میں شک نہیں کرنا چاہیے کہ اس کتاب کے ذریعے لوگوں کو ڈرانا تم پر لازم ہے۔ ایک قول کے مطابق اس کے معنی ہیں ” کفار اور مشرکین تمہاری تکذیب کرتے ہیں ان کی تکذیب کی وجہ سے تمہارا دل تنگ نہ ہونا چاہیے “۔ جس طرح یہ قول باری ہے فلعلک باخع نفسک علیٰ اثارھم لم یومنوا بھذا الحدیث اسفاً ۔ اگر یہ لوگ اس کتاب پر ایمان نہ لائے تو کیا تم اس پر افسوس کے مارے ان کے پیچھے اپنی جان دے دو گے) ۔
Ayahs 7:3–16پیروی قرآن
قول باری ہے اتبعواماانزل الیکم من ربکم۔ لوگوں جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے اس کی پیروی کرو) اس کا مفہوم یہ ہے کہ بندوں کے تمام تصرفات کا دائرہ اللہ کے حکم کی مراد تک محدود ہو یعنی اس کے حکم کی جو مراد ہو اس کے بندے اس کے مطابق عمل کریں۔ یہ اہتمام یعنی اقتداء کی نظیر ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کے حکم کی مراد کی اتباع اور اس پر عمل میں اس کی اس طرح اقتداء کی جائے کہ وہ اس کے دائرہ تدبیر سے خارج نہ ہو۔ اگر یہ کہا جائے کہ آیا مباح پر عمل کرنے والا اللہ کے حکم کا متبع ہوتا ہے ؟ تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ ایسا شخص اس وقت اللہ کے حکم کا متبع ہوتا ہے جب وہ اللہ کے حکم کی اتباع کا بایں معنی ارادہ کرے کہ وہ اس فعل کی اباحت کا اعتقاد بھی رکھتا ہو اگرچہ اس فعل کو بروئے کار لانا اس سے مطلوب نہیں ہوتا لیکن جو شخص واجب کو ادا کرتا ہے تو وہ وجوہ کی بنا پر وہ اتباع اور پیروی کرنے والا سمجھا جاتا ہے۔ اول یہ کہ وہ اس کے وجوب کا اعتقاد رکھتا ہے۔ دوم یہ کہ وہ اس فعل کو اس طرح بروئے کار لاتا ہے جس طرح اسے حکم دیا جاتا ہے۔ جب اعتقاد کرنے کے لحاظ سے فعل مباح فعل واجب کے مماثل ہوگیا کیونکہ ان میں سے ہر ایک کے اندر ایک چیز کی اباحت یا ایجاب کے لحاظ سے جو ترتیب اور نظام ہو اس کا اعتقاد کرنا ضروری ہوتا ہے تو قول باری اتبعواما انزل الیکم) کا مباح اور واجب دونوں پر مشتمل ہونا درست ہوگیا۔ درج بالا قول باری ہر احلت میں قرآن کی اتباع کے وجوب کی دلیل ہے۔
خبر واحد بمقابلہ قرآن
نیز یہ کہ خبر آحاد کے ذریعے قرآن کے احکام کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے اس لئے کہ قرآن کی اتباع کا حکم نص تنزیل کے ذریعے ثابت ہوگیا جبکہ خبر واحد کو قبول کرلینے کا حکم نص تنزیل کے ذریعے ثابت نہیں ہوا اس لئے پہلے حکم کا ترک درست نہیں ہوگا اس لئے کہ قرآن کی اتباع کا لزوم ایسے طریقے سے ثابت ہوگیا جو علم کا موجب ہے جبکہ خبر واحد عمل کا موجب ہے اس لئے قرآن کے حکم کو چھوڑنا درست نہیں ہوگا اور خبر واحد کے ذریعے قرآن کے حکم کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنا بھی جائز نہیں ہوگا۔ یہ بات ہمارے اصحاب کے اس قول کی صحت پر دلالت کرتی ہے کہ جو شخص اخبار آحاد کی صورت میں خلاف قرآن کوئی بات نقل کرے گا اس کا قول قبول نہیں ہوگا۔ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا ماجاء کم منی ناعرضوہ علی کتاب اللہ فما وافق کتاب اللہ فھوعنی وما خالف کتاب اللہ فلیس عنی۔ میری طرف سے روایت کے ذریعے جو بات تم تک پہنچے اسے کتاب اللہ پر پیش کرو یعنی کتاب اللہ کی روشنی میں اسے جانچو، اس کے بعد جو بات کتاب اللہ کے مطابق ہو اسے تو میری طرف سے سمجھ لو اور جو کتاب اللہ کے خلاف ہوا سے میری بات نہ سمجھو) ہمارے نزدیک اس سے مراد وہ باتیں ہیں جو اخبار آحاد کی صورت میں حضور ﷺ سے منقول ہوئی ہیں۔
خبر متواتر ناسخ قرآن ہوسکتی ہے
