Al-Anfaal 8:68

Al-Anfaal · from ayah 68

8:68

لَوْلَا كِتٰبٌ مِّنَ اللّٰهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِیْمَاۤ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ ۟لَوۡلَا كِتٰبٌ مِّنَ اللّٰهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمۡ فِيۡمَاۤ اَخَذۡتُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ‏

اگر خدا کا حکم پہلے نہ ہوچکا ہوتا تو جو (فدیہ) تم نے لیا ہے اس کے بدلے تم پر بڑا عذاب نازل ہوتا

— Fateh Muhammad Jalandhari

If not for a decree from Allah that preceded, you would have been touched for what you took by a great punishment.

— Saheeh International

Juz 10 · Ruku 9 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Anfaal

All translations of 8:68

اگر اللہ کا نوشتہ پہلے نہ لکھا جا چکا ہوتا تو جو کچھ تم لوگوں نے لیا ہے اس کی پاداش میں تم کو بڑی سزا دی جاتی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اگر خدا کا حکم پہلے نہ ہوچکا ہوتا تو جو (فدیہ) تم نے لیا ہے اس کے بدلے تم پر بڑا عذاب نازل ہوتا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اگر پہلے ہی سے اللہ کی طرف سے بات لکھی ہوئی نہ ہوتی تو جو کچھ تم نے لیا ہے اس کے بارے میں تمہیں کوئی بڑی سزا ہوتی

— مولانا محمد جوناگڑہی

اگر اللہ کی طرف سے ایک لکھا ہوا حکم پہلے نہ آچکا ہوتا تو جو راستہ تم نے اختیار کیا، اس کی وجہ سے تم پر کوئی بڑی سزا آجاتی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اگراللہ پہلے ایک بات لکھ نہ چکا ہوتا تو اے مسلمانو! تم نے جو کافروں سے بدلے کا مال لے لیا اس میں تم پر بڑا عذاب آتا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اگر اللہ کی طرف سے پہلے ہی (معافی کا حکم) لکھا ہوا نہ ہوتا تو یقیناً تم کو اس (مال فدیہ کے بارے) میں جو تم نے (بدر کے قیدیوں سے) حاصل کیا تھا بڑا عذاب پہنچتا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اگر اللہ کی طرف سے لکھی ہوئی بات نہ ہوتی، جو پہلے طے ہوچکی تو تمہیں اس کی وجہ سے جو تم نے لیا بہت بڑا عذاب پہنچتا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اگر ایسا ہونا پہلے سے نہ لکھا جاچکا ہوتا تو جو کچھ تم نے (فدیہ) لیا ہے اس کی پاداش میں تمہیں بہت بڑی سزا دی جاتی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اگر اللہ کا نوشتہ پہلے سے موجود نہ ہوتا تو جو روش تم نے اختیار کی اس کے باعث تم پر ایک عذاب عظیم آ دھمکتا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اگر اللہ کی طرف سے ایک نوشتہ طے نہ ہوچکا ہوتا تو یقینا پہنچ کر رہتا تم لوگوں کو ایک بڑا عذاب،

— مولانا اسحاق مدنی

اگر اللہ ہی کا ایک قانون پہلے سے نہ ہوتا تو جو امر تم نے اختیار کیا اس کے بارے میں تم پر کوئی سخت سزا نازل ہوتی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اگر اللہ کی طرف سے بات پہلے سے طے نہ ہوچکی ہوتی تو جو کچھ (فدیہ وغیرہ) تم نے لیا ہے اس کے باعث تم پر بڑا سخت عذاب آتا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اگر اللہ کا حکم پہلے نہ ہوچکا ہوتا تو جو فدیہ تم نے لیا ہے اس کے بدلے تم پر بڑا عذاب نازل ہوتا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Had there not been a previous decree from Allah, a stern punishment would have afflicted you for what you have taken.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Had there not been a decree from Allah that came earlier, a great punishment would have overtaken you because of what you have taken.

— Muhammad Taqi Usmani

Had there not been a decree from Allah that came earlier, a great punishment would have overtaken you because of what you have taken.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Were it not a previous ordainment from Allah, a severe torment would have touched you for what you took.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Had it not been for an ordinance of Allah which had gone before, an awful doom had come upon you on account of what ye took.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

If not for a decree from Allah that preceded, you would have been touched for what you took by a great punishment.

— Saheeh International

(Had you taken captives) before being allowed by God's revelations, a great torment would have struck you for what you had done.

— Muhammad Sarwar

Were it not for an ordinance from Allah that had already gone forth, surely there would have befallen you a great chastisement for what you had taken to.

— Muhammad Habib Shakir

Were it not that a writ had already gone forth from Allah, there would surely have touched you a mighty torment for that which ye took

— Abdul Majid Daryabadi

Had it not been for a previous ordainment from Allah, a severe penalty would have reached you for the (ransom) that ye took.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 8:68

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 67–69

اسیران بدر اور مشورہ مسند امام احمد میں ہے کہ بدر کے قیدیوں کے بارے میں رسول مقبول ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مشورہ لیا کہ اللہ نے انہیں تمہارے قبضے میں دے دیا ہے بتاؤ کیا ارادہ ہے ؟ حضرت عمر بن خطاب نے کھڑے ہو کر عرض کیا کہ ان کی گردنیں اڑا دی جائیں آپ نے ان سے منہ پھیرلیا پھر فرمایا اللہ نے تمہارے بس میں کردیا ہے یہ کل تک تمہارے بھائی بند ہی تھے۔ پھر حضرت عمر نے کھڑے ہو کر اپنا جواب دوہرایا آپ نے پھر منہ پھیرلیا اور پھر وہی فرمایا اب کی دفعہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کھڑے ہوئے اور عرض کیا کہ یارسول اللہ ﷺ ہماری رائے میں تو آپ ان کی خطا سے درگزر فرما لیجئے اور انہیں فدیہ لے کر آزاد…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 66–68

