Explained with ayahs 67–69
اسیران بدر اور مشورہ
مسند امام احمد میں ہے کہ بدر کے قیدیوں کے بارے میں رسول مقبول ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مشورہ لیا کہ اللہ نے انہیں تمہارے قبضے میں دے دیا ہے بتاؤ کیا ارادہ ہے ؟ حضرت عمر بن خطاب نے کھڑے ہو کر عرض کیا کہ ان کی گردنیں اڑا دی جائیں آپ نے ان سے منہ پھیرلیا پھر فرمایا اللہ نے تمہارے بس میں کردیا ہے یہ کل تک تمہارے بھائی بند ہی تھے۔ پھر حضرت عمر نے کھڑے ہو کر اپنا جواب دوہرایا آپ نے پھر منہ پھیرلیا اور پھر وہی فرمایا اب کی دفعہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کھڑے ہوئے اور عرض کیا کہ یارسول اللہ ﷺ ہماری رائے میں تو آپ ان کی خطا سے درگزر فرما لیجئے اور انہیں فدیہ لے کر آزاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–71
سورة الْاَنْفَال 49
اس آیت کی تفسیر میں اہل تاویل نے جو روایات بیان کی ہیں وہ یہ ہیں کہ جنگ بدر میں لشکر قریش کے جو لوگ گرفتار ہوئے تھے ان کے متعلق بعد میں مشورہ ہوا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے۔ حضرت ابوبکر ؓ نے رائے دی کہ فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے، اور حضرت عمر ؓ نے کہا کہ قتل کردیا جائے۔ نبی ﷺ نے حضرت ابوبکر ؓ کی رائے قبول کی اور فدیہ کا معاملہ طے کرلیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات بطور عتاب نازل فرمائیں۔ مگر مفسرین آیت کے اس فقرے کی کوئی معقول تاویل نہیں کرسکے ہیں کہ ”اگر اللہ کا نوشتہ پہلے نہ لکھا جا چکا ہوتا۔“ وہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد تقدیر الہٰی ہے، یا یہ کہ اللہ تعالیٰ پہلے ہی یہ…
Read the full tafseer →مسئلہ۔ آیت مذکو رہ میں قیدیوں سے فدیہ لے کر آزاد کرنے یا مال غنیمت جمع کرنے پر جو عتاب نازل ہوا اور عذاب الہی سے ڈرایا گیا مگر پھر معافی دے دی گئی۔ اس سے یہ بات نہ کھلی کہ آئندہ کے لئے ان معاملات میں مسلمانوں کو کیا کرنا چاہئے۔ اس لئے اگلی آیت میں مال غنیمت کا مسئلہ تو صاف کردیا گیا (آیت) فَكُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ یعنی جو مال غنیمت تم کو ہاتھ آگیا ہے وہ اب کھا سکتے ہو وہ آئندہ کے لئے تمہارے واسطے حلال کردیا گیا۔ مگر اس میں بھی ایک شبہ یہ رہ جاتا ہے کہ مال غنیمت حلال کرنے کا حکم تو اب ملا ہے۔ اس حکم سے پہلے جو غلطی سے جمع کرلیا گیا تھا شاید اس میں کسی قسم کی کراہت ہو اس لئے اس کے بعد حَلٰلًا…
Read the full tafseer →فَكُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰلًا طَيِّبًا ڮ وَّاتَّقُوا اللّٰهَ ۭاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔
مال غنیمت کے حلال ہونے کی یقین دہانی : اب یہ مسلمانوں کی طرف رخ کر کے انہیں اطمینان دلایا کہ تم ان لوگوں کی ان ہفوات کی مطلق پروا نہ کرو، جو مال غنیمت یا فدیہ تمہیں حاصل ہوا ہے اسے کھاؤ برتو، وہ تمہارے لیے حلال طیب ہے، چونکہ یہ بات بعینہ اسی بات کا ایک حصہ ہے جو اوپر والی آیات میں مسلمانوں کے دفاع میں کہی گئی ہے اس وجہ سے ‘’ کے واسطہ سے اسی پر عطف کردی گئی ہے۔ بس اتنا فرق ہوا ہے کہ اوپر کی بات قریش کو مخاطب کر کے کہی گئی ہے اس لیے کہ وہ انہی سے کہنے کی تھی اور اس دوسری بات کا رخ مسلمانوں کی…
Read the full tafseer →69۔ 1 اس میں مال غنیمت کی حلت و پاکیزگی کو بیان کر کے فدیے کا جواز بیان فرما دیا گیا ہے۔ جس سے اس امر کی تائید ہوتی ہے کہ ' لکھی ہوئی بات ' سے مراد شاید یہی حلت غنائم ہے
Read the full tafseer →49: چونکہ جنگی قیدیوں کے بارے میں یہ فیصلہ کثرت رائے اور آنحضرت ﷺ کی تصدیق سے ہوچکا تھا اس لئے ناپسندیدگی کے اظہار کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں مسلمانوں کی معافی کا بھی اعلان فرمایا اور یہ بھی اجازت دی کہ جو مال فدیہ میں حاصل ہوا ہے حلال طیب ہے اور مسلمان اسے اپنے استعمال میں لاسکتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–69
