Explained with ayahs 1–2
یہ سورت سب سے آخر رسول ﷺ پر اتری ہے بخاری شریف میں ہے سب سے آخر (آیت یسفتونک الخ،) اتری اور سب سے آخری سورت سورة براۃ اتری ہے۔ اس کے شروع میں بسم اللہ نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ صحابہ نے امیرالمومنین حضرت عثمان بن عفان ؓ کی اقتدا کر کے اسے قرآن میں لکھا نہیں تھا۔ ترمذی شریف میں ہے کہ حضرت ابن عباس نے حضرت عثمان سے پوچھا کہ آخر کیا وجہ ہے آپ نے سورة انفال کو جو مثانی میں سے ہے اور سورة براۃ کو جو مئین میں سے ہے ملا دیا اور ان کے درمیان بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں لکھی اور پہلے کی سات لمبی سورتوں میں انہیں رکھیں ؟ آپ نے جواب دیا کہ بسا اوقات حضور رسول اللہ ﷺ پر ایک ساتھ کئی سورتیں اترتی تھیں۔ جب…
Read the full tafseer →سورة التَّوْبَة
نام
یہ سورة دو ناموں سے مشہور ہے۔ ایک التوبہ دوسرے البراءَۃ۔ توبہ اس لحاظ سے کہ اس میں ایک جگہ بعض اہل ایمان کے قصوروں کی معافی کا ذکر ہے۔ اور براءۃ اس لحاظ سے کہ اس کے آغاز میں مشرکین سے بریٔ الذمہ ہونے کا اعلان ہے۔
بسم اللہ نہ لکھنے کی وجہ
اس سورة کی ابتداء میں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم نہیں لکھی جاتی۔ اس کے متعدد وجوہ مفسرین نے بیان کیے ہیں جن میں بہت کچھ اختلاف ہے۔ مگر صحیح بات وہی ہے جو امام رازی نے لکھی ہے کہ نبی ﷺ نے خود اس کے آغاز میں بسم اللہ نہیں لکھوائی تھی اس لیے صحابہ کرام نے بھی نہیں لکھی اور بعد کے لوگ بھی اسی کی پیروی کرتے رہے۔ یہ اس بات کا مزید ایک ثبوت ہے کہ…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اللہ کی طرف سے اور اس کے رسول کی طرف سے ان مشرکین (کے عہد) سے دست برداری ہے جن سے تم نے (بلا تعیین مدت) عہد کر رکھا تھا (یہ جماعت سوم کا حکم ہے ان جماعتون کی تفصیل معارف و مسائل میں آرہی ہی) اور جماعت چہارم یعنی جن سے کچھ بھی عہد نہ تھا ان کا بھی حکم اس سے بدرجہ اولی مفہوم ہوگیا کہ جب معاہدین سے رفع امان کردیا تو غیر معاہدین میں تو کوئی احتمال امن کا پہلے سے بھی نہیں ہے) سو (ان دونوں جماعتوں کو اطلاع کردو کہ) تم لوگ اس سرزمین میں چار مہینے چل پھر لو (اجازت ہے تاکہ اپنا موقع اور پناہ ڈھونڈھ لو) اور (اس کے ساتھ) یہ (بھی) جان رکھو کہ (اس مہلت کی بدولت صرف مسلمانوں کی دست برد سے بچ…
Read the full tafseer →بَرَاۗءَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖٓ اِلَى الَّذِيْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ۔ فَسِيْحُوْا فِي الْاَرْضِ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّاعْلَمُوْٓا اَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِي اللّٰهِ ۙ وَاَنَّ اللّٰهَ مُخْزِي الْكٰفِرِيْنَ۔
لفظ براءۃ کا مفہوم : براءۃ من اللہ الایہ : براءۃ کے معنی کسی ذمہ داری سے دستبردار اور بری الذمہ ہونے کے ہیں۔ یہاں یہ ان معاہدات کی ذمہ داری سے دستکش ہونے کے معنی میں ہے جو آنحضرت ﷺ نے مدینہ ہجرت فرمانے کے بعد مشرکین عرب کے مختلف قبائل سے موقت اور غیر موقت نوعیت کے کرلیے تھے۔ ‘ مشرکین ’ سے یہاں بھی اور قرآن میں جہاں جہاں بھی یہ لفظ بشکل علم استعمال ہوا ہے۔ مشرکین بنی…
Read the full tafseer →وجہ تسمیہ : اس کے مفسرین نے متعدد نام ذکر کئے ہیں لیکن زیادہ مشہور دو ہیں۔ ایک توبہ اس لئے کہ اس میں بعض مومنین کی توبہ قبول ہونے کا ذکر ہے۔ دوسرا براءۃ اس میں مشرکوں سے برات کا اعلان عام ہے۔ یہ قرآن مجید کی واحد سورت ہے جس کے آغاز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم درج نہیں ہے۔ اس کی بھی متعدد وجوہات کتب تفسیر میں درج ہیں۔ لیکن زیادہ صحیح بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ سورة انفال اور سورة توبہ ان دونوں کے مضامین میں بڑی یکسانیت پائی جاتی ہے یہ سورت گویا سورة انفال کا تتمہ یا بقیہ ہے۔ یہ سات بڑی سورتوں میں ساتویں بڑی سورت ہے جنہیں سبع طوال کہا جاتا ہے۔
1۔ 1 فتح مکہ کے بعد 9 ہجری میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
سورة توبہ
تعارف
