9. Surah At-Tawba
التوبةThe Repentance · 129 ayahsبصیرتِ قرآن
تعارف
تعارف
تعارف : ٭اس سورة کے دو نام آتے ہیں۔ (١) سورة توبہ۔ (٢) سورة برأت۔ ٭ توبہ کے معنی پلٹنے اور لوٹنے کے ہیں۔ جب کوئی اللہ کا بندہ گناہوں سے نادم ہو کر سچے دل سے اللہ کی طرف یعنی نیکیوں کی طرف پلٹتا ہے اس کو توبہ کہتے ہیں۔ چونکہ اس سورة میں چند صحابہ کرام (رض) کی توبہ قبول کی گئی ہے اس لئے اس کا نام سورة توبہ رکھا گیا ہے۔ ٭ سورة براء ت… براءت کے معنی چھٹکارا پانا۔ بیزاری اور نفرت کا اظہار کرنا ہے۔ چونکہ کفار و مشرکین مسلسل اپنی عہد شکنیوں کے مجرم تھے اس لئے مسلمانوں نے جو معاہدے کیے جاتے ان کو ختم کرکے کفار و مشرکین کو حرمین سے نکالنے اور کفارو مشرکین کی بد عہدیوں سے نفرت کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس لئے اس کا سورة براءت بھی فرمایا گیا ہے۔ ٭ قرآن کریم کی تمام سورتوں کی ابتداء بسم اللہ الرحمن الرحیم سے اس لئے کی جاتی ہے کہ پڑھنے والے کو حصول برکت کے ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم ہوجائے کہ ایک سورة ختم ہو کر دوسری سورة شروع ہوگئی ہے۔ اس لئے اس بات کو ذہن میں رکھیے کہ بسم اللہ کسی سورة کا جزو نہیں ہے۔ سورة توبہ کے شروع میں بسم اللہ نہیں لکھی گئی ہے اس کی وجہ کیا ہے ؟ ٭اس سلسلے میں بہت سے حضرات نے بہت سی باتیں کہی ہیں حضرت عثمان غنی (رض) جو کہ جامع القرآن ہیں جب ان سے اس کی وجہ پوچھی گئی کہ سورة توبہ کے شروع میں بسم اللہ نہ لکھنے کی کیا وجہ ہے ؟ تو آپ (رض) نے اس کے جواب میں فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جب بھی کوئی سورة یا آیات نازل ہوتیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی لکھنے والے کو بلا کر اسی وقت لکھوا دیتے۔ سورة انفال ان سورتوں میں سے ہے جو مدینہ منورہ کے ابتدائی دور میں نازل ہوئی جب کہ سورة توبہ آخری زمانے میں نازل ہوئی۔ ان دونوں سورتوں کے مضامین جو جہاد و قتال سے متعلق ہیں اس قدر ملتے جلتے اور ایک جیسے ہیں کہ میں سمجھا کہ سورة توبہ سورة انفال کا جزو ہے۔ چونکہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی کوئی خاص وضاحت سامنے نہیں آئی یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس دنیا قرآن کریم کی ہر سورة کی ابتداء بسم اللہ سے کی جاتی ہے صرف سورة کے شروع میں بسم اللہ نہیں لکھی جاتی۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اور ان مہاجرین و انصار پر توجہ فرمائی ہے یعنی توبہ قبول کرلی جنہوں نے ایسی تنگی و پریشانی کے وقت پیغمبر کا ساتھ دیا جب کہ قریب تھا کہ ان میں سے ایک فریق کے دل پھرجائیں پھر وہ ان پر متوجہ ہوا۔ بیشک اللہ ان پر مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔ سے رخصت ہوگئے۔ اسلئے میں نے دونوں سورتوں کو پاس پاس رکھ دیا اور بیچ میں بسم اللہ کو نہیں لکھا۔ ٭اب سورة توبہ کی جب بھی تلاوت کی جائے گی تو عام دستور کے مطابق اس کے شروع میں بسم اللہ نہ لکھی جائے گی نہ پڑھی جائے گی، البتہ اگر کسی نے اس سورة کے درمیان سے تلاوت شروع کی تو اس میں اعوذ باللہ کے ساتھ بسم اللہ پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ٭ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ منورہ ، مکہ مکرمہ اور قبائل کے کفارو مشرکین سے آپس میں جنگ نہ کرنے کے معاہدے کیے ہوئے تھے مگر ان کی طرف سے مسلسل عہد شکنیوں اور بدعہدیوں کی وجہ سے فتح مکہ کے بعد حرمین کی سرزمین کو کفار و مشرکین کے وجود سے پاک کرنے کے احکامات دئیے تاکہ وہ تمام معاہدات جو پہلے سے کئے گئے تھے اب ختم کرکے حرمین کی سرزمین میں قیامت تک کفارو مشرکین کا داخلہ ممنوع کردیا جائے۔ فرمایا گیا ہے کہ چار مہینے یا کسی جاری معاہدے کی مدت ختم ہونے کے بعد اگر کفارو مشرکین اس سرزمین کو نہ چھوڑیں تو پھر ان سے قتال کیا جائے گا تاکہ کفر و شرک کے فتنے سے یہ سرزمین ہمیشہ کے لئے پاک ہوجائے گی۔ اور ان تین لوگوں پر بھی توجہ فرمائی جن کا معاملہ پیچھے رکھا گیا تھا۔ یہاں تک زمین اپنی وسعت کے باوجود ان پر ایسا بوجھ بن گئی تھی کہ ان کی جانوں پر بن آئی تھی۔ انہوں نے یہ سمجھ لیا تھا کہ اگر کوئی ٹھکانا ہے تو صرف اللہ ہی کی ذات ہے۔ ان تینوں حضرات حضرت کعب ابن مالک، مرارہ ابن ربیع اور حضرت ہلال ابن امیہ کی توبہ کو قبول کرلیا۔ آیات : ١ تا ٦ لغات القرآن۔ براء ۃ۔ (براء ) ۔ چھٹکارا پانا۔ جان چھڑانا۔ عھدتم۔ تم نے معاہدہ کیا تھا۔ سیحوا۔ چلو پھرو۔ اربعۃ اشھر۔ چار مہینے ۔ غیر معجز اللہ۔ اللہ کو بےبس نہیں کرسکتے۔ مخزی۔ رسوا کرنے والا۔ اذان۔ اعلان ہے۔ الحج الاکبر۔ بڑا حج ( جس حج میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شرکت فرمائی) ۔ تبتم۔ تم نے توبہ کرلی۔ تولیتم۔ تم پلٹ گئے۔ لم ینقصوا۔ کمی نہ کی۔ لم یظاھروا۔ مدد نہ کی۔ اتموا۔ تم پورا کرو۔ انسلخ۔ نکل گیا۔ اقتلوا۔ جہاد کرو۔ وجدتھموھم۔ تم نے ان کو پایا۔ خذوا۔ پکڑو۔ احصروا۔ گھیرو۔ اقعدوا۔ بیٹھو۔ کل مرصد۔ ہر گھات کی جگہ۔ تابوا۔ انہوں نے توبہ کرلی۔ اقاموا۔ انہوں نے قائم کیا۔ اتوا۔ انہوں نے دیا۔ خلوا۔ چھوڑ دو ۔ سبیل۔ راستہ۔ ان احد۔ کوئی ایک۔ استجارک۔ آپ سے پناہ مانگے۔ اجرہ۔ اس کو پناہ دے سے۔ حتی یسمع۔ یہاں تک کہ وہ سن لے۔ ابلغہ۔ اس کو پہنچا دے۔ مامنہ، اس کی حفاظت کی جگہ۔ تشریح : سورۃ توبہ اور سورة براءت اس کے دو نام ہیں۔ اس سورت مین تین مخلص مسلمانوں کی توبہ قبول کرنے کا ذکر ہے اس لئے اس کو سورة توبہ کہتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے کفارو مشرکین سے ہاتھ اٹھا لینے اور بری الذمہ ہونے کے اعلان کی وجہ سے اس کو سورة براءت کہتے ہیں۔ قرآن کریم کی ہر سورت کے شروع میں ” بسم اللہ الرحم الرحیم “ لکھی ہوئی ہوتی ہے جو صرف اس بات کو علامت ہے کہ ایک سورت ختم ہونے کے بعد دوسری سورت شروع ہو رہی ہے۔ بسم اللہ قرآن کریم کی ایک آیت تو ہے جو سورة نمل میں آئی ہے لیکن ہر سورت کا جزو نہیں ہے۔ عام طریقے کے مطابق اس کے شروع میں ” بسم اللہ “ کیوں نہیں لکھی گئی یہ ایک سوال ہے ؟ جس کا صحابہ کرام (رض) اور علماء کرام نے جواب تحریر فرمایا ہے۔ (١) حضرت عثمان غنی (رض) فرماتے ہیں کہ مجھے یہ یاد نہیں ہے کہ سورة انفال اور سورة براءت دو سورتیں ہیں ایک سورت ہے ۔ مضمون کے لحاظ سے ایک سورت لگتی ہیں ممکن ہے دو سورتیں ہوں اس سلسلہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کوئی واضح ہدایت مجھے یاد نہیں ہے۔ (٢) بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس زمانہ میں جنگی اصول اور عام رواج کے مطابق جب کوئی ایسا ” نقض معاہدہ “ (معاہدہ توڑنا) کی مراسلت ہوتی تھی تو اس میں اللہ کا نام نہیں لکھتے تھے چونکہ اس سورت مین کفار و مشرکین سے براءت، بےزاری اور دست برداری کا اعلان کیا گیا ہے ممکن ہے اس وجہ سے بسم اللہ نہ لکھی گوئی ہو۔ اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے۔ بہرحال امن کے نزدیک یہ دو سورتیں کی جاتی ہیں اسی لئے سورة انفال کے بعد جب سورة توبہ شروع ہوتی ہے تو کچھ جگہ خالی ہوتی ہے جس میں بسم اللہ نہیں ہوتی۔ مسئلہ کی رو سے اب جب بھی سورة براءت شروع کی جائے گی تو اس کے شروع میں بسم اللہ نہ لکھی جائے گی اور نہ پڑھی جائے گی لیکن اگر کسی شخص نے سورة ٔ براءت کو کچھ حصہ پڑھ لیا اور رک گیا تو دوبارہ تلاوت کرتے وقت اعوذ باللہ کے ساتھ بسم اللہ پڑھ لے تو کوئی حرج نہیں ہے۔ سورة ٔ برأت کے پہلے رکوع (آیت نمبر ١ تا نمبر ٦) میں کفارو مشرکین سے دست برداری کے اعلان اور اس عمل کرنے کا جو بھی حکم دیا گیا ہے اس کی تفصیل یہ ہے۔ (١) ٦ ہجری میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عمرہ ادا کرنے کا ارادہ فرمایا اور چودہ سو صحابہ کرام (رض) بیت اللہ کی زیارت کے لئے آپ کے ہمراہ ہوگئے۔ بیت اللہ جو اللہ کا گھر ہے اس میں موافق، مخالف، دوست اور دشمن کسی کو زیارت بیت اللہ سے روکنے کا کسی کو حق حاصل نہیں تھا۔ جب کفار مکہ کو یہ معلوم ہوا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ڈیڑھ ہزار صحابہ (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عمرہ کرنے کے لئے حدیبیہ کے مقام تک پہنچ چکے ہیں تو وہ گھبرا اٹھے وجہ یہ تھی کہ اگر نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عمرہ ادا کرکے واپس جاتے ہیں تو قریش کی ہوا اکھڑ جائے گی اور اگر منع کرتے ہیں تو ساری دنیا میں یہ رسوائی ہوگی کہ اللہ کی عبادت سے اللہ کے بندوں کو روک دیا گیا پہلے تو کفار مکہ نے کچھ ایسی سازشیں کیں جن سے دنیا پر ظاہر کردیا جائے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ صحابہ (رض) عبادت کے لئے نہیں بلکہ جنگ کرنے کے لئے آئے ہیں مگر ان کی ہر سازش اور چال کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان پر ہی الٹ دیا۔ بالآخر وہ اس بات پر راضی ہوگئے کہ ہم مسلمانوں کو عبادت سے تو نہیں روکتے لیکن اس سال ایک معاہدہ کرلیتے ہیں تاکہ آئندہ سال مسلمانوں کو عمرہ کرنے کی اجازت اور سہولت دیدی جائے۔ چناچہ ایک معاہدہ دس سال کے لئے طے پا گیا جس کو تاریخ میں ” صلح حدیبیہ “ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ کفار مکہ نے اندرونی اور بیرونی دبائو کی وجہ سے معاہدہ تو کرلیا۔ لیکن اس کا مقصد صرف وقت کو ٹالنا تھا۔ چناچہ کفار مکہ اور ان کے حلیفوں نے ایسی سازشیں ، حملے اور خفیہ کاروائیاں شروع کردیں جن سے اس معاہدہ کی دھجیاں بکھر کر رکھ دی گئیں۔ چونکہ اس معاہدہ کی خلاف ورزی کفار مکہ کی طرف سے کی گئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دس ہزار صحابہ (رض) کے ساتھ بغیر کسی خون خرابے کے ٨ ہجری میں مکہ کو فتح کرلیا۔ مکہ فتح ہونے کا مطلب یہ تھا کہ پورے جزیرۃ العرب پر آپ کا اور آپ کے صحابہ کرام (رض) کا قبضہ ہوچکا ہے۔ لیکن کفارو مشرکین چوت کھائے ہوئے سانپ کی طرح اپنی انتقامی کاروائیوں میں مشغول رہتے تھے۔ فتح مکہ کے بعد پورے جزیرۃ العرب پر آپ کا مکمل کنٹرول ہوچکا تھا۔ لیکن اندرونی اور بیرونی خطرے بڑھتے ہی چلے جا رہے تھے اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے کفار و مشرکین سے دست برداری کا اعلان کردیا۔ ان آیات میں فرمایا گیا کہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے اعلان عام کیا جاتا ہے کہ مشرکین سے جو معاہدہ کیا گیا تھا اب اس سے دست برداری کا اعلان کیا جاتا ہے۔ اب کی حفاظت حکومت اسلامیہ کی ذمہ داری نہیں ہے۔ چار مہینے کی مدت دی جاتی ہے جس میں یہ اپنے مستقبل کے لئے کوئی فیصلہ کرسکتے ہیں (١) چار مہینے کے اندر اندر جو شخص کسی بھی جگہ جا کر اپنا ٹھکانا بنا سکتا ہو وہ بنا لے (٢) یا وہ کفر و شرک سے توبہ کر کے اسلام قبول کرنا چاہے تو کرلے (٣) لیکن اگر چار مہینے کی یہ مدت گزر گئی تو پھر ان کے صفایا کرنے میں کسی بھی کوشش کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔ جہاں یہ پائے جائیں گے ان کو گھیر کر تاک تاک کر قتل کیا جائے گا۔ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) سے نبی کریم و نے فرمایا کہ اے ابوبکر حج کے عظیم اجتماع میں جا کر اس بات کا اعلان کردو۔ پھر حضرت علی (رض) سے فرمایا کہ اے علی تم بھی جا کر ان آیتوں کو پرھ کر سب کو سنا دو اور اس کا اعلان عام کردو۔ چنانچہ ٩ ہجری کے حج کے موقع پر اس کا اعلان کیا گیا۔ ١٠ ہجری میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حج فرمایا تو اس موقع پر صرف اہل ایمان اس حج میں شریک تھے کفارو مشرکین کو نکال دیا گیا تھا۔ یہی وہ حج ہے جس کو حجتہ الوداع کہا جاتا ہے یہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دنیاوی زندگی کا آخری حج تھا اس حج کو حج اکبر فرمایا گیا ہے اور واقعتا اگر کوئی حج اکبر تھا تو وہ ہی تھا جس میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صرف اہل ایمان شریک تھے اس کے بعد کسی حج کو حج اکبر نہیں کہا جاسکتا مگر یہ کہ حج اکبر حج اصگر کے مقابلے میں بولا جائے کیونکہ اہل عرب عمرے کو حج اصگر کہتے ہیں اسیبنیاد پر امام ابوبکر حصاص (رح) نے احکام القرآن میں فرمایا کہ ایام حج کو حج اکبر کا دن کہنے سے یہ مسئلہ بھی معلوم ہوگیا کہ یہ ایمام حج کے لئے مخصوص ہیں اور ان میں عمرہ نہیں ہوسکتا ہے۔ یہ جو لوگوں میں مشہور ہے کہ جو حج جمعہ کے دن پڑجائے وہ حج اکبر ہوتا ہے یہ بات صحیح نہیں۔ یہ اپنی جگہ ایک فضیلت ضرور ہے کہ یوم عرفہ جمعہ کے روز ہوجائے لیکن اس بیاہد پر اسے حج اکبر کہنا عوامی اصطلاح ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ شریعت کی رو سے اس بات کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ ان آیتوں میں پہلا حکم تو یہ تھا۔ (٢) دوسرا حکم یہ فرمایا گیا کہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جس معاہدہ سے براءت کا اظہار فرمایا ہے اس میں یہ شرط ہے کہ اگر کسی قوم سے کوئی معاہدہ موجود ہے تو اس کا خیال رکھا جائے اور اپنی طرف سے معاہدہ کو نہ توڑا جائے۔ (٣) یا اگر کسی قوم سے کوئی ایسا معاہدہ ہے جسکی مدت مقرر ہے تو اس مدت کو اور اس معاہدہ کو پورا کیا جائے۔ (٤) چوتھی بات یہ فرمائی گئی کہ اگر کوئی مشرک آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پناہ کی درخواست کرے تو آپ اس کو۔ صرف اس وقت تک پناہ دے سکتے ہیں، اس کی حفاظت کرسکتے ہیں جب تک وہ اللہ کا کلام نہ سن لے۔ اگر وہ اللہ کا کلام سن کر ایمان لے آئے اور اسلامی احکامات نماز و زکوٰۃ کی پابندی کرلے تو فرمایا کہ اب اس کا راستہ چھوڑ دو ۔ لیکن اگر وہ اپنی کفر کی روش پر قائم رہتا ہے تو اس کو اس کی حفاظت کی جگہ پہنچا دیا جائے۔ (٥) پانچویں بات یہ فرمائی گئی کہ جب اشھر الحرم گزر جائیں یعنی رجب ذی قعدہ، ذی الحجہ اور محرم۔ ان چار مہینوں کے گزر نے کے بعد پھر تم جہاں بھی مشرکین کو پائو۔ گھیرو اور ہر گھات میں بیٹھ کر ان کو قتل کردو اور ان کے ساتھ کسی طرح کی نرمی کا معاملہ اختیار نہ کرو۔
بَرَآءَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَى الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَؕ Open ayah 9:1 in the Quran reader
اللہ اور اس کے رسول نے ان مشرکوں سے ہاتھ اٹھا لیا ہے جنہوں نے معاہدہ کرکے (اس کو توڑ دیا تھا)
فَسِیْحُوْا فِی الْاَرْضِ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللّٰهِ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ مُخْزِی الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:2 in the Quran reader
تم سرزمین حرم میں چار مہینے اور چل پھر لو اور اچھی طرح جان لو کہ تم اللہ کو عاجز و بےبس نہیں کرسکتے اور بیشک اللہ تعالیٰ کافروں کو ذلیل و رسوا کر کے رہے گا۔
وَ اَذَانٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَى النَّاسِ یَوْمَ الْحَجِّ الْاَكْبَرِ اَنَّ اللّٰهَ بَرِیْٓءٌ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ١ۙ۬ وَ رَسُوْلُهٗ١ؕ فَاِنْ تُبْتُمْ فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللّٰهِ١ؕ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ Open ayah 9:3 in the Quran reader
اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے حج اکبر کے دن اعلان عام کیا جاتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ مشرکوں سے دست بردار ہوچکے ہیں۔ پھر اگر تم توبہ کرتے ہو تمہارے حق میں یہی بہتر ہے اور اگر تم سے نے کفر کی روش کو قائم رکھا تو یاد رکھو تم اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے اور (اے نبی ﷺ ان لوگوں کو جنہوں نے کفر کیا ہے درد ناک عذاب کی خوش خبری دے دیجئے۔
اِلَّا الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ ثُمَّ لَمْ یَنْقُصُوْكُمْ شَیْئًا وَّ لَمْ یُظَاهِرُوْا عَلَیْكُمْ اَحَدًا فَاَتِمُّوْۤا اِلَیْهِمْ عَهْدَهُمْ اِلٰى مُدَّتِهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:4 in the Quran reader
