جہاد اور حرمت والے مہینے
حرمت والے مہینوں سے مراد یہاں وہ چار مہینے ہیں جن کا ذکر (اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ مِنْهَآ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ۭذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ ڏ فَلَا تَظْلِمُوْا فِيْهِنَّ اَنْفُسَكُمْ وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِيْنَ كَاۗفَّةً كَمَا يُقَاتِلُوْنَكُمْ كَاۗفَّةً ۭ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِيْنَ 36) 9۔ التوبہ :36) میں ہے پس ان کے حق میں آخری حرمت والا مہینہ محرم الحرام کا ہے ابن عباس اور ضحاک سے بھی یہی مروی ہے لیکن اس میں ذرا تامل ہے بلکہ مراد اس سے یہاں وہ چار…
Read the full tafseer →سورة التَّوْبَة 6
یہاں حرام مہینوں سے اصطلاحی اشہر حرُم مراد نہیں ہیں جو حج اور عمرے کے لیے حرام قرار دیے گئے ہیں۔ بلکہ اس جگہ وہ چار مہینے مراد ہیں جن کی مشرکین کو مہلت دی گئی تھی۔ چونکہ اس مہلت کے زمانہ میں مسلمانوں کے لیے جائز نہ تھا کہ مشرکین پر حملہ آور ہوجاتے اس لیے انہیں حرام مہینے فرمایا گیا ہے۔
سورة التَّوْبَة 7
یعنی کفر و شرک سے محض توبہ کرلینے پر معاملہ ختم نہ ہوگا بلکہ انہیں عملًا نماز قائم کرنی اور زکوٰۃ دینی ہوگی۔ اس کے بغیر یہ نہیں مانا جائے گا کہ انہوں نے کفر چھوڑ کر اسلام اختیار کرلیا ہے۔ اسی آیت سے حضرت ابوبکر ؓ نے فتنہ ارتداد کے زمانہ میں استدلال کیا تھا۔ نبی ﷺ کی وفات کے…
Read the full tafseer →(7) ساتواں مسئلہ مذکورہ پانچویں آیت کی تفصیلات سے یہ معلوم ہوا کہ جب صحیح مقصد کے لئے کسی قوم سے جنگ چھڑ جائے تو پھر ان کے مقابلہ کے لئے ہر طرح کی قوت پورے طور پر استعمال کرنا چاہئے اس وقت رحم دلی یا نرمی درحقیقت رحم دلی نہیں بلکہ بزدلی ہوتی ہے۔
(8) آٹھواں مسئلہ مذکورہ پانچویں آیت سے یہ ثابت ہوا کہ کسی غیر مسلم کے مسلمان ہوجانے پر اعتماد تین چیزوں پر موقوف ہے۔ ایک توبہ دوسرے اقامت صلوٰة تیسرے ادائے زکوٰة جب تک اس پر عمل نہ ہو محض کلمہ پڑھ لینے سے ان کے ساتھ جنگ بند نہ کی جائے گی۔ رسول کریم ﷺ کی وفات کے بعد جن لوگوں نے زکوٰة دینے سے انکار کردیا تھا ان کے مقابلہ پر صدیق اکبر نے جہاد کرنے کے لئے…
Read the full tafseer →فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَيْثُ وَجَدْتُّمُــوْهُمْ وَخُذُوْهُمْ وَاحْصُرُوْهُمْ وَاقْعُدُوْا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ ۚ فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَخَــلُّوْا سَـبِيْلَهُمْ ۭاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔
‘ اشہر حرم ’ اشہر حرم سے مراد ذی قعدہ ذی الحجہ، محرم اور رجب کے مہینے ہیں۔ اشہر حرم، ان مہینوں کے لیے بطور اسم و علم استعمال ہوتا ہے۔ ان کے سوا کوئی اور مہینہ اس لفظ سے مراد لینے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یہ مہینے زمانہ جاہلیت بلکہ سیدنا ابراہیم ؑ کے زمانے سے محترم چلے آ رہے تھے۔ ہم سورة بقرہ کی تفسیر میں بیان کرچکے…
