9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsسراج البیان

Ayah 9:1

بَرَآءَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَى الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَؕ Open ayah 9:1 in the Quran reader

(مسلمانو ! ) جن مشرکوں سے تم نے عہد باندھا تھا ، ان کو اللہ اور رسول سے قطعی بیزاری (یعنی جواب) ہے

سورة براء ۃ : حدیث میں اس کے مختلف نام آئے ہیں ’ التوبہ ، الفاصحۃ اور المبحوث ‘ وغیرہا ، یعنی جب میں توبہ کا ذکر ہے ، منافقین کو ذلیل کیا گیا ہے اور مشرکین کے حالات پر پوری بحث کی گئی ہے ، اس کے سرعنوان بسم اللہ درج نہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ عرجب نقض عہد کے لئے اعلان لکھتے تو اس میں بسم اللہ نہیں ہوتی تھی ، قرآن نے بھی اس مذاق کی رعایت رکھی ہے اور اس میں بسم اللہ نہیں پڑھا ہے ۔ غالبا اس لئے بھی بسم اللہ کی ضرورت نہیں کہ انفال و توبہ گو الگ الگ دو سورتیں ہیں مگر معنا متحد ہیں ، اور مضمون کے اعتبار سے دونوں کو ایک ہی سورة سے تعبیر کیا جاسکتا ہے ۔
Ayahs 9:2–4

فَسِیْحُوْا فِی الْاَرْضِ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللّٰهِ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ مُخْزِی الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:2 in the Quran reader

پس اے مشرکو چار مہینے تک اس ملک میں پھر لو اور جان لو ، کہ تم خدا کو عاجز نہ کر سکوگے ، اور یہ کہ اللہ کافروں (ف 2) ۔ کو رسوا کرے گا ،

وَ اَذَانٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَى النَّاسِ یَوْمَ الْحَجِّ الْاَكْبَرِ اَنَّ اللّٰهَ بَرِیْٓءٌ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ١ۙ۬ وَ رَسُوْلُهٗ١ؕ فَاِنْ تُبْتُمْ فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللّٰهِ١ؕ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ Open ayah 9:3 in the Quran reader

اور حج اکبر کے دن لوگوں کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ سے اعلان ہے کہ اللہ مشرکوں سے بیزار ہے ، اور اس کا رسول بھی ، پھر اگر تم توبہ کرو ، تو وہ تمہارے لئے بہتر ہے ، اور جو نہ مانو ، تو جانو کہ خدا کو تم تھکا نہ سکو گے ، اور کافروں کو دکھ دینے والے عذاب کی خوشخبری سنا ۔

اِلَّا الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ ثُمَّ لَمْ یَنْقُصُوْكُمْ شَیْئًا وَّ لَمْ یُظَاهِرُوْا عَلَیْكُمْ اَحَدًا فَاَتِمُّوْۤا اِلَیْهِمْ عَهْدَهُمْ اِلٰى مُدَّتِهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:4 in the Quran reader

مگر جن مشرکوں سے تم نے عہد کیا تھا ، پھر انہوں نے تمہارے عہد میں کچھ قصور نہیں کیا ، اور کسی کو تمہارے مقابلہ میں مدد بھی نہیں دی ان سے ان کا عہد ان کی مدت تک تم پورا کرو دو ‘ اللہ پر ہیزگاروں کو دوست رکھتا ہے ۔

اعلان استقلال : (ف 2) اس سورة میں اعلان استقلال ہے مشرکین مکہ نے بار بار نقض عہد کا ارتکاب کیا ، حضور ﷺ جب تبوک کی طرف جانے لگے تو انہوں نے پوری کوشش کی کہ آپ کی غیر حاضری میں غلط سلط افوائیں مشہور کی جائیں ، اس لئے یہ سورت نازل ہوئی ، جس میں واضح الفاظ میں کہہ دیا گیا کہ آج سے ہم تم سے کوئی عہد ومیثاق نہیں رکھتے تمہیں چار ماہ کی مہلت ہے جہاں چاہو ، ٹھکانا طے کرلو ، اس کے بعد یا اسلام قبول کرو ، اور یا جنگ کے لئے تیار ہوجاؤ ، اب زیادہ دیر تک تمہاری شرارتوں کو برداشت نہیں کیا جاسکتا ۔ حضرت علی ؓ اور حضرت ابوبکر ؓ حج کے دن یہ اعلان لے پہنچے ، اور ایک ایک کے کان تک اس کو پہنچایا ، غرض یہ تھی کہ اس بلدہ طیبہ میں کفر ونفاق کی جڑ کٹ جائے ، اور یہ خطہ مقدس ہر نوع کی خباثتوں سے پاک ہوجائے ۔ (آیت) ” الا الذین عاھدتم “ سے مقصود وہ لوگ ہیں جنہوں نے نقص عہد کا ارتکاب نہیں کیا اور معادہ حدیبیہ کی پابندی کی ان لوگوں کے متعلق ارشاد ہے کہ اس مدت سے مستثنی ہیں ۔ حل لغات : برآء ۃ : کے معنی انقطاع ، یعنی کسی تعلق و رشتہ کو منقطع کر دیان ۔ اذان : اطلاع ۔ الحج الاکبر : یوم النحر ، اشھرالحرم ، ۔ ذوالقعدہ ۔ ذوالحجہ ، محرم اور رجب ان میں جدال و قتال ممنوع ہے ۔
Ayah 9:5

فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ وَ خُذُوْهُمْ وَ احْصُرُوْهُمْ وَ اقْعُدُوْا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ١ۚ فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:5 in the Quran reader

پھر جب حرمت کے مہینے گزر جائیں تو مشرکوں کو جہاں پاؤ ، قتل کرو ، اور پکڑو ۔ اور گھیرو ، اور ہر گھات کی جگہ میں ان کے لئے بیٹھو ، پھر اگر وہ توبہ کریں اور نماز پڑھیں ، اور زکوہ دیں ، تو تم ان کی راہ چھوڑ دو (چاہیں پھریں) اللہ بخشنے اور مہربان ہے (ف 1) ۔

