Explained with ayahs 1–2
یہ سورت سب سے آخر رسول ﷺ پر اتری ہے بخاری شریف میں ہے سب سے آخر (آیت یسفتونک الخ،) اتری اور سب سے آخری سورت سورة براۃ اتری ہے۔ اس کے شروع میں بسم اللہ نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ صحابہ نے امیرالمومنین حضرت عثمان بن عفان ؓ کی اقتدا کر کے اسے قرآن میں لکھا نہیں تھا۔ ترمذی شریف میں ہے کہ حضرت ابن عباس نے حضرت عثمان سے پوچھا کہ آخر کیا وجہ ہے آپ نے سورة انفال کو جو مثانی میں سے ہے اور سورة براۃ کو جو مئین میں سے ہے ملا دیا اور ان کے درمیان بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں لکھی اور پہلے کی سات لمبی سورتوں میں انہیں رکھیں ؟ آپ نے جواب دیا کہ بسا اوقات حضور رسول اللہ ﷺ پر ایک ساتھ کئی سورتیں اترتی تھیں۔ جب…
Read the full tafseer →سورة التَّوْبَة 3
یہ اعلان 10 ذی الحجہ سن 9 ھجری کو ہوا تھا۔ اس وقت 10 ربیع الثانی سن 10 ھجری تک چار مہینہ کی مہلت ان لوگوں کو دی گئی کہ اس دوران میں اپنی پوزیشن پر اچھی طرح غور کرلیں۔ لڑنا ہو تو لڑائی کے لیے تیار ہوجائیں، ملک چھوڑنا ہو تو اپنی جائے پناہ تلاش کرلیں، اسلام قبول کرنا ہو تو سوچ سمجھ کر قبول کرلیں۔
Read the full tafseer →معارف و مسائل
سورة براءت شروع ہو رہی ہے جس کو سورة توبہ بھی کہا جاتا ہے۔ براءت اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس میں کفار سے براءت کا ذکر ہے اور توبہ اس لئے کہ اس میں مسلمانوں کی توبہ قبول ہونے کا بیان ہے (مظہری) اس سورت کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ مصاحف قرآن میں اس سورت کے شروع میں بسم اللہ نہیں لکھی جاتی اس کے سوا تمام قرآنی سورتوں کے شروع میں بسم اللہ لکھی جاتی ہے۔ اس کی وجہ معلوم کرنے سے پہلے یہ جان لینا چاہئے کہ قرآن مجید تئیس سال کے عرصہ میں تھوڑا تھوڑا نازل ہوا ہے ایک ہی سورت کی آیتیں مختلف اوقات میں نازل ہوئیں، جبریل امین جب وحی لے کر آتے تو ساتھ ہی بحکم الہی یہ بھی بتلاتے تھے کہ یہ آیت فلاں سورت…
Read the full tafseer →فَسِيْحُوْا فِي الْاَرْضِ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ الایہ۔
براہ راست مشرکین سے خطاب : اوپر والی آیت کا خطاب مسلمانوں سے تھا، اس آیت میں خطاب کا رخ براہ راست مشرکین کی طرف ہوگیا ہے۔ خطاب کی یہ تبدیلی اس دھمکی کی شدت اور اس کے فیصلہ کن ہونے کی دلیل ہے۔ مسلمانوں کو خطاب کر کے یوں نہیں فرمایا کہ دھمکی مشرکین کو سنا دو بلکہ جس طرح اعلان براءت خود فرما دیا اسی طرح براہ راست مشرکین کو خطاب کر کے فرمایا کہ بس اب چار ماہ کی مہلت تمہیں اور حاصل ہے، اس کے بعد ان لوگوں کے معاہدات کی اللہ و رسول پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے جو اپنے معاہدوں کی خلاف ورزیاں کرچکے ہیں بلکہ ہر قدم پر ان کی داروگیر شروع ہوجائے…
Read the full tafseer →2۔ 1 یہ اعلان نجات ان مشرکین کے لئے تھا جن سے غیرموقت معاہدہ تھا یا چار مہینے سے کم تھا یا چار مہینوں سے زیادہ ایک خاص مدت تک تھا لیکن ان کی طرف سے عہد کی پاسداری کا اہتمام نہیں تھا۔ ان سب کو چار مہینے مکہ میں رہنے کی اجازت دی گئی۔ اس کا مطلب یہ تھا اس مدت کے اندر اگر وہ اسلام قبول کرلیں تو انہیں یہاں رہنے کی اجازت ہوگی۔ بصورت دیگر ان کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ چار مہینے کے بعد جزیرہ، عرب سے نکل جائیں، اگر دونوں صورتوں میں سے کوئی بھی اختیار نہیں کریں گے تو حربی کافر شمار ہونگے، جن سے لڑنا مسلمانوں کے لئے ضروری ہوگا تاکہ جزیرہ عرب کفر و شرک کی تاریکیوں سے صاف ہوجائے۔
2۔ 2 یعنی یہ مہلت اس لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
سورة توبہ
تعارف
یہ بھی مدنی سورت ہے، اور حضور نبی کریم ﷺ کی حیات طیبہ کے آخری دور میں نازل ہوئی ہے۔ اپنے مضامین کے اعتبار سے یہ پچھلی سورت یعنی سورة انفال کا تکملہ ہے۔ غالبا اسی لیے عام سورتوں کے برخلاف اس سورت کے شروع میں بسم اللہ الرحمن الرحیم نہ نازل ہوئی، نہ لکھی گئی۔ اور اس کی تلاوت کا بھی قاعدہ یہ ہے کہ جو شخص پیچھے سورة انفال سے تلاوت کرتا چلا آرہا ہو، اسے یہاں بسم اللہ نہیں پڑھنی چاہیے، البتہ اگر کوئی شخص اسی سورت سے تلاوت شروع کر رہا ہو تو اس کو بسم اللہ پڑھنی چاہیے۔ اور بعض لوگوں نے اس سورت کے شروع میں بسم اللہ کے بجائے کچھ اور جملے پڑھنے کے لیے بنا رکھے ہیں، وہ بےبنیاد ہیں۔ اوپر جو…