یہ بھی مدنی سورت ہے، اور حضور نبی کریم ﷺ کی حیات طیبہ کے آخری دور میں نازل ہوئی ہے۔ اپنے مضامین کے اعتبار سے یہ پچھلی سورت یعنی سورة انفال کا تکملہ ہے۔ غالبا اسی لیے عام سورتوں کے برخلاف اس سورت کے شروع میں بسم اللہ الرحمن الرحیم نہ نازل ہوئی، نہ لکھی گئی۔ اور اس کی تلاوت کا بھی قاعدہ یہ ہے کہ جو شخص پیچھے سورة انفال سے تلاوت کرتا چلا آرہا ہو، اسے یہاں بسم اللہ نہیں پڑھنی چاہیے، البتہ اگر کوئی شخص اسی سورت سے تلاوت شروع کر رہا ہو تو اس کو بسم اللہ پڑھنی چاہیے۔ اور بعض لوگوں نے اس سورت کے شروع میں بسم اللہ کے بجائے کچھ اور جملے پڑھنے کے لیے بنا رکھے ہیں، وہ بےبنیاد ہیں۔ اوپر جو…
Read the full tafseer →سورة التوبہ ایک نظر میں
یہ مدنی سورت ہے اور اگر یہ نہ کہا جائے کہ قرآن کے آخری سورت ہے تو اس کا تعلق نزول قرآن کے بالکل آخری دور سے بہرحال ہے۔ کیونکہ راجح روایات میں ہے کہ سورت النصر آخری سورت ہے۔ چناچہ اس میں امت مسلمہ اور کرہ ارض پر رہنے والی دوسری اقوام کے درمیان تعلقات سے متعلق جو احکام وقوانین ہیں ، وہ آخری اور فائنل قوانین ہیں۔ اس سورت میں خود مسلم معاشرے کے اندر پائے جانے والے مختلف طقبات کی قدر و قیمت کا تعین بھی کیا گیا ہے۔ ہر ایک کے حالات و کوائف بیان کیے ہیں۔ یہاں طبقات سے مراد وہ طبقات نہیں ہیں جن کے لیے آج کل یہ لفظ استعمال ہوتا ہے بلکہ ان سے مراد وہ گروہ ہیں جو اسلامی تصورات کے…
Read the full tafseer →6 سورة انفال اوائل ہجرت میں اور یہ سورة براءۃ اواخر ہجرت میں نازل ہوئی۔ آنحضرت ﷺ کی عادت یہ تھی کہ جو آیات قرآنی نازل ہوتیں۔ فرما دیتے کہ ان کو فلاں سورت میں فلاں موقع پر رکھو۔ ان آیات کے متعلق (جنہیں اب سورة " توبہ " یا " براءۃ " کہا جاتا ہے) آپ نے کوئی تصریح نہیں فرمائی کہ کس سورت میں درج کی جائیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مستقل سورت ہے کسی دوسری سورت کا جز نہیں لیکن عام قاعدہ یہ تھا کہ جب نئی سورت نازل ہوتی تو پہلی سورت سے جدا کرنے کے لیے " بسم اللہ " آتی تھی۔ سورة توبہ کے شروع میں " بسم اللہ " نہ آئی۔ جو مشعر ہے کہ یہ جداگانہ سورت نہیں۔ ان وجوہ پر نظر کر کے مصاحف عثمانیہ میں اس کے شروع میں "…
Read the full tafseer →تمہیدی کلمات
سورۃ التوبہ کئی خطبات پر مشتمل ہے اور ان میں سے ہر خطبہ الگ پس منظر میں نازل ہوا ہے۔ جب تک ان مختلف خطبات کے پس منظر اور زمانۂ نزول کا الگ الگ تعین درست انداز میں نہ ہوجائے ‘ متعلقہ آیات کی درست توضیح و تشریح کرنا ممکن نہیں۔ چناچہ جن لوگوں نے اس سورت کی تفسیر کرتے ہوئے پوری احتیاط سے تحقیق نہیں کی ‘ وہ خود بھی مغالطوں کا شکار ہوئے ہیں اور دوسروں کو بھی شکوک و شبہات میں مبتلا کرنے کا باعث بنے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ سورت قرآن حکیم کی مشکل ترین سورت ہے اور اس کی تفہیم کے لیے انتہائی محتاط تحقیق اور گہرے تدبر کی ضرورت ہے۔
سورۃ التوبہ اور حضور ﷺ کی بعثت کے دو پہلو : محمد رسول اللہ ﷺ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1 سورة توبہ کے آغاز میں بسم اللہ نہ لکھنے کی وجہ :۔ سورة ئتوبہ کا نام سورة ئبرات بھی ہے جو اس سورة کا ابتدائی لفظ ہے۔ یہ سورة برأت، سورة انفال کے بہت بعد یعنی 9 ہجری میں نازل ہوئی لیکن چونکہ ان دونوں کے مضامین آپس میں بہت حد تک ملتے جلتے ہیں اور یہ سب مضامین کافروں، مشرکوں سے جنگ، معاہدات، صلح اور اسلام کی سربلندی سے متعلق ہدایات و احکام پر مشتمل ہیں لہذا ان کو یکجا کردیا گیا ہے اور ان کے درمیان بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں لکھی جاتی۔ جو کہ دو سورتوں کی الگ الگ ہونے کی علامت ہے۔ نہ ہی اس سورة کی ابتدا میں بسم اللہ الرحمن الرحیم نازل ہوئی۔ نہ ہی کبھی رسول اللہ نے پڑھی تھی اور وہی دستور آج تک…
Read the full tafseer →1 ۔ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں سے صرف یہی ہے، جس کے شروع میں بسم اللہ درج نہیں۔ حضرت عثمان ؓ کے وقت جب قرآن اپنی بالکل آخری شکل میں مرتب ہونے لگا تو اس سورت میں صحابہ میں اختلاف پیدا ہوا کہ آیا یہ مستقل سورت ہے یا سورة انفال کا جزء۔ دوسری سورتوں کی طرح اس سورت میں بسم اللہ کی تصریح رسول اللہ ﷺ سے پائی نہ گئی۔ حضرت عثمان ؓ نے یہ فیصلہ کرکے دونوں احتمالات کی رعایت کرلی کہ اسے لکھا تو جائے بہ حیثیت مستقل سورت کے البتہ اس کے اور اس کے ماقبل کے درمیان فصل بہ صورت بسم اللہ نہ چھوڑا جائے۔ فقیہ ابن العربی مالکی نے لکھا ہے کہ صحابہ کرام کا یہ فیصلہ خود اس کی دلیل ہے کہ نص عدم موجودگی میں قیاس شرعی…