Read the full tafseer →5۔ 1 ان حرمت والے مہینوں سے مراد کیا ہے ؟ اس میں اختلاف ہے۔ ایک رائے تو یہ ہے اس سے مراد چار مہینے ہیں جو حرمت والے ہیں۔ رجب، ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم اور اعلان نجات 0 1 ذوالحجہ کو کیا گیا۔ اس اعتبار سے گویا یہ اعلان کے بعد پچاس دن کی مہلت انہیں دی گئی، لیکن امام ابن کثیر نے کہا کہ یہاں اَ شھَرُ حُرْم سے مراد حرمت والے مہینے نہیں بلکہ 10 ذوالحجہ سے لے کر 10 ربیع الثانی تک کے چار مہینے مراد ہیں۔ انہیں اشھر حرم اس لیے کہا گیا ہے کہ اعلان براءت کی رو سے ان چار مہینوں میں ان مشرکین سے لڑنے اور انکے خلاف کسی اقدام کی اجازت نہیں تھی۔ اعلان برات کی رو سے یہ تاویل مناسب معلوم ہوتی ہے (واللہ…
Read the full tafseer →4: یہ تیسری قسم کے مشرکین ہے جنہوں نے بد عہدی کی تھی۔
Read the full tafseer →اب یہا بتایا جاتا ہے کہ مسلمان اس مدت کے اختتام پر کیا اقدامات کریں گے ؟
یہاں لفظ الاشہر الحرام (حرام مہینے) کی تفسیر میں کئی اقوال ہیں کہ ان سے مراد کون سے مہینے ہیں ؟ عام مشہور حرام مہینے ہیں یعنی ذوالقعدہ ، ذوالحجہ اور محرم اور پھر رجب تو پھر چار مہینوں سے مراد تین ماہ اور ذوالحجہ کے باقی بیس دن ہوں گے۔ یہ پچاس دن ہوئے ، یعنی اعلان کے بعد یا اس سے مراد مردت چار ماہ ہے اور اس کا آغاز دس ذوالحجہ سے ہے اور اختتام دس ربیع الاخر تک ہے یا اس سے مراد یہ ہے کہ پہلی مدت ان لوگوں کے لیے ہے جنہوں نے عہد توڑا اور دوسری مدت ان لوگوں کے لیے جن کے ساتھ اس سے قبل کوئی معاہدہ ہی نہ تھا۔ یہ ہیں مختلف…
Read the full tafseer →5 استثناء سے فارغ ہو کر پھر مستثنیٰ منہ کا حکم بیان فرماتے ہیں۔ یعنی ان عہد شکنی کرنے والوں سے اگرچہ اب کوئی معاہدہ باقی نہ رہا اور اس لیے علی الفور جنگ کی جاسکتی ہے تاہم " اشہر حرم " کی رعایت مانع ہے کہ فوراً ان پر حملہ کیا جائے خواہ اس لیے کہ اس وقت تک اشہر حرم میں ابتداء قتال کرنا ممنوع ہوگا یا مصلحتا کہ تھوڑی سی بات کے لیے عام لوگوں میں کیوں تشویش پیدا کی جائے کیونکہ ان مہینوں میں قتال کی حرمت ان کے یہاں معروف و مسلم چلی آتی تھی۔ بہرحال ماہ محرم کے ختم تک ان کو مہلت دی گئی کہ جو چاہیں اپنا بندوبست کرلیں۔ اس کے بعد تطہیر جزیرۃ العرب کی خاطر جنگ سے چارہ نہیں۔ جو کچھ برتاؤ جنگ میں ہوتا ہے…
Read the full tafseer →آیت 5 فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْہُرُ الْحُرُمُ
یہاں محترم مہینوں سے مراد وہ چار مہینے ہیں جن کی مشرکین کو مہلت دی گئی تھی۔ چار مہینے کی یہ مہلت یا امان غیر میعادی معاہدوں کے لیے تھی ‘ جبکہ میعادی معاہدوں کے بارے میں فرمایا گیا کہ ان کی طے شدہ مدت تک پابندی کی جائے۔ لہٰذا جیسے جیسے کسی گروہ کی مدت امان ختم ہوتی جائے گی اس لحاظ سے اس کے خلاف اقدام کیا جائے گا۔ بہر حال جب یہ مہلت اور امان کی مدت گزر جائے :
فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْہُمْ وَخُذُوْہُمْ وَاحْصُرُوْہُمْ وَاقْعُدُوْا لَہُمْ کُلَّ مَرْصَدٍ ج
ان الفاظ میں موجود سختی کو محسوس کرتے ہوئے اس منظر اور ماحول کو ذہن میں…
Read the full tafseer →4 یہاں حرمت والے مہینوں سے مراد 10 ذی الحجہ 9 ہجری سے لے کر 10 ربیع الثانی 10 ہجری تک چار ماہ کی مدت ہے جو مشرکوں کو سوچ بچار کے لیے دی گئی تھی۔ یہاں حرمت والے مہینوں سے مراد ذیقعدہ، ذی الحجہ، محرم اور رجب نہیں ہیں جو دور جاہلیت میں بھی حرمت والے سمجھے جاتے تھے اور اسلام نے بھی ان کی حرمت کو بحال رکھا ہے۔
