Explained with ayahs 70–71
فدیہ طے ہو گیا
بدر والے دن آپ نے فرمایا تھا کہ مجھے یقیناً معلوم ہے کہ بعض بنو ہاشم وغیرہ زبردستی اس لڑائی میں نکالے گئے ہیں انہیں ہم سے لڑائی کرنے کی خواہش نہ تھی۔ پس بنو ہاشم کو قتل نہ کرنا۔ ابو البختری بن ہشام کو بھی قتل نہ کیا جائے۔ عباس بن عبدالمطلب کو بھی قتل نہ کیا جائے۔ اسے بھی بادل ناخواستہ ان لوگوں نے اپنے ساتھ کھینچا ہے۔ اس پر ابو حذیفہ بن عتبہ نے کہا کہ کیا ہم اپنے باپ دادوں کو اپنے بچوں کو اپنے بھائیوں کو اور اپنے قبیلے کو قتل کریں اور عباس کو چھوڑ دیں ؟ واللہ اگر وہ مجھے مل گیا تو میں اس کی گردن ماروں گا۔ جب یہ بات رسول اللہ ﷺ کو پہنچی تو آپ نے فرمایا اے ابو حفصہ کیا رسول اللہ ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–71
سورة الْاَنْفَال 49
اس آیت کی تفسیر میں اہل تاویل نے جو روایات بیان کی ہیں وہ یہ ہیں کہ جنگ بدر میں لشکر قریش کے جو لوگ گرفتار ہوئے تھے ان کے متعلق بعد میں مشورہ ہوا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے۔ حضرت ابوبکر ؓ نے رائے دی کہ فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے، اور حضرت عمر ؓ نے کہا کہ قتل کردیا جائے۔ نبی ﷺ نے حضرت ابوبکر ؓ کی رائے قبول کی اور فدیہ کا معاملہ طے کرلیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات بطور عتاب نازل فرمائیں۔ مگر مفسرین آیت کے اس فقرے کی کوئی معقول تاویل نہیں کرسکے ہیں کہ ”اگر اللہ کا نوشتہ پہلے نہ لکھا جا چکا ہوتا۔“ وہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد تقدیر الہٰی ہے، یا یہ کہ اللہ تعالیٰ پہلے ہی یہ…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اے پیغمبر آپ کے قبضہ میں جو قیدی ہیں (ان میں جو مسلمان ہوگئے ہیں) آپ ان سے فرما دیجئے کہ اگر اللہ تعالیٰ کو تمہارے قلب میں ایمان معلوم ہوگا (یعنی تم دل سے مسلمان ہوئے ہوگے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا علم تو مطابق واقع کے ہوتا ہے اللہ تعالیٰ مسلمان اسی کو جانیں گے جو واقع میں مسلمان ہوگا اور جو شخص غیر مسلم ہوگا اس کو غیر مسلم ہی جانیں گے پس اگر تم دل سے مسلمان ہوگے) تو جو کچھ تم سے (فدیہ میں) لیا گیا ہے (دنیا میں) اس سے بہتر تم کو دے دے گا اور (آخرت میں) تم کو بخش دے گا اور اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت والے ہیں (اس لئے تم کو بخش دیں گے اور) بڑی رحمت والے ہیں (اس لئے تم کو نعم البدل دیں گے) اور…
Read the full tafseer →جنگ بدر کے قیدیوں سے خطاب : يٰٓاَيُّھَا النَّبِيُّ قُلْ لِّمَنْ فِيْٓ اَيْدِيْكُمْ مِّنَ الْاَسْرٰٓي ۙ اِنْ يَّعْلَمِ اللّٰهُ فِيْ قُلُوْبِكُمْ خَيْرًا يُّؤْتِكُمْ خَيْرًا مِّمَّآ اُخِذَ مِنْكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ۭ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔ وَاِنْ يُّرِيْدُوْا خِيَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْ ۭوَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ۔ اب یہ بدر کے قیدیوں کے لیے ایک پیغام بھی ہے اور ساتھ ہی ایک دھمکی بھی۔ پیغام تو یہ ہے کہ تم سے جو فدیہ لیا گیا ہے اس سے دل گرفتہ ہونے کے بجائے تمہیں اللہ اور رسول کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ قتل کرنے کے بجائے تمہیں فدیہ لے کر چھوڑ دیا…
Read the full tafseer →70۔ 1 یعنی ایمان و اسلام لانے کی نیت اور اسے قبول کرنے کا جذبہ۔
70۔ 2 یعنی جو فدیہ تم سے لیا گیا، اس سے بہتر تمہیں اللہ تعالیٰ قبول اسلام کے بعد عطا فرما دے گا۔ چناچہ ایسا ہی ہوا، حضرت عباس وغیرہ جو ان قیدیوں میں تھے، مسلمان ہوگئے تو اس کے بعد اللہ نے انہیں دنیاوی مال و دولت سے بھی خوب نوازا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–71
50: بھلائی دیکھنے سے مراد یہ ہے کہ جن لوگوں نے مسلمان ہونے کا اعلان کیا ہے وہ خلوص دل کے ساتھ ہو، کوئی شرارت نہ ہو، اس صورت میں ان سے وعدہ کیا گیا ہے کہ انہوں نے اپنی آزادی کے لئے فدیہ میں جو کچھ خرچ کیا ہے اس سے بہتر بدلہ انہیں دنیا یا آخرت میں دے دیا جائے گا، چنانچہ آنحضرت ﷺ کے چچا حضرت عباس ؓ جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے اور بدر کی جنگ میں قید ہوگئے تھے، انہوں نے آپ سے عرض کیا تھا کہ میں مسلمان ہونا چاہتا تھا مگر میرے قبیلے کے لوگوں نے مجھے جنگ میں آنے پر مجبور کردیا، آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ بہر حال ! جو فدیہ دینا طے ہوا ہے وہ تو تمہیں دینا ہوگا اور اپنے بھتیجوں عقیل اور نوفل کا فدیہ…
