Ayah 9:16 سورة انفال اوائل ہجرت میں اور یہ سورة براءۃ اواخر ہجرت میں نازل ہوئی۔ آنحضرت ﷺ کی عادت یہ تھی کہ جو آیات قرآنی نازل ہوتیں۔ فرما دیتے کہ ان کو فلاں سورت میں فلاں موقع پر رکھو۔ ان آیات کے متعلق (جنہیں اب سورة " توبہ " یا " براءۃ " کہا جاتا ہے) آپ نے کوئی تصریح نہیں فرمائی کہ کس سورت میں درج کی جائیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مستقل سورت ہے کسی دوسری سورت کا جز نہیں لیکن عام قاعدہ یہ تھا کہ جب نئی سورت نازل ہوتی تو پہلی سورت سے جدا کرنے کے لیے " بسم اللہ " آتی تھی۔ سورة توبہ کے شروع میں " بسم اللہ " نہ آئی۔ جو مشعر ہے کہ یہ جداگانہ سورت نہیں۔ ان وجوہ پر نظر کر کے مصاحف عثمانیہ میں اس کے شروع میں " بسم اللہ " نہیں لکھی گئی لیکن کتابت میں اس کے اور انفال کے درمیان فصل کردیا گیا کہ نہ پوری طرح اس کا استقلال ظاہر ہو اور نہ دوسری سورت کا جز ہونا۔ باقی انفال کے بعد متصل رکھنے کی وجہ یہ ہے کہ مضامین باہم اس قدر مرتبط و منتسق واقع ہوئے ہیں کہ گویا براءۃ کو " انفال " کا تتمہ اور تکملہ کہا جاسکتا ہے۔ سورة انفال تمام تر غزوہ بدر اور اس کے متعلقات پر مشتمل ہے۔ یوم بدر کو قرآن نے " یوم الفرقان " کہا کیونکہ اس نے حق و باطل، اسلام و کفر اور موحدین و مشرکین کی پوزیشن کو بالکل جدا جدا کر کے دکھلا دیا۔ بدر کا معرکہ فی الحقیقت خالص اسلام کی عالمگیر اور طاقتور برادری کی تعمیر کا سنگ بنیاد اور حکومت الٰہی کی تاسیس کا دیباچہ تھا۔ (وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا بَعْضُهُمْ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ ) 8 ۔ الانفال :73) کے مقابلہ میں جس خالص اسلامی برادری کے قیام کی طرف " انفال " کے خاتمہ پر (تَفْعَلُوْهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الْاَرْضِ وَفَسَادٌ كَبِيْرٌ) 8 ۔ الانفال :73) کہہ کر توجہ دلائی ہے اس کا صریح اقتضاء ہے کہ اس عالمگیر برادری کا کوئی طاقتور اور زبردست مرکز حسی طور پر دنیا میں قائم ہو، جو ظاہر ہے کہ جزیرۃ العرب کے سوا نہیں ہوسکتا جس کا صدر مقام مکہ معظمہ ہے " انفال " کے اخیر میں یہ بھی جتلا دیا گیا تھا کہ جو مسلمان مکہ وغیرہ سے ہجرت کر کے نہیں آئے اور کافروں کے زیر سایہ زندگی بسر کر رہے ہیں، دارالاسلام کے آزاد مسلمانوں پر ان کی ولایت ورفاقت کی کوئی ذمہ داری نہیں۔ (مَا لَكُمْ مِّنْ وَّلَايَتِهِمْ مِّنْ شَيْءٍ حَتّٰي يُهَاجِرُوْا) 8 ۔ الانفال :72) ہاں حسب استطاعت ان کے لیے دینی مدد بہم پہچانی چاہیے۔ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ مرکز اسلام میں موالاۃ و اخوت اسلامی کی کڑیوں کو پوری مضبوطی کے ساتھ جوڑنے کے لیے دو باتوں میں سے ایک ہونی چاہیے یا تمام عرب کے مسلمان ترک وطن کر کے مدینہ آجائیں اور اسلامی برادری میں بےروک ٹوک شامل ہوں اور یا آزاد مسلمان مجاہدانہ قربانیوں سے کفر کی قوت کو توڑ کر جزیرۃ العرب کی سطح ایسی ہموار کردیں کہ کسی مسلمان کو ہجرت کی ضرورت ہی باقی نہ رہے یعنی تقریباً سارا جزیرۃ العرب خالص اسلامی برادری کا ایسا ٹھوس مرکز اور غیر مخلوط مستقر بن جائے جس کے دامن سے عالمگیر اسلامی برادری کا نہایت محکم اور شاندار مستقبل وابستہ ہو سکے۔ یہ دوسری صورت ہی ایسی تھی جس سے روز روز کے فتنہ فساد کی بیخ کنی ہوسکتی تھی، اور مرکز اسلام کفار کے اندرونی فتنوں سے بالکل پاک و صاف اور آئے دن کی بدعہدیوں اور ستم رانیوں سے پورا مامون و مطمئن ہو کر تمام دنیا کو اپنی عالمگیر برادری میں داخل ہونے کی دعوت دے سکتا تھا۔ اسی اعلیٰ اور پاک مقصد کے لیے مسلمانوں نے 2 ہجری میں پہلا قدم میدان بدر کی طرف اٹھایا تھا۔ جو آخرکار 6 ہجری میں مکہ معظمہ کی فتح عظیم پر منتہی ہوا جو فتنے اشاعت یا حفاظت اسلام کی راہ میں مزاحم ہوتے رہتے تھے فتح مکہ نے ان کی جڑوں پر تیشہ لگایا۔ لیکن ضرورت تھی کہ (وَقَاتِلُوْهُمْ حَتّٰي لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ) 8 ۔ الانفال :39) کے امتثال میں اسلامی برادری کے مرکز اور حکومت الٰہیہ کے مستقر (جزیرۃ العرب) کو فتنہ کے جرائم سے بالکلیہ صاف کردیا جائے، تاکہ وہاں سے تمام دنیا کو اسلامی دیانت اور حقیقی تہذیب کی دعوت دیتے وقت تقریباً سارا جزیرۃ العرب یک جان و یک زبان ہو اور کوئی اندرونی کمزوری یا خلفشار بیرونی مزاحمتوں کے ساتھ مل کر اس مقدس مشن کو نقصان نہ پہنچا سکے۔ پس جزیرۃ العرب کو ہر قسم کی کمزوریوں اور فتنوں سے پاک کرنے اور عالمگیر دعوت اسلامی کے بلند ترین مقام پر کھڑا کرنے کے لیے لازم ہوا کہ دعوت اسلام کا مرکز خالص اسلامیت کے رنگ میں رنگین ہو۔ اس کے قلب و جگر سے صدائے حق کے سوا کوئی دوسری آواز نکل کر دنیا کے کانوں میں نہ پہنچے۔ پورا جزیرہ سارے جہان کا معلم اور ہادی بنے اور ایمان و کفر کی کشمکش کا ہمیشہ کے لیے یہاں سے خاتمہ ہوجائے۔ سورة براءۃ کے مضامین کا یہی حاصل ہے۔ چناچہ چند روز میں خدا کی رحمت اور سچائی کی طاقت سے مرکز اسلام ہر طرح کے وسائس کفر و شرک سے پاک ہوگیا اور سارا عرب متحد ہو کر شخص واحد کی طرح تمام عالم میں نور ہدایت اور عالمگیر اسلامی اخوت پھیلانے کا کفیل وضامن بنا فللہ الحمد علی ذلک الغرض سورة انفال میں جس چیز کی ابتداء تھی سورة توبہ (براء ۃ) میں اس کی انتہاء ہے۔ اسی لیے " اول بآخر نسبتے دارد " کے موافق " براء ۃ " کو " انفال " کے ساتھ بطور تکملہ ملحق کردیا گیا۔ اور بھی مناسبات ہیں جن کو علماء نے تفاسیر میں بیان کیا ہے۔
