9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

تعارف : ٭اس سورة کے دو نام آتے ہیں۔ (١) سورة توبہ۔ (٢) سورة برأت۔ ٭ توبہ کے معنی پلٹنے اور لوٹنے کے ہیں۔ جب کوئی اللہ کا بندہ گناہوں سے نادم ہو کر سچے دل سے اللہ کی طرف یعنی نیکیوں کی طرف پلٹتا ہے اس کو توبہ کہتے ہیں۔ چونکہ اس سورة میں چند صحابہ کرام (رض) کی توبہ قبول کی گئی ہے اس لئے اس کا نام سورة توبہ رکھا گیا ہے۔ ٭ سورة براء ت… براءت کے معنی چھٹکارا پانا۔ بیزاری اور نفرت کا اظہار کرنا ہے۔ چونکہ کفار و مشرکین مسلسل اپنی عہد شکنیوں کے مجرم تھے اس لئے مسلمانوں نے جو معاہدے کیے جاتے ان کو ختم کرکے کفار و مشرکین کو حرمین سے نکالنے اور کفارو مشرکین کی بد عہدیوں سے نفرت کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس لئے اس کا سورة براءت بھی فرمایا گیا ہے۔ ٭ قرآن کریم کی تمام سورتوں کی ابتداء بسم اللہ الرحمن الرحیم سے اس لئے کی جاتی ہے کہ پڑھنے والے کو حصول برکت کے ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم ہوجائے کہ ایک سورة ختم ہو کر دوسری سورة شروع ہوگئی ہے۔ اس لئے اس بات کو ذہن میں رکھیے کہ بسم اللہ کسی سورة کا جزو نہیں ہے۔ سورة توبہ کے شروع میں بسم اللہ نہیں لکھی گئی ہے اس کی وجہ کیا ہے ؟ ٭اس سلسلے میں بہت سے حضرات نے بہت سی باتیں کہی ہیں حضرت عثمان غنی (رض) جو کہ جامع القرآن ہیں جب ان سے اس کی وجہ پوچھی گئی کہ سورة توبہ کے شروع میں بسم اللہ نہ لکھنے کی کیا وجہ ہے ؟ تو آپ (رض) نے اس کے جواب میں فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جب بھی کوئی سورة یا آیات نازل ہوتیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی لکھنے والے کو بلا کر اسی وقت لکھوا دیتے۔ سورة انفال ان سورتوں میں سے ہے جو مدینہ منورہ کے ابتدائی دور میں نازل ہوئی جب کہ سورة توبہ آخری زمانے میں نازل ہوئی۔ ان دونوں سورتوں کے مضامین جو جہاد و قتال سے متعلق ہیں اس قدر ملتے جلتے اور ایک جیسے ہیں کہ میں سمجھا کہ سورة توبہ سورة انفال کا جزو ہے۔ چونکہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی کوئی خاص وضاحت سامنے نہیں آئی یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس دنیا قرآن کریم کی ہر سورة کی ابتداء بسم اللہ سے کی جاتی ہے صرف سورة کے شروع میں بسم اللہ نہیں لکھی جاتی۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اور ان مہاجرین و انصار پر توجہ فرمائی ہے یعنی توبہ قبول کرلی جنہوں نے ایسی تنگی و پریشانی کے وقت پیغمبر کا ساتھ دیا جب کہ قریب تھا کہ ان میں سے ایک فریق کے دل پھرجائیں پھر وہ ان پر متوجہ ہوا۔ بیشک اللہ ان پر مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔ سے رخصت ہوگئے۔ اسلئے میں نے دونوں سورتوں کو پاس پاس رکھ دیا اور بیچ میں بسم اللہ کو نہیں لکھا۔ ٭اب سورة توبہ کی جب بھی تلاوت کی جائے گی تو عام دستور کے مطابق اس کے شروع میں بسم اللہ نہ لکھی جائے گی نہ پڑھی جائے گی، البتہ اگر کسی نے اس سورة کے درمیان سے تلاوت شروع کی تو اس میں اعوذ باللہ کے ساتھ بسم اللہ پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ٭ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ منورہ ، مکہ مکرمہ اور قبائل کے کفارو مشرکین سے آپس میں جنگ نہ کرنے کے معاہدے کیے ہوئے تھے مگر ان کی طرف سے مسلسل عہد شکنیوں اور بدعہدیوں کی وجہ سے فتح مکہ کے بعد حرمین کی سرزمین کو کفار و مشرکین کے وجود سے پاک کرنے کے احکامات دئیے تاکہ وہ تمام معاہدات جو پہلے سے کئے گئے تھے اب ختم کرکے حرمین کی سرزمین میں قیامت تک کفارو مشرکین کا داخلہ ممنوع کردیا جائے۔ فرمایا گیا ہے کہ چار مہینے یا کسی جاری معاہدے کی مدت ختم ہونے کے بعد اگر کفارو مشرکین اس سرزمین کو نہ چھوڑیں تو پھر ان سے قتال کیا جائے گا تاکہ کفر و شرک کے فتنے سے یہ سرزمین ہمیشہ کے لئے پاک ہوجائے گی۔ اور ان تین لوگوں پر بھی توجہ فرمائی جن کا معاملہ پیچھے رکھا گیا تھا۔ یہاں تک زمین اپنی وسعت کے باوجود ان پر ایسا بوجھ بن گئی تھی کہ ان کی جانوں پر بن آئی تھی۔ انہوں نے یہ سمجھ لیا تھا کہ اگر کوئی ٹھکانا ہے تو صرف اللہ ہی کی ذات ہے۔ ان تینوں حضرات حضرت کعب ابن مالک، مرارہ ابن ربیع اور حضرت ہلال ابن امیہ کی توبہ کو قبول کرلیا۔ آیات : ١ تا ٦ لغات القرآن۔ براء ۃ۔ (براء ) ۔ چھٹکارا پانا۔ جان چھڑانا۔ عھدتم۔ تم نے معاہدہ کیا تھا۔ سیحوا۔ چلو پھرو۔ اربعۃ اشھر۔ چار مہینے ۔ غیر معجز اللہ۔ اللہ کو بےبس نہیں کرسکتے۔ مخزی۔ رسوا کرنے والا۔ اذان۔ اعلان ہے۔ الحج الاکبر۔ بڑا حج ( جس حج میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شرکت فرمائی) ۔ تبتم۔ تم نے توبہ کرلی۔ تولیتم۔ تم پلٹ گئے۔ لم ینقصوا۔ کمی نہ کی۔ لم یظاھروا۔ مدد نہ کی۔ اتموا۔ تم پورا کرو۔ انسلخ۔ نکل گیا۔ اقتلوا۔ جہاد کرو۔ وجدتھموھم۔ تم نے ان کو پایا۔ خذوا۔ پکڑو۔ احصروا۔ گھیرو۔ اقعدوا۔ بیٹھو۔ کل مرصد۔ ہر گھات کی جگہ۔ تابوا۔ انہوں نے توبہ کرلی۔ اقاموا۔ انہوں نے قائم کیا۔ اتوا۔ انہوں نے دیا۔ خلوا۔ چھوڑ دو ۔ سبیل۔ راستہ۔ ان احد۔ کوئی ایک۔ استجارک۔ آپ سے پناہ مانگے۔ اجرہ۔ اس کو پناہ دے سے۔ حتی یسمع۔ یہاں تک کہ وہ سن لے۔ ابلغہ۔ اس کو پہنچا دے۔ مامنہ، اس کی حفاظت کی جگہ۔ تشریح : سورۃ توبہ اور سورة براءت اس کے دو نام ہیں۔ اس سورت مین تین مخلص مسلمانوں کی توبہ قبول کرنے کا ذکر ہے اس لئے اس کو سورة توبہ کہتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے کفارو مشرکین سے ہاتھ اٹھا لینے اور بری الذمہ ہونے کے اعلان کی وجہ سے اس کو سورة براءت کہتے ہیں۔ قرآن کریم کی ہر سورت کے شروع میں ” بسم اللہ الرحم الرحیم “ لکھی ہوئی ہوتی ہے جو صرف اس بات کو علامت ہے کہ ایک سورت ختم ہونے کے بعد دوسری سورت شروع ہو رہی ہے۔ بسم اللہ قرآن کریم کی ایک آیت تو ہے جو سورة نمل میں آئی ہے لیکن ہر سورت کا جزو نہیں ہے۔ عام طریقے کے مطابق اس کے شروع میں ” بسم اللہ “ کیوں نہیں لکھی گئی یہ ایک سوال ہے ؟ جس کا صحابہ کرام (رض) اور علماء کرام نے جواب تحریر فرمایا ہے۔ (١) حضرت عثمان غنی (رض) فرماتے ہیں کہ مجھے یہ یاد نہیں ہے کہ سورة انفال اور سورة براءت دو سورتیں ہیں ایک سورت ہے ۔ مضمون کے لحاظ سے ایک سورت لگتی ہیں ممکن ہے دو سورتیں ہوں اس سلسلہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کوئی واضح ہدایت مجھے یاد نہیں ہے۔ (٢) بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس زمانہ میں جنگی اصول اور عام رواج کے مطابق جب کوئی ایسا ” نقض معاہدہ “ (معاہدہ توڑنا) کی مراسلت ہوتی تھی تو اس میں اللہ کا نام نہیں لکھتے تھے چونکہ اس سورت مین کفار و مشرکین سے براءت، بےزاری اور دست برداری کا اعلان کیا گیا ہے ممکن ہے اس وجہ سے بسم اللہ نہ لکھی گوئی ہو۔ اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے۔ بہرحال امن کے نزدیک یہ دو سورتیں کی جاتی ہیں اسی لئے سورة انفال کے بعد جب سورة توبہ شروع ہوتی ہے تو کچھ جگہ خالی ہوتی ہے جس میں بسم اللہ نہیں ہوتی۔ مسئلہ کی رو سے اب جب بھی سورة براءت شروع کی جائے گی تو اس کے شروع میں بسم اللہ نہ لکھی جائے گی اور نہ پڑھی جائے گی لیکن اگر کسی شخص نے سورة ٔ براءت کو کچھ حصہ پڑھ لیا اور رک گیا تو دوبارہ تلاوت کرتے وقت اعوذ باللہ کے ساتھ بسم اللہ پڑھ لے تو کوئی حرج نہیں ہے۔ سورة ٔ برأت کے پہلے رکوع (آیت نمبر ١ تا نمبر ٦) میں کفارو مشرکین سے دست برداری کے اعلان اور اس عمل کرنے کا جو بھی حکم دیا گیا ہے اس کی تفصیل یہ ہے۔ (١) ٦ ہجری میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عمرہ ادا کرنے کا ارادہ فرمایا اور چودہ سو صحابہ کرام (رض) بیت اللہ کی زیارت کے لئے آپ کے ہمراہ ہوگئے۔ بیت اللہ جو اللہ کا گھر ہے اس میں موافق، مخالف، دوست اور دشمن کسی کو زیارت بیت اللہ سے روکنے کا کسی کو حق حاصل نہیں تھا۔ جب کفار مکہ کو یہ معلوم ہوا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ڈیڑھ ہزار صحابہ (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عمرہ کرنے کے لئے حدیبیہ کے مقام تک پہنچ چکے ہیں تو وہ گھبرا اٹھے وجہ یہ تھی کہ اگر نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عمرہ ادا کرکے واپس جاتے ہیں تو قریش کی ہوا اکھڑ جائے گی اور اگر منع کرتے ہیں تو ساری دنیا میں یہ رسوائی ہوگی کہ اللہ کی عبادت سے اللہ کے بندوں کو روک دیا گیا پہلے تو کفار مکہ نے کچھ ایسی سازشیں کیں جن سے دنیا پر ظاہر کردیا جائے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ صحابہ (رض) عبادت کے لئے نہیں بلکہ جنگ کرنے کے لئے آئے ہیں مگر ان کی ہر سازش اور چال کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان پر ہی الٹ دیا۔ بالآخر وہ اس بات پر راضی ہوگئے کہ ہم مسلمانوں کو عبادت سے تو نہیں روکتے لیکن اس سال ایک معاہدہ کرلیتے ہیں تاکہ آئندہ سال مسلمانوں کو عمرہ کرنے کی اجازت اور سہولت دیدی جائے۔ چناچہ ایک معاہدہ دس سال کے لئے طے پا گیا جس کو تاریخ میں ” صلح حدیبیہ “ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ کفار مکہ نے اندرونی اور بیرونی دبائو کی وجہ سے معاہدہ تو کرلیا۔ لیکن اس کا مقصد صرف وقت کو ٹالنا تھا۔ چناچہ کفار مکہ اور ان کے حلیفوں نے ایسی سازشیں ، حملے اور خفیہ کاروائیاں شروع کردیں جن سے اس معاہدہ کی دھجیاں بکھر کر رکھ دی گئیں۔ چونکہ اس معاہدہ کی خلاف ورزی کفار مکہ کی طرف سے کی گئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دس ہزار صحابہ (رض) کے ساتھ بغیر کسی خون خرابے کے ٨ ہجری میں مکہ کو فتح کرلیا۔ مکہ فتح ہونے کا مطلب یہ تھا کہ پورے جزیرۃ العرب پر آپ کا اور آپ کے صحابہ کرام (رض) کا قبضہ ہوچکا ہے۔ لیکن کفارو مشرکین چوت کھائے ہوئے سانپ کی طرح اپنی انتقامی کاروائیوں میں مشغول رہتے تھے۔ فتح مکہ کے بعد پورے جزیرۃ العرب پر آپ کا مکمل کنٹرول ہوچکا تھا۔ لیکن اندرونی اور بیرونی خطرے بڑھتے ہی چلے جا رہے تھے اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے کفار و مشرکین سے دست برداری کا اعلان کردیا۔ ان آیات میں فرمایا گیا کہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے اعلان عام کیا جاتا ہے کہ مشرکین سے جو معاہدہ کیا گیا تھا اب اس سے دست برداری کا اعلان کیا جاتا ہے۔ اب کی حفاظت حکومت اسلامیہ کی ذمہ داری نہیں ہے۔ چار مہینے کی مدت دی جاتی ہے جس میں یہ اپنے مستقبل کے لئے کوئی فیصلہ کرسکتے ہیں (١) چار مہینے کے اندر اندر جو شخص کسی بھی جگہ جا کر اپنا ٹھکانا بنا سکتا ہو وہ بنا لے (٢) یا وہ کفر و شرک سے توبہ کر کے اسلام قبول کرنا چاہے تو کرلے (٣) لیکن اگر چار مہینے کی یہ مدت گزر گئی تو پھر ان کے صفایا کرنے میں کسی بھی کوشش کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔ جہاں یہ پائے جائیں گے ان کو گھیر کر تاک تاک کر قتل کیا جائے گا۔ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) سے نبی کریم و نے فرمایا کہ اے ابوبکر حج کے عظیم اجتماع میں جا کر اس بات کا اعلان کردو۔ پھر حضرت علی (رض) سے فرمایا کہ اے علی تم بھی جا کر ان آیتوں کو پرھ کر سب کو سنا دو اور اس کا اعلان عام کردو۔ چنانچہ ٩ ہجری کے حج کے موقع پر اس کا اعلان کیا گیا۔ ١٠ ہجری میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حج فرمایا تو اس موقع پر صرف اہل ایمان اس حج میں شریک تھے کفارو مشرکین کو نکال دیا گیا تھا۔ یہی وہ حج ہے جس کو حجتہ الوداع کہا جاتا ہے یہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دنیاوی زندگی کا آخری حج تھا اس حج کو حج اکبر فرمایا گیا ہے اور واقعتا اگر کوئی حج اکبر تھا تو وہ ہی تھا جس میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صرف اہل ایمان شریک تھے اس کے بعد کسی حج کو حج اکبر نہیں کہا جاسکتا مگر یہ کہ حج اکبر حج اصگر کے مقابلے میں بولا جائے کیونکہ اہل عرب عمرے کو حج اصگر کہتے ہیں اسیبنیاد پر امام ابوبکر حصاص (رح) نے احکام القرآن میں فرمایا کہ ایام حج کو حج اکبر کا دن کہنے سے یہ مسئلہ بھی معلوم ہوگیا کہ یہ ایمام حج کے لئے مخصوص ہیں اور ان میں عمرہ نہیں ہوسکتا ہے۔ یہ جو لوگوں میں مشہور ہے کہ جو حج جمعہ کے دن پڑجائے وہ حج اکبر ہوتا ہے یہ بات صحیح نہیں۔ یہ اپنی جگہ ایک فضیلت ضرور ہے کہ یوم عرفہ جمعہ کے روز ہوجائے لیکن اس بیاہد پر اسے حج اکبر کہنا عوامی اصطلاح ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ شریعت کی رو سے اس بات کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ ان آیتوں میں پہلا حکم تو یہ تھا۔ (٢) دوسرا حکم یہ فرمایا گیا کہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جس معاہدہ سے براءت کا اظہار فرمایا ہے اس میں یہ شرط ہے کہ اگر کسی قوم سے کوئی معاہدہ موجود ہے تو اس کا خیال رکھا جائے اور اپنی طرف سے معاہدہ کو نہ توڑا جائے۔ (٣) یا اگر کسی قوم سے کوئی ایسا معاہدہ ہے جسکی مدت مقرر ہے تو اس مدت کو اور اس معاہدہ کو پورا کیا جائے۔ (٤) چوتھی بات یہ فرمائی گئی کہ اگر کوئی مشرک آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پناہ کی درخواست کرے تو آپ اس کو۔ صرف اس وقت تک پناہ دے سکتے ہیں، اس کی حفاظت کرسکتے ہیں جب تک وہ اللہ کا کلام نہ سن لے۔ اگر وہ اللہ کا کلام سن کر ایمان لے آئے اور اسلامی احکامات نماز و زکوٰۃ کی پابندی کرلے تو فرمایا کہ اب اس کا راستہ چھوڑ دو ۔ لیکن اگر وہ اپنی کفر کی روش پر قائم رہتا ہے تو اس کو اس کی حفاظت کی جگہ پہنچا دیا جائے۔ (٥) پانچویں بات یہ فرمائی گئی کہ جب اشھر الحرم گزر جائیں یعنی رجب ذی قعدہ، ذی الحجہ اور محرم۔ ان چار مہینوں کے گزر نے کے بعد پھر تم جہاں بھی مشرکین کو پائو۔ گھیرو اور ہر گھات میں بیٹھ کر ان کو قتل کردو اور ان کے ساتھ کسی طرح کی نرمی کا معاملہ اختیار نہ کرو۔