لیکن اگر کوئی بات خبر متواتر کے ذریعے حضور ﷺ سے منقول ہو تو اس کی بنا پر قرآن کے حکم کی تخصیص بلکہ نسخ بھی درست ہے ارشاد باری ہے مااتاکم الرسول فخذوہ ومانھاکم عنہ فانتھوا۔ رسول جو حکم تمہیں دیں اسے قبول کرلو اور جس بات سے تمہیں روکیں اس سے رک جائو) اس لئے جس حکم کے بارے میں ہمیں یہ یقین ہو کہ یہ حضور ﷺ کا فرمان ہے تو ایجاب حکم کے لحاظ سے اس کی حیثیت قرآن کے حکم کی طرح ہوتی ہے اس لئے اس کے ذریعے قرآن کے حکم کی تخصیص بلکہ اس کا نسخ بھی جائز ہوتا ہے۔
Ayahs 7:17–25ابلیس کے وار انسان پر
قول باری ہے ثم لا تینھم من بین ایدیھم ومن خلفھم وعن ایمانھم وعن شمائلھم پھر ان کے آگے اور پیچھے ، دائیں اور بائیں ہر طرف سے ان کو گھیروں گا) حضرت ابن عباس، ابراہیم، قتادہ، الحکم اور سدی سے منقول ہے کہ من بین ایدیھم ومن خلفھم) سے مراد ہے ” ان کی دنیا اور آخرت کی طرف سے، ان کی نیکیوں اور بدیوں کی جہت ہے “ مجاہد کا قول ہے۔” ان کی نظروں کے سامنے ہو کر اور ان کی نظروں سے چھپ کر “ ایک قول ہے ” ہر اس جہت سے جس میں انہیں اپنے پھندے میں پھانسنا ممکن ہوگا “۔ شیطان نے انسانوں کے خلاف اپنی فتنہ سا مانیوں کے لئے ایک جہت کا ذکر نہیں کیا یعنی ” ومن فوقھم “ (اور ان کے اوپر سے) نہیں کہا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ انسانوں پر اللہ کی رحمت اوپر سے نازل ہوتی ہے اس لئے اس جہت کو شیطان سے آزاد رکھا گیا۔ اسی طرح ومن تحت ارجلھم (اور ان کے قدموں کے نیچے سے) نہیں کہا اس لئے اگر اس کے حقیقی معنی مراد لئے جائیں تو اس جہت سے کوئی کارروائی ناممکن اور ممتنع ہوتی ہے۔ قول باری ہے ولاتقرباھذہ الشجرۃ فتکونا من الظالمین۔ مگر اس درخت کے پاس نہ پھٹکنا ورنہ ظالموں میں سے ہو جائو گے) اللہ تعالیٰ نے درخت سے دونوں کے قرب کو مقرون کردیا۔ البتہ یہ بات معلوم ہے کہ اس میں یاد کی شرط لگائی تھی اور جان بوجھ کر اس کا علم رکھتے ہوئے کھانے کی شرط عائد کی تھی۔ اس لئے کہ نسیان اور خطا کی بنا پر کسی کام کے کرلینے میں جس پر کوئی دلیل قاطمع موجود نہ ہو، مواخذہ نہیں ہوتا۔ ان دونوں کا درخت سے کھا لینا معصیت کبیرہ نہیں تھی بلکہ دو وجوہ سے معصیت صغیرہ تھی۔ ایک تو یہ کہ دونوں اس معصیت کی وعید کو بھول گئے تھے اور یہ خیال کر بیٹھے تھے کہ یہ نہی استجباب پر مبنی ہے ایجاب پر مبنی نہیں ہے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (فنسی ولم نجدلہ عزماً ۔ سو ان سے بھول ہوگئی اور ہم نے ان میں پختگی نہیں پائی) دوسری وجہ یہ ہے کہ انہیں ایک متعین درخت کا اشارہ دیا گیا تھا اور انہوں نے اس سے عین درخت مراد سمجھی تھی جبکہ جنس درخت مرا د تھی جس طرح حضور ﷺ نے سونا اور ریشم ہاتھ میں پکڑ کر فرمایا تھا ھذان مھلکا امتی۔ یہ دونوں چیزی میری امت کے لئے مہلک ہیں) آپ ﷺ نے جنس سونا اور جنس ریشم مراد لی تھی، صرف وہی سونا اور ریشم مراد نہیں تھے جنہیں آپ نے ہاتھ میں پکڑ رکھا تھا۔
Ayah 7:26لباس کی حقیقت
قول باری ہے یا بنی ادم قدانزلنا علیکم لباساً یواری سواتکم وریشاً ولباس التقوی ذلک خیر۔ اے اولاد آدم ! ہم نے تم پر لباس نازل کیا ہے کہ تمہارے جسم کے قابل شرم حصوں کو ڈھانکے اور تمہارے لئے جسم کی حفاظت اور نیت کا ذریعہ بھی ہو اور بہترین لباس تقوی ٰ کا لباس ہے) یہ انسانوں میں سے تمام مکلفین کے لئے خطاب عام ہے جس طرح یہ قول باری یایھا الناس اتقواربکم۔ اے لوگو ! اپنے رب سے ڈرو) ان تمام مکلفین کے لئے خطاب ہے جو حضور ﷺ کے زمانے میں موجود تھے اور جو اس زمانے کے بعد کے زمانوں میں آنے والے تھے۔ البتہ جو لوگ اس وقت موجود نہیں تھے ان کے لئے یہ خطاب وجود میں آجانے اور کمال عقل کو پہنچنے کی شرط کے ساتھ مشروط تھا۔ قول باری قد انزلنا علیکم لباساً یواری سواتکم) نیز قول باری (وطفقا یغصفان علیھا من ورق الجنۃ۔ اور وہ اپنے جسموں کو جنت کے پتوں سے ڈھانکنے لگے) ستر عورت کی فرضیت پر دلالت کرتے ہیں۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا کہ اس نے ہم پر لباس نازل کیا تاکہ ہم اس کے ذریعے اپنے جسم کے قابل شرم حصوں کو ڈھانک لیں۔
