Explained with ayahs 64–66
ایک غازی دس کفار پہ بھاری
اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر ﷺ اور مسلمانوں کو جہاد کی رغبت دلا رہا ہے اور انہیں اطمینان دلارہا ہے کہ وہ انہیں دشمنوں پر غالب کرے گا چاہے وہ ساز و سامان اور افرادی قوت میں زیادہ ہوں، ٹڈی دل ہوں اور گو مسلمان بےسرو سامان اور مٹھی بھر ہوں۔ فرماتا ہے اللہ کافی ہے اور جتنے مسلمان تیرے ساتھ ہوں گے وہی کافی ہیں۔ پھر اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ مومنوں کو جہاد کی رغبت دلاتے رہو حضور ﷺ صف بندی کے وقت مقابلے کے وقت برابر فوجوں کا دل بڑھاتے بدر کے دن فرمایا اٹھو اس جنت کو حاصل کرو جس کی چوڑائی آسمان و زمین کی ہے حضرت عمیر بن حمام کہتے ہیں اتنی چوڑی ؟ فرمایا ہاں ہاں اتنی ہی اس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–68
سورة الْاَنْفَال 48
اس کا مطلب نہیں ہے کہ پہلے ایک اور دس کی نسبت تھی اور اب چونکہ تم میں کمزوری آگئی ہے اس لیے ایک اور دو کی نسبت قائم کردی گئی ہے۔ بلکہ اس کا صحیح مطلب یہ ہے کہ اصولی اور معیاری حیثیت سے تو اہل ایمان اور کفار کے درمیان ایک اور دس ہی کی نسبت ہے، لیکن چونکہ ابھی تم لوگوں کی اخلاقی تربیت مکمل نہیں ہوئی ہے اور ابھی تک تمہارا شعور اور تمہاری سمجھ بوجھ کا پیمانہ بلوغ کی حد کو نہیں پہنچا ہے اس لیے سردست برسبیل تنزل تم سے یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ اپنے سے دوگنی طاقت سے ٹکرانے میں تو تمہیں کوئی تامل نہ ہونا چاہیے۔ خیال رہے کہ یہ ارشادسن 2 ھجری کا ہے جب کہ مسلمانوں میں بہت سے لوگ ابھی…
Read the full tafseer →آخر آیت میں عام قانون کی صورت سے بتلا دیا (آیت) وَاللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ ، یعنی اللہ تعالیٰ ثابت قدم رہنے والوں کا ساتھی ہے۔ اس میں میدان جنگ میں ثابت قدم رہنے والے بھی شامل ہیں اور عام احکام شرعیہ کی پابندی پر ثابت قدم رہنے والے حضرات بھی۔ ان سب کے لئے معیت الہیہ کا وعدہ ہے اور یہ معیت ہی ان کی فتح و ظفر کا اصلی راز ہے۔ کیونکہ جس کو قادر مطلق کی معیت نصیب ہوگئی اس کو ساری دنیا مل کر بھی اپنی جگہ سے نہیں ہلاسکتی۔
Read the full tafseer →اَلْئٰنَ خَفَّفَ اللّٰهُ عَنْكُمْ وَعَلِمَ اَنَّ فِيْكُمْ ضَعْفًا ۭفَاِنْ يَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ صَابِرَةٌ يَّغْلِبُوْا مِائَتَيْنِ ۚ وَاِنْ يَّكُنْ مِّنْكُمْ اَلْفٌ يَّغْلِبُوْٓا اَلْفَيْنِ بِاِذْنِ اللّٰهِ ۭ وَاللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ۔
مسلمانوں کی ذمہ داری میں تخفیف : اَلْئٰنَ کا لفظ یہاں اس بات کا قرینہ ہے کہ یہ آیت اوپر کی آیات کے بہت بعد اس دور میں نازل ہوئی ہے جب مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہوگئی ہے۔ چناچہ دونوں میں تقابل کی نسبت بھی مختلف ہے۔ اوپر والی آیت میں بیس اور دو سو، سو اور ہزار کا تقابل ہے اور اس میں سو اور دو سو، ہزار اور دو ہزار کا تقابل ہے۔ یہ بھی قرینہ ہے کہ یہ مسلمانوں…
Read the full tafseer →66۔ 1 پچھلا حکم صحابہ ؓ پر گراں گزرا، کیونکہ اس کا مطلب تھا ایک مسلمان دس کافروں کے لئے بیس دو سو کے لئے اور سو ایک ہزار کے لئے کافی ہیں اور کافروں کے مقابلے میں مسلمانوں کی اتنی تعداد ہو تو جہاد فرض اور اس سے گریز ناجائز ہے، چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس میں تخفیف فرما کر ایک اور دس کا تناسب کم کرکے ایک اور دو کا تناسب کردیا (صحیح بخاری) ، تفسیر سورة الا نفال، اب اس تناسب پر جہاد ضروری اور اس سے کم پر غیر ضروری ہے۔
66۔ 2 یہ کہہ کر صبر و ثبات قدمی کی اہمیت بیان فرما دی کہ اللہ کی مدد حاصل کرنے کے لئے اس کا اہتمام ضروری ہے۔
Read the full tafseer →46: یہ حکم بعد میں آیا اور اس نے یہ تخفیف کردی کہ اگر دشمن کی تعداد مسلمانوں سے دگنی ہو تو پیچھے ہٹنا جائز نہیں ہے، البتہ اگر تعداد اس سے زیادہ ہو تو پیچھے ہٹنے کی گنجائش ہے، اس طرح اس آیت نے اس حکم کی تفصیل بیان فرمادی ہے جو پیچھے آیت نمبر 15، 16 میں دیا گیا۔
