Explained with ayahs 70–71
فدیہ طے ہو گیا
بدر والے دن آپ نے فرمایا تھا کہ مجھے یقیناً معلوم ہے کہ بعض بنو ہاشم وغیرہ زبردستی اس لڑائی میں نکالے گئے ہیں انہیں ہم سے لڑائی کرنے کی خواہش نہ تھی۔ پس بنو ہاشم کو قتل نہ کرنا۔ ابو البختری بن ہشام کو بھی قتل نہ کیا جائے۔ عباس بن عبدالمطلب کو بھی قتل نہ کیا جائے۔ اسے بھی بادل ناخواستہ ان لوگوں نے اپنے ساتھ کھینچا ہے۔ اس پر ابو حذیفہ بن عتبہ نے کہا کہ کیا ہم اپنے باپ دادوں کو اپنے بچوں کو اپنے بھائیوں کو اور اپنے قبیلے کو قتل کریں اور عباس کو چھوڑ دیں ؟ واللہ اگر وہ مجھے مل گیا تو میں اس کی گردن ماروں گا۔ جب یہ بات رسول اللہ ﷺ کو پہنچی تو آپ نے فرمایا اے ابو حفصہ کیا رسول اللہ ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–71
سورة الْاَنْفَال 49
اس آیت کی تفسیر میں اہل تاویل نے جو روایات بیان کی ہیں وہ یہ ہیں کہ جنگ بدر میں لشکر قریش کے جو لوگ گرفتار ہوئے تھے ان کے متعلق بعد میں مشورہ ہوا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے۔ حضرت ابوبکر ؓ نے رائے دی کہ فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے، اور حضرت عمر ؓ نے کہا کہ قتل کردیا جائے۔ نبی ﷺ نے حضرت ابوبکر ؓ کی رائے قبول کی اور فدیہ کا معاملہ طے کرلیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات بطور عتاب نازل فرمائیں۔ مگر مفسرین آیت کے اس فقرے کی کوئی معقول تاویل نہیں کرسکے ہیں کہ ”اگر اللہ کا نوشتہ پہلے نہ لکھا جا چکا ہوتا۔“ وہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد تقدیر الہٰی ہے، یا یہ کہ اللہ تعالیٰ پہلے ہی یہ…
Read the full tafseer →غزوہ بدر کے قیدیوں میں سے کچھ لوگ مسلمان ہوگئے تھے مگر ان کے بارے میں یہ کھٹک لوگوں کے دل میں تھی کہ شاید یہ لوگ مکہ پہنچ کر اسلام سے پھرجائیں اور پھر ہمیں کوئی نقصان پہنچائیں۔ حق تعالیٰ نے اس کے بعد والی آیت میں اس خطرہ کو اس طرح دور فرما دیا (آیت) وَاِنْ يُّرِيْدُوْا خِيَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْ ۭوَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ۔ یعنی اگر یہ لوگ آپ کے ساتھ خیانت ہی کا ارادہ کرلیں تو اس سے آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچے گا یہ تو وہی لوگ ہیں جو اس سے پہلے اللہ کے ساتھ خیانت کرچکے ہیں یعنی میثاق ازل میں جو اللہ تعالیٰ کے رب العالمین ہونے کا اقرار کیا تھا اس کی…
Read the full tafseer →وَاِنْ يُّرِيْدُوْا خِيَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْ ۭوَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ۔ یہ پیغمبر ﷺ کو تسلی اور بدر کے قیدیوں کو دھمکی ہے۔ پیغمبر کو خطاب کر کے فرمایا کہ اگر انہوں نے بےوفائی کی اور تم نے ان پر جو احسان کیا ہے اس کی قدر نہ پہچانی، پھر لڑنے کے لیے آئے تو یہ تمہارا کچھ نہیں بگاریں گے، اپنی ہی شامت بلائیں گے اس سے پہلے انہوں نے خدا سے بےوفائی و بدعہدی کی تو اس کا مزا انہوں نے چکھا کہ خدا نے ان کو تمہارے ہاتھ میں دے دیا۔ اگر یہی حرکت انہوں نے پھر کی تو خدا پھر انہیں قابو میں دے دے گا اور یہ اپنی اس بدعہدی کی سزا بھگتیں گے۔ یہاں جس بدعہدی کی طرف اشارہ…
Read the full tafseer →71۔ 1 یعنی زبان سے تو اظہار اسلام کردیں لیکن مقصد دھوکا دینا ہو، تو اس سے قبل انہوں نے کفر و شرک کا ارتکاب کر کے کیا حاصل کیا ؟ یہی کہ وہ مسلمانوں کے قیدی بن گئے، اس لئے آئندہ بھی اگر وہ شرک کے راستہ پر قائم رہے تو اس سے مزید ذلت و رسوائی کے سوا انہیں کچھ اور حاصل نہیں ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–71
50: بھلائی دیکھنے سے مراد یہ ہے کہ جن لوگوں نے مسلمان ہونے کا اعلان کیا ہے وہ خلوص دل کے ساتھ ہو، کوئی شرارت نہ ہو، اس صورت میں ان سے وعدہ کیا گیا ہے کہ انہوں نے اپنی آزادی کے لئے فدیہ میں جو کچھ خرچ کیا ہے اس سے بہتر بدلہ انہیں دنیا یا آخرت میں دے دیا جائے گا، چنانچہ آنحضرت ﷺ کے چچا حضرت عباس ؓ جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے اور بدر کی جنگ میں قید ہوگئے تھے، انہوں نے آپ سے عرض کیا تھا کہ میں مسلمان ہونا چاہتا تھا مگر میرے قبیلے کے لوگوں نے مجھے جنگ میں آنے پر مجبور کردیا، آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ بہر حال ! جو فدیہ دینا طے ہوا ہے وہ تو تمہیں دینا ہوگا اور اپنے بھتیجوں عقیل اور نوفل کا فدیہ…
