Al-Anfaal 8:66

Al-Anfaal · from ayah 66

8:66

اَلْـٰٔنَ خَفَّفَ اللّٰهُ عَنْكُمْ وَعَلِمَ اَنَّ فِیْكُمْ ضَعْفًا ؕ— فَاِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ صَابِرَةٌ یَّغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ ۚ— وَاِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ اَلْفٌ یَّغْلِبُوْۤا اَلْفَیْنِ بِاِذْنِ اللّٰهِ ؕ— وَاللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ ۟اَلۡئٰـنَ خَفَّفَ اللّٰهُ عَنۡكُمۡ وَعَلِمَ اَنَّ فِيۡكُمۡ ضَعۡفًا‌ؕ فَاِنۡ يَّكُنۡ مِّنۡكُمۡ مِّائَةٌ صَابِرَةٌ يَّغۡلِبُوۡا مِائَتَيۡنِ‌ۚ وَاِنۡ يَّكُنۡ مِّنۡكُمۡ اَلۡفٌ يَّغۡلِبُوۡۤا اَلۡفَيۡنِ بِاِذۡنِ اللّٰهِؕ وَ اللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِيۡنَ

اب خدا نے تم پر سے بوجھ ہلکا کر دیا اور معلوم کرلیا کہ (ابھی) تم میں کسی قدر کمزوری ہے۔ پس اگر تم میں ایک سو ثابت قدم رہنے والے ہوں گے تو دو سو پر غالب رہیں گے۔ اور اگر ایک ہزار ہوں گے تو خدا کے حکم سے دو ہزار پر غالب رہیں گے۔ اور خدا ثابت قدم رہنے والوں کا مدد گار ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Now, Allah has lightened [the hardship] for you, and He knows that among you is weakness. So if there are from you one hundred [who are] steadfast, they will overcome two hundred. And if there are among you a thousand, they will overcome two thousand by permission of Allah. And Allah is with the steadfast.

— Saheeh International

Juz 10 · Ruku 9 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Anfaal

All translations of 8:66

اچھا، اب اللہ نے تمہارا بوجھ ہلکا کیا اور اسے معلوم ہوا کہ ابھی تم میں کمزوری ہے، پس اگر تم میں سے سو آدمی صابر ہوں تو وہ دو سو پر اور ہزار آدمی ایسے ہوں تو دو ہزار پر اللہ کے حکم سے غالب آئیں گے، اور اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو صبر کرنے والے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اب خدا نے تم پر سے بوجھ ہلکا کر دیا اور معلوم کرلیا کہ (ابھی) تم میں کسی قدر کمزوری ہے۔ پس اگر تم میں ایک سو ثابت قدم رہنے والے ہوں گے تو دو سو پر غالب رہیں گے۔ اور اگر ایک ہزار ہوں گے تو خدا کے حکم سے دو ہزار پر غالب رہیں گے۔ اور خدا ثابت قدم رہنے والوں کا مدد گار ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اچھا اب اللہ تمہارا بوجھ ہلکا کرتاہے، وه خوب جانتا ہے کہ تم میں ناتوانی ہے، پس اگر تم میں سے ایک سو صبر کرنے والے ہوں گے تو وه دو سو پر غالب رہیں گے اور اگر تم میں سے ایک ہزار ہوں گے تو وه اللہ کے حکم سے دو ہزار پرغالب رہیں گے، اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

لو اب اللہ نے تم سے بوجھ ہلکا کردیا، اور اس کے علم میں ہے کہ تمہارے اندر کچھ کمزوری ہے۔ لہذا (اب حکم یہ ہے کہ) اگر تمہارے ثابت قدم رہنے والے سو آدمی ہوں تو وہ دو سو پر غالب آجائیں گے، اور اگر تمہارے ایک ہزار آدمی ہوں تو وہ اللہ کے حکم سے دو ہزار پر غالب آجائیں گے، اور اللہ ثابت قدم رہنے والوں کے ساتھ ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اب اللہ نے تم پر سے تخفیف فرمائی اور اسے علم کہ تم کمزو ر ہو تو اگر تم میں سو صبر والے ہوں د و سو پر غالب آئیں گے اور اگر تم میں کے ہزار ہوں تو دو ہزار پر غالب ہوں گے اللہ کے حکم سے اور اللہ صبر والوں کے ساتھ ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اب اللہ نے تم سے (اپنے حکم کا بوجھ) ہلکا کر دیا اسے معلوم ہے کہ تم میں (کسی قدر) کمزوری ہے سو (اب تخفیف کے بعد حکم یہ ہے کہ) اگر تم میں سے (ایک) سو (آدمی) ثابت قدم رہنے والے ہوں (تو) وہ دو سو (کفار) پر غالب آئیں گے اور اگر تم میں سے (ایک) ہزار ہوں تو وہ اللہ کے حکم سے دو ہزار (کافروں) پر غالب آئیں گے، اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے (یہ مومنوں کے لئے ہدف ہے کہ میدانِ جہاد میں ان کے جذبۂ ایمانی کا اثر کم سے کم یہ ہونا چاہیئے)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کبھی کسی نبی کے لائق نہیں کہ اس کے ہاں قیدی ہوں، یہاں تک کہ وہ زمین میں خوب خون بہا لے، تم دنیا کا سامان چاہتے ہو اور اللہ آخرت کو چاہتا ہے اور اللہ سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اب اللہ نے تم سے تخفیف کردی اور اسے معلوم ہوا کہ (اب) تم میں ضعف ہے لہذا اگر تم میں سے سو صبر کرنے والے ہوں تو وہ دو سو پر غالب آئیں گے اور اگر ہزار ہوں تو اللہ کے حکم سے دو ہزار پر غالب آئیں گے اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اب اللہ نے تمہاری ذمہ داری ہلکی کردی اور اس نے جان لیا کہ تم میں کچھ کمزوری ہے سو تمہارے سو ثابت قدم ہوں گے تو دو سو پر غالب رہیں گے اور اگر ہزار ہوں گے تو اللہ کے حکم سے دو ہزار پر بھاری ہوں گے اور اللہ ثابت قدموں کے ساتھ ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اب تخفیف فرمادی اللہ نے تم سے، اور اس نے دیکھ لیا کہ تمہارے اندر کمزوری ہے، پس اگر تم میں سے ایک سو ہوں گے صبر والے، تو وہ غالب آجائیں گے دو سو پر، اور تم میں سے ایک ہزار ہوں گے (اسی شان کے) تو وہ غالب آجائیں گے دو ہزار پر، اللہ کے اذن (وحکم) سے، اور اللہ بہرحال ساتھ ہے صبر کرنے والوں کے،

