7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsاحکام القرآن

Ayahs 7:172–184

وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْۢ بَنِیْۤ اٰدَمَ مِنْ ظُهُوْرِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ وَ اَشْهَدَهُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ١ؕ قَالُوْا بَلٰى١ۛۚ شَهِدْنَا١ۛۚ اَنْ تَقُوْلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اِنَّا كُنَّا عَنْ هٰذَا غٰفِلِیْنَۙ Open ayah 7:172 in the Quran reader

اور جب تمہارے پروردگار نے بنی آدم سے یعنی ان کی پیٹھوں سے انکی اولاد نکالی تو ان سے خود ان کے مقابلے میں اقرار کرا لیا (یعنی ان سے پوچھا کہ) کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں ؟ وہ کہنے لگے کیوں نہیں ؟ ہم گواہ ہیں (کہ تو ہمارا پروردگار ہے) یہ اقرار اس لیے کرایا تھا کہ قیامت کے دن کہنے لگو کہ ہم کو تو اس کی خبر ہی نہ تھی۔

اَوْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اَشْرَكَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَ كُنَّا ذُرِّیَّةً مِّنْۢ بَعْدِهِمْ١ۚ اَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 7:173 in the Quran reader

یا یہ (نہ) کہو کہ شرک تو پہلے ہمارے بڑوں نے کیا تھا اور ہم تو (انکی) اولاد تھے (جو) ان کے بعد (پیدا ہوئے) تو کیا جو کام اہل باطل کرتے رہے اس کے بدلے تو ہمیں ہلاک کرتا ہے ؟

وَ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 7:174 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم (اپنی) آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں تاکہ یہ رجوع کریں۔

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ الَّذِیْۤ اٰتَیْنٰهُ اٰیٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَاَتْبَعَهُ الشَّیْطٰنُ فَكَانَ مِنَ الْغٰوِیْنَ Open ayah 7:175 in the Quran reader

اور ان کو اس شخص کا حال پڑھ کر سنا دو جس کو ہم نے اپنی آیتیں عطا فرمائیں (اور ہفت پارچہ علم شرائع سے مزین کیا) تو اس نے ان کو اتار دیا پھر شیطان اسکے پیچھے لگا تو وہ گمراہوں میں ہوگیا۔

وَ لَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰهُ بِهَا وَ لٰكِنَّهٗۤ اَخْلَدَ اِلَى الْاَرْضِ وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ١ۚ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ الْكَلْبِ١ۚ اِنْ تَحْمِلْ عَلَیْهِ یَلْهَثْ اَوْ تَتْرُكْهُ یَلْهَثْ١ؕ ذٰلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 7:176 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو ان آیتوں سے اس (کے درجے) کو بلند کردیتے مگر وہ تو پستی کی طرف مائل ہوگیا اور اپنی خواہش کے پیچھے چل پڑا تو اس کی مثال کتے کی سی ہوگئی۔ کہ اگر سختی کرو تو زبان نکا لے رہے اور یونہی چھوڑ دو تو بھی زبان نکالے رہے۔ یہی مثال ان لوگوں کی ہے جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا۔ تو (ان سے) یہ قصہ بیان کردو تاکہ وہ فکر کریں۔

سَآءَ مَثَلَا اِ۟لْقَوْمُ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اَنْفُسَهُمْ كَانُوْا یَظْلِمُوْنَ Open ayah 7:177 in the Quran reader

جن لوگوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی ان کی مثال بری ہے اور انہوں نے نقصان (کیا تو) اپنا ہی کیا۔

مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِیْ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 7:178 in the Quran reader

جس کو خدا ہدایت دے وہی راہ یاب ہے۔ اور جس کو گمراہ کرے تو ایسے ہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔

وَ لَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِیْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ۖ٘ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ بِهَا١٘ وَ لَهُمْ اَعْیُنٌ لَّا یُبْصِرُوْنَ بِهَا١٘ وَ لَهُمْ اٰذَانٌ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ Open ayah 7:179 in the Quran reader

اور ہم نے بہت سے جن اور انسان دوزخ کے لئے پیدا کئے ہیں۔ ان کے دل ہیں لیکن ان سے سمجھے نہیں اور اور ان کی آنکھیں ہیں مگر ان سے دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں پر ان سے سنتے نہیں۔ یہ لوگ (بالکل) چارپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی بھٹکے ہوئے۔ یہی وہ ہیں جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔

وَ لِلّٰهِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا١۪ وَ ذَرُوا الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اَسْمَآئِهٖ١ؕ سَیُجْزَوْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 7:180 in the Quran reader

اور خدا کے سب نام اچھے ہی ہیں تو اس کو اس کے ناموں سے پکار کرو۔ اور جو لوگ اس کے ناموں میں کجی (اختیار) کرتے ہیں ان کو چھوڑ دو ۔ وہ جو کچھ کر رہے ہیں عنقریب اسکی سزا پائیں گے۔

وَ مِمَّنْ خَلَقْنَاۤ اُمَّةٌ یَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَ بِهٖ یَعْدِلُوْنَ۠ Open ayah 7:181 in the Quran reader

اور ہماری مخلوقات میں سے ایک وہ لوگ ہیں جو حق کا راستہ بتاتے ہیں اور اسی کے ساتھ انصاف کرتے ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَۚۖ Open ayah 7:182 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہم ان کو بتدریج اس طریق سے پکڑیں گے کہ ان کو معلوم ہی نہ ہوگا۔

وَ اُمْلِیْ لَهُمْ١۫ؕ اِنَّ كَیْدِیْ مَتِیْنٌ Open ayah 7:183 in the Quran reader

اور میں ان کو مہت دیے جاتا ہوں۔ میری تدبیر (بڑی) مضبوط ہے۔

اَوَ لَمْ یَتَفَكَّرُوْا١ٚ مَا بِصَاحِبِهِمْ مِّنْ جِنَّةٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 7:184 in the Quran reader

کیا انہوں نے غور نہیں کیا ؟ کہ ان کے رفیق محمد ﷺ کو (کسی طرح کا بھی) جنون نہیں ہے۔ تو وہ ظاہر ظہور ڈر سنانے والے ہیں۔

