دو مختلف مذاہب والے آپس میں دوست نہیں ہوسکتے۔
اوپر مومنوں کے کارنامے اور رفاقت و ولایت کا ذکر ہوا اب یہاں کافروں کی نسبت بھی بیان فرما کر کافروں اور مومنوں میں سے دوستانہ کاٹ دیا۔ مستدرک حاکم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں وہ مختلف مذہب والے آپس میں ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوسکتے نہ مسلمان کافر کا وارث اور نہ کافر مسلمان کا وارث پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ بخاری و مسلم میں بھی ہے مسلمان کافر کا اور کافر مسلمان کا وارث نہیں بن سکتا۔ سنن وغیرہ میں ہے دو مختلف مذہب والے آپس میں ایک دوسرے کے وارث نہیں۔ اسے امام ترمذی ؒ حسن کہتے ہیں۔ ابن جریر میں ہے کہ ایک نئے مسلمان سے آپ نے عہد لیا کہ نماز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–75
سورة الْاَنْفَال 52
اس فقرے کا تعلق اگر قریب ترین فقرے مانا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ جس طرح کفار ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں اگر تم اہل ایمان اسی طرح آپس میں ایک دوسرے کی حمایت نہ کرو تو زمین میں فتنہ اور فساد عظیم برپا ہوگا۔ اور اگر اس کا تعلق ان تمام ہدایات سے مانا جائے جو آیت 72 سے یہاں تک دی گئی ہیں تو اس ارشاد کا مطلب یہ ہوگا کہ اگر دارالاسلام کے مسلمان ایک دوسرے کے ولی نہ بنیں، اور اگر ہجرت کر کے دارالاسلام میں نہ آنے والے اور دارالکفر میں مقیم رہنے والے مسلمانوں کو اہل دارالاسلام اپنی سیاسی ولایت سے خارج نہ سمجھیں، اور اگر باہر کے مظلوم مسلمانوں کے مدد مانگنے پر ان کی مدد نہ کی جائے،…
Read the full tafseer →دوسری آیت میں ارشاد فرمایا (آیت) وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا بَعْضُهُمْ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ۔ یعنی کافر لوگ آپس میں ایک دوسرے کے ولی ہیں۔ لفظ ولی جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے ایک عام مفہوم رکھتا ہے جس میں وراثت بھی داخل ہے اور معاملات کی ولایت و سرپرستی بھی۔ اس لئے اس آیت سے معلوم ہوا کہ کافر لوگ آپس میں ایک دوسرے کے وارث سمجھے جائیں گے اور تقسیم وراثت کا جو قانون ان کے اپنے مذہب میں رائج ہے ان کی وراثت کے معاملہ میں اسی قانون کو نافذ کیا جائے گا۔ نیز ان کے یتیم بچوں کا ولی لڑکیوں کے نکاح کا ولی بھی انھیں میں سے ہوگا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ عائلی مسائل میں غیر مسلموں کا اپنا مذہبی قانون اسلامی حکومت میں…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا بَعْضُهُمْ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ ۭاِلَّا تَفْعَلُوْهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الْاَرْضِ وَفَسَادٌ كَبِيْرٌ۔
دین میں دارالکفر کے مسلمانوں کی امداد کی وجہ : یہ وجہ بیان ہوئی ہے اس بات کی کہ خاص دین کے باب میں دارالکفر کے مسلمانوں کی مدد کرنا کیوں ضروری ہے ؟ فرمایا کہ جہاں تک اسلام اور مسلمانوں کی عداوت کا تعلق ہے اس معاملے میں تمام کفار ایک دوسرے کے دست و بااو بن گئے ہیں۔ جو اللہ کا بندہ اسلام قبول کرلیتا ہے اس کی تعذیب و ایذا رسانی سب کے نزدیک کار ثواب ہے۔ یہاں تک کہ ظالموں کے ظلم سے اس کو بچانے کے لیے اس کے اپنے بھائی بندوں کی حمیت بھی مردہ ہوچکی ہے۔ اس کا مال اور اس کی جان…
Read the full tafseer →73۔ 1 یعنی جس طرح کافر ایک دوسرے کے دوست اور حمایتی ہیں اس طرح اگر تم نے بھی ایمان کی بنیاد پر ایک دوسرے کی حمایت اور کافروں سے عدم موالات نہ کی، تو پھر بڑا فتنہ اور فساد ہوگا اور یہ کہ مومن اور کافر کے باہمی اختلاط اور محبت وموالات سے دین کے معاملے میں اشتباہ اور مداہنت پیدا ہوگی۔ بعض نے (بعضھم اولیآء بعض) سے وارث ہونا مراد لیا ہے یعنی کافر ایک دوسرے کے وارث ہیں اور مطلب یہ ہے کہ ایک مسلمان کسی کافر کا اور کافر کسی مسلمان کا وارث نہیں ہے جیسا کہ احادیث میں اسے وضاحت سے بیان کردیا گیا ہے اگر تم وراثت میں کفر و ایمان کو نظر انداز کرکے محض قرابت کو سامنے رکھو گے تو اس سے بڑافتنہ اور فساد پیدا…
