مجاہدین بدر کی شان
مسلمانوں کی قسمیں بیان ہو رہی ہیں ایک تو مہاجر جنہوں نے اللہ کے نام پر وطن ترک کیا اپنے گھر بار، مال، تجارت، کنبہ، قبیلہ، دوست احباب چھوڑے، اللہ کے دین پر قائم رہنے کے لیے نہ جان کو جان سمجھا نہ مال کو مال۔ دوسرے انصار، مدنی جنہوں نے ان مہاجروں کو اپنے ہاں ٹھہرایا اپنے مالوں میں ان کا حصہ لگا دیا ان کے ساتھ مل کر ان کے دشمنوں سے لڑائی کی یہ سب آپس میں ایک ہی ہیں۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے ان میں بھائی چارہ کرا دیا ایک انصاری ایک مہاجر کو بھائی بھائی بنادیا۔ یہ بھائی بندی قرابت داری سے بھی مقدم تھی ایک دوسرے کا وارث بنتا تھا آخر میں یہ منسوخ ہوگئی۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں مہاجرین اور…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْفَال 50
یہ آیت اسلام کے دستوری قانون کی ایک اہم دفعہ ہے۔ اس میں یہ اصول مقرر کیا گیا ہے کہ ”ولایت“ کا تعلق صرف ان مسلمانوں کے درمیان ہوگا جو یا تو دارالاسلام کے باشندے ہوں، یا اگر باہر سے آئیں تو ہجرت کر کے آجائیں۔ باقی رہے وہ مسلمان جو اسلامی ریاست کے حدود ارضی سے باہر ہوں، تو ان کے ساتھ مذہبی اخوت تو ضرور قائم رہے گی، لیکن ”ولایت“ کا تعلق نہ ہوگا، اور اسی طرح ان مسلمانوں سے بھی یہ تعلق ولایت نہ رہے گا جو ہجرت کر کے نہ آئیں بلکہ دارالکفر کی رعایا ہونے کی حیثیت سے دارالاسلام میں آئیں۔”ولایت“ کا لفظ عربی زبان میں حمایت، نصرت، مددگاری، پشتیبانی، دوستی قرابت، سرپرستی اور اس سے ملتے…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت بھی کی اور اپنے مال اور جان سے اللہ کے راستہ میں جہاد بھی کیا (جس کا وقوع لوازم عادیہ ہجرت سے تھا گو مدار حکم توارث نہیں اور یہ جماعت مہاجرین سے ملقب ہے) اور جن لوگوں نے (ان مہاجرین کو) رہنے کو جگہ دی اور (ان کی) مدد کی (اور یہ جماعت انصار سے ملقب ہے) یہ (دونوں قسم کے) لوگ باہم ایک دوسرے کے وارث ہوں گے اور جو لوگ ایمان تو لائے اور ہجرت نہیں کی تمہارا (یعنی مہاجرین کا) ان سے میراث کا کوئی تعلق نہیں (نہ یہ ان کے وارث نہ وہ ان کے) جب تک کہ وہ ہجرت نہ کریں (اور جب ہجرت کرلیں پھر وہ بھی اسی حکم میں داخل ہوجائیں گے) اور (گو ان سے تمہارا توارث نہ…
Read the full tafseer →آیات 72 تا 75 کا مضمون : اب آگے خاتمہ سورة کی آیات ہیں۔ مسلمانوں کو ایمان و ہجرت کی اساس پر منظم ہوجانے اور ایمان و ہجرت ہی کر باہمی تعاضد و تناصر کی بنیاد قرار دینے کا حکم ہوا۔ جاہلیت کے خاندانی تعلقات اور ان کی ذمہ داریاں یک قلم ختم کردی گئیں۔ حکم ہوا کہ جو لوگ ایمان لائیں، ہجرت کر کے مدینہ میں آ بسیں، اور مسلمانوں کے ساتھ مل کر اہل کفر سے جہاد کریں وہ ایک ملت اور باہم دگر ایک دوسرے کے بھائی اور اولیاء ہیں۔ گویا اسلامی معاشرہ کو اس کی مخصوص اساسات پر منظم اور مستحکم کرنے کا حکم دیا گیا تاکہ ملت کفر کے مقابلہ کے لیے انصار و مہاجرین ایک بنیان مرصوص کی طرح کھڑے ہوسکیں۔ اور مسلمانوں کو جہاد پر…
Read the full tafseer →72۔ 1 یہ صحابہ مہاجرین کہلاتے ہیں جو فضیلت میں صحابہ میں اول نمبر پر ہیں۔
72۔ 2 یہ انصار کہلاتے ہیں۔ یہ فضیلت میں دوسرے نمبر پر ہیں۔
72۔ 3 یعنی ایک دوسرے کے حمایتی اور مددگار ہیں اور بعض نے کہا کہ ایک دوسرے کے وارث ہیں۔ جیسا کہ ہجرت کے بعد رسول اللہ ﷺ نے ایک ایک مہاجر اور ایک ایک انصاری کے درمیان رشتہ اخوت قائم فرما دیا تھا حتٰی کہ وہ ایک دوسرے کے وارث بھی بنتے تھے (بعد میں وارثت کا حکم منسوخ ہوگیا)
72۔ 4 یہ صحابہ کی تیسری قسم ہے جو مہاجرین و انصار کے علاوہ ہیں۔ یہ مسلمان ہونے کے بعد اپنے ہی علاقوں اور قبیلوں میں مقیم رہے۔ اس لئے فرمایا کی تمہاری حمایت یا وراثت کے وہ مستحق نہیں۔
72۔ 5 مشرکین…
Read the full tafseer →51: سورة انفال کی ان آخری آیات میں میراث کے کچھ وہ احکام بیان فرمائے گئے ہیں جو مسلمانوں کی مکہ مکرمہ سے ہجرت کے نتیجے میں پیدا ہوئے تھے، اللہ تعالیٰ نے یہ اصول شروع سے طے فرمادیا تھا کہ مسلمان اور کافر آپس میں ایک دوسرے کے وراث نہیں ہوسکتے، اب صورت حال یہ تھی کہ جو صحابہ کرام مکہ مکرمہ سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ آگئے تھے، ان میں سے بہت سے ایسے تھے کہ ان کے رشتہ دار جو ان کے وارث ہوسکتے تھے، سب مکہ مکرمہ میں رہ گئے تھے، ان میں سے اکثر وہ تھے جو کافر تھے اور مسلمان ہی نہیں ہوئے تھے، وہ مسلمانوں کے اس لئے وارث نہیں ہوسکتے تھے کہ ان کے درمیان کفر اور ایمان کا فاصلہ حائل تھا ؛ چنانچہ ان آیات نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