Read the full tafseer →(سورۃ براء ۃ/ توبہ پر ایک نظر کا دوسرا حصہ )
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَاءَتْكُمْ جُنُودٌ فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيحًا وَجُنُودًا لَمْ تَرَوْهَا وَكَانَ اللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرًا (9)إِذْ جَاءُوكُمْ مِنْ فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ وَإِذْ زَاغَتِ الأبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ وَتَظُنُّونَ بِاللَّهِ الظُّنُونَا (10) هُنَالِكَ ابْتُلِيَ الْمُؤْمِنُونَ وَزُلْزِلُوا زِلْزَالا شَدِيدًا (11) وَإِذْ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ مَا وَعَدَنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ إِلا غُرُورًا (12) وَإِذْ…
Read the full tafseer →1 6 ھجری میں بمقام " حدیبیہ " جب نبی کریم ﷺ اور قریش کے درمیان معاہدہ صلح ہوچکا تو بنی خزاعہ مسلمانوں کے اور بنی بکر قریش کے حلیف بنے۔ بنی بکر نے معاہدہ کی پروا نہ کر کے خزاعہ پر حملہ کردیا اور قریش نے اسلحہ وغیرہ سے ظالم حملہ آوروں کی مدد کی۔ اس طرح قریش اور ان کے حلیف دونوں معاہدہ حدیبیہ پر قائم نہ رہے جس کے جواب میں 8 ہجری میں نبی کریم ﷺ نے اچانک حملہ کر کے مکہ معظمہ بڑی آسانی سے فتح کرلیا۔ ان قبائل کے سوا دوسرے قبائل عرب سے مسلمانوں کا میعادی یا غیر میعادی معاہدہ تھا۔ جن میں سے بعض اپنے معاہدہ پر قائم رہے۔ بہت سے قبائل وہ تھے جن سے کسی قسم کا معاہدہ نہیں ہوا تھا۔ اس سورت کی مختلف آیات…
Read the full tafseer →آیت 2 فَسِیْحُوْا فِی الْاَرْضِ اَرْبَعَۃَ اَشْہُرٍ “
یعنی اس جزیرہ نمائے عرب میں تمہیں رہنے اور گھومنے پھرنے کے لیے صرف چار مہینے کی مہلت دی جارہی ہے۔
وَّاعْلَمُوْٓا اَنَّکُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللّٰہِلا وَاَنَّ اللّٰہَ مُخْزِی الْکٰفِرِیْنَ
اب ان مشرکین کے لیے اللہ کے عذاب کی آخری قسط آکر رہے گی۔ یہ قطعی اعلان تو ایسے معاہدوں کے ضمن میں تھا جن میں کوئی میعاد معین نہیں تھی ‘ جیسے عام دوستی کے معاہدے ‘ جنگ نہ کرنے کے معاہدے وغیرہ۔ ایسے تمام معاہدوں کو چارہ ماہ کی پیشگی وارننگ کے ساتھ ختم کردیا گیا۔ یہ ایک معقول طریقہ تھا جو سورة الانفال کی آیت 58 میں بیان کردہ اصول فَانْبِذْ اِلَیْہِمْ عَلٰی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1 سورة توبہ کے آغاز میں بسم اللہ نہ لکھنے کی وجہ :۔ سورة ئتوبہ کا نام سورة ئبرات بھی ہے جو اس سورة کا ابتدائی لفظ ہے۔ یہ سورة برأت، سورة انفال کے بہت بعد یعنی 9 ہجری میں نازل ہوئی لیکن چونکہ ان دونوں کے مضامین آپس میں بہت حد تک ملتے جلتے ہیں اور یہ سب مضامین کافروں، مشرکوں سے جنگ، معاہدات، صلح اور اسلام کی سربلندی سے متعلق ہدایات و احکام پر مشتمل ہیں لہذا ان کو یکجا کردیا گیا ہے اور ان کے درمیان بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں لکھی جاتی۔ جو کہ دو سورتوں کی الگ الگ ہونے کی علامت ہے۔ نہ ہی اس سورة کی ابتدا میں بسم اللہ الرحمن الرحیم نازل ہوئی۔ نہ ہی کبھی رسول اللہ نے پڑھی تھی اور وہی دستور آج تک…
Read the full tafseer →3 ۔ (کہ اس کے قبضہ سے نکل جاؤ یا اس کی مشیت پر غالب آجاؤ) یہاں پر بتا دیا کہ یہ مہلت تمہاری مصلحت اور تم پر شفقت کے خیال سے ہے یہ نہیں کہ اس میں قادر مطلق کے عجز کو کوئی دخل ہو۔ (آیت) ” فسیحوا فی الارض اربعۃ اشھر “۔ یعنی اس چار مہینہ کی مہلت کے اندر یا تو اسلامی برادری میں شامل ہوجاؤ یا اس جغرافی مرکز توحید ایمان کو اپنے وجود سے خالی کردو۔ عین عتاب کے موقع پر اسلام اپنے معاندین کی راہ میں کتنی سہولت پیدا کررہا ہے۔ انہیں مہلت پورے 4 مہینہ کی دے رہا ہے۔ یہ چار مہینہ کون سے تھے ؟ اس کے جوابات مختلف دیئے گئے ہیں۔ عام چار محترم مہینہ تو ظاہر ہے کہ رجب، ذیقعدہ، ذی الحجۃ، اور محرم ہیں۔ لیکن بعض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