Read the full tafseer →بعض فقہاء اور مفسرین نے اس آیت سے یہ سمجھا ہے کہ اس آیت میں اہل ایمان کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ اگر وہ قوی ہوں تو ان میں سے ایک آدمی دس سے بھی نہ بھاگے گا اور اگر ضعیف ہوں تو ان میں سے ایک آدمی دو سے نہ بھاگے گا۔ اس کے علاوہ بھی بہت سے اختلافات ہیں جن کی تفصیل یہاں دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے ہاں ناپ و تول کے جو پیمانے ہیں ، ان میں مسلمانوں اور ان کے دشمنوں کی قوت کا یہ حقیقی موازنہ ہے اور یہ حق ہے اور یہاں اللہ اہل ایمان کو یہ بتلانا چاہتا ہے تم اپنی قوت کا ذرا اچھی طرح اندازہ کرلو ، اپنے آپ کو کم نہ سمجھو اور اطمینان رکھو۔ اور اپنے قدموں کو میدان کارزار میں مضبوطی سے…
Read the full tafseer →5 بخاری میں ابن عباس سے منقول ہے کہ گذشتہ آیت جس میں مسلمانوں کو دس گنا کافروں کے مقابلہ پر ثابت قدم رہنے کا حکم تھا، جب لوگوں کو بھاری معلوم ہوئی تو اس کے بعد یہ آیت اتری۔ (اَلْئٰنَ خَفَّفَ اللّٰهُ عَنْكُمْ ) 8 ۔ الانفال :66) یعنی خدا نے تمہاری ایک قسم کی کمزوری اور سستی کو دیکھ کر پہلا حکم اٹھا لیا۔ اب صرف اپنے سے دوگنی تعداد کے مقابلہ میں ثابت قدم رہنا ضروری اور بھاگنا حرام ہے یہ کمزوری یا سستی جس کی وجہ سے حکم میں تخفیف ہوئی، کئی وجوہ سے ہوسکتی ہے۔ ابتدائے ہجرت میں گنے چنے مسلمان تھے جن کی قوت و جلادت معلوم تھی، کچھ مدت کے بعد ان میں سے بہت افراد بوڑھے اور کمزور ہوگئے اور جو نئی پود آئی…
Read the full tafseer →آیت 66 اَلْءٰنَ خَفَّفَ اللّٰہُ عَنْکُمْ وَعَلِمَ اَنَّ فِیْکُمْ ضَعْفًا ط۔
یہ کس کمزوری کا ذکر ہے اور یہ کمزوری کیسے آئی ؟ اس نکتے کو اچھی طرح سمجھ لیں۔ جہاں تک مہاجرین اور انصار میں سے ان صحابہ کرام رض کا تعلق ہے جو سابقون الاوّلُون میں سے تھے تو ان کے اندر معاذ اللہ کسی قسم کی بھی کوئی کمزوری نہیں تھی ‘ لیکن جو لوگ نئے مسلمان ہو رہے تھے ان کی تربیت ابھی اس انداز میں نہیں ہوپائی تھی جیسے پرانے لوگوں کی ہوئی تھی۔ ان کے دلوں میں ابھی ایمان پوری طرح راسخ نہیں ہوا تھا اور مسلمانوں کی مجموعی تعداد میں ایسے نئے لوگوں کا تناسب روز بروز بڑھ رہا تھا۔ مثلاً اگر پہلے ہزار لوگوں میں پچاس یا سو نئے لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
69 مسلمانوں میں بعد میں کمزوری کی وجہ پہلے حکم کی منسوخی نہیں بلکہ حالات ہیں :۔ اگرچہ یہ آیت اور اس سے پہلی آیت ایک ساتھ رکھی گئی ہیں۔ مگر ان دونوں کے زمانہ نزول میں کافی مدت کا فرق ہے اور انہیں صرف مضمون کی مناسبت سے اکٹھا رکھا گیا ہے۔ پہلی آیت کا زمانہ نزول تو غزوہ بدر کے بعد کا ہے۔ جبکہ اس سورة کا بیشتر حصہ نازل ہوچکا تھا۔ اور دوسری آیت کے زمانہ نزول کے متعلق حتمی طور پر تو کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ تاہم یہ غزوہ حنین اور اس کے مابعد کا زمانہ معلوم ہوتا ہے۔ فتح مکہ کے موقعہ پر جو لوگ مسلمان ہوئے وہ ابتدا سے اسلام لانے والوں جیسا حوصلہ نہیں رکھتے تھے اور اس ضعف کی کئی وجوہ ہوسکتی ہیں۔ مثلاً ایک…
Read the full tafseer →98 ۔ (اور جوش طبعی طور پر سرد پڑ ہی جاتا ہے جب تعد اد قلیل سے کثیر ہوجاتی ہے) (آیت) ” الئن “۔ یعنی ایک مدت کے بعد پچھلی آیت اور اس آیت کے نزول کے درمیان ایک خاصہ طویل وقفہ گزرا ہے۔ (آیت) ” خفف “۔ کے لفظ سے ادھر اشارہ ہے کہ اصل قاعدہ اور وعدہ تو وہی رہا جو اوپر بیان ہوچکا، صرف مشقت تم پر گھٹا دی گئی، یعنی اب اگر تم متحمل نہ ہوسکو اور ذرا لڑکھڑا جاؤ تو ویسی گرفت نہ ہوگی۔ (آیت) ” ضعفا “۔ سے یہاں قوائے جسمانی کی کمی مراد نہیں بلکہ جوش وہمت کی کمی مراد ہے۔ لم یرد بہ ضعف القوی والابدان وانما المراد ضعف النیۃ لمحاربۃ المشرکین (جصاص) قال الخلیل الضعف فی العقل والرای (راغب)
99 ۔ (تو مدار نصرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
آیت نمبر 65 تا 69
ترجمہ : اے نبی ! مومنین کو کفار سے جہاد کرنے کا شوق دلاؤ، اگر تم میں بیس بیس صبر کرنے والے ہوں گے تو ان میں سے دو سو پر غالب رہیں گے، اور اگر تم میں سو صبر کرنے والے ہوں گے تو ایک ہزار کافروں پر غالب رہیں گے اس سبب سے کہ وہ ناسمجھ لوگ ہیں (یکن) یاء اور تاء کے ساتھ ہے، اور یہ خبر بمعنی انشاء ہے یعنی تم میں سے بیس کو دو سو کے ساتھ قتال کرنا چاہیے، اور سو کو ہزار کے ساتھ، اور ان کے مقابلہ میں ثابت قدم رہو، پھر جب (مسلمانوں) کی تعداد زیادہ ہوگئی تو اللہ کے قول (اَلْئٰن) سے منسوخ کردیا گیا، (اچھا) اب اللہ تمہارا بوجھ ہلکا کرتا ہے، وہ خوب جانتا ہے کہ تم میں نا توانی ہے اپنے سے دس…