تفسیر آیات 72 تا 75:۔
اب یہ درس ختم ہوتا ہے اور اس کے ساتھ یہ سورت بھی ختم ہوجاتی ہے۔ اس میں اسلامی معاشرے کے اندرونی حالات و تعلقات اور اسلامی معاشرے اور دوسرے معاشروں کے مابین تعلقات کو منضبط کیا گیا ہے۔ اور اس بارے میں منظم بین الاقوامی قانون کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ ان احکام و ضوابط پر غور کرنے سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اسلامی معاشرے اور اسلامی نظام کا مزاج کیا ہے۔ وہ کیا بنیاد ہے جس کے اوپر اس کی عمارت اٹھتی ہے اور وہ کیا انتہا ہے جس تک یہ نظام بڑھتا ہے۔ اس نظام کی بنیاد خونی رشتوں پر نہیں ہے۔ زمین اور علاقائی رشتوں پر بھی نہیں ہے۔ رنگ و سنل کے رشتوں پر بھی نہیں ہے۔ تاریخی مشترکہ ورثے کے تعلقات…
Read the full tafseer →1 قیدیوں میں بعض ایسے تھے جو دل سے مسلمان تھے، مگر حضرت ﷺ کے ساتھ مکہ سے ہجرت نہ کرسکے اور بادل نخواستہ کفار کے ساتھ ہو کر بدر میں آئے۔ ان آیات میں یہ بتلانا ہے کہ ایسے مسلمانوں کا حکم کیا ہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ حضرت کے اصحاب دو فرقے تھے " مہاجرین " اور " انصار " مہاجرین کنبہ اور گھر چھوڑنے والے اور انصار جگہ دینے والے اور مدد کرنے والے۔ ان دونوں میں آنحضرت ﷺ نے مواخاۃ (بھائی چارہ) قائم کردیا تھا آیت کا مضمون یہ ہوا کہ جتنے مسلمان حضرت کے ساتھ حاضر ہیں ان سب کی صلح و جنگ ایک ہے، ایک کا موافق سب کا موافق، ایک کا مخالف سب کا مخالف، بلکہ آغاز ہجرت میں رشتہ مواخاۃ کے لحاظ سے ایک دوسرے کے…
Read the full tafseer →آیت 72 اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَہَاجَرُوْا وَجٰہَدُوْا بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّنَصَرُوْٓا اُولٰٓءِکَ بَعْضُہُم اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ ط
اس وقت تک مسلمان معاشرہ دو علیحدہ علیحدہ گروہوں میں منقسم تھا ‘ ایک گروہ مہاجرین کا تھا اور دوسرا انصار کا۔ اگرچہ مہاجرین اور انصار کو بھائی بھائی بنایا جا چکا تھا ‘ لیکن اس طرح کے تعلق سے پورا قبائلی نظام ایک دم تو تبدیل نہیں ہوجاتا۔ اس وقت تک صورت حال یہ تھی کہ غزوۂ بدر سے پہلے جو آٹھ مہمات حضور ﷺ نے مختلف علاقوں میں بھیجیں ان میں آپ ﷺ نے کسی انصاری صحابی رض کو شریک نہیں فرمایا۔ انصار پہلی دفعہ غزوۂ بدر…
Read the full tafseer →74 ولی کا مفہوم۔۔ مواخات اور وراثت :۔ ولی کا لفظ عربی لغت میں بہت وسیع المعنی ہے اور اس کے معنی دوست، حمایتی، مددگار، سرپرست، وارث، پشتیبان اور قریبی رشتہ دار سب معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور اس سے مراد عموماً ایسا شخص ہوتا ہے جو کسی کی موت یا مصیبت کے وقت مدد یا دیت کی ادائیگی یا وراثت کے لحاظ سے سب سے قریب تر ہو۔ ان آیات میں دارالاسلام اور دارالحرب میں رہنے والے مسلمانوں کے باہمی تعلقات کے متعلق احکام بیان کیے جا رہے ہیں۔ جو مسلمان مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ پہنچ رہے تھے۔ ان کا ایک بنیادی مسئلہ ان کی آبادکاری اور فکر معاش کا تھا۔ اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے رسول اللہ نے مہاجرین و انصار کے…
Read the full tafseer →107 ۔ یہ صفات مہاجرین کے بیان ہوئے، یہ وہ مکہ والے تھے کہ پہلے تو اپنی قوم کی مخالفت کی پروانہ کرکے اور ہر قسم کے خطرے مول لے کر ایمان لائے، پھر ترک وطن کیا، خدا کی راہ میں وطن اور سارے مالوفات وطن کو چھوڑ کر پردیس میں آئے، پھر اپنا روپیہ خرچ کرکے سامان جہاد درست کیا، پھر اپنی جانوں کو معرکہ قتال میں پیش کردیا۔ (آیت) ” فی سبیل اللہ “۔ کی قید بڑی اہم اور لازمی ہے۔ وطن وقوم کے پرستاروں کو ان مہاجرین فی سبیل اللہ کے درجہ میں کہنا اپنی قرآن فہمی پر شدید ظلم کرنا ہے۔
108 ۔ (جب تک کوئی مستقل قانون وراثت نازل نہیں ہوتا) قانون وراثت (سورۃ النساء میں) نازل ہونے کے بعد یا عارضی انتظام خود بخود ختم…