67 ۔ 69:۔ قتال کے لیے ابھارنے اور جوش دلانے کے بعد اب قیدیوں کے احکام کی طرف بات کا رخ پھرجاتا ہے۔ اور یہ بات یہاں بدر میں رسول اللہ اور مسلمانوں کے اقدامات کے حوالے سے ہے۔ اور کہا جاتا ہے کہ تمہارے پاس جو قیدی ہیں ان کی ذہنی تربیت اس طرح کرو ، ان کو ایمان کی ترغیب دو اور کہو کہ اگر اب بھی وہ ایمان لائیں تو اس سے قبل ان سے جو مواقع جاتے رہے ہیں ، ان کی تلافی ہوسکتی ہے۔
ابن اسحاق نے غزوہ بدر کے واقعات بیان کرتے ہوئے کہا ہے " جب لوگوں نے دشمن کو گرفتار کرنا شروع کردیا اور رسول خدا اپنے چبوترے میں تھے۔ اور سعد ابن معاذ اس کے دروازے پر پہرہ دے رہے تھے۔ ان کے ساتھ دوسرے انصآر بھی تھے۔ اور سعد نے…
Read the full tafseer →3 پچھلے عتاب و تہدید سے مسلمان ڈر گئے کہ مال غنیمت کو جس میں فدیہ اساری بھی شامل ہے، اب ہاتھ نہیں لگانا چاہیے۔ اس آیت میں تسلی فرما دی کہ وہ اللہ کی عطاء ہے خوشی سے کھاؤ، ہاں جہاد کے سلسلہ میں مال غنیمت وغیرہ کو مطمح نظر بنانا یا اس قدر اہمیت دینا نہیں چاہیے کہ مقاصد عالیہ اور مصالح کلیہ سے اغماض ہونے لگے۔ بیشک وقتی حالات و مصالح کے اعتبار سے تم نے ایک غلط طریقہ کار اختیار کیا۔ مگر نفس مال میں کوئی خبث نہیں۔ خدا سے ڈرتے رہو گے تو وہ اپنی رحمت سے غلطیوں کو معاف فرما دے گا۔
Read the full tafseer →آیت 69 فَکُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰلاً طَیِّبًاز ایک مال غنیمت تو وہ تھا جو مسلمانوں کو عین حالت جنگ میں ملا تھا ‘ اور دوسرے اس مال کو بھی غنیمت قرار دے کر بلا کراہت حلال اور جائز قرار دے دیا گیا جو قیدیوں سے بطور فدیہ حاصل کیا گیا تھا۔
Read the full tafseer →71 فدیہ کا مال حلال وطیب ہے :۔ جب قیدیوں کو بروقت میدان جنگ میں قتل نہ کردینے اور گرفتار کر کے ان کے عوض فدیہ لینے کی بنا پر عتاب نازل ہوا تو صحابہ کرام ؓ کو شک پیدا ہوا کہ یہ مال جو بطور فدیہ لیا گیا ہے شاید حلال و طیب نہ رہا ہو، اسی شبہ کو دور کرنے کے لیے یہ آیت نازل ہوئی۔ کیونکہ فدیہ کی رقوم بھی اموال غنائم میں شامل تھیں اور فرمایا کہ یہ مال اللہ کا عطیہ ہے اسے بطیب خاطر استعمال میں لاؤ۔ البتہ جہاد کے سلسلہ میں دنیا کے مال پر نظر رکھنا اور اسے اس قدر اہمیت نہ دینا چاہیے کہ جہاد کا بلند تر مقصد ثانوی حیثیت اختیار کر جائے۔
Read the full tafseer →102 ۔ چناچہ شان غفوریت کے تقاضہ سے اس نے تمہاری یہ خطا معاف کردی، اس پر کچھ گرفت نہ کی، اور شان رحمت کے تقاضہ سے زر فدیہ کو تمہارے لیے حلال وطیب بھی قرار دے دیا۔ (آیت) ” فکلوا مما غنمتم حللا طیبا “۔ یعنی جو کچھ فدیہ ان کافروں سے وصول ہوگیا ہے اس کے جائز وپاک ہونے میں شک وشبہ نہ کرو۔ (آیت) ” واتقوا اللہ “۔ اس تقوی کا اقتضاء یہ ہے کہ آیندہ ہر طرح کی احتیاط زیادہ رکھو گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
لَوْلا کتاب مِن اللہ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ (الآیة) لولا کتاب من اللہ سبق (یعنی نوشتہ الہی) سے مراد کیا ہے ؟ اس میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں، صاحب روح المعانی نے اس کے چار معنی لکھے ہیں۔
(1) ان لا یعذب قوما قبل تقدیم ما یُبَیّنِ لھم امرًا او نھیًا، یعنی اللہ تعالیٰ کسی قوم کو اسکے اوا مرونوا ہی کے احکام واضح کرنے سے پہلے عذاب نہیں دیں گے یعنی یہ بات لوح محفوظ پر لکھی ہیں۔
(2) او مخْطی فی مثل ھذا الا جتھاد، یعنی لوح محفوظ میں یہ بات بھی لکھی ہوئی ہے کہ اجتہادی مسائل میں مخطی (خطا کرنے والے) سے مؤاخذہ نہیں ہوگا جیسا کہ غزوہ کے مال غنیمت کے بارے میں اجتہادی غلطی ہوئی۔
(3) اس جماعت (قوم) کو (عمومی)…