Read the full tafseer →اب سیاق کلام قیدیوں کی طرف مڑ جاتا ہے۔ ان کو زندگی عطا کرنے اور خوب غفلت سے بیدار کرنے کے لیے چٹکی بھری جاتی ہے۔ ان کے احساس کو جگایا جاتا ہے تاکہ ان کے شعور میں امید کی کرن روشن ہو ، اور وہ پر امید ہو کر روشنی کی طرف آجائیں اور ماضی کے مقابلے میں ان کا مستقبل سنور جائے اور وہ جس زندگی میں ہیں ، اس کے مقابلے میں اچھی زندگی حاصل کرلیں اور ان کو جو مالی تاوان ہوا ہے اور ان کا جو علاقہ ہے ، اس سے وہ اچھی جگہ آجائیں اور اس پر اللہ کی رحمت اور مغفرت مستزاد۔ یہ ہے کہ ان کے لیے ہمہ گیر بھلائی لیکن یہ بھلائی ان تک تب ہی پہنچ سکتی ہے جب ان کے دل نور ایمان کے لیے کھل جائیں۔ اللہ کو معلوم ہوجائے کہ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–71
4 بعض قیدیوں نے اپنے اسلام کا اظہار کیا تھا (مثلاً حضرت عباس ؓ وغیرہ) ان سے کہا گیا کہ اللہ دیکھے گا کہ واقعی تمہارے دل میں ایمان و تصدیق موجود ہے تو جو کچھ زر فدیہ اس وقت تم سے وصول کیا گیا ہے اس سے کہیں زیادہ اور کہیں بہتر تم کو مرحمت فرمائے گا، اور پچھلی خطاؤں سے درگزر کرے گا۔ اور اگر اظہار اسلام سے صرف پیغمبر کو فریب دینا مقصود ہے یا دغابازی کرنے کا ارادہ ہے تو پیشتر خدا سے جو دغابازی کرچکے ہیں، یعنی فطری عہدالست کے خلاف کفر و شرک اختیار کیا یا بعض " بنی ہاشم " جو ابو طالب کی زندگی میں عہد کر کے آنحضرت ﷺ کی حمایت پر متفق ہوئے تھے۔ اب کافروں کے ساتھ ہو کر آئے اس کا انجام آنکھوں سے دیکھ لیا…
Read the full tafseer →آیت 70 یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلْ لِّمَنْ فِیْٓ اَیْدِیْکُمْ مِّنَ الْاَسْرآیلا
اس آیت کا مفہوم سمجھنے کے لیے پس منظر کے طور پر غزوۂ بدر کے قیدیوں کے بارے میں دو باتیں ذہن میں رکھیے۔ ایک تو ان قیدیوں میں بہت سے وہ لوگ بھی شامل تھے جو اپنی مرضی سے جنگ لڑنے نہیں آئے تھے۔ وہ اپنے سرداروں کے دباؤ یا بعض دوسری مصلحتوں کے تحت بادل نخواستہ جنگ میں شریک ہوئے تھے۔ دوسری اہم بات ان کے بارے میں یہ تھی کہ ان میں سے بہت سے لوگ بعض مسلمانوں کے بہت قریبی رشتہ دار تھے۔ خود نبی اکرم ﷺ کے حقیقی چچا حضرت عباس رض بن عبدالمطلب بھی ان قیدیوں میں شامل تھے۔ ان کے بارے میں گمان غالب یہی ہے کہ وہ ایمان تو لا چکے تھے…
Read the full tafseer →72 سیدنا عباس کا فدیہ اسلام لانے کی وجہ اور آپ پر اللہ کی مہربانی :۔ آپ نے اپنے چچا سیدنا عباس سے کہا کہ اپنا اور اپنے دونوں بھتیجوں کا فدیہ جمع کراؤ۔ انہوں نے کہا میرے پاس تو مال نہیں اور جنگ میں مجھ سے چوبیس اوقیہ چھین لیے گئے ہیں۔ یعنی زبردستی چندہ لیا گیا ہے وہی ہمارا فدیہ سمجھ لیجئے۔ ان کا خیال تھا کہ شاید مجھے کچھ دیئے بغیر ہی رشتہ داری کی بنا پر چھوڑ دیا جائے گا (آپ مالدار تھے لیکن طبعاً بخیل بھی تھے۔ کیونکہ سودی کاروبار کرتے تھے۔ چناچہ جب سود حرام ہوا تو رسول اللہ نے حجۃ الوداع کے عظیم اجتماع میں یہ اعلان فرمایا تھا کہ سب سے پہلے میں اپنے خاندان سے عباس بن عبدالمطلب کا سود کالعدم قرار…
Read the full tafseer →103 ۔ (اسی دنیا میں) حضرت عباس ؓ بن عبدالمطلب سے روایت ہے کہ مجھے معرکہ بدر کے بعد فدیہ میں 20 اوقیہ دینے پڑے تھے (اور اوقیہ 40 درہم یعنی تقریبا دس روپے کا ہوتا ہے گویا 20 اوقیہ تقریبا (200 کے برابر ہوئے) اور آج میرے پاس غلام بھی 20 ہیں اور ہر غلام مالدار ہے پس دنیا میں وعدۂ الہی کا ظہور تو یوں نمایاں طور پر ہوگیا۔ (آیت) ” فی قلوبکم خیرا “۔ اس سے مراد ایمان ہے اے خلوص ایمان وصحۃ نیۃ (مدارک) ایمانا واخلاصا (بیضاوی) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت میں اس پر دلالت ہے کہ طاعت سے دنیاوآخرت دونوں کے برکات حاصل ہوتے ہیں خواہ مال کی صورت میں یا مقامات باطنی کی صورت میں۔
104 ۔ (اور ان صفات کا ظہور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–71