قولہ : فسیحوا الخ، یہاں قولوا محذوف ہے تقدیر عبارت یہ ہے فقولوالھم سیحوا، سیحوا میں امر اجازت کے لئے ہے یعنی تم کو صرف چار ماہ تک امن کے ساتھ یہاں رہنے کی اجازت ہے۔
قولہ : بدلیل مَا سَیَاتی، یہاں امر اجازت واباحت کے لئے ہے اس کی دلیل آئندہ آنے والی آیت '' فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْھُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِ کِیْنَ '' ہے، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا قول '' فسیحوا اربعة اشھر '' شوال میں نازل ہوئی تھی اور اشھر حرم کا آخری مہینہ محرم ہے شوال کے شروع سے محرم کے آخر تک چار مہینے ہوتے ہیں۔
قولہ : یوم النحر۔ سوال : یوم الحج الاکبر کی تفسیر یوم النحر سے کیوں کی ؟
جواب : عمرہ کو چونکہ حج اصغر…
Read the full tafseer →فسیحوا فی الارض اربعۃ اشھر واعلموا انکم غیر معجزی اللہ وان اللہ مخزی الکفرین۔ سو تم اس سرزمین میں چار مہینے چل پھر لو اور جان رکھو کہ تم اللہ پر غالب نہیں آسکتے۔ اور یہ بھی جان رکھو کہ اللہ بلاشبہ کافروں کو ذلیل کرنے والا ہے۔
یعنی چین و امن کے ساتھ مسلمانوں سے بےخوف ہو کر چار مہینے ملک میں گھومتے پھرو ‘ مگر یہ سمجھ لو کہ اللہ کے پنجہ سے چھوٹ نہیں سکتے۔ اللہ نے اگرچہ تم کو مہلت دے دی ہے ‘ مگر تم اس کی گرفت سے باہر نہیں ہو اور اللہ کافروں کو ضرور ذلیل کرنے والا ہے۔ دنیا میں قتل اور قید کی ذلت اور آخرت میں عذاب جہنم کی خواری۔
زہری کے نزدیک چار ماہ سے مراد ہیں : شوال ‘ ذیعقدہ ‘ ذی الحجہ اور محرم…
Read the full tafseer →(2) جن کفار کا رسول اکرم ﷺ کے ساتھ عہد صلح تھا ان میں سے بعض نے بدعہدی کی چناچہ ان میں سے بعض قبیلوں کے ساتھ تو چار مہینوں کا معاہدہ تھا اور بعض کے ساتھ چار ماہ سے زیادہ کا اور بعض سے چار مہینوں سے کم کا اور بعض سے نو مہینوں کا معاہدہ تھا اور بعض قبیلے ایسے تھے کہ ان کے اور رسول اکرم کے درمیان کسی قسم کا کوئی معاہدہ نہیں ہوا تھا۔ لہذا بنی کنانہ کے علاوہ جن سے نوماہ کا معاہدہ تھا باقی سب قبیلوں نے بد عہدی کردی۔
لہذا اس بدعہدی اور نقص عہد کے بعد جن قبیلوں کا معاہدہ چار مہینوں سے زیادہ یا اس سے بھی کم کا تھا آپ ﷺ نے یوم النحر سے چار مہینوں تک ان کا معاہدہ کردیا، اسی طرح ان قبیلوں کا جن کا معاہدہ…
Read the full tafseer →فَسِيْحُوْا فِي الْاَرْضِ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ : یہ اللہ تعالیٰ کا مزید کرم تھا کہ مشرکین کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے چار ماہ کی مہلت دی گئی، جس کی ابتدا 10 ذوالحجہ یوم النحر سے ہوئی، کیونکہ اس دن یہ اعلان کیا گیا اور 10 ربیع الثانی کو یہ مدت ختم ہوگئی۔ اس مہلت کا مقصد یہ تھا کہ وہ اتنی مدت میں اپنے بارے میں خوب سوچ سمجھ لیں، پھر یا تو مسلمان ہوجائیں یا سر زمین عرب سے باہر کسی ملک میں اپنا ٹھکانا بنالیں۔ اگر وہ اس کے بعد بھی باقی رہیں تو انھیں پکڑ کر، گھیر کر، گھات لگا کر جیسے بھی ممکن ہو قتل کردیا جائے۔ یہ چار ماہ کی مدت ان لوگوں کے لیے تھی جن سے معاہدے کی مدت چار ماہ سے کم باقی تھی،…
Read the full tafseer →آیت نمبر 2
مسئلہ نمبر 2 ۔ علماء نے تاجیل اور مہلت کی کیفیت میں اختلاف کیا ہے اور ان لوگوں کے بارے میں (اختلاف کیا ہے) جن سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول مکرم ﷺ نے قطع تعلق کا اعلان کیا ہے۔ پس محمد بن اسحاق وغیرہ نے کہا ہے : یہ مشرکین کی دو قسمیں ہیں، ان میں سے ایک وہ ہے جن کے معاہدوں کی مدت چار ماہ سے کم تھی پس انہیں چار ماہ مکمل کرنے کی مہلت دی گئی اور دوسری وہ ہے جن کے معاہدہ کی کوئی معین اور محدود مدت نہ تھی پس اسے چار ماہ میں محصور کردیا تاکہ وہ اپنے آپ کو پابند کرلیں۔ پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ ، اس کے رسول مکرم ﷺ اور مومنین کی طرف سے اعلان جنگ ہے، جہاں کوئی پایا گیا وہیں قتل کردیا جائے گا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
سورة التوبۃ مدنیۃ آیات 129: رکوع 21
یہ مدنی سورة ہے اور اس کی ایک سو ننانوے آیات ہیں۔
1:۔ ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة برات فتح مکہ کے بعد نازل ہوئی۔
2:۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة توبہ مدینہ منورہ میں نازل ہوئی۔
