Explained with ayahs 67–69
اسیران بدر اور مشورہ
مسند امام احمد میں ہے کہ بدر کے قیدیوں کے بارے میں رسول مقبول ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مشورہ لیا کہ اللہ نے انہیں تمہارے قبضے میں دے دیا ہے بتاؤ کیا ارادہ ہے ؟ حضرت عمر بن خطاب نے کھڑے ہو کر عرض کیا کہ ان کی گردنیں اڑا دی جائیں آپ نے ان سے منہ پھیرلیا پھر فرمایا اللہ نے تمہارے بس میں کردیا ہے یہ کل تک تمہارے بھائی بند ہی تھے۔ پھر حضرت عمر نے کھڑے ہو کر اپنا جواب دوہرایا آپ نے پھر منہ پھیرلیا اور پھر وہی فرمایا اب کی دفعہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کھڑے ہوئے اور عرض کیا کہ یارسول اللہ ﷺ ہماری رائے میں تو آپ ان کی خطا سے درگزر فرما لیجئے اور انہیں فدیہ لے کر آزاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–68
سورة الْاَنْفَال 48
اس کا مطلب نہیں ہے کہ پہلے ایک اور دس کی نسبت تھی اور اب چونکہ تم میں کمزوری آگئی ہے اس لیے ایک اور دو کی نسبت قائم کردی گئی ہے۔ بلکہ اس کا صحیح مطلب یہ ہے کہ اصولی اور معیاری حیثیت سے تو اہل ایمان اور کفار کے درمیان ایک اور دس ہی کی نسبت ہے، لیکن چونکہ ابھی تم لوگوں کی اخلاقی تربیت مکمل نہیں ہوئی ہے اور ابھی تک تمہارا شعور اور تمہاری سمجھ بوجھ کا پیمانہ بلوغ کی حد کو نہیں پہنچا ہے اس لیے سردست برسبیل تنزل تم سے یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ اپنے سے دوگنی طاقت سے ٹکرانے میں تو تمہیں کوئی تامل نہ ہونا چاہیے۔ خیال رہے کہ یہ ارشادسن 2 ھجری کا ہے جب کہ مسلمانوں میں بہت سے لوگ ابھی…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
(اے مسلمانو ! تم نے نبی ﷺ کو جو ان قیدیوں سے کچھ لے کر چھوڑ دینے کا مشورہ دیا یہ بےجا تھا کیونکہ) نبی کی شان کے لائق نہیں کہ ان کے قیدی باقی رہیں (بلکہ قتل کردیئے جائیں) جب تک کہ وہ زمین میں اچھی طرح (کفار کی) خونریزی نہ کرلیں (کیونکہ مشروعیت جہاد کی اصلی غرض دفع فساد ہے اور بدوں اس حد کے جس میں کہ بالکل شوکت کفار کی ٹوٹ جائے دفع فساد ممکن نہیں پس اس نوبت سے پہلے قیدیوں کا زندہ چھوڑ دینا آپ کی شان اصلاح کے مناسب نہیں البتہ جب ایسی قوت ہوجائے پھر قتل ضروری نہیں بلکہ اور صورتیں بھی مشروع ہیں پس ایسی نامناسب رائے تم نے آپ ﷺ کو کیوں دی) تم تو دنیا کا مال و اسباب چاہتے ہو (اس لئے فدیہ…
Read the full tafseer →آیات 67 تا 71 کا مضمون : آگے قریش کے اس پر اپیگنڈے کا جواب دیا ہے جو انہوں نے بدر میں شکست کھانے کے بعد اسلام مسلمانوں اور نبی ﷺ کے خلاف شروع کیا۔ جنگ بدر سے پہلے تک تو، جیسا کہ پیچھے تفصیل سے ذکر ہوچکا ہے، وہ اسلام اور مسلمانوں کی کمزوری کو اسلام کے خلاف بطور ایک دلیل کے پیش کرتے تھے کہتے کہ یہ دین اگر حق ہوتا تو کیا اس کو ایسے ہی کمزور وناتوان حامل ملتے، اگر محمد ﷺ خدا کے پیغمبر ہوتے تو کیا وہ ایسے ہی بےوسیلہ و ذریعہ اور بےحامی و مددگار ہوتے، اگر اسلام حق ہوتا تو کیا ہم پر کوئی عذاب نہ آجاتا ؟ مختصر یہ کہ وہ اپنے غلبہ اور اسلام کی مغلوبیت کو اسلام کے باطل ہونے اور اپنے برحق ہونے کی دلیل…
Read the full tafseer →67۔ 1 جنگ بدر میں ستر کافر مارے گئے اور ستر ہی قیدی بنا لئے گئے، یہ کفر و اسلام کا چونکہ پہلا معرکہ تھا۔ اس لئے قیدیوں کے بارے میں کیا طرز عمل اختیار کیا جائے ؟ ان کی بابت احکام پوری طرح واضح نہیں تھے چناچہ نبی ﷺ نے ان ستر قیدیوں کے بارے میں مشورہ کیا کہ کیا کیا جائے ؟ ان کو قتل کردیا جائے یا فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے ؟ جواز کی حد تک دونوں ہی باتوں کی گنجائش تھی۔ اس لئے دونوں ہی باتیں زیر غور آئیں۔ لیکن بعض دفعہ جواز اور عدم جواز سے قطع نظر حالات و ظروف کے اعتبار سے زیادہ بہتر صورت اختیار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن جواز کو سامنے رکھتے ہوئے کم تر صورت اختیار کرلی گئی، جس پر اللہ تعالیٰ کی طرف…
Read the full tafseer →47: جنگ بدر میں ستر قریشی افراد گرفتار ہوئے تھے، ان لوگوں کو جنگی قیدی کے طور پر مدینہ منورہ لایا گیا تھا، آنحضرت ﷺ نے ان کے بارے میں صحابہ کرام ؓ سے مشورہ فرمایا کہ ان سے کیا سلوک کیا جائے ؟ بعض صحابہ کرام مثلاً حضرت عمر ؓ کی رائے یہ تھی کہ ان کو قتل کردیا جائے، کیونکہ انہوں نے مسلمانوں پر جو مظالم ڈھائے ہیں ان کی بنا پر ان کا عبرت ناک انجام ہونا چاہیے، دوسرے حضرات کی رائے یہ تھی کہ ان سے فدیہ لے کر انہیں چھوڑدیا جائے۔ (فدیہ اس مال کو کہا جاتا ہے جو کسی جنگی قیدی سے اس کی آزادی کے بدلے طلب کیا جائے) چونکہ زیادہ تر صحابہ اس دوسری رائے کے حق میں تھے، اس لئے آنحضرت ﷺ نے اسی کے مطابق فیصلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–69