Read the full tafseer →انہوں نے اللہ کے ساتھ یوں خیانت کی کہ اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کیا۔ اور اللہ وحدہ کو اپنا رب تسلیم نہ کیا حالانکہ اس نے ان کی فطرت سے یہ عہد لیا تھا۔ اور اگر انہوں نے حضور ﷺ سے بھی خیانت کا ارادہ کیا۔ حالانکہ اب وہ آپ کی قید میں ہیں تو ان کو پہلی خیانت کے نتائج پر غور کرنا چاہئے کہ اب وہ مسلمانوں کے ہاں قید ہیں اور اللہ نے ان کو رسول اللہ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے اور اللہ علیم و حکیم ہے اور وہ سب کچھ جانتا ہے۔
امام قرطبی نے اپنی تفسیر میں ابن عربی کا یہ قول نقل کیا ہے کہ جب مشرکین قید ہوئے تو ان میں سے بعض لووں نے اسلام کے متعلق بات کی۔ لیکن وہ دل سے مسلمان نہ تھے۔ اسلام کے بارے میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–71
4 بعض قیدیوں نے اپنے اسلام کا اظہار کیا تھا (مثلاً حضرت عباس ؓ وغیرہ) ان سے کہا گیا کہ اللہ دیکھے گا کہ واقعی تمہارے دل میں ایمان و تصدیق موجود ہے تو جو کچھ زر فدیہ اس وقت تم سے وصول کیا گیا ہے اس سے کہیں زیادہ اور کہیں بہتر تم کو مرحمت فرمائے گا، اور پچھلی خطاؤں سے درگزر کرے گا۔ اور اگر اظہار اسلام سے صرف پیغمبر کو فریب دینا مقصود ہے یا دغابازی کرنے کا ارادہ ہے تو پیشتر خدا سے جو دغابازی کرچکے ہیں، یعنی فطری عہدالست کے خلاف کفر و شرک اختیار کیا یا بعض " بنی ہاشم " جو ابو طالب کی زندگی میں عہد کر کے آنحضرت ﷺ کی حمایت پر متفق ہوئے تھے۔ اب کافروں کے ساتھ ہو کر آئے اس کا انجام آنکھوں سے دیکھ لیا…
Read the full tafseer →آیت 71 وَاِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَکَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰہَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْکَنَ مِنْہُمْ ط وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ ۔
یعنی ان قیدیوں میں ایسے بھی ہوں گے جو آپ ﷺ سے جھوٹ بولیں گے ‘ جھوٹے بہانے بنائیں گے ‘ بےجا معذرتیں پیش کریں گے۔ تو اس نوعیت کی خیانتیں یہ اللہ سے بھی کرتے رہے ہیں اور ان کے ایسے ہی کرتوتوں کی پاداش میں ان کو یہ سزا دی گئی ہے کہ اب یہ لوگ آپ ﷺ کے قابو میں ہیں۔
اب اگلی آیات گویا اس سورة مبارکہ کا حاصل کلام یعنی concluding آیات ہیں۔
Read the full tafseer →73 جب اسلام سے مقصود دھوکا ہو تو بھی قبول کرو۔ اللہ فیصل ہوگا :۔ یعنی اگر ان جنگی قیدیوں کا اظہار اسلام سے مقصود صرف آپ کو دھوکا دینا ہو تو بھی کوئی بات نہیں آپ ان پر اعتماد کیجئے، کیونکہ اس قسم کے لوگ پہلے اللہ سے بھی بدعہدی کرچکے ہیں اور ان سے مراد بنی ہاشم کے وہ لوگ ہیں جنہوں نے ابو طالب کی زندگی میں آپ کی حمایت کا عہد کیا اور اس پر اتفاق کیا تھا اور قسمیں کھائی تھیں۔ پھر انہی میں سے کچھ لوگ کافروں کے ساتھ مل کر مسلمانوں سے لڑنے آئے تو اللہ نے ان کو سزا دے دی اور وہ آپ کے قیدی بن گئے اور اگر اب بھی بدعہدی کریں گے تو بھی اللہ کی گرفت سے بچ نہیں سکتے۔
Read the full tafseer →105 ۔ (اور ان کی خیانت کو چلنے نہ دیا) مطلب یہ ہے کہ اگر ان کی نیت خالص نہ بھی ہو۔ اور ان کا مقصود آپ کو دھوکا ہی دینا ہو، جب بھی آپ تشویش نہ کیجئے۔ اللہ ان کی چالاکی چلنے نہ دے گا۔ اور انہیں آپ کے ہاتھ میں گرفتار کرا دے گا جیسا کہ اس کے قبل جنگ بدر میں کرچکا ہے۔ (آیت) ” ان یریدوا خیانتک “۔ یعنی یہ اگر دل سے مسلمان نہیں ہیں بلکہ محض اظہار اسلام سے آپ کو دھوکا دینا چاہتے ہیں۔ خیانۃ کا لفظ وسیع ہے۔ ہر قسم کی چالاکی اس کے تحت میں داخل ہے۔ (آیت) ” فقد خانوا اللہ من قبل “۔ اور آپ کی مخالفت کرچکے اور آپ کے مقابلہ میں آچکے ہیں۔ (آیت) ” فامکن منھم “۔ یعنی اللہ نے انہیں آپ کے قابو میں دے دیا، مثلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–71