3:۔ ابن مردویہ نے عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ سورة براۃ کو مدینہ منورہ میں نازل کیا گیا۔
4:۔ ابن منذر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ ان سورتوں میں سے جو مدینہ منورہ میں نازل ہوئی (ان میں) براۃ بھی ہے۔
5:۔ ابن ابی شیبہ واحمد وابوداود والترمذی اور آپ نے اس کو حسن کہا والنسائی وابن ابی داود نے مصحف میں وابن منذر والنحاس نے اپنی ناسخ میں وابن حبان…
Read the full tafseer →فَسِيْحُوْا [ پس چل پھر لو ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ [ چار مہینے ] وَّاعْلَمُوْٓا [ اور جان لو ] اَنَّكُمْ [ کہ تم لوگ ] غَيْرُ مُعْجِزِي اللّٰهِ ۙ [ اللہ کو عاجز کرنے والے نہیں ہو ] وَاَنَّ [ اور یہ کہ ] اللّٰهَ [ اللہ ] مُخْزِي الْكٰفِرِيْنَ [ کافروں کو رسوا کرنے والا ہے ]
س ی ح : (ض) سیحا (1) پانی کا زمین پر بہنا ۔ زمین پر چلنا پھرنا ۔ (2) عبادت کے لیے پھرنا ۔ سح ، فعل امر ہے۔ تو چل پھر ۔ زیرمطالعہ آیت ۔ 2 ۔ سائح ۔ اسم الفاعل ہے۔ عبادت کے لیے پھرنے والا ۔ روزہ دار ۔ اَلتَّاۗىِٕبُوْنَ الْعٰبِدُوْنَ الْحٰمِدُوْنَ السَّاۗىِٕحُوْنَ [ توبہ کرنے والے ، عبادت کرنے والے ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
سورة توبہ مدینہ میں نازل ہوئی اس میں ایک سو انتیس آیات اور سولہ رکوع ہیں
سُوْرَۃُ التَّوْبَۃِ
اس کا دوسرا نام سورة برأت بھی ہے اس میں کافروں سے برأت کا اعلان ہے اس لیے اس کو سورة برأت کہا جاتا ہے اور غزوہ تبوک کے موقعہ پر جو صحابی پیچھے رہ گئے تھے ان کی توبہ کا بھی اس میں ذکر ہے اس لیے دوسرا نام بھی معروف ہوگیا۔ یہ سورت مصحف عثمانی کی ترتیب میں سورة الانفال اور سورة یونس کے درمیان ہے۔
بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نہ لکھنے کی وجہ :
دیگر تمام سورتوں کے شروع میں بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ لکھی ہے لیکن سورة برأت کے شروع میں نہیں ہے۔ جامع القرآن حضرت عثمان بن عفان ؓ سے حضرت عبداللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
سورة توبہ مدنی ہے اور اس میں ایک سو انتیس آیتیں اور سولہ رکوع ہیں
بسم اللہ الرحمن الرحیم
تفسیر سورة توبہ
یہ بسم اللہ اس سورت کی تفسیر کے شروع اور آغاز کے لیے ہے نہ کہ سورة برات کی تلاوت کے لیے سوہ توبہ بالاتفاق مدنی ہے فتح مکہ کے بعد نازل ہوئی اس سورة میں ایک سو انتیس اور بقول بعض ایک سو تیس آیتیں ہیں اور سولہ رکوع ہیں۔
اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ اس سورت کا بیشتر حصہ تو مدینہ میں نازل ہوا مگر آیت ما کان للنبی والذین آمنوا ان یستغروا للمشرکین ولو کانوا اولی قربی۔ یہ آیتیں ابو طالب کے بارے میں مکہ مکرمہ میں نازل ہوئیں جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے۔
اسماء سورت :
اس سورت کے بہت سے نام ہیں جن میں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1: سورة توبہ۔
ربط : سورة انفال میں مشرکین سے جہاد کرنے کا اجمالاً حکم دیا گیا اور قوانین جہاد کی تعلیم دی گئی۔ نیز حکم صادر کیا گیا کہ اگر جہاد میں مسلمانوں کی فتح ہوجائے تو جو مال غنیمت ہاتھ آئے اس کی تقسیم اللہ کے حکم کے مطابق کریں۔ اور اس میں نزاع واختلاف نہ کریں۔ مال غنیمت کے مصارف کی بھی تفصیل کی گئی۔ سورة توبہ میں اعلان جہاد کا اعادہ کیا گیا۔ اور تفصیل سے بتایا کہ کن کن لوگوں سے جہاد کرنا ہے۔ یعنی جو لوگ ڑی اللہ کی نذریں دیتے اور غیر اللہ کے لیے تحری میں کرتے ہیں۔ انبیاء علیہم السلام، بزرگانِ دین کو متصرف و کارساز سمجھتے ہیں۔ اور اللہ کی تحریمات کو باقی نہیں رکھتے۔ ان کے ساتھ اعلانِ جنگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
سورة توبہ مدنی ہے اور یہ ایک سو انتیس آیات اور اس میں سولہ رکوع ہیں
سورۃ کے مختلف نام :
اس سورة مبارکہ کا عام فہم نام سورة توبہ ہے وجہ تسمیہ یہ ہے کہ بعض صحابہ ؓ سے غزوہ تبوک میں عدم شمولیت کی کوتاہی ہوگئی تھی۔ اس پر اللہ کے رسول نے ان کے ساتھ مقاطعہ کا حکم دیدیا ، بالآکر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی توبہ قبول فرمائی جس کا ذکر اس سورة میں موجود ہے ، لہٰذا اس سورة مبارکہ کو سورة توبہ کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔
اس سورة کا دوسرا نام سورة برات ہے کیونکہ اس میں مشرکین اور کفار سے برات یعنی بیزاری کا اظہار کیا گیا ہے اور انہیں حکم دیا گیا ہے کہ وہ چار ماہ کی مدت میں یا تو اسلام قبول کرلیں یا پھر ملک…
Read the full tafseer →فَسِيْحُوْا فِي الْاَرْضِ اَرْبَعَۃَ اَشْہُرٍ وَّاعْلَمُوْٓا اَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِي اللہِ 0 ۙ وَاَنَّ اللہَ مُخْزِي الْكٰفِرِيْنَ 2
ساح
السَّاحَةُ : المکان الواسع، ومنه : سَاحَةُ الدّار، قال : فَإِذا نَزَلَ بِساحَتِهِمْ [ الصافات/ 177] ، والسَّائِحُ : الماء الدّائم الجرية في ساحة، وسَاحَ فلان في الأرض : مرّ مرّ السائح قال : فَسِيحُوا فِي الْأَرْضِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ [ التوبة/ 2] ، ورجل سائح في الأرض وسَيَّاحٌ ، وقوله : السَّائِحُونَ
[ التوبة/ 112] ، أي : الصائمون، وقال : سائِحاتٍ [ التحریم/ 5] ، أي : صائمات، قال بعضهم : الصّوم ضربان : حكميّ ، وهو ترک المطعم والمنکح، وصوم حقیقيّ ، وهو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ترکیب : برأۃ خبر ہے مبتداء محذوف کی ورسولہ عطف ہے اللہ پر ‘ الی متعلق ہے براۃ سے۔ من المشرکین بیان ہے الذین کا اربعہ اشہر ظرف ہے فسیحوا کا وان اللّٰہ معطوف ہے انکم پر مفعول ہے واعلموا کا۔ و اذان معطوف ہے برأۃ پر فاذا شرط فاقتلوا الخ جواب ‘ فان تابوا شرط فخلوا الخ جواب ‘ وان شرط احد فاعل استجارک محذوف کا جس کی تفسیر استجارک ثانی ہے۔ فاجرہ جواب حتی غایۃ ہے اجرہ کی ذلک مبتدا بانہم خبر۔
تفسیر : چونکہ اخیر انفال میں اہل عہد پر چڑھائی کرنے کی ممانعت تھی اور اس سورة میں تمام عہدوں کو ختم کردیا ہے اور نیز ان دونوں کے مطالب بھی ملتے جلتے ہیں اس لئے دونوں سورتوں میں فصل کے لئے لوح محفوظ میں بسم اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
تعارف
سُوْرَۃُ التَّوْبَۃِ
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
یہ سورة قرآن کریم کی نوویں سورة ہے۔ اس میں سولہ 16 رکوع اور 129 آیات ہیں۔ اس کے متعدد نام ہیں جن میں سے دو نام زیادہ معروف ہیں۔ 1: البراء ۃ 2: التوبۃ
قرآن کریم کی بیشتر سورتوں کی طرح اس سورة کے نام اس کے عنوان نہیں بلکہ شناخت کے لیے صرف نام ہیں۔ جن سے مقصودیہ ہے کہ جب یہ نام لیے جائیں تو ان سے یہ سورة ذہن میں آجائے۔
البراء ۃ کا معنی ہوتا ہے ” بیزاری، بری ہونا، ذمہ داریوں اور معاہدات سے دستبردار ہوجانا، تعلق توڑلینا “ چونکہ اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین سے اظہارِ بیزاری فرمایا ہے، تمام معاہدات کے ختم کرنے کا اعلان کیا گیا…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : سورة انفال کے اختتام میں ایمان، ہجرت اور جہاد کو باہم بھائی چارے کی بنیاد قرار دیا گیا۔ جو اس معیاد پر پورا نہیں اترتا اس کے ساتھ مسلمانوں کا کوئی رشتہ ناطہ قائم نہیں رہ سکتا۔ اس بنا پر سورة التوبۃ کی ابتدا میں ایسے لوگوں سے برأت کا اعلان کیا گیا ہے۔
اس سورة کے تعارف میں اس کے نام کی وضاحت کردی گئی ہے تفصیل جاننے کے لیے اس کا تعارف ملاحظہ فرمائیں۔ اللہ کے رسول نے صلح حدیبیہ میں مشرکین مکہ سے اور دوسرے موقعوں پر مشرکین کے ساتھ بقائے باہمی کی بنیاد پر معاہدات کیے تھے۔ صلح حدیبیہ میں مشرکین مکہ کے ساتھ یہ شرائط طے پائی تھیں کہ آپس میں دس سال تک جنگ نہیں ہوگی۔ عرب کا جو…
Read the full tafseer →چار ماہ کی مہلت :
آیت 2: فَسِیْحُوْا فِی الْاَرْضِ اَرْبَعَۃَ اَشْھُرٍ (پس تم لوگ اس سرزمین میں چار ماہ چل پھرلو) پس تم زمین عرب میں چل پھر لو جس طرح چاہو۔ السیح مہلت کے ساتھ چلنا۔ روایت میں ہے کہ انہوں نے مشرکین مکہ اور دیگر عرب سے معاہدے کئے۔ پس وہ رکے رہے مگر ان میں سے کچھ قبائل وہ بنو ضمرہ، بنو کنانہ پس عہد توڑنے والوں کی طرف انکا عہد پھینک دیا گیا۔ اور ان کو چار ماہ جو کہ اشہر حرم ہیں۔ سرزمین عرب میں امن سے چلنے کی اجازت دی۔ فاذا جیسا اس آیت میں ہے فاذا انسلخ الاشھر الحرم فاقتلوا المشرکین ( التوبہ : 5) اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اشہر حرام میں قتل و قتال ممنوع چلا آرہا ہے۔