Read the full tafseer →53: اس جملے کا تعلق ا ُ ن تمام احکام سے ہے جو ان آیات میں بیان فرمائے گئے ہیں جن میں میراث کے مذکورہ بالااحکام بھی داخل ہیں، اور غیر مہاجر مسلمانوں کی مدد کے احکام بھی، تنبیہ یہ کی جارہی ہے کہ ان احکام کی خلاف ورزی سے زمین میں فتنہ اور فساد پھیلے گا، مثلاً اگر وہ مسلمان جو کفار کے ہاتھوں ظلم وستم برداشت کررہے ہیں، ان کی مددنہ کی جائے تو فساد پھیلے گا، اور اگر ان کی مدد کی وجہ سے غیر مسلموں کے ساتھ بد عہدی کی جائے تب بھی وہ تمام مصلحتیں پامال ہوں گی جن کی خاطر وہ معاہدہ کیا گیا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
تفسیر آیات 72 تا 75:۔
اب یہ درس ختم ہوتا ہے اور اس کے ساتھ یہ سورت بھی ختم ہوجاتی ہے۔ اس میں اسلامی معاشرے کے اندرونی حالات و تعلقات اور اسلامی معاشرے اور دوسرے معاشروں کے مابین تعلقات کو منضبط کیا گیا ہے۔ اور اس بارے میں منظم بین الاقوامی قانون کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ ان احکام و ضوابط پر غور کرنے سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اسلامی معاشرے اور اسلامی نظام کا مزاج کیا ہے۔ وہ کیا بنیاد ہے جس کے اوپر اس کی عمارت اٹھتی ہے اور وہ کیا انتہا ہے جس تک یہ نظام بڑھتا ہے۔ اس نظام کی بنیاد خونی رشتوں پر نہیں ہے۔ زمین اور علاقائی رشتوں پر بھی نہیں ہے۔ رنگ و سنل کے رشتوں پر بھی نہیں ہے۔ تاریخی مشترکہ ورثے کے تعلقات…
Read the full tafseer →2 یعنی کافر و مسلم میں نہ حقیقی رفاقت ہے نہ ایک دوسرے کا وارث بن سکتا ہے۔ ہاں کافر، کافر کا رفیق و وارث ہے بلکہ سب کفار تم سے دشمنی کرنے کو آپس میں ایک ہیں، جہاں پائیں گے ضعیف مسلمانوں کو ستائیں گے اس کے بالمقابل اگر مسلمان ایک دوسرے کے رفیق اور مددگار نہ ہوں گے یا کمزور مسلمان اپنے کو آزاد مسلمانوں کی معیت ورفاقت میں لانے کی کوشش نہ کریں گے تو سخت خرابی اور فتنہ بپا ہوجائے گا۔ یعنی ضعیف مسلمان مامون نہ رہ سکیں گے ان کا ایمان تک خطرہ میں ہوگا۔
Read the full tafseer →آیت 73 وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا بَعْضُہُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ ط۔
عرب کے قبائلی معاشرے میں باہمی معاہدوں اور ولایت کا معاملہ بہت اہم ہوتا تھا۔ ایسے معاہدوں کی تمام ذمہ داریوں کو بڑی سنجیدگی سے نبھایا جاتا تھا۔ مثلاً اگر کسی شخص پر کسی قسم کا تاوان پڑجاتا تھا تو اس کے ولی اور حلیف اس کے تاوان کی رقم پوری کرنے کے لیے پوری ذمہ داری سے اپنا اپنا حصہ ڈالتے تھے۔ ولایت کی اہمیت کے پیش نظر اس کی شرائط اور حدود واضح طور پر بتادی گئیں کہ کفار باہم ایک دوسرے کے حلیف ہیں ‘ جب کہ اہل ایمان کا رشتۂ ولایت آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ ہے۔ لیکن وہ مسلمان جنہوں نے ہجرت نہیں کی ‘ ان کا اہل ایمان کے ساتھ ولایت کا کوئی…
Read the full tafseer →75 مسلمانوں کے اتحاد نہ کرنے برے نتائج :۔ یعنی کافر اور مسلم میں نہ حقیقی رفاقت ہے اور نہ وہ ایک دوسرے کے وارث ہوسکتے ہیں۔ ہاں کافر کافر کا ولی بھی ہے اور وارث بھی۔ بلکہ سارے کے سارے کافر تمہاری دشمنی میں متحد ہو کر ایک بن جاتے ہیں اور جہاں بھی مسلمانوں کو پاتے ہیں ان کے درپے آزار ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح اگر مسلمان بھی ایک دوسرے کے ولی اور مددگار نہ ہوں گے یا کمزور مسلمان اپنے آپ کو آزاد مسلمانوں کے ساتھ رہنے اور ان کا ہر طرح سے ساتھ دینے کی کوشش نہ کریں گے تو بہت بڑا فتنہ رونما ہوجائے گا۔ کمزور مسلمانوں پر ناروا ظلم و زیادتی ہوگی اور ان کا مال بلکہ ایمان بھی محفوظ نہ رہے گا اور اگر اس جملے کا…
Read the full tafseer →112 ۔ (اور تم نہ ان کے وارث، نہ وہ تمہارے وارث) دین کا رشتہ خون کے رشتہ سے کہیں بڑھ کر اور اہم تر ہے۔ ولایۃ کے معنی اس بیان میں وراثت کے نہیں، بلکہ اشتراک عداوت اسلام کے ہیں کہ یہود اور نصرانی اور مشرکین قریش گوآپس میں شدید دشمن تھے، لیکن رسول اللہ ﷺ کی عداوت میں سب ایک ہوگئے، الحق ان یقال ان کفار قریش کانوا فی غایۃ العداوۃ للیھود فلما ظھرت دعوۃ محمد ﷺ تناصروا وتعانوا علی ایذاۂ ومحاربتہ فکان المراد من الایۃ ذلک (کبیر)
