عہد نامہ کی شرط
پہلے جو حدیثیں بیان ہوچکی ہیں ان کا اور اس آیت کا مضمون ایک ہی ہے اس سے صاف ہوگیا کہ جن میں مطلقاً عہد و پیمان ہوئے تھے انہیں تو چار ماہ کی مہلت دی گئی کہ اس میں وہ اپنا جو چاہیں کرلیں اور جن سے کسی مدت تک عہد پیمان ہوچکے ہیں وہ سب عہد ثابت ہیں بشرطیکہ وہ لوگ معاہدے کی شرائط پر قائم رہیں نہ مسلمان کو خود کوئی ایذاء پہنچائیں نہ ان کے دشمنوں کی کمک اور امداد کریں اللہ تعالیٰ اپنے وعدوں کے پورے لوگوں سے محبت رکھتا ہے۔
Read the full tafseer →سورة التَّوْبَة 5
یعنی یہ بات تقویٰ کے خلاف ہوگی کہ جنھوں نے تم سے کوئی عہد شکنی نہیں کی ہے ان سے تم عہد شکنی کرو۔ اللہ کے نزدیک پسندیدہ صرف وہی لوگ ہیں جو ہر حال میں تقویٰ پر قائم رہیں۔
Read the full tafseer →(6) چھٹا مسئلہ یہ ہے کہ چوتھی آیت میں جہاں مسلمانوں کو میعاد صلح کے ختم ہونے تک عہد کو پورا کرنے کی تلقین فرمائی گئی ہے۔ اسی کے ساتھ آیت کو اس جملہ پر ختم کیا گیا ہے (آیت) اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِيْنَ۔ یعنی بیشک اللہ تعالیٰ احتیاط رکھنے والوں کو پسند کرتے ہیں جس میں اس طرف اشارہ ہے کہ معاہدہ پورا کرنے میں بڑی احتیاط سے کام لیں۔ عام قوموں کی طرح اس میں حیلے اور تاویلیں نکال کر خلاف ورزی کی راہ نہ ڈھونڈیں۔
Read the full tafseer →اِلَّا الَّذِيْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ ثُمَّ لَمْ يَنْقُصُوْكُمْ شَيْــــًٔـا وَّلَمْ يُظَاهِرُوْا عَلَيْكُمْ اَحَدًا فَاَتِمُّــوْٓا اِلَيْهِمْ عَهْدَهُمْ اِلٰى مُدَّتِهِمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِيْنَ۔
اعلان براءت سے مستثنی مشرکین : یہ ان مشرکین کا بیان ہے جو مذکورہ اعلان سے مستثنی تھے۔ یہ وہ قبائل ہیں جو اپنے عہد پر قائم رہے، نہ خود معاہدے کے خلاف کوئی چھوٹا یا بڑا اقدام کیا۔ نہ مسلمانوں کے خلاف بالواسطہ یا بلا واسطہ کوئی مدد ک۔ اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ مذکورہ بالا اعلان ناقضین عہد ہی سے متعلق تھا لیکن ساتھ ہی یہ حقیقت بھی اس سے واجح ہوتی ہے کہ یہ معاہدے بھی صرف ان…
Read the full tafseer →4۔ 1 یہ مشرکین کی چوتھی قسم ہے ان سے جتنی مدت کا معاہدہ تھا، اس مدت تک انہیں رہنے کی اجازت دی گئی، کیونکہ انہوں نے معاہدے کی پاسداری کی اور اس کے خلاف کوئی حرکت نہیں کی، اس لئے مسلمانوں کے لئے بھی اس کی پاسداری کو ضروری قرار دیا گیا۔
Read the full tafseer →3: یعنی معاہدے کی مدت پوری احتیاط کے ساتھ پوری کی جائے اور اس میں کوئی شک باقی نہ رکھا جائے۔
Read the full tafseer →عام اصول کے بیان کے بعد اب وقتی استثنائی حالت کی طرف آتے ہیں یعنی یہ استثنائی حالت بھی ختم ہوکر پہلی آیت میں آنے والی اصولی حالت کی طرف لوٹنے والی ہے۔
اِلَّا الَّذِيْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ ثُمَّ لَمْ يَنْقُصُوْكُمْ شَيْــــًٔـا وَّلَمْ يُظَاهِرُوْا عَلَيْكُمْ اَحَدًا فَاَتِمُّــوْٓا اِلَيْهِمْ عَهْدَهُمْ اِلٰى مُدَّتِهِمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِيْنَ : " بجز ان مشرکین کے جن سے تم نے معاہدے کیے ، پھر انہوں نے اپنے عہد کو پورا کرنے میں تمہارے ساتھ کوئی کمی نہیں کی اور نہ تمہارے خلاف کسی کی مدد کی ، تو ایسے لوگوں کے ساتھ تم بھی مدت معاہدہ تک وفا کرو کیونکہ اللہ متقیوں ہی…
