Ayah 8:1انفال یعنی مال غنیمت کا بیان
لفظ انفال نفل کی جمع ہے، نفل لغت میں شی زائد کو کہتے ہیں اسی لیے فرائض کے علاوہ جو نمازیں پڑھی جائیں اور روزے رکھے جائیں انہیں نفل کہا جاتا ہے کیونکہ نوافل اس عمل سے زائد چیز ہے جس کا لازمی طور پر حکم دیا گیا ہے۔ جہاد کے موقعہ پر جو دشمنوں کے اموال ہاتھ آجائیں جنہیں مال غنیمت کہا جاتا ہے۔ یہاں انفال سے وہ مراد ہیں اور امیر لشکر جو غازی کے لیے اس کے مقررہ حصہ سے زائد دینے کا اعلان کر دے اس کو بھی نفل کہا جاتا ہے، مسلمان کی جنگ اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے لیے ہوتی ہے وہ مال کے لیے نہیں لڑتا، اللہ تعالیٰ کی رضا کے ساتھ جو مال غنیمت میں حصہ مل جائے وہ اللہ تعالیٰ کا مزید انعام ہے (اس لیے اس کو انفال کہا جاتا ہے) ۔
گزشتہ امتوں میں اموال غنیمت کا حکم :
پہلی امتوں میں جب کافروں سے جنگ ہوتی تھی اور ان کے مال ہاتھ آتے تھے تو انہیں آپس میں بانٹنے اور استعمال کرنے کی اجازت نہ تھی بلکہ آسمان سے آگ آتی تھی اور اسے جلا دیتی تھی اور یہ اس بات کی دلیل ہوتی تھی کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں مجاہدین کا جہاد قبول ہوگیا۔ اگر مال غنیمت جمع کر کے رکھ دیا جاتا اور آگ نازل نہ ہوتی تو سمجھا جاتا تھا کہ اس مال میں سے کسی نے کچھ غلول کیا ہے، یعنی چھپا کر کچھ مال لے لیا۔
ایک نبی کے جہاد کا واقعہ :
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ایک نبی نے جہاد فرمایا اور فتح کے بعد اموال غنیمت جمع کیے گئے۔ اس کے بعد آگ آئی تاکہ ان کو کھاجائے مگر آگ نے اس کو نہ کھایا یعنی نہیں جلایا۔ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ معلوم ہوتا ہے تم میں سے کسی نے خیانت کی ہے لہٰذا ہر قبیلہ کا ایک آدمی مجھ سے بیعت کرے، بیعت کرتے کرتے ایک شخص کا ہاتھ ان کے ہاتھ سے چپک کر رہ گیا۔ آپ نے فرمایا کہ تم ہی لوگوں میں سے کوئی شخص خیانت کرنے والا ہے۔ اس کے بعد وہ لوگ بیل کے سر کے برابر سونا لے کر آئے اور اس کو مال غنیمت میں ملا کر رکھ دیا تو آگ آئی اور اس نے تمام غنیمت کو جلا دیا۔ (رواہ البخاری ص 440 ج 1)
اموال غنیمت کا حلال ہونا امت محمدیہ ﷺ کی خصوصیت ہے
حضرت ابوہریرہ ؓ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھے انبیاء ( علیہ السلام) پر چھ چیزوں کے ذریعہ فضیلت دی گئی۔ ایک یہ کہ مجھے جوامع الکلم عطا کیے گئے (جو الفاظ مختصر ہوں اور بہت سے معانی پر دلالت کرتے ہوں انہیں جو امع الکلم کہا جاتا ہے) دوسرے رعب کے ذریعہ میری مدد کی گئی (کہ دور دور تک دشمن ہیبت کھاتے ہیں اور مرعوب ہوتے ہیں) تیسرے اموال غنیمت میرے لیے حلال کردیئے گئے۔ (جو دوسری امتوں کے لیے حلال نہ تھے) چوتھے پوری زمین میرے لیے سجدہ گاہ بنا دی گئی اور طہارت کی جگہ بنا دی گئی (جہاں وقت ہوجائے نماز پڑھ لیں مسجد کی کوئی قید نہیں، اور پانی نہ ملے تو تیمم کرلیں) پانچویں میں ساری مخلوق کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا (آپ سے پہلے انبیاء کرام (علیہ السلام) اپنی اپنی قوم کی طرف مبعوث ہوتے تھے) چھٹے میرے آنے پر نبیوں کی آمد ختم کردی گئی۔ (رواہ مسلم)
اموال غنیمت کی تقسیم میں اختلاف اور اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فیصلہ
تفسیر روح المعانی ص 160 ج 9 میں حضرت عبادۃ بن صامت ؓ سے نقل کیا ہے کہ بدر میں جو اموال غنیمت حاصل ہوئے تھے اس کے بارے میں مسلمانوں میں اختلاف ہوا۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ یہ کس طرح تقسیم کیے جائیں ؟ ان کے بارے میں مہاجرین کا فیصلہ معتبر ہوگا یا انصار کا یا دونوں جماعتوں کا ؟ اس پر آیت بالا نازل ہوئی ان حضرات کے سوال کے جواب میں اللہ جل شانہٗ نے فرمایا (قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰہِ وَ الرَّسُوْلِ ) (آپ فرما دیجیے کہ اموال غنیمت اللہ اور اس کے رسول ہی کے لیے ہیں) جس کا مطلب یہ ہے کہ غنائم کا فیصلہ وہی ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے صادر ہو یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق رسول اللہ ﷺ تقسیم فرمائیں گے اس بارے میں کسی کی رائے کو کوئی دخل نہیں چناچہ بعد میں ان کی تقسیم کا طریقہ بیان فرما دیا جو آیت کریمہ (وَ اعْلَمُوْٓا اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ ) میں مذکور ہے۔
اللہ سے ڈرنے اور آپس میں تعلقات درست رکھنے کا حکم
یہ ارشاد فرما کر کہ ” انفال اللہ اور اس کے رسول ہی کے لیے ہیں “ تین باتوں کا حکم فرمایا اول یہ کہ اللہ سے ڈرو اور دوم یہ کہ اپنے آپس کے تعلقات کو درست رکھو اور سوم یہ کہ اللہ کی اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ یہ تینوں نصیحتیں ایسی ہیں کہ ان پر عمل کرنے سے آخرت میں بھی کامیابی ہوگی کیونکہ تقویٰ اختیار کرنے کی صورت میں گناہوں سے پرہیز رہے گا اور آپس کی اصلاح کرنے سے حسد اور بغض اور نزاع وجدال سے سلامتی رہے گی اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کا جو حکم فرمایا یہ تعمیم بعد التخصیص ہے جو تمام اوامرو نواہی کو شامل ہے۔ یہ اطاعت ہی تو ایمانیات کی روح ہے۔ اس میں ہر برائی کی کاٹ ہے۔
انفال کے دوسرے معنی :
بعض مفسرین کی رائے ہے کہ یہاں انفال کے دوسرے معنی مراد ہیں اور وہ یہ ہیں کہ جب امیر لشکر یوں اعلان کر دے کہ جو شخص کسی کافر کو مار دے تو اس کافر کا سامان قاتل ہی کو دیا جائے گا اور کسی چھوٹے سے فوجی کو بڑے لشکر سے انتخاب کر کے کسی خاص جانب جہاد کے لیے بھیج دے اور یہ اعلان کر دے کہ وہاں سے جو مال غنیمت ملے گا وہ تم ہی لوگوں کا ہوگا یعنی اس میں سے خمس یعنی 5 ؍ 1 حصہ نکال کے سب تم ہی کو دے دیا جائے گا یہ جو علیحدہ سے مخصوص کرنے کا اعلان ہے یہ تنفیل اور جو مال ان لوگوں کو دینے کا اعلان کردیا جائے وہ نفل ہے بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس طرح کے بعض واقعات انفال کے بارے میں پیش آئے تھے اور صحابہ میں اختلاف ہوگیا تھا۔ اس پر آیت بالا نازل ہوئی (راجع تفسیر ابن کثیر ص 283 ج 2) جن حضرات نے اس قول کو اختیار کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ (یَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الْاَنْفَالِ ) میں لفظ عَنْ زائد ہے اور یَسْءَلُوْنَ بمعنی یطلبون ہے لیکن عَنْ کو زائد کہنے والی بات دل کو نہیں لگتی۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