— مولانا اسحاق مدنی

اب اللہ نے تم پر تخفیف کردی اور معلوم کرلیا کہ تم میں جوش کی کمی ہے۔ سو (اب) اگر تم میں سے سو ثابت قدم ہوں تو دو سو پر غالب رہیں گے اور اگر تم میں سے ہزار ہوں تو دو ہزار پر غالب رہیں گے اللہ کے حکم سے اور اللہ ثابت قدموں کے ساتھ ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اب اللہ نے تم پر سے تخفیف کردی ہے اور اللہ کے علم میں ہے کہ تمہارے اندر کچھ کمزوری آگئی ہے پس اگر تم میں ایک سو ثابت قدم رہنے والے ہوں گے تو وہ دو سو پر غالب آجائیں گے اور یقیناً اللہ صبر کرنے والوں (ثابت قدم رہنے والوں) کے ساتھ ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اب اللہ نے تم پر سے بوجھ ہلکا کردیا اور معلوم کرلیا کہ ابھی تم میں کسی قدر کمزوری ہے، پس اگر تم میں ایک سو ثابت قدم رہنے والے ہوں گے تو دو سو پر غالب رہیں گے اور اگر ایک ہزار ہوں گے تو اللہ کے حکم سے دو ہزار پر غالب رہیں گے اور اللہ ثابت قدم رہنے والوں کا مددگار ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Allah has now lightened your burden for He found weakness in you. So if there be hundred of you who persevere, they shall vanquish two hundred; and if there be a thousand of you they shall, by the leave of Allah, vanquish two thousand. Allah is with those who persevere.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Now Allah has lightened your burden, and He knew that there is weakness in you. So, if there are one hundred among you, who are patient, they will overcome two hundred; and if there are one thousand among you, they will overcome two thousand by the will of Allah. Allah is with the patient.

— Muhammad Taqi Usmani

Now Allah has lightened your burden, and He knew that there is weakness in you. So, if there are one hundred among you, who are patient, they will overcome two hundred; and if there are one thousand among you, they will overcome two thousand by the will of Allah. Allah is with the patient.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Now Allah has lightened your (task), for He knows that there is weakness in you. So if there are of you a hundred steadfast persons, they shall overcome two hundred, and if there are a thousand of you, they shall overcome two thousand by the leave of Allah. And Allah is with the patient.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Now hath Allah lightened your burden, for He knoweth that there is weakness in you. So if there be of you a steadfast hundred they shall overcome two hundred, and if there be of you a thousand (steadfast) they shall overcome two thousand by permission of Allah. Allah is with the steadfast.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Now, Allah has lightened [the hardship] for you, and He knows that among you is weakness. So if there are from you one hundred [who are] steadfast, they will overcome two hundred. And if there are among you a thousand, they will overcome two thousand by permission of Allah. And Allah is with the steadfast.

— Saheeh International

Now that God has eased your burden, He has found you to be weak. A hundred of your steadfast men would defeat two hundred of theirs and a thousand of yours would defeat two thousand of the unbelievers, by the will of God. God is with those who have patience.

— Muhammad Sarwar

For the present Allah has made light your burden, and He knows that there is weakness in you; so if there are a hundred patient ones of you they shall overcome two hundred, and if there are a thousand they shall overcome two thousand by Allah's permission, and Allah is with the patient.

— Muhammad Habib Shakir

Now Allah hath lightened your burden, and He knoweth that verily there is in you a weakness. So if there be a hundred of you persevering, they will overcome two hundred, and if there be a thousand of you they will overcome two thousand, by the command of Allah and Allah is with the persevering.

— Abdul Majid Daryabadi

For the present, Allah hath lightened your (task), for He knoweth that there is a weak spot in you: But (even so), if there are a hundred of you, patient and persevering, they will vanquish two hundred, and if a thousand, they will vanquish two thousand, with the leave of Allah: for Allah is with those who patiently persevere.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 8:66

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 64–66

ایک غازی دس کفار پہ بھاری اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر ﷺ اور مسلمانوں کو جہاد کی رغبت دلا رہا ہے اور انہیں اطمینان دلارہا ہے کہ وہ انہیں دشمنوں پر غالب کرے گا چاہے وہ ساز و سامان اور افرادی قوت میں زیادہ ہوں، ٹڈی دل ہوں اور گو مسلمان بےسرو سامان اور مٹھی بھر ہوں۔ فرماتا ہے اللہ کافی ہے اور جتنے مسلمان تیرے ساتھ ہوں گے وہی کافی ہیں۔ پھر اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ مومنوں کو جہاد کی رغبت دلاتے رہو حضور ﷺ صف بندی کے وقت مقابلے کے وقت برابر فوجوں کا دل بڑھاتے بدر کے دن فرمایا اٹھو اس جنت کو حاصل کرو جس کی چوڑائی آسمان و زمین کی ہے حضرت عمیر بن حمام کہتے ہیں اتنی چوڑی ؟ فرمایا ہاں ہاں اتنی ہی اس نے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 66–68

سورة الْاَنْفَال 48 اس کا مطلب نہیں ہے کہ پہلے ایک اور دس کی نسبت تھی اور اب چونکہ تم میں کمزوری آگئی ہے اس لیے ایک اور دو کی نسبت قائم کردی گئی ہے۔ بلکہ اس کا صحیح مطلب یہ ہے کہ اصولی اور معیاری حیثیت سے تو اہل ایمان اور کفار کے درمیان ایک اور دس ہی کی نسبت ہے، لیکن چونکہ ابھی تم لوگوں کی اخلاقی تربیت مکمل نہیں ہوئی ہے اور ابھی تک تمہارا شعور اور تمہاری سمجھ بوجھ کا پیمانہ بلوغ کی حد کو نہیں پہنچا ہے اس لیے سردست برسبیل تنزل تم سے یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ اپنے سے دوگنی طاقت سے ٹکرانے میں تو تمہیں کوئی تامل نہ ہونا چاہیے۔ خیال رہے کہ یہ ارشادسن 2 ھجری کا ہے جب کہ مسلمانوں میں بہت سے لوگ ابھی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