Read the full tafseer →4 یہ استثناء ان قبائل کے لیے ہے جن کا معاہدہ میعادی تھا، پھر وہ اس پر برابر قائم رہے کچھ کوتاہی ایفائے عہد میں نہیں کی، نہ بذات خود کوئی کارروائی خلاف عہد کی اور نہ دوسرے بدعہدوں کو مدد پہنچائی (مثلاً بنی ضمرہ و بنی مدلج) ان کے متعلق اعلان کردیا گیا کہ میعاد معاہدہ منقضی ہونے تک مسلمان بھی برابر معاہدہ کا احترام کریں گے۔ میعاد ختم ہونے کے بعد کوئی جدید معاہدہ نہیں۔ اس وقت ان کے لیے بھی وہ ہی راستہ ہے جو اوروں کے لیے تھا۔
Read the full tafseer →آیت 4 اِلاَّ الَّذِیْنَ عٰہَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ ثُمَّ لَمْ یَنْقُصُوْکُمْ شَیْءًا وَّلَمْ یُظَاہِرُوْا عَلَیْکُمْ اَحَدًا ‘
یہاں میعادی معاہدوں کے سلسلے میں استثناء کا اعلان کیا جا رہا ہے۔ یعنی مشرکین کے ساتھ مسلمانوں کے ایسے معاہدے جو کسی خاص مدت تک ہوئے تھے ‘ ان کے بارے میں ارشاد ہو رہا ہے کہ اگر یہ مشرکین تمہارے ساتھ کیے گئے کسی معاہدے کو بخوبی نبھا رہے ہیں اور تمام شرائط کی پابندی کر رہے ہیں :
فَاَتِمُّوْٓا اِلَیْہِمْ عَہْدَہُمْ اِلٰی مُدَّتِہِمْ ط تو مکمل کرو ان کے ساتھ ان کا معاہدہ مقررہ مدت تک
یعنی مشرکین کے ساتھ ایک خاص مدت تک تمہارا کوئی معاہدہ ہوا تھا اور ان کی طرف سے ابھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
3 جزیرۃ العرب کی شرک اور مشرکوں سے تطہیر :۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو اس جزیرۃ العرب کی مشرکین سے تطہیر مطلوب ہے اور تمہاری کوئی بھی کوشش اللہ تعالیٰ کے اس ارادہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ گویا اس اعلان سے صرف بیت اللہ ہی کو شرک کی نجاست سے بچانا مقصود نہ تھا بلکہ پورے جزیرہ عرب کو ان ناپاک مشرکوں سے پاک کرنا مقصود تھا۔
Read the full tafseer →9 ۔ (اور اپنی طرف سے ذرہ عہد شکنی نہ ہونے د و) (آیت) ’ لم ینقصوکم شیئا “۔ یعنی اپنی طرف سے اس عہد کے نباہنے اور پورا کرنے میں کچھ بھی کمی نہیں کی۔ (آیت) ” ولم یظاھروا علیکم احدا “۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاہد جب مسلمانوں کے مقابلہ میں کافروں کی اعانت کرنے لگے تو وہ ناقص عہد ہوگیا۔ یدل علی ان المعاھد متی عاون علینا عدوالنا فقد نقض عہدہ (جصاص)
10 ۔ (اور اسی تقوی وپرہیزگاری کی ایک فرد ایفاء عہد بھی ہے) ۔
Read the full tafseer →قولہ : اِلاَّ الَّذِیْنَ عٰھَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ ، اس میں دو وجہ ہیں اول یہ کہ الا الذین الخ کو مستثنیٰ منقطع قرار دیا جائے اور الاّ بمعنی لکن ہو اس صورت میں فالّذین مبتداء اور فاتمّوا الیھم الخ جملہ ہو کر مبتداء کی خبر ہوگی، دوسری صورت یہ ہے کہ الاّ الّذین الخ کو مستثنیٰ متصل قرار دیا جائے تو اس صورت میں بَرَائَ ة مِنَ اللہ وَرَسُولہ الی الذین عٰھدتم من المشرکین، میں مذکور المشرکین سے مستثنیٰ ہوگا، مگر اس صورت میں فصل بالاجنبی لازم آئے گا جو کہ ممنوع ہے، اگر المشرکین میں الف لام کو عہد کا لے لیا جائے تو مشرکین خاص سے وہ مشرکین مراد ہوں گے جنہوں نے نقض عہد نہیں کیا۔
قولہ : وھی مدة…