Read the full tafseer →سُوْرَةُالتَّوْبَةِ مَدَنِیَّة او اِلاَّالاٰ یتین اخرھا مائة وث الا ایة
سورة توبہ مدنی ہے مگر دو آیتیں یا ایک آیت جو کہ سورة توبہ کی آخری آیت ہے
کل ایک سو تیس آیتیں ہیں۔
وضاحت : بعض نسخوں میں پہلا اَوْ نہیں ہے جیسا کہ جمل کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے، ازروئے تحقیق یہی قول راجح معلوم ہوتا ہے
مطلب : مطلب یہ ہے کہ پوری سورة توبہ مدنی ہے مگر علی اختلاف القولین سورت کی آخری دو آیتیں یا ایک آیت مکی ہے آخری دو آیتیں '' لقد جاء کم رسول من انفسکم الخ ہیں '' بعض حضرات نے الاّ آیة کو مائة وثلثون سے مستثنیٰ قرار دیا ہے اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ کل ایک سو تیس آیتیں ہیں مگر ایک کم یعنی ایک سو انتیس آیتیں…
Read the full tafseer →ہم حمد کرتے ہیں تیری !
اے وہ معبود کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں ! ہم ہر عیب اور ہر خرابی سے تیری پاکی بیان کرتے ہیں ‘ تجھ سے مدد چاہتے ہیں اور تجھ سے مغفرت کے طلبگار ہیں۔ ہم شہادت دیتے ہیں کہ تو اقتدار کا مالک ہے ‘ جس کو چاہتا ہے ملک دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے چھین لیتا ہے۔ جس کو چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ذلت نصیب کرتا ہے۔ تیرے ہی دست قدرت میں ہر بھلائی ہے۔ تو ہی بلاشبہ سب کچھ کرسکتا ہے۔ تو ہمارا مالک ہے اور آسمان و زمین اور ان کی کائنات کا مالک ہے۔ ہم رحمت و سلامتی کی دعا کرتے ہیں محمد ﷺ کیلئے جو تیرے رسول و حبیب اور ہمارے آقا و مولیٰ ہیں اور تمام انبیاء اور رسولوں کیلئے اور…
Read the full tafseer →یہ مکمل سورت مدنی ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ آخر کی دو آیتیں مکی ہیں، اس سورت میں دو ہزار چار سو سرسٹھ کلمات اور دس ہزار حروف ہیں۔
(1) یہ ان لوگوں سے اعلان برأت ہے جنہوں نے بدعہدی کی، برأت کے معنی نقص عہد کردینا ہے ،
Read the full tafseer →یہ پوری کی پوری سورت مدنی ہے جو فتح مکہ کے بعد 9 ھ میں نازل ہوئی۔ چونکہ سورة توبہ اور انفال میں ذکر ہونے والے واقعات ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں، اس لیے ان دونوں سورتوں کو ایک سورت کے حکم میں رکھا گیا ہے اور ان دونوں کے درمیان ”بسم اللہ الرحمن الرحیم“ نہیں لکھی گئی اور یہ سبع طوال (سات لمبی سورتوں) میں سے ساتویں سورت ہے، جن کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَنْ أَخَذَ السَّبْعَ الْأَوَلَ مِنَ الْقُرْآنِ فَھُوَ حَبْرٌ) ”جس نے قرآن مجید کی یہ پہلی سات سورتیں حاصل کرلیں وہ بہت بڑا عالم بن گیا۔“ [ أحمد : 6؍82، ح : 24585، عن عائشۃ ؓ ]
اس کے کئی نام ہیں جن میں سے ایک ”توبہ“ اور دوسرا ”براء ۃ“ ہے۔…
Read the full tafseer →سورة براء ۃ
آیت نمبر 1
مسئلہ نمبر 1 ۔ پہلا مسئلہ اس کے اسماء کے بارے میں ہے۔ حضرت سعید بن جبیر نے بیان کیا ہے : میں نے حضرت ابن عباس ؓ سے سورت برائت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا : یہ فاضحہ (برائیاں ظاہر کرنے والی ہے) (حکم) مسلسل نازل ہوتا رہا کچھ ان کے بارے اور کچھ ان کے بارے، یہاں تک کہ ہم ڈرنے لگے کہ یہ کسی ایک کو نہیں چھوڑے گی (1) ۔ ابو نصر عبدالرحیم قشیری نے کہا : یہ سورت غزہ تبوک کے بارے میں نازل ہوئی اور اس کے بعد نازل ہوئی، اور اس کی ابتدا میں کفار کا ان کے ساتھ معاہدوں کو توڑنے کا ذکر ہے۔ اور اس سورت میں منافقین کے مخفی اور پوشیدہ رازوں کو کھولا گیا ہے۔ اور اس کا نام الفاضحہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
سورة التوبۃ مدنیۃ آیات 129: رکوع 21
یہ مدنی سورة ہے اور اس کی ایک سو ننانوے آیات ہیں۔
1:۔ ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة برات فتح مکہ کے بعد نازل ہوئی۔
2:۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة توبہ مدینہ منورہ میں نازل ہوئی۔
3:۔ ابن مردویہ نے عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ سورة براۃ کو مدینہ منورہ میں نازل کیا گیا۔
4:۔ ابن منذر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ ان سورتوں میں سے جو مدینہ منورہ میں نازل ہوئی (ان میں) براۃ بھی ہے۔
5:۔ ابن ابی شیبہ واحمد وابوداود والترمذی اور آپ نے اس کو حسن کہا والنسائی وابن ابی داود نے مصحف میں وابن منذر والنحاس نے اپنی ناسخ میں وابن حبان…
Read the full tafseer →بَرَاۗءَةٌ [ (یہ اعلان ) براءت ہے ] مِّنَ اللّٰهِ [ اللہ کی طرف سے ] وَرَسُوْلِهٖٓ [ اور اس کے رسول کی طرف سے ] اِلَى الَّذِيْنَ [ ان لوگوں کے لیے جن سے ] عٰهَدْتُّمْ [ تم لوگوں نے معاہدہ کیا ] مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ [ مشرکوں میں سے ]
ترکیب : (آیت ۔ 1) براء ۃ خبر ہے ۔ اس کا مبتدا محذوف ہے ۔ جو کہ ھذہ ہوسکتا ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
سورة توبہ مدینہ میں نازل ہوئی اس میں ایک سو انتیس آیات اور سولہ رکوع ہیں
سُوْرَۃُ التَّوْبَۃِ
اس کا دوسرا نام سورة برأت بھی ہے اس میں کافروں سے برأت کا اعلان ہے اس لیے اس کو سورة برأت کہا جاتا ہے اور غزوہ تبوک کے موقعہ پر جو صحابی پیچھے رہ گئے تھے ان کی توبہ کا بھی اس میں ذکر ہے اس لیے دوسرا نام بھی معروف ہوگیا۔ یہ سورت مصحف عثمانی کی ترتیب میں سورة الانفال اور سورة یونس کے درمیان ہے۔
بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نہ لکھنے کی وجہ :
دیگر تمام سورتوں کے شروع میں بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ لکھی ہے لیکن سورة برأت کے شروع میں نہیں ہے۔ جامع القرآن حضرت عثمان بن عفان ؓ سے حضرت عبداللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
سورة توبہ مدنی ہے اور اس میں ایک سو انتیس آیتیں اور سولہ رکوع ہیں
بسم اللہ الرحمن الرحیم
تفسیر سورة توبہ
یہ بسم اللہ اس سورت کی تفسیر کے شروع اور آغاز کے لیے ہے نہ کہ سورة برات کی تلاوت کے لیے سوہ توبہ بالاتفاق مدنی ہے فتح مکہ کے بعد نازل ہوئی اس سورة میں ایک سو انتیس اور بقول بعض ایک سو تیس آیتیں ہیں اور سولہ رکوع ہیں۔
اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ اس سورت کا بیشتر حصہ تو مدینہ میں نازل ہوا مگر آیت ما کان للنبی والذین آمنوا ان یستغروا للمشرکین ولو کانوا اولی قربی۔ یہ آیتیں ابو طالب کے بارے میں مکہ مکرمہ میں نازل ہوئیں جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے۔
اسماء سورت :
اس سورت کے بہت سے نام ہیں جن میں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1: سورة توبہ۔
ربط : سورة انفال میں مشرکین سے جہاد کرنے کا اجمالاً حکم دیا گیا اور قوانین جہاد کی تعلیم دی گئی۔ نیز حکم صادر کیا گیا کہ اگر جہاد میں مسلمانوں کی فتح ہوجائے تو جو مال غنیمت ہاتھ آئے اس کی تقسیم اللہ کے حکم کے مطابق کریں۔ اور اس میں نزاع واختلاف نہ کریں۔ مال غنیمت کے مصارف کی بھی تفصیل کی گئی۔ سورة توبہ میں اعلان جہاد کا اعادہ کیا گیا۔ اور تفصیل سے بتایا کہ کن کن لوگوں سے جہاد کرنا ہے۔ یعنی جو لوگ ڑی اللہ کی نذریں دیتے اور غیر اللہ کے لیے تحری میں کرتے ہیں۔ انبیاء علیہم السلام، بزرگانِ دین کو متصرف و کارساز سمجھتے ہیں۔ اور اللہ کی تحریمات کو باقی نہیں رکھتے۔ ان کے ساتھ اعلانِ جنگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
سورة توبہ مدنی ہے اور یہ ایک سو انتیس آیات اور اس میں سولہ رکوع ہیں
سورۃ کے مختلف نام :
اس سورة مبارکہ کا عام فہم نام سورة توبہ ہے وجہ تسمیہ یہ ہے کہ بعض صحابہ ؓ سے غزوہ تبوک میں عدم شمولیت کی کوتاہی ہوگئی تھی۔ اس پر اللہ کے رسول نے ان کے ساتھ مقاطعہ کا حکم دیدیا ، بالآکر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی توبہ قبول فرمائی جس کا ذکر اس سورة میں موجود ہے ، لہٰذا اس سورة مبارکہ کو سورة توبہ کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔
اس سورة کا دوسرا نام سورة برات ہے کیونکہ اس میں مشرکین اور کفار سے برات یعنی بیزاری کا اظہار کیا گیا ہے اور انہیں حکم دیا گیا ہے کہ وہ چار ماہ کی مدت میں یا تو اسلام قبول کرلیں یا پھر ملک…