Read the full tafseer →الئن خفف اللہ عنکم وعلم ان فیکم ضعفا فان یکن منکم ماءۃ صابرۃ یغلبوا مائتین وان یکن منکم الف یغلبوا الفین اب اللہ نے تم سے بوجھ ہلکا کردیا اور اس کو معلوم ہوگیا کہ تمہارے اندر (جسمانی) طاقت کم ہے پس اب اگر تم میں سے جم کر لڑنے والے سو ہوں گے تو دو سو دشمنوں پر غالب آئیں گے اور اگر تم میں سے ایک ہزار (صابر) ہوں گے تو دوہزار دشمنوں پر غالب آئیں گے۔
باذن اللہ بمشیت اللہ۔ حکم میں تخفیف کردی گئی ‘ دس گنی طاقت سے لڑنے کی جگہ دوگنی طاقت سے لڑنے کا حکم ہوگیا۔ اب کافروں کی تعداد مسلمانوں سے دوگنی ہو تو فرار جائز نہیں۔ سفیان کا بیان ہے کہ شبرمہ نے فرمایا : میرے نزدیک امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا…
Read the full tafseer →(66) غزوہ بدر کے بعد اللہ تعالیٰ نے تم پر تخفیف کردی، اب تم اپنے سے دوگنے عدد پر غالب آسکتے ہو، اور جو لڑائی میں ثابت قدم رہیں اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرنے والا ہے۔
Read the full tafseer →اَلْئٰنَ خَفَّفَ اللّٰهُ عَنْكُمْ : اس آیت کی تفسیر میں ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب گزشتہ آیت نازل ہوئی تو مسلمانوں کو اپنے سے دس گنا کفار کے مقابلے میں ڈٹے رہنے کا حکم دشوار معلوم ہوا، پھر تخفیف کا حکم آگیا اور اپنے سے دو گنا کے مقابلے میں ثابت قدم رہنا واجب اور بھاگنا حرام قرار دے دیا گیا۔ [ بخاری، التفسیر، سورة الأنفال، باب : (الآن خفف اللہ عنکم۔۔) : 4653 ] اگر کفار دو گنا سے زیادہ ہوں تو بھاگنا گناہ نہیں، لیکن لڑنا اور جمے رہنا بہر حال افضل ہے، جیسا کہ عہد نبوی اور خلفائے راشدین کے عہد کے واقعات سے معلوم ہوتا ہے۔ (ابن کثیر، قرطبی) اس آیت میں یہ خوش خبری بھی ہے کہ مسلمانوں کے لشکر ہزاروں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
قولہ تعالیٰ : یایھا النبی حرض المومنین علی القتال یعنی آپ انہیں جہاد پر برانگیختہ کیجئے اور ابھاریئے۔ کہا جاتا ہے : حارض علی الا مرد واظب وواصب واکب ان تمام کا معنی ایک ہے (یعنی اس نے کام پر ابھارا، برانگیختہ کیا) اور الحارض وہ ہے جو ہلاک ہونے کے قریب ہوجائے۔ اس معنی میں رب کریم کا ارشاد بھی ہے : حتی تکون حرضا (یوسف : 58) (کہیں بگڑنہ جائے آپ کی صحت) یعنی تو غم سے پگھلنے لگے اور تو ہلاک ہونے کے قریب ہوجائے تو تو ہلاک ہونے والوں میں سے ہوجائے گا۔
ان یکن منکم عشرون صبرون یغلبوا مائتین یہ الفاظ تو خبر ہیں، ان کے ضمن میں شرط کے ساتھ ایک وعدہ ہے۔ کیونکہ اس کا معنی یہ ہے اگر تم میں سے بیس صبر کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–67
دشمن کے مقابلہ میں ثابت قدم رہنا :
1۔ البخاری وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ وابن مردویہ والبیہقی نے شعب الایمان میں سفیان کے راستے سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ (آیت ) ” ان یکن منکم عشرون صبرون یغلبوا مائتین وان یکن منکم مائۃ یغلبوا الفا “۔ نازل ہوئی تو ان پر فرض کردیا گیا کہ ان میں سے کوئی ایک دس کے مقابلہ سے نہ بھاگے اور بیس دو سو افراد کے مقابلہ سے نہ بھاگیں پھر یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” الئن خفف اللہ عنکم “ تو یہ فرض کردیا گیا کہ سو آدمی دو سو کے مقابلہ میں سے نہ بھاگیں سفیان نے فرمایا اور ابن شبرعہ نے فرمایا کہ میں نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو اسی طرح دیکھا ہے اگر وہ دو…
Read the full tafseer →اَلْئٰنَ [ اب ] خَفَّفَ [ ہلکا کیا (بوجھ) ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] عَنْكُمْ [ تم لوگوں سے ] وَعَلِمَ [ اور اس نے جانا ] اَنَّ [ کہ ] فِيْكُمْ [ تم لوگوں میں ] ضَعْفًا ۭ [ کچھ کمزوری ہے ] فَاِنْ [ پس اگر ] يَّكُنْ [ ہوں گے ] مِّنْكُمْ [ تم میں سے ] مِّائَةٌ صَابِرَةٌ [ ثابت قدم رہنے والے ایک سو ] يَّغْلِبُوْا [ تو وہ غالب ہوں گے ] مِائَتَيْنِ ۚ [ دو سو پر ] وَاِنْ [ اور اگر ] يَّكُنْ [ ہوں گے ] مِّنْكُمْ [ تم میں سے ] اَلْفٌ [ (ثابت قدم رہنے والے ] ایک ہزار ] يَّغْلِبُوْٓا [ تو وہ غالب ہوں گے ] اَلْفَيْنِ [ دو ہزار پر ] بِاِذْنِ اللّٰهِ ۭ [ اللہ کی اجازت سے ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] مَعَ…