Read the full tafseer →اِنَّ الذین ھا جروا وَجَاھَدُوا باموالھِم وانفسھم فی سبیل اللہ الخ، مدینہ میں آپ ﷺ کے ساتھ دو قسم کے مسلمان تھے ایک تو وہ لوگ تھے جنہوں نے مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ کو اپنا وطن بنالیا تھا یہ مہاجر کہلائے ہیں اور دوسرے وہ لوگ جو مدینہ کے اصل باشندے تھے اور آنحضرت ﷺ پر ایمان لائے تھے، ان لوگوں نے ہجرت سے پہلے آنحضرت ﷺ کو مکہ میں آکر مدینہ آنے کی دعوت دی تھی اور ہر طرح کی حفاظت کا وعدہ کیا تھا کہ جان و مال سے دریغ یہ کریں گے، اگر کفار آپ پر حملہ آور ہوں گے تو ہم آپ کا دفاع کریں گے، یہ لوگ انصار کہلائے ہیں، ان حضرات نے اپنے دینی بھائی مہاجرین کی جان ومال سے خوب مدد کی اپنے گھروں میں جگہ دی جن کی…
Read the full tafseer →ان الذین امنوا وھاجروا وجاھدوا باموالھم وانفسھم فی سبیل اللہ والذین او وا ونصروا اولئک بعضھم اولیآء بعضط بیشک جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور اپنی جان و مال سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور وہ لوگ جنہوں نے (مہاجرین کو) رہنے کو جگہ دی اور (ان کی) مدد کی ‘ یہ لوگ باہم ایک دوسرے کے وارث ہوں گے۔
ھاجروا یعنی جنہوں نے اپنی قوم کو اور اپنے گھروں کو اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کی محبت میں چھوڑا۔ مطلب یہ کہ جنہوں نے مکہ سے ہجرت کی۔ وجاھدوا باموالھم یعنی اسلحہ اور گھوڑوں کے خریدنے اور دوسری دینی ضرورتوں میں مال صرف کیا۔ والَّذِین اٰوَوْا اور جنہوں نے رسول اللہ ﷺ اور آپ کے مہاجر ساتھیوں کو اپنے گھروں کے…
Read the full tafseer →(72) یعنی جو لوگ رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لائے اور مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی اور رسول اکرم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کو مدینہ منورہ میں جگہ دی اور بدر کے دن ان کی مدد کی، یہ دونوں قسم کے لوگ ایک دوسرے کے وارث ہوں گے اور جو لوگ ایمان تو لائے مگر مکہ مکرمہ سے انہوں نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت نہیں کی تو تمہارا ان کے ساتھ اور ان کا تمہارے ساتھ میراث کا کوئی تعلق نہیں ہوگا، جب تک کہ وہ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت نہ کرلیں،
البتہ اگر وہ لوگ تم سے دین کے بارے میں اپنے دشمن کے خلاف مدد لینا چاہیں تو تم پر ان کے دشمن کے خلاف ان کی مدد کرنا لازم ہے، مگر اس قوم کے مقابلہ میں تم…
Read the full tafseer →سورة انفال کے آخر میں ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں مسلمان چار قسم کے تھے، پہلے وہ جو پہلی ہجرت کرنے والے مہاجرین اولین ہیں، دوسرے انصار مدینہ، تیسرے وہ مومن جنھوں نے ہجرت نہیں کی اور چوتھے وہ جنھوں نے صلح حدیبیہ کے بعد ہجرت کی۔
اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَهَاجَرُوْا : ان سے مراد اولین مہاجر ہیں جو سب سے افضل ہیں۔
وَالَّذِيْنَ اٰوَوْا وَّنَــصَرُوْٓا : یہ انصار ہیں، ان کی فضیلت بھی بیشمار ہے، مگر اس بات پر اتفاق ہے کہ مہاجرین انصار سے افضل ہیں۔ عبداللہ بن زید بن عاصم ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اگر ہجرت (کی فضیلت) نہ ہوتی تو میں انصار میں سے ایک شخص ہوتا۔“…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–75
مسئلہ نمبر 1 ۔ قولہ تعالیٰ ان الذین امنوسورت کا اختتام موالاۃ کے ذکر ساتھ کیا تاکہ ہر فریق اپنے اس دوست اور ولی کو جان لے جس وہ مدد طلب کرسکتا ہے۔ ہجرت اور جہاد کا لغوی اور اصطلاحی معنی و مفہوم پہلے گزر چکا ہے۔ والذین او واونصروایہ اس پر معطوف ہے۔ اور مراد وہ انصار ہیں جو ان سے پہلے ایمان کے ساتھ اپنے گھروں میں اقامت گزیں تھے اور حضور نبی کریم ﷺ اور مہاجرین ان سے آملے۔ اولئک یہ مبتدا ہونے کے سبب محل رفع میں ہے۔ بعضھم یہ دوسرا مبتدا ہے۔ اولیاء بعض یہ اس کی خبر ہے اور پھر سب مل کر ان کی خبر ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اولیاء بعض، فی المیراث (یعنی وہ میراث میں ایک دو سے کے ولی ہیں) پس وہ…
Read the full tafseer →1:۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ان الذین امنوا وھاجروا وجھدوا باموالہم وانفسہم فی سبیل اللہ “ کے بارے میں فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں مومنین تین مراتب پر تھے۔ ان میں وہ مومن جنہوں نے ہجرت کی اور اپنی قوم سے جدائی اختیار کیا یہ لوگ ہجرت کرکے اہل ایمان کی ایک جماعت کے گھروں میں ان کی زمینوں میں اور ان کے مالوں میں پہنچے اور دوسرے گروہ کا ذکر کرتے ہیں فرمایا (آیت) ” والذین او وا ونصروا “ وہ جنہوں نے مہاجرین کی پناہ دی اور ان کی مدد کی اور انہوں نے اس چیز کا وعدہ کیا جس کا ہجرت کرنے والوں نے کیا انہوں نے اس کے خلاف تلواریں بلند کی جس نے بھی اسے…
