حج اکبر کے دن اعلان
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے عام اعلان ہے اور ہے بھی بڑے حج کے دن۔ یعنی عید قرباں کو جو حج کے تمام دنوں سے بڑا اور افضل دن ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ﷺ مشرکوں سے بری الذمہ بیزار اور الگ ہے اگر اب بھی تم گمراہی اور شرک و برائی چھوڑ دو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے توبہ کرلو نیک بن جاؤ اسلام قبول کرلو، شرک و کفر چھوڑ دو اور اگر تم نے نہ مانا اپنی ضلالت پر قائم رہے تو تم نہ اب اللہ کے قبضے سے باہر ہو نہ آئندہ کسی وقت اللہ کو دبا سکتے ہو وہ تم پر قادر ہے تمہاری چوٹیاں اس کے ہاتھ میں ہیں وہ کافروں کو دنیا میں بھی سزا کرے گا اور آخرت میں بھی عذاب کرے گا۔ صحیح بخاری شریف…
Read the full tafseer →سورة التَّوْبَة 4
یعنی 10 ذی الحجہ جسے یوم النحر کہتے ہیں۔ حدیث صحیح میں آیا ہے کہ حجۃ الوداع میں نبی ﷺ نے خطبہ دیتے ہوئے حاضرین سے پوچھا یہ کونسا دین ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا یوم النحر ہے۔ فرمایا ھٰذا یوم الحج الاکبر۔”یہ حج اکبر کا دن ہے“۔ حج اکبر کا لفظ حج اصغر کے مقابلہ میں ہے۔ اہل عرب عمرے کو چھوٹا حج کہتے ہیں۔ اس کے مقابلہ میں وہ حج جو ذوالحجہ کی مقررہ تاریخوں میں کیا جاتا ہے، وہ حج اکبر کہلاتا ہے۔
Read the full tafseer →کفار سے معاہدات ختم ہوجانے پر بھی ان کو مہلت دینے کا کریمانہ سلوک
ان احکام کا نفاذ اور مہلت کا شروع اس وقت سے تجویز ہوا جبکہ ان احکام کا اعلان تمام عرب میں ہوجائے۔ اس اعلان عام کے لئے یہ انتظام کیا گیا کہ 9 ہجری کے ایام حج میں منیٰ و عرفات کے عام اجتماعات میں اس کا اعلان کیا جائے جس کا ذکر سورة توبہ کی تیسری آیت میں اس طرح آیا (آیت) وَاَذَانٌ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖٓ اِلَى النَّاسِ يَوْمَ الْحَجِّ الْاَكْبَرِ اَنَّ اللّٰهَ بَرِيْۗءٌ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ ڏ وَرَسُوْلُهٗ ۭ فَاِنْ تُبْتُمْ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۚ وَاِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِي اللّٰهِ ۭ…
Read the full tafseer →حج کے موقع پر اعلان براءت کی عام منادی۔
وَاَذَانٌ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖٓ اِلَى النَّاسِ يَوْمَ الْحَجِّ الْاَكْبَرِ اَنَّ اللّٰهَ بَرِيْۗءٌ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ ڏ وَرَسُوْلُهٗ ۭ فَاِنْ تُبْتُمْ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۚ وَاِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِي اللّٰهِ ۭ وَبَشِّرِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِعَذَابٍ اَلِــيْمٍ۔
‘ اذان ’ یہاں اپنے لغوی مفہوم یعنی اعلان و منادی کے معنی میں ہے۔ ہدایت ہوئی کہ حج اکبر کے دن یہ منادی کرادی جائے کہ اللہ و رسول اس قسم کے معاہدوں سے بری الذمہ ہیں، اب جو توبہ کرلے گا اس کی خیر ہے اور جو روگردانی کریں گے وہ اللہ کی پکڑ سے نہیں بچ سکیں…
Read the full tafseer →3۔ 1 صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ یوم حج اکبر سے مراد (10 ذوالحجہ) کا دن ہے، اسی دن منیٰ میں اعلان نجات منایا گیا 10 ذوالحجہ کو حج اکبر کا دن اسی لئے کہا گیا کہ اس دن حج کے سب سے زیادہ اور اہم مناسک ادا کئے جاتے ہیں، اور عوام عمرے کو حج اصغر کہا کرتے تھے۔ اس لئے عمرے سے ممتاز کرنے کے لئے حج کو حج اکبر کہا گیا، عوام میں جو یہ مشہور ہے کہ جو حج جمعہ والے دن آئے وہ حج اکبر ہے یہ بےاصل بات ہے۔
Read the full tafseer →2: دست برداری کا یہ حکم آچکا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان تمام لوگوں سے انصاف کی خاطر ان مختلف مدتوں کی ابتداء اس وقت سے فرمائی جب ان کو ان سارے احکام کی اطلاع ہوجائے، پورے عرب میں اعلان کا سب سے مؤثر ذریعہ یہ تھا کہ یہ اعلان حج کے موقع پر کیا جائے، کیونکہ اس وقت سارے عرب کے لوگ حجاز میں جمع ہوتے تھے، اور اس وقت تک مشرکین بھی حج کے لئے آتے تھے، چنانچہ فتح مکہ کے بعد جو حج 9 ہجری میں ہوا، اس سال آنحضرت ﷺ بہ نفس نفیس تو حج کے لئے تشریف نہیں لے گئے تھے، لیکن حضرت ابوبکر ؓ کو امیر حج بناکر بھیجا تھا ان کے بعد آپ نے حضرت علی ؓ کو بھی اسی مقصد سے روانہ فرمایا کہ وہ ان احکام کا سب کے سامنے اعلان…