ترجمہ : اے نبی ان لوگوں سے کہو جو تمہارے قبضہ میں قید ہیں اور ایک قراءت میں اَسْرَیٰ ہے اگر اللہ تمہارے دلوں میں کوئی خیر دیکھے گا (یعنی ایمان و اخلاص) تو جو کچھ تم سے فدیہ کے طور پر لیا ہے اس سے زیادہ دے گا اس طور پر کہ دنیا میں تم کو اس کا دوگنادے گا اور آخرت میں تم کو ثواب دے گا، اور تمہارے گناہوں کو معاف کردے گا، اللہ بڑا غفور رحیم ہے اور اگر یہ قیدی اپنی کہی ہوئی بات (اظہار اسلام) میں خیانت کرتے ہیں تو یہ لوگ بدر سے پہلے اللہ کے ساتھ کفر کرکے خیانت کرچکے ہیں آخر اس نے تم کو ان پر بدر میں قتل و قید کے ذریعہ قدرت دیدی اگر انہوں نے پھر ایسی حرکت کی تو ان کو ایسی ہی توقع رکھنی چاہیے، اللہ…
Read the full tafseer →یایھا النبی قل لمن فی ایدیکم من الاسرٰی ان یعلم اللہ فی قلوبکم خیرًا یؤتکم خیرًا مما اخذ منکم ویغفرلکم وا اللہ غفور رحیم۔ اے نبی ﷺ ! تم لوگوں کے قبضہ میں جو قیدی ہیں ‘ ان سے کہہ دو کہ اگر اللہ کو تمہارے دلوں کے اندر بہتری معلوم ہوئی تو تم سے جو کچھ لیا گیا ہے ‘ اس سے بہتر تم کو اللہ عنایت کر دے گا اور تمہارے قصور معاف کر دے گا۔ اور اللہ بخشنے والا ‘ مہربان ہے۔
محمد بن یوسف صالحی نے سبیل الرشاد میں لکھا ہے کہ بدر کے قیدیوں کی ایک جماعت نے جس میں حضرت عباس بھی شامل تھے ‘ رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا : ہم تو مسلمان تھے ‘ مجبوری کے زیراثر ہم (مقابلہ پر) آئے تھے ‘ ہم سے فدیہ کیوں لیا جا رہا ہے ؟ اس پر…
Read the full tafseer →(70) یعنی حضرت عباس ؓ وغیرہ سے فرما دیجیے کہ اگر تمہارے قلوب میں ایمان معلوم ہوا تو تم سے جو فدیہ لیا گیا ہے اس سے بہتر تمہیں دے دے گا اور اللہ تعالیٰ زمانہ جاہلیت کے تمہارے گناہوں کو معاف فرما دے گا کیوں کہ جو ایمان لائے تو اس کو معاف فرمانے والا ہے۔
شان نزول : (آیت) ”یایھا النبی قل لمن فی ایدیکم“۔ (الخ)
طبرانی ؒ نے اوسط میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ حضرت عباس ؓ نے فرمایا اللہ کی قسم میرے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے۔
جس وقت کہ رسول اکرم ﷺ کو میرے اسلام کی اطلاع ہوئی اور میں نے رسول اکرم ﷺ سے درخواست کی تھی کہ بیس اوقیہ چاندی جو میرے پاس تھی وہ آپ نے لے لی تو آپ نے اس کے بدلہ میں مجھے…
Read the full tafseer →قُلْ لِّمَنْ فِيْٓ اَيْدِيْكُمْ مِّنَ الْاَسْرٰٓي : جب بدر کے قیدی لائے گئے تو بعض نے اسلام کا اظہار کیا اور کہا کہ میں نے مجبور کیے جانے پر جنگ میں شرکت کی تھی، ان میں عباس ؓ بھی تھے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور ان کو فدیے کی معافی نہیں دی گئی، بلکہ دل سے مسلمان ہونے کی صورت میں لیے گئے فدیے سے بہتر عطا اور مغفرت کا وعدہ کیا گیا۔ عباس ؓ فرماتے ہیں : ”اللہ کی قسم ! یہ آیت میرے بارے میں اتری، جب میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے اسلام لانے کی خبر دی اور درخواست کی کہ مجھ سے جو بیس اوقیہ فدیہ لیا گیا ہے اس کے بدلے میں مجھے کچھ دیں، تو آپ نے مجھے ان کے بدلے میں بیس غلام دیے جو سب میرے مال سے میرے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–71
اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ قولہ تعالیٰ : یایھا النبی قل لمن فی ایدیکم من الاسری کہا گیا ہے کہ یہ خطاب حضور نبی مکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب کو ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ خطاب صرف آپ کو ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا ہے : اس آیت میں قیدیوں سے مراد عباس اور ان کے ساتھی ہیں۔ انہوں نے حضور نبی مکرم ﷺ سے کہا : ہم اس (دین) کے ساتھ ایمان لائے جو آپ لے کر آئے اور ہم شہادت دیتے ہیں کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ یقینا ہم آپ کے لیے آپ کی قوم پر مخلص رہیں گے۔ پس یہ آیت نازل ہوئی۔ اور امام مالک (رح) کے قول سے اس کا بطلان پہلے گزر چکا ہے۔
اور مصنف ابی دائود میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے…