عہد الست قول باری ہے واذاخذربک من بنی ادم من ظھور ھم ذریتھم واشھدھم علی انفسھم اور اے نبی ﷺ ! لوگوں کو یاد دلائو وہ وقت جبکہ تمہارے رب نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی نسل کو نکالا تھا اور ا ہیں خود ان کے اوپر گواہ بنایا تھا) ایک قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کی پشتوں کو ایک ایک قرن یعنی دور کے لحاظ سے نکالا تھا اور انہیں خود ان کے اوپر اس فطری میلان کے بارے میں گواہ بنایا تھا جو اس نے ان کی عقول اور ان کی فطرت میں پیدا کردیا تھا تاکہ یہی فطری میلان اللہ کی ربوبیت کے اقرار کا مقتضی بن جائے۔ اس طرح ان سب کو یکجا کر کے ان سے یہ سوال پوچھا تھا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ سب نے جواباً کہا تھا ضرور آپ ہی ہمارے رب ہیں “۔ ایک قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے اپنی ربوبیت کے متعلق جو سوال کیا تھا وہ بعض انبیاء کی زبانی کیا گیا تھا۔ قول باری ہے ولقدذرانا لجھنم کثیراً من الجن والانس۔ اور یہ حقیقت ہے کہ بہت سے جن و انسان ایسے ہیں جن کو ہم نے جہنم ہی کے لئے پیدا کیا ہے) لفظ جہنم پر داخل حرف لام کو لام عاقبت کہتے ہیں جس طرح یہ قول باری ہے فالتقطہ ال فرعون لبکون لھم عدواً وحزناً ۔ آل فرعون نے اسے اٹھا لیا تاکہ وہ ان کا دشمن اور ان کے غم کا سبب بن جائے) فرعون کے آل نے اس مقصد کے لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو نہیں اٹھایا تھا لیکن جب انجام کار کے طور پر یہی صورت سامنے آئی تھی تو اللہ تعالیٰ نے آل فرعون کے بارے میں اس کا اطلاق کردیا۔ شاعر کا مصرعہ بھی یہی مفہوم ادا کرتا ہے۔ لدواللموت وابنواللخراب۔ موت کے لئے پیدا کردہ اور تخریب کے لئے تعمیر کرو۔ یہ شعر بھی ہے۔ وام سماک فلاتجزعی…فللموت ماغذت الوالدہ…اے ام سماک ! آنسو نہ بہا اور آہ و بکا نہ کر اس لئے کہ ماں اپنے بچوں کی پرورش موت کے لئے کرتی ہے۔
Ayahs 7:185–186

اَوَ لَمْ یَنْظُرُوْا فِیْ مَلَكُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ١ۙ وَّ اَنْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ قَدِ اقْتَرَبَ اَجَلُهُمْ١ۚ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَهٗ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:185 in the Quran reader

کیا انہوں نے آسمان اور زمین کی بادشاہت میں اور جو چیز خدا نے پیدا کی ہیں ان پر نظر نہیں کی ؟ اور (اس بات پر خیال نہیں کیا) کہ عجب نہیں کہ ان (کی موت) کا وقت نزدیک پہنچ گیا ہو ؟ تو اس کے بعد وہ اور کس بات پر ایمان لائیں گے ؟

مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِیَ لَهٗ١ؕ وَ یَذَرُهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 7:186 in the Quran reader

جس شخص کو خدا گمراہ کرے اسکو کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ اور وہ ان (گمراہوں) کو چھوڑے رکھتا ہے کہ اپنی سرکشی میں پڑے بہکتے رہیں۔

کائنات پر دعوت فکر قول باری ہے اولم ینظروا فی ملکوت السموت والارض وما خلق اللہ من شئی ۔ کیا ان لوگوں نے آسمان و زمین کے انتظام پر کبھی غور نہیں کیا اور کسی چیز کو بھی جو خدا نے پیدا کی ہے آنکھیں کھول کر نہیں دیکھا) آیت میں لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی تخلیق کائنات اس کی کاریگری اور حسن انتظام پر غور کرنے، اس کی ذات پر استدلال کرنے اور اس معاملے پر تدبر و تفکر سے کام لینے پر ابھارا گیا ہے اس لئے کہ یہ تمام باتیں اللہ کی ذات، اس کی حکمت، اس کی مہارت اور اس کے عدل پر دلالت کرتی ہے۔ آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ اس کی پیدا کی ہوئی تمام چیزوں میں اس کی ذات کی نشاندہی موجود ہے اور یہ تمام چیزیں اس کی ذات کی طرف انسانوں کے فہم و شعور کو دعوت فکر دیتی ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو متنبہ کیا ہے کہ اگر لوگوں نے کائنات پر غور و فکر کے ذریعے اس کی ذات کی معرفت میں کوتاہی کی حتی کہ موت کا وقت آگیا اور اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی واحدانیت کی معرفت پر کائنات سے استدلال کا موقع ہاتھ سے نکل گیا تو یہ موقعہ پھر کبھی ہاتھ نہیں آئے گا۔ اسی بنا پر ارشاد ہوا وان عسی ان یکون قد اقترب اجلھم فبای حدیث بعدہ یومنون۔ اور کیا یہ بھی انہوں نے نہیں سوچا کہ شاید ان کی مہلت زندگی پوری ہونے کا وقت قریب آلگا ہو پھر آخر پیغمبر کی اس تنبیہ کے بعد اور کون سی بات ایسی ہوسکتی ہے جس پر یہ ایمان لائیں ؟ )
Ayahs 7:187–188

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَیَّانَ مُرْسٰىهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ١ۚ لَا یُجَلِّیْهَا لِوَقْتِهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؔۘؕ ثَقُلَتْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَا تَاْتِیْكُمْ اِلَّا بَغْتَةً١ؕ یَسْئَلُوْنَكَ كَاَنَّكَ حَفِیٌّ عَنْهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:187 in the Quran reader

