Ayah 9:11 ۔ قرآن مجید کی 114 سورتوں میں سے صرف یہی ہے، جس کے شروع میں بسم اللہ درج نہیں۔ حضرت عثمان ؓ کے وقت جب قرآن اپنی بالکل آخری شکل میں مرتب ہونے لگا تو اس سورت میں صحابہ میں اختلاف پیدا ہوا کہ آیا یہ مستقل سورت ہے یا سورة انفال کا جزء۔ دوسری سورتوں کی طرح اس سورت میں بسم اللہ کی تصریح رسول اللہ ﷺ سے پائی نہ گئی۔ حضرت عثمان ؓ نے یہ فیصلہ کرکے دونوں احتمالات کی رعایت کرلی کہ اسے لکھا تو جائے بہ حیثیت مستقل سورت کے البتہ اس کے اور اس کے ماقبل کے درمیان فصل بہ صورت بسم اللہ نہ چھوڑا جائے۔ فقیہ ابن العربی مالکی نے لکھا ہے کہ صحابہ کرام کا یہ فیصلہ خود اس کی دلیل ہے کہ نص عدم موجودگی میں قیاس شرعی ایک مستقل حجت ہے۔ چناچہ انہوں نے سورة برآء ۃ کے مضمون کو سورة انفال سے مشابہ پاکر ایک کو دوسرے سے ملحق کردیا، اور جب خود تدوین قرآن میں قیاس شرعی سے کام لیا گیا تو دوسرے مسائل کا ذکرہی کیا۔ ھذا دلیل علی ان القیاس اصل فی الدین الاتری الی عثمان واعیان الصحابۃ کیف لجؤا الی قیاس الشبہ عند عدم النص ورأوا ان قصۃ براءۃ شبیھۃ بقصۃ الانفال فالحقوھا بھافاذا کان اللہ تعالیٰ قد بین دخول القیاس فی تالیف القران فما ظنک بسائر الاحکام (قرطبی) ” اور یہ جو حضرت علی ؓ سے منقول ہے کہ بسم اللہ امان ہے اور یہ سورة رفع امان کے لئے آئی ہے، سو یہ علت نہیں، بہ طور نکتہ کے ایک حکمت ہے “۔ (تھانوی) بعض روایتوں میں یہ بھی آیا ہے کہ اہل عرب جب اپنے معاہدوں کو منسوخ کرتے تھے تو اس منسوخی کی تحریروں پر بسم اللہ نہیں لکھتے تھے، سورة براءۃ میں چونکہ معاہدہ کی منسوخی ہی کا اعلان ہے اس لیے اس میں بھی مذاق عرب کی رعایت رکھی گئی اور حضرت علی ؓ نے جب اسے پڑھ کر سنایا تو شروع میں بسم اللہ نہ پڑھی۔ قیل کان من شان العرب فی زمانھا فی الجاھلیۃ اذا کان بینھم وبین قوم عھد فارادوا نقضہ کتبوا الیھم کتبا ولم یکتبوا فی بسملۃ فلما نزلت سورة براءۃ بنقض العھد الذی کان بین النبی ﷺ والمشرکین بعث بھا النبی ﷺ علیا فقراھا علیھم فی الموسم ولم یبسمل فی ذلک علی ما جرت بہ عادتھم فی نقض العھد میں ترک البسملۃ (قرطبی)
2 ۔ (بلاتعیین مدت) مسلمانوں نے مشرک قبائل عہد سے معاہدے کر رکھے تھے۔ بعض سے میعادمعین کیلئے بعض سے غیرمیعادی۔ یہاں انہی آخرالذکرمعاہدوں کی منسوخی کا اعلان ہو رہا ہے۔ براءۃ کے معنی ترک موالات ورفع امان کے ہیں۔ البراء ۃ ھی قطع الموالاۃ وارتفاع العصمۃ وزوال الامن (جصاص) معنی البراء ۃ انقطاع العصمۃ (کبیر) مشرکین عرب کی مسلسل عہد شکنیوں کے بعد اب انہیں نوٹس دیا جارہا ہے کہ اتنی مدت کے بعد تم سے سارے معاہدہ ختم، بس اب تلوار ہی تمہارا فیصلہ کرے گی، براءۃ کی تنوین تفخیم کے لئے ہے۔ یعنی کامل انقطاع، مکمل دستبرداری۔ التنوین للتفخیم (روح) (آیت) ” الی الذین عھدتھم “۔ صیغۂ جمع۔ حالانکہ معاہدہ کرنے والے صرف رسول اللہ ﷺ تھے۔ اس لئے ارشاد ہوا ہے کہ بہ حیثیت آمروحاکم آپ ﷺ کا فعل حکما ساری امت کا فعل تھا۔ ولم یعاھدھم الاالنبی ﷺ وحدہ ولکنہ کان الامر والحاکم وکل ما امر بہ اواحکمہ فھو لازم للامۃ منسوب الیھم محسوب علیھم (ابن العربی) یعنی الی الذین عاھدھم رسول اللہ ﷺ لانہ کان المتولی للعھود و اصحابہ کلھم بذلک راضون وکانھم عاقدوا واعاھدوا فنسب العقد الیھم (قرطبی)
Ayah 9:23 ۔ (کہ اس کے قبضہ سے نکل جاؤ یا اس کی مشیت پر غالب آجاؤ) یہاں پر بتا دیا کہ یہ مہلت تمہاری مصلحت اور تم پر شفقت کے خیال سے ہے یہ نہیں کہ اس میں قادر مطلق کے عجز کو کوئی دخل ہو۔ (آیت) ” فسیحوا فی الارض اربعۃ اشھر “۔ یعنی اس چار مہینہ کی مہلت کے اندر یا تو اسلامی برادری میں شامل ہوجاؤ یا اس جغرافی مرکز توحید ایمان کو اپنے وجود سے خالی کردو۔ عین عتاب کے موقع پر اسلام اپنے معاندین کی راہ میں کتنی سہولت پیدا کررہا ہے۔ انہیں مہلت پورے 4 مہینہ کی دے رہا ہے۔ یہ چار مہینہ کون سے تھے ؟ اس کے جوابات مختلف دیئے گئے ہیں۔ عام چار محترم مہینہ تو ظاہر ہے کہ رجب، ذیقعدہ، ذی الحجۃ، اور محرم ہیں۔ لیکن بعض علماء سے شوال تامحرم منقول ہیں، اس بنا پر کہ آیت کا زمانہ نزول زمانہ شوال ہے۔ وھی شوال وذوالقعدہ وذوالحجۃ والمحرم عند الزھری لان الایۃ نزلت فی الشھر الاول (روح) (آیت) ” فسیحوا “۔ لفظ کے معنی سیروسیاحت کرنیکے ہیں۔ اب خطاب براہ راست کافروں سے شروع ہوگیا، قل محذوف ہے۔ اے سیرواھی السیاحۃ (ابن العربی) رجع عن الخبر الی الخطاب اے قل لھم سیحوا (قرطبی)
4 ۔ یعنی یہ احمق معاندین اللہ کے مقابلہ کی قوت تو کہاں سے لائیں گے اللہ ہی الٹا انہیں رسوا کرکے رہے گا، اس رسوائی کا ظہور حشر میں تو بہرحال کامل اور یقینی طور پر ہو ہی گا، باقی نزول آیت کے بعد دنیا میں بھی اچھی طرح ہو کر رہتا ہے۔ قال ابن عباس بالقتل فی الدنیا والعذاب فی الاخرۃ (کبیر) آیت میں مسلمانوں کو اطمینان بھی دلا دیا گیا ہے کہ وہ کافروں پر غالب آکر رہیں گے۔ قال الزجاج ھذا ضمان من اللہ عزوجل لنصرۃ المومنین علی الکافرین (کبیر)
Ayah 9:35 ۔ یعنی انہیں امن دینے سے بری الذمہ اور دوست بردار ہیں۔ (آیت) ” الی الناس “۔ یعنی عام خلقت کے سامنے جس میں کافر، مومن، معاہد، غیر معاہد سب آگئے۔ الناس ھھنا جمیع الخلق (قرطبی) (آیت) ” من المشرکین “۔ مشرکین سے سیاق آیت میں مراد وہی مشرکین ہیں جو نقض عہد کے مرتکب ہوچکے ہیں۔ (آیت) ’ یوم الحج الاکبر “۔ حج اکبر حج ہی کو کہتے ہیں۔ کوئی مخصوص قسم کا حج مراد نہیں، اکبر کا لفظ صرف حج اصغر یا عمرہ سے تقابل و امتیاز کے لیے ہے۔ ھذا ھو الحج الاکبر لان العمرۃ تسمی الحج الاصغر (کبیر) قال مجاھد الحج الاکبر القران والحج الاصغر العمرۃ (ابن العربی) قال القاضی اذا نظرنا فی ھذا الاقوال فالمنقح منھا ان الحج الاکبر الحج کما قال مجاھد (ابن العربی) اور امام ابوحنیفہ (رح) اور امام شافعی (رح) دونوں اسی کے قائل ہوئے ہیں۔ یہاں مراد 9 ہجری کا یوم الحج ہے جو یوم الحج کی اصطلاح 9 ذی الحجہ (یوم عرفہ) کے لئے ہے۔ 10 ذی الحجہ کو یوم النحر کہتے ہیں۔ ثبت الحج فی الیوم التاسع من ذی الحجۃ وھو یوم عرفۃ والنحر یوم العاشر منہ (جصاص) قال ابن عباس فی روایۃ عکرمۃ انہ یوم عرفۃ وھو قول عمر و سعید بن المسیب وابن الزبیر وعطاء وطاؤس و مجاھد واحدی الروایتین عن علی (کبیر) قیل یوم عرفۃ روی عن عمر وعثمان وابن عباس وطاؤس و مجاھد وھو مذھب ابی حنیفۃ وبہ قال الشافعی (قرطبی) لیکن دوسری روایتیں یوم النحر یا 10 ذی الحجۃ کی بابت بھی ہیں۔ یہ اعلان حضرت علی ؓ نے تمام قبائل عرب کے روبرو کیا تھا۔ امر الحج اس سال رسول اللہ ﷺ نے اپنے بجائے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو مقرر کیا تھا۔ (آیت) ” اذان من اللہ ورسولہ۔ ان اللہ بری ٓ ء من المشرکین، ورسولہ “۔ معاہدہ کو فسخ کرنے کا اختیا تو امت کو حاصل رہتا ہے لیکن اس خاص موقع کا فسخ کرنا واجب ہوگیا تھا، یہی وجہ ہے کہ یاں اس کا انتساب مسلمانوں کی جانب نہیں بلکہ خود اللہ اور رسول کی جانب کیا جارہا ہے۔
6 ۔ یعنی تمہاری عہد شکنی معاف کردی جائے گی اور دنیوی عقوبت سے بچ جاؤ گے اور نجات اخروی تو توبہ کرنے اور ایمان لے آنے کے بعد ظاہر ہی ہے۔ (آیت) ” فان تبتم “۔ یعنی اگر اپنے عقاید کفر وشرک سے اب بھی تو بہ کرلو، اے عن الشرک (قرطبی)
7 ۔ (کہ اس کے قبضہ قدرت سے کہیں نکل بھاگو) فانہ محیط بکم ومنزل عقابہ علیکم ‘۔ (قرطبی)
8 ۔ اس عذاب سے مراد عذاب آخرت ہے۔
Ayah 9:49 ۔ (اور اپنی طرف سے ذرہ عہد شکنی نہ ہونے د و) (آیت) ’ لم ینقصوکم شیئا “۔ یعنی اپنی طرف سے اس عہد کے نباہنے اور پورا کرنے میں کچھ بھی کمی نہیں کی۔ (آیت) ” ولم یظاھروا علیکم احدا “۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاہد جب مسلمانوں کے مقابلہ میں کافروں کی اعانت کرنے لگے تو وہ ناقص عہد ہوگیا۔ یدل علی ان المعاھد متی عاون علینا عدوالنا فقد نقض عہدہ (جصاص)
10 ۔ (اور اسی تقوی وپرہیزگاری کی ایک فرد ایفاء عہد بھی ہے) ۔
Ayah 9:511 ۔ غرض یہ کہ جنگ میں جو کچھ ہوتا اور کرنا پڑتا ہے اس کی عام اجازت ہے۔ واقعدوا، سے اس کے لفظی معنی مراد نہیں بلکہ مراد یہ ہے کہ غنیم کی فکر میں لگے رہو اور یہی صورت احصروھم کے لیے ہے۔ لیس معناہ حقیقۃ القعود بل المراد ترقبھم وترصدھم (روح) واحصروھم اے امنعوھم عن الخروج اذا تحصنوا منکم بحصن (عن ابن عباس، روح) (آیت) ” المشرکین “۔ عام مشرکین مراد نہیں، بلکہ وہی محارب، عہد شکن مشرکین مراد ہیں جنہوں نے الٹے دشمنوں کی مدد کرکے مسلمانوں سے غداری کی۔ تبین ان المراد بالایۃ اقتلوا المشرکین الذین یحاربونکم (ابن العربی) اے المشرکین الناکثین (بیضاوی) الذین نقضوکم وظاھروا علیکم (مدارک) (آیت) ” حیث وجدتموھم “۔ یعنی خواہ وہ حرم ہی میں ہوں، من حل او حرم (مدارک) عام فی کل موضع وخص ابوحنیفۃ (رح) المسجدالحرام (رح) (قرطبی) (آیت) ” وخذوھم “۔ یہ گرفتاری اسی غرض سے ہوگی کہ یا انہیں قتل کیا جائے یا بہ معاوضہ یا بلامعاوضہ حسب رائے امام چھوڑ دیا جائے۔ الاخذ ھو الاسرو الاسر انما یکون للقتل او الفداء اوالمن علی ما یراہ الامام (قرطبی)
12 ۔ (چنانچہ ایسے ایسے مجرموں کی بھی معافی کا حکم دے دیا اور ان کی جان بچالی) (آیت) ” فان تابوا “ یہ توبہ عقاید کفر وشرک سے ہونی چاہیے۔ اے عن الکفر (مدارک) اے من الشرک (قرطبی) (آیت) ” واقامو الصلوۃ واتوالزکوۃ “۔ بجنسہ یہی دو عمل مراد نہیں “۔ یہ دونوں عمل توبہ طور نمونہ کے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ مسلمانوں کے سے کام کرنے لگیں۔ فقہائے مفسرین نے یہ تصریح بھی کردی ہے کہ قتل سے بچنے کے لئے واقعۃ نماز کا پڑھنا (جو اپنے وقت ہی پر واجب ہوگی) اور زکوٰۃ دینا (جس کی ادائیگی سال بھر گزرے ہی پر ہوگی) ضروری نہیں، ضروری صرف ان اعمال کے وجوب کا اعتقاد ہے۔ لاخلاف انھم لوقبلوا امر اللہ فی فعل الصلوۃ والزکوۃ ولم یکن الوقت وقت صلاۃ انھم مسلمون وان دماءھم محظورۃ فعلمنا ان شرط الزوال القتل عنھم ھو قبول او امر اللہ والا عتراف بلزومھا دون فعل الصلوۃ والزکوۃ (جصاص) اکتفی بذکر ھما لکونھما رئیسی العبادات البدنیۃ والمالیۃ (روح) (آیت) ” فخلوا سبیلھم “۔ چناچہ اب ان کے لئے حکم قید، قتل وغیرہ کانہ رہے گا، فقہاء نے تصریح کردی ہے کہ جزیہ نہ لینا کفار عرب کے ساتھ مخصوص تھا اسی لئے یہ عدم اخذ وحصر اور ” تخلیہ سبیل “ کا حکم انہی کے ساتھ مخصوص ہے، باقی عام کفار ومشرکین کے لئے بعد جہاد غلامی میں آجانے کا مسئلہ اپنی جگہ ثابت ومسلم ہے۔
Ayah 9:613 ۔ (بس انہیں پوری واقفیت حاصل کرنے کا موقع دیا جائے) اس علیت نے یہ صاف کردیا کہ مدار حکم مخاطب کی اس بیخبر ی پر ہے باقی جہاں اسلام کا پیام عام ہوچکا ہو اور بیخبر ی ولاعلمی کا کوئی قرینہ نہ ہو، وہاں یہ وجوب بھی باقی نہ رہے گا۔ (آیت) ” من المشرکین “۔ یعنی انہی واجب القتل مشرکین میں سے، اے من الذین امرتک بقتالھم (قرطبی) حتی کو یہاں بجائے ” یہاں تک “ کے ” تاکہ “ کے معنی میں لینا اور ترعلیلیہ قرار دینا بہتر ہوگا۔ حتی للتعلیل (روح) یصح ان تکون للتعلیل (بحر) یسمع “۔ سماع سے یہاں مراد محض سماع آواز نہیں بلکہ فہم و تدبر کے ساتھ سوچنا سمجھنا مراد ہے۔ وقدیر ا د بالسماع الفھم (بحر) ویتدبرہ (مدارک) لیس یرید مجرد الاصغاء فیحصل العلم لہ بظاھر القول وانما اراد بہ فھم المقصود من دلالتہ علی النبوۃ (ابن العربی) اے بفھم احکامہ واوامرہ ونواھیہ (قرطبی) (آیت) ” کلم اللہ “۔ علاوہ قرآن مجید کے تمام دلائل دین حق کے اسی حکم میں آجاتے ہیں۔ کان علینا اقامۃ الحجۃ وبیان توحید اللہ وصحۃ نبوۃ النبی ﷺ (جصاص) ویطلح علی حقیقۃ الامر (مدارک) ویطلع علی حقیقۃ الامر (مدارک) (آیت) ” ثم ابلغہ مامنہ “۔ فقہاء مفسرین نے اس سے یہ نکالا ہے کہ حربی امن گزین کو چھیڑا ستایا نہ جائے۔ بلکہ اس کی حفاظت اپنے ذمہ لے لی جائے۔ فیہ دلیل علی ان المستامن لایوذی (مدارک) یدل علی ان علی ان علی الامام حفظ ھذا الحربی المستجیر وحیاطتہ ومنع الناس من تناولہ بشر (جصاص) ذمیوں کی حفاظت کی ذمہ داری بھی اسی آیت سے نکالی گئی ہے۔ وفی ھذادلیل ایضا علی ان علی الامام حفظ اھل الذمۃ والمنع من اذیتھم والتخطی الی ظلمھم (جصاص) یہیں سے فقہاء نے یہ بھی نکالا ہے کہ کافر حربی کا دار الاسلام میں زیادہ عرصہ تک ٹھیرنا ٹھیک نہیں۔ اسے چاہیے کہ بس ضرورت بھر قیام کرے اور چلا جائے، وفیہ الدلالۃ علی انہ لایجوز اقرار الحربی فی دار السلام مدۃ طویلۃ وانہ لایترک فیھا الابمقدار قضاء حاجتہ (جصاص) یہ حکم بھی فقہاء نے یہیں سے نکالا ہے کہ جو دین کے مسائل ہم سے دریافت کرنا چاہے تو ہم پر اس کا بتانا واجب ہے۔ فیہ الدلالۃ ایضا علی ان علینا تعلیم کل من التمس منا تعریفہ شیئا من امور الدین (جصاص)
Ayah 9:714 ۔ (اور ان سے امید ہے کہ وہ عہد کو قائم رکھیں گے) (آیت) ” المشرکین “۔ سے مراد یہاں بھی وہی عہد شکن مشرکین ہیں جن کا ذکر اوپر سے چلا آرہا ہے۔ المراد من المشرکین الناکثون (روح) (آیت) ” کیف “۔ یہاں استفہام کے معنی میں نہیں، استنکار کے معنی میں اور اظہار عجب کے لئے ہے۔ استفھام یعنی الانکار والاستبعاد (کشاف۔ بیضاوی) کیف ھنا للتعجب کما تقول کیف یسبقنی فلان اے لاینبغی ان یسبقنی (قرطبی)
15 ۔ (اور تقوی ہی کی ایک اعلی فرد یہ ہے کہ ہر ترغیب اور موقع کے باوجود انسان اپنے عہد پر قائم رہے) (آیت) ” فما استقاموا لکم “۔ یعنی تمہارے مقابلہ میں اپنا عہد نہ توڑیں۔ ولم یظھر منھم نکث۔ اے فما اقاموا علی وفاء العھد (مدارک) (آیت) ” فاستقیموا لھم “۔ یعنی اپنی طرف سے ان کی مدت عہد پوری کرو۔
Ayah 9:816 ۔ اور فسق و بدعملی کی ایک فرد عہد شکنی ہے) گویا ان مشرک جاہلیوں کی ذہینت بھی آج کل کی مہذب فرنگی قوموں کی سی تھی کہ آپس میں معاہدوں میں لحاظ صرف وقتی مصلحت جوئی کا رہے۔ الا۔ ال، کے معنی قرابت و عزیز داری کے ہیں۔ الال علی ماروی عن ابن عباس الرحم والقرابۃ والی ذلک ذھب الضحاک (روح) (آیت) ” فسقون “۔ فاسق تو ہر کافر ہوتا ہے۔ یہاں مقصود ان کی بد اعمالی خصوصا عہد شکنی کو نمایاں کرنا ہے۔ اے ناقضون العھد وکل کافر فاسق ولکنہ ارادھھنا المجاھرین بالقبائح ونقض العھد (قرطبی)
Ayah 9:917 ۔ یعنی انہوں نے احکام الہی کی لازوال دولت کے بجائے حاصل کیا تو کیا، اس دنیائے فانی کی تھوڑی سی متاع ناپایدار ! یہاں ان کی بدعہدی کی اصلی لم بتادی کہ آخرت کا اعتقاد تو ان کو ہے نہیں، اور آخرت کی کوئی ذمہ داری یہ اپنے دل میں نہیں پاتے۔
Ayah 9:1018 ۔ (اور اس لیے ہرگز قابل اعتماد نہیں) (آیت) ’ لایرقبون “۔۔۔ الخ کی تکرار تاکید کے لئے ہے۔ مؤاخذہ اخروی اور دینی ذمہ داری سے اتر کر ایک چیز شرافت بھی ہے جس کے جر ہر بلاقید ملت ہر قوم میں پائے جاتے ہیں، اور اس کا تقاضہ ہے کہ انسان قرابت اور اپنے قول وقرار کا پاس بہرحال کرتا ہے۔ یہ ننگ انسانیت معاندین اسلام اس جو ہر سے بھی محروم تھے یہ بھی کہا گیا ہے کہ سرے سے تکرار ہی نہیں۔ اس لیے کہ پہلی بار اس کا ذکر سارے مشرکوں کے سلسلہ میں آیا ہے۔ اور دوبارہ یہود کے سلسلہ میں، قال النحاس لیس ھذا تکریرا ولکن الاول لجمیع المشرکین والثانی للیھود خاصۃ (قرطبی)
Ayah 9:1119 ۔ یعنی اگر یہ لوگ عقاید کفر وشرک سے اپنی، تبری، کا اظہار کردیں، اور مسلمانوں کے سے کام کرنے لگیں تو اعتبار ان کے ظاہر کا کرلیا جائے اور دل میں ان کے جو کچھ بھی ہو، بہرحال یہ اسلامی برادری کے جزء سمجھے جائیں گے اور معاملہ ان کے ساتھ مسلمانوں ہی کا سا کیا جائے گا۔ اور اب ان کے پچھلے جرائم عہد شکنی وغیرہ پر نظر نہیں کی جائے گی۔ یدل علی من اظھرلنا الایمان واقام الصلوۃ واتی الزکوۃ فعلینا موالاتہ فی الدین علی ظاھر امرہ مع وجودان یکون اعتقادہ فی المغیب علی خلافہ (جصاص) (آیت) ” فان تابوا “۔ یعنی اپنے کفر سے توبہ کریں اور احکام اسلام پر قائم ہوجائیں۔ اے عن الکفر (مدارک) عماھم علیہ من الکفر وسائر العظائم کنقض العھد وغیرہ (روح) اے عن الشرک والتزموا احکام الاسلام (قرطبی) (آیت) ” اقامو الصلوۃ واتوا الزکوۃ “۔ یعنی اعمال ظاہری مسلمانوں کے سے بجالائے یا ان کی فرضیت کا اقرار کرے۔ (آیت) ” فاخوانکم فی الدین “۔ اس سے ظاہر ہوگیا کہ اسلامی برادری میں شمول کے لئے اور امت کا ایک رکن بن جانے کے لئے صرف اس قدر کافی ہے۔ اس سے زاید کے مطالبات کو جزء لازمی سمجھنا محض تعمق وتشدد ہے۔ فی الدین نے اسے بھی صاف کردیا کہ یہ اخوت وہم سطحی دین کے لحاظ سے ہوگی، اور فقہاء نے جو بحث کفو کی کی ہے۔ اس کا تعلق ترنسب سے ہے نہ کہ دینی اخوت سے۔ ا ی لا فی النسب (مدارک)
20 ۔ (کہ وہ سوچیں سمجھیں، غور و تدبر سے کام لیں) اے یفھمون فیتفکرون فیہ (مدارک)