Read the full tafseer →الا الذین عاھدتم من المشرکین ثم لم ینقصوکم شیءًا ولم یظاہر واعلیکم احدا فاتموا الیھم عھدتم الی مدتھم ان اللہ یحب المتقین۔ سوائے ان مشرکوں کے جن سے تم نے معاہدہ کرلیا ہو اور انہوں نے معاہدہ کی تکمیل میں کوئی کمی نہ کی ہو اور تمہارے خلاف کسی کی مدد نہ کی ہو تو ان سے کیا ہوا معاہدہ میعاد مقررہ تک پورا کرو۔ بلاشبہ اللہ اہل تقویٰ کو پسند کرتا ہے۔ اور وفاء معاہدہ بھی تقوے کا تقاضا ہے ‘ لہٰذا معاہدہ کو پورا کرو۔ اِلاَّ الَّذِیْنَ عَاھَدْتُمْ مِّنْ الْمُشْرِکَیْنَ سے اسثناء ہے اور اس استثناء سے ایک تو ہم کا ازالہ ہو رہا ہے کہ تم کو ان مشرکوں سے قتال کرنے کا حکم دیا گیا ہے جنہوں نے معاہدہ کرنے کے بعد…
Read the full tafseer →(4) البتہ بنی کنانہ اس سے مستثنی ہیں جن سے حدیبیہ کے بعد نوماہ کا معاہدہ ہوا تھا مگر انہوں نے عہد شکنی نہیں کی اور نہ تمہارے خلاف تمہارے کسی دشمن کی مدد کی، سو ان کی نوماہ کی مدت معاہدہ کو پورا کردو۔
Read the full tafseer →اِلَّا الَّذِيْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ : یعنی معاہدوں کی پاس داری میں کوئی کمی نہ کرنے والے مشرکوں کے لیے چار ماہ کی مہلت نہیں بلکہ ان کے لیے معاہدے کی طے کردہ مدت پوری کرو، کیونکہ تقوے کا تقاضا عہد پورا کرنا ہے اور اللہ متقین سے محبت رکھتا ہے۔
Read the full tafseer →قولہ تعالیٰ : الالذین عھد تم من المشرکین یہ استشنا متصل ہونے کی وجہ سے محل نصب میں ہے۔ اس کا معنی ہے کہ اللہ تعالیٰ مشرکوں سے بری ہے سوائے ان کے جو ایک معینہ مدت تک معاہدہ کرنے والے ہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ استشنا منقطع ہے، یعنی بیشک اللہ تعالیٰ ان سے بری ہے لیکن وہ جن سے تم نے معاہدہ کیا اور وہ یہ بھی کہا گیا ہے اور اس عہد پر ثابت قدم رہے پس تم ان کا معاہدہ مدت مقررہ تک مکمل کرو۔ اور قول باری تعالیٰ ثم لم ینقصو کم اس پر دلالت کرتا ہے کہ معاہدہ کرنے والوں میں سے بعض وہ ہیں جنہوں نے اپنا معاہدہ توڑدیا اور بعض وہ ہیں جو اسے پورا کرنے پر ثابت قدم رہے، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی مکرم ﷺ کو…
Read the full tafseer →1:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” الا الذین عھدتم من المشرکین “ سے مراد قریش کے وہ مشرک ہیں جن سے اللہ کے نبی ﷺ نے حدیبیہ کے زمانہ میں معاہدہ کیا تھا اور قربانی کے دن کے بعد اس کی مدت میں سے چار ماہ باقی تھے تو اللہ تعالیٰ نے اپنی نبی ﷺ کو حکم فرمایا کہ ان کے ساتھ اس معاہدہ کو ان کی مدت تک پورا کریں۔
2:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ نے محمد بن عباد بن جعفر (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” الا الذین عھدتم من المشرکین “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ مشرکین بنوخزیمہ بن عامر اور بنوبکر بن کنانہ ہیں۔
3:۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے…
Read the full tafseer →اِلَّا الَّذِيْنَ [ سوائے ان کے جن سے ] عٰهَدْتُّمْ [ تم نے معاہدہ کیا ] مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ [ مشرکوں میں سے ] ثُمَّ [ پھر ] لَمْ يَنْقُصُوْكُمْ [ انہوں نے کمی نہیں کی تم سے ] شَيْــــًٔـا [ کچھ بھی ] وَّلَمْ يُظَاهِرُوْا [ اور انہوں نے مدد نہیں کی ] عَلَيْكُمْ [ تمہارے خلاف ] اَحَدًا [ کسی ایک کی بھی ] فَاَتِمُّــوْٓا [ تو پورا کرو ] اِلَيْهِمْ [ ان سے ] عَهْدَهُمْ [ ان کے عہد کو ] اِلٰى مُدَّتِهِمْ ۭ [ ان کی مدت تک ] اِنَّ اللّٰهَ [ بیشک اللہ ] يُحِبُّ [ پسند کرتا ہے ] الْمُتَّقِيْنَ [ تقوی کرنے والوں کو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