(یہ لوگ) تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کے واقع ہونے کا وقت کب ہے ؟ کہہ دو اس کا علم تو میرے پروردگار ہی کو ہے۔ وہی اسے اس کے وقت پر ظاہر کر دے گا۔ وہ آسمان اور زمین میں ایک بھاری بات ہوگی۔ اور ناگہاں تم پر آجائے گی۔ یہ تم سے اس طرح دریافت کرتے ہیں کہ گویا تم اس سے بخوبی واقف ہو۔ کہو کہ اس کا علم تو خدا ہی کو ہے لیکن اکثر لوگ یہ نہیں جانتے۔

قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَیْبَ لَا سْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِ١ۛۖۚ وَ مَا مَسَّنِیَ السُّوْٓءُ١ۛۚ اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 7:188 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں اپنے فائدے اور نقصان کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا مگر جو خدا چاہے۔ اور اگر میں غیب کی باتیں جانتا ہوتا تو بہت سے فائدے جمع کرلیتا۔ اور مجھ کو کوئی تکلیف نہ پہنچتی۔ میں تو مومنوں کو ڈر اور خوشخبری سنانے والا ہوں۔

قیامت کب آئے گی ؟ قول باری ہے یسئلونک عن الساعۃ ایان مرسھا۔ یہ لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ آخر وہ قیامت کی گھڑی کب نازل ہوگی ؟ ) تاآخر آیت ۔ قتادہ اور سدی کا قول ہے کہ مرسھا کے معنی قیام قیامت ہے۔ ایان، متی کے معنوں میں ہے۔ اس سوال میں اس وقت کے بارے میں دریافت کیا گیا تھا جو قیامت کے وقوع پذیر ہونے کے لئے ظرف بننے والا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں قیامت کے وقت کے متعلق کوئی بات نہیں بتائی تاکہ اس کے بندے قیامت کے وقت سے ہمیشہ ڈرتے رہیں اور یہ بات طاعت کی طرف زیادہ راغب کر دے اور معصیت سے انہیں زیادہ بازرکھے ۔ موسیٰ کسی بھاری چیز کی جائے استقرار کو کہتے ہیں۔ اسی سے الجبال الرسیات، ہے یعنی گڑے ہوئے مضبوط پہاڑ جب کشتی بندرگاہ پر لنگرانداز ہوجائے تو کہا جاتا ہے ” رسبت السفینۃ “ جب کوئی شخص اسے لنگر انداز کرلے تو کہا جاتا ہے ” ارسا ھا غیرھا “۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ یہود کے ایک گروہ نے قیامت کے متعلق سوال کیا تھا حسن اور قتادہ کا قول ہے کہ قریش نے یہ سوال کیا تھا۔ قول باری ہے لاتاتیکم الابغتۃ۔ وہ تم پر اچانک آجائے گی) قتادہ کا قول ہے کہ بغتۃ کے معنی غفلۃ کے ہیں۔ یہ شدید ترین صورت ہے۔ قول باری ہے ثقلت فی السموت والارض۔ آسمانوں اور زمین میں وہ بڑا سخت وقت ہوگا) سدی اور دیگر حضرات نے کہا ہے کہ اس وقت کا علم آسمانوں اور زمین والوں پر بڑا بھاری ہوگا وہ اس کے ادراک کی طاقت نہیں رکھتے حسن کا قول ہے قیامت کی کیفیت کا بیان اہل زمین وآسمان کے لئے بڑا سخت ہوگا اس لئے کہ اس گھڑی ستارے بکھر جائیں گے آسمانوں کے روشن اجرام بےنور ہوجائیں گے اور پہاڑ اپنی جگہ چھوڑ دیں گے اور اڑتے پھریں گے۔ قتادہ کا قول ہے کہ قیامت کی گھڑی آسمانوں پر بڑی سخت ہوگی اور اس کی شدت کی بنا پر آسمان اس کی برداشت کی طاقت نہیں رکھیں گے۔ قول باری ہے یسئلونک کانک حفتی عنھا۔ یہ لوگ اس کے متعلق تم سے اس طرح پوچھتے ہیں کہ گویا تم اس کی کھوج میں لگے ہوئے ہو) مجاہد ضحاک اور معمر کے قول کے مطابق گویا تمہیں اس کا علم ہے “ حضرت ابن عباس ؓ حسن قتادہ اور سدی کا قول ہے کہ آیت کی عبارت میں تقدیم و تاخیر ہے۔ اصل ترتیب یہ ہوگی یسئلونک عنھا کانک حفی بھم۔ یہ لوگ تم سے قیامت کے متعلق اس طرح پوچھتے ہیں گویا تم ان کے ساتھ کوئی نیکی کر کے مہربانی کرنا چاہتے ہو۔ اسی معنی میں یہ قول باری ہے انہ کان بی حفیاً ۔ یقینا وہ مجھ پر بہت مہربان ہے) ایک قول ہے کہ حفا کے اصل معنی کسی معاملے کے پیچھے پڑجانے اور اس کی کھوج میں لگ جانے کے ہیں۔ جب کوئی شخص کی کھوج میں لگ جائے تو کہا جاتا ہے احفی فلان فلاناً ۔ اسی طرح جب کوئی شخص مسلسل سوال کرتا رہے تو کہا جاتا ہے ” احفی السئوال “ اسی سے ہے ” احفی الشارب “ (فلاں شخص نے اپنی مونچھیں پوری طرح صاف کردیں) اسی سے لفظ الحفا ہے جس کے معنی مسلسل ننگے پائوں چلنے کی بنا پر قدموں کا چھل جانا ہے۔ حفی اس شخص کو کہا جاتا ہے جو تمہارے ساتھ نیکی کر کے تم پر مہربانی کرتا ہے۔ مہربانی کی وجہ یہ ہے کہ وہ تمہارے ساتھ نیکی کرنے کے درپے ہوتا ہے۔ قول باری حفی عنھا یعنی اس کا علم رکھنے والا۔ اس لئے کہ اس کا علم رکھنے والے نے اس کے متعلق علم حاصل کرنے میں مسلسل تگ و دو کی ہے۔ آیت میں اس شخص کے قول کے بطلان پر دلیل موجود ہے جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اسے دنیا کی باقی ماندہ مدت کا علم ہے۔ وہ استدلال کے طور پر ایک روایت پیش کرتا ہے جس میں ذکر ہے کہ دنیا کی عمر سات ہزار برس ہے اور حضور ﷺ کی بعثت کے بعد سے اس کی عمر صرف پانچ سو برس رہ گئی ہے۔ اگر اس شخص کی بات درست ہوتی تو پھر قیامت کے وقت کا سب کو علم ہوتا جبکہ اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ قیامت کا علم صرف اس کی ذات کو ہے اسے اپنے وقت پر وہی ظاہر کرے گا۔ نیز اس کی آمد اچانک ہوگی۔ اس کی آمد کا پہلے سے کسی کو علم نہ ہوسکے گا۔ اس لئے کہ ” بغتۃ “ یعنی اچانک کے معنوں میں یہ مفہوم داخل ہے حضور ﷺ سے دنیا کی باقی ماندہ عمر کے متعلق روایات منقول ہیں لیکن ان روایات میں وقت کی کوئی تحدید نہیں ہے۔ مثلا آپ ﷺ کا ارشاد ہے بعثت والساعۃ کھاتین، میری بعثت اور قیامت میں ان دونوں انگلیوں جتنا فاصلہ ہے) آپ نے یہ فرما کر انگشت شہادت اور بیچ کی انگلی کی طرف اشارہ کیا اس جیسی ایک روایت شعبہ نے علی بن زید سے نقل کی ہے انہوں نے ابونضرہ سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری ؓ سے کہ حضور ﷺ نے ایک دن ہمیں عصر کے بعد سے سورج چھپنے تک خطبہ دیا جس کے دوران آپ ﷺ نے فرمایا الانہ لم یبق من الدنیا فیما مضی الاکما بقی من ھذہ الشمس الی ان تغیب۔ لوگو ! دنیا کی گزری ہوئی عمر میں سے اب صرف اتنا عرصہ باقی رہ گیا ہے جتنا اس سورج کے غروب ہونے میں ہے) حضرت ابن عباس ؓ نے حضرت ﷺ سے یہ روایت کی ہے کہ اجلکم فی اجل من مضی قبلکم کما بین صلوۃ العصر الی غروب الشمس، گزشتہ قوموں کی مدت کے مقابلہ میں تمہاری مدت اتنی ہے جتنی عصر کی نماز سے لے کر غروب آفتاب تک ہے) اسی طرح دیگر روایات ہیں۔ ان میں قیامت کی آمد کے وقت کی کوئی تحدید نہیں ہے۔ ان میں صرف قرب قیامت کی بات کہی گئی ہے ۔ قول باری فقدجاء اشراطھا۔ پس قیامت کی نشانیاں آگئی ہیں) کی تاویل میں یہ مروی ہے کہ حضور ﷺ کی بعثت قرب قیامت کی نشانیوں میں سے ایک ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا قل انما علیمھا عند ربی۔ کہہ دو اس کا علم تو صرف میرے رب کو ہے) پھر فرمایا قل انما علمھا عنداللہ۔ اس کا علم تو صرف اللہ کو ہے) ان دونوں آیتوں کی تفسیر میں ایک قول یہ ہے کہ پہلے علم سے مراد قیامت کے وقت کا علم ہے اور دوسرے سے اس کی حقیقت کا علم مراد ہے۔
Ayahs 7:189–193