5 مشرکوں سے جنگ نہ کرنے کی شرائط :۔ درج ذیل حدیث اس کی مزید وضاحت کر رہی ہے۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اس وقت تک لوگوں سے جنگ کروں جب تک وہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی گواہی نہ دیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں۔ پھر جب وہ یہ کام کریں…
Read the full tafseer →11 ۔ غرض یہ کہ جنگ میں جو کچھ ہوتا اور کرنا پڑتا ہے اس کی عام اجازت ہے۔ واقعدوا، سے اس کے لفظی معنی مراد نہیں بلکہ مراد یہ ہے کہ غنیم کی فکر میں لگے رہو اور یہی صورت احصروھم کے لیے ہے۔ لیس معناہ حقیقۃ القعود بل المراد ترقبھم وترصدھم (روح) واحصروھم اے امنعوھم عن الخروج اذا تحصنوا منکم بحصن (عن ابن عباس، روح) (آیت) ” المشرکین “۔ عام مشرکین مراد نہیں، بلکہ وہی محارب، عہد شکن مشرکین مراد ہیں جنہوں نے الٹے دشمنوں کی مدد کرکے مسلمانوں سے غداری کی۔ تبین ان المراد بالایۃ اقتلوا المشرکین الذین یحاربونکم (ابن العربی) اے المشرکین الناکثین (بیضاوی) الذین نقضوکم وظاھروا علیکم (مدارک) (آیت) ” حیث وجدتموھم…
Read the full tafseer →فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْھُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوْا الْمُشْرِکِیْنَ ، (الآیة) حرمت والے مہینوں سے کیا مراد ہے ؟ اس میں اختلاف ہے ایک رائے تو وہی ہے کہ اس سے معروف حرمت والے چار مہینے مراد ہیں یعنی رجب، ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم۔ امام ابن کثیر نے کہا ہے کہ یہاں اشھر حرم سے مراد وہ حرمت والے مہینے نہیں ہیں بلکہ 10 ذی الحجہ سے 10 ربیع الثانی تک کے چار مہینے مراد ہیں انہیں اشہر حرم اس لئے کہا گیا ہے کہ اعلان براء ة کی رو سے ان چار مہینوں میں ان مشرکین سے لڑنے اور ان کے خلاف اقدام کی کسی کو اجازت نہیں تھی، اعلان براءت کی رو سے یہ تاویل زیادہ مناسب ہے۔
Read the full tafseer →فاذا انسلخ الا شھرا الحرم پھر جب ماہہائے حرام گذر جائیں۔ انسلاخ کا مادہ سلخ ہے ‘ سلخ الشاۃ بکری کی کھال اتارنا۔ انسلاخ کا معنی ہے کسی چیز کا اپنے غلاف سے برآمد ہوجانا۔
مجاہد اور ابن اسحاق نے کہا : اشہر حرم سے مراد ہیں معاہدہ کے مہینے جن کی میعاد چار ماہ ہے اور جن لوگوں سے معاہدہ نہ ہو ‘ ان کیلئے اشہر حرم کی آخری حد ماہ محرم کی آخری تاریخ ہے ‘ یعنی (10؍ذی الحجہ سے جو اعلان برأت کی اوّلین تاریخ تھی) پچاس دن۔ ان کو حُرُم کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اللہ نے مشرکوں کا خون بہانا اور ان سے لڑنا ان مہینوں کے اندر مسلمانوں کیلئے حرام کردیا ہے۔ مجاہد کے اس قول پر یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ یہ تو پچاس دن ہوں گے ‘…
Read the full tafseer →(5) اور جب اشہرحرم پورے ہوجائیں تو اس جماعت کو جس کو صرف پچاس دن کی مہلت دی تھی، حل و حرم میں جہاں ملیں قتل کردو یا ان کو قید کو لو اور مکانوں میں باندھو اور جن رستوں پر سے یہ تجارت کے لیے آتے جاتے ہیں ان موقعوں کی تاک میں بیٹھے رہو۔
پھر اگر یہ کفر سے توبہ کرلیں اور ایمان باللہ کے قائل ہوجائیں اور پانچ وقتہ نمازیں ادا کرنے لگیں اور زکوٰۃ کی ادائیگی کا اقرار کرلیں تو ان کو مکانوں سے رہا کر دو کیوں کہ جو ان میں سے توبہ کرے اللہ تعالیٰ اسے معاف کرنے والے ہیں اور جو توبہ پر مرجائے تو اللہ تعالیٰ بڑا مہربان ہے۔