(ف 1) اعلان جنگ کے بعد جنگ ضروری ہے اس میں کوئی دوستی اور مداہنت روا نہیں ، جب کفر وشرک کی اذیتیں حد سے گذر جائیں جب اللہ کے بندوں کو محض ایمان کی وجہ سے مصائب کا آماجگاہ بنا لیا جائے ، جب اللہ سے دوستی کفر کے لئے باعث تکلیف ہو اور مسلمان کے لئے باعث ابتلا ، تو اس وقت آخری فیصلہ کی حاجت ہے یعنی جنگ اور اعلان کے بعد مشرک کے لئے کہیں جائے پناہ نہیں ، اس وقت بےدریغ قتل کرنا ہی خلق خدا کے ساتھ رحم کرنا ہے اس وقت شرارت و فساد کو بیخ وبن سے اکھاڑ ڈالنا ہی امن وسل امتی ہے ۔ البتہ اگر مشرک تائب ہوجائے ، کافر اسلام قبول کرلے ، اور نیک بننے کا عہد کرلے تو پھر اللہ کی آغوش رحمت واہے ، اسے کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی ،
Ayah 9:6

وَ اِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ اسْتَجَارَكَ فَاَجِرْهُ حَتّٰى یَسْمَعَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ اَبْلِغْهُ مَاْمَنَهٗ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 9:6 in the Quran reader

اور اگر مشرکوں میں سے کوئی تجھ سے پناہ مانگے ، تو اسے پناہ دے ، یہاں تک کہ وہ کلام اللہ سنے ، پھر اسے اس کے امن کی جگہ میں پہنچا دے ، یہ اس لئے (ف 2) ۔ کہ وہ لوگ علم نہیں رکھتے ۔

پناہ دو : (ف 2) ان حالات میں محض جبکہ کفر واسلام کے مباین جنگ کا آغاز ہوچکا ہو ، جب تلواریں نیام سے کھچ چکی ہوں ، اور خون کی ندیاں بہ رہی ہوں ، اگر کوئی مشرک تمہاری پناہ میں آجائے تو تمہارا اسلامی فرض یہ ہے کہ اسے پناہ دو کیونکہ اسلام کی جنگ صرف اس سے ہے جو اس کے ساتھ برسرپیکار ہے ۔
Ayahs 9:7–12

كَیْفَ یَكُوْنُ لِلْمُشْرِكِیْنَ عَهْدٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عِنْدَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَّا الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ۚ فَمَا اسْتَقَامُوْا لَكُمْ فَاسْتَقِیْمُوْا لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:7 in the Quran reader

اللہ اور اس کے رسول ﷺ پاس مشرکوں کے لئے کیونکر عہد ہو سکتا ہے مگر جن سے کہ تم نے (حدیبیہ کے دن) مسجد حرام کے پاس عہد کیا تھا ، سو جب تک وہ تم سے سیدھے ہیں تم ان سے سیدھے رہو ، خدا متقیوں کو پسند کرتا ہے (ف 1) ۔

كَیْفَ وَ اِنْ یَّظْهَرُوْا عَلَیْكُمْ لَا یَرْقُبُوْا فِیْكُمْ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّةً١ؕ یُرْضُوْنَكُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ تَاْبٰى قُلُوْبُهُمْ١ۚ وَ اَكْثَرُهُمْ فٰسِقُوْنَۚ Open ayah 9:8 in the Quran reader

کیونکر صلح رہے ‘ اور اگر وہ تم پر غالب آئیں تو تمہارے حق میں خویشی اور عہد کی رعایت نہ کرینگے وہ اپنے منہ کی بات سے تمہیں راضی کرتے ہیں حالانکہ ان کے دل قبول نہیں کرتے ، اور ان میں اکثر بدکار ہیں ۔

اِشْتَرَوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 9:9 in the Quran reader

انہوں نے اللہ کی آیات تھوڑی قیمت پر بیچیں ، اور اس کی راہ سے لوگوں کو روکا ، برے کام ہیں ، جو وہ کرتے ہیں ۔

لَا یَرْقُبُوْنَ فِیْ مُؤْمِنٍ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّةً١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُعْتَدُوْنَ Open ayah 9:10 in the Quran reader

کسی مسلمان کے حق میں خویشی اور عہد کا کچھ لحاظ نہیں کرتے ، اور وہی زیادتی پر ہیں ،

فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِ١ؕ وَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 9:11 in the Quran reader

سو وہ اگر توبہ کریں ، اور نماز پڑھیں ، اور زکوۃ دیں ، تو وہ دین میں تمہارے بھائی ہیں ، اور ہم اہل علم کے لئے پتے کھولئے ہیں ۔

وَ اِنْ نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَ طَعَنُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ فَقَاتِلُوْۤا اَئِمَّةَ الْكُفْرِ١ۙ اِنَّهُمْ لَاۤ اَیْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَنْتَهُوْنَ Open ayah 9:12 in the Quran reader

اور جو وہ اپنے عہد کے بعد اپنی قسمیں توڑیں ، اور تمہارے دین میں طعنہ زنی کریں ، تو تم ان کفر کے اماموں سے لڑو ، ان کی قسمیں کچھ نہیں ، شاید وہ باز آجائیں ۔

(ف 1) مقصد یہ ہے کہ ان لوگوں کے ساتھ معاہدہ کیوں کر قائم رہ سکتا ہے جب ان کے دلوں میں مسلمان کے خلاف سخت جذبات غیظ وغضب مشتعل ہیں اور موقع آنے پر یہ ذرا بھی نہیں چوکتے ، مسلمان چاہے عزیز ہو ، چاہے قریبی ، یہ لوگ وقت پر وار کرنے سے باز نہیں آتے ۔ زبان سے ضرور کہتے ہیں ہم تمہارے دوست ہیں ، مگر دل میں بدستور خبث پنہاں ہے ۔ اور یہ عجیب بات ہے کہ آج بھی مشرک کی یہی ذہنیت ہے مسلمان سے جب ملے گا تو نہایت عجز و انکسار کے ساتھ زبان سے نہایت میٹھا ہے ، مگر دل کا کڑوا اور ناپاک ہے ۔ حل لغات : الا : قرابت ، رشتہ داری ۔ ذمۃ : عہد ۔
Ayahs 9:13–15

اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ وَ هَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَ هُمْ بَدَءُوْكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ؕ اَتَخْشَوْنَهُمْ١ۚ فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْهُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:13 in the Quran reader