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِیَسْكُنَ اِلَیْهَا١ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِیْفًا فَمَرَّتْ بِهٖ١ۚ فَلَمَّاۤ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَئِنْ اٰتَیْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 7:189 in the Quran reader

وہ خدا ہی تو ہے جس نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا۔ اور اس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس سے راحت حاصل کرے۔ سو جب وہ اسکے پاس جاتا ہے تو اسے ہلکا کا حمل رہ جاتا ہے اور وہ اسکے ساتھ چلتی پھرتی ہے۔ پھر کچھ بوجھ معلوم کرتی (یعنی بچہ پیٹ میں بڑا ہوتا) ہے تو دونوں (میاں بیوی) اپنے پروردگار خدائے عزوجل سے التجا کرتے ہیں کہ اگر تو ہمیں صحیح وسالم (بچہ) دیگا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے۔

فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهٗ شُرَكَآءَ فِیْمَاۤ اٰتٰىهُمَا١ۚ فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 7:190 in the Quran reader

جب وہ ان کو صحیح وسالم (بچہ) دیتا ہے تو اس (بچے) میں جو وہ ان کو دیتا ہے اسکا شریک مقرر کرتے ہیں جو وہ شرک کرتے ہیں خدا (کا رتبہ) اس سے بلند ہے۔

اَیُشْرِكُوْنَ مَا لَا یَخْلُقُ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَ٘ۖ Open ayah 7:191 in the Quran reader

کیا وہ ایسوں کو شریک بناتے ہیں جو کچھ بھی پیدا نہیں کرسکتے اور خود پیدا کئے جاتے ہیں ؟

وَ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا وَّ لَاۤ اَنْفُسَهُمْ یَنْصُرُوْنَ Open ayah 7:192 in the Quran reader

اور نہ ان کی مدد کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ اپنی ہی مدد کرسکتے ہیں۔

وَ اِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا یَتَّبِعُوْكُمْ١ؕ سَوَآءٌ عَلَیْكُمْ اَدَعَوْتُمُوْهُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ Open ayah 7:193 in the Quran reader

اگر تم ان کو سیدھے راستے کی طرف بلاؤ تو تمہارا کہا نہ مانیں تمہارے لئے برابر ہے کہ تم ان کو بلاؤ یا چپکے رہو۔