سوائے ان لوگوں کے جن سے تم نے معاہدہ کیا ہوا ہے، جنہوں نے وعدہ میں بد عہدی نہیں کی اور نہ انہوں نے تمہارے مقابلے میں کسی کی مدد کی تو ان سے معاہدہ کی مدت کو پورا کرو۔ بیشک اللہ تقویٰ والوں کو پسند کرتا ہے
فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ وَ خُذُوْهُمْ وَ احْصُرُوْهُمْ وَ اقْعُدُوْا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ١ۚ فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:5 in the Quran reader
پھر جب اشھر الحرم ( احترام والے چار مہینے) گزر جائیں تو مشرکین کو جہاں بھی پائو ان کو قتل کررو، انہیں پکڑو، گھیرو اور ہر جگہ ان کی تاک میں بیٹھو۔ پھر اگر وہ توبہ کرلیں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو ان کا راستہ چھوڑ دو ۔ بیشک اللہ مغفرت کرنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔
وَ اِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ اسْتَجَارَكَ فَاَجِرْهُ حَتّٰى یَسْمَعَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ اَبْلِغْهُ مَاْمَنَهٗ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 9:6 in the Quran reader
اور اگر مشرکین میں سے کوئی بھی پناہ مانگے تو آپ اس کو اس وقوت تک پناہ دیدیجئے جب تک وہ اللہ کا کلام نہ سن لے پھر اس کو اس کی امن کی جگہ پہنچا دیجئے وجہ یہ ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو علم نہیں رکھتے۔
كَیْفَ یَكُوْنُ لِلْمُشْرِكِیْنَ عَهْدٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عِنْدَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَّا الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ۚ فَمَا اسْتَقَامُوْا لَكُمْ فَاسْتَقِیْمُوْا لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:7 in the Quran reader
اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک ان مشرکین سے کیسے کوئی معاہدہ قائم رہ سکتا ہے سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے مسجد حرام کے پاس معاہدہ کیا تھا۔ اگر وہ تمہارے ساتھ سیدھے رہیں تو تم بھی ان سے سیدھا معاملہ کرو۔ بیشک اللہ اہل تقویٰ کو پسند کرتا ہے۔
كَیْفَ وَ اِنْ یَّظْهَرُوْا عَلَیْكُمْ لَا یَرْقُبُوْا فِیْكُمْ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّةً١ؕ یُرْضُوْنَكُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ تَاْبٰى قُلُوْبُهُمْ١ۚ وَ اَكْثَرُهُمْ فٰسِقُوْنَۚ Open ayah 9:8 in the Quran reader
(ان سے صلح) کیسے رہ سکتی ہے اگر وہ تمہارے اوپر غلبہ حاصل کرلیں تو پھر وہ کسی رشتہ داروی کا خیال کریں گے نہ کسی قول وقرار کا۔ وہ تمہیں (چکنی چپڑی) باتوں سے بہلا رہے ہیں مگر ان کے دل مخالف ہیں اور ان میں سے اکثر تو نافرمان نہیں۔
اِشْتَرَوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 9:9 in the Quran reader
انہوں نے اللہ کی آیات کو تھوڑی سے گھٹیا قیمت پر بیچ دیا اور وہ اللہ کے راستے سے ہٹے ہوئے ہیں۔ کیسے برے کرتوت ہیں جو وہ لوگ کر رہے ہیں۔
لَا یَرْقُبُوْنَ فِیْ مُؤْمِنٍ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّةً١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُعْتَدُوْنَ Open ayah 9:10 in the Quran reader
مومنوں کے معاملہ میں نہ وہ کسی قرابت داری کا خیال کرتے ہیں اور نہ کسی معاہدہ کا۔ یہی لوگ حد سے بڑھ رہے ہیں۔
فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِ١ؕ وَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 9:11 in the Quran reader
پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز کو قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں۔ اور ہم ان لوگوں کے لئے آیات کھول کھول کر بیان کر رہے ہیں جو لوگ سمجھ بوجھ رکھتے ہیں۔