67 ۔ 69:۔ قتال کے لیے ابھارنے اور جوش دلانے کے بعد اب قیدیوں کے احکام کی طرف بات کا رخ پھرجاتا ہے۔ اور یہ بات یہاں بدر میں رسول اللہ اور مسلمانوں کے اقدامات کے حوالے سے ہے۔ اور کہا جاتا ہے کہ تمہارے پاس جو قیدی ہیں ان کی ذہنی تربیت اس طرح کرو ، ان کو ایمان کی ترغیب دو اور کہو کہ اگر اب بھی وہ ایمان لائیں تو اس سے قبل ان سے جو مواقع جاتے رہے ہیں ، ان کی تلافی ہوسکتی ہے۔
ابن اسحاق نے غزوہ بدر کے واقعات بیان کرتے ہوئے کہا ہے " جب لوگوں نے دشمن کو گرفتار کرنا شروع کردیا اور رسول خدا اپنے چبوترے میں تھے۔ اور سعد ابن معاذ اس کے دروازے پر پہرہ دے رہے تھے۔ ان کے ساتھ دوسرے انصآر بھی تھے۔ اور سعد نے…
Read the full tafseer →1 بدر کی لڑائی سے ستر کافر مسلمانوں کے ہاتھ میں قید ہو کر آئے حق تعالیٰ نے ان کے متعلق دو صورتیں مسلمانوں کے سامنے پیش کیں۔ قتل کردینا، یا فدیہ لے کر چھوڑ دینا اس شرط پر کہ آئندہ سال اسی تعداد میں تمہارے آدمی قتل کیے جائیں گے۔ حقیقت میں خدا کی طرف سے ان دو صورتوں کا انتخاب کے لیے پیش کرنا، امتحان و آزمائش کے طریقہ پر تھا کہ ظاہر ہوجائے کہ مسلمان اپنی رائے اور طبیعت سے کس طرف جھکتے ہیں۔ جیسے ازواج مطہرات کو دو صورتوں میں تخییر دی گئی تھی۔ ( اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا وَزِيْنَتَهَا فَتَعَالَيْنَ اُمَتِّعْكُنَّ وَاُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيْلًا) 33 ۔ الاحزاب :28) یا معراج…
Read the full tafseer →آیت 67 مَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّکُوْنَ لَہٗٓ اَسْرٰی حَتّٰی یُثْخِنَ فِی الْاَرْضِ ط۔
یہ آیت غزوۂ بدر میں پکڑے جانے والے قیدیوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ غزوۂ بدر میں قریش کے ستر لوگ قیدی بنے۔ ان کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے صحابہ رض سے مشاورت کی۔ حضرت ابوبکر رض کی رائے تھی کہ ان لوگوں کے ساتھ نرمی کی جائے اور فدیہ وغیرہ لے کر انہیں چھوڑ دیا جائے۔ خود حضور ﷺ چونکہ رؤف و رحیم اور رقیق القلب تھے اس لیے آپ ﷺ کی بھی یہی رائے تھی۔ مگر حضرت عمر رض اس اعتبار سے بہت سخت گیر تھے اَشَدُّ ھُمْ فِی اَمْرِ اللّٰہِ عُمَرِ ۔ آپ رض کی رائے یہ تھی کہ یہ لوگ آزاد ہو کر پھر کفر کے لیے تقویت کا باعث بنیں گے ‘ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
69 مسلمانوں میں بعد میں کمزوری کی وجہ پہلے حکم کی منسوخی نہیں بلکہ حالات ہیں :۔ اگرچہ یہ آیت اور اس سے پہلی آیت ایک ساتھ رکھی گئی ہیں۔ مگر ان دونوں کے زمانہ نزول میں کافی مدت کا فرق ہے اور انہیں صرف مضمون کی مناسبت سے اکٹھا رکھا گیا ہے۔ پہلی آیت کا زمانہ نزول تو غزوہ بدر کے بعد کا ہے۔ جبکہ اس سورة کا بیشتر حصہ نازل ہوچکا تھا۔ اور دوسری آیت کے زمانہ نزول کے متعلق حتمی طور پر تو کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ تاہم یہ غزوہ حنین اور اس کے مابعد کا زمانہ معلوم ہوتا ہے۔ فتح مکہ کے موقعہ پر جو لوگ مسلمان ہوئے وہ ابتدا سے اسلام لانے والوں جیسا حوصلہ نہیں رکھتے تھے اور اس ضعف کی کئی وجوہ ہوسکتی ہیں۔ مثلاً ایک…
Read the full tafseer →100 ۔ وہ جب اور جس کو چاہے کافروں پر غالب اور فتوحات سے مالا مال کردے اور جب اور جس کے لئے چاہے کسی حکمت کے تقاضہ سے اس نتیجہ میں تاخیر کردے، آیت کا پس منظر یہ ہے کہ معرکہ بدر کے بعد غنیم کے 70 آدمی گرفتار ہو کر آئے، سپہ سالار اعظم ﷺ نے مشورہ کیا کہ ان کے ساتھ کیا کیا جائے، اکثر اہل شوری کی رائے ہوئی کہ اس وقت امت کو بڑی ضرورت روپیہ کی ہے اور مصالح ملت کا تقاضا ہے کہ انہیں فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے، خود آپ ﷺ بھی اپنی خلقی رحمدلی کے مقتضاء سے اسی طرف مائل ہورہے تھے، چناچہ چند تو قتل کئے گئے اور باقی فدیہ لے کر بلکہ تو بلافدیہ ہی چھوڑ دیئے گے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (آیت) ” ماکان لنبی ان یکون لہ…