کیا تم ان سے نہ لڑو گے جنہوں نے اپنی قسمیں توڑیں ، اور رسول کو (مکہ سے) جلا وطن کرنے کا قصد کیا تھا اور انہوں (ف 1) ۔ نے ہی اولا تم سے چھیڑ کی ہے ، کیا تم ان سے ڈرتے ہو ‘ سو اگر تم مسلمان ہو تو اللہ اس کا زیادہ مستحق ہے کہ تم اس سے ڈرو ۔

قَاتِلُوْهُمْ یُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَیْدِیْكُمْ وَ یُخْزِهِمْ وَ یَنْصُرْكُمْ عَلَیْهِمْ وَ یَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 9:14 in the Quran reader

ان سے لڑو ، اللہ تمہارے ہاتھ میں انہیں دکھ پہنچائے گا ، اور انہیں رسوا کریگا ، اور ان پر تمہیں مدد دے گا اور مسلمانوں کے دلوں کو ٹھنڈا کرے گا ۔

وَ یُذْهِبْ غَیْظَ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ یَتُوْبُ اللّٰهُ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:15 in the Quran reader

اور ان کے دلوں کا غصہ دور کرے گا اور جسے چاہے گا ، اللہ توبہ کی توفیق دے گا اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے ۔

اسباب جنگ : (ف 1) ان آیات میں بتایا ہے کہ جب مشرکین کی ذہنیت یہ ہے کہ وہ تمہیں نقصان پہنچانے سے باز نہیں آتے جب کہ وہ کسی عہد کی رعایت نہیں رکھتے ، حدیبیہ کے عہد مصالحت کی انہوں نے مخالفت کی جگہ انہوں نے دارالندوہ میں بیٹھ کر حضور ﷺ کو مکہ سے نکال دینے کی سازش کی ، اور جب کہ بدر میں انہوں نے چھیڑ کا آغاز کیا ، کرزبن جابر الفہری کو بھیجدیا ، کہ جا کر مدینے مسلمانوں کے اونٹ چرا لائے ، گویا تین سو میل کے فاصلہ پر بھی وہ مسلمانوں کو چین سے نہیں رہنے دیتے تھے ۔ اور جبکہ وقتا فوقتا انہوں نے اپنے طرز عمل سے دعوت دی ہے تو پھر اب تمہیں ان سے لڑنے میں تامل کیا ہے ۔ ؟ یعنی اب پیمانہ صبر لبریز ہوچکا ہے ، ہر رواداری اور ہمدردی کو بالائے طاق رکھدو ، اللہ نے یہ طے کرلیا ہے کہ کفر ذلیل ہو ، اور انہیں اپنے کئے کی سزا مل جائے ، یاد رکھو ، فتح و کامرانی تمہارے حصے میں آئے ، گی ، ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام یا تو جنگ کو جائز قرار نہیں دیتا ، اور یا پھر جب کہ ضرورت محسوس ہو ، بزدلی کو روا نہیں رکھتا ۔ ان آیات میں صاف صاف مذکور ہے کہ آغاز ان کی جانب سے ہے زیادتی انہیں کی ہے اسلام صرف بہادرانہ مدافعت چاہتا ہے ۔ حل لغات : نکثوا : نکث اور نقض ، مترادف لفظ ہیں ۔ ائمہ : جمع امام یعنی سردار یا لیڈر ۔
Ayah 9:16

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَكُوْا وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَ لَمْ یَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لَا رَسُوْلِهٖ وَ لَا الْمُؤْمِنِیْنَ وَلِیْجَةً١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 9:16 in the Quran reader

اور گمان کرتے ہو کہ تم (جہاد سے) چھوٹ جاؤ گے حالانکہ ابھی خدا نے یہ بھی ظاہر نہیں کیا کہ کون کون تم میں سے جہاد کرنے والے ہیں ، اور کون کون ہیں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ اور مومنین کے سوا کسی کو بھیدی دوست نہیں رکھا اور اللہ کو تمہارے سب کاموں کی خبر ہے (ف 1) ۔

(ف 1) غرض ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر شخص کو امتحان میں ڈالتا ہے اور جب تک مجاہدین اور وہ لوگ جو صرف مسلمانوں کے دوست ہیں ، عام منافقین سے الگ اور ممتاز نہ ہوجائیں ، اللہ برابر ابتلاء آزمائش کے مواقع پیدا کرتا رہتا ہے ۔ (آیت) ” ولما یعلم اللہ “ سے مقصود یہ ہے کہ وہ جب تک ان سے جہاد اور اسلام دوستی کو محسوس طور پر خدا کے علم میں نہ لے آئیں کیونکہ خدا تو بہرحال عالم ہے ۔
Ayah 9:17

مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِیْنَ اَنْ یَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰهِ شٰهِدِیْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ١ۖۚ وَ فِی النَّارِ هُمْ خٰلِدُوْنَ Open ayah 9:17 in the Quran reader

مشرکوں کا کام نہیں کہ اپنی جانوں پر کفر کی گواہی دیتے ہوئے اللہ کی مسجدیں (ف 2) ۔ آباد کریں ، ان کے اعمال ضائع ہوئے اور وہ ہمیشہ آگ میں رہیں گے ،

(ف 2) غرض یہ ہے کہ بیت اللہ کی تولیت کا مشرکین مکہ کو کوئی استحقاق نہیں کیونکہ وہ بت پرست ہیں اور بانی کعبہ موحد تھا ، اس کی تولیت تو انہی لوگوں کو دی جاسکتی ہے جو مسلک ابراہیم پر کاربند ہیں ، جو مومن ہیں اور صلوۃ وزکوۃ کے پابند ہیں ۔ غرض یہ ہے کہ مساجد پر قبضہ صرف ان لوگوں کا رہے گا جو اللہ کے مشن کو پورا کرتے رہیں گے ، وہ لوگ جنہیں دین سے کوئی واسطہ نہیں جو فسق وفجور میں مبتلا ہیں ، انہیں کیا حق حاصل ہے کہ اللہ کے گھر کی پاسبانی کریں ۔ حل لغات : ولیجۃ : ولوج سے مشتق ہے جس کے معنی اندر آنے کے ہیں ۔ یہ اس شخص کو کہتے ہیں جو محرم راز دوست وہ مفرد وجمع دونوں کے لئے مستعمل ہے ۔
Ayahs 9:18–21

اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَ وَ لَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰهَ فَعَسٰۤى اُولٰٓئِكَ اَنْ یَّكُوْنُوْا مِنَ الْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 9:18 in the Quran reader