تخلیق انسانی قول باری ہے ھوالذی خالقکم من نفس واحدۃ وجعل منھا زوجھا۔ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا) ایک قول ہے کہ ہر جان سے اس کا جوڑا بنایا۔ گویا یوں فرمایا ” جان سے اس کا جوڑا بنایا “۔ اور اس سے جنس مراد لیا۔ آیت کی عبارت میں لفظ جنس پوشیدہ ہے۔ ایک قول ہے کہ آدم (علیہ السلام) و حوا (علیہ السلام) سے پیدا کیا۔ قول باری ہے لئن اتیتنا صالحاً ۔ اگر تو نے ہم کو اچھا سا بچہ دیا) حسن کا قول ہے ” ایک صحیح و سالم بچہ “ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے ” ایک سالم انسان “ اس لئے کہ ماں باپ کو یہ خوف کھائے جاتا تھا کہ کہیں چوپائے کی شکل کی کوئی مخلوق نہ آجائے۔ قول باری ہے فلما اتاھما صالحاً جعل لہ شرکاء فیما اتاھما۔ مگر جب اللہ نے ان کو صحیح و سالم بچہ دے دیا تو وہ اس کی اس بخشش و عنایت میں دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرانے لگے) حسن اور قتادہ کا قول ہے کہ فعل ” جعلا “ میں ضمیر جان اور اس کے جوڑے کی طرف راجع ہے آدم و حوا کی طرف راجع نہیں ہے دوسرے حضرات کا قول ہے کہ ضمیر ولد صالح کی طرف بایں معنی راجع ہے کہ پیدا ہونے والا بچہ جسمانی طور پر صحیح و سالم تھا۔ یہ صحت و سلامتی اس کی خلقت کے لحاظ سے تھی، دین کے لحاظ سے نہیں تھی۔ تثنیہ کی ضمیر کے مرجع کی یہ توجیہہ ہے کہ حضرت حوا کے ہاں ہر دفعہ دو بچے پیدا ہوتے تھے ایک لڑکا اور ایک لڑکی۔
Ayahs 7:194–198

اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ فَادْعُوْهُمْ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 7:194 in the Quran reader

(مشرکو) جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو تمہاری طرح کے بندے ہی ہیں (اچھا) تم ان کو پکارو اگر سچے ہو تو چاہئے کہ وہ تم کو جواب بھی دیں۔

اَلَهُمْ اَرْجُلٌ یَّمْشُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اَیْدٍ یَّبْطِشُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اَعْیُنٌ یُّبْصِرُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَا١ؕ قُلِ ادْعُوْا شُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ كِیْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 7:195 in the Quran reader

بھلا ان کے پاؤں ہیں جن سے چلیں یا ہاتھ ہیں جن سے پکڑیں یا آنکھیں ہیں جن سے دیکھیں یا کان ہیں جن سے سنیں ؟ کہہ دو کہ اپنے شریکوں کو بلا لو اور میرے بارے میں جو تدبیر کرنی ہو کرلو اور مجھے کچھ مہلت بھی نہ دو پھر دیکھو کہ وہ میرا کیا کرسکتے ہیں۔

اِنَّ وَلِیَِّۧ اللّٰهُ الَّذِیْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ١ۖ٘ وَ هُوَ یَتَوَلَّى الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 7:196 in the Quran reader

اور میرا پروردگار تو خدا ہی ہے جس نے کتاب (بر حق) نازل کی اور نیک لوگوں کا وہی دوست دار ہے۔

وَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَ لَاۤ اَنْفُسَهُمْ یَنْصُرُوْنَ Open ayah 7:197 in the Quran reader

اور جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو وہ نہ تمہاری ہی مدد کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ خود اپنی ہی مدد کرسکتے ہیں۔

وَ اِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا یَسْمَعُوْا١ؕ وَ تَرٰىهُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ وَ هُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 7:198 in the Quran reader

اور اگر تم انہیں سیدھے راستے کی طرف بلاؤ تو سن نہ سکیں۔ اور تم انہیں دیکھتے ہو کہ (بظاہر) آنکھیں کھلے تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر (فی الواقع) کچھ نہیں دیکھتے۔

معبودان باطل بھی اللہ کی ملکیت ہیں قول باری ہے ان الذین تدعون من دوان اللہ عبادا مثالکم فادعوھم تم لوگ اللہ کو چھوڑ کر جنہیں پکارتے ہو وہ تو محض بندے ہیں جیسے تم بندے ہو۔ ان سے دعائیں مانگ دیکھو) پہلی دعا اور پکار سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے بتوں کو معبودوں کے نام سے موسوم کردیا تھا جبکہ دوسری دعا اور پکار سے منافع کی طلب اور آنے والی مصیبتوں سے رہائی مراد ہے۔ اس بارے میں انہیں ان کی طرف سے مکمل مایوسی کا سامنا ہے قول باری عبادا مثالکم کی تفسیر میں ایک قول ہے کہ ان معبودان باطل کو عباد اس لئے کہا گیا کہ یہ بھی اللہ کی ملکیت ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ مشرکین کو یہ وہم تھا کہ یہ معبودان باطل نفع و نقصان کے مالک ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں بتادیا کہ ان کا یہ وہم ان معبودان باطل کو پیدا کئے گئے بندوں کے حکم سے خارج نہیں کرتا حسن کا قول ہے کہ جو لوگ ان بتوں کو پکارتے ہیں وہ بھی تمہاری طرح مخلوق ہیں۔ قول باری ہے الھم ارجل یمشون بھا۔ کیا یہ پائوں رکھتے ہیں کہ ان سے چلیں ؟ ) آیت میں ان لوگوں کو جھڑ دیا گیا ہے جنہوں نے ایسی بےبس اور لاچار چیزوں کو اپنے معبود بنا رکھا ہے۔ اس لئے کہ کسی شخص کو اس بارے میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ اس قسم کے بےبس معبودوں کی پرستش کرنے والے ان لوگوں کی بہ نسبت زیادہ قابل ملامت ہیں جو اعضا وجوارح رکھنے والے معبودوں کی پرستش کرتے ہیں۔ ان معبودوں کے لئے کم از کم اپنے اعضاء وجوارح سے نفع و نقصان پہنچانا ممکن تو ہے۔ ” کیا “ باطل پرست اپنے معبودوں سے افضل ہیں ؟ ایک قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پرستش کرنے والوں کے سامنے آیت میں مذکورہ باتوں کا پیمانہ پیش کر کے انہیں بتادیا کہ یہ اپنے معبودوں سے افضل ہیں اس لئے کہ ان کے اعضاء و جوارح موجود ہیں جن کے ذریعے یہ کام کاج اور دیگر تصرفات کرسکتے ہیں جبکہ ان کے بت ان تمام تصرفات سے محروم ہیں، پھر یہ کس طرح ان بتوں کی پرستش کرتے ہیں جبکہ یہ خود ان بتوں سے افضل ہیں۔ اور پھر تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ لوگ حضور ﷺ کی اتباع سے روگرداں ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی تائید میں معجزات کی صورت میں نشانیاں بھی عطا کی ہیں اور قوی دلائل بھی دیئے ہیں۔ یہ مشرکین آپ کی اتباع سے اس لئے روگرداں ہیں کہ ان کے خیال میں آپ ان کی طرح ایک انسان ہیں۔ حضور ﷺ کے بارے میں تو انہیں خیال آگیا لیکن بتوں کی پرستش کے وقت انہیں خیال نہیں آیا کہ جن پتھروں کو یہ پوجتے ہیں ان میں نہ کوئی قدرت ہے اور نہ ہی وہ کسی تصرف پر قادر ہیں بلکہ وہ خود ان معبودان باطل سے بایں معنی افضل ہیں کہ ان میں نفع و ضرر کی قدرت ہے۔ نیز ان میں زندگی بھی ہے اور علم بھی۔
Ayah 7:199