Ayah 8:2اہل ایمان کے اوصاف کا بیان
ان آیات میں اہل ایمان کے چند اوصاف بیان فرمائے ہیں۔
جب اللہ کا ذکر ہوتا ہے تو ان کے دل خوف زدہ ہوجاتے ہیں :
اول : یہ فرمایا کہ جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل خوف زدہ ہوجاتے ہیں، ان کے دلوں پر اللہ کی عظمت ایسی چھائی ہوئی ہے کہ جب اللہ کا ذکر ہوتا ہے تو ہیبت اور خوف کی وجہ سے ان کے دل ڈر جاتے ہیں، مومن بندہ کو اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ رہتی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا رہتا ہے تو اللہ کی یاد سے اس کے دل کو اطمینان ہوتا ہے اور جب اس کے سامنے اللہ کا ذکر ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی عظمت اور جلال کی وجہ سے اس کے دل میں خوف پیدا ہوجاتا ہے۔ یہ ہی خوف تو ہے کہ جب وہ کسی ظلم یا گناہ کا ارادہ کرے اور اس سے کہہ دیا جائے کہ اللہ سے ڈر تو وہیں ٹھٹھک کر رہ جاتا ہے اور گناہ کرنے کی جرأت نہیں کرتا، بر خلاف اہل کفر اور اہل نفاق کے کہ ان کے دل میں ایمان نہیں، اللہ کی عظمت بھی نہیں، ہیبت بھی نہیں، لہٰذا وہ بغیر کسی پس و پیش کے گناہ کرلیتے ہیں۔
اللہ کی آیات پڑھی جاتی ہیں تو اہل ایمان کا ایمان بڑھ جاتا ہے
دوسری صفت یہ بیان فرمائی کہ جب ان پر اللہ کی آیات پڑھی جاتی ہیں یعنی ان کو سنائی جاتی ہیں تو ان کے سننے سے ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے یعنی نور ایمان میں ترقی ہوجاتی ہے اور اعمال صالحہ کی طرف اور زیادہ توجہ ہوجاتی ہے اور ایمان و یقین کی وجہ سے اعمال صالحہ کی طرف طبیعت خود بخود چلنے لگتی ہے اور گناہوں سے نفرت ہوجاتی ہے۔
تیسری صفت یہ بیان فرمائی کہ وہ اپنے رب پر تو کل کرتے ہیں، تو کل اہل ایمان کی بہت بڑی فضیلت ہے اور بہت بڑی منقبت ہے، اپنے سب کاموں میں اللہ پر بھروسہ کرنا اور اسباب ظاہرہ اختیار کرتے ہوئے بھی اللہ تعالیٰ ہی پر نظر رکھنا اور یہ یقین کرنا کہ اللہ تعالیٰ ہی رزاق ہے اور قاضی الحاجات ہے اور ہم اس کے ہر فیصلے پر اس کی قضاء و قدر پر راضی ہیں یہ اہل ایمان کی عظیم صفت ہے قرآن مجید میں جگہ جگہ تو کل کا حکم دیا ہے اور اصحاب تو کل کی فضیلت بیان فرمائی ہے۔ سورة آل عمران میں فرمایا (اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُتَوَکِّلِیْنَ ) (بلاشبہ اللہ تو کل کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے) سورة قلم میں فرمایا (قُلْ ھُوَ الرَّحْمٰنُ اٰمَنَّا بِہٖ وَعَلَیْہِ تَوَکَّلْنَا فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ ھُوَ فِیْ ضَلاَلٍ مُّبِیْنٍ ) (آپ فرما دیجیے کہ وہ رحمن ہے ہم اس پر ایمان لائے اور ہم نے اس پر تو کل کیا تو عنقریب جان لو گے کہ کون ہے کھلی گمراہی میں) سورة طلاق میں فرمایا (وَمَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ فَہُوَ حَسْبُہٗ ) (اور جو شخص اللہ پر بھروسہ کرے سو اللہ اس کے لیے کافی ہے) ۔
وہ نماز قائم کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے مال سے خرچ کرتے ہیں
Ayah 8:3چوتھی صفت یہ بیان فرمائی کہ وہ نماز قائم کرتے ہیں اور پانچویں صفت یہ بیان فرمائی کہ جو کچھ ہم نے دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ بدنی عبادات میں سب سے بڑی عبادت نماز ہے۔ قرآن مجید میں نماز کے ساتھ مالی عبادات کا بھی باربار تذکرہ فرمایا ہے۔ اقامت صلوٰۃ یہ ہے کہ نماز کو اچھی طرح ادا کیا جائے جیسا کہ سورة بقرہ کے شروع میں بیان کیا گیا ہے اور مَا رَزَقْنٰھُمْ کے عموم میں سب کچھ داخل ہے۔ یہ لفظ زکوٰۃ مفروضہ اور صدقات واجبہ اور نافلہ سب کو شامل ہے۔
Ayah 8:4مذکورہ صفات والے سچے مومن ہیں :
آخر میں فرمایا (اُولٰٓءِکَ ھُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا لَھُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ وَ مَغْفِرَۃٌ وَّ رِزْقٌ کَرِیْمٌ) (یہ لوگ سچے مومن ہیں ان کے لیے ان کے رب کے پاس درجات ہیں اور مغفرت ہے اور رزق کریم ہے) اس میں اول تو یہ فرمایا کہ جن حضرات کا اوپر ذکر ہوا یہی سچے مومن ہیں پھر ان کے لیے درجات اور مغفرت اور رزق کریم کی بشارت دی، بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہ تین انعام مذکورہ بالا تین قسم کے اوصاف کے مقابل ہیں ایمان باللہ اور اللہ کے ذکر کے وقت ہیبت سے سہم جانا اور اس کی آیات سن کر ایمان کا بڑھ جانا اور اس کی ذات پر بھروسہ کرنا، یہ امور قلب یعنی دل سے متعلق ہیں اس کا انعام درجات عالیہ رفیعہ کی صورت میں ملے گا اوراقامۃ الصلاۃ میں تمام بدنی عبادات آگئیں۔ ان کے مقابلہ میں مغفرت کا انعام ہے۔ (عموماً عبادات بدنیہ کے ذریعہ گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے) اور وجوہ خیر میں مال خرچ کرنے کے مقابلہ میں رزق کا وعدہ فرمایا، قال صاحب الروح (ص 129 ج 9) و ربما یقال فی وجہ ذکر ھذہ الاشیاء الثلاثۃ علی ھذا الوجہ ان الدرجات فی مقابلۃ الاوصاف الثلاثۃ اعنی الوجل والاخلاص و التوکل و یستأنس لہ بالجمع و المغفرۃ فی مقابلۃ اقامۃ الصلوۃ و یستأنس لہ بما ورد فی غیر ماخَیْرَان الصلوٰۃ مکفرات لما بینھا من الخطایا و انھا تنقی الشخص من الذنوب کما ینقی الماء من الدنس، و الرزق الکریم بمقابلۃ الانفاق 1 ھ (صاحب روح المعانی فرماتے ہیں اس ترتیب سے ان تین چیزوں کے ذکر کی وجہ بعض دفعہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ جنت کے درجات تو تین اوصاف یعنی خوف، اخلاص اور توکل کے بدلہ میں اور اطمینان و مغفرت نماز قائم کرنے کے بدلے میں ہے اور کئی احادیث میں ہے کہ نمازیں ایک دوسرے کے درمیانی وقت کی کوتاہیوں کے لیے کفارہ ہیں اور یہ آدمی کو گناہوں سے اس طرح پاک صاف کردیتی ہیں جیسے پانی میل کو صاف کردیتا ہے اور رزق کریم انفاق کے بدلہ میں ملے گا) ۔
درجات جنت کی وسعت :
حضرت عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جنت میں سو درجے ہیں اور ان درجات کے درمیان آپس میں اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان و زمین کے درمیان ہے۔ ان میں فردوس سب سے اعلیٰ درجہ ہے۔ اسی سے جنت کی چاروں نہریں جاری ہیں اور اس کے اوپر اللہ تعالیٰ کا عرش ہے سو جب تم اللہ سے سوال کرو تو فردوس کا سوال کرو۔ (رواہ الترمذی کمافی المشکوٰۃ ص 496)
حضرت ابو سعید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جنت میں سو درجات ہیں اگر سارے جہان ان میں سے ایک درجہ میں جمع ہوجائیں تو اس ایک درجہ میں سب سما جائیں۔ (مشکوٰۃ لمصابیح ص 497)