Read the full tafseer →(درس نمبر 87 کا بقیہ حصہ)
اور دین کے معاملے میں ہر قسم کے جبر اور اکراہ کے استعمال کو ممنوع قرار دیا جس طرح ہم نے آیات (256:2، ص 26 ۔ 40 ، ج 3) میں تفصیل سے دیا ہے۔ چناچہ مشرکین نے حضور کا مقابلہ کیا اور مسلمانوں کو فتنہ میں مبتلا کرکے ان پر تشدد کیا۔ اور ان کو اللہ کی راہ سے روکنے کی کوشش کی۔ اور حضور ﷺ کو بھی انہوں نے تبلیغ کرنے سے جبراً منع کردیا۔ اور حالات ایسے ہوگئے کہ آپ کے متبعین میں سے کوئی بھی مامون نہ تھا۔ ہر کسی کو تشدد اور جان کا خطرہ لاحق تھا۔ الا یہ کہ وہ کسی کی پناہ میں ہوں یا کسی کے حلیف ہوں۔ لہذا مسلمانوں نے کئی بار ہجرت کی۔ اس کے بعد ان کی ایذا رسانی اور نیش زنی میں مزید…
Read the full tafseer →2 حج کو اکبر اس لیے کہا کہ " عمرہ " حج اصغر ہے اور یوم الحج الاکبر سے دسویں تاریخ " عیدالاضحی کا دن " یا نویں تاریخ " عرفہ " کا دن مراد ہے۔
3 یہ اعلان غالباً ان قبائل کے حق میں تھا جنہوں نے میعادی معاہدہ کیا۔ پھر خود ہی عہد شکنی کی (مثلاً بنی بکر یا قریش وغیرہم) یعنی ایسے لوگوں سے کوئی معاہدہ اب باقی نہیں رہا۔ اگر یہ سب لوگ شرک و کفر سے توبہ کرلیں تو ان کی دنیا و آخرت دونوں سنور جائیں گی۔ نہیں تو خدا کا جو کچھ ارادہ ہے (تطہیر جزیرۃ العرب کا) وہ پورا ہو کر رہے گا۔ کوئی طاقت اور تدبیر اسے مغلوب نہیں کرسکتی اور کافروں کو کفر بدعہدی کی سزا مل کر رہے گی (تنبیہ) ان قبائل کی عہد شکنی اگرچہ فتح مکہ 8…
Read the full tafseer →آیت 3 وَاَذَانٌ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖٓ اِلَی النَّاسِ یَوْمَ الْحَجِّ الْاَکْبَرِ
عمرے کو چونکہ حج اصغر کہا جاتا ہے اس لیے یہاں عمرے کے مقابلے میں حج کو حج اکبر کہا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ہمارے ہاں عوام میں جو یہ بات مشہور ہے کہ حج اگر جمعہ کے دن ہو تو وہ حج اکبرہوتا ہے ‘ ایک بےبنیاد بات ہے۔
اَنَّ اللّٰہَ بَرِیْٓءٌ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَلا وَرَسُوْلُہٗ ط
یہ اعلان چونکہ حج کے اجتماع میں کیا گیا تھا اور حج کے لیے جزیرہ نمائے عرب کے تمام اطراف و اکناف سے لوگ آئے ہوئے تھے ‘ لہٰذا اس موقع پر اعلان کرنے سے گویا عرب کے تمام لوگوں کے لیے اعلان عام ہوگیا کہ اب اللہ اور اس کا رسول ﷺ مشرکین سے برئ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
3 جزیرۃ العرب کی شرک اور مشرکوں سے تطہیر :۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو اس جزیرۃ العرب کی مشرکین سے تطہیر مطلوب ہے اور تمہاری کوئی بھی کوشش اللہ تعالیٰ کے اس ارادہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ گویا اس اعلان سے صرف بیت اللہ ہی کو شرک کی نجاست سے بچانا مقصود نہ تھا بلکہ پورے جزیرہ عرب کو ان ناپاک مشرکوں سے پاک کرنا مقصود تھا۔
Read the full tafseer →5 ۔ یعنی انہیں امن دینے سے بری الذمہ اور دوست بردار ہیں۔ (آیت) ” الی الناس “۔ یعنی عام خلقت کے سامنے جس میں کافر، مومن، معاہد، غیر معاہد سب آگئے۔ الناس ھھنا جمیع الخلق (قرطبی) (آیت) ” من المشرکین “۔ مشرکین سے سیاق آیت میں مراد وہی مشرکین ہیں جو نقض عہد کے مرتکب ہوچکے ہیں۔ (آیت) ’ یوم الحج الاکبر “۔ حج اکبر حج ہی کو کہتے ہیں۔ کوئی مخصوص قسم کا حج مراد نہیں، اکبر کا لفظ صرف حج اصغر یا عمرہ سے تقابل و امتیاز کے لیے ہے۔ ھذا ھو الحج الاکبر لان العمرۃ تسمی الحج الاصغر (کبیر) قال مجاھد الحج الاکبر القران والحج الاصغر العمرۃ (ابن العربی) قال القاضی اذا نظرنا فی ھذا الاقوال فالمنقح منھا ان الحج الاکبر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
قولہ : فسیحوا الخ، یہاں قولوا محذوف ہے تقدیر عبارت یہ ہے فقولوالھم سیحوا، سیحوا میں امر اجازت کے لئے ہے یعنی تم کو صرف چار ماہ تک امن کے ساتھ یہاں رہنے کی اجازت ہے۔
قولہ : بدلیل مَا سَیَاتی، یہاں امر اجازت واباحت کے لئے ہے اس کی دلیل آئندہ آنے والی آیت '' فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْھُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِ کِیْنَ '' ہے، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا قول '' فسیحوا اربعة اشھر '' شوال میں نازل ہوئی تھی اور اشھر حرم کا آخری مہینہ محرم ہے شوال کے شروع سے محرم کے آخر تک چار مہینے ہوتے ہیں۔