Read the full tafseer →[ اِنَّ : بیشک ] [ الَّذِيْنَ : وہ لوگ جو ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ وَهَاجَرُوْا : اور ہجرت کی ] وَجٰهَدُوْا [ اور جہاد کیا ] بِاَمْوَالِهِمْ [ اپنے اموال سے ] وَاَنْفُسِهِمْ [ اور اپنی جانوں سے ] فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ [ اللہ کی راہ میں ] وَالَّذِيْنَ [ اور وہ لوگ جنھوں نے ] اٰوَوْا [ ٹھکانہ دیا ] وَّنَــصَرُوْٓا [ اور مدد کی ] اُولٰۗىِٕكَ [ وہ لوگ ہیں (کہ ) ] بَعْضُهُمْ [ ان کے بعض ] اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ ۭ [ بعض کے کارساز ہیں ] وَالَّذِيْنَ [ اور وہ لوگ جو ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] وَلَمْ يُهَاجِرُوْا [ اور ہجرت نہیں کی ] مَا لَكُمْ [ تو تمہارے لیے نہیں ہے ] مِّنْ وَّلَايَتِهِمْ [ ان سے…
Read the full tafseer →مجاہدین، مہاجرین، اور انصار سے متعلق بعض احکام
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی تفسیر کے مطابق ان آیات میں میراث کے احکام بتائے ہیں۔ ان کے نزدیک (اُولٰٓءِکَ بَعْضُھُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ ) سے ایک دوسرے کا وارث ہونا مراد ہے۔ نیز وَ لَا یِتِھِمْ سے بھی میراث پاناہی مراد ہے۔ صاحب روح المعانی نے حضرت ابن عباس ؓ سے یہی تفسیر نقل کی ہے۔ اس اعتبار سے پہلی آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ ایمان لائے اور اپنے وطن کو چھوڑ کر ہجرت کر کے مدینہ منورہ آگئے اور اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کیا اور وہ لوگ جنہوں نے مہاجرین کو ٹھکانہ دیا اور ان کی مدد کی یعنی انصاری حضرات یہ سب آپس میں ایک دوسرے کے وارث…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–75
مراتب اہل اسلام و فضائل مہاجرین عظام و انصار کرام وبیان احکام باعتبار ہجرت واسلام
قال اللہ تعالیٰ ان الذین امنوا وھاجروا۔۔۔ الی۔۔۔ ان اللہ بکل شیئ علیم
(ربط) گزشتہ رکوعات میں جہاد اور صلح کے احکام بیان کیے اور گزشتہ آیات میں قیدیوں کو تسلی دی اب ان آیات میں مہاجرین اور انصار کے فضائل اور مسلمانوں کے باعتبار ہجرت وعدم ہجرت مراتب اور احکام بیان کرتے ہیں حکم شرعی یہ ہے کہ اگر کافروں سے مقابلہ اور مقاتلہ کی قدرت ہو تو جہاد فرض ہے اور اور اگر عاجز ہو تو ہجرت فرض ہے۔ گزشتہ رکوعات میں جہاد کے احکام مذکور تھے اب جہاد کے بعد ان آیات میں ہجرت کے کچھ احکام ذکر کرتے ہیں کیونکہ ہجرت اور جہاد دونوں توام…
Read the full tafseer →72: یہ ہجرت اور جہاد کی ترغیب ہے۔ یہاں مومنین کے تین فرقوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ فریق اول : مہاجرین یعنی جنہوں نے اللہ کے دین کی خاطر اپنا وطن مکہ چھوڑا اور جہاد کیا۔ فریق ثانی انصار یعنی مدینہ کے اصل باشندے جو ہجرت سے قبل ایمان لا چکے تھے اور جنہوں نے مہاجرین کو رہائش کے لیے جگہ مہیا کی اور دامے درمے ان کی مدد کی۔ ان دونوں فریقوں یعنی مہاجرین وانصار کے درمیانحضور ﷺ نے بھائی چارہ قائم فرمادیا۔ ان دونوں کے بارے میں فرمایا “ اُوْلٓئِکَ بَعْضُھُمْ اَوْلِیَاءُ بَعْض ” یعنی مسلمانوں کی یہ دونوں جماعتیں جو حضور علیہ الصلوہ والسلام کے ساتھ ہیں یہ آپس میں ایک دوسرے کے رفیق اور معاون و مددگار ہیں ان میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–73
جنگی قیدیوں کا مسئلہ :
مالِ غنیمت اور غزوہ بدر کے جنگی قیدیوں کا حال گذشتہ درس میں بھی بیان ہوچکا ہے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ ہر قیدی کا فدیہ چار سو دینار مقرر ہوا۔ قیدیوں کے رشتہ داروں نے انہیں چھڑانے کی کوشش کی جس قیدی کا فدیہ وصول ہوجاتا اسے چھوڑ دیا جاتا بعض قیدیوں کے رشتہ دار فدیہ دینے کی پوزیشن میں نہیں تھے ان میں سے جو پڑھے لکھے تھے ان کو کہا گیا کہ وہ اتنے اتنے آدمیوں کو پڑھنا لکھنا سکھا دیں تو یہی ان کا فدیہ ہوگا۔ چناچہ بعض قیدی اس شرط پر بھی رہا کیے گے تا ہم قیدیوں کی اکثریت نے فدیہ ادا کر کے رہائی حاصل کی۔ حضور ﷺ کے چچا عباس ؓ بھی جنگی قیدیوں میں شامل تھے۔ اگرچہ وہ دل سے مسلمانوں…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَہَاجَرُوْا وَجٰہَدُوْا بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ وَالَّذِيْنَ اٰوَوْا وَّنَــصَرُوْٓا اُولٰۗىِٕكَ بَعْضُہُمْ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ 0 ۭ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يُہَاجِرُوْا مَا لَكُمْ مِّنْ وَّلَايَتِہِمْ مِّنْ شَيْءٍ حَتّٰي يُہَاجِرُوْا 0 ۚ وَاِنِ اسْتَنْصَرُوْكُمْ فِي الدِّيْنِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ اِلَّا عَلٰي قَوْمٍؚبَيْنَكُمْ وَبَيْنَہُمْ مِّيْثَاقٌ 0 ۭ وَاللہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ 72