آخر آیت میں عام قانون کی صورت سے بتلا دیا (آیت) وَاللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ ، یعنی اللہ تعالیٰ ثابت قدم رہنے والوں کا ساتھی ہے۔ اس میں میدان جنگ میں ثابت قدم رہنے والے بھی شامل ہیں اور عام احکام شرعیہ کی پابندی پر ثابت قدم رہنے والے حضرات بھی۔ ان سب کے لئے معیت الہیہ کا وعدہ ہے اور یہ معیت ہی ان کی فتح و ظفر کا اصلی راز ہے۔ کیونکہ جس کو قادر مطلق کی معیت نصیب ہوگئی اس کو ساری دنیا مل کر بھی اپنی جگہ سے نہیں ہلاسکتی۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اَلْئٰنَ خَفَّفَ اللّٰهُ عَنْكُمْ وَعَلِمَ اَنَّ فِيْكُمْ ضَعْفًا ۭفَاِنْ يَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ صَابِرَةٌ يَّغْلِبُوْا مِائَتَيْنِ ۚ وَاِنْ يَّكُنْ مِّنْكُمْ اَلْفٌ يَّغْلِبُوْٓا اَلْفَيْنِ بِاِذْنِ اللّٰهِ ۭ وَاللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ۔ مسلمانوں کی ذمہ داری میں تخفیف : اَلْئٰنَ کا لفظ یہاں اس بات کا قرینہ ہے کہ یہ آیت اوپر کی آیات کے بہت بعد اس دور میں نازل ہوئی ہے جب مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہوگئی ہے۔ چناچہ دونوں میں تقابل کی نسبت بھی مختلف ہے۔ اوپر والی آیت میں بیس اور دو سو، سو اور ہزار کا تقابل ہے اور اس میں سو اور دو سو، ہزار اور دو ہزار کا تقابل ہے۔ یہ بھی قرینہ ہے کہ یہ مسلمانوں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

66۔ 1 پچھلا حکم صحابہ ؓ پر گراں گزرا، کیونکہ اس کا مطلب تھا ایک مسلمان دس کافروں کے لئے بیس دو سو کے لئے اور سو ایک ہزار کے لئے کافی ہیں اور کافروں کے مقابلے میں مسلمانوں کی اتنی تعداد ہو تو جہاد فرض اور اس سے گریز ناجائز ہے، چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس میں تخفیف فرما کر ایک اور دس کا تناسب کم کرکے ایک اور دو کا تناسب کردیا (صحیح بخاری) ، تفسیر سورة الا نفال، اب اس تناسب پر جہاد ضروری اور اس سے کم پر غیر ضروری ہے۔ 66۔ 2 یہ کہہ کر صبر و ثبات قدمی کی اہمیت بیان فرما دی کہ اللہ کی مدد حاصل کرنے کے لئے اس کا اہتمام ضروری ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

46: یہ حکم بعد میں آیا اور اس نے یہ تخفیف کردی کہ اگر دشمن کی تعداد مسلمانوں سے دگنی ہو تو پیچھے ہٹنا جائز نہیں ہے، البتہ اگر تعداد اس سے زیادہ ہو تو پیچھے ہٹنے کی گنجائش ہے، اس طرح اس آیت نے اس حکم کی تفصیل بیان فرمادی ہے جو پیچھے آیت نمبر 15، 16 میں دیا گیا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

بعض فقہاء اور مفسرین نے اس آیت سے یہ سمجھا ہے کہ اس آیت میں اہل ایمان کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ اگر وہ قوی ہوں تو ان میں سے ایک آدمی دس سے بھی نہ بھاگے گا اور اگر ضعیف ہوں تو ان میں سے ایک آدمی دو سے نہ بھاگے گا۔ اس کے علاوہ بھی بہت سے اختلافات ہیں جن کی تفصیل یہاں دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے ہاں ناپ و تول کے جو پیمانے ہیں ، ان میں مسلمانوں اور ان کے دشمنوں کی قوت کا یہ حقیقی موازنہ ہے اور یہ حق ہے اور یہاں اللہ اہل ایمان کو یہ بتلانا چاہتا ہے تم اپنی قوت کا ذرا اچھی طرح اندازہ کرلو ، اپنے آپ کو کم نہ سمجھو اور اطمینان رکھو۔ اور اپنے قدموں کو میدان کارزار میں مضبوطی سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 بخاری میں ابن عباس سے منقول ہے کہ گذشتہ آیت جس میں مسلمانوں کو دس گنا کافروں کے مقابلہ پر ثابت قدم رہنے کا حکم تھا، جب لوگوں کو بھاری معلوم ہوئی تو اس کے بعد یہ آیت اتری۔ (اَلْئٰنَ خَفَّفَ اللّٰهُ عَنْكُمْ ) 8 ۔ الانفال :66) یعنی خدا نے تمہاری ایک قسم کی کمزوری اور سستی کو دیکھ کر پہلا حکم اٹھا لیا۔ اب صرف اپنے سے دوگنی تعداد کے مقابلہ میں ثابت قدم رہنا ضروری اور بھاگنا حرام ہے یہ کمزوری یا سستی جس کی وجہ سے حکم میں تخفیف ہوئی، کئی وجوہ سے ہوسکتی ہے۔ ابتدائے ہجرت میں گنے چنے مسلمان تھے جن کی قوت و جلادت معلوم تھی، کچھ مدت کے بعد ان میں سے بہت افراد بوڑھے اور کمزور ہوگئے اور جو نئی پود آئی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 66 اَلْءٰنَ خَفَّفَ اللّٰہُ عَنْکُمْ وَعَلِمَ اَنَّ فِیْکُمْ ضَعْفًا ط۔ یہ کس کمزوری کا ذکر ہے اور یہ کمزوری کیسے آئی ؟ اس نکتے کو اچھی طرح سمجھ لیں۔ جہاں تک مہاجرین اور انصار میں سے ان صحابہ کرام رض کا تعلق ہے جو سابقون الاوّلُون میں سے تھے تو ان کے اندر معاذ اللہ کسی قسم کی بھی کوئی کمزوری نہیں تھی ‘ لیکن جو لوگ نئے مسلمان ہو رہے تھے ان کی تربیت ابھی اس انداز میں نہیں ہوپائی تھی جیسے پرانے لوگوں کی ہوئی تھی۔ ان کے دلوں میں ابھی ایمان پوری طرح راسخ نہیں ہوا تھا اور مسلمانوں کی مجموعی تعداد میں ایسے نئے لوگوں کا تناسب روز بروز بڑھ رہا تھا۔ مثلاً اگر پہلے ہزار لوگوں میں پچاس یا سو نئے لوگ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 66–67

69 مسلمانوں میں بعد میں کمزوری کی وجہ پہلے حکم کی منسوخی نہیں بلکہ حالات ہیں :۔ اگرچہ یہ آیت اور اس سے پہلی آیت ایک ساتھ رکھی گئی ہیں۔ مگر ان دونوں کے زمانہ نزول میں کافی مدت کا فرق ہے اور انہیں صرف مضمون کی مناسبت سے اکٹھا رکھا گیا ہے۔ پہلی آیت کا زمانہ نزول تو غزوہ بدر کے بعد کا ہے۔ جبکہ اس سورة کا بیشتر حصہ نازل ہوچکا تھا۔ اور دوسری آیت کے زمانہ نزول کے متعلق حتمی طور پر تو کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ تاہم یہ غزوہ حنین اور اس کے مابعد کا زمانہ معلوم ہوتا ہے۔ فتح مکہ کے موقعہ پر جو لوگ مسلمان ہوئے وہ ابتدا سے اسلام لانے والوں جیسا حوصلہ نہیں رکھتے تھے اور اس ضعف کی کئی وجوہ ہوسکتی ہیں۔ مثلاً ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