Read the full tafseer →ماکان لنبی ان یکن لہ اَسْریٰ (الآیة) آیات مذکورہ کا تعلق غزوہ بدر کے ایک خاص واقعہ سے ہے لہٰذا ان کی تفسیر سے پہلے مختصر طور پر اس واقعہ کو بیان کرنا ضروری ہے۔
غزوہ بدر کے واقعہ کا خلاصہ : واقعہ یہ ہے کہ غزوہ بدر اسلام میں سب سے پہلا غزوہ ہے اور یہ اچانک پیش آیا تھا، اس وقت تک جہاد سے متعلق احکام کی تفصیل قرآن میں نازل نہیں ہوئی تھی مثلاً جہاد میں اگر مال غنیمت مسلمانوں کے ہاتھ آجائے تو اس کا کیا کیا جائے، دشمن کے سپاہی قبضے میں آجائیں تو ان کا کیا کیا جائے۔
مال غنیمت سابق انبیاء کی شریعتوں میں حلال نہیں تھا بلکہ پورا مال جمع کرکے ایک جگہ رکھدیا جاتا تھا دستور الہٰی کے مطابق آسمان سے آگ آتی…
Read the full tafseer →ما کان لنبی ان یکون لہ اسرٰی حتی یثخن فی الارض تریدون عرض الدنیا وا اللہ یرید الاخرۃ وا اللہ عزیز حکیم۔ نبی کیلئے زیبا نہیں کہ اس کے قیدی باقی رہیں جب تک کہ وہ اچھی طرح زمین میں (کفار کی) خونریزی نہ کرلے۔ تم تو دنیا کا مال اسباب چاہتے ہو اور اللہ آخرت (کی مصلحت) کو چاہتا ہے اور اللہ زبردست قوت والا ‘ بڑی حکمت والا ہے۔ (1) [ قاضی ابو الفضل عیاض نے شفاء میں لکھا ہے کہ آیت ما کان لنبی ان یکون لہ اسرٰی الخ میں رسول اللہ ﷺ کو کسی قصور کا مجرم اور گناہ کا مرتکب قرار دینا مقصود نہیں ہے بلکہ دوسرے انبیاء کے مقابلہ میں آپ کی خصوصیت اور برتری کو ظاہر کرنا مقصود ہے ‘ اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ…
Read the full tafseer →(67) نبی کے لیے یہ مناسب نہیں کہ ان کے کافر قیدی باقی رہیں یہاں تک کہ ان کی خونزیزی نہ کرلی جائے، غزوہ بدر کے قیدیوں سے فدیہ لے کردنیاوی متاع چاہتے ہو، اللہ تعالیٰ اپنے دشمنوں سے انتقام لینے میں غالب اور اپنے دوستوں کی مدد کرنے میں بڑی حکمت والے ہیں۔
شان نزول : (آیت) ”ماکان لنبی ان یکون لہ اسری“۔ (الخ)
امام احمد ؒ نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ غزوہ بدر کے قیدیوں کے متعلق رسول اکرم ﷺ نے اپنی جماعت سے مشورہ کیا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان پر اختیار دیا ہے تو حضرت عمر فاروق ؓ نے کھڑے ہو کر کہا یا رسول اللہ ﷺ ان کافروں کو قتل کردیا جائے، آپ نے ان کی رائے سے اعراض کیا اس کے بعد حضرت ابوبکر صدیق…
Read the full tafseer →مَا كَانَ لِنَبِيٍّ اَنْ يَّكُوْنَ لَهٗٓ اَسْرٰي : کسی نبی کے لیے جائز نہیں کہ وہ قیدی بنائے، پھر انھیں قید رکھے یا احسان کرے یا فدیہ لے، جب تک میدان جنگ میں خوب خون ریزی کے بعد کفر کی کمر نہ ٹوٹ جائے اور وہ دوبارہ مقابلے کے قابل نہ رہ جائیں، اس کے بعد قیدی بنانے میں کوئی حرج نہیں، لیکن مسلمانو ! تم نے بدر میں قیدی بنانے میں جلدی سے کام لیا، تم فدیے کی صورت میں دنیا کا سامان چاہتے تھے اور اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اعلائے کلمۃ اللہ کے ذریعے سے آخرت کے ثواب کا ارادہ رکھتا تھا اور اللہ سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے، تمہارا یہ عمل عزت و حکمت کے مطابق نہیں۔ دوسری جگہ فرمایا : (فَاِذَا لَقِيْتُمُ…
Read the full tafseer →اس میں پانچ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔ قولہ تعالیٰ : اسری یہ اسیر کی جمع ہے، جیسے قتیل کی جمع قتلی اور جریح کی جمع جرحی ہے اور اسیر کی جمع میں اسری (ہمزہ کے ضمہ کے ساتھ) اور اساری (ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ) بھی کہا جاتا ہے۔ اور یہ علیہ کے ساتھ نہیں ہے (مراد الف مقصورہ ہے) وہ قیدی کو چمڑے کی رسی کے ساتھ باندھ دیتے تھے اور وہ اسار کہلاتا ہے۔ اور پھر ہر پکڑے جانے والے کو اسیر کا نام دیا گیا اگرچہ اسے نہ بھی باندھا جائے۔ اعشی نے کہا ہے :
وقیدنی الشعر فی بیتہ کما قید الاسرات الحمارا
اور یہ سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔ اور ابو عمرو بن علاء نے کہا ہے : الاسری وہ قیدی ہیں جو اس وقت باندھیں نہ جائیں جب وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–67
دشمن کے مقابلہ میں ثابت قدم رہنا :