Read the full tafseer →بَرَاۗءَۃٌ مِّنَ اللہِ وَرَسُوْلِہٖٓ اِلَى الَّذِيْنَ عٰہَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ 1 ۭ
برأ
أصل البُرْءِ والبَرَاءِ والتَبَرِّي : التقصّي مما يكره مجاورته، ولذلک قيل : بَرَأْتُ من المرض وبَرِئْتُ من فلان وتَبَرَّأْتُ وأَبْرَأْتُهُ من کذا، وبَرَّأْتُهُ ، ورجل بَرِيءٌ ، وقوم بُرَآء وبَرِيئُون . قال عزّ وجلّ : بَراءَةٌ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ [ التوبة/ 1]
( ب ر ء ) البرء والبراء والتبری
کے اصل معنی کسی مکردہ امر سے نجات حاصل کرتا کے ہیں ۔ اس لئے کہا جاتا ہے ۔ برءت من المریض میں تندرست ہوا ۔ برءت من فلان وتبرءت میں فلاں سے بیزار ہوں ۔ ابررتہ من کذا وبرء تہ میں نے اس کو تہمت یا مرض سے بری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ترکیب : برأۃ خبر ہے مبتداء محذوف کی ورسولہ عطف ہے اللہ پر ‘ الی متعلق ہے براۃ سے۔ من المشرکین بیان ہے الذین کا اربعہ اشہر ظرف ہے فسیحوا کا وان اللّٰہ معطوف ہے انکم پر مفعول ہے واعلموا کا۔ و اذان معطوف ہے برأۃ پر فاذا شرط فاقتلوا الخ جواب ‘ فان تابوا شرط فخلوا الخ جواب ‘ وان شرط احد فاعل استجارک محذوف کا جس کی تفسیر استجارک ثانی ہے۔ فاجرہ جواب حتی غایۃ ہے اجرہ کی ذلک مبتدا بانہم خبر۔
تفسیر : چونکہ اخیر انفال میں اہل عہد پر چڑھائی کرنے کی ممانعت تھی اور اس سورة میں تمام عہدوں کو ختم کردیا ہے اور نیز ان دونوں کے مطالب بھی ملتے جلتے ہیں اس لئے دونوں سورتوں میں فصل کے لئے لوح محفوظ میں بسم اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
تعارف
سُوْرَۃُ التَّوْبَۃِ
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
یہ سورة قرآن کریم کی نوویں سورة ہے۔ اس میں سولہ 16 رکوع اور 129 آیات ہیں۔ اس کے متعدد نام ہیں جن میں سے دو نام زیادہ معروف ہیں۔ 1: البراء ۃ 2: التوبۃ
قرآن کریم کی بیشتر سورتوں کی طرح اس سورة کے نام اس کے عنوان نہیں بلکہ شناخت کے لیے صرف نام ہیں۔ جن سے مقصودیہ ہے کہ جب یہ نام لیے جائیں تو ان سے یہ سورة ذہن میں آجائے۔
البراء ۃ کا معنی ہوتا ہے ” بیزاری، بری ہونا، ذمہ داریوں اور معاہدات سے دستبردار ہوجانا، تعلق توڑلینا “ چونکہ اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین سے اظہارِ بیزاری فرمایا ہے، تمام معاہدات کے ختم کرنے کا اعلان کیا گیا…
Read the full tafseer →تعارف سورة التوبۃ
یہ مدنی سورة 16 رکوع 129 آیات اور 4078 کلمات پر محیط ہے۔ اس مبارک سورة کے دو نام ہیں التوبہ اور برأت۔ التوبۃ کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اس سورة کی آیت 118 میں غزوہ تبوک سے پیچھے رہ جانے والے مخلص صحابہ کی توبہ کی قبولیت کا ذکر ہے۔ اس سورت کو سورة البرأۃ اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس کا آغاز ہی اس لفظ سے ہوا ہے کہ جس میں مشرکین مکہ اور ان کے گرد وپیش لوگوں سے کیے گئے معاہدات سے برأت کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس سورة کا نزول 9 ہجری کے قریب ہوا ہے جب نبی اکرم ﷺ حضرت ابوبکر صدیق کو حجاج کا امیر بنا کر روانہ کرچکے تھے ان کے رخصت کرنے کے فوراً بعد اس سورة کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں تب اللہ کے…
Read the full tafseer →سورت کے نام :
اس سورت کے کئی نام ہیں۔ نمبر 1۔ البراء ۃ۔ نمبر 2۔ التوبہ نمبر 3۔ المشقشقۃ۔ نمبر 4۔ المبعثرۃ۔ نمبر 5۔ المشردۃ۔ نمبر 6۔ المخزیۃ۔ نمبر 7۔ الفاضحۃ۔ 8۔ المثیرۃ۔ نمبر 9۔ الحافرہ۔ نمبر 10۔ المنکلۃ ‘ نمبر 11۔ المدمدمۃ۔
وجہ تسمیہ : البراءۃ کہنے کی وجہ اس میں کفار سے بیزاری اور دست برداری کا اعلان ہے۔
نمبر 2۔ التوبہ اسلئے کہتے ہیں اس میں مسلمانوں کی توبہ کا تذکرہ ہے۔
نمبر 3۔ المشقشقۃ اس لئے کہتے ہیں کہ نفاق سے بیزاری کا اظہار کرتی ہے۔ (عبداللہ بن عمر )
نمبر 4۔ المبعثرۃ منافقین کے اندرونی رازوں سے پردہ اٹھاتی ہے۔ (ابن منذر)
نمبر 5۔ المشردۃ : منافقین کو منتشر کرنے والی
نمبر 6۔ المخزیۃ :…
Read the full tafseer →فضائل و خواص سورة توبہ