ترجمہ : اے نبی ان لوگوں سے کہو جو تمہارے قبضہ میں قید ہیں اور ایک قراءت میں اَسْرَیٰ ہے اگر اللہ تمہارے دلوں میں کوئی خیر دیکھے گا (یعنی ایمان و اخلاص) تو جو کچھ تم سے فدیہ کے طور پر لیا ہے اس سے زیادہ دے گا اس طور پر کہ دنیا میں تم کو اس کا دوگنادے گا اور آخرت میں تم کو ثواب دے گا، اور تمہارے گناہوں کو معاف کردے گا، اللہ بڑا غفور رحیم ہے اور اگر یہ قیدی اپنی کہی ہوئی بات (اظہار اسلام) میں خیانت کرتے ہیں تو یہ لوگ بدر سے پہلے اللہ کے ساتھ کفر کرکے خیانت کرچکے ہیں آخر اس نے تم کو ان پر بدر میں قتل و قید کے ذریعہ قدرت دیدی اگر انہوں نے پھر ایسی حرکت کی تو ان کو ایسی ہی توقع رکھنی چاہیے، اللہ…
Read the full tafseer →وان یرید واخیانتک فقد خانوا اللہ من قبل فامکن منھم وا اللہ علیم حکیم۔ اور اگر وہ آپ سے فریب کرنا چاہیں گے تو (پرواہ نہ کرو) اس سے پہلے بھی وہ اللہ سے خیانت کرچکے اور ان کو اللہ نے (آپ کے) قابو میں دے دیا۔ اور اللہ جاننے والا ‘ حکمت والا ہے۔
یعنی فدیہ دے کر یا مفت قید سے چھوٹ کر اگر وہ بدعہدی اور پیمان شکنی کریں گے (تو عہد شکنی کا وبال انہی پر پڑے گا) اس کا ثبوت یہ ہے کہ عہد الست کو انہوں نے اس سے پہلے توڑ دیا کفر و شرک میں مبتلا ہو کر۔ یا یہ مراد ہے کہ عقل عطا فرما کر جو ان سے (فطری) عہد لیا گیا ‘ اس کو انہوں نے توڑ دیا ‘ آخر اللہ نے ان پر آپ کو قابو عنایت کردیا۔ اب اگر دوبارہ یہ عہد شکنی…
Read the full tafseer →(71) اے محمد ﷺ اگر یہ ایمان کا اظہار کرکے خیانت کرنا چاہیں تو اس سے پہلے بھی انہوں نے ایمان نہ لاکر اور گناہوں کا ارتکاب کرکے اللہ تعالیٰ کے ساتھ خیانت کی ہے پھر اللہ تعالیٰ نے غزوہ بدر کے دن آپ کو ان پر غلبہ عطا فرمادیا ان لوگوں کے دلوں میں جو کچھ خیانت وغیرہ ہے اللہ تعالیٰ اس سے اچھی طرح واقف ہیں اور جو ان کے متعلق فیصلہ فرمایا ہے اس کی حکمت کو جاننے والے ہیں۔
Read the full tafseer →وَاِنْ يُّرِيْدُوْا خِيَانَتَكَ : یعنی اگر وہ اسلام کا دعویٰ یا آئندہ آپ سے نہ لڑنے کا وعدہ صرف رہائی اور آپ کی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے کر رہے ہیں اور ان کے دل میں کھوٹ ہے، تو پہلے انھوں نے اللہ کے ساتھ شرک اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جنگ کی خیانت کر کے کیا حاصل کرلیا، یہی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان پر قابو عطا فرمایا، اب بھی ایسا ہی ہوگا۔ اس میں رسول اللہ ﷺ کے لیے خوش خبری اور قیدیوں کے لیے وعید ہے۔ ”فَاَمْكَنَ“ کا مفعول محذوف ہے، یعنی ”أَمْکَنَکَ مِنْھُمْ“ کہ اس نے آپ کو ان پر قابو دے دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–71
اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ قولہ تعالیٰ : یایھا النبی قل لمن فی ایدیکم من الاسری کہا گیا ہے کہ یہ خطاب حضور نبی مکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب کو ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ خطاب صرف آپ کو ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا ہے : اس آیت میں قیدیوں سے مراد عباس اور ان کے ساتھی ہیں۔ انہوں نے حضور نبی مکرم ﷺ سے کہا : ہم اس (دین) کے ساتھ ایمان لائے جو آپ لے کر آئے اور ہم شہادت دیتے ہیں کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ یقینا ہم آپ کے لیے آپ کی قوم پر مخلص رہیں گے۔ پس یہ آیت نازل ہوئی۔ اور امام مالک (رح) کے قول سے اس کا بطلان پہلے گزر چکا ہے۔
اور مصنف ابی دائود میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے…
Read the full tafseer →1:۔ ابن منذر وابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وان یریدوا خیانتک “ یعنی اگر ان کا قول جھوٹا ہے (تو فرمایا) (آیت) ” فقد خانوا اللہ من قبل “ یعنی انہوں نے کفر کیا اور آپ سے لڑے تو اللہ تعالیٰ نے ان سے آپ کو محفوظ رکھا۔