نزول لباس کی کیفیت
اللہ تعالیٰ نے (انزلنا) فرمایا اس لئے کہ لباس یا تو زمین کی پیداوار یعنی روئی وغیرہ سے تیار ہوتا ہے یا جانوروں کی کھالوں اور اون سے بنایا جاتا ہے۔ ان سب کی بنیاد بارش ہے جو آسمان سے نازل ہوتی ہے۔ ایک قول کے مطابق لباس کو آسمان سے نازل کرنے کی بات اس لئے کہی گئی کہ تمام برکتوں کی نسبت آسمان سے اترنے کی طرف کی جاتی ہے جس طرح یہ قول باری ہے وانزلنا الحدید فیہ باس شدید و منافع للناس اور ہم نے لوہا نازل کیا جس میں زبردست طاقت ہے اور لوگوں کے لئے اس میں بڑے بڑے فائدے ہیں) ۔ قول باری ریشاً کے بارے میں ایک قول ہے کہ اس سے گھریلو سامان مراد ہے مثلاً بستر چادریں وغیرہ ایک قول کے مطابق اس سے مراد وہ لباس ہے جو زینت کا ذریعہ بنتا ہے اسی بنا پر پرندے کے پروں کو ریش کہا جاتا ہے۔
لباس التقوی کیا ہے ؟
قول باری (ولباس التقویٰ ) کے متعلق حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ اس سے عمل صالح مراد ہے۔ اسے لباس کے نام سے اس لئے موسوم کی گیا کہ عمل صالح کے ذریعے انسان اللہ کے عذاب سے بچ جاتا ہے جس طرح لباس کے ذریعے گرمی سردی سے بچتا ہے۔ قتادہ اور سدی کے قول کے مطابق اس سے ایمان مراد ہے۔ جن کا قول ہے کہ اس سے حیا مراد ہے جس کے نتیجے میں تقویٰ پیدا ہوتا ہے۔ بعض اہل علم کا قول ہے کہ اس سے ادنیٰ لباس نیز ایسا موٹا لباس مراد ہے جو تواضع کے طور پر نیز عبادت میں زہد و ریاضت کی بنا پر پہنا جاتا ہے۔ آیت ستر عورت کی فرضیت کے لزوم پر دلالت کرتی ہے اس پر تمام امت کا اتفاق ہے۔ اس بارے میں حضور ﷺ سے روایات بھی منقول ہیں۔
تنہائی میں برہنگی
بہزبن حکیم نے اپنے والد سے انہوں بہز کے دادا سے روایت کی ہے۔ انہوں نے پوچھا تھا “۔ اللہ کے رسول ہم اپنی شرمگاہوں کے سلسلے میں کیا کریں اور کیا نہ کریں ؟ “ آپ نے جواب میں فرمایا ” اپنی بیوی یا لونڈی کے سوا اپنی شرمگاہ کو ہر ایک سے بچا کے رکھو “۔ میں نے عرض کیا ” اگر ہم میں سے کوئی شخص تنہا ہو تو کیا وہ اپنی شرمگاہ برہنہ کرسکتا ہے ؟ “ آپ نے فرمایا ” اس صورت میں اللہ تعالیٰ کی ذات اس بات کی زیادہ حق دار ہے کہ اس سے شرم کی جائے “۔ حضرت ابوسعید خدری ؓ نے حضور ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کوئی مرد کسی مرد کی شرمگاہ پر اور کوئی عورت کسی عورت کی شرمگاہ پر نظر نہ ڈالے “۔
نگاہ کی حفاظت
ایک اور روایت میں آپ نے فرمایا ” وہ شخص ملعون ہے جو اپنے بھائی کی شرمگاہ پر نظر ڈالتا ہے “۔ قول باری ہے قل للمومنین یغضوا من ابصارھم۔ اہل ایمان سے کہہ دو کہ وہ اپنی نظریں نیچی رکھیں) نیز فرمایا وقل للمومنت یغضضن من البصار ھن۔ مومن خواتین سے کہہ دو کہ وہ اپنی نظریں نیچی رکھیں) یعنی دوسروں کے جسم کے اس حصے پر نظر ڈالنے سے جس کا ڈھانکنا فرض ہے۔ اس لئے کہ جسم کے جس حصے کو ڈھانکنا فرض ہے اس کے سوا جسم کے دوسروں حصوں پر نظر ڈالنے کے جواز میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔
Ayahs 7:27–28قول باری ہے یا بنی ادم لایفتنتکم الشیطان کما اخرج ابویکم من الجنۃ۔ اے بنی آدم ! ایسا نہ ہو کہ شیطان تمہیں پھر اسی طرح فتنے میں مبتلا کر دے جس طرح اس نے تمہارے والدین کو جنت سے نکلوایا تھا) فتنہ کے متعلق ایک قول ہے کہ اس سے مراد وہ ابتلا ہے جس میں شہوت یا شبہ کی جہت سے معصیت کی طرف دعوت کی بنا پر کوئی پھنس جائے۔ خطاب میں انسان کو شیطان کے فتنے میں مبتلا ہونے سے روکا گیا ہے لیکن اس کا مفہوم یہ ہے کہ انسان کو شیطان کے فتنے میں پڑنے سے ڈرایا گیا ہے اور اس پر اس سے اپنا پہلو بچانا لازم کردیا گیا ہے۔ قول باری کما اخرج ابویکم من الجنۃ) میں جنت سے آدم (علیہ السلام) و حوا کے اخراج کی نسبت شیطان کی طرف کی گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شیطان نے انہیں بہکایا تھا جس کے نتیجے میں وہ ایسی حرکت کر بیٹھے جو ان کے جنت سے اخراج پر منتج ہوئی جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرعون کی نسبت بیان فرمایا یذبح ابناء ھم و ان کے بیٹوں کو ذبح کردیا تھا) جبکہ فرعون نے انہیں ذبح کرنے کا حکم دے رکھا تھا وہ خود یہ کام نہیں کرتا تھا۔ اسی مفہوم پر اللہ نے آدم (علیہ السلام) و حوا کے لباس اتروانے کی نسبت بھی شیطان کی طرف کردی فرمایا ینزع عنھما لبا سھما۔ اور ان کے لباس ان پر سے اتروا دیئے تھے) اگر کوئی شخص اپنی قمیض نہ سینے اور اپنے غلام کی پٹائی نہ کرنے کی قسم کھالے جبکہ وہ خود یہ کام نہ کرتا ہو تو کسی اور سے یہ کام کروانے پر وہ حانث ہوجائے گا۔ اس مسئلے میں درج بالا آیت سے استدلال کیا گیا ہے۔ اسی طرح اگر اس نے گھر نہ بنانے کی قسم کھائی ہو اور پھر کسی اور کے ذریعے بنوالے تو حانث ہوجائے گا۔
لباس آدم کی کیفیت
ایک قول ہے کہ آدم (علیہ السلام) و حوا (علیہ السلام) کے جسم پر جو لباس تھا وہ جنت کے کپڑے کا بنا ہوا تھا۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ ان کا لباس ظفر (ایک قسم کی نباتات کا تھا۔ وہب بن منبہ کا قول ہے کہ ا ن کا لباس نور کا تھا۔
Ayahs 7:29–30نماز با جماعت
قول باری ہے واقیمواوجوھکم عند کل مسجد۔ اور ہر عبادت میں اپنا رخ ٹھیک رکھو) مجاہد اور سدی سے مروی ہے کہ ” نماز میں مسجد کے قبلے کی طرف اپنا رخ ٹھیک رکھو “۔ ربیع بن انس کا قول ہے کہ اخلاص کے ساتھ اللہ کی طرف اپنا رخ کرلو، نہ کسی بت کی طرف اور نہ کسی اور چیز کی طرف “۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں آیت میں دو باتیں بیان کی گئی ہیں اول یہ کہ قبلے کی طرف اس طرح رخ ٹھیک رکھنا کہ اس کی سمت رخ ہٹا ہوا نہ ہو۔ دوم یہ کہ مسجد میں جا کر نماز ادا کرنا۔ یہ بات مسجد میں جماعت کے ساتھ فرض نمازوں کی ادائیگی کے وجوب پر دلالت کرتی ہے۔ اس لئے کہ مساجد جماعت کے ساتھ نماز کی ادائیگی کے لئے تعمیر کی جاتی ہیں۔ حضور ﷺ سے جماعت کے ساتھ نماز ادا نہ کرنے والے کے لئے وعید کی روایتیں منقول ہیں۔ ایسی روایتیں بھی منقول ہیں جن میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی ترغیب دی گئی ہے۔
ترک جماعت پر وعید
ترک جماعت کی نہی کی مقتضی روایات میں سے چند یہ ہیں۔ آپ کا ارشاد ہے من سمع النداء فلم یجب فلا صلاۃ لہ۔ جس شخص نے اذان کی آواز سن لی اور پھر وہ نماز کے لئے مسجد میں نہیں گیا اس کی کوئی نماز نہیں) حضرت عبداللہ بن ام مکتوم نے عرض کیا کہ میرا گھر مسجد سے دور ہے۔ آپ ﷺ نے ان سے پوچھا ۔” اذان کی آواز سنتے ہو ؟ “ انہوں میں اثبات میں جواب دیا۔ اس پر آپ نے فرمایا لااجدلک عذراً ۔ پھر تو مجھے تمہارے لئے کوئی عذر نظر نہیں آتا) آپ کا ارشاد ہے لقد ھممت ان امور جلایصلی بالناس ثم امر بحطب فیحرق علی المتخلفین عن المجاعۃ بیوتھم۔ میں نے ارادہ کرلیا ہے کہ کسی شخص کو جماعت کرانے کے لئے کہوں اور خود لکڑیاں جمع کرنے کا حکم دوں اور پھر جماعت سے پیچھے رہ جانے والوں کے گھروں کو آگ لگا دوں) اسی مضمون کی دیگر روایتیں بھی موجود ہیں۔ جماعت سے نماز ادا کرنے کی ترغیب کے سلسلے میں ایک روایت ہے کہ جماعت کے ساتھ ادا کی جانیوالی نماز تنہا پڑھی جانے والی نماز سے پچیس درجے زیادہ فضیلت رکھتی ہے “۔ نیز یہ کہ فرشتے پہلی صف میں نماز ادا کرنے والوں کے لئے رحمت کی دعائیں مانگتے ہیں “ نیز آپ ؐ کا ارشاد ہے بشرالمشائین فی ظلال اللیل الی اسماجد بالنور التام یوم القیامۃ۔ رات کی تاریکی میں مساجد کی طرف چل کر آنے والوں کو قیامت کے دن کامل روشنی کی بشارت سنا دو ) ہمارے شیخ ابوالحسن کرخی فرمایا کرتے تھے کہ میرے نزدیک نماز باجماعت فرض کفایہ ہے۔ جس طرح مردوں کا غسل، ان کی تدفین اور ان کی نماز جنازہ فرض کفایہ ہے کہ جب کچھ لوگ اس کی ادائیگی کرلیں تو باقی ماندہ لوگوں سے اس کی فرضیت ساقط ہوجاتی ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ یہ آیت نماز کے اندر ستر عورت کی فرضیت پر دلالت کرتی ہے۔ اس بارے میں فقہاء کے درمیان اختلاف رائے ہے۔ امام ابوحنیفہ، امام ابویوسف، زفر، امام محمد اور حسن بن زیاد کا قول ہے کہ ستر عورت نماز میں فرض ہے اگر کوئی شخص امکان کے باوجود اس کا تارک ہوگا تو اس کی نماز فاسد ہوجائے گی۔ امام شافعی کا بھی یہی قول ہے امام مالک اور لیث بن سعد کا قول ہے کہ کشف عورت کے ساتھ نماز جائز ہوتی جاتی ہے۔ تاہم وقت کے اندر اس کا اعادہ واجب ہوگا ان دونوں حضرات کے نزدیک وقت کے اندر نماز کا اعادہ استجباب کے طور پر ہوگا۔ نماز میں ستر عورت کی فرضیت پر اس آیت کی کئی وجوہ سے دلالت ہو رہی ہے ایک تو یہ کہ جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا خذواذینتکم عندکل مسجد۔ ہر عبادت کے موقع پر اپنی زینت سے آراستہ ہو) اور اپنے حکم کو مسجد کے ساتھ معلق کردیا تو اس سے ہمیں یہ بات معلوم ہوگئی کہ اس سے نماز کے لئے ستر عورت مراد ہے اگر یہ بات نہ ہوتی تو مسجد کے ذکر کا کوئی فائدہ نہ ہوتا اس طرح مفہوم کے لحاظ سے عبارت یہ ہوگئی خذوازینتکم فی الصلوۃ (نماز کے اندر اپنا لباس پہن لو) اگر لوگوں کی نظروں سے اس کا چھپانا مراد ہوتا تو خصوصیت کے ساتھ مسجد کا ذکر نہ کیا جاتا اس لئے کہ مسجد کی بہ نسبت بازاروں میں لوگ زیادہ ہوتے ہیں۔ مسجد کا ذکر کر کے یہ بتادیا کہ نماز کے اندر ستر عورت واجب ہے اس لئے کہ مسجد نماز کے لئے مخصوص ہوتی ہے۔ نیز جب اللہ تعالیٰ نے مسجد میں ستر عورت کو واجب کردیا تو ظاہر آیت سے مسجد میں ادا کی جانے والی نماز میں ستر عورت واجب ہوگیا جب ایسی نماز میں ستر عورت واجب ہوگیا تو دوسری جگہوں پر ادا کی جانے والی نمازوں میں بھی ستر عورت واجب ہوگیا۔ اس لئے کہ کسی نے مسجد میں ادا کی جانے والی اور غیر مسجد میں ادا کی جانیوالی نمازوں میں کوئی فرق نہیں کیا ہے نیز لفظ مسجد اگر سجدہ کے مفہوم کی تعبیر ہوجائے تو اس کی گنجائش موجود ہے جس طرح یہ قول باری ہے وان المساجد اللہ اور مساجد اللہ کے لئے ہیں) جب بات اس طرح ہے تو آیت سجدہ کرتے وقت ستر عورت کے لزوم کی مقتضی ہوگی جب سجدے میں ستر عورت لازم ہوگا تو نماز کے دوسرے ارکان میں بھی اس کا لزوم ہوجائے گا اس لئے کہ کسی نے بھی ان دونوں کے درمیان فرق نہیں کیا ہے حضرت ابن عباس ؓ ابراہیم، مجاہد، طائوس اور زہری سے مروی ہے کہ مشرکین برہنہ ہو کر بیت اللہ کا طواف کرتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی خذوازینتکم عندکل مسجد۔
نماز میں ستر کا حکم
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ مشرکین برہنہ حالت میں بیت اللہ کا اس لئے طواف کرتے تھے کہ ان کے خیال میں کپڑے گناہوں کی وجہ سے گندے ہوتے تھے اس لئے وہ ان کپڑوں سے اپنے آپ کو آزاد کرلیتے تھے۔ ایک قول ہے کہ وہ تفاول کے طور پر اس طرح طواف کرتے تھے یعنی ان کے خیال میں جس طرح وہ کپڑوں سے آزاد ہوگئے تھے اسی طرح گناہوں سے بھی آزاد اور پاک ہوجاتے تھے۔ امام مالک کے مسلک کے حق میں استدلال کرنے والوں کا قول ہے کہ حضرات سلف نے جب آیت کے نزول کا سبب بیان کردیا جو یہ تھا کہ مشرکین برہنہ حالت میں بیت اللہ کا طواف کرتے تھے اس کی ممانعت میں آیت نازل ہوئی تو اب ضروری ہوگیا کہ آیت کا حکم صرف طواف بیت اللہ تک محدود رکھا جائے اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ ہمارے نزدیک بات اس طرح نہیں ہے اس لئے کہ ہم اس اصول کے قائل ہیں کہ کسی سبب کے پس منظر میں آیت کا نزول آیت کے حکم کو صاف اسی سبب تک محدود رکھنے کا موجب نہیں ہوتا اس لئے کہ ہمارے نزدیک حکم کا تعلق عموم لفظ کے ساتھ ہوتا ہے سبب کے ساتھ نہیں۔ علاوہ ازیں اگر بات اس طرح ہوتی جس طرح استدلال کرنے والے نے بیان کی ہے تو بھی اس کا استدلال نماز میں ستر عورت کے وجوب کو مانع نہیں ہوتا۔ اس لئے کہ جب طواف میں ستر عورت واجب قرار دیا جائے گا تو نماز کے اندر یہ بڑھ کر واجب ہوگا اس لئے کہ کسی نے بھی ان دونوں میں کوئی فرق نہیں کیا ہے۔