1۔ البخاری وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ وابن مردویہ والبیہقی نے شعب الایمان میں سفیان کے راستے سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ (آیت ) ” ان یکن منکم عشرون صبرون یغلبوا مائتین وان یکن منکم مائۃ یغلبوا الفا “۔ نازل ہوئی تو ان پر فرض کردیا گیا کہ ان میں سے کوئی ایک دس کے مقابلہ سے نہ بھاگے اور بیس دو سو افراد کے مقابلہ سے نہ بھاگیں پھر یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” الئن خفف اللہ عنکم “ تو یہ فرض کردیا گیا کہ سو آدمی دو سو کے مقابلہ میں سے نہ بھاگیں سفیان نے فرمایا اور ابن شبرعہ نے فرمایا کہ میں نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو اسی طرح دیکھا ہے اگر وہ دو…
Read the full tafseer →مَا كَانَ [ نہیں ہے (مناسب ) ] لِنَبِيٍّ [ کسی نبی کے لیے ] اَنْ [ کہ ] يَّكُوْنَ [ ہوں ] لَهٗٓ [ اس کے لیے ] اَسْرٰي [ کچھ قیدی ] حَتّٰي [ یہاں تک کہ ] يُثْخِنَ [ وہ خوب خونریزی کرے ] فِي الْاَرْضِ ۭ [ زمین میں ] تُرِيْدُوْنَ [ تم لوگ چاہتے ہو ] عَرَضَ الدُّنْيَا ڰ [ دنیا کا سامان ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] يُرِيْدُ [ چاہتا ہے ] الْاٰخِرَةَ ۭ [ آخرت کو ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] عَزِيْزٌ [ بالادست ہے ] حَكِيْمٌ [ حکمت والا ہے ]
ث خ ن : (ک) ثخانۃ ۔ گاڑھا ہونا ۔ (افعال ) اثخانا ۔ گاڑھا کرنا ۔ پھر استعارۃ خوب خونریزی کرنے کے لیے آتا ہے۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 67 ۔
نوٹ۔ 2: جنگ بدر میں جب قریش کی فوج…
Read the full tafseer →بدر کے قیدیوں سے فدیہ لینے پر عتاب
پہلے ذکر ہوچکا ہے کہ غزوۂ بدر میں ستر کافر مارے گئے اور ستر کافروں کو قید کر کے مدینہ منورہ لایا گیا۔ اب یہ سوال پیدا ہوا کہ ان قیدیوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے۔ مشورہ میں جب بات آئی تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اپنی رائے پیش کرتے ہوئے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! یہ آپ کی قوم کے افراد ہیں اور رشتہ دار بھی ہیں ان کو زندہ رہنے دیجیے ! امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اسلام قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے گا۔ اور اس وقت ان سے فدیہ لے لیا جائے یعنی ان کی جانوں کے بدلہ میں مال لے کر ان کو چھوڑ دیا جائے اور حضرت عمر ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ان لوگوں نے آپ کو جھٹلایا، شہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–71
تلقین احکام دربارۂ اسیران جنگ جنگ
قال اللہ تعالیٰ ﷺ ان کان لنبی ان یکون لہ اس ری حتی یثخن فی الارض۔۔۔ الی۔۔۔ واللہ علیم حکیم
(ربط) گزشتہ آیات میں جہاد و قتال کے مسائل اور احکام کا بیان تھا چونکہ جہاد و قتال میں بسا اوقات کفار قید ہو کر آتے ہیں اس لیے آئندہ آیات میں اسیران جنگ اور خاص کر اسیران بدر کے متعلق احکام بیان کرتے ہیں کیونکہ قیدیوں کے قتل اور فدیہ کا فیصلہ قتال سے فارغ ہونے کے بعد ہوتا ہے اس لیے اس سورت میں احکام قتال کو۔ قیدیوں کے احکام پر ختم فرمایا۔
شان نزول۔
اور شان نزول ان آیات کا یہ ہے کہ جب جنگ بدر میں ستر کافر قید ہو کر آئے تو آں حضرت ﷺ نے ان کے بارے میں صحابہ سے مشورہ کیا کہ…
Read the full tafseer →67: چھٹا قانون جنگ برائےحضور ﷺ۔ جنگ بدر میں مشرکین کے ستر آدمی مسلمانوں نے قید کرلئے تھے۔ ان قیدیوں کے بارے میں چونکہ اللہ کی طرف سے کوئی فیصلہ نازل نہیں ہوا تھا اس لیے حضور ﷺ نے ان کے متعلق صحابہ سے مشورہ لیا۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ آپ کی اپنی قوم کے آدمی اور آپ کے رشتہ دار ہیں آپ ان کی جان بخشی فرما دیں۔ ممکن ہے یہی اسلام قبول کر کے اسلام کے مددگار بن جائیں اور ان سے فدیہ کی جو رقم وصول کی جائے وہ آئندہ جہاد میں کام آئے گی۔ لیکن حضرت عمر فاروق ؓ کا مشورہ تھا یا رسول اللہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے آپ کی تکذیب کی، آپ کو وطن سے نکالا اور آپ سے برسر پیکار ہوئے۔ آپ ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–69
ربطِ آیات :
گذشتہ آیات میں جہاد کی ترغیب کا ذکر تھا اسلام کے ابتدائی زمانہ میں اہل ایمان کی تعداد بالکل قلیل تھی اور دشمنوں کی تعداد بہت زیادہ تھی اس وقت اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو اپنے سے دس گنا طاقتور دشمن کے ساتھ مقابلہ کرنے کا حکم دیا۔ پھر جب مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا ، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے حکم میں تخفیف کردی اور فرمایا کہ تم اپنے سے دگنے دشمن کی ساتھ بھی ٹکرا جائو اور ان کے مقابلہ سے بھاگنے کی اجازت نہیں ہاں اگر دشمن اس سے زیادہ تعداد مثلا تین چار گنا زیادہ ہو تو پھر مقابلے سے اعراض کرنے پر کوئی مواخذہ نہیں ہوگا۔ اللہ نے دشمن سے مقابلے کے لیے یہ نسبت مقرر فرما دی۔