Read the full tafseer →اس کے بعد فرمایا (اَلْءٰنَ خَفَّفَ اللّٰہُ عَنْکُمْ وَ عَلِمَ اَنَّ فِیْکُمْ ضَعْفًا) اس کا سبب نزول بتاتے ہوئے حضرت امام بخاری (رح) نے ص 677 ج 2 میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ جب پہلی آیت (اِنْ یَّکُنْ مِّنْکُمْ عِشْرُوْنَ صَابِرُوْنَ ) نازل ہوئی تو مسلمانوں کو یہ بات بھاری معلوم ہوئی کہ دشمن کے افراد دس گنے ہوں تب بھی ان کے مقابلہ سے راہ فرار کرنے کی اجازت نہیں، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے تخفیف فرما دی اور دس گنے افراد سے مقابلہ کرنے کا جو حکم دیا گیا تھا اس کے بجائے یہ حکم دے دیا کہ سو افراد، دو سو کے مقابلے میں راہ فرار اختیار نہ کریں (یعنی دوگنی جماعت کے مقابلہ سے راہ فرار اختیار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
ترغیب وتشویق اہل ایمان پر قتال کفار و قانون قرار وفرار
از میدان کارزار
قال اللہ تعالیٰ یا یہا النبی حرض ال مومنین علی القتال۔۔۔ الی۔۔۔ واللہ مع الصبرین
(ربط) گزشتہ آیات میں بوقت ضرورت حسب مصلحت کافروں سے صلح کی اجازت دی اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ کافروں سے صلح محض جائز اور مباح کے درجہ میں ہے اصلی حکم کافروں سے جہاد و قتال ہے۔ اس لیے فرماتے ہیں کہ اے نبی آپ اہل ایمان کو جہاد و قتال کا خوب شوق دلائیے تاکہ اللہ کا کلمہ بلند ہو اور اس کا بول بالا ہوا اور کفر ذلیل و خوار ہو۔ اور یہ بات جہاد سے حاصل ہوتی ہے۔ صلح سے حاصل نہیں ہوتی اس لیے مسلمانوں کو چاہئے کہ ہر وقت جہاد کے لیے تیار رہیں ل۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
65: یہ پانچواں قانون جہاد ہے برائے نبی کریم ﷺ ۔ حاصل یہ ہے کہ آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو اللہ کافی ہے۔ اللہ آپ کا حامی و ناصر اور کارساز ہے آپ ایمان والوں کو جہاد کی ترغیب دیں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں۔ اگر تم تعداد میں کم ہوگے تو بھی تمہیں دشمن پر فتح اور غلبہ عطا کروں گا۔ “ وَ مَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤمِنِیْن ” یہ “ حَسْبُکَ ” میں کاف ضمیر پر معطوف ہے یا بقول امام زجاج یہ مفعول معہ ہے یا یہ مبتدا ہے اور اس کی خبر محذوف ہے۔ “ اي من اتبعک من المؤمنین کذالک اي حسبھم اللہ تعالیٰ ” حاصل یہ ہے کہ آپ کو اور ایمان والوں کو تمام مہمات میں اللہ کافی ہے (روح، بحر، کبیر، مدارک) ۔ لفظ اللہ پر اس کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
ربطِ آیات :
صلح اور جنگ کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے پہلے ان باتوں کا ذکر کیا جن التزام دوران جنگ ضروری ہے پھر طاقت فراہم کرنے کا اصول بیان فرمایا نیز فرمایا دشمن کے مقابلے میں رائج الوقت ہر قسم کا اسلحہ جمع کرو ، افرادی قوت پیدا کرو تا کہ دشمن کو مغلوب کیا جاسکے اس کے ساتھ ساتھ اللہ نے صلح کا قانون بھی بتلا دیا کہ اگر دشمن صلح پر آمادہ ہو تو آپ بھی اس میں ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں آپ اس بات کی فکر نہ کریں کہ دشمن صلح کی آڑ میں آپ کو زک پہنچائیگا ، بلکہ اللہ کی ذات پر بھروسہ کر کے اس کام کو انجام دیں ، اللہ تعالیٰ دشمنوں سے بچائو کا سامانِ پیدا کردیگا۔ جب آپ صحیح اصول کے مطابق کام کریں گے تو اللہ…
Read the full tafseer →اَلْـــٰٔـنَ خَفَّفَ اللہُ عَنْكُمْ وَعَلِمَ اَنَّ فِيْكُمْ ضَعْفًا 0 ۭ فَاِنْ يَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَۃٌ صَابِرَۃٌ يَّغْلِبُوْا مِائَتَيْنِ 0 ۚ وَاِنْ يَّكُنْ مِّنْكُمْ اَلْفٌ يَّغْلِبُوْٓا اَلْفَيْنِ بِـاِذْنِ اللہِ 0 ۭ وَاللہُ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ 66
خفیف
الخَفِيف : بإزاء الثّقيل، ويقال ذلک تارة باعتبار المضایفة بالوزن، و قیاس شيئين أحدهما بالآخر، نحو : درهم خفیف، ودرهم ثقیل .