اگر کوئی شخص یہ کہے کہ اس بنا پر ستر عورت کا ترک نماز کی صحت کے لئے مانع نہیں ہونا چاہیے جس طرح اس کا ترک طواف کی صحت کے مانع نہیں ہے جس کے پس منظر میں آیت کا نزول ہوا تھا اگرچہ یہ طواف ناقص شمار کیا جائے گا۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ ظاہر آیت برہنہ حالت میں طواف اور نماز سب کے بطلان کا مقتضی ہے لیکن برہنہ حالت میں طواف کے جواز پر دلالت قائم ہوچکی ہے اگرچہ ساتھ ساتھ اس سے منع بھی کیا گیا ہے۔ جس طرح جسم پر کپڑوں کے ساتھ احرام کا جواز ہے اگرچہ اس سے روکا بھی گیا ہے لیکن دوسری طرف برہنہ حالت میں نماز کے جواز پر کوئی دلالت قائم نہیں ہوئی ہے۔ دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ نماز کے فرائض میں سے بعض کا ترک نماز کو فاسد کردیتا ہے مثلاً طہارت اور استقبال قبلہ وغیرہ۔
احرام نماز سے مضبوط ہے
احرام کے بعض فرائض کا ترک احرام کو فاسد نہیں کرتا اس لئے کہ اگر کوئی شخص وقت کے اندر احرام ترک کردیتا ہے اور پھر احرام باندھ لیتا ہے تو اس کا احرام درست ہوجاتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے ہمبستری کے دورا ن احرام باندھ لیتا ہے تو اس کا احرام واقع ہوجاتا ہے اس طرح احرام اپنی بقا کے لحاظ سے نماز کی بہ نسبت زیادہ مضبوط ہوتا ہے اور طواف احرام کے موجبات میں سے ہے۔ اس لئے یہ ضرور ی ہوگیا کہ ستر عورت کا ترک احرام کو فاسد نہ کرے اور نہ ہی اس کے وقوع کے لئے مانع بن جائے۔
یہ آیت ہر مسجد کے لئے عام ہے
آیت میں ستر عورت کا حکم طواف تک محدود نہیں ہے بلکہ نماز بھی اس میں مراد ہے اس پر یہ قول باری دلالت کرتا ہے اخذوازینتکم عندکل مسجد) جبکہ طواف صرف ایک مسجد یعنی مسجد حرام کے ساتھ مخصوص ہے اور کسی دوسری مسجد میں اس کی ادائیگی نہیں ہوتی۔ یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے آیت میں نماز مراد ہے جس کی ادائیگی ہر مسجد میں درست ہوتی ہے سنت کی جہت سے بھی اس پر دلالت ہوتی ہے۔
نماز میں ستر ضروری ہے
ابوالزناد نے اعرج سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا لایصلی احد کم فی ثوب واحدلیس عل فرجہ منہ شئی۔ تم میں سے کوئی شخص ایک کپڑے میں نماز نہ پڑھے کہ اس کپڑے کا کوئی حصہ اس کی شرمگاہ پر نہ ہو) ۔
عورت کی نماز بغیر دوپٹہ کے قبول نہیں
محمد بن سیرین نے صفیہ بنت الحارث سے اور انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا لایقبل اللہ صلوۃ حائض الابخمار۔ اللہ تعالیٰ کسی بالغ عورت کی نماز دوپٹے کے بغیر قبول نہیں کرتا) آپ نے بالغ عورت کی ننگے سرنماز کی قبولیت کی اسی طرح نفی فرما دی جس طرح طہارت کے بغیر اس کی قبولیت کی نفی کردی چناچہ آپ کا ارشاد ہے لایقبل اللہ صلوۃ بغیر طھور۔ اللہ تعالیٰ طہارت کے بغیر کوئی نماز قبول نہیں کرتا) اس سے ستر عورت کا نماز کے فرائض میں ہے ہونا ثابت ہوگیا۔ نیز سب کا اس پر اتفاق سے کہ نماز میں ستر عورت کا حکم ہے۔ اسی بنا پر ہمارے مخالف برہنہ حالت میں نماز پڑھ لینے کی صورت میں وقت کے اندر اس کے اعادے کا فتویٰ دیتے ہیں۔ جب نمازی کو ستر عورت کا حکم دیا گیا اور کشف عورت سے منع کردیا گیا تو اب ضروری ہوگیا کہ ستر عورت نماز کے فرائض میں داخل سمجھا جائے۔ اس لئے کہ یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ فرضیت کا حکم آیت سے ماخوذ ہے اور آیت میں نماز کے اندر ستر عورت مراد ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ نہی فعل کے فساد کی مقتضی ہوتی ہے الایہ کہ اس فعل کے جواز کی کوئی دلالت قائم ہوجائے۔