قولہ : یوم النحر۔ سوال : یوم الحج الاکبر کی تفسیر یوم النحر سے کیوں کی ؟
جواب : عمرہ کو چونکہ حج اصغر…
Read the full tafseer →و اذان من اللہ ورسولہ الی الناس یوم الحج الاکبر (1)[ حسن سے یوم الحج الاکبر کے متعلق دریافت کیا گیا تو فرمایا : اس سال تھا جب رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکر کو اپنی جگہ حج کا قائد بنا کر بھیجا تھا اور حضرت ابوبکر نے سب کو حج کرایا تھا۔ حج کرنے والوں میں مسلمان بھی تھے اور مشرک بھی ‘ اسلئے اس کا نام بڑا حج رکھا گیا۔ یہ دن یہودیوں اور عیسائیوں کی عید کے دن کے مطابق پڑگیا تھا۔] اور اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے بڑے حج کی تاریخوں میں عام لوگوں کے سامنے اعلان (کیا جاتا) ہے۔ اذان کا معنی ہے اعلان۔ وزن فعال بمعنی افعال آتا ہے ‘ جیسے امان بمعنی ایمان اور عطاء بمعنی اعطا۔ نماز کی بانگ کو اذان بھی اسی…
Read the full tafseer →(3) یہ انکار کرنے والی جماعت چار ماہ کے بعد عذاب الہی سے جو ان کے قتل کی صورت میں ہوگا کہیں بچ کر نہیں جاسکتے اور چار ماہ کے بعد اللہ تعالیٰ کافروں کو قتل کی سزا دینے والا ہے اور یہ یوم النحر کا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے عام لوگوں کے سامنے اعلان کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ دونوں مشرکین کے دین اور ان کے معاہدہ سے جس کی انہوں نے بدعہدی کی ہے دست بردار ہوتے ہیں۔
پھر اگر تم لوگ کفر سے توبہ کرلو اور اللہ تعالیٰ اور رسول اکرم ﷺ اور قرآن پر ایمان لے آؤ تو یہ تمہارے لیے بہتر ہوگا اور اگر ایمان اور توبہ سے روگردانی کرتے رہو گے تو تم جان لو کہ عذاب الہی کو تم اپنے سے الگ…
Read the full tafseer →وَاَذَانٌ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖٓ اِلَى النَّاسِ : یوم حج اکبر سے مراد 10 ذوالحجہ ہے، جس دن حاجی منیٰ میں آکر قربانی کرتے ہیں۔ ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ابوبکر ؓ نے مجھے ان لوگوں کے ہمراہ بھیجا جو قربانی کے دن منیٰ میں اعلان کریں کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرے گا اور کوئی ننگا شخص بیت اللہ کا طواف نہیں کرے گا اور حج اکبر کا دن یوم النحر (قربانی کا دن) ہے، کیونکہ لوگ (عمرے کو) حج اصغر کہتے تھے، چناچہ ابوبکر صدیق ؓ نے اس سال صاف اعلان کروا دیا، تو حجۃ الوداع جس میں نبی کریم ﷺ نے حج کیا، کسی مشرک نے حج نہیں کیا۔ [ بخاری، الجزیۃ و الموادعۃ، باب کیف ینبذ إلی أہل العھد ؟ : 3177 ]
اس سے…
Read the full tafseer →مسئلہ نمبر 1 ۔ قولہ تعالیٰ : و اذ ان، الا ذان کا لغوی معنی بغیر کسی اختلاف کے الاعلام (اطلاع کرنا، اعلان کرنا) ہے اور یہ براٗۃ پر معطوف ہے۔ الی الناس یہاں الناس سے مراد ساری مخلوق ہے۔ یوم الحج الاکبر یہ ظرف ہے اور اس میں عامل اٗذان ہے اگرچہ اس کی صفت من اللہ کے قول سے لگائی ہے، کیونکہ اس میں فعل کی بو باقی ہے اور یہ ظروف میں عمل کرسکتی ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ س میں عامل مخزی ہے۔ اور اٗذان کا عمل کرنا صحیح نہیں ہے، کیونکہ اس کی صفت لگائی گئی ہے اور یہ فعل کے حکم سے خارج ہوگیا ہے۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ حج اکبر کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے۔ پس بعج نے کہا ہے : اس سے مراد یوم عرفہ (نویں ذی الحجہ کا…
Read the full tafseer →1:۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” و اذان من اللہ ورسولہ “ یعنی یہ اعلان ہے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے حکیم بن حمید (رح) سے روایت کیا کہ مجھ سے علی بن حسین (رح) نے فرمایا کہ علی ؓ کا ایک نام اللہ کی کتاب میں سے لیکن وہ لوگ اس کو نہیں جانتے میں نے عرض کیا وہ کیا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا کے علی کا ایک نام اللہ کی کتاب میں ہے لیکن وہ لوگ اس کو نہیں جانتے میں نے عرض کیا وہ کیا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ تو نے اللہ تعالیٰ کا یہ قول نہیں سنا (آیت) ” و اذان من اللہ ورسولہ الی الناس یوم الحج الاکبر “ اللہ کی قسم وہ اسم اذان ہے۔
