Ayah 9:1التوبہ
سورۃ کا نام :
اس سورة کا نام ” التوبہ “ ہے جو اس سورت کی آیت 104 سے لیا گیا ہے۔ اس نسبت سے کہ اللہ کے سوا کون ہے جو توبہ کو قبول کرنے والا ہے۔ یہ سورت بھی مدینہ منورہ میں نازل ہوئی۔ اس کا نزول نمبر 113 ہے اور ترتیب نمبر 9۔ اس سورت میں 16 رکوع ہیں اور 129 آیات کریمات ہیں۔ اس سورت میں 2537 کلمات اور 11360 حروف ہیں۔
موضوع سورة :
توبہ کے معنی لوٹانا اور پلٹنا ہے۔ اس سورت میں بعض اہل ایمان کی توبہ کا ذکر بھی کیا گیا اور یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ تو وہ کو قبول کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اس سورة کو سورة ” البراءۃ “ کے نام سے بھی موسوم کیا گیا ہے اور براءۃ کے معنی بیزاری اور بری الذمہ کے ہیں چونکہ سورة کے آغاز ہی میں مشرکین سے بری الذمہ ہونے یا بیزار ہونے کا اعلان کیا گیا ہے اس لئے یہ سورة سورة ” البراءۃ “ کے نام سے بھی معروف ہے۔ صلح حدیبیہ کے بعد مشرکین مکہ کی طرف سے عہد کی خلاف ورزی پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلان براءۃ ہوا اور پھر جنگ تبوک پر بعض اہل ایمان سے سستی ہوئی جس پر ان کو گرفت کی گئی اور پھر کچھ عرصہ یا کچھ دنوں کے بعد ان کو معاف کردیا گیا اور یہی واقعات اس سورة کا شان نزول قرار دیئے گئے۔
چنانچہ اس سورة کی آیت 1 سے 29 تک اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے مشرکوں سے بیزاری کا اعلان اور آئندہ سے انہیں بیت اللہ کے قریب نہ آنے دینے اور مسجد کی تعمیر اور نگرانی کے لئے ایمان کامل کو لازمی قرار دیئے جانے اور اس کے ساتھ ساتھ ہجرت کرنے والے مومنین کی فضلتن اور جنگ حنین کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ آیر 30 سے 37 تک یہود و نصاریٰ کا پیغمبروں کو اللہ کا شریک ٹھہرانے اور سال و مہینوں میں اپنی مرضی سے رد و بدل کرنے کو کفر قرار دیا گیا ہے اور آیت 38 سے آیت 42 تک جنگ تبوک کے لئے مسلمانوں کی سستی پر تنبیہ اور غار ثور میں صدیق اکبر ؓ اور نبی اعظم و آخر ﷺ کی رفاقت کا تذکرہ ہے۔
آیت 43 سے 59 تک منافقوں کے جنگ تبوک سے رہ جانے کی اجازت دینے پر نبی اعظم و آخر ﷺ سے ایک طرح کا استفسار کیا گیا ہے کہ آپ ﷺ نے ان کو کیوں اجازت دی اور تفصیل سے منافقوں کی حرکتیں بیان کی گئی ہیں۔ آیت 60 سے 72 تک زکوٰۃ کے مصارف اور منافقین کی مذمت اور مومنوں کی تعریف جہاد کرنے کا بیان ہے اور ساتھ ہی منافقوں کی سازشیں بھی بےنقاب کی گئی ہیں۔ آیت 73 سے 99 تک جہاد کرنے کی ترغیب ہے اور منافقین کی سازشوں کا بیان ہے۔ آیت 100 سے 118 تک صحابہ ؓ کی توبہ کا ذکر کیا گیا ہے جو جنگ تبوک سے رہ گئے تھے اور آیت 119 سے 129 تک جہاد کی فضیلت ، علم کی فضیلت اور نبی کریم ﷺ کی صفات کا ذکر کیا گیا ہے اور اس مضمون پر سورة ختم ہوگئی ہے۔
Ayah 9:2مذکورہ معاہدہ سے کون سا معاہدہ مراد ہے اور وہ کن مشرکین سے ہوا ؟
1: اس معاہدہ سے مراد صلح حدیبیہ ہے جس کی تفصیل اس طرح ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھی جب مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ چلے آئے تو قریش نے ان کو یہاں امن سے نہ بیٹھنے دیا بلکہ ان کو تنگ کرنے کی کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جس کے نتیجہ میں جہاد فرض کردیا گیا اور غزوہ بدر باقاعدہ طور پر پہلی جنگ ہوئی اور پھر اس کا سلسلہ آگے بڑھتا ہی گیا اور ہر سال میں دو تین بار یہ صورت حال پیش آجاتی کہ دونوں گروہوں کا تصادم ہوجاتا۔ لیکن عربوں میں اس یورش سے پہلے بھی خانہ جنگی ہوئی رہتی تھی اگرچہ اسے کا رخ اب بدل کر ایک نئی صورت اختیار کر گیا۔ اس خانہ جنگی اور ایک دوسرے کے قافلوں کو لوٹنے کے باوجود چار مہینے حرمت کے سمجھے جاتے تھے اور ان کی حرمت کا اعلان اسلام نے بھی کیا تھا۔ گویا اس وقت کے دونوں گروہوں کو بھی ان چار مہینوں کی حرمت پر اتفاق تھا۔ کعبہ اسلام کا مرکز تھا کیونکہ اسلام کی بنیاد جو ابراہیم (علیہ السلام) نے رکھی تھی اور وہی بنیاد نبی اعظم و آخر ﷺ کی قرار پائی تھی جس کا اعلان سورة الحج میں اس طرح کیا گیا کہ : ملۃ ابیکم ابراہیم تمہاری ملت وہی ہے جو تمہارے سے ایک مہینہ کا نام ہے بغرض عمرہ و حج بیت اللہ کا قصد کیا اور جس طرح سارے عرب کے لوگ اس موقع پر حج کی غرض سے جاتتے تھے اور جس رواج کے مطابق جاتے ت تھے اسی طرح نبی اعظم و آخر ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کا ایک گروہ بھی تیار ہو کر مدینہ سے نکلا۔ رواج کے مطابق کہنے سے ہماری مراد یہ ہے کہ ان حج کے مہینوں میں بغرض حج اور عمرہ جو لوگ چلتے وہ اپنے جانوروں کے گلے میں بطور علامت یا عمرہ کوئی لوہے کی چیز لٹکا لیتے جو عرف عام میں قلادہ کہلاتی تھی اور یہ علامت سمجھی جاتی تھی کہ یہ لوگ حج بیت اللہ کے لئے جا رہے ہیں ان سے کوئی گروہ مزاحمت نہیں کرے گا اور ان کو بخیریت گزرنے دے گا۔ نبی کریم ﷺ نے مدینہ کے قریب ہی ایک مقام ” ذوالحلیفہ “ پر پہنچ کر جو مدینہ والوں کی میقات ہے عربوں کے رواج کے مطابق اپنے جانوروں کے گلے میں وہ قلادہ پہنچایا تاکہ سب دیکھنے والوں کو معلوم ہوجائے کہ یہ قافلہ حج وعمرہ کے لیے جا رہا ہے۔
یہ قافلہ بخیریت منزل پے کرتا ہوا احرام باندھے اور اپنے جانوروں کی گردنوں میں قلادہ پہنے ہوئے میدان حدیبیہ تک پہنچ گیا جو مکہ سے صرف ایک منزل دور تھا اس جگہ پہنچ کر ابھی قیام کیا تھا کہ مکہ والوں نے اس قافلہ کو اس جگہ رک جانے کی ہدایت کی اور آگے بڑھنے سے روک دیا۔ نبی کریم ﷺ نے اپنے ایلچیوں کے ذریعہ سے مکہ والوں کو مطلع کا کہ ہمارا ارادہ حج وعمرہ کا ہے اور یہ مہینے حرمت کے ہیں ہمارا ارادہ لڑائی کا مطلق نہیں اور ہم خاموشی سے حج وعمرہ ادا کر کے واپس چلے جائیں گے۔ ہمارے ساتھ قربانی کے جانور بھی موجود ہیں اس لئے آپ لوگوں کو مزاحمت نہیں کرنی چاہئے اور یہ کہ سارے عرب کو بیت اللہ جانے اور حج وعمرہ ادا کرنے کی اجازت عام ہے اور اس پر بپابندی نہیں لگائی جاسکتی۔ یہ سارا کچھ کہنے کے باوجود مکہ والے نبی کریم ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو واپس چلے جانے کا پیغام بھجواتے رہے اور اس سلسلہ میں فریقین کے درمیان یہ طے پایا کہ اس سالا تو بہرحال مسلمانوں کے اس قافلہ کو حج وعمرہ کی اجازت نہیں دی جاسکتی البتہ آئندہ سال ان لوگوں کو اجازت ہوگی۔ ازیں بعد اس میدان میں ایک باقاعدہ معاہدہ ہوا اور اس معاہدہ میں جو شقین طے پائیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ اس سال مسلمان واپس چلے جائیں اور آنے والے سال ان کو حج و عمدہ کی اجازت ہوگی اور دوسری شق اس معاہدہ کی یہ تھی کہ دس سال تک دو نوں فریقوں میں جنگ نہیں ہوگی اور تیسری شق یہ تھی کہ عربوں کو عام اجازت ہوگی کہ وہ فریقین میں سے جس کے چاہیں حلیف بن جائیں ان پر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔ اس جگہ ہم ان تین شقوں کا بہ ضرورت ذکر کر رہے ہیں ورنہ معاہدہ کی تفصیل اس سے بہت زیادہ تھی اور معاہدہ طے پانے تک جو مراحل گزرے تھے ان کی تفصیل بھی قدرے زیادہ ہے لیکن اس کا ذکر اس جگہ کوئی ضروری نہیں۔