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–75
ترکیب : الذین مع صلہ اسم ان والذین اس پر معطوف اولئک مبتداء بعضہم خبر جملہ خبر ان والذین مبتداء مالکم الخ خبر۔ ان استنصروکم شرط فعلیکم جواب الا ای ان لا تفعلوہ الضمیر یعود الی النصر وقیل الی الولاء شرط تکن جواب فتنۃ و فساد کبیر اسم ہیں کان کے والذین مبتداء اولئک الخ جملہ خبر حقا کی ترکیب بیان ہوچکی۔ والذین مبتداء متضمن بمعنی شرط فاولئک جواب یا خبر۔
تفسیر : جبکہ بدر کے قیدیوں کو بشرط اطاعت عوض دینے کا وعدہ کیا اور ان کو دلاسہ دیا تو ان آیات میں انصار و مہاجرین کو اجر آخرت کا دلاسہ دیتا ہے یا یوں کہو کہ جب ان قیدیوں کو عہد لے کر چھوڑا اور ان میں سے بہت نے بدر کے موقع پر آسمانی مدد اور اسلام کا…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَھَاجَرُوْا وَجٰھَدُوْابِاَمْوَالِھِمْ وَاَنْفُسِھِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ اٰوَوْاوَّنَصَرُوْآ اُولٰٓئِکَ بَعْضُھُمْ اَوْلِیَآئُ بَعْضٍط وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ یُھَاجِرُوْا مَالَکُمْ مِّنْ وَّلَایَتِھِمْ مِّنْ شَیْئٍ حَتّٰی یُھَاجِرُوْا ج وَاِنِ اسْتَنْصَرُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ فَعَلَیْکُمُ النَّصْرُ اِلَّا عَلٰی قَوْمٍ م بَیْنَکُمْ وَبَیْنَھُمْ مِّیْثَاقٌ ط وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ۔
( الانفال : 72 )
(بےشک جو لوگ ایمان لائے اور جنھوں نے ہجرت کی اور جہاد کیا اپنی جان ومال سے اللہ کی راہ میں اور وہ لوگ جنھوں نے پناہ دی اور مدد کی یہی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اللہ اور اس کے رسول کی خاطر ہجرت کرنا ہر کسی کے بس کا روگ نہیں۔ یہ ایسی پل صراط ہے جس کی دھار تلوار سے زیادہ تیز اور بال سے زیادہ باریک ہے۔ ہجرت کی تکالیف و مشکلات ایمان سے خالی دل کو ننگا کردیتی ہیں یہ ایسا ترازو ہے جس میں ہر آدمی نہیں بیٹھ سکتا۔ اس پیمانے سے کھرے کھوٹے کا اندازہ ہوجاتا ہے۔ قرآن مجید نے اسے ایمان کا معیار قرار دیا ہے۔ مہاجر اپنا وطن اور عزیز و اقربا کو چھوڑ کر تنہائی محسوس کرتا اس لیے آپ نے مہاجرین اور انصار کے درمیان مواخات کروائی تاکہ باہمی محبت پیدا ہونے سے مہاجرین کے معاشی، معاشرتی، اور خاندانی مسائل حل ہو سکیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مہاجرین کے…
Read the full tafseer →مہاجرین و انصار کا تذکرہ :
آیت 72: اِنَّ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَہَاجَرُوْا (بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت کی) اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی محبت میں مکہ سے ہجرت کی وَجٰھَدُوْا بِاَ مْوَالِھِمْ وَاَنْفُسِھِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ (اور اپنے مال اور جان سے اللہ کی راہ میں جہاد بھی کیا) وہ مہاجرین ہیں۔ وَالَّذِیْنَ ٰاوَوْ ا وَّنَصَرُوْٓا (اور وہ لوگ جنہوں نے رہنے کو جگہ دی اور مدد کی) یعنی انہوں نے اپنے گھروں میں ٹھکانہ دیا اور ان کی اعانت کی۔ یہ جماعت انصا رہے۔ اُولٰٓپکَ بَعْضُھُمْ اَوْلِیَآئُ بَعْضٍ (یہ لوگ ایک دوسرے کے وارث ہیں) میراث میں وہ ایک دوسرے کے ولی ہیں۔ ابتداء ًہجرت و…
Read the full tafseer →” ان الذین امنوا وھاجروا “ یعنی اپنی قوم اور گھروں کو چھوڑا۔ یعنی مکہ سے ہجرت کرنے والے مراد ہیں۔ وجھدوا باموالھم وانفسھم فی سبیل اللہ والذین او وا “ اللہ کے رسول ﷺ اور آپ کے ساتھ مہاجرین کو یعنی ان کو ٹھہرایا اپنے گھروں میں ” ونصروآ “ یعنی ان کی مدد کی ان کے دشمنوں پر اور یہ لوگ انصار ؓ ہیں ” اولئک بعضھم اولیآء بعض “ نہ کہ ان کے کافر رشتہ دار۔ بعض نے کہا مدد و نصرت میں ولی ہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ میراث میں ولی ہیں اور یہ ہجرت کی وجہ سے وارث ہوں گے۔ مہاجرین و انصار ذوی الارحام سے پہلے وارث ہوتے تھے اور جو شخص ایمان لا چکا ہو لیکن ہجرت نہ کی ہو تو وہ اپنے قریبی رشتہ دار مہاجر سے وارث نہ…