Read the full tafseer →1۔ حاکم اور آپ نے اس کو صحیح کہا اور بیہقی نے اپنی سنن میں عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ جب مکہ والوں نے اپنے قیدیوں کے فدیہ میں (مال) بھیجا تو رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی زینب ؓ نے اپنے شوہر کے فدیہ میں اپنے گلے کا ایک ہار بھیجا۔ جب رسول اللہ ﷺ نے اس (ہار) کو دیکھا تو آپ کو شدید رقت طاری ہوگئی اور فرمایا اگر تم مناسب سمجھو تو یہ اس کے قیدی کے لئے ہی چھوڑ دو اور عباس ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ بلاشبہ میں مسلمان ہوں آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ زیادہ جانتے ہیں تمہارے اسلام کو اگر ایسا ہے جیسے تو کہتا ہے اللہ تعالیٰ تجھ کو ہر چیز عطا فرمائے گا پس تم اپنا اور اپنے بھائیوں کے بیٹوں نوفل بن حارث اور عقیل بن…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا النَّبِيُّ [ اے نبی ] قُلْ [ آپ کہہ دیجیے [ لِّمَنْ [ ان سے جو ] فِيْٓ اَيْدِيْكُمْ [ تمہارے ہاتھوں (یعنی قبضہ ) میں ہیں ] مِّنَ الْاَسْرٰٓي ۙ [ قیدیوں میں سے ] اِنْ [ اگر ] يَّعْلَمِ [ جانے گا ] اللّٰهُ [ اللہ ] فِيْ قُلُوْبِكُمْ [ تمہارے دلوں میں ] خَيْرًا [ کوئی بھلائی ] يُّؤْتِكُمْ [ تو وہ دے گا تم کو ] خَيْرًا مِّمَّآ [ اس سے بہتر جو ] اُخِذَ [ لیا گیا ] مِنْكُمْ [ تم سے ] وَيَغْفِرْ لَكُمْ ۭ [ اور وہ بخش دے گا تم لوگوں کو ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] غَفُوْرٌ [ بےانتہا بخشنے والا ہے ] رَّحِيْمٌ [ ہر حال میں رحم کرنے والا ہے ]
Read the full tafseer →بدر کے قیدیوں سے اللہ تعالیٰ کا وعدہ
مفسر ابن کثیر نے لکھا ہے کہ جب عباس بن عبدالمطلب نے یہ کہا کہ میں تو مسلمان تھا اور میرا مال جو غزوۂ بدر میں لے لیا گیا ہے اسی کو میری جان کے فدیہ میں لگا لیا جائے اور رسول اللہ ﷺ نے اس سے انکار فرما دیا جس پر انہوں نے اپنا اور مزید تین آدمیوں کا فدیہ دیا تو اللہ تعالیٰ شانہٗ نے آیت (یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ قُلْ لِّمَنْ فِیْٓ اَیْدِیْکُمْ مِّنَ الْاَسْرآی) نازل فرمائی جس میں یہ فرمایا کہ اے نبی جو قیدی آپ کے قبضہ میں ہیں ان کو فرما دیں اگر تمہارے دل میں ایمان ہے جس کا علم اللہ کو ہے تو اللہ تم کو اس سے بہتر عطا فرما دے گا جو تم سے لیا گیا اور اللہ تمہیں بخش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–71
تلقین احکام دربارۂ اسیران جنگ جنگ
قال اللہ تعالیٰ ﷺ ان کان لنبی ان یکون لہ اس ری حتی یثخن فی الارض۔۔۔ الی۔۔۔ واللہ علیم حکیم
(ربط) گزشتہ آیات میں جہاد و قتال کے مسائل اور احکام کا بیان تھا چونکہ جہاد و قتال میں بسا اوقات کفار قید ہو کر آتے ہیں اس لیے آئندہ آیات میں اسیران جنگ اور خاص کر اسیران بدر کے متعلق احکام بیان کرتے ہیں کیونکہ قیدیوں کے قتل اور فدیہ کا فیصلہ قتال سے فارغ ہونے کے بعد ہوتا ہے اس لیے اس سورت میں احکام قتال کو۔ قیدیوں کے احکام پر ختم فرمایا۔
شان نزول۔
اور شان نزول ان آیات کا یہ ہے کہ جب جنگ بدر میں ستر کافر قید ہو کر آئے تو آں حضرت ﷺ نے ان کے بارے میں صحابہ سے مشورہ کیا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–71
ٖف 71: ساتواں قانونِ جہاد برائے پیغمبر علیہ السلام۔ بعض قیدیوں نے اسلام کا اظہار کیا تھا۔ ان کے بارے میںحضور ﷺ کو حکم دیا کہ آپ ان سے فرما دیں کہ اگر واقعی تم نے خلوص دل سے ایمان قبول کیا ہے تو غم نہ کرو جو فدیہ تم سے لے لیا گیا ہے اللہ تعالیٰ تم کو اس سے بہتر دولت عطا فرمائے گا۔ دنیا میں اس کے عوض کئی گنا مال دے گا یا آخرت میں اس کا اجر دے گا۔ “ خَیْرًا ” اول سے ایمان و تصدیق یا انابت الی اللہ مراد ہے اور “ خَیْرًا ” ثانی “ مَالًا ” مقدر کی صفت ہے۔ اور اگر وہ خیانت کا ارادہ رکھتے ہوں یعنی فدیہ دیتے وقت انہوں نے آپ سے جو عہد کیا ہے کہ آئندہ آپ کے ساتھ جنگ نہیں کریں گے۔ اگر وہ اس عہد کی خلاف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–73
جنگی قیدیوں کا مسئلہ :
مالِ غنیمت اور غزوہ بدر کے جنگی قیدیوں کا حال گذشتہ درس میں بھی بیان ہوچکا ہے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ ہر قیدی کا فدیہ چار سو دینار مقرر ہوا۔ قیدیوں کے رشتہ داروں نے انہیں چھڑانے کی کوشش کی جس قیدی کا فدیہ وصول ہوجاتا اسے چھوڑ دیا جاتا بعض قیدیوں کے رشتہ دار فدیہ دینے کی پوزیشن میں نہیں تھے ان میں سے جو پڑھے لکھے تھے ان کو کہا گیا کہ وہ اتنے اتنے آدمیوں کو پڑھنا لکھنا سکھا دیں تو یہی ان کا فدیہ ہوگا۔ چناچہ بعض قیدی اس شرط پر بھی رہا کیے گے تا ہم قیدیوں کی اکثریت نے فدیہ ادا کر کے رہائی حاصل کی۔ حضور ﷺ کے چچا عباس ؓ بھی جنگی قیدیوں میں شامل تھے۔ اگرچہ وہ دل سے مسلمانوں…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا النَّبِيُّ قُلْ لِّمَنْ فِيْٓ اَيْدِيْكُمْ مِّنَ الْاَسْرٰٓي 0 ۙ اِنْ يَّعْلَمِ اللہُ فِيْ قُلُوْبِكُمْ خَيْرًا يُّؤْتِكُمْ خَيْرًا مِّمَّآ اُخِذَ مِنْكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ 0 ۭ وَاللہُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ 70