Read the full tafseer →فکلوا مما غنمتم حلالاً طیبًا واتقوا اللہ ان اللہ غفور رحیم۔ سو جو کچھ تم نے لے لیا ہے ‘ اس کو حلال پاک سمجھ کر کھاؤ اور اللہ (کے حکم کی خلاف ورزی) سے ڈرتے رہو۔ بلاشبہ اللہ بڑا بخشنے والا ‘ بڑی رحمت والا ہے۔
یعنی تم نے جو فدیہ اور مال غنیمت لے لیا ہے ‘ اب اللہ نے اس کو تمہارے لئے مباح کردیا (اب اس کو کھا سکتے ہو) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مجھے چھ خصوصیات عطا فرما کر دوسرے انبیاء پر برتری دی گئی ہے۔ ان چھ خصوصیات میں آپ نے ایک خصوصیت یہ ذکر فرمائی کہ میرے لئے مال غنیمت حلال کیا گیا۔ رواہ الترمذی عن ابی ہریرہ۔ طبرانی نے صحیح سند سے حضرت سائب بن یزید کی روایت سے یہ حدیث ان الفاظ کے ساتھ نقل کی ہے :…
Read the full tafseer →(69) بس اب غزوہ بدر کے دن جو غنیمت حاصل ہوئی ہے اس کا کھاؤ اور خیانت کرنے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو، غزوہ بدر کے دن فدیہ کی جو رائے تم نے دی ہے، اللہ تعالیٰ اس کو معاف فرمانے والے ہیں۔
Read the full tafseer →فَكُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰلًا طَيِّبًا : اللہ تعالیٰ کے ناراضگی کے اظہار سے یہ خیال پیدا ہوتا تھا کہ فدیے کا مال لینا اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں، اللہ تعالیٰ نے اس شبے کو دور فرمایا کہ یہ بھی مال غنیمت ہے اور اس امت کے لیے حلال اور طیب ہے، سو اسے کسی شک و شبہ کے بغیر کھاؤ۔ اس سے ”لَوْلَا كِتٰبٌ مِّنَ اللّٰهِ“ کی تفسیر ”اس امت کے لیے غنیمت حلال ہونے“ کے قول کو تقویت ملتی ہے۔ ”وَّاتَّقُوا اللّٰهَ“ البتہ یہ اصل مقصود نہیں، بلکہ اصل مقصود اللہ کا تقویٰ ہے، اسے اختیار کرو، یقیناً اللہ تعالیٰ بیحد بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔
Read the full tafseer →فکلوا مما غنمتم حللا طیبا واتقوا اللہ ان اللہ غفور رحیم۔
” سو کھائو جو تم نے غنیمت حاصل کی ہے حلال (اور) پاکیزہ اور ڈرتے رہو اللہ تعالیٰ سے یقینا اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے “
اس ارشاد کا ظاہر یہ تقاضا کرتا ہے کہ سارے کا سارا مال غنیمت لشکریوں کے لیے ہو اور وہ تمام کے تمام اس میں برابر شریک ہوں ‘ مگر اللہ تعالیٰ کا ارشاد : واعلمو انما غنمتم من شیء فان للہ خمسہ (الانفال :41) نے اس سے خمس نکالنے کے وجوب کو بیان کیا ہے اور اسے مذکورہ وجوہ کی طرف پھیر دیا ہے۔ اس بارے میں مکمل بحث پہلے گزر چکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
1۔ حاکم نے اور آپ نے اس کو صحیح کہا انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے یوں پڑھا (آیت) ” ان یکون لہ اسری “۔ اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا۔
بدر کے قیدیوں کا فیصلہ :
2:۔ احمد نے انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے لوگوں یعنی صحابہ کرام سے مشورہ فرمایا بدر کے دن قیدیوں کے بارے میں اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو ان پر قدرت عطا فرمائی ہے تو حضرت عمر بن خطاب ؓ کھڑے ہوئے اور فرمایا یا رسول اللہ ﷺ ان کو قتل کردیجئے یہ سن کر نبی کریم ﷺ نے ان سے اعراض فرمایا اور فرمایا اے لوگو ! بیشک اللہ تعالیٰ نے تم کو ان پر قدرت دی ہے اور بلاشبہ کل تک یہ تمہارے بھائی تھے پھر حضرت عمر ؓ کھڑے ہوئے اور عرض کیا یا…
Read the full tafseer →فَكُلُوْا [ پس تم لوگ کھاؤ] مِمَّا [ اس میں سے جو ] غَنِمْتُمْ [ تم نے غنیمت حاصل کی ] حَلٰلًا [ حلال ہوتے ہوئے ] طَيِّبًا ڮ [ پاکیزہ ہوتے ہوئے ] وَّاتَّقُوا [ اور تقوی اختیار کرو ] اللّٰهَ ۭ [ اللہ کا ] اِنَّ اللّٰهَ [ بیشک اللہ ] غَفُوْرٌ [ بخشنے والا ہے ] رَّحِيْمٌ [ رحم کرنے والا ہے ]