Read the full tafseer →وَاِنْ [ اور اگر ] يُّرِيْدُوْا [ وہ ارادہ کریں گے ] خِيَانَتَكَ [ آپ سے خیانت کا ] فَقَدْ خَانُوا [ تو انہوں نے خیانت کی ہے ] اللّٰهَ [ اللہ سے ] مِنْ قَبْلُ [ اس سے پہلے ] فَاَمْكَنَ [ نتیجتا اس نے (آپ کے ) قابو میں دیا ] [ مِنْهُمْ ۭ : ان کو ] [ وَاللّٰهُ : اور اللہ ] [ عَلِيْمٌ : بہت جاننے والا ہے ] [ حَكِيْمٌ : حکمت والا ہے ]
Read the full tafseer →پھر فرمایا (وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَکَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰہَ مِنْ قَبْلُ ) کہ یہ قیدی اگر آپ کی خیانت کا ارادہ کریں۔ واپس جا کر جنگ کرنے کی نیت سے لوٹ آئیں یا آپ کے مقابلہ میں مشرکین کی مدد کرنے لگیں تو آپ فکر مند نہ ہوں۔ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ کی خیانت کرچکے ہیں اللہ نے جو ہر عاقل سے توحید کے بارے میں عہد لیا تھا اسے توڑا اور کفر اختیار کیا پھر اللہ تعالیٰ شانہٗ نے آپ کو ان پر قدرت دے دی اور انہیں بدر میں مقتول کروا دیا اور قیدی بنا کر مدینہ میں حاضر کروا دیا۔ اگر پھر انہوں نے ایسا کیا تو اللہ تعالیٰ پھر آپ کی مدد فرمائے گا (وَ اللّٰہُ عَلِیْمٌ) اور اللہ کو سب کچھ معلوم ہے وہ سب کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–71
تلقین احکام دربارۂ اسیران جنگ جنگ
قال اللہ تعالیٰ ﷺ ان کان لنبی ان یکون لہ اس ری حتی یثخن فی الارض۔۔۔ الی۔۔۔ واللہ علیم حکیم
(ربط) گزشتہ آیات میں جہاد و قتال کے مسائل اور احکام کا بیان تھا چونکہ جہاد و قتال میں بسا اوقات کفار قید ہو کر آتے ہیں اس لیے آئندہ آیات میں اسیران جنگ اور خاص کر اسیران بدر کے متعلق احکام بیان کرتے ہیں کیونکہ قیدیوں کے قتل اور فدیہ کا فیصلہ قتال سے فارغ ہونے کے بعد ہوتا ہے اس لیے اس سورت میں احکام قتال کو۔ قیدیوں کے احکام پر ختم فرمایا۔
شان نزول۔
اور شان نزول ان آیات کا یہ ہے کہ جب جنگ بدر میں ستر کافر قید ہو کر آئے تو آں حضرت ﷺ نے ان کے بارے میں صحابہ سے مشورہ کیا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–71
ٖف 71: ساتواں قانونِ جہاد برائے پیغمبر علیہ السلام۔ بعض قیدیوں نے اسلام کا اظہار کیا تھا۔ ان کے بارے میںحضور ﷺ کو حکم دیا کہ آپ ان سے فرما دیں کہ اگر واقعی تم نے خلوص دل سے ایمان قبول کیا ہے تو غم نہ کرو جو فدیہ تم سے لے لیا گیا ہے اللہ تعالیٰ تم کو اس سے بہتر دولت عطا فرمائے گا۔ دنیا میں اس کے عوض کئی گنا مال دے گا یا آخرت میں اس کا اجر دے گا۔ “ خَیْرًا ” اول سے ایمان و تصدیق یا انابت الی اللہ مراد ہے اور “ خَیْرًا ” ثانی “ مَالًا ” مقدر کی صفت ہے۔ اور اگر وہ خیانت کا ارادہ رکھتے ہوں یعنی فدیہ دیتے وقت انہوں نے آپ سے جو عہد کیا ہے کہ آئندہ آپ کے ساتھ جنگ نہیں کریں گے۔ اگر وہ اس عہد کی خلاف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–73
جنگی قیدیوں کا مسئلہ :
مالِ غنیمت اور غزوہ بدر کے جنگی قیدیوں کا حال گذشتہ درس میں بھی بیان ہوچکا ہے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ ہر قیدی کا فدیہ چار سو دینار مقرر ہوا۔ قیدیوں کے رشتہ داروں نے انہیں چھڑانے کی کوشش کی جس قیدی کا فدیہ وصول ہوجاتا اسے چھوڑ دیا جاتا بعض قیدیوں کے رشتہ دار فدیہ دینے کی پوزیشن میں نہیں تھے ان میں سے جو پڑھے لکھے تھے ان کو کہا گیا کہ وہ اتنے اتنے آدمیوں کو پڑھنا لکھنا سکھا دیں تو یہی ان کا فدیہ ہوگا۔ چناچہ بعض قیدی اس شرط پر بھی رہا کیے گے تا ہم قیدیوں کی اکثریت نے فدیہ ادا کر کے رہائی حاصل کی۔ حضور ﷺ کے چچا عباس ؓ بھی جنگی قیدیوں میں شامل تھے۔ اگرچہ وہ دل سے مسلمانوں…
Read the full tafseer →وَاِنْ يُّرِيْدُوْا خِيَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللہَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْہُمْ 0 ۭ وَاللہُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ 71
خون
الخِيَانَة والنّفاق واحد، إلا أنّ الخیانة تقال اعتبارا بالعهد والأمانة، والنّفاق يقال اعتبارا بالدّين، ثم يتداخلان، فالخیانة : مخالفة الحقّ بنقض العهد في السّرّ. ونقیض الخیانة :