نزول آیت :
یہ آیت 9…
Read the full tafseer →(2) ” فسیحوا فی الارض “ یہاں گفتگو میں خبر سے خطاب کے صیغوں کی طرف رجوع کیا ہے۔ یعنی آپ (علیہ السلام) ان کو کہہ دیں کہ چلو زمین میں آگے پیچھے امن کے ساتھ مسلمانوں میں سے کسی کے خوف کے بغیر ” اربعۃ اشھر واعلموآ انکم غیر معجزی اللہ “ ‘ نہ اس سے بچ سکتے ہو اور نہ بھاگ سکتے ہو ” وان اللہ مخزی الکفرین “ یعنی دنیا میں ان کو قتل کے ذریعے ذلیل کرنے والا ہے اور آخرت میں عذاب کے ذریعے۔
اشھر حرم کون سے دن ہیں
علماء کا اس میں اختلاف ہے کہ یہ مدت اور وہ کون لوگ تھے جن کے عہد سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے برأت کا اعلان کیا ؟ ایک جماعت نے کا کہ یہ مدت اللہ کی طرف سے مشرکین کو دی گئی ہے کہ جن کا معاہدہ چار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
حضرت عبداللہ بن عباس (رح) کے قول کے موافق یہ سورت مدنی ہے براء بن عازب ؓ کی روایت سے بخاری کہتے ہیں یہ سب سے پھلی سورت ہے جو پوری اتری ہے سورة برات کے نام کے علاوہ اس کو سورة توبہ بھی کہتے ہیں کیونکہ اس میں مومنوں کی توبہ کا ذکر ہے اس سورت کے اور بھی نام ہیں جو بڑی تفسیر میں ہیں اس سورت کی ابتدا میں جو بسم اللہ نہیں ہے اس میں علماء کا اختلاف ہے مالک بن انس ؓ کہتے ہیں (رح) کہ یہ سورة توبہ سورة بقر کے برابر تھی جب اول سورت ساقط ہوگئی تو اس کے ساتھ بسم اللہ بھی ساقط ہوگئی اور بعضے یہ کہتے ہیں کہ حضرت عثمان ؓ غنی کی خلافت کے وقت میں جب قرآن شریف لکھے گئے تو صحابہ میں اختلاف ہوا بعضے سورة انفال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
سورة توبہ آیات 1
یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے تمام مشرین و معاندین سے اظہار برأت ہے۔ انہیں چار ماہ کی مہلت دی گئی ہے کہ وہ مسلمانوں کی طرف سے مامون ہیں، اس میں وہ اپنے اختیار سے زمین میں چل پھر لیں۔ چار ماہ کے بعد ان کے ساتھ کوئی معاہدہ و میثاق نہیں۔ یہ معاملہ ان کفار کے ساتھ ہے جن کے ساتھ لامحدود مدت کے لئے معاہدہ یا معاہدہ کی مدت چار ماہ یا اس سے کم ہے۔ رہا وہ معاہدہ جو چار ماہ سے زیادہ مدت کے لئے کیا گیا ہو، اگر معاہد سے خیانت کا خدشہ نہ ہو اور اس سے نقض عہد کی بھی ابتدا نہ ہوئی ہو تو مدت معینہ تک اس کے ساتھ کئے گئے معاہدے کو پورا کیا جائے گا۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →حجۃ الوداع سے پہلے حج ذی قعدہ میں ہوا
اس لئے کہ اس سال کا حج ذی قعدہ میں ہوا جس میں حضرت ابوبکر ؓ کو امیر حج بنا کر بھیجا گیا تھا۔ اور حضرت علی ؓ نے مکہ میں مشرکین کو حضور ﷺ کے حکم کے بموجب سورة برأت پڑھ کر سنائی تھی۔ پھر اگلے سال حج ذی الحجۃ میں ہوا تھا جس میں حضور ﷺ نے فریضہ حج ادا کیا تھا اور جو حجۃ الوداع کے نام سے مشہور ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی مہینے کو حج کا مہینہ قرار دے دیا۔ اس لئے کہ مشرکین حج کے مہینے کو آگے پیچھے کردیا کرتے تھے۔ اس طرح حضور ﷺ نے جس سال فریضہ حج ادا کیا اتفاق سے اس سال حج اس مہینے میں ادا کی گیا جس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر ابتدا ہی سے حج فرض…
Read the full tafseer →3 چار ماہ کی مہلت سے مراد ؟ : یعنی دس ذوالحجہ۔ 9 ھجری سے لے کر دس ربیع الثانی تک، یعنی جس دن ان کو یہ اعلان پہنچایا گیا تھا اس دن سے لے کر چار ماہ کی مدت پوری ہونے تک، اس دوران ان سے کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کی جائے گی۔ اس کے بعد ان کو تین باتوں میں سے ایک کے اختیار کرنے کا حق ہوگا کہ یا تو وہ دین حق کو قبول کرکے دوزخ کی آگ سے بچیں اور دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز ہوں یا اسلام کے ماتحت ہو کر رہیں۔ یا پھر ان کے مستقبل کا فیصلہ تلوار کے ذریعے ہوگا۔ بہرکیف اوپر والی آیت کریمہ کا خطاب مسلمانوں سے تھا۔ ان کے ذریعے مشرکین کے لیے اعلان براءت کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا تھا لیکن اس آیت کریمہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
سورة التوبۃ