Read the full tafseer →اس کے بعد فرمایا (فَکُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰلًا طَیِّبًا) (سو کھاؤ اس میں سے جو تمہیں بطور غنیمت کے مل گیا حلال پاکیزہ ہونے کی حالت میں) بدر کے قیدیوں سے فدیہ لے کر جو ان کو چھوڑ دینے کا فیصلہ کردیا گیا تھا اس پر عتاب تو ہوا لیکن اللہ تعالیٰ شانہٗ نے اپنی مہربانی سے اس مال کو حلال اور طیب قرار دے کر کھانے کی اجازت مرحمت فرما دی اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا (و اتقوا اللہ) (کہ اللہ سے ڈرو) اللہ کے احکام کی خلاف ورزی سے احتراز کرو (اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ) (بلاشبہ اللہ بخشنے والا ہے اس نے تمہارے گناہ معاف فرمائے) رَّحِیْمٌ (رحم فرمانے والا) جو کچھ تم نے کافروں سے لیا اس کے بارے میں تم پر رحم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–71
تلقین احکام دربارۂ اسیران جنگ جنگ
قال اللہ تعالیٰ ﷺ ان کان لنبی ان یکون لہ اس ری حتی یثخن فی الارض۔۔۔ الی۔۔۔ واللہ علیم حکیم
(ربط) گزشتہ آیات میں جہاد و قتال کے مسائل اور احکام کا بیان تھا چونکہ جہاد و قتال میں بسا اوقات کفار قید ہو کر آتے ہیں اس لیے آئندہ آیات میں اسیران جنگ اور خاص کر اسیران بدر کے متعلق احکام بیان کرتے ہیں کیونکہ قیدیوں کے قتل اور فدیہ کا فیصلہ قتال سے فارغ ہونے کے بعد ہوتا ہے اس لیے اس سورت میں احکام قتال کو۔ قیدیوں کے احکام پر ختم فرمایا۔
شان نزول۔
اور شان نزول ان آیات کا یہ ہے کہ جب جنگ بدر میں ستر کافر قید ہو کر آئے تو آں حضرت ﷺ نے ان کے بارے میں صحابہ سے مشورہ کیا کہ…
Read the full tafseer →70: جب یہ عتاب کی آیتیں نازل ہوئیں تو مسلمان ڈر گئے کہ مال غنیمت کو جس میں قیدیوں کا فدیہ بھی شامل ہے ہاتھ نہ لگائیں اور اپنے استعمال میں نہ لائیں اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کو تسلی دی کہ مال غنیمت اور جو فدیہ تم لے چکے ہو تمہارے لیے حلال و طیب ہے اسے استعمال کرو اور آئندہ کے لیے احتیاط رکھو جو ہوگیا وہ اللہ نے معاف کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–69
ربطِ آیات :
گذشتہ آیات میں جہاد کی ترغیب کا ذکر تھا اسلام کے ابتدائی زمانہ میں اہل ایمان کی تعداد بالکل قلیل تھی اور دشمنوں کی تعداد بہت زیادہ تھی اس وقت اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو اپنے سے دس گنا طاقتور دشمن کے ساتھ مقابلہ کرنے کا حکم دیا۔ پھر جب مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا ، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے حکم میں تخفیف کردی اور فرمایا کہ تم اپنے سے دگنے دشمن کی ساتھ بھی ٹکرا جائو اور ان کے مقابلہ سے بھاگنے کی اجازت نہیں ہاں اگر دشمن اس سے زیادہ تعداد مثلا تین چار گنا زیادہ ہو تو پھر مقابلے سے اعراض کرنے پر کوئی مواخذہ نہیں ہوگا۔ اللہ نے دشمن سے مقابلے کے لیے یہ نسبت مقرر فرما دی۔
غزوہ بدر…
Read the full tafseer →فَكُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰلًا طَيِّبًا 0 ۡ ۖ وَّاتَّقُوا اللہَ 0 ۭ اِنَّ اللہَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ 69 ۧ
أكل
الأَكْل : تناول المطعم، وعلی طریق التشبيه قيل : أكلت النار الحطب، والأُكْل لما يؤكل، بضم الکاف وسکونه، قال تعالی: أُكُلُها دائِمٌ [ الرعد/ 35]
( ا ک ل ) الاکل
کے معنی کھانا تناول کرنے کے ہیں اور مجازا اکلت النار الحطب کا محاورہ بھی استعمال ہوتا ہے یعنی آگ نے ایندھن کو جلا ڈالا۔ اور جو چیز بھی کھائی جائے اسے اکل بضم کاف و سکونا ) کہا جاتا ہے ارشاد ہے { أُكُلُهَا دَائِمٌ } ( سورة الرعد 35) اسکے پھل ہمیشہ قائم رہنے والے ہیں ۔
غنم
الغَنَمُ معروف . قال تعالی: وَمِنَ الْبَقَرِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–70
ترکیب : ان یکون کا جملہ کان کا اسم کتاب مبتداء من اللّٰہ صفت اول سبق صفت ثانی یا سبق خبر لمسکم جملہ جواب لولا۔ لمن لام قل سے متعلق ہے فی ایدیکم صلہ من الاسریٰ من کا بیان ان یعلم اللّٰہ جملہ مقولہ ہے قل کا وان یریدوا معطوف ہے ان یعلم پر یا مستانفہ۔