خُذِ الْعَفْوَ وَ اْمُرْ بِالْعُرْفِ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 7:199 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ عفو اختیار کرو اور نیک کام کرنے کا حکم دو اور جاہلوں سے کنارہ کرلو۔

دعوت الی اللہ کا صحیح طریق کار قول باری ہے خذالعفو وامر بالعرف۔ اے نبی ﷺ ! نرمی و درگزر کا طریقہ اختیار کرو اور معروف کی تلقین کیے جائو) ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ سے قول باری خذالعفو وامربالعرف واعرض عن الجاھلین، اے نبی ﷺ ! نرمی اور درگزر کا طریقہ اختیار کرو، معروف کی تلقین کئے ج اور اور جاہلوں سے نہ الجھو) کی تفسیر میں روایت کی ہے۔ انہوں نے فرمایا : بخدا اللہ تعالیٰ نے یہ آیت لوگوں کے اخلاق کے بارے میں نازل کی ہے “۔ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا اثقل شئی فی میزان المومن یوم القیامۃ الخلق الحسن، قیامت کے دن ایک مومن کے میزان عمل میں اس کے عمدہ اخلاق سب سے زیادہ وزن والے ہوں گے) عطا نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کی ہے کہ ایک شخص نے حضور ﷺ سے سوال کیا کہ نسا مومن سب سے افضل ہے، آپ ﷺ نے جواب دیا، ” جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں گے “۔ ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی انہیں معاذ بن المثنیٰ اور سعید بن محمد الاعرابی نے، انہیں محمد بن کثیر نے ، انہیں سفیان ثوری نے عبداللہ بن سعید بن ابی سعیدالمقبری سے، انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے اور انہوں نے حضور ﷺ سے کہ آپ ﷺ نے فرمایا انکم لاتسعون الناس باموالکم ولکن یسعھم منکم بسط الوجہ وحسن الخلق۔ تم اپنے مال و دولت کے ذریعے لوگوں سے بڑھ نہیں سکتے لیکن اپنی خندہ روئی اور حسن خلق کے ذریعے تم ان سے سبقت لے جاسکتے ہو) حسن اور مجاہد سے منقول ہے کہ حضور ﷺ نے حکم دیا تھا کہ لوگوں کے اخلاق و سیرت کے نرم گوشوں کو پذیرائی بخشی جائے۔ عفو، تسہیل اور تیسیہ یعنی آسان کرنے کو کہتے ہیں۔ آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ نرمی سے کام لیا جائے لوگوں کے اخلاق کے نرم گوشوں کو پذیرائی بخشی جائے اور ان کے ساتھ معاملات میں بال کی کھال نکالنے والا رویہ اختیار نہ کیا جائے تیز ان کا عذر قبول کرلیا جائے حضرت ابن عباس ؓ سے قول باری خذالعفو کی تفسیر میں مروی ہے کہ اس سے لوگوں کے اموال میں ان کی ضرورت سے زائد مال مراد ہے۔ یہ بات زکواۃ کی فرضیت کا حکم نازل ہونے سے پہلے تھی۔ ضحاک اور سدی سے بھی یہی قول منقول ہے۔ ایک قول ہے کہ عفو کے اصل معنی ترک کے ہیں۔ اسی سے یہ قول باری ہے فمن عفی لہ من اخیہ شئی۔ جس شخص کے لئے اس کے بھائی کی طرف سے کوئی چیز چھوڑ دی جائے) یعنی ترک کردیا جائے گناہ معاف کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ اس پر ترک عقوبت کی جائے یعنی سزا نہ دیا جائے۔ قول باری وامربالمعروف کے متعلق قتادہ اور عروہ کا قول ہے کہ عرف معروف کو کہتے ہیں۔ ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی ، انہیں ابراہیم بن عبداللہ نے انہیں سہل بن بکار نے انہیں عبدالسلام بن الخلیل نے عبیدہ الہجیمی سے، کہ ابوجری جابر بن سلیم نے کہا : میں اپنے جوان اونٹ پر سوار ہو کر مکہ چلا گیا، میں نے وہاں حضور ﷺ کو تلاش کیا۔ میں نے مسجد کے دروازے پر اپنا اونٹ بٹھا دیا۔ حضور ﷺ مسجد کے دروازے پر تھے۔ آپ کے جسم پر ایک اونی چادر تھی جس میں سرخ دھاریاں تھیں میں نے آپ ﷺ کو سلام کیا۔ آپ ﷺ نے سلام کا جواب دیا پھر میں نے عرض کیا ہم بادیہ نشین لوگ ہیں ہمارے اندر طبیعت کی سختی پائی جاتی ہے آپ مجھے ایسے کلمات سکھا دیجئے جن سے مجھے نفع ہو “۔ یہ سن کر آپ ﷺ نے مجھے تین دفعہ قریب آجانے کو کہا۔ میں آپ ﷺ کے قریب ہوگیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا :” اپنی بات دہرائو “۔ میں نے اپنی بات دہرا دی۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا :” اللہ سے ڈرتے رہو، اور کسی بھی نیکی کو حقیر نہ سمجھو، اور یہ کہ اپنے بھائی کے ساتھ خندہ پیشانی سے ملو، نیز یہ کہ اپنے ڈول کا زائد پانی اس شخص کے برتن میں ڈال دو جو پانی کا طلبگار ہو۔ اگر کوئی شخص تمہارے کردار کے کسی ایسے عیب کی تمہیں گالی دے جس کا اسے علم ہو تو تم جواب میں اس کے کردار کے کسی عیب کو گالی کے طور پر استعمال نہ کرو جس کا تمہیں علم ہو۔ اس لئے اس شخص کی اس حرکت پر اللہ تمہیں اجر دے گا اور اس پر گناہ کا بوجھ ڈال دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں تمہیں عطا کی ہیں ان میں سے کسی چیز کو برا بھلا نہ کہو اور گالی نہ دو “۔ ابوجری کہتے ہیں : اس ذات کی قسم جس نے محمد ﷺ کو اپنے پاس بلالیا۔ میں نے پھر کبھی کسی چیز کو گالی نہیں دی۔ نہ کسی بکری کو اور نہ کسی اونٹ کو “۔ معروف اس چیز کو کہتے ہیں جس کو بروئے کار لانا عقلی طور پر مستحسن ہو اور عقلاء کے نزدیک وہ ناپسندیدہ نہ ہو۔ قول باری ہے واعرض عن الجاھلین اس میں جاہلوں اور نادانوں سے ان کی جہالت اور نادانی کی بنا پر الجھنے سے منع کردیا گیا ہے اور ان سے اپنا دامن بچانے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ بات شاید قتال کے حکم کے نزول سے پہلے کی تھی اس لئے کہ اس وقت حضور ﷺ کو یہ حکم تھا کہ لوگوں تک اللہ تعالیٰ کی بات پہنچا دیں اور ان پر اتمام حجت کردیں اس کی نظیر یہ قول باری ہے فاعرض عمن تولی عن ذکرنا ولم یردالا الحیوۃ الدنیا۔ جو لوگ ہمارے ذکر سے روگردانی کرتے ہیں اور جن کے پیش نظر صرف یہی دنیاوی زندگی ہے ان سے نہ الجھو) جب قتال کا حکم نازل ہوگیا تو باطل پرستوں اور فسادیوں سے نمٹنے کا طریق کار متعین ہوگیا وہ یہ کہ کبھی تلوار کے ذریعے ان کے افعال کی تردید کی جائے کبھی کوڑے کے ذریعے اور کبھی ان کی تذلیل اور انہیں قید کرنے کے ذریعے۔
Ayahs 7:200–203