یہ معاہدہ طے ہونے کے بعد مسلمان حدیبیہ ہی میں قربانیاں کرنے کے بعد واپس مدینہ لوٹ آئے اور اس میدان میں حدیبیہ ہی میں عرب کے دو قبیلوں نے جو آپس میں زبردست رقیب تھے یعنی بنو بکر اور بنو خزاعہ ان میں 7 ھجری میں مسلمانوں نے بحمدللہ حج تو ادا کیا اگرچہ خود نبی کریم ﷺ اس حج میں تشریف نہ لائے لیکن اس کے بعد بنو بکر نے بنو خزاعہ پر حملہ کردیا جس حملہ میں قریش مکہ نے بھی چھپ چھپا کر بنو بکر کی کافی مدد کی۔ بنو خزاعہ کو بہت نقصان پہنچا انہوں نے حرم کعبہ میں داخل ہو کر جان بچانا چاہی لیکن وہاں داخل ہونے والوں کو بھی تتہ تیغ کردیا گیا۔ اس پر اس قبیلہ کے بقای لوگوں نے مسلمانوں سے مدد چاہی۔ رسول اللہ ﷺ نے قریش مکہ کو لکھا کہ اگر آپ اس خانہ جنگی میں فریق نہیں تو خزاعہ کو بنو بکر سے جو تمہارے حلیف ہیں ان لوگوں کا خون بہا ادا کرا دو تاکہ معاہدہ امن کا نقصان نہ ہو۔ روسائے قریش نہ بجائے اس کے کہ اس ] پر کچھ عمل درآمد کرائے جس سے مزید وقت گزرتا آپ کی اس بات کا کوئی مثبت جواب نہ دیا بلکہ مذاق اڑایا۔ اس طرح قریش نے جو معاہدہ حدیبیہ میں کیا تھا اس کی خلاف ورزی کر کے بدعہدی کا ثبوت دیا بات آگے بڑھتی رہی جس کی تفصیلات بہت لمبی ہیں تاآنکہ 8 ہجرت میں نبی لریم ﷺ نے دس ہزار کی ایک فوج تیار کی اور 20ؕ رمضان المبارک 8 ہجری کو مکہ کی طرف پیش قدمی کی اور راستہ سے بھی عربوں کے مختلف قبائل اس میں شرکت کرتے رہے اور لشکر اسلام چلتے چلتے ” مر الظہران “ جو مکہ سے ایک منزل سے بھی زیادہ قریب ہے وہاں تک چلا گیا اور وہاں جا کر پڑاؤ ڈال دیا۔ فوجیں دور دور تک پھیل گئیں رؤسائے مکہ نے اپنی طرف سے کوشش کی کہ کوئی معاہدہ دوبارہ طے پا جائے لیکن وہ اس معاملہ میں کامیاب نہ ہوسکے۔ نبی کریم ﷺ نے مکہ پہنچنے کا فیصلہ فرمایا اور ساتھ ہی یہ اعلان کرا دیا کہ اگر مکہ والوں کے مزاحمت نہ کی تو یہ لشکر مکہ میں داخل ہو کر بیت اللہ کی زیارت کرنے اور اس کو بتوں سے پاک کرنے کے بعد واپس چلا جائے گا۔ اس اعلان کے مطابق عمل درآمد ہوگیا۔ آپ فاتحانہ مکہ میں داخل ہوئے اور وہاں سب سے پہلے کام یہی کیا کہ بیت اللہ کو بتوں کی ناپاکی سے پاک کیا اور ایک دو معمولی واقعات کے سوا کوئی بات امن کے خلاف نہ ہوئی۔ مکہ فتح ہونے کا اعلان کردیا گیا اور مسلمان چند یوم وہاں گزار کر واپس آنا چاہتے تھے کی عربوں کے دوسرے قبائل نے اسلام کی اس طاقت کو کچلنے کی ٹھان لی۔ آپ ﷺ کو مکہ ہی میں یہ بات معلوم ہوگئی اور اس جگہ آپ ﷺ نے اپنے لشکر کو دو بار تیار ہوجانے کا حکم دیا جس کے نتیجہ میں دس ہزار کا یہ لشکر اور تقریباً دو ہزار لوگ مکہ سے اس لشکر میں شامل ہوگئے اور یہ کل 12 ہزار کا لشکر تیار ہو کر ان قبائل کے لاکھوں کی تعداد کے لشکر کے مقابلہ میں نکل کھڑا ہوا۔ حنین میں معرکہ کا رزار گرم ہوا جنگ نے کئی حالات بدلے لیکن انجام کار اللہ نے لشکر اسلام کو کامیاب کیا اور اس طرح مشرک عربوں کی طاقت موحد عربوں میں تبدیل ہوگئی۔
رجب 9 ہجری میں تیس ہزار مجاہدین کا لشکر تبوک کی طرف بڑھا اور قیصر روم آپ ﷺ کے مقابلہ میں نہ آیا۔ بیس روز تبوک میں ٹھہرنے کے بعد یہ لشکر واپس چلا آیا اور اس طرح پورے عرب اور عربوں کے ہمسایہ ملکوں میں موحدین اسلام کا عرب مکمل طور پر چھا گیا۔ 9 ہجری کے حج کے لئے جو حجاج کرام مدینہ کی طرف سے حج کے لئے گئے ان کا امیر الحاج سیدنا ابوبکر صدیق ؓ کو مقرر کیا گیا۔ یہ قافلہ حج چلے جانے کے بعد سورة التوبہ کا نزول ہوا اور اس معاہدہ سے بیزاری کا اس میں اعلان عام کیا گیا اور یہی وہ معاہدہ ہے جس کا ذکر اس جگہ کیا گیا ہے۔
Ayah 9:39 ہجری کے حج میں مشرکین کی بد عہدیوں کی بنا پر ان سے سارے معاہدوں کی منسوخی کا اعلان :
2: زیر نظر سورة ” التوبہ “ سے پہلے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم نہیں لکھی جاتی جس طرح باقی سورتوں پر لکھی جاتی ہے۔ اس کی وجہ بلاشبہ یہ بھی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس پر ” بسم اللہ “ نہیں لکھی تھی اور بعد میں رسم الخط یا قرآن کریم کے اندر کمی بیشی نہیں کیا جاسکتی تاہم اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس پر بسم اللہ اس لئے تتحریر نہ فرمائی کہ اس کے شروع سے ایک طرح کی بیزاری کا اظہار کیا گیا اور یہ بات تقاضا کرتی تتھی کہ اللہ تعالیٰ کی صفت رحمت کاس جگہ ذکر نہ کیا جائے اس لئے آپ ﷺ نے ذکر نہ فرمایا۔ جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق ؓ امیر الحاج بنا کر بھیجے جا چکے تھے کہ اس اس سورة کا نزول ہوا۔ نبی کریم ﷺ نے یہ آیات کریمات لکھوا کر سیدنا علی ؓ کو بعد میں مکہ روانہ کردیا تاکہ حج کے موقع پر عرفات ہی میں اس بات کا اعلان کردیا جائے اور یہی کیا گیا اور یہ اعلان سارے عرب قبائل کو سنا دیا گیا کہ جن جماعتوں نے بد عہدی کی ان کے ساتتھ اب کوئی معاہدہ نہیں رہا تاہم اچانک ان پر حملہ نہیں کیا جاسکتا ان کو کچھ مہلت دی جاتی ہے اس مہلت کے اندر وہ اپنی حالت کو سنوار لیں ورنہ وہ اپنے حالات کے خود ذمہ دار ہوں گے اور اس مدت کا اعلان آگے آرہا ہے۔ یہ بات آپ پیچھے سورة الانفال کی آیت 58 میں پڑھ چکے ہیں کہ اے مسلمانو ! جب تم کو کسی قوم کی خیانت یعنی نقص عہد اور غداری کا اندیشہ ہو تتو علی الاعلان اس کا معاہدہ اس کی طرف پھینک دو اور اسے خبردار کردو کہ اب ہمارا تتم سے کوئی معاہدہ باقی نہیں ہے اور اس اعلان بیزاری سے پہلے تم معاہدہ جماعتوں کے ساتھ کوئی ایسی بات نہیں کرسکتے جو ان پر بچڑھائی کے مترادف ہو اور اس حکم سے بھی یہ بات لازم آتی تھی اور اس دفعہ یہی کچھ کہا گیا کہ مشرکین کو اطلاع عام دے دی گئی اور چار باتوں کا اعلان کیا۔