تفسیر : بدر کی لڑائی سے آنحضرت ﷺ ستر قیدی کفار کے لے کر مدینہ میں آئے۔ ان قدیوں کی بابت کہ جن میں حضرت کے چچا عباس اور علی کے بھائی عقیل ؓ بھی تھے۔ لوگوں سے رائے طلب کی گئی۔ ابوبکر ؓ نے کہا فدیہ لے کر چھوڑ دیجئے۔ آپ کی قوم ہے۔ خدا ان کو توفیق ہدایت دے گا۔ عمر ؓ نے کہا قتل کرنا چاہیے تاکہ کفر کا زور ٹوٹے۔ عبداللہ بن رواحہ ؓ نے کہا ٗ آگ میں جلا دیجئے۔…
Read the full tafseer →فَکُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰلاً طَیِّبًا صلیز وَاتَّقُوا اللّٰہَ ط اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔ ع (الانفال : 69)
(پس کھائو اس سے جو تمہیں غنیمت سے ملا ہے، وہ حلال اور پاک ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو یقینا اللہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ )
مالِ غنیمت سے متعلق حکم
گزشتہ دو آیتوں میں چونکہ مال غنیمت حاصل کرنے پر مسلمانوں پر سخت تنقید کی گئی جس سے بظاہر یہ شبہ ہوتا ہے کہ شاید مال غنیمت مسلمانوں کے لیے حلال نہیں اور سابقہ مذاہب کی روایات سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ سابقہ مذاہب میں مال غنیمت سے فائدہ اٹھانا حلال نہیں تھا بلکہ جنگ میں فتح کے بعد جو مال غنیمت مسلمانوں کو ملتا تھا وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–69
فہم القرآن
ربط کلام : جنگ کے مسائل کا بیان جاری ہے اب قیدیوں اور مال غنیمت کے بارے میں وضاحت کی جاتی ہے۔
اس آیت مبارکہ میں تین الفاظ ایسے ہیں جن کا معنی جاننے سے آیت کا مفہوم بہتر طور پر ذہن نشین ہوجائے گا اسرٰی اس تسمے کو کہا جاتا ہے جس سے پرانے زمانے میں لوگ قیدیوں کو باندھا کرتے تھے اثخان کا معنی ہے خون کا گاڑھا ہونا مراد گھمسان کا رن پڑنا یعنی ایسی لڑائی کہ جس میں ایک فریق کی کمر ٹوٹ جائے عَرَضْ دنیا کے ساز و سامان کو کہا جاتا ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ اے نبی ! آپ کے لیے یہ مناسب نہیں تھا کہ آپ کفار کی کمر توڑے بغیر قیدیوں کو دنیا کے مال کے بدلے رہا کردیتے۔ یہاں قیدیوں کے بارے میں مخاطب…
Read the full tafseer →اموالِ غنائم کے استعمال کی اجازت :
آیت 69: فَکُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ (پس تم کھائو اس کو جو کچھ تم نے لیا ہے) روایت میں ہے کہ صحابہ کرام غنائم سے رک گئے اور انہوں نے اس کو ہاتھ بھی نہ لگایا۔ پس یہ آیات اتریں۔ دوسرا قول یہ ہے کہ اس میں فدیہ کو مباح کیا گیا کیونکہ یہ بھی غنائم میں سے ہے۔ فا، سببیہ ہے اور سبب محذوف ہے۔ مطلب یہ ہے قد احللت لکم الغنائم کہ میں نے غنائم تمہارے لیے حلال کردیے۔ پس تم کھائو۔ حَلٰلاً (حلال) عتاب و عقاب سے آزاد ہو کر۔ حلال یہ حل العقال سے ہے۔
اونٹ کا عقال کھول دیا۔ نمبر 1۔ یہ مغنوم (غنیمت کے طور پر حاصل شدہ مال) سے حال ہونے کی بناء پر منصوب ہے۔ نمبر 2۔ مصدر کی صفت ہے…
Read the full tafseer →69(فکلوا مما غنمتم حللا طیباً واتقوا اللہ ط ان اللہ غفور رحیم) روایت کیا گیا ہے کہ جب پہلی آیت نازل ہوئی۔ صحابہ کرام ؓ نے فدیہ کے استعمال سے اہتھ کھینچ لئے تو یہ آیت نازل ہوئی۔
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میرے لئے غنیمت کو حلال کیا گیا، مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال نہیں کیا گیا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا غنیمت ہمارے سے پہلے کسی کے لئے حلال نہیں کیا گیا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا غنیمت مہارے سے پہلے سکی کے لئے حلال نہیں کی گئی۔ یہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے مہارے ضعف اور عجز کو دیکھا تو اس کو ہمارے لئے پاک کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–69