3:۔ ترمذی وابن منذر وابن ابی…
Read the full tafseer →وَاَذَانٌ [ اور (یہ ) اعلان ہے ] مِّنَ اللّٰهِ [ اللہ کی طرف سے ] وَرَسُوْلِهٖٓ [ اور اس کے رسول کی طرف سے ] اِلَى النَّاسِ [ لوگوں کے لیے ] يَوْمَ الْحَجِّ الْاَكْبَرِ [ بڑے حج کے دن ] اَنَّ [ کہ ] اللّٰهَ [ اللہ ] بَرِيْۗءٌ [ بری الذمہ ہے ] مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ ڏ [ مشرکوں سے ] وَرَسُوْلُهٗ ۭ [ اور اس کے رسول (بھی) ] فَاِنْ [ تو اگر ] تُبْتُمْ [ تم لوگ توبہ کرلو ] فَهُوَ [ تو یہ ] خَيْرٌ [ بہتر ہے ] لَّكُمْ ۚ [ تمہارے لیے ] وَاِنْ [ اور اگر ] تَوَلَّيْتُمْ [ تو لوگوں نے منہ موڑا ] فَاعْلَمُوْٓا [ تو جان لو ] اَنَّكُمْ [ کہ تم لوگ ] غَيْرُ مُعْجِزِي اللّٰهِ ۭ [ اللہ کو عاجز کرنے والے نہیں ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
ھ میں حضرت ابوبکر کے زیر امارت حج کی ادائیگی اور مشرکین سے برأت کا اعلان :
برأت کے مفہوم کو دوبارہ (وَ اَذَانٌ مِّنَ اللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ ) فرما کر دہرا دیا اور 9 ھ میں جو حج ہوا (جو فتح مکہ کے بعد پہلا حج تھا) اس میں حضرت ابوبکر اور حضرت علی ؓ کے ذریعہ مواقف حج میں اعلان کروا دیا کہ اللہ اور اس کا رسول مشرکین سے بری ہے اور اس کے علاوہ بھی بعض امور کا اعلان کروایا گیا تھا۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے حضرت ابوہریرہ کو اعلان کرنے پر مامور فرمایا۔
صحیح بخاری (ص 271 ج 2) میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ جس حج میں رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر صدیق کو امیر بنا کر بھیجا تھا اس میں انہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
سورة توبہ مدنی ہے اور اس میں ایک سو انتیس آیتیں اور سولہ رکوع ہیں
بسم اللہ الرحمن الرحیم
تفسیر سورة توبہ
یہ بسم اللہ اس سورت کی تفسیر کے شروع اور آغاز کے لیے ہے نہ کہ سورة برات کی تلاوت کے لیے سوہ توبہ بالاتفاق مدنی ہے فتح مکہ کے بعد نازل ہوئی اس سورة میں ایک سو انتیس اور بقول بعض ایک سو تیس آیتیں ہیں اور سولہ رکوع ہیں۔
اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ اس سورت کا بیشتر حصہ تو مدینہ میں نازل ہوا مگر آیت ما کان للنبی والذین آمنوا ان یستغروا للمشرکین ولو کانوا اولی قربی۔ یہ آیتیں ابو طالب کے بارے میں مکہ مکرمہ میں نازل ہوئیں جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے۔
اسماء سورت :
اس سورت کے بہت سے نام ہیں جن میں سے…
Read the full tafseer →3: یعنی حج کے دن بھی براءت کا اعلان کردو کیونکہ حج کے موقع پر دور دراز کے لوگ آتے ہیں تاکہ جسے پہلے علم نہیں ہوسکا اسے بھی علم ہوجائے مگر موسم حج میں اعلان براءت کے ساتھ چار ماہ کا ذکر نہیں کیا کیونکہ چار ماہ کا شمار تو ابتدائے نزول آیت سے ہوگا اور موسم حج تک دو ماہ گذر چکے ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
اعلان بیزاری :
آج کا درس سورة ہذا کی ابتدائی آیت (آیت) ” براء ۃ من اللہ ۔۔ الایۃ “ کی تشریح ہے گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ سورة توبہ 9 ھ میں غزوہ تبوک کے بعد نازل ہوئی۔ اس سے پہلے 8 ھ میں مکہ فتح ہوچکا ہے اس سال حضور ﷺ کے سامنے حج بیت اللہ میں کوئی رکاوٹ نہ تھی ، آپ کے مقرر کردہ گورنر عتاب بن اسید ؓ مکہ میں موجود تھے ، یہ شہر دارالاسلام بن چکا تھا خانہ کعبہ بتوں سے پاک کیا جا چکا تھا مگر ایک قباحت ابھی تک باقی تھی اور وہ یہ تھی کہ مشرکین عرب پر بیت اللہ شریف کا حج کرنے پر ابھی تک پابندی عائد نہیں ہوئی تھی۔ انہوں نے شرکیہ رسوم جاری کر کے ملت ابراہیمی کو بگاڑ دیا تھا اور دین کی اس بگڑی…
Read the full tafseer →وَاَذَانٌ مِّنَ اللہِ وَرَسُوْلِہٖٓ اِلَى النَّاسِ يَوْمَ الْحَجِّ الْاَكْبَرِ اَنَّ اللہَ بَرِيْۗءٌ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ 0ۥۙ وَرَسُوْلُہٗ 0 ۭ فَاِنْ تُبْتُمْ فَہُوَخَيْرٌ لَّكُمْ 0 ۚ وَاِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِي اللہِ 0 ۭ وَبَشِّرِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِعَذَابٍ اَلِــيْمٍ 3 ۙ
الله
الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] .