وَ اِمَّا یَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 7:200 in the Quran reader

اور اگر شیطان کی طرف سے تمہارے دل میں کسی طرح کا وسوسہ پیدا ہو تو خدا سے پناہ مانگو بیشک وہ سننے والا (اور) سب کچھ جاننے والا ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّهُمْ طٰٓئِفٌ مِّنَ الشَّیْطٰنِ تَذَكَّرُوْا فَاِذَاهُمْ مُّبْصِرُوْنَۚ Open ayah 7:201 in the Quran reader

جو لوگ پرہیزگار ہیں جب ان کو شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ پیدا ہوتا ہے تو چونک پڑتے ہیں اور (دل کی آنکھیں کھول کر) دیکھنے لگتے ہیں۔

وَ اِخْوَانُهُمْ یَمُدُّوْنَهُمْ فِی الْغَیِّ ثُمَّ لَا یُقْصِرُوْنَ Open ayah 7:202 in the Quran reader

اور ان (کفار) کے بھائی انہیں گمراہی میں کھینچے جاتے ہیں (پھر اس میں کسی طرح کی) کوتاہی نہیں کرتے۔

وَ اِذَا لَمْ تَاْتِهِمْ بِاٰیَةٍ قَالُوْا لَوْ لَا اجْتَبَیْتَهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَاۤ اَتَّبِعُ مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ مِنْ رَّبِّیْ١ۚ هٰذَا بَصَآئِرُ مِنْ رَّبِّكُمْ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:203 in the Quran reader

اور جب تم ان کے پاس (کچھ دنوں تک) کوئی آیت نہیں لاتے تو کہتے ہیں کہ تم نے (اپنی طرف سے) کیوں نہیں بنا لی ؟ کہہ دو کہ میں تو اسی حکم کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پروردگار کی طرف سے میرے پاس آتا ہے۔ یہ (قرآن) تمہارے پروردگار کی جانب سے دانش و بصیرت اور مومنوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے۔