ھ میں حضرت ابوبکر کے زیر امارت حج کی ادائیگی اور مشرکین سے برأت کا اعلان :
برأت کے مفہوم کو دوبارہ (وَ اَذَانٌ مِّنَ اللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ ) فرما کر دہرا دیا اور 9 ھ میں جو حج ہوا (جو فتح مکہ کے بعد پہلا حج تھا) اس میں حضرت ابوبکر اور حضرت علی ؓ کے ذریعہ مواقف حج میں اعلان کروا دیا کہ اللہ اور اس کا رسول مشرکین سے بری ہے اور اس کے علاوہ بھی بعض امور کا اعلان کروایا گیا تھا۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے حضرت ابوہریرہ کو اعلان کرنے پر مامور فرمایا۔
صحیح بخاری (ص 271 ج 2) میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ جس حج میں رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر صدیق کو امیر بنا کر بھیجا تھا اس میں انہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
سورة توبہ مدنی ہے اور اس میں ایک سو انتیس آیتیں اور سولہ رکوع ہیں
بسم اللہ الرحمن الرحیم
تفسیر سورة توبہ
یہ بسم اللہ اس سورت کی تفسیر کے شروع اور آغاز کے لیے ہے نہ کہ سورة برات کی تلاوت کے لیے سوہ توبہ بالاتفاق مدنی ہے فتح مکہ کے بعد نازل ہوئی اس سورة میں ایک سو انتیس اور بقول بعض ایک سو تیس آیتیں ہیں اور سولہ رکوع ہیں۔
اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ اس سورت کا بیشتر حصہ تو مدینہ میں نازل ہوا مگر آیت ما کان للنبی والذین آمنوا ان یستغروا للمشرکین ولو کانوا اولی قربی۔ یہ آیتیں ابو طالب کے بارے میں مکہ مکرمہ میں نازل ہوئیں جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے۔
اسماء سورت :
اس سورت کے بہت سے نام ہیں جن میں سے…
Read the full tafseer →4: اس سے وہ مشرکین مراد ہیں جو اپنے عہد پر قائم رہے اور مسلمانوں کے خلاف دشمن کی مدد نہیں کی یعنی بنی ضمرہ اور بنی کنانہ (روح) فرمایا ان کو مدت عہد گذرنے تک کچھ نہ کہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
اعلان بیزاری :
آج کا درس سورة ہذا کی ابتدائی آیت (آیت) ” براء ۃ من اللہ ۔۔ الایۃ “ کی تشریح ہے گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ سورة توبہ 9 ھ میں غزوہ تبوک کے بعد نازل ہوئی۔ اس سے پہلے 8 ھ میں مکہ فتح ہوچکا ہے اس سال حضور ﷺ کے سامنے حج بیت اللہ میں کوئی رکاوٹ نہ تھی ، آپ کے مقرر کردہ گورنر عتاب بن اسید ؓ مکہ میں موجود تھے ، یہ شہر دارالاسلام بن چکا تھا خانہ کعبہ بتوں سے پاک کیا جا چکا تھا مگر ایک قباحت ابھی تک باقی تھی اور وہ یہ تھی کہ مشرکین عرب پر بیت اللہ شریف کا حج کرنے پر ابھی تک پابندی عائد نہیں ہوئی تھی۔ انہوں نے شرکیہ رسوم جاری کر کے ملت ابراہیمی کو بگاڑ دیا تھا اور دین کی اس بگڑی…
Read the full tafseer →اِلَّا الَّذِيْنَ عٰہَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ ثُمَّ لَمْ يَنْقُصُوْكُمْ شَيْــــًٔـا وَّلَمْ يُظَاہِرُوْا عَلَيْكُمْ اَحَدًا فَاَتِمُّــوْٓا اِلَيْہِمْ عَہْدَہُمْ اِلٰى مُدَّتِہِمْ 0 ۭ اِنَّ اللہَ يُحِبُّ الْمُتَّقِيْنَ 4
عهد
العَهْدُ : حفظ الشیء ومراعاته حالا بعد حال، وسمّي الموثق الذي يلزم مراعاته عَهْداً.