98 ۔ (اور جوش طبعی طور پر سرد پڑ ہی جاتا ہے جب تعد اد قلیل سے کثیر ہوجاتی ہے) (آیت) ” الئن “۔ یعنی ایک مدت کے بعد پچھلی آیت اور اس آیت کے نزول کے درمیان ایک خاصہ طویل وقفہ گزرا ہے۔ (آیت) ” خفف “۔ کے لفظ سے ادھر اشارہ ہے کہ اصل قاعدہ اور وعدہ تو وہی رہا جو اوپر بیان ہوچکا، صرف مشقت تم پر گھٹا دی گئی، یعنی اب اگر تم متحمل نہ ہوسکو اور ذرا لڑکھڑا جاؤ تو ویسی گرفت نہ ہوگی۔ (آیت) ” ضعفا “۔ سے یہاں قوائے جسمانی کی کمی مراد نہیں بلکہ جوش وہمت کی کمی مراد ہے۔ لم یرد بہ ضعف القوی والابدان وانما المراد ضعف النیۃ لمحاربۃ المشرکین (جصاص) قال الخلیل الضعف فی العقل والرای (راغب) 99 ۔ (تو مدار نصرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 65–66

آیت نمبر 65 تا 69 ترجمہ : اے نبی ! مومنین کو کفار سے جہاد کرنے کا شوق دلاؤ، اگر تم میں بیس بیس صبر کرنے والے ہوں گے تو ان میں سے دو سو پر غالب رہیں گے، اور اگر تم میں سو صبر کرنے والے ہوں گے تو ایک ہزار کافروں پر غالب رہیں گے اس سبب سے کہ وہ ناسمجھ لوگ ہیں (یکن) یاء اور تاء کے ساتھ ہے، اور یہ خبر بمعنی انشاء ہے یعنی تم میں سے بیس کو دو سو کے ساتھ قتال کرنا چاہیے، اور سو کو ہزار کے ساتھ، اور ان کے مقابلہ میں ثابت قدم رہو، پھر جب (مسلمانوں) کی تعداد زیادہ ہوگئی تو اللہ کے قول (اَلْئٰن) سے منسوخ کردیا گیا، (اچھا) اب اللہ تمہارا بوجھ ہلکا کرتا ہے، وہ خوب جانتا ہے کہ تم میں نا توانی ہے اپنے سے دس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الئن خفف اللہ عنکم وعلم ان فیکم ضعفا فان یکن منکم ماءۃ صابرۃ یغلبوا مائتین وان یکن منکم الف یغلبوا الفین اب اللہ نے تم سے بوجھ ہلکا کردیا اور اس کو معلوم ہوگیا کہ تمہارے اندر (جسمانی) طاقت کم ہے پس اب اگر تم میں سے جم کر لڑنے والے سو ہوں گے تو دو سو دشمنوں پر غالب آئیں گے اور اگر تم میں سے ایک ہزار (صابر) ہوں گے تو دوہزار دشمنوں پر غالب آئیں گے۔ باذن اللہ بمشیت اللہ۔ حکم میں تخفیف کردی گئی ‘ دس گنی طاقت سے لڑنے کی جگہ دوگنی طاقت سے لڑنے کا حکم ہوگیا۔ اب کافروں کی تعداد مسلمانوں سے دوگنی ہو تو فرار جائز نہیں۔ سفیان کا بیان ہے کہ شبرمہ نے فرمایا : میرے نزدیک امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(66) غزوہ بدر کے بعد اللہ تعالیٰ نے تم پر تخفیف کردی، اب تم اپنے سے دوگنے عدد پر غالب آسکتے ہو، اور جو لڑائی میں ثابت قدم رہیں اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرنے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَلْئٰنَ خَفَّفَ اللّٰهُ عَنْكُمْ : اس آیت کی تفسیر میں ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب گزشتہ آیت نازل ہوئی تو مسلمانوں کو اپنے سے دس گنا کفار کے مقابلے میں ڈٹے رہنے کا حکم دشوار معلوم ہوا، پھر تخفیف کا حکم آگیا اور اپنے سے دو گنا کے مقابلے میں ثابت قدم رہنا واجب اور بھاگنا حرام قرار دے دیا گیا۔ [ بخاری، التفسیر، سورة الأنفال، باب : (الآن خفف اللہ عنکم۔۔) : 4653 ] اگر کفار دو گنا سے زیادہ ہوں تو بھاگنا گناہ نہیں، لیکن لڑنا اور جمے رہنا بہر حال افضل ہے، جیسا کہ عہد نبوی اور خلفائے راشدین کے عہد کے واقعات سے معلوم ہوتا ہے۔ (ابن کثیر، قرطبی) اس آیت میں یہ خوش خبری بھی ہے کہ مسلمانوں کے لشکر ہزاروں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 65–66

قولہ تعالیٰ : یایھا النبی حرض المومنین علی القتال یعنی آپ انہیں جہاد پر برانگیختہ کیجئے اور ابھاریئے۔ کہا جاتا ہے : حارض علی الا مرد واظب وواصب واکب ان تمام کا معنی ایک ہے (یعنی اس نے کام پر ابھارا، برانگیختہ کیا) اور الحارض وہ ہے جو ہلاک ہونے کے قریب ہوجائے۔ اس معنی میں رب کریم کا ارشاد بھی ہے : حتی تکون حرضا (یوسف : 58) (کہیں بگڑنہ جائے آپ کی صحت) یعنی تو غم سے پگھلنے لگے اور تو ہلاک ہونے کے قریب ہوجائے تو تو ہلاک ہونے والوں میں سے ہوجائے گا۔ ان یکن منکم عشرون صبرون یغلبوا مائتین یہ الفاظ تو خبر ہیں، ان کے ضمن میں شرط کے ساتھ ایک وعدہ ہے۔ کیونکہ اس کا معنی یہ ہے اگر تم میں سے بیس صبر کرنے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 65–67