نزغ شیطان کی حقیقت قول باری ہے واما ینزغنک من الشیطان نزغ فاستعذباللہ انہ سمیع علیم۔ اور اگر کبھی شیطان تمہیں اکسائے تو اللہ کی پناہ مانگو وہ سننے اور جاننے والا ہے) نزع شیطان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ دل میں وسوسہ پیدا کر کے راہ راست سے بھٹکانے کی صورت میں ظہور پذیر ہوتا ہے۔ یہ زیادہ تر اس وقت ہوتا ہے جب انسان پر غصے اور غضب کا غلبہ ہوتا ہے۔ ایک قول ہے کہ اس لفظ کے اصل معنی برائی کی طرف اکسانے کے ہیں ۔ شر اور برائی کی طرف دعوت دینے والی خصلت کو کہا جاتا ہے کہ یہ نزغہ شیطانی ہے جب اللہ کے علم میں یہ بات تھی کہ شیطان ہمیں برائی پر اکسائے گا تو اس نے ہمیں اس کے مکروہ فریب اور اس کے شر سے نجات حاصل کرنے کا طریقہ سکھلا دیا۔ وہ طریقہ یہ ہے کہ اللہ کی طرف توجہ کرو اور شیطانی وسوسے اور اس کے مکروہ فریب سے اللہ کی پناہ میں آجائو۔ آیت زیر بحث کی بعد والی آیت میں واضح کردیا کہ جب بندہ اللہ کی طرف توجہ کرتا ہے اور شیطانی وسوسے سے اس کی پناہ طلب کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی نگہبانی کرتا نیز اس کی بصیرت کو مضبوط کردیتا ہے چناچہ ارشاد ہوا ان الذین اتقوا اذا مسھم طائف من الشیطان تذکروا فاذاھم مبصرون۔ حقیقت میں یہ جو لوگ متقی ہیں ان کا حال تو یہ ہوتا ہے کہ کبھی شیطان کے اثر سے کوئی برا خیال انہیں چھو بھی جاتا ہے تو وہ فوراً چوکنے ہوجاتے ہیں اور پھر انہیں صاف نظر آنے لگتا ہے کہ ان کے لئے صحیح طریق کار کیا ہے) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے طیف برے خیال کو کہتے ہیں۔ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ یہ وسوسہ ہے۔ دونوں معنی متقارب ہیں۔ یہ آیت اس بات کی مقتضی ہے کہ جب ایک انسان شیطان کے شر سے اللہ کی پناہ طلب کرتا ہے تو اللہ اسے پناہ دیتا ہے اور اس کے وسوسے کو اپنے دل سے دور کرنے کے لئے اس کی بصیرت کو اور مضبوط کردیتا ہے جس کے نتیجے میں وہ اس فعل سے دور ہوجاتا ہے جس کی شیطان دعوت دیتا ہے۔ نیز وہ شیطان کو اس کی قبیح ترین شکل اور ذلیل ترین مقام میں دیکھ لیتا ہے اس لئے کہ اسے معلوم ہوجاتا ہے کہ اگر وہ اس کی موافقت کرے گا تو اس کا انجام برا ہوگا۔ یہ سوچ کر اس کی خواہشات نفسانی کا اس پر دبائو کم ہوجاتا ہے۔ قول باری ہے اخوانھم یمدونھم ففی فی الخی ثم لایقصرون۔ رہے ان کے یعنی شیاطین کے بھائی بند تو وہ انہیں ان کی کج روی میں کھینچے لئے جاتے ہیں اور انہیں بھٹکانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے) حسن قتادہ اور سدی کے قول کے مطابق مفہوم یہ ہے کہ گمراہی میں شیاطین کے بھائی بندوں کی شیطان مدد کرتا رہتا ہے۔ دوسرے حضرات کا قول ہے شیطان کے مشرک بھائی بند مراد ہیں۔ انہیں بھائی بندوں کے نام سے موسوم کیا گیا ہے اس لئے کہ ان سب کا گمراہی پر اجتماع ہوجاتا ہے جس طرح حقیقی بھائیوں کے نسب پر اجتماع کی بنا پر ان کی آپس میں ایک دوسرے سے محبت ہوتی ہے اور ایک دوسرے کی طرف میلان ہوتا ہے۔ جس طرح اہل ایمان کو اس قول باری انما المومنون اخوۃ۔ تمام اہل ایمان آپس میں بھائی بھائی ہیں ) میں ایک دوسرے کے بھائی قرار دیا گیا ہے اس لئے کہ دین کی بنیاد پر یہ ایک دوسرے سے ہمدردی اور محبت کرتے ہیں نیز اسی بنیاد پر ان کا آپس میں ایک دوسرے سے لگائو ہوتا ہے جو شخص شیطان کے وسوسے اور اس کے پیداکردہ برے خیال سے اپنی اس بصرت یعنی دروں بینی اور معرفت کی بنا پر اللہ کی پناہ حاصل کرلیتا ہے کہ شیطان جس کام کی طرف بلاتا ہے وہ انتہائی قبیح ہوتا ہے اس سے دور رہنے میں بہتری ہوتی ہے اور اللہ کی طرف رجوع کر کے نیز اس کی ذات کا تصور کر کے خواہشات نفسانی کے دبائو سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے درج بالا آیات میں ایسے لوگوں کے طرز عمل اور ان کے طریق کار سے سب کو آگاہ کیا ہے۔ پناہ کی صورتیں استعادہ یعنی اللہ کی پناہ حاصل کرنا اعوذباللہ من الشیطن الرجیم۔ پڑھنے کے ذریعہ بھی ہوسکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں نیز اس کے اوامر نواہی میں غور و فکر کے ذریعے بھی اسی طرح انجام کا رجنت کی صورت میں ملنے والی دائمی نعمت و راحت کے متعلق تصور کے واسطے سے بھی۔ اس طریق کار سے انسان پر اس کی نفسانی خواہشات، دل میں ابھرنے والے گمراہ کن خیالات اور شیطان کے پیداکردہ برے تصورات کا دبائو کم ہوجاتا ہے اور وہ اس بھنور سے باہر نکل آتا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا حال بیان کیا جو اللہ کی یاد سے روگرانی کرتے اور اس کی پناہ میں آنے سے پہلو بچاتے ہیں چناچہ فرمایا واخوانھم یمدونھم فی الغی ثم لا یقصرون) ایسے لوگ جس قدر اللہ کی یاد سے دور ہوتے چلے جائیں گے اسی قدر وہ شیطانی وساوس اور گمراہی کے پھندے میں پھنستے جائیں گے۔ وہ اس دلدل سے نکلنے کی کوئی کوشش نہیں کریں گے۔ اس کی نظیر یہ قول باری ہے ومن اعرض عن ذکری فان لہ معیشۃ ضنگا۔ اور جو شخص میری نصیحت سے روگردانی کرے اس کے لئے تنگی کا جینا ہوگا نیز فرمایا ومن یردان یضلہ یجعل صدرہ ضیقاً حرجاً کانما یصعدالی السماء۔ اور وہ جسے گمراہ رکھنے کا ارادہ کرلیتا ہے اس کے سینے کو وہ تنگ اور بہت تنگ کردیتا ہے جیسے اسے آسمان میں چڑھنا پڑ رہا ہو) ۔ وباللہ التوفیق۔