وَ اِنْ نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَ طَعَنُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ فَقَاتِلُوْۤا اَئِمَّةَ الْكُفْرِ١ۙ اِنَّهُمْ لَاۤ اَیْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَنْتَهُوْنَ Open ayah 9:12 in the Quran reader
اور اگر وہ معاہدہ کے بعد اپنی قسموں کو توڑ ڈالین اور تمہارے دین پر طعن و طنز کریں تو تم کفر کے سرداروں کو قتل کرو۔ کیونکہ ان کی قسموں کو کوئی اعتبار نہیں ہے۔ شائد کہ وہ (اپنی حرکتوں سے) باز آجائیں۔
اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ وَ هَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَ هُمْ بَدَءُوْكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ؕ اَتَخْشَوْنَهُمْ١ۚ فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْهُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:13 in the Quran reader
(اے مومنو ! ) کیا تم ایسی قوم سے قتال نہ کروے گے جنہوں نے اپنی قسموں (معاہدہ) کو توڑ ڈالا اور انہوں نے رسول کو نکالنے کی سازش کی۔ پہلے انہوں نے تم سے چھیڑ چھاڑ کی۔ کیا تم ان سے ڈرتے ہو ؟ حالانکہ اللہ اس کا زیادہ حق دار ہے کہ اس سے ڈرا جائے اگر تم مومن ہو۔
قَاتِلُوْهُمْ یُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَیْدِیْكُمْ وَ یُخْزِهِمْ وَ یَنْصُرْكُمْ عَلَیْهِمْ وَ یَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 9:14 in the Quran reader
تم ان سے قتال کرو تاکہ اللہ تمہارے ہاتھوں سے انکو سزا دلوائے۔ انہوں رسوا کردے اور ان پر تمہیں فتح و نصرت اور مومنوں کے دلوں کو ٹھنڈک عطا فرمائے
وَ یُذْهِبْ غَیْظَ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ یَتُوْبُ اللّٰهُ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:15 in the Quran reader
اور ان کے دلوں سے غصے کو نکال دے۔ وہ جس پر چاہتا ہے توجہ فرماتا ہے۔ اللہ علم و حکمت والا ہے۔
اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَكُوْا وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَ لَمْ یَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لَا رَسُوْلِهٖ وَ لَا الْمُؤْمِنِیْنَ وَلِیْجَةً١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 9:16 in the Quran reader
کیا تم یہ سمجھ بیٹھے کہ یوں ہی چھوڑ دئیے جائو گے حالانکہ ابھی تو اللہ نے ان کو جانچا ہی نہیں جو تم میں سے جہاد کرنے والے ہیں۔ اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ اور مومنوں کے سوا کسی کو اپنا جگری (راز دار) دوست نہ بنائو۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس کی پوری طرح خبر رکھتا ہے
مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِیْنَ اَنْ یَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰهِ شٰهِدِیْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ١ۖۚ وَ فِی النَّارِ هُمْ خٰلِدُوْنَ Open ayah 9:17 in the Quran reader
مشرکین کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ اللہ کی مسجدوں کو آباد کریں جب کہ وہ اپنے کفر پر خود گواہ ہوں۔ یہ تو وہ لوگ ہیں جن کے اعمال (ان کے شرک کے سبب) غارت ہوگئے اور وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔
اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَ وَ لَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰهَ فَعَسٰۤى اُولٰٓئِكَ اَنْ یَّكُوْنُوْا مِنَ الْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 9:18 in the Quran reader
اللہ کی مسجدیں تو وہ آباد کرتا ہے جو اللہ پر اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے، نماز قائم کرتا اور زکوۃ دیتا ہے اور اللہ کے سوا کسی کا خوف نہیں رکھتا۔ توقع ہے کہ یہی وہ لوگ ہیں جو ہدایت حاصل کرنے والے ہیں
اَجَعَلْتُمْ سِقَایَةَ الْحَآجِّ وَ عِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ جٰهَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ لَا یَسْتَوٗنَ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۘ Open ayah 9:19 in the Quran reader