Read the full tafseer →فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ : ان چار مہینوں سے مراد 10 ذوالحجہ سے 10 ربیع الثانی تک کے ایام ہیں۔ بعض لوگوں نے اس سے معروف حرمت والے مہینے مراد لیے ہیں، یعنی رجب، ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم۔ 10 ذوالحجہ کو اعلان براءت ہو تو محرم ختم ہونے تک کل پچاس دن بنتے ہیں، اس لیے حافظ ابن کثیر اور دوسرے مفسرین نے 10 ذوالحجہ سے 10 ربیع الثانی تک ہی چار ماہ مراد لیے ہیں اور انھیں ”الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ“ اس لیے کہا گیا کہ اس مہلت میں مشرکین کا قتل حرام کردیا گیا، یہی تفسیر درست ہے۔
كُلَّ مَرْصَدٍ : گھات کی جگہ سے مراد وہ راستہ یا جگہ ہے جہاں سے دشمن کے گزرنے کی توقع ہو اور جہاں سے اس پر حملہ کر کے…
Read the full tafseer →مسئلہ نمبر 1 ۔ قولہ تعالیٰ : فاذ انسلخ الا شھر الحرم یعنی جب نکل جائیں حرمت والے مہینے اور سلحت اشھر جب تو مہینے کے آخری ایام میں پہنچ جائے (تو یہ جملہ کہتا ہے) تسلخہ سلخا دسلوخا بمعنی خرجت منہ (یعنی میں اس سے نکل گیا) اور شاعر نے بھی کہا ہے :
ٗءاذا ما سلخت الشھر اھللت قبلہ کفی قاتلا سلخی الشھور و اھلالی
اور انسلخ الشھر (مہینہ گزر گیا، نکل گیا) اور انسلخ النھار من اللیل المقبل (آنے والی رات سے دن نکل گیا)
ٗاور سلخت المراءۃ درعھا (عورت نے اپنی قمیض اتاردی) اور قران کریم میں ہے : وایۃ لھم الیل نسلخ منہ النھار (یسین :37) (اور دوسرے نشانی ان کے لیے رات ہے ہم اتار لیتے ہیں اس سے دن کو) اور نخلۃ…
Read the full tafseer →1:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فاذا انسلخ الاشھر الحرم “ اشھر الحرام سے مراد چار مہینے ہیں ذی الحجۃ میں سے چوبیس دن اور محرم صفر، ربیع الاول اور ربیع الاخر کے مہینہ میں سے بیس دن۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فاذا انسلخ الاشھر الحرم “ سے مراد ہے ذوالقعد میں سے دس دن اور ذی الحجۃ اور محرم اور یہ ستر راتیں ہیں۔
اشھر حرم چار ماہ ہیں ـ:
3:۔ ابوالشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فاذا انسلخ الاشھر الحرم “ سے وہ چار ماہ مراد ہیں کہ جن کے بارے میں (اللہ تعالیٰ نے) فرمایا (آیت) ” فسیحوا فی الارض اربعۃ اشھر “ (براۃ آیت 2)
4:۔ ابن منذر نے قتادہ…
Read the full tafseer →فَاِذَا [ پھر جب ] انْسَلَخَ [ گزر جائیں ] الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ [ محترم (یعن پناہ والے ) مہینے ] فَاقْتُلُوا [ تو قتل کرو ] الْمُشْرِكِيْنَ [ مشرکوں کو ] حَيْثُ [ جہاں ] وَجَدْتُّمُــوْهُمْ [ تم لوگ پاؤ ان کو ] وَخُذُوْهُمْ [ اور پکڑو ان کو ] وَاحْصُرُوْهُمْ [ اور گھیروان کو ] وَاقْعُدُوْا [ اور بیٹھو ] لَهُمْ [ ان کے لیے ] كُلَّ مَرْصَدٍ ۚ [ ہر گھات لگانے کی جگہ پر ] فَاِنْ [ پھر اگر ] تَابُوْا [ وہ لوگ توبہ کریں ] وَاَقَامُوا [ اور قائم کریں ] الصَّلٰوةَ [ نماز ] وَاٰتَوُا [ اور ادا کریں ] الزَّكٰوةَ [ زکوۃ ] فَخَــلُّوْا [ تو چھوڑ دو ] سَـبِيْلَهُمْ ۭ [ ان کا راستہ ] اِنَّ اللّٰهَ [ بیشک…