سورة الْاَنْفَال 48 اس کا مطلب نہیں ہے کہ پہلے ایک اور دس کی نسبت تھی اور اب چونکہ تم میں کمزوری آگئی ہے اس لیے ایک اور دو کی نسبت قائم کردی گئی ہے۔ بلکہ اس کا صحیح مطلب یہ ہے کہ اصولی اور معیاری حیثیت سے تو اہل ایمان اور کفار کے درمیان ایک اور دس ہی کی نسبت ہے، لیکن چونکہ ابھی تم لوگوں کی اخلاقی تربیت مکمل نہیں ہوئی ہے اور ابھی تک تمہارا شعور اور تمہاری سمجھ بوجھ کا پیمانہ بلوغ کی حد کو نہیں پہنچا ہے اس لیے سردست برسبیل تنزل تم سے یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ اپنے سے دوگنی طاقت سے ٹکرانے میں تو تمہیں کوئی تامل نہ ہونا چاہیے۔ خیال رہے کہ یہ ارشادسن 2 ھجری کا ہے جب کہ مسلمانوں میں بہت سے لوگ ابھی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

دوسری آیت بھی اسی عتاب کا تتمہ ہے جس میں فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ کا ایک نوشتہ مقدر نہ ہوچکا ہوتا تو جو کام تم نے اختیار کیا کہ مال لے کر قیدیوں کو چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا اس کے بارے میں تم پر کوئی بڑی سزا واقع ہوجاتی۔ اس نوشتہ تقدیر سے کیا مراد ہے، اس کے متعلق ترمذی میں بروایت حضرت ابوہریرہ منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مال غنیمت تم سے پہلے کسی قوم کسی امت کے لئے حلال نہیں تھا۔ بدر کے موقع میں جب مسلمان مال غنیمت جمع کرنے میں لگ گئے حالانکہ ابھی تک ان کے لئے مال غنیمت حلال نہیں کیا گیا تھا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ مال غنیمت کے حلال ہونے کا حکم نازل ہونے سے پہلے مسلمانوں کا یہ اقدام…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آگے کے لیے ایک تنبیہ : لَوْلَا كِتٰبٌ مِّنَ اللّٰهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِــيْمَآ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ۔ یعنی تم نے اتنے ہی پر یہ واویلا برپا کر رکھا ہے۔ حالانکہ یہ تو صرف ایک چرکا ہے جو تمہیں لگا ہے۔ تم نے جو شرارت اس موقع پر کی تھی اس کا تقاضا تو یہ تھا کہ اس پر تمہیں ایک عذاب عظیم آ پکڑتا لیکن اللہ نے چونکہ ہر امت کے لیے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے، جس سے پہلے کسی قوم کا فیصلہ نہیں ہوتا اس وجہ سے اس نے تمہیں مہلت دے دی۔ مطلب یہ ہے کہ اس شور و غوغا کے بجائے بہتر یہ ہے کہ اس مہلت سے فائدہ اٹھاؤ اور اس فیصلہ کن گھڑی کے آنے سے پہلے پہلے اپنی روش کی اصلاح کرلو۔ فِــيْمَآ اَخَذْتُمْ ، میں ما کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

68۔ 1 اس میں مفسرین کا اختلاف ہے کہ یہ لکھی ہوئی بات کیا تھی ْ بعض نے کہا اس سے مال غنیمت کی حلت مراد ہے یعنی چونکہ یہ نوشتہ تقدیر تھا کہ مسلمانوں کے لئے مال غنیمت حلال ہوگا، اس لئے تم نے فدیہ لے کر ایک جائز کام کیا ہے، اگر ایسا نہ ہوتا تو فدیہ لینے کی وجہ سے تمہیں عذاب عظیم پہنچتا۔ بعض نے اہل بدر کی مغفرت اس سے مراد لی ہے، بعض نے رسول اللہ ﷺ کی موجودگی کو عذاب میں مانع ہونا مراد لیا ہے وغیرہ۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

48: پہلے لکھے ہوئے حکم سے مراد بعض مفسرین نے تو وہ حکم لیا ہے جو پیچھے آیت نمبر : 33 میں گزرا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے ہوتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا کوئی عذاب نہیں آسکتا اور دوسرے مفسرین نے اس کے یہ معنی بیان کئے ہیں کہ ان قیدیوں میں سے بعض حضرات کا مسلمان ہوجانا اللہ تعالیٰ نے مقدر میں لکھا تھا وہ نوشتہ ٔ تقدیر مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس فیصلے پر مسلمانوں کو کوئی سزا نہیں دی کہ ان قیدیوں میں سے کچھ لوگ مسلمان ہونے والے تھے ورنہ فیصلہ اصولی طور پر ناپسندیدہ تھا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 67–69

67 ۔ 69:۔ قتال کے لیے ابھارنے اور جوش دلانے کے بعد اب قیدیوں کے احکام کی طرف بات کا رخ پھرجاتا ہے۔ اور یہ بات یہاں بدر میں رسول اللہ اور مسلمانوں کے اقدامات کے حوالے سے ہے۔ اور کہا جاتا ہے کہ تمہارے پاس جو قیدی ہیں ان کی ذہنی تربیت اس طرح کرو ، ان کو ایمان کی ترغیب دو اور کہو کہ اگر اب بھی وہ ایمان لائیں تو اس سے قبل ان سے جو مواقع جاتے رہے ہیں ، ان کی تلافی ہوسکتی ہے۔ ابن اسحاق نے غزوہ بدر کے واقعات بیان کرتے ہوئے کہا ہے " جب لوگوں نے دشمن کو گرفتار کرنا شروع کردیا اور رسول خدا اپنے چبوترے میں تھے۔ اور سعد ابن معاذ اس کے دروازے پر پہرہ دے رہے تھے۔ ان کے ساتھ دوسرے انصآر بھی تھے۔ اور سعد نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی یہ غلطی تو فی حدذاتہ ایسی تھی کہ سخت سزا ان لوگوں کو دی جاتی جنہوں نے دنیاوی سامان کا خیال کر کے ایسا مشورہ دیا مگر سزا دہی سے وہ چیز مانع ہے جو خدا پہلے سے لکھ چکا اور طے کرچکا ہے۔ اور وہ کئی باتیں ہوسکتی ہیں۔ (1) مجتہد کو اس قسم کی اجتہادی خطاء پر عذاب نہیں ہوگا (2) جب تک خدا امراً و نہیاً کسی چیز کا صاف حکم بیان نہ فرمائے اس وقت تک اس کے مرتکب کو عذاب نہیں دیتا (3) اہل بدر کی خطاؤں کو خدا معاف فرما چکا ہے (4) غلطی سے جو رویہ قبل از وقت اختیار کرلیا گیا یعنی فدیہ لے کر قیدیوں کو چھوڑ دینا خدا کے علم میں طے شدہ تھا کہ آئندہ اس کی اجازت ہوجائے گی۔ " فاما منا بعد واما فداءً " (5) یہ بھی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 68 لَوْلاَ کِتٰبٌ مِّنَ اللّٰہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ فِیْمَآ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ ۔ اس سے مراد سورة محمد ﷺ کا وہ حکم ہے آیت 4 جو بہت پہلے نازل ہوچکا تھا۔ اس کی تفصیل ہم ان شاء اللہ سورة محمد ﷺ کے مطالعے کے دوران پڑھیں گے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس حکم کی تعبیر interpretation میں کس طرح فدیہ لینے کی گنجائش نکالی تھی۔ یہ دراصل قانون کی تشریح و تعبیر کا معاملہ ہے۔ جیسا کہ سورة الزمر کی آیت 18 میں ارشاد ہے : الَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَہٗ ط یعنی وہ لوگ جو کسی بات کو سن کر پیروی کرتے ہیں اس میں سے بہترین کی اور اس کے اعلیٰ ترین درجہ تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