Ayahs 9:1–6

بَرَآءَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَى الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَؕ Open ayah 9:1 in the Quran reader

اللہ اور اس کے رسول نے ان مشرکوں سے ہاتھ اٹھا لیا ہے جنہوں نے معاہدہ کرکے (اس کو توڑ دیا تھا)

فَسِیْحُوْا فِی الْاَرْضِ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللّٰهِ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ مُخْزِی الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:2 in the Quran reader

تم سرزمین حرم میں چار مہینے اور چل پھر لو اور اچھی طرح جان لو کہ تم اللہ کو عاجز و بےبس نہیں کرسکتے اور بیشک اللہ تعالیٰ کافروں کو ذلیل و رسوا کر کے رہے گا۔

وَ اَذَانٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَى النَّاسِ یَوْمَ الْحَجِّ الْاَكْبَرِ اَنَّ اللّٰهَ بَرِیْٓءٌ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ١ۙ۬ وَ رَسُوْلُهٗ١ؕ فَاِنْ تُبْتُمْ فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللّٰهِ١ؕ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ Open ayah 9:3 in the Quran reader

اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے حج اکبر کے دن اعلان عام کیا جاتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ مشرکوں سے دست بردار ہوچکے ہیں۔ پھر اگر تم توبہ کرتے ہو تمہارے حق میں یہی بہتر ہے اور اگر تم سے نے کفر کی روش کو قائم رکھا تو یاد رکھو تم اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے اور (اے نبی ﷺ ان لوگوں کو جنہوں نے کفر کیا ہے درد ناک عذاب کی خوش خبری دے دیجئے۔

اِلَّا الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ ثُمَّ لَمْ یَنْقُصُوْكُمْ شَیْئًا وَّ لَمْ یُظَاهِرُوْا عَلَیْكُمْ اَحَدًا فَاَتِمُّوْۤا اِلَیْهِمْ عَهْدَهُمْ اِلٰى مُدَّتِهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:4 in the Quran reader

سوائے ان لوگوں کے جن سے تم نے معاہدہ کیا ہوا ہے، جنہوں نے وعدہ میں بد عہدی نہیں کی اور نہ انہوں نے تمہارے مقابلے میں کسی کی مدد کی تو ان سے معاہدہ کی مدت کو پورا کرو۔ بیشک اللہ تقویٰ والوں کو پسند کرتا ہے

فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ وَ خُذُوْهُمْ وَ احْصُرُوْهُمْ وَ اقْعُدُوْا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ١ۚ فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:5 in the Quran reader

پھر جب اشھر الحرم ( احترام والے چار مہینے) گزر جائیں تو مشرکین کو جہاں بھی پائو ان کو قتل کررو، انہیں پکڑو، گھیرو اور ہر جگہ ان کی تاک میں بیٹھو۔ پھر اگر وہ توبہ کرلیں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو ان کا راستہ چھوڑ دو ۔ بیشک اللہ مغفرت کرنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔

وَ اِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ اسْتَجَارَكَ فَاَجِرْهُ حَتّٰى یَسْمَعَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ اَبْلِغْهُ مَاْمَنَهٗ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 9:6 in the Quran reader

اور اگر مشرکین میں سے کوئی بھی پناہ مانگے تو آپ اس کو اس وقوت تک پناہ دیدیجئے جب تک وہ اللہ کا کلام نہ سن لے پھر اس کو اس کی امن کی جگہ پہنچا دیجئے وجہ یہ ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو علم نہیں رکھتے۔

