9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsتفسیرِ سعدی

Ayahs 9:1–2

بَرَآءَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَى الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَؕ Open ayah 9:1 in the Quran reader

(اے اہل اسلام اب) خدا اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے مشرکوں سے جن سے تم نے عہد کر رکھا تھا بیزاری (اور جنگ کی تیاری ہے)

فَسِیْحُوْا فِی الْاَرْضِ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللّٰهِ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ مُخْزِی الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:2 in the Quran reader

تو (مشرکو تم) زمین میں چار مہینے چل پھر لو اور جان رکھو کہ تم خدا کو عاجز نہ کرسکو گے اور یہ بھی کہ خدا کافروں کو رسوا کرنے والا ہے۔

سورة توبہ آیات 1 یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے تمام مشرین و معاندین سے اظہار برأت ہے۔ انہیں چار ماہ کی مہلت دی گئی ہے کہ وہ مسلمانوں کی طرف سے مامون ہیں، اس میں وہ اپنے اختیار سے زمین میں چل پھر لیں۔ چار ماہ کے بعد ان کے ساتھ کوئی معاہدہ و میثاق نہیں۔ یہ معاملہ ان کفار کے ساتھ ہے جن کے ساتھ لامحدود مدت کے لئے معاہدہ یا معاہدہ کی مدت چار ماہ یا اس سے کم ہے۔ رہا وہ معاہدہ جو چار ماہ سے زیادہ مدت کے لئے کیا گیا ہو، اگر معاہد سے خیانت کا خدشہ نہ ہو اور اس سے نقض عہد کی بھی ابتدا نہ ہوئی ہو تو مدت معینہ تک اس کے ساتھ کئے گئے معاہدے کو پورا کیا جائے گا۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے معاہدین کو ان کی مدت عہد کے بارے میں ڈرایا ہے کہ اگرچہ وہ اس دوران میں مامون و محفوظ ہیں مگر وہ اللہ تعالیٰ کو عاجز کرسکیں گے نہ اس سے بچ سکیں گے اور ان میں سے جو کوئی اپنے شرک پر قائم رہے گا اللہ تعالیٰ ضرور اسے رسوا کرے گا اور یہ چیز ان کے اسلام میں داخل ہونے کا باعث بن گئی۔ سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے معاندانہ رویہ اختیار کیا اور اپنے کفر پر اصرار اور اللہ تعالیٰ کی وعید کی گوئی پروا نہیں کی۔
Ayah 9:3

وَ اَذَانٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَى النَّاسِ یَوْمَ الْحَجِّ الْاَكْبَرِ اَنَّ اللّٰهَ بَرِیْٓءٌ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ١ۙ۬ وَ رَسُوْلُهٗ١ؕ فَاِنْ تُبْتُمْ فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللّٰهِ١ؕ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ Open ayah 9:3 in the Quran reader

اور حج اکبر کے دن خدا اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے لوگوں کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ خدا مشرکوں سے بیزار ہے اور اس کا رسول ﷺ بھی (ان سے دستبردار ہے) پس اگر تم توبہ کرلو تو تمہارے حق میں بہتر ہے اور اگر نہ مانو (اور خدا سے مقابلہ کرو) تو جان رکھو کہ تم خدا کو ہرا نہیں سکو گے اور (اے پیغمبر ﷺ ! ) کافروں کو دکھ دینے والے عذاب کی خبر سنا دو ۔

(آیات) (3) یہ اللہ تعالیٰ کا اہل ایمان کے ساتھ وعدہ ہے کہ وہ اپنے دین کو فت مند اور اپنے کلمہ کو بلند کرے گا اور ان کے مشرک دشمنوں سے علیحدہ ہوجائے گا، جنہوں نے رسول ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ کو مکہ مکرمہ اور اللہ تعالیٰ کے محترم گھر سے نکال کر حجاز کے اس خطۂ ارضی سے جلاوطن کیا جس پر ان کا تسلط تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ اور مومنین کو فتح و نصرت سے نوازا حتیٰ کہ مکہ فتح ہوگیا۔ مشرکین مغلوب ہوئے اور ان علاقوں کا اقتدار اور غلبہ مسلمانوں کے ہاتھ آگیا، تو نبی اکرم ﷺ نے اپنے اعلان کرنے والے کو حکم دیا ہے وہ حج اکبر کے دن جو کہ قربانی اور جزیرۃ العرب کے مسلمانوں اور کفار کے اکٹھے ہونے کا دن ہے۔۔۔۔ اعلان کر دے کہ اللہ اور اس کا رسول مشرکین سے برئ الذمہ ہے۔ رسول ﷺ کے ہاں اب ان کے لئے کوئی عہد اور میثاق نہیں۔ وہ جہاں کہیں بھی ملیں گے ان کو قتل کیا جائے گا اور ان سے یہ بھی کہہ دیا گیا کہ وہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب بھی نہ جائیں اور یہ سن 9 ہجری تھا۔ حضرت ابوبکر ؓ نے لوگوں کے ساتھ حج کیا اور قربانی کے روز رسول ﷺ کے چچا زاد بھائی حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے برأت کا اعلان کیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو توبہ کی ترغیب دی اور ان کو شرک پر جمے رہنے سے ڈرایا۔ (فان تبتم فھو خیر لکم وان تولیتم فاعلموا انکم غیر معجزی اللہ) ” پس اگر تم توبہ کرلو، تو تمہارے لئے بہتر ہے اور اگر نہ مانو، تو جان لو کہ تم اللہ کو ہرگز نہ تھکا سکو گے “۔ یعنی تم اللہ تعالیٰ سے بھاگ نہیں سکتے، بلکہ تم اس کے قبضۂ قدرت میں ہو اور وہ اس بات پر قادر رہے کہ تم پر اپنے مومن بندوں کو مسلط کر دے۔ (وبشر الذین کفروا بعذاب الیمہ) ” اور کافروں کو دیکھ دینے والے عذاب کی خوشخبری سنا دو ۔ “ جو دنیا میں قتل، اسیری اور جلاوطنی کی صورت میں انہیں دیا جائے گا اور آخرت میں جہنم کی آگ کا، جو بہت برا ٹھکانا ہے۔
Ayah 9:4

اِلَّا الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ ثُمَّ لَمْ یَنْقُصُوْكُمْ شَیْئًا وَّ لَمْ یُظَاهِرُوْا عَلَیْكُمْ اَحَدًا فَاَتِمُّوْۤا اِلَیْهِمْ عَهْدَهُمْ اِلٰى مُدَّتِهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:4 in the Quran reader

البتہ جن مشرکوں کے ساتھ تم نے عہد کیا ہو اور نہوں نے تمہارا کسی طرح کا قصور نہ کیا ہو اور نہ تمہارے مقابلے میں کسی کی مدد کی ہو تو جس مدت تک ان کے ساتھ عہد کیا ہو اسے پورا کرو (کہ) خدا پرہیزگاروں کو دوست رکھتا ہے۔

آیات (4) یعنی یہ تمام مشرکین سے کامل اور مطلق برأت کا اظہار ہے۔ ( الا الذین عہد تم من المشرکین) ” سوائے ان مشکرین کے جن سے تم نے معاہدہ کر رکھا ہے “ اور وہ اپنے عہد پر قائم ہیں اور ان سے کسی ایسے فعل کا ارتکاب نہیں ہوا جو نقض عہد کا موجب ہو۔ انہوں نے معاہدے میں کوئی کوتاہی ہی کی ہے نہ تمہارے خلاف کسی کی مدد کی ہے۔ پس ان لوگوں کے ساتھ کئے ہوئے معاہدے کو، اس کی مدت مقررہ تک پورا کرو خواہ یہ مدت تھوڑی ہو یا زیادہ۔۔۔ کیونکہ اسلام خیانت کا حکم نہیں دیتا، وہ تو معاہدوں کو پورا کرنے کا حکم دیتا ہے۔ (ان اللہ یحب المتقین) ” بیشک اللہ پسند کرتا ہے تقویٰ اختیار کرنے والوں کو “۔ وہ لوگ جنہوں نے ان ذمہ داریوں کو ادا کیا جن کا انہیں حکم دیا گیا اور شرک، خیانت اور دیگر گناہوں سے بچے۔
Ayah 9:5

فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ وَ خُذُوْهُمْ وَ احْصُرُوْهُمْ وَ اقْعُدُوْا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ١ۚ فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:5 in the Quran reader

جب عزت کے مہینے گزر جائیں تو مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کردو اور پکڑ لو اور گھیر لو اور ہر گھات کی جگہ پر ان کی تاک میں بیٹھے رہو۔ پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز پڑھنے اور زکوٰۃ دینے لگیں تو ان کی راہ چھوڑ دو ۔ بیشک خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