Ayahs 8:5–8غزوۂ بدرکا تذکرہ
ان آیات میں غزوۂ بدر کا ذکر ہے اور رکوع کے ختم تک بلکہ اس کے بعد بھی متعدد آیات میں اس کا تذکرہ فرمایا ہے اور پھر مزید تفصیل اس سورت کے پانچویں اور چھٹے رکوع میں بیان فرمائی ہے، غزؤہ بدر کا کچھ تذکرہ سورة آل عمران کے رکوع دوم (انوار البیان ج 2) میں اور کچھ آل عمران کے رکوع نمبر 12 (انوار البیان ج 2) میں گزر چکا ہے۔ وہاں فرمایا ہے (وَ لَقَدْ نَصَرَکُمُ اللّٰہُ بِبَدْرٍ وَّ اَنْتُمْ اَذِلَّۃٌ) (اور یہ بات واقعی اور حقیقی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مقام بدر میں تمہاری مدد فرمائی جب کہ تم کمزور تھے) ۔
آگے بڑھنے سے پہلے پورا واقعہ ذہن نشین کرلینا چاہئے تاکہ آیت کریمہ میں جو اجمال ہے اس کی تشریح سمجھ میں آجائے۔ قریش مکہ ہر سال تجارت کے لیے ملک شام جایا کرتے تھے مکہ معظمہ سے شام کو جائیں تو راستہ میں مدینہ منورہ سے گزرنا ہوتا ہے۔ شہر مدینہ میں داخل نہ ہوں تو دور سے یا قریب سے اس کی محاذات سے ضرور گزرنا پڑتا ہے، اب آگے یہ سمجھیں کہ قریش مکہ کا ایک قافلہ تجارت کے لیے شام گیا ہوا تھا بہت سے لوگوں نے اس تجارت میں شرکت کی تھی اور اپنے اموال لگائے تھے۔ قافلہ کے سردار ابو سفیان تھے جو (اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے) جب ابو سفیان کا قافلہ شام سے واپس ہو رہا تھا جس میں تیس یا چالیس افراد تھے اور ایک ہزار اونٹ تھے تو سرور عالم ﷺ کو اس قافلہ کے گزرنے کا علم ہوگیا۔ آپ ﷺ نے اپنے صحابہ ؓ سے فرمایا کہ قریش کا قافلہ ادھر سے گزر رہا ہے چلو اس قافلہ کو پکڑیں گے ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے اموال کو عطا فرما دے، آپ نے تاکیدی حکم نہیں فرمایا تھا اور یہ بھی نہیں فرمایا تھا کہ جنگ کرنے نکل رہے ہیں اس لیے بعض صحابہ آپ کے ہمراہ روانہ ہوگئے اور بعض مدینہ منورہ ہی میں رہ گئے، ابوسفیان کو خطرہ تھا کہ راہ میں مسلمانوں سے مڈ بیڑن نہ ہوجائے اس لیے وہ راستہ میں راہ گیروں سے اس بات کا کھوج لگاتا ہوا جا رہا تھا کہ کہیں مسلمان ہمارے قافلہ کے درپے تو نہیں ہیں۔ جب آنحضرت سرور عالم ﷺ نے اپنے صحابہ ؓ کے ساتھ مدینہ منورہ سے سفر فرمایا تو ابو سفیان کو اس کی خبر مل گئی اس نے اپنا راستہ بد ل دیا اور ضمضم بن عمرو غفاری کو اہل مکہ تک خبر پہنچانے کے لیے جلدی جلدی آگے روانہ کردیا، اس کو اس کام کا محنتانہ دینا بھی طے کردیا۔ ضمضم جلدی سے مکہ پہنچا اور اس نے خبر دے دی کہ محمد ﷺ اپنے ساتھیوں کے ساتھ تمہارے قافلے کے درپے ہیں اور مدینہ منورہ سے روانہ ہوچکے ہیں اپنے قافلہ کی حفاظت کرسکتے ہو تو کرلو، یہ خبر سنتے ہی اہل مکہ میں ہل چل مچ گئی اور مقابلہ کے لیے ایک ہزار آدمی جن کا سردار ابو جہل تھا بڑے کروفر اور اسباب عیش و طرب کے ساتھ اکڑتے اور اتراتے ہوئے بدر کی طرف روانہ ہوگئے بدر ایک آبادی کا نام ہے جو مکہ معظمہ سے براستہ رابغ مدینہ منورہ کو جاتے ہوئے راستہ میں پڑتی ہے یہاں سے مدینہ منورہ سو میل سے کچھ کم رہ جاتا ہے، بدر نامی ایک شخص تھا جس نے اس بستی کو آباد کیا تھا اس کے نام پر اس بستی کا نام ہے اور ایک قول یہ ہے کہ مقام بدر میں ایک کنواں تھا اس کا نام بدر تھا اسی کنویں کے نام سے یہ آبادی مشہور تھی، قریش مکہ اپنے ساتھ گانے بجانے والی عورتیں لے کر نکلے تھے تاکہ وہ گانا گائیں اور لڑائی کے لیے ابھاریں، اس لشکر میں تقریباً تمام سردار ان قریش شامل تھے، صرف ابو لہب نہ جاسکا تھا اس نے اپنی جگہ ابو جہل کے بھائی عاصی بن ہشام کو بھیج دیا تھا، ان لوگوں کے ساتھ دیگر سامان حرب کے علاوہ ساٹھ گھوڑے اور چھ سو زرہیں تھیں اور سواری کے اونٹوں کے علاوہ کثیر تعداد میں ذبح کرنے اور کھانے کھلانے کے لیے بھی اونٹ ساتھ لے کر چلے تھے، سب سے پہلے ابو جہل نے مکہ سے باہر آکر دس اونٹ ذبح کر کے لشکر کو کھلائے پھر مقام عسفان میں امیہ بن خلف نے نو اونٹ ذبح کیے، پھر مقام قدید میں سہیل بن عمرو نے سو اونٹ ذبح کیے پھر اگلی منزل میں شیبہ بن ربیعہ نے نو اونٹ ذبح کیے پھر اس سے اگلی منزل میں (جو مقام حجفہ میں تھی) عتبہ بن ربیعہ نے دس اونٹ ذبح کیے۔ اس طرح ہر منزل میں دس دس اونٹ ذبح کرتے رہے اور کھاتے رہے، اور ابو البختری نے بدر پہنچ کر دس اونٹ ذبح کیے۔
قریش مکہ تو مکہ معظمہ سے چلے اور آنحضرت سرور عالم ﷺ مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے تھے یہ رمضان المبارک کا مہینہ تھا آپ نے عبداللہ بن ام مکتوم ؓ کو اپنا خلیفہ بنایا وہ آپ کے تشریف لے جانے کے بعد لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے۔ آپ کے ساتھ روانہ ہونے والوں میں حضرت ابو لبابہ ؓ بھی تھے۔ آپ نے انہیں مقام روحاء سے واپس کردیا اور امیر مدینہ بنا کر بھیج دیا۔ آپ کے لشکر کی تعداد تین سو تیرہ تھی اور آپ کے ساتھ ستر اونٹ تھے جن پر نمبر وار سوار ہوتے تھے۔ ہر تین افراد کو ایک اونٹ دیا گیا تھا۔ خود آپ ﷺ بھی حضرت ابو لبابہ ؓ اور حضرت علی ؓ کے ساتھ ایک اونٹ میں شریک تھے۔ نوبت کے اعتبار سے آپ بھی پیدل چلتے تھے۔ مقام روحاء تک یہی سلسلہ رہا جب روحاء سے حضرت ابو لبابہ ؓ کو واپس فرما دیا تو آپ حضرت علی ؓ اور حضرت مرثد ؓ کے ساتھ ایک اونٹ میں شریک رہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے بیان فرمایا کہ جب آپ کے پیدل چلنے کی نوبت آتی تھی تو حضرت ابو لبابہ اور حضرت علی ؓ عرض کرتے تھے کہ یا رسول اللہ ﷺ آپ برابر سوار رہیں ہم آپ کی طرف سے پیدل چل لیں گے۔ آپ نے جواب میں فرمایا ما أنتما باقوی منی و لا أنا بأغنی عن الاجر منکما (مشکوٰۃ المصابیح ص 430) (تم دونوں مجھ سے زیادہ قوی نہیں ہو اور ثواب کے اعتبار سے بھی میں تمہاری بہ نسبت بےنیاز نہیں ہوں۔ یعنی جیسے تمہیں ثواب کی ضرورت ہے مجھے بھی ثواب کی ضرورت ہے) جب آنحضرت ﷺ وادی ذفران میں پہنچے تو وہاں قیام فرمایا۔ اب تک تو ابو سفیان کے قافلے سے تعرض کرنے کی نیت سے سفر ہو رہا تھا یہاں پہنچ کر خبر ملی کہ قریش مکہ سے جنگ کی نوبت آگئی۔ آپ ﷺ نے حضرات صحابہ ؓ سے مشورہ فرمایا کہ قریش ہمارے مقابلہ کے لیے نکل چکے ہیں اب کیا کیا جائے۔ حضرت ابوبکر ؓ کھڑے ہوئے اور اچھا جواب دیا پھر حضرت عمر ؓ کھڑے ہوئے انہوں نے بھی اچھا جواب دیا پھر حضرت مقداد ؓ کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ آپ اپنی رائے کے مطابق تشریف لے چلیں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ اللہ کی قسم ایسا نہ ہوگا جیسے بنی اسرائیل نے موسیٰ سے کہہ دیا تھا (اِذْھَبْ اَنْتَ وَ رَبُّکَ فَقَاتِلَآ اِنَّا ھٰھُنَا قٰعِدُوْنَ ) (تو اور تیرا رب چلے جائیں دونوں قتال کرلیں ہم تو یہاں بیٹھے ہیں) آپ تشریف لے چلیں ہم آپ کے ساتھ قتال کرنے والے ہیں۔ قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے اگر آپ ہمیں برک الغماد 1 تک ساتھ لے چلیں گے تو ہم ساتھ رہیں گے اور جنگ سے منہ نہ موڑیں گے۔