دشمن کے مقابلہ میں ثابت قدم رہنا : 1۔ البخاری وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ وابن مردویہ والبیہقی نے شعب الایمان میں سفیان کے راستے سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ (آیت ) ” ان یکن منکم عشرون صبرون یغلبوا مائتین وان یکن منکم مائۃ یغلبوا الفا “۔ نازل ہوئی تو ان پر فرض کردیا گیا کہ ان میں سے کوئی ایک دس کے مقابلہ سے نہ بھاگے اور بیس دو سو افراد کے مقابلہ سے نہ بھاگیں پھر یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” الئن خفف اللہ عنکم “ تو یہ فرض کردیا گیا کہ سو آدمی دو سو کے مقابلہ میں سے نہ بھاگیں سفیان نے فرمایا اور ابن شبرعہ نے فرمایا کہ میں نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو اسی طرح دیکھا ہے اگر وہ دو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَلْئٰنَ [ اب ] خَفَّفَ [ ہلکا کیا (بوجھ) ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] عَنْكُمْ [ تم لوگوں سے ] وَعَلِمَ [ اور اس نے جانا ] اَنَّ [ کہ ] فِيْكُمْ [ تم لوگوں میں ] ضَعْفًا ۭ [ کچھ کمزوری ہے ] فَاِنْ [ پس اگر ] يَّكُنْ [ ہوں گے ] مِّنْكُمْ [ تم میں سے ] مِّائَةٌ صَابِرَةٌ [ ثابت قدم رہنے والے ایک سو ] يَّغْلِبُوْا [ تو وہ غالب ہوں گے ] مِائَتَيْنِ ۚ [ دو سو پر ] وَاِنْ [ اور اگر ] يَّكُنْ [ ہوں گے ] مِّنْكُمْ [ تم میں سے ] اَلْفٌ [ (ثابت قدم رہنے والے ] ایک ہزار ] يَّغْلِبُوْٓا [ تو وہ غالب ہوں گے ] اَلْفَيْنِ [ دو ہزار پر ] بِاِذْنِ اللّٰهِ ۭ [ اللہ کی اجازت سے ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] مَعَ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اس کے بعد فرمایا (اَلْءٰنَ خَفَّفَ اللّٰہُ عَنْکُمْ وَ عَلِمَ اَنَّ فِیْکُمْ ضَعْفًا) اس کا سبب نزول بتاتے ہوئے حضرت امام بخاری (رح) نے ص 677 ج 2 میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ جب پہلی آیت (اِنْ یَّکُنْ مِّنْکُمْ عِشْرُوْنَ صَابِرُوْنَ ) نازل ہوئی تو مسلمانوں کو یہ بات بھاری معلوم ہوئی کہ دشمن کے افراد دس گنے ہوں تب بھی ان کے مقابلہ سے راہ فرار کرنے کی اجازت نہیں، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے تخفیف فرما دی اور دس گنے افراد سے مقابلہ کرنے کا جو حکم دیا گیا تھا اس کے بجائے یہ حکم دے دیا کہ سو افراد، دو سو کے مقابلے میں راہ فرار اختیار نہ کریں (یعنی دوگنی جماعت کے مقابلہ سے راہ فرار اختیار…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 65–66

ترغیب وتشویق اہل ایمان پر قتال کفار و قانون قرار وفرار از میدان کارزار قال اللہ تعالیٰ یا یہا النبی حرض ال مومنین علی القتال۔۔۔ الی۔۔۔ واللہ مع الصبرین (ربط) گزشتہ آیات میں بوقت ضرورت حسب مصلحت کافروں سے صلح کی اجازت دی اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ کافروں سے صلح محض جائز اور مباح کے درجہ میں ہے اصلی حکم کافروں سے جہاد و قتال ہے۔ اس لیے فرماتے ہیں کہ اے نبی آپ اہل ایمان کو جہاد و قتال کا خوب شوق دلائیے تاکہ اللہ کا کلمہ بلند ہو اور اس کا بول بالا ہوا اور کفر ذلیل و خوار ہو۔ اور یہ بات جہاد سے حاصل ہوتی ہے۔ صلح سے حاصل نہیں ہوتی اس لیے مسلمانوں کو چاہئے کہ ہر وقت جہاد کے لیے تیار رہیں ل۔…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 65–66

65: یہ پانچواں قانون جہاد ہے برائے نبی کریم ﷺ ۔ حاصل یہ ہے کہ آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو اللہ کافی ہے۔ اللہ آپ کا حامی و ناصر اور کارساز ہے آپ ایمان والوں کو جہاد کی ترغیب دیں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں۔ اگر تم تعداد میں کم ہوگے تو بھی تمہیں دشمن پر فتح اور غلبہ عطا کروں گا۔ “ وَ مَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤمِنِیْن ” یہ “ حَسْبُکَ ” میں کاف ضمیر پر معطوف ہے یا بقول امام زجاج یہ مفعول معہ ہے یا یہ مبتدا ہے اور اس کی خبر محذوف ہے۔ “ اي من اتبعک من المؤمنین کذالک اي حسبھم اللہ تعالیٰ ” حاصل یہ ہے کہ آپ کو اور ایمان والوں کو تمام مہمات میں اللہ کافی ہے (روح، بحر، کبیر، مدارک) ۔ لفظ اللہ پر اس کو…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 65–66

ربطِ آیات : صلح اور جنگ کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے پہلے ان باتوں کا ذکر کیا جن التزام دوران جنگ ضروری ہے پھر طاقت فراہم کرنے کا اصول بیان فرمایا نیز فرمایا دشمن کے مقابلے میں رائج الوقت ہر قسم کا اسلحہ جمع کرو ، افرادی قوت پیدا کرو تا کہ دشمن کو مغلوب کیا جاسکے اس کے ساتھ ساتھ اللہ نے صلح کا قانون بھی بتلا دیا کہ اگر دشمن صلح پر آمادہ ہو تو آپ بھی اس میں ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں آپ اس بات کی فکر نہ کریں کہ دشمن صلح کی آڑ میں آپ کو زک پہنچائیگا ، بلکہ اللہ کی ذات پر بھروسہ کر کے اس کام کو انجام دیں ، اللہ تعالیٰ دشمنوں سے بچائو کا سامانِ پیدا کردیگا۔ جب آپ صحیح اصول کے مطابق کام کریں گے تو اللہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَلْـــٰٔـنَ خَفَّفَ اللہُ عَنْكُمْ وَعَلِمَ اَنَّ فِيْكُمْ ضَعْفًا۝ 0 ۭ فَاِنْ يَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَۃٌ صَابِرَۃٌ يَّغْلِبُوْا مِائَتَيْنِ۝ 0 ۚ وَاِنْ يَّكُنْ مِّنْكُمْ اَلْفٌ يَّغْلِبُوْٓا اَلْفَيْنِ بِـاِذْنِ اللہِ۝ 0 ۭ وَاللہُ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ۝ 66 خفیف الخَفِيف : بإزاء الثّقيل، ويقال ذلک تارة باعتبار المضایفة بالوزن، و قیاس شيئين أحدهما بالآخر، نحو : درهم خفیف، ودرهم ثقیل . والثاني : يقال باعتبار مضایفة الزّمان، نحو : فرس خفیف، وفرس ثقیل : إذا عدا أحدهما أكثر من الآخر في زمان واحد . الثالث : يقال خفیف فيما يستحليه الناس، وثقیل فيما يستوخمه، فيكون الخفیف مدحا، والثقیل ذمّا، ومنه قوله…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 63–67