1 - اسلام کے اصول وہی ہی جو سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے دین کے تھے اور یہ کہ ان اصولوں کے مطابق زندگی نہ گزارنے والے جنت کا استحقاق نہیں رکھتے۔
2۔ اس سال کے بعد کسی مشرک کو حج میں آنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی اس لئے مشرک اس تعلیم کے خلاف ہے جو ابراہیم (علیہ السلام) نے دی اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ اس سے بیزار ہیں۔
3۔ بیت اللہ کے گرد برہنہ طواف ممنوع ہے لہٰذا اب کوئی شخص برہنہ طواف نہیں کرے گا۔
4۔ جن لوگوں کے ہاتھ نبی کریم ﷺ کا معاہدہ باقی ہے یعنی جو نقص عہد کے مرتکب نہیں ہوئے ان کے ساتھ مدت معاہدہ تک وفا کی جائے گی اور جن لوگوں نے خود بد عہدی کی ہے ان کو چار ماہ کی مہلت دی جاتی ہے۔
اس آیت میں خطاب براہ راست مشرکین کو کیا گیا :
3: مشرکین کو مخاطب فرما کر براہ راستت ان کو یہ حکم سنا گیا اور یہ نہیں فرمایا کہ مسلمانو ! تم ان کو یہ پیغام سنا دو بلکہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے حکم ان کو سنا دیا گیا کہ چار مہینے تمہارے لئے مہلت ہے اور یہ چار مہینوں کی مہلت کیوں دی گئی ؟ اس میں کئی مصلحتیں پیش نظر رکھی گئی تتھیں جس میں اولیت اس کو ہو سکتی ہے کہ اگرچہ اپنی حالتت کو بدلنا چاہیں تو بدل لیں اور اپنے رویئے پر نظر ثانی کرلیں اور دوسری طرف مسلمان بھی اپنی مکمل تیاری کرلیں کہ اس کے بعد جزیرہ عرب میں اسلامی قانون کا نفاذ ہوگا اور شرک کے قانون کی بیخ کنی کردی جائے گی۔ ” یہ کہ اللہ تعالیٰ منکرین حق کو رسوا کرنے والا ہے۔ “ ظاہر ہے کہ یہ اعلان 10 ذی الحجہ کو ہوا تھا اور اس وقت سے 10 ربیع الثانی 10 ہجری تک ان کو وصیت دی گئی تھی کہ وہ اپنی ہالت پر غور و فکر کرلیں کہ اگر لڑنا ہو تو لڑائی کے لئے تیار ہوجائیں ، مکہ چھوڑنا ہو تو اپنی جائے پناہ تلاش کریں۔ اسلام قبول کرنا ہو تو سوچ سمجھ کر قبول کریں اور اگر اپنے دین پر قائم رہنا ہو تو حکومت کے مطیع و فرمانبردار ہو کر رہیں یعنی قانون کی ماتحتی تسلیم کرلیں۔ اگر وہ مکالف میں ڈٹ گئے تو یہ بات یقینی ہے کہ وہ اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے اس لئے کہ وہ ہمیشہ سے منکروں کو اپنی پیروی کرنے والوں کے ہاتھوں ذلیل کراتا ہے اور یقیناً ان کو بھی کرائے گا اگر انہوں نے مخالفت جاری رکھی۔ پس آپ ان لوگوں کو صرف اطلاع کردیں اور یہ خبر پہنچا دیں۔
اس اعلان بیزاری کا دن کو نس دن تھا ؟ حج اکبر کا دن
4: یہ اعلان جس کا ذکر اس جگہ کیا گیا وہ کان سا دن تھا ؟ اس کے متعلق قرآن کریم کے الفاظ میں یَوْمَ الْحَجِّ الْاَكْبَرِ کہا گیا ہے اور یہ حج 9 ہجری کا حج ہے ، اس اعلان سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ اس حج میں مشرکین بھی شریک تھے اس لئے یہ اعلان انہیں کو سنانے کے لئے کیا گیا اور حج کے موقع پر اس کا ہر جگہ اعلان کرا دیا گیا تاکہ سارے لوگ اچھی طرح سے اس کو سن لیں اور یہی وجہ ہے کہ اس اعلان میں سارے انسانوں کو مخاطب کیا گیا ” الی الناس “ کے الفاظ نے اس بات کی وضاحت بھی فرما دی اور اس حج کو جو ” حج الاکبر “ کہا گیا تو وہ اس نسبت سے ہے کہ مکہ کے لوگ عمرہ کو حج اصغر کہتے تھے جو سارے سال میں جب کوئی شخص چاہے ادا کرسکتا ہے اور ذی الحجہ کے مخصوص دنوں میں جو حج کیا جاتا تھا اس کو ” حج الاکبر “ کے نام سے یاد کیا جاتا تھا اور اسی نسبت سے اس کو حج الاکبر کہا گیا ہے ۔ یہ وہ بات نہیں جو ہمارے ہاں آج کل معروف ہے کہ جمعہ کے روز حج کا دن آجائے تو اس کو حج الاکبر کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ یہ دن 9 ذی الحج کا ہے یا 10 ذی الحج کا ؟ مفسرین نے اس کو 10 ذی الحجج قرار دیا ہے لیکن سب لوگوں کا ایک جگہ اجتماع صرف میدان عرفات میں ہوتا ہے اور وہیں خطبہ حج دیا جاتا ہے 9 ذی الحجج کے بعد کسی جگہ سارے لوگ جمع نہیں ہوتے۔ اس لئے کہ عرفات کے میدان کو 9 ذی الحجہ کی شام کو نماز ادا کرنے کے بغیر چھوڑا جاتا ہے وہاں سے لوگ ترتیب وار آتے اور قربانیاں کرتے ، حجامتیں بنواتے ، احرام کھول کر طواف بیت اللہ کے لئے روانہ ہوتے ہیں اور یہ سلسلہ 10 ذی الحجج کا سارا دن بلکہ اب تو گیارہ کا دن بھی تقریباً اس میں گزر جاتا ہے۔ ہاں ! اس وقت آبادی کم ہونے کے باعث لوگ کم ہوں تو بھی یہ بات محقق نہیں ہوتی کہ حج میں اگر خود پیغمبر اسلام ﷺ کے وقت 10 ذی الحجج کو کوئی خطبہ میدان منیٰ میں ہوتا تھا تو آج وہ کیوں نہیں ہوتا اور میدان عرفات میں جو خطبہ حج دیا جاتا ہے اس میں پورے عالم اسلام کے مسائل پر اب بھی روشنی ڈالی جاتی ہے اور ان کے لئے ہدایات کی جاتی ہیں وہ کیوں ہیں ؟
ہمارے خیال میں دس ذی الحجہ جو اس کو کہا گیا تو وہ محض اس لئے کہ رسول اللہ ﷺ کے خطبہ حج میں جو آپ نے اس اعلان کے ایک سال بعد یعنی 10 ہجری میں دیا تھا اس میں صحابہ کرام ؓ سے استفسارا پوچھا تھا کہ آج کا دن کون سا دن ہے ؟ تو صحابہ کرام ؓ کی طرف سے اس کو ” یوم النحر “ کہا گیا اور یوم النحر 10 ذی الحجہ ہی کو کہا گیا ہے کیونکہ عرفات سے واپس آکر 10 ذی الحجہ ہی کو قربانی کا سلسلہ شروع ہوتا ہے اور نویں ذی الحجہ اور دسویں ذی الحجہ کی درمیانی شب مزدلفہ میں گزاری جاتی ہے اور اب دسویں کی رات گزر گئی تو ظاہر ہے کہ آگے دسویں ہی کا دن ہو سکتا ہے۔ ہماری طرف سے اس کا جواب یہ ہے کہ ” ایام الحج “ کو ایام نہر ہی کہا جاتا ہے اور اسی نسبت سے اس دن کو بھی یوم النحر کہا گیا ہے۔ تاہم ضرورت ہو تو یہ بات علمائے کرام سے پوچھ لی جائے۔ ہمیں کوئی ایسی بات وضاحت سے معلوم نہیں ہوئی جس کا ذکر کار جائے اور فتویٰ بہرحال مفتیوں کا کام ہے۔
اس اعلان میں مشرکین کو توبہ کی تلقین بھی کی گئی کہ باز آجاؤ تو بہتر رہو گے :