آیت 5 اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (آیت) ” پس جب گزر جائیں مہینے پناہ کے “ یعنی وہ مہینے جن میں معاہد مشرکین کے خلاف جنگ کو حرام ٹھہرایا گیا ہے اور یہ آسانی کے چار ماہ ہیں اور جن کے ساتھ چار ماہ سے زیادہ مدت کا معاہدہ کیا گیا ہے، اس مدت کو پورا کیا جائے۔ اس کے بعد ان کے ساتھ معاہدہ کی ذمہ داری ختم ہوجائے گی۔ : (آیت) ” پس مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کردو۔ “ یعنی وہ جس وقت اور جہاں کہیں بھی ہوں (وخذوھم) ” ان کو قیدی بناؤ “ (واحصروھم) ” اور ان کو گھیر لو۔ “ یعنی ان پر زمین تنگ کردو۔ اللہ کی اس زمین میں انہیں اس طرح نہ چھوڑ دو کہ وہ کھلے دندناتے پھرتے رہیں، جس کو اللہ تعالیٰ نے پانے بندوں کے لئے عبادت گاہ بنایا ہے۔ یہ لوگ اس زمین پر رہنے کے قابل نہیں، بلکہ وہ اس زمین سے بالشت بھر جگہ کے بھی مستحق نہیں کیونکہ زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے اور کفار اللہ تعالیٰ کے دشمن ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں، ان کے خلاف جنگ کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ زمین اللہ تعالیٰ کے دین سے خالی ہوجائے۔ مگر اللہ تعالیٰ اپنے نور کو پورا کر کے رہے گا خواہ کفار کو ناگوار ہی کیوں نہ گزرے۔ (واقعدوالھم کل مرصد) ” اور ہر گھات کی جگہ پر ان کی تاک میں بیٹھو۔ “ یعنی ہر گھاٹی اور ہر رساتے میں گھات لگا کر بیٹھو جہاں سے وہ گزرتے ہیں۔ ان کے خلاف جہاد کے لئے پوری طرح تیار رہو اور جہاد میں اپنی پوری کوشش صرف کردو اور ان کے خلاف اس وقت تک جہاد کرتے رہو جب تک کہ وہ اپنے شرک سے توبہ نہ کرلیں۔ بنا بریں فرمایا : (فان تابوا) ” پس اگر وہ توبہ کرلیں “ یعنی اپنے شرک سے (واقاموالصلوۃ) ” اور نماز پڑھنے لگیں “ یعنی اسے اس کے حقوق کے ساتھ ادا کریں (واتوا الزکوۃ) ” اور زکوۃ دینے لگیں “ مستحقین کو زکوۃ دیں۔ (فختوا سبیلھم) ” تو ان کی راہ چھوڑ دو ۔ “ یعنی ان کو چھوڑ دو ، اب وہ تمہارے برابر ہیں ان کے وہی حقوق ہیں جو تمہارے ہیں اور ان کے ذمے وہی فرائض ہیں جو تمہارے ذمے ہیں (ان اللہ غفور رحیم) ” بیشک اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کا شرک اور ان کے دیگر کم تر گناہ بخش دیتا ہے۔ انہیں توبہ کی توفیق بخش کر اور پھر اس توبہ کو قبول کر کے انہیں اپنی رحمت کے سائے میں لے لیتا ہے۔ یہ آیت کریمہ اس بات کی دلیل ہے کہ جو کوئی نماز قائم کرنے یا زکوۃ ادا کرنے سے رکے گا، اس کے خلاف اس وقت تک جنگ کی جائے گی جب تک کہ وہ نماز قائم نہیں کرتا اور زکوۃ ادا نہیں کرتا۔ جیسا کہ جناب ابوبکر صدیق نے اس آیت کریمہ سے استدلال کیا تھا۔
Ayah 9:6

وَ اِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ اسْتَجَارَكَ فَاَجِرْهُ حَتّٰى یَسْمَعَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ اَبْلِغْهُ مَاْمَنَهٗ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 9:6 in the Quran reader

اور اگر کوئی مشرک تم سے پناہ کا خواستگار ہو تو اس کو پناہ دو یہاں تک کہ کلام خدا سننے لگے پھر اس کو امن کی جگہ واپس پہنچا دو ۔ اس لئے کہ یہ بیخبر لوگ ہیں۔

آیت 6 اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد : (آیت) ” تمام اشخصا کے لئے اور تمام احوال میں ایک عام حکم ہے۔ ہاں اگر مصلحت ان میں سے کسی کو قریب کرنے کا تقاضا کرتی ہو تو یہ جائز، بلکہ واجب ہے چناچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : : (آیت) ” اگر مشرکین میں سے کوئی آپ سے پناہ طلب کرے، یعنی وہ یہ چاہے کہ آپ اسکو ضرر سے بچا لیں تو اس مقصد کے لئے اس کو پناہ دے دیں تاکہ وہ اللہ کا کلام سن لے اور اسلام میں اچھی طرح غور فکر کرلے۔ (فاجرہ حتی یسمع کلم اللہ) ” تو اس کو پناہ دے دو یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سنے۔ “ یعنی پھر اگر وہ اسلام قبول کرلے تو بہتر ورنہ اسے امن کی جگہ پہنچا دیں یعنی وہ جگہ جہاں وہ مامون ہو اور اس کا سبب یہ ہے کہ کفار بےعلم لوگ ہیں۔ بسا اوقات ان کا کفر پر قائم رہنا جہالت کی وجہ سے ہوتا ہے، جب یہ سبب زائل ہوجاتا ہے تو وہ اسلام قبول کرلیتے ہیں۔ اس لئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ اور آپ کی امت کو احکام میں اس کے نمونے کو اختیار کرنے کا حکم دیا ہے اور وہ یہ کہ کفار میں سے جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کو سننے کی خواہش کرے تو اس کو امان دے دیں۔ اس آیت کریمہ میں اہل سنت والجماعت کے مذہب پر صریح دلیل ہے جو اس بات کے قائل ہیں کہ قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام اور غیر مخلوق ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کلام کیا ہے اور اس نے اس کی اضافتا پنی طرف کی ہے جیسے صفت کی اضافت موصوف کی طرف ہوتی ہے نیز اس سے معتزلہ اور ان کے ہم نواؤں کے مذہب کا بطلان ثابت ہوتا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ قرآن مخلوق ہے۔ کتنے ہی دلائل ہیں جو ان کے اس قول کے بطلان پر دلالت کرتے ہیں، لیکن یہ ان کی تفصیل کا مقام نہیں۔
Ayah 9:7

كَیْفَ یَكُوْنُ لِلْمُشْرِكِیْنَ عَهْدٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عِنْدَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَّا الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ۚ فَمَا اسْتَقَامُوْا لَكُمْ فَاسْتَقِیْمُوْا لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:7 in the Quran reader

بھلا مشرکوں کے لئے (جنہوں نے عہد توڑ ڈالا) خدا اور اس کے رسول ﷺ کے نزدیک عہد کیونکر (قائم) رہ سکتا ہے ؟ ہاں جن لوگوں کے ساتھ تم نے مسجد محترم (یعنی خانہ کعبہ) کے نزدیک عہد کیا ہے اگر وہ (اپنے عہد پر) قائم رہیں تو تم بھی اپنے قول وقرار (پر) قائم رہو۔ بیشک خدا پرہیزگاروں کو دوست رکھتا ہے۔

آیت 7 یہ اس حکمت الٰہی کا بیان ہے جو اس بات کی موجب ہے کہ اللہ اور اس کا رسول مشرکین سے بری ہوں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :: (آیت) ” کیوں کر ہو مشرکین کے لئے کوئی عہد اللہ کے نزدیک اور اس کے رسول کے نزدیک ؟ “ کیا انہوں نے واجبات ایمان کو قائم کیا ہے ؟ یا انہوں نے رسول اللہ ﷺ اور اہل ایمان کو اذیت دینا چھوڑ دی ہے ؟۔۔۔ (بلکہ) انہوں نے حق کے خلاف جنگ کی اور باطل کی مدد کی۔ کیا انہوں نے زمین میں فساد پھیلانے کی بھرپور کوشش کر کے اپنے آپ کو اس بات کا مستحق نہیں ٹھہرا لیا کہ اللہ تعالیٰ ان سے بری الذمہ ہو، اللہ اور اس کے رسول کے ہاں ان کے لئے کوئی عہد اور ذمہ نہ ہو ؟ (الا الذین عھد تم) ” سوائے ان کے جن سے تم نے عہد کیا “ یعنی مشرکین میں سے جن کے ساتھ تم نے معاہدہ کیا (عند المسجد الحرام) ” مسجد حرام کے پاس “ پس اس عہد میں۔۔۔ خاص طور پر فضیلت والی اس جگہ پر۔۔۔ ان کے لئے حرمت ہے جو اس بات کی موجب ہے کہ ان کی رعایت رکھی جائے۔ : (آیت) ” پس جب تک وہ اپنے عہد پر قائم رہیں تو تم بھی اپنے عہد پر قائم رہو۔ بیشک اللہ اہل تقویٰ کو پسند کرتا ہے۔ “ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا :
Ayahs 9:8–11

كَیْفَ وَ اِنْ یَّظْهَرُوْا عَلَیْكُمْ لَا یَرْقُبُوْا فِیْكُمْ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّةً١ؕ یُرْضُوْنَكُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ تَاْبٰى قُلُوْبُهُمْ١ۚ وَ اَكْثَرُهُمْ فٰسِقُوْنَۚ Open ayah 9:8 in the Quran reader

(بھلا ان سے عہد) کیونکر (پورا کیا جائے جب انکا حال یہ ہے) کہ اگر تم پر غلبہ پالیں تو نہ قرابت کا لحاظ کریں نہ عہد کا ؟ یہ منہ سے تو تمہیں خوش کردیتے ہیں لیکن ان کے دل (ان باتوں کو قبول نہیں کرتے) اور ان میں سے اکثر نافرمان ہیں۔

اِشْتَرَوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 9:9 in the Quran reader

یہ خدا کی آیتوں کے عوض تھوڑا سا فائدہ حاصل کرتے اور (لوگوں کو) خدا کے راستے سے روکتے ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ جو کام یہ کرتے ہیں برے ہیں۔

لَا یَرْقُبُوْنَ فِیْ مُؤْمِنٍ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّةً١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُعْتَدُوْنَ Open ayah 9:10 in the Quran reader

یہ لوگ کسی مومن کے حق میں نہ تو رشتہ داری کا پاس کرتے ہیں نہ عہد کا۔ اور یہ حد سے تجاوز کرنے والے ہیں۔

فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِ١ؕ وَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 9:11 in the Quran reader

اگر یہ توبہ کرلیں اور نماز پڑھنے اور زکوٰۃ دینے لگیں تو دین میں تمہارے بھائی ہیں اور سمجھنے والے لوگوں کے لئے ہم اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں۔

آیت 8 (کیف) ” کیسے “ یعنی اللہ تعالیٰ کے ہاں مشرکین کے لئے کیسے عہد و میثاق ہوسکتا ہے۔ (وان یظھروا علیکم) ” کہ اگر وہ تم پر غلبہ پالیں ‘ ان کا حال تو یہ ہے کہ اگر ان کو تم پر قدرت اور غلبہ حاصل ہو تو تم پر کوئی نہیں کریں گے۔ : (آیت) ” تو نہ قرابت کا لحاظ کریں نہ عہد کا۔ “ یعنی وہ کسی عہد اور قرابت کا لحاظ نہیں رکھیں گے، وہ تمہارے بارے میں اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈریں گے، بلکہ وہ تمہیں بدترین عذاب دیں گے۔ اگر وہ غالب آجائیں تو ان کا تمہارے ساتھ یہ حال ہوگا لیکن اگر وہ تم سے ڈر کر تمہارے ساتھ کوئی معاملہ کرتے ہیں تو تمہیں ان کے بارے میں دھوکے میں نہیں آنا چاہیے، کیونکہ (یرضونکم باقواھھم وتابی قلوبھم) ” وہ اپنے منہ سے تمہیں خوش کردیتے ہیں اور ان کے دل تمہاری طرف میلان اور محبت سے انکار کرتے ہیں “ بلکہ وہ تمہارے حقیقی دشمن ہیں اور تمہارے ساتھ دلی بغض رکھتے ہیں۔ (و اکثر ھم فسقون) ” اور ان کے اکثر بد عہد ہیں۔ “ ان میں کوئی دیانت اور مروت نہیں۔ : (آیت) ” یہ اللہ کی آیات کے عوض تھوڑا سا فائدہ حاصل کرتے ہیں۔ “ یعنی انہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لانے اور اللہ تاعلیٰ کی آیات پر عمل کرنے کی بجائے اس دنیا میں جلدی حاصل ہونے والے حسیس عوض کو اختیار کرلیا۔ (فصدوا عن سبیلہ) انہوں نے خود اپنے آپ کو اور دوسروں کو اللہ کے راستے سے روکا۔ (انھم سآء ماکانوا یعلمون) ” بلاشبہ بہت ہی برے کام ہیں جو یہ کرتے ہیں۔ “: (آیت) ” وہ کسی حرمت کے حق میں نہ تو رشتہ داری کا پاس کرتے ہیں نہ عہد کا۔ “ یعنی ایمان اور اہل ایمان سے عداوت کی بنا پر وہ کسی عہد اور قرأت کا لحاظ نہیں کرتے۔ وہ وصف جس کی بنا پر وہ تم سے عداوت اور بغض رکھتے ہیں۔ وہ ایمان ہے، اس لئے اپنے دین کا دفاع کرو اور اس کی مدد کرو اور جو کوئی متہارے دین سے عداوت رکھتا ہے اسے اپنا دشمن سمجھو اور جو تمہارے دین کی مدد کرتا ہے اسے اپنا دوست سمجھو۔ دوستی کے وجود اور عدم وجود کے اعتبار سے دین کو حکم کا مدار بناؤ۔ طبیعت کو دوستی اور دشمین کا معیار نہ بناؤ کہ جدھر خواہش کا میلان ہو تم بھی ادھر جھک جاؤ اور اس بارے میں اس نفس کی پیروی کرو جو برائی کا حکم دیتا ہے۔ اس لئے فرمایا : (فان تابوا) ” اگر وہ توبہ کرلیں “ یعنی اگر وہ اپنے شرک سے توبہ کر کے ایمان کی طرف لوٹ آئیں : (آیت) ” اور نماز قائم کریں، زکوۃ دیں تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں “ اور اس عداوت کو فراموش کردو جب وہ مشرک تھے، تاکہ تم سب اللہ کے مخلص بندے بن جاؤ اور اس طرح بندہ اللہ تعالیٰ کا حقیقی بندہ بن جاتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے عظیم احکام کو بیان فرمایا ان میں سے کچھ احکام کی توضیح فرمائی، کچھ حکمتوں اور فیصلوں کو بیان کیا، تو فرمایا : (ونقصل الایت) ” ہم آیات کو واضح اور ممیز کرتے ہیں۔ (لقوم یعلمون) ” جاننے والے لوگوں کے واسطے “ پس سیاق کلام انہی کی طرف ہے، انہی کے ذریعے سے آیات و احکام کا علم حاصل ہوتا ہے انہی کے ذریعے سے دین اسلام اور شریعت کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔ اے اللہ ! اے رب العالمین ! اپنی رحمت، اپنے جود و کرم اور اپنے احسان سے، ہمیں ایسے لوگوں میں شامل کر جو علم رکھتے ہیں اور ان باتوں پر عمل کرتے ہیں جن کا ان کو علم ہے۔
Ayahs 9:12–15

وَ اِنْ نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَ طَعَنُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ فَقَاتِلُوْۤا اَئِمَّةَ الْكُفْرِ١ۙ اِنَّهُمْ لَاۤ اَیْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَنْتَهُوْنَ Open ayah 9:12 in the Quran reader

اور اگر عہد کرنے کے بعد اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمہارے دین میں طعنے کرنے لگیں تو (ان) کفر کے پیشواؤں سے جنگ کرو (یہ بےایمان لوگ ہیں اور) ان کی قسموں کا کچھ اعتبار نہیں ہے۔ عجب نہیں کہ (اپنی حرکات سے) باز آجائیں۔

اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ وَ هَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَ هُمْ بَدَءُوْكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ؕ اَتَخْشَوْنَهُمْ١ۚ فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْهُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:13 in the Quran reader

بھلا تم ایسے لوگوں سے کیوں نہ لڑو (جنہوں نے اپنی) قسموں کو توڑ ڈالا اور پیغمبر (خدا) ﷺ کے جلا وطن کرنے کا عزم مصمم کرلیا اور انہوں نے تم سے (عہد شکنی کی) ابتداء کی ؟ کیا تم ایسے لوگوں سے ڈرتے ہو ؟ حالانکہ ڈرنے کے لائق خدا ہے بشرطیکہ ایمان رکھتے ہو۔

قَاتِلُوْهُمْ یُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَیْدِیْكُمْ وَ یُخْزِهِمْ وَ یَنْصُرْكُمْ عَلَیْهِمْ وَ یَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 9:14 in the Quran reader

ان سے خوب لڑو۔ خدا انکو تمہارے ہاتھوں سے عذاب میں ڈالے گا اور رسوا کرے گا اور تم کو ان پر غلبہ دے گا اور مومن لوگوں کے سینوں کو شفا بخشے گا۔

وَ یُذْهِبْ غَیْظَ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ یَتُوْبُ اللّٰهُ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:15 in the Quran reader

اور انکے دلوں سے غصہ دور کرے گا اور جس پر چاہے گا رحمت کریگا اور خدا سب کچھ جانتا (اور) حکمت والا ہے۔