ستر عورت کا کوئی بدل نہیں
اگر کوئی شخص یہ اعتراض کرے کہ ستر عورت اگر نماز کے فرائض میں داخل ہوتا تو ضرورت کے وقت اس کے بغیر نماز اسی صورت میں جائز ہوتی جب اس کا کوئی بدل اس کے قائم مقام پر ہوجاتا جس طرح تیمم وضو کے قائم مقام ہوجاتا ہے جب ضرورت کے وقت ایک برہنہ انسان کی نماز جائز ہوجاتی ہے اور ستر عورت کا کوئی بدل نہیں ہوتا تو اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ ستر عورت نماز کے فرائض میں داخل نہیں ہے۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ یہ ایک فضول سا اعتراض ہے۔ اس لئے کہ نماز میں قرات فرض ہے لیکن ان پڑھ اور گونگے کی نماز کے جواز پر سب کا اتفاق ہے جبکہ قرات کا کوئی بدل نہیں ہوتا لیکن اس کے باوجود قرات نماز کے فرائض سے خارج نہیں ہے۔ امام مالک کے مسلک کے حق میں استدلال کرنے والے ایک صاحب کا خیال ہے کہ اگر لباس نماز کے اعمال اور اس کے فرائض میں داخل ہوتا تو نماز کے لئے کپڑا پہنتے وقت نماز کی نیت ضروری ہوتی ہے جس طرح ایک شخص تکبیر تحریمہ کے وقت یہ نیت کرتا ہے کہ یہ تحریمہ فلاں نماز کے لئے اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ یہ ایک واہیات اعتراض اور فاسد کلام ہے اس کلام کے نہ الفاظ درست ہیں اور نہ معنی۔ وہ اس لئے کہ کپڑا نہ تو نماز کے اعمال میں سے ہوتا ہے اور نہ ہی اس کے فرائض میں داخل ہوتا ہے لیکن ستر عورت نماز کی شرائط میں شامل ہے جن کے بغیر نماز درست نہیں ہوتی۔ جس طرح قبلے کی طرف رخ کرنا اس کی شرائط میں داخل ہے۔ اب ظاہر ہے کہ استقبال قبلہ کے لئے کسی نیت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اسی طرح طہارت نماز کی ایک شرط ہے اور ہمارے نزدیک اس میں بھی نیت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اسی طرح قدرت رکھنے والے شخص کے لئے نماز کے افتتاح کی حالت میں قیام نماز کے فرائض میں شامل ہے لیکن اس قیام کے لئے نیت ضروری نہیں ہوتی۔ اسی طرح افتتاح صلوۃ کے بعد قیام قرات رکوع اور سجود سب نماز کے فرائض میں داخل ہیں لیکن ان میں سے کسی فرض کے لئے نیت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اگر یہ کہا جائے کہ افتتاح صلوۃ کے بعد درج بالا امور کے لئے تجدید نیت کی اس لئے ضرورت نہیں پڑتی کہ نماز کی نیت کافی ہوجاتی ہے تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ اسی طرح نماز کی نیت ستر عورت کی نیت کے لئے کافی ہوجائے گی۔
Ayah 7:31قول باری ہے خذوازینتکم عند کل مسجد) اس پر دلالت کرتا ہے کہ مسجد میں جانے کے لئے صاف ستھرا کپڑا پہن لینا جو زینت کا باعث بن جائے مستجب ہے حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے جمعہ اور عیدین میں صاف ستھرے کپڑے پہننے کی ترغیت دی ہے جس طرح آپ نے جمعہ اور عیدین میں غسل کرنے اور خوشبو لگانے کا حکم دیا ہے۔
کھانے پینے میں اسراف کی ممانعت
قول باری ہے وکلواواشربوا ولاتسرفوا۔ اور کھائو پیو اور حد سے سے تجاوز نہ کرو) ظاہر آیت اسراف یعنی فضول خرچی کے بغیر کھانے پینے کے ایجاب کا مقتضی ہے لیکن بعض احوال میں اس حکم سے اباحت مراد ہوتی ہے اور بعض میں ایجاب۔ اگر کھانا پینا چھوڑ دینے کی بنا پر ایک شخص کو بایں معنی ضررلاحق ہونے کا اندیشہ پیدا ہوجائے کہ اس کی جان چلی جائے یا کوئی عضو بےکار ہوجائے یا کمزوری کی بنا پر اپنے فرائض ادا کرنے سے قاضر ہوجائے تو ان تمام حالتوں میں اس کے لئے اتنا کھانا پینا واجب ہوگا اس سے ا س ضرر کے لاحق ہونے کا خطرہ ٹل جائے۔ اگر کھانا پینا چھوڑنے کی بنا پر کسی ضرر کے لاحق ہونے کا خطرہ نہ ہو تو اس حالت میں کھانا پینا مباح ہوگا۔