70 اسارٰی بدر کے متعلق مشورہ اور اللہ کی طرف سے عتاب نازل ہونا :۔ آیت نمبر 67 اور 68 کے شان نزول سے متعلق مندرجہ ذیل دو احادیث ملاحظہ فرمائیے :۔ 1۔ سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ غزوہ بدر کے بعد جب قیدی قید کرلیے گئے تو آپ نے ابوبکر صدیق ؓ و عمر سے پوچھا : تمہاری ان قیدیوں کے بارے میں کیا رائے ہے ؟ ابوبکر ؓ نے عرض کی۔ اے اللہ کے نبی ! یہ چچا کے بیٹے اور خاندان کے لوگ ہیں۔ میری رائے یہ ہے کہ ان سے فدیہ لیا جائے تاکہ کفار کے مقابلہ میں ہمیں قوت حاصل ہو اور شاید اللہ انہیں اسلام کی ہدایت دے۔ پھر آپ نے عمر سے پوچھا : اے ابن خطاب ! تمہاری کیا رائے ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : اے اللہ کے رسول !…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

101 ۔ قانون الہی یہی ہے کہ خطائے اجتہادی پر سزا نہیں ہے تو اگر یہ قانون میں بتایا پہلے سے موجود نہ ہوتا تو مسلمانوں کی یہ غلطی تھی تو سخت مؤاخذہ اور سزا کے قابل۔ ان لا یعذب احدا علی العمل بالا جتھاد وکان ھذا اجتھادا منھم (مدارک) وھو ان لا یعاقب المخطی فی اجتھادہ (بیضاوی)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 68–69

لَوْلا کتاب مِن اللہ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ (الآیة) لولا کتاب من اللہ سبق (یعنی نوشتہ الہی) سے مراد کیا ہے ؟ اس میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں، صاحب روح المعانی نے اس کے چار معنی لکھے ہیں۔ (1) ان لا یعذب قوما قبل تقدیم ما یُبَیّنِ لھم امرًا او نھیًا، یعنی اللہ تعالیٰ کسی قوم کو اسکے اوا مرونوا ہی کے احکام واضح کرنے سے پہلے عذاب نہیں دیں گے یعنی یہ بات لوح محفوظ پر لکھی ہیں۔ (2) او مخْطی فی مثل ھذا الا جتھاد، یعنی لوح محفوظ میں یہ بات بھی لکھی ہوئی ہے کہ اجتہادی مسائل میں مخطی (خطا کرنے والے) سے مؤاخذہ نہیں ہوگا جیسا کہ غزوہ کے مال غنیمت کے بارے میں اجتہادی غلطی ہوئی۔ (3) اس جماعت (قوم) کو (عمومی)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لولا کتب من اللہ سبق لمسکم فی مآ اخذتم عذاب عظیم۔ اگر اللہ تعالیٰ کا ایک نوشتہ مقدر نہ ہو چکتا تو جو چیز تم نے اختیار کی ہے ‘ اس کے متعلق تم پر کوئی بڑی سزا واقع ہوجاتی۔ یعنی اللہ جب کسی قوم کو ہدایت کرتا ہے تو جب تک ممنوعات کو کھول کر نہیں بیان کردیتا ‘ ان ممنوعات کا ارتکاب کرنے والوں کو نہ گمراہ قرار دیتا ہے نہ ان کو عذاب دیتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ منع کرنے سے پہلے کسی عمل کے مرتکب کا مؤاخذہ نہیں کرتا ‘ اگر یہ بات نہ ہوتی تو تم پر عذاب آجاتا۔ حسن ‘ مجاہد اور حضرت سعید بن جبیر نے آیت کا تفسیری مطلب یہی بیان کیا ہے۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم لوگوں سے پہلے کسی کیلئے مال…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(68) اگر رسول اکرم ﷺ کی امت کے لیے مال غنیمت کے حلال ہونے کے متعلق یا اہل بدر کی سعادت کے متعلق اللہ کا حکم نہ صادر ہوچکا ہوتا تو اس فدیہ سے تمہیں بڑی سزا ہوتی۔ شان نزول : (آیت) ”لولا کتاب من اللہ سبق“۔ (الخ) ترمذی ؒ نے ابوہریرہ ؓ سے رسول اکرم ﷺ کا فرمان روایت کیا ہے کہ غنیمتیں حلال نہیں تھیں اور تم سے پہلے کسی بھی جماعت کے لیے یہ حلال نہیں تھی، آسمان سے آگ آتی تھی، اور وہ انہیں کھاجاتی تھی، غزوہ بدر کے دن تم لوگ اس کے حلال ہونے کے پہلے ہی اس میں گھس پڑے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی کہ (آیت) ”لولا کتاب من اللہ سبق“۔ یعنی اگر اللہ تعالیٰ کا ایک نوشتہ مقدر نہ ہوچکا ہوتا (الخ)