67۔ 69۔ جب بدر کی لڑائی میں کفار قریش میں سے ستر کافر گرفتار ہوئے اور آنحضرت ﷺ نے ان کو فدیہ لے کر بعض اصحاب کے مشورہ کے موافق چھوڑ دیا تو یہ آیت اتری اللہ پاک نے فرمایا کہ نبی کو یہ بات لائق نہیں ہے کہ جب قیدی اس کے یہاں گرفتار ہو کر آئیں تو بغیر قتل کئے ہوئے انہیں چھوڑ دیا جائے پھر اور مسلمانوں کو خطاب کر کے فرمایا کہ تم دنیا کی دولت کو پسند کرتے ہو اور اللہ یہ چاہتا ہے کہ آخرت درست ہو خدا کا بول بالا تمام روئے زمین میں ہو کر اس کا خالص دین ہو معتبر سند سے مسند امام احمد ترمذی وغیرہ میں عبداللہ بن مسعود ؓ اور انس بن مالک ؓ سے روایتیں ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے بدر کے قیدیوں کے بارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–69
آیت 67
یہ غزوۂ بدر کے موقع پر اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسول ﷺ اور اہل ایمان پر عتاب ہے جب انہوں نے مشرکین کو جنگی قیدی بنایا اور ان سے معاوضہ لینے کے لئے اپنے پاس رکھا۔ امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب ؓ کی رائے یہ تھی کہ ان سے مالی معاوضہ لینے کی بجائے، ان کو قتل کرکے ان کی جڑ کاٹ دی جائے۔
چناچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ماکان لنبی ان یکون لہ اسری حتی یثخن فی الارض) ” نبی کے شایاں نہیں کہ اس کے قبضے میں قیدی رہیں یہاں تک کہ (کافروں کو قتل کرکے) زمین میں کثرت سے خون نہ بہادے “۔ یعنی نبی کے لئے یہ بات ہرگز مناسب نہیں کہ جب وہ کفار کے ساتھ جنگ کرے جو اللہ تعالیٰ کی روشنی کو بجھانا اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–71
مال غنیمت کی حلت
قول باری ہے (فکلوا مما غنمتم حلالاً طیباً ۔ پس جو کچھ تم نے حاصل کیا ہے اسے کھائو کہ وہ حلال اور پاک ہے) آیت میں غنائم کی اباحت کا حکم ہے جب کہ اس سے پہلے اس کی ممانعت تھی۔ ہم نے اعمش کی روایت کا ذکر کردیا ہے جو انہوں نے ابو صالح سے کی ہے، اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ہے (لم تحل الغنائم لقوم سود الرئوس قبلکم۔ تم سے پہلے سیاہ سروں والی کسی قوم کے لئے مال غنیمت حلال نہیں تھا) زہری نے سعید بن المسیب سے روایت کی ہے انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے اور انہوں نے حضور ﷺ سے کہ آپ نے فرمایا (اعطیت خمسالم یعطھن احد قبلی، جملت لی الارض مسجد و طھورا، و نصرت بالرعب واحلت…
Read the full tafseer →146 زر فدیہ کو کھانے اور استعمال کرنے کی اجازت و اباحت : روایات میں وراد ہے کہ اساری بدر سے متعلق جب اوپر والا تنبیہی ارشاد نازل ہوا تو حضرات صحابہ کرام کو اس سے یہ تشویش لاحق ہوئی کہ جو زر فدیہ اس ضمن میں ان قیدیوں سے لیا گیا ہے اس کے بارے کیا کیا جائے ؟ آیا یہ ہمارے لئے حلال ہے یا نہیں ؟ تو اس کے بارے میں یہ ارشاد ربانی نازل ہوا جس میں اس مال کی حلت کی تصریح فرما دی گئی کہ اس سے تم لوگ کھاؤ اور پیو اور اس کو استعمال کرو۔ اس میں کوئی حرج اور مضائقہ نہیں۔ انکو فدیہ لیکر چھوڑنے کی غلطی اپنی جگہ غلطی تھی اور وہ بھی ایک اجتہادی اور غیر ارادی غلطی تھی۔ لیکن اس سے اس زر فدیہ کی حلت میں کوئی فرق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–71
قیدیوں کے متعلق سیاسی مصلحت، مغفرت کا وعدہ
تشریح : ان آیات کی وضاحت میں دو رائے پائی جاتی ہیں پہلی رائے یہ ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ غزوہ بدر کے قیدیوں کے بارے میں رسول کریم ﷺ نے جب صحابہ کرام سے مشورہ لیا تو ابوبکر صدیق و دیگر صحابہ کی رائے تھی کہ قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے اور سیدنا عمر ؓ کی رائے تھی کہ ان قیدیوں کو قتل کردیا جائے۔ رسول اکرم ﷺ نے سیدنا ابوبکر ؓ کی رائے کے مطابق قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا۔ سیدنا عمر فاروق ؓ کہتے ہیں دوسرے دن صبح میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ اور ابوبکر ؓ دونوں رو رہے ہیں۔ رونے کی وجہ پوچھنے پر آپ ﷺ نے فرمایا میں اس وجہ سے رو رہا ہوں جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–69