Ayah 9:21 6 ھجری میں بمقام " حدیبیہ " جب نبی کریم ﷺ اور قریش کے درمیان معاہدہ صلح ہوچکا تو بنی خزاعہ مسلمانوں کے اور بنی بکر قریش کے حلیف بنے۔ بنی بکر نے معاہدہ کی پروا نہ کر کے خزاعہ پر حملہ کردیا اور قریش نے اسلحہ وغیرہ سے ظالم حملہ آوروں کی مدد کی۔ اس طرح قریش اور ان کے حلیف دونوں معاہدہ حدیبیہ پر قائم نہ رہے جس کے جواب میں 8 ہجری میں نبی کریم ﷺ نے اچانک حملہ کر کے مکہ معظمہ بڑی آسانی سے فتح کرلیا۔ ان قبائل کے سوا دوسرے قبائل عرب سے مسلمانوں کا میعادی یا غیر میعادی معاہدہ تھا۔ جن میں سے بعض اپنے معاہدہ پر قائم رہے۔ بہت سے قبائل وہ تھے جن سے کسی قسم کا معاہدہ نہیں ہوا تھا۔ اس سورت کی مختلف آیات قبائل کے متعلق نازل ہوئیں ہیں۔ شروع کی آیات میں غالباً ان مشرکین کا ذکر ہے جن سے معاہدہ تھا مگر میعادی نہ تھا۔ ان کو اطلاع کردی گئی کہ ہم آئندہ معاہدہ رکھنا نہیں چاہتے۔ چار ماہ کی مہلت تم کو دی جاتی ہے کہ اس مدت کے اندر اسلامی برادری میں شامل ہوجاؤ یا وطن چھوڑ کر مرکز ایمان و توحید کو اپنے وجود سے خالی کردو اور یا جنگی مقابلہ کے لیے تیار ہوجاؤ لیکن یہ خوب سمجھ لینا کہ تم خدا کی مشیت کو روک نہیں سکتے۔ اگر اسلام نہ لائے وہ تم کو دنیا و آخرت میں رسوا کرنے والا ہے۔ تم اپنی تدبیروں اور حیلہ بازیوں سے اسے عاجز نہ کرسکو گے۔ باقی جن قبائل سے کوئی معاہدہ ہی نہ تھا، ممکن ہے انہیں بھی چار ماہ کی مہلت دی گئی ہو۔ یہ اور اس کے بعد کی آیتوں کا اعلان عام 9 ہجری میں حج کے موقع پر تمام قبائل عرب کے سامنے حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے کیا۔
Ayah 9:32 حج کو اکبر اس لیے کہا کہ " عمرہ " حج اصغر ہے اور یوم الحج الاکبر سے دسویں تاریخ " عیدالاضحی کا دن " یا نویں تاریخ " عرفہ " کا دن مراد ہے۔
3 یہ اعلان غالباً ان قبائل کے حق میں تھا جنہوں نے میعادی معاہدہ کیا۔ پھر خود ہی عہد شکنی کی (مثلاً بنی بکر یا قریش وغیرہم) یعنی ایسے لوگوں سے کوئی معاہدہ اب باقی نہیں رہا۔ اگر یہ سب لوگ شرک و کفر سے توبہ کرلیں تو ان کی دنیا و آخرت دونوں سنور جائیں گی۔ نہیں تو خدا کا جو کچھ ارادہ ہے (تطہیر جزیرۃ العرب کا) وہ پورا ہو کر رہے گا۔ کوئی طاقت اور تدبیر اسے مغلوب نہیں کرسکتی اور کافروں کو کفر بدعہدی کی سزا مل کر رہے گی (تنبیہ) ان قبائل کی عہد شکنی اگرچہ فتح مکہ 8 ہجری سے پہلے ہوچکی تھی، بلکہ اسی کے جواب میں مکہ فتح کیا گیا۔ تاہم 9 ہجری کے حج کے موقع پر اس کا بھی اعلان عام کرایا گیا تاکہ واضح ہوجائے کہ اس قسم کے جتنے لوگ ہیں ان سے کسی قسم کا معاہدہ باقی نہیں رہا۔
Ayah 9:44 یہ استثناء ان قبائل کے لیے ہے جن کا معاہدہ میعادی تھا، پھر وہ اس پر برابر قائم رہے کچھ کوتاہی ایفائے عہد میں نہیں کی، نہ بذات خود کوئی کارروائی خلاف عہد کی اور نہ دوسرے بدعہدوں کو مدد پہنچائی (مثلاً بنی ضمرہ و بنی مدلج) ان کے متعلق اعلان کردیا گیا کہ میعاد معاہدہ منقضی ہونے تک مسلمان بھی برابر معاہدہ کا احترام کریں گے۔ میعاد ختم ہونے کے بعد کوئی جدید معاہدہ نہیں۔ اس وقت ان کے لیے بھی وہ ہی راستہ ہے جو اوروں کے لیے تھا۔
Ayah 9:55 استثناء سے فارغ ہو کر پھر مستثنیٰ منہ کا حکم بیان فرماتے ہیں۔ یعنی ان عہد شکنی کرنے والوں سے اگرچہ اب کوئی معاہدہ باقی نہ رہا اور اس لیے علی الفور جنگ کی جاسکتی ہے تاہم " اشہر حرم " کی رعایت مانع ہے کہ فوراً ان پر حملہ کیا جائے خواہ اس لیے کہ اس وقت تک اشہر حرم میں ابتداء قتال کرنا ممنوع ہوگا یا مصلحتا کہ تھوڑی سی بات کے لیے عام لوگوں میں کیوں تشویش پیدا کی جائے کیونکہ ان مہینوں میں قتال کی حرمت ان کے یہاں معروف و مسلم چلی آتی تھی۔ بہرحال ماہ محرم کے ختم تک ان کو مہلت دی گئی کہ جو چاہیں اپنا بندوبست کرلیں۔ اس کے بعد تطہیر جزیرۃ العرب کی خاطر جنگ سے چارہ نہیں۔ جو کچھ برتاؤ جنگ میں ہوتا ہے (مارنا، پکڑنا، گھیرنا، داؤ لگانا، گھات میں رہنا) وہ سب ہوگا، البتہ اگر بظاہر کفر سے توبہ کر کے اسلامی برادری میں داخل ہوجائیں جس کی بڑی علامت نماز ادا کرنا اور زکوٰۃ دینا ہے تو پھر مسلمانوں کو ان سے تعرض کرنے اور ان کا راستہ روکنے کی اجازت نہیں۔ رہا باطن کا معاملہ وہ خدا کے سپرد ہے مسلمانوں کا معاملہ اس کے ظاہر کو دیکھ کر ہوگا۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص کلمہ اسلام پڑھ کر نماز ادا نہ کرے یا زکوٰۃ نہ دے تو مسلمان اس کا راستہ روک سکتے ہیں۔ امام احمد، امام شافعی، امام مالک کے نزدیک اسلامی حکومت کا فرض ہے کہ تارک صلوٰۃ اگر توبہ نہ کرے تو اسے قتل کر دے۔ (امام احمد کے نزدیک رِدَّۃ اور مالک و شافعی کے نزدیک حداً وتعزیراً ) امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ اسے خوب زدوکوب کرے اور قید میں رکھے حَتّٰی یَمُوتُ اَوْیَتُوبُ (حتی کہ مرجائے یا توبہ کرے) بہرحال تخلیہ سبیل کسی کے نزدیک نہیں۔ رہے مانعین زکوٰۃ ان کے اموال میں سے حکومت جبراً زکوٰۃ وصول کرے اور اگر وہ لوگ مل کر حکومت سے آمادہ پیکار ہوں تو راہ راست پر لانے کے لیے جنگ کی جائے۔ حضرت ابوبکر صدیق نے مانعین زکوٰۃ پر جو جہاد کیا تھا اس کا واقعہ کتب حدیث و تاریخ میں مشہور و معروف ہے۔
Ayah 9:61 پہلے فرمایا تھا کہ اگر اپنی کفریات سے توبہ کر کے اسلام میں داخل ہوجائیں تو مامون ہیں۔ ممکن تھا کہ کسی شخص کو اصول اسلام سے آگاہ ہی نہ ہو وہ تحقیق و رفع شکوک کی غرض سے مسلمانوں کے پاس آنا چاہے، اس کی نسبت فرما دیا کہ اپنی پناہ اور حفاظت میں لے کر خدا کا کلام اور اسلام کے حقائق و دلائل سناؤ۔ اگر قبول نہ کرے تو اس کو قتل مت کرو، بلکہ کہیں ٹھکانے پر امن کی جگہ پہنچا دو ، جہاں پہنچ کر وہ مامون و مطمئن ہوجائے۔ اس کے بعد وہ سب کافروں کے برابر ہے۔ یہ امن دینے کا حکم اس لیے ہے کہ اسلامی اصول و حقائق سے ان لوگوں کو آگاہی نہیں ہے۔ لہذا ان کے سامنے حق خوب طرح واضح کردینا چاہیے۔ اگر اس کے بعد بھی عناد برتے تو " تَبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ " کے بعد دین میں کوئی اکراہ نہیں۔