آیت 12 اس بات کا ذکر کرنے کے بعد اگر مشرک معاہدین اپنے عہد پر قائم رہتے ہیں تو تم بھی اپنے عہد پر قائم رہتے ہوئے ان سے اپنے عہد کو پورا کرو۔۔۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” اور اگر عہد کرنے کے بعد اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں “ یعنی انہوں نے اپنے حلف کو توڑ دیا اور جنگ میں تمہارے خلاف دشمن کی مدد کی یا تمہیں نقصان پہنچایا (وطعنوا فی دینکم) ” اور تمہارے دین میں طعن کرنے لگیں “ یعنی تمہارے دین میں عیب چینی کی یا اس کا تمسخر اڑایا۔ یہ دین اور قرآن میں ہر قسم کے طعن و تشتیع کو شامل ہے۔ (فقاتلوا ائمۃ الکفر) تو ان کفر کے پیشواؤں سے جنگ کرو۔ “ یعنی قائدین کفر اور ان سرداروں سے لڑو جو اللہ رحمٰن کے دین میں طعن وتشنیع کرتے ہیں اور شیطان کے دین کی مدد کرتے ہیں۔ ان قائدین کفر کا خاص طور پر ذکر اس لئے کیا ہے کیونکہ ان کا جرم بہت بڑا تھا اور دیگر لوگ تو محض ان کے پیرو کار تھے اور تاکہ یہ اس بات کی دلیل ہو کہ جو کوئی دین میں طعن وتشنیع کا مرتکب ہوتا ہے اور اس کو ٹھکرانے کے در پے ہوتا ہے تو اس کا شمار ائمہ کفر میں ہوتا ہے۔ (انھم لا ایمان لھم) یعنی ان کا کوئی عہد و میثاق نہیں کہ وہ اس کے ایفا کا التزام کریں بلکہ وہ تو ہمیشہ خیانت کرتے رہتے ہیں اور عہد کو توڑتے رہتے ہیں۔ ان پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔ (لعلھم) ’ دشاید کہ وہ “ یعنی ان کے ساتھ تمہارے لڑائی کرنے میں (ینتھون) ” باز آجائیں۔ “ یعنی تمہارے دین میں طعن کرنے سے باز آجائیں اور بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ دین میں داخل ہوجائیں۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے کفار و مشرکین کے خلاف جہاد کی ترغیب دی ہے اور دشمنوں سے جو اوصاف صادر ہوتے ہیں ان کو بیان کر کے اہل ایمان کو ان کے خلاف جہاد پر ابھارا ہے، کیونکہ جن اوصاف سے یہ کفار متصف ہیں وہ ان کے خلاف جہاد کا تقاضا کرتے ہیں۔ چناچہ فرمایا :: (آیت) ” تم ان لوگوں سے کیوں نہیں لڑتے جنہوں نے اپنے عہدوں کو توڑ دیا اور رسول کو نکالنے کا ارادہ کیا “ جس کا احترام اور تعظیم و توقیر فرض ہے، نیز انہوں نے ارادہ کیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو جلا وطن کردیں اور اس مقصد کے لئے انہوں نے امکان بھر کوشش کی۔ (وھم یدء و کم اول مرۃ) ” اور انہوں نے پہلے چھیڑ کی تم سے “ جبکہ انہوں نے نقض عہد کا ارتکاب کیا اور تمہارے خلاف دشمن کی اعانت کی اور یہ اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے جب قریش نے۔۔۔ درآنحالیکہ انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ معاہدہ کر رکھا تھا۔۔۔ بنو خزاعہ کے خلاف اپنے حلیفوں یعنی بنوبکر کی مدد کی۔ بنو خز اعہ رسول اللہ ﷺ کے حلیف تھے اور قریش نے بنو خزاعہ کے خلاف لڑائی کی، جیسا کہ اس تفصیل سیرت کی کتابوں میں مذکور ہے۔ (اتخشونھم) ” کیا تم ان سے ڈرتے ہو ؟ “ یعنی کیا تم ان سے قتال کرنے سے ڈرتے ہو ؟ (فالہل احق ان تخشوہ ان کنتم مومنین) ” حالانکہ اللہ اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ تم اس سے ڈرو، اگر تم مومن ہو “ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان کے ساتھ جہاد کرنے کا حکم دیا ہے اور اس کی تمہیں سخت تاکید کی ہے اگر تم مومن ہو تو اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرو اور کفار سے ڈر کر اللہ تعالیٰ کے حکم کو ترک نہ کرو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے کفار کے ساتھ جنگ کرنے کا حکم دیا اور ان فوائد کا ذکر کیا جو کفار کے خلاف جہاد پر مترتب ہوتے ہیں، یہ سب اہل ایمان کے لئے کفار کے خلاف جہاد کی ترغیب ہے۔ چناچہ فرمایا : (آیت) ” ان سے لڑائی کرو، اللہ ان کو سزا دے گا تمہارے ہاتھوں سے “ یعنی قتل کے ذریعے سے (ویخزھم) ” اور رسوا کرے گا ان کو “ یعنی جب اللہ تعالیٰ کفار کے خلاف تمہاری مدد کریگا۔ یہ وہ دشمن ہیں جن کی رسوائی مطلوب ہے اور اس کی خواہش کی جاتی ہے (وینصرکم علیھم) ” اور تم کو ان پر غالب کر دے گا “ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے وعدہ اور بشارت تھی اور اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کردیا۔ : (آیت) ” اور ٹھنڈے کرے گا دل مسلمان لوگوں کے اور نکالے گا ان کے دلوں کی جلن “ کیونکہ کفار کے خلاف ان کے دل غیظ و غضب سے لبریز ہیں۔ ان کے خلاف قتال کرنے اور ان کو قتل کرنے سے اہل ایمان کو ان کے دلوں میں موجود غیظ و غضب اور غم و ہموم سے شفا ملتی ہے۔ کیونکہ وہ ان دشمنوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے لخاف برسر پیکار ہیں اور اللہ کے نور کو بجھانے میں کوشاں ہیں چناچہ انہیں قتل و رسوا کر کے مومنوں کے دلوں میں موجود غیظ و غضب زائل ہوتا ہے۔ یہ آیت کریمہ اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان سے محبت کرتا ہے اور ان کے احوال کو درخواعتناء سمجھتا ہے۔ حتی کہ اس نے اہل ایمان کے دلوں کو شفا دینا اور ان کے غیظ و غضب کو زئال کرنا، مقاصد شرعیہ میں شمار کیا ہے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” اور جس پر چاہے گا اللہ رحمت کرے گا۔ “ یعنی ان برسر پیکار کفار میں سے جسے چاہے اسلام میں داخل ہونے کی توفیق عطا کر کے اس کی توبہ قبول کرلے، سالام کو ان کے دلوں میں آراستہ کر دے اور کفر، فسق اور نافرمانی کو ان کے لئے ناپسندیدہ کر دے۔ : (آیت) ” اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ “ یعنی وہ تمام اشیا کو ان کے مقام پر رکھتا ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ کون ایمان لانے کی صلاحیت رکھتا ہے ؟ چناچہ وہ اس کی راہنمائی کرتا ہے اور کون اس صلاحیت سے محروم ہے ؟ وہ اس کو اس کی گمراہی اور سرکشی میں غلطاں چھوڑ دیتا ہے۔
Ayahs 9:16–17

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَكُوْا وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَ لَمْ یَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لَا رَسُوْلِهٖ وَ لَا الْمُؤْمِنِیْنَ وَلِیْجَةً١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 9:16 in the Quran reader

کیا تم لوگ یہ خیال کرتے ہو کہ (بےآزمائش) چھوڑ دیے جاؤ گے ؟ اور ابھی تو خدا نے ایسے لوگوں کو متمیز کیا ہی نہیں جنہوں نے تم سے جہاد کئے اور خدا اور اس کے رسول ﷺ اور مومنوں کے سوا کسی کو دلی دوست نہیں بنایا۔ اور خدا تمہارے (سب) کاموں سے واقف ہے۔

مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِیْنَ اَنْ یَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰهِ شٰهِدِیْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ١ۖۚ وَ فِی النَّارِ هُمْ خٰلِدُوْنَ Open ayah 9:17 in the Quran reader

مشرکوں کو زیبا نہیں کہ خدا کی مسجدوں کو آباد کریں (جبکہ) وہ اپنے آپ پر کفر کی گواہی دے رہے ہوں۔ ان لوگوں کے سب اعمال بیکار ہیں اور یہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔

آیت 16 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو جہاد کا حکم دینے کے بعد ان سے فرماتا ہے : (آیت) ” کیا تم یہ گمان کرتے ہو کہ تم چھوٹ جاؤ گے “ یعنی تمہیں کسی آزمئاش اور امتحان میں مبتلا کئے بغیر اور تمہیں کوئی ایسا حکم دیئے بغیر چھوڑ دیا جائے گا جس سے سچے اور جھوٹے کے درمیان فرق واضح ہوتا ہے۔ (ولما حا لان کہ ابھی معلوم نہیں کیا اللہ نے تم میں سے ان لوگوں کو جنہوں نے جہاد کیا ہے “ یعنی ایسا علم جو اس چیز کو خارج میں ظاہر کردے جو قوت میں موجود ہے، تاکہ اس پر ثواب و عقاب مرتب ہو۔ پس ان لوگوں کو جان لے جو اس کے کلمہ کو بلند کرنے کے لیے اس کے راستے میں جہاد کرتے ہیں۔” اور نہیں بنایا انہوں نے اللہ اس کے رسول اور مومنوں کے سوا، کوئی دوست “ یعنی انہوں نے کفار کو اپنا دوست نہیں بنایا، بلکہ وہ اللہ اس کے رسول اور اہل ایمان کو اپنا دوست بناتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالٰی نے جہاد اس لیے مشروع فرمایا ‘ تاکہ اس سے یہ عظیم مقصد حاصل ہوسکے اور وہ عظیم مقصد یہ ہے کہ سچے لوگ جہنوں نے اپنے آپ کو صرف دین کے لیے وقف کر رکھا ہے ‘ ان جھوٹے لوگوں سے مّیز ہوجائیں جو ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں اور حال ان کا یہ ہے کہ وہ اللہ ‘ اس کے رسول اور مومنین کو چھوڑ کر دوسروں کو اپنا دلی دوست اور مددگار بناتے ہیں۔” اور اللہ تمہارے سب کاموں سے باخبر ہے۔ “ یعنی تم سے جو کچھ صادر ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے پوری طرح آگاہ ہے پس وہ تمہاری آزمائش اس طریقہ سے کرتا ہے جس سے تمہاری پوری حقیقت ظاہر ہوجائے۔ نیز وہ تمہیں اور تمہارے اچھے برے اعمال کی جزا دے گا۔
Ayahs 9:18–21

اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَ وَ لَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰهَ فَعَسٰۤى اُولٰٓئِكَ اَنْ یَّكُوْنُوْا مِنَ الْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 9:18 in the Quran reader

خدا کی مسجدوں کو تو وہ لوگ آباد کرتے ہیں جو خدا پر اور روز قیامت پر ایمان لاتے اور نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے۔ یہی لوگ امید ہے کہ ہدایت یافتہ لوگوں میں (داخل) ہوں گے۔

اَجَعَلْتُمْ سِقَایَةَ الْحَآجِّ وَ عِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ جٰهَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ لَا یَسْتَوٗنَ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۘ Open ayah 9:19 in the Quran reader

کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجد محترم (یعنی خانہ کعبہ) کو آباد کرنا اس شخص کے اعمال جیسا خیال کیا ہے جو خدا اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے۔ اور خدا کی راہ میں جہاد کرتا ہے ؟ یہ لوگ خدا کے نزدیک برابر نہیں ہیں۔ اور خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ۙ اَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 9:20 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور وطن چھوڑ گئے اور خدا کی راہ میں مال اور جان سے جہاد کرتے رہے خدا کے ہاں ان کے درجے بہت بڑے ہیں اور وہی مراد کو پہنچنے والے ہیں۔

یُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ وَ رِضْوَانٍ وَّ جَنّٰتٍ لَّهُمْ فِیْهَا نَعِیْمٌ مُّقِیْمٌۙ Open ayah 9:21 in the Quran reader

ان کا پروردگار ان کو اپنی رحمت کی اور خوشنودی کی اور بہشتوں کی خوشخبری دیتا ہے جن میں ان کے لئے نعمت ہائے جاودانی ہے۔

آیت نمبر ( 18) اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے ” مشرکوں کو زیبا نہیں “ یعنی مشرکین کے لائق اور ان کے لیے مناسب نہیں ” کہ آباد کریں وہ اللہ کی مسجدوں کو “ یعنی عبادات ‘ نماز اور مختلف انواع کی نیکوں کے ذریعے سے اللہ کی مساجد کو آباد کریں اور حال ان کا یہ ہے کہ وہ اپنی فطرت اور شہادت حال کے ذریعے سے اپنے کفر کا اقرار کرتے ہیں اور ان میں سے اکثر لوگوں کی بابت علم ہے کہ وہ کفر اور باطل پر ہیں۔” جب کہ وہ اپنے آپ پر کفر ( اور عدم ایمان) کی گواہی دیتے ہیں۔ “ ایمان اعمال کی قبولیت کی شرط ہے ‘ تب وہ کیوں کر یہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کہ مساجد کو آباد کرتے ہیں۔ حالانکہ ان کے اعمال کی بنیاد ہی مفقود ہے اور ان کے اعمال باطل ہیں۔ اسی لئے اللہ نے فرمایا :” یہی لوگ ہیں ‘ ان کے اعمال برباد ہوگئے اور وہ آگ میں ہمیشہ رہیں گے۔ “ پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر کیا کہ وہ کون لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی مساجد کو آباد کرتے ہیں۔ چناچہ فرمایا :” اللہ کی مسجدوں کو تو وہی آباد کرتا ہے جو ایمان لایا اللہ پر اور آخرت کے دن پر اور قائم کیا نماز کو “ یعنی وہ فرض اور مستحب نمازوں کو ظاہری اور باطنی طور پر قائم کرتا ہے اور مستحق لوگوں کو زکوٰۃ ادا کرتا ہے ” اور نہیں ڈرا سوائے اللہ کے “ یعنی اس نے اپنی خشیت کو صرف اللہ تعالیٰ پر مرکوز کر رکھا ہے۔ ان امور کو اپنے آپ سے دور رکھتا ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے اور اللہ تعالیٰ کے حقوق اجبہ کی ادائیگی میں کبھی کوتاہی نہیں کرتا۔ اللّٰہ تبارک وتعالیٰ نے مومنوں کو ایمان نافع اور اعمال صالحہ کے بجا لانے سے متصف کیا ہے۔ ان اعمال صالحہ کی اساس نماز اور زکوۃ ہے ‘ نیز ان کو خشیت الہی سے موصوف کیا ہے جو ہر بھلائی کی بنیاد ہے درحقیقت یہی وہ لوگ ہیں جو مساجد کو آباد کرتے ہیں اور یہی ان کے اہل ہیں۔” پس امید ہے کہ یہ لوگ ہوں ہدایت والوں میں۔ “ لفظ (عسٰی) اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے وجوب کے معنی میں آتا ہے، رہے وہ لوگ جو اللّٰہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں ‘ نہ اللّٰہ سے ڈرتے ہیں تو یہ لوگ اللّٰہ تعالیٰ کی مساجد کو آباد کرنے والے نہیں اور نہ ان کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو ان کے اہل ہیں۔ اگرچہ وہ اس کا دعویٰ کرتے ہیں۔
Ayah 9:22

خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 9:22 in the Quran reader

(اور وہ) ان میں ابدا لآباد رہیں گے۔ کچھ شک نہیں کہ خدا کے ہاں بڑا صلہ (تیار) ہے۔

آیت نمبر (22) جب بعض مسلمانوں کے درمیان یا بعض مسلمانوں اور مشرکوں کے درمیان اس امر میں اختلاف واقع ہوگیا کہ مسجد حرام کی تعمیر ‘ اس کے اند نماز پڑھنا ‘ اس میں عبادت کرنا اور حاجیوں کو پانی پلانا افضل ہے یا اللّٰہ تعالیٰ پر ایمان لنا اور اس کے راستے میں جہاد کرنا ؟ تو اللّٰہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ ان دونوں کے درمیان بہت تفاوت ہے۔ چناچہ فرمایا ” کیا کردیا تم نے حاجیوں کے پانی پلانے کو “ یعنی ان کو آپ زم زم پلانا ‘ جیسا کہ معروف جب پلانے کا ذکر مطلق کیا جائے تو اس سے مراد آپ زم زم پلانا ہی ہوتا ہے ” اور مسجد حرام کے بسانے کو ] اس شخص کے برابر جو ایمان لایا اللّٰہ اور یوم آخرت پر اور لڑا اللہ کی راہ میں یہ برابر نہیں ہیں اللہ کے نزدیک “۔ پس جہاد اور ایمان باللّٰہ حاجیوں کو آب زم زم پلانے اور مسجد حرام کی تعمیر سے کئی درجے افضل ہیں کیونکہ ایمان دین کی اساس ہے اور اسی کے ساتھ اعمال قابل قبول ہوتے ہیں اور خصائل کا تزکیہ ہوتا ہے۔ رہا جہاد فی سبیل اللہ تو وہ دین کو کوہان ہے جہاد ہی کے ذریعے سے دین اسلام کی حفاظت ہوتی ہے اور اس میں وسعت پیدا ہوتی ہے۔ جہاد ہی کے ذریعے سے حق کی مدد کی جاتی ہے اور باطل بےیارو مددگار ہوتا ہے۔ رہا مسجد کو آباد کرنا اور حاجیوں کیو آپ زم زم پلانا ‘ یہ اگرچہ نیک اعمال ہیں مگر ان کی قبولیت ایمان باللہ پر موقوف ہے اور ان اعمال میں وہ مصالح نہیں ہیں جو ایمان باللہ اور جہاد میں ہیں۔ اسی لئے فرمایا : یہ اللہ کے ہاں برابر نہیں۔” اور اللہ ظالموں کی ہدایت نہیں دیتا “ یعنی وہ لوگ جن کا وصف ہی ظلم ہے جو بھلائی کی کسی چیز کو بھی قبول کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے بلکہ برائی کے سوا کوئی چیز ان کے لائق نہیں۔ پھر نہایت صراحت کے ساتھ اہل ایمان کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا : ” وہ لوگ جو اینا لائے اور انہوں نے ہجرت کی اور اللہ کے راستے میں جہاد کیا اپنے مالوں کے ساتھ “ یعنی اپنا مال جہاد میں اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے والوں کو جہاد کا سامان مہیا کرنے میں خرچ کرتے ہیں۔ ” اور اپنی جانوں کے ساتھ “ اور خود جہاد کے لیے نکلتے ہیں ” ان کے لئے بڑا درجہ ہے اللہ کے ہاں اور یہی لوگ ہیں مراد کو پہنچنے والے “ یعنی کوئی شخص اپنا مطلوب حاصل کرسکتا ہے نہ کسی ڈر سے نجات پاسکتا ہے سوائے اس کے جو ان کی صفات سے متصف ہوتا ہے اور ان کے اخلاق کو اپناتا ہے۔ ” ان کو ان کا رب بشارت دیتا ہے “ اپنی طرف سے رحم و کرم ‘ ان پر لطف و احسان اور ان سے اعتناء اور محبت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ” اپنی طرف سے رحمت کی “ جس کے ذریعی سے وہ ان سے برائیوں کو دور کرتا اور ہر طرح کی بھلائی ان تک پہنچاتا ہے۔ ” اور اپنی رضا مندی کی “ جو جنت میں سب سے بڑی اور نہایت جلیل القدر نعمت ہوگی۔ پس وہاں اللہ تعالیٰ اہل جنت کے سامنے اپنی رضا مندی کا اعلان فرمائے گا اور پھر کبھی ان پر ناراض نہیں ہوگا۔” اور باغوں کی جن میں ان کو آرام ہے ہمیشہ کا “ ان جنتوں میں ہمیشہ رہنے والی ہر قسم کی نعمتیں موجود ہوں گی جن کی دل خواہش کریں گے اور جن سے آنکھیں لذت حاصل کریں گی جن کے اوصاف اور مقدار کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا جو یہ نعمتیں عطا کرے گا۔ ان میں سے ایک نعمت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے راستے میں جہاد کرنے والے مجاہدین کے لیے جنت میں سو درجے تیار رکھے ہیں ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان۔ اگر تمام مخلوق ایک درجہ میں جمع ہوجائے تو اس ایک درجہ میں سما جائے۔ ” اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے “ وہ وہاں سے منتقل ہوں گے نہ وہاں سے نکلنا چاہیں گے۔” بیشک اللہ کے پاس ہے بڑا اجر “ اجر کی کثرت اللہ تعالیٰ کے فضل سے کوئی بعید نہیں اور نہ اس اجر کا بڑا اور اچھا ہونا اس ہستی کے بارے میں کوئی تعجب خیز ہے جو کسی چیز سے جب کہتی ہے ” ہوجا “ تو وہ ہوجاتی ہے۔
Ayahs 9:23–26