والثاني : يقال باعتبار مضایفة الزّمان،
نحو : فرس خفیف، وفرس ثقیل : إذا عدا أحدهما أكثر من الآخر في زمان واحد .
الثالث : يقال خفیف فيما يستحليه الناس،
وثقیل فيما يستوخمه، فيكون الخفیف مدحا، والثقیل ذمّا، ومنه قوله…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–67
ترکیب : والف معطوف ہے اید پر حسبک ای کا فیک مبتداء اللّٰہ خبر ومن اللہ پر معطوف۔ ان شرطیہ یکن تامہ عشرون فاعل منکم ان سے حال یہ شرط یغلبوا جواب شرط مائتین یغلبوا کا مفعول ‘ من الذین کفروا الفا کا بیان بانہم جملہ علت ہے یغلبوا کی۔
تفسیر : اور اس نے اس کے دل میں الفت دی جو کسی کے اختیار کی بات نہ تھی۔ جس وقت آنحضرت ﷺ عرب میں مبعوث ہوئے جس طرح تمام روئے زمین پر کفر و بت پرستی کی تاریکی محیط تھی (کیونکہ اس وقت خدا پرست روئے زمین پر یہود اور عیسائی خیال کئے جاتے تھے۔ سو ان کی جو کچھ حالت خراب تھی اور جس قدر ان میں بت پرستی تھی تواریخ سے ظاہر ہے) اسی طرح ملک عرب میں علاوہ بت پرستی و زناکاری کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
یٰٓاَیُّھَاالنَّبِیُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلَی الْقِتَالِ ط اِنْ یَّکُنْ مِّنْکُمْ عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ یَغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ ج وَاِنْ یَّکُنْ مِّنْکُمْ مِّائَۃٌ یَّغْلِبُوْآ اَلْفًا مِّنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْابِاَنَّھُمْ قَوْمٌ لاَّ یَفْقَھُوْنَ ۔ اَلْئٰنَ خَفَّفَ اللّٰہُ عَنْکُمْ وَعَلِمَ اَنَّ فِیْکُمْ ضَعْفًا ط فَاِنْ یَّکُنْ مِّنْکُمْ مِّائَۃٌ صَابِرَۃٌ یَّغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ ج وَاِنْ یَّکُنْ مِّنْکُمْ اَلْفٌ یَّغْلِبُوْآاَلْفَیْنِ بِاِذْنِ اللّٰہِ ط وَاللّٰہُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ ۔ (الانفال : 65 تا 66)
(اے نبی ! مومنوں کو جنگ پر ابھارو اگر تم میں سے بیس (20) صابر ہوں تو وہ دو سو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–66
فہم القرآن
ربط کلام : نبی اکرم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے مومنوں اور اپنی طرف سے اطمینان دلانے کے بعد قتال کا حکم دیا۔
سربراہ کو اللہ تعالیٰ پر بھروسہ اور اپنے ساتھیوں پر اعتماد کرتے ہوئے مسلمانوں کو جہاد کرنے کا حکم دینا چاہیے جب مسلمان کردار کے حوالے سے پختہ تھے تو اس وقت کفار کے خلاف تناسب یہ قائم کیا گیا کہ اگر کفار اپنی جارحیت سے باز نہ آئیں تو دس کفار کے مقابلے میں ایک مسلمان کافی ہے یہ تعداد اس لیے کافی ہے کہ کافر موت کی حقیقت سے واقف نہیں وہ قتال اور موت سے اس لیے ڈرتا ہے کہ اس کے سامنے کوئی مقصد اور منزل نہیں ہوتی۔ جس وجہ سے اس میں وہ جوش اور ولولہ پیدا نہیں ہوتا جو مجاہد کے سینے میں موجزن…
Read the full tafseer →تخفیف حکم :
آیت 66: اَلْئٰنَ خَفَّفَ اللّٰہُ عَنْکُمْ وَعَلِمَ اَنَّ فِیْکُمْ ضَعْفًا (اب اللہ تعالیٰ نے تم سے بوجھ ہلکا کردیا اور اس کو معلوم ہوگیا کہ تمہارے اندر طاقت کم ہے) ضعفا حمزہ و عاصم نے پڑھا۔ فَاِنْ یَّکُنْ مِّنْکُمْ مِّائَۃٌ صَابِرَۃٌ (پس اب اگر تم میں سے جم کر لڑنے والے سو ہونگے) کوفی نے یَکُنْ ، یا کے ساتھ پڑھا ہے۔ بصری نے پہلے میں اس کی موافقت کی۔ مراد اس سے ضعف فی البدن ہے۔ یَّغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ وَاِنْ یَّکُنْ مِّنْکُمْ اَلْفٌ یَّغْلِبُوْٓا اَلْفَیْنِ بِاِذْنِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ (تو وہ دو سو دشمنوں پر غالب آئیں گے اور اگر تم میں سے ایک ہزار صابر ہونگے تو وہ…
Read the full tafseer →تفسیر 66(الئن خفف اللہ عنکم وعلم ان فیکم ضعفاً ) یعنی ایک آدمی دس سے اور سو آدمی ہزار سے نہیں لڑ سکتے اور ابو جعفر نے ) ضعفائ) عین کے زبر اور مد کے ساتھ جمع کی بناء پر پڑھنا ہے اور دیگر حضرات نے عین کے سکون کے ساتھ (فان یکن منکم ماثۃ صابرۃ یغلبوا مائتین وان یکن منکم الف یغلبوآ الفین باذن اللہ واللہ مع الصبرین)