Ayahs 9:7–82 پچھلی آیات میں جو براءۃ کا اعلان کیا گیا تھا، یہاں اس کی حکمت بیان فرماتے ہیں۔ یعنی ان مشرکین عرب سے کیا عہد قائم رہ سکتا ہے اور آئندہ کیا صلح ہوسکتی ہے جن کا حال تم مسلمانوں کے ساتھ یہ ہے کہ اگر کسی وقت ذرا قابو تم پر حاصل کرلیں تو ستانے اور نقصان پہنچانے میں نہ قرابت کا مطلق لحاظ کریں اور نہ قول وقرار کا۔ چونکہ اتفاق سے تم پر غلبہ اور قابو حاصل نہیں ہے، اس لیے محض زبانی عہد و پیمان کر کے تم کو خوش رکھنا چاہتے ہیں، ورنہ ان کے دل ایک منٹ کے لیے بھی اس عہد پر راضی نہیں۔ ہر وقت عہد شکنی کا موقع تلاش کرتے رہتے ہیں۔ چونکہ ان میں اکثر لوگ غدار اور بدعہد ہیں اگر کوئی اکا دکا وفائے عہد کا خیال بھی کرتا ہے تو کثرت کے مقابلہ میں ان کی کچھ پیش نہیں جاتی۔ بہرحال ایسی دغاباز بدعہد قوم سے خدا اور رسول کا کیا عہد ہوسکتا ہے۔ البتہ جن قبائل سے تم بالخصوص مسجد حرام کے پاس معاہدہ کرچکے ہو، سو تم ابتداء کر کے نہ توڑو۔ جب تک وہ وفاداری کے راستہ پر سیدھے چلیں تم بھی ان سے سیدھے رہو اور بڑی احتیاط رکھو کوئی حقیر سے حقیر بات ایسی نہ ہونے پائے جس سے تمہارا دامن عہد شکنی کی گندگی سے داغدار ہو۔ خدا کو وہ ہی لوگ محبوب ہیں جو پوری احتیاط کرتے ہیں۔ چناچہ بنو کنانہ وغیرہ نے مسلمانوں سے بد عہدی نہ کی تھی۔ مسلمانوں نے نہایت دیانت داری اور احتیاط کے ساتھ اپنا عہد پور کیا۔ اعلان براءۃ کے وقت ان کے معاہدہ کی میعاد منقضی ہونے میں نو مہینے باقی تھے۔ ان میں معاہدہ کی کامل پابندی کی گئی۔
Ayah 9:93 یعنی یہ مشرکین وہ لوگ ہیں جنہوں نے دنیا کی تھوڑی سی طمع اور اپنی اغراض و ہوا کی خاطر خدا کے احکام و آیات کو رد کردیا۔ اس طرح خود بھی خدا کے راستہ پر نہ چلے اور دوسروں کو بھی چلنے سے روکا۔ جو ایسے بدترین اور نالائق کاموں میں پھنسے ہوں اور خدا سے نہ ڈریں وہ عہد شکنی کے وبال سے کیا ڈریں گے اور اپنے قول وقرار پر کیا قائم رہیں گے۔
Ayah 9:104 یعنی کچھ تمہارے ہی ساتھ نہیں بلکہ مسلمان نام سے ان کو بیر ہے۔ کوئی مسلمان ہو موقع پانے پر اس کو نقصان پہنچانے کے لیے سب تعلقات قرابت اور قول وقرار اٹھا کر رکھ دیتے ہیں۔ اس بارے میں ان کی ظلم و زیادتی حد سے بڑھی ہوئی ہے۔
Ayah 9:115 یعنی اب بھی اگر کفر سے توبہ کر کے احکام دینیہ (نماز زکوٰۃ وغیرہ) پر عمل پیرا ہوں تو نہ صرف یہ کہ آئندہ کے لیے محفوظ و مامون ہوجائیں گے بلکہ اسلامی برادری میں شامل ہو کر ان حقوق کے مستحق ہوں گے۔ جن کے دوسرے مسلمان مستحق ہیں۔ جو کچھ بدعہدیاں اور شرارتیں پہلے کرچکے ہیں سب معاف کردی جائیں گی۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " یہ جو فرمایا کہ بھائی ہیں حکم شریعت میں۔ اس سے سمجھ لیں کہ جو شخص قرآئن سے معلوم ہو کہ ظاہر میں مسلمان ہے اور دل سے یقین نہیں رکھتا اس کو حکم ظاہری میں مسلمان گنیں، مگر معتمد اور دوست نہ بنائیں۔ "
Ayah 9:121 یعنی اگر عہد و پیمان توڑ ڈالا (جیسے بنی بکر نے خلاف عہد خزاعہ پر حملہ کردیا اور قریش نے حملہ آوروں کی مدد کی) اور کفر سے باز نہ آئے بلکہ دین حق کے متعلق طعنہ زنی اور گستاخانہ عیب جوئی کرتے رہے تو سمجھ لو کہ اس طرح کے لوگ " ائمۃ الکفر " (کفر کے سردار اور امام) ہیں۔ کیونکہ ان کی حرکات دیکھ کر اور باتیں سن کر بہت سے کجرو اور بیوقوف پیچھے ہو لیتے ہیں۔ ایسے سرغنوں سے پورا مقابلہ کرو۔ کیونکہ ان کا کوئی قول و قسم اور عہد و پیمان باقی نہیں رہا۔ ممکن ہے تمہارے ہاتھوں سے کچھ سزا پا کر اپنی شرارت و سرکشی سے باز آجائیں۔
Ayah 9:132 قریش نے قسمیں اور معاہدے توڑ دیے تھے، کیونکہ خلاف عہد خزاعہ کے مقابلہ میں بنو بکر کی مدد کی اور ہجرت سے پہلے پیغمبر ﷺ کو وطن مقدس (مکہ معظمہ) سے نکالنے کی تجاویز سوچیں۔ اور وہ ہی نکلنے کا سبب بنے۔ (اِذْ اَخْرَجَهُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ثَانِيَ اثْنَيْنِ ) 9 ۔ التوبہ :40) ۔ مکہ میں بےقصور مسلمانوں پر بیٹھے بٹھائے مظالم کی ابتداء کی۔ جب ابو سفیان کا تجارتی قافلہ بچ نکلا تو ازراہ نخوت و رعونت بدر کے میدان میں مسلمانوں سے جنگ کی چھیڑ کرنے کے لیے گئے اور " صلح حدیبیہ " کے بعد بھی اپنی جانب سے عہد شکنی کی ابتداء کی کہ مسلمانوں کے حلیف خزاعہ کے مقابلہ پر بنو بکر کی پیٹھ ٹھونکتے رہے اور اسلحہ وغیرہ سے ان کی امداد کرتے رہے۔ آخرکار مسلمان ان سے لڑے اور مکہ معظمہ کو مشرکین کے قبضہ سے پاک کیا (اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا) 9 ۔ التوبہ :13) سے غرض یہ معلوم ہوتی ہے کہ جو کوئی قوم اس طرح کے احوال رکھتی ہو، اس سے جنگ کرنے میں مسلمانوں کو کسی وقت کچھ تامل نہیں ہونا چاہیے۔ اگر ان کی طاقت و جمعیت اور سازو سامان کا خوف ہو تو مومنین کو سب سے بڑھ کر خدا کا خوف ہونا چاہیے۔ خدا کا ڈر جب دل میں آجائے پھر سب ڈر نکل جاتے ہیں۔ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ بندہ خدا کی نافرمانی سے ڈرے اور اس کے قہر و غضب سے لرزاں و ترساں رہے۔ کیونکہ نفع و ضرر سب اسی کے ہاتھ میں ہے کوئی مخلوق ادنیٰ سے ادنیٰ نفع و ضرر پہنچانے پر بدون اس کی مشیت کے قادر نہیں۔
Ayahs 9:14–153 اس آیت میں مشروعیت " جہاد " کی اصل حکمت پر متنبہ فرمایا ہے۔ قرآن کریم میں اقوام ماضیہ کے جو قصے بیان فرمائے ہیں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب کوئی قوم کفر و شرارت اور انبیاء (علیہم السلام) کی تکذیب و عداوت میں حد سے بڑھ جاتی تھی تو قدرت کی طرف سے کوئی تباہ کن آسمانی عذاب ان پر نازل کیا جاتا تھا جس سے ان کے سارے مظالم اور کفریات کا دفعۃً خاتمہ ہوجاتا تھا۔ (فَكُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْۢبِهٖ ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَيْهِ حَاصِبًا ۚوَمِنْهُمْ مَّنْ اَخَذَتْهُ الصَّيْحَةُ ۚ وَمِنْهُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ الْاَرْضَ ۚ وَمِنْهُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا ۚ وَمَا كَان اللّٰهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَلٰكِنْ كَانُوْٓا اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ ) 29 ۔ العنکبوت :40) کوئی شبہ نہیں کہ عذاب کی یہ اقسام بہت سخت مہلک اور آئندہ نسلوں کے لیے عبرتناک تھیں لیکن ان صورتوں میں معذبین کو دنیا میں رہ کر اپنی ذلت و رسوائی کا نظارہ نہیں کرنا پڑتا تھا اور نہ آئندہ کے لیے توبہ و رجوع کا کوئی امکان باقی رہتا تھا۔ مشروعیت جہاد کی اصلی غرض وغایت یہ ہے کہ مکذبین و متعنتین کو حق تعالیٰ بجائے بلاواسطہ عذاب دینے کے لیے اپنے مخلص وفادار بندوں کے ہاتھ سے سزا دلوائے۔ سزا دہی کی اس صورت میں مجرمین کی رسوائی اور مخلصین کی قدر افزائی زیادہ ہے۔ وفادار بندوں کا نصرت و غلبہ اعلانیہ ظاہر ہوتا ہے۔ ان کے دل یہ دیکھ کر ٹھنڈے ہوتے ہیں کہ جو لوگ کل تک انہیں حقیر و ناتواں سمجھ کر ظلم و ستم اور استہزاء و تمسخر کا تختہ مشق بنائے ہوئے تھے، آج خدا کی تائید و رحمت سے انہی کے رحم و کرم یا عدل و انصاف پر چھوڑ دیے گئے ہیں۔ کفر و باطل کی شوکت و نمائش کو دیکھ کر جو اہل حق گھٹتے رہتے تھے یا جو ضعیف و مظلوم مسلمان کفار کے مظالم کا انتقام نہ لے سکنے کی وجہ سے دل ہی دل میں غیظ کھا کر چپ ہو رہتے تھے جہاد فی سبیل اللہ کے ذریعہ سے ان کے قلوب تسکین پاتے تھے اور آخری بات یہ ہے کہ خود مجرمین کے حق میں بھی سزا دہی کا یہ طریقہ نسبتہ زیادہ نافع ہے۔ کیونکہ سزا پانے کے بعد بھی رجوع و توبہ کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔ بہت ممکن ہے کہ حالات سے عبرت حاصل کر کے بہت سے مجرموں کو توبہ نصیب ہوجائے، چناچہ حضور پرنور ﷺ کے زمانہ میں ایسا ہی ہوا کہ تھوڑے دنوں میں سارا عرب صدق دل سے دین الٰہی کا حلقہ بگوش بن گیا۔
4 یعنی ہر ایک کی حالت کو جان کر حکمت کا معاملہ کرتا ہے اور ہر زمانہ میں اسکے مناسب احکام بھیجتا ہے۔
Ayah 9:165 مشروعیت جہاد کی یہاں ایک اور حکمت بیان فرمائی۔ یعنی ایمان اور بندگی کے زبانی دعوے کرنے والے تو بہت ہیں لیکن امتحان کی کسوٹی پر جب تک کسا نہ جائے کھرا اور کھوٹا ظاہر نہیں ہوتا۔ جہاد کے ذریعہ سے خدا دیکھنا چاہتا ہے کہ کتنے مسلمان ہیں جو اس کی راہ میں جان و مال نثار کرنے کو تیار ہیں اور خدا اور رسول اور مسلمانوں کے سوا کسی کو اپنا راز دار یا خصوصی دوست بنانا نہیں چاہتے، خواہ وہ ان کا کتنا ہی قریبی رشتہ دار کیوں نہ ہو۔ یہ معیار ہے جس پر مومنین کا ایمان پرکھا جاتا ہے۔ جب تک عملی جہاد نہ ہو صرف زبانی جمع خرچ سے کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی۔ پھر عمل بھی جو کچھ کیا جائے اس کی خبر خدا کو ہے کہ صدق و اخلاص سے کیا یا نمود و ریاء سے جیسا عمل ہوگا ادھر سے اسی کے موافق پھل ملے گا۔
Ayahs 9:17–181 پہلے فرمایا تھا کہ مسلمان بدون امتحان کے یونہی نہیں چھوڑے جاسکتے، بلکہ بڑے بڑے عزائم اعمال (مثلاً جہاد وغیرہ) میں ان کی ثابت قدمی دیکھی جائے گی اور یہ کہ تمام دنیا کے تعلقات پر کس طرح خدا اور رسول کی جانب کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس رکوع میں یہ بتلایا کہ خدا کی مساجد (عبادت گاہیں) حقیقتہ ایسے ہی اولوالعزم مسلمانوں کے دم سے آباد رہ سکتی ہیں۔ مساجد کی حقیقی آبادی یہ ہے کہ ان میں خدائے واحد کی عبادت اس کی شان کے لائق ہو۔ " ذکر اللہ " کرنے والے کثرت سے موجود ہوں جو بےروک ٹوک خدا کو یاد کریں۔ لغویات و خرافات سے ان پاک مقامات کو محفوظ رکھا جائے۔ یہ مقصد کفار و مشرکین سے کب حاصل ہوسکتا ہے ؟ دیکھئے مشرکین مکہ بڑے فخر سے اپنے کو " مسجد حرام " کا متولی اور خادم کہتے تھے۔ مگر ان کی بڑی خدمت گزاری یہ تھی کہ پتھر کی سینکڑوں مورتیاں کعبہ میں رکھ چھوڑی تھی ان ہی کی نذر و نیاز کرتے اور منتیں مانتے تھے۔ بہت سے لوگ ننگے طواف کرتے تھے، ذکر اللہ کی جگہ سیٹیاں اور تالیاں بجاتے تھے اور خدائے واحد کے سچے پرستاروں کو وہاں تک پہنچنے کی اجازت نہ دیتے تھے۔ لے دے کر ان کی بڑی عبادت یہ تھی کہ حاجیوں کے لیے پانی کی سبیل لگا دی یا حرم شریف میں چراغ جلا دیا۔ یا کعبہ پر غلاف چڑھایا، یا کبھی ضرورت ہوئی تو شکست و ریخت کی مرمت کرا دی، مگر یہ اعمال محض بےجان اور بےروح تھے۔ کیونکہ مشرک کو جب خدا کی صحیح معرفت حاصل نہیں تو کسی عمل میں اس کا قبلہ توجہ اور مرکز اخلاص خدائے وحدہ لا شریک لہ ' کی ذات منبع الکمالات نہیں ہوسکتی۔ اسی لیے کافر کا کوئی عمل خدا کے نزدیک زندہ اور معتد بہ عمل نہیں ہے۔ (اسی کو حبِطَتْ اَعْمَالُہُمْ سے تعبیر فرمایا) الغرض کفار و مشرکین جو اپنے حال و قال سے اپنے کفر و شرک پر ہر وقت شہادت دیتے رہتے ہیں، اس لائق نہیں کہ ان سے مساجد اللہ خصوصاً مسجد حرام کی حقیقی تعمیر (آبادی) ہو سکے۔ یہ کام صرف ان لوگوں کا ہے جو دل سے خدائے واحد اور آخری دن پر ایمان لا چکے ہیں، جوارح سے نمازوں کی اقامت میں مشغول رہتے ہیں۔ اموال میں سے باقاعدہ زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے۔ اسی لیے مساجد کی صیانت و تطہیر کی خاطر جہاد کے لیے تیار رہتے ہیں۔ ایسے مومنین جو دل، زبان، ہاتھ پاؤں، مال و دولت، ہر چیز سے خدا کے مطیع و فرمانبردار ہیں ان کا فرض منصبی ہے کہ مساجد کو آباد رکھیں اور تعمیر مساجد کے جھوٹے دعوے رکھنے والے مشرکین کو خواہ اہل قرابت ہی کیوں نہ ہوں وہاں سے نکال باہر کریں کیونکہ ان کے وجود سے مساجد اللہ کی آبادی نہیں بربادی ہے۔