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰبَآءَكُمْ وَ اِخْوَانَكُمْ اَوْلِیَآءَ اِنِ اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ عَلَى الْاِیْمَانِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 9:23 in the Quran reader

اے اہل ایمان ! اگر تمہارے (ماں) باپ اور (بہن ' بھائی) ایمان کے مقابلے کفر کو پسند کریں تو ان سے دوستی نہ رکھو۔ اور جو ان سے دوستی رکھیں گے وہ ظالم ہیں۔

قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِیْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالُ اِ۟قْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَاۤ اَحَبَّ اِلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِیْ سَبِیْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 9:24 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر تمہارے باپ اور بیٹے اور بھائی اور عورتیں اور خاندان کے آدمی اور مال جو تم کماتے ہو اور تجارت جس کے بند ہونے سے ڈرتے ہو اور مکانات جن کو پسند کرتے ہو خدا اور اس کے رسول ﷺ سے اور خدا کی راہ میں جہاد کرنے سے تمہیں زیادہ عزیز ہوں تو ٹھہرے رہو یہاں تک کہ خدا اپنا حکم (یعنی عذاب) بھیجے۔ اور خدا نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ فِیْ مَوَاطِنَ كَثِیْرَةٍ١ۙ وَّ یَوْمَ حُنَیْنٍ١ۙ اِذْ اَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَیْئًا وَّ ضَاقَتْ عَلَیْكُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّیْتُمْ مُّدْبِرِیْنَۚ Open ayah 9:25 in the Quran reader

خدا نے بہت سے موقعوں پر تم کو مدد دی ہے۔ اور (جنگ) حنین کے دن جبکہ تم کو اپنی (جماعت کی) کثرت پر غرہّ تھا تو وہ تمہارے کچھ بھی کام نہ آئی۔ اور زمین باوجود (اتنی بڑی) فراخی کے تم پر تنگ ہوگئی۔ پھر تم پیٹھ پھیر کر پھرگئے۔

ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا وَ عَذَّبَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزَآءُ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:26 in the Quran reader

پھر خدا نے اپنے پیغمبر ﷺ پر اور مومنوں پر اپنی طرف سے تسکین نازل فرمائی اور (تمہاری مدد کو فرشتوں کے) لشکر جو تمہیں نظر نہیں آتے تھے (آسمان سے) اتارے اور کافروں کو عذاب دیا۔ اور کفر کرنے والوں کی یہی سزا ہے۔

آیت 23 اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے اے ” مومنوں ! “ ایمان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرو۔ جو ایمان کے تقاضوں کو پارا کرتا ہے اس کے ساتھ موالات رکھو ‘ جو ان تقاضوں کو پورا نہیں کرتا ان سے عداوت رکھو اور ” نہ بناؤ تم اپنے باپوں اور بھائیوں کو دوست “ جو لوگوں میں سے سب سے زیادہ تمہارے قریب ہیں اور دوسرے لوگوں کے بارے میں تو زیادہ اولٰی ہے کہ تم ان کو دوست نہ بناؤ۔ ” اگر وہ کفر کو پسند کریں ایمان کے مقابلے میں “ یعنی اگر وہ برضاو رغبت اور محبت سے ایمان پر کفر کو ترجیح دیں۔ ” اور جو بھی دوستی کرے گا ان سے تم میں سے ‘ پس وہی لوگ ہیں ظالم “ کیونکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جسارت کی اور اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کو اپنا دوست بنایا چونکہ ولایت اور دوستی کہ اساس محبت اور نصرت ہے اور ان کا کفارکو دوست بنانا ‘ کفار کی اطایت اور ان کی محبت کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت وہ محبت پر مقدم رکھنے کا موجب ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر فرمایا ہے جو اس کا موجب ہے اور وہ ہے اللہ اور اس کے رسول کی محبت۔ اس سے یہ بات متعین ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت ہر چیز پر مقدم ہے۔ فرمایا : ” کہہ دیجئے ! اگر ہیں تمہارے باپ “ اسی طرح یہ حکم ماؤں کے بارے میں بھی ہے ” اور تمہارے بیٹے اور بھائی “ یعنی نسبی اور خاندانی اعتبار سے۔” اور تمہاری بیویاں اور دیگھر عمومی رشتہ دار “ اور وہ مال جو تم کماتے ہو “ جس کے حصول میں مشقت برداشت کرتے ہو۔ کمائے ہوئے مال کا خاص طور پر اس لئے ذکر کیا ہے کیونکہ یہ اصحاب اموال کے نزدیک مرغوب ترین مال ہوتا ہے اور انہیں اس مال کی نسبت جو انہیں بغیر کسی محنت اور مشقت کے حاصل ہوتا ہے زیادہ محبوب و مرغوب ہوتا ہے۔ ” اور وہ سودا گری جس کے مندا ہونے سے تم درتے ہو “ یعنی سامان کے ارزاں ہونے اور اس میں نقصان واقع ہونے سے ڈرتے ہو۔ اس میں تجارت اور کاروبار کی تمام اقسام شامل ہیں ‘ مثلا ہر قسم کا سامان تجارت مال کی قیمتیں ‘ برتین ‘ اسلحہ ] اچیائے استعمال ‘ غلہ جات ‘ کھتیاں اور مویشی وغیرہ سب اسی زمرے میں آتے ہیں۔” اور وہ کگھر جن کو تم پسند کرتے ہو “ ان کی خوبصوتی ‘ سجاوٹ اور ان کا تمہارے خواہشات اور پسند کے مطابق ہونے کی وجہ سے ” اگر یہ تمام چیزیں تمہیں اللہ اور اس کے رسول اور جہاد سے زیادہ محبوب ہیں “ تو تم فاسق وفاجر اور ظالم ہو۔” تو انتظار کرو۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہونے کا انتظار کرو ” یہاں تک کہ اللہ کا حکم آجائے “ جسے کوئی ٹال نہیں سکتا۔ ” اور اللہ نافرمان لوگوں کا ہدایت نہیں دیا کرتا۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ کے دائرہ اطایت سے بارہ نکلنے والے اور اللہ تعالیٰ کی محبت پر مذکورہ بالا اشیا کی محبت کو ترجیح دینے والے کو اللہ تعالیٰ ہدایت سے نہیں نوازتا۔ یہ آیت کریمہ اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت فرض ہے اور دیگھر تمام اشیا کی محبت پر مقد ہے۔ نیز آیت کریمہ میں اس شخص کے لیے نہایت سخت وعید اور شدید ناراضی کا اظہار کیا گیا ہے جسے یہ مذکورہ اشیاء اللہ اس کے رسول اور جہاد سے زیادہ محبوب ہیں۔ اس کی علامت یہ ہے کہ اگر اس کے سامنے دوامور پیش ہوں ان میں ایک اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول 249 کو محبوب ہو مگر اس میں اس کے نفس کی چاہت کا کوئی پہلونہ ہو اور دوسرے معاملے کو نفس پسند کرتا ہو مگر اس کی اختیار کرنے سے اس چیز سے محروم ہوجاتا ہو جسے اللہ اور اس کا رسول پسند کرتے ہیں یا اس چیز میں کم واقع ہوجاتی ہو اس صورت میں اگر وہ اس چیز کو اس امر پر ترجیح دیتا ہے جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہے تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ ظالم اور اس امر کا تارک ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اس پر واجب کیا ہے۔
Ayah 9:27

ثُمَّ یَتُوْبُ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:27 in the Quran reader

پھر خدا اس کے بعد جس پر چاہے مہربانی سے توجہ فرمائے۔ اور خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

آیت نمبر 27 اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے مومن بندوں پر اپنے احسان کا ذکر فرماتا ہے کہ اس نے بہت سی لڑائیوں اور جنگی معرکوں میں انہیں اپنی نصرت سے نوازا حتٰی کہ ” حنین ‘ کی جنگ میں جب کہ وہ انتہائی شدید صورت حال سے دوچار تھے ‘ وہ دیکھ رہے تھے کہ لوگ ان کو چھوڑ کر فرار ہورہے ہیں اور زمین اپنی کشادگی اور وسعت کے باوجود ان پر تنگ ہورہی ہے۔ اس کی تفصیل یوں ہے کہ فتح مکہ کے بعد رسول اللہ ﷺ کو خبر پہنچی کہ بنو ہوازن آپ پر حملہ کرنے کے لیے اکٹھے ہو رہے ہیں۔ چناچہ آپ صحابہ کرام ؓ اور فتح مکہ کے بعد مسلمان ہونے والے قریش کو ساتھ لے کر مقابلے کے لیے نکلے اس وقت ان کی تعداد بارہ ہزار اور مشرکین کی تعداد چارہزار تھی۔ کچھ مسلمانوں نے اس کثرت تعداد پر اتراتے ہوئے کہا ” آج ہم پر کوئی غالب نہیں آسکے گا “۔ جب بنو ہوازن اور مسلمانوں کی مڈبھیڑ ہوئی ہو انہوں نے مسلمانوں پر یک بارگی حملہ کیا جس سے مسلمانوں کے پاؤں اکھڑگئے اور شکست کھا کر بھا گے اٹھے اور انہوں نے پلٹ کر ایک دوسرے کی طرف نہ دیکھا۔ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سو کے لگ بھگ آدمی رہ گئے تھے جو نہایت ثابت قدمی کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ڈٹے مشرکین سے لڑ رہے تھے۔ رسول اللہ ﷺ اپنے خچر کو ایڑ لگا رک مشرکین کی طر پیش قدمی کررہے تھے اور فرما رہے تھے ” میں نبی ہوں اس میں کوئی جھوٹ نہیں ‘ میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں “۔ جب آپ نے مسلمانوں کی یہ ہزیمت دیکھی تو آپ نے حضرت عباس بن عبدالمطلب کو جو کہ بلد آواز شخص تھے حکم دیا کہ وہ انصار اور باقی مسلمانوں کو آواز دیں۔ چناچہ انہوں نے پکار کر کہا :” اے اصحاب بیعت رضوان ! اے اصحاب سورة بقرہ “ جب بھاگنے والوں نے حضرت عباس ؓ کی آواز سنی تو وہ یک بارگی واپس پلٹے اور مشرکین پر ٹوٹ پڑے۔ اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو زبردست شکست سے دوچار کیا۔ میدان جنگ مسلمانوں کے ہاتھ رہا۔ ان کے اموال اور عورتیں مسلمانوں کے قبضے میں آگئیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا “ ” یقیناََ اللہ نے تمہارے مدد فرمائی بہت سی جگہوں میں اور حنین کے دن “ حنین “ مکہ مگکرمہ اور طائف کے ردمیان وہ مقام ہے جہاں حنین کا معرکہ ہوا تھا ” جب تمہیں تمہاری کثرت نے گھمنڈ میں مبتلا کردیا پس اس نے تمہیں کچھ فائدہ نہیں دیا “ تمہاری کثرت نے تمہیں تھوڑا یا زیادہ کچھ بھی فائدہ نہ دیا۔ (وضاقت علیکم الارض) ” اور زمین تم پر تنگ ہوگئی۔ “ یعنی جب تمہیں شکست ہوئی اور تم پر غم و ہموم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا اور تم پر زمین تنگ ہوگئی۔ (بمارحبت) ” اپنی کشادگی اور وسعت کے باوجود “ (آیت) ” پھر تم پیٹھ پھیر کر بھاگ نکلے۔ ‘ (آیت) ” پھر اللہ نے اپنے رسول اور مومنوں پر سکنیت نازل فرمائی “ سکنیت اس کیفیت کا نام ہے جو دل کو ہلا دینے والے تباہ کن واقعات اور زلزلوں کے وقت اللہ تعالیٰ دل میں پیدا کرتا ہے جو دل کو سکون عطا کر کے مطمئن کرتی ہے۔ یہ سکون قلب بندوں کے لئے اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے (وانزل جنودا لم تردھا) ” اور ایسے لشکر اتارے جو تمہیں نظر نہیں آتے تھے “ وہ فرشتے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے حنین کی جنگ میں مسلمانوں کی مدد کے لئے نازل فرمایا جو مسلمانوں کو ثابت قدم رکھتے تھے اور انہیں فتح و نصرت کی خوشخبری دیتے تھے۔ (وعذب الذین کفروا ) ” اور کافروں کو عذاب دیا “ اللہ تعالیٰ نے کفار کو شکست، قتل، ان کے اموال و اولاد اور ان کی عورتوں پر مسلمانوں کے قبضہ کے ذریعے سے عذاب کا مزا چکھا دیا۔ (وذلک جزآء الکفرین) ” اور یہ ہے سزا کافروں کی “ اللہ تعالیٰ انہیں دنیا میں بھی عذاب دے گا اور آخرت میں سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ (آیت) ” پھر اللہ اس کے بعد جس پر چاہتا ہے، رجوع فرماتا ہے “ اللہ تبارک و تعالیٰ نے، ہوازن کے کفار میں سے جن کے ساتھ جنگ ہوئی، اکثر کی توبہ قبول فرما لی اور وہ اسلام قبول کر کے تائب ہو کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ نے ان کی عوتریں اور بچے واپس کردیئے۔ (آیت) ” اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ بےانتہا مغفرت اور بےپایاں رحمت اک مالک ہے، وہ توبہ کرنے والے کے بڑے بڑے گناہ بخش دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو توبہ اور اطاعت کی توفیق عطا کر کے، ان کے جرائم سے درگزر کر کے اور ان کی توبہ قبول کر کے ان پر رحم کرتا ہے۔ پس کسی نے کتنے ہی بڑے بڑے گناہوں اور جرائم کا ارتکاب کیوں نہ کیا ہو، اسے اللہ تعالیٰ کی رحمت اور بخشش سے ہرگز مایوس نہیں ہونا چاہیے۔
Ayahs 9:28–29

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ فَلَا یَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هٰذَا١ۚ وَ اِنْ خِفْتُمْ عَیْلَةً فَسَوْفَ یُغْنِیْكُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖۤ اِنْ شَآءَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:28 in the Quran reader

مومنو ! مشرک تو نجس ہیں تو اس برس کے بعد وہ خانہ کعبہ کے پاس نہ جانے پائیں اور اگر تم کو مفلسی کا خوف ہو تو خدا چاہے گا تو تم کو اپنے فضل سے غنی کردے گا۔ بیشک خدا سب کچھ جانتا (اور) حکمت والا ہے۔

قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ لَا یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ لَا یَدِیْنُوْنَ دِیْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰى یُعْطُوا الْجِزْیَةَ عَنْ یَّدٍ وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ۠ Open ayah 9:29 in the Quran reader

جو لوگ اہل کتاب میں سے خدا پر ایمان نہیں لاتے اور نہ روز آخرت پر (یقین رکھتے ہیں) اور نہ ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جو خدا اور اس کے رسول ﷺ نے حرام کی ہیں اور نہ دین حق کو قبول کرتے ہیں ان سے جنگ کرو۔ یہاں تک کہ ذلیل ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں۔