دس سے دو کی طرف حکم لوٹا دیا گیا۔ پس اگر مسلمان اپنے دشمن کی تعداد کا نصف ہوں تو ان کے لئے فرار ہو جائز نہیں ہے اور سفیان اور ابن شبرمہ فرماتے ہیں میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو بھی اسی طرح سمجھتا ہوں۔ اہل کوفہ نے ” وان یکن منکم مائۃ “ دونوں میں یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ اہل بصرہ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
65۔ 66۔ جمہور مفسرین کے نزدیک پہلا ٹکڑا آیت کا جس میں ایک مسلمان کو دس کافروں سے مقابلہ کرنے کا حکم تھا آیت کے اس ٹکڑے سے منسوخ ہے اور اب یہی حکم ہے کہ ایک مسلمان دو کافروں سے مقابلہ کرے صحیح بخاری اور مسلم کی ابوہریرہ ؓ کی روایت میں جہاد سے بھاگنے والے کو کبیرہ گناہ کا گناہ گار جو آنحضرت نے فرمایا ہے اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ اس قدر مقابلہ سے آدمی نہ بھاگے ضرور کبیرہ گناہ کا گنہگار ٹھہریگا اور اس قدر سے زیادہ دشمنوں سے مقابلہ آن پڑے تو لڑنے کی صورت میں اجر ہے بھاگنے کی صورت میں گناہ نہیں صحیح بخاری اور ابواؤد میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ایک سے دس کے مقابلہ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–66
آیت 64
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے : (یایھا النبی حرص المومنین علی القتال) ” اے نبی ! مومنوں کو جہاد کی ترغیب دو “۔ یعنی آپ انہیں ہر اس طریقے کے ذریعے سے قتال پر آمادہ کریں جس سے ان کے عزائم مضبوط ہوں اور ان کے ارادوں میں نشاط پیدا ہو۔ یعنی جہاد اور دشمن سے مقابلے کی ترغیب دی جائے اور جہاد سے باز رہنے کے انجام سے ڈرایا جائے۔ شجاعت اور صبر کے فضائل اور ان پر مرتب ہونے والی دین و دنیا کی بھلائی کا ذکر کیا جائے۔ بزدلی کے نقصانات بیان کئے جائیں اور یہ واضح کیا جائے کہ بزدلی ایک انتہائی رذیل اور ناقص خصلت ہے اور شجاعت کا اہل ایمان کی صفت ہونا دوسروں کی نسبت زیادہ اولیٰ ہے۔ اللہ…
Read the full tafseer →قول باری ہے (الان خفف اللہ عنکم و علم ان فیکم ضعفا۔ اب اللہ نے تمہارا بوجھ ہلکا کردیا اور اسے معلوم ہوگیا کہ ابھی تمہارے اندر کمزوری ہے) آیت میں جسمانی اور قویٰ کی کمزوری مراد نہیں ہے بلکہ مشرکین سے مقابلہ کی نیت میں کمزوری مراد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کمزور ارادوں والے مسلمانوں پر جو چیز فرض قرار دی وہی چیز تمام مسلمانوں پر فرض کردی گئی۔ یعنی اب ایک مسلمان پر دشمن کے دو آدمیوں کا مقابلہ فرض کردیا گیا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کا قول ہے کہ میرے دل میں کبھی یہ خیال نہیں گزرا تھا کہ کوئی مسلمان مشرکین کے خلاف قتال میں اللہ کی خوشنودی کے سوا کسی اور چیز کی نیت بھی کرسکتا ہے حتیٰ کہ یہ آیت نازل ہوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
139 جہاد فی سبیل اللہ کے لیے تحریض و ترغیب کا حکم وارشاد : سو حکم وارشاد فرمایا گیا کہ اے پیغمبر ترغیب دو لوگوں کو جہاد فی سبیل اللہ کی۔ جہاد و قتال کے فوائد و منافع بیان کرکے اور اس پر ملنے والے اجر وثواب سے ان کو آگاہ کر کے کہ جہاد فی سبیل اللہ کا یہ حکم و ارشاد ایمان والوں کیلئے دارین کی سعادت و سرخروئی اور کامرانی کا وسیلہ اور حیات جاودانی کا ذریعہ ہے وغیرہ وغیرہ۔ تاکہ یہ لوگ اس سعادت سے متمتع و بہرہ ور ہو سکیں اور اس طرح دنیا سے شرور وفتن کا قلع قمع ہوسکے اور دین حق کا بول بالا ہو اور اعلائِ کلمۃ اللہ کی راہ کی رکاوٹیں دور ہوسکیں۔ سو جہاد فی سبیل اللہ دین حنیف کا ایک عظیم الشان مقصد اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
میدان جنگ میں مجاہدین کا رعب
تشریح : ان آیات میں صبر و استقامت کی طاقت اور ضرورت کا بیان ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اے نبی ﷺ ! مسلمانوں کو حق اور سلامتی کے حصول کے لیے لڑنے کی ترغیب دیں اور ان کو بتا دو کہ مرنا تو ہر ایک نے ہی ہے لیکن جو اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے اور ایک بہترین مقصد کے حصول کے لیے میدان جنگ کا رخ کرتا ہے تو ایسے شخص کی مدد اللہ ہر صورت کرتا ہے۔ اور پھر اگر وہ مرگیا تو شہید کا رتبہ ملے گا اگر بچ گیا تو غازی کا مرتبہ ملے گا۔ کیونکہ مسلمان کا مقصد نیک اور بلند ہوتا ہے پھر اللہ رب العزت پر پورا بھروسہ رکھتا ہے صبر و استقامت اس کا ہتھیار ہوتے ہیں اس لیے ایک کی طاقت دس جوانوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–69