الأمانة وعلی ذلک قوله : لا تَخُونُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ وَتَخُونُوا أَماناتِكُمْ
[ الأنفال/ 27] ،
( خ و ن ) الخیانۃ
خیانت اور نفاق دونوں ہم معنی ہیں مگر خیانت کا لفظ عہد اور امانت کا پاس نہ کرنے پر بولا جاتا ہے اور نفاق دین کے متعلق بولا جاتا ہے پھر ان میں تداخل ہوجاتا ہے پس خیانت کے معنی خفیہ…
Read the full tafseer →1 ؎ گو یہ حکم قتل سخت تھا مگر مصلحت وقت کے مناسب تھا اور ایسے مصالح کو وہی خوب سمجھتے ہیں جو جنگ میں شریک ہوتے ہیں اور وہی ایسی مصلحت کا خیال کرکے باوجود رحم دلی اور مہذب ہونے کے کو رٹ مارشل کا حکم دیتے ہیں نبی (علیہ السلام) چونکہ بالطبع رحیم و کریم تھے فدیہ لے کر چھوڑ دیا چونکہ دراصل مصلحت وقت کے خلاف تھا اس لیے ان آیات میں اس کی طرف اشارہ کرکے عتاب ہوتا ہے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–71
یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ قُلْ لِّمَنْ فِیْٓ اَیْدِیْکُمْ مِّنَ الْاَسْرٰٓیلا اِنْ یَّعْلَمِ اللّٰہُ فِیْ قُلُوْبِکُمْ خَیْرًا یُّؤْتِکُمْ خَیْرًامِّمَّآ اُخِذَ مِنْکُمْ وَیَغْفِرْلَکُمْط وَاللّٰہُ غَفُوْرٌرَّحِیْمٌ۔ وَاِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَکَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰہَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْکَنَ مِنْھُمْطوَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ۔ (الانفال : 70، 71)
اے نبی ! کہہ دیجئے ان سے جو آپ کے ہاتھوں میں قیدی ہیں، اگر اللہ تمہارے دلوں میں کوئی بھلائی پائے گا تو جو کچھ تم سے لیا گیا ہے اس سے بہتر تم کو وہ عطا فرمائے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا اور مہربان ہے۔ اور اگر یہ تم سے بد عہدی کریں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–71
فہم القرآن
ربط کلام : فیصلہ کن جنگ کرنے کا حکم دینے کے بعد قیدیوں کے بارے میں اصول بیان کیا اور بدر کے مال غنیمت کی اجازت دیتے ہوئے تسلی دی کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری کوتاہی کو معاف کردیا ہے۔ اب ان قیدیوں کو نبی اکرم ﷺ کی زبان اطہر سے نصیحت کی جا رہی ہے جن کے متعلق آپ نے بہترین سلوک کرنے کا حکم دیا تھا۔
اے نبی ! جو لوگ تمہارے ہاتھ آئے ہیں انھیں سمجھاؤ اور تسلی دو اگر اللہ تعالیٰ نے تمہارے دلوں میں خیر دیکھی۔ خیر سے مراد ایمان ہے تو اللہ تعالیٰ تمہیں اس فدیہ کے بدلے بہتر مال عنایت فرمائے گا۔ اگر تم ایمان لے آؤ تو تمہارے سابقہ جرائم اور گناہ معاف کردیے جائیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا…
Read the full tafseer →اگر فدیہ میں چاپلوسی مقصود تھی تو دوبارہ پکڑے جائیں گے :
آیت 71: وَاِنْ یُّرِیْدُ وْا (اور اگر یہ لوگ ارادہ رکھتے ہیں) قیدی خِیَانَتَکَ (آپ کے ساتھ خیانت کا) نمبر 1۔ ارتداد اختیار کر کے آپ کے ساتھ کیا ہوا وعدہ توڑ دیا۔ نمبر 2۔ جس فدیہ کی ضمان دی تھی وہ روک لیا۔ فَقَدْ خَانُوا اللّٰہَ مِنْ قَبْلُ (تو اس سے پہلے انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ خیانت کی تھی) اس کا انکار کر کے اور ہر عاقل سے جو وعدہ لیا گیا اس کی خلاف ورزی کر کے۔
فَاَمْکَنَ مِنْھُمْ (پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو گرفتار کرا دیا) اللہ تعالیٰ نے ان پر تمہیں اختیار دیا۔ یعنی ان پر غلبہ دیا۔ جیسا کہ بدر کے دن اور اگر وہ غداری کی طرف گئے تو…
Read the full tafseer →71(وان یریدوا خیانتک) یعنی قیدی (فقد خانوا اللہ من قبل فامکن منھم ط واللہ علیم حکیم) ابن جریج (رح) فرماتے ہیں خیانت سے کفر مراد ہے یعنی اگر وہ آپ کا انکار کرتے ہیں تو اس سے پہلے اللہ کا بھی انکار کرچکے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے بدر میں ان پر مئومنین کو قدرت دی، ان کو قتل بھی کیا اور قید بھی کیا اور یہ ان کو دھمکی ہے کہ اگر دوبارہ مئومنین سے لڑائی کرنے آئے تو بھی ایسا ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–71