قال : وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كانَ مَسْؤُلًا[ الإسراء/ 34] ، أي : أوفوا بحفظ الأيمان، قال : لا يَنالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ [ البقرة/ 124]
( ع ھ د ) العھد
( ض ) کے معنی ہیں کسی چیز کی پیہم نگہہ داشت اور خبر گیری کرنا اس بنا پر اس پختہ وعدہ کو بھی عھد کہاجاتا ہے جس…
Read the full tafseer →1 ؎ حلیف ہم سوگند عرب میں دستور تھا کہ ایک دوسرے سے اتفاق و اتحاد کی بابت حلف کرلیا کرتا تھا۔ اس کے بعد وہ حلیف کہلاتے تھے جو ایک دوسرے کیلئے خون بہانا اپنی نجابت کا جوہر جانتا تھا۔ 12 منہ
Read the full tafseer →اِلَّا الَّذِیْنَ عٰھَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ ثُمَّ لَمْ یَنْقُصُوْکُمْ شَیْئًا وَّلَمْ یُظَاھِرُوْا عَلَیْکُمْ اَحَدًا فَاَتِمُّوْآ اِلَیْھِمْ عَھْدَھُمْ اِلٰی مُدَّ تِھِمْ ط اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ (التوبۃ : 4)
(مگر وہ مشرک جن سے تم نے معاہدے کیے اور انھوں نے اس میں نہ تم سے کوئی خیانت کی اور نہ تمہارے خلاف کسی کی مدد کی تو ایسے لوگوں کے ساتھ تم بھی مدت معاہدہ تک وفا کروکیون کہ اللہ متقیوں ہی کو پسند کرتا ہے)
نقضِ عہد نہ کرنے والوں سے ایفائے عہد کرو
گزشتہ آیت نمبر دو (2) سے یہ معلوم ہوا کہ عرب کے جن قبیلوں نے معاہدے کیے لیکن اس کی پابندی کبھی نہ کی اور وہ قبیلے جو…
Read the full tafseer →” مگر مشرکوں میں سے وہ لوگ جن سے تم نے عہد کیا، پھر انہوں نے تم سے عہد میں کچھ کمی نہیں کی اور نہ تمہارے خلاف کسی کی مدد کی ان کے ساتھ عہد کی مدت پوری کرو۔ بیشک اللہ متقی لوگوں سے محبت کرتا ہے۔ (4)
Read the full tafseer →استثناء معاندین :
آیت 4: اِلَّا الَّذِیْنَ عٰھَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ (ہاں مگر وہ مشرکین مستثنیٰ ہیں۔ جن سے تم نے عہد لیا ہے) یہ فسیحوا فی الارض سے استثناء ہے۔ مطلب یہ کہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلان بیزاری ہے۔ ان مشرکین کے متعلق جن سے تم نے معاہدہ کیا۔ پس تم ان سے کہہ دو تم چل پھرلو۔ مگر وہ لوگ جن سے تم نے معاہدہ کیا۔ ثُمَّ لَمْ یَنْقُصُوْکُمْ شَیْئًا (پھر انہوں نے تمہارے ساتھ ذرا کمی نہیں کی) معاہدے کی شرائط سے یا عہد کو پورا کرو اس کو نہ توڑو۔
قراءت ـ : لم ینقضوکم بھی پڑھا گیا۔ یعنی انہوں نے عہد نہیں توڑا اور یہ مناسب تر ہے۔ لیکن مشہور قراءت زیادہ بلیغ ہے۔ کیونکہ تمام کے…
Read the full tafseer →” الا الذین عھدتم من المشرکین “ یہ استثناء ہے اللہ تعالیٰ کے فرمان ” براء ۃ من اللہ ور سولہ “ سے ۔ یعنی بری ہے اللہ اور اس کا رسول ان عہدوں سے جو تم نے مشرکین سے کئے۔ سوائے اس عہد کے جو تم نے مشرکین سے کیا اور یہ بنو ضمرہ کے لوگ ہیں یہ کنانہ قبیلہ کی ایک شاخ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو ان کے عہد کی مدت پوری کرنے کا حکم دیا تھا۔ ان کے عہد کی مدت نو ماہ باقی رہ گئی تھی۔ ان کی مدت اس لئے پوری کی گئی کہ انہوں نے عہد نہ توڑا تھا اور یہی معنی ہے اللہ تعالیٰ کے فرمان ” ثم ینقصو کم شیئاً کا ولم یظھروا علیکم احداً فاتموآ الیھم عھدھم الی ملتھم ط ان اللہ یحب المتقین “