اس سورت کے دو نام ہیں ایک تو توبہ اور دوسرا براءت۔ وجہ یہ ہے کہ کچھ مخلص اہل ایمان کو معافی ملی اور براءت اس لیے کہ مشرکین کے تمام معاہدے منسوخ کردیے گئے۔ غرض یہ کہ مسلمانوں کی تمام مشکلات تقریباً فتوحات میں تبدیل ہونے لگیں اور مسلمان ایک مضبوط ناقابل تسخیر طاقت بن کر ابھرنے شروع ہوئے۔ اس سورت کی ایک انفرادیت یہ ہے کہ اس کے شروع میں بسم اللہ نہیں پڑھی جاتی۔ وجہ یہ ہے کہ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اس کے آغاز میں بسم اللہ نہ پڑھی ہے اور ہی نہ لکھوائی۔ ترتیب کے لحاظ سے یہ نویں سورت ہے۔ اس میں سولہ (16) رکوع اور ایک سو انتیس (129) آیات ہیں اور یہ مدنی سورت ہے کیونکہ یہ سورت 9 ھ میں نازل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
سورة التوبۃ
اسے سورة برات بھی کہا جاتا ہے کہ اس میں کفار سے برائت کے احکام نازل ہوئے اور قبول تو بہ کی بشارت کے باعث توبہ کہلاتی ہے ۔ اس میں عجیب بات یہ ہے کہ اس کے شروعی میں بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں لکھا جاتا ۔ دراصل کسی بھی سورة کی مختلف آیات جب نازل ہوتیں تو بذریعہ وحی ان کا مقام بھی بتادیا جاتا چناچہ آپ ﷺ کاتنان وحی کو انھیں وہاں درج کرنے ارشاد فرماتے اور جب کوئی نئی سورة نازل ہوتی تو اس سے پہلے بسم اللہ لکھنے کا ارشاد ہوتا ۔ یہ مدنی اور آخری سورتوں میں سے ہے مگر جب نازل ہوئی تو بسم اللہ لکھنے کا حکم نازل نہ ہوا نہ ہی کاتبان وحی کو کچھ فرمایا گیا اور یہ اسی طرح بغیر بسم اللہ کے لکھ دی…
Read the full tafseer →ف 5 ی اعلان ایام حج 10 ذی الحجہ 9 ھ کو کیا گیا گو یا اس وقت سے 10 ربیع الثانی 10 ھ تک ان کو مہلت دی گئی کہ اس میں اپنے معاملے پر اچھی طرح غور کرلیں لڑنا ہے و لڑائی کے لیے تیار ہوجائیں، ملک چھوڑ کر جانا ہے تو مدت ختم ہونے سے پہلے پہلے نکل جائیں اور اگر اسلام لانا ہے و اسلام لے آئیں۔
Read the full tafseer →(9:2) فسیحوا۔ ساح یسیح (باب ضرب) سیح سے امر ، جمع مذکر حاضر۔ تم پھر لو۔ سیاحت کرلو۔ گھوم پھر لو۔ چل پھر لو۔
الساحۃ کے معنی ففراخ جگہ کے ہیں۔ اسی اعتبار سے مکان کے صحن کو ساحۃ الدار کہا جاتا ہے۔ وسیع مکان میں ہمیشہ جاری رہنے والے پانی کو سالح کہا جاتا ہے۔ ساح فلان فی الارض کے معنی پانی کی طرح زمین میں چکر کاٹنے کے ہیں۔ اسی سے ہمیشہ سفر کرنے والے کو سائح یاسیاح کہا جاتا ہے۔ اور آیت 9:112 میں السائحون سے مراد روزہ رکھنے والے ہیں۔
فسیحوا میں خطاب مشرکین سے ہے۔
انکم غیر معجزی اللہ۔ تم اللہ کو عاجز کرسکنے والے نہیں ہو۔ یعنی نہ تو تم اس کے قبضہ سے بچ کر نکل سکتے ہو اور نہ اس کے پلان کو فیل کرسکتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
تعارف :
٭اس سورة کے دو نام آتے ہیں۔ (1) سورة توبہ۔ (2) سورة برأت۔
٭ توبہ کے معنی پلٹنے اور لوٹنے کے ہیں۔ جب کوئی اللہ کا بندہ گناہوں سے نادم ہو کر سچے دل سے اللہ کی طرف یعنی نیکیوں کی طرف پلٹتا ہے اس کو توبہ کہتے ہیں۔ چونکہ اس سورة میں چند صحابہ کرام ؓ کی توبہ قبول کی گئی ہے اس لئے اس کا نام سورة توبہ رکھا گیا ہے۔
٭ سورة براء ت… براءت کے معنی چھٹکارا پانا۔ بیزاری اور نفرت کا اظہار کرنا ہے۔ چونکہ کفار و مشرکین مسلسل اپنی عہد شکنیوں کے مجرم تھے اس لئے مسلمانوں نے جو معاہدے کیے جاتے ان کو ختم کرکے کفار و مشرکین کو حرمین سے نکالنے اور کفارو مشرکین کی بد عہدیوں سے نفرت کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
خواص القرآن : اس سورة کو سات مرتبہ اعتقاد دل سے پڑھنا بادشاہ کے قہر کو دور اور تمام ہجوم اور غم سے علیحدہ کرتا ہے بشرطیکہ صدق دل سے پڑھے۔ اس سورة کی نسبت حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ یہ اپنے پڑھنے والے کو نفاق سے بچاتی ہے۔ (خازن)
فضائل القرآن : آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص سورة انفال اور سورة توبہ پڑھا کرے گا میں قیامت کے دن اس کی شفاعت کروں گا اور جب تک دنیا میں زندہ رہے گا عرش اور اس کے اٹھانے والے فرشتے اس کیلئے استغفار کرتے رہیں گے۔
بسم اللہ کے نہ ہونے کی وجہ
سورۃ روبہ مدنی ہے اس سورة میں چھ رکوع ایک سو انتیس آیتیں، چار ہزار اٹھتر کلمے دس ہزار چار سو اٹھاسی حروف ہیں۔ اس سورة کے دس نام ہیں ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