نبی
النبيُّ بغیر همْز، فقد قال النحويُّون : أصله الهمْزُ فتُرِكَ همزُه، واستدلُّوا بقولهم : مُسَيْلِمَةُ نُبَيِّئُ سَوْءٍ. وقال بعض العلماء : هو من النَّبْوَة، أي : الرِّفعة وسمّي نَبِيّاً لرِفْعة محلِّه عن سائر الناس المدلول عليه بقوله : وَرَفَعْناهُ مَکاناً عَلِيًّا [ مریم/ 57] . فالنَّبِيُّ بغیر الهمْز أبلغُ من النَّبِيء بالهمْز، لأنه ليس كلّ مُنَبَّإ رفیعَ القَدْر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–70
ترکیب : ان یکون کا جملہ کان کا اسم کتاب مبتداء من اللّٰہ صفت اول سبق صفت ثانی یا سبق خبر لمسکم جملہ جواب لولا۔ لمن لام قل سے متعلق ہے فی ایدیکم صلہ من الاسریٰ من کا بیان ان یعلم اللّٰہ جملہ مقولہ ہے قل کا وان یریدوا معطوف ہے ان یعلم پر یا مستانفہ۔
تفسیر : بدر کی لڑائی سے آنحضرت ﷺ ستر قیدی کفار کے لے کر مدینہ میں آئے۔ ان قدیوں کی بابت کہ جن میں حضرت کے چچا عباس اور علی کے بھائی عقیل ؓ بھی تھے۔ لوگوں سے رائے طلب کی گئی۔ ابوبکر ؓ نے کہا فدیہ لے کر چھوڑ دیجئے۔ آپ کی قوم ہے۔ خدا ان کو توفیق ہدایت دے گا۔ عمر ؓ نے کہا قتل کرنا چاہیے تاکہ کفر کا زور ٹوٹے۔ عبداللہ بن رواحہ ؓ نے کہا ٗ آگ میں جلا دیجئے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–71
یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ قُلْ لِّمَنْ فِیْٓ اَیْدِیْکُمْ مِّنَ الْاَسْرٰٓیلا اِنْ یَّعْلَمِ اللّٰہُ فِیْ قُلُوْبِکُمْ خَیْرًا یُّؤْتِکُمْ خَیْرًامِّمَّآ اُخِذَ مِنْکُمْ وَیَغْفِرْلَکُمْط وَاللّٰہُ غَفُوْرٌرَّحِیْمٌ۔ وَاِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَکَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰہَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْکَنَ مِنْھُمْطوَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ۔ (الانفال : 70، 71)
اے نبی ! کہہ دیجئے ان سے جو آپ کے ہاتھوں میں قیدی ہیں، اگر اللہ تمہارے دلوں میں کوئی بھلائی پائے گا تو جو کچھ تم سے لیا گیا ہے اس سے بہتر تم کو وہ عطا فرمائے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا اور مہربان ہے۔ اور اگر یہ تم سے بد عہدی کریں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–71
فہم القرآن
ربط کلام : فیصلہ کن جنگ کرنے کا حکم دینے کے بعد قیدیوں کے بارے میں اصول بیان کیا اور بدر کے مال غنیمت کی اجازت دیتے ہوئے تسلی دی کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری کوتاہی کو معاف کردیا ہے۔ اب ان قیدیوں کو نبی اکرم ﷺ کی زبان اطہر سے نصیحت کی جا رہی ہے جن کے متعلق آپ نے بہترین سلوک کرنے کا حکم دیا تھا۔
اے نبی ! جو لوگ تمہارے ہاتھ آئے ہیں انھیں سمجھاؤ اور تسلی دو اگر اللہ تعالیٰ نے تمہارے دلوں میں خیر دیکھی۔ خیر سے مراد ایمان ہے تو اللہ تعالیٰ تمہیں اس فدیہ کے بدلے بہتر مال عنایت فرمائے گا۔ اگر تم ایمان لے آؤ تو تمہارے سابقہ جرائم اور گناہ معاف کردیے جائیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا…
Read the full tafseer →اگر دل میں ایمان ہوگا تو دوگنا ملے گا :
آیت 70: یٰٓاَیـُّـھَا النَّبِیُّ قُلْ لِّمَنْ فِیْٓ اَیْدِیْکُمْ (اے پیغمبر کہہ دیجئے اس سے جو آپ کے قبضہ میں) تمہاری ملکیت میں گویا تمہارے ہاتھ ان کو پکڑنے والے ہیں۔ مِّنَ الْاَسْرٰ ی (قیدی ہیں) جمع اسیر
قراءت : ابو عمرونے اسارٰی پڑھا جو اُسرٰی کی جمع ہے۔ اِنْ یَّعْلَمِ اللّٰہُ فِیْ قُلُوْبِکُمْ خَیْرًا (اگر اللہ تعالیٰ کو تمہارے دل میں ایمان معلوم ہوگا) خلوص ایمان اور صحت نیت یُّؤْتِکُمْ خَیْرًا مِّمَّآ اُخِذَمِنْکُمْ (تو جو کچھ تم سے لیا گیا ہے۔ اس سے بہتر تم کو دے دے گا) یعنی فدیہ۔ نمبر 1۔ خواہ دنیا میں دوگنا دے۔ نمبر 2۔ آخرت میں ثواب دے…