اور کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجد حرام کی تعمر ( کرنے کے کام کو اس کے برابر سمجھ لیا ہے جو شخص اللہ پر، اور آخرت پر ایمان لاتا ہے اور اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہے۔ یہ دونوں اللہ کے نزدیک برابر نہیں ہیں اور ظالموں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔
اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ۙ اَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 9:20 in the Quran reader
وہ لوگ جو ایمان لائے۔ جنہوں نے ہجرت کی اور اللہ کے راستے میں اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے جہاد کیا۔ اللہ کے نزدیک ان کا بہت بڑا رتبہ ہے اور یہی وہ لوگ ہیں جو کامیاب و بامراد ہیں۔
یُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ وَ رِضْوَانٍ وَّ جَنّٰتٍ لَّهُمْ فِیْهَا نَعِیْمٌ مُّقِیْمٌۙ Open ayah 9:21 in the Quran reader
ان کا پروردگار ان کو اپنی رحمت، اپنی رضا و خوشنودی اور ایسی جنتوں کی خوش خبری دیتا ہے جس میں حاصل ہونے والی نعمتیں ہمیشہ رہیں گی
خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 9:22 in the Quran reader
جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے بیشک اللہ کے پاس اجر عظیم ہے۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰبَآءَكُمْ وَ اِخْوَانَكُمْ اَوْلِیَآءَ اِنِ اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ عَلَى الْاِیْمَانِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 9:23 in the Quran reader
اے ایمان والو ! اگر تمہارے باپ دادا اور بھائی بند ایمان کے مقابلے میں کفر کو پسند کرتے ہیں تو ان کو اپنا رفیق (دوست) نہ بنائو اور جو بھی ان کو اپنا رفیق بنائے گا وہ ظالموں میں سے ہوگا۔
قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِیْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالُ اِ۟قْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَاۤ اَحَبَّ اِلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِیْ سَبِیْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 9:24 in the Quran reader
(اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجیے کہ اگر تمہارے باپ دادا، تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے کنبے، خاندان والے اور تمہارے وہ مال جو تم نے کمائے ہیں اور وہ تجارت جس کے نقصان سے تم ڈرتے ہو اور وہ گھر جنہیں تم پسند کرتے ہو اللہ اس کے رسول اور اس کے راستے میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں تو منتظر رہو۔ یہاں تک کہ اللہ کا حکم آجائے اور اللہ نافرمانی قوم کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔
لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ فِیْ مَوَاطِنَ كَثِیْرَةٍ١ۙ وَّ یَوْمَ حُنَیْنٍ١ۙ اِذْ اَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَیْئًا وَّ ضَاقَتْ عَلَیْكُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّیْتُمْ مُّدْبِرِیْنَۚ Open ayah 9:25 in the Quran reader
اللہ بہت سے میدانوں میں تمہاری مدد کرچکا ہے اور حنین کے دن بھی (اسی نے مدد کی) جب تم نے اپنی کثرت پر گھمنڈ کیا مگر وہ تمہارے کچھ کام نہ آیا اور زخمی فراخی کے باوجود تمہارے اوپر تنگ ہوگئی اور تم پیٹھ پھیر کر میدان چھوڑنے لگے تھے۔
ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا وَ عَذَّبَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزَآءُ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:26 in the Quran reader
پھر اللہ نے اپنے رسول ﷺ اور مومنوں پر تکسین قلب کو نازل کیا اور وہ فوجیں اتاریں جنہیں تم نہیں دیکھ رہے تھے اور (اسی طرح) اس نے کافروں کو سزا دے ڈالی اور ان کافروں کی یہی سزا ہے۔