تعارف : ٭اس سورة کے دو نام آتے ہیں۔ (1) سورة توبہ۔ (2) سورة برأت۔ ٭ توبہ کے معنی پلٹنے اور لوٹنے کے ہیں۔ جب کوئی اللہ کا بندہ گناہوں سے نادم ہو کر سچے دل سے اللہ کی طرف یعنی نیکیوں کی طرف پلٹتا ہے اس کو توبہ کہتے ہیں۔ چونکہ اس سورة میں چند صحابہ کرام ؓ کی توبہ قبول کی گئی ہے اس لئے اس کا نام سورة توبہ رکھا گیا ہے۔ ٭ سورة براء ت… براءت کے معنی چھٹکارا پانا۔ بیزاری اور نفرت کا اظہار کرنا ہے۔ چونکہ کفار و مشرکین مسلسل اپنی عہد شکنیوں کے مجرم تھے اس لئے مسلمانوں نے جو معاہدے کیے جاتے ان کو ختم کرکے کفار و مشرکین کو حرمین سے نکالنے اور کفارو مشرکین کی بد عہدیوں سے نفرت کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس لئے اس کا سورة براءت بھی فرمایا گیا ہے۔ ٭ قرآن کریم کی تمام سورتوں کی ابتداء بسم اللہ الرحمن الرحیم سے اس لئے کی جاتی ہے کہ پڑھنے والے کو حصول برکت کے ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم ہوجائے کہ ایک سورة ختم ہو کر دوسری سورة شروع ہوگئی ہے۔ اس لئے اس بات کو ذہن میں رکھیے کہ بسم اللہ کسی سورة کا جزو نہیں ہے۔ سورة توبہ کے شروع میں بسم اللہ نہیں لکھی گئی ہے اس کی وجہ کیا ہے ؟ ٭اس سلسلے میں بہت سے حضرات نے بہت سی باتیں کہی ہیں حضرت عثمان غنی ؓ جو کہ جامع القرآن ہیں جب ان سے اس کی وجہ پوچھی گئی کہ سورة توبہ کے شروع میں بسم اللہ نہ لکھنے کی کیا وجہ ہے ؟ تو آپ ؓ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ پر جب بھی کوئی سورة یا آیات نازل ہوتیں تو آپ ﷺ کسی لکھنے والے کو بلا کر اسی وقت لکھوا دیتے۔ سورة انفال ان سورتوں میں سے ہے جو مدینہ منورہ کے ابتدائی دور میں نازل ہوئی جب کہ سورة توبہ آخری زمانے میں نازل ہوئی۔ ان دونوں سورتوں کے مضامین جو جہاد و قتال سے متعلق ہیں اس قدر ملتے جلتے اور ایک جیسے ہیں کہ میں سمجھا کہ سورة توبہ سورة انفال کا جزو ہے۔ چونکہ رسول ﷺ سے بھی کوئی خاص وضاحت سامنے نہیں آئی یہاں تک کہ آپ ﷺ اس دنیا قرآن کریم کی ہر سورة کی ابتداء بسم اللہ سے کی جاتی ہے صرف سورة کے شروع میں بسم اللہ نہیں لکھی جاتی۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ پر اور ان مہاجرین و انصار پر توجہ فرمائی ہے یعنی توبہ قبول کرلی جنہوں نے ایسی تنگی و پریشانی کے وقت پیغمبر کا ساتھ دیا جب کہ قریب تھا کہ ان میں سے ایک فریق کے دل پھرجائیں پھر وہ ان پر متوجہ ہوا۔ بیشک اللہ ان پر مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔ سے رخصت ہوگئے۔ اسلئے میں نے دونوں سورتوں کو پاس پاس رکھ دیا اور بیچ میں بسم اللہ کو نہیں لکھا۔ ٭اب سورة توبہ کی جب بھی تلاوت کی جائے گی تو عام دستور کے مطابق اس کے شروع میں بسم اللہ نہ لکھی جائے گی نہ پڑھی جائے گی، البتہ اگر کسی نے اس سورة کے درمیان سے تلاوت شروع کی تو اس میں اعوذ باللہ کے ساتھ بسم اللہ پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ٭ نبی کریم ﷺ نے مدینہ منورہ ، مکہ مکرمہ اور قبائل کے کفارو مشرکین سے آپس میں جنگ نہ کرنے کے معاہدے کیے ہوئے تھے مگر ان کی طرف سے مسلسل عہد شکنیوں اور بدعہدیوں کی وجہ سے فتح مکہ کے بعد حرمین کی سرزمین کو کفار و مشرکین کے وجود سے پاک کرنے کے احکامات دئیے تاکہ وہ تمام معاہدات جو پہلے سے کئے گئے تھے اب ختم کرکے حرمین کی سرزمین میں قیامت تک کفارو مشرکین کا داخلہ ممنوع کردیا جائے۔ فرمایا گیا ہے کہ چار مہینے یا کسی جاری معاہدے کی مدت ختم ہونے کے بعد اگر کفارو مشرکین اس سرزمین کو نہ چھوڑیں تو پھر ان سے قتال کیا جائے گا تاکہ کفر و شرک کے فتنے سے یہ سرزمین ہمیشہ کے لئے پاک ہوجائے گی۔ اور ان تین لوگوں پر بھی توجہ فرمائی جن کا معاملہ پیچھے رکھا گیا تھا۔ یہاں تک زمین اپنی وسعت کے باوجود ان پر ایسا بوجھ بن گئی تھی کہ ان کی جانوں پر بن آئی تھی۔ انہوں نے یہ سمجھ لیا تھا کہ اگر کوئی ٹھکانا ہے تو صرف اللہ ہی کی ذات ہے۔ ان تینوں حضرات حضرت کعب ابن مالک، مرارہ ابن ربیع اور حضرت ہلال ابن امیہ کی توبہ کو قبول کرلیا۔ آیات : 1 تا 6 لغات القرآن۔ براء ۃ۔ (براء ) ۔ چھٹکارا پانا۔ جان چھڑانا۔ عھدتم۔ تم نے معاہدہ کیا تھا۔ سیحوا۔ چلو پھرو۔ اربعۃ اشھر۔ چار مہینے ۔ غیر معجز اللہ۔ اللہ کو بےبس نہیں کرسکتے۔ مخزی۔ رسوا کرنے والا۔ اذان۔ اعلان ہے۔ الحج الاکبر۔ بڑا حج ( جس حج میں آپ ﷺ نے شرکت فرمائی) ۔ تبتم۔ تم نے توبہ کرلی۔ تولیتم۔ تم پلٹ گئے۔ لم ینقصوا۔ کمی نہ کی۔ لم یظاھروا۔ مدد نہ کی۔ اتموا۔ تم پورا کرو۔ انسلخ۔ نکل گیا۔ اقتلوا۔ جہاد کرو۔ وجدتھموھم۔ تم نے ان کو پایا۔ خذوا۔ پکڑو۔ احصروا۔ گھیرو۔ اقعدوا۔ بیٹھو۔ کل مرصد۔ ہر گھات کی جگہ۔ تابوا۔ انہوں نے توبہ کرلی۔ اقاموا۔ انہوں نے قائم کیا۔ اتوا۔ انہوں نے دیا۔ خلوا۔ چھوڑ دو ۔ سبیل۔ راستہ۔ ان احد۔ کوئی ایک۔ استجارک۔ آپ سے پناہ مانگے۔ اجرہ۔ اس کو پناہ دے سے۔ حتی یسمع۔ یہاں تک کہ وہ سن لے۔ ابلغہ۔ اس کو پہنچا دے۔ مامنہ، اس کی حفاظت کی جگہ۔ تشریح : سورۃ توبہ اور سورة براءت اس کے دو نام ہیں۔ اس سورت مین تین مخلص مسلمانوں کی توبہ قبول کرنے کا ذکر ہے اس لئے اس کو سورة توبہ کہتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے کفارو مشرکین سے ہاتھ اٹھا لینے اور بری الذمہ ہونے کے اعلان کی وجہ سے اس کو سورة براءت کہتے ہیں۔ قرآن کریم کی ہر سورت کے شروع میں ” بسم اللہ الرحم الرحیم “ لکھی ہوئی ہوتی ہے جو صرف اس بات کو علامت ہے کہ ایک سورت ختم ہونے کے بعد دوسری سورت شروع ہو رہی ہے۔ بسم اللہ قرآن کریم کی ایک آیت تو ہے جو سورة نمل میں آئی ہے لیکن ہر سورت کا جزو نہیں ہے۔ عام طریقے کے مطابق اس کے شروع میں ” بسم اللہ “ کیوں نہیں لکھی گئی یہ ایک سوال ہے ؟ جس کا صحابہ کرام ؓ اور علماء کرام نے جواب تحریر فرمایا ہے۔ (1) حضرت عثمان غنی ؓ فرماتے ہیں کہ مجھے یہ یاد نہیں ہے کہ سورة انفال اور سورة براءت دو سورتیں ہیں ایک سورت ہے ۔ مضمون کے لحاظ سے ایک سورت لگتی ہیں ممکن ہے دو سورتیں ہوں اس سلسلہ میں نبی کریم ﷺ کی کوئی واضح ہدایت مجھے یاد نہیں ہے۔ (2) بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس زمانہ میں جنگی اصول اور عام رواج کے مطابق جب کوئی ایسا ” نقض معاہدہ “ (معاہدہ توڑنا) کی مراسلت ہوتی تھی تو اس میں اللہ کا نام نہیں لکھتے تھے چونکہ اس سورت مین کفار و مشرکین سے براءت، بےزاری اور دست برداری کا اعلان کیا گیا ہے ممکن ہے اس وجہ سے بسم اللہ نہ لکھی گوئی ہو۔ اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے۔ بہرحال امن کے نزدیک یہ دو سورتیں کی جاتی ہیں اسی لئے سورة انفال کے بعد جب سورة توبہ شروع ہوتی ہے تو کچھ جگہ خالی ہوتی ہے جس میں بسم اللہ نہیں ہوتی۔ مسئلہ کی رو سے اب جب بھی سورة براءت شروع کی جائے گی تو اس کے شروع میں بسم اللہ نہ لکھی جائے گی اور نہ پڑھی جائے گی لیکن اگر کسی شخص نے سورة ٔ براءت کو کچھ حصہ پڑھ لیا اور رک گیا تو دوبارہ تلاوت کرتے وقت اعوذ باللہ کے ساتھ بسم اللہ پڑھ لے تو کوئی حرج نہیں ہے۔ سورة ٔ برأت کے پہلے رکوع (آیت نمبر 1 تا نمبر 6) میں کفارو مشرکین سے دست برداری کے اعلان اور اس عمل کرنے کا جو بھی حکم دیا گیا ہے اس کی تفصیل یہ ہے۔ (1) 6 ہجری میں نبی کریم ﷺ نے عمرہ ادا کرنے کا ارادہ فرمایا اور چودہ سو صحابہ کرام ؓ بیت اللہ کی زیارت کے لئے آپ کے ہمراہ ہوگئے۔ بیت اللہ جو اللہ کا گھر ہے اس میں موافق، مخالف، دوست اور دشمن کسی کو زیارت بیت اللہ سے روکنے کا کسی کو حق حاصل نہیں تھا۔ جب کفار مکہ کو یہ معلوم ہوا کہ نبی کریم ﷺ اور ڈیڑھ ہزار صحابہ ؓ رسول اللہ ﷺ عمرہ کرنے کے لئے حدیبیہ کے مقام تک پہنچ چکے ہیں تو وہ گھبرا اٹھے وجہ یہ تھی کہ اگر نبی مکرم ﷺ عمرہ ادا کرکے واپس جاتے ہیں تو قریش کی ہوا اکھڑ جائے گی اور اگر منع کرتے ہیں تو ساری دنیا میں یہ رسوائی ہوگی کہ اللہ کی عبادت سے اللہ کے بندوں کو روک دیا گیا پہلے تو کفار مکہ نے کچھ ایسی سازشیں کیں جن سے دنیا پر ظاہر کردیا جائے کہ نبی کریم ﷺ اور آپ صحابہ ؓ عبادت کے لئے نہیں بلکہ جنگ کرنے کے لئے آئے ہیں مگر ان کی ہر سازش اور چال کو نبی کریم ﷺ نے ان پر ہی الٹ دیا۔ بالآخر وہ اس بات پر راضی ہوگئے کہ ہم مسلمانوں کو عبادت سے تو نہیں روکتے لیکن اس سال ایک معاہدہ کرلیتے ہیں تاکہ آئندہ سال مسلمانوں کو عمرہ کرنے کی اجازت اور سہولت دیدی جائے۔ چناچہ ایک معاہدہ دس سال کے لئے طے پا گیا جس کو تاریخ میں ” صلح حدیبیہ “ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ کفار مکہ نے اندرونی اور بیرونی دبائو کی وجہ سے معاہدہ تو کرلیا۔ لیکن اس کا مقصد صرف وقت کو ٹالنا تھا۔ چناچہ کفار مکہ اور ان کے حلیفوں نے ایسی سازشیں ، حملے اور خفیہ کاروائیاں شروع کردیں جن سے اس معاہدہ کی دھجیاں بکھر کر رکھ دی گئیں۔ چونکہ اس معاہدہ کی خلاف ورزی کفار مکہ کی طرف سے کی گئی تو آپ ﷺ نے دس ہزار صحابہ ؓ کے ساتھ بغیر کسی خون خرابے کے 8 ہجری میں مکہ کو فتح کرلیا۔ مکہ فتح ہونے کا مطلب یہ تھا کہ پورے جزیرۃ العرب پر آپ کا اور آپ کے صحابہ کرام ؓ کا قبضہ ہوچکا ہے۔ لیکن کفارو مشرکین چوت کھائے ہوئے سانپ کی طرح اپنی انتقامی کاروائیوں میں مشغول رہتے تھے۔ فتح مکہ کے بعد پورے جزیرۃ العرب پر آپ کا مکمل کنٹرول ہوچکا تھا۔ لیکن اندرونی اور بیرونی خطرے بڑھتے ہی چلے جا رہے تھے اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے کفار و مشرکین سے دست برداری کا اعلان کردیا۔ ان آیات میں فرمایا گیا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے اعلان عام کیا جاتا ہے کہ مشرکین سے جو معاہدہ کیا گیا تھا اب اس سے دست برداری کا اعلان کیا جاتا ہے۔ اب کی حفاظت حکومت اسلامیہ کی ذمہ داری نہیں ہے۔ چار مہینے کی مدت دی جاتی ہے جس میں یہ اپنے مستقبل کے لئے کوئی فیصلہ کرسکتے ہیں (1) چار مہینے کے اندر اندر جو شخص کسی بھی جگہ جا کر اپنا ٹھکانا بنا سکتا ہو وہ بنا لے (2) یا وہ کفر و شرک سے توبہ کر کے اسلام قبول کرنا چاہے تو کرلے (3) لیکن اگر چار مہینے کی یہ مدت گزر گئی تو پھر ان کے صفایا کرنے میں کسی بھی کوشش کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔ جہاں یہ پائے جائیں گے ان کو گھیر کر تاک تاک کر قتل کیا جائے گا۔ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے نبی کریم و نے فرمایا کہ اے ابوبکر حج کے عظیم اجتماع میں جا کر اس بات کا اعلان کردو۔ پھر حضرت علی ؓ سے فرمایا کہ اے علی تم بھی جا کر ان آیتوں کو پرھ کر سب کو سنا دو اور اس کا اعلان عام کردو۔ چنانچہ 9 ہجری کے حج کے موقع پر اس کا اعلان کیا گیا۔ 10 ہجری میں نبی کریم ﷺ نے حج فرمایا تو اس موقع پر صرف اہل ایمان اس حج میں شریک تھے کفارو مشرکین کو نکال دیا گیا تھا۔ یہی وہ حج ہے جس کو حجتہ الوداع کہا جاتا ہے یہ آپ ﷺ کی دنیاوی زندگی کا آخری حج تھا اس حج کو حج اکبر فرمایا گیا ہے اور واقعتا اگر کوئی حج اکبر تھا تو وہ ہی تھا جس میں نبی کریم ﷺ اور صرف اہل ایمان شریک تھے اس کے بعد کسی حج کو حج اکبر نہیں کہا جاسکتا مگر یہ کہ حج اکبر حج اصگر کے مقابلے میں بولا جائے کیونکہ اہل عرب عمرے کو حج اصگر کہتے ہیں اسیبنیاد پر امام ابوبکر حصاص (رح) نے احکام القرآن میں فرمایا کہ ایام حج کو حج اکبر کا دن کہنے سے یہ مسئلہ بھی معلوم ہوگیا کہ یہ ایمام حج کے لئے مخصوص ہیں اور ان میں عمرہ نہیں ہوسکتا ہے۔ یہ جو لوگوں میں مشہور ہے کہ جو حج جمعہ کے دن پڑجائے وہ حج اکبر ہوتا ہے یہ بات صحیح نہیں۔ یہ اپنی جگہ ایک فضیلت ضرور ہے کہ یوم عرفہ جمعہ کے روز ہوجائے لیکن اس بیاہد پر اسے حج اکبر کہنا عوامی اصطلاح ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ شریعت کی رو سے اس بات کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ ان آیتوں میں پہلا حکم تو یہ تھا۔ (2) دوسرا حکم یہ فرمایا گیا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے جس معاہدہ سے براءت کا اظہار فرمایا ہے اس میں یہ شرط ہے کہ اگر کسی قوم سے کوئی معاہدہ موجود ہے تو اس کا خیال رکھا جائے اور اپنی طرف سے معاہدہ کو نہ توڑا جائے۔ (3) یا اگر کسی قوم سے کوئی ایسا معاہدہ ہے جسکی مدت مقرر ہے تو اس مدت کو اور اس معاہدہ کو پورا کیا جائے۔ (4) چوتھی بات یہ فرمائی گئی کہ اگر کوئی مشرک آپ ﷺ سے پناہ کی درخواست کرے تو آپ اس کو۔ صرف اس وقت تک پناہ دے سکتے ہیں، اس کی حفاظت کرسکتے ہیں جب تک وہ اللہ کا کلام نہ سن لے۔ اگر وہ اللہ کا کلام سن کر ایمان لے آئے اور اسلامی احکامات نماز و زکوٰۃ کی پابندی کرلے تو فرمایا کہ اب اس کا راستہ چھوڑ دو ۔ لیکن اگر وہ اپنی کفر کی روش پر قائم رہتا ہے تو اس کو اس کی حفاظت کی جگہ پہنچا دیا جائے۔ (5) پانچویں بات یہ فرمائی گئی کہ جب اشھر الحرم گزر جائیں یعنی رجب ذی قعدہ، ذی الحجہ اور محرم۔ ان چار مہینوں کے گزر نے کے بعد پھر تم جہاں بھی مشرکین کو پائو۔ گھیرو اور ہر گھات میں بیٹھ کر ان کو قتل کردو اور ان کے ساتھ کسی طرح کی نرمی کا معاملہ اختیار نہ کرو۔
Ayahs 9:7–12