اس کے بعد آپ نے فرمایا اشیروا علی ایھا الناس (اے لوگو ! مشورہ دو ) آپ کا مقصد یہ تھا کہ انصاری حضرات اپنی رائے پیش کریں۔ آپ کی بات سن کر حضرت سعد بن معاذ ؓ نے عرض کیا (جو انصار میں سے تھے) کہ یا رسول اللہ ﷺ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ ہم سے جواب لینا چاہتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں ! انہوں نے عرض کیا کہ ہم آپ پر ایمان لائے۔ آپ کی تصدیق کی ہم نے گواہی دی کہ جو کچھ آپ لے کر آئے ہیں وہ حق ہے اور ہم نے آپ سے عہد کیا ہے کہ ہم آپ کی بات مانیں گے اور فرمانبر داری کریں گے آپ اپنے ارادہ کے موافق عمل کریں اور تشریف لے چلیں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے اگر راہ میں سمندر آگیا اور آپ اس میں داخل ہونے لگیں تو ہم بھی آپ کے ساتھ داخل ہوجائیں گے اور ہم میں سے ایک شخص بھی پیچھے نہ رہے گا ہم جنگ میں ڈٹ جانے والے ہیں اور دشمن کے مقابلہ میں مضبوطی کے ساتھ معرکہ آرائی کرنے والے ہیں۔ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری طرف سے آپ کو ایسی بات دکھا دے جس سے آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوجائیں گی۔ آپ اللہ کی برکت کے ساتھ چلئے۔
حضرت سعد بن معاذ ؓ کی بات سن کر آپ کو بہت خوشی ہوئی اور فرمایا کہ چلو خوش خبری قبول کرلو۔ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ دو جماعتوں میں سے تم کو ایک جماعت پر غلبہ عطاء فرمائیں گے (ایک جماعت ابو سفیان کا قافلہ اور دوسری جماعت قریش مکہ کا لشکر) آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اللہ کی قسم میں دیکھ رہا ہوں کہ جس جماعت سے مقابلہ ہوگا ان کے مقتولین کہاں کہاں پڑے ہیں۔
اس کے بعد آپ اپنے صحابہ ؓ کے ساتھ بدر کی طرف روانہ ہوگئے۔ راستہ میں ایک غلام سے ملاقات ہوئی حضرات صحابہ ؓ نے اس سے پوچھا کہ ابو سفیان کا قافلہ کہاں ہے ؟ اس نے کہا اس کا تو مجھے کوئی پتہ نہیں۔ یہ ابو جہل، عتبہ اور امیہ بن خلف آ رہے ہیں۔ بعض
1 ” برک الغماد “ یہ یمن میں ایک جگہ کا نام ہے اور ایک قول یہ ہے کہ یہ جگہ مکہ معظمہ سے پانچ رات کی مسافت پر ہے۔ (نہایہ ابن کثیر)
روایات میں یوں ہے کہ جب ابو سفیان کے قافلے سے تعرض کرنے کے لیے روانہ ہوئے تھے تو ایک دن یا دو دن کی مسافت طے کرنے کے بعد آپ نے صحابہ ؓ سے مشورہ لیا تھا کہ ابو سفیان کو پتہ چل گیا ہے کہ ہم اس سے تعرض کرنے نکلے ہیں (وہ قافلہ تو نکل چکا ہے) اب قریش مکہ کے آنے کی خبر سنی گئی ہے۔ ان سے مقابلہ ہونے کی بات بن رہی ہے اس بارے میں کیا خیال ہے ؟ اس پر بعض صحابہ ؓ نے کہا کہ ہمیں تو قریش کے لشکر سے مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں آپ تو ابو سفیان کے قافلہ کے لیے نکلے تھے آپ نے پھر وہی سوال فرمایا کہ قریش مکہ سے جنگ کرنے کے بارے میں کیا رائے ہے اس پر حضرت مقداد ؓ نے وہ جواب دیا جو عنقریب گزر چکا۔ بعض روایات میں ہے کہ یہ سوال جواب مقام روحاء میں ہوئے، بعض صحابہ ؓ نے جو یہ کہا تھا کہ ہمیں قریش مکہ سے جنگ کی طاقت نہیں۔ ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ (وَ اِنَّ فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ لَکٰرِھُوْنَ یُجَادِلُوْنَکَ فِی الْحَقِّ بَعْدَ مَا تَبَیَّنَ کَاَنَّمَا یُسَاقُوْنَ اِلَی الْمَوْتِ وَ ھُمْ یَنْظُرُوْنَ ) (اور بلاشبہ مومنین کی ایک جماعت کو گراں گزر رہا تھا وہ آپ سے حق کے بارے میں جھگڑ رہے تھے اس کے بعد کہ حق ظاہر ہوچکا تھا گویا کہ وہ موت کی طرف ہانکے جا رہے ہیں اس حال میں کہ وہ دیکھ رہے ہیں) جب ابو سفیان اپنے قافلہ کو لے کر مسلمانوں کی زد سے بچ کر نکل گیا تو اس نے قریش مکہ کے پاس خبر بھیجی کہ تم ہماری حفاظت کے لیے نکلے تھے اب جبکہ ہم بچ کر نکل آئے ہیں تو تمہیں آگے بڑھنے کی ضرورت نہیں۔ لہٰذا واپس چلے جاؤ اس پر ابو جہل نے کہا اللہ کی قسم ہم واپس نہیں لوٹیں گے جب تک کہ ہم بدر نہ پہنچ جائیں وہاں تین دن قیام کریں گے۔ اونٹ ذبح کریں گے کھانے کھلائیں گے، شرابیں پئیں گے اور گانے والیاں گانے سنائیں گی اور عرب کو پتہ چل جائے گا کہ ہم مقابلہ کے لیے نکلے تھے ہمارے اس عمل سے ایک دھاک بیٹھ جائے گی اور لوگ ہم سے ڈرتے رہیں گے۔ لہٰذا چلو آگے بڑھو۔
اللہ جل شانہٗ نے اپنے رسول ﷺ سے وعدہ فرمایا تھا کہ دونوں جماعتوں میں سے ایک جماعت پر تمہیں غلبہ دیا جائے گا۔ جب آپ نے حضرات صحابہ سے مشورہ فرمایا تو ان میں سے بعض صحابہ ؓ نے یہ مشورہ دیا کہ ابو سفیان کے قافلے ہی کا پیچھا کرنا چاہئے کیونکہ وہ لوگ تجارت سے واپس ہو رہے ہیں، جنگ کرنے کے لیے نہیں نکلے، ان میں لڑنے کی قوت اور شوکت نہیں ہے لہٰذا ان پر غلبہ پانا آسان ہے اور قریش کا جو لشکر مکہ مکرمہ سے چلا ہے وہ لوگ تو لڑنے ہی کے لیے چلے ہیں اور تیاری کر کے نکلے ہیں۔ لہٰذا ان سے مقابلہ مشکل ہوگا۔ ان لوگوں کی اس بات کو ان الفاظ میں ذکر فرمایا (وَ تَوَدُّوْنَ اَنَّ غَیْرَ ذَات الشَّوْکَۃِ تَکُوْنُ لَکُمْ ) (اور تم چاہتے تھے کہ وہ جماعت تمہارے قابو میں آجائے جو قوت و طاقت والی نہیں تھی) ۔
قریش مکہ نے آنحضرت سید عالم ﷺ کو اور آپ کے ساتھیوں کو بہت تکلیفیں دی تھیں اور مکہ مکرمہ کو چھوڑنے پر مجبور کردیا تھا۔ حق نہ خود قبول کرتے تھے اور نہ دوسروں کو قبول کرنے دیتے تھے۔ غیر متوقع طور پر بدر میں پہنچے اور معرکہ پیش آنے کی صورت بن گئی۔ اس میں گو بعض اہل ایمان کو طبعاً کراہت تھی، لیکن اللہ تعالیٰ کی تقدیر سب پر غالب ہے۔ جنگ ہوئی اور اہل مکہ نے زبردست شکست کھائی اور ان کا فخر اور طمطراق سب دھرا رہ گیا۔ جس کی تفصیل انشاء اللہ تعالیٰ عنقریب بیان ہوگی۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا (وَ یُرِیْدُ اللّٰہُ اَنْ یُّحِقَّ الْحَقَّ بِکَلِمٰتِہٖ ) (اللہ کو یہ منظور تھا کہ اپنے کلمات کے ذریعہ حق کو ثابت فرما دے) (وَ یَقْطَعَ دَابِرَ الْکٰفِرِیْنَ ) اور کافروں کی بنیاد کو کاٹ دے) (لِیُحِقَّ الْحَقَّ وَ یُبْطِلَ الْبَاطِلَ ) (تاکہ اللہ تعالیٰ حق کا حق ہونا ثابت فرما دے اور باطل کا باطل ہونا ثابت فرما دے) (وَ لَوْ کَرِہَ الْمُجْرِمُوْنَ ) (اگرچہ مجرموں کو نا گوار ہو) ۔