Read the full tafseer →72۔ مدینہ میں حضرت ﷺ کے ساتھ جتنے مسلمان تھے وہ دوفرقے تھے ایک وہ لوگ تھے جو مکہ کے باشندہ تھے مگر کفار کی تکلیف اور ایذار سانی سے اپنا وطن چھوڑ کر محض خدا کے واسطے آنحضرت ﷺ کے ساتھ مدینہ کے رہنے والے تھے آنحضرت ﷺ پر ایمان لائے تھے اور آپ سے ہجرت سے پہلے انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ اگر آپ مدینہ میں آن کرو ہاں رہنا اختیار کریں گے تو ہر طرح سے آپ کی خبر گیری ہم کریں گے جان سے مال سے دریغ نہ کریں گے اگر کفار آپ پر حملہ کریں گے اور لڑائی پر آمادہ ہو گے تو ہم لوگ سینہ سپر کرنے کو تیار ہیں یہ لوگ انصار کہلاتے ہیں ہجرت کے بعد انہوں نے اپنے وعدہ کے موافق اپنے بھائی مہاجرین کو اپنے گھروں میں رکھا جن کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–72
آیت 70
یہ آیت کریمہ اسیران بدر کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور ان قیدیوں میں رسول اللہ ﷺ کے چچا حضرت عباس بھی شامل تھے۔ جب رہائی کے عوض ان سے فدیہ کا مطالبہ کیا گیا تو انہوں نے عرض کیا کہ انہوں نے اس سے قبل اسلام قبول کیا ہوا تھا، مگر مسلمانوں نے ان سے فدیہ کو ساقط نہ کیا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی اور ان لوگوں کی دل جوئی کی خاطر یہ آیت کریمہ نازل فرمائی جو اس قسم کی صورت حال سے دوچار ہوں۔ فرمایا : (یایھا النبی قل لمن فی ایدیکم من الاسریٰ ان یعلم اللہ فی قلوبکم خیرا یوتکم خیرا مما اخذ منکم) ” اے نبی ! ان سے کہہ دو ! جو تمہارے ہاتھوں میں قیدی ہین، اگر اللہ تمہارے دلوں میں کچھ نیکی جانے گا، تو…
Read the full tafseer →ہجرت کی بنا پر توارث کا بیان
قول باری ہے (ان الذین امنوا و ھاجروا و جاھدوا باموالھم و انفسھم فی سبیل اللہ والذین او وا و نصروا اولئک بعضھم اولیاء بعض۔ والذین امنوا والمربھاجرو مالکم من ولا یتیھم من شیء حتیٰ بھاجروا۔ جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں اپنی جانیں لڑائیں اور اپنے مال کھپائے اور جن لوگوں نے ہجرت کرنے والوں کو جگہ دی اور ان کی مدد کی وہ ی دراصل ایک دوسرے کے دل میں رہے۔ وہ لوگ جو ایمان لو لے آئے مگر ہجرت کر کے (دارالاسلام) میں آ نہیں گئے تو ان سے تمہارا ولایت کا کوئی تعلق نہیں ہے جب تک کہ وہ ہجرت کر کے نہ آ جائیں ض ہمیں جعفر بن محمد الواسطی نے روایت سنائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–72
147 اساری بدر سے خیر کا وعدہ : سو پیغمبر کو حکم وارشاد فرمایا گیا کہ آپ اپنے زیر قبضہ ان قیدیوں سے کہو کہ اگر اللہ تعالیٰ نے تمہارے دلوں میں بھلائی دیکھی تو وہ تم کو اس سے کہیں بہتر عطا فرمائے گا جو اس نے تم سے لیا گیا ہے کہ سب خزانوں کا مالک اور سب کچھ دینے والا تو وہی وحدہ لاشریک ہے۔ وہ کتنا بہتر دیگا، کیا اور کہاں سے دیگا اور کس طرح اور کس شکل میں دے گا اور کتنا دیگا۔ سو یہ سب کچھ اسی کے علم و اختیار میں ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اگر تمہاری نیتیں درست ہوئیں اے قیدیو تو وہ بہرحال تم کو بہتر بدلے سے نوازے گا۔ سو اصل مدارو انحصار انسان کے باطن اور اس کی نیت و ارادہ پر ہے۔ بہرکیف اس ارشاد میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–75
مہاجرین وانصار کے فضائل
تشریح : یوں تو پورا قرآن پاک ہی ہدایات کا مجموعہ ہے یہ آیات اس لیے بےحد اہم اور غور کے قابل ہیں کیونکہ ان میں مسلمانوں کو ایک اہم دفعہ دستوری قانون کی بتائی جا رہی ہے۔ سب سے پہلے تو انصار، یعنی مدینہ کے مقامی لوگ اور مہاجر، یعنی مکہ سے آنے والے یا کہیں سے بھی آنے والے مسلمان ان لوگوں کو بھائی بھائی بنانے کا حکم دیا گیا ان کی تعریف کی گئی اور ان کے ایمان کی گواہی دی گئی۔ کیونکہ جو لوگ اسلام کی خاطر اپنے عزیز و اقارب، مال و دولت اور گھربار چھوڑ کر وطن سے نکل آئے وہ بھی تعریف کے قابل ہیں اللہ کے ہاں مقبول ہیں اور وہ بھی قابل تعریف ہیں جنہوں نے خوش دلی سے ان کو اپنے پاس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–75
آیات 70 تا 75
اسرار و معارف