5: مشرکین کے ساتھ مخالفت اور دشمنی ان کی ذات کے ساتھ نہیں جیسے کہ اکثر لوگوں میں ایک دوسرے کے ساتھ رقابتین اور دشمنیاں ہوتتی ہیں جس چیز کو ہمارے شریک کے لفظ سے موسوم کیا جاتا ہے بلکہ یہ مخالفت و دشمنی محض عقائد و اعمال کی وجہ سے تھی اور پھر یہ بھی کہ صرف اس لئے نہیں کہ مشرک کیوں مشرک ہیں اور بدعتی کیوں بدعتی ہیں ؟ ہرگز نہیں۔ مخالفت کا اصل باعث یہ تھا کہ مشرک اس بات پر زور دے رہے تھے کہ تم مشرک کیوں نہیں ؟ مطلب یہ کہ تم وہ رسم و رواج کیوں نہیں کرتے۔ جن کو ہم حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے ہیں تم کیوں نہیں سمجھتے۔ جو جو کام وہ کرتے تھے ہو ان کو صحیح سمجھ کر کرتے تھے اور فرق یہ تھا کہ جو صحیح سمجھتے تھے تو محض اس لئے کہ ان کے آباؤ اجداد ایسا کرتے آ رہے تھے اور یہی ان کی سب سے بڑء سند تھی کہ جو باتیں ہمارا آباؤ اجداد کرتے رہے وہ غلط کس طرح ہو سکتی ہیں ؟ مسلمان جب ان باتوں کو درست نہ سمجھتے اور ان کے ساتھ ان کی مذہبی رسومات میں شامل نہ ہوتے تو وہ ان لوگوں کد دکھ دیتے اور ان سے دشمنی کرتے تھے اور مسلمانوں کو ان کے ساتھ ہمدردی تھی اس لئے ان کی غلط باتوں اور شرکیہ کاموں سے ان کو روکتے اور منع کرتے تھے کہ ایسے کام کر کے اپنی آخرت کیوں برباد کر رہے ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ نہایت نازل سے نازک حالات میں پہنچ کر بھی مسلمانوں کی طرف سے یہ ہمدردی جاری رہی۔ اس بات کا ذکر اس جگہ موجود ہے۔ فرمایا ” پس اگر تم اب بھی ظلم اور شرارت سے توبہ کرلو تو تمہارے لئے اس میں بہتری ہے اور اگر نہ مانو گے تو جان رکھو کہ تم اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے۔ “ اور پیغمبر اسلام کو مخاطب کر کے فرمایا کہ ” جو لوگ کفر کی راہ پر چل رہے ہیں انہیں عذاب دردناک کی خوشخبری سنادو۔ “ یعنی اگر وہ اس سے باز نہ آئے تو تم کو دنیا میں بھی عذاب دیا جائے کہ اس غلبہ کے بعد تم کو ییناً مغلوب کیا جائے گا اور آخرت کا عذاب بھی تم کو یقیناً پہنچے گا۔
Ayah 9:4مشرکوں میں سے جو لوگوں نے معاہدہ کی خلاف ورزی نہیں کی ان کو مستثنیٰ کردیا گیا :
6: مشرکین کے مختلف گروہوں نے مختلف اوقات میں معاہدے کئے تھے فرمایا کہ جس خاندان نے اپنے معاہدہ کے خلاف ورزی نہیں کی اور ابھی تک وہ اپنے معاہدہ پر قائم ہیں اور قائم رہنا چاہتے ہیں تو مسلمانوں کو بھی ان کے ساتھ کئے ہوئے معاہدوں کی پابندی لازمی ہے۔ جیسا کہ آپ پیچھے پڑھ چکے ہیں کہ بیت اللہ کو اب ساری شرک کی باتوں اور کاموں سے پاک کردیا گیا تھا وہاں سے مشرکین کے بت اٹھا دیئے گئے تھے۔ ننگے طواف کی ممانعتت کردی گئی تھی۔ قربانی کے خون کو بیت اللہ کی دیواروں کے ساتھ لگانے سے روک دیا گیا تھا۔ شرکیہ اور اد و وظائف سے ان کو منع کردیا گیا اور جب حرم میں داخلہ پر بھی پابندی لگا دی گئی تھی کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک مشرک رہتے ہوئے حرم میں داخل نہیں ہو سکتا۔ اس کے بعد باقی کیا رہا ؟ یہی کہ وہ ان پابندیوں کے پابند رہتے ہوئے بھی اگر وہ اپنے شرک پر قائم رہنا چاہتے ہیں تو رہا کریں لیکن جب وہ جنگ کی بجائے امن چاہتے ہیں تتو اسلام تو پہلے ہی مشرک کے ساتھ محض اس لئے نہیں لڑات کہ وہ مشرک کیوں ہے ؟ اسلام کی جنگ تو دفاعی جنگ ہے اگر کوئی جنگ کے لئے تیار نہ ہو تو اس کو پہلے ہی جنگ کرنے کا کوئی شوق نہیں۔ اس لئے واضح الفاظ میں ان کو کہہ دیا کہ ” اللہ تعالیٰ تو صرف انہی کو دوست رکھتا ہے جو احتیاط رکھتے ہیں۔ “ جس میں اس طرف اشارہ فرما دیا کہ معاہدہ پورا کرنے میں بڑی احتیاط سے کام لیں قوموں کی طرح اس میں حیلے اور تاولیلیں نہ کریں کہ خلاف ورزی کرنے کے باوجود خلاف ورزی کو تسلیم نہ کریں یا خلاف ورزی کی کوئی راہ ڈھونڈ لیں۔ یہی وہ اسلام کی تعلیمات تھیں جو بدقسمتی سے قوم مسلم نے مکمل غور پر بھلا دیں اور آج جن خطوط پر مشرکوں اور کافروں کے ساتھ زندگی گزارنے سے بھی منع کیا گیا تھا آج وہ سارے کام مسلمان حکومتیں آپس میں کر رہی ہیں اور پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ اس کا نام آج کل جہاد رکھ لیا ہے اور ایک دوسرے کے ساتھ پیکار جنگ ہیں۔ اے اللہ ! اس قوم مسلم کو بھی ہدایت عطا فرما کہ ہدایت صرف تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔
Ayah 9:5معاہدہ کے چار مہینے گزر جانے کے بعد محاربین کے قتل عام کی اجازت :
7: ” اشہر الحرام “ سے وہ حرمت کے مہینے نہیں جو سارے عرب میں نبی کریم ﷺ کی آمد سے پہلے بھی حرام سمجھے جاتے تھے اور آپ ﷺ نے بھی ان کی حرمت کو قائم رکھا بلکہ ان ” اشہر الحرام “ سے مراد وہ چار مہینے ہیں جن کے متعلق حج الاکبر میں اعلان کیا گیا تھا کہ اس اعلان کے بعد تم کو چار مہینے کی مہلت دی جارہی ہے کہ ان کے اندر جنگ نہیں ہوگی اور اگر تم نے اپنی اصلاح کرلی یعنی یا تو اسلام میں داخل ہو کر دین اسلام قبول کرلیا یا کم از کم حکومت اسلامی کی اقلیت ہو کر اقلیتوں کے انون کے مطابق امن کی زندگی پسند کرلی اور جنگ وجدال سے باز آنے کا وعدہ کرلیا تو تم کو اجازت ہے کہ امن سے رہو اور دوسروں کو رہنے دو اگر تم نے ان دونوں کاموں میں سے ایک بھی نہ کیا تو اس کا مطلب خود بخود واضح ہوجائے گا کہ تم جنگ کو روکنا نہیں چاہتے بلکہ جنگ کرنا چاہتے ہو اس لئے گویا تم نے اعلان جنگ کردیا ہے اور جب تم نے خود ہی اعلان کردیا ہے تو پھر یقیناً ہم کو بھی اس کے دفاع کے لئے تیار رہنا گوگا اور ہم تیار رہیں گے اور یہی حکم اس آیت میں بھی دیا گیا ہے کہ جب حالات ایسے ہیں تو اب تم بھی ہر پہلو پر ان کا ناطقہ بند کردو اس لئے کہ اب وہ اس عذاب کے مستحق ہیں جو عذاب الٰہی انبیائے کرام کی تکذیب کرنے والوں کے لئے سنت اللہ میں طے ہے کہ اللہ چاہے تو ان کو کسی ناگہانی مصیبت میں مبتلا کردے خواہ آسمان کی طرف سے نازل شدہ گو یا زمین کی طرف سے یا مسلمانوں کو طاقت دے کر ان کے ہاتھوں سے مخالفین اسلام پر مسلط کیا جاتا رہا ہے اور یہی صورت حال اس عذاب کی ہے۔ اب ان مشرکین کے ساتھ جو جنگ جاری ہے وہ کئی طریقوں سے ہے جن میں سے ایک طریقہ یہ ہے کہ اگر وہ تلوار اٹھائیں تو پری طاقت سے ان کو کچل دو اور اگر وہ میدان تجارت میں آئیں تو دیانتداری سے کام کر کے دیانت و امانت کے ساتھ ان کا ناطقہ بند کردو اگر تمہارا مقابلہ ایجادات کے میدان میں ہوجائے تو ان سے بہت زیادہ آگے بڑھنے کی کوشش کرو یہاں تک کہ یہ لوگ میدان ہار جائیں۔ غرضیکہ اس دنیا میں جتنا کام ترقی کے ہیں ان سب میں وہ تمہارا مقابلہ نہ کر پائیں یہی معنی ہیں اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے کہ : ” ہر جگہ ان کی تاک میں بیٹھو “ اور ان سے ترقی کر کے بہت آگے نکل جاؤ ۔ افسوس کہ قوم مسلم کو علمائے اسلام نے یہ سبق یاد نہ دلایا جو بالکل فطرت کے مطابق اور اصل سبق تھا بلکہ قوم کو وَ اقْعُدُوْا لَهُمْ کُلَّ مَرْصَدٍ 1ۚ کا جو سبق دیا وہ فطرت انسانی کے خلاف تھا جس وجہ سے قوم اس کو یاد نہ رکھ سکی یا قوم نے اس کو قبول ہی نہ کیا اور جو اصل سبق تھا وہاں تک ان کی رسائی نہ ہوئی پھر جو نتیجہ اس کا نکلنا چاہئے تھا وہ نکل رہا ہے کہ وہ قوم جو دینی اور دنیوی ترقیوں پر اول مقام پر کھڑئی کی گئی تھی پھر اس پستی میں گر کر رہ گئی جس پستی سے اس کو نکالا گیا تھا۔ آج اس پر جتنا رویا جائے اتنا ہی کم ہے لیکن ایسا رونے والے خود اس وقت مفتیان دین کے فتویٰ کی زد میں ہیں اور ان پر ” کافر “ ہونے کا فتویٰ چسپاں کردیا گیا ہے اور اس طرح دوسری امم کے ساتھ وہ بھی کافر قرار پاگئے ہیں اور پھر چونکہ ان کو کافر نہ کرنے والوں پر بھی کفر کا فتویٰ عائد ہے اس لئے سمجھنے کے باوجود کوئی ہمت نہیں کرسکتا کہ کسی ” کافر “ کے ” کافر “ ” کافر “ کہنے سے کبھی کوئی ” کافر “ نہیں ہوجاتا اور نہ کوئی کوئی کافر ، کافر کہہ کر خود کفر سے بچ سکتا ہے جس طرح کوئی چور چور ، چور کا شور کر کے چور ہونے سے بچ نہیں سکتا لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ ہمارے ہاں محاورہ عام ہے کہ چور بھی کہے چور چور تو اس مکاری سے وقتی نجات بہر حال مل جاتی ہے۔
اگر وہ صحیح معنوں میں فرمانبردار ہوجائیں تو ان کا کیا سب کچھ معاف ہوجائے :
8: مطلب یہ ہے کہ اگر وہ فرمانبرداری قبول کرلیں۔ خواہ وہ مسلمان ہوجائیں اور خواہ وہ قانونی طور پر امن سے رہنے کے لئے اسلامی حکومت کی زیر نگرانی رہنا پسند کرلیں۔ صورت اول میں کفر و شرک سے باز آکر نماز کو قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں اور اس طرح اسلام کا نظام عبادت اور اطاعت میں داخل ہوجائیں اور اسلامی زندگی پسند کرلیں تو دین و دنیا کی کامیابی حاصل کرلیں۔ ہاں ! ان کو یہ راہ پسند نہ ہو تو کم از کم دوسری صورت اختیار کر کے یعنی اسلامی حکومت کو تتسلیم کر کے اس کے زیر نگرانی زندگی بسر کرنا شروع کردیں بہر حال ان دونوں باتوں میں سے ایک کو کرنا ہوگا ورنہ وہ اب اسلام کی تلوار سے نہیں بچ سکیں گے کیونکہ ان دو صورتوں کے سوا کوئی تیسری راہ امن قائم ہونے کی نہیں ہو سکتی۔
زیر نظر آیت پر معترضین نے بہت اعتراض کئے ہیں جن میں سب سے بڑا اعتراض ان کو یہ ہے کہ اسلام میں ہر کافر کو قتل کردینے کا حکم ہے کیونکہ قرآن کریم میں فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِیْنَ کے الفاظ آئے ہیں۔ اصل وجہ اس کی یہ ہے کہ انسانوں میں بہت سے کم ایسے ہیں جو تعصب کی عینک اتار کر دیکھنا چاہیں اس لئے کہ ان کی نظر سے یہ عینک اتار کر کچھ دیکھا ہی نہیں جاسکتا۔ حالانکہ اس کا صاف اور سیدھا مطلب یہ تھا کہ وہ لوگ جو بار بار معاہدہ کر کے اب تک پھرتے رہے ہیں ان کو یہ کہا جارہا ہے کہ یا تو وہ تجدید معاہدہ کر کے معاہدہ پر قائم رہ کر یعنی اسلامی حوکمت کی زیر نگرانی رہیں یا وہ سچے دل سے تائب ہوجائیں۔ اب کوئی تیسری صورت ان کے بچاؤ کی نہیں ہوگی۔ علاوہ ازیں صرف اور صرف تلوار ہے جس سے ان کو قتل کیا جاسکتا ہا رو آپ کو کوئی اس سے نہیں روکتا۔ آج زمانہ کس قدر ترقی کرچکا ہے۔ کوئی جدید طریقہ ہی بتا دیا جائے کہ آخر وہ کون ہو سکتا ہے ایسی صورت حال میں امن قائم ہونے کی راہ سوائے ان دو راہوں کے اور ہے ؟ ہاں ! جن لوگوں نے اس کا مطلب یہ سمجھا ہے کہ اس حکم کا مطلب یہ ہے کہ ان مشرکین کے لئے تلوار سے بچنے کی صرف ایک ہی صورت ہے کہ وہ اسلام کو قبول کرلیں تو یہ بات سو فی صد غلط ہے اس لئے کہ آنے والی آیت خود اس مضمون کی نفی کر رہی ہے۔ رہی گھاتت میں بیٹھنے کی بات تو یہ بالکل واضح ہے کہ گھات میں اس ہی کے لئے بیٹھا جاسکتا ہے جو اس قابل ہو کہ قابو میں نہ آرہا ہو لیکن اس کو قابو کرنا ضروری ہو اور پہلی دونوں صورتیں وہ ہیں جن کو اختیار کرنے والے پوری طرح سے حکومت کے قابو میں ہوتے ہیں ان کی راہ میں بیٹھنے کی وہی صورت ہے جو ہم نے اوپر ذکر کی اور یہ صورت اس وقت کے اسلام سے صاف صاف عیاں تھی کہ مسلمانوں نے زمانہ جنگ میں بھی اور امن میں بھی کفار کا پورا پورا ناطقہ بند کیا اور ہر میدان میں ان کو شکست دی۔
محنت و مزدوری میں ایک ایسی چیز ہے جو اس وقت بھی سخت کام تھا اور آج بھی ہے اور اسی طرح ہر دور میں سخت محنت سے کام کرنے والوں کو وہ آسائش و آرام میسر نہیں ہوتا جو دوسرے لوگوں کو ہوتا ہے لیکن مسلمان مزدوروں نے بھی غیر مسلم مزدوروں کے مقابلہ میں ان کو شکست دے کردینا والوں پر یہ بات روشن کردی کہ اسلام کتنا سچا اور کتنا فطری دین ہے۔ چناچہ روایات میں آیا ہے کہ تبوک کے موقع پر جب رسول اللہ ﷺ نے چندہ کی اپیل کی اور صحابہ کرام ؓ کی کثیر تعداد نے بہت ہی زیادہ اس سلسلہ میں جمع کرادیا ایک صاحب جن کے اس کچھ بھی موجود نہ تھا ایک یہودی کی کھیتی کو پانی دینے کی مزدوری کا کام اپنے ذمہ لے لیا اور یہ کام رات کو کرنے کا وعدہ کیا۔ یہودی نے منظور کرلیا اور وہ صحابی رات پھر اسکی کھیتی کو پانی دیتے رہے وہ یہودی خود کہتا ہے کہ میں نے رات کو جب بھی جا کر دیکھا جو پوری تن دہی کے ساتھ اپنے کام میں مصروف تھا اور صبح تک اس نے اتنا کام کردیا کہ اتنا دو مزدور بھی نہیں کرسکتے ہیں میں نے اس کو مزدوری دی تو ساتھ اس سے پوچھ لیا کہ آپ نے دو افراد کے برابر کام کردیا حالانکہ رات کا وقت تھا اور میں جو کام کا مالک تھا آپ کے پاس موجود بھی نہ تھا آپ نے ذرا کوتاہی نہ کی اور نہ کام کے دوران بھی آپ رکے۔ آخر کیوں ؟ تو اس نے کہا کہ آپ اگرچہ نہیں دیکھ رہے تھے لیکن ایک ذات مجھے دیکنھ رہی تھی جس کو آپ کے ساتھ معاہدہ طے ہونے کی بھی اچھی طرح خبر تھی ؟ میں نے اس سے پوچھا کہ اس وقت وہاں کوئی بھی موجود نہیں تھا تو اس نے جواب دیا کیوں نہیں۔ میرا پروردگار موجود تھا اور وہ ہمارے معاہدہ سے بھی باخبر تھا اور میری نگرانی بھی وہ کر رہا تھا یعنی وہ جانتا تھا کہ میں نے رات اسی معاہدہ کے مطابق گزاری ہے یا نہیں۔ تو اس مزدور کی اس بات نے اس مزدوری کرانے والے کو اسلام قبول کرنے پر مجبور کردیا اور اس مزدوری کی رقم کے بارگاہ نبدی میں وہ مقام حاصل کیا جو بڑے بڑے مالداروں کا لاکھوں کا مال بھی وہ مقام حاصل نہ کرسکا اور یہ بھی معلوم ہوگیا کہ اس مسلمان مزدور نے اللہ کے فضل و کرام سے غیر مسلم مزدوروں کا راستہ عملاً بند کردیا۔ یہ ایک ادنیٰ سی مثال ہے جو کردار کے لحاظ سے ایک بہت بڑا سبق اپنے اندر رکھتی ہے اور اللہ تعالیٰ ہی کی توفیق سے انسان ایسا کردار ادا کرسکتا ہے اور یہ بھی کہ ایسا کردار ہی وہ چیز ہے جس کی اسلام بار بار تاکید کرتا ہے اور یہ وہ کردار ہے جس کی قوم مسلم میں اس وقت سب سے زیادہ کمی محسوس ہو رہی ہے ورنہ اس وقت نہ علم پہلے سے کم ہے اور نہ عقل و فکر نہ وعظ و درس دینے والوں کی کوئی کمی ہے اور نہ سننے والوں کی لیکن شاید ہی کسی کی اس طرف توجہ مبذول ہو اگر ہے تو آٹے میں نمک کے برابر ہوگی یا اس سے بھی کم اور رہے علمائے کرام تو وہ اس وقت ایسی باتوں کا نام ہی لینے کو گناہ سمجھتے ہیں۔