( ا ل ہ ) اللہ
(1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ترکیب : برأۃ خبر ہے مبتداء محذوف کی ورسولہ عطف ہے اللہ پر ‘ الی متعلق ہے براۃ سے۔ من المشرکین بیان ہے الذین کا اربعہ اشہر ظرف ہے فسیحوا کا وان اللّٰہ معطوف ہے انکم پر مفعول ہے واعلموا کا۔ و اذان معطوف ہے برأۃ پر فاذا شرط فاقتلوا الخ جواب ‘ فان تابوا شرط فخلوا الخ جواب ‘ وان شرط احد فاعل استجارک محذوف کا جس کی تفسیر استجارک ثانی ہے۔ فاجرہ جواب حتی غایۃ ہے اجرہ کی ذلک مبتدا بانہم خبر۔
تفسیر : چونکہ اخیر انفال میں اہل عہد پر چڑھائی کرنے کی ممانعت تھی اور اس سورة میں تمام عہدوں کو ختم کردیا ہے اور نیز ان دونوں کے مطالب بھی ملتے جلتے ہیں اس لئے دونوں سورتوں میں فصل کے لئے لوح محفوظ میں بسم اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
تعارف
سُوْرَۃُ التَّوْبَۃِ
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
یہ سورة قرآن کریم کی نوویں سورة ہے۔ اس میں سولہ 16 رکوع اور 129 آیات ہیں۔ اس کے متعدد نام ہیں جن میں سے دو نام زیادہ معروف ہیں۔ 1: البراء ۃ 2: التوبۃ
قرآن کریم کی بیشتر سورتوں کی طرح اس سورة کے نام اس کے عنوان نہیں بلکہ شناخت کے لیے صرف نام ہیں۔ جن سے مقصودیہ ہے کہ جب یہ نام لیے جائیں تو ان سے یہ سورة ذہن میں آجائے۔
البراء ۃ کا معنی ہوتا ہے ” بیزاری، بری ہونا، ذمہ داریوں اور معاہدات سے دستبردار ہوجانا، تعلق توڑلینا “ چونکہ اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین سے اظہارِ بیزاری فرمایا ہے، تمام معاہدات کے ختم کرنے کا اعلان کیا گیا…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ :
مشرکین کی سازشوں اور بد عہدیوں کی ٹھیک ٹھیک سزا تو یہ تھی کہ انھیں فوری طور پر حدود حرم سے نکال باہر کیا جاتا لیکن اللہ تعالیٰ کی بےپایاں رحمت اور اس کے رسول کی شفقت کا نتیجہ تھا کہ ان کے لیے یہ اعلان کیا گیا کہ چار مہینے تک تم کھلے عام حدود حرم کے اندر رہتے ہوئے اپنے کام کاج اور معاملات کو سمیٹ کر نکل جاؤ اور ساتھ ہی انھیں یہ انتباہ فرمایا کہ وہ دن گزر گئے کہ جب تم سازشیں کیا کرتے تھے اب ایسا کرو گے تو انتہائی ذلیل کردیے جاؤ گے اور تم کسی طور پر بھی اللہ تعالیٰ کو بےبس نہیں کرسکتے۔ کفار اور مشرکین کی حرم کی تولیت سے محرومی اور ہمیشہ کے لیے اپنے گھروں…
Read the full tafseer →اعلان کا تعلق تمام سے :
آیت 3: وَاَذَانٌ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖٓ اِلَی النَّاسِ (اور اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے عام لوگوں کے سامنے اعلان کیا جاتا ہے) نحو : براءت جس طرح مرفوع ہے۔ اسی طرح یہ بھی مرفوع ہے۔ پھر جملہ کا عطف بھی اسی طرح ہے۔ الاذان بمعنی اعلان ہے۔ جیسا کہ امان اور عطاء بمعنی ایمان اور اعطاء آئے ہیں۔ دونوں جملوں میں فرق صرف یہ ہے کہ پہلا جملہ ثبوت براءت کی خبر ہے۔ اور دوسرا جملہ اس اعلان کے لازم ہونے کی اطلاع ہے جو ثابت ہوچکا۔
براءت کو معاہدہ والے مشرکین سے معلق کیا اور اعلان کو لوگوں سے معلق کیا کیونکہ براءت کا تعلق معاہدین اور توڑنے والوں کے ساتھ خاص ہے اور اعلان کا تعلق…
Read the full tafseer →تفسیر (3) (و اذان “ اس کا عطف ” براء ۃ “ پر ہے یعنی اعلان ہے اور اس سے نماز کی اذان دینا ہے۔ ” من اللہ ورسولہ الی النسا یوم الحج الاکبر “ حج اکبر کے دن میں اختلاف ہے۔
یوم الحج الاکبر کی تفسیر میں مختلف اقوال
(1) عکرمہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ عرفہ کا دن ہے اور یہی بات حضرت عمر بن خطاب ؓ اور ابن زبیر ؓ سے بھی مروی ہے اور یہی عطاء ، طائوس، مجاہد اور سعید بن مسیب رحمہما اللہ کا قول ہے اور (2) ایک جماعت نے کہا یہ قربانی کا دن ہے۔
(3) یحیٰی بن جزار سے مروی ہے کہ حضرت علی ؓ یوم النحر میں سفید خچر پر سوار ہو کر جبانہ کی طرف جانے لگے تو ایک شخص آیا اور آپ ؓ کی سواری کی لگام پکڑ کر حج…