Ayah 9:192 مشرکین مکہ کو اس پر بڑا فخر و ناز تھا کہ ہم حاجیوں کی خدمت کرتے، انہیں پانی پلاتے، کھانا کپڑا دیتے اور مسجد حرام کی مرمت یا کسوۃ کعبہ یا تیل بتی وغیرہ کا انتظام کرتے ہیں۔ اگر مسلمان اپنے جہاد و ہجرت وغیرہ پر نازاں ہیں تو ہمارے پاس عبادات کا یہ ذخیرہ موجود ہے۔ ایک زمانہ میں حضرت عباس ؓ نے بھی حضرت علی ؓ کے مقابلہ میں اسی طرح کی بحث کی تھی، بلکہ صحیح مسلم میں ہے کہ ایک دفعہ چند مسلمان آپس میں جھگڑ رہے تھے، کوئی کہتا تھا کہ میرے نزدیک اسلام لانے کے بعد حاجیوں کو پانی پلانے سے زیادہ کوئی عبادت نہیں۔ دوسرے نے کہا میرے خیال میں اسلام کے بعد بہترین عمل مسجد حرام کی خدمت ہے، (مثلاً جھاڑو دینا یا روشنی وغیرہ کرنا) تیسرا بولا کہا جہاد فی سبیل اللہ تمام عبادات و اعمال سے افضل و اشرف ہے۔ حضرت عمر ؓ نے ان کو ڈانٹا کہ تم " جمعہ " کے وقت منبر رسول ﷺ کے پاس بیٹھ کر اس طرح بحثیں کر رہے ہو، ذرا صبر کرو، جب حضور جمعہ سے فارغ ہوجائیں گے تو آپ سے یہ چیز دریافت کرلی جائے گی۔ چناچہ جمعہ کے بعد حضور سے سوال کیا تو یہ آیات نازل ہوئیں (اَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاۗجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ اٰمَنَ باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَجٰهَدَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰه ِ ۭ لَا يَسْتَوٗنَ عِنْدَ اللّٰهِ ۭوَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ ) 9 ۔ التوبہ :19) (یعنی حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجد حرام کا ظاہری طور پر بسانا، ایمان باللہ اور جہاد فی سبیل اللہ میں سے کسی ایک کے برابر بھی نہیں ہوسکتا (افضل ہونا تو کجا ؟ ) یہاں جہاد کے ساتھ ایمان باللہ کا ذکر یا تو اس لیے کیا کہ مشرکین کے فخر و غرور کا جواب بھی ہوجائے کہ تمام عبادات کی روح ایمان باللہ ہے، اس روح کے بدون پانی پلانا یا مسجد حرام کی خدمت کرنا محض مردہ عمل ہے تو یہ بےجان اور مردہ عمل ایک زندہ جاوید عمل کی برابری کیسے کرسکتا ہے۔ ( وَمَا يَسْتَوِي الْاَحْيَاۗءُ وَلَا الْاَمْوَاتُ ) 35 ۔ فاطر :22) اور اگر صرف مومنین کے اعمال کا باہمی موازنہ کرنا ہے تو ایمان باللہ کا ذکر جہاد فی سبیل اللہ کی تمہید کے طور پر ہوگا۔ اصل مقصود جہاد وغیرہ عزائم اعمال کی افضلیت کو بیان فرمانا ہے۔ ایمان کے ذکر سے تنبیہ فرما دی کہ جہاد فی سبیل اللہ ہو یا کوئی عمل، ایمان کے بغیر ہیچ اور لا شئے محض ہے۔ ان عزائم اعمال (جہاد و ہجرت وغیرہ) کا تقوُّم بھی ایمان باللہ سے ہوتا ہے اور اس نکتہ کو وہ ہی لوگ سمجھتے ہیں جو فہم سلیم رکھتے ہوں۔ ظالمین (بےموقع کام کرنے والوں) کی ان حقائق تک رسائی نہیں ہوتی۔
Ayahs 9:20–223 یعنی اس کے یہاں ثواب اور درجات کی کیا کمی ہے جس کو جتنا چاہے مرحمت فرمائے۔ پہلی آیت میں تین چیزوں کا ذکر تھا۔ ایمان، جہاد، ہجرت، ان تین پر بشارت بھی تین چیزوں کی دی۔ رحمت، رضوان، خلود فی الجنۃ۔ ابو حیان نے لکھا ہے کہ " رحمت " ایمان پر مرتب ہے، ایمان نہ ہو تو آخرت میں خدا کی رحمت و مہربانی سے کوئی حصہ نہیں مل سکتا اور " رضوان " (جو بہت ہی اعلیٰ مقام ہے) جہاد فی سبیل اللہ کا صلہ ہے۔ مجاہد فی سبیل اللہ تمام نفسانی حظوظ و تعلقات ترک کر کے خدا کے راستہ میں جان و مال نثار کرتا اور خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے انتہائی قربانی پیش کرتا ہے۔ لہذا اس کا صلہ بھی انتہائی ہونا چاہیے اور وہ حق تعالیٰ شانہ کی رضاء کا مقام ہے۔ باقی " ہجرت " وہ خدا کے لیے وطن مالوف اور گھر بار چھوڑنے کا نام ہے۔ اس لیے مہاجر کو خوشخبری دی گئی کہ تیرے وطن سے بہتر وطن اور تیرے گھر سے بہتر گھر تجھ کو ملے گا۔ جس میں ہمیشہ اعلیٰ درجہ کی آسائش و راحت سے رہنا ہوگا جس سے ہجرت کرنے کی کبھی نوبت نہ آئے گی۔
Ayah 9:234 پچھلی آیات میں بتلایا تھا کہ جہاد و ہجرت اعظم و افضل ترین اعمال ہیں۔ بسا اوقات ان دونوں اعمال میں خویش و اقارب، کنبہ اور برادری کے تعلقات خلل انداز ہوتے ہیں۔ اس لیے فرما دیا کہ جن لوگوں کو ایمان سے زیادہ کفر عزیز ہے، ایک مومن انہیں کیسے عزیز رکھ سکتا ہے۔ مسلمان کی شان نہیں کہ ان سے رفاقت اور دوستی کا دم بھرے حتٰی کہ یہ تعلقات اس کو جہاد و ہجرت سے مانع ہوجائیں، ایسا کرنے والے گنہگار بن کر اپنی جانوں پر ظلم کر رہے ہیں۔
Ayah 9:241 یعنی اگر خدا اور رسول کے احکام کا امتثال اور ہجرت یا جہاد کرنے سے یہ خیال مانع ہو کہ کنبہ برادری چھوٹ جائے گی۔ اموال تلف ہوں گے، تجارت مندی پڑجائے گی، یا بند ہوجائے گی۔ آرام کے مکانوں سے نکل کر بےآرام ہونا پڑے گا، تو پھر خدا کی طرف سے حکم سزا کا انتظار کرو، جو اس تن آسانی اور دنیا طلبی پر آنے والا ہے۔ جو لوگ مشرکین کی موالات یا دنیاوی خواہشات میں پھنس کر احکام الٰہیہ کی تعمیل نہ کریں ان کو حقیقی کامیابی کا راستہ نہیں مل سکتا۔ حدیث میں ہے کہ جب تم بیلوں کی دم پکڑ کر کھیتی باڑی پر راضی ہوجاؤ گے اور " جہاد " چھوڑ بیٹھو گے تو خدا تم پر ایسی ذلت مسلط کر دے گا جس سے کبھی نکل نہ سکو گے یہاں تک کہ پھر اپنے دین (جہاد فی سبیل اللہ) کی طرف واپس آؤ۔
Ayahs 9:25–262 پچھلی آیت میں تنبیہ کی گئی تھی کہ جہاد فی سبیل اللہ کے وقت مومنین کو کنبہ، برداری، اموال و املاک وغیرہ کسی چیز پر نظر نہ ہونی چاہیے، یہاں آگاہ فرمایا ہے کہ مجاہدین کو خود اپنی فوجی جمعیت و کثرت پر گھمنڈ نہ کرنا چاہیے۔ نصرت و کامیابی اکیلے خدا کی مدد سے ہے۔ جس کا تجربہ پیشتر بھی بہت سے میدانوں میں تم کرچکے ہو۔ بدر، قریظہ و نضیر اور حدیبیہ وغیرہ میں جو کچھ نتائج رونما ہوئے، وہ محض امداد الٰہی و تائید غیبی کا کرشمہ تھا۔ اور اب اخیر میں غزوہ حنین کا واقعہ تو ایسا صریح اور عجیب و غریب نشان آسمانی نصرت و امداد کا ہے جس کا اقرار سخت معاند دشمنوں تک کو کرنا پڑا ہے۔ فتح مکہ کے بعد فوراً آپ کو اطلاع ملی کہ ہوازن و ثقیف وغیرہ بہت سے قبائل عرب نے ایک لشکر جرار تیار کر کے بڑے ساز و سامان سے مسلمانوں پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ یہ خبر پاتے ہی آپ نے دس ہزار مہاجرین و انصار کی فوج گراں لے کر جو مکہ فتح کرنے کے لیے مدینہ سے ہمراہ آئی تھی، طائف کی طرف کوچ کردیا، دو ہزار طلقاء بھی جو فتح مکہ کے وقت مسلمان ہوئے تھے، آپ کے ہمراہ تھے یہ پہلا موقع تھا کہ بارہ ہزار کی عظیم الشان جمعیت کیل کانٹے سے لیس ہو کر میدان میں نکلی۔ یہ منظر دیکھ کر بعض صحابہ سے نہ رہا گیا اور بےساختہ بول اٹھے کہ (جب ہم بہت تھوڑے تھے اس وقت ہمیشہ غالب رہے تو) آج ہماری اتنی بڑی تعداد کسی سے مغلوب ہونے والی نہیں۔ یہ جملہ مردان توحید کی زبان سے نکلنا " بارگاہ احدیت " میں ناپسند ہوا۔ ابھی مکہ سے تھوڑی دور نکلے تھے کہ دونوں لشکر مقابل ہوگئے۔ فریق مخالف کی جمعیت چار ہزار تھی جو سر کو کفن باندھ کر اور سب عورتوں، بچوں کو ساتھ لے کر ایک فیصلہ کن جنگ کے لیے پوری تیاری سے نکلے تھے اونٹ گھوڑے، مواشی اور گھروں کا کل اندوختہ کوڑی کوڑی کر کے اپنے ہمراہ لے آئے تھے۔ ہوازن کا قبیلہ تیر اندازی کے فن میں سارے عرب میں شہرت رکھتا تھا۔ اس کے بڑے ماہر تیر اندازوں کا دستہ وادی حنین کی پہاڑیوں میں گھات لگائے بیٹھا تھا۔ صحیحین میں براء بن عازب کی روایت ہے کہ پہلے معرکہ میں کفار کو ہزیمت ہوئی، وہ بہت سا مال چھوڑ کر پسپا ہوگئے یہ دیکھ کر مسلمان سپاہی غنیمت کی طرف جھک پڑے۔ اس وقت ہوازن کے تیر اندازوں نے گھات سے نکل کر ایک دم دھاوا بول دیا۔ آن واحد میں چاروں طرف سے اس قدر تیر برسائے کہ مسلمانوں کو قدم جمانا مشکل ہوگیا۔ اول طلقاء میں بھاگڑ پڑی۔ آخر سب کے پاؤں اکھڑ گئے، زمین باوجود فراخی کے تنگ ہوگئی کہ کہیں پناہ کی جگہ نہ ملتی تھی حضور پر نور ﷺ مع چند رفقاء کے دشمنوں کے نرغہ میں تھے۔ ابوبکر عمر عباس علی عبد اللہ بن مسعود وغیرہ ؓ تقریباً سو یا اسی صحابہ بلکہ بعض اہل سیر کی تصریح کے موافق کل دس نفوس قدسیہ (عشرہ کاملہ) میدان جنگ میں باقی رہ گئے جو پہاڑ سے زیادہ مستقیم نظر آتے تھے۔ یہ خاص موقع تھا جبکہ دنیا نے پیغمبرانہ صداقت و توکل اور معجزانہ شجاعت کا ایک محیر العقول نظارہ ان ظاہری آنکھوں سے دیکھا۔ آپ ﷺ سفید خچر پر سوار ہیں، عباس ایک رکاب اور ابو سفیان بن الحارث دوسری رکاب تھامے ہوئے ہیں۔ چار ہزار کا مسلح لشکر پورے جوش انتقام میں ٹوٹا پڑتا ہے، ہر چہار طرف سے تیروں کا مینہ برس رہا ہے۔ ساتھی منتشر ہوچکے ہیں۔ مگر رفیق اعلیٰ آپ کے ساتھ ہے، ربانی تائید اور آسمانی سکینہ کی غیر مرئی بارش آپ ﷺ کے گنے چنے رفیقوں پر ہو رہی ہے۔ جس کا اثرآخر کار بھاگنے والوں تک پہنچتا ہے۔ جدھر سے ہوازن و ثقیف کا سیلاب بڑھ رہا ہے آپ کی سواری کا منہ اس وقت بھی اسی طرف ہے۔ اور ادھر ہی آگے بڑھنے کے لیے خچر کو مہمیز کر رہے ہیں۔ دل سے خدا کی طرف لو لگی ہے، اور زبان پر نہایت استغناء و اطمینان کے ساتھ انا النبی لا کذب انا ابن عبدالمطلب جاری ہے۔ یعنی بیشک میں سچا پیغمبر ہوں اور عبدالمطلب کی اولاد ہوں۔ اسی حالت میں آپ ﷺ نے صحابہ کو آواز دی الی عباد اللہ الی انا رسول اللہ خدا کے بندو ! ادھر آؤ۔ یہاں آؤ کہ میں خدا کا رسول ہوں۔ پھر آپ ﷺ کی ہدایت کے موافق حضرت عباس نے (جو نہایت جیر الصوت تھے) اصحاب سمرہ کو پکارا جنہوں نے درخت کے نیچے حضور کے ہاتھ پر بیعت جہاد کی تھی۔ آواز کا کانوں میں پہنچنا تھا کہ بھاگنے والوں نے سواریوں کا رخ میدان جنگ کی طرف پھیر دیا۔ جس کے اونٹ نے رخ بدلنے میں دیر کی وہ گلے میں زرہ ڈال کر اونٹ سے کود پڑا اور سواری چھوڑ کر حضور ﷺ کی طرف لوٹا۔ اسی اثناء میں حضور ﷺ نے تھوڑی سی مٹی اور کنکریاں اٹھا کر لشکر پر پھینکیں جو خدا کی قدرت سے ہر کافر کے چہرے اور آنکھوں پر پڑی۔ ادھر حق تعالیٰ نے آسمان سے فرشتوں کی فوجیں بھیج دیں جن کا نزول غیر مرئی طور پر مسلمانوں کی تقویت و ہمت افزائی اور کفار کی مرعوبیت کا سبب ہوا۔ پھر کیا تھا۔ کفار کنکریوں کے اثر سے آنکھیں ملتے رہے، جو مسلمان قریب تھے انہوں نے پلٹ کر حملہ کردیا آناً فاناً میں مطلع صاف ہوگیا۔ بہت سے بھاگے ہوئے مسلمان لوٹ کر حضور ﷺ کی خدمت میں پہنچے تو دیکھا لڑائی ختم ہوچکی۔ ہزاروں قیدی آپ کے سامنے بندھے کھڑے ہیں اور مال غنیمت کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں فَسُبْحَانَ منْ بِیَدِہٖ مَلَکُوتُ کُلِّ شَیْ ءٍ اس طرح کافروں کو دنیا میں سزا دی گئی۔
Ayah 9:273 چناچہ ہوازن وغیرہ کو اس کے بعد توبہ نصیب ہوئی۔ اور اکثر مسلمان ہوگئے۔
Ayah 9:281 جب حق تعالیٰ نے شرک کی قوت کو توڑ کر جزیرۃ العرب کا صدر مقام (مکہ معظمہ) فتح کرا دیا اور قبائل عرب جوق جوق دائرہ اسلام میں داخل ہونے لگے تب 9 ہجری میں یہ اعلان کرایا گیا کہ آئندہ کوئی مشرک (یا کافر) مسجد حرام میں داخل نہ ہو بلکہ اس کے نزدیک یعنی حدود حرم میں بھی نہ آنے پائے۔ کیونکہ ان کے قلوب شرک و کفر کی نجاست سے اس قدر پلید اور گندے ہیں کہ اس سب سے بڑے مقدس مقام اور مرکز توحید و ایمان میں داخل ہونے کے لائق نہیں، اس کے بعد صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ حضور ﷺ نے جزیرۃ العرب سے مشرکین اور یہود و نصاریٰ سب کے نکال دینے کا حکم دیا۔ چناچہ حضور کی آخری وصیت کے موافق حضرت عمر ؓ کے زمانہ میں یہ حکم عملاً نافذ ہوا۔ اب بطور استیلاء کفار کے وہاں رہنے پر مسلمانوں کو رضامند ہونا جائز نہیں۔ بلکہ تطہیر جزیرۃ العرب بقدر استطاعت ان کا فریضہ ہے۔ ہاں حنفیہ کے نزدیک کوئی کافر مسافرانہ عارضی طور پر امام کی اجازت سے وہاں جاسکتا ہے بشرطیکہ امام اتنی اجازت دینا خلاف مصلحت نہ سمجھے۔ باقی حج وعمرہ کی غرض سے داخل ہونے کی کسی کافر کو اجازت نہیں کما وردفی الحدیث الا لَا یَحُجَّنَ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِکٌ
2 حرم میں مشرکین کی آمدو رفت بند کردینے سے مسلمانوں کو اندیشہ ہوا کہ تجارت وغیرہ کو بڑا نقصان پہنچے گا۔ اور جو سامان تجارت یہ لوگ لاتے تھے، وہ نہیں آئے گا۔ اس لیے تسلی کردی کہ اس سے مت گھبراؤ تم کو غنا عطا فرمانا محض اس کی مشیت پر موقوف ہے۔ وہ چاہے گا تو کچھ دیر نہ لگے گی۔ چناچہ یہ ہی ہوا۔ خدا نے سارا ملک مسلمان کردیا۔ مختلف بلاد و امصار سے تجارتی سامان آنے لگا، بارشیں خوب ہوئیں جس سے پیداوار بڑھ گئی، فتوحات و غنائم کے دروازے کھل گئے اہل کتاب وغیرہ سے جزیہ کی رقوم وصول ہونے لگیں، غرض مختلف طرح سے حق تعالیٰ نے اسباب غناء جمع کردیئے۔ بیشک خدا کا کوئی حکم حکمت سے خالی نہیں۔