70۔ 71۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اس آیت کی تفسیر میں یہ فرماتے ہیں کہ جب عباس بن عبدالمطلب اور حضرت عباس ؓ کے دونوں بھتیجے عقیل بن ابی طالب اور نوفل بن الحارث بدر کی لڑائی میں قید ہو کر آئے تو حضرت عباس ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ میں تو مسلمان تھا زبردستی لوگ مجھ لے آئے تھے آپ نے فرمایا کہ اگر یہ بات سچ ہے تو اللہ آپ کو بدلہ دے گا آپ اپنا اور اپنے ساتھیوں کا فدیہ دیں تو چھوڑ دئے جائیں انہوں نے کہا اے رسول ﷺ میرے پاس اتنا کہاں ہے آپ نے فرمایا کہ وہ مال کہاں گیا جو آپ مکہ سے چلتے وقت ام الفضل کو دفن کرنے کو دے آئے تھے اور یہ کہا تھا کہ خدانخواستہ اگر کوئی حادثہ مجھ پر گذرے تو یہ مال تمہارا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–72
آیت 70
یہ آیت کریمہ اسیران بدر کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور ان قیدیوں میں رسول اللہ ﷺ کے چچا حضرت عباس بھی شامل تھے۔ جب رہائی کے عوض ان سے فدیہ کا مطالبہ کیا گیا تو انہوں نے عرض کیا کہ انہوں نے اس سے قبل اسلام قبول کیا ہوا تھا، مگر مسلمانوں نے ان سے فدیہ کو ساقط نہ کیا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی اور ان لوگوں کی دل جوئی کی خاطر یہ آیت کریمہ نازل فرمائی جو اس قسم کی صورت حال سے دوچار ہوں۔ فرمایا : (یایھا النبی قل لمن فی ایدیکم من الاسریٰ ان یعلم اللہ فی قلوبکم خیرا یوتکم خیرا مما اخذ منکم) ” اے نبی ! ان سے کہہ دو ! جو تمہارے ہاتھوں میں قیدی ہین، اگر اللہ تمہارے دلوں میں کچھ نیکی جانے گا، تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–71
مال غنیمت کی حلت
قول باری ہے (فکلوا مما غنمتم حلالاً طیباً ۔ پس جو کچھ تم نے حاصل کیا ہے اسے کھائو کہ وہ حلال اور پاک ہے) آیت میں غنائم کی اباحت کا حکم ہے جب کہ اس سے پہلے اس کی ممانعت تھی۔ ہم نے اعمش کی روایت کا ذکر کردیا ہے جو انہوں نے ابو صالح سے کی ہے، اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ہے (لم تحل الغنائم لقوم سود الرئوس قبلکم۔ تم سے پہلے سیاہ سروں والی کسی قوم کے لئے مال غنیمت حلال نہیں تھا) زہری نے سعید بن المسیب سے روایت کی ہے انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے اور انہوں نے حضور ﷺ سے کہ آپ نے فرمایا (اعطیت خمسالم یعطھن احد قبلی، جملت لی الارض مسجد و طھورا، و نصرت بالرعب واحلت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–72
147 اساری بدر سے خیر کا وعدہ : سو پیغمبر کو حکم وارشاد فرمایا گیا کہ آپ اپنے زیر قبضہ ان قیدیوں سے کہو کہ اگر اللہ تعالیٰ نے تمہارے دلوں میں بھلائی دیکھی تو وہ تم کو اس سے کہیں بہتر عطا فرمائے گا جو اس نے تم سے لیا گیا ہے کہ سب خزانوں کا مالک اور سب کچھ دینے والا تو وہی وحدہ لاشریک ہے۔ وہ کتنا بہتر دیگا، کیا اور کہاں سے دیگا اور کس طرح اور کس شکل میں دے گا اور کتنا دیگا۔ سو یہ سب کچھ اسی کے علم و اختیار میں ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اگر تمہاری نیتیں درست ہوئیں اے قیدیو تو وہ بہرحال تم کو بہتر بدلے سے نوازے گا۔ سو اصل مدارو انحصار انسان کے باطن اور اس کی نیت و ارادہ پر ہے۔ بہرکیف اس ارشاد میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–71
قیدیوں کے متعلق سیاسی مصلحت، مغفرت کا وعدہ
تشریح : ان آیات کی وضاحت میں دو رائے پائی جاتی ہیں پہلی رائے یہ ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ غزوہ بدر کے قیدیوں کے بارے میں رسول کریم ﷺ نے جب صحابہ کرام سے مشورہ لیا تو ابوبکر صدیق و دیگر صحابہ کی رائے تھی کہ قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے اور سیدنا عمر ؓ کی رائے تھی کہ ان قیدیوں کو قتل کردیا جائے۔ رسول اکرم ﷺ نے سیدنا ابوبکر ؓ کی رائے کے مطابق قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا۔ سیدنا عمر فاروق ؓ کہتے ہیں دوسرے دن صبح میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ اور ابوبکر ؓ دونوں رو رہے ہیں۔ رونے کی وجہ پوچھنے پر آپ ﷺ نے فرمایا میں اس وجہ سے رو رہا ہوں جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–75