آیات 65 تا 69
اسرار و معارف
نیزاے نبی (ﷺ ) مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دیں اس کے فضائل کے ساتھ اس کی ضرورت اور فوائد بھی بیان فرمائیں کہ اسلام بنیادی طور پر امن کا علمبردار ہے اور نہ صرف دنیا بلکہ آخروی امن و سکون کا ضامن ہے مگر ایسے عناصر جو اس امن ہی کے لیے خطرہ پیدا کردیں اور نہ صرف معاشرے کے ظاہری امن کو تباہ کرنے کے درپے ہوں بلکہ اخروی اور دائمی امن و سکون بھی لوٹناچا ہیں تو ان سے قتال ہی دوسروں کے لیے امن کی ضمانت ہے اور اللہ کریم کے نزدیک یہ اتنا پسند دیدہ عمل ہے کہ مسلمان جب بھی اس غرض سے میدان میں نکلیں گے اپنے سے دس گنابڑے دشمن پر غالب آئیں گے یعنی مسلمان جم کر لڑنے والے دوصدکفار پہ…
Read the full tafseer →ف 3 یعنی انہیں اللہ پر ایمان اور اس کے ثواب پر یقین نہیں ہے اور جس کو یقین ہے اس کو مت کا کیا ڈر ؟۔ صحیح بخاری میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب گزشتہ آیت نازل ہوئی تو مسلمانوں کی اپنے سے دس گنا کفار کے مقابلے میں ڈٹے رہنا کا حکم دشوار معلوم ہوا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں اپنے سے دو چند کے مقابلے میں ثابت قدم رہنا ضروری اور بھاگنا فرار دیا گیا ہے۔ اب یہ حکم قیامت تک کے لیے قائم ہے۔ اگر کفار دو چند سے زیادہ ہوں تو بھاگنا گناہ نہیں لیکن لڑنا اور جمے رہنا بہر حال افضل ہے جیسا کہ عہد نبوی اور خلفائے راشدین ؓ کے عہد کے بعض واقعات سے معلوم ہوتا ہے، ( از ابن کثیر و قرطبی )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
(8:66) الئن۔ اب ظرف زمان ہے اور مبنی برفتح۔ الف لام اس پر بعض کے نزدیک تعریف کا ہے اور بعض کے نزدیک زائدہ اور لازم ہے
خفف۔ اس نے تخفیف کی۔ اس نے ہلکا کردیا۔ ماضی واحد مذکر غائب (باب تفعیل)
ضعفا۔ سستی ۔ کمزوری۔ ضعف یضعف (باب کرم) کا مصدر ہے سست ہونا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–66
آیات : 63 تا 66
لغات القرآن۔
الف۔ محبت ڈال دی۔ انفقت۔ تو نے خرچ کیا۔ حرض۔ رغبت دلائیے۔ آمادہ کیجئے۔ عشرون۔ بیس۔ ماتین۔ دو سو۔ لا یفقھون۔ وہ نہیں سمجھتے ہیں۔ الئن۔ اب۔ اس وقت۔ خفف۔ ہلکا کردیا۔ مائۃ۔ ایک سو۔ الف۔ ایک ہزار۔
تشریح : پچھلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا تھا کہ دشمن کے مقابلے میں ہر ممکن قوت کو حاصل کرو تاکہ تمہارے دشمنوں پر تمہارا رعب جم جائے۔ ان آیات میں اس بات کی طرف اشارہ کی گیا ہے کہ اصل قوت و طاقت ہتھیر نہیں ہوتے بلک ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ محبت، قربانی بھائی چارہ اخوت، اتحادو اتفاق، یک سوئی، یک نظری سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ اگر کوئی قوم بہت سے ہتھیار جمع کرلے لیکن ان میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
لڑائی میں تخفیف کا حکم
شان نزول : جمہور مفسریں کے نزدیک پہلا ٹکڑا آیت کا جس میں ایک مسلمان کو دس کافروں سے مقابلہ کرنے کا حکم تھا آیت کے اس ٹکڑے سے منسوخ ہے اور اب یہی حکم ہے ایک مسلمان دو کافروں سے مقابلہ کرے۔ اس قدر مقابلہ سے آدمی نہ بھاگے ورنہ گناہ کبیرہ کا گنہگات ٹھرے گا، اور اس قدر سے زیادہ دشمنوں سے مقابلہ آپڑے تو لڑنے کی صورت میں اجر ہے، بھاگنے کی صورت میں گناہ نہیں۔ آگے فرمایا کہ تخفیف کا حکم تمہارے ضعف ہمت کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے اب جس کام کا تمہیں حکم دیا گیا ہے وہ ضرور تم کرو گے۔ مشرک لوگ عقبیٰ کے عذاب وثواب کی کچھ سمجھ نہیں رکھتے۔ پھر فرمایا کہ دین اللہ کا ہے اس…