Read the full tafseer →تفسیر 70 (یایھا النبی قل لمن فی ایدیکم من الآسری) بوعمرو اور ابوجعفر نے (من الاساری) الف کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی حضرات نے بغیر الکے) یہ آیت عباس بن عبدالمطلب کے بارے میں نازل ہوئی ہے بدر کے دن قید کئے گئے تھے۔ یہ ان دس لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے کفار کے لشکر کے کھانے کی ذمہ داری اٹھائی تھی اور غزوہ بدر کے دن انہی کی باری تھی۔ یہ اپنے ساتھ بیس اوقیہ سونا لائے تھے تاکہ لوگوں کو کھانا کھلائیں تو جس دن کھانا کھلانے کا ارادہ کیا تو لڑائی ہوئی اور بیس اوقیہ بچ گئے تو جنگ میں یہ آپ سے لے لئے گئے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ وہ ان بیس اوقیہ کو اپنے فدیہ میں شمار کریں تو انہوں نے انکار کردیا اور کہا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–71
70۔ 71۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اس آیت کی تفسیر میں یہ فرماتے ہیں کہ جب عباس بن عبدالمطلب اور حضرت عباس ؓ کے دونوں بھتیجے عقیل بن ابی طالب اور نوفل بن الحارث بدر کی لڑائی میں قید ہو کر آئے تو حضرت عباس ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ میں تو مسلمان تھا زبردستی لوگ مجھ لے آئے تھے آپ نے فرمایا کہ اگر یہ بات سچ ہے تو اللہ آپ کو بدلہ دے گا آپ اپنا اور اپنے ساتھیوں کا فدیہ دیں تو چھوڑ دئے جائیں انہوں نے کہا اے رسول ﷺ میرے پاس اتنا کہاں ہے آپ نے فرمایا کہ وہ مال کہاں گیا جو آپ مکہ سے چلتے وقت ام الفضل کو دفن کرنے کو دے آئے تھے اور یہ کہا تھا کہ خدانخواستہ اگر کوئی حادثہ مجھ پر گذرے تو یہ مال تمہارا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–72
آیت 70
یہ آیت کریمہ اسیران بدر کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور ان قیدیوں میں رسول اللہ ﷺ کے چچا حضرت عباس بھی شامل تھے۔ جب رہائی کے عوض ان سے فدیہ کا مطالبہ کیا گیا تو انہوں نے عرض کیا کہ انہوں نے اس سے قبل اسلام قبول کیا ہوا تھا، مگر مسلمانوں نے ان سے فدیہ کو ساقط نہ کیا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی اور ان لوگوں کی دل جوئی کی خاطر یہ آیت کریمہ نازل فرمائی جو اس قسم کی صورت حال سے دوچار ہوں۔ فرمایا : (یایھا النبی قل لمن فی ایدیکم من الاسریٰ ان یعلم اللہ فی قلوبکم خیرا یوتکم خیرا مما اخذ منکم) ” اے نبی ! ان سے کہہ دو ! جو تمہارے ہاتھوں میں قیدی ہین، اگر اللہ تمہارے دلوں میں کچھ نیکی جانے گا، تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–71
مال غنیمت کی حلت
قول باری ہے (فکلوا مما غنمتم حلالاً طیباً ۔ پس جو کچھ تم نے حاصل کیا ہے اسے کھائو کہ وہ حلال اور پاک ہے) آیت میں غنائم کی اباحت کا حکم ہے جب کہ اس سے پہلے اس کی ممانعت تھی۔ ہم نے اعمش کی روایت کا ذکر کردیا ہے جو انہوں نے ابو صالح سے کی ہے، اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ہے (لم تحل الغنائم لقوم سود الرئوس قبلکم۔ تم سے پہلے سیاہ سروں والی کسی قوم کے لئے مال غنیمت حلال نہیں تھا) زہری نے سعید بن المسیب سے روایت کی ہے انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے اور انہوں نے حضور ﷺ سے کہ آپ نے فرمایا (اعطیت خمسالم یعطھن احد قبلی، جملت لی الارض مسجد و طھورا، و نصرت بالرعب واحلت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–72
147 اساری بدر سے خیر کا وعدہ : سو پیغمبر کو حکم وارشاد فرمایا گیا کہ آپ اپنے زیر قبضہ ان قیدیوں سے کہو کہ اگر اللہ تعالیٰ نے تمہارے دلوں میں بھلائی دیکھی تو وہ تم کو اس سے کہیں بہتر عطا فرمائے گا جو اس نے تم سے لیا گیا ہے کہ سب خزانوں کا مالک اور سب کچھ دینے والا تو وہی وحدہ لاشریک ہے۔ وہ کتنا بہتر دیگا، کیا اور کہاں سے دیگا اور کس طرح اور کس شکل میں دے گا اور کتنا دیگا۔ سو یہ سب کچھ اسی کے علم و اختیار میں ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اگر تمہاری نیتیں درست ہوئیں اے قیدیو تو وہ بہرحال تم کو بہتر بدلے سے نوازے گا۔ سو اصل مدارو انحصار انسان کے باطن اور اس کی نیت و ارادہ پر ہے۔ بہرکیف اس ارشاد میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–71
قیدیوں کے متعلق سیاسی مصلحت، مغفرت کا وعدہ