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

لَوْلَا كِتٰبٌ مِّنَ اللّٰهِ سَبَقَ : یہاں ”اللہ کی طرف سے لکھی ہوئی کتاب“ سے مراد کئی باتیں ہوسکتی ہیں، ایک یہ کہ اگر اس امت کے لیے غنیمت حلال نہ کردی گئی ہوتی، جیسا کہ بخاری کی حدیث (335) (وَ اُحِلَّتْ لِیَ الْغَنَاءِمُ) (اور میرے لیے غنیمتیں حلال کردی گئیں) سے معلوم ہوتا ہے۔ ابن جریر ؓ نے اسی کو پسند فرمایا۔ دوسری یہ کہ بدر میں جو صحابہ شریک ہوئے ان کے گناہ بخشے جا چکے وغیرہ۔ (ابن کثیر، فتح القدیر) بعض اہل علم نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کا وجود عذاب نازل ہونے سے مانع تھا، جیسا کہ فرمایا : (وَمَا كَان اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَاَنْتَ فِيْهِمْ) [ الأنفال : 33 ] ”اور اللہ کبھی ایسا نہیں کہ انھیں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

لولا کتب من اللہ سبق لمسکم فیمآ اخذتم عذاب عظیم۔ اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ قولہ تعالیٰ : لولا کتب من اللہ سبق اگر پہلے سے اس بارے میں حکم الہٰی نہ ہوتا کہ وہ کسی قوم کو عذاب نہیں دے گا یہاں تک کہ ان کے لیے اس چیز کو بیان کردے جس سے وہ بچیں اور پرہیز کریں۔ لوگوں نے کتاب اللہ السابق کے بارے میں مختلف قول کیے ہیں۔ ان میں سے صحیح ترین قول یہ ہے کہ اگر غنائم کو حلال کرنے کے بارے میں پہلے سے فیصلہ نہ ہوتا ‘ کیونکہ ہم سیپہلی امتوں پر غنائم کو حرام کیا گیا تھا۔ پس جب غزوہ بدر کا دن تھا ‘ تو لوگ غنائم کی طرف بڑی تیزی سے بڑھے تو اللہ تعالیٰ نے غنائم کو حلال کرتے ہوئے یہ آیت نازل فرمائی لو لا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 68–69

1۔ حاکم نے اور آپ نے اس کو صحیح کہا انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے یوں پڑھا (آیت) ” ان یکون لہ اسری “۔ اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا۔ بدر کے قیدیوں کا فیصلہ : 2:۔ احمد نے انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے لوگوں یعنی صحابہ کرام سے مشورہ فرمایا بدر کے دن قیدیوں کے بارے میں اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو ان پر قدرت عطا فرمائی ہے تو حضرت عمر بن خطاب ؓ کھڑے ہوئے اور فرمایا یا رسول اللہ ﷺ ان کو قتل کردیجئے یہ سن کر نبی کریم ﷺ نے ان سے اعراض فرمایا اور فرمایا اے لوگو ! بیشک اللہ تعالیٰ نے تم کو ان پر قدرت دی ہے اور بلاشبہ کل تک یہ تمہارے بھائی تھے پھر حضرت عمر ؓ کھڑے ہوئے اور عرض کیا یا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

لَوْلَا [ اگر نہ ہوتا ] كِتٰبٌ [ لکھا ہوا ] مِّنَ اللّٰهِ [ اللہ (کی طرف ) سے ] سَبَقَ [ پہلے سے ] لَمَسَّكُمْ [ تو ضرور چھوتا تم کو ] فِــيْمَآ [ اس میں جو ] اَخَذْتُمْ [ تم لوگوں نے لیا ] عَذَابٌ عَظِيْمٌ [ ایک بڑا عذاب ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اس کے بعد فرمایا (لَوْ لَا کِتٰبٌ مِّنَ اللّٰہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ فِیْمَآ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ) (اگر اللہ کا نوشتہ پہلے سے مقدر نہ ہوچکا ہوتا تو جو کچھ تم نے لیا ہے اس کے بارے میں تم کو بڑا عذاب پہنچ جاتا) اس نوشتہ سے کیا مراد ہے اس کے بارے میں حضرات مفسرین نے حضرات صحابہ ؓ اور تابعین کے متعدد اقوال نقل کیے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اس سے یہ مراد ہے کہ اللہ جل شانہٗ نے اُمِ الکتاب میں چونکہ یہ لکھ دیا تھا کہ مال غنیمت امت مسلمہ کے لیے حلال ہوں گے (جس میں قیدیوں سے فدیہ لینا بھی شامل ہے) اس لیے اللہ تعالیٰ نے عذاب روک لیا۔ مفسر ابن کثیر نے حضرت ابن عباس اور حضرت ابوہریرہ اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 67–71

تلقین احکام دربارۂ اسیران جنگ جنگ قال اللہ تعالیٰ ﷺ ان کان لنبی ان یکون لہ اس ری حتی یثخن فی الارض۔۔۔ الی۔۔۔ واللہ علیم حکیم (ربط) گزشتہ آیات میں جہاد و قتال کے مسائل اور احکام کا بیان تھا چونکہ جہاد و قتال میں بسا اوقات کفار قید ہو کر آتے ہیں اس لیے آئندہ آیات میں اسیران جنگ اور خاص کر اسیران بدر کے متعلق احکام بیان کرتے ہیں کیونکہ قیدیوں کے قتل اور فدیہ کا فیصلہ قتال سے فارغ ہونے کے بعد ہوتا ہے اس لیے اس سورت میں احکام قتال کو۔ قیدیوں کے احکام پر ختم فرمایا۔ شان نزول۔ اور شان نزول ان آیات کا یہ ہے کہ جب جنگ بدر میں ستر کافر قید ہو کر آئے تو آں حضرت ﷺ نے ان کے بارے میں صحابہ سے مشورہ کیا کہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