113 ۔ (کیونکہ باہمی توارث سے سب ایک ہی جماعت سمجھی جائے گی اور ایک مستقل وعلیحدہ جماعت ہوئے بغیر اسلام کو قوت و شوکت حاصل نہ ہوگی) (آیت) ” الاتفعلوہ “۔ یعنی اگر اس حکم عدم توارث…
Read the full tafseer →وَالذین کفروا بعضھم اولیاء بعض، یہاں ولایت کے معنی اشتراک عداوت کے ہیں کہ یہود و نصاریٰ اور مشرکین قریش آپس میں شدید دشمن تھے لیکن رسول اللہ ﷺ کی عداوت میں سب ایک ہوگئے تھے اور یہ صورت حال آج تک چلی آرہی ہے غیر قومیں کیسی ہی ایک دوسرے کی دشمن ہوں لیکن اسلام کے مقابلہ میں سب ایک ہوجاتی ہیں۔ (ماجدی)
لفظ ولی چونکہ ایک عام مفہوم رکھتا ہے جس میں وراثت بھی داخل ہے اور معاملات کی ولایت و سرپرستی بھی اسلئے اس آیت سے معلوم ہوا کہ کافر آپس میں ایک دوسرے کے وارث سمجھے جائیں گے اور تقسیم وراثت کا جو قانون ان کے مذہب میں رائج ہے ان کے درمیان اسی کو نافذ کیا جائیگا، نیز ان کے یتیم بچوں کا ولی، لڑکیوں کے…
Read the full tafseer →والذین کفروا بعضھم اولیاء بعض اور وہ جو کافر ہیں ‘ وہ باہم ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ کافروں سے دوستی کرنی اور (مسلمانوں کے خلاف) ان کی مدد کرنی مؤمنوں کیلئے جائز نہیں۔ حضرت اسامہ بن زید کی روایت سے بخاری و مسلم نے صحیحین میں اور اصحاب السنن نے اپنی اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : نہ مسلمان ‘ کافر کا وارث ہوتا ہے اور نہ کافر ‘ مسلم کا۔ سورة النساء میں آیت میراث کی تفسیر میں ہم نے اس کی توضیح کردی ہے۔
مسئلہ : مبسوط میں ذکر کیا گیا ہے کہ اگر کچھ حربی کافر دارالحرب میں کسی کافر بستی پر حملہ کردیں اور اس بستی کے باشندوں کو لوٹیں اور وہاں کافر بھی رہتے ہوں اور مستامن…
Read the full tafseer →(73) اور کافر ایک دوسرے کے وراث ہیں، رشتہ داروں میں اگر اس طریقہ کے ساتھ میراث نہیں تقسیم کرو گے تو دنیا میں شرک و ارتداد قتل و خونریزی اور نافرمانی پھیلتی رہے گی۔
شان نزول : (آیت) ”والذین کفروا بعضھم (الخ)
ابن جریر ؒ اور ابوالشیخ نے سدی ؒ اور ابومالک ؒ کے ذریعہ سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے کہا کہ ہم اپنے مشرک رشتہ داروں کے وارث ہوسکتے ہیں ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا بَعْضُهُمْ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ : یعنی کافر آپس میں خواہ جتنی بھی دشمنی رکھتے ہوں تمہارے خلاف سب کے سب ایک دوسرے کے مدد گار اور حمایتی ہیں۔ کافر، کافر ہی کا دوست ہے، مسلمان کا نہیں، اس لیے مسلمان اور کافر کا آپس میں موالات (دوستی، حمایت اور مدد) کا رشتہ کسی صورت نہیں ہوسکتا۔
اِلَّا تَفْعَلُوْهُ : یعنی اگر تم آپس میں محبت، حمایت اور نصرت نہیں کرو گے اور کفار سے ترک موالات نہیں کرو گے، یعنی ان کے ساتھ باہمی محبت، تعاون اور ایک دوسرے کا وارث بننا نہیں چھوڑو گے اور قطع تعلق نہیں کرو گے تو زمین میں بڑا فتنہ اور بہت بڑا فساد ہوگا۔ اسامہ بن زید ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–75
مسئلہ نمبر 1 ۔ قولہ تعالیٰ ان الذین امنوسورت کا اختتام موالاۃ کے ذکر ساتھ کیا تاکہ ہر فریق اپنے اس دوست اور ولی کو جان لے جس وہ مدد طلب کرسکتا ہے۔ ہجرت اور جہاد کا لغوی اور اصطلاحی معنی و مفہوم پہلے گزر چکا ہے۔ والذین او واونصروایہ اس پر معطوف ہے۔ اور مراد وہ انصار ہیں جو ان سے پہلے ایمان کے ساتھ اپنے گھروں میں اقامت گزیں تھے اور حضور نبی کریم ﷺ اور مہاجرین ان سے آملے۔ اولئک یہ مبتدا ہونے کے سبب محل رفع میں ہے۔ بعضھم یہ دوسرا مبتدا ہے۔ اولیاء بعض یہ اس کی خبر ہے اور پھر سب مل کر ان کی خبر ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اولیاء بعض، فی المیراث (یعنی وہ میراث میں ایک دو سے کے ولی ہیں) پس وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابو الشیخ نے ابو مالک کے راستے سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مسلمان میں سے ایک آدمی نے کہا ہم ضرور اپنے مشرک رشتہ داروں کو وارث بنائیں گے تو آیت نازل ہوئی (آیت) ” والذین کفروا بعضہم اولیاء بعض۔ الا تفعلوہ تکن فتنۃ فی الارض و فساد “