غزوہ بدر…
Read the full tafseer →مَا كَانَ لِنَبِيٍّ اَنْ يَّكُوْنَ لَہٗٓ اَسْرٰي حَتّٰي يُثْخِنَ فِي الْاَرْضِ 0 ۭ تُرِيْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْيَا 0 ۤۖ وَاللہُ يُرِيْدُ الْاٰخِرَۃَ 0 ۭ وَاللہُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ 67
نبی
النبيُّ بغیر همْز، فقد قال النحويُّون : أصله الهمْزُ فتُرِكَ همزُه، واستدلُّوا بقولهم : مُسَيْلِمَةُ نُبَيِّئُ سَوْءٍ. وقال بعض العلماء : هو من النَّبْوَة، أي : الرِّفعة وسمّي نَبِيّاً لرِفْعة محلِّه عن سائر الناس المدلول عليه بقوله : وَرَفَعْناهُ مَکاناً عَلِيًّا [ مریم/ 57] . فالنَّبِيُّ بغیر الهمْز أبلغُ من النَّبِيء بالهمْز، لأنه ليس كلّ مُنَبَّإ رفیعَ القَدْر والمحلِّ ، ولذلک قال عليه الصلاة والسلام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–67
ترکیب : والف معطوف ہے اید پر حسبک ای کا فیک مبتداء اللّٰہ خبر ومن اللہ پر معطوف۔ ان شرطیہ یکن تامہ عشرون فاعل منکم ان سے حال یہ شرط یغلبوا جواب شرط مائتین یغلبوا کا مفعول ‘ من الذین کفروا الفا کا بیان بانہم جملہ علت ہے یغلبوا کی۔
تفسیر : اور اس نے اس کے دل میں الفت دی جو کسی کے اختیار کی بات نہ تھی۔ جس وقت آنحضرت ﷺ عرب میں مبعوث ہوئے جس طرح تمام روئے زمین پر کفر و بت پرستی کی تاریکی محیط تھی (کیونکہ اس وقت خدا پرست روئے زمین پر یہود اور عیسائی خیال کئے جاتے تھے۔ سو ان کی جو کچھ حالت خراب تھی اور جس قدر ان میں بت پرستی تھی تواریخ سے ظاہر ہے) اسی طرح ملک عرب میں علاوہ بت پرستی و زناکاری کے…
Read the full tafseer →مَاکَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّکُوْنَ لَہٗٓ اَسْرٰی حَتّٰی یُثْخِنَ فِیْ الْاَرْضِط تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَا صلیق وَاللّٰہُ یُرِیْدُ الْاٰخِرَۃَ ط وَاللّٰہُ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ۔ (الانفال : 67)
کسی نبی کے لیے یہ زیبا نہیں ہے کہ اس کے پاس قیدی ہوں جب تک وہ زمین میں دشمنوں کو اچھی طرح کچل نہ دیں۔ تم دنیا کا سامان چاہتے ہو اور اللہ آخرت چاہتا ہے اور اللہ غالب اور حکمت والا ہے۔
سیرت و کردار کا اعلیٰ ترین معیار
گزشتہ آیات میں ہم نے پڑھا ہے کہ مسلمانوں کی سیرت و کردار کی تعمیر کے لیے اعلیٰ ترین معیار مسلمانوں کے سامنے رکھا جارہا ہے اور یہ بتایا جارہا ہے کہ مسلمان دنیا میں واحد گروہ ہیں جو اللہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–69
فہم القرآن
ربط کلام : جنگ کے مسائل کا بیان جاری ہے اب قیدیوں اور مال غنیمت کے بارے میں وضاحت کی جاتی ہے۔
اس آیت مبارکہ میں تین الفاظ ایسے ہیں جن کا معنی جاننے سے آیت کا مفہوم بہتر طور پر ذہن نشین ہوجائے گا اسرٰی اس تسمے کو کہا جاتا ہے جس سے پرانے زمانے میں لوگ قیدیوں کو باندھا کرتے تھے اثخان کا معنی ہے خون کا گاڑھا ہونا مراد گھمسان کا رن پڑنا یعنی ایسی لڑائی کہ جس میں ایک فریق کی کمر ٹوٹ جائے عَرَضْ دنیا کے ساز و سامان کو کہا جاتا ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ اے نبی ! آپ کے لیے یہ مناسب نہیں تھا کہ آپ کفار کی کمر توڑے بغیر قیدیوں کو دنیا کے مال کے بدلے رہا کردیتے۔ یہاں قیدیوں کے بارے میں مخاطب…
Read the full tafseer →اسیرانِ بدر کا مسئلہ اور اختلاف رائے :
آیت 67: مَاکَانَ لِنَبِیٍّ (نبی (ﷺ) کی شان کے لائق نہیں) نہ صحیح ہے اور نہ منا سب ہے۔ اَنْ یَّکُوْنَ لَہٗ اَسْرٰٰی (کہ ان کے قیدی باقی رہیں)
قراءت : بصری نے ان تکون پڑھا ہے۔ حَتّٰی یُثْخِنَ فِی الْاَ رْضِ (جب تک کہ وہ زمین میں اچھی طرح خونریزی نہ کرلے) اثخان، کثرت قتل اور مبالغہ فی القتل یہ ثخا نۃ سے ہے جس کا معنی غلظت اور کثافت ہے یہاں تک کہ کافروں میں قتل کی اشاعت سے کفر جھک جائے اور اسلام کا غلبہ اور زور ثابت ہوجائے پھر جو ملے اس کو قید کرلیا جائے۔
روایت میں ہے آپ ﷺ کے پاس ستر قیدی لائے گئے۔ جن میں عم رسول ‘ عباس اور برادر علی ‘ عقیل بھی تھے۔ نبی اکرم…