آیات 70 تا 75
اسرار و معارف
رب جلیل نے ان قیدیوں کو فراموش نہیں کردیا ۔ بلکہ انہیں بھی تسلی دی اور فرمایا اے حبیب ان قیدیوں سے کہیئے دل برداشتہ نہ ہوں کہ شکست اور قید کی ذلت کے بعد اب مال دے کر جان چھڑائی بلکہ ان سے کہیے توبہ وا ہے اگر خلوص دل سے آج بھی ایمان لے آؤ تو اللہ کی تمہیں دنیا میں بھی معاف فرمادیں گے ۔ مگر بات دل کی عطافرمائیں گے ۔ جو جنگ اور فدیہ میں تم کھو چکے ہو اور تمہاری ساری خطائیں بھی معاف فرمادیں گے ۔ مگر بات دل کی حالت کی ہے ۔ اگر قلب میں خیربھلائی یعنی نور ایمان اور کی رحمت آجائے تو یہ سب کچھ آج بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ بہت بڑا بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔
ہاں اگر جھوٹ…
Read the full tafseer →ف 2 اور یہ سے بچنے کے لیے جھوٹ موٹ کہہ دیں کہ م اسلام قبول کرتے ہیں یا مسلمانوں سے جنگ نہ کرنے کا جو انہوں نے معاہدہ کیا ہے اس کو توڑیں۔
Read the full tafseer →(8:71) امکن منھم۔ اس نے قابو کر وایا۔ اس نے پکڑوایا۔ متعدی بدو مفعول۔ امکان (افعال) سے واحد مذکر غائب امکنت فلانا من فلان۔ میں نے فلاں کو فلاں پر قدرت دی اصل میں امکنک منھم (اس نے تم کو ان پر قدرت دی۔ اس میں ک ضمیر مفعول اول اور ہم ضمیر مفعول ثانی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–71
آیات : 70 تا 71
لغات القرآن۔
یوتکم۔ وہ تمہیں دے گا۔ خیر۔ زیادہ بہتر۔ اخذ۔ لیا گیا۔ امکن۔ اس نے قوت دی۔
تشریح :
یہ قیدی کون تھے ؟ یہ وہی کفار و مشرکین تھے جنہوں نے مسلمانوں کے ساتھ دشمنی میں کوئی کسر اتھانہ رکھی تھی۔ مسلمانوں کی طرح طرح سے ستایا، قتل کیا، نقصان پہنچایا، وحشیانہ مظالم کئے لیکن اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے انہیں پھر بھی ایک دفعہ توبہ کرنے کا موقع دے دیا۔
اس شرط کے ساتھ آئندہ معافی کا وعدہ فرمایا گیا ہے کہ اے قیدیو ! آج تم سے جو فدیہ لیا گیا ہے اور جو کچھ مال غنیمت ہے وہ تمہیں لوٹا دیا جائے گا شرط یہ ہے کہ اللہ نے اگر تمہارے عمل اور کردار میں خیر کو جان لیا اور تم نے بھی آئندہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–71
فدی اور حضرت عباس ؓ کے کے اسلام لانے کا ذکر اور حضور ﷺ کا علم غیب
شان نزول : حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب عباس بن عبد المطلب اور حضرت عباس رضی الہ عنہ کے دونوں بھتیجے عقیل بن ابی طالب اور نوفل بن الحارث بدر کی لڑائی میں قید ہوکر آئے تو حضرت عباس ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ میں تو مسلمان تھا زبردستی لوگ مجھے لے آئے تھے۔ آپ نے فرمایا اگر یہ بات سچ ہے تو اللہ آپ کو بدلہ دے گا۔ آپ اپنا اور اپنے ساتھیوں کا فدیہ دیں تو چھوڑ دیئے جائیں۔ انہوں نے کہا :'' اے رسول اللہ ﷺ میرے پاس اتنا کہاں ہے '' آپ نے فرمایا وہ مال کہاں گیا جو تم مکہ سے چلتے وقت ام الفضل کو دفن کرنے کو دے آئے تھے اور یہ کہا…
Read the full tafseer →[25] بعض قیدیوں نے اسلام قبول کرلیا تھا۔ ان کے بارے میں ارشاد ہوا کہ اگر واقعی وہ سچے دل سے ایمان لائے
ہیں تو جو کچھ زر فدیہ ان سے وصول کیا گیا ہے اس سے کہیں بڑھ کر اجر اللہ تعالیٰ انہیں عطا فرمائے گا۔ اور اگر قبول اسلام سے پیغمبر اسلام کو فریب دینا مقصود ہے یا دغابازی کرنے کا ارادہ ہے تو اس سے پہلے وہ اللہ سے دغابازی کرچکے ہیں جس کے نتیجے میں وہ آج مسلمانوں کی قید و قابو میں آگئے۔ اللہ سے دغابازی سے مراد وہ فطری عہد الست ہے جس کا ذکر سورة اعراف آیت 172 صفحہ 372 میں کیا گیا ہے اور جس کا انہوں نے پاس نہیں کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–71
(ف 1) یہودیوں میں غنیمت کا استفادہ ناجائز تھا انہیں حکم تھا کہ جو کچھ میدان جنگ میں ہاتھ آئے آگ کی نذر کر دو ، کیونکہ وہ بہت درجہ حریص ہوگئے تھے ، ضرورت اس بات کی تھی ، کہ ان میں زیادہ سے زیادہ اخلاص پیدا کیا جائے ،
مسلمانوں کو اس آیت میں بتایا کہ تمہیں مال غنیمت کا استعمال درست ہے ،