69: چونکہ پہلے فدیہ لینے کی ممانعت کا اللہ کی طرف سے کوئی حکم نازل نہیں ہوتا تھا اس لیے فرمایا کہ اگر لوح محفوظ میں یہ فیصلہ مکتوب نہ ہوتا کہ کسی معاملے کا حکم بیان کرنے سے پہلے اس میں مؤاخذۃ نہیں ہوگا تو ان قیدیوں سے فدیہ لینے پر تمہیں سخت سزا دی جاتی۔ “ اي ما کتب فی اللوح المحفوظ ان لا یؤاخذ قبل البیان والاعذار ” (مدارک ج 2 ص 85) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 67–69

ربطِ آیات : گذشتہ آیات میں جہاد کی ترغیب کا ذکر تھا اسلام کے ابتدائی زمانہ میں اہل ایمان کی تعداد بالکل قلیل تھی اور دشمنوں کی تعداد بہت زیادہ تھی اس وقت اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو اپنے سے دس گنا طاقتور دشمن کے ساتھ مقابلہ کرنے کا حکم دیا۔ پھر جب مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا ، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے حکم میں تخفیف کردی اور فرمایا کہ تم اپنے سے دگنے دشمن کی ساتھ بھی ٹکرا جائو اور ان کے مقابلہ سے بھاگنے کی اجازت نہیں ہاں اگر دشمن اس سے زیادہ تعداد مثلا تین چار گنا زیادہ ہو تو پھر مقابلے سے اعراض کرنے پر کوئی مواخذہ نہیں ہوگا۔ اللہ نے دشمن سے مقابلے کے لیے یہ نسبت مقرر فرما دی۔ غزوہ بدر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لَوْلَا كِتٰبٌ مِّنَ اللہِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِــيْمَآ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ۝ 68 «لَوْلَا» يجيء علی وجهين : أحدهما : بمعنی امتناع الشیء لوقوع غيره، ويلزم خبره الحذف، ويستغنی بجوابه عن الخبر . نحو : لَوْلا أَنْتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِينَ [ سبأ/ 31] . والثاني : بمعنی هلّا، ويتعقّبه الفعل نحو : لَوْلا أَرْسَلْتَ إِلَيْنا رَسُولًا[ طه/ 134] أي : هلّا . وأمثلتهما تکثر في القرآن . ( لولا ) لو لا ( حرف ) اس کا استعمال دو طرح پر ہوتا ہے ایک شے کے پائے جانے سے دوسری شے کا ممتنع ہونا اس کی خبر ہمیشہ محذوف رہتی ہے ۔ اور لولا کا جواب قائم مقام خبر کے ہوتا ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ لَوْلا أَنْتُمْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 68–70

ترکیب : ان یکون کا جملہ کان کا اسم کتاب مبتداء من اللّٰہ صفت اول سبق صفت ثانی یا سبق خبر لمسکم جملہ جواب لولا۔ لمن لام قل سے متعلق ہے فی ایدیکم صلہ من الاسریٰ من کا بیان ان یعلم اللّٰہ جملہ مقولہ ہے قل کا وان یریدوا معطوف ہے ان یعلم پر یا مستانفہ۔ تفسیر : بدر کی لڑائی سے آنحضرت ﷺ ستر قیدی کفار کے لے کر مدینہ میں آئے۔ ان قدیوں کی بابت کہ جن میں حضرت کے چچا عباس اور علی کے بھائی عقیل ؓ بھی تھے۔ لوگوں سے رائے طلب کی گئی۔ ابوبکر ؓ نے کہا فدیہ لے کر چھوڑ دیجئے۔ آپ کی قوم ہے۔ خدا ان کو توفیق ہدایت دے گا۔ عمر ؓ نے کہا قتل کرنا چاہیے تاکہ کفر کا زور ٹوٹے۔ عبداللہ بن رواحہ ؓ نے کہا ٗ آگ میں جلا دیجئے۔…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

لَوْ لَا کِتٰبٌ مِّنَ اللّٰہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ فِیْمَآ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۔ ( الانفال : 68) اگر اللہ کا نوشتہ سبقت نہ کرچکا ہوتا تو جو کچھ تم لوگوں نے لیا ہے اس کی پاداش میں تمہیں بڑا عذاب پہنچتا۔ اس آیت کریمہ میں پروردگار نے مسلمانوں کو سخت تنبیہ فرمائی ہے اور یہ ایسی تنبیہ ہے جو اس کے علاوہ قرآن کریم میں مسلمانوں کو کہیں نہیں فرمائی گئی۔ سوال یہ ہے کہ تنبیہ کس بات پر ہے ؟ دوسری بات اس آیت کریمہ میں یہ ہے کہ مسلمان عذاب عظیم کا شکا رہوجاتے اگر اس سے پہلے اللہ کا نوشتہ نہ لکھا جاچکا ہوتا۔ سوال یہ ہے کہ یہ نوشتہ کیا ہے ؟ مسلمانوں کو تنبیہہ جہاں تک پہلے سوال کا تعلق ہے اس کا جواب تو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 67–69

فہم القرآن ربط کلام : جنگ کے مسائل کا بیان جاری ہے اب قیدیوں اور مال غنیمت کے بارے میں وضاحت کی جاتی ہے۔ اس آیت مبارکہ میں تین الفاظ ایسے ہیں جن کا معنی جاننے سے آیت کا مفہوم بہتر طور پر ذہن نشین ہوجائے گا اسرٰی اس تسمے کو کہا جاتا ہے جس سے پرانے زمانے میں لوگ قیدیوں کو باندھا کرتے تھے اثخان کا معنی ہے خون کا گاڑھا ہونا مراد گھمسان کا رن پڑنا یعنی ایسی لڑائی کہ جس میں ایک فریق کی کمر ٹوٹ جائے عَرَضْ دنیا کے ساز و سامان کو کہا جاتا ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ اے نبی ! آپ کے لیے یہ مناسب نہیں تھا کہ آپ کفار کی کمر توڑے بغیر قیدیوں کو دنیا کے مال کے بدلے رہا کردیتے۔ یہاں قیدیوں کے بارے میں مخاطب…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