Read the full tafseer →67(ما اکن لنبی ان یکون لہ اسری) ابو جعفر اور اہل بصرہ نے (تکون) تاء کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی حضرات نے یاء کے ساتھ اور ابو جعفر (رح) نے ” اساری “ اور دیگر حضرات نے ” اسری “ پڑھا ہے۔ (حتی یثخن فی الارض) حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ بدر کے دن جب قیدیوں کو لایا گیا تو آپ (علیہ السلام) نے پوچھا تم لوگ ان قیدیوں کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ تو حضرت ابوبکر ؓ نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول ! (ﷺ ) آپ کی قوم اور رشتہ دار ہیں ان کو زندہ رکھیں۔ شاید اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کرلیں اور ان سے فدیہ لے لیں جو ہمارے لئے کفار کے خلاف قوت کا سبب بنے اور حضرت عمر ؓ نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! ان لوگوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–69
67۔ 69۔ جب بدر کی لڑائی میں کفار قریش میں سے ستر کافر گرفتار ہوئے اور آنحضرت ﷺ نے ان کو فدیہ لے کر بعض اصحاب کے مشورہ کے موافق چھوڑ دیا تو یہ آیت اتری اللہ پاک نے فرمایا کہ نبی کو یہ بات لائق نہیں ہے کہ جب قیدی اس کے یہاں گرفتار ہو کر آئیں تو بغیر قتل کئے ہوئے انہیں چھوڑ دیا جائے پھر اور مسلمانوں کو خطاب کر کے فرمایا کہ تم دنیا کی دولت کو پسند کرتے ہو اور اللہ یہ چاہتا ہے کہ آخرت درست ہو خدا کا بول بالا تمام روئے زمین میں ہو کر اس کا خالص دین ہو معتبر سند سے مسند امام احمد ترمذی وغیرہ میں عبداللہ بن مسعود ؓ اور انس بن مالک ؓ سے روایتیں ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے بدر کے قیدیوں کے بارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–69
آیت 67
یہ غزوۂ بدر کے موقع پر اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسول ﷺ اور اہل ایمان پر عتاب ہے جب انہوں نے مشرکین کو جنگی قیدی بنایا اور ان سے معاوضہ لینے کے لئے اپنے پاس رکھا۔ امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب ؓ کی رائے یہ تھی کہ ان سے مالی معاوضہ لینے کی بجائے، ان کو قتل کرکے ان کی جڑ کاٹ دی جائے۔
چناچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ماکان لنبی ان یکون لہ اسری حتی یثخن فی الارض) ” نبی کے شایاں نہیں کہ اس کے قبضے میں قیدی رہیں یہاں تک کہ (کافروں کو قتل کرکے) زمین میں کثرت سے خون نہ بہادے “۔ یعنی نبی کے لئے یہ بات ہرگز مناسب نہیں کہ جب وہ کفار کے ساتھ جنگ کرے جو اللہ تعالیٰ کی روشنی کو بجھانا اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–68
قیدیوں کا بیان
قول باری ہے (ما کان لبنی ان یکون لہ اسری حتی یثخن فی الارض کسی نبی کے لئے یہ زیبا نہیں ہے کہ اس کے پسا قیدی ہوں جب تک وہ زمین میں دشمنوں کو اچھی طرح کچل نہ دے۔
فدیہ لے کر قیدیوں کو چھوڑ دینا
ہمیں محمد بن بکر نے روایت بیان کی، انہیں ابودائود نے، انہیں احمد بن حنبل نے، انہیں ابونوح نے، انہیں عکرمہ بن عمار نے، انہیں سماک الحنفی نے، انہیں حضرت ابن عباس نے، انہیں حضرت عمر ؓ نے کہ جب بدر کا معرکہ پیش آیا اور حضور ﷺ نے قیدیوں کا فدیہ قبول کرلیا تو اللہ تعالیٰ نے درج بالا آیت نازل فرمائی تا قول باری (لمسکم فیما اخذتم تو جو کچھ تم نے لیا ہے اس کی پاداش میں تمہیں بڑی سزا دی تھی) یعنی جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–68
144 جہاد اسلامی کا اصل مقصد کفر کا زور توڑنا : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ جہاد اسلامی کا اصل مقصد تو کفر کا زور توڑنا ہی ہے، تاکہ دین حق کے لئے راہ صاف ہوجائے اور کوئی فتنہ و رکاوٹ باقی نہ رہ جائے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { وَقَاتِلُوْہُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّ یَکُوْنَ الدِّیْنُ کَلُّہُ لِلّٰہِ } الاٰیۃ (الانفال : 39) ۔ غزوئہ بدر کے بعد جب آنحضرت ﷺ نے اساری بدر کے بارے میں صحابہ کرام ؓ سے مشورہ فرمایا تو حضرت صدیق اکبر۔ ؓ ۔ نے رائے دی کہ ان کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے کہ ایک تو اس طرح ان کے لئے قبول اسلام کا موقع باقی رہے گا اور یہ ممنون بھی ہوں گے اور دوسرے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–71
قیدیوں کے متعلق سیاسی مصلحت، مغفرت کا وعدہ