ہاں ! زیر نظر آیت سے یہ بھی بات واضح ہوگئی کہ جس بات کے بعد ایک جماعت مسلمانوں کی جماعت تسلیم کی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ زبان سے اسلام کا اقرار کرے اور عمل میں دو باتیں ضرور آجائیں نماز کی جماعت کا قیام اور زکوٰۃ کی ادائیگی۔ اگر یہ دو عملی باتیں ایک جماعت میں مفقود ہوں تو اس کا شمار مسلمانوں میں نہیں ہوگا خواہ وہ کون ہو اور اس اعتبار سے ایک فرد کی حالت اور ایک جماعت کی حالت میں جو فرق ہے اسے بھی نظر انداز نہ کرنا چاہئے۔
Ayah 9:6اے پیغمبر اسلام ! مشرکوں میں سے اگر آپ سے کوئی امان طلب کرے تو ضرور امان دو :
9: پچھلی آیت کی اس آیت میں مزید وضاحت فرما دی گئی تتات کہ کسی کو غلطی نہ لگے اور وہ پچھلی آیت کا مفہوم غلط نہ سمجھ لے جیسا کہ سمجھ لیا گیا۔ گویا مشرکین کے ساتھ جو سختتی بیان کی گئی تھی اس میں ایک حد تک نرمی کردی گئی اس لئے پناہ طلب کرنا اور مقابلے کے لئے کھڑے ہوجانا دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے اس لئے وضاحت فرمادی کہ جو مقابلہ کے لئے اٹھے اس کے معاملہ میں نرمی نہیں ہوگی بلکہ اس کا علاج تلوار ہی سے ہوگا لیکن اگر کوئی شخص مشرک ہونے کے باوجود پناہ طلب کرے یعنی آپ کا حلیف ہونا چاہے تو آپ سے مدد طلب کرے یا آپ کے قریب میں رہنا پسند کرے اور لڑائی لڑنے کی بجائے امن کا طالب ہو تو آپ اس کو ضرور پناہ دیں۔ اگر وہ بات ہوتی جو علماء کرام نے بیان کی یا جو مخالفین نے سمجھی تھی تو پھر یہ حاکم ہوتا کہ اس کا امان نہ دیں بلکہ چونکہ وہ مشرک ہے اس کو ضرور قتل کریں حالانکہ ایسا نہیں فرمایا گیا بلکہ حکم یہ ہوا کہ اس کو ضرور پناہ دو اور یہ بھی کہ اس کو اسلام قبول کرنے پر مجبور بھی نہ کرو بلکہ اس کو پناہ میں رکھو اور بغیر کسی شرط کے اسلام کی باتیں اس کے ذہن میں ڈالتے رہو اور جب تک وہ آپ کے اپس ہے کردار کے ساتھ ، اخلاق کے ساتھ ، اعمال کے ساتھ بذریعہ گفتگو اسلام کے اصولوں سے اس کو روشناس کراؤ اور پھر اس کی خواہش کا پورا پورا احترام کرتے ہوئے جب حالت جنگ نہ رہے تو اس کو اس کے امن کی جگہ جہاں اس کو آرام و سکون میسر آئے اور اس کا جی چاہے اس کو پہنچا دو اور سمجھ لو کہ عقل و فکر کی مہلت دینا ضروری نہ ہوتا یاد رہے کہ قرآن کریم جس طرح اس معاملہ میں جبر کی پرچھائیاں بھی دیکھنا نہیں چاہتا اس طرح تقلید میں اعتقاد کا بھی رواداد نہیں اور اس میں عقل والوں کے لئے ان گنت ہدایات موجود ہیں اگر کوئی عقل سے کام لینا چاہئے۔
Ayah 9:7عہد شکن مشرکوں کے دہ کی عنداللہ اور عندالرسول بھی کوئی حیثیت نہیں :
10 : یہ فطرتی بات ہے کہ جس طرف سے انسان کو کوئی ٹھوکر لگتی ہے اس طرف اس کا دھیان بار بار جاتا ہے۔ جب ان ہالات سے دو چار ہوتا ہے تو گزشتہ بھولی ہوئی باتیں پھر اس کو یاد آتی ہیں۔ قرآن کریم بھی صحیح معنوں میں ایک فطرت کا بیان ہے اس لئے ایک بات کو تصرف آیات کے ذریعہ بار بار ہر ایک بار ایک نئے رنگ سے پیش کرتا ہے جس سے مقصود تفہیم بھی ہے اور فطرت کو اجاگر کرنا بھی۔ یہی صورت حال اس جگہ ہے کہ ایک بار پھر گزشتہ آیت کی طرف توجہ مبذول کرتا ہے اور کہتا ہے کہ دشمنوں کی بےدر پے عہد شکنیوں اور ظلم و عداوت کی انتہا نے کس طرح اس اعلان جنگ کو ناگزیر کردیا تھا۔ فرمایا جن لوگوں نے بار بار عہد کئے اور بار بار خلاف ورزی کی اور پھر صلح حیدیبیہ کا آخری عہد بھی اس ظالمانہ طریقہ پر پامال کیا اب ان کا عہد کیونکر عہد سمجھا جاسکتا ہے ؟ ہاں ! جو فریق اس عہد پر قائم رہے تو یقیناً ان کا عہد اپنی جگہ قائم ہے اسلام کسی ہال بھی بد عہدی جائز نہیں رکھ سکتا تاہم اللہ کے نزدیک اور اس کے رسول کے نزدیک اب لوگوں کا عہد کوئی عہد کی حیثیت نہیں رکھتا جن کی زبان کا ذرا بھی اعتبار نہیں رہا جو بار بار عہد شکنی کرچکے ہیں۔
جن لوگوں نے صلح حدیبیہ کے عہد کا پاس کیا تو تم لوگ بھی ان کا خیال رکھو :
11: ” جن لوگوں کے ساتھ تم نے مسجد حرام کے قریب عہد و پیمان باندھا تھا “ یعنی صلح حدیبیہ کے موقع پر انہوں نے عہد باندھا تھا اور وہ آج تک اس عہد پر قائم ہیں یعنی انہوں نے قریش مکہ کا ساتھ نہیں دیا محض اس خیال سے کہ جو انہوں نے عہد و پیمان باندھا ہے یہ اس کے خلاف ہے تو آپ لوگ بھی ان کے عہد کا خیال تکھیں اور ان کو کوئی گزند تمہارے ہاتھوں نہ پہنچے اگرچہ وہ مشرک ہی ہوں۔ اس سے بھی یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوگئی کہ وہ بات جو مفسرین نے سمجھی وہ صحیح نہیں اور قتل کرنے کا جو حکم دیا گیا وہ شرط ہے اور وہ رصرف انہی لوگوں کے لئے جو اپنا اعتبار و اعتماد کھو چکے ہیں اور بار بار عہد شکنی کر کے اس کے مستحق ہوچکے ہیں اس کے باوجود ان پر یہ لحاظ رکھا گیا کہ اب بھی وہ توجہ کر کے دین اسلام کو بطور دین تسلیم کرلیں ، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو ان کی راہ چھوڑ دو اور اگر جدید عہد کر کے اس عہد پر قائم ہوجائیں تو بھی ان کو دیکھو کہ وہ حکومت اسلامی کی اقلیت کے طور پر رہنا پسند کرتے ہیں یا نہیں ؟ اگر پسند کریں تو درگزر کرو اور اگر دونوں کاموں میں سے کسی کے کرنے کا اعلان نہ کریں تو سمجھ لو کہ وہ حکومت اسلامی کی گویا باغی ہیں اور جو سا باغیوں کی ہے وہی ان کو دیں یعنی جہاں پائیں ان کو قتل کردیں کیونکہ اب یہی ان کے کیے کی سزا ہے۔ اس بات کو ایک بار پھر اچھاطرح سن لو کہ اللہ تعالیٰ دوست رکھتا ہے اپنے تمام کاموں میں ان لوگوں کو جو متقی ہوتے ہیں اور عہد شکنی سے ڈرتے ہیں کہ اس کا انجام بہت برا ہے۔
Ayah 9:8بد عہدوں اور خائن لوگوں کا عہد بھی آخر کوئی عہد ہو سکتا ہے ؟