رب جلیل نے ان قیدیوں کو فراموش نہیں کردیا ۔ بلکہ انہیں بھی تسلی دی اور فرمایا اے حبیب ان قیدیوں سے کہیئے دل برداشتہ نہ ہوں کہ شکست اور قید کی ذلت کے بعد اب مال دے کر جان چھڑائی بلکہ ان سے کہیے توبہ وا ہے اگر خلوص دل سے آج بھی ایمان لے آؤ تو اللہ کی تمہیں دنیا میں بھی معاف فرمادیں گے ۔ مگر بات دل کی عطافرمائیں گے ۔ جو جنگ اور فدیہ میں تم کھو چکے ہو اور تمہاری ساری خطائیں بھی معاف فرمادیں گے ۔ مگر بات دل کی حالت کی ہے ۔ اگر قلب میں خیربھلائی یعنی نور ایمان اور کی رحمت آجائے تو یہ سب کچھ آج بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ بہت بڑا بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔
ہاں اگر جھوٹ…
Read the full tafseer →ف 3 یعنی اللہ تعالیٰ کا حکم ماننے سے انکار رک چکے ہیں اور رسول ﷺ کو جھٹلا چکے ہیں۔4 اگر پھر دغا بازی اور بےایمانی سے کام لیں گے تو پھر اللہ تعالیٰ اس نے یہی معاملہ کرے گا۔ اس میں آنحضرت ﷺ کو بشارت دی ہے اور قیدیوں کے لیے وعید ہے کہ ان میں سے جو بھی نقض عہد اور خیانت کرے گا ان پر دوبارہ تمکن حاصل ہوگا جیسا کہ بدر میں دیکھ چکے ہو۔ یہاں امکن کا مفعول مخذوف ہے ای نامکنک منھم ( کبیر، روح)5 لفظ اونیا سے مراد اولیا فی النصرۃ والمعونتہ ( ورثہ) بھی دوسرے مفہوم کے اعتبار سے اس آیت میں ہیں بھائی چارے کی طرف اشارہ ہوگا جو ہجرت کے بعد نبی صلعم نے مہا جرین ؓ اور انصار کے درمیان قائم کیا اور جس کی بنا پر…
Read the full tafseer →(8:72) او وا۔ ابواء (افعال) سے۔ ماضی۔ جمع مذکر غائب۔ انہوں نے جگہ دی۔ انہوں نے پناہ دی۔ دوسری جگہ قرآن میں ہے اذاوی الفتیۃ الی الکھف (18:10) جب چند نوجوانوں نے غار میں پناہ لی۔ اور وتووی الیک من تشاء (23:51) اور جسے چاہو اپنے پاس جگہ دو یا ٹھکانا دو ۔
مالکم من ولایتھم من شیٔ۔ تو تمہارا ان سے دلایت کا کوئی تعلق نہیں ہے تم کو ان کی رفاقت سے کوئی سروکار نہیں۔ ولایت وسیع المعانی لفظ ہے اور عربی میں حمایت نصرت۔ مددگاری۔ پشتیبانی۔ دوستی۔ قرابت۔ سرپرستی اور اس سے ملتے جلتے مفہومات کے لئے بولا جاتا ہے۔ بعض نے ولایت سے وراثت مفہوم لیا ہے۔ یعنی تمہارے لئے ان کی وراثت سے کوئی چیز نہیں ہے۔
استنصروکم۔ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–75
آیات : 72 تا 75
لغات القرآن۔
جاھدوا۔ انہوں نے جہاد کیا۔ اوو۔ ٹھکانا دیا۔ سہارا دیا۔ ولایۃ۔ ساتھ۔ رفاقت۔ استنصروا۔ وہ مدد مانگیں۔ علیکم۔ تم پر (لازم ) ہے۔ النصر۔ مدد کرنا۔ میثاق ۔ عہدہ و معاہدہ ۔ الا تفعلوہ۔ اگر تم نے ایسے نہ کیا۔ فساد۔ تباہی۔ رزق کریم۔ عزت کی روزی۔ اولو الارحام۔ رحم والے۔ رشتہ دار۔ اولیٰ ۔ زیادہ قریب۔
تشریح : مکہ مکرمہ میں صحابہ کرام ؓ نے ایمان و اسلام کے لئے جو قربانیاں دیں وہ ایسی ایثار و قربانی کی مثالیں ہے جن کی مثال تاریخ انسانی میں ملنا مشکل ہے۔
جب نبی کریم ﷺ نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تو ابتداء میں تمام تر قربانیوں کے باوجود اگر کسی نے ہجرت نہیں کی تو صاف صاف…
Read the full tafseer →مال غنیمت کا حکم
شان نزول : مہاجرین اور انصار دونوں کی شان میں یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ جو لوگ اپنا گھر چھوڑ کر آئے اور اپنی جان ومال سے خدا کی راہ میں جہاد کیا اور وہ لوگ جنہوں نے ان مہاجرین کی ہر طرح سے مدد کی ان کے ساتھ شریک ہوکر لڑے۔ یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے کے وارث ہیں، ایک پر ایک کا حق ہے۔ حضور ﷺ نے ایک دوسرے کی بھائی بندی کرادی اور تعلق بڑھ گئے اور ایک دوسرے کا ترکہ پاتا تھا۔ پھر جب آگے کی آیت اتری تو یہ حکم بدل گیا پھر اللہ تعالیٰ نے تیسری قسم کے لوگوں کا حال بیان فرمایا کہ جو لوگ ایمان لاچکے ہیں اور تمہارے ساتھ ہجرت کرکے نہیں آئے۔ وہ لوگ ان مہاجرین اور انصار کے وارث نہیں…
Read the full tafseer →[26] اس آیت میں آزاد اور غلام مسلمانوں کے تعلقات کو بیان کیا گیا ہے۔ جو مسلمان دارالکفر میں رہنے پر مجبور ہوں ان سے دارلاسلام کے مسلمانوں کے تمدنی اور سیاسی تعلقات نہیں رہ سکتے جب تک وہ دارالکفر سے ہجرت کر کے دارلاسلام کی رعایا نہ بن جائیں۔ لیکن ان سے تعلقات منقطع کرنے کے باوجود دین کے بارے میں مددگاری کا تعلق قائم رہے گا۔ اگر دارالکفر کے مسلمانوں کے دین کو کوئی خطرہ ہو یا ان پر ظلم ہو اور وہ دینی رشتے کا واسطہ دے کر مدد مانگیں تو دارلاسلام کے مسلمانوں پر فرض ہے کہ ان کی مدد کو پہنچیں بشرطیکہ جس کے خلاف مدد مانگی گئی ہے اس سے مسلمانوں کا صلح کا معاہدہ نہ ہو۔
Read the full tafseer →حفظ عہد
(ف 1) مقصد یہ ہے کہ انصار اور مہاجرین باہم بھائی بھائی ہیں ، ان میں باہمی اعانت کا ہر طریق جاری رہنا چاہئے ، مگر وہ لوگ جو مومن تو ہیں ، اور ہجرت سے محروم رہے ، انہیں مہاجرین وانصار کی حمایت وولایت کا قطعی استحقاق نہیں ، جب تک کہ وہ اللہ کے لئے ہجرت اختیار نہ کریں ،