[1] اس سورت کو سورة برآء َۃ بھی کہا جاتا ہے، برآء َۃ اس لئے کہ اس میں کفار سے بری الذمہ ہونے کا اعلان ہے اور توبہ اس لئے کہ اس میں بعض مسلمانوں کی توبہ قبول ہونے کا بیان ہے۔ قرآن مجید کی صرف یہی ایک سورت ہے جس کے شروع میں بسم اللہ نہیں لکھی جاتی۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ جبرائیل (علیہ السلام) اس سورت کے ساتھ بسم اللہ لے کر نازل نہیں ہوئے تھے۔ اس لئے نبی ﷺ نے بسم اللہ لکھنے کا حکم نہیں فرمایا۔ نیز سیدنا علی ؓ سے مروی ہے کہ بسم اللہ امان ہے اور سورت برآء َۃ میں کفار کے امان اور عہد و پیمان کو ختم کرنے کا بیان ہے جو بسم اللہ کے مناسب نہیں۔
[2] صلح حدیبیہ کی بنیادی شرط یہ تھی کہ دس برس تک دونوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
اعلان استقلال :
(ف 2) اس سورة میں اعلان استقلال ہے مشرکین مکہ نے بار بار نقض عہد کا ارتکاب کیا ، حضور ﷺ جب تبوک کی طرف جانے لگے تو انہوں نے پوری کوشش کی کہ آپ کی غیر حاضری میں غلط سلط افوائیں مشہور کی جائیں ، اس لئے یہ سورت نازل ہوئی ، جس میں واضح الفاظ میں کہہ دیا گیا کہ آج سے ہم تم سے کوئی عہد ومیثاق نہیں رکھتے تمہیں چار ماہ کی مہلت ہے جہاں چاہو ، ٹھکانا طے کرلو ، اس کے بعد یا اسلام قبول کرو ، اور یا جنگ کے لئے تیار ہوجاؤ ، اب زیادہ دیر تک تمہاری شرارتوں کو برداشت نہیں کیا جاسکتا ۔
حضرت علی ؓ اور حضرت ابوبکر ؓ حج کے دن یہ اعلان لے پہنچے ، اور ایک ایک کے کان تک اس کو پہنچایا ، غرض یہ تھی کہ…
Read the full tafseer →2 لہٰذا اے مشرک ! تم اس ملک میں چار مہینے اور خوب چل پھر لو اور یہ بات اچھی طرح جان لو کہ تم اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں کرسکتے اور اس کو ہرا نہیں سکتے اور یہ بھی یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ منکینِ دین حق کو رسوا کرنے والا ہے۔ قریش سے نبی کریم ﷺ کا 6 ہجری میں معاہدہ ہوا تھا معاہدہ کے بعد بعض قبائل قریش کے ساتھ ہوگئے بعض نبی کریم ﷺ کے ساتھ ہوگئے بعض نے آپ سے خود معاہدہ کرلیا چناچہ ان سب لوگوں کی تقسیم اس طرح ہے اول قریش کا معاہدہ قریش کے ہمراہ قبیلہ بنی بکر اور حضور ﷺ کے ہمراہی خزائ۔ دوسرے بنی کنانہ کے دو قبیلے بنی ضمرہ اور بنی مدلج ان کا معاہدہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ ہوگیا تھا۔ تیسرے وہ قبائل جن سے عہد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
ف 4۔ اس سورت میں چند غزوات اور چند واقعات کا ذکر ہے اعلان نقض عہد بقبائل عرب۔ فتح مکہ غزوہ حنین، اخراج کفار از حرم، غزوہ تبوک اور ان ہی آیتوں کے ضمن میں تبعا واقعہ ہجرت۔
Read the full tafseer →مذکورہ معاہدہ سے کون سا معاہدہ مراد ہے اور وہ کن مشرکین سے ہوا ؟
1: اس معاہدہ سے مراد صلح حدیبیہ ہے جس کی تفصیل اس طرح ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھی جب مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ چلے آئے تو قریش نے ان کو یہاں امن سے نہ بیٹھنے دیا بلکہ ان کو تنگ کرنے کی کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جس کے نتیجہ میں جہاد فرض کردیا گیا اور غزوہ بدر باقاعدہ طور پر پہلی جنگ ہوئی اور پھر اس کا سلسلہ آگے بڑھتا ہی گیا اور ہر سال میں دو تین بار یہ صورت حال پیش آجاتی کہ دونوں گروہوں کا تصادم ہوجاتا۔ لیکن عربوں میں اس یورش سے پہلے بھی خانہ جنگی ہوئی رہتی تھی اگرچہ اسے کا رخ اب بدل کر ایک نئی صورت اختیار کر گیا۔ اس خانہ جنگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
Commentary
Now begins Surah Al-Bara'ah which is also called Surah At-Taubah (as written; also Surah At-Taubah as pronounced). It is called Bara'ah for the reason that it mentions bara'ah or disengagement with the consequences of what the kuffar (disbelievers) do. Then, it is also called Taubah because it announces that the repentance of Muslims has been accepted. (Mazhari). It is a feature of this Surah that ` bismillah' (بسم اللہ الرحمٰن الرحیم Bismillahir-Rahma.nir-Rahim: With the name of Allah, the All-Merciful, the Very Merciful) is not written in the copies of the Qur'an when the Surah…
Read the full tafseer →