Read the full tafseer →3۔ اس آیت میں یہ ارشاد فرمایا کہ چار مہینے تک کی مدت دے کر کفار سے یہ کہہ دو کہ ایسے دن یہ حکم دیا جارہا ہے کہ حج اکبر کا دن ہے یہ بھی فرمایا کہ چار مہینے کے بعد خدا اور اس کا رسول صلح سے بری ہے تم اپنا سورچ سمجھ لو اگر تم کفر سے تائب ہوگئے تو تمہارے واسطے بہتر ہے اور اگر نہیں تو یاد رکھو تم خدا کو نہیں تھکا سکتے ہو جہاں جاوگے پکڑے جاؤ گے کہیں بھاگ نہیں سکتے دنیا میں قتل و غارت کے سوا آخرت میں بھی تم پر درد ناک عذاب ہوگا حضرت ﷺ سے اور کفار مکہ اور چند فرقہ کے لوگوں سے 6 ہجری میں صلح ہوئی تھی جو حدیبیہ کی صلح مشہور ہے اس کا ذکرانا فتحنا میں ہے پھر جب مکہ فتح ہوگیا تو یہ حکم ہوا کہ کسی مشرک…
Read the full tafseer →(آیات) (3)
یہ اللہ تعالیٰ کا اہل ایمان کے ساتھ وعدہ ہے کہ وہ اپنے دین کو فت مند اور اپنے کلمہ کو بلند کرے گا اور ان کے مشرک دشمنوں سے علیحدہ ہوجائے گا، جنہوں نے رسول ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ کو مکہ مکرمہ اور اللہ تعالیٰ کے محترم گھر سے نکال کر حجاز کے اس خطۂ ارضی سے جلاوطن کیا جس پر ان کا تسلط تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ اور مومنین کو فتح و نصرت سے نوازا حتیٰ کہ مکہ فتح ہوگیا۔ مشرکین مغلوب ہوئے اور ان علاقوں کا اقتدار اور غلبہ مسلمانوں کے ہاتھ آگیا، تو نبی اکرم ﷺ نے اپنے اعلان کرنے والے کو حکم دیا ہے وہ حج اکبر کے دن جو کہ قربانی اور جزیرۃ العرب کے مسلمانوں اور کفار کے اکٹھے ہونے کا دن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
قول باری ہے (واذاک من اللہ و رسولہ الی الناس یوم الحج الاکبر ان اللہ بریء من المشرکین و رسولہ۔ اطلاع عام ہے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے حج کے بڑے دن، تمام لوگوں کے لئے کہ اللہ مشرکین سے بری الذمہ ہے اور اس کا رسول بھی) یعنی اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلان ہے کہا جاتا ہے اذنیٰ بکذا مجھے اس نے یہ بات معلوم کرائی اور مجھے اس کا علم ہوگیا۔
حج اکبر کے بارے میں تعبیرات
” یوم الحجۃ الاکبر “ کی تفسیر میں اختلاف ہے۔ بعض روایات میں حضور ﷺ سے منقول ہے کہ اس سے مراد یوم عرفہ ہے۔ حضرت علی ؓ ، حضرت عمر ؓ ، حضرت ابن عباس ؓ ، عطاء اور مجاہد سے مختلف روایات کی صورت میں یہی منقول ہے کہ اس سے یوم النحر…
Read the full tafseer →6 ہر حج حج اکبر ہوتا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اعلان ہے کہ اور اس کے رول کی طرف سی سب لوگوں کے لیے حج اکبر کے دن۔ واضح رہے کہ ہر حج حج اکبر ہوتا ہے کہ اس کا اطلاق عمرہ کے مقابلے میں آتا ہے جو کہ حج اصغر کہلاتا ہے۔ (محاسن، کشاف، مدارک وغیرہ) ۔ عوام کے یہاں جو جمعہ کے دن کے حج کو حج اکبر کہا جاتا ہے اس کی کوئی اصل نہیں۔ البتہ اگر اس کے ثواب کے اعتبار سے اس کو یہ نام دیا جائے تو اس کی گنجائش نکل سکتی ہے کہ جمعہ کے دن کے حج کا ثواب زیادہ ہے، جیسا کہ روایات میں وارد ہے۔ مگر یہ اصطلاح نہ تو قرآن و سنت سے کہیں ثابت ہے اور نہ ہی سلف صالح سے۔ بلکہ قرآن و سنت کے مطابق ہر سال کا حج حج اکبر ہے کہ عمرہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
سورة التوبۃ
اس سورت کے دو نام ہیں ایک تو توبہ اور دوسرا براءت۔ وجہ یہ ہے کہ کچھ مخلص اہل ایمان کو معافی ملی اور براءت اس لیے کہ مشرکین کے تمام معاہدے منسوخ کردیے گئے۔ غرض یہ کہ مسلمانوں کی تمام مشکلات تقریباً فتوحات میں تبدیل ہونے لگیں اور مسلمان ایک مضبوط ناقابل تسخیر طاقت بن کر ابھرنے شروع ہوئے۔ اس سورت کی ایک انفرادیت یہ ہے کہ اس کے شروع میں بسم اللہ نہیں پڑھی جاتی۔ وجہ یہ ہے کہ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اس کے آغاز میں بسم اللہ نہ پڑھی ہے اور ہی نہ لکھوائی۔ ترتیب کے لحاظ سے یہ نویں سورت ہے۔ اس میں سولہ (16) رکوع اور ایک سو انتیس (129) آیات ہیں اور یہ مدنی سورت ہے کیونکہ یہ سورت 9 ھ میں نازل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