خاصیت آیت 32‘ 33
یریدون ان یطفئوا نور اللہ بافوا ھھم ویابی اللہ الا ان یتم نورہ ولو کرہ الکفرون ھوالذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ ولو کرہ المشرکون
اس آیت کو شیشہ کے نئے گلاس میں لکھے اور اسے عود و عنبر کی دھونی دے پھر اسے یاسمین کے خالص عطر سے دھوئے اور سبز شیشہ کے برتن میں اونچی جگہ رکھ دے جب ضرورت پڑے اس عطر کو اپنے دونوں ابرئوں کے درمیان لگالے تو اسے لوگوں میں محبت اور عزت و مرتبہ ملے گا۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اس آیت کو ہرن کے چمڑے پر زعفران اور عرق گلاب سے لکھے اور کستوری کی دھونی دے۔ اس کو جو آدمی اپنے دائیں بازو پر باندھے گا اسے لوگوں میں محبت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
حضرت عبداللہ بن عباس (رح) کے قول کے موافق یہ سورت مدنی ہے براء بن عازب ؓ کی روایت سے بخاری کہتے ہیں یہ سب سے پھلی سورت ہے جو پوری اتری ہے سورة برات کے نام کے علاوہ اس کو سورة توبہ بھی کہتے ہیں کیونکہ اس میں مومنوں کی توبہ کا ذکر ہے اس سورت کے اور بھی نام ہیں جو بڑی تفسیر میں ہیں اس سورت کی ابتدا میں جو بسم اللہ نہیں ہے اس میں علماء کا اختلاف ہے مالک بن انس ؓ کہتے ہیں (رح) کہ یہ سورة توبہ سورة بقر کے برابر تھی جب اول سورت ساقط ہوگئی تو اس کے ساتھ بسم اللہ بھی ساقط ہوگئی اور بعضے یہ کہتے ہیں کہ حضرت عثمان ؓ غنی کی خلافت کے وقت میں جب قرآن شریف لکھے گئے تو صحابہ میں اختلاف ہوا بعضے سورة انفال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
سورة توبہ آیات 1
یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے تمام مشرین و معاندین سے اظہار برأت ہے۔ انہیں چار ماہ کی مہلت دی گئی ہے کہ وہ مسلمانوں کی طرف سے مامون ہیں، اس میں وہ اپنے اختیار سے زمین میں چل پھر لیں۔ چار ماہ کے بعد ان کے ساتھ کوئی معاہدہ و میثاق نہیں۔ یہ معاملہ ان کفار کے ساتھ ہے جن کے ساتھ لامحدود مدت کے لئے معاہدہ یا معاہدہ کی مدت چار ماہ یا اس سے کم ہے۔ رہا وہ معاہدہ جو چار ماہ سے زیادہ مدت کے لئے کیا گیا ہو، اگر معاہد سے خیانت کا خدشہ نہ ہو اور اس سے نقض عہد کی بھی ابتدا نہ ہوئی ہو تو مدت معینہ تک اس کے ساتھ کئے گئے معاہدے کو پورا کیا جائے گا۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →معاہدہ مشرکین سے اعلان برأت
قول باری ہے (براء ۃ من اللہ و رسولہ الی الذین عاھدتم من المشرکین اعلان برأت ہے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ان مشرکین کو جن سے تم نے معاہدے کئے تھے) ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ برأت قطع موالات اور امان کے خاتمہ نیز بچائو کے مرتفع ہوجانے کا نام ہے۔ ایک قول کے مطابق اس کے معنی ہیں۔ نذہ براء ۃ من اللہ و رسولہ “ اسی بناء لفظ براۃ مرفوع ہے۔ ایک قول ہے کہ ’ براۃ ‘ مبتدا ہے اور اس کی خبر حرف الی میں موجود ظرفیت کا معنی ہے اس بناء پر یہ آیت اس معاہدہ کے خاتمہ کی مقتضی ہے جو حضور ﷺ اور مشرکین کے درمیان طے پایا تھا نیز امان کے ارتفاع۔ حالت جنگ کی بحالی اور قتال کے اعلان کی…
Read the full tafseer →1 سورة توبہ کی وجہ تسمیہ اور اس کی عظمت شان : اس سورة کریمہ کا نام " براءۃ " بھی ہے کہ اسی لفظ سے یہ شروع ہوتی ہے اور اسمیں مشرکین مکہ سے براءت و بیزاری کا اعلان بھی ہے۔ اور اس کو " توبہ " بھی کہتے ہیں کہ اس میں توبہ کا تذکرہ بھی کئی بار آیا ہے اور توبہ سے متعلق ایک خاص عبرت انگیز اور سبق آموز واقعہ اور قصہ بھی اس میں مذکور ہے۔ اس کے علاوہ اس سورة کریمہ کے اور بھی بہت سے نام آئے ہیں۔ مثلاً " فاضحہ "، " مخزیۃ "، " مشردۃ " اور سورة " العذاب " وغیرہ۔ اس کی مزید تفصیلات انشاء اللہ اپنی مفصل تفسیر میں پیش کی جائیں گی ۔ والتوفیق بید اللہ ۔ سو یہ اس سورة کریمہ کی عظمت شان کا ایک مظہر ہے۔ اس کے شروع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
سورة التوبۃ