تشریح : ان آیات کی وضاحت میں دو رائے پائی جاتی ہیں پہلی رائے یہ ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ غزوہ بدر کے قیدیوں کے بارے میں رسول کریم ﷺ نے جب صحابہ کرام سے مشورہ لیا تو ابوبکر صدیق و دیگر صحابہ کی رائے تھی کہ قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے اور سیدنا عمر ؓ کی رائے تھی کہ ان قیدیوں کو قتل کردیا جائے۔ رسول اکرم ﷺ نے سیدنا ابوبکر ؓ کی رائے کے مطابق قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا۔ سیدنا عمر فاروق ؓ کہتے ہیں دوسرے دن صبح میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ اور ابوبکر ؓ دونوں رو رہے ہیں۔ رونے کی وجہ پوچھنے پر آپ ﷺ نے فرمایا میں اس وجہ سے رو رہا ہوں جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–69
آیات 65 تا 69
اسرار و معارف
نیزاے نبی (ﷺ ) مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دیں اس کے فضائل کے ساتھ اس کی ضرورت اور فوائد بھی بیان فرمائیں کہ اسلام بنیادی طور پر امن کا علمبردار ہے اور نہ صرف دنیا بلکہ آخروی امن و سکون کا ضامن ہے مگر ایسے عناصر جو اس امن ہی کے لیے خطرہ پیدا کردیں اور نہ صرف معاشرے کے ظاہری امن کو تباہ کرنے کے درپے ہوں بلکہ اخروی اور دائمی امن و سکون بھی لوٹناچا ہیں تو ان سے قتال ہی دوسروں کے لیے امن کی ضمانت ہے اور اللہ کریم کے نزدیک یہ اتنا پسند دیدہ عمل ہے کہ مسلمان جب بھی اس غرض سے میدان میں نکلیں گے اپنے سے دس گنابڑے دشمن پر غالب آئیں گے یعنی مسلمان جم کر لڑنے والے دوصدکفار پہ…
Read the full tafseer →ف 4 اور ان کا زور نہ توڑدے البتہ جب ان کا زرو ٹوٹ جائے تو نبی ﷺ کو اختیار ہے کہ ان کو قید کرنے بعد چا ہے فد یہ لے کر چھوڑ دے چا ہے بطور احسان رہا کر دے جیسا کہ آیت سورة محمد ﷺ حتی اذا اتخنتمو ھم فشد دوا ا ثاق فاما منا بعد واما فدآ : میں اس کی اجازت دی گئی ہے۔ ( از وحیدی)5 اس لیے تم بدر میں گرفتا ہونے والے قیدیوں کو قتل کرنے کی بجائے انہیں فدیہ لے کر رہا کرنا پسند کرتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
(8:66) الئن۔ اب ظرف زمان ہے اور مبنی برفتح۔ الف لام اس پر بعض کے نزدیک تعریف کا ہے اور بعض کے نزدیک زائدہ اور لازم ہے
خفف۔ اس نے تخفیف کی۔ اس نے ہلکا کردیا۔ ماضی واحد مذکر غائب (باب تفعیل)
ضعفا۔ سستی ۔ کمزوری۔ ضعف یضعف (باب کرم) کا مصدر ہے سست ہونا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–69
آیات : 67 تا 69
لغات القرآن۔
اسری۔ (اسیر) قیدی۔ حتی یثخن۔ جب تک کہ سختی نہ کی جائے۔ عرض ال دنیا۔ دنیا کا سامان۔ لولا کتاب۔ اگر لکھا ہوا نہ ہوتا۔ سبق۔ جو گذر گیا۔ لمسکم۔ البتہ تمہیں پہنچ جاتا۔ اخذتم۔ تم نے لیا۔ غنتم۔ تم نے مال غنیمت لیا۔
تشریح :
نبی کریم ﷺ جو ساری دنیا کے لئے رحمت ہی رحمت ہیں آپ نے ہر موقع پر ہر اس طریقے کو اختیار فرمایا جس میں نرمی اور سہولت کا پہلو شامل ہو۔ یہ ان تکہ کہ مشورہ میں بھی آپ اس بات کو پسند فرماتے تھے جس میں لوگوں سے نرمی کا انداز اختیار کیا گیا ہو۔
جیسا کہ پہلے بھی عرض کیا جا چکا ہے کہ غزوہ بدر مسلمانوں کے لئے پہلا تجربہ تھا۔ اس سے پہلے پندرہ سال تک صحابہ کرام ؓ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–69
قیدیوں کے قتل کی بابت اختلاف
جب بدر کی لڑائی میں کفار قریش میں سے ستر کافر گرفتار ہوئے۔ آنحضرت ﷺ نے صحابہ کرام سے مشورہ لیا اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کو ان پر قدرت دی ہے۔ حضرت عمر ؓ نے کھڑے ہوکر کہا کہ : انہیں قتل کرڈالئے۔ آپ نے کچھ خیال نہ کیا پھر دوبارہ ارشاد فرمایا کہ اے لوگو ! تمہیں ان پر آج قابو ہے، یہ تمہارے بھائی تھے آج قیدی ہیں۔ پھر حضرت عمر ؓ نے کہا :” ان کی گرنیں ماریئے “ آنحضرت ﷺ نے پھر وہی فرمایا تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے کھڑے ہو کر کہا :” میری رائے ہے کہ ان کو معاف کیجئے اور فدیہ لے کر چھوڑ دیجئے “۔ اس بات پر آنحضرت ﷺ کے چہرہ مبارک سے غم کے آثار دور ہوئے اور آپ نے فدیہ لے…
Read the full tafseer →[23] اس آیت کا پس منظر یہ ہے کہ معرکہ بدر کے بعد دشمن کے ستر آدمی گرفتار ہوئے تو سوال پیدا ہوا کہ ان کے ساتھ کیا کیا جائے کیونکہ اس وقت مسلمان بڑی تنگی اور افلاس کی حالت میں تھے اس لئے عام رائے یہ تھی کہ قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے لیکن بعض لوگوں کی رائے یہ تھی کہ انہیں قتل کردینا چاہئے۔ عمر ؓ بھی انہی میں تھے لیکن نبی اکرم ﷺ نے عام رائے کے مطابق فیصلہ فرمایا اور قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–68