كَیْفَ یَكُوْنُ لِلْمُشْرِكِیْنَ عَهْدٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عِنْدَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَّا الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ۚ فَمَا اسْتَقَامُوْا لَكُمْ فَاسْتَقِیْمُوْا لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:7 in the Quran reader

اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک ان مشرکین سے کیسے کوئی معاہدہ قائم رہ سکتا ہے سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے مسجد حرام کے پاس معاہدہ کیا تھا۔ اگر وہ تمہارے ساتھ سیدھے رہیں تو تم بھی ان سے سیدھا معاملہ کرو۔ بیشک اللہ اہل تقویٰ کو پسند کرتا ہے۔

كَیْفَ وَ اِنْ یَّظْهَرُوْا عَلَیْكُمْ لَا یَرْقُبُوْا فِیْكُمْ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّةً١ؕ یُرْضُوْنَكُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ تَاْبٰى قُلُوْبُهُمْ١ۚ وَ اَكْثَرُهُمْ فٰسِقُوْنَۚ Open ayah 9:8 in the Quran reader

(ان سے صلح) کیسے رہ سکتی ہے اگر وہ تمہارے اوپر غلبہ حاصل کرلیں تو پھر وہ کسی رشتہ داروی کا خیال کریں گے نہ کسی قول وقرار کا۔ وہ تمہیں (چکنی چپڑی) باتوں سے بہلا رہے ہیں مگر ان کے دل مخالف ہیں اور ان میں سے اکثر تو نافرمان نہیں۔

اِشْتَرَوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 9:9 in the Quran reader

انہوں نے اللہ کی آیات کو تھوڑی سے گھٹیا قیمت پر بیچ دیا اور وہ اللہ کے راستے سے ہٹے ہوئے ہیں۔ کیسے برے کرتوت ہیں جو وہ لوگ کر رہے ہیں۔

لَا یَرْقُبُوْنَ فِیْ مُؤْمِنٍ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّةً١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُعْتَدُوْنَ Open ayah 9:10 in the Quran reader

مومنوں کے معاملہ میں نہ وہ کسی قرابت داری کا خیال کرتے ہیں اور نہ کسی معاہدہ کا۔ یہی لوگ حد سے بڑھ رہے ہیں۔

فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِ١ؕ وَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 9:11 in the Quran reader

پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز کو قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں۔ اور ہم ان لوگوں کے لئے آیات کھول کھول کر بیان کر رہے ہیں جو لوگ سمجھ بوجھ رکھتے ہیں۔

وَ اِنْ نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَ طَعَنُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ فَقَاتِلُوْۤا اَئِمَّةَ الْكُفْرِ١ۙ اِنَّهُمْ لَاۤ اَیْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَنْتَهُوْنَ Open ayah 9:12 in the Quran reader

اور اگر وہ معاہدہ کے بعد اپنی قسموں کو توڑ ڈالین اور تمہارے دین پر طعن و طنز کریں تو تم کفر کے سرداروں کو قتل کرو۔ کیونکہ ان کی قسموں کو کوئی اعتبار نہیں ہے۔ شائد کہ وہ (اپنی حرکتوں سے) باز آجائیں۔

آیات : 7 تا 12 لغات القرآن۔ استقاموا۔ سیدھے ہیں۔ ان یظھروا۔ اگر وہ غالب آجائیں۔ لا یرقبوا۔ لحاظ نہ کریں گے۔ الا ۔ قریبی دوستی۔ رشتہ داری۔ ذمۃ۔ عہد۔ معاہدہ۔ یرضون۔ وہ راضی کرتے ہیں۔ افواہ۔ (فوہ) ۔ منہ۔ اشتروا۔ خرید لیا۔ لے لیا۔ ثمنا قلیلا۔ گھٹا ا قیمت۔ تھوڑی قیمت۔ المتعدون۔ حد سے نکل جانے والے۔ اخوان۔ (اخ) ۔ بھائی۔ نکثوا۔ توڑ دیں۔ ایمانھم۔ اپنی قسمیں۔ طعنوا۔ طعنے دیں۔ برائیاں نکالیں۔ ائمۃ الکفر۔ کفر کے سردار ۔ سرغنے۔ تشریح : قرآن کریم کی ان آیات سے جو ہدایات ربانی فراہم ہوتی ہیں وہ حسب ذیل ہیں۔ (1) وہ معاہدے جو رسول اللہ ﷺ نے مسجد حرام کے پاس اور اس کے آس پاس کے قبیلوں یعنی بنو کنانہ، بنو خزاعہ اور بنی حمیرہ کے ساتھ کئے تھے وہ اپنی آخری مدت تک قائم رہیں گے۔ فرمایا کہ اگر وہ سیدھے طریقے پر چلتے ہیں ۔ اپنے معاہدوں کی پابندی کرتے ہیں تو اہل ایمان پر بھی تمام معاہدوں کی پابندی لازم ہے لیکن اگر وہ خود ہی اس عہدو معاہدہ کو توڑ دیتے ہیں تو بیشک اللہ کو احتیاط پسند ہے مگر ہر قوم سے وہی معاملہ کیا جائے جو اس نے مسلمانوں سے کیا ہوا ہے۔ (2) ان مشرکین کے ساتھ عہد و معاہدہ کی پابندی نہیں ہوسکتی جنہوں نے دشمنان اسلام کی مدد کرکے معاہدہ توڑ دیا ہے ۔ بلکہ معاہدہ کرتے وقت ہی ان کی نیت میں اخلاص نہ تھا وہ چکنی چپڑی باتیں جو ظاہر اً ان کی زبان پر تھیں وہ باطناً ان کے دل میں نہ تھیں۔ آج بھی ان کے دل کدورت اور نفرتوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ اگر وہ ذرا بھی قابو پاجائیں تو اہل اسلام پر حملہ کرنے میں پس و پیش نہ کریں گے۔ نہ قرابت کا لحاظ کریں گے نہ کسی معاہدہ کا ہمیشہ زیادتی ان ہی کی طرف سے ہوتی ہے۔ فرمایا کہ ان مشرکوں کے ساتھ معاہدہ کی پابندیاں بھی نہیں ہوسکتیں، اگرچہ ان کے اندر کچھ اچھے لوگ بھی ہیں مگر اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو نافرمان اور گناہ کے دل دادہ ہیں۔ جن کے دلوں میں ذرا بھی اللہ کا خوف نہیں ہے وہ اس مادی دنیا کے پیچھے پاگل بنے ہوئے ہیں حالانکہ دنیا کا فائدہ عارضی ہے۔ اور اس ابدی اور عظیم ترین فائدہ کو چھوڑ رہے ہیں جس کا نام خوشنودی الٰہی ہے۔ (3) فرمایا کہ اس سب کو باوجود اسلام نے معافی اور درگزر کا دروازہ اب بھی کھلا رکھا ہے۔ اگر وہ اب بھی تو بہ کرلیں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو وہ لوگ ملت اور اخوت اسلامی میں داخل ہوسکتے ہیں۔ (4) لیکن اگر انہوں نے اسلام دشمنی اور معاہدہ شکنی کی روش کو اپنایا تو پھر ان کے سرغنوں سرداروں اور کفر کے لیڈروں کو تلواروں کی نوک پر رکھا جائے گا کیونکہ وہ اب تلوار سے نیچے کسی طرح مانیں گے۔ معاہدہ توڑنے والوں کے ساتھ نیا معاہدہ بیکار ہے۔ فرمایا کہ ان تمام باتوں کے باوجود اگر وہ اب بھی کفر وشرک سے توبہ کرکے دین اسلام کو سچے دل سے قبول کرلیں اور صلوٰۃ و زکوٰۃ کے ذریعہ اپنی اسلاح کرلیں تو وہ نہ صرف ملت اسلامیہ کا ایک فرد بن جائیں گے بلکہ ان کے ماضی کے حالات اور عہد شکنیوں سے بھی اہل ایمان تعرض نہیں کریں گے۔ اس سے ثابت ہوا کہ جو صلوٰۃ و زکوٰۃ کا انکار کردے وہ مسلم نہیں ہے وہ مشرک و فاسق ہے۔ سیدنا ابوبکر صدیق ؓ کے زمانہ خلافت میں کچھ لوگوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کیا تو آپ ؓ نے صحابہ کرام ؓ کے سامنے اسی آیت سے استدلال کرکے فرمایا تھا کہ اگر وہ زکوٰۃ کا انکار کریں گے تو میں ان کے خلاف تلوار اٹھاؤں گا کیونکہ ایسے لوگ کتنے بھی اچھے اعمال کرتے ہوں اسلام کے اس عظیم رکن کی توہین بردات نہیں کی جائے گی۔ چناچہ جھوٹی نبوت کے دعویداروں کے ساتھ ساتھ مانعین زکوٰۃ کے خلاف بھی جہاد کیا اور ان سے کافروں جیسا سلوک کیا گیا۔ (5) فرمایا گیا کہ اگر وہ اپنے عہد و معاہدے اور قسموں کو توڑتے ہیں اور اسلام کو طعن و طنز کے نشتروں سے زخمی کرنا چاہتے ہیں تو ان کے سرغنوں اور سرداروں کے خلاف اقدامات کئے جائیں وجہ یہ ہے کہ یہی لوگ دین کے آڑے آرہے ہیں۔ یہ اپنے ذاتی مفادات کے لئے عوام کو تباہ و برباد کر رہے ہیں۔ جو لوگ دین اسلام کی طرف آنا چاہتے ہیں یہ ان کو طرح طرح کے نعرے دے کر اس سے روک رہے ہیں لہٰذا راست کی اس رکاوٹ کو دور کرکے ان سرداروں سے قتال کیا جائے۔
Ayahs 9:13–16

اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ وَ هَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَ هُمْ بَدَءُوْكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ؕ اَتَخْشَوْنَهُمْ١ۚ فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْهُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:13 in the Quran reader

(اے مومنو ! ) کیا تم ایسی قوم سے قتال نہ کروے گے جنہوں نے اپنی قسموں (معاہدہ) کو توڑ ڈالا اور انہوں نے رسول کو نکالنے کی سازش کی۔ پہلے انہوں نے تم سے چھیڑ چھاڑ کی۔ کیا تم ان سے ڈرتے ہو ؟ حالانکہ اللہ اس کا زیادہ حق دار ہے کہ اس سے ڈرا جائے اگر تم مومن ہو۔

قَاتِلُوْهُمْ یُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَیْدِیْكُمْ وَ یُخْزِهِمْ وَ یَنْصُرْكُمْ عَلَیْهِمْ وَ یَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 9:14 in the Quran reader

تم ان سے قتال کرو تاکہ اللہ تمہارے ہاتھوں سے انکو سزا دلوائے۔ انہوں رسوا کردے اور ان پر تمہیں فتح و نصرت اور مومنوں کے دلوں کو ٹھنڈک عطا فرمائے

وَ یُذْهِبْ غَیْظَ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ یَتُوْبُ اللّٰهُ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:15 in the Quran reader

اور ان کے دلوں سے غصے کو نکال دے۔ وہ جس پر چاہتا ہے توجہ فرماتا ہے۔ اللہ علم و حکمت والا ہے۔

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَكُوْا وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَ لَمْ یَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لَا رَسُوْلِهٖ وَ لَا الْمُؤْمِنِیْنَ وَلِیْجَةً١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 9:16 in the Quran reader

کیا تم یہ سمجھ بیٹھے کہ یوں ہی چھوڑ دئیے جائو گے حالانکہ ابھی تو اللہ نے ان کو جانچا ہی نہیں جو تم میں سے جہاد کرنے والے ہیں۔ اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ اور مومنوں کے سوا کسی کو اپنا جگری (راز دار) دوست نہ بنائو۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس کی پوری طرح خبر رکھتا ہے

آیات : 13 تا 16 لغات القرآن۔ ھموا۔ انہوں نے ارادہ کیا۔ اخراج۔ نکالنا۔ بدء وا۔ انہوں نے ابتدا کی۔ اول مرۃ۔ پہلی مرتبہ۔ اتخشون۔ کیا تم ڈرتے ہو۔ احق۔ زیادہ حق دار ہے۔ ان تخشوہ۔ یہ کہ تم اسے ڈرو۔ یخزی۔ وہ رسوا کرے گا۔ یشف۔ شفا دے گا۔ صدور۔ (صدر) ۔ سینے۔ یذھب۔ دور کردے گا۔ غیظ۔ غصہ ۔ ام حسبتم۔ کیا تم نے سمجھ لیا۔ ان تترکوا۔ یہ کہ چھوڑ دئیے جائو گے۔ لما یعلم۔ ابھی تو معلوم ہی نہیں ہوا۔ لم یتخذوا۔ نہیں بنایا۔ ولیجۃ۔ گہرا دوست۔ جگری دوست۔ تشریح : فتح مکہ کے بعد اگر چہ مشرکین کا زور اور جنگی طاقت دم توڑ چکی تھی لیکن سانپ ابھی تک سانس لے رہا تھا دین اسلام کی پالیس یہ ہے کہ اللہ و رسول کے دشمنوں سے جس حد تک ممکن ہو آسانی کا معاملہ کیا جائے لیکن اگر وہ اپنی سازشوں اور حرکتوں سے باز نہیں آتے تو ان کے خلاف راست اقدام کیا جائے اور فتنہ کا سر کچل دیا جائے۔ ان ہی اقدامات میں سے ایک قدم یہ تھا کہ اب ایک خاص مدت کے بعد کوئی مشرک اور کافر حرم مکہ میں داخل نہ ہونے پائے اور مشرکین کا کوئی عمل دخل حج اور خانہ کعبہ کے انتظامات سے نہ رہے۔ اس طرح ان کی مالی منصبی اور دوسری طاقتوں کو ختم کردیا گیا تاکہ وہ مسلمانوں اور ان کے دین کے خلاف مرکز میں بیٹھ کر سازشیں نہ کرسکیں۔ اس سے ایک فائدہ یہ بھی ہوا کہ ان رسوم کی جڑ کاٹ کر رکھ دی گئی جن پر مشرکین کی خاص طاقت اور خاص آمدنی قائم تھی۔ چنانچہ اب خطرہ یہ تھا کہ یہود و نصاریٰ ، کفار اور مشرکین آپس میں گٹھ جوڑ کر کے ایک مرتبہ پھر اپنی بچی کچھی طاقت اسلام کے خلاف نہ لگا دیں اور جنگ کے شعلے نہ بھڑک اٹھیں تو اب فرمان الٰہی کا رخ اہل ایمان کی طرف پھر گیا ہے جس میں ہر طرح کے خطروں اور سازشوں سے نبٹنے کے لئے زبردست الفاظ میں جہاد کی تلقین کی گئی ہے۔ فرمایا گیا کہ اے مومنو ! کیا تم ایسی قوم سے جہاد و قتال کے بارے میں پس پیش کر رہے ہو جنہوں نے نہ صرف اپنے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے بلکہ انہوں نے تمہارے رسول ﷺ کے خلاف بھی ہر وہ سازش کی ہے جو ان کے امکان میں تھی۔ انہوں نے تمہارے رسول ﷺ کو وطن سے بےوطن کیا ہے۔ ان کے خلاف سازشیں کی ہیں۔ اپنی طاقت و قوت کا غلط استعمال کیا ہے ابتداء انہوں نے کی ہے اب ان سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ جو اللہ سے ڈرتا ہے اس کے دل میں اللہ کے سوا کسی کا ڈر اور خوف نہیں ہوتا۔
Ayahs 9:17–22

مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِیْنَ اَنْ یَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰهِ شٰهِدِیْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ١ۖۚ وَ فِی النَّارِ هُمْ خٰلِدُوْنَ Open ayah 9:17 in the Quran reader

مشرکین کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ اللہ کی مسجدوں کو آباد کریں جب کہ وہ اپنے کفر پر خود گواہ ہوں۔ یہ تو وہ لوگ ہیں جن کے اعمال (ان کے شرک کے سبب) غارت ہوگئے اور وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔

اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَ وَ لَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰهَ فَعَسٰۤى اُولٰٓئِكَ اَنْ یَّكُوْنُوْا مِنَ الْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 9:18 in the Quran reader

اللہ کی مسجدیں تو وہ آباد کرتا ہے جو اللہ پر اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے، نماز قائم کرتا اور زکوۃ دیتا ہے اور اللہ کے سوا کسی کا خوف نہیں رکھتا۔ توقع ہے کہ یہی وہ لوگ ہیں جو ہدایت حاصل کرنے والے ہیں

اَجَعَلْتُمْ سِقَایَةَ الْحَآجِّ وَ عِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ جٰهَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ لَا یَسْتَوٗنَ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۘ Open ayah 9:19 in the Quran reader

اور کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجد حرام کی تعمر ( کرنے کے کام کو اس کے برابر سمجھ لیا ہے جو شخص اللہ پر، اور آخرت پر ایمان لاتا ہے اور اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہے۔ یہ دونوں اللہ کے نزدیک برابر نہیں ہیں اور ظالموں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ۙ اَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 9:20 in the Quran reader

وہ لوگ جو ایمان لائے۔ جنہوں نے ہجرت کی اور اللہ کے راستے میں اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے جہاد کیا۔ اللہ کے نزدیک ان کا بہت بڑا رتبہ ہے اور یہی وہ لوگ ہیں جو کامیاب و بامراد ہیں۔

یُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ وَ رِضْوَانٍ وَّ جَنّٰتٍ لَّهُمْ فِیْهَا نَعِیْمٌ مُّقِیْمٌۙ Open ayah 9:21 in the Quran reader

ان کا پروردگار ان کو اپنی رحمت، اپنی رضا و خوشنودی اور ایسی جنتوں کی خوش خبری دیتا ہے جس میں حاصل ہونے والی نعمتیں ہمیشہ رہیں گی

خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 9:22 in the Quran reader

جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے بیشک اللہ کے پاس اجر عظیم ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 22 ان یعمروا (یہ کہ وہ آباد کریں) شھدین (گواہ ہیں (گواہی دینے والے) حبطت ضائع ہوگئی (ضائے ہوگئے) النار (آگ) لم یخش نہیں ڈرتا (نہیں ڈرا) عسی (شاید کہ، امید ہے کہ) المھتدین (ہدایت پانے والے ) اجعلتم (کیا تم نے بنا لیا ہے سقایۃ (پانی پلانا) عمارۃ (تعمیر کرنا، آباد کرنا، بسانا) لایستون (دونوں برابر نہیں ہیں) لایھدی (ہدایت نہیں دیتا ) اعظم (بہت بڑا) الفآئزون (کامیاب ہونے والے) رضوان (خوشنودی) نعیم مقیم (ہمیشہ رہنے والی نعمتیں ) ابداً (ہمیشہ) اجر عظیم (بہت بڑا اجر، بدلہ) تشریح :- آیت نمبر 17 تا 22 فتح مکہ کے بعد رسول اللہ ﷺ نے خانہ کعبہ اور مسجد حرام سے بتوں کو ہٹوا دیا تھا۔ اس طرح اللہ کا گھر بتوں سے پاک صاف ہوگیا ، کفار و مشرکین سے ان کے ظلموں کا بدلہ لئے بغیر ان کو عاف معافی دیدی گئی تھی چناچہ مشرکین اب بھی نماز، حج اور طواف اپنے باطل طریقوں پر کرنے کیلئے آزاد تھے۔ جہاں اہل ایمان ان ارکان کو ادا کرتے وہیں کفار و مشرکین اپنے طریقوں سے کرنے میں کوئی رکاوٹ محسوس نہ کرتے تھے۔ حج کے عظیم اجتماع میں اگر ایک طرف اہل ایمان ہوتے تو دوسری طرف کفار و مشرکین بھی اپنے طریقے پر حج اور اس کے ارکان کو ادا کرتے تھے۔ فتح مکہ کے اگلے ہی سال حضور اکرم ﷺ نے اس بات کا اعلان کرنے کے لئے حضرت ابوبکر صدیق کو حج کے عظیم اجتماع میں اپنی طرف سے بھیج دیا کہ اب آئندہ سال سے عبادت کا کوئی باطل طریقہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ جب یہی سورة انفال کی آیات نازل ہوئیں تو نبی کریم ﷺ نے حضرت علی مرتضیٰ کو یہ کہہ کر روانہ کردیا کہ حج کے اجتماع عام میں ان آیات کو پڑھ کر سنا دیا جائے کہ اللہ اور اس کے رسول کے احکامات یہ ہیں کہ آئندہ سال سے حج میں کوئی مشرک و کافر شرکت نہ کرسکے گا اور کسی کو ننگے ہو کر طواف کرنے کی اجازت نہ ہوگی۔ آیت نمبر 17 کے ذریعے یہ اعلان بھی ہوگیا کہ نہ صرف مسجد حرام کی بلکہ کسی مسجد کی بھی کوئی خدمت مشرکین انجام نہ دے سکیں گے۔ آیت نمبر 18 میں یہ بتایا گیا ہے کہ آئندہ سے مساجد کی خدمت صرف وہی لوگ انجام دے سکیں گے جو نماز اور زکوۃ کے نظام کو قائم کریں گے اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈریں گے۔ آیت نمبر 19 کی شان نزول کے بارے میں مفسرین نے لکھا ہے کہ ۔ مشرکین مکہ اس بات پر بہت فخر و غرور کیا کرتے تھے کہ ہم بیت اللہ اور مسجد حرام کے متولی اور اس کی عمارت کی حفاظت و ترقی کے ذمہ دار ہیں۔ حضرت عبداللہ ابن عباس کا بیان ہے کہ جب ان کے والد اور نبی کریم ﷺ کے چچا حضرت عباس جنہوں نے اس وقت تک ایمان قبول نہیں کیا تھا اور غزوہ بدر میں گرفتار کر لئے گئے تھے۔ جب ان کو کفر و شرک میں رہنے سے عار دلائی گئی تو انہوں نے جواب دیا کہ تم لوگ صرف ہماری برائیاں کرتے ہو اور ہماری بھلائیوں کا ذکر نہیں کرتے ہو۔ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ ہم لوگ بیت اللہ اور مسجد حرام کو آباد رکھنے اس کا انتظام کرنے اور حجاج کرام کو پانی پلانے جیسی مقدس خدمات کے بھی متولی و منتظم ہیں۔ اس پر قرآن میں آیت نمبر 17 تا 19 نازل ہوئیں جن میں اس بات کو وضاحت سے ارشاد فرما دیا گیا ہے کہ کیا حاجیوں کو پانی پلانا، مسجد حرام کا انتظام کرنا اور دوسری خدمات سر انجام دینا ایمان باللہ ایمان بالآخرۃ اور جہاد فی سبیل اللہ کے برابر ہو سکتی ہیں۔ ہرگز نہیں اللہ کے نزدیک ایسے ایمان لانے والوں اور مجاہدین کا بہت بڑا رتبہ اور مقام ہے اور ان کے لئے جنت کی راحتیں اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی، جنت کی دائمی نعمتیں ان کی منتظر ہیں جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور تصور سے بھی زیادہ وہ اجر عظیم کے مستحق ہوں گے۔ ایسے نجات پانے والے اور کفر و شرک میں مبتلا رہ کر اللہ کے گھر کی نگہبانی کا دعویٰ کرنے والے برابر کیسے ہو سکتے ہیں۔ آیت نمبر 18 میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ مسجدوں کو آباد رکھنا اہل ایمان کی ذمہ داری ہے۔ اس میں جو عمارت کا لفظ آیا ہے اس کے کئی معنی ہیں (1) ظاہری در و دیوار کی تعمیر (2) مسجدوں کی حفاظت ، صفائی ستھرائی اور ضروریات کا انتظام کرنا (3) نماز اعتکاف ، تلاوت، حفظ قران درس و تدریس وغیرہ مسجد کے اندر انجام دینا۔ ظاہر ہے یہ سارے کام اب وہی سر انجام دیں گے جو اہل ایمان و اہل توحید ہیں۔ مشرکین کو اس کی اجازت نہیں ہے۔ اسی طرح یہ مسئلہ بھی واح ہے کہ یہود و نصاریٰ اور کفار و مشرکین سے چندہ لے کر مسجدوں کی تعمیر اور اس کا انتظام حرام ہے۔ وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ حرام و حلال کا کوئی تصور نہیں رکھتے۔ ان کے پاس عام طور سے کمائی سود، شراب، زنا کاری اور حرام ذریعوں سے حاصل ہوتی ہے۔ اگر کوئی شخص ان کفار سے چندہ لے کر مسجد تعمیر کرے گا تو نہ صرف اس پر کوئی ثواب نہیں ہوگا بلکہ حرام کمائی سے اللہ کا گھر تعمیر کرنے کا ایسے لوگوں کو عذاب بھی ہوگا۔ وجہ یہ ہے کہ یہاں مسجدوں کی آبادی و تعمیر کیلئے چار چیزوں کو بنیادی طور پر بیان فرمایا گیا ہے۔ (1) ایمان، (2) نماز، (3) زکوۃ (4) جہاد، بین السطور یہ بات بہت واضح طور پر کہی گئی ہے کہ جس شخص میں ان میں سے کسی ایک صفت کی بھی کمی ہوگی وہ مسجدوں کی آبادی میں حصہ نہیں لے سکتا۔
Ayahs 9:23–24