تشریح : ان آیات کی وضاحت میں دو رائے پائی جاتی ہیں پہلی رائے یہ ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ غزوہ بدر کے قیدیوں کے بارے میں رسول کریم ﷺ نے جب صحابہ کرام سے مشورہ لیا تو ابوبکر صدیق و دیگر صحابہ کی رائے تھی کہ قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے اور سیدنا عمر ؓ کی رائے تھی کہ ان قیدیوں کو قتل کردیا جائے۔ رسول اکرم ﷺ نے سیدنا ابوبکر ؓ کی رائے کے مطابق قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا۔ سیدنا عمر فاروق ؓ کہتے ہیں دوسرے دن صبح میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ اور ابوبکر ؓ دونوں رو رہے ہیں۔ رونے کی وجہ پوچھنے پر آپ ﷺ نے فرمایا میں اس وجہ سے رو رہا ہوں جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–75
آیات 70 تا 75
اسرار و معارف
رب جلیل نے ان قیدیوں کو فراموش نہیں کردیا ۔ بلکہ انہیں بھی تسلی دی اور فرمایا اے حبیب ان قیدیوں سے کہیئے دل برداشتہ نہ ہوں کہ شکست اور قید کی ذلت کے بعد اب مال دے کر جان چھڑائی بلکہ ان سے کہیے توبہ وا ہے اگر خلوص دل سے آج بھی ایمان لے آؤ تو اللہ کی تمہیں دنیا میں بھی معاف فرمادیں گے ۔ مگر بات دل کی عطافرمائیں گے ۔ جو جنگ اور فدیہ میں تم کھو چکے ہو اور تمہاری ساری خطائیں بھی معاف فرمادیں گے ۔ مگر بات دل کی حالت کی ہے ۔ اگر قلب میں خیربھلائی یعنی نور ایمان اور کی رحمت آجائے تو یہ سب کچھ آج بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ بہت بڑا بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔
ہاں اگر جھوٹ…
Read the full tafseer →ف 8 جب بدر کے قیدی لائے گئے تو بعض نے اسلام کا اظہار کیا اور کہا کہ میں نے اکراہ وجبر کے تحت جنگ میں شرکت کی تھی ان میں حضرت عباس ؓ بھی تھے اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور ان کو فدیہ کی معافی نہ دی گئی، چناچہ حضرت عباس کہا کرتے تھے کہ مجھ سے فدیہ میں بیس اوقیہ سونا لیا گیا اس کے بدلے مجھ اللہ تعالیٰ نے مجھے دنیا میں یہ دیا کہ میرے پاس بیس ایسے غلام ہیں جن میں سے اہر ایک سوداگری کرتا ہے علاوہ ازیں، مجھے اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی بھی امید ہے۔ ( حاکم، بیہقی)
11 بدر کے قید یہوں میں آنحضرت ﷺ کے چچا عباس اور آپ ﷺ کے داماد ابو العاص اور آپ ﷺ کے چچازاد بھائی نوفل اور عقیل بھی شامل تھے، حضرت عائشہ ؓ کا بیان…
Read the full tafseer →(8:70) من فی ایدیکم من الاسری۔ قیدی جو تمہارے قبضہ میں ہیں۔ مما اخذ منکم۔ ای الفدیۃ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–71
آیات : 70 تا 71
لغات القرآن۔
یوتکم۔ وہ تمہیں دے گا۔ خیر۔ زیادہ بہتر۔ اخذ۔ لیا گیا۔ امکن۔ اس نے قوت دی۔
تشریح :
یہ قیدی کون تھے ؟ یہ وہی کفار و مشرکین تھے جنہوں نے مسلمانوں کے ساتھ دشمنی میں کوئی کسر اتھانہ رکھی تھی۔ مسلمانوں کی طرح طرح سے ستایا، قتل کیا، نقصان پہنچایا، وحشیانہ مظالم کئے لیکن اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے انہیں پھر بھی ایک دفعہ توبہ کرنے کا موقع دے دیا۔
اس شرط کے ساتھ آئندہ معافی کا وعدہ فرمایا گیا ہے کہ اے قیدیو ! آج تم سے جو فدیہ لیا گیا ہے اور جو کچھ مال غنیمت ہے وہ تمہیں لوٹا دیا جائے گا شرط یہ ہے کہ اللہ نے اگر تمہارے عمل اور کردار میں خیر کو جان لیا اور تم نے بھی آئندہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–71
فدی اور حضرت عباس ؓ کے کے اسلام لانے کا ذکر اور حضور ﷺ کا علم غیب
شان نزول : حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب عباس بن عبد المطلب اور حضرت عباس رضی الہ عنہ کے دونوں بھتیجے عقیل بن ابی طالب اور نوفل بن الحارث بدر کی لڑائی میں قید ہوکر آئے تو حضرت عباس ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ میں تو مسلمان تھا زبردستی لوگ مجھے لے آئے تھے۔ آپ نے فرمایا اگر یہ بات سچ ہے تو اللہ آپ کو بدلہ دے گا۔ آپ اپنا اور اپنے ساتھیوں کا فدیہ دیں تو چھوڑ دیئے جائیں۔ انہوں نے کہا :'' اے رسول اللہ ﷺ میرے پاس اتنا کہاں ہے '' آپ نے فرمایا وہ مال کہاں گیا جو تم مکہ سے چلتے وقت ام الفضل کو دفن کرنے کو دے آئے تھے اور یہ کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–70