نوشتہ تقدیر میں فدیہ کی حلّت : آیت 68: لَوْلَا کِتٰبٌ مِّنَ اللّٰہِ (اگر اللہ تعالیٰ کا ایک نوشتہ مقدر نہ ہوچکتا) اگر اللہ تعالیٰ کا حکم نہ ہوتا۔ سَبَقَ کسی اجتہاد کرنے والے کو سزا نہ دی جائے۔ اور یہ بات ان سے بطور اجتہاد ہوئی کیونکہ۔ نمبر 1: انہوں نے اس بات کی طرف نگاہ کی کہ انکا چھوڑدینا ان کے اسلام کا سبب بن جائے گا۔ اور فدیہ سے جہاد پر قوت حاصل کی جائے گی۔ مگر دوسرا پہلو ان سے مخفی رہا کہ ان کے قتل میں اسلام کی عزت و شان ہے اور پچھلوں پر اس سے رعب طاری ہوگا۔ نمبر 2۔ اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں لکھ دیا کہ اہل بدر کو عذاب نہ دیا جائے گا۔ نمبر 3۔ بیان و معذرت سے پہلے مؤاخذہ نہیں۔ آپ کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 68(لولا کتب من اللہ سبق) ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ پہلے انبیاء اور امتوں پر غنیمت حرام تھی وہ اس کو قربانی کے لئے رکھ دیتے، آسمان سے آگ اترتی اور اس کو کھا جاتی۔ جب بدر کا دن آیا تو مسلمانوں نے غنیمت سمیٹنے میں جلدی کی اور فدیہ لیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ یعنی اگر لوح محفوظ میں یہ لکھنا نہ جا چکا ہوتا کہ یہ غنیمت تمہارے لئے حلال ہے اور حسن، مجاہد رحمہما اللہ اور سعید بن جبیر ؓ فرماتے ہیں کہ اگر پہلے سے یہ لکھا نہ ہوتا کہ اللہ تعالیٰ بدر کے حاضرین کو عذاب نہ دیں گے (لمسکم فیمآ اخذتم عذاب عظیم) ابن اسحاق (رح) فرماتے ہیں کہ مئومنین جو غزوہ بدر میں حاضر ہوئے وہ تما م غنیمت کو پسند…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 67–69

67۔ 69۔ جب بدر کی لڑائی میں کفار قریش میں سے ستر کافر گرفتار ہوئے اور آنحضرت ﷺ نے ان کو فدیہ لے کر بعض اصحاب کے مشورہ کے موافق چھوڑ دیا تو یہ آیت اتری اللہ پاک نے فرمایا کہ نبی کو یہ بات لائق نہیں ہے کہ جب قیدی اس کے یہاں گرفتار ہو کر آئیں تو بغیر قتل کئے ہوئے انہیں چھوڑ دیا جائے پھر اور مسلمانوں کو خطاب کر کے فرمایا کہ تم دنیا کی دولت کو پسند کرتے ہو اور اللہ یہ چاہتا ہے کہ آخرت درست ہو خدا کا بول بالا تمام روئے زمین میں ہو کر اس کا خالص دین ہو معتبر سند سے مسند امام احمد ترمذی وغیرہ میں عبداللہ بن مسعود ؓ اور انس بن مالک ؓ سے روایتیں ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے بدر کے قیدیوں کے بارے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 67–69

آیت 67 یہ غزوۂ بدر کے موقع پر اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسول ﷺ اور اہل ایمان پر عتاب ہے جب انہوں نے مشرکین کو جنگی قیدی بنایا اور ان سے معاوضہ لینے کے لئے اپنے پاس رکھا۔ امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب ؓ کی رائے یہ تھی کہ ان سے مالی معاوضہ لینے کی بجائے، ان کو قتل کرکے ان کی جڑ کاٹ دی جائے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ماکان لنبی ان یکون لہ اسری حتی یثخن فی الارض) ” نبی کے شایاں نہیں کہ اس کے قبضے میں قیدی رہیں یہاں تک کہ (کافروں کو قتل کرکے) زمین میں کثرت سے خون نہ بہادے “۔ یعنی نبی کے لئے یہ بات ہرگز مناسب نہیں کہ جب وہ کفار کے ساتھ جنگ کرے جو اللہ تعالیٰ کی روشنی کو بجھانا اور اس…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 67–68

قیدیوں کا بیان قول باری ہے (ما کان لبنی ان یکون لہ اسری حتی یثخن فی الارض کسی نبی کے لئے یہ زیبا نہیں ہے کہ اس کے پسا قیدی ہوں جب تک وہ زمین میں دشمنوں کو اچھی طرح کچل نہ دے۔ فدیہ لے کر قیدیوں کو چھوڑ دینا ہمیں محمد بن بکر نے روایت بیان کی، انہیں ابودائود نے، انہیں احمد بن حنبل نے، انہیں ابونوح نے، انہیں عکرمہ بن عمار نے، انہیں سماک الحنفی نے، انہیں حضرت ابن عباس نے، انہیں حضرت عمر ؓ نے کہ جب بدر کا معرکہ پیش آیا اور حضور ﷺ نے قیدیوں کا فدیہ قبول کرلیا تو اللہ تعالیٰ نے درج بالا آیت نازل فرمائی تا قول باری (لمسکم فیما اخذتم تو جو کچھ تم نے لیا ہے اس کی پاداش میں تمہیں بڑی سزا دی تھی) یعنی جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 67–68

144 جہاد اسلامی کا اصل مقصد کفر کا زور توڑنا : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ جہاد اسلامی کا اصل مقصد تو کفر کا زور توڑنا ہی ہے، تاکہ دین حق کے لئے راہ صاف ہوجائے اور کوئی فتنہ و رکاوٹ باقی نہ رہ جائے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { وَقَاتِلُوْہُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّ یَکُوْنَ الدِّیْنُ کَلُّہُ لِلّٰہِ } الاٰیۃ (الانفال : 39) ۔ غزوئہ بدر کے بعد جب آنحضرت ﷺ نے اساری بدر کے بارے میں صحابہ کرام ؓ سے مشورہ فرمایا تو حضرت صدیق اکبر۔ ؓ ۔ نے رائے دی کہ ان کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے کہ ایک تو اس طرح ان کے لئے قبول اسلام کا موقع باقی رہے گا اور یہ ممنون بھی ہوں گے اور دوسرے اس…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 67–71