2:۔ ابن جریرنے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (یہ آیت) ” والذین کفروا بعضہم اولیاء بعض۔ اہل عرب کے مشرکین کو وارث بنانے کے بارے میں نازل ہوئی۔
3:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” والذین کفروا بعضہم اولیاء بعض۔ یعنی کافر میراث میں ایک دوسرے کے جماعتیں ہیں (آیت) ” الا تفعلوہ “ یعنی تم (کافروں کی) میراث میں…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ [ اور وہ لوگ جنھوں نے ] كَفَرُوْا [ کفر کیا ] بَعْضُهُمْ [ ان کے بعض ] اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ ۭ [ بعض کے کارساز ہیں ] اِلَّا تَفْعَلُوْهُ [ اگر تم لوگ نہیں کرو گے اس کو ] تَكُنْ [ تو ہوجائے گا (یعنی پھیل جائے گا ) ] فِتْنَةٌ [ تشدد ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] وَفَسَادٌ كَبِيْرٌ [ اور ایک بڑا عدم توازن ]
ترکیب : (آیت ۔ 73) الا استثناء کا نہیں ہے بلکہ ان شرطیہ اور لا نافیہ کو ملا کر لکھا گیا ہے ۔ تفعلوہ میں ضمیر مفعولی آیت نمبر ۔ 72 کے حکم کے لیے ہے جس میں معاہدہ کی پابندی کی شرط کے ساتھ غیر ملکی مسلمانوں کی مدد کا حکم ہے۔ تکن جواب شرط ہونے کی وجہ سے مجزوم ہوا ہے ۔
Read the full tafseer →اس کے بعد فرمایا (وَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بَعْضُھُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ ) (کہ جو لوگ کافر ہیں وہ آپس میں ایک دوسرے کے ولی ہیں۔ ) وہ ایک دوسرے کی مدد بھی کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے وارث بھی ہوتے ہیں۔ کافروں کے درمیان آپس میں میراث جاری ہوگی کوئی مومن کسی کافر کا اور کوئی کافر کسی مومن کا وارث نہیں ہوسکتا۔ پہلا حکم یعنی یہ کہ مہاجر غیر مہاجر کا وارث نہ ہو منسوخ کردیا گیا اور ہجرت کے بجائے رشتہ داری کے اصول پر میراث کے احکام نازل ہوگئے لیکن یہ دوسرا حکم کہ مومن اور کافر کے درمیان توارث نہیں، دائمی ہے اور قیامت تک کے لیے یہی قانون ہے ہاں کافر آپس میں ایک دوسرے کے وارث ہوں گے۔ اگر وہ لوگ مسلمانوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–75
مراتب اہل اسلام و فضائل مہاجرین عظام و انصار کرام وبیان احکام باعتبار ہجرت واسلام
قال اللہ تعالیٰ ان الذین امنوا وھاجروا۔۔۔ الی۔۔۔ ان اللہ بکل شیئ علیم
(ربط) گزشتہ رکوعات میں جہاد اور صلح کے احکام بیان کیے اور گزشتہ آیات میں قیدیوں کو تسلی دی اب ان آیات میں مہاجرین اور انصار کے فضائل اور مسلمانوں کے باعتبار ہجرت وعدم ہجرت مراتب اور احکام بیان کرتے ہیں حکم شرعی یہ ہے کہ اگر کافروں سے مقابلہ اور مقاتلہ کی قدرت ہو تو جہاد فرض ہے اور اور اگر عاجز ہو تو ہجرت فرض ہے۔ گزشتہ رکوعات میں جہاد کے احکام مذکور تھے اب جہاد کے بعد ان آیات میں ہجرت کے کچھ احکام ذکر کرتے ہیں کیونکہ ہجرت اور جہاد دونوں توام…
Read the full tafseer →ف 73: جس طرح مہاجرین وا نصار باہم ایک دوسرے کے رفیق اور معاون ہیں۔ اسی طرح کفار بھی باہم ایک دوسرے کے رفیق و معاون اور باہم دیگر وارث ہیں۔ “ اِلَّا تَفْعَلُوْہُ ” ضمیر منصوب سے امور مذکورہ مراد ہیں۔ یعنی کافر، کافر کا رفیق ہوگا۔ مسلمان کا رفیق نہیں بن سکتا۔ مسلمان آپس میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔ اس لیے دار الحرب کے مسلمانوں کو ہجرت کر کے دار الاسلام کے مسلمانوں سے جا ملنا چاہئے۔ اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو اس کا نتیجہ شرک کی ترقی اور فساد عظیم کی شکل میں رونما ہوگا۔ کیونکہ دارالحرب میں رہ کر کمزور مسلمان اپنا ایمان محفوظ نہیں رکھ سکیں گے اور نہ ان کا مال وجان خطرے سے بالا ہوگا نہ ان کی عزت و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–73
جنگی قیدیوں کا مسئلہ :