آیات 65 تا 69
اسرار و معارف
نیزاے نبی (ﷺ ) مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دیں اس کے فضائل کے ساتھ اس کی ضرورت اور فوائد بھی بیان فرمائیں کہ اسلام بنیادی طور پر امن کا علمبردار ہے اور نہ صرف دنیا بلکہ آخروی امن و سکون کا ضامن ہے مگر ایسے عناصر جو اس امن ہی کے لیے خطرہ پیدا کردیں اور نہ صرف معاشرے کے ظاہری امن کو تباہ کرنے کے درپے ہوں بلکہ اخروی اور دائمی امن و سکون بھی لوٹناچا ہیں تو ان سے قتال ہی دوسروں کے لیے امن کی ضمانت ہے اور اللہ کریم کے نزدیک یہ اتنا پسند دیدہ عمل ہے کہ مسلمان جب بھی اس غرض سے میدان میں نکلیں گے اپنے سے دس گنابڑے دشمن پر غالب آئیں گے یعنی مسلمان جم کر لڑنے والے دوصدکفار پہ…
Read the full tafseer →ف 7 مروی ہے کہ ان دو آیتوں کے نزول کے بعد صحابہ ؓ نے فدیہ کے مال سے اپنے ہاتھ کھینچ لئے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اس میں پچھلی غلطی معافی دیتے ہوئے فدیہ کا مال کو کھانا جائز قرار دیا گیا۔ ( کبیر )
Read the full tafseer →(8:69) فکلوا۔ میںتسبیب کی ہے اس سے قبل سبب محذوف ہے تقدیر کلام یوں ہے قد ابحث لکم الغنائم فکلوا۔ (میں نے تمہارے لئے مال غنیمت حلال کردیا۔ پس اسے کھاؤ استعمال کرو) ۔
حلال طیبا۔ یہ یا تو مصدر محذوف اکلا کی صفت ہے یعنی حلال اور طیب کے طور پر استعمال میں لاؤ۔ یا یہ مما غنمتم کا حال ہے کہ مال غنیمت سے حلال اور طیب مال کھاؤ۔ استعمال کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–69
آیات : 67 تا 69
لغات القرآن۔
اسری۔ (اسیر) قیدی۔ حتی یثخن۔ جب تک کہ سختی نہ کی جائے۔ عرض ال دنیا۔ دنیا کا سامان۔ لولا کتاب۔ اگر لکھا ہوا نہ ہوتا۔ سبق۔ جو گذر گیا۔ لمسکم۔ البتہ تمہیں پہنچ جاتا۔ اخذتم۔ تم نے لیا۔ غنتم۔ تم نے مال غنیمت لیا۔
تشریح :
نبی کریم ﷺ جو ساری دنیا کے لئے رحمت ہی رحمت ہیں آپ نے ہر موقع پر ہر اس طریقے کو اختیار فرمایا جس میں نرمی اور سہولت کا پہلو شامل ہو۔ یہ ان تکہ کہ مشورہ میں بھی آپ اس بات کو پسند فرماتے تھے جس میں لوگوں سے نرمی کا انداز اختیار کیا گیا ہو۔
جیسا کہ پہلے بھی عرض کیا جا چکا ہے کہ غزوہ بدر مسلمانوں کے لئے پہلا تجربہ تھا۔ اس سے پہلے پندرہ سال تک صحابہ کرام ؓ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–69
قیدیوں کے قتل کی بابت اختلاف
جب بدر کی لڑائی میں کفار قریش میں سے ستر کافر گرفتار ہوئے۔ آنحضرت ﷺ نے صحابہ کرام سے مشورہ لیا اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کو ان پر قدرت دی ہے۔ حضرت عمر ؓ نے کھڑے ہوکر کہا کہ : انہیں قتل کرڈالئے۔ آپ نے کچھ خیال نہ کیا پھر دوبارہ ارشاد فرمایا کہ اے لوگو ! تمہیں ان پر آج قابو ہے، یہ تمہارے بھائی تھے آج قیدی ہیں۔ پھر حضرت عمر ؓ نے کہا :” ان کی گرنیں ماریئے “ آنحضرت ﷺ نے پھر وہی فرمایا تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے کھڑے ہو کر کہا :” میری رائے ہے کہ ان کو معاف کیجئے اور فدیہ لے کر چھوڑ دیجئے “۔ اس بات پر آنحضرت ﷺ کے چہرہ مبارک سے غم کے آثار دور ہوئے اور آپ نے فدیہ لے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–70
[24] جنگ بدر سے پہلے سورة محمد ﷺ میں جنگ کے بارے میں جو آیت نازل ہوئی تھی اس میں فرمایا گیا تھا کہ جب کافروں سے تمہاری مڈبھیڑ ہو تو پہلا کام ان کی گردنیں مارنا ہے یہاں تک کہ جب تم انہیں اچھی طرح کچل دو تب قیدیوں کو مضبوط باندھو۔ اس کے بعد احسان کرو یا فدیہ کا معاملہ کرلو (آیت 4) ۔ اسی حکم کی رو سے مسلمانوں نے بدر کے قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑا لیکن غلطی یہ ہوئی کہ دشمن کی طاقت کو کچلنے کی جو شرط مقدم رکھی گئی تھی اسے پورا کرنے سے پہلے مسلمان دشمنوں کو قیدی بنانے اور مال غنیمت جمع کرنے میں مشغول ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ کو یہ بات ناپسند ہوئی کیونکہ اگر دشمن کی پسپائی کے بعد مسلمان اس کا تعاقب کرتے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–71