خدا کی مسجدیں فقط وہ آباد کرتے ہیں جو اللہ اور آخری دن پر ایمان رکھتے ، اور نماز پڑھتے ، اور زکوۃ دیتے ، اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے پس توقع ہے کہ وہی ہدایت یافتہ ہوں (ف 1) ۔

اَجَعَلْتُمْ سِقَایَةَ الْحَآجِّ وَ عِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ جٰهَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ لَا یَسْتَوٗنَ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۘ Open ayah 9:19 in the Quran reader

کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجد حرام کا آباد رکھنا ، اس شخص کے برابر سمجھ لیا جو اللہ پر اور آخری دن پر ایمان لایا ، اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا ، اور خدا کے نزدیک برابر نہیں ، اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں کرتا ۔

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ۙ اَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 9:20 in the Quran reader

جو ایمان لائے اور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں اپنی جان مال سے جہاد کیا کے اللہ کے نزدیک ان کا درجہ بڑا ہے ، اور وہی کامیاب ہیں ۔

یُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ وَ رِضْوَانٍ وَّ جَنّٰتٍ لَّهُمْ فِیْهَا نَعِیْمٌ مُّقِیْمٌۙ Open ayah 9:21 in the Quran reader

ان کا رب انہیں اپنی رحمت اور رضا مندی کی اور ان باغوں کی جہاں ان کے لئے دائمی نعمت ہے بشارت دیتا ہے ۔

مفاخر قریش : (ف 1) قریش مکہ مسلمانوں سے فخریہ کہتے ، ہم تم سے اچھے ہیں ، بیت اللہ کے خادم ہیں ، حاجیوں کو پانی پلاتے ہیں ، ان کی مہمان نوازی کرتے رہیں ، اور بیت اللہ کی آبادی کا خیال رکھتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے ان مفاخر کا جواب دیا ہے کہ جب تک ایمان نہ ہو ، یہ فضائل قبول نہیں ، جب تم بناء کعبہ کے مقصد سے ہیں نا آشنا ہو تو تمہیں کیا فضیلت حاصل ہوسکتی ہے ، افضل وہ ہیں جو ایمان کی دولت سے بہرہ ور ہیں ، جن کے دلوں میں ایمان جوش و حرارت ہے ، جو اس کے نام پر دشمنوں سے لڑ سکتے ہیں ، نہ وہ لوگ جو چھوٹی چھوٹی خدمات پر خوش ہیں ، اور روح دین سے بیگانہ ہیں ۔
Ayah 9:22

خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 9:22 in the Quran reader

وہ وہاں ہمیشہ رہیں گے ، اللہ کے پاس بڑا ثواب ہے (ف 1) ۔

(ف 1) ان آیات میں ان لوگوں کے درجات گنائے ہیں جنہوں نے ایمان کی نعمت کو قبل کیا اور اللہ کی راہ میں مالی وجانی جہاد کی ، فرمایا ان کے مرتبے بہت بلند ہیں ، یہ دراصل فائز اور کامیاب ہیں ، اللہ نے انہیں سند رضا عنایت کر رکھی ہے ، ان کے لئے جنات کے دروازے کھلے ہیں ، یہ اجر عظیم کے مستحق ہیں ، غور کرو ، قران جنہیں مہاجر ومجاہد کے لقب سے نوازے جنہیں جائزوکامران کہے جنہیں ادائے رضا دے جن کے مرتبے بلند کرے ، جنہیں اجر عظیم کا مستحق قرار دے ، انکی شان کتنی بلند ہوگی ، اور ان کا رتبہ کتنا اونچا ہوگا ۔ حل لغات : نعیم مقیم : دائمی نعمت ، ابدا : ہمیشہ ۔
Ayah 9:23

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰبَآءَكُمْ وَ اِخْوَانَكُمْ اَوْلِیَآءَ اِنِ اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ عَلَى الْاِیْمَانِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 9:23 in the Quran reader

مومنو ! اگر تمہارے باپ اور بھائی ایمان کی نسبت کفر کو درست رکھیں تو تم ان کو اپنا رفیق نہ بناؤ اور جو تم میں سے ان کی رفاقت کرے گا وہی ظالم ہیں (ف 1) ۔

(ف 1) غرض یہ ہے کہ اسلام کے بعد پرانے تعلقات منقطع ہوجاتے ہیں ، اور نئے رشتے استوار ہوتے ہیں ، وہ لوگ جو منکر ہیں ، جنہوں نے کفر کو ترجیح دی اور ایمان کو ٹھکرا دیا ، ان سے ایک مسلم کا کوئی رشتہ ناطہ نہیں ‘ وہ اخلاقی اعانت کے مستحق ہیں ، مگر اس بات کی اجازت نہیں کہ مسلمان انہیں معتمد سمجھیں ، اور ان سے مسلمانوں کے راز کی بات کہہ دیں ان پر بھروسہ کرنا گناہ ہے کیونکہ ان کے تعلقات ذاتی طور پر مسلمان کے ساتھ ہو سکتے ہیں ، مگر بالعموم وہ اسلام کی شان و شوکت کو نہیں دیکھ سکتے ۔ بات یہ ہے کہ جب اعلان برات ہوا اور صاف طور پر کفر سے علیحدگی اختیار کرلی گئی تو اس وقت صحابہ کرام ؓ اجمعین نے کہا ، ہمارے مکہ والوں سے تعلقات ہیں ، رشتہ داریاں ہیں ، یہ کیسے لچھوٹ سکتی ہیں ، اس پر اللہ نے فرمایا ، ان سے دوستداری کے اتفاقات منقطع ہیں ، اور جو اس واضح اعلان کے بعد بھی ان سے تعلقات قائم رکھے گا ، وہ ظالم ہے ۔ یعنی سیاسی مصالح کا اقتضاء یہ ہے کہ مخالفین پر اعتماد نہ کیا جائے ۔
Ayah 9:24

قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِیْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالُ اِ۟قْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَاۤ اَحَبَّ اِلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِیْ سَبِیْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 9:24 in the Quran reader

تو کہہ اگر تمہارے باپ اور بیٹے ، اور بھائی ، اور عورتیں ، اور برادری ، اور وہ مال ‘ جو تم نے کمائے ، اور وہ تجارت جس کے بند ہونے سے تم ڈرتے ہو ‘ اور وہ مکانات جن سے خوش ہو ، تمہیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ اور اس کی راہ میں جہاد سے زیادہ عزیز ہیں تو ذرا صبر کرو ، یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم تم پر بھیجے اور اللہ فاسقوں کو ہدایت (ف 2) ۔ نہیں کرتا ۔

دین کی محبت : (ف 2) غرض یہ ہے کہ مسلمان رشتہ اطاعت کو ہر آن ملحوظ خاطر رکھے ، اللہ اور اس کے رسول کی محبت میں تمام تعلقات کو ٹھکرا دے ۔ اور جو شخص اس طرح دار محبت کی دولت سے بہرہ ور نہیں جس کی لگن دنیوی مال اور عزیز و اقارب سے زیادہ ہے جو ان بندھنوں میں بندھا ہے ، اور ایثار وقربانی کے جذبہ سے محروم ہے ، وہ فاسق ہے اسے عذاب الہی کا منتظر رہنا چاہئے مسلمان وہ ہے جو ہر گھاٹے اور نقصان کو برداشت کرلے ، مگر دین کا نقصان اور دین کا گھاٹا اس کے لئے ناقابل برداشت ہو ۔
Ayahs 9:25–27

لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ فِیْ مَوَاطِنَ كَثِیْرَةٍ١ۙ وَّ یَوْمَ حُنَیْنٍ١ۙ اِذْ اَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَیْئًا وَّ ضَاقَتْ عَلَیْكُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّیْتُمْ مُّدْبِرِیْنَۚ Open ayah 9:25 in the Quran reader

بہت جگہوں میں خدا تم کو مدد دے چکا ہے ۔ اور جنگ حنین کے دن ، جب تم اپنی کثرت پر اتراتے تھے اور وہ کثرت تمہارے کچھ کام نہ آئی تھی اور زمین باوجود اپنی فراخی کے تم پر تنگ ہوگئی تھی ، پھر تم پشت دے کے بھاگے تھے (ف 1) ۔

ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا وَ عَذَّبَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزَآءُ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:26 in the Quran reader

پھر اللہ نے اپنے رسول ﷺ اور مومنین پر اپنی تسکین نازل کی تھی اور ایسی فوجیں بھیجی تھیں جو تم نے نہیں دیکھیں اور کافروں کو عذاب دیا تھا اور کافروں کا بدلہ یہی تھا ۔

ثُمَّ یَتُوْبُ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:27 in the Quran reader

پھر اس کے بعد اللہ جس پر چاہے رحم کرے ، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔

غزوہ حنین : (ف 1) 8 ھ؁ میں فتح مکہ کے بعد ہوازن وثقیف کے قبیلوں نے جنگ کی طرح ڈال دی ان کا خیال تھا کہ اگر ہم نے مسلمانوں کو شکست دے دی ، تو مکہ والوں کی تمام جائیداد جو طائف میں ہے ، وہ ہماری ہوجائے گی ، اور ہم مسلمانوں سے بت شکنی کا انتقام بھی لے سکیں گے ، حضور ﷺ مقابلہ کے لئے نکلے ، تو ایک جم غفیر ساتھ ہوگیا ، جس کی تعداد تقریبا بارہ ہزار تھی اس لئے مسلمان مغرور تھے ، نہایت بےپروائی سے لڑے ، نتیجہ یہ ہوا کہ شکست کھائی ، اور میدان سے بھاگ نکلے ، حضور ﷺ پہاڑ کی طرح کھڑے رہے ، اور آپ نے للکار للکار کر کہا ۔ انا النبی لا کذب انا ابن عبدالمطلب : آپ کے استقلال کو دیکھ کر اور دعوت کو سن کر مسلمان پھر جمع ہوگئے ، اللہ نے ان کی گھبراہٹ دور کی ، اور فرشتے تسلی کے لئے نازل فرمائے ، اور بالآخر مسلمانوں کو عظیم کامیابی ہوئی ، اس آیت میں اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے ۔
Ayah 9:28

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ فَلَا یَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هٰذَا١ۚ وَ اِنْ خِفْتُمْ عَیْلَةً فَسَوْفَ یُغْنِیْكُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖۤ اِنْ شَآءَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:28 in the Quran reader

مومنو ! مشرک لوگ پلید ہیں سو اس سال کے بعد مسجد حرام کے پاس نہ آنے پائیں ، اور اگر تم محتاجی سے ڈرو ، تو خدا اگر چاہے گا تو اپنے فضل سے تمہیں غنی کر دے گا ، اللہ جاننے والا حکمت والا ہے (ف 1) ۔

مشرک ناپاک ہیں !: (ف 1) یعنی مشرک عقیدوں کے ناپاک اور دلوں کے خبیث ہیں ، اس لئے اعلان برات کے بعد انہیں بیت الحرام کے قریب نہ آنے دیا جائے ، مقصد یہ ہے کہ یہ خط پاک خالصۃ ایا ہو جس میں شرک وبت پرستی کے جراثیم کلیۃ ناپیدا ہوں ، تاکہ یہاں سے توحید خالص کے چشمے پھوٹیں اور ایک دنیا کو سیراب کردیں ۔
Ayah 9:29

قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ لَا یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ لَا یَدِیْنُوْنَ دِیْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰى یُعْطُوا الْجِزْیَةَ عَنْ یَّدٍ وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ۠ Open ayah 9:29 in the Quran reader

اہل کتاب میں سے جو لوگ اللہ اور آخری دن پر ایمان نہیں لاتے ، اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی حرام کی ہوئی اشیاء کو حرام نہیں جانتے اور دین حق قبول نہیں کرتے ، تم مسلمان ایسوں سے مقابلہ کرو ، یہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھوں سے جزیہ دیں اور ذلیل ہو کر رہیں (ف 2) ۔

جزیہ : (ف 2) یہود بنی قریظہ وبنی نضیر باوجود اس کے کہ مسلمانوں سے پرامن رہنے کا وعدہ کرچکے تھے ، پھر بھی شرارت اور انگیخت سے باز وآئے ، اس آیت میں ان سے مقاتلہ و جہاد کی اجازت دی گئی ہے یعنی ان کی شرارتیں چونکہ حد سے زیادہ بڑھ گئی ہیں اور یہ اپنے عہد پر قائم نہیں رہے ، اس لئے ان سے جہاد کرو ، جب تک کہ جزیہ نہ دیں ، جزیہ ایک رقم ہے جو مصالحین سے لی جاتی ہے ، شرعا تعین نہیں کہ کس قدر ہو ، اس ٹیکس کے مقصد دو ہیں ، ایک تو یہ کہ ان کی ذلت وتحقیر کا احساس ہو ، اور پھر کبھی مسلمانوں کے خلاف آمادہ جنگ نہ ہوں ، دوسرے کہ یہ ان سے حفظ امن کے لئے بطور معاوضہ کے یہ رقم لی جائے اور انہیں فوجی خدمات سے مستثنے کردیا جائے ، حل لغات : نجس : بفتح الجیم ، عقیدے کا ناپاک ، صاغرون : ذلیل ، جھوٹے ۔
Ayah 9:30

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ عُزَیْرُ اِ۟بْنُ اللّٰهِ وَ قَالَتِ النَّصٰرَى الْمَسِیْحُ ابْنُ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ قَوْلُهُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ١ۚ یُضَاهِئُوْنَ قَوْلَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١٘ۚ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 9:30 in the Quran reader

اور یہود نے کہا ، کہ عزیز (علیہ السلام) خدا کا بیٹا ہے ‘ اور نصاری نے کہا ، کہ مسیح خدا کا بیٹا ہے ، یہ ان کے منہ کی باتیں ہیں اگلے کافروں کی بات کی ریس کرتے ہیں ، انہیں خدا کی مار کہاں الٹے جانے ہیں (ف 1) ۔

(ف 1) یہود مدینہ کا عقیدہ تھا کہ حضرت عزیر (علیہ السلام) خدا کے بیٹے ہیں ، موجودہ یہودی اس بات کے قائل نہیں ، نصرانی اب تک مسیح (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں ۔ قرآن حکیم کا ارشاد ہے کہ یہ بت پرستانہ عقیدہ اللہ کے دین پر افتراء ہے عیسائیوں نے اسے کفار کی تقلید میں گھڑ لیا ہے ۔
Ayah 9:31

اِتَّخَذُوْۤا اَحْبَارَهُمْ وَ رُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ١ۚ وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوْۤا اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ سُبْحٰنَهٗ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 9:31 in the Quran reader

خدا کے سوا اپنے عالموں ‘ اور درویشوں ‘ اور مسیح بن مریم کو خدا بنایا (ف 2) ۔ حالانکہ ان کو یہی حکم ہوا تھا ، کہ ایک خدا کی عبادت کریں ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے ، ان کے شرک سے وہ پاک ہے ،

(ف 2) احبارو رہبان کو خدا ماننے کے معنی یہ ہیں ، کہ وہ علماء ومشائخ کی باتوں کو اندھا دھند بلا تحقیق کے مان لیتے تھے ، اور وہ اپنا الو سیدھا کرنے کے لئے انہیں ہمیشہ گمراہی میں مبتلا رکھتے اور ہمیشہ الٹی سیدھی باتوں کی تلقین کرتے رہتے ، حالانکہ اللہ نے توحید کی تعلیم دی ہے ، جو روشنی اور تنویر کی تعلیم ہے جس میں انسانیت کا اعزاز ہے ، غرض یہ ہے کہ اندھی عقیدت ناجائز ہے ۔
Ayah 9:32

یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ یَاْبَى اللّٰهُ اِلَّاۤ اَنْ یُّتِمَّ نُوْرَهٗ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 9:32 in the Quran reader

وہ چاہتے ہیں ، کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ (کی پھونکوں) سے بجھا دیں (ف 3) ۔ اور اللہ یہ چاہتا ہے ، کہ اپنے نور کو پورا کرے ، اگرچہ کافر ناخوش ہوں ۔

(ف 3) یعنی کفار چراغ ہدایت کو بجھانے کی فکر میں ہیں ، اور یہ نہیں جانتے کہ اللہ کا فیصلہ کیا ہے ، اللہ چاہتا ہے کہ اس روشنی کو دنیا کے کناروں تک پہنچائے ، وہ پوری کوشش کر دیکھیں ، یہ مصباح منیر روشن ہی رہے گا ۔ حل لغات : احبار : جمع حبر ، بمعنی دانشمندان وعلماء یہود یعنی عابد وزاہد قوم نصارے وترسایان ۔
Ayah 9:33

هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ١ۙ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ Open ayah 9:33 in the Quran reader

اسی نے اپنا رسول ہدایت ودین حق دے کر بھیجا ہے ، تاکہ وہ اس دین حق کو تمام دنیا کے دینوں پر غالب کرے ، اگرچہ مشرک برا مانیں (ف 1) ۔

دین غالب : (ف 1) اسلام کی فطرت میں ایسی خصوصیات موجود ہیں ، جن کی وجہ سے یہ کائنات انسانی کا مشترکہ مذہب قرار دیا جاسکتا ہے ، اس میں توحید ہے ، مساوات ہے ، تمام انسانوں کا احرام ہے ، مکان وزمان کی حدود سے وراء ہے تعصبات سے پاک ہے مختصر ہے ، واضح ہے عمل ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ بادلیل ہے ۔ اس لئے عالمگیر غلبہ وسطوت کے لئے جن محاسن کی ضرورت ہے ، وہ اس میں موجود ہیں ، دنیا کا علم پڑھنے دو تم دیکھو گے کہ اسلام اور عقل تجربہ دونوں ایک ہیں اور ان میں کوئی منافات نہیں ۔
Ayahs 9:34–35

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَ الرُّهْبَانِ لَیَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَ الْفِضَّةَ وَ لَا یُنْفِقُوْنَهَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ Open ayah 9:34 in the Quran reader

مومنو ! اہل کتاب کے اکثر علماء اور درویش لوگوں کے مال ناحق کھاتے ، اور لوگوں کو اس کی راہ سے روکتے ہیں ، اور جو لوگ سونا چاندی جمع کرتے ، اور اللہ کی راہ میں اسے خرچ نہیں کرتے ، تو انہیں دکھ دینے والے عذاب کی بشارت سننا (ف 2) ۔

یَّوْمَ یُحْمٰى عَلَیْهَا فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوٰى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَ جُنُوْبُهُمْ وَ ظُهُوْرُهُمْ١ؕ هٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ فَذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُوْنَ Open ayah 9:35 in the Quran reader

جس دن وہ خزانہ دوزخ کی آگ میں دھکایا جائیگا پھر ان کی پیشانی اور کروٹوں اور کمروں میں اس سے دماغ دیئے جائیں گے ، اور کہا جائیگا ، کہ یہ تمہارا خزانہ ہے ، جو تم نے اپنی جانوں کیلئے جمع کیا تھا پس اپنے خزانہ کا مزہ چکھو ۔

(ف 2) مقصد یہ ہے کہ یہ لوگ (یعنی یہودی) صرف شرک وبت پرستی میں مبتلا نہیں ، ان میں اخلاقی برائیاں بھی موجود ہیں ۔ علماء ومشائخ جو صحیح معنوں میں قومی اخلاق و عادات کے آئینہ دار ہوتے ہیں ، ان کی یہ حالت ہے کہ اکل حلال کی توفیق سے محروم ہیں مشخیت وعلم کو ذریعہ معاش بنا لیا ہے طرح طرح سے لوگوں کو ٹھگتے ہیں ، اور ہر دینی اصلاح کی مخالفت کرتے ہیں ، تاکہ لوگ ان کے دام تزویر میں بدستور پھلے رہیں ، عوام میں حرص وآز کے جذبات زیادہ ہیں ، ان کی زندگی محض روپیہ اکٹھا کرنا ہے ، مذہب وایثار سے کوئی واسطہ ہی نہیں ، دن رات دولت کی دھن میں لگے ہوئے ہیں ، ان کے لئے آخرت میں یہ عذاب ہے ، کہ سونے چاندی کے یہی سکے جو خدا جانے انہوں نے کن کن سے جمع کئے ہیں ، گرم کر کر کے ان کے ہاتھوں پر لگائے جائیں گے ، اور انہیں سے ان کی پیٹھیں داغی جائیں گی ، اسلام روپیہ اکٹھا کرنے کو ناجائز قرار نہیں دیتا ، البتہ وہ مال جسے غلط اور ناجائز ذرائع سے جمع کیا جائے اور وہ مال ، جس میں سے اللہ کی راہ میں کچھ نہ دیا جائے ، ضرور منحوس ہے ۔ حل لغات : بالباطل : بمعنی ناحق ، ناچیز ، الذھب : سونا ۔ الفضۃ : چاندی ۔ جباھہم : جمع حبہ بمعنی پیشانیاں ۔
Ayah 9:36

اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ مِنْهَاۤ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ١ۙ۬ فَلَا تَظْلِمُوْا فِیْهِنَّ اَنْفُسَكُمْ وَ قَاتِلُوا الْمُشْرِكِیْنَ كَآفَّةً كَمَا یُقَاتِلُوْنَكُمْ كَآفَّةً١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:36 in the Quran reader

خدا کے نزدیک مہینوں کا شمار خدا کی کتاب میں جس دن اس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا ، بارہ مہینے ہیں ، ان میں چار مہینے ادب کے ہیں ، یہی سیدھا دین ہے ، پس ان میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو ، اور مشرکوں سے سب اکٹھے ہو کر لڑو ، جیسے وہ سب تم سے اکٹھے ہو کر لڑتے ہیں (ف 1) ۔ اور جانو ، کہ اللہ متقیوں کے ساتھ ہے ۔

(ف 1) مقصد یہ ہے کہ مسلمان اشہر حرم میں جدال و قتال کو درست نہیں سمجھتا ، البتہ اگر اسے مجبور کردیا جائے ، تو پھر وہ دریغ نہ کرے ۔ اپنی تمام قوتوں کو کفر کے مقابلہ کے لئے جمع کرے ۔
Ayahs 9:37–38

اِنَّمَا النَّسِیْٓءُ زِیَادَةٌ فِی الْكُفْرِ یُضَلُّ بِهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُحِلُّوْنَهٗ عَامًا وَّ یُحَرِّمُوْنَهٗ عَامًا لِّیُوَاطِئُوْا عِدَّةَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ فَیُحِلُّوْا مَا حَرَّمَ اللّٰهُ١ؕ زُیِّنَ لَهُمْ سُوْٓءُ اَعْمَالِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ۠ Open ayah 9:37 in the Quran reader

مہینہ آگے پیچھے کرلینا (عہد) کفر کی زیادتی ہے کافر اس سے گمراہی میں پڑتے ہیں ، ایک سال اسے حلال سمجھتے اور دوسرے سال اسی حرام ٹھہراتے ہیں ، تاکہ اللہ کے حرام مہینوں کی شمار پوری کریں ‘ اور خدا کے حرام کئے ہوئے کہ حلال کریں ‘ ان کے برے اعمال ان کے لئے آراستہ کئے گئے ہیں ‘ اور اللہ کافر لوگوں کو ہدایت نہیں کرتا (ف 1) ۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَا لَكُمْ اِذَا قِیْلَ لَكُمُ انْفِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اثَّاقَلْتُمْ اِلَى الْاَرْضِ١ؕ اَرَضِیْتُمْ بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا مِنَ الْاٰخِرَةِ١ۚ فَمَا مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا قَلِیْلٌ Open ayah 9:38 in the Quran reader

مومنو ! تمہیں کیا ہوا ، جب تمہیں کہا جاتا ہے ، کہ اللہ کی راہ میں باہر نکلو ، تو تم زمین کی طرف گرے پڑتے ہو ، کیا تم آخرت کو چھوڑ کر حیات دنیا پر راضی ہوئے ہو ؟ سو حیات دنیا کی پونجی آخرت کے مقابلہ میں حقیر ہے ۔

(ف 1) عربوں میں عام قاعدہ یہ تھا کہ حرمت کے چار مہینوں میں جدال و قتال سے باز رہتے ، اور ان مہینوں میں جنگ کو ناجائز خیال کرتے ۔ مگر جب ان کی ذاتی مصلحتیں جنگ کی آگ بھڑکا دیتیں ، اور انہیں اس آگ میں کو دناپڑتا ، تو پھر اشہر حرم کا لحاظ نہ کرتے ، اور کہتے اس وقت تو لڑو ، بعد میں چار مہینے نہ لڑیں گے ، اللہ کا منشاء اس سے پورا ہوجائے گا ۔ قرآن کہتا ہے ، یہ کفر ومعصیت ہے ، چار مہینوں کی حد بندی کا مقصد تو یہ تھا کہ تم صلح وامن کی برکات سے آگاہ ہوجاؤ اور جب کہ تم برابر ایک دوسرے کے دشمن ہو ، اس حد بندی کا کیا فائدہ ؟ اس نوع کی حیلہ جوئی ، جس سے اللہ کے قانون کی مخالفت لازم آئے ، ناجائز ہے ۔ حل لغات : النسیٓء : موخر کرلینا ، فعیل ہے مفعول کے معنوں میں ہے ، نسات الشیء کے معنی ہوتے ہیں ، اخرتہ : کے یعنی میں نے اسے مؤخر کردیا ہے ۔
Ayah 9:39

اِلَّا تَنْفِرُوْا یُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا١ۙ۬ وَّ یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ وَ لَا تَضُرُّوْهُ شَیْئًا١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 9:39 in the Quran reader

اگر نہ نکلو گے خدا تمہیں دکھ کا عذاب کرے گا ، اور تمہارے سوا اور لوگ بدل لائے گا ، اور تم اس کا کچھ بگاڑ نہ سکو گے ، اور اللہ ہر شئے پر قادر ہے (ف 1) ۔

تخلف گناہ ہے ! : (ف 1) غزوہ تبوک میں کچھ لوگ پیچھے رہ گئے تھے ، ان آیات میں ان کو مخاطب فرمایا ہے ، کہ جب جہاد کا نون عام ہوجائے تمہیں تخلف کی اجازت نہیں ، انداز بیان میں بہت زور ہے ، یوں سمجھ لیجئے ، خطبہ حرب ہے ، ہر شخص کو پکار کر کہا ہے کہ جہاد سے پیچھے نہ رہو ، جب اللہ تمہیں دعوت ایثار دیتا ہے ، تو تخلف کیسا ، کیا دنیا کی حقیر زندگی پر قانع ہوگئے ؟ کیا آخرت میں شہداء کے درجات سے آگاہ نہیں ؟ اس کے بعد یہ بتایا ہے کہ اللہ کی نصرت تمہاری زہین منت نہیں ، تمہیں معلوم ہے کہ جب رسول یکہ و تنہا مکہ سے نکل کھڑے ہوئے تھے ، اور تاریک غار کو انہوں نے اپنا مسکن بنایا تھا ، اس وقت ہم نے ان کی مدد کی ، اور کفار کی نظروں سے انہیں بچائے رکھا ۔ مقصد یہ ہے کہ اب بھی وہ رسول کی نصرت پر قادر ہے (آیت) ” ثانی اثنین “ سے مراد حضرت صدیق ہیں ۔ جو ہجرت میں آپ کے رفیق سفر تھے ، غار میں حضرت صدیق ؓ عشق نبوی کی وجہ سے گھبرا رہے تھے کہ کہیں حضور ﷺ کفار کی گرفت میں نہ آجائیں ، اسی لئے حضور ﷺ نے جوابا کہا (آیت) ” ان اللہ معنا “ یعنی اللہ کی نصرتیں ہمارے شامل حال ہیں ، تم بےفکر رہو ۔ بعض کوتاہ اندیشوں نے یہ سمجھا کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو اپنی گرفتاری کا ڈر تھا ، کمبخت یہ نہیں سوچتے کہ جس نے عمر ؓ پھر حضور ﷺ کی رفاقت کی ، جو سب کچھ چھوڑ کر گھر سے نکلا ہے اسے اپنی نسبت کیا خوف ہو سکتا ہے اگر صدیق کی گھبراہٹ اپنی وجہ سے ہوتی تو کہا جاتا ، ان اللہ معک ، کہ گھبراؤ نہیں ، تمہارا خدا تمہارے ساتھ ہے ، کہا یہ گیا ہے کہ اللہ ہمارے ساتھ ہے یعنی تجھ کو بنائے محبت میری گرفتار کا ڈر ہے اس کو دل سے نکال دے ،
Ayah 9:40

اِلَّا تَنْصُرُوْهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللّٰهُ اِذْ اَخْرَجَهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ هُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا١ۚ فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلَیْهِ وَ اَیَّدَهٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَ جَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِیْنَ كَفَرُوا السُّفْلٰى١ؕ وَ كَلِمَةُ اللّٰهِ هِیَ الْعُلْیَا١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:40 in the Quran reader

اگر تم محمد ﷺ کی مدد نہ کرو گے (توخیر) خدا نے اس کی اس وقت مدد کی تھی جب کافروں نے اسے مکہ سے اس حال میں نکالا ، کہ وہ وہ ہیں دوسرے تھے ، جب وہ دونوں (ابوبکر ؓ و محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غار ثور میں تھے جب (دونوں میں کا ایک) اپنے ساتھی سے کہنے لگا تھا ، مت ڈر ، اللہ ہمارے ساتھ ہے پس اللہ نے اپنی طرف سے اس پر تسلی نازل کی ‘ اور فوجوں سے جنہیں تم نے نہیں دیکھا اس کی مدد کی ‘ اور کافروں کی بات نیچی رکھی ، اور خدا کی بات وہی بلند ہے ، اور اللہ غالب حکمت والا ہے (ف 1) ۔

خدا کی بات : (ف 1) غار ثور میں جب آفتاب نبوت جا کر چھپا ہے تو کرنیں پھوٹ پھوٹ کر باہر نکل رہی تھیں ، دہانہ غار پر کفار موجود تھے ، ان کے پاؤں کی چھاپ صاف سنائی دیتی تھی ، اسی لئے حضرت ابوبکرصدیق ؓ گھبرائے مگر ان کی بصارت گم تھی ، خدا یہ چاہتا تھا کہ اس کی تدبیر کارگر ہو ، اس کی بات بلند ہو ، اور یہ خائب و خاسر رہیں ، چناچہ یہ لوگ ناکام واپس ہوئے حضور ﷺ ہجرت میں کامیاب ہوئے غار ثور سے جب یہ آفتاب وماہتاب نکلے ہیں تو مدینہ چمک اٹھا ، اللہ کا جلال چاروں طرف پھیلا ، چند ہی دنوں میں مکہ والوں کو معلوم ہوگیا کہ انہوں نے سخت غلطی کی ہے ، اور وہ تمام برکات سے محروم ہوگئے ہیں ۔