سورة التوبۃ
اسے سورة برات بھی کہا جاتا ہے کہ اس میں کفار سے برائت کے احکام نازل ہوئے اور قبول تو بہ کی بشارت کے باعث توبہ کہلاتی ہے ۔ اس میں عجیب بات یہ ہے کہ اس کے شروعی میں بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں لکھا جاتا ۔ دراصل کسی بھی سورة کی مختلف آیات جب نازل ہوتیں تو بذریعہ وحی ان کا مقام بھی بتادیا جاتا چناچہ آپ ﷺ کاتنان وحی کو انھیں وہاں درج کرنے ارشاد فرماتے اور جب کوئی نئی سورة نازل ہوتی تو اس سے پہلے بسم اللہ لکھنے کا ارشاد ہوتا ۔ یہ مدنی اور آخری سورتوں میں سے ہے مگر جب نازل ہوئی تو بسم اللہ لکھنے کا حکم نازل نہ ہوا نہ ہی کاتبان وحی کو کچھ فرمایا گیا اور یہ اسی طرح بغیر بسم اللہ کے لکھ دی…
Read the full tafseer →ف 6 یوم الحج الا کبر۔ ( بڑے حج کے دن) سے مراد 10 ذی الحجہ ہے جس دن حاجی منیٰ میں آکر قربانی کرتے ہیں۔ ، حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ میں نے نبی ﷺ سے دریافت کیا کہ بڑے حج کا دن نو نسا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا قربانی کا دن (ترمذی) حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ حجتہ الوداع میں قربانی کے دن نبی ﷺ نے جمرات کے درمیان کھڑے ہو کر لوگوں سے دریافت فرمایا کہ آج کونسا دن ہے ؟َ لوگوں نے جواب دیا کہ قربانی دن فرمایا یہی بڑے حج کا دن ہے۔ ( ابوداؤد۔ ابن ماجہ)7 یعنی کسی قسم کا معاہدہ یا دوستی ان سے نہیں۔
Read the full tafseer →(9:3) اذان من اللہ ۔۔ الی الناس۔ تمام لوگوں کے لئے اطلاع عام۔ برأت صرف ان مشرکین سے تھی جن کے ساتھ معاہدات تھے اور اذان تمام لوگوں کے لئے اس برأت کی اطلاع عام۔
یوم الحج الاکبر۔ بڑے حج کا دن یعنی یوم عرفات 9 ذوالحج کا دن۔ جس دن حجاج میدان عرفات میں قیام کرتے ہیں۔ اور غروب آفتاب سے قبل مزدلفہ کی طرف جانے کے لئے نکل آتے ہیں۔ 8 ۔ 9 ۔ 10 ذوالحج کے ایام ہیں۔ مناسک حج میں میدان عرفات میں قیام سب سے اہم ہے۔ یا اس سے یوم البخر بھی مراد ہوسکتا ہے یعنی دسویں ذوالحج کیونکہ اس دن مناسک حج پوری ہوجاتی ہیں۔ یعنی حجاج طواف اور قربانی سے فارغ ہوجاتے ہیں۔ یا جملہ ایام حج مراد ہیں کہ عرب میں عمرہ کو حج اصغر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
تعارف :
٭اس سورة کے دو نام آتے ہیں۔ (1) سورة توبہ۔ (2) سورة برأت۔
٭ توبہ کے معنی پلٹنے اور لوٹنے کے ہیں۔ جب کوئی اللہ کا بندہ گناہوں سے نادم ہو کر سچے دل سے اللہ کی طرف یعنی نیکیوں کی طرف پلٹتا ہے اس کو توبہ کہتے ہیں۔ چونکہ اس سورة میں چند صحابہ کرام ؓ کی توبہ قبول کی گئی ہے اس لئے اس کا نام سورة توبہ رکھا گیا ہے۔
٭ سورة براء ت… براءت کے معنی چھٹکارا پانا۔ بیزاری اور نفرت کا اظہار کرنا ہے۔ چونکہ کفار و مشرکین مسلسل اپنی عہد شکنیوں کے مجرم تھے اس لئے مسلمانوں نے جو معاہدے کیے جاتے ان کو ختم کرکے کفار و مشرکین کو حرمین سے نکالنے اور کفارو مشرکین کی بد عہدیوں سے نفرت کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس لئے…
Read the full tafseer →فرض حج اور سن ہجری کا ذکر
اس آیت میں یہ فرمایا کہ چار مہینے کی مدت دے کر کفار سے یہ کہ دو کہ ایسے دن یہ حکم دیا جارہا ہے کہ حج اکبر کا دن ہے۔ یہ بھی فرمایا کہ چار مہینے کے بعد خدا اور اس کا رسول صلح سے بری ہے۔ تم سوچ سمجھ لو اگر تم کفر سے تائب ہوگئے تو تمہارے واسطے بہتری ہے ورنہ یاد رکھو تم خدا کو نہیں تھکا سکتے ہو۔ جہاں جاؤگے پکڑے آؤگے، کہیں بھاگ نہیں سکتے۔ دنیا میں قتل و غارت کے سوا آخرت میں بھی تم پر دردناک عذاب ہوگا۔ آنحضرت ﷺ سے کفار مکہ اور چند فرقہ کے لوگوں سے 6 ھ میں صلح ہوئی تھی جو حدیبیہ کی صلح مشہور ہے۔ اس کا ذکر انا فتحنا میں ہے۔ پھر جب مکہ فتح ہوگیا تو یہ حکم ہوا کہ کسی مشرک اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