Read the full tafseer →4۔ اوپر کی آیتوں میں صلح کا عہد توڑنے کا حکم دے کر اور چار مہینے کی مہلت کا ارشاد فرما کر اس آیت میں استثناء کے طور پر یہ فرمایا کہ جنہوں نے تم سے صلح کا عہد کیا اور صلح کے عہد کی کسی شرط کو نہیں توڑا ان کے عہد کو پورا کرو اگرچہ وہ چار مہینے سے زیادہ تک کا عہد ہو کیونکہ اللہ پاک کو احتیاط بہت پسند ہے یہ لوگ اپنی زبان کا پاس رکھتے ہیں اور بےموقعہ عہد و پیمان نہیں توڑتے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ بعضے قبیلے مثلا خزاعہ وغیرہ ایسے بھی تھے جو حدیبیہ کو صلح کے عہد پر قائم رہے ان کو مسثنیٰ فرما کر یہ فرمایا کہ اوپر کا حکم فقط ان لوگوں کے حق میں ہے جن سے یا تو کچھ عہد نہیں ہے یا عہد تو ہے لیکن وہ عہد کے…
Read the full tafseer →آیات (4)
یعنی یہ تمام مشرکین سے کامل اور مطلق برأت کا اظہار ہے۔ ( الا الذین عہد تم من المشرکین) ” سوائے ان مشکرین کے جن سے تم نے معاہدہ کر رکھا ہے “ اور وہ اپنے عہد پر قائم ہیں اور ان سے کسی ایسے فعل کا ارتکاب نہیں ہوا جو نقض عہد کا موجب ہو۔ انہوں نے معاہدے میں کوئی کوتاہی ہی کی ہے نہ تمہارے خلاف کسی کی مدد کی ہے۔ پس ان لوگوں کے ساتھ کئے ہوئے معاہدے کو، اس کی مدت مقررہ تک پورا کرو خواہ یہ مدت تھوڑی ہو یا زیادہ۔۔۔ کیونکہ اسلام خیانت کا حکم نہیں دیتا، وہ تو معاہدوں کو پورا کرنے کا حکم دیتا ہے۔ (ان اللہ یحب المتقین) ” بیشک اللہ پسند کرتا ہے تقویٰ اختیار کرنے والوں کو “۔ وہ لوگ جنہوں نے ان ذمہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
قول باری ہے (واذاک من اللہ و رسولہ الی الناس یوم الحج الاکبر ان اللہ بریء من المشرکین و رسولہ۔ اطلاع عام ہے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے حج کے بڑے دن، تمام لوگوں کے لئے کہ اللہ مشرکین سے بری الذمہ ہے اور اس کا رسول بھی) یعنی اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلان ہے کہا جاتا ہے اذنیٰ بکذا مجھے اس نے یہ بات معلوم کرائی اور مجھے اس کا علم ہوگیا۔
حج اکبر کے بارے میں تعبیرات
” یوم الحجۃ الاکبر “ کی تفسیر میں اختلاف ہے۔ بعض روایات میں حضور ﷺ سے منقول ہے کہ اس سے مراد یوم عرفہ ہے۔ حضرت علی ؓ ، حضرت عمر ؓ ، حضرت ابن عباس ؓ ، عطاء اور مجاہد سے مختلف روایات کی صورت میں یہی منقول ہے کہ اس سے یوم النحر…
Read the full tafseer →10 تقویٰ و پرہیزگاری باعث سعادت و ذریعہ سرفرازی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک اللہ پسند فرماتا ہے پرہیزگاروں کو جو ہمشہ ڈرتے اور بچتے رہتے ہیں اس کی ناراضگی اور نافرمانی کی ہر شکل سے۔ اور جب کوئی کوتاہی ان سے بتقاضائے بشریت سرزد ہوجاتی ہے تو وہ اس کی معافی کیلئے فوری اور دل و جان سے اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ اس لئے ان کے لائق اور شایان شان یہی ہے کہ وہ اپنے خالق ومالک کے نام پر باندھے گئے ہر عہد و پیمان کی پاسداری کریں اور حتی المقدور اس کو پوری طرح نبھائیں۔ سو تقویٰ و پرہیزگاری دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ اسی سے انسان کو دنیا کی اس عارضی زندگی میں طرح طرح کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
مشرکوں سے سختی اور رعایت