ترکیب : والف معطوف ہے اید پر حسبک ای کا فیک مبتداء اللّٰہ خبر ومن اللہ پر معطوف۔ ان شرطیہ یکن تامہ عشرون فاعل منکم ان سے حال یہ شرط یغلبوا جواب شرط مائتین یغلبوا کا مفعول ‘ من الذین کفروا الفا کا بیان بانہم جملہ علت ہے یغلبوا کی۔ تفسیر : اور اس نے اس کے دل میں الفت دی جو کسی کے اختیار کی بات نہ تھی۔ جس وقت آنحضرت ﷺ عرب میں مبعوث ہوئے جس طرح تمام روئے زمین پر کفر و بت پرستی کی تاریکی محیط تھی (کیونکہ اس وقت خدا پرست روئے زمین پر یہود اور عیسائی خیال کئے جاتے تھے۔ سو ان کی جو کچھ حالت خراب تھی اور جس قدر ان میں بت پرستی تھی تواریخ سے ظاہر ہے) اسی طرح ملک عرب میں علاوہ بت پرستی و زناکاری کے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 65–66

یٰٓاَیُّھَاالنَّبِیُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلَی الْقِتَالِ ط اِنْ یَّکُنْ مِّنْکُمْ عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ یَغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ ج وَاِنْ یَّکُنْ مِّنْکُمْ مِّائَۃٌ یَّغْلِبُوْآ اَلْفًا مِّنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْابِاَنَّھُمْ قَوْمٌ لاَّ یَفْقَھُوْنَ ۔ اَلْئٰنَ خَفَّفَ اللّٰہُ عَنْکُمْ وَعَلِمَ اَنَّ فِیْکُمْ ضَعْفًا ط فَاِنْ یَّکُنْ مِّنْکُمْ مِّائَۃٌ صَابِرَۃٌ یَّغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ ج وَاِنْ یَّکُنْ مِّنْکُمْ اَلْفٌ یَّغْلِبُوْآاَلْفَیْنِ بِاِذْنِ اللّٰہِ ط وَاللّٰہُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ ۔ (الانفال : 65 تا 66) (اے نبی ! مومنوں کو جنگ پر ابھارو اگر تم میں سے بیس (20) صابر ہوں تو وہ دو سو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 64–66

فہم القرآن ربط کلام : نبی اکرم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے مومنوں اور اپنی طرف سے اطمینان دلانے کے بعد قتال کا حکم دیا۔ سربراہ کو اللہ تعالیٰ پر بھروسہ اور اپنے ساتھیوں پر اعتماد کرتے ہوئے مسلمانوں کو جہاد کرنے کا حکم دینا چاہیے جب مسلمان کردار کے حوالے سے پختہ تھے تو اس وقت کفار کے خلاف تناسب یہ قائم کیا گیا کہ اگر کفار اپنی جارحیت سے باز نہ آئیں تو دس کفار کے مقابلے میں ایک مسلمان کافی ہے یہ تعداد اس لیے کافی ہے کہ کافر موت کی حقیقت سے واقف نہیں وہ قتال اور موت سے اس لیے ڈرتا ہے کہ اس کے سامنے کوئی مقصد اور منزل نہیں ہوتی۔ جس وجہ سے اس میں وہ جوش اور ولولہ پیدا نہیں ہوتا جو مجاہد کے سینے میں موجزن…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

تخفیف حکم : آیت 66: اَلْئٰنَ خَفَّفَ اللّٰہُ عَنْکُمْ وَعَلِمَ اَنَّ فِیْکُمْ ضَعْفًا (اب اللہ تعالیٰ نے تم سے بوجھ ہلکا کردیا اور اس کو معلوم ہوگیا کہ تمہارے اندر طاقت کم ہے) ضعفا حمزہ و عاصم نے پڑھا۔ فَاِنْ یَّکُنْ مِّنْکُمْ مِّائَۃٌ صَابِرَۃٌ (پس اب اگر تم میں سے جم کر لڑنے والے سو ہونگے) کوفی نے یَکُنْ ، یا کے ساتھ پڑھا ہے۔ بصری نے پہلے میں اس کی موافقت کی۔ مراد اس سے ضعف فی البدن ہے۔ یَّغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ وَاِنْ یَّکُنْ مِّنْکُمْ اَلْفٌ یَّغْلِبُوْٓا اَلْفَیْنِ بِاِذْنِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ (تو وہ دو سو دشمنوں پر غالب آئیں گے اور اگر تم میں سے ایک ہزار صابر ہونگے تو وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 66(الئن خفف اللہ عنکم وعلم ان فیکم ضعفاً ) یعنی ایک آدمی دس سے اور سو آدمی ہزار سے نہیں لڑ سکتے اور ابو جعفر نے ) ضعفائ) عین کے زبر اور مد کے ساتھ جمع کی بناء پر پڑھنا ہے اور دیگر حضرات نے عین کے سکون کے ساتھ (فان یکن منکم ماثۃ صابرۃ یغلبوا مائتین وان یکن منکم الف یغلبوآ الفین باذن اللہ واللہ مع الصبرین) دس سے دو کی طرف حکم لوٹا دیا گیا۔ پس اگر مسلمان اپنے دشمن کی تعداد کا نصف ہوں تو ان کے لئے فرار ہو جائز نہیں ہے اور سفیان اور ابن شبرمہ فرماتے ہیں میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو بھی اسی طرح سمجھتا ہوں۔ اہل کوفہ نے ” وان یکن منکم مائۃ “ دونوں میں یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ اہل بصرہ نے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 65–66

65۔ 66۔ جمہور مفسرین کے نزدیک پہلا ٹکڑا آیت کا جس میں ایک مسلمان کو دس کافروں سے مقابلہ کرنے کا حکم تھا آیت کے اس ٹکڑے سے منسوخ ہے اور اب یہی حکم ہے کہ ایک مسلمان دو کافروں سے مقابلہ کرے صحیح بخاری اور مسلم کی ابوہریرہ ؓ کی روایت میں جہاد سے بھاگنے والے کو کبیرہ گناہ کا گناہ گار جو آنحضرت نے فرمایا ہے اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ اس قدر مقابلہ سے آدمی نہ بھاگے ضرور کبیرہ گناہ کا گنہگار ٹھہریگا اور اس قدر سے زیادہ دشمنوں سے مقابلہ آن پڑے تو لڑنے کی صورت میں اجر ہے بھاگنے کی صورت میں گناہ نہیں صحیح بخاری اور ابواؤد میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ایک سے دس کے مقابلہ کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 64–66