اللہ تعالیٰ نے ایسی تدبیر فرمائی کہ مشرکین مکہ ذلیل ہوئے، اسلام کا حق ہونا علی الاعلان ثابت ہوا اور باطل کا باطل ہونا بھی ظاہر ہوگیا۔ دوست اور دشمن سب نے دیکھ لیا اسی لیے یوم بدر کو یوم الفرقان فرمایا۔ جیسا کہ اس سورت کے پانچویں رکوع میں آ رہا ہے۔ (پوری تفصیل کے لیے البدایہ والنہایہ ص 256 ج 3 کا مطالعہ فرمائیں)
فائدہ : (کَمَآ اَخْرَجَکَ رَبُّکَ ) میں جو کاف تشبیہ ہے اس کے بارے میں مفسرین کے متعدد اقوال ہیں بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ یہ اختلاف المغانم سے متعلق ہے اور مطلب یہ ہے کما انکم لما اختلفتم فی المغانم انتزعہ اللہ منکم کذلک لما کرھتم الخروج الی الاعداء کان عاقبۃ کراھتکم أن قدرہ لکم و جمع بہٖ بینکم و بین عدوکم علی غیر میعاد رشدا وھدیً ۔ (جیسا کہ تم نے مال غنیمت میں اختلاف کیا تو اللہ تعالیٰ نے تم سے چھین لیا اسی طرح جب تم نے دشمن کی طرف نکلنے کو ناپسند کیا تو اس کے دشمنوں سے لڑائی مقدر کردی اور تمہاری اور دشمن کی مڈ بھیڑ کرا دی بغیر کسی وعدہ و میعاد کے) اور بعض حضرت نے اس تشبیہ کو اس طرح بیان کیا ہے۔ یَسْأَلُوْنَکَ عَنِ الْاَنْفَال مجادلۃ کما جادلوک یوم بدر فقالوا اخرجتنا للعیر و لم تعلمنا قتالہ فسنعد لہ ذکرھما (وہ آپ سے مال غنیمت ایسے مانگتے ہیں جیسے وہ آپ سے بدر والے دن جھگڑ رہے تھے اور کہہ رہے تھے آپ نے ہمیں قافلہ کے لیے نکالا تھا لڑائی کی خبر تو نہیں دی تھی کہ ہم اس کی تیاری کرتے) (ابن کثیر ص 284، 285 ج 2) صاحب روح المعانی نے متعدد وجوہ نقل کی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ حالھم ھذہ فی کراھۃ ما وقع فی امر الانفال کحال اخراجک من بیتک فی کراھتھم لہ (غنیمت کے معاملہ میں واقع ہونے والی صورت حال میں ان کی نا پسندیدگی ایسی ہے جیسے آپ کا ان کو گھر سے نکالنا انہیں ناپسند تھا) (یعنی یہ لوگ آپ سے اموال غنیمت کے بارے میں ایسے سوال کر رہے ہیں جیسا کہ اس وقت جھگڑ رہے تھے جب آپ کو اللہ تعالیٰ نے غزوۂ بدر کے لیے مکہ معظمہ سے نکالا تھا۔ اس وقت یہ لوگ کہہ رہے تھے کہ ہمیں پہلے سے نہیں بتایا تھا کہ جنگ کرنی ہوگی۔ اگر آپ پہلے سے بتا دیتے تو ہم اس کے لیے تیاری کرلیتے) (ھذا راجع الی ماذکرہ ابن کثیر اولا) پھر صاحب روح المعانی نے ایک قول یہ نقل کیا ہے کہ تقدیرہ و اصلحوا ذات بینکم کما اخرجک و قد التفت من خطاب جماعۃ الی خطاب واحد (اصل عبارت یہ ہے کہ اور تم آپس میں اصلاح کرلو جیسا کہ آپ کو نکالا ہے۔ اس میں پہلے جماعت کو خطاب ہے پھر روئے سخن ایک کی طرف ہوگیا) پھر لکھا ہے۔ و قیل المراد و اطیعوا اللہ و الرسول کما اخرجک اخراجا لامریۃ فیہ و قیل التقدیر یتوکلون توکلاً کما اخرجک۔ و فیہ اقوال اخر (بعض نے کہا ہے مراد یہ ہے کہ اللہ و رسول کی اطاعت کرو جیسا کہ اس نے تجھے نکالا کہ اس میں کچھ شک نہیں ہے اور بعض نے کہا تقدیر یہ ہے کہ وہ بھروسہ رکھیں جیسا کہ اللہ نے تجھے نکالا) ۔ (راجع روح المعانی ص 169 ج 9)
فائدہ نمبر 2: اس بارے میں روایات مختلف ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قریش مکہ سے مقابلہ کرنے کا مشورہ کہاں فرمایا۔ بعض روایات میں ہے کہ مدینہ منورہ سے ایک دو دن کی مسافت پر پہنچنے کے بعد مشورہ فرمایا اور بعض روایات میں ہے کہ مقام روحاء میں اور بعض روایات میں ہے کہ وادی ذفران میں مشورہ کیا، ممکن ہے تینوں جگہ مشورہ فرمایا ہو اور بار بار انصار سے ان کی رائے کا اظہار مطلوب ہوتا کہ ان کی رضا اور رغبت کا خوب یقین ہوجائے اور ممکن ہے کہ راویوں سے جگہ کی تعیین میں بھول ہوئی ہو، واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
Ayah 8:9غزوۂ بدر کے موقعہ پر رسول ﷺ کا دعا میں مشغول رہنا اور آپ کی دعا قبول ہونا
قریش مکہ اپنے لشکر اور ساز و سامان اور گانے والی عورتیں لے کر بدر پہنچ گئے۔ یہ لوگ مکہ مکرمہ سے آئے تھے۔ آنحضرت سرور عالم ﷺ بھی مدینہ منورہ سے روانہ ہو کر چند دن میں بدر پہنچ گئے۔ راستہ میں متعدد مراحل میں قیام فرمایا اور حضرت صحابہ سے مشورہ کیا جس کی تفصیل اوپر گزر چکی ہے۔ صاحب روح المعانی ص 172 ج 9 میں بحوالہ مسلم و ابو داؤد و ترمذی حضرت ابن عباس ؓ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ مجھے عمر بن الخطاب ؓ نے بتایا کہ بدر کے دن نبی اکرم ﷺ نے اپنے صحابہ پر نظر ڈالی تو یہ حضرات تین سو دس سے کچھ اوپر تھے (ان حضرات کی مشہور تعداد 313 ہے جیسا کہ صحیح بخاری ص 564 میں ذکر ہے) اور مشرکین پر نظر ڈالی تو وہ ایک ہزار سے کچھ زیادہ تھے آپ نے قبلہ کی طرف رخ کیا پھر ہاتھ پھیلا کر اپنے پروردگار سے خوب زور دار دعا کرتے رہے دعاء کے الفاظ یہ ہیں اللّٰھُمَّ اَنْجِزْلِیْ مَا وَعَدْتَّنِی اَللّٰھُمَّ اِنْ تُھْلِکْ ھٰذِہِ الْعِصَابَۃَ مِنْ اَھْلِ الْاِسْلَامِ لَا تُعْبَد فِی الْاَرْضِ (اے اللہ آپ نے جو مجھ سے وعدہ فرمایا ہے پورا فرمائیے اے اللہ اگر مسلمانوں کی یہ جماعت ہلاک ہوگئی تو زمین میں آپ کی عبادت نہ کی جائے گی) ۔
مطلب یہ تھا کہ یہ اہل اسلام کی مختصر سی جماعت ہے اگر یہ ہلاک ہوگئے تو جو ان کے پیچھے مدینہ منورہ میں رہ گئے ان میں بھی کمزوری آجائے گی اور ایمان و اسلام کا سلسلہ منقطع ہوجائے گا پھر آپ کی عبادت کرنے والا کوئی نہ رہے گا۔ آپ نے یہ بات نیاز کے انداز میں بار گاہ الٰہی میں عرض کردی ورنہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اگر کوئی بھی نہ کرے اور کبھی بھی نہ کرے تو اس بےنیاز وحدہٗ لا شریک کو کوئی ضرر یا نقصان نہیں پہنچ سکتا (وہ کسی کی عبادت کا محتاج نہیں) آپ قبلہ رخ ہو کر ہاتھ پھیلائے ہوئے برابر اس دعاء میں مشغول رہے یہاں تک کہ آپ کی چادر بھی آپ ﷺ کے کاندھوں سے گرگئی۔ حضرت ابوبکر ؓ حاضر خدمت ہوئے اور آپ کی چادر لے کر آپ کے مونڈھوں پر ڈال دی پھر آپ سے چھٹ گئے اور عرض کیا یا نبی اللہ ! بس کیجیے آپ نے جو اپنے رب سے بہت زور دار دعا کی ہے یہ کافی ہوگئی۔ بیشک آپ کا رب وعدہ پورا فرمائے گا۔ اس پر یہ آیت (فَاسْتَجَابَ لَکُمْ ) نازل ہوئی۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہاری دعا قبول فرمائی اور ایک ہزار فرشتوں کے ذریعے مدد کرنے کا وعدہ فرمایا جو مسلسل آگے رہیں گے، لفظ مردفین کا ایک معنی تو وہی ہے جو ہم نے ابھی لکھا (کہ مسلسل آتے رہیں گے) اور اس لفظ کے دوسرے معانی بھی مفسرین نے بیان فرمائے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ ہر فرشتے کے پیچھے ایک ایک فرشتہ ہوگا۔ (و ھو قریب من الاول)