ثُمَّ یَتُوْبُ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:27 in the Quran reader
پھر اس کے بعد اللہ جس کی چاہے گا تو بہ قبول کرلے گا اور اللہ مغفرت کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ فَلَا یَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هٰذَا١ۚ وَ اِنْ خِفْتُمْ عَیْلَةً فَسَوْفَ یُغْنِیْكُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖۤ اِنْ شَآءَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:28 in the Quran reader
اے ایمان والو ! مشرکین سرتاپا (ہر لحاظ سے) گندے ہیں۔ اس لئے وہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے پاس نہ پھٹکنے پائیں اور اگر تم فقر و فاقہ سے ڈرتے ہو تو اگر اللہ چاہے اپنے فضل و کرم سے تمہیں بےنیاز کر دے گا۔ بیشک وہ جاننے و الا اور حکمت والا ہے۔
قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ لَا یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ لَا یَدِیْنُوْنَ دِیْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰى یُعْطُوا الْجِزْیَةَ عَنْ یَّدٍ وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ۠ Open ayah 9:29 in the Quran reader
ان اہل کتاب سے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان نہیں لاتے نہ ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جنہیں اللہ اور اس کے رسول نے حرام قرار دیا ہے اور نہ دین حق کو اپنا دین مانتے ہیں ان سے قتال کرو یہاں تک کہ وہ ذلیل ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کریں
وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ عُزَیْرُ اِ۟بْنُ اللّٰهِ وَ قَالَتِ النَّصٰرَى الْمَسِیْحُ ابْنُ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ قَوْلُهُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ١ۚ یُضَاهِئُوْنَ قَوْلَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١٘ۚ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 9:30 in the Quran reader
اور یہودی عزیز کو اللہ کا بیٹا کہتے ہیں (اور اسی طرح) نصاریٰ مسیح کو اللہ کا بیٹا کہتے ہیں۔ یہ ان کی زبانی باتیں ہیں۔ یہ ان باتوں کو نقل کرتے ہیں جو ان سے پچھلی نسل بکا کرتی تھی۔ اللہ انہیں ہلاک کرے یہ کہاں بہکے چلے جا رہے ہیں۔
اِتَّخَذُوْۤا اَحْبَارَهُمْ وَ رُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ١ۚ وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوْۤا اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ سُبْحٰنَهٗ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 9:31 in the Quran reader
انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے علماء اور درویشوں کو اپنا معبود بنا لیا ہے اور (اس طرح) انہوں نے مسیح ابن مریم کو بھی (اپنا معبود) بنا لیا ہے۔ حالانکہ اللہ جو کہ ایک ہے اس کے سوا کسی اور کی عبادت کرنے سے انہیں منع کیا گیا تھا۔ وہ اللہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ وہ ان تمام باتوں سے پاک ہے جن کو یہ اس کے ساتھ شریک کرتے ہیں۔
یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ یَاْبَى اللّٰهُ اِلَّاۤ اَنْ یُّتِمَّ نُوْرَهٗ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 9:32 in the Quran reader
وہ یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ (کی پھونکوں) سے بجھا دیں حالانکہ اس کو مکمل کئے بغیر وہ نہ رہے گا۔ اگرچہ وہ کافروں کو ناگوارہی کیوں نہ ہو۔
هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ١ۙ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ Open ayah 9:33 in the Quran reader
وہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ وہ اس دین کو تمام مذہبوں پر غالب کر دے۔ خواہ مشرکین کو ناپسند ہی کیوں نہ ہو۔