تشریح : جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے کہ 10 رمضان 8 ہجری کو نبی کریم ﷺ مدینہ سے مکہ پر حملہ کرنے کے لیے روانہ ہوئے اور مکہ بغیر خون بہائے اور جنگ کے فتح کرلیا گیا۔ ذی الحجہ 9 ھ کو اعلان عام کردیا گیا کہ قبائل عرب سے تمام معاہدات ختم کیے جاتے ہیں کیونکہ عہد شکنی کی ابتدا قریش مکہ کی طرف سے ہوئی تھی۔ یہاں بھی مسلمانوں کی اخلاقی سر بلندی کا اظہار کیا جا رہا ہے وہ اس طرح کہ حکم الٰہی یوں دیا جا رہا ہے کہ مکہ کے اطراف میں رہنے والے غیرمسلموں کو جان و امال کی امان دی گئی۔ ان غیرمسلموں کی چار قسمیں تھیں۔ ایک تو وہ جنہوں نے حدیبیہ کا معاہدہ توڑا۔ دوسرے وہ جن سے خاص مدت تک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
سورة التوبۃ
اسے سورة برات بھی کہا جاتا ہے کہ اس میں کفار سے برائت کے احکام نازل ہوئے اور قبول تو بہ کی بشارت کے باعث توبہ کہلاتی ہے ۔ اس میں عجیب بات یہ ہے کہ اس کے شروعی میں بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں لکھا جاتا ۔ دراصل کسی بھی سورة کی مختلف آیات جب نازل ہوتیں تو بذریعہ وحی ان کا مقام بھی بتادیا جاتا چناچہ آپ ﷺ کاتنان وحی کو انھیں وہاں درج کرنے ارشاد فرماتے اور جب کوئی نئی سورة نازل ہوتی تو اس سے پہلے بسم اللہ لکھنے کا ارشاد ہوتا ۔ یہ مدنی اور آخری سورتوں میں سے ہے مگر جب نازل ہوئی تو بسم اللہ لکھنے کا حکم نازل نہ ہوا نہ ہی کاتبان وحی کو کچھ فرمایا گیا اور یہ اسی طرح بغیر بسم اللہ کے لکھ دی…
Read the full tafseer →ف 8 ان کے لیے چارمہینوں کی میعاد نہیں ہے۔
Read the full tafseer →(9:4) لم ینقصوکم۔ نقص ینقص (باب نصر) نقصاد نقصانا۔ کم ہونا ۔ گھٹنا۔ کم کرنا۔ گھٹانا نقضت زیدا حقہ میں نے زید کے حق میں کمی کردی اس کے حق کو گھٹا دیا۔ لم ینقصوا۔ مضارع نفی جحد بلم۔ کم ضمیر جمع مذکر حاضر۔ انہوں نے تمہارے حق میں کمی نہیں کی۔ یعنی تمہاری حق تلفی نہیں کی۔ تمہارا نقصان نہیں کیا۔ انہوں نے تمہارا قصور نہیں کیا۔ (انہوں نے تکمیل عہد میں کمی نہیں کی) ۔
لم یظاھروا علیکم۔ ظاھر یظاھر مظاھرۃ (باب مفاعلۃ) ایک دوسرے کی امدا کرنا۔ علیکم۔ تمہارے خلاف۔ مضارع نفی جحد بلم۔ جمع مذکر غائب انہوں نے تمہارے خلاف کسی دوسرے کی مدد نہیں کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
تعارف :
٭اس سورة کے دو نام آتے ہیں۔ (1) سورة توبہ۔ (2) سورة برأت۔
٭ توبہ کے معنی پلٹنے اور لوٹنے کے ہیں۔ جب کوئی اللہ کا بندہ گناہوں سے نادم ہو کر سچے دل سے اللہ کی طرف یعنی نیکیوں کی طرف پلٹتا ہے اس کو توبہ کہتے ہیں۔ چونکہ اس سورة میں چند صحابہ کرام ؓ کی توبہ قبول کی گئی ہے اس لئے اس کا نام سورة توبہ رکھا گیا ہے۔
٭ سورة براء ت… براءت کے معنی چھٹکارا پانا۔ بیزاری اور نفرت کا اظہار کرنا ہے۔ چونکہ کفار و مشرکین مسلسل اپنی عہد شکنیوں کے مجرم تھے اس لئے مسلمانوں نے جو معاہدے کیے جاتے ان کو ختم کرکے کفار و مشرکین کو حرمین سے نکالنے اور کفارو مشرکین کی بد عہدیوں سے نفرت کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس لئے…
Read the full tafseer →اس آیت میں یہ ارشاد ہوا کہ جنہوں نے تم سے صلح کا عہد کیا اور صلح کے عہد کی کسی شرط کو نہیں توڑا ان کے عہد کو پورا کرو۔ اگرچہ وہ چار مہینے سے زیادہ تک کا عہد ہو کیونکہ اللہ پاک کو احتیاط بہت پسند ہے۔ یہ لوگ اپنی زبان کا پاس رکھتے ہیں اور بےموقع عہد و پیمان نہیں توڑتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
[3] یعنی وہ حج جو ذی الحجہ کی مقررہ تاریخوں میں کیا جاتا ہے، اس کو حج اکبر اس لئے کہا گیا کہ اہل عرب عمرے کو حج اصغر یعنی چھوٹا حج کہتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