خورونوش میں حد اعتدال
ظاہر آیت تمام ماکولات کے کھانے اور تمام مشروبات کے پینے کے جواز کا مقتضی ہے۔ بشرطیکہ اس میں اسراف نہ ہو نیز ان میں سے کسی چیز کی ممانعت کی کوئی دلیل موجود نہ ہو۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اکل و شرب کا اطلاق عدم اسراف کی شرط پر کیا ہے۔ اسراف حد استواء سے تجاوز کرجانے کا نام ہے۔ یہ بعض دفعہ حلال سے حرام کی طرف بڑھ جانے کی صورت میں ہوتا ہے اور بعض دفعہ اخراجات میں حد سے تجاوز کر جانے کی شکل میں ہوتا ہے۔ اس صورت میں ایسا شخص اس قول باری کے ذیل میں آجاتا ہے ان المبذرین کانوا اخوان الشیاطین۔ تبذیر کرنے والے شیطانوں کے بھائی بند ہیں) اسراف اور اس کی ضد اقتاء یعنی ضرورت سے کم خرچ کرنا اور تنگی اختیار کرنا دونوں قابل مذمت باتیں ہیں۔ اور استواء میانہ روی کا نام ہے۔ اسی بنا پر یہ قول ہے کہ اللہ کا دین کوتاہی کرنے والے اور غلو کرنے والے کے وسط میں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے والذین اذا انفقوا لم یسرفوا ولم یقتروا وکان بین ذلک قواماً ۔ اور وہ لوگ جب خرچ کرنے لگتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ تنگی کرتے ہیں اور اس کے درمیان کا خرچ اعتدال پر رہتا ہے) اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر ﷺ کو ارشاد فرمایا ولاتجعل یدک مغلولۃ الی عنقک ولاتبسطھا کل البسط فتقعد ملوما محسوراً ۔ اپنے ہاتھ کو اپنی گردن سے بندھا ہوا نہ رکھو اور نہ ہی اسے پوری طرح پھیلا دو کہ پھر تم ملازمت زدہ اور تہی دست ہو کر بیٹھ جائو) بعض دفعہ کھانے میں اس طرح اسراف ہوتا ہے کہ ایک انسان اپنی حاجت سے زائد کھا لیتا ہے جس کی وجہ سے اسے ضرر اور تکلیف لاحق ہوجاتی ہے آیت کی رو سے اس طرح کھانے کی بھی ممانعت ہے اور اس طرح کھانا حلال نہیں ہے۔
Ayah 7:32زینت اور طیبات کا حکم
قول باری ہے قل من حرم زینۃ اللہ التی اخرج لعبادہ و الطیبات من الرزق۔ اے محمد ﷺ ! ان سے کہو کس نے اللہ کی اس زینت کو حرام کردیا جسے اللہ نے اپنے بندوں کے لئے نکالا تھا اور کس نے خدا کی بخشی ہوئی پاک چیزیں ممنوع کردیں ؟ ) حسن اور قتادہ سے مروی ہے کہ عرب کے لوگ بحیرہ اور سائبہ (ان جانوروں کی تفصیل سورة انعام میں گزر چکی ہے) وغیرہ جانوروں کو اپنے اوپر حرا م کرلیتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی سدی کا قول ہے کہ عرب کے لوگ حالت احرام میں گھی اور دوسرے روغنیات کے استعمال کو حرام سمجھتے تھے اللہ تعالیٰ نے ا ن کے اس قول کی تردید میں یہ آیت نازل فرمائی۔ اس آیت میں اباحت کے اس حکم کی تاکید ہے جو سابقہ آیت خذوازینتکم عند کل مسجد) میں گزر چکا ہے۔ قول باری والطیبات من الرزق) کی تفسیر میں دو وجوہ بیان کئے گئے ہیں۔ اول اس میں وہ تمام ماکولات و مشروبات شامل ہیں جو انسا ن کو پسند آئیں اور اس کی لذت کام و دہن کا ذریعہ نہیں۔ اس طرح یہ قول باری تمام ماکولات اور مشروبات کی اباحت کا مقتضی ہوگا ان سے صرف وہی چیزیں خارج ہوں گی جن کی تحریم کی دلالت قائم ہوچکی ہو دوم ان سے رزق حلال مراد ہے۔ قول باری ہے قلھی للذین امنوا فی الحیوۃ الدنیا خالصۃ یو مالقیامۃ۔ کہو یہ ساری چیزیں دنیا کی زندگی میں بھی ایمان لانے والوں کے لئے ہیں اور قیامت کے روز تو خالصۃ انہیں کے لئے ہوں گی) یعنی اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے لئے ان چیزوں کو مباح کردیا ہے اور قیامت کے دن یہ چیزیں انہیں تکدرو تفعض کی تمام آلائشوں سے پاک صاف ملیں گی۔ ایک قول یہ ہے کہ قیامت کے دن یہ چیزیں خالصۃ ان ہی کے لئے ہوں گے مشرکین کو ان میں سے کوئی چیز نہیں ملے گی۔