مالِ غنیمت اور غزوہ بدر کے جنگی قیدیوں کا حال گذشتہ درس میں بھی بیان ہوچکا ہے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ ہر قیدی کا فدیہ چار سو دینار مقرر ہوا۔ قیدیوں کے رشتہ داروں نے انہیں چھڑانے کی کوشش کی جس قیدی کا فدیہ وصول ہوجاتا اسے چھوڑ دیا جاتا بعض قیدیوں کے رشتہ دار فدیہ دینے کی پوزیشن میں نہیں تھے ان میں سے جو پڑھے لکھے تھے ان کو کہا گیا کہ وہ اتنے اتنے آدمیوں کو پڑھنا لکھنا سکھا دیں تو یہی ان کا فدیہ ہوگا۔ چناچہ بعض قیدی اس شرط پر بھی رہا کیے گے تا ہم قیدیوں کی اکثریت نے فدیہ ادا کر کے رہائی حاصل کی۔ حضور ﷺ کے چچا عباس ؓ بھی جنگی قیدیوں میں شامل تھے۔ اگرچہ وہ دل سے مسلمانوں…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا بَعْضُہُمْ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ 0 ۭ اِلَّا تَفْعَلُوْہُ تَكُنْ فِتْنَۃٌ فِي الْاَرْضِ وَفَسَادٌ كَبِيْرٌ 73 ۭ
كفر
الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض،
وأعظم الكُفْرِ
: جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99]
( کر ) الکفر
اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–75
ترکیب : الذین مع صلہ اسم ان والذین اس پر معطوف اولئک مبتداء بعضہم خبر جملہ خبر ان والذین مبتداء مالکم الخ خبر۔ ان استنصروکم شرط فعلیکم جواب الا ای ان لا تفعلوہ الضمیر یعود الی النصر وقیل الی الولاء شرط تکن جواب فتنۃ و فساد کبیر اسم ہیں کان کے والذین مبتداء اولئک الخ جملہ خبر حقا کی ترکیب بیان ہوچکی۔ والذین مبتداء متضمن بمعنی شرط فاولئک جواب یا خبر۔
تفسیر : جبکہ بدر کے قیدیوں کو بشرط اطاعت عوض دینے کا وعدہ کیا اور ان کو دلاسہ دیا تو ان آیات میں انصار و مہاجرین کو اجر آخرت کا دلاسہ دیتا ہے یا یوں کہو کہ جب ان قیدیوں کو عہد لے کر چھوڑا اور ان میں سے بہت نے بدر کے موقع پر آسمانی مدد اور اسلام کا…
Read the full tafseer →وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا بَعْضُھُمْ اَوْلِیَآئُ بَعْضٍط اِلَّا تَفْعَلُوْہُ تَکُنْ فِتْنَۃٌ فِی الْاَرْضِ وَفَسَادٌ کَبِیْرٌ۔ ط ( الانفال : 73)
(اور جن لوگوں نے کفر کیا وہ آپس میں ایک دوسرے کے ولی ہیں۔ اگر تم یہ نہ کروگے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد مچے گا۔ )
مسلمانوں کی مندرجہ بالا بنیادوں پر تشکیل کیوں ضروری ہے ؟
سابقہ آیت کریمہ میں امت مسلمہ کی اجتماعی زندگی کی ان اساسات کو بیان کیا گیا ہے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں اس کا سبب اور حکمت بیان کی گئی ہے کہ اگر مسلمان ایمان، ہجرت، نصرت اور جہاد کو اپنی اجتماعی زندگی کی بنیاد نہیں بناتے اور اس طرح سے وہ ایک مضبوط سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی صورت اختیار…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : مسلمانوں کو ایک دوسرے کا دوست اور وارث قرار دینے کے بعد کفار کے بارے میں فیصلے کا اعلان۔
اس سے پہلے مسلمانوں کی آپس میں اخوت اور باہمی وارث ہونے کے بارے میں ارشاد تھا۔ اب کفار کے بارے میں فیصلہ سنایا جاتا ہے کہ کافر ایک دوسرے کے خیر خواہ، دوست اور وارث ہیں۔ اسی بنیاد پر پوری دنیا کے کفار کو ایک ملت قرار دیا گیا ہے۔ یہی وہ بنیاد ہے جس کی بنا پر دو قومی نظریہ کی اصطلاح معرض وجود میں آئی اور اسی سے ثابت ہوتا ہے کہ بنیادی طور پر کسی قوم کا تشخص علاقائی ٗلسانی اور جغرافیائی بنیاد پر نہیں ہوتا بلکہ حقیقی تشخص نظریہ کی بنیاد پر ہوتا ہے اور ہونا چاہیے۔ اس لیے اسلام نے کفار اور…
Read the full tafseer →کفار میں باہمی موالات :
آیت 73: وَالَّذیْنَ کَفَرُوْا بَعْضُھُمْْ اَوْلِیَآ ئُ بَعْضٍ (اور جو لوگ کافر ہیں وہ باہم ایک دوسرے کے وارث ہیں) اس آیت کا ظاہر ان میں موالات کو ثابت کر رہا ہے۔ مطلب و مقصد یہ ہے کہ مسلمان موالات کفار سے باز رہیں۔ اور ان سے دور رہنا ضروری ہے۔ اور قطع تعلقی لازم ہے۔ اگرچہ وہ اقارب ہی ہوں۔ اور ایک دوسرے کا وارث بننا ترک کردیں۔ پھر فرمایا اِلَّا تَفْعَلُوْہُ (اور اگر تم اس پر عمل نہ کرو گے) اگر تم نے وہ نہ کیا جو میں نے حکم دیا ہے کہ مسلمان سے مواصلت کرو اور وہی تمہارے وارثو متولی ہیں۔ اسلام کی نسبت قرابت نسبی سے بڑھ کر ہے۔ تم قرابت کفار کو دو قرابتیں مت بنائو۔