آیت 64 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے : (یایھا النبی حرص المومنین علی القتال) ” اے نبی ! مومنوں کو جہاد کی ترغیب دو “۔ یعنی آپ انہیں ہر اس طریقے کے ذریعے سے قتال پر آمادہ کریں جس سے ان کے عزائم مضبوط ہوں اور ان کے ارادوں میں نشاط پیدا ہو۔ یعنی جہاد اور دشمن سے مقابلے کی ترغیب دی جائے اور جہاد سے باز رہنے کے انجام سے ڈرایا جائے۔ شجاعت اور صبر کے فضائل اور ان پر مرتب ہونے والی دین و دنیا کی بھلائی کا ذکر کیا جائے۔ بزدلی کے نقصانات بیان کئے جائیں اور یہ واضح کیا جائے کہ بزدلی ایک انتہائی رذیل اور ناقص خصلت ہے اور شجاعت کا اہل ایمان کی صفت ہونا دوسروں کی نسبت زیادہ اولیٰ ہے۔ اللہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

قول باری ہے (الان خفف اللہ عنکم و علم ان فیکم ضعفا۔ اب اللہ نے تمہارا بوجھ ہلکا کردیا اور اسے معلوم ہوگیا کہ ابھی تمہارے اندر کمزوری ہے) آیت میں جسمانی اور قویٰ کی کمزوری مراد نہیں ہے بلکہ مشرکین سے مقابلہ کی نیت میں کمزوری مراد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کمزور ارادوں والے مسلمانوں پر جو چیز فرض قرار دی وہی چیز تمام مسلمانوں پر فرض کردی گئی۔ یعنی اب ایک مسلمان پر دشمن کے دو آدمیوں کا مقابلہ فرض کردیا گیا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کا قول ہے کہ میرے دل میں کبھی یہ خیال نہیں گزرا تھا کہ کوئی مسلمان مشرکین کے خلاف قتال میں اللہ کی خوشنودی کے سوا کسی اور چیز کی نیت بھی کرسکتا ہے حتیٰ کہ یہ آیت نازل ہوئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 65–66

139 جہاد فی سبیل اللہ کے لیے تحریض و ترغیب کا حکم وارشاد : سو حکم وارشاد فرمایا گیا کہ اے پیغمبر ترغیب دو لوگوں کو جہاد فی سبیل اللہ کی۔ جہاد و قتال کے فوائد و منافع بیان کرکے اور اس پر ملنے والے اجر وثواب سے ان کو آگاہ کر کے کہ جہاد فی سبیل اللہ کا یہ حکم و ارشاد ایمان والوں کیلئے دارین کی سعادت و سرخروئی اور کامرانی کا وسیلہ اور حیات جاودانی کا ذریعہ ہے وغیرہ وغیرہ۔ تاکہ یہ لوگ اس سعادت سے متمتع و بہرہ ور ہو سکیں اور اس طرح دنیا سے شرور وفتن کا قلع قمع ہوسکے اور دین حق کا بول بالا ہو اور اعلائِ کلمۃ اللہ کی راہ کی رکاوٹیں دور ہوسکیں۔ سو جہاد فی سبیل اللہ دین حنیف کا ایک عظیم الشان مقصد اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 65–66

میدان جنگ میں مجاہدین کا رعب تشریح : ان آیات میں صبر و استقامت کی طاقت اور ضرورت کا بیان ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اے نبی ﷺ ! مسلمانوں کو حق اور سلامتی کے حصول کے لیے لڑنے کی ترغیب دیں اور ان کو بتا دو کہ مرنا تو ہر ایک نے ہی ہے لیکن جو اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے اور ایک بہترین مقصد کے حصول کے لیے میدان جنگ کا رخ کرتا ہے تو ایسے شخص کی مدد اللہ ہر صورت کرتا ہے۔ اور پھر اگر وہ مرگیا تو شہید کا رتبہ ملے گا اگر بچ گیا تو غازی کا مرتبہ ملے گا۔ کیونکہ مسلمان کا مقصد نیک اور بلند ہوتا ہے پھر اللہ رب العزت پر پورا بھروسہ رکھتا ہے صبر و استقامت اس کا ہتھیار ہوتے ہیں اس لیے ایک کی طاقت دس جوانوں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 65–69

آیات 65 تا 69 اسرار و معارف نیزاے نبی (ﷺ ) مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دیں اس کے فضائل کے ساتھ اس کی ضرورت اور فوائد بھی بیان فرمائیں کہ اسلام بنیادی طور پر امن کا علمبردار ہے اور نہ صرف دنیا بلکہ آخروی امن و سکون کا ضامن ہے مگر ایسے عناصر جو اس امن ہی کے لیے خطرہ پیدا کردیں اور نہ صرف معاشرے کے ظاہری امن کو تباہ کرنے کے درپے ہوں بلکہ اخروی اور دائمی امن و سکون بھی لوٹناچا ہیں تو ان سے قتال ہی دوسروں کے لیے امن کی ضمانت ہے اور اللہ کریم کے نزدیک یہ اتنا پسند دیدہ عمل ہے کہ مسلمان جب بھی اس غرض سے میدان میں نکلیں گے اپنے سے دس گنابڑے دشمن پر غالب آئیں گے یعنی مسلمان جم کر لڑنے والے دوصدکفار پہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 یعنی انہیں اللہ پر ایمان اور اس کے ثواب پر یقین نہیں ہے اور جس کو یقین ہے اس کو مت کا کیا ڈر ؟۔ صحیح بخاری میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب گزشتہ آیت نازل ہوئی تو مسلمانوں کی اپنے سے دس گنا کفار کے مقابلے میں ڈٹے رہنا کا حکم دشوار معلوم ہوا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں اپنے سے دو چند کے مقابلے میں ثابت قدم رہنا ضروری اور بھاگنا فرار دیا گیا ہے۔ اب یہ حکم قیامت تک کے لیے قائم ہے۔ اگر کفار دو چند سے زیادہ ہوں تو بھاگنا گناہ نہیں لیکن لڑنا اور جمے رہنا بہر حال افضل ہے جیسا کہ عہد نبوی اور خلفائے راشدین ؓ کے عہد کے بعض واقعات سے معلوم ہوتا ہے، ( از ابن کثیر و قرطبی )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 66–67

(8:66) الئن۔ اب ظرف زمان ہے اور مبنی برفتح۔ الف لام اس پر بعض کے نزدیک تعریف کا ہے اور بعض کے نزدیک زائدہ اور لازم ہے خفف۔ اس نے تخفیف کی۔ اس نے ہلکا کردیا۔ ماضی واحد مذکر غائب (باب تفعیل) ضعفا۔ سستی ۔ کمزوری۔ ضعف یضعف (باب کرم) کا مصدر ہے سست ہونا ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 63–66