Ayah 9:293 جب مشرکین کا قصہ پاک ہوگیا اور ملکی سطح ذرا ہموار ہوئی تو حکم ہوا کہ " اہل کتاب (یہود و نصاریٰ ) کی قوت و شوکت کو توڑو۔ مشرکین کے وجود سے تو بالکل عرب کو پاک کردینا مقصود تھا لیکن یہود و نصاریٰ کے متعلق اس وقت صرف اسی قدر مطمح نظر تھا کہ وہ اسلام کے مقابلہ میں زور نہ پکڑیں اور اس کی اشاعت و ترقی کے راستہ میں حائل نہ ہوں۔ اس لیے اجازت دی گئی کہ اگر یہ لوگ ماتحت رعیت بن کر جزیہ دینا منظور کریں تو کچھ مضائقہ نہیں، قبول کرلو، پھر حکومت اسلامیہ ان کے جان و مال کی محافظ ہوگی، ورنہ ان کا اعلان بھی وہ ہی ہے جو مشرکین کا تھا (یعنی مجاہدانہ قتال) کیونکہ یہ بھی اللہ اور یوم آخرت پر جیسا چاہیے ایمان نہیں رکھتے نہ خدا اور رسول کے احکام کی کچھ پروا کرتے ہیں۔ رسول کریم ﷺ کی تو کجا، اپنے تسلیم کردہ نبی حضرت مسیح (علیہ السلام) کی سچی پیروی نہیں کرتے، محض اہوا، و آراء کا اتباع کرتے ہیں، جو سچا دین پہلے آیا یعنی حضرت مسیح وغیرہ کے زمانہ میں، اور جواب نبی آخر الزماں ﷺ لے کر آئے، کسی کے قائل نہیں۔ بلکہ جیسا کہ عنقریب آتا ہے، اس کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ خدا کا روشن کیا ہوا چراغ اپنی پھونکوں سے گل کردیں۔ ایسے بدباطن نالائقوں کو اگر یوں ہی چھوڑ دیا جائے تو ملک میں فتنہ و فساد اور کفر و تمرد کے شعلے برابر بھڑکتے رہیں گے۔
Ayah 9:304 روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت بعض یہود کا یہ عقیدہ تھا کہ حضرت عزیر خدا کے بیٹے ہیں۔ لیکن یہ عقیدہ عام یہود کا نہ تھا اور نہ زمانہ مابعد میں تو بعض علماء نے لکھا ہے کہ اب کوئی یہودی اس عقیدے کا باقی نہیں رہا۔ اگر عہد نبوی ﷺ میں یہود کا کوئی فرقہ اس کا قائل نہ ہوتا تو ضرور تھا کہ اس وقت یہود قرآن کی حکایت کی تغلیط کرتے۔ جیسا کہ (اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ ) 9 ۔ التوبہ :31) کو سن کر عدی بن حاتم نے اعتراض کیا تھا کہ احبارو رہبان کو رب تو کوئی نہیں مانتا اس کا جواب نبی کریم ﷺ نے دیا جو آگے آتا ہے۔ پس ابنیت عزیر کے عقیدہ کو ان کی طرف نسبت کرنا، اور ان کا اعتراض و انکار کہیں منقول نہ ہونا اس کی دلیل ہے کہ ضرور اس وقت اس خیال کے لوگ موجود تھے۔ ہاں جیسے مرور دھور سے بہت سے مذاہب اور فرقے مٹ مٹا گئے، وہ بھی نابود ہوگیا ہو تو کچھ مستبعد نہیں۔ باقی ہم سے ایک نہایت ثقہ بزرگ (حاجی امیر شاہ خاں مرحوم) نے بیان کیا کہ سیاحت فلسطین وغیرہ کے دوران میں مجھے بعض یہود اس خیال کے ملے جن کو اسی عقیدہ کی نسبت سے عزیری کہا جاتا ہے۔ واللہ اعلم۔
5 یعنی " ابنیت " یا " الوہیت " مسیح وغیرہ کا عقیدہ پرانے مشرکین کے عقیدہ کے مشابہ ہے۔ بلکہ ان ہی کی تقلید میں یہ اختیار کیا ہے۔ جیسا کہ سورة مائدہ کے فوائد میں ہم نقل کرچکے ہیں۔
6 یعنی خدا ان کو غارت کرے توحید کی صاف اور تیز روشنی پہنچنے کے بعد کدھر اندھیرے میں چلے جا رہے ہیں۔
Ayah 9:317 ان کے علماء و مشائخ جو کچھ اپنی طرف سے مسئلہ بنا دیتے خواہ حلال کو حرام یا حرام کو حلال کہہ دیتے اسی کو سند سمجھتے کہ بس خدا کے ہاں ہم کو چھٹکارا ہوگیا۔ کتب سماویہ سے کچھ سروکار نہ رکھا تھا، محض احبارو رہبان کے احکام پر چلتے تھے۔ اور ان کا یہ حال تھا کہ جہاں تھوڑا سا مال یا جاہی فائدہ دیکھا حکم شریعت کو بدل ڈالا جیسا کہ دو تین آیتوں کے بعد مذکور ہے پس جو منصب خدا کا تھا (یعنی حلال و حرام کی تشریع) وہ علماء و مشائخ کو دے دیا گیا تھا۔ اس لحاظ سے فرمایا کہ انہوں نے عالموں اور درویشوں کو خدا ٹھہرا لیا نبی کریم ﷺ نے عدی بن حاتم کو اعتراض کا جواب دیتے ہوئے اسی طرح کی تشریح فرمائی ہے اور حضرت حذیفہ سے بھی ایسا ہی منقول ہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " عالم کا قول عوام کو سند ہے جب تک وہ شرع سے سمجھ کر کہے۔ جب معلوم ہو کہ خود اپنی طرف سے کہا، یا طمع وغیرہ سے کہا پھر سند نہیں۔ "
Ayah 9:321 یعنی توحید خالص اور اسلام کا آفتاب جب چمک اٹھا، پھر یہ دوغلی باتیں اور مشرکانہ دعاوی کہاں فروغ پاسکتے ہیں یہ کوشش کہ بےحقیقت اور بےمغز باتیں بنا کر اور فضول بحث و جدل کر کے نور حق کو مدہم کردیں، ایسی ہے کہ کوئی بیوقوف منہ سے پھونکیں مار کر چاند یا سورج کی روشنی کو بجھانا اور ماند کرنا چاہے، یاد رکھو خواہ یہ کتنے ہی جلیں مگر خدا نور اسلام کو پوری طرح پھیلا کر رہے گا۔
Ayah 9:332 اسلام کا غلبہ باقی ادیان پر معقولیت اور حجت و دلیل کے اعتبار سے، یہ تو ہر زمانہ میں بحمد اللہ نمایاں طور پر حاصل رہا۔ باقی حکومت و سلطنت کے اعتبار سے وہ اس وقت حاصل ہوا ہے اور ہوگا، اور جبکہ مسلمان اصول اسلام کے پوری طرح پابند اور ایمان وتقویٰ کی راہوں میں مضبوط اور جہاد فی سبیل اللہ میں ثابت قدم تھے یا آئندہ ہوں گے۔ اور دین حق کا ایسا غلبہ کہ باطل ادیان کو مغلوب کر کے بالکل صفحہ ہستی سے محو کر دے۔ یہ نزول مسیح (علیہ السلام) کے بعد قیامت کے قریب ہونے والا ہے۔
Ayah 9:343 یعنی روپیہ لے کر احکام شریعہ اور اخبار الٰہیہ کو بدل ڈالتے ہیں۔ ادھر عوام الناس نے انہیں جیسے پہلے گزرا خدائی کا مرتبہ دے رکھا ہے جو کچھ غلط سلط کہہ دیں وہی ان کے نزدیک حجت ہے، اس طرح یہ علماء و مشائخ نذرانے وصول کرنے، ٹکے بٹورنے اور اپنی سیاست اور ریاست قائم رکھنے کے لیے عوام کو مکروفریب کے جال میں پھنسا کر راہ حق سے روکتے رہتے ہیں، کیونکہ عوام اگر ان کے جال سے نکل جائیں اور دین حق اختیار کرلیں تو ساری آمدنی بند ہوجائے۔ یہ حال مسلمانوں کو سنایا تاکہ متنبہ ہوجائیں کہ امتوں کی خرابی اور تباہی کا بڑا سبب تین جماعتوں کا خراب وبے راہ ہونا اور اپنے فرائض کو چھوڑ دینا ہے۔ علماء ومشائخ اور اغنیاء و رؤسا۔ ان میں سے دو کا ذکر تو ہوچکا۔ تیسری جماعت (رؤساء) کا آگے آتا ہے۔ ابن المبارک نے خوب فرمایا وَہَلْ اَفْسَدَ الدِّیْنَ اِلَّا الْمَلُوکُ وَاَحْبَارُ سُوءٍ وَّرُہْبَانَہَا۔
4 جو لوگ دولت اکٹھی کریں خواہ حلال طریقہ سے ہو مگر خدا کے راستہ میں خرچ نہ کریں (مثلاً زکوٰۃ نہ دیں اور حقوق واجبہ نہ نکالیں) ان کی یہ سزا ہے تو اسی سے ان احبارو رہبان کا انجام معلوم کرلو جو حق کو چھپا کر یا بدل کر روپیہ بٹورتے ہیں۔ اور ریاست قائم رکھنے کی حرص میں عوام کو خدا کے راستہ سے روکتے پھرتے ہیں۔ بہرحال دولت وہ اچھی ہے جو آخرت میں وبال نہ بنے۔