بدر کے قیدی :
(ف 2) جب بدر میں ستر آدمی قید ہو کر آئے جو نہایت مفسد اور شریر تھے تو حضور ﷺ نے صحابہ کرام ؓ اجمعین سے پوچھا کہ انہیں کیا کیا جائے ،
حضرت ابوبکر ؓ نے مشورہ دیا کہ فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے اور جان بخشی کی جائے ، شاید انہیں رجوع کی توفیق مرحمت ہو ۔
حضرت عمر ؓ کی رائے تھی انہیں جان سے مار دیا جائے کیونکہ مفسد ہیں ۔
حضور ﷺ نے فرمایا کہ ابوبکر ؓ کی رائے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور مسیح (علیہ السلام) کی طرح ہے ، دونوں نے مغفرت کی طلب کی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا (آیت) ” فمن تبعنی فانہ منی ومن عصانی فانک غفور رحیم “۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) قیامت کے دن یوں فرمائیں گے ،…
Read the full tafseer →67 نبی کی شان کے یہ بات شایاں نہیں کہ اس کے قبضے میں قیدی باقی رہیں اور زندہ رکھے جائیں۔ جب تک کہ وہ ملک میں منکرین دین حق کی خوب خوں ریزی نہ کرلے اور کفار کا زور نہ توڑ دے تم لوگ دنیوی مال و متاع اور دنیوی اسباب کے خواہاں ہوں اور اللہ تعالیٰ آخرت کی مصلحت اور آخرت کے ثواب کا خواہاں ہے اور اللہ تعالیٰ بڑا زبردست بڑی حکمت والا ہے۔
بدر کی جنگ میں ستر 70 کا فرمارے گئے اور ستر 70 قیدی بنے جو کافر قید ہوکر آئے تھے ان کے متعلق مشورہ ہوا بعض کی رائے یہ ہوئی کہ ان سے فدیہ لیکر رہا کردیا جائے اور بعض کی رائے یہ ہوئی کہ ان سب کو قتل کردیا جائے تاکہ مسلمانوں کے خلاف دوبارہ سازش نہ کریں پہلی رائے حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–70
ف 1۔ یغلبوا باذن اللہ (اللہ کے حکم سے غالب آئیں گے) یعنی غلبہ اذن الٰہی کے ساتھ مقید ہے پس اگر کسی حکمت کی وجہ سے اذن نہ ہو تو غلبہ بھی نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →نبی ﷺ کے لئے کسی کو قیدی بنانا اس وقت تک جائز نہیں جب تک غلبہ حاصل نہ کرلے :
90: اس آیت کا مفہوم مختلف طریقوں سے بیان کیا گیا ہے لیکن اکثر مفہومات کا ماحصل ایک ہی ہے وہ یہ کہ ” معرکہ بدر کے بعد غنیم کے ستر آدمی گرفتار ہو کر آئے۔ سپہ سالار اعظم ﷺ نے مشورہ کیا کہ ان کے ساتھ کیا کیا جائے۔ اکثر اہل شوریٰ کی رائے ہوئی کہ اس وقت امت کو جو بڑی ضرورت ہے وہ روپیہ کی ہے اور مصالح ملت کا تقاضا ہے کہ انہیں فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے خود آپ ﷺ بھی اپنی خلقی رحم دلی کے مقتضاء سے اسی طرف مائل ہو رہے تھے چناچہ چند تو قتل کئے گئے اور باقی فدیہ لے کر سوائے ایک کے چھوڑ دیئے گئے اور ایک سے فدیہ بھی وصول نہ کیا گیا…
Read the full tafseer →Commentary
The verses cited above relate to a particular event of the battle of Badr. Therefore, prior to an explanation, it is necessary to describe this event on the authority of sound and authentic narrations appearing in Hadith.
The scenario of the event is the battle of Badr. It was the first Jihad in Islam, and it had come up all of a sudden. Until then, the detail of injunctions pertaining to Jihad was not revealed. There were questions. If spoils come on hand during Jihad, what should be done with it? If enemy soldiers fall under your control, whether or not it is permissible to…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–68
48. This does not mean that since the faith of Muslims had declined, their ten times superiority ove the unbelievers has been reduced to twice only. What it means is that ideally a Muslim is ten times stronger than an unbeliever. However, since the Muslims had not as yet been throughly trained and had reached the desire level of maturity in their understanding, they are asked not to feel uneasy at least of challenging an enemy which is twice as strong. It should be borne in mind that the Qur'anic directive was given in 2A.H./624 C.E. when most of the Muslims, being recent converts to Islam,…
Read the full tafseer →