آیات : 63 تا 66 لغات القرآن۔ الف۔ محبت ڈال دی۔ انفقت۔ تو نے خرچ کیا۔ حرض۔ رغبت دلائیے۔ آمادہ کیجئے۔ عشرون۔ بیس۔ ماتین۔ دو سو۔ لا یفقھون۔ وہ نہیں سمجھتے ہیں۔ الئن۔ اب۔ اس وقت۔ خفف۔ ہلکا کردیا۔ مائۃ۔ ایک سو۔ الف۔ ایک ہزار۔ تشریح : پچھلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا تھا کہ دشمن کے مقابلے میں ہر ممکن قوت کو حاصل کرو تاکہ تمہارے دشمنوں پر تمہارا رعب جم جائے۔ ان آیات میں اس بات کی طرف اشارہ کی گیا ہے کہ اصل قوت و طاقت ہتھیر نہیں ہوتے بلک ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ محبت، قربانی بھائی چارہ اخوت، اتحادو اتفاق، یک سوئی، یک نظری سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ اگر کوئی قوم بہت سے ہتھیار جمع کرلے لیکن ان میں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 65–66

لڑائی میں تخفیف کا حکم شان نزول : جمہور مفسریں کے نزدیک پہلا ٹکڑا آیت کا جس میں ایک مسلمان کو دس کافروں سے مقابلہ کرنے کا حکم تھا آیت کے اس ٹکڑے سے منسوخ ہے اور اب یہی حکم ہے ایک مسلمان دو کافروں سے مقابلہ کرے۔ اس قدر مقابلہ سے آدمی نہ بھاگے ورنہ گناہ کبیرہ کا گنہگات ٹھرے گا، اور اس قدر سے زیادہ دشمنوں سے مقابلہ آپڑے تو لڑنے کی صورت میں اجر ہے، بھاگنے کی صورت میں گناہ نہیں۔ آگے فرمایا کہ تخفیف کا حکم تمہارے ضعف ہمت کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے اب جس کام کا تمہیں حکم دیا گیا ہے وہ ضرور تم کرو گے۔ مشرک لوگ عقبیٰ کے عذاب وثواب کی کچھ سمجھ نہیں رکھتے۔ پھر فرمایا کہ دین اللہ کا ہے اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[22] مطلب یہ ہے کہ اصلی قاعدہ اور وعدہ تو وہی رہا جو آیت 65 میں بیان ہوچکا ہے ' صرف مشقت تم پر سے گھٹا دی گئی کیونکہ تم لوگوں کی اخلاقی تربیت مکمل نہیں ہوئی ہے اور تمہیں پورا شعور حاصل نہیں ہوا ہے۔ یہ یاد رہے کہ یہ ارشاد 2 ھ کا ہے جب کہ مسلمانوں میں بہت سے لوگ نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے تھے اور ان کی تربیت ابتدائی حالت میں تھی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 65–66

(ف 1) (آیت) ” یفقھون “ سے غرض یہ ہے کہ کفار شہادت کی قدروقیمت سے آگاہ نہیں ، وہ موت سے ڈرتے ہیں اور مسلمان پوری جانبازی سے لڑتا ہے ، وہ جانتا ہے کہ جیئے تو غازی اور مرے تو شہید یعنی مسلمان کے لئے کامیابی کے زیادہ امکانات موجود ہیں اس لئے اسے چاہئے کہ کفار کی کثرت سے ہراساں نہ ہو ، کامیابی اسی کی ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

66 اب اللہ تعالیٰ نے تم پر تخفیف کردی اور تم سے مشقت کا بوجھ ہلکا کردیا اور اس نے معلوم کرلیا اور جان لیا کہ تم میں ضعف اور کمزوری ہے لہٰذا اب حکم کیا کرتا ہے اگر تم مسلمانوں میں سے سو آدمی صابر اور ثابت قدم رہنے والے ہوں گے تو کافروں کے دو سو افراد پر غالب آجائیں گے اور اگر تم مسلمانوں میں ایک ہزار آدمی ہوں گے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے دو ہزار کافروں پر غالب آجائیں گے اور ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں اور سہار کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ ابتدائی حکم دس گنے کا تھا لیکن جب مسلمانوں کی تعداد بڑھی تو اعتماد اور بھروسہ میں کمزوری آگئی پہلا حکم مسلمانوں پر شاق تھا اس لئے تخفیف فرمائی گئی اور…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 66–70

ف 1۔ یغلبوا باذن اللہ (اللہ کے حکم سے غالب آئیں گے) یعنی غلبہ اذن الٰہی کے ساتھ مقید ہے پس اگر کسی حکمت کی وجہ سے اذن نہ ہو تو غلبہ بھی نہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

صدر اول کے بعد پیچھے آنے والوں کے ضعف کے باعث تخفیف کا حکم : 89: اسلامی ہدایات اور تنبیہات اس وقت ہی کے لئے نہ تھیں جب قرآن کریم اتر رہا تھا اور نبی اعظم و آخر ﷺ بنفس نفیس لوگوں میں موجود تھے بلکہ وہ رہتی دنیا تک کے لئے ہدایات اور تنبیہات کرتا رہے گا آج بھی کر رہا ہے اور قافمت تک یہ سلسلہ جاری ساری رہے گا اس لئے پہلی 65 میں جو حکم دیا وہ مسلمانوں کی قوت ایمانی کا پہلا سرا تھا اور زیر نظر آیت 66 میں اس کا آخری سرا بھی بیان فرما دیا جس سے نیچے اتر کر کفر و اسلام کا گویا امتیاز ہی ختم ہوجاتا ہے اور اس کے اندر اسلامی زندگی کے لاتعداد اسباق موجود تھے جن کو آج قوم مسلم بالکل بھول چکی اور پھر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

In the fourth verse (66), by abrogating this injunction for future, the second injunction given was: الْآنَ خَفَّفَ اللَّـهُ عَنكُمْ وَعَلِمَ أَنَّ فِيكُمْ ضَعْفًا ۚ فَإِن يَكُن مِّنكُم مِّائَةٌ صَابِرَ‌ةٌ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ ۚ وَإِن يَكُن مِّنكُمْ أَلْفٌ يَغْلِبُوا أَلْفَيْنِ بِإِذْنِ اللَّـهِ ۗ وَاللَّـهُ مَعَ الصَّابِرِ‌ينَ ﴿66﴾ Now Allah has made it easy on you and He knew that there is weakness in you. So, if there are one hundred among you, who are patient, they will overcome two hundred - 8:66. Here too, the purpose is to order that it is not permissible for one hundred Muslims to…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 66–68

48. This does not mean that since the faith of Muslims had declined, their ten times superiority ove the unbelievers has been reduced to twice only. What it means is that ideally a Muslim is ten times stronger than an unbeliever. However, since the Muslims had not as yet been throughly trained and had reached the desire level of maturity in their understanding, they are asked not to feel uneasy at least of challenging an enemy which is twice as strong. It should be borne in mind that the Qur'anic directive was given in 2A.H./624 C.E. when most of the Muslims, being recent converts to Islam,…

Read the full tafseer →