12: یہ تو اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہوا کہ اس نے تم کو مشرکوں پر غلبہ دے دیا جس کا اصل باعث تمہارا عہد پر قائم رہنا تھا۔ جب تک ان کا غلبہ رہا وہ بد عہدیاں کرتے رہے اور اب جب تم کو غلبہ عطا کیا تو اگر تم بھی بد عہدیاں کرو تو آخر تم میں اور ان میں کیا فرق رہا ؟ رہی ان کی بات کہ اب وہ غلبہ پاجائیں تو کیا کریں گے ؟ بالکل وہی جو آج تک کرتے آرہے ہیں کہ نہ وہ تمہاری قرابت داری کا کوئی لحاظ کریں گے اور نہ ہی کسی عہد و پیمان کا کوئی پاس کریں گے۔ اس لئے کہ یہ مثل ہے ” لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے “ اور یہ کہ ” اشارہ ہمیشہ عقل والوں کے لئے ہوتا ہے “ گدھے کا کیا ہے کہ ڈنڈا برستا رہے گا تو وہ خوب کام کرے گا ذرا اس سے نرمی کرو تو کو دنے اور بھاگنے لگے گا۔ ڈنڈا ہی ان کا پیر ہے۔ عہد شکنی تو ان کی گٹھی میں پڑی ہے اور ان کی اصلیت یہ ہے کہ آج بھی اگر وہ تم پر قابو پا جائیں تو کسی ایک مومن کو بھی وہ نہ چھوڑیں۔ ایسے لوگوں کے خلاف اگر اعلان جنگ نہ کیا جاتا تو نتیجہ یہ نکلتا کہ مسلمان دائمی خطرہ میں چھوڑ دیئے جائے۔ اس وقت جب اللہ نے تم کو ان پر قابو دے دیا ہے اور تسلط تمہارے ہاتھ میں آگیا ہے تو وہ اپنی باتوں سے تمہیں راضی کرنا چاہتے ہیں مگر ان کے دلوں کا فیصلہ اس کے خلاف ہے اور ان میں زیادہ تر ایسے ہی لوگ ہیں جو فاسق ہیں یعنی راست بازی کے تمام طریقوں سے اور پابندیوں سے باہر ہوچکے ہیں۔
Ayah 9:9اعلان براءت کے وجوہ کی مزید وضاحر کہ اس کی ضرورت کیوں ہوئی ؟
13; : فرمایا اس وقت جو ان لوگوں سے اعلان براءت کیا گیا تھا تو وہ ناگزیر تھا اس لئے کہ ان میں انسانیت نام کی کوئی شے موجود ہی نہ رہی تھی۔ نبی اعظم و آخر ﷺ کا تعلق ان کے حسب و نسب سے تھا اور پھر وہ اس کو الصادق اور الامین مانتے اور تسلیم کرتے تھے۔ اس کے حسن کردار کے وہ لوگ گیت گاتے تھے ان ساری باتوں کے باوجود انہوں نے دیکھا کہ وہ ان کی خواہشوں کی پیروی نہیں کر رہا اور ان کو جو اللہ کی آیتوں کے نام سنا رہا ہے وہ سب ان کے آبائی رسم و رواج کے بھی خلاف ہے تو انہوں نے خود بھی اس سے منہ موڑ لیا اور دوسروں کو بھی جن پر ان کا بس چلا اس سے روکنے کی انتہائی کوشش کی اور خلق کے ساتھ ان کے معاملے کی نوعیتت یہ ہے کہ کسی مسلمان کے معاملے میں ان کو نہ رحم اور قرابت کا پاس ہے نہ عہد و ذمہ کا۔ اس طرح حقوق تلف کرنے اور حدود اللہ کو توڑنے میں انہوں نے سبقت اختیار کرلی اور ان آیات الٰہی پر انہوں نے دنیا کے مال و متاع کو بہت ترجیح دی اور جان بوجھ کر اللہ کی آیتوں کے جھٹلانے پر وہ تل گئے۔ غور کرو کہ یہ کتنی ہی بری حرکت ہے جو انہوں نے کی۔
Ayah 9:10ان لوگوں کو نہ قرابت کا احساس ہے اور نہ ذمہ داری کا :
14: ان کی اس بےحسی کو دبارہ بیان کیا گیا کہ جاہل قوموں میں بھی قرابت داری اور اپنی ذمہ داری کا ایک حد تک ضرور احساس ہوتا ہے لیکن ان لوگوں کی غیرت کا اس طرح جنازہ نکل چکا ہے کہ ان کو ان حقوق کا بھی ذرا احساس نہیں رہا اور وہ محض ان کے رسم و رواج نے نہیں رہنے دیا حالانکہ عربوں میں اس کا بہت احساس کیا جاتا تھا اور وہ رشتہ داری کی خاطر جان تک قربان کردینے کو فخر سمجھتے تھے بلکہ اس سے بڑھ کر مزید دیکھا جائے تو آخر بنوبکر ان کے حلیف ہی تو تھے اور ان کی خاطر انہوں نے عہد و پیمان کو پس پشت ڈالا اور جان کی بازی لگا دی اسکے نتتیجہ میں فتح مکہ کو انہوں نے برداشت کرلیا فرمایا ان کی ضد بھی کتنی عجیب ہے کہ برائی کے کاموں میں انہوں نے کتنا بڑا خطرہ مول لے لیا اور محمد رسول اللہ ﷺ جو انہی کے اپنے خاندان کے ایک فرد تھے ان کی قرابت کا ذرا بھی احساس نہ کیا حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے ایک موقعہ پر ان کو یاد بھی دلایا کہ میں تم سے اس کام پر کوئی اجر نہیں چاہتا مگر ہاں ! یہ ضرور چاہتا ہوں کہ تم لوگ یعنی اہل قریش کم از کم اس رشتہ داری کا تو لحاظ کرو جو میرے اور تمہارے درمیان ہے چاہئے تو یہ تھا کہ تم میری بات مان لیتے لیکن اگر تم نہیں مانتے تو یہ ستم نہ کرو کہ سارے عرب میں سے بڑھ کر تم ہی میری دشمنی پر تل گئے ہو۔ چناچہ سورة شوریٰ میں یہ ارشاد اس طرح بیان کیا گیا کہ :
” اے پبرمو اسلام ! ان لوگوں سے کہہ دیجئے کہ میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں البتہ قرابت کی محبت ضرور چاہتا ہوں۔ “ (الشوریٰ 42 : 23)
Ayah 9:11اگر وہ توبہ کرلیں تو آج بھی وہ تمہارے بھائی ہیں :
15: مثل ہے کہ ” صبح کا بھولا اگر شام کو گھر واپس آجائے تو اس کو بھولا ہوا ہی نہ سمجھو۔ “ فرمایا جو ہوا اگر آج بھی وہ سچے دل سے توجہ کرلیں اور اپنی حرکتوں سے مکمل طور پر باز آجائیں ، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں جو ظاہری طور پر ایمان لانے کی نشانیاں ہیں تو آج بھی وہ تمہارے بھائی ہیں۔ زیر نظر آیت نے یہ بات مزید وضاحر کردی کہ اسلامی برادری میں داخل ہونے کے لئے سب سے پہلی بیک وقت تین شرطیں ضروری ہیں۔
1 ۔ کفر و شرک سے توجہ جو ایک لحاظ سے مخفی بات ہے کیونکہ اس کا تعلق دل کے ساتھ ہے دوسروں کو اس کا علم کم ہی ہو سکتا ہے۔
2 ۔ قیام صلوٰۃ جس کے نتیجہ میں انسان برائیوں سے بچتا اور نیکی کی طرف راغب ہوتا ہے۔
3 ۔ زکوٰۃ کی ادائیگی یعنی باقاعدہ حساب کتاب کے ساتھ اپنے جائز اور صحیح طریقوں سے کمائے ہوئے رزق سے اللہ تعالیٰ کا مقررہ کردہ حصہ اللہ کی رضا کے لئے اللہ ہی کے بتائے ہوئے مصارف میں خرچ کرنا جس کا صحیح اسلامی طریقہ حکومت اسلامی کو ادا کرنا ہے۔
اگر ایک شخص ان تین باتوں کو مانتا ہے اور ان کی ادائیگی میں کوتاہی نہیں کرتا تو وہ اسلامی برادری میں داخل ہے اور اس کا خون مسلمانوں پر حرام ہے۔ اس اصول اسلامی کے پیش نظر سیدنا ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا تھا کہ جو لوگ زکوٰۃ ادا کرنے سے انکاری ہیں ہم ان کے ساتھ جنگ کریں گے اور آیت کے آخر میں ارشاد فرمایا کہ ہم سمجھدار لوگوں کے لئے احکام کو خوف تفصیل سے بیان کرتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ہمارے احکام سے صحیح معنوں میں مستفید وہی لوگ ہو سکتے ہیں جو عقل و فکر سے کام لیتے ہیں اور جو عقل و فکر سے کام پسند نہ کریں بلکہ گناہ سمجھیں وہ کیا مستفید ہوں گے ؟ خود غور فرمالیں۔