[3] یعنی وہ حج جو ذی الحجہ کی مقررہ تاریخوں میں کیا جاتا ہے، اس کو حج اکبر اس لئے کہا گیا کہ اہل عرب عمرے کو حج اصغر یعنی چھوٹا حج کہتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
اعلان استقلال :
(ف 2) اس سورة میں اعلان استقلال ہے مشرکین مکہ نے بار بار نقض عہد کا ارتکاب کیا ، حضور ﷺ جب تبوک کی طرف جانے لگے تو انہوں نے پوری کوشش کی کہ آپ کی غیر حاضری میں غلط سلط افوائیں مشہور کی جائیں ، اس لئے یہ سورت نازل ہوئی ، جس میں واضح الفاظ میں کہہ دیا گیا کہ آج سے ہم تم سے کوئی عہد ومیثاق نہیں رکھتے تمہیں چار ماہ کی مہلت ہے جہاں چاہو ، ٹھکانا طے کرلو ، اس کے بعد یا اسلام قبول کرو ، اور یا جنگ کے لئے تیار ہوجاؤ ، اب زیادہ دیر تک تمہاری شرارتوں کو برداشت نہیں کیا جاسکتا ۔
حضرت علی ؓ اور حضرت ابوبکر ؓ حج کے دن یہ اعلان لے پہنچے ، اور ایک ایک کے کان تک اس کو پہنچایا ، غرض یہ تھی کہ…
Read the full tafseer →3 اور حج اکبر کے دنوں میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی جانب سے عام لوگوں کے روبرو یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مشرکوں سے بری الذمہ ہے اور اس کا رسول بھی اور اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول اب امن کی ذمہ داری نہیں لیتے پس اگر تم توبہ کرلو تو یہ توبہ کرلینا تمہارے حق میں بہتر ہے اور اگر اب بھی تم نے توبہ سے اعراض کیا اور روگردانی کی تو یہ جان لو اور یہ بات سمجھ لو کہ تم اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں کرسکتے اور اس کو ہرا نہیں سکتے اور اے پیغمبر ﷺ ! آپ ان لوگوں کو جنہوں نے کافرانہ روش اختیار کررکھی ہے ایک دردناک عذاب کی بشارت اور خبر دے دیجئے۔ قریش کی بات کہی اور ان سے امن اٹھائے جانے کا اعلان کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
ف 4۔ اس سورت میں چند غزوات اور چند واقعات کا ذکر ہے اعلان نقض عہد بقبائل عرب۔ فتح مکہ غزوہ حنین، اخراج کفار از حرم، غزوہ تبوک اور ان ہی آیتوں کے ضمن میں تبعا واقعہ ہجرت۔
Read the full tafseer →9 ہجری کے حج میں مشرکین کی بد عہدیوں کی بنا پر ان سے سارے معاہدوں کی منسوخی کا اعلان :
2: زیر نظر سورة ” التوبہ “ سے پہلے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم نہیں لکھی جاتی جس طرح باقی سورتوں پر لکھی جاتی ہے۔ اس کی وجہ بلاشبہ یہ بھی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس پر ” بسم اللہ “ نہیں لکھی تھی اور بعد میں رسم الخط یا قرآن کریم کے اندر کمی بیشی نہیں کیا جاسکتی تاہم اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس پر بسم اللہ اس لئے تتحریر نہ فرمائی کہ اس کے شروع سے ایک طرح کی بیزاری کا اظہار کیا گیا اور یہ بات تقاضا کرتی تتھی کہ اللہ تعالیٰ کی صفت رحمت کاس جگہ ذکر نہ کیا جائے اس لئے آپ ﷺ نے ذکر نہ فرمایا۔ جیسا کہ اوپر…
Read the full tafseer →The generosity of giving respite to disbelievers even after treaties with them had expired
It was stipulated that these injunctions shall come into force and the period of respite shall start from the time the relevant information has been promulgated throughout the Arabian Peninsula. According to the arrangement made for this purpose, the public proclamation was to be made in the great gathering of the Hajj of the Hijrah year 9 at Mina and ` Arafat. This finds mention in the third and fourth verses of Surah At-Taubah as follows:
وَأَذَانٌ مِّنَ اللَّـهِ وَرَسُولِهِ إِلَى النَّاسِ يَوْمَ…
Read the full tafseer →