تَکُنْ…
Read the full tafseer →73 ” والذین کفروا بعضھم اولیآء بعض “ مدد اور نصرت میں اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ میراث میں ولی ہے۔ یعنی مشرکین آپس میں ایک دوسرے کے وارث ہوں گے ” الا تفعلوہ تکن فتنۃ فی الارض “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اگر تم میراث میں وہ نہ لو جس کا میں نے تمہیں حکم دیا ہے اور ابن جریج (رح) فرماتے ہیں کہ اگر تم باہمی مدد و نصرت نہ کرو۔ ابن اسحاق (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مہاجرین و انصار کو دین میں ولی بنایا ہے اور کافروں کو آپ س میں ایک دوسرے کا ولی بنایا ہے۔ پھر فرمایا ” الا تفعلوہ “ وہ یہ کہ مئومن مئومن کو چھوڑ کر کافی کو ولی بنائے تو ” تکن فتنۃ فی الارض و فساد کبیر “ پس زمین میں فتنہ کفر کی طاقت…
Read the full tafseer →73۔ اللہ پاک مسلمانوں کے درمیان میں باہیمی میل جول کرنے کا ذکر فرما کر کفار کے ساتھ قطع تعلق کرنے کا حکم فرماتا ہے اس لئے یہ ارشاد کیا کہ کفار آپس میں ایک دوسرے کے وارث ہیں اور سب کے سب ایک ہیں اگر تم بھی آپس میں اتفاق نہ پیدا کرو گے اور ایک نہ بن جاؤ گے اور کفار سے تعلق نہ قطع کرو گے تو بڑا فتنہ فساد دنیا میں پھیل جاویگا تم میں کمزوری آجاوے گی ایک سے ایک جدا ہوجاؤ گے اور کفار کا زور بڑھ جاوے گا حاکم نے اسامہ بن زید ؓ سے ایک حدیث روایت کی ہے کہ دو ملت کے لوگ ایک دوسرے کے وارث نہیں بن سکتے نہ مسلمان کافر نہ کافر مسلمان کا اسی مضمون کی حدیث اسامہ بن زید ؓ سے صحیح بخاری ومسلم میں بھی ہے یہ حدیث…
Read the full tafseer →آیت 73
جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کے درمیان موالات کا رشتہ قائم کردیا تو اس نے آگاہ فرمایا کہ چونکہ کفار کو ان کے کفر نے اکٹھا کردیا ہے اس لئے وہ ایک دوسرے کے دوست اور مددگار ہیں اور ان جیسے کفار کے سوا ان کا کوئی ولی اور دوست نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (الا تفعلوہ) ” تو (مومنو) اگر تم (بھی) یہ (کام) نہ کرو گے “ یعنی اگر تم مومنوں کے ساتھ موالات اور کفار کے ساتھ عداوت کے اصول پر عمل نہیں کرو گے، یعنی تم اہل ایمان کی حمایت اور کفار سے دشمنی نہیں کرو گے، یا تم کفار کی حمایت کرو گے اور اہل ایمان سے دشمنی رکھو گے (تکن فتنۃ فی الارض و فساد کبیر) ” تو ملکوں میں فتنہ برپا ہوجائے گا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
کافر کیسے ایک دوسرے کے دوست ہیں ؟
قول باری ہے (والذین کفروا بعضھم اولیاء بعض۔ جو لوگ منجر حق ہیں وہ ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں ض حضرت ابن عباس ؓ اور سدی کا قول ہے کہ اہل کفر میراث میں ایک دوسرے کے ولی ہیں۔ قتادہ کا قول ہے کہ نصرت اور معاونت میں ایک دوسرے کے ولی ہیں۔ ابن اسحاق کا بھی یہی قول ہے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ جب قول باری (ان الذین امنوا و ھاجرو و جاھدو) تا قول باری (اولئک بعضھم اولیاء بعض) ہجرت کی بنا پر توارث کا موجب ہے اور قول باری (والذین آمنوا ولم بھاجروا مالکم من ولایتھم من شیء حتی یھاجرو) میرا ث کی نفی کرتا ہے تو پھر یہ لازم ہوگیا کہ قول باری (والذین کفروا بعضھم اولیاء بعض )…
Read the full tafseer →152 اللہ کے حکموں کی پابندی کی تاکید : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تم نے اگر ایسے نہ کیا تو اس کا نتیجہ بہت برا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کے حکم و ارشاد سے سرتابی باعث شر و فساد ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ پس تم سب پر لازم ہے کہ تم پابندی کرو ہر اس حکم وارشاد کی جس کا حکم تمہیں دیا گیا ہے۔ سو اہل ایمان سے دوستی وتعلق داری اور اہل کفر سے قطع تعلق و بیزاری کا جو حکم تمہیں دیا گیا ہے، سو جب تک تم سب ایمان کی بنیاد پر باہم مل کر ایک قوت نہیں بنوگے تو کفر تمہارے سر ہوجائے گا اور عقائد و اعمال میں بڑا فساد واقع ہوجائے گا اور خرابی پھیل جائے گی۔ کہ کفر و باطل کا غلبہ و تسلط جڑ بنیاد ہے تمام فتنوں اور فسادات کی ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–75