البتہ دینی امانتیں بہرحال قائم رہیں گی ، مخالفین اگر ان مسلمانوں کو کمزور سمجھ کر ستائیں یا تکلیف دیں ، تو اس صورت میں ہر مسلمان اخلاقی ودینی طریقی سے اپنے بھائیوں کی اعانت کرے گا ،
ہاں اگر مسلمان ان لوگوں سے تعرض کریں ، جن سے مہاجرین وانصار عہد ومیثاق کرچکے ہیں تو اس وقت حفظ عہد کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمانوں کی مدد نہ کی…
Read the full tafseer →72 بلاشبہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت بھی کی اور اپنے مال اور اپنی جان کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد بھی کیا اور جن لوگوں نے مہاجرین کے لئے رہنے اور بسنے کو جگہ دی اور ان کی ہر طرح مدد کی یہ لوگ یعنی مہاجرین و انصار سب آپس میں ایک دوسرے کے وارث ہیں اور رہے وہ لوگ جو ایمان تو لائے لیکن ابھی تک انہوں نے ہجرت نہیں کی تو جب تک وہ مسلمان ہجرت نہ کریں ان کی وراثت میں تمہارا کوئی حصہ نہیں۔ ہاں ! اگر وہ تم سے دین کے بارے میں کبھی مدد طلب کریں تو تم پر ان غیر مہاجر مسلمانوں کی مدد کرنا واجب ہے مگر اس قوم کے مقابلے میں نہیں جو ایسی ہو کہ اس کے اور تمہارے درمیان کوئی عہدو پیماں ہو اور جو کچھ تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
ف 2۔ سبب نزول ان آیات کا یہ ہے کہ بدر میں ستر کافر پکڑے ہوئے آئے تو آپ نے صحابہ سے ان کے بارے میں مشورہ کیا بعض نے مشورہ دیا کہ ان کو قتل کردینا چاہیے بعض نے کہا کہ ان سے کچھ مال لے کر چھوڑ دینا چاہیے آپ پر وحی نازل ہوئی کہ ان صحابہ سے فرمادیجیے کہ تم کو اختیار دیا جاتا ہے خواہ ان کو قتل کردو یا فدیہ لے کر چھوڑ دو مگر اس صورت میں اگلے سال ستر آدمی شہید ہوں گے غرض اکثر صحابہ کی یہی رائے تھی کہ خیرہم شہید ہوجائیں گے اس وقت ان کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے شاید یہ مسلمان ہوجائیں اور اس وقت مسلمانوں کو مالی مدد ملے آپ نے بھی بوجہ رحم دلی کے اس رائے کو پسند فرمایا چناچہ باستثناء بعض کے کہ وہ تو قتل…
Read the full tafseer →مہاجرین و انصار کے مجاہدین کی تعریف اور مناقب کی آیت :
95: اسلام سے پہلے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے اسلام قبول کرنے کے بعد شیر و شکر ہوگئے اور ایک دوسرے پر جتنے شکوے تھے یک قلم کافور ہوگئے۔ اسلام کی دعوت نے باہمی الفت و سزاگاری کی جو روح پھونک دی تھی اس کا ایک عجیب و غریب منظر تاریخ نے آج تک محفوظ رکھا۔ نو مسلموں کا باہمی بھائی چارہ تھا جسے عربی زبان میں مواخاۃ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے یعنی اسلام کے رشتہ سے ایک نو مسلم دوسرے نو مسلم کا بھائی ہوجاتا تھا اور پھر ساری باتوں میں دونوں ایک دوسرے کی شرکت و ملکیت کے ویسے ہی حق دار ہوجاتے جیسے حقیقی بھائی ہوتے ہیں حتیٰ کہ اگر مرجائے تو دوسرا اس کا…
Read the full tafseer →Commentary
These are the last four verses of Surah Al-Anfal. The real objective therein is to describe the injunctions of Hijrah (Emigration) which relate to the inheritance of Muhajir (Emigrant) Muslims. In contrast, also mentioned there is the inheritance of non-Muhajir Muslims and non-Muslims.
The gist of these injunctions is that people who fall under Islamic legal authority are, in the first instance, of two kinds: (1) Muslim (2) Kafir (disbeliever). Then, in terms of that period of time, Muslims were of two kinds: (1) Muhajir, those who after hijrah becoming obligatory, had left Makkah…
Read the full tafseer →50. The above verse is an important provision in Islamic constitutional law. For it prescribes that any agreement on guardianship would be applicable exclusively to Muslims who are either the original inhabitants of the territory which has become Dar al-Islam (the Domain of Islam) or Muslims who have migrated to the Dar al-Islam. As to Muslims living outside the jurisdiction of the Islamic state, the bond of religious brotherhood would doubtlessly exist between them and Muslim residents of the Islamic state. The two groups, however, would not have the relationship of walayah (mutual…
Read the full tafseer →