فرشتوں کا نازل ہونا اور مومنین کے قلوب کو اطمینان ہونا
صاحب روح المعانی نے بحوالہ ابن جریر حضرت علی ؓ سے نقل کیا ہے کہ جبرائیل (علیہ السلام) ہزار فرشتوں کو لے کر نازل ہوئے جو نبی اکرم ﷺ کے داہنی طرف تھے اور اسی جانب حضرت ابوبکر ؓ بھی تھے اور میکائیل (علیہ السلام) ہزار فرشتوں کو لے کر نازل ہوئے جو نبی اکرم ﷺ کے بائیں طرف تھے اور میں بھی اسی جانب تھا۔
سورۂ آل عمران میں تین ہزار اور پانچ ہزار فرشتوں کا ذکر ہے حضرت قتادہ نے فرمایا کہ اولاً ایک ہزار فرشتوں کے ذریعہ مدد کی، پھر تین ہزار فرشتے آئے پھر اللہ تعالیٰ نے پانچ ہزار کی تعداد پوری فرما دی۔ پھر فرمایا (وَ مَا جَعَلَہُ اللّٰہُ اِلَّا بُشْرٰی وَلِتَطْمَءِنَّ بِہٖ قُلُوْبُکُمْ ) (آل عمران) (فرشتوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے جو امداد فرمائی یہ محض اس لیے ہے کہ تم لوگوں کو بشارت ہو اور تمہارے دلوں کو اطمینان ہو) فرشتوں کی آمد کی پیشگی خبر ایک بہت بڑی خوشخبری تھی جس سے دلوں کو سکون ہوگیا، طبعی طور پر انسان کو اسباب کے ذریعہ تسلی ہوجاتی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسباب کے طور پر فرشتوں کو بھیج دیا گیا۔
Ayah 8:10(وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ ) (اور مدد صرف اللہ ہی کی طرف سے ہے) وہ جس کی چاہے مدد فرمائے اور جیسے چاہے مدد فرمائے (اِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ) (بلاشبہ اللہ تعالیٰ غلبہ والا ہے اور حکمت والا ہے) وہ بغیر فرشتوں کے بھی غلبہ دے سکتا ہے لیکن اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہوا کہ فرشتوں کو بھیجا جائے۔ کسی قوم کو فتح ونصرت اور غلبہ دینے کے لیے اللہ تعالیٰ کو کسی سبب کی ضرورت نہیں۔ لیکن وہ اپنی حکمت کے مطابق اسباب پیدا فرما دیتا ہے اور پھر اسباب کے ذریعہ جو نفع پہنچانا مقصود ہو وہ نفع پہنچا دیتا ہے۔ جو فرشتے آئے تھے انہوں نے تھوڑا بہت قتال بھی کیا جس کا بعض احادیث میں ذکر ہے لیکن پوری طرح قتال میں حصہ نہیں لیا۔ ان کا اصل کام اہل ایمان کو جمانا اور ثابت قدم رکھنا تھا جیسا کہ آئندہ آیت میں (فَثَبِّتُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا) میں ذکر آ رہا ہے اس سے یہ اشکال بھی رفع ہوگیا کہ ہزار آدمیوں کے لیے ایک فرشتہ بھی کافی تھا۔ ہزاروں فرشتوں کی کیا ضرورت تھی۔
Ayah 8:11بدر میں مسلمانوں پر اونگھ کا طاری ہونا
اللہ جل شانہٗ نے مسلمانوں پر یہ بھی انعام فرمایا کہ پریشانی دور فرمانے کے لیے ان پر اونگھ بھیج دی۔ جیسا کہ غزوۂ احد کے موقعہ پر بھی اونگھ بھیجی تھی۔ جس کا ذکر سورة آل عمران میں گزر چکا ہے۔ اس اونگھ کا نفع یہ ہوا کہ وہ جو تکلیف محسوس کر رہے تھے اس کا احساس ختم ہوگیا کو ن کہ نیند ہر چیز سے غافل کردیتی ہے خوشی سے بھی اور رنج سے بھی۔ ان کی پریشانی جاتی رہی، حضرت علی ؓ نے بیان فرمایا کہ ہم سب پر نیند کا غلبہ ہوگیا تھا مگر رسول اللہ ﷺ صبح تک برابر نماز میں مشغول رہے (کمافی الدر المنثور) نیز اللہ تعالیٰ نے بارش بھی نازل فرمائی۔ اس بارش کے دو فائدے ہوئے ایک ایک تو نہانے دھونے اور پانی پینے کا فائدہ ہوا، دوسرے شیطان نے قلوب میں جو ناپاک وسوسے ڈال دیے تھے یہ بارش ان وسوسوں کے ازالہ کا سبب بن گئی نیز یہ بھی فائدہ ہوا کہ مسلمان جس جگہ قیام پذیر تھے وہاں ریت تھی وہ پانی پڑنے کی وجہ سے جم گئی اور جہاں مشرکین ٹھہرے ہوئے تھے۔ وہاں کیچڑ ہوگئی (تفسیر ابن کثیر ص 251 ج 2) میں ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے بیان فرمایا کہ جب رسول اللہ ﷺ بدر تشریف لے گئے اور وہاں آپ اور مشرکین کے درمیان بہت زیادہ ریت تھی۔ اس ریت میں جنگ کرنا بھی مشکل تھا اور ادھر مسلمانوں کو پانی کی ضرورت تھی لہٰذا شیطان نے ان کے دلوں میں وسوسہ ڈالا کہ تم یہ خیال کرتے ہو کہ اللہ کے دوست ہو اور تمہارے اندر خدا کا رسول ﷺ ہے اور حال یہ ہے کہ پانی پر مشرکین نے قبضہ کر رکھا ہے اور تم حالت جنابت میں نمازیں پڑھ رہے ہو۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے خوب زیادہ بارش برسائی۔ لہٰذا مسلمانوں نے پانی پیا اور پاکی حاصل کی (جس سے ظاہری نجاست دور ہوگئی) اور اللہ تعالیٰ نے شیطان کے وسوسہ کو دور فرما دیا (جس سے باطنی نجاست بھی دور ہوگئی) اور ریت سیمنٹ کی طرح جام ہوگیا۔ جس پر مسلمانوں کا اور ان کے جانوروں کا چلنا پھرنا اور دشمنوں سے جم کر مقابلہ کرنا آسان ہوگیا اور اس سے دلوں کو اطمینان ہوگیا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مدد کا ایک منظر جنگ سے پہلے ہی دیکھ لیا تھا۔
Ayah 8:12فرشتوں کا قتال میں حصہ لینا اور اہل ایمان کے قلوب کو جمانا
اس آیت میں اللہ جل شانہٗ نے اپنے بعض انعامات کا تذکرہ فرمایا ہے۔ ارشاد ہے کہ اس وقت کو یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں کو حکم دیا کہ تم مومنین کے قلوب کو جماؤ اور ان کو معرکہ میں ثابت رکھو میں تمہارے ساتھ ہوں یعنی تمہارا مددگار ہوں۔ نیز یہ وعدہ فرمایا کہ میں کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دوں گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس وعدہ کو پورا فرمایا۔ مسلمان جم کر لڑے اور کافر مقتول ہوئے اور مغلوب ہوئے اور قیدی بنے۔ (فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ ) (اور مارو گردنوں پر) اس کے بارے میں بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہ فرشتوں کو حکم ہے کہ وہ مشرکین کو ماریں۔ بعض روایات حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ فرشتوں نے جنگ کی اور بعض کافروں کو مارا، جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے، فرشتوں کا بڑا کام مسلمانوں کو جمانا تھا اس کے ساتھ انہوں نے کچھ قتال میں بھی حصہ لیا۔ جنگ تو اللہ تعالیٰ نے صحابہ ؓ ہی سے کروائی لیکن فرشتوں کو بھی مددگار بنا دیا۔ اس میں یہ بتادیا گیا کہ ہر شخص کو اپنی محنت اور مجاہدہ پر ثواب ملتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو بھی مدد آئے یہ اللہ تعالیٰ کا انعام ہے۔ مسلمانوں میں خود اپنے ہی طور پر لڑنے اور جم کر مقابلہ کرنے کا جذبہ رہنا چاہئے۔