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰبَآءَكُمْ وَ اِخْوَانَكُمْ اَوْلِیَآءَ اِنِ اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ عَلَى الْاِیْمَانِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 9:23 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اگر تمہارے باپ دادا اور بھائی بند ایمان کے مقابلے میں کفر کو پسند کرتے ہیں تو ان کو اپنا رفیق (دوست) نہ بنائو اور جو بھی ان کو اپنا رفیق بنائے گا وہ ظالموں میں سے ہوگا۔

قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِیْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالُ اِ۟قْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَاۤ اَحَبَّ اِلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِیْ سَبِیْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 9:24 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجیے کہ اگر تمہارے باپ دادا، تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے کنبے، خاندان والے اور تمہارے وہ مال جو تم نے کمائے ہیں اور وہ تجارت جس کے نقصان سے تم ڈرتے ہو اور وہ گھر جنہیں تم پسند کرتے ہو اللہ اس کے رسول اور اس کے راستے میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں تو منتظر رہو۔ یہاں تک کہ اللہ کا حکم آجائے اور اللہ نافرمانی قوم کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

لغات القرآن آیت نمبر 23 تا 24 لاتنخذوا (تم نہ بنائو) ابآء کم (اپنے باپ داداکو) اخوانکم (تمہارے اپنے بھائیوں کو) اولیاء (دوست) ان استحبوا (اگر وہ پسند کریں) عشیرۃ (خاندانی، کنبہ والے ) افتر فتموا (تم نے اس کو کمایا) تخشون (تم ڈرتے ہو) کساد (تجارتی نقصان) مسکن (گھر) ترضون (تم پسند کرتے ہو) احب (زیادہ محبوب، پسندیدہ) تربصوا (انتظار کرو) حتی یاتی (یہاں تک کہ آجائے) تشریح : آیت نمبر 23 تا 24 یہ دو آیتیں گزشتہ مضامین کے پس منظر میں ایک خاص اہمیت رکھتی ہیں جن کے گہرے اثرات معاشرت، معیشت، تمدن و تہذیب، ملکی اور غیر ملکی اور صلح و جنگ وغیرہ سب پر پڑتے ہیں۔ (1) یہ آیتیں خونی اور ایمانی رشتوں کی سرحدوں کو متعین کردیتی ہیں۔ (2) یہ آیات بتاتی ہیں کہ نازک حالات میں کس پر اعتماد کیا جائے۔ ملکی اور خاندانی زندگی کی ذمہ داریاں کن لوگوں کے سپرد کی جائیں۔ (3) کہاں دھوکا ہو سکتا ہے اور کہاں نہیں ہو سکتا۔ رشتہ داروں، قربات والوں خصوصاً والدین، بھائی، بہن، بیوی اور بچوں کے حقوق کو صحیح طور پر ادا کرنے پر قرآن نے بہت زیادہ زور دیا ہے مگر آیت نمبر 23 میں بتا دیا گیا کہ ان رشتوں اور تعلقات کی ایک حد مقرر ہے۔ جہاں رشتہ داریاں اور خون کے تعلقات ایمان سے ٹکرا جائیں۔ وہاں ایمانی رشتہ ہی سب سے بڑھ کر رشتہ ہے۔ اس وقت وہی دوست ہے وہی ساتھی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی نہیں ہے۔ اگر ایک طرف اللہ و رسول ﷺ کی فرماں برداری، فریضہ جہاد، اسلام کی بقاء و ترقی کا سوال ہوا اور دوسری طرف رشتہ داریوں کا خیال ہو، مال، تجارت، کھیتی باڑی، باغات اور محلات ہوں اور وہ سب کچھ ہو جس کے دام فریب میں زندگی پھنسائے رکھتی ہے تو اس وقت مومن کا رخ کس طرح ہوگا۔ خون کے رشتوں کی طرف اپنے وقتی مفادات کی طرف یا اللہ اور اس کے رسول ﷺ اور دین کی سچائیوں کی طرف۔ اس کا فیصلہ خود ہر شخص کو کرنا ہے اور اس کو اللہ اور رسول ﷺ کے مقابلے میں یہ تعلقات اور رشتہ داریاں زیادہ عزیز ہیں تو ایسے لوگوں کو اللہ کی طرف سے آنے والے عذاب کا منتظر رہنا چاہئے۔ وہ کون سی چیزیں ہیں جو انسان کو اللہ، اس کے رسول ﷺ ، جہاد اور ہجرت سے روکنے والی ہیں۔ رشتہ داروں کی محبت، مکان، دوکان، جائیداد، مال اور منصب۔ یہی وہ چیزیں ہیں جنہوں نے کلمہ پڑھنے والوں کو ہجرت مدینہ سے روکا مگر غزوہ بدر میں وہ عظیم خلوص بھی موجزن تھا کہ جہاں اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے بھائی بھائی اور باپ بیٹا آپس میں ٹکرا گئے۔
Ayahs 9:25–27

لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ فِیْ مَوَاطِنَ كَثِیْرَةٍ١ۙ وَّ یَوْمَ حُنَیْنٍ١ۙ اِذْ اَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَیْئًا وَّ ضَاقَتْ عَلَیْكُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّیْتُمْ مُّدْبِرِیْنَۚ Open ayah 9:25 in the Quran reader

اللہ بہت سے میدانوں میں تمہاری مدد کرچکا ہے اور حنین کے دن بھی (اسی نے مدد کی) جب تم نے اپنی کثرت پر گھمنڈ کیا مگر وہ تمہارے کچھ کام نہ آیا اور زخمی فراخی کے باوجود تمہارے اوپر تنگ ہوگئی اور تم پیٹھ پھیر کر میدان چھوڑنے لگے تھے۔

ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا وَ عَذَّبَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزَآءُ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:26 in the Quran reader

پھر اللہ نے اپنے رسول ﷺ اور مومنوں پر تکسین قلب کو نازل کیا اور وہ فوجیں اتاریں جنہیں تم نہیں دیکھ رہے تھے اور (اسی طرح) اس نے کافروں کو سزا دے ڈالی اور ان کافروں کی یہی سزا ہے۔

ثُمَّ یَتُوْبُ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:27 in the Quran reader