Ayah 9:355 بخیل دولت مند سے جب خدا کے راستہ میں خرچ کرنے کو کہا جائے تو اس کی پیشانی پر بل پڑجاتے ہیں زیادہ کہو تو اعراض کر کے ادھر سے پہلو بدل لیتا ہے۔ اگر اس پر بھی جان نہ بچے تو پیٹھ پھیر کر چل دیتا ہے۔ اس لیے سونا چاندی تپا کر ان ہی تین موقعوں (پیشانی، پہلو، پیٹھ) پر داغ دیئے جائیں گے تاکہ اس کی جمع کرنے اور گاڑھنے کا مزہ چکھ لے۔
Ayah 9:361 میرے نزدیک اوپر سے سلسلہ مضمون کا یوں ہے کہ گذشتہ رکوع میں مشرکین کے بعد اہل کتاب (یہود و نصاریٰ ) سے جہاد کرنے کا حکم دیا۔ پھر رکوع حاضر کے شروع میں بتلایا کہ ان کے عقائد اور طور و طریق بھی مشرکین سے ملتے جلتے ہیں۔ ان کا عزیر و مسیح کو خدا کا بیٹا کہنا ایسا ہی ہے جیسے مشرکین " ملائکۃ اللّٰہُ " کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے، بلکہ نصاریٰ میں " ابنیت مسیح " کا عقیدہ مشرکین کی تقلید سے آیا ہے۔ وہ بتوں کو خدائی کا درجہ دیتے ہیں انہوں نے مسیح کو روح القدس کو خدا ٹھہرا لیا۔ باوجود دعوائے کتاب کے احبارو رہبان کے احکام کو شریعت الٰہیہ کا بدل تجویز کرلیا یعنی احبارو رہبان رشوتیں لے کر اور حرام مال کھا کر جس چیز کو حلال یا حرام کردیتے، احکام سماوی کی جگہ ان ہی کو قبول کرلیا جاتا۔ ان کا یہ طریقہ ٹھیک مشرکین کے طریقہ سے مشابہ ہے۔ ان کے سرگردہ بھی جس چیز کو چاہتے حلال و حرام ٹھہرا کر خدا کی طرف نسبت کردیتے تھے جس کا ذکر " سورة انعام " میں مفصل گزر چکا، اور یہاں بھی اس کی ایک مثال بیان کی جاتی ہے۔ عرب میں قدیم سے معمول چلا آتا تھا کہ سال کے بارہ مہینوں میں سے چار مہینے " اشہر حرم " (خاص ادب و احترام کے مہینے) ہیں ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم، رجب ان میں خونریزی اور جدال و قتال قطعاً بند کردیا جاتا تھا۔ حج وعمرہ اور تجارتی کاروبار کے لیے امن وامان کے ساتھ آزادی سے سفر کرسکتے تھے۔ کوئی شخص ان ایام میں اپنے باپ کے قاتل سے بھی تعرض نہ کرتا تھا۔ بلکہ بعض علماء نے لکھا ہے کہ اصل ملت ابراہیمی میں یہ چار ماہ " اشہر حرم " قرار دیے گئے تھے۔ اسلام سے ایک مدت پہلے جب عرب کی وحشت و جہالت حد سے بڑھ گئی اور باہمی جدال و قتال میں بعض بعض قبائل کی درندگی اور انتقام کا جذبہ کسی آسمانی یا زمینی قانون کا پابند نہ رہا، تو " نسیء " کی رسم نکالی یعنی جب کسی زور آور قبیلہ کا ارادہ ماہ محرم میں جنگ کرنے کا ہوا تو ایک سردار نے اعلان کردیا کہ امسال ہم نے محرم کو اشہر حرم سے نکال کر اس کی جگہ صفر کو حرام کردیا۔ پھر اگلے سال کہہ دیا کہ اس مرتبہ حسب دستور قدیم محرم حرام اور صفر حلال رہے گا۔ اس طرح سال میں چار مہینوں کی گنتی تو پوری کرلیتے تھے لیکن ان کی تعیین میں حسب خواہش ردوبدل کرتے رہتے تھے۔ ابن کثیر کی تحقیق کے موفق " نسیء " (مہینہ آگے پیچھے کرنے) کی رسم صرف محرم وصفر میں ہوتی تھی۔ اور اس کی وہ ہی صورت تھی جو اوپر مذکور ہوئی امام مغازی محمد ابن اسحاق نے لکھا ہے کہ پہلا شخص جس نے یہ رسم جاری کی " قلمس " کنانی تھا۔ پھر اس کی اولاد در اولادیوں ہی ہوتا چلا آیا۔ آخر میں اسی کی نسل سے " ابو ثمامہ چنادہ بن عوف کنانی کا معمول تھا کہ ہر سال موسم حج میں اعلان کیا کرتا کہ امسال محرم اشہر حرم میں داخل رہے گا یا صفر۔ اسی طرح محرم و صفر میں سے ہر مہینہ کبھی حلال اور کبھی حرام کیا جاتا تھا۔ اور عام طور پر لوگ اسی کو قبول کرلیتے تھے گویا عہد جاہلیت میں کافروں کے کفرو گمراہی کو بڑھانے والی ایک چیز یہ بھی تھی کہ خدا کے حلال یا حرام کیے ہوئے مہینہ کو بدل ڈالنے کا حق کنانہ کے ایک سردار کو سونپ دیا گیا تھا۔ ٹھیک اسی طرح یہود و نصاریٰ کا حال تھا کہ انہوں نے تحلیل و تحریم کی باگ طامع اور غرض پرست احبارو رہبان کے ہاتھ میں دے دی تھی۔ دونوں جماعتوں کی مشابہت ظاہر کرنے کے لیے " نسیء " کی رسم کا یہاں ذکر کیا گیا اور (اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ ) 9 ۔ التوبہ :36) اس کے رد کی تمہید ہے۔ یعنی آج سے نہیں جب سے آسمان و زمین پیدا کیے خدا کے نزدیک بہت سے احکام شرعیہ جاری کرنے کے لیے سال کے بارہ مہینے رکھے گئے ہیں جن میں سے چار اشہر حرم (ادب کے مہینے) ہیں جن میں گناہ و ظلم سے بچنے کا اور زیادہ اہتمام کرنا چاہیے۔ یہ ہی سیدھا دین (ابراہیم (علیہ السلام) کا) ہے۔
2 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ اس آیت سے نکلتا ہے کہ کافروں سے لڑنا ہمیشہ روا ہے ( چناچہ " غزوہ تبوک ' جس کا آگے ذکر آتا ہے۔ ماہ رجب میں ہوا) اور آپس میں ظلم کرنا ہمیشہ گناہ ہے۔ ان مہینوں میں زیادہ۔ اکثر علماء کی رائے یہی ہے لیکن بہتر ہے کے اگر کوئی کافر ان مہینوں کا ادب کرے تو ہم بھی اس سے لڑائی کی ابتداء نہ کریں۔
Ayah 9:373 یعنی برے کام کو اچھا سمجھ رہے ہیں۔ جب سمجھ الٹ جائے تو بھلائی کا راستہ کہاں ملے۔ اس آیت میں جو رسم نسی کا ذکر فرمایا ہے، اس کی تفصیل گذشتہ آیت کے فوائد زیر آیت (ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ ) 9 ۔ التوبہ :36) میں گزر چکی (تنبیہ) بعض اقوام جو اپنے مہینوں کا حساب درست رکھنے کے لیے لوند کا مہینہ ہر تیسرے سال بڑھاتی ہیں وہ نسی میں داخل نہیں۔ اور بعض اکابر سلف سے جو نسی کے تحت میں یہ منقول ہے کہ عرب جاہلیت میں سال کے مہینوں کے عددبدل ڈالتے تھے، مثلاً بارہ کے چودہ مہینے بنا لیے، یا حساب میں ایسی گڑ بڑ کی کہ جو ذوالقعدہ تھا وہ ذوالحجہ بن گیا حتیٰ کہ 9 ہجری میں ابوبکر ؓ کا حج بھی ان کے حساب سے ذیقعدہ میں ہوا۔ اور حدیث اِنَّ الزَّمَانَ قَداستدَارَ کَہَیْئَتِہٖ الخ کی تقریر بھی اسی اصول کے موافق کی گئی۔ ان سب چیزوں پر حافظ ابن کثیر نے تعقّب کیا ہے من شاء فلیراجعہ یہاں اس پر مفصل بحث کی گنجائش نہیں۔ اگر مستقل تفسیر قرآن لکھنے کی توفیق ہوئی جیسا کہ ارادہ ہے تو وہاں تفصیل سے کلام کیا جائے گا۔