غزوۂ بدر میں فرشتوں کے قتال کرنے کے بارے میں متعدد روایات حدیث اور سِیَر کی کتابوں میں مروی ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ بدر کے دن فرشتوں کی نشانی یہ تھی کہ انہوں نے عمامے باندھے ہوئے تھے جن کے شملے اپنی کمروں پر ڈال رکھے تھے۔ البتہ حضرت جبرائیل کا عمامہ زرد رنگ کا تھا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے یہ بھی فرمایا کہ بدر کا ایک یہ واقعہ بھی بیان کیا کہ ایک مسلمان ایک مشرک کے پیچھے دوڑ رہا تھا اس نے اپنے سامنے کوڑا لگنے کی اور گھوڑ سوار کی آواز سنی جو اپنے گھوڑے کو یوں کہہ رہے تھا اقدم حیزوم کہ اے حیزوم آگے بڑھ (حیزوم اس فرشتہ کے گھوڑے کا نام تھا) اچانک وہ مسلمان کیا دیکھتا ہے کہ وہ مشرک اس کے سامنے چت پڑا ہوا ہے اس پر جو نظریں ڈالیں تو دیکھا کہ اس کی ناک پر ضرب کا نشان ہے اور اس کا چہرہ کوڑے کی ضرب سے چیر دیا گیا ہے۔ یہ بات رسول اللہ ﷺ سے بیان کی تو آپ نے فرمایا تم نے سچ کہا یہ ان فرشتوں کا کام ہے جو تیسرے آسمان سے مدد کے لیے آئے ہیں۔ (صحیح مسلم ص 93 ج 2)
حضرت ابن عباس ؓ نے یہ بھی فرمایا کہ فرشتوں نے مقتولین کی گردنوں کے اوپر مارا تھا اور ان کی انگلیوں کے پوروں پر ایسا نشان تھا جیسے آگ نے جلا دیا ہو۔ حضرت ابو بردہ ؓ نے بیان کیا کہ میں بدر کے دن کٹے ہوئے تین سر لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ وہ میں نے آپ کے سامنے رکھ دیئے اور عرض کیا کہ ان میں سے دو شخصوں کو تو ہم قتل کیا ہے اور تیسرے شخص کو ایک دراز قامت آدمی نے قتل کیا ہے۔ میں اس مقتول کا سر بھی لے آیا ہوں، آپ نے فرمایا وہ دراز قد فلاں فرشتہ تھا، سائب بن ابی حبیش نے بیان کیا جو (بدر کے دن قید کرلیے گئے تھے پھر بعد میں مسلمان ہوئے) کہ مجھے ایک خوب زیادہ بالوں والے دراز قد آدمی نے پکڑ کر باندھ دیا جو سفید گھوڑے پر سوار تھا، عبدالرحمن بن عوف نے مجھے بندھا ہوا دیکھا تو مجھے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لے گئے۔ آپ نے فرمایا تجھے کس نے قید کیا ؟ میں نے کہا میں نہیں جانتا یہ بات میں نے اس لیے کہی کہ میں اصل صورت حال بتانا نہیں چاہتا تھا (کہ ایسے ایسے شخص نے مجھے قید کیا) آپ نے فرمایا کہ تجھے ایک فرشتہ نے قید کیا ہے۔ بعض صحابہ ؓ نے یہ بھی بیان کیا کہ ہم مشرکین کے سر کی طرف تلوار سے اشارہ کرتے تھے تو اس کا سر تلوار پہنچنے سے پہلے ہی جدا ہو کر گر جاتا تھا۔ (البدایہ والنہایہ ص 281 ج 3)
(فَوْقَ الْاَعْنَاقِ ) سے سروں میں مارنا مراد ہے اور کُلَّ بَنَانٍ سے انگلیوں کے پورے مراد ہیں اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اس سے پورا جسم مراد ہے۔ (کمافی روح المعانی)
فَاضْرِبُوْا کا خطاب کس کو ہے ؟ بعض حضرات نے فرمایا کہ یہ فرشتوں کو خطاب ہے اور بعض حضرات نے فرمایا کہ فرشتوں کو اور حضرات صحابہ ؓ سب کو خطاب ہے۔ اعناق اور بنان کا خصوصیت کے ساتھ ذکر فرمانے میں یہ حکمت معلوم ہوتی ہے کہ سروں کے کٹ جانے سے آدمی ضرور مرجاتا ہے اور انگلیوں کے پوروں پر مارا جائے تو اگرچہ مرتا نہیں مگر ہتھیار اٹھانے کے قابل نہیں ہوتا۔ جنگ کرنے سے عاجز رہ جاتا ہے۔
Ayah 8:13مشرکین کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت کی سزا ملی
ذلک کا مشار الیہ ضرب ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کافروں کو مارنے کا یہ حکم اس لیے ہے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی۔ پھر اس کو بطور قاعدہ کلیہ کے ارشاد فرمایا کہ جو بھی کوئی شخص اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرے گا سزا کا مستحق ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ مخالفت کرنے والوں کو سخت عذاب دینے والا ہے۔
Ayah 8:14(ذٰلِکُمْ فَذُوْقُوْہُ ) یہ خطاب اہل کفر کو ہے جو بدر میں شریک ہوئے مطلب یہ ہے کہ اس عذاب کو چکھ لو اور مزید فرمایا (وَ اَنَّ لِلْکٰفِرِیْنَ عَذَاب النَّارِ ) (بلاشبہ کافروں کے لیے دوزخ کا عذاب ہے) دنیا کے عذاب کے بعد آخرت کے عذاب کا بھی تذکرہ فرما دیا اور یہ بتادیا کہ عذاب یہیں ختم نہیں ہوگیا۔
Ayahs 8:15–16جب کافروں سے مقابلہ ہو تو جم کر قتال کرو
اس آیت میں اہل ایمان کو حکم دیا ہے کہ جب کافروں سے مقابلہ ہوجائے تو جم کر لڑیں پشت پھیر کر نہ بھاگیں۔ کیونکہ یہ گناہ کبیرہ ہے۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا سات ہلاک کرنے والی چیزوں سے بچو، عرض کیا گیا یا رسول اللہ وہ کیا ہے ؟ فرمایا (1) اللہ کے ساتھ کسی کو شریک بنانا (2) جادو کرنا (3) کسی جان کو قتل کرنا جس کا قتل اللہ نے حرام قرار دیا الایہ کہ حق کے ساتھ ہو (4) سود کھانا (5) یتیم کا مال کھانا (6) جنگ کے موقعہ پر پشت پھیر کر چلا جانا (7) مومن پاک دامن عورتوں کو تہمت لگانا جن کو برائی کا دھیان تک نہیں ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 71)
آیت بالا میں فرمایا کہ جو شخص جنگ کے موقعہ پر پیٹھ پھیر کر بھاگ جائے وہ اللہ تعالیٰ کے غضب میں آگیا اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے۔ اسی لیے علماء کرام نے فرمایا کہ جہاد سے بھاگنا حرام ہے۔
دو صورتیں مستثنیٰ ہیں :
البتہ دو صورتیں ایسی ہیں کہ ان میں پشت پھیر کر چلا جانا جائز ہے ایک تو یہ کہ مقصود بھاگنا نہ ہو بلکہ اسے بطور ایک تدبیر کے اختیار کر رہا ہو۔ بظاہر جا رہا ہو (جس سے دشمن یہ سمجھے کہ یہ شکست کھا گیا) اور حقیقت میں واپس ہو کر حملہ کرنے کی نیت رکھتا ہو، جس کو اردو کے محاورہ میں پینترا بدلنا کہتے ہیں۔ اس کو (مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ ) سے تعبیر فرمایا یا کہ جس جگہ جنگ کر رہا ہو اسے چھوڑ کر ایسی جگہ چلا جائے جو قتال کے لیے زیادہ مناسب ہو یا کافروں کی ایک جماعت کو چھوڑ کر دوسری جماعت کی طرف چلا جائے آیت کے الفاظ اس سب کو شامل ہیں۔ دوسری صورت جس میں پشت پھیر کر جانے کی اجازت ہے وہ یہ ہے کہ کوئی جنگ کرنے والا مسلمان، مسلمانوں کی کسی جماعت کے پاس چلا جائے تاکہ ان کو ساتھ ملا لے اور ان کو ساتھ لے کر جنگ کرے اس کو مُتَحَیّزًا اِلٰی فِءَۃٍ سے تعبیر فرمایا۔
صحابہ ؓ کا ایک واقعہ :