اس سورت کے دو نام ہیں ایک تو توبہ اور دوسرا براءت۔ وجہ یہ ہے کہ کچھ مخلص اہل ایمان کو معافی ملی اور براءت اس لیے کہ مشرکین کے تمام معاہدے منسوخ کردیے گئے۔ غرض یہ کہ مسلمانوں کی تمام مشکلات تقریباً فتوحات میں تبدیل ہونے لگیں اور مسلمان ایک مضبوط ناقابل تسخیر طاقت بن کر ابھرنے شروع ہوئے۔ اس سورت کی ایک انفرادیت یہ ہے کہ اس کے شروع میں بسم اللہ نہیں پڑھی جاتی۔ وجہ یہ ہے کہ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اس کے آغاز میں بسم اللہ نہ پڑھی ہے اور ہی نہ لکھوائی۔ ترتیب کے لحاظ سے یہ نویں سورت ہے۔ اس میں سولہ (16) رکوع اور ایک سو انتیس (129) آیات ہیں اور یہ مدنی سورت ہے کیونکہ یہ سورت 9 ھ میں نازل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
سورة التوبۃ
اسے سورة برات بھی کہا جاتا ہے کہ اس میں کفار سے برائت کے احکام نازل ہوئے اور قبول تو بہ کی بشارت کے باعث توبہ کہلاتی ہے ۔ اس میں عجیب بات یہ ہے کہ اس کے شروعی میں بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں لکھا جاتا ۔ دراصل کسی بھی سورة کی مختلف آیات جب نازل ہوتیں تو بذریعہ وحی ان کا مقام بھی بتادیا جاتا چناچہ آپ ﷺ کاتنان وحی کو انھیں وہاں درج کرنے ارشاد فرماتے اور جب کوئی نئی سورة نازل ہوتی تو اس سے پہلے بسم اللہ لکھنے کا ارشاد ہوتا ۔ یہ مدنی اور آخری سورتوں میں سے ہے مگر جب نازل ہوئی تو بسم اللہ لکھنے کا حکم نازل نہ ہوا نہ ہی کاتبان وحی کو کچھ فرمایا گیا اور یہ اسی طرح بغیر بسم اللہ کے لکھ دی…
Read the full tafseer →ف 3 یہ پوری کی پوری سورت مدنی ہے جو فتح مکہ کے بعد نازل ہوئی چونکہ رسوۃ توبہ اور سورت انفعال میں ذکر ہونے والے واقعات ایک دوسرے کو ایک سورت کا حکم میں رکھا گیا ہے اور ام دو نو کے درمیان بسم اللہ نہیں لکھتی گئی اوری سبع طوال میں ساتویں سورة ہے۔ اس کے متعد نام ہیں جن میں سے مشہور دو میں ایک التو نبہ اور دوسرابراۃ تو نہ اس اعتبار سے کہ اس میں ایک مقام پر بعض اہل ایما کی توبہ قبول ہونے کا ذکر ہے اور برا ۃ اس لحاظ سے کہ اس کے شروع میں مشرکین سے برات کا اعلان کیا گیا ہے نیز اس کو سورة العذاب، سورة العذاب، سورة الفا ضحہ اور الحافرۃ بھی کہا جاتا ہے۔ اس سورة کے آغاز میں بسم اللہ الرحمن الر حیم، نہیں…
Read the full tafseer →(9:1) براء ۃ۔ بیزاری۔ بیزار ہونا۔ خلاصہ۔ چھٹکارا پانا۔ بری ہونا۔ قطع تعلقی۔ مصدر ہے۔ البرئ۔ البرائ۔ التبری کے اصل معنی کسی مکروہ امر سے نجات حاصل کرنے کے ہیں۔ اس لئے کہا جاتا ہے برات من المرض۔ میں نے مرض سے نجات پائی اور برات من فلان میں فلاں سے بیزار ہوں۔ اور قرآن میں ہے : ان اللہ بریٔ من المشرکین ورسولہ (9:3) اللہ تعالیٰ مشرکوں سے بیزار ہے اور اس کا رسول بھی۔ اور انتم بریئون من اعمل وانا بریٔ مما تعملون (10:41) تم میرے عملوں سے بری الزمہ ہو اور میں تمہارے عملوں سے بری الذمہ ہوں۔
براء ۃ خبر ہے جس کا مبتدا ھذہ محذوف ہے۔ یعنی ھذہ براء ۃ۔ یہ (اعلان) برات (قطع تعلقی) ہے۔ من اللہ ورسولہ اللہ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
تعارف :
٭اس سورة کے دو نام آتے ہیں۔ (1) سورة توبہ۔ (2) سورة برأت۔
٭ توبہ کے معنی پلٹنے اور لوٹنے کے ہیں۔ جب کوئی اللہ کا بندہ گناہوں سے نادم ہو کر سچے دل سے اللہ کی طرف یعنی نیکیوں کی طرف پلٹتا ہے اس کو توبہ کہتے ہیں۔ چونکہ اس سورة میں چند صحابہ کرام ؓ کی توبہ قبول کی گئی ہے اس لئے اس کا نام سورة توبہ رکھا گیا ہے۔
٭ سورة براء ت… براءت کے معنی چھٹکارا پانا۔ بیزاری اور نفرت کا اظہار کرنا ہے۔ چونکہ کفار و مشرکین مسلسل اپنی عہد شکنیوں کے مجرم تھے اس لئے مسلمانوں نے جو معاہدے کیے جاتے ان کو ختم کرکے کفار و مشرکین کو حرمین سے نکالنے اور کفارو مشرکین کی بد عہدیوں سے نفرت کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
خواص القرآن : اس سورة کو سات مرتبہ اعتقاد دل سے پڑھنا بادشاہ کے قہر کو دور اور تمام ہجوم اور غم سے علیحدہ کرتا ہے بشرطیکہ صدق دل سے پڑھے۔ اس سورة کی نسبت حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ یہ اپنے پڑھنے والے کو نفاق سے بچاتی ہے۔ (خازن)
فضائل القرآن : آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص سورة انفال اور سورة توبہ پڑھا کرے گا میں قیامت کے دن اس کی شفاعت کروں گا اور جب تک دنیا میں زندہ رہے گا عرش اور اس کے اٹھانے والے فرشتے اس کیلئے استغفار کرتے رہیں گے۔