پھر اس کے بعد اللہ جس کی چاہے گا تو بہ قبول کرلے گا اور اللہ مغفرت کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 25 تا 27 مواطن (موطن) ، مقامات، موقعے اعجیب (پسند ہے) لم تغن (کام نہ آئی) ضافت (تنگ ہوگئی) رحبت (وسعت، پھیلائو، گنجائش) ولیم (تم نے منہ موڑا) مدبرین (پیٹھ پھیر کر بھاگنے والے) سکینۃ (سکون، اطمینان) جنود (جند) لشکر لم تروا (تم نے نہیں دیکھا) تشریح : آیت نمبر 25 تا 27 ان تین آیتوں میں جنگ حنین میں مسلمانوں کی شکست اور پھر فتح و نصرت کی نعمت کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ مکہ معظمہ سے پندرہ کلو میٹر دور طائف کے راستے میں ” حنین “ واقع ہے۔ فتح مکہ سے مشرکین کی کمر ٹوٹ چکی تھی لیکن ان کے ایک جنگ جو قبیلہ بنو ہوازن نے اسلام کے مقابلے میں ہزاروں کی فوج کو جمع کرل یا تھا۔ ان کے سردار قبیلہ مالک بن عوف نے (جنہوں نے بعد میں اسلام قبول کرلیا تھا) اپنی جنگی قوت پر خاص محنت کر کے اپنی پوری طاقت و قوت کو ” حنین “ کے مقام پر جمع کرلیا تھا۔ البتہ ان کی دو شاخیں بنو کعب اور بنو کلاب نے شامل ہونے سے انکار کردیا تھا۔ مالک بن عوف نے حکم دیتا تھا کہ ہر سپاہی اپنے بال بچوں اور اپنے تمام مال و متاع کے ساتھ میدان جنگ میں آئے تاکہ میدان جنگ سے بھاگنے کا تصور بھی نہ رہے۔ جب نبی کریم ﷺ کو ان حالات کا علم ہوا تو آپ نے بنو ہوازن کے حملے سے پہلے ہی چودہ ہزار کال شکر تیار کر کے ان پر حملے کی تیاری شروع کردی۔ غزوہ حنین سے پہلے اتنی بڑی تعداد میں مسلمانوں نے کبھی پیش قدمی نہیں کی تھی۔ اتنی بڑی تعداد اور اسلحہ کو دیکھ کر اہل ایمان میں یہ خیال پیدا ہوگیا کہ بنو ہوازن اتنے بڑے لشکر کا مقابلہ کر ہی نہیں سکتے ہم کامیاب ہو کر لوٹیں گے۔ اللہ کی ذات پر بھروسہ کرنے کے بجائے فوجوں اور اسلحہ پر ناز اور فخر اللہ کو پسند نہیں آیا۔ جب بنو ہوازن کو اتنے بڑے لشکر کی اچانک آمد کا علم ہوا تو وہ گھبرا گئے انہوں نے اس مقام سے جہاں سے مسلمانوں کی فوج کو گذرنا تھا پہاڑی کے دونوں ناکوں اور پہاڑوں پر اپنے بہترین تیر انداز مقرر کردیئے تھے۔ جیسے ہی مسلمان ان کے تیروں کی زد میں آئے بنو ہوازن نے ایک بھر پور حملہ کردیا۔ چاروں طرف سے تیروں کی بوچھاڑ ان کے لئے اتنی اچانک تھی کہ وہ اپنی صفوں کو برقرار نہ رکھ سکے اور صحابہ کرام ادھر ادھر بھاگنے لگے۔ یہی وہ موقع تھا جہاں نبی کریم ﷺ جن کے چاروں طرف جاں نثار اپنی پیٹھ پر تیر کھا رہے تھے مسلمانوں میں حوصلہ پیدا کرنے کیلئے فرمایا کہ ” میں سچا نبی ہوں، میں جھوٹا نبی نہیں ہوں اور میں عبدالمطلب کی اولاد ہوں حضور ﷺ نے ادھر ادھر بھاگنے والوں کو للکارا تو تمام صحابہ کرام آپ کے اردگرد جمع ہوگئے اللہ نے ان پر ” تسکین قلب “ کو نازل فرمایا اس کے بعد صحابہ کرام نیت مام حالات کا جائزہ لے کر نبی کریم ﷺ کے حکم سے اچانک اتنا زور دار حملہ کیا کہ دشمن اپنے قدم نہ جما سکا ۔ کفار کا پورا لشکر اور اس کے سردار مالک بن عوف کو نہ صرف بدترین شکست ہوئی بلکہ وہ اپنے بال بچوں اور مال و اسباب کو چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ کفار کے چھ ہزار جنگی قیدی چوبیس ہزار اونٹ، چالیس ہزار بکریاں اور چارہزار اوقیہ چاندی مال غنیمت ہاتھ آیا اللہ تعالیٰ نے اسی واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے تم مسلمانوں کو کتنے ہی مقامات پر فتح و نصرت سے نوازا تھا لیکن جب تمہیں اپنی کثرت کا گھمنڈ ہوگیا تھا تو نہ صرف تمہیں شکستہ وئی بلکہ زمین اپنے پھیلائو اور فراخی کے باوجود تم پر ایسی تنگ ہوگئی تھی کہ اگر اللہ تمہارے اوپر ” سکینہ “ یعنی تسکین قلب نازل کر کے تمہاری فرشتوں سے مدد نہ کرتا تو تم اپنا وجود بھی سنبھال نہ سکتے۔ لیکن اللہ نے کافروں کو نہ صرف شکست سے دوچار کیا بلکہ ان کو ایسی سزا دی گئی جو تاریخ میں ایک یادگار ہے۔ پھر اس کے بعد اللہ نے کفر کی طاقت کو توڑ کر جس کو چاہا ہدایت کی توفیق عطا فرما دی وہ بڑا غفور رحیم ہے۔ اس واقعہ سے چند باتیں سامنے آتی ہیں جن سے سبق حاصل کیا جاسکتا ہے۔ (1) اہل ایمان کو اللہ پر بھروسہ کر کے زندگی کے ہر میدان میں فتح و کامرانی نصیب ہوگی لیکن جب بھی وہ اپنی طاقت و قوت پر بےجا فخر و غرور کریں گے اور اللہ کے بجائے اسباب پر بھروسہ کریں گے ان کو شکست سے کوئی بچا نہیں سکتا۔ (2) جب بھی اللہ کی ذات پر مکمل بھروسہ کر کے عاجزی و انکساری کا طریقہ اختیار کیا جائیگا تو اللہ اپنی مدد اور فرشتوں کو بھیج کر ان سے اہل ایمان کی حفاظت فرمائے گا۔ (3) کافروں کیلئے یہی بڑی سزا ہے کہ وہ میدان جنگ میں سخت ذلت و شکست کھائیں آخرت میں جو بھی عذاب ہے وہ تو بہت شدید ہے۔ (4) اگرچہ ان آیات میں اس کا ذکر نہیں ہے لیکن احادیث و روایات میں نقل کیا گیا ہے کہ آپ ﷺ نے بہت بڑی تعداد میں قیدیوں کو رہا کردیا تھا۔ بقیہ قیدی مجاہدین کے قبضے میں بطور مال غنیمت دیدیئے گئے تھے اور اب ان کی ملکیت تھی لیکن آپ نے مجاہدین سے خواہش ظاہر فرمائی تو مجاہدین نے انتہائی ایثار سے کام لیتے ہوئے خوش دلی سے یہ قیدی آپ کے حوالے کردیئے اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے اپنی مرضی زبردستی مسلط نہیں کی بلکہ خواہش کا اظہار فرمایا۔ صحابہ کرام کا یہ عظیم ایثار و قربانی کا جذبہ تھا کہ انہوں نے بغیر کسی لالچ کے اپنا سب کچھ نبی کریم ﷺ کے حوالے کردیا۔ دوسری بات جس کا ذکر ان آیات میں نہیں ہے وہ یہ ہے کہ اس جنگ کے لئے آپ نے مکہ والوں سے ہتھیار اور سامان ادھار لیا تھا۔ حالانکہ آپ زبردستی بھی لے سکتے تھے مگر آپ نے وہ مشرکین مکہ سے اسلحہ اور کچھ سامان بطور قرض لیا۔ فتح ہوجانے کے بعد آپ نے وہ ہتھیار اور سامان ان لوگوں کو واپس کردیئے اس سے آپ کی عظمت ، دیانت اور امانت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔
Ayah 9:28

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ فَلَا یَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هٰذَا١ۚ وَ اِنْ خِفْتُمْ عَیْلَةً فَسَوْفَ یُغْنِیْكُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖۤ اِنْ شَآءَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:28 in the Quran reader

اے ایمان والو ! مشرکین سرتاپا (ہر لحاظ سے) گندے ہیں۔ اس لئے وہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے پاس نہ پھٹکنے پائیں اور اگر تم فقر و فاقہ سے ڈرتے ہو تو اگر اللہ چاہے اپنے فضل و کرم سے تمہیں بےنیاز کر دے گا۔ بیشک وہ جاننے و الا اور حکمت والا ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 28 نجس (گندگی، ناپاکی) عام (سال) عیلۃ (محتاجی) یغنی (مال دار کر دے گا، بےنیاز کر دے گا ) تشریح : آیت نمبر 28 ان آیات میں مشرکین کو نجس یعنی سر سے پیر تک ناپاکی ہی ناپاکی قرار دیا گیا ہے۔ جسمانی طور پر بھی اور روحانی حیثیت سے بھی …(1) وہ ظہارت و پاکیزگی کا اہتمام نہیں کرتے۔ وہ جنابت، حیض و نفاس وغیرہ کے بعد پاک صاف ہونے کا کوئی تصور نہیں رکھتے جس کو یہ صفائی کہتے اور سمجھتے ہیں وہ اللہ کے نزدیک صفائی ستھرائی نہیں ہے (2) ان کے عقیدوں کی گندگی، ان کے عبادت کے طریقے، ان کے کلام میں فحاشیا ور ننگاپن، شرک ، کفر اور فسق و فجور میں مبتلا رہنا بھی ایسی واضح گندگی ہے جس سے ان کی روحانیت گندگی میں ملوث ہو کر رہ گئی ہے (3) بیت اللہ اور مسجد حرام میں ان کے بےخوف اور بےدھڑک آنے جانے سے ان کی ہمتیں بڑھتی ہیں اور وہ اس سے ناجائز فائدہ اٹھانے میں کسر نہیں چھوڑتے لہٰذا ایسے گندہ مزاج، بدعقیدہ، سازشی اور نجس لوگوں کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ اس سال تو اپنی حرکتوں اور آنے جانے میں لگے رہیں لیکن اس کے بعد ان کو مسجد حرام میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔ یہاں پر لفظ مسجد حرام استعمال ہوا ہے۔ اگرچہ زور خاص مسجد حرام پر ہے لیکن قرآن کریم اس لفظ سے تمام حرم مکہ مراد لیتا ہے۔ جیسا کہ سورة نبی اسرائیل کی پہلی آیت سے ظاہر ہے۔ معراج مصطفیٰ ﷺ کا آغاز حرم سے نہیں ہوا بلکہ حضرت ام ہانی کے گھر سے شروع ہوا جو اس وقت حرم سے باہر تھا روایات میں آتا ہے کہ حضرت نبی مکرم ﷺ کے پاس جب حضرت جبرئیل معراج پر لے جانے کے لئے حاضر ہوئے تو اس وقت آپ اپنی بہن حضرت ام ہانی کے گھر آرام فرما رہے تھے۔ قرآن کریم میں جس جگہ بھی لفظ مسجد حرام آیا ہے وہاں عام طور پر پورا حرم مکہ مراد ہے یعنی وہ علاقہ جس کی حد بندی اللہ کے حکم سے حضرت ابراہیم خلیل اللہ نے فرمائی تھی۔ حضور نبی کریم ﷺ نے میقات کے اندر مقامات کو حرام قرار دیا ہے جس میں قیامت تک کسی کافر کا داخل ہونا قطعا ً حرام ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف مسجد حرام ہی میں کفار کا داخلہ منع ہے یا یہ حکم تمام مساجد کے لئے یہ جبکہ یہ ثابت ہے کہ خود نبی مکرم ﷺ نے فتح مکہ کے بعد قبیلہ بنو ثقیف کے وفد کو (جو سب کے سب کافر و مشرک تھے) مسجد ہی میں ٹھہرایا تھا۔ اس کے علاوہ آپ نے چند لونڈی غلام اور بعض مشرکین کو بھی مسجد نبوی میں حاضری کی اجازت دی ۔ جب صحابہ کرام نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ یہ قوم تو نجس ہے آپ نے جواب دیا کہ مسجد کی زمین پر ان لوگوں کی نجاست کا کوئی اثر نہیں پڑے گا (حصاص) یعنی وفد یا فرد کو خاص حالات میں آنے کیا جازت دی جاسکتی ہے لیکن پھر بھی بہتر یہی ہے کہ اللہ کے گھروں کو کفار و مشرکین کی سازشوں سے محفوظ رکھنے کے لئے ان کو عام مسجدوں سے بھی دور ہی رکھا جائے۔ اس آیت کے دو مقاصد واضح ہیں (1) حرم کعبہ بلکہ حرم کعبہ سے مشرکانہ عقائد اور رسوم عبادت کو خارج کرنا ملک عرب کو صرف اور صرف دین اسلام کے لئے وقف کرنا (2) مشرکین کو اس بات کا موقع نہ دینا کہ وہ جاسوسی یا سازش کریں یا عام باشندوں میں مل جل کر اپنے شرک و کفر کا پرچار کرسکیں۔ ظاہری یا خفیہ کارروائیوں میں مبتلا ہو کر مسلمانوں اور ان کی مملکت کو نقصان نہ پہنچا سکیں۔ اس میں احتیاط کشی ضرورت ہے۔ یہ آیت 9 ہجری میں نازل ہوئی ہے اور اسی سال حج کے عظیم اجتماع میں کھلے عام اس کا اعلان کردیا گیا کہ کفار و مشرکین اس سال کے بعد ” حرم “ سے دور رہیں اور ان کو کسی بھی حالت میں داخلے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ حکم اسی و قت کے لئے نہیں تھا بلکہ قیامت تک یہی حکم جاری رہے گا۔ آگے فرمایا گیا کہ اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ ان کفار و مشرکین کے جانے سے تمہاری مارکیٹیں اور بازار سنسان ہوجائیں گے یا تم فقر و فاقہ میں مبتلا ہو جائو گے۔ تو یاد رکھو اللہ کا یہ وعدہ ہے کہ رزق وہ دیتا ہے۔ انسان کسی کو رزق پہنچانے کا ٹھیکیدار نہیں ہے۔ وہ اللہ تمہیں اپنے فضل و کرم سے بےنیاز کر دے گا۔ آج جو حرمین شریقین میں امن و سکون ہے اس کی وجہ بھی یہی اللہ کا وعدہ ہے کہ ” وہ تمہیں دوسروں سے بےنیاز کر دے گا۔ “ کاش آج سارا عالم اسلام اسی طرح کفار و مشرکین اور ان کی امداد سے بےنیاز ہو کر کفار و مشرکین کی سازشوں سے محفوظ ہوجائے۔ قاتلوا الذین لا …… عما یشرکون (31)
Ayahs 9:29–31

قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ لَا یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ لَا یَدِیْنُوْنَ دِیْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰى یُعْطُوا الْجِزْیَةَ عَنْ یَّدٍ وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ۠ Open ayah 9:29 in the Quran reader

ان اہل کتاب سے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان نہیں لاتے نہ ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جنہیں اللہ اور اس کے رسول نے حرام قرار دیا ہے اور نہ دین حق کو اپنا دین مانتے ہیں ان سے قتال کرو یہاں تک کہ وہ ذلیل ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کریں