(ف 1) یہودیوں میں غنیمت کا استفادہ ناجائز تھا انہیں حکم تھا کہ جو کچھ میدان جنگ میں ہاتھ آئے آگ کی نذر کر دو ، کیونکہ وہ بہت درجہ حریص ہوگئے تھے ، ضرورت اس بات کی تھی ، کہ ان میں زیادہ سے زیادہ اخلاص پیدا کیا جائے ،
مسلمانوں کو اس آیت میں بتایا کہ تمہیں مال غنیمت کا استعمال درست ہے ،
حل لغات :
اسری : جمع اسیر ، بمعنے قیدی ۔ حتی یثخن : مصدر اثخان ہے اچھی طرح خون بہانا ، ثخن بمعنی حجم سطری ۔
Read the full tafseer →69 اب جو کچھ تم نے بطور فدیہ حاصل کیا ہے اس کو حلال اور پاکیزہ سمجھ کر کھائو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ڈرتے رہوگے اور جو کچھ خطا بھی ہوجائے گی تو بخشے گا قیدیوں کا حکم سن کر مسلمان ڈرے غنیمت سے بھی یہ ان کو تسلی فرمائی کہ وہ اللہ کی عطا ہے خوشی سے کھائو لیکن غنیمت کے واسطے جہاد نہ کرو۔ 12
خلاصہ یہ کہ جہاد کا مقصد اعلاء کلمۃ اللہ اور کفار کے فتنہ کا سدباب ہے اس کے علاوہ کوئی دنیاوی مقصد نہیں ہونا چاہئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–70
ف 1۔ یغلبوا باذن اللہ (اللہ کے حکم سے غالب آئیں گے) یعنی غلبہ اذن الٰہی کے ساتھ مقید ہے پس اگر کسی حکمت کی وجہ سے اذن نہ ہو تو غلبہ بھی نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →جو تم کو غنیمت دی گئی ہے وہ تمہارے لئے حلال و طیب ہے بےدھڑک کھاؤ :
92: یہ آیت بھی پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ غزوہ بدر کے قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑنا عنداللہ کوئی بری بات نہ تتھی اور نہ یہ کہ وہ اللہ کو پسند نہ ہوئی بالکل نہیں وہ عین حکم الٰہی کے مطابق تھی اس لئے مال غنیمت کا مسئلہ بالک صاف ہوگیا اور وہ غنیم جو قید کر کے لایا گیا ان کا فدیہ بھی اس غنیمت میں شامل ہے۔ اس لئے وہ بھی تمہارے لئے حلال و طیب ہے۔ یہ جو کہا جاتات ہے کہ اس حکم کے بعد مال غنیمت حلال ہوا اور یہ حکم غزوہ بدر سے مال حاصل کرنے کے بعد ہے اس لئے اس وقت مال کا جمع کرنا اور فدیہ کا وصول کرنا جائز نہیں تھا ایک فرضی بات ہے ہم پہلے…
Read the full tafseer →Ruling 1: In the verse under discussion, admonition came upon releasing prisoners against ransom or collecting spoils, warning of Divine punishment was given, then came forgiveness. But, what remained still not clear was the future course Muslims would be required to take in such matters. Therefore, in the next verse (69), the matter relating to spoils was made all too clear by saying: فَكُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ (So, eat of the spoils you have got), that is, it has been made lawful for you in the future. But, even now, there remains a doubt to the effect that the injunction making spoils…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–71
49. In attempting to explain the circumstantial background of the above verse, some commentators on the Qur'an have referred to the deliberations for deciding the fate of the Quraysh captives after the Battle of Badr. In that council Abu Bakr pleaded to release the captives in return for ransom while 'Umar suggested that they should be put to the sword. Preferring Abu Bakr's suggestion, the Prophet (peace be on him) set all the captives free in return for ransom. However, God disapproved the decision as is evident from the above-quoted verse. (See Muslim, 'Jihad', 'Bab al-lmdad bi…
Read the full tafseer →