قیدیوں کے متعلق سیاسی مصلحت، مغفرت کا وعدہ تشریح : ان آیات کی وضاحت میں دو رائے پائی جاتی ہیں پہلی رائے یہ ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ غزوہ بدر کے قیدیوں کے بارے میں رسول کریم ﷺ نے جب صحابہ کرام سے مشورہ لیا تو ابوبکر صدیق و دیگر صحابہ کی رائے تھی کہ قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے اور سیدنا عمر ؓ کی رائے تھی کہ ان قیدیوں کو قتل کردیا جائے۔ رسول اکرم ﷺ نے سیدنا ابوبکر ؓ کی رائے کے مطابق قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا۔ سیدنا عمر فاروق ؓ کہتے ہیں دوسرے دن صبح میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ اور ابوبکر ؓ دونوں رو رہے ہیں۔ رونے کی وجہ پوچھنے پر آپ ﷺ نے فرمایا میں اس وجہ سے رو رہا ہوں جو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 65–69

آیات 65 تا 69 اسرار و معارف نیزاے نبی (ﷺ ) مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دیں اس کے فضائل کے ساتھ اس کی ضرورت اور فوائد بھی بیان فرمائیں کہ اسلام بنیادی طور پر امن کا علمبردار ہے اور نہ صرف دنیا بلکہ آخروی امن و سکون کا ضامن ہے مگر ایسے عناصر جو اس امن ہی کے لیے خطرہ پیدا کردیں اور نہ صرف معاشرے کے ظاہری امن کو تباہ کرنے کے درپے ہوں بلکہ اخروی اور دائمی امن و سکون بھی لوٹناچا ہیں تو ان سے قتال ہی دوسروں کے لیے امن کی ضمانت ہے اور اللہ کریم کے نزدیک یہ اتنا پسند دیدہ عمل ہے کہ مسلمان جب بھی اس غرض سے میدان میں نکلیں گے اپنے سے دس گنابڑے دشمن پر غالب آئیں گے یعنی مسلمان جم کر لڑنے والے دوصدکفار پہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 ان دو آیتوں میں جو جنگ بدر کے بعد نازل ہوئیں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ سمیت تمام مسلمانوں پر عتاب فرمایا کہ ان سے ایک ایسی غلطی سرزد ہوگئی جو منا سب نہ تھی متعدد روایات میں ہے کہ جب جنگ بدر کے قیدی آنحضرت ﷺ کے پاس لائے گئے تو ّآپ ﷺ نے ان کے بارے میں میں مشہورہ طلب فرمایا حضرت ابوبکر ؓ نے رائے دی کہ انہیں قتل کردیا جائے۔ اکثر مسلمانوں کی رائے حضرت ابوبکر ؓ سے متفق تھی کچھ انسانی اور رشتہ داری کی محبت کی وجہ سے اور کچھ مالی فائدہ پیش تطر نبی ﷺ نے حضرت ابوبکر ﷺ کی رائے کو پسند فرمایا اور فدیہ فرمالیا ایک دوسری روایت میں ہے کہ جب قیدی لائے تو حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) نے آنحضرت ﷺ سے کہا کہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(8:68) کتب من اللہ۔ اللہ کا فرمان۔ اشارہ ہے ارشاد الٰہی کی طرف فاذا لقیتم الذین کفروا فضرب الرقاب حتی اذا اثخنتموہم فشدوا الوثاق فاما منا بعد واما فداء حتی تضع الحرب اوزارھا (47:4) پس جب ان کافروں سے تمہاری مڈ بھیڑ ہوجائے تو پہلا کام گردنیں مارنا ہے یہاں تک کہ تم خوب ان کو تہ و تیغ کرکے کچل دو ۔ تب قیدیوں کو مضبوط باندھو۔ اس کے بعد تمہیں اختیار ہے کہ احسان کرو یا فدیہ کا معاملہ کرو تاآنکہ لڑائی اپنے ہتھیار ڈال دے۔ سبق۔ وہ پہلے گزر چکا ۔ وہ پہلے ہوچکا۔ اس نے سبقت کی۔ لمسکم۔ تم کو ضرور پہنچتا۔ (عذاب عظیم) لام تاکید کا ہے۔ مس ماضی واحد مذکر غائب کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ مس (باب نصر) کا معنی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 67–69

آیات : 67 تا 69 لغات القرآن۔ اسری۔ (اسیر) قیدی۔ حتی یثخن۔ جب تک کہ سختی نہ کی جائے۔ عرض ال دنیا۔ دنیا کا سامان۔ لولا کتاب۔ اگر لکھا ہوا نہ ہوتا۔ سبق۔ جو گذر گیا۔ لمسکم۔ البتہ تمہیں پہنچ جاتا۔ اخذتم۔ تم نے لیا۔ غنتم۔ تم نے مال غنیمت لیا۔ تشریح : نبی کریم ﷺ جو ساری دنیا کے لئے رحمت ہی رحمت ہیں آپ نے ہر موقع پر ہر اس طریقے کو اختیار فرمایا جس میں نرمی اور سہولت کا پہلو شامل ہو۔ یہ ان تکہ کہ مشورہ میں بھی آپ اس بات کو پسند فرماتے تھے جس میں لوگوں سے نرمی کا انداز اختیار کیا گیا ہو۔ جیسا کہ پہلے بھی عرض کیا جا چکا ہے کہ غزوہ بدر مسلمانوں کے لئے پہلا تجربہ تھا۔ اس سے پہلے پندرہ سال تک صحابہ کرام ؓ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 67–69