آیت 28 (آیت) ” اے ایمان والو ! بیشک مشرکین “ یعنی جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا اور اس کے ساتھ غیروں کی عبادت کی (نجس) ” ناپاک ہیں “۔ یعنی اپنے عقائدو اعمال میں ناپاک ہیں اور اس شخص سے بڑھ کر ناپاک اور کون ہوسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ خود ساختہ معبودوں کی عبادت کرتا ہے جو نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان اور نہ وہ کوئی کام آسکتے ہیں اور ان لوگوں کے اعمال اللہ تعالیٰ کے ساتھ جنگ کرنے، اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنے، باطل کی مدد کرنے، حق کو ٹھکرانے اور زمین میں اصلاح کی بجائے فساد کے لئے کام کرنے جیسے افعال پر مشتمل ہوتے ہیں۔ اس لئے تم پر فرض ہے کہ تم سب سے زیادہ شرف کے حامل اور سب سے زیادہ پاک گھر سے مشرکین کو پاک رکھو۔ (آیت) ” پس یہ اس سال کے بعد مسجد حراب کے قریب نہ جائیں “ اور یہ 9 ھ کا سال تھا جب حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے لوگوں کے ساتھ حج کیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے چچازاد بھائی علی بن ابی طالب ؓ کو روانہ فرمایا کہ حج کے روز ” براءت “ کا اعلان کردیں، چناچہ انہوں نے اعلان کیا کہ سال رواں کے بعد کوئی مشرک حج کے لئے نہیں آٗے گا اور نہ کوئی شخص عریاں ہو کر بیت اللہ کا طواف کرے گا۔ یہاں نجاست سے مراد بدن کی نجاست نہیں، کیونکہ کافر کا بدن بھی دوسرے لوگوں کے بدن کی طرح پاک ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کتابیہ عورت کے ساتھ مباشرت جائز قراردی ہے مگر اس کا پسینہ وغیرہ لگ جانے کی صورت میں اسے دھونے کا حکم نہیں دیا۔ مسلمان ہمیشہ سے کفار کے ستھ بدنی اختلاط رکھتے چلے آئے ہیں مگر ان سے یہ بات منقول نہیں کہ انہوں نے کفار کو اس طرح ناپاک سمجھا ہو جس طرح وہ گندگی کو ناپاک سمجھتے ہیں۔ درحقیقت اس سے مراد جیسا کہ گزشتہ صفحات میں گزرچکا ہے۔۔۔۔۔۔ معنوی نجاست، یعنی شرک ہے۔ تو جس طرح توحید اور ایمان معنوی طہارت ہے اسی طرح شرک معنوی نجاست ہے۔ (آیت) ”(اے مسلمانو ! ) اگر تمہیں محتاجی کا خوف ہو۔ “ یعنی مشرکین کو مسجد حرام کے قریب جانے سے دینے کی وجہ سے تمہارے اور ان کے درمیان دنیاوی امور میں قطع تعلق کی بنا پر فقر و احتیاج کے لاحق ہونے کا ڈر ہو (آیت) ” تو اللہ اپنے فضل سے تمہیں غنی کردے گا “ رزق کا ایک ہی دروازہ اور ایک ہی جگہ تو نہیں ہے بلکہ اس کے برعکس اگر رزق کا ایک دروازہ بند ہوجاتا ہے تو بیشمار دوسرے دروازے کھل جاتے ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ بےانتہا فضل و کرم سے مسلمانوں کو غنی کردیا۔ انہیں اس قدر کشادہ رزق عطا کیا کہ وہ بڑے بڑے مال داروں اور بادشاہوں میں شمار ہونے لگے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ (آیت) ” اگر اس نے چاہا “ اللہ تعالیٰ کا غنی کرنا اس کی مشیت کے ستھ معلق ہے، کیونکہ وہ دنیا کے اندر غنا کا حاصل ہونا لوازم ایمان میں شمار ہوتا ہے، نہ اللہ تعالیٰ کی محبت پر دلالت کرتا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی مشیت کے ساتھ معلق کیا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ دنیا، ہر ایک کو دیتا ہے، اپنے محبوب بندے کو بھی اور اس کو بھی جس سے وہ محبت نہیں کرتا، مگر وہ ایمان اور دین صرف اسے عطا کرتا ہے جس کے ساتھ وہ محبت کرتا ہے۔ (آیت) ” بیشک اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ “ اس کا علم بڑا وسیع ہے، وہ خوب جانتا ہے کہ کون غنا عطا کئے جانے کے لائق ہے اور کون ہے جو اس کے لائق نہیں اور اللہ تعالیٰ تمام اشیاء کو ان کے لائق مقام پر رکھتا ہے۔ آیت کریمہ (آیت) دلالت کرتی ہے کہ شمرکین مکہ بیت اللہ کی وجہ سے ریاست اور بادشاہی کے مالک تھے پھر فتح مکہ کے بعد حکومت اور اقتدار رسول اللہ ﷺ اور مومنین کے پاس آگیا اور مشرکین مکہ بیت اللہ اور مکہ مکرمہ میں مقیم رہے، پھر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی جب نبی اکریم ﷺ نے وفات پائی تو (وفات کے وقت) آپ نے حکم دیا کہ مشرکین کو سرزمین حجاز سے نکال دیا جائے۔ حجاز میں بیک وقت دو دین نہیں رہ سکتے۔۔۔ اور یہ اس وجہ سے، تاکہ ہر کافر کو مسجد حرام سے دور رکھا جائے۔ پس ہر کافر اللہ تعالیٰ کے حکم (آیت) میں داخل ہے۔ (آیت 92) ” لڑو ان لوگوں سے جو نہیں ایمان لاتے اللہ پر اور نہ یوم آخرت پر اور نہیں حرام سمجھتے اس چیز کو جس کو حرام ٹھہرایا اللہ نے اور اس کے رسول نے اور نہیں قبول کرتے دین حق کو، ان لوگوں میں سے جنہیں دی گئی کتاب، یہاں تک کہ ویں وہ جزیہ اپنے ہاتھ سے، ان حال میں کہ وہ ذلیل ہوں۔ اس آیت کریمہ میں یہود و نصاریٰ کے ساتھ قتال کا حکم ہے۔ (آیت) ” جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں لاتے “ ایسا ایمان جس کی تصدیق ان کے افعال و اعمال کرتے ہوں۔ (آیت) ” اور نہ حرام سمجھتے ہیں ان چیزوں کو جن کو اللہ اور اس کے رسول نے حرام کیا ہے “ یعنی محرمات کی تحریم میں اللہ تعالیٰ کی شریعت کی اتباع نہیں کرتے۔ (آیت) ” اور نہ وہ دین حق کو اختیار کرتے ہیں “۔ اگرچہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ایک دین رکھتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک باطل دین پر عمل پیرا ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے دین میں تغیر و تبدیل اور تحریف واقع ہوگئی ہے اور یہ (تحریف شدہ) وہ دین ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مشروع نہیں کیا یا وہ اس دین پر عمل پیرا ہیں جو منسوخ ہے یعنی جسے اللہ تعالیٰ نے مشروع فرمایا تھا، پھر محمد مصطفیٰ ﷺ کی شریعت کے ذریعے سے منسوخ کردیا۔ پس اس کے منسوخ ہونے کے بعد اس کے ساتھ تمسک کرنا جائز نہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ جہاد کرنے کا حکم اور اس کی ترغیب دی ہے، کیونکہ وہ لوگوں کو اپنے باطل نظریات کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ اس سے لوگوں کو اس سبب سے بہت نقصان پہنچتا ہے کہ وہ اہل کتاب ہیں اور اس قتال و جہاد کی غایت و انتہا یہ مقرر کی ہے۔ (حتی یعطوا الجزیۃ) ” یہاں تک کہ وہ جزیہ دیں “ یعنی وہ مال ادا کریں جو ان کے خلاف مسلمانوں کے قتال ترک کرنے اور مسلمانوں کے درمیان اپنے مال و متاع سمیت پرامن رہنے کا عوض ہے جو ہر سال ہر شخص سے اس کے حسب حال خواہ وہ امیر ہے یا غریب، وصول کیا جائے گا۔ جیسا کہ امیر المومنین حضرت عمر اور دیگر سربراہان نے کیا تھا۔ (عن ید) ” اپنے ہاتھوں سے “ یعنی مطیع ہو کر اور اقتدار چھوڑ کر یہ مالی عوض ادا کریں اور اپنے ہاتھ سے ادا کریں اور اس کی ادائیگی کے لئے خادم وغیرہ نہ بھیجیں، بلکہ یہ جزیہ صرف انہی کے ہاتھ سے وصول کیا جائے۔ (وھم صغرون) اور وہ زیردست اور مطیع بن کر رہیں۔ جب ان کا یہ حال ہو اور وہ مسلمانوں کو جزیہ ادا کرنا، مسلمانوں کے غلبہ اور ان کے احکامات کے تحت آنا قبول کرلیں، حالات ان کے شر اور فتنہ سے مامون ہوں۔ وہ مسلمانوں کی ان شرائط کو تسلیم کرلیں جو ان پر عائد کی گئی ہوں جن سے ان کے اقتدار اور تکبر کی نفی ہوتی ہو اور جو ان کی زیردستی کی موجب ہوں۔۔۔ تو مسلمانوں کے امام یا اس کے نائب پر واجب ہے کہ وہ ان کے ساتھ معاہدہ کرلے۔ اگر وہ معاہدے کو پورا نہ کریں اور زیر دست رہ کر جزیہ ادا نہ کریں، تو ان کو امان دینا جائز نہیں، بلکہ ان کے ساتھ قتال کیا جائے یہاں تک کہ اطاعت کرلیں۔ اس آیت کریمہ سے جمہور اہل علم استدلال کرتے ہیں کہ جزیہ صرفاہل کتاب سے لیا جائے، کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے صرف اہل کتاب سے جزیہ وصول کرنے کا حکم دیا ہے۔ رہے اہل کتاب کے علاوہ دیگر کافر تو ان کے خلاف اس وقت تک لڑنے کا ذکر ہے جب تک کہ وہ اسلام قبول نہ کرلیں۔ جزیہ ادا کرنے اور اس کے عوض مسلمانوں کے شہروں میں رہنے کے احکام میں مجوس بھی شامل ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے علاقہ ہجر کے مجوسیوں سے جزیہ وصول کیا۔ پھر امیر المومنین حضرت عمر فاورق نے ایران کے مجوسیوں سے جزیہ وصول کیا۔ بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اہل کتاب اور غیر اہل کتاب تمام کفار سے جزیہ قبول کیا جائے گا کیونکہ یہ آیت کریمہ مشرکین عرب کے ساتھ قتال سے فراغت کے بعد اور اہل کتاب وغیرہ کے ساتھ قتال شروع ہونے پر نازل ہوئی ہے۔ تب یہ قید واقعہ کی خبر ہے اس کا مفہوم نہیں اور اس کی دلیل یہ ہے کہ مجوسیوں سے جزیہ لیا گیا ہے حالانکہ وہ اہل کتاب میں شمار نہیں ہوتے۔ نیز صحابہ کرام اور بعد میں آنے والے مسلمانوں سے تواتر کے ساتھ ثابت ہے کہ وہ جس قوم کے خلاف جنگ کرتے انہیں سب سے پہلے تین میں سے ایک چیز قبول کرنے کی دعوت دیتے تھے۔ (1) اسلام قبول کرنا۔ (2) جزیہ ادا کرنا۔ (3) یا تلوار کا فیصلہ قبول کرنا۔۔۔ اور اس میں انہوں نے اہل کتاب اور غیر اہل کتاب کے درمیان کبھی کوئی فرق نہیں رکھا۔