بسم اللہ کے نہ ہونے کی وجہ
سورۃ روبہ مدنی ہے اس سورة میں چھ رکوع ایک سو انتیس آیتیں، چار ہزار اٹھتر کلمے دس ہزار چار سو اٹھاسی حروف ہیں۔ اس سورة کے دس نام ہیں ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
[1] اس سورت کو سورة برآء َۃ بھی کہا جاتا ہے، برآء َۃ اس لئے کہ اس میں کفار سے بری الذمہ ہونے کا اعلان ہے اور توبہ اس لئے کہ اس میں بعض مسلمانوں کی توبہ قبول ہونے کا بیان ہے۔ قرآن مجید کی صرف یہی ایک سورت ہے جس کے شروع میں بسم اللہ نہیں لکھی جاتی۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ جبرائیل (علیہ السلام) اس سورت کے ساتھ بسم اللہ لے کر نازل نہیں ہوئے تھے۔ اس لئے نبی ﷺ نے بسم اللہ لکھنے کا حکم نہیں فرمایا۔ نیز سیدنا علی ؓ سے مروی ہے کہ بسم اللہ امان ہے اور سورت برآء َۃ میں کفار کے امان اور عہد و پیمان کو ختم کرنے کا بیان ہے جو بسم اللہ کے مناسب نہیں۔
[2] صلح حدیبیہ کی بنیادی شرط یہ تھی کہ دس برس تک دونوں…
Read the full tafseer →سورة براء ۃ :
حدیث میں اس کے مختلف نام آئے ہیں ’ التوبہ ، الفاصحۃ اور المبحوث ‘ وغیرہا ، یعنی جب میں توبہ کا ذکر ہے ، منافقین کو ذلیل کیا گیا ہے اور مشرکین کے حالات پر پوری بحث کی گئی ہے ،
اس کے سرعنوان بسم اللہ درج نہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ عرجب نقض عہد کے لئے اعلان لکھتے تو اس میں بسم اللہ نہیں ہوتی تھی ، قرآن نے بھی اس مذاق کی رعایت رکھی ہے اور اس میں بسم اللہ نہیں پڑھا ہے ۔
غالبا اس لئے بھی بسم اللہ کی ضرورت نہیں کہ انفال و توبہ گو الگ الگ دو سورتیں ہیں مگر معنا متحد ہیں ، اور مضمون کے اعتبار سے دونوں کو ایک ہی سورة سے تعبیر کیا جاسکتا ہے ۔
Read the full tafseer →سورة توبہ مدنی ہے اور یہ ایک سو انتیس آیتیں اور سولہ رکوع ہیں۔
1 حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ سورة براۃ ہے حضرت نے بیان نہیں فرمایا کہ یہ جدا سورت ہے یا اور سورت میں کی آیتیں ہیں سورة کا نشان تھا بسم اللہ نازل نہیں ہوئی اس واسطے اس پر بسم اللہ نہیں اور کسی سورت میں داخل بھی نہیں۔ 12 ۔ یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی جانب ان مشرکوں سے جن سے تم نے عہد کررکھا تھا بری الذمہ ہونا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
ف 4۔ اس سورت میں چند غزوات اور چند واقعات کا ذکر ہے اعلان نقض عہد بقبائل عرب۔ فتح مکہ غزوہ حنین، اخراج کفار از حرم، غزوہ تبوک اور ان ہی آیتوں کے ضمن میں تبعا واقعہ ہجرت۔
Read the full tafseer →التوبہ
سورۃ کا نام :
اس سورة کا نام ” التوبہ “ ہے جو اس سورت کی آیت 104 سے لیا گیا ہے۔ اس نسبت سے کہ اللہ کے سوا کون ہے جو توبہ کو قبول کرنے والا ہے۔ یہ سورت بھی مدینہ منورہ میں نازل ہوئی۔ اس کا نزول نمبر 113 ہے اور ترتیب نمبر 9۔ اس سورت میں 16 رکوع ہیں اور 129 آیات کریمات ہیں۔ اس سورت میں 2537 کلمات اور 11360 حروف ہیں۔
موضوع سورة :
توبہ کے معنی لوٹانا اور پلٹنا ہے۔ اس سورت میں بعض اہل ایمان کی توبہ کا ذکر بھی کیا گیا اور یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ تو وہ کو قبول کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اس سورة کو سورة ” البراءۃ “ کے نام سے بھی موسوم کیا گیا ہے اور براءۃ کے معنی بیزاری اور بری الذمہ کے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
Commentary
Now begins Surah Al-Bara'ah which is also called Surah At-Taubah (as written; also Surah At-Taubah as pronounced). It is called Bara'ah for the reason that it mentions bara'ah or disengagement with the consequences of what the kuffar (disbelievers) do. Then, it is also called Taubah because it announces that the repentance of Muslims has been accepted. (Mazhari). It is a feature of this Surah that ` bismillah' (بسم اللہ الرحمٰن الرحیم Bismillahir-Rahma.nir-Rahim: With the name of Allah, the All-Merciful, the Very Merciful) is not written in the copies of the Qur'an when the Surah…
Read the full tafseer →