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ عُزَیْرُ اِ۟بْنُ اللّٰهِ وَ قَالَتِ النَّصٰرَى الْمَسِیْحُ ابْنُ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ قَوْلُهُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ١ۚ یُضَاهِئُوْنَ قَوْلَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١٘ۚ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 9:30 in the Quran reader

اور یہودی عزیز کو اللہ کا بیٹا کہتے ہیں (اور اسی طرح) نصاریٰ مسیح کو اللہ کا بیٹا کہتے ہیں۔ یہ ان کی زبانی باتیں ہیں۔ یہ ان باتوں کو نقل کرتے ہیں جو ان سے پچھلی نسل بکا کرتی تھی۔ اللہ انہیں ہلاک کرے یہ کہاں بہکے چلے جا رہے ہیں۔

اِتَّخَذُوْۤا اَحْبَارَهُمْ وَ رُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ١ۚ وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوْۤا اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ سُبْحٰنَهٗ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 9:31 in the Quran reader

انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے علماء اور درویشوں کو اپنا معبود بنا لیا ہے اور (اس طرح) انہوں نے مسیح ابن مریم کو بھی (اپنا معبود) بنا لیا ہے۔ حالانکہ اللہ جو کہ ایک ہے اس کے سوا کسی اور کی عبادت کرنے سے انہیں منع کیا گیا تھا۔ وہ اللہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ وہ ان تمام باتوں سے پاک ہے جن کو یہ اس کے ساتھ شریک کرتے ہیں۔

لغات القرآن آیت نمبر 29 تا 31 قاتلوا (جہاد کرو، قتال کرو) لایحرمون (حرام نہیں کرتے ہیں) لایدیون (چلتے نہیں ہیں) حتی یعطوا (جب تک وہ نہ دیں) الجزیہ (جزیہ، خراج جو اسلامی حکومت میں کافروں سے لیا جاتا ہے) عن ید (ہاتھ سے) فاغرون (ماتحت ہو کر رہنے والے) یضاھتون (وہ دوسروں کی نقل کرتے ہیں، برابر کرتے ہیں) قتلھم اللہ (اللہ کو غارت کر دے) انی یوفکون (یہ کہاں الٹے پھرے جا رہے ہیں) احبار (حبر) ، عالم ) رھبان (راھب) ، درویش ارباب (رب) ، پروردگار) ما امروا (حکم نہیں دیا گیا ) سبحان (پاک ذات، بےعیب ذات) تشریح : آیت نمبر 29 تا 31 اس سورت میں اب تک قتال کے جو بھی احکامات آئے ہیں ان کا تعلق مشرکین سے ہے۔ صحابہ کرام یہ سوچتے تھے کہ اہل کتاب کے خلاف قتال و جہاد جائز ہے یا نہیں ؟ ان آیات نے اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ کے خلاف بھی جہاد و قتال کی اجازت دیدی ہے اس بنا پر کہ غزوہ تبوک میں مسلمانوں کا مقابلہ سلطنت روم کے عیسائیوں سے تھا۔ یہاں ان اہل کتاب کو مشرکین اور کفار کی صف میں لاکھڑا کیا گیا ہے۔ اس کی چار وجوہات ہیں (1) وہ اللہ پر ایمان نہیں لاتے (2) وہ قیامت کے دن پر یقین نہیں رکھتے (3) حرام کو حرام نہیں سمجھتے (4) دین حق کو اپنا دین نہیں مانتے، فہرست یہیں پر ختم نہیں ہوجاتی۔ اہل کتاب کے مشرک ہونے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ یہودی حضرت عزیز کو اور نصاریٰ حضرت مسیح کو اللہ کا بیٹا مانتے ہیں اور اس طرح وہ کثرت الوہیت کے قائل ہیں۔ وہ ایسا کیوں کہتے ہیں۔ کیا ان کے پاس اس کا کوئی ثبوت ہے ؟ نہیں بلکہ انہوں نے اپنے بڑوں سے جیسا سنا اس کو طوطے کی طرح دھرا دیا کسی کو اللہ کا بیٹا بنا دیا۔ کسی کو اللہ کی بیوی۔ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں بنا دیا۔ اسی لئے اللہ نے فرمایا کہ اللہ انہیں غارت کرے وہ کہاں اور کس سمت میں چلے جا رہے ہیں۔ قرآن کریم کی یہ سچائی سامنے آرہی ہے۔ جہاں تک میں نے موجودہ عیسائیوں کو دیکھا ہے وہ جس طرح حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ کی تصویروں کو اپنی عبادت گاہوں میں لار ہے ہیں عجب نہیں کہ پچاس /سو سال میں عیسائی قوم کو بھی باقاعدہ بت پرست قوموں میں شمار ہونے لگ جائے۔ کیونکہ ان کے علماء اور ان کے مذہب کی تعلیمات کی گرفت عیسائیوں اور یہودیوں پر روز بروز کمزور پڑتی جا رہی ہے۔ یہ فرزند یت کی کہانی کیوں گھڑی گھڑی ہے ؟ تاکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے اوامرونواہی کو دوسرے درجہ میں رکھا جاسکے۔ جو احکام پسند آئیں انہیں مانل یا جائے جو احکامات پسند نہ آئیں ان کو چھوڑ دیا جائے ۔ اوامرونواہی کا ایک نیا ضابطہ بنایا جائے جو حسب موقع ترمیم و اضافہ کیا جاسکے۔ چناچہ اگر تاریخ اٹھا کر دیکھی جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ یہود و نصاریٰ نے اپنے عوام پر گرفت مضبوط کرنے کے لئے اپنی کتابوں کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے اور اب ان کا مذہب ایک رسم سے زیادہ نہیں رہا۔ ان آیات میں قتال کی انتہا بھی بتا دی گئی ہے۔ فرمایا کہ اگر یہ اہل کتاب اور اہل کفر و شرک اپنے ہتھیار رکھ دیں اور پرامن رہنے پر راضی ہوں اور جزیہ ادا کریں با الفاظ دیگر ملکی انتظام کے تمام اختیارات ان سے چھین لئے جائیں اور وہ مسلمانوں میں ذمی بن کر رہیں تو ان سے قتال نہ کیا جائے بلکہ جزیہ ادا کرنے کے بدلہ میں اسلامی حکومت ان کے جان و مال کی محافظ ہوگی۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان کے عوام کی بھی مذمت کی ہے جو اپنی عقل استعمال نہیں کرتے اور باپ داداوں کی اندھی تقلید کر رہے ہیں اور ان کے احبارو و رہبان کی گھڑی ہوئی کہانیوں کو علم کا درجہ دے رہے ہیں اور ان پر عمل کر رہے ہیں اللہ نے فرمایا کہ اس نے تو صرف ایک ہی حکم دیا ہے کہ ایک اللہ کی بندگی اور عبادت کی جائے جس کے سوا اور کوئی معبود نہیں ہے وہی خالق و رازق ہے اس کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہے۔
Ayahs 9:32–33

یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ یَاْبَى اللّٰهُ اِلَّاۤ اَنْ یُّتِمَّ نُوْرَهٗ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 9:32 in the Quran reader

وہ یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ (کی پھونکوں) سے بجھا دیں حالانکہ اس کو مکمل کئے بغیر وہ نہ رہے گا۔ اگرچہ وہ کافروں کو ناگوارہی کیوں نہ ہو۔

هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ١ۙ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ Open ayah 9:33 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ وہ اس دین کو تمام مذہبوں پر غالب کر دے۔ خواہ مشرکین کو ناپسند ہی کیوں نہ ہو۔

لغات القرآن آیت نمبر 32 تا 33 ان یطفنوا (یہ کہ وہ بجھا دیں) نور اللہ (اللہ کی روشنی) یابی اللہ (اللہ نہیں مانے گا) ان یتم (یہ کہ وہ پورا کر دے) کرہ (ناگوار گذرا) لیظھرۃ (تاکہ وہ غالب کر دے) تشریح : آیت نمبر 32 تا 33 اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو ہزاروں ان گنت نعمتوں سے نوازا ہے۔ ” عقل “ ان میں ایک بہت بڑی نعمت ہے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں متعدد جگہ یہ فرمایا ہے کہ وہ لوگ جو عقل سے کام نہیں لیتے انہیں اللہ پسند نہیں کرتا۔ لیکن جس طرح آنکھ دیکھنے میں روشنی کی محتاج ہے اسی طرح عقل “ روحانی روشنی اور نور الٰہی کی محتاج ہے ‘ اگر انسانی عقل کی مناسب رہنمائی کیلئے وحی الٰہی کی روشنی نہ ہو تو زندگی کے اندھیروں اور حیات کی وادیوں میں بھٹکنا انسان کا مقدر بن جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانی عقل و فکر کی رہنمائی کیلئے اپنا کلام، روشنی اور نور بنا کر خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ کے قلب مبارک پر نازل کیا تاکہ آپ ان سچائیوں کے اصولوں کو اپنی سیرت پاک میں ڈھال کر ہر ایک دل میں اتاریں دیں اور انسانی عقل سے اس کو سنوار کر بہترین اسوہ حسنہ بنا دیں۔ انسانی عقل تو وقتی مفادات کے بھنور میں پھنسی رہتی ہے لیکن نبی کریم ﷺ کی زندگی جو ایک بہترین اور کامل نمونہ زندگی ہے عقل کی بہترین رہنما ہے جو انسانی عقل کو شریعت کے تابع کردیتی ہے۔ جب نبی کریم ﷺ نے اس ” نور مبین “ اور کتاب ہدایت اور اپنے اسوہ حسنہ کو کفار و مشرکین کے سامنے پیش کیا تو انہوں نے اس دین کو نہ صرف مٹانے کے لئے ایٹری چوٹی کا زور لگا دیا۔ بلکہ زندگی بھر اس غلط فہمی میں مبتلا رہے کہ ہم جب چاہیں گے اپنی پھونکوں سے اس چراغ کو بجھا دیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے صاف الفاظ میں یہ ارشاد فرما دیا کہ کفار و مشرکین کی یہ بھول ہے کہ وہ اللہ کی اس روشنی اور نور کو جب چاہیں گے بجھا دیں گے۔ اللہ نہ صرف اس دین مبین اور اس روشنی کو مکمل کر کے رہے گا بلکہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت کا مقصد ہی یہ ہے کہ وہ اپنی سیرت پاک کے ذریعہ دنیا کے اندھیروں کو دور کرنے کے لئے اسی دین حق اور دین ہدایت کو ساری دنیا کے مذہبوں اور نظریات پر غالب کر کے چھوڑیں گے۔ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ کفار و مشرکین کی تمام تر کوششیں اور مخالفتیں بھی اس نور کی شعاعوں کو ماند نہ کرسکیں اور نہ کرسکیں گی۔ آج ہر شخص اس حقیقت کو اچھی طرح جانتا ہے کہ ساری دنیا کے فلسفی مفکر، مدبر اور سائنسدان مدتوں آسمان کی بلندیوں، زمین کی وسعتوں، سمندر کی گہرائیوں اور ذروں کی تابانیوں میں تحقیق، جستجو اور نظریات میں بھٹکنے کے بعد اس بات کا اعتراف کرنے پر مجبور ہیں کہ انسان کا بھلا اور کامیابی اگر کسی دین اور نظریہ زندگی میں ہے تو وہ صرف دین اسلام اور نبی مکرم ﷺ کی مبارک زندگی ہے۔ وہ زبان سے برملا اعلان نہ بھی کریں مگر یہ ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ انسانی معلموات ایجادات ، طرح طرح کے ذرائع اور سائنسی ترقیات جتنی بھی آگے بڑھتی جا رہی ہیں دین اسلام کی سچائیاں اسی قدر کھلتی چلی جا رہی ہیں اس کے برخلاف وہ مذناہب جن کی بنیاد جن بھوتوں بادشاہوں اور جھوٹی کہانیوں پر ہے ان کا جھوٹ اور بےبنیاد ہونا ثابت ہوتا جا رہا ہے۔ اسی لئے میں اکثر کہا کرتا ہوں کہ سائنس کی ترقیات سے خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے انسان ان معلومات کے ذریعہ جتنا بھی آگے بڑھے گا اور بیدار ہوگا اسلام کے ہر اصول کی تابانی بڑھتی ہی چلے گی جائے گی اور ایک وقت ا ٓئے گا کہ انسان کو اسلام کے قدموں پر اپنا سر جھکانا ہی پڑے گا اور من گھڑت جھوٹے مذہبوں سے انسانوں کی جان چھوٹ جائے گی۔