Read the full tafseer →[22] مطلب یہ ہے کہ اصلی قاعدہ اور وعدہ تو وہی رہا جو آیت 65 میں بیان ہوچکا ہے ' صرف مشقت تم پر سے گھٹا دی گئی کیونکہ تم لوگوں کی اخلاقی تربیت مکمل نہیں ہوئی ہے اور تمہیں پورا شعور حاصل نہیں ہوا ہے۔ یہ یاد رہے کہ یہ ارشاد 2 ھ کا ہے جب کہ مسلمانوں میں بہت سے لوگ نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے تھے اور ان کی تربیت ابتدائی حالت میں تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
(ف 1) (آیت) ” یفقھون “ سے غرض یہ ہے کہ کفار شہادت کی قدروقیمت سے آگاہ نہیں ، وہ موت سے ڈرتے ہیں اور مسلمان پوری جانبازی سے لڑتا ہے ، وہ جانتا ہے کہ جیئے تو غازی اور مرے تو شہید یعنی مسلمان کے لئے کامیابی کے زیادہ امکانات موجود ہیں اس لئے اسے چاہئے کہ کفار کی کثرت سے ہراساں نہ ہو ، کامیابی اسی کی ہے ۔
Read the full tafseer →66 اب اللہ تعالیٰ نے تم پر تخفیف کردی اور تم سے مشقت کا بوجھ ہلکا کردیا اور اس نے معلوم کرلیا اور جان لیا کہ تم میں ضعف اور کمزوری ہے لہٰذا اب حکم کیا کرتا ہے اگر تم مسلمانوں میں سے سو آدمی صابر اور ثابت قدم رہنے والے ہوں گے تو کافروں کے دو سو افراد پر غالب آجائیں گے اور اگر تم مسلمانوں میں ایک ہزار آدمی ہوں گے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے دو ہزار کافروں پر غالب آجائیں گے اور ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں اور سہار کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ ابتدائی حکم دس گنے کا تھا لیکن جب مسلمانوں کی تعداد بڑھی تو اعتماد اور بھروسہ میں کمزوری آگئی پہلا حکم مسلمانوں پر شاق تھا اس لئے تخفیف فرمائی گئی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–70
ف 1۔ یغلبوا باذن اللہ (اللہ کے حکم سے غالب آئیں گے) یعنی غلبہ اذن الٰہی کے ساتھ مقید ہے پس اگر کسی حکمت کی وجہ سے اذن نہ ہو تو غلبہ بھی نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →صدر اول کے بعد پیچھے آنے والوں کے ضعف کے باعث تخفیف کا حکم :
89: اسلامی ہدایات اور تنبیہات اس وقت ہی کے لئے نہ تھیں جب قرآن کریم اتر رہا تھا اور نبی اعظم و آخر ﷺ بنفس نفیس لوگوں میں موجود تھے بلکہ وہ رہتی دنیا تک کے لئے ہدایات اور تنبیہات کرتا رہے گا آج بھی کر رہا ہے اور قافمت تک یہ سلسلہ جاری ساری رہے گا اس لئے پہلی 65 میں جو حکم دیا وہ مسلمانوں کی قوت ایمانی کا پہلا سرا تھا اور زیر نظر آیت 66 میں اس کا آخری سرا بھی بیان فرما دیا جس سے نیچے اتر کر کفر و اسلام کا گویا امتیاز ہی ختم ہوجاتا ہے اور اس کے اندر اسلامی زندگی کے لاتعداد اسباق موجود تھے جن کو آج قوم مسلم بالکل بھول چکی اور پھر…
Read the full tafseer →In the fourth verse (66), by abrogating this injunction for future, the second injunction given was:
الْآنَ خَفَّفَ اللَّـهُ عَنكُمْ وَعَلِمَ أَنَّ فِيكُمْ ضَعْفًا ۚ فَإِن يَكُن مِّنكُم مِّائَةٌ صَابِرَةٌ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ ۚ وَإِن يَكُن مِّنكُمْ أَلْفٌ يَغْلِبُوا أَلْفَيْنِ بِإِذْنِ اللَّـهِ ۗ وَاللَّـهُ مَعَ الصَّابِرِينَ ﴿66﴾
Now Allah has made it easy on you and He knew that there is weakness in you. So, if there are one hundred among you, who are patient, they will overcome two hundred - 8:66.
Here too, the purpose is to order that it is not permissible for one hundred Muslims to…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–68
48. This does not mean that since the faith of Muslims had declined, their ten times superiority ove the unbelievers has been reduced to twice only. What it means is that ideally a Muslim is ten times stronger than an unbeliever. However, since the Muslims had not as yet been throughly trained and had reached the desire level of maturity in their understanding, they are asked not to feel uneasy at least of challenging an enemy which is twice as strong. It should be borne in mind that the Qur'anic directive was given in 2A.H./624 C.E. when most of the Muslims, being recent converts to Islam,…
Read the full tafseer →