Ayah 9:12عہد و پیمان کو توڑ کر کفر کی طرف گامزن ہونے والوں کا علاج کیا ہے ؟
16: کسی بات کو اچھی طرح ذہن نشین کرانے کے لئے بار بار اور مختلف پیرائیوں سے بیان کیا جاتا ہے۔ یہی طریقہ اس جگہ استعمال کیا گیا ہے اور یہ بھی کہ جتنی اہم بات ہوتی ہے اس کی احمیت کے پیش نظر بھی یہی طریقہ بیان اختیار کیا جاتا ہے اور فریق مخالف پر اثر ڈالنے کے لئے بھی کہ اس طرح وہ سوچ سمجھ کر جو کچھ کرنا چاہتا ہے کرے ممکن ہے کہ اس کے ذہن میں اصلاح کا پہلو ہی آجائے جو فریقین کے لئے مفید ہو۔ شروع سورة سے اس مضمون کو مختلف طریقوں سے بیان شروع کیا اور اسی طرح کیا جا رہا ہے اب بھی اگر وہ بار بار یاد دہانی کرانے کے باوجود اپنی ضد پر قائم رہیں نہ توبہ کریں اور نہ ہی عہد و پیمان کی پابندی کریں بلکہ الٹا آپ لوگوں کا مذاق اڑائیں ، آپ کے دین پر طعن وتشنیع کریں تو پھر ان کفر کے اماموں کے ساتھ سوائے جنگ کے کوئی اور صورت بھی ممکن ہے۔ ان لوگوں کو کفر کے امام کہا گیا ہے کیوں ؟ امام پیشوا کو کہتے ہیں جس کی حرکات و سکنات پر دوسرے حرکت کرتے ہیں یہ لوگ خود بھی کافر تھے اور دوسروں کو بھی کفر پر قائم رہنے کی تلقین کرتے تھے اور دامے درمے سخنے ان کی مدد کرتے اور اپنی طاقت و قوت اور سیادت و پیشوائی اور دوچھراہٹ کے باعث ان پر اثر انداز ہوتے تھے اس لئے ان کا نام خصوصیت کے ساتھ لیا کہ اہل مکہ کی اصل طاقت کا ارچشمہ یہی ت تھے۔ علاوہ ازیں مسلمانوں کی قریبی رشتہ داری بھی انہی لوگوں سے تتھی جس کی وجہ سے اس کا خطرہ ہو سکتا تھا کہ ان کے معاملہ میں شاید کوئی رعایت برتی جائے۔ اس لئے ان کی طرف اشارہ کردیا اور ان کا کام یہ ہے کہ وہ دین کی باتوں میں ٹھٹھہ اور مذاق سے کبھی باز نہیں آتے اور عہد و پیمان کا کبھی پاس نہیں کرتے اور اب ان کے سامنے قسم کی کوئی حقیقت نہیں یہ لوگ صرف دوسروں کو یقین دلانے کے لئے قسمیں کھاتے ہیں جو بالکل خلاف واقعہ ہوتی ہیں اور اس وقت ان کے خلاف جنگ کا جو اعلان کیا جا رہا ہے تو یہ گویا ان کے سمجھانے کا ایک آخری ذریعہ ہے یہی وجہ ہے کہ ان کو سوچنے کے لئے چار ماہ کی مہلت دی گئی ہے کہ شاید وہ باز آجائیں۔
Ayah 9:13لڑائی لڑنے میں پہل کرنے والوں سے بھی تم نہیں لڑو گے تو اس کا نتیجہ کیا ہوگا ؟
17: مسلمانوں کو مخاطب کر کے کہا جارہا ہے کہ اگر تم ان لوگوں سے بھی جنگ کرنے سے گریز کرو گر جنہوں نے نبی کریم ﷺ اور دوسرے سارے مہاجرین کو ہجرت کرنے پر مجبور کردیا۔ پھر ایک سے زیادہ بار عہد کر کے اس کی خلاف ورزی کی اور مسلمانوں کو بار بار دھوکہ دینے کی کوشش کی اور بالاخر لڑائی پر اتر آئے اور مکمل تیاری کر کے مدینہ پر چڑھ آئے اگر اب بھی تم ان کی مدافعت کے لئے تیار نہ ہوئے تو پھر تمہارا انجام کیا ہوگا ؟ یہی کہ وہ تمہارا جینا دارال ہجرت میں دو بھر کردیں گے۔
غیر اللہ سے اس قدر ڈرنے والا انسان مومن نہیں ہو سکتا :
18: کیا تم اتنے ہی کمزور دل ہو اپنے دفاع کے لئے بھی تیار نہیں اچھی طرح سمجھ لو کہ اس قدر ڈرنے والا انسان مسلمان کہلانے کا حق ہی نہیں رکھتا۔ مسلمان تو کبھی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا اور اللہ سے ڈرنے والا انسان کبھی غیر اللہ سے ڈرنے والا نہیں ہوتا۔ یہ وہی لوگ تو ہیں جنہوں نے جنگ کرنے میں پہل کی ہے اور اس قدر زیادتی کرنے والواں سے جہاد کرنے سے جی چرانا نہایت حد تک بزدلی کی نشانی ہے اور پھر سن لو کہ مومن کبھی بزدل نہیں ہوتا کیونکہ مدافعانہ لڑائی لڑنا ہر فطرت سلیمہ کا تقاضا ہے اس لئے اٹھو اور میدان جنگ میں کود کر ان لوگوں کو مدینہ کی طرف آگے بڑھنے سے روک دو اور ایسا روکو کہ پھر ان کو کبھی اس طرح کی حرکت کرنے کی جرات نہ ہو اور پھر لوگوں نے دیکھا کہ یہی کچھ میدان بدر میں ہوا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔
Ayah 9:14وعدہ الٰہی کا ذکر کہ مسلمانوں کے ہاتھوں مشرکین کو عذاب دیا جائے گا :
19: شروع سورت سے لے کر اس وقت تک جو کچھ آپ نے اس سورت میں پڑھا اس کا ماحصل اس آیت میں بیان کردیا گیا جس کو اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ :
1 ۔ تمہارے ہاتھوں انہیں عذاب دے گا یعنی مسلمانوں کے ہاتھوں سے مشرکوں کو عذاب دیا گیا۔
2 ۔ مشرکین ہی رسوا ہونے کے قابل ہیں اور وہ یقیناً رسوا ہو کر رہیں گے اور یہی کچھ ہوا۔
3 ۔ مسلمانوں کو خوشخبری سنا دی گئی کہ تم فتح مند ہوگے اور یہی ہوا۔
4 ۔ مسلمانوں کے دلوں میں اس وقت تک جتنے دکھ اور اندوہ ہیں سب دور ہوجائیں گے۔ بدر نے فی الواقع سارے غم دور کردیئے۔
5 ۔ آئندہ مسلمانوں کی حالت دن بدن بدلتی ہی جائے گی اور وہ دن دگنی رات چوگنی ترقی کریں گے۔
اوپر بیان کی گئی ساری باتیں اس زیر نظر آیت میں ایک بار پھر دہرا دی گئیں تاکہ مسلمانوں کو پوری طرح تیار کیا جائے کہ اگر آئندہ کوئی ایسا موقعہ آئے تو وہ خوب تیار ہو کر مکمل طور پر دل جمعی سے میدان جنگ کی طرف بڑھیں اور اللہ کے دین کی نصرت میں اس طرح کھڑے ہوں کہ اللہ اور اس کے رسول اور خود مسلمانوں کے دشمنوں کو اپنے کئے کی ساری داستان خود یاد آجائے اور وہ ایسی حرکتوں سے باز آجائیں۔
Ayah 9:15مسلمانوں کی ساری جلن دور ہوجائے گی اور وہ رحمت الٰہی میں ہوں گے :
20: مطلب یہ ہے کہ آج تک مسلمانوں کو جو دکھ دیئے گئے اور تکلیفیں پہنچائی گئی ان کا مداوا ہوجائے گا یہ فطرت انسانی کے اس باب کا ذکر ہے جس میں انتقام کی نظر سے جھانکا جاسکتا ہے کہ دکھ پہنچانے والے کو جب کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو فطرتاً اس کے ہاتھوں جس کو دکھ پہنچا ہو اس کا انتقام اس کی نوک زبان پر آجاتا ہے اور اس کے دل کو تسلی و اطمینان محسوس ہوتا ہے یہاں اس بات کا ذکر ہے کہ آج تک مشرکوں نے مسلمانوں کو بہت دکھ پہنچائے تھے لیکن بدر میں اللہ نے اس صورت حال کا سارا رخ بدل دیا اور میدان بدر میں کم تعداد نہتوں سے زیادہ تعداد ہتوں کو خوب پٹوایا یہاں تک کہ وہ اپنے ستر آدمیوں کو مروا کر اور ستر ہی کو قید کروا کر بھاگ گئے اور اپنے مرے ہوؤں کی لعشوں کو بھی نہ اٹھوا سکے اور ازیں بعد دن بدن ان کے لئے ہزیمت و شکست مقدر بن کر رہ گئی حتیٰ کہ وہ 8 ہجری تک جزیرہ عرب میں اپنے وجود کو باقی نہ رکھ سکے اور ان پر مصرع صادق آیا کہ ” مارن والے موئے محمد قدرت رب دی ہوئی۔ “ اس بات کا ذکر اس آیت میں کیا گیا ہے۔