مہاجرین وانصار کے فضائل
تشریح : یوں تو پورا قرآن پاک ہی ہدایات کا مجموعہ ہے یہ آیات اس لیے بےحد اہم اور غور کے قابل ہیں کیونکہ ان میں مسلمانوں کو ایک اہم دفعہ دستوری قانون کی بتائی جا رہی ہے۔ سب سے پہلے تو انصار، یعنی مدینہ کے مقامی لوگ اور مہاجر، یعنی مکہ سے آنے والے یا کہیں سے بھی آنے والے مسلمان ان لوگوں کو بھائی بھائی بنانے کا حکم دیا گیا ان کی تعریف کی گئی اور ان کے ایمان کی گواہی دی گئی۔ کیونکہ جو لوگ اسلام کی خاطر اپنے عزیز و اقارب، مال و دولت اور گھربار چھوڑ کر وطن سے نکل آئے وہ بھی تعریف کے قابل ہیں اللہ کے ہاں مقبول ہیں اور وہ بھی قابل تعریف ہیں جنہوں نے خوش دلی سے ان کو اپنے پاس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–75
آیات 70 تا 75
اسرار و معارف
رب جلیل نے ان قیدیوں کو فراموش نہیں کردیا ۔ بلکہ انہیں بھی تسلی دی اور فرمایا اے حبیب ان قیدیوں سے کہیئے دل برداشتہ نہ ہوں کہ شکست اور قید کی ذلت کے بعد اب مال دے کر جان چھڑائی بلکہ ان سے کہیے توبہ وا ہے اگر خلوص دل سے آج بھی ایمان لے آؤ تو اللہ کی تمہیں دنیا میں بھی معاف فرمادیں گے ۔ مگر بات دل کی عطافرمائیں گے ۔ جو جنگ اور فدیہ میں تم کھو چکے ہو اور تمہاری ساری خطائیں بھی معاف فرمادیں گے ۔ مگر بات دل کی حالت کی ہے ۔ اگر قلب میں خیربھلائی یعنی نور ایمان اور کی رحمت آجائے تو یہ سب کچھ آج بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ بہت بڑا بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔
ہاں اگر جھوٹ…
Read the full tafseer →8 یعنی کفار سے ترک موالات ( دوستی و میراث) اور باہم دوستی و تعاون۔ حدیث میں ہے کہ کافر اور مسلمان ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوسکتے۔ ( ابن کثیر)9 یعنی آئے دن جنگ رہیگی اور رات دن کے اور میرث کے دعوے چلتے رہے گے۔ مطلب یہ ہے کہ کافر اور مو منوں کے باہم موالات اور مل جل کر رہنے سے امنب قائم نہیں رہ سکتا ( ابن کثیر )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
(7:73) الا تفعلوہ۔ الا اور لا سے مرکب ہے ہ ضمیر واحد مذکر غائب ۔ ای الا تفعلوا ما امرتکم من تو اصل المسلمین وتولی بعضہم بعضا حتی فی التوارث تفضیلا لنبۃ الاسلام علی نسبۃ القرابۃ ولم تقطعوا العلائق بینکم وبین الکفار۔ اے مسلمانو ! اگر تم باہمی مقاربت ومواصلت نہ رکھو گے اور ایک دوسرے کی مددگاری نہیں کرو گے اور دین اسلام کو نسبت کو رشتہ داری کی نسبت پر فضیلت نہ دو گے۔ اور اپنے اور کفار کے درمیان تعلقات کو منقطع نہیں کروگے تو ۔۔ الخ۔
تکن اصل میں تکون تھا۔ جواب شرط کی وجہ سے حرف آخرت پر جزم آگئی واؤ اجتماع ساکنین کی وجہ سے گرگئی۔ تکن ہوگا۔ مضارع مجزوم واحد مؤنث غائب۔ کون مصدر ۔ (فتنہ برپا) ہوجائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–75
آیات : 72 تا 75
لغات القرآن۔
جاھدوا۔ انہوں نے جہاد کیا۔ اوو۔ ٹھکانا دیا۔ سہارا دیا۔ ولایۃ۔ ساتھ۔ رفاقت۔ استنصروا۔ وہ مدد مانگیں۔ علیکم۔ تم پر (لازم ) ہے۔ النصر۔ مدد کرنا۔ میثاق ۔ عہدہ و معاہدہ ۔ الا تفعلوہ۔ اگر تم نے ایسے نہ کیا۔ فساد۔ تباہی۔ رزق کریم۔ عزت کی روزی۔ اولو الارحام۔ رحم والے۔ رشتہ دار۔ اولیٰ ۔ زیادہ قریب۔
تشریح : مکہ مکرمہ میں صحابہ کرام ؓ نے ایمان و اسلام کے لئے جو قربانیاں دیں وہ ایسی ایثار و قربانی کی مثالیں ہے جن کی مثال تاریخ انسانی میں ملنا مشکل ہے۔
جب نبی کریم ﷺ نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تو ابتداء میں تمام تر قربانیوں کے باوجود اگر کسی نے ہجرت نہیں کی تو صاف صاف…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ارشاد فرمایا کہ کفار آپس میں ایک دوسرے کے وارث ہیں اور سب کے سب ایک ہیں، اگر تم بھی آپس میں اتفاق پیدا نہ کرو گے اور ایک نہ بن جاؤ گے اور کفار سے تعلق نہ قطع کرو گے تو بڑا فتنہ و فساد دنیا میں پھیل جاوے گا۔ تم میں کمزوری آجاوے گی اور ایک سے ایک جدا ہوجاؤ گے اور کفار کا زور بڑھ جاوے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