Read the full tafseer →9 (فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْھُرُ الْحُرُمُ ) (الآیۃ) حضرت مجاہد اور ابن اسحاق نے فرمایا ہے کہ اس آیت میں جن أشہر الحرام کا ذکر ہے ان سے وہی مہینے مراد ہیں جن کا شروع سورت میں ذکر آیا ہے جن لوگوں کے ساتھ کوئی معاہدہ بلا تعیین مدت کا تھا اور جن سے کوئی عہد نہ تھا ان کو چار ماہ کی مہلت دی گئی اور جنہوں نے نقض عہد کیا تھا یعنی قریش مکہ ان کو چار ماہ کی مدت میں سے بیس دن ذی الحجہ کے اور پورا مہینہ محرم کا گزر جانے تک کی مہلت دی گئی۔ صاحب معالم التنزیل نے یہ بات لکھی ہے اور علامہ نسفی نے بھی مدارک التنزیل میں ایسا ہی فرمایا ہے
صاحب روح المعانی نے بھی یوں ہی لکھا ہے کہ اشہر الحرام سے وہ مہینے مراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
سورة توبہ مدنی ہے اور اس میں ایک سو انتیس آیتیں اور سولہ رکوع ہیں
بسم اللہ الرحمن الرحیم
تفسیر سورة توبہ
یہ بسم اللہ اس سورت کی تفسیر کے شروع اور آغاز کے لیے ہے نہ کہ سورة برات کی تلاوت کے لیے سوہ توبہ بالاتفاق مدنی ہے فتح مکہ کے بعد نازل ہوئی اس سورة میں ایک سو انتیس اور بقول بعض ایک سو تیس آیتیں ہیں اور سولہ رکوع ہیں۔
اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ اس سورت کا بیشتر حصہ تو مدینہ میں نازل ہوا مگر آیت ما کان للنبی والذین آمنوا ان یستغروا للمشرکین ولو کانوا اولی قربی۔ یہ آیتیں ابو طالب کے بارے میں مکہ مکرمہ میں نازل ہوئیں جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے۔
اسماء سورت :
اس سورت کے بہت سے نام ہیں جن میں سے…
Read the full tafseer →5: یعنی ذی قعدہ، ذی الحجہ اور محرم گذر جائیں تو مشرکین جہاں کہیں ملیں ان کو قتل کر ڈالو یا انہیں پکڑ کر محصور کرلو اور انہیں پکڑنے کے ہر مناسب کمین گاہ میں چھپ کر بیٹھ جاؤ۔ “ فَاِنْ تَابُوْا الخ ” مشرکین اگر گرفتار یا محصور ہونے کے بعد کفر و شرک سے توبہ کرلیں اور ایمان لا کر احکام اسلام کی بجا آوری کا عہد کرلیں تو انہیں رہا کردو۔ “ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ” جو شخص شرک و کفر توبہ کر کے سچے دل سے اسلام قبول کرلے اللہ تعالیٰ اس پر رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے اور اس کے گذشتہ گناہ معاف فرما دیتا ہے۔ یعنی “ لمن تاب و رجع من الشرک الی الایمان ومن المعصیة الی الطاعة ” (خازن ج 3 ص 51) “ یغفر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
ربطِ آیات :
پہلے درس میں مشرکین سے بیزاری کا اعلان تھا۔ پھر معاہدات کی خلاف ورزی کرنیوالوں کے لیے چار ماہ کی مدت فرمائی کہ اگر وہ اس عرصہ میں کفر وشرک کو چھوڑ کر ایمان قبول کرلیں تو ٹھیک ہے ، ورنہ وہ ملک بدر ہوجائیں چار ماہ کی مدت میں اگر نہ وہ ایمان لائیں اور نہ ملک چھوڑیں تو پھر ان کے خلاف جہاد ہوگا۔ البتہ جو لوگ معاہدے کی پابندی کر رہے ہیں ان کے متعلق فرمایا کہ مقررہ مدت تک ان کے خلاف کوئی کاروائی نہ کی جائے اور انہیں سوچ وبچار کا موقع دیا جائے۔
حرمت والے مہینے :
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” فاذا انسلخٰ الاشھر الحرم “ جب حرمت والے مہینے گزر جائیں یہاں پر حرمت والے مہینوں سے مراد یہی چار ماہ ہیں…
Read the full tafseer →فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْہُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَيْثُ وَجَدْتُّمُــوْہُمْ وَخُذُوْہُمْ وَاحْصُرُوْہُمْ وَاقْعُدُوْا لَہُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ 0 ۚ فