Ayahs 9:1–2سورة التوبۃ مدنیۃ آیات 129: رکوع 21
یہ مدنی سورة ہے اور اس کی ایک سو ننانوے آیات ہیں۔
1:۔ ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة برات فتح مکہ کے بعد نازل ہوئی۔
2:۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة توبہ مدینہ منورہ میں نازل ہوئی۔
3:۔ ابن مردویہ نے عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ سورة براۃ کو مدینہ منورہ میں نازل کیا گیا۔
4:۔ ابن منذر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ ان سورتوں میں سے جو مدینہ منورہ میں نازل ہوئی (ان میں) براۃ بھی ہے۔
5:۔ ابن ابی شیبہ واحمد وابوداود والترمذی اور آپ نے اس کو حسن کہا والنسائی وابن ابی داود نے مصحف میں وابن منذر والنحاس نے اپنی ناسخ میں وابن حبان وابو الشیخ والحاکم اور آپ نے اس کو صحیح کہا وابن مردویہ والبیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ نے بیان فرمایا کہ میں نے عثمان ؓ سے عرض کیا آپکو کس چیز نے آمادہ کیا کہ انفال کا قصہ کریں حالانکہ یہ مثانی میں سے ہے اور اس براۃ کا قصد کریں حالانکہ وہ شین میں سے ہے اور پھر میں نے ان دونوں کو ملادیا۔ اور دونوں کے درمیان سطر (آیت) بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں لکھی اور پھر تم نے برات کو سبع طوال میں رکھ دیا تم کو اس پر کس نے ابھارا عثمان ؓ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ پر ایک ایسا زمانہ آیا کہ آپ پر ذوات العدد سورتیں نازل ہورہی تھیں۔ جب کچھ نازل ہوتا تو آپ کاتبین وحی میں سے کسی کو بلاتے اور فرماتے کہ ان آیات کو فلاں سورة میں لکھ دو کہ جس میں فلاں فلاں چیز کا ذکر کیا گیا اور انفال مدینہ کے ابتدائی ایام میں نازل ہوئی اور سورة برات سب سے آخری زمانہ میں اور اس کا قصہ انفال کے قصہ کے مشابہ ہے۔ میں نے خیال کی کہ یہ اس میں سے ہے اس وجہ سے میں نے ان دونوں کو ملا دیا رسول اللہ ﷺ اس دنیا سے چلے گئے اور ہم نے یہ بیان نہیں فرمایا کہ یہ سورة برات اس سورة انفال میں سے ہے۔ اس لیے میں نے دونوں کو یکجا کردیا اور ان دونوں سطر (آیت) بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں لکھی۔ اور ان دونوں کو سبع طوال (یعنی سات طویل سورتوں میں) رکھ دیا۔
6:۔ ابن ابی شیبہ والبخاری والنسائی وابن الضریس وابن المنذر والنحاس نے اپنی ناسخ میں وابو الشیخ وابن مردویہ نے براء ؓ سے روایت کیا سب سے آخر میں یہ آیت نازل فرمائی ” یستفتونک۔ قل اللہ یفتیکم فی الکللۃ “ (النساء آیت 176) اور سب سے آخر میں دوسورۃ مکمل نازل ہوئی جو سورة مکمل طور پر نازل ہوئی وہ سورة برات ہے۔
7:۔ ابوالشیخ نے ابور جاء سے روایت کیا کہ میں نے حسن سے انفال اور براۃ کے بارے میں پوچھا کیا یہ دوسورتیں ہیں یا ایک سورت انہوں نے فرمایا دوسورتیں ہیں۔
8:۔ ابوالشیخ نے ابو ردق ؓ سے روایت کیا کہ انفال اور براۃ ایک ہی سورة ہے۔
9:۔ نحاس نے اپنی ناسخ میں عثمان ؓ سے روایت کیا کہ انفال اور براۃ کو رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں فریقین پکارا جاتا ہے اس وجہ سے ان دونون کو سبع طوال میں شامل کردیا۔
سورۃ برات کے شروع میں بسم اللہ نہ ہونا :ـ
10:۔ دارقطنی نے الافراد میں عسعس بن سلامہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے عثمان ؓ سے عرض کیا اے امیر المومینن کیا ہوا کہ انفال اور براۃ کے درمیان (آیت) بسم اللہ الرحمن الرحیم “۔ نہیں ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ سورة (جب) نازل ہوتی تو وہ مسلسل لکھی جاتی تھی۔ یہاں تک کہ (آیت) بسم اللہ الرحمن الرحیم “۔ نازل ہوجاتی تھی۔ جب (آیت) بسم اللہ الرحمن الرحیم “۔ آجاتی تو دوسری سورة لکھ دی جاتی تو (جب) انفال نازل ہوئی تو (آیت) بسم اللہ الرحمن الرحیم “۔ نہیں لکھی گئی۔
11:۔ طبرانی الاوسط میں علی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ منافقین سورة ہود سورة برات، سورة یسین، سورة دخان اور عم یتساءلون یاد نہیں کریں گے۔
12:۔ ابوعبید و سعید بن منصور وابو الشیخ والبیہقی نے شعب میں ابوعطیہ ہمدانی (رح) سے روایت کیا کہ عمربن خطاب ؓ نے لکھا سورة براۃ کو سیکھو اور اپنی عورتوں کو سورة توبہ سکھاؤ۔
13:۔ ابن ابی شیبہ والطبرانی نے الاوسط میں ابوالشیخ والحاکم وابن مردویہ نے حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ جسکو تم سورة توبہ کہتے ہو وہ سورة عذاب ہے اللہ کی قسم اس نے کسی کو نہیں چھوڑا مگر اس نے اس سے کچھ حصہ پالیا اور جو کچھ ہم اس میں سے پڑھتے ہیں تم اس سے چوتھائی کے سوا کچھ نہیں پڑھو گے۔
14:۔ ابو عبید وابن منذر وابوالشیخ، ابن مردویہ نے حذیفہ ؓ سے روایت کیا سورة برات کے بارے میں نقل کیا کہ وہ اس کو سورة توبہ کا نام دیتے ہیں اور وہ سورة عذاب ہے۔
15:۔ ابن عبیدہ وابن منذر وابوالشیخ وابن مردویہ نے حذیفہ ؓ سے روایت کیا سورة براۃ یہ سورة توبہ ہے اور یہی سورة عذاب ہے۔
16:۔ ابوعبید و ابن منذر وابوالشیخ، وابن مردویہ نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس ؓ سے سورة توبہ کے بارے میں پوچھا کیا یہ سورة التوبہ ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا صرف توبہ نہیں بلکہ یہ فاضحہ ہے۔ (یعنی منافقوں کو رسوا کرنے والی) یہ برابر نازل ہوتی رہی اور یہاں تک کہ لوگوں کو یہ خیال ہوگیا کہ ہم میں سے کوئی ہرگز باقی نہیں رہے گا مگر اس میں اس کا ذکر کیا جائے گا۔
17:۔ ابوعوانہ وابن منذر وابوالشیخ وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عمر ؓ سے کہا گیا سورة توبہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ یہ عذاب کی طرف زیادہ قریب ہے اس نے لوگوں کو نہیں چھوڑا۔ یہاں تک کہ یہ خیال پیدا ہوگیا کہ وہ ان میں سے کسی ایک کو نہیں چھوڑے گی۔
18۔ ابوالشیخ نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ عمر ؓ نے فرمایا سورة برات کے نازل ہونے سے ہم فارغ نہیں ہوئے یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ ہم میں سے کوئی باقی نہیں رہے گا مگر یہ کہ اس کے بارے میں حکم نازل ہوگا۔ اس کو فاضحہ (یعنی منافقوں کو رسوا کرنے والی) کا نام دیا جاتا ہے۔
19:۔ ابوالشیخ وابن مردویہ نے زیدبن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے عبداللہ ؓ سے پوچھا سورة توبہ کیا ہے ؟ ابن عمر ؓ نے فرمایا ان میں سے کون سی سورة توبہ ہے ؟ عرض کیا سورة برات ابن عمر ؓ عنہنے فرمایا لوگوں نے اس کے سوا بھی کوئی عمل کئے ہم کو اس سے تندرست ہونے کی دعا کرتے ہیں۔
20:۔ ابوالشیخ نے عبد اللہ بن عبید بن عمیر ؓ سے روایت کیا کہ سورة براۃ کو ” منقرہ “ کہا جاتا ہے کیونکہ اس نے باہر نکالا اور چھان بین کی۔ ان باتوں کو جو مشرکین کے دلوں میں تھا۔
21:۔ ابوالشیخ نے حذیفہ ؓ سے روایت کیا تم سورة برات کا ثلث (یعنی ایک تہائی) نہیں پڑھو گے۔
22:۔ ابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس کا نام دیتے ہیں سورة التوبہ حالانکہ وہ سورة عذاب یعنی براۃ ہے۔
23:۔ ابن منذر نے محمد بن اسحاق (رح) سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں سورة براۃ کو معبرہ کا نام دیا جاتا تھا) یعنی تعبیر کرنے والی) کیونکہ اس نے لوگوں کے بھیدوں کو کھول دیا۔
24:۔ سعید بن منصور والحاکم (اور آپ نے اس کو صحیح کہا) والبیہقی نے اپنی سنن میں ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ جمہ کے دن میں مسجد میں داخل ہوا اور نبی کریم ﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ میں ابی بن کعب ؓ کے قریب بیٹھ گیا۔ نبی کریم ﷺ نے سورة براۃ پڑھی تو میں نے ابی سے کہا یہ سورت کب نازل ہوئی اس نے مجھ سے کوئی بات نہیں کی۔ نبی کریم ﷺ جب نماز کو پورا کرچکے تو میں نے ابی ؓ پھر کہا میں نے آپ سے سوال کیا تھا لیکن تم مجھ سے ترش روئی سے پیش آئے اور مجھ سے بات نہیں کی۔ ابی ؓ نے فرمایا تیرے لئے تیری نماز میں سے کوئی (ثواب) نہیں ہے مگر وہ جو تو نے لغوبات کی۔ میں نبی ﷺ کے پاس گیا اور ان کو یہ بات بتائی آپ نے فرمایا ابی نے سچ کہا۔
25:۔ ابن ابی شیبہ نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ ابوذر ؓ اور زبیر بن عوام ؓ میں سے ایک نے نبی کریم ﷺ سے ایک آیت سنی جس کو آپ کو پڑھ رہے تھے اور آپ جمعہ کے دن منبر پر تشریف فرما تھے اس نے اپنے ساتھی سے کہا یہ آیت کب نازل ہوئی۔ پس جب وہ اپنی نماز مکمل کرچکے۔ تو عمربن خطاب ؓ نے اس سے فرمایا تیرا جمعہ نہیں ہوا صحابی نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور ان کو اس بات کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا عمر نے سچ کہا۔
26:۔ بیہقی نے شعب الایمان میں اور آپ نے اس کو ضعیف کہا جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ جب سورة براۃ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں لوگوں کی خاطر داری کے لئے بھیجا گیا ہوں۔
27:۔ ابوالشیخ وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میں نے علی بن ابی طالب ؓ سے پوچھا کہ سورة براۃ میں (آیت) بسم اللہ الرحمن الرحیم “ کیوں نہیں لکھی گئی۔ انہوں نے فرمایا کہ (آیت) بسم اللہ الرحمن الرحیم “ امان ہے اور سورة براۃ تلوار کے ساتھ نازل کی گئی۔
1:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریروابن منذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” برآءۃ من اللہ ورسولہ الی الذین عھدتم من المشرکین “ سے مراد بنی خزاعہ اور بنی مدلج اور دوسرے وہ قبائل ہیں جن کے ساتھ معاہد کیا گیا تھا رسول اللہ ﷺ تبوک سے واپس تشریف لائے۔ تو آپ نے حج کا ارادہ فرمایا پھر فرمایا کہ وہ اس حال میں بیت اللہ سے حاضر ہوں گے کہ مشرکین ننگے ہو کر طواف کرتے ہیں تو میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ میں اس حالت میں حج کروں یہاں تک کہ ایسا ہونا بند نہ ہوجائے۔ چناچہ آپ نے ابوبکر ؓ اور علی ؓ کو بھیجا۔ یہ حضرات ذی المجار اور دیگر مقامات پر لوگوں میں گھومے جن جگہوں میں اور حاجتوں کے جمع ہونے کے مقامات میں وہ خریدو فروخت کرتے اور جن سے معاہدہ تھا ان کو جا کر بتایا ان کو چار ماہ تک امن ہے اور یہ عزت والے مہینے ہیں جو لگا تار گزرے ہیں ذی الحجہ کی آخری بیس (دنوں) سے لے کر ربیع الاول کے پہلے دس دین گزرنے تک ہیں۔ پھر ان کے لئے عہد لیا گیا اور سب لوگوں کو قتال کے بارے میں آگاہ کیا یہاں تک وہ مرجائیں۔
2:۔ عبداللہ بن احمد بن حنبل نے زوائد المسند میں وابو الشیخ وابن مردویہ نے علی ؓ سے روایت کیا کہ جب نبی کریم ﷺ پر سورة براۃ میں سے دس آیات نازل ہوئیں تو آپ نے ابوبکر کو بلایا تاکہ وہ ان (آیات) کو مکہ والوں پر پڑھیں پھر مجھ کو بلایا اور مجھ سے فرمایا کہ میں ابوبکر کو پالوں جہاں بھی اس سے ملاقات ہوا اور اس سے کتاب لے لوں۔ ابوبکر ؓ لوٹ آئے اور عرض کیا یارسول اللہ میرے بارے میں کوئی حکم نازل ہوا ہے فرمایا نہیں لیکن جبرائیل میرے پاس آئے اور فرمایا کہ پیغام آپ یا آپ کے اہل بیت کے کسی آدمی کے سوا کوئی بھی وہ حکم آپ کی طرف سے نہیں پہنچا سکے گا۔
3:۔ ابن ابی شیبہ واحمد والترمذی (اور آپ نے اس کو حسن کہا) وابوالشیخ وابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے ابوبکر ؓ کو سورة براۃ (کے احکام) دے کر بھیجا پھر ان کو بلالیا اور فرمایا کہ کسی کے لئے یہ لائق نہیں کہ وہ اس (پیغام) کو پہنچائے مگر میرے خاندان میں سے کوئی آدمی ہو پھر انکے پیچھے علیؓ کو بلایا اور ان کو (پیغام پہنچانے کا کام) عطا فرمایا۔
4:۔ ابن مردویہ نے سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر ؓ کو سورة براۃ (کا حکم) دے کر مکہ والوں کی طرف بھیجا پھ ان کے پیچھے علی کو بھیجا انہوں نے وہ سورت ان سے لے لی اور ابوبکر ؓ نے اپنے دل میں سے کچھ (ملال سا) پایا (کہ مجھ سے کام لے لیا گیا) تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا اے ابوبکر ؓ میرے اور میرے اہل کے کسی آدمی کے سوا میری طرف سے وہ کوئی نہیں پہنچا سکتا۔
مشرکین سے برات کا اعلان :
5:۔ ابن ابی حاتم نے سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے علی کو چار (کاموں) کے ساتھ بیجھا ہرگز کوئی ننگے ہو کر بیت اللہ کا طواف نہیں کرے گا۔ اور اس سال کے بعد مسلمان اور مشرک اکٹھے نہیں ہوں گے اور جس کا معاہدہ تھا رسول اللہ ﷺ اور اس کے درمیان تو وہ اپنے معاہدہ تک باقی رہے گا۔ اور بلاشبہ اللہ اور اس کا رسول مشرکین سے بری ہے۔
6:۔ احمد و نسائی وابن منذر وابن مردویہ ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ میں علی ؓ کے ساتھ تھا جب رسول اللہ ﷺ نے انکو بھیجا علی کو چار کا موں کے ساتھ بھیجا ننگے ہو کر بیت اللہ کا طواف نہیں کرے گا اس سال کے بعد مسلمان اور مشرک اکٹھے نہیں ہوں گے اور جس کسی کا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کوئی عہد ہے تو وہ اپنے عہد کی پاسداری کرے گا اور بلاشبہ اللہ اور اس کا رسول مشرکین سے بری ہیں۔
7:۔ احمد و نسائی وابن منذر وابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ میں علی کے ساتھ تھا جب رسول اللہ ﷺ نے علی کو مکہ والوں کی طرف سورة براۃ دے کر بھیجا۔ ہم آواز لگاتے تھے کہ جنت میں مومن کے علاوہ کوئی بھی ہرگز داخل نہ ہوگا۔ اور ننگے ہو کر بیت اللہ کا طواف نہیں کرے گا۔ اور جس آدمی کا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کوئی معاہدہ ہے تو اس کا معاملہ اور اس کی مدت چار ماہ تک ہے۔ جب چار ماہ گزر جائیں گے تو اللہ اور اس کے رسول مشرکین سے بری ہوجائیں گے اور اس سال کے بعد کوئی مشرکین اس بیت اللہ کا حج نہیں کرے گا۔
8:۔ عبدالرزاق وابن منذر وابن ابی حاتم نے سعید بن مسیب (رح) کے واسطے سے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ ابوبکر ؓ نے ان کو حکم دیا کہ وہ ابوبکر ؓ کے حج کے دروان برات کا اعلان کریں ابوہریرہ کا بیان ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ہمارے پیچھے علی کو بھیجا اور ان کو حکم فرمایا کہ وہ برات کا اعلان کریں گے اور ابوبکر ؓ احکام حج بیان کریں گے جیسا کہ وہ اس کام پر مقرر ہیں یا فرمایا ابوبکر ؓ اپنی ہیئت پر رہیں گے۔
9:۔ ابن مردویہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر ؓ کو حج پر مقرر فرمایا۔ پھر علی ؓ کو (سورۃ) براءۃ (کا حکم) دے کر ان کے پیچھے بھیج دیا۔ پھر نبی کریم ﷺ نے اگلے سال حج ادا فرمایا پھر آپ واپس تشریف لائے اور وفات پاگئے۔ ابوبکر ؓ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے عمر ؓ کو حج پر مقرر فرمایا پھر ابوبکر ؓ نے اگلے سال حج (ادا) کیا پھر وہ وفات پاگئے پھر عمر ؓ خلیفہ ہوئے اور انہوں نے عبد الرحمن بن عوف ؓ کو حج پر مقرر فرمایا اس کے بعد پھر آپ حج کرتے رہے یہاں تک کہ فوت ہوگئے۔ پھر عثمان ؓ خلیفہ ہوئے اور انہوں نے عبدالرحمن بن عوف ؓ کو حج پر مقرر فرمایا پھر وہ بھی حج کرتے رہے یہاں تک کہ شہید کردیئے گئے۔
10:۔ ابن حبان وابن مردویہ نے ابوسعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر ؓ کو بھیجا تاکہ وہ آپ کی طرف سے (سورۃ) براۃ کے احکام پہنچائیں۔ پھر آپ نے علی ؓ کو بھیجا اپنی اونٹنی عضباء پر سوار فرمایا وہ چلے اور ابوبکر ؓ کو (راستے میں) مل گئے اور ان سے براۃ کا حکم واپس لے لیا۔ ابوبکر ؓ نبی کریم ﷺ کے پاس لوٹ آئے تو عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میرے لئے کوئی حکم نازل ہوگیا ہے۔ جب وہ آپ کے پاس آئے تو عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میرے لئے کیا بات ہوئی ؟ آپ نے فرمایا خیر کی بات ہے تو میرا بھائی اور غار میں میرا ساتھی ہے اور تو میرے ساتھ حوض پر ہوگا مگر وہ سورة برات کے احکام میرے یا میرے اہل بیت کے کسی فرد کے سوا اور کوئی نہیں پہنچا سکتا تھا (اس لئے حضرت علی ؓ کو بھیجا)
صدیق اکبر ؓ امیر الحجاج :
11:۔ ابن مردویہ نے ابو رافع ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر کو (سورۃ) براءۃ (کے احکام) دیکر حج کے لئے بھیجا۔ جبرئیل تشریف لائے اور فرمایا بلاشبہ آپ ؓ آپ کے اہل کے کسی فرد کے سوا وہ احکام کوئی ہرگز نہیں بھیج سکے گا۔ تو آپ نے حضرت علی ؓ کو ابوبکر ؓ کے پیچھے بھیجا یہاں تک کہ وہ ان کو مکہ اور مدینہ کے درمیان مل گئے علی اور وہ احکام ان سے لے لئے۔ اور حج کے درمیان لوگوں کو پڑھ کر (سنائے)
12:۔ بخاری ومسلم وابن منذر وابن مردویہ والبیہقی نے دلائل میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ ابوبکر ؓ عنہنے اس حج میں اعلان کرنے والوں میں مجھ کو بلابھیجا اور آپ نے ان کو قربانی کے دن بھیجا اور وہ منی میں اعلان کرے کی اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرے گا۔ اور ننگے ہو کر بیت اللہ کا طواف نہیں کرے گا۔ پھر نبی کریم ﷺ نے علی بن ابی طالب ؓ کو ان کے پیچھے بھیجا۔ اور اس کو حکم فرمایا کہ وہ برات کا اعلان کریں تو علی ؓ نے ہمارے ساتھ منی والوں میں اعلان فرمایا قربانی کے دن کے اس سال کے لئے مشرک حج نہیں کرے گا اور ننگے ہو کر بیت اللہ طواف نہیں کرے گا۔
13:۔ ترمذی (اور آپ نے اس کو حسن فرمایا) وابن حاتم والحاکم (اور آپ نے اس کو صحیح کہا) اور ابن مردویہ والبیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر ؓ کو بھیجا اور ان کو حکم فرمایا کہ وہ ان کلمات کے ساتھ اعلان کریں گے پھر ان کے پیچھے علیؓ کو بھیجا اور ان کو حکم فرمایا کہ وہ بھی ان کلمات کے ساتھ اعلان کریں دونوں حضرات چلے اور حج کیا پھر ایام تشریق میں علی ؓ کھڑے ہوگئے اور آواز لگائی (آیت) ” ان اللہ بریء من المشرکین ورسولہ فسیحوا فی الارض اربعۃ اشھر ‘ اور سال کے بعد مشرک ہرگز حج نہیں کرے گا اور ننگے ہو کر بیت اللہ کا طواف ہرگز نہیں کرے گا اور جنت میں مومن کے سوا کوئی داخل نہیں ہوگا علی ان کلمات کے ساتھ آواز لگا رہے تھے۔
14:۔ سعید بن منصور وان ابی شیبہ واحمد الترمذی اور آپ نے اس کو صحیح کہ اوابن منذر والنحاس والحاکم اور آپ نے اس کو صحیح کہا وابن مردویہ والبیہقی نے دلائل میں زید بن تبیع ؓ سے روایت کیا کہ ہم نے علی ؓ سے سوال کیا کہ کس چیز کے ساتھ آپ کو ابوبکر ؓ کے ساتھ بھیجا گیا تھا حج میں انہوں نے فرمایا چار چیزوں کے ساتھ کہ جنت میں مومن کے سوا کوئی داخل نہ ہوگا۔ ننگے ہو کر بیت اللہ کا طواف کوئی نہیں کرے گا۔ اور اس سال کے بعد مسجد حرام میں مومن اور کافر جمع نہیں ہوں گے اور جس آدمی کا رسول اللہ ﷺ کے درمیان کوئی عہد تھا۔ تو اس کا عہد اس کی مدت تک ہوگا اور جس آدمی کا کوئی عہد نہ تھا تو اس کی مدت چار ماہ ہے۔
15:۔ اسحاق بن راہویہ والدارمی والنسائی وابن خزیمہ وابن حبان وابوالشیخ وابن مردویہ والبیہقی نے دلائل میں حضرت جابر ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت ابوبکر ؓ کو حج پر بھیجا پھر حضرت علی ؓ (سورۃ) براۃ (کا حکم) دیکر بھیجا پس انہوں نے موقف حج میں لوگوں کو مکمل سورة برات پڑھ کر سنائی۔
16:۔ بیہقی نے دلائل میں عروہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے (ہجرت کے) نویں سال میں ابوبکر ؓ کو لوگوں پر امیر بنا کر بھیجا اور ان کو حج کے احکام لکھ کردیئے۔ اور علی بن ابی طالب ؓ کو سورة براۃ کی آیات دیکر بھیجا اور اس کا حکم فرمایا کہ مکہ، منی، عرفہ اور تمام مشاعر حج میں اعلان کردیں گے۔ اللہ اور اس کا رسول بری ہے اس کی ذمہ داری سے اس سال کے بعد جس مشرک نے بھی حج کیا۔ یا بیت اللہ کا ننگا طواف کیا اور جس شخص کا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کوئی معاہدہ ہو اس کی مدت چار ماہ ہے۔ علی اپنی سواری پر سب لوگوں میں چلے اور ان پر قرآن پڑھتے رہے (براءۃ من اللہ ورسولہ) اور ان پر یہ آیت بھی پڑھی۔ (آیت) یبنی ادم خذو ازینتکم عند کل مسجد “ (الاعراف آیت 31)
17:۔ ابوالشیخ نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ مجھ کو رسول اللہ ﷺ نے (سورۃ) براءۃ (کا حکم) دیکر یمن کی طرف بھیجا میں نے عرض کیا یارسول اللہ آپ مجھ کو بھیج رہے ہیں حالانکہ میں ایک نوجوان لڑکا ہوں اور مجھ سے قضاء کے بارے میں سوال کریں گے اور میں نہیں جانتا کہ میں کیا جواب دوں ؟ آپ نے فرمایا اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ یہ سورت تو لے کر جائے یا میں اس کو لے کر جاوں۔ میں نے عرض کیا اگر یہ ضروری ہے تو میں جاتا ہوں آپ نے فرمایا تو چلا جا کہ اللہ تعالیٰ تیری زبان کو ثابت کردیں گے اور تیرے دل کو ہدایت دیں گے۔ پھر فرمایا تو چلا جا اور اس (حکم) کو لوگوں کے سامنے پڑھ دے۔
18۔ ابن منذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” برآء ۃ من اللہ ورسولہ “ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لئے حد مقرر فرما دی جنہوں نے رسول اللہ ﷺ سے معاہدہ کیا تھا چار ماہ کی کہ وہ اس (مدت) میں چلیں پھریں جہاں چاہیں اور اس آدمی کی بھی حد مقرر فرمادی جس کا کوئی معاہدہ نہ تھا (یعنی) عزت والے چار ماہ قربانی کے دن سے محرم کی پچاس راتوں کے گزرنے تک جب عزت والے مہینے گزر گئے تو ان کا حکم فرمایا کہ جن کے ساتھ معاہدہ ہے ان کے بارے میں تلوار اٹھائیں اگر وہ اسلام میں داخل نہیں ہوئے جو کچھ بھی ان کے ساتھ عہد ہوا وہ توڑ دیں۔ اگرچہ پہلی شرط ختم ہوجائے۔ فرمایا (آیت) ” الا الذین عہدتم عند المسجد الحرام “ سوائے مکہ والوں کے جن سے تم نے مسجد حرام کے پاس معاہدہ کیا۔
19:۔ نحاس نے اپنی ناسخ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ قوم کے کئی معاہدے تھے تو اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو حکم فرمایا کہ ان کو چارماہ کی مہلت دیں اس میں گھوم پھر لیں اس کے بعد ان کا کوئی معاہدہ نہیں ہے اور اس کے بعد وہ سب (معاہدے) باطل قرار دے دیئے۔ اور جن قوموں کے ساتھ کوئی عہد نہیں تھا تو ان کی مدت پچاس دن ہے۔ ذی الحجہ میں بیس دن اور محرم سارا مہینہ اس کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” فاذا انسلخ الاشہر الحرم فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموہم “ (التوبہ آیت 5) راوی نے کہا کہ اس آیت کے بعد رسول اللہ ﷺ نے کوئی معاہدہ نہیں کیا۔
20:۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” برآء ۃ من اللہ ورسولہ “ کے بارے میں فرمایا کہ ان کے معاہدوں سے رسول اللہ ﷺ نے برات کا اعلان فرمایا جسے اللہ عزوجل نے ذکر فرمایا۔
21:۔ عبد الرزاق وابن جریر وابن ابی حاتم والنحاس نے زہری (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” فسیحوا فی الارض اربعۃ اشھر “ کے بارے میں فرمایا (یہ آیت) شوال میں نازل ہوئی اور چار ماہ سے مراد۔ شوال ذوالقعدہ، ذی الحجۃ اور محرم ہیں۔
Ayah 9:31:۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” و اذان من اللہ ورسولہ “ یعنی یہ اعلان ہے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے حکیم بن حمید (رح) سے روایت کیا کہ مجھ سے علی بن حسین (رح) نے فرمایا کہ علی ؓ کا ایک نام اللہ کی کتاب میں سے لیکن وہ لوگ اس کو نہیں جانتے میں نے عرض کیا وہ کیا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا کے علی کا ایک نام اللہ کی کتاب میں ہے لیکن وہ لوگ اس کو نہیں جانتے میں نے عرض کیا وہ کیا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ تو نے اللہ تعالیٰ کا یہ قول نہیں سنا (آیت) ” و اذان من اللہ ورسولہ الی الناس یوم الحج الاکبر “ اللہ کی قسم وہ اسم اذان ہے۔
3:۔ ترمذی وابن منذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے علی ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے حج اکبر کے دن کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ وہ قربانی کا دن ہے۔
4:۔ ابن ابی شیبہ والترمذی وابوالشیخ نے علی ؓ سے روایت کیا کہ حج اکبر کا دن وہ قربانی کا دن ہے۔
5:۔ ابن مردویہ نے ایک ضعیف سند سے علی ؓ سے روایت کیا کہ چار باتوں میں میں نے رسول اللہ ﷺ سے حفظ کیا ہوا ہے کہ درمیانی نماز عصر کی نماز ہے اور حج اکبر قربانی کا دن ہے اور (آیت) ” وادبار السجود “ سے مراد دو رکعتیں ہیں مغرب کے بعد اور (آیت) ” ادبارالسجود “ سے مراد دو رکعتیں ہیں فجر کی نماز سے پہلے۔
6:۔ ترمذی وابن مردویہ نے حضرت عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حجۃ الوداع میں حاضر تھا۔ آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد اور ثنا بیان کی اور ذکر اور وعظ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا آج کونسا دن ہے زیادہ عزت والا آج کونسا دن ہے زیادہ عزت والا۔ آج کونسا دن ہے زیادہ عزت والا لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ آج حج اکبر کا دن ہے۔
7:۔ ابوداود والنسائی والحاکم نے اور آپ نے اس کو صحیح کہا عبداللہ بن قرط ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قربانی کے دنوں میں سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک عظیم ترین دن یوم القر ہے (جو قربانی کے دن کے متصل بعد آتا ہے اور گیارہویں ذی الحجۃ کا دن ہے)
8:۔ ابن مردویہ نے ابن ابی اوفی ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ قربانی کا دن حج اکبر کا دن ہے۔
9:۔ بخاری نے تعلیقا وابوداود وابن ماجہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ وابن مردویہ وابو نعیم نے حلیہ میں ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ قربانی کے دن جمعرات کے درمیان ٹھہرے جب آپ نے حج ادا فرمایا اور پوچھا یہ کون سا دن ہے صحابہ نے عرج کیا یہ قربانی کا دن ہے آپنے فرمایا یہی دن یوم الحج الاکبر ہے۔
حج اکبر کا دن کون سا ہے :
10:۔ بخاری ومسلم ابو داود اور نسائی وابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ ابوبکر ؓ نے مجھ کو ان لوگوں میں بھیجا جو منی میں قربانی کے دن منی میں یہ اعلان کریں گے کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرے گا اور ننگے ہو کر بیت اللہ کا کوئی طواف نہیں کرے گا۔ اور حج اکبر کا دن قربانی کا دن ہے اور حج اکبر میں حج ہے اور کے حج اصغر کہنے کی وجہ سے اس کو حج اکبر کہا گیا اور ابوبکر ؓ نے اس سال میں لوگوں کی طرف سے یہ پہنچا دی کہ حضۃ الوداع کے سال جس میں رسول اللہ ﷺ نے حج کیا تھا کسی مشرک نے حج نہیں کیا اور اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) ” یایھا الذین امنوا انما المشرکون نجس “ الآیہ (التوبۃ آیت 37)
11:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ حج اکبر قربانی کا دن ہے۔
12:۔ سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وابن جریر نے مغیرہ بن شعبہ ؓ سے عید الاضحی کے دن خطبہ دیتے ہوئے نقل کیا کہ آج قربانی کا دن ہے اور آج حج اکبر کا دن ہے۔
13:۔ ابن ابی شیبہ نے ابو جحیفہ (رح) سے روایت کیا کہ حج اکبر قربانی کا دن ہے۔
14:۔ ابن ابی شیبہ نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ حج اکبر وہ قربانی کا دن ہے۔
15:۔ عبدالرزاق و سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وابن جریر وابو الشیخ نے عبید اللہ بن ابی اوفی ؓ سے روایت کیا کہ حج اکبر وہ دن قربانی کا ہے۔ اس میں بال کٹوائے جاتے ہیں اور خون بہایا جاتا ہے ا۔ اور اس میں حرام کردہ چیزیں حلال ہوجاتی ہیں (یعنی وہ چیزیں جو احرام کی وجہ سے حرام تھیں وہ حلال ہوجاتی ہیں )
16:۔ طبرانی وابن مردویہ نے سمرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا یوم الحج الاکبر سے مراد وہ دن ہے جس میں ابوبکر نے لوگوں کے ساتھ حج کیا۔
17:۔ ابن مردویہ نے سمرہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے یوم الحج الاکبر کے بارے میں فرمایا کہ وہ ایک سال تھا جس میں مسلمانوں اور مشرکوں نے تین دنوں میں حج کیا اور یہود و نصاری بھی تین دن حج کرتے تھے پھر مسلمان مشرکین اور یہود و نصاری چھ دنوں میں حج کرنے پر متفق ہوئے۔
18۔ ابن ابی شیبہ نے ابن عون ؓ سے روایت کیا کہ میں نے امام محمد (رح) سے حج اکبر کے دن کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا یہ وہ دن تھا جس میں رسول اللہ ﷺ کا حج اور ملل والوں کا حج باہم مل گئے۔
19:۔ طبرانی نے سمرہ بن جندب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح کے زمانے میں فرمایا کہ یہ حج اکبر کا سال ہے اور فرمایا کہ (اس میں) مسلمان کا حج اور مشرکین کا حج لگا تارتین دنوں میں جمع ہوگئے ہیں پس مسلمانوں مشرکوں اور نصاری اور یہودیوں کا لگا تارحج تین دنوں میں جمع ہوگیا اور جب سے اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا اس سال سے پہلے یہ اس طرح جمع نہیں ہوا اور اس سال کے بعد پھر قیامت قائم ہونے تک کبھی جمع نہیں ہوگا۔
20:۔ عبدالرزاق وابن وابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ ان سے حج اکبر کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا تم کو اور حج اکبر کو کیا ہے ؟ یہ وہ سال تھا جس میں ابوبکر ؓ سے حج کیا رسول اللہ ﷺ نے ان کو خلیفہ بنایا تو انہوں نے لوگوں کو حج کرایا اور اس میں مسلمان اور مشرک اکھٹے تھے اس لئے اس کو حج اکبر کا نام دیا گیا اور یہودی و نصاری کی عید باہم موافق ہوگئی۔
21:۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن مسیب (رح) سے روایت کیا کہ حج اکبر قربانی کا دن کے بعد متصل دوسرا دن ہے کہ تو نے نہیں دیکھا کہ امام اس میں خطبہ دیتا ہے۔
22:۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے مسور بن مخرمہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ عرفات کا دن حج اکبر کا دن ہے۔
23:۔ ابن سعد وابن ابی شیبہ وابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ نے عمربن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ حج اکبر کا دن عرفات کا دن ہے۔
24:۔ ابن جریر نے ابو صہبا بکری (رح) سے روایت کیا کہ میں نے علی ؓ سے حج اکبر کے دن کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ عرفات کا دن ہے۔
25:۔ ابوعبید ابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عرفان کے دن حج اکبر کا دن ہے یہ فخر اور مباحاۃ کا دن ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ آسمان کے فرشتوں میں زمین والوں کے بارے میں فخر فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں میرے پاس آئے ہیں پراگندہ اور غبارآلودہ بالوں کے ساتھ مجھ پر ایمان لائے ہیں حالانکہ مجھ کو نہیں دیکھا اور میری عزت کی قسم میں ضرور ان کی مغفرت کروں گا۔
26:۔ ابن جریر نے معقل بن داود (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن زبیر کو عرفات کے دن یہ کہتے ہوئے سنا کہ یہ دن انہوں نے حج اکبر ہے۔
27:۔ ابن ابی شیبہ نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ ان سے سوال کیا گیا کہ یہ حج اکبر ہے اور حج اصغر کیا ہے تو انہوں نے فرمایا وہ رمضان میں عمرہ کرنا ہے۔
28:۔ ابن ابی شیبہ نے ابو اسحاق (رح) سے روایت کیا کہ میں نے عبداللہ بن شداد ؓ سے حج اکبر کے بارے میں میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا حج اکبر قربانی کا دن ہے اور حج اصغر عمرہ ہے۔
29:۔ ابن ابی شیبہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ یہ کہا جاتا تھا کہ عمرہ چھوٹا حج ہے۔
30:۔ ابن ابی حاتم نے ابو خیوہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان اللہ بری ٓ ء من المشرکین ورسولہ “ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول مشرکین سے بری ہے۔
ورسولہ کو صحیح پڑھا جائے :
31:۔ ابوبکر محمد بن القاسم الانباری نے کتاب الوقف والا بتداء میں وابن عساکر نے اپنی تاریخ میں ابن ابی ملیکہ (رح) سے روایت کیا کہ ایک دیہاتی عمر ؓ کے زمانہ میں آیا اور کہا کون مجھ کو پڑھائے گا جو اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کے ساتھ پڑھا۔ تو دیہاتی نے کہا کیا اللہ تعالیٰ بری ہوگیا اپنے رسول سے اگر اللہ تعالیٰ اپنے رسول سے بری ہیں تو میں بھی اس سے بری ہوتا ہوں۔ دیہاتی کی یہ بات حضرت عمر ؓ کو پہنچی تو انہوں نے اس کو بلایا اور فرمایا اے دیہاتی ! کیا تو رسول اللہ ﷺ سے بری ہوتا ہے۔ اس نے کہا اے امیرالمومنین میں مدینہ آیا اور میں قرآن نہیں جانتا تھا میں نے سوال کیا کون مجھ کو پڑھائے گا تو مجھ کو (ایک آدمی نے) یہ سورة براۃ پڑھائی اور کہا (آیت) ” ان اللہ بریء من المشرکین ورسولہ “ تو میں نے کہا اگر اللہ تعالیٰ اپنے رسول سے بری ہیں تو میں بھی اس سے بری ہوتا ہوں حضرت عمر ؓ عنہنے فرمایا اے دیہاتی ایسا نہیں ہے اس نے کہا اے امیر المومنین پھر کیسے ہے تو عمر ؓ نے فرمایا (آیت) ” ان اللہ بریء من المشرکین ورسولہ “ تو دیہاتی نے کہا اور میں اللہ تعالیٰ کی قسم ان چیزوں سے بری ہوتا ہوں جن نے اللہ اور اس کا رسول بری ہوئے تو حضرت عمر ؓ نے حکم فرمایا کہ لوگوں کو کوئی نہ پڑھائے مگر جو لغت کو جاننے والا ہوا ور انہوں نے ابوالاسود کو حکم فرمایا تو انہوں نے (علم) نحو کو وضع کیا۔
32:ـ۔ ابن انباری نے عباد مھلبی (رح) سے روایت کیا کہ ابوالاسود ولی نے ایک آدمی کو (یہ آیت) ” ان اللہ بریء من المشرکین ورسولہ “ کے الفاظ کسرہ کے ساتھ پڑھتے ہوئے سنا۔ تو انہوں نے فرمایا کہ میں یہ صلاحیت رکھتا ہوں کہ ایسے اصول وضع کروں جن کے سبب ایسی غلطی کی اصلاح ہوجائے۔ یا اسی مفہوم کی کوئی بات فرمائی۔
33:۔ ابن ابی حاتم نے محمد بن مسہر (رح) سے روایت کیا کہ اما قولہ (آیت) ” وبشرالذین الذین کفروا بعذاب الیم “ کہ انہوں نے سفیان بن عبید سے بشارت کے بارے میں پوچھا کیا وہ کس مکروہ اور ناپسندیدہ چیز کے بارے میں ہوتی ہے۔ تو انہوں نے فرمایا کیا تو نے اللہ تعالیٰ کا یہ قول نہیں سنا ’ (آیت) ” وبشرالذین الذین کفروا بعذاب الیم “
Ayah 9:41:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” الا الذین عھدتم من المشرکین “ سے مراد قریش کے وہ مشرک ہیں جن سے اللہ کے نبی ﷺ نے حدیبیہ کے زمانہ میں معاہدہ کیا تھا اور قربانی کے دن کے بعد اس کی مدت میں سے چار ماہ باقی تھے تو اللہ تعالیٰ نے اپنی نبی ﷺ کو حکم فرمایا کہ ان کے ساتھ اس معاہدہ کو ان کی مدت تک پورا کریں۔
2:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ نے محمد بن عباد بن جعفر (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” الا الذین عھدتم من المشرکین “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ مشرکین بنوخزیمہ بن عامر اور بنوبکر بن کنانہ ہیں۔
3:۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ثم لم ینقصوکم شیئا “ کے بارے میں فرمایا کہ اگر مشرکین اپنے عہد کو توڑ دیں اور وہ دشمن پر غلبہ پالیں ان کے لئے کوئی معاہدہ نہیں اور اگر وہ اپنے عہد کو پورا کریں جو ان کے اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان قائم ہے۔ اور وہ آپ پر غلبہ پانے کی کوشش نہ کریں تو ان کو حکم دیا گیا کہ آپ ان کے عہد کو قائم رکھیں اور اس کو پورا کریں۔
4:۔ ابن ابی حاتم نے م جاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” فاتموا الیہم عہدہم الی مدتہم “ کے بارے میں فرمایا کہ قبیلہ بنومدلج اور خزاعہ سے عہد تھا اور اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” فاتموا الیہم عہدہم الی مدتہم “ (کہ ان کی مدت تک ان کے عہد کو پورا کریں)
5:۔ ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” الا الذین عھدتم من المشرکین “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ بنوحمزہ وبنومدیح حیان کے لوگ تھے بنوکنانہ میں سے یہ نبی کریم ﷺ کے حلیف تھے غزوۃ العسرہ میں جو بنو تبیع سے تھا (پھر فرمایا) (آیت) ” ثم لم ینقصوکم شیئا “ یعنی پھر انہوں نے اپنے معاہدہ کو نہیں توڑا دھوکہ دیتے ہوئے (اور) (آیت) ” ولم یظاھروا “ یعنی ہم پر تمہارے دشمن کی مدد نہیں کی (آیت) ” فاتموا الیہم عہدہم الی مدتہم “ یعنی ان کی مدت کو پورا کرو جو ان کے لئے تم نے شرط لگائی تھی (آیت) ” ان اللہ یحب المتقین “ یعنی وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے ہیں ان چیزوں میں جو ان پر حرام کی گئیں اور وہ عہد کو پورا کرتے ہیں۔ راوی نے کہا کہ ان آیات کے نازل ہونے کے بعدنبی کریم ﷺ نے کسی کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں فرمایا۔
Ayah 9:51:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فاذا انسلخ الاشھر الحرم “ اشھر الحرام سے مراد چار مہینے ہیں ذی الحجۃ میں سے چوبیس دن اور محرم صفر، ربیع الاول اور ربیع الاخر کے مہینہ میں سے بیس دن۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فاذا انسلخ الاشھر الحرم “ سے مراد ہے ذوالقعد میں سے دس دن اور ذی الحجۃ اور محرم اور یہ ستر راتیں ہیں۔
اشھر حرم چار ماہ ہیں ـ:
3:۔ ابوالشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فاذا انسلخ الاشھر الحرم “ سے وہ چار ماہ مراد ہیں کہ جن کے بارے میں (اللہ تعالیٰ نے) فرمایا (آیت) ” فسیحوا فی الارض اربعۃ اشھر “ (براۃ آیت 2)
4:۔ ابن منذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” فاذا انسلخ الاشھر الحرم “ کے بارے میں فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ اور قریش کے درمیان قربانی کے دن کے بعد چارماہ کا معاہدہ تھا۔ یہ ان کی مدت باقی تھی اور جن کا کوئی عہد نہیں تھا ان کے لئے محرم گزرنے کی مہلت تھی تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ کو حکم فرمایا جب یہ مدت گزر جائے تو ان سے حل میں اور حرم اور بیت اللہ کے نزدیک میں قتال کرو یہاں تک یہ لوگ لا الہ الا اللہ وان محمد رسول اللہ کی گواہی دیں۔
5:۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ اللہ کی کتاب میں ہر وہ آیت جس میں نبی کریم ﷺ اور مشرکین میں سے کسی ایک کے درمیان معاہدے کا ذکر ہے تو ہے تو ہر عہد اور مدت کو سورة براۃ نے منسوخ کردیا کیونکہ فرمایا (آیت) ” وخذوھم واحصروہم واقعدوالہم کل مرصد “
6:۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید ؓ سے روایت کیا (آیت) ” واحصروہم “ یعنی ان پر تنگی کرو اور فرمایا (آیت) ” واقعدوالہم کل مرصد “ یعنی ان کو چھوڑو کہ وہ شہروں میں پھرتے رہیں کہ نہ ان کو تجارت کے لئے نکلنے دو ۔
7:۔ ابن ابی حاتم نے ابو عمران جونی (رح) سے روایت کیا کہ اللہ کی کتاب میں رباد کا معنی (آیت) ” واقعدوالہم کل مرصد “ (کہ ان کے لئے ہر گھات میں بیٹھو)
8:۔ ابوداود اور نے اپنی ناسخ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فاذا انسلخ الاشھر الحرم فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموھم “ (کا حکم) پھر منسوخ کردیا گیا اور استثناء کرتے ہوئے فرمایا (آیت) ” فان تابوا واقاموا الصلوۃ واتو الزکوۃ فخلوا سبیلہم “ اور فرمایا (آیت) ” وان احدمن المشرکین استجارک فاجرہ حتی یسمع کلم اللہ “ (التوبہ آیت 6) واما قولہ تعالیٰ :ـ ” فان تابوا “ (الآیہ)
9:۔ ابن ماجہ ومحمد بن نصر المروزی نے کتاب الصلاۃ میں والزاروابو یعلی وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ والحاکم اور آپ نے اس کو صحیح کہا وابن مردویہ والبیہقی نے شعب الایمان میں ربیع ابن انس کے راستے سے انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے دنیا کو اس حال میں چھوڑا کہ وہ اعتقاد رکھتا تھا کہ عبادت کے لائق صرف اور صرف اللہ وحدہ لاشریک ہے۔ اس نے نماز قائم کیا اور زکوٰۃ کو ادا کیا اور حال میں دنیا کو چھوڑا کہ اللہ تعالیٰ اس سے راضی تھا (پھر) انس ؓ نے فرمایا یہ وہ اللہ کا دین ہے جس کو رسول لے کر آئے اور انہوں نے اپنے رب سے اس کو پہنچایا باتوں کی تیزی اور خواہشات کے اختلاف سے پہلے اور انس ؓ نے فرمایا اور اس کی تصدیق اللہ کی کتاب میں سے جو اتارا گیا اس کے آخر میں یعنی (آیت) ” فان تابوا واقاموا الصلوۃ واتو الزکوۃ فخلوا سبیلہم “ فرمایا ان کی توبہ یہ ہے کہ وہ بتوں کو چھوڑ دیں اور اپنے رب کی عبادت کریں۔
10:۔ ابوالشیخ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فان تابوا واقاموا الصلوۃ واتوا الزکوۃ “ سے مراد ہے کہ اس آیت سے اہل قبیلہ کا خون حرام کردیا گیا۔
11:۔ ابوالشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” فان تابوا واقاموا الصلوۃ واتو الزکوۃ فخلوا سبیلہم۔ ان اللہ غفور رحیم “ کے بارے میں فرمایا کہ لوگ تین گروہ میں ایک مسلمان ہیں جن پر زکوٰۃ ہے دوسرے مشرک ہیں جن پر جزیہ ہے۔ اور تیسرا گروہ حربیوں کا ہے جن کو تجارت کے لئے پناہ اور امن دیا جاتا ہے۔ جب وہ اپنے مال کا دسواں حصہ دیں گے۔
12:۔ حاکم نے اور آپ نے اس کو صحیح کہا مصعب بن عبدالرحمن ؓ سے روایت کیا کہ وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مکہ کو فتح فرمایا پھر طائف کی طرف تشریف لے گئے اور ان کا آٹھ یا سات دن محاصرہ فرمایا پھر آپ نے صبح شام (وہاں سے) کوچ فرمایا پھر ایک جگہ اترے پھر آپ نے (اس جگہ کو) چھوڑ دیا۔ پھر فرمایا اے لوگو میں تم سے آگے بڑھنے والا ہوں یعنی اس دنیا سے جانے والا ہوں۔ اور میں تم کو اپنے اہل بیت کے ساتھ خیر کی وصیت کرتا ہوں اور تمہارا وعدہ حوض کا ہے ( یعنی حوض کوثر پر ملاقات ہوگی قیامت کے دن) اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے تم ضرور نماز کو قائم کرو اور تم ضرور زکوٰۃ کو ادا کرو یا میں ضرور تم پر ایک آدمی اپنی جانب سے بھیجوں گا وہ میری طرح ہی ہوگا تو وہ ضرور ان میں سے لڑنے والوں کی گردنوں کو مارے گا اور ان کی اولاد کو ضرور قیدی بنائے گا لوگوں نے خیال کیا کہ وہ ابوبکر ؓ یا عمر ؓ ہوں گے مگر آپ نے علی کے ہاتھ کو پکڑا اور فرمایا وہ یہ ہے۔
13:۔ ابن سعد نے عبدالرحمن بن ربیع بن ظفری ؓ جو صحابی تھے ان سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے (قبیلہ) اشجع کی طرف قاصد اس سے صدقہ لینے کے لئے بھیجا اس کے پاس قاصد آیا تو اس نے اس کو واپس لوٹا دیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس کی طرف (دوبارہ) جاؤ اگر وہ صدقہ نہ دے تو اس کی گردن ماردو۔
Ayahs 9:6–7ا :۔ ابن منذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ثم ابلغہ مامنہ “ سے مراد ہے کہ اگر وہ اس کے موافق نہ ہو جو فیصلہ اس کے خلاف کیا جارہا ہے اور اس کا ارادہ ہو تو اس کو اس کی امن کی جگہ پہنچا دو اور یہ (حکم) منسوخ نہیں ہے۔
2:۔ ابوالشیخ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان احد من المشرکین استجارک فاجرہ حتی یسمع کلم اللہ “ سے مراد ہے کہ حکم دیا گیا کہ جو شخص اس کا ارادہ کرے کہ کسی مشرک کو امن دے اور اگر وہ اس کو قبول کرے (تو ٹھیک) ورنہ اس کا راستہ چھوڑدو یہاں تک کہ وہ اپنی امن کی جگہ آجائے اور حکم کیا گیا کہ ان کے اس حال پر مال خرچ کریں۔
3:۔ ابوالشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” حتی یسمع کلم اللہ “ یعنی اللہ کی کتاب کو وہ سن لے۔
4:۔ ابوالشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ پھر استثنا کردیا گیا اور اس میں سے منسوخ کرتے ہوئے فرمایا (آیت) ” ان احد من المشرکین استجارک فاجرہ حتی یسمع کلم اللہ “ کلام اللہ سے مراد تیری کلام ہے قرآن کے ذریعہ پھر اس کو امن دے دو (آیت) ” ثم ابلغہ مامنہ “ یعنی وہ اپنے شہروں میں سے اپنی امن کی جگہ پہنچ جائے۔
5:۔ ابوالشیخ نے سعید بن ابی عروہ (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی آتا تھا جب وہ اللہ کی کلام کو سنتا اس کا اقرار کرتا اور اسلام لے آتا پھر اس کو منسوخ کرتے ہوئے فرمایا (آیت) ” وقاتلوا المشرکین کافہ کما یقاتلونکم کآفۃ “ (التوبہ آیت 36) ۔
6:۔ ابن منذر وابوالشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” الا الذین عھدتم عند المسجدالحرام “ سے قریش مراد ہیں۔
7:۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الا الذین عھدتم عند المسجدالحرام “ سے قریش مراد ہیں۔
8:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ نے مقاتل (رح) سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ بعض مشرکین نے معاہدہ کیا اور آپ نے صرف بنوضمرہ بن بکر اور کنانہ پر کچھ لوگوں کے ساتھ معاہدہ فرمایا ان سے مسجد الحرام کے پاس معاہدہ فرمایا اور ان کی مدت کو چار ماہ کردیا۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے ذکر کرتے ہوئے فرمایا (آیت) ” الا الذین عھدتم عند المسجدالحرام فما استقاموا لکم فاستقیموا لہم “ یعنی اگر وہ تمہارے لئے وعدہ کو پورا کریں تو تم بھی ان کے لئے وعدہ کو پورا کرو۔
9:۔ ابن حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الا الذین عھدتم عند المسجدالحرام “ سے بنوخزیمہ بن فلاں مراد ہیں۔
ابن ابی حاتم وابوالشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الا الذین عھدتم عند المسجدالحرام “ مراد وہ معاہدہ ہے جو حدیبیہ کے دن ہوا تھا اور فرمایا (آیت) ” فما استقاموا لکم فاستقیموا لہم “ یعنی اگر وہ معاہدہ پر قائم نہ رہیں اور تمہارے عہد کو توڑ دیں اور انہوں نے نبی کریم ﷺ کے خلفاء (قبیلہ) خزاعہ کے خلاف قریش کے خلفاء بنی بکر کی مدد کی۔
Ayah 9:81:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الا ولا ذمۃ “ سے مراد ہے اللہ عزوجل ہیں۔
2:۔ ابن منذر وابوالشیخ نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الاولاذمۃ “ سے مراد ہیں۔
3:۔ طیالسی نے نافع بن ارزق (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ابن عباس سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے قول (آیت) ” الا ولا ذمۃ “ کے بارے میں بتایئے۔ تو انہوں نے فرمایا ” الا ولا “ سے قرابت یعنی رشتہ داری مراد ہے اور ذمہ سے عہد مراد ہے پوچھا کیا عرب کے لوگ اس کو جانتے ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے شاعر کو یہ کہتے ہوئے سنا۔
جری اللہ الا کان بینی وبینہم جزای ظلوم لا یوخر عاجلا
ترجمہ : خبردار سنو میرے اور اس کے درمیان رشتہ قائم ہے اللہ تعالیٰ اس کو جزاء عطا فرمائیے اس ظالم کی جزاء کی طرح جس میں تاخیر نہیں کی جاتی۔
4:۔ ابن انباری نے کتاب الوفق والا ابتداء میں میمون بن مھران (رح) سے روایت کیا کہ نافع بن ارزق نے ابن عباس ؓ سے پوچھا کہ مجھ کو اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” لا یرقبوا فیکم الا والا ذمۃ “ ّ (تو بہ آیت 1) کے بارے میں بتائیے فرمایا اس سے رشتہ داری مراد ہے اور اس بارے میں حسان بن ثابت نے فرمایا۔
یعمرک ان انک من قریش کال السقب من رال النعام
ترجمہ : تیری عمر کی قسم بلاشبہ قریش کے تمہارا قرابت کا تعلق ایسا ہے جیسے اونٹ کے نوزائدہ بچے کی قرابت شترمرغ کے بچے کے ساتھ ہے۔
5:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واکثرہم فسقون “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اکثر لوگوں کی مذمت فرمائی۔
Ayahs 9:9–101:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ نے مجاہدرحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اشتروا بایت اللہ ثمنا قلیلا “ سے مراد ہے کہ ابو سفیان بن حرب نے کہا کہ اپنے حلیفوں کو کھلایا پلایا کرو اور محمد ﷺ کے حلیفوں کو چھوڑ دو ۔
Ayah 9:111:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فان تابوا واقاموا الصلوۃ واتوا الزکوۃ فاخوانکم فی الدین “ سے مراد ہے کہ اگر لات اور عزی (دو بتوں کے نام ہیں) کو چھوڑدیں اور ” لا الہ الا اللہ وان محمد رسول اللہ “ کی گواہی دیں تو وہ دین میں تمہارے بھائی ہیں۔
Ayah 9:121:۔ عبدبن حمید وابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وان نکثوا ایمانہم “ یعنی اپنے عہد کو (اگر وہ توڑ دیں)
2:۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وان نکثوا ایمانہم من بعد عہدہم “ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا کہ اگر وہ اس عہد کو توڑ دیں جو آپ کے اور ان کے درمیان ہے تو پھر آپ ان سے قتال کریں کیونکہ یہ کافروں کے پیشوا ہیں۔
3:۔ عبدالرزاق وابن جریرابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ( آیت) ” ایمۃ الکفر “ سے مراد ہیں ابو سفیان بن حرب بن امیۃ بن حرب عقبہ بن ربیعہ ابوجہل بن ہشام سہیل اور یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے عہد کو توڑا اور رسول اللہ ﷺ کو مکہ سے نکالنے کا ارادہ کیا۔
4:۔ ابن عساکر نے انس بن مالک ؓ سے اسی طرح نقل کیا مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فقاتلوا ایمۃ الکفر “ سے مراد ابوسفیان۔
5:۔ ابوالشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فقاتلوا ایمۃ الکفر “ یعنی ان کفر کے سرداروں سے مراد قریش کے سردار ہیں۔
6:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ وابن مردویہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فقاتلوا ایمۃ الکفر “ یعنی ان کفر کے سرداروں میں ابوسفیان بن حرب بھی ہے۔
7:۔ ابوالشیخ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فقاتلوا ایمۃ الکفر “ سے مراد ہے دیلم۔
8:۔ ابن ابی شیبہ وابن ابی حاتم وابوالشیخ وابن مردویہ نے حذیفہ ؓ سے روایت کا کیا کہ اس آیت کے بارے میں ذکر کیا گیا تو انہوں نے فرمایا اس آیت کے اہل بعد میں قتل کئے گئے۔
آئمہ کفر کے قتل کا حکم :
9:۔ ابن ابی شیبہ والبخاری وابن مردویہ نے زہد بن وھب (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” فقاتلوا ایمۃ الکفر “ کے بارے میں فرمایا کہ ہم حذیفہ ؓ کے پاس تھے تو انہوں نے فرمایا اس آیت کے اصحاب میں صرف تین باقی ہیں اور منافقین میں سے صرف چار باقی ہیں۔ دیہاتی نے کہا بلاشبہ تم لوگ محمد ﷺ کے اصحاب میں سے ہو ہم کو ان امور کے بارے میں بتائیے جو ہم نہیں جانتے کہ وہ کیا ہیں ان لوگوں کا کیا حال ہے۔ جنہوں نے ہمارے گھروں کو پھاڑ دیا اور ہماری نفیس اور قیمتی چیزیں چرالیں انہوں نے فرمایا یہ لوگ نافرمان رہے ہیں۔ ان میں سے چار باقی ہیں ان میں سے ایک بڑا بوڑھا ہے اگر وہ ٹھنڈا پانی پیئے اس کی ٹھنڈک کو نہ پائے۔
10:۔ ابن ابی حاتم نے عبد الرحمن بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ وہ ابوبکر ؓ سے کے زمانہ میں ان لوگوں میں تھا جن کو آپ نے شام کو طرف بھیجا ابوبکر ؓ نے فرمایا عنقریب تم ایسی قوم کو پاوگے جو سروں کو مونڈے ہوئے ہوں گے پس تم ان میں سے شیطان کے بیٹھنے کی جگہ کو تلواروں سے مارو۔ اللہ کی قسم اگر میں ان میں سے ایک آدمی کو قتل کردوں یہ مجھے زیادہ محبوب ہے کہ میں ان کے علاوہ ستر آدمیوں کو قتل کردو اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت) ” فقاتلوا ایمۃ الکفر “
11:۔ ابوالشیخ نے حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لا ایمان لہم “ سے مراد ہے کہ ان کے لئے کوئی عہد نہیں۔
12:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ نے عمار ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لا ایمان لہم “ سے مراد ہے کہ ان کے لئے کوئی عہد نہیں۔
13:۔ ابن مردویہ نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ اللہ کی قسم جب سے یہ آیت ” وان نکثوا ایمانہم من بعد عہدہم “ اتری ہے تو اس آیت کے اہل میں سے کوئی قتل نہیں کیا گیا۔
14:۔ ابن مردویہ نے مصعب بن سعد (رح) سے روایت کیا کہ سعد خوارج میں سے ایک آدمی کے پاس سے گزرے تو خارجی نے سعد کو کہا کہ یہ ائمہ کفر میں سے ہے سعد نے فرمایا تو نے جھوٹ کہا میں نے ائمہ کفر کے ساتھ قتال کیا۔