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے بیان فرمایا کہ کافروں سے لڑنے کے لیے رسول اللہ ﷺ نے ہمارا ایک چھوٹا سا دستہ بنا کر بھیجا اس موقعہ پر کافروں نے حملہ کیا اس کی وجہ سے ہم لوگ محاذ چھوڑ آئے، اور مدینہ منورہ آگئے اور یہ سمجھ کر کہ ہم ہلاک ہوگئے رو پوش ہوگئے پھر آنحضرت سرور عالم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہم تو راہ فرار اختیار کرنے والوں میں سے ہیں آپ نے فرمایا (نہیں) بلکہ تم لوگ جماعت کی طرف ٹھکانہ پکڑنے والے ہو اور میں تمہاری جماعت ہوں (آپ کا مطلب یہ تھا کہ قرآن مجید میں جو دو صورتوں میں بھاگنے کی اجازت دی ہے ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اپنی جماعت کی طرف ٹھکانہ پکڑے۔ لہٰذا تم ان لوگوں میں شمار ہو جو اپنے لشکر اور جماعت کی طرف پناہ لینے کے لیے آئے، مدینہ میں آنا میرے پاس آنا ہے اور میرے ساتھ مسلمانوں کی جماعت ہے۔ تم اپنی جماعت کی طرف آئے ہو اپنے کو ہلاک نہ سمجھو) ۔ (رواہ الترمذی فی اواخر ابواب الجہاد)
فائدہ :
حدیث کی تصریح سے (جس میں سات کبائر بیان کیے گئے ہیں) اور آیت شریفہ سے معلوم ہوا کہ دو صورتوں کے علاوہ میدان جہاد کو چھوڑ کر بھاگ جانا گناہ کبیرہ ہے کیونکہ قرآن مجید میں (فَقَدْ بَآءَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰہِ وَ مَاْوٰیہُ جَھَنَّمُ ) فرمایا ہے البتہ دیگر معاصی کبیرہ کی طرح توبہ کرنے سے یہ گناہ بھی معاف ہوجاتا ہے جیسا کہ غزوۂ حنین کے شرکاء کے بارے میں فرمایا (ثُمَّ یَتُوْبُ اللّٰہُ مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ عَلٰی مَنْ یَّشَآءُ )
بارہ ہزار کا لشکر کبھی مغلوب نہ ہوگا :
فقہاء نے لکھا ہے کہ یہ میدان چھوڑ کر راہ فرار اختیار کرنے کی حرمت اس صورت میں ہے جبکہ کافروں کی تعداد مسلمانوں کی تعداد سے کم ہو یا برابر یاد گنی ہو یا زائد تو ہو لیکن دو گنی سے کم ہو۔ اگر کافروں کی تعداد دو گنی سے زیادہ ہو تو راہ فرار اختیار کرنا جائز ہے ان حضرات کا استدلال آیت شریفہ (فَاِنْ یَّکُنْ مِّنْکُمْ مِّاءَۃٌ صَابِرَۃٌ یَّغْلِبُوْا ماءَتَیْنِ ) سے ہے اور صاحب روح المعانی نے حضرت امام محمد بن الحسن سے یہ بھی نقل کیا ہے کہ مسلمانوں کا لشکر بارہ ہزار ہو تو میدان چھوڑ کر بھاگنا جائز نہیں ہے کیونکہ حدیث شریف میں وارد ہے کہ لن یغلب اثنا عشر الفاً من قلۃ یعنی بارہ ہزار کا لشکر قلت کی وجہ سے ہرگز مغلوب نہ ہوگا (رواہ الترمذی) جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ وعدہ ہے تو بارہ ہزار مسلمانوں کا لشکرہونے کی صورت میں میدان چھوڑ کر چلے جانے کی اجازت نہیں ہے خواہ دشمنوں کا لشکر کتنا بھی زیادہ ہو اور یہ بات بارہا آزمائی جا چکی ہے۔ بارہ ہزار کا لشکر قلت کی وجہ سے مغلوب نہ ہوگا۔ اخلاص نہ ہونے یا اعجاب نفس کی وجہ سے مغلوبیت ہوجائے یہ دوسری بات ہے (کماوقع غزوۃ حنین) غزوۂ بدر میں کافروں کی تعداد تین گنا تھی پھر بھی فرار کی اجازت نہ تھی کیونکہ اس وقت تک آیت کریمہ (اَلْءٰنَ خَفَّفَ اللّٰہُ عَنْکُمْ ) نازل نہیں ہوئی تھی۔
Ayahs 8:17–18اللہ تعالیٰ ہی کی مدد سے مشرکین مقتول ہوئے
غزوہ بدر میں بظاہر مسلمانوں نے جنگ کی ان کے ساتھ فرشتوں نے بھی شرکت کی۔ لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ ہی موثر حقیقی ہے اور سب کچھ اسی کی مشیت اور ارادہ سے ہوتا ہے اسی لیے یہ فرمایا کہ (فَلَمْ تَقْتُلُوْھُمْ ) کہ تم نے انہیں قتل نہیں کیا (وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ قَتَلَھُمْ ) لیکن اللہ نے انہیں قتل کیا۔ غزوۂ بدر کے موقعہ پر ایک یہ واقعہ بھی پیش آیا کہ حضرت جبرائیل نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ آپ مٹی کی ایک مٹھی بھر کر دشمنوں کی طرف پھینک دیجیے، آپ نے ایسا ہی کیا اور وہ مٹی مشرکین میں سے ہر شخص کی آنکھوں میں اور ناک کے نتھنوں اور منہ میں پہنچ گئی جس کی وجہ سے وہ لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے، اب مسلمان ان پر پل پڑے، ان کو قتل بھی کرتے رہے اور قید بھی کرتے رہے۔ آپ نے جب ان کی طرف مٹی پھینکی تو ان کو بد دعا دیتے ہوئے فرمایا : شاھت الوجوہ (دشمنوں کے چہرے بدصورت ہوگئے) اس پر وہ لوگ شکست کھا کر بھاگے، اسی کو فرمایا (وَ مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی) (اور یہ جو آپ نے مٹی پھینکی آپ نے نہیں پھینکی بلکہ اللہ نے پھینکی) یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے چہروں تک پہنچا دی اور اس کو شکست کا سبب بنا دیا (تفسیر ابن کثیر ص 295 ج 2) یہ مٹی پھینکنے کا واقعہ غزوہ حنین کے موقعہ پر بھی پیش آیا تھا۔ (کماذ کرہ صاحب الروح وغیرہ)
پھر فرمایا (وَ لِیُبْلِیَ الْمُؤْمِنِیْنَ مِنْہُ بَلَآءً حَسَنًا) (اور تاکہ اللہ تعالیٰ مومنین کی طرف سے اچھا انعام دے) لفظ بلا انعام کے معنی میں بھی آتا ہے اور آزمائش کے معنی میں بھی مفسرین نے یہاں انعام کا معنی لیا ہے اور مطلب یہ بتایا ہے کہ تاکہ اللہ تعالیٰ مومنین کو ایسا اچھا انعام عطا فرمائے جس میں تکلیفیں نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے جو کافروں کو قتل کیا اور مٹھی بھر مٹی ان کی آنکھوں کو پہنچائی اور ان کو شکست دی جس کی وجہ سے اہل ایمان فتح یاب اور ظفر یاب ہوئے یہ اللہ کا انعام عظیم ہے۔ بعض مفسرین نے اس کا دوسرا ترجمہ بھی کیا ہے۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں۔ و اختار بعضھم تفسیرہ بالا بلاء فی الحرب یعنی بعض حضرات نے آیت کا یہ معنی لیا ہے کہ اللہ تعالیٰ مومنین کو جنگ میں اچھی طرح سے آزمائے۔
(اِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ) (بلاشبہ اللہ سننے والا ہے) جس نے مسلمانوں کی دعا سنی اور فریاد رسی کی اور مدد فرمائی علیم (جاننے والا ہے) سب کی نیتوں کو اور ظاہر کو اور باطن کو بھی جانتا ہے، اس کے بعد فرمایا ذٰلِکُمْ یعنی اللہ تعالیٰ کا ایک انعام تو یہ ہے کہ جو ابھی مذکور ہوا (وَ اَنَّ اللّٰہَ مُوْھِنُ کَیْدِ الْکٰفِرِیْنَ ) (اور بلاشبہ اللہ کافروں کی تدبیر کو کمزور کرنے والا ہے) یہ دوسرا انعام ہے بدر کے موقعہ پر دشمن بہت زیادہ تھے ان کے پاس ساز و سامان بھی بہت تھا۔ اپنے خیال خام میں مسلمانوں کو شکست دینے کے لیے آئے تھے لیکن ان کی ساری تدبیر دھری رہ گئی اور بھاری تعداد میں مقتول ہوئے اور قیدی بنا لیے گئے۔ سیاق کلام تو غزوۂ بدر سے متعلق ہے لیکن جملہ اسمیہ پر حرف ان بھی داخل ہے جو تحقیق کے لیے آتا ہے۔ غزوۂ بدر کے بعد آج تک اس کا تجربہ ہوتا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مومنین کے مقابلہ میں بارہا کافروں کی تدبیریں کمزور فرما دیں۔