[24] جنگ بدر سے پہلے سورة محمد ﷺ میں جنگ کے بارے میں جو آیت نازل ہوئی تھی اس میں فرمایا گیا تھا کہ جب کافروں سے تمہاری مڈبھیڑ ہو تو پہلا کام ان کی گردنیں مارنا ہے یہاں تک کہ جب تم انہیں اچھی طرح کچل دو تب قیدیوں کو مضبوط باندھو۔ اس کے بعد احسان کرو یا فدیہ کا معاملہ کرلو (آیت 4) ۔ اسی حکم کی رو سے مسلمانوں نے بدر کے قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑا لیکن غلطی یہ ہوئی کہ دشمن کی طاقت کو کچلنے کی جو شرط مقدم رکھی گئی تھی اسے پورا کرنے سے پہلے مسلمان دشمنوں کو قیدی بنانے اور مال غنیمت جمع کرنے میں مشغول ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ کو یہ بات ناپسند ہوئی کیونکہ اگر دشمن کی پسپائی کے بعد مسلمان اس کا تعاقب کرتے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–71
(ف 1) یہودیوں میں غنیمت کا استفادہ ناجائز تھا انہیں حکم تھا کہ جو کچھ میدان جنگ میں ہاتھ آئے آگ کی نذر کر دو ، کیونکہ وہ بہت درجہ حریص ہوگئے تھے ، ضرورت اس بات کی تھی ، کہ ان میں زیادہ سے زیادہ اخلاص پیدا کیا جائے ،
مسلمانوں کو اس آیت میں بتایا کہ تمہیں مال غنیمت کا استعمال درست ہے ،
حل لغات :
اسری : جمع اسیر ، بمعنے قیدی ۔ حتی یثخن : مصدر اثخان ہے اچھی طرح خون بہانا ، ثخن بمعنی حجم سطری ۔
Read the full tafseer →70 اے نبی ﷺ ! جو بدر کے قیدی آپ کے قبضہ میں ہیں ان سے فرما دیجئے اگر اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں میں بھلائی دیکھے گا تو جو کچھ تم سے فدیہ میں لیا گیا ہے اس سے بہتر تم کو دیدے گا اور تم کو بخش دے گا اور آخرت میں تمہاری مغفرت فرمادے گا اور اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت کرنے والا نہایت مہربانی کرنے والا ہے۔ کفار قریش بعض غیر مہاجر مسلمانوں کو بھی زبردستی اپنے ہمراہ لے آئے تھے ان میں سے کسی نے کہا ہوگا کہ ہم مسلمان ہیں یا حضرت عباس ؓ کے قصے میں یہ آیت نازل ہوئی ہو۔
جیسا کہ مفسرین کا قول ہے کہ جب ان سے ان کا فدیہ اور ان کے بھتیجوں کا زرِ فدیہ طلب کیا گیا تو انہوں نے کہا اے محمد ﷺ کیا تم مجھ کو ہمیشہ قریش کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–70
ف 1۔ یغلبوا باذن اللہ (اللہ کے حکم سے غالب آئیں گے) یعنی غلبہ اذن الٰہی کے ساتھ مقید ہے پس اگر کسی حکمت کی وجہ سے اذن نہ ہو تو غلبہ بھی نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →بدر کے قیدیوں کو بھی تسلی دی کہ تم کو اس سے بھی زیادہ ملے گا جو تم نے اس وقت دیا :
93: اللہ تعالیٰ کے فضل بےپایاں کا کون اندازہ کرسکتا ہے کہ انسان کتنے ہی جرم کرتا جائے اور کتنی ہی بد اعتدالیاں کرچکا ہو آخر اللہ کا تو وہ بندہ ہی ہوتا ہے اور اس کی حکمت کا کیا کہنا اس رقم سے جو بدر کے قیدیوں سے وصول کی گئی تھی یقیناً ان کو تکلیف پہنچی ہوگی کیونکہ مال کے ساتھ محبت تو ہر ایک کو ہوتی ہے پھر کفار کو تو ویسے بھی بےانداز محبت تھی اس آیت میں ان کی بھی دلجوئی فرمادی اور اعلان کردیا کہ بدر کے قیدیو ! اگر وہ وقت نہیں رہا جب تم مکہ سے بڑے طمطراق کے ساتتھ نکل رہے تھے تو یہ وقت بھی یقیناً نہیں رہے گا اور تم…
Read the full tafseer →Commentary
The prisoners taken in the battle of Badr were released against ransom. These were sworn enemies of Islam and Muslims who had left nothing undone when it came to harassing, torturing, beating and killing them, anytime, anywhere. The slightest opportunity on hand would make them inflict their savagery on them. Now that they were prisoners in the hands of Muslims, granting them a lease of life was no mean feat. In fact, it was much more than adequate for them, virtually touching the outside limits of kindness under given circumstances. Then, the amount of ransom taken from them was…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–71
49. In attempting to explain the circumstantial background of the above verse, some commentators on the Qur'an have referred to the deliberations for deciding the fate of the Quraysh captives after the Battle of Badr. In that council Abu Bakr pleaded to release the captives in return for ransom while 'Umar suggested that they should be put to the sword. Preferring Abu Bakr's suggestion, the Prophet (peace be on him) set all the captives free in return for ransom. However, God disapproved the decision as is evident from the above-quoted verse. (See Muslim, 'Jihad', 'Bab al-lmdad bi…
Read the full tafseer →