قیدیوں کے قتل کی بابت اختلاف جب بدر کی لڑائی میں کفار قریش میں سے ستر کافر گرفتار ہوئے۔ آنحضرت ﷺ نے صحابہ کرام سے مشورہ لیا اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کو ان پر قدرت دی ہے۔ حضرت عمر ؓ نے کھڑے ہوکر کہا کہ : انہیں قتل کرڈالئے۔ آپ نے کچھ خیال نہ کیا پھر دوبارہ ارشاد فرمایا کہ اے لوگو ! تمہیں ان پر آج قابو ہے، یہ تمہارے بھائی تھے آج قیدی ہیں۔ پھر حضرت عمر ؓ نے کہا :” ان کی گرنیں ماریئے “ آنحضرت ﷺ نے پھر وہی فرمایا تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے کھڑے ہو کر کہا :” میری رائے ہے کہ ان کو معاف کیجئے اور فدیہ لے کر چھوڑ دیجئے “۔ اس بات پر آنحضرت ﷺ کے چہرہ مبارک سے غم کے آثار دور ہوئے اور آپ نے فدیہ لے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 68–70

[24] جنگ بدر سے پہلے سورة محمد ﷺ میں جنگ کے بارے میں جو آیت نازل ہوئی تھی اس میں فرمایا گیا تھا کہ جب کافروں سے تمہاری مڈبھیڑ ہو تو پہلا کام ان کی گردنیں مارنا ہے یہاں تک کہ جب تم انہیں اچھی طرح کچل دو تب قیدیوں کو مضبوط باندھو۔ اس کے بعد احسان کرو یا فدیہ کا معاملہ کرلو (آیت 4) ۔ اسی حکم کی رو سے مسلمانوں نے بدر کے قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑا لیکن غلطی یہ ہوئی کہ دشمن کی طاقت کو کچلنے کی جو شرط مقدم رکھی گئی تھی اسے پورا کرنے سے پہلے مسلمان دشمنوں کو قیدی بنانے اور مال غنیمت جمع کرنے میں مشغول ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ کو یہ بات ناپسند ہوئی کیونکہ اگر دشمن کی پسپائی کے بعد مسلمان اس کا تعاقب کرتے تو…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 67–68

بدر کے قیدی : (ف 2) جب بدر میں ستر آدمی قید ہو کر آئے جو نہایت مفسد اور شریر تھے تو حضور ﷺ نے صحابہ کرام ؓ اجمعین سے پوچھا کہ انہیں کیا کیا جائے ، حضرت ابوبکر ؓ نے مشورہ دیا کہ فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے اور جان بخشی کی جائے ، شاید انہیں رجوع کی توفیق مرحمت ہو ۔ حضرت عمر ؓ کی رائے تھی انہیں جان سے مار دیا جائے کیونکہ مفسد ہیں ۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ ابوبکر ؓ کی رائے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور مسیح (علیہ السلام) کی طرح ہے ، دونوں نے مغفرت کی طلب کی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا (آیت) ” فمن تبعنی فانہ منی ومن عصانی فانک غفور رحیم “۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) قیامت کے دن یوں فرمائیں گے ،…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

68 اگر وہ بات مانع نہ ہوتی جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلے ہی لکھی جاچکی تھی تو تم پر اس فدیہ کے بارے میں جو تم نے بدر کے قیدیوں سے لیا ہے کوئی سخت سزا واقع ہوتی۔ یعنی یہ بات پہلے ہی لوح محفوظ میں ثابت ہوچکی تھی اور قضا و قدر میں لکھا جاچکا تھا کہ تم سے اجتہادی غلطی ہوگی اور اجتہادی غلطی قابل معافی ہے اگر یہ بات مقدرنہ ہوتی اور یہ امر مانع نہ ہوتا تو تم پر عذاب نازل ہوجاتا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں وہ بات یہ لکھ چکا کہ ان قیدی لوگوں میں بہتوں کی قسمت تھی مسلمان ہونا۔ 12 بہرحال قتل تھا رفع فساد کی غرض سے وہ متحمل فساد وقوع پذیر نہ ہوا اس لئے سزا سے بچ گئے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 66–70

ف 1۔ یغلبوا باذن اللہ (اللہ کے حکم سے غالب آئیں گے) یعنی غلبہ اذن الٰہی کے ساتھ مقید ہے پس اگر کسی حکمت کی وجہ سے اذن نہ ہو تو غلبہ بھی نہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

تمہارے اختلاف کا باعث علم الٰہی میں موجود تھا اس لئے تم پر کوئی الزام نہیں : 91: وحی کا سلسلہ جاری تھا اور تمہارے اختلاف کا بھی اللہ کا علم تھا مصلحت اسی میں تھی کہ وہ اختلاف رونما ہونے سے پہلے تم کو حکم نہ دیا جاتا اور تمہارے اختلاف کے بعد نبی ﷺ کے ذریعہ سے تم کو اطلاع دی جاتی اور تم کو بتلایا جاتا کہ تجارتی قافلہ کی بجائے مشرکین مکہ کے لشکر سے تمہارا آمنا سامنا ہی تمہارے حق میں مفید رہے گا۔ ” اگر اللہ کی طرف سے پہلے سے حکم نہ ہوچکا ہوتا تو تم کو اس بارہ میں (یعنی اس طرح کا عزم کرنے میں کہ ہم کو تجارتی قافلہ کی طرف بڑھنا چاہئے) جو تم کرنے لگے تھے بھاری عذاب پہنچ کر رہتا۔ “ اور وہ بھاری عذاب…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The second verse (68) is also a supplement to this admonition where it has been said that had it not been for a Divine writ already established, the course of action which you opted for - that of releasing the prisoners against ransom - would have brought upon you some grave punishment. What is this writ and what does it mean? According to a narration from Sayyidna Abu Hurairah ؓ reported in Tirmidhi, the Holy Prophet ﷺ said: Spoils were not lawful for any community before you. When, on the occasion of Badr, Muslims went after collecting spoils - though, spoils were not made lawful for them…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 66–68

48. This does not mean that since the faith of Muslims had declined, their ten times superiority ove the unbelievers has been reduced to twice only. What it means is that ideally a Muslim is ten times stronger than an unbeliever. However, since the Muslims had not as yet been throughly trained and had reached the desire level of maturity in their understanding, they are asked not to feel uneasy at least of challenging an enemy which is twice as strong. It should be borne in mind that the Qur'anic directive was given in 2A.H./624 C.E. when most of the Muslims, being recent converts to Islam,…

Read the full tafseer →