اعلان استقلال :
(ف 2) اس سورة میں اعلان استقلال ہے مشرکین مکہ نے بار بار نقض عہد کا ارتکاب کیا ، حضور ﷺ جب تبوک کی طرف جانے لگے تو انہوں نے پوری کوشش کی کہ آپ کی غیر حاضری میں غلط سلط افوائیں مشہور کی جائیں ، اس لئے یہ سورت نازل ہوئی ، جس میں واضح الفاظ میں کہہ دیا گیا کہ آج سے ہم تم سے کوئی عہد ومیثاق نہیں رکھتے تمہیں چار ماہ کی مہلت ہے جہاں چاہو ، ٹھکانا طے کرلو ، اس کے بعد یا اسلام قبول کرو ، اور یا جنگ کے لئے تیار ہوجاؤ ، اب زیادہ دیر تک تمہاری شرارتوں کو برداشت نہیں کیا جاسکتا ۔
حضرت علی ؓ اور حضرت ابوبکر ؓ حج کے دن یہ اعلان لے پہنچے ، اور ایک ایک کے کان تک اس کو پہنچایا ، غرض یہ تھی کہ…
Read the full tafseer →4 مگر ہاں وہ مشرک اس برأت امان سے مستثنا ہیں جن سے تم نے کوئی عہد لیا پھر انہوں نے اپنے عہد کے پورا کرنے میں تم سے کوئی کمی اور کسی قسم کی کوتاہی نہیں کی اور نہ تمہارے مقابلہ میں کسی مخالفت کی مدد کی تو ایسے مشرکوں سے ان کے عہد کو اس مدت تک پورا کرو جو ان سے طے ہوئی ہو بلاشبہ اللہ تعالیٰ بد عہدی سے احتیاط رکھنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ یعنی ان لوگوں سے مراد بنی ضمرہ اور بنی مدلج ہیں انہوں نے اپنے عہد کی پابندی کی اس لئے ان کو اعلان برأت سے مستثنا کردیا گیا اور مدت عہد کو پورا کرنے اور بدعہدی نہ کرنے کا حکم دیا گیا اور بدعہدی سے بچنے والوں کو پسند فرمایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
ف 4۔ اس سورت میں چند غزوات اور چند واقعات کا ذکر ہے اعلان نقض عہد بقبائل عرب۔ فتح مکہ غزوہ حنین، اخراج کفار از حرم، غزوہ تبوک اور ان ہی آیتوں کے ضمن میں تبعا واقعہ ہجرت۔
Read the full tafseer →مشرکوں میں سے جو لوگوں نے معاہدہ کی خلاف ورزی نہیں کی ان کو مستثنیٰ کردیا گیا :
6: مشرکین کے مختلف گروہوں نے مختلف اوقات میں معاہدے کئے تھے فرمایا کہ جس خاندان نے اپنے معاہدہ کے خلاف ورزی نہیں کی اور ابھی تک وہ اپنے معاہدہ پر قائم ہیں اور قائم رہنا چاہتے ہیں تو مسلمانوں کو بھی ان کے ساتھ کئے ہوئے معاہدوں کی پابندی لازمی ہے۔ جیسا کہ آپ پیچھے پڑھ چکے ہیں کہ بیت اللہ کو اب ساری شرک کی باتوں اور کاموں سے پاک کردیا گیا تھا وہاں سے مشرکین کے بت اٹھا دیئے گئے تھے۔ ننگے طواف کی ممانعتت کردی گئی تھی۔ قربانی کے خون کو بیت اللہ کی دیواروں کے ساتھ لگانے سے روک دیا گیا تھا۔ شرکیہ اور اد و وظائف سے ان کو…
Read the full tafseer →6. The sixth ruling comes out from the fourth verse where Muslims have been prompted to fulfill their pledge right through the end until the term of the peace treaty expired. Immediately thereafter, the verse has been concluded with the sentence: إِنَّ اللَّـهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ (Surely, Allah loves the God-fearing). This gives a clear hint to the advice that Muslims should observe utmost precaution in fulfilling the pledge they have given. They should never look for lame excuses and far-fetched interpretations only to find a way to contravene treaty obligations, as done by nations at…
Read the full tafseer →