[27] یعنی آپس کی مخالفتوں اور دشمنیوں کے باوجود مسلمانوں کے مقابلے میں ایک ہوجاتے ہیں۔
[28] یعنی جو ہدایات آیت 27 میں دی گئی ہیں اگر ان پر عمل نہ کرو گے تو کفار قوی ہوں گے اور مسلمان کمزور جس کا نتیجہ فتنہ و فساد کی صورت میں رونما ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
(ف 1) یعنی بفہوائے الکفر مسلئۃ واحدۃ ۔ تمام کافر کفر کی تائید پر کمربستہ ہیں اور آپس میں اتحاد واخوت کے تعلقات قائم رکھتے ہیں جہاں کہیں اور جب کہیں اسلام سے تصادم ہوتا ہے ، یہ سب اکھٹے ہوجاتے ہیں اور اپنے اختلافات کو بھول جاتے ہیں ، اس لئے مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ بھی متحد الکلہ رہیں اور پوری طرح ایک دوسرے کے ساتھ وابستہ رہیں ورنہ کفر مسلمانوں کے خلاف ایک طوفان پیدا کر دے گا ، کیونکہ کفر واسلام میں ایک دائمی جنگ اور ایک مستقبل آویزش ہے ۔
Read the full tafseer →73 اور جو لوگ کافر ہیں اور آپس میں ایک دوسرے کے وارث ہیں اگر اس حکم کی تعمیل نہ کروگے تو ملک میں بڑا فتنہ اور فساد برپا ہوجائے گا۔ مدعا یہ ہے کہ کفر و اسلام کا جھگڑا تو چل ہی رہا ہے پھر وراثت کے جھگڑے بھی شروع ہوجائیں گے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی کافر سب آپس میں ایک ہیں تمہاری دشمنی سے جہاں پاویں گے ضعیف مسلمان اس کو ستاویں گے سو تم مسلمانوں کو ستادو کہ جو ہمارے پاس ہو اس کا ذمہ ہمارا ہے اور جو اپنے گھر رہے وہ جس طرح جانے سمجھ لے۔ 12
خلاصہ یہ کہ جو دارالحرب میں رہتا ہے وہ اپنی حفاظت کا خود ذمہ دار ہے اور جو دارالاسلام میں آجاتا ہے اس کے ہم ذمہ دار ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
ف 1۔ یعنی نہ تم انکے وارث نہ وہ تمہارے وارث۔
Read the full tafseer →کفر کی راہ اختیار کرنے والے بھی آپس میں ایک دوسر کے معاون و مددگار ہیں :
97: اس آیت میں ایمان والوں کی تحریک کی گئی ہے کہ دیکھو کفر پر قائم رہنے والے جن کے پاس اصلاح نام کی کوئی چیز موجود نہیں وہ بھیا یک دوسرے کے معین و مددگار ہیں اور ہر لحاظ سے ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں تمہاری خبریں ان تک پہنچاتے ہیں ، ان کی مالی مددو اعانت کرتے ہیں ان کے دکھ سکھ میں ایک دوسرے کے شریک ہیں تو پھر تم آخر ایک دوسرے کی مدد کیوں نہیں کرو گے ؟ تمہارا تتو مطمع نظر صحیح اور درست ہے اور پھر یہ بھی کہ تمہارا دین۔ تمہارا رب ، تمہارا رسول ، تمہاری کتاب سب کچھ ایک ہے۔ اگر تم نے آپس میں ایک دوسرے کی مدد نہ کی یا دوسری…
Read the full tafseer →Said in the second verse (73) وَالَّذِينَ كَفَرُوا بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ (And those who disbelieve are friends to each other). The word: وَلِی (waliyy) used here, as stated earlier, carries a general sense included wherein is inheritance as well as the guardianship and patronage of affairs. Therefore, from this verse, we learn that disbelievers shall be considered inheritors to each other and the very law of the distribution of inheritance which is in force in their own religion shall be implemented as far as matters of their inheritance are concerned. In addition to that, the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
52. If the words 'unless you also help one another' in the verse are regarded as a continuation of the preceding verse, they would mean that if Muslims do not support each other in the way, unbelielers do, this would give rise to much mischief and disorder in the world. However, if these words are considered to be connected with the directives embodied in verse 72 onwards, their purpose would be to emphasize that the world would become full of mischief and disorder if the Muslims of Dar al-Islam (a) failed to help one another; (b) failed to provide political support and protection to the…
Read the full tafseer →