Ayah 9:1221 ۔ (اپنے عقاید کفریہ سے) (آیت) ” وان نکثوا ایمانھم من بعد عھدھم “۔ یعنی یہ عہد شکنی کرکے کے بجائے ایمان لانے کے کفر پر قائم رہیں۔ (آیت) ” وطعنوا فی دینکم “۔ یہ علامت مزید ان کے کفر وعناد کی ملی۔ طعن کے لغوی معنی نیزہ مارنے کے ہیں۔ طعن، کا اطلاق سنجیدہ، علمی، عقلی اختلاف رائے و عقیدہ پر نہیں ہوتا۔ طعن کہتے ہی ایسی بات کو ہیں جو دل کو چھید دے زخمی کردے، طعن فی الدین سے مقصود تحقیق کسی درجہ میں بھی نہیں ہوتی، بلکہ دین کی توہین اور اہل دین کی دلآزاری۔ ایسی زبان درازی اس ” روشن خیال “ بیسویں صدی میں بھی ہر قانون میں جرم ہے۔ ذمی جس وقت دین اسلام پر زبان طعن دراز کرتا ہے، معاہدہ امن سے نکل جاتا ہے، اور اس کا قتل جائز ہوجاتا ہے۔ اذا طعن الذمی فی دین الاسلام طعنا ظاھرا جاز قتلہ، لان العھد معقود معہ علی ان لا یطعن فاذا طعن فقد نکث عہدہ وخرج من الذمہ (مدارک) (آیت) ” قاتلوا ائمۃ الکفر “۔ یہ سرداروں کے قتل کا حکم عوام کے قتل کی نفی نہیں ہے۔ سرداروں کی تصریح اہتمام وخصوصیت وتاکید کے لئے ہے، ان کے قتل سے عوام خود بخود یا منتشر اور یا مطیع ومنقاد ہونے لگیں گے۔ اے قاتلوا الکفار (بحر) وخص الائمۃ بالذکر لانھم ھم الذین یحرضون الاتباع علی البقاء علی الکفر (بحر) تخصیصھم بالذکر لان قتلھم اھم لا لانہ لایقتل غیرھم (روح) سرداران قریش نے معاہد کے خلاف بنی خزاعہ کے مقابلہ میں بنی بکر کو مدد دی تھی، آیت میں اشارہ اسی جانب ہے۔ طعن فی الدین کے سلسلہ میں توریت کا حکم ملا حظہ ہو :۔ ” اور وہ جو خداوند کے نام پر کفر بکے گا جان سے مارا جائے گا۔ ساری جماعت اسے سنگسار کرے گی خواہ وہ مسافر ہو، خواہ پردیسی ہو، جب اس نے اس کے نام پر کفر کیا تو وہ جان سے ضرور مارا جائے گا۔ “ (احبار۔ 24: 16) آیت سے ظاہر ہورہا ہے کہ معاہدجب معاہدہ کی کسی دفعہ کی بھی خلاف ورزی کرے یا دین پر طعن کرے تو وہ ناقض عہد ہوجائے گا فیہ دلالۃ علی ان اھل العھد متی خالفوا شیئا مما عوھدوا علیہ وطعنوا فی دیننا فقد نقضوا العھد (جصاص) ۔
Ayah 9:1322 ۔ وہ یوں کہ تمہاری طرف سے وفاء عہد میں کوئی کمی نہیں ہوئی، اور انہوں نے خود ہی چھیڑ نکالی۔
23 ۔ ایمان والوں کو انہی کے ایمان کی غیرت اور واسطہ دلایا ہے کہ کافروں مردوں سے ڈرنا ہی کیا۔ (آیت) ” اتخشونھم “۔ کیا تم ان سے اس لیے ڈرتے ہو کہ یہ سامان اور جمعیت زیادہ رکھتے ہیں ؟
Ayah 9:1424 ۔ (کافروں کی ہزیمت اور تمہاری نصرت سے) (آیت) ” یعذبھم اللہ بایدیکم “۔ سنت الہی یہ ہے کہ اعداء دین کو دنیا میں سزا خادمان دین کے ہاتھوں سے دلائی جاتی ہے اور یہ انسان عذاب الہی کے واسطہ یا آلہ کا کام دیتے ہیں۔ (آیت) ’ ’ ویشف صدورقوم مومنین “۔ اس سے معلوم ہوا کہ اعدائے دین کی مغلوبیت سے خوش ہونا امر طبعی بلکہ امر محمود ہے۔
Ayah 9:1525 ۔ یہ ذکر ایسے مسلمانوں کا ہے جو خود مقابلہ کی تاب نہیں رکھتے اور کافروں کے غلبہ پر دل ہی دل میں کڑھا کرتے ہیں۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ امور طبعی کاملین میں بھی رہتے ہیں۔ چناچہ بیان صحابہ میں غلیظ کا ذکر موجود ہے۔
26 ۔ (چنانچہ اپنے علم کامل سے سب کا حال جان کر اپنی حکمت کاملہ سے سب کے مناسب حال احکام جاری فرمائے) (آیت) ” یتوب اللہ علی من یشآء “۔ یعنی اپنی مشیت تکوینی کے ماتحت جس کو چاہے گا، ایمان کی توفیق دے دے گا۔
Ayah 9:1627 ۔ (آیت) ” ان تترکوا “۔ یعنی کیا مومنین صادقین یوں ہی بلاامتحان وآزمائش چھوڑ دیئے جائیں گے۔ (آیت) ” ولما یعلم اللہ الذین جھدوا منکم ولم یتخذوا من دون اللہ ولا رسولہ ولا ال مومنین ولیجۃ “۔ یعنی اصل امتحان کا موقع تو اب آیا ہے، جب اپنے عزیزوں، قریبوں سے قتال کرنا ہوگا، اور اللہ اور اسلام کی خاطر اپنے ہر تعلق، ہر محبت کو قربان کرنا پڑے گا۔ (آیت) ” لما یعلم اللہ “۔ اللہ تعالیٰ کا علم ذاتی تحقیقی اور ازلی ہے۔ لیکن معلومات جب تک حدوث میں نہ آئیں، علم الہی کا تعلق فعلی ان سے پیدا نہیں ہوتا۔ اس حقیقت کو یہاں (آیت) ” لما یعلم اللہ “ سے تعبیر کیا ہے۔ (آیت) ” ولا ال مومنین ولیجۃ “۔ اس سے فقہاء نے حجیت اجماع اور اتباع مومنین کا استنباط کیا ہے۔ یقتضی لزوم اتباع المومنین وترک العدول عنھم کما یلزم اتباع النبی ﷺ وفیہ دلیل علی لزوم حجۃ الاجماع (جصاص)
Ayah 9:1728 ۔ یعنی ایسے عقاید کا اقرار کررہے ہوں جو داخل کفر ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ مشرکین میں اپنے عقاید شرکیہ کے ساتھ عمل آبادی مساجد کی اہلیت ہی مفقود ہے۔ یہ اگر آبادی مساجد کریں بھی تو اس سے انہیں کیا نفع حاصل ہوگا ؟ (آیت) ” ماکان للمشرکین “۔ یعنی اگر وہ ایسا کرنا بھی چاہیں تو اس کے لایق ہی نہیں۔ انہیں اس سے روکا جائے گا۔ اے لاینبغی لھم ولا یلیق وان وقع (روح) ماینبغی للمشرکین باللہ ان یعمروا مساجد اللہ التی بنیت علی اسمہ وحدہ لاشریک لہ (ابن کثیر) ما ینبغی للمشرکین ان یعمروا مساجد اللہ اوجب علی المسلمین منعھم من ذلک لان المساجد تعمر لعبادۃ اللہ وحدہ (معالم) (آیت) ” ان یمروا “۔ عمارۃ عربی محاورہ میں ضد ہے ویرانگی کی، سو عمارت کے تحت میں مسجدوں کا آباد کرنا، ان میں داخل ہونا، ان کی تعمیر کرنا، ان کی خدمت کرنا سب کچھ آگیا۔ بعض نے عمارت سے مراد تعمیر معروف یعنی مسجد کی بنا اور اس کی مرمت وغیرہ مراد لی ہے اور کافر کو اس سے روکا ہے۔ چناچہ وہ اگر اس کی وصیت کرجائے تو اس کی بھی تعمیل نہ ہوگی۔ ذھب جماعۃ الی ان المراد منہ العمارۃ المعروفۃ من بناء المسجد ومرمتہ عن الخراب فیمنع منہ الکافر حتی لواوصی بہ لایتمثل (معالم) بعض نے مسجد میں داخلہ اور نشست وبرخاست مراد لی ہے۔ وحمل بعضھم العمارۃ ھھنا علی دخول المسجد والقعود فیہ (معالم) (آیت) ” مسجد اللہ “۔ اس عموم میں مسجد الحرام (حرم شریف) بھی آگئی، فقہاء نے یہیں سے یہ مسئلہ اخذ کیا ہے کہ کوئی کافر کسی مسجد کا متولی یا بانی و خادم ہونے کے لایق نہیں۔ فاقتضت الایۃ منع الکفار من دخول المساجد ومن بناء ھا وتولی مصالحھا والقیام بھا (جصاص) البتہ جہاں تک مسجد بنانے کا تعلق ہے فقہاء کے ہاں یہ صراحت ملتی ہے کہ اگر اس کافر کے ہاں خود اس کے مذہب کی رو سے تعمیر مسجد میں اجر ہے اور اسے تعمیر مسجد کی اجازت دینا کسی مصلحت اسلامی کے خلاف بھی نہیں تو اجازت دے دی جائے گی۔
29 ۔ (کہ یہ خلود عذاب سزائے موعود ہے کفر کی) (آیت) ” اولئک حبطت اعمالھم “۔ یعنی ایمان جو قبول اعمال کی بنیاد ہے وہی ان کے ہاں منعدم ہے۔ (آیت) ” وفی النار ھم خلدون “۔ آیت کے صیغۂ حصر کے متکلمین نے یہ مسئلہ نکالا ہے کہ خلود عذاب سزا صرف کافروں کی ہے نہ کہ گنہگار مسلمانوں کی، یعنی صرف وہی (کافر) پڑے رہیں گے نہ کہ کوئی اور۔ واحتج اصحابنا بھذہ الایۃ علی ان الفاسق من اھل الصلوۃ لایبقی مخلدا فی النار (کبیر)
Ayah 9:1830 ۔ (اور اپنے مقصود کو پہنچ جائیں جو نجات اور جنت ہے) اے الی الجنۃ وما اعدا للہ تعالیٰ فیھا لعبادہ (روح) (آیت) ” من امن باللہ والیوم الاخر “۔ یہ بیان ہوا ان کے بنیادی عقاید کا۔ (آیت) ” واقام الصلوۃ واتی الزکوۃ ولم یخش الا اللہ “۔ یہ بیان ہوا ان کے اعمال واحوال کا۔ عسی کے لئے اوپر کئی بار آچکا ہے کہ جب یہ وعدۂ الہی کے سیاق میں آتا ہے تو اس میں معنی یقین کے پیدا ہوجاتے ہیں۔ اور درجہ احتمال باقی نہیں رہتا۔ عسی من اللہ واجب (معالم) وعسی من اللہ واجبۃ عن ابن عباس وغیرھا (قرطبی) (آیت) ” ولم یخش الا اللہ “۔ محققین نے یہاں یہ قید لگادی ہے کہ دین کے باب میں بجز اللہ کے کسی سے نہیں ڈرتے جیسا کہ عوام اور ناقص قسم کے مشائخ نے سمجھ رکھا ہے۔ اے فی ابواب الدین فان الخشیۃ عن المحاذیر جبلیۃ لایکاد العاقل یتمالک عنھا (بیضاوی) واما الخوف الجبلی عن الامور المخوفۃ فلیس من ھذا الاباب ولا ھو مما یدخل تحت التکلیف (روح) المراد من ھذہ الخشیۃ الخوف والتقوی فی باب الدین وان لایختار علی رضاء اللہ رضا غیرہ (کبیر) المعنی ولم یخش الا اللہ مما یعبد (قرطبی) (آیت) ” انما یعمر مسجد اللہ “۔ بعض اکابر سلف نے اس سے استدلال کیا ہے کہ جن لوگوں کو مساجد میں آباد ہوتے دیکھو ان سے حن ظن رکھنا لازم ہے۔ وقد قال بعض السلف اذا رأیتھم الرجل یعمر المسجد فحسنوا بہ الظن (قرطبی) اور جامع ترمذی میں یہ حدیث نبوی ابوسعید الخدری صحابی ؓ کی روایت سے موجود ہے کہ اذا رایتم الرجل یعتاد المسجد فاشھدوالہ بالاایمان “۔ جب تم کسی کو دیکھو کہ ہو مسجد کو لازم پکڑے ہوئے ہے تو اس کے ایمان کے گواہ ہوجاؤ۔
Ayah 9:1931 ۔ کہ جس طرح عمل عمل برابر نہیں ہوتے اسی طرح عامل عامل بھی برابر نہیں ہوسکتے، کہاں ایمان صحیح وکامل اور جہاد فی سبیل اللہ اور کہاں بلااعتقاد صحیح محض سقایۃ حجاج و خدمت حرم ! کہاں مومن کامل ومجاہد اور کہاں غیر مومن ساقی حجاج ! کعبہ چونکہ مشرکین کے نزدیک بھی مقدس تھا اس کی خدمت اور اس کے زائروں کی خدمت سرداران قریش نے بھی اپنے ذمہ لے لی تھی۔ روایتوں میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عباس ؓ بن المطلب نے اپنے زمانہ کفر میں اور شیبہ نے حضرت علی ؓ کے مقابلہ میں اپنی خدمات کعبہ وزائرین کعبہ پر فخر کیا تھا۔ یہ آیت اسی موقع پر نازل ہوئی (آیت) ” القوم الظلمین “۔ یعنی اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے یا مشرکین۔ (آیت) ” کمن امن باللہ “۔ من امن سے قبل عمل محذوف ہے۔ اے اجعلتم عمل من سقی الحجاج کعمل من امن (قرطبی)
Ayah 9:2032 ۔ یہاں یہ بتایا ہے کہ اصل شئے تو ایمان باللہ اور اقرار توحید ہے۔ اور پھر جو اس پر ہجرت و جہاد کا اضافہ کرے اس کے مرتبہ کا کیا کہنا ! خانہ کعبہ کی عظمت جو کچھ ہے وہ مرکز توحید ہی ہونے کی بنا پر تو ہے۔ (آیت) ” اعظم درجۃ عند اللہ “۔ سے یہ خیال نہ گزرے کہ بلاایمان والوں یعنی کافروں کا بھی کوئی درجہ اللہ کے ہاں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو درجہ و مرتبہ اپنے نزدیک انہوں نے سمجھ رکھا ہے۔ والمراد انھم قدروا لانفسھم الدرجۃ بالعمارۃ والسقی فخاطبھم علی ما قدروہ فی انفسھم وان کان التقدیر خطا (قرطبی)
Ayah 9:2133 ۔ اور اس خوشخبری سنانے کا ذریعہ بھی قرآن ہے۔ مقیم کے لفظ نے اسے صاف کردیا کہ انعامات جنت جتنے بھی ہوں گے مستقل، پائدار، دائمی ہوں گے، مسافرانہ انداز کے نہ ہوں گے۔ استعارۃ للدائم (روح) رحمۃ اور رضوان کے صیغہ نکرہ رحمت اور رضوان الہی کی عظمت و کثرت کے اظہار کے لئے ہیں۔ نکر الرحمۃ والرضوان للتفخیم والتعظیم (بحر)
Ayah 9:2234 ۔ یہاں خلود کے ساتھ (آیت) ” ابدا “۔ کی بھی تصریح کردی ہے کہ محض خلود کے معنی زمانہ طویل کے بھی آتے ہیں۔ اکد الخلود بالتابید لانہ قد یستعمل للمکث الطویل (بیضاوی) اور یہ حقیقت ایک بار اور صاف ہوگئی ہے کہ اجر جنت عظیم وگرانقدر ہونے کے ساتھ دائمی اور غیر منقطع بھی ہوگا۔ (آیت) ” لا تتخذوا ابآء کم واخوانکم اولیآء “۔ جس محبت سے یہاں ممانعت ہورہی ہے اس سے محبت طبعی مراد نہیں ہے وہ تو ہر عزیز سے ہونا بہتر ہے، قید صرف یہ لگا دی ہے کہ وہ محبت طبعی عمل میں محبت ایمانی پر غالب نہ آنے پائے، مغلوب ہی رہے اور غالب ہمیشہ ہر معاملہ میں محبت ایمانی رہے۔
Ayah 9:2335 ۔ (خود اپنے حق میں) ہجرت کی راہ میں عموما انہی عزیزوں قریبوں کی محبت حائل ہوجاتی تھی، شریعت نے ایسی اور اس درجہ کی محبت کو ناجائز قرار دیا ہے۔ (آیت) ” ان استحبوا الکفر علی الایمان “۔ یہاں سے یہ مسئلہ فقہاء نے مستنبط کیا ہے۔ کہ جس کافر کے ایمان لانے کی توقع ہو تو اس مصلحت سے اس سے تعلق رکھنا جائز ہے۔ (آیت) ” اولئک ھم الظلمون “۔ بعض نے یہاں تک کہا ہے کہ یہ لوگ بھی مشرکوں کے حکم میں داخل ہوں گے کہ رضا بالشرک بھی شرک ہی ہے۔ قال ابن عباس ھو مشرک مثلھم لان من رضی بالشرک فھو مشرک (قرطبی)
Ayah 9:2436 ۔ (اور وہ حکم سزائے ترک ہجرت کا ہوگا) (آیت) ” احب الیکم “۔ نے اس مسئلہ کو اور زیادہ صاف کردیاجس کا ذکر ابھی اوپر کی آیت میں آچکا ہے یعنی عزیزوں کی محبت بجائے خود ممنوع نہیں، صرف اس کی وہ صورت ممنوع ہے جب وہ احکام شریعت کی تعمیل میں سد راہ بننے لگے، فقہاء مفسرین نے آیت سے یہ حکم بھی اخذ کیا ہے کہ اللہ اور رسول کی محبت کا درجہ وجوب کا ہے۔ وفی الایۃ دلیل علی وجوب حب اللہ رسولہ ولا خلاف فی ذلک بین الامۃ (قرطبی) (آیت) ” من اللہ ورسولہ “۔ سے مرا دمن العمل (آیت) ” بامر اللہ ورسولہ “۔ ہے یعنی احکام خدا اور رسول پر عمل سے عزیز تر۔ وفی الکلام حذف اے احب الیکم من امتثال امر اللہ تعالیٰ ورسولہ (بحر) (آیت) ” ابآؤکم وابنآؤکم واخوانکم وازواجکم وعشیرتکم “۔ ہجرت سے ایک بڑا اندیشہ یہی ہوتا تھا کہ یہی سب عزیز قریب چھٹ جائیں گے۔ (آیت) ” اموال اقترفتموھا “۔ دوسرا بڑا اندیشہ یہ ہوتا تھا کہ اموال واملاک تلف ہوجائیں گے، تجارت کا انتظام وسلسلہ بگڑ جائے گا۔ (آیت) ” مسکن ترضونھا “۔ تیسرا ممکن اندیشہ یہ تھا کہ راحت و آسائش کے گھر بار چھوٹ جائیں گے۔ (آیت) ” وجھاد فی سبیلہ “۔ ہجرت سے ایک درجہ ترقی کرکے یہاں نام جہاد فی سبیل اللہ کالے دیا گیا ہے کہ ہجرت تو پھر بھی ہلکی چیز ہے۔ مسلمان کو تو جہاد تک کو ہر دنیوی ومادی تعلق پر غالب رکھنا چاہیے۔ (آیت) ” فتربصوا “۔ ایسے موقع پر قرآن مجید جب صیغہ امراختیار کرتا ہے تو مقصود ہمیشہ تہدید و تخویف ہوتی ہے۔ صیغتہ صیغۃ امر ومعناہ التھدید (قرطبی) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت میں تعلیم اس کی ہے کہ تعلق مع الخلق کے مقابلہ میں تعلق مع اللہ زیادہ رعایت کے قابل ہے۔.
37 ۔ چناچہ انہیں ان مرغوبات ومالوفات سے تمتع کا موقع دینے کے بجائے کبھی خلاف توقع انکی موت لے آتا ہے کبھی کوئی اور ایسی ہی صورت پیدا کرتا ہے۔
Ayah 9:2538 ۔ جیسے جنگ بدر میں اور فتح مکہ کے موقع پر، اور بنو قریظہ وبنونضیر کے مقابلہ میں وقس علی ھذا۔ نصرت غیبی وتائید ایزدی کا منظر تو کہنا چاہیے کہ ہر موقع پر نمایاں رہتا تھا، علماء نے 80 ایسے موقع گنائے ہیں۔ وان ائمۃ التاریخ وعلماء المغازی نقلوا انما کانت ثمانین موطنا (بحر) حنین، طائف کے راستہ میں مکہ کی ایک وادی کا نام ہے، مکہ سے غالبا 3 میل کے فاصلہ پر، فتح مکہ کے دو ہی ہفتہ بعد یہاں مسلمانوں کا مقابلہ ہوازن اور ثقیف کے مشہور تیر انداز قبیلوں سے ہوا تھا، معرکہ کی تاریخ 6 شوال 8 ھ مطابق یکم فروری 630 ء ہے۔
39 ۔ مسلمان فتح مکہ کے 2 ہزار طلقاء یعنی جدید العہد نو مسلموں کو ملاکر 12 ہزار کی تعداد میں تھے مسلمانوں کو قدرۃ خیال گزرا کہ آج تو ہماری جیت یقینی ہے چناچہ اول اول ہوئی بھی مسلمانوں کو فتح، مشرکین بھاگے اور مسلمان مال غنیمت پر ٹوٹ پڑے، مشرکین موقع دیکھ پلٹ پڑے، اور تیر اندازی اس غضب کی کی کہ مسلمانوں کے پیر اکھڑ گئے۔ مشرکین کے تیر انداز دستے پہاڑیوں کی آڑ میں بہترین کمین گاہوں میں چھپے بیٹھے تھے۔ مسلمانوں کو جگہ بری ملی، مووچہ جما کر صفیں قائم کرنے کا موقع نہ ملا، پہلے پیر طلقاء کے اکھڑے پھر عام مسلمانوں کے، صرف رسول اللہ ﷺ مع چند مخصوص صحابہ ابوبکر، عمر، عباس علی ابن سعد ؓ اجمعین وغیرہ کے میدان جنگ میں رہ گئے، عباس ؓ بن عبدالمطلب آپ ﷺ کے خچر کی رکاب تھامے ہوئے تھے، اور آپ ﷺ تھے کہ اپنی صداقت پر مطمئن دشمن کی طرف بڑھتے ہی جاتے تھے۔ بار بار پکار کر فرمایا انا النبی لاکذب انا ابن عبد المطلب، میں عبد المطلب کا بیٹا، نبی ہوں اس میں کچھ جھوٹ نہیں، الی عباد اللہ انی رسول اللہ۔ آخر مسلمانوں کو دوبارہ غیرت آئی، پھر سے مقابلہ شروع کیا، آسمان سے فرشتوں کی مدد نازل ہوئی مشرکین آخر بھاگ نکلے، کچھ قید ہوئے، کچھ قتل ہوئے، شرر کی تاریخ اسلام میں ہے :۔ 10 ہزار جانباز تو وہی تھے جو مدینہ سے علم اسلام کے ساتھ آئے تھے اور 2 ہزار اہل مکہ تھے ان میں بہت سے مشرک بھی تھے، اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اہل مکہ مفتوح ہونے کے بعد بھی مسلمان ہونے پر مجبور نہیں کئے گئے تھے (جلد اول صفحہ 92) (آیت) ” اذا اعجبتکم کثرتکم “۔ یہاں صاف بتا دیا کہ شکست کا اصل راز مسلمانوں کی خود بینی تھی، اپنی کثرت تعداد پر ناز وغیرہ، فقہاء مفسرین نے اس آیت کو بھی آیات احکام میں شمار کیا ہے۔ اور چونکہ حدیث مالک میں ذکر آیا ہے کہ اس جہاد میں صفوان مشرک بھی شریک تھا اس لئے اس سے بعض فقہی مسائل بھی مستنبط کئے ہیں۔ امام مالک کی رائے ہے کہ مشرکین کے خلاف جہاد میں مشرک سے مدد لینا جائز نہیں، بجز اس صورت کے کہ ہو مشرک خادم بن کر شریک ہوجائے۔ قال مالک ولم یکن ذلک بامر رسول اللہ ﷺ ولا اری ان یستعان بالمشرکین علی المشرکین الا ان یکونوا اخدما اونواتیۃ (قرطبی) دوسرے ائمہ فقہ ابوحنیفہ (رح) شافعی (رح) ، ثوری (رح) اوزاعی (رح) کی رائے میں جب کلمہ اسلام غالب ہورہا ہو تو اس کے لئے مشرکین سے استعانت جائز ہے۔ وقال ابوحنیفۃ والشافعی والثوری والاوزاعی لا باس بذلک اذا کان حکم الاسلام جو الغالب وانما تکرہ الاستعانۃ بھم اذا کان حکم الشرک ھو الظاہر (قرطبی) ۔
Ayah 9:2640 ۔ چناچہ جو ہٹ گئے تھے، وہ پھر میدان میں آکر جم گئے، (آیت) ” سکینتہ علی رسولہ “۔ مفسر تھانوی (رح) نے لکھا ہے کہ مراد اس سے مطلق تسلی نہیں، وہ تو آپ ﷺ کو اور جو صحابی آپ کے ہمراہ رہ گئے تھے انہیں حاصل ہی تھی، اور اسی بنا پر وہ ثابت قدم بھی رہے بلکہ مراد اس سے تسلی خاص ہے جس سے سب کو غلبہ کی امید ہوگئی، مرشد تھانوی نے فرمایا کہ ترک عجب نزول سکینت کا سبب ہوجاتا ہے۔
41 ۔ (یعنی ملائکہ آسمانی) یعنی الملائکہ (مدارک) ھم الملائکۃ بلاخلاف (بحر) (آیت) ” لم تروھا “۔ سے مراد صرف اس قدر ہے کہ وہ لشکر عام طور سے انسان کے لئے غیر مرئی تھا، اگر اتفاق سے کسی صحابی کو بہ طور کرامت یا خرق عادت کوئی فرشتہ نظر آگیا تو وہ اس بیان قرآنی کے منافی نہیں، ایسے موقعوں کے لئے قرآن کا یہ انداز بیان عام ہے۔ قرآن نے یہاں اس حقیقت کو ایک بار پھر صاف کردیا کہ اصل شئے اعتماد علی اللہ ہے۔ ظاہری اسباب پر بہت زیادہ تکیہ کرلینا مہلک ہے۔
42 ۔ چناچہ حنین میں کافروں کو شکست کی ذلت نصیب ہوئی، 70 آدمی قتل ہوئے، ہزار ہا کی تعداد میں قید ہوئے، جن میں فقط عورتیں ہی 6 ہزار تھیں، مال غنیمت میں مسلمانوں کو 24 ہزار اونٹوں اور 30 ہزار بھیڑ بکریوں کے علاوہ 4 ہزار اوقیہ چاندی بھی ہاتھ لگی اور یہاں یہ عام قانون بھی بتادیا کہ کفر کی سزا ہے ہی شکست، ذلت عذاب دنیوی ،
Ayah 9:2743 ۔ چناچہ انہیں صفات مغفرت و رحمت کے تقاضہ سے بہت سے کافر مسلمان بھی ہوگئے۔
Ayah 9:2844 ۔ (بہ لحاظ خبث عقاید) (آیت) ” نجس “۔ مراد اس نجاست سے نجاست عقاید ہے نہ کہ نجاست اعیان و اجسام۔ والمراد ذو ونجس لخبث بواطنھم و فساد عقائد ھم (روح)
45 ۔ (بہ غرض خدمت وتولیت یا بہ غرض حج و طواف وغیرہ) یعنی حدود حرم کے اندربہ غرض حج وعمرہ نہ داخل ہونے پائیں، ممانعت کا تعلق مطلق داخلہ حرم وداخلہ مسجد حرام سے نہیں۔ اے فلایحجوا ولا یعتمروا کما کانوا یفعلون فی الجاھلیۃ (مدارک) حنفی مذہب میں مشرکوں کے عام داخلہ حرم یا داخلہ مساجد کی ممانعت نہیں، اور فقہاء کا اس پر اتفاق ہے کہ اہل کتاب بھی اس حیثیت سے مشرکین ہی کے حکم میں داخل ہیں۔ ولا یمنعون من دخول الحرم والمسجد الحرام وسائر المساجد عندنا (مدارک) حدیثوں سے تمام جزیرہ عرب کا یہی حکم ثابت ہے، مشرکین کے لئے بھی اور یہود ونصاری کے لئے بھی، چناچہ حسب وصیت آپ ﷺ کے حضرت عمر ؓ کے زمانہ میں تمام جزیرۂ عرب میں اس قانون کا نفاذ ہوگیا۔ اور فقہ حنفی کی رو سے مراد اس سے قرب ودخول بہ طور توطن یا استیلاء کے ہے کہ یہ ناجائز ہے ورنہ مسافرانہ امام کی اجازت سے آنا اگر امام کے نزدیک خلاف مصلحت نہ ہومضائقہ نہیں، اور جب حرم کے اندر آنے کی اجازت دینا جائز ہے مسجد حرام بھی اسی حکم میں ہے “۔ (تھانوی (رح) (آیت) ” بعدعامھم ھذا “۔ اس سال سے مراد 9 ہجری ہے جبکہ حضرت ابوبکر ؓ کی زیر امارت حج ادا ہوا تھا۔ اس کے بعد سے مراد 10 ہجری ہے جب سے اس کا نفاذ شروع ہوا۔ سنۃ عشر قالہ قتادہ وقال ابن العربی وھو الصحیح الذی یعطیہ مقتضی اللفظ (قرطبی) اس سال کے بعد کی قید سے فقہاء حنفیہ نے یہ استنباط کیا ہے کہ نجاست اعتقادی (کفری) فی نفسہ مانع داخلہ مساجد نہیں، وفی ذالک دلالۃ علی ان نجاسۃ الکفر لا یمنع الکافر من دخول المسجد (جصاص)
46 ۔ عرب کا ملک کوئی زراعتی تو ہے نہیں باشندوں کی آمدنی کا دارومدار تجارت ہی پر رہتا ہے۔ نومسلموں کو یہ خوف پیدا ہونا بالکل قدرتی تھا کہ اگر غیر مسلموں سے معاشی وتجارتی تعلقات بھی منقطع ہوگئے تو آخر کھائیں گے پئیں گے کہاں سے ؟ یہاں اسی طرف سے اطمینان دلایا جارہا ہے۔
47 ۔ (چنانچہ اس نے بھی یہی کردیا، اس طریقہ پر کہ، خود ان تاجروں کو مسلمان کردیا) (آیت) ” ان شآء “۔ (اگر چاہے گا) سے مقصود اس حقیقت پر متوجہ کرنا ہے کہ اس وعدہ کے پورا کرنے کے لئے کسی لمبے چوڑے سامان کی ضرورت نہیں، محض اس کی مشیت کافی ہے۔ چناچہ جب اس کی مشیت ہوئی، سارا ملک مسلمان ہوگیا۔ سامان تجارت دور دور سے بہ کثرت آنے لگا۔ بارشیں اچھی ہوئیں، پیداوار خوب ہونے لگی، فتوحات اور غنیمتوں کے دروازے کھل گئے۔ اہل کتاب وغیرہ سے جزیہ کی رقم وصول ہونے لگی، غرض مشیت کی ایک حرکت نے اسباب غناء ہر طرح کے جمع کردیئے۔ فقہاء مفسرین نے آیت سے یہ بھی استنباط کیا ہے کہ رزق کے باب میں تعلق خاطر اسباب ظاہری سے رکھنا جائز ہے اور توکل کے منافی نہیں۔ فی ھذہ الایۃ دلیل علی ان تعلق القلب بالاسباب فی الرزق جائز ولیس ذلک بمناف للتوکل (قرطبی) (آیت) ” من فضلہ “۔ سے فقہاء نے یہ نکالا ہے کہ رزق ثمرہ کوشش کا نہیں ہوتا بلکہ عطیہ خداوندی ہے۔ دلیل علی ان الرزق لیس بالاجتھاد وانما ھو من فضل اللہ تولی قسمتہ بین عبادہ (قرطبی) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت میں تعلیم ہے کہ مصلحت دنیوی کو تکمیل مصلحت دینی میں مانع نہ ہونا چاہیے اور اگر مزاحم ہو تو توکل سے علاج کرنا چاہیے۔
48 ۔ (چنانچہ وہ اپنے علم کامل سے سب احکام کی مصلحتوں کا علم رکھتا ہے اور حکمت کاملہ سے تمہارے افلاس کے انسداد کا بھی انتظام کردے گا)
Ayah 9:2949 ۔ یعنی ان سے جنگ و قتال اس وقت تک واجب ہے جب تک وہ ہتھیار رکھ کر، امن طلب کرکے جزیہ دینے پر مجبور نہ ہوجائیں۔ (آیت) ” لایؤمنون “۔ الخ۔ یعنی ان تعلیمات پر حسب تعلیم اسلام پورا پورا ایمان نہیں رکھتے، آیت کے عموم میں جملہ اہل کفر آجاتے ہیں قتال ان سب سے واجب ہے۔ اہل کتاب کا تصریحی ذکر صرف ان کے شرف مرتبہ اور ان کی امتیازی خصوصیات کی بنا پر ہے۔ امر سبحانہ وتعالیٰ بمقاتلۃ جمیع الکفار لاتصافھم علی ھذا الوصف وخص اھل الکتاب بالذکر اکراما لکتابھم ولکونھم عالمین بالتوحید والرسل والشرائع والملل (قرطبی) (آیت) ” الذین اوتوا الکتب “۔ یہ تصریح تو اہل کتاب کی ہے، لیکن جو صفات ان کی بیان ہوئی ہیں وہ ان سے کہیں بڑھ کر مشرکین میں پائی جاتی ہیں۔ اس لیے مشرکین سے قتال بدرجہ اولی واجب ہوگا۔ البتہ مشرکین عرب سنت و احادیث رسول کی بناء پر اس حکم سے مسثنی ہیں۔ ان کے حق میں جزیہ نہیں، جزیرۃ العرب قیامت تک کے لئے توحید کا جغرافی مرکز قرار دیا گیا۔ اس کے حدود کے اندر کفر وشرک کی اجازت کسی شرط پر بھی نہیں دی جاسکتی۔ ان لوگوں کے حق میں قرآن کی دوسری آیتیں ہیں۔ مثلا قاتلوھم حتی لاتکون فتنۃ۔ وغیرھا مجوس ومشرکین عرب ہیں۔ ومن الذین اوتواکتاب بیان للذین قبلہ فاما المجوس فملحقون باھل الکتاب فی قبول الجزیۃ وکذا الترک والھنود وغیرھما بخلاف مشرکی العرب (مدارک) ثبت جواز اخذھا من سائر الکفار اھل کتاب کانوا او غیر اھل کتاب الاعبدۃ الاوثان من العرب بان النبی ﷺ لم یقبل منھم الا الاسلام اوالسیف (جصاص) قال اصحابنا لا یقبل من مشرکی العرب الاالاسلام او السیف وتقبل من اھل الکتاب ومن سائر کفار العجم الجزیۃ (جصاص) ” حدیثوں سے ثابت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے مجوس سے بھی جزیہ لیا ہے۔ اور مشرکین عجم مثلا مجوس کے ہیں۔ بلکہ آیت میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان سے بدرجہ اولی، جزیہ لیاجائے گا۔ کیونکہ یہ ظاہر ہے کہ من الذین اوتوا الکتاب میں من بیانیہ ہے۔ پس سب اہل کتاب انہی صفات سے موصوف ہوں گے۔ (آیت) ” لایؤمنون “۔ الخ پس مدار وضع جزیہ کا یہ ٹھیرا اور ظاہر ہے کہ یہ صفات مشرکین میں بدرجہ اولی پائی جاتی ہیں۔ کیونکہ اہل کتاب توحید اور معاد کا عقیدہ رکھتے ہیں گو اس میں غلطیوں کی وجہ سے لایؤمنون فرما دیا ہے۔ اور مشرکین تو خود ان عقاید کی اصل ہی میں مخالف ہیں۔ پس جب مدار حکم ان میں اقوی ہے تو حکم بھی بدرجہ اولی ثابت ہوگا۔ البتہ مشرکین عرب خاص دلیل سے اس عام سے مخصوص ہوگئے۔ یہی مذہب ہے حنفیہ کا، اور اس کی تائید ہوتی ہے۔ ابن شہاب کے قول سے “ (تھانوی) وام المجوس فقال ابن المنذر لا اعلم خلافا ان الجزیۃ توخذ منھم (قرطبی) جزیہ کے معنی ہیں وہ رقم جو اسلامی حکومت اپنی غیر مسلم رعا یا ذمیوں سے ان کے جان ومال کی حفاظت کے معاوضہ میں وصول کرتی ہے۔ الجزیۃ خراج الارض وما یوخذ من اھل الذمۃ (لسان) وھی فعلۃ من الجزاء کانھا جزت عن قتلہ (ابن کثیر) اسلامی حکومت میں ہر مسلم مرد پر فوجی خدمت لازم ہے بہ ضرورت ساری مسلم رعایا سپاہ بن سکتی ہے غیر مسلموں کے لئے یہ رعایت رکھی گئی ہے۔ کہ وہ فوجی خدمت سے استثناء ایک قلیل رقم کے معاوضہ میں حاصل کرسکتے ہیں۔ غرض یہ کہ جزیہ معاوضہ کفر یا کسی اعتقادی گمراہی کا نہیں بلکہ معاوضہ فوجی خدمات کا ہے۔ فقہاء کے ہاں اس کی پوری تصریحات ملتی ہیں۔ وجب نصرۃ للماقاتلۃ ! جزیہ واجب اس لئے کیا گیا ہے کہ جنگ کرنے والوں کی امداد باشندوں کی طرف سے ہو۔ خلفا عن نصرۃ مقاتلۃ اھل الدارلان من عن اھل دار الاسلام علیہ نصرتھم وقد فاتت (فتح القدیر) یعنی اسلامی عملداری میں جو گروہ جنگی خدمات انجام دیتا ہے ان کی امدا کے کام کے لئے۔ اس لئے کہ اسلامی عملداری میں جو بھی ہے اس پر لڑنے والوں کی امداد واجب ہے اور ذمی چونکہ اس خدمت سے معاف ہیں، اس لئے اس کا قائم مقام یہ محصول ہے۔ بعض فارسی اہل لغت نے اسے فارسی لفظ گزیت (بروزن فعیل) اور گزیت (بروزن فعلۃ) کا معرب بتایا ہے (برہان قاطع) وقال الخوارزمی انھا معرب کزیت وھو الخراج باالفارسیۃ (روح) بہرحال لفظ کا اشتقاق جو کچھ بھی ہو مراد اس سے یہی ہے۔ ” یہی وجہ ہے کہ جو لوگ جہاد میں قتل نہیں کئے جاتے جیسے عورتیں اور بچہ اور بہت بڈھے اور اپاہج اور رہبان اور تارکان دنیا، ان پر جزیہ نہیں اور اگر بوجہ قرار علی الکفر کے ہوتا تو ان پر بھی ہوتا، کیونکہ کفر میں مشترک ہیں “ (تھانوی (رح) جزیہ کی شرح 12 درم سالانہ سے لے کر 48 درم سالانہ تک ہے۔ ” عورت، بچے، بیمار، معذور بڈھے، بےروز گار، مذہبی طبقہ (مثلا پادری، جوگی) غلام وغیرہ مستثنی تھے۔ صرف کاروباری آدمیوں پر لگایا جاتا تھا۔ وہ بھی اگر صلحی جزیہ ہے تو اس کی مقدار معین تھی۔ ورنہ یوں معمولا امراء سے تقریبا ایک روپیہ ماہوار یعنی 12 روپے سالانہ، متوسط طبقہ والوں سے 8، ماہورا یعنی 6 روپے سالانہ ادنی طبقہ سے 4، ماہوار یعنی 3 روپے سالانہ اور درمیان سال میں اگر کوئی مرجاتا تو اس سے جزیہ ساقط ہوجاتا۔ “ (اسلامی معاشیات از علامہ مناظر احسن گیلانی مدظلہ) روم اور ایران کی رعایا کو مسلمانوں کی حکومت میں آجانے کے بعد جو رقم جزیہ کی دینا پڑتی تھی وہ ان محصولوں سے کہیں کم تھی جو ان لوگوں کو پہلی حکومتوں کے وقت میں دینا پڑتی تھی۔ یہ شہادت حال کے ایک مشہور عیسائی اہل قلم جرجی زید ان مصری کی ہے۔ والجزیۃ التی کانوا یتکلفون دفعھا الی المسلمین اقل کثیر عن مجموع الغریب التی کانوا یودونھا الی الروم الفرس۔
50 ۔ (آیت) ” یعطوا الجزیۃ عن ید “۔ اس میں اشارہ آگیا کہ قانون اسلام کی بالا دستی تسلیم کرکے اور شریعت اسلام نے انہیں جو آرام و آسائش دی اس نعمت کا احساس کرکے جزیہ پیش کریں۔ اے یعطون ما یعطون عن مقابلۃ نعمۃ علیھم فی مفازتھم (راغب) عن انعام منکم علیھم (قرطبی) یحتمل (عن ید) عن نعمۃ فیکون تقدیرہ حتی یعطوا الجزیۃ عن اعتراف منھم بالنعمۃ فیھا علیھم بقبولھا منھم (جصاص) (آیت) ” وھم صغرون “۔ اس حال میں کہ اپنی پستی کا احساس رکھتے ہوں۔ الصاغر الراضی بالمنزلۃ الدنیۃ (راغب) اے تؤخذ منھم علی الصغار والذل (کشاف) امام شافعی (رح) نے کہا ہے کہ صغار یہی ہے کہ قانون اسلام کی بالادستی تسلیم کرلی جائے۔ نقل عن الشافعی ان الصغار ھو جریان احکام المسلمین علیھم (روح)