حل لغات :
اسری : جمع اسیر ، بمعنے قیدی ۔ حتی یثخن : مصدر اثخان ہے اچھی طرح خون بہانا ، ثخن بمعنی حجم سطری ۔
Read the full tafseer →71 اور اگر آپ سے نقص عہد اور خیانت کا ارادہ کریں گے اور اسلام کی مخالفت اور مقابلہ کریں گے تو یہ پہلے اللہ تعالیٰ سے بھی خیانت کرچکے ہیں اور اللہ سے دغا کرچکے ہیں پھر اس نے ان کو آپ کے قبضہ میں دے دیا اور آپ کے ہاتھوں ان کو گرفتار کروایا اور اللہ تعالیٰ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں پہلے دغا کرچکے ہیں اللہ سے یہی کفر و انکار اس کے حکم کایا فرمایا ہو بعض ہاشمیوں کو کہ ابوطالب کی زندگی میں سب عہد کر کر متفق ہوئے تھے حضرت کی امداد پر اور اب کافروں کے ساتھ ہوکرآئے اور یہ وعدہ تحقیق ہوا ان میں جو مسلمان ہوئے حق تعالیٰ نے بیشمار دولت بخشی اور جو نہ ہوئے وہ خراب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
ف 2۔ سبب نزول ان آیات کا یہ ہے کہ بدر میں ستر کافر پکڑے ہوئے آئے تو آپ نے صحابہ سے ان کے بارے میں مشورہ کیا بعض نے مشورہ دیا کہ ان کو قتل کردینا چاہیے بعض نے کہا کہ ان سے کچھ مال لے کر چھوڑ دینا چاہیے آپ پر وحی نازل ہوئی کہ ان صحابہ سے فرمادیجیے کہ تم کو اختیار دیا جاتا ہے خواہ ان کو قتل کردو یا فدیہ لے کر چھوڑ دو مگر اس صورت میں اگلے سال ستر آدمی شہید ہوں گے غرض اکثر صحابہ کی یہی رائے تھی کہ خیرہم شہید ہوجائیں گے اس وقت ان کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے شاید یہ مسلمان ہوجائیں اور اس وقت مسلمانوں کو مالی مدد ملے آپ نے بھی بوجہ رحم دلی کے اس رائے کو پسند فرمایا چناچہ باستثناء بعض کے کہ وہ تو قتل…
Read the full tafseer →بدر کے قیدیوں میں سے مسلمان ہوجانے والوں کی طرف سے جو خطرات تھے ان کو رفع کردیا :
94: پیغمبر اسلام ﷺ اور آپ ﷺ کے ذریعہ سے سارے اہل کو تسلی دی جارہی ہے کہ آپ ﷺ نے جب اللہ کے حکم کے مطابق ان کو قتل نہیں کیا بلکہ فدیہ لے کر چھوڑ دیا تو گویا ایک طرح کا ان پر احسان کیا لیکن ان میں سے کوئی ایسا احسان فراموش ہوا کہ وہ دوبارہ آپ کے ساتھ لڑنے کے لئے اپنے لوگوں کے ساتھ شریک ہوا یا یہاں رہ کر جو انہوں نے آپ کے قریب کی بہتے باتیں جان لیں اور کتنی جگہوں سے واقفیت حاصل کرلی اور اس واقفیت کی بناء پر اہل اسلام دکھ پہنچانے کی کوشش کی تو گویا اس طرح وہ خیانت کے مرتکب ہوئے تو یہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے…
Read the full tafseer →About some prisoners of the battle of Badr who had become Muslims, there remained a doubt that they, once back in Makkah, may turn away from Islam and start hurting them thereafter. In the next verse (71), Allah Ta` ala has removed this apprehension by saying: وَإِن يُرِيدُوا خِيَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللَّـهَ مِن قَبْلُ فَأَمْكَنَ مِنْهُمْ ۗ وَاللَّـهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ﴿71﴾ (And if they intend to commit treachery against you, then, they have already committed treachery against Allah, so Allah has given [ you ] power over them. And Allah is All-Knowing, Wise). It means that should these…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–71
49. In attempting to explain the circumstantial background of the above verse, some commentators on the Qur'an have referred to the deliberations for deciding the fate of the Quraysh captives after the Battle of Badr. In that council Abu Bakr pleaded to release the captives in return for ransom while 'Umar suggested that they should be put to the sword. Preferring Abu Bakr's suggestion, the Prophet (peace be on him) set all the captives free in return for ransom. However, God disapproved the decision as is evident from the above-quoted verse. (See Muslim, 'Jihad', 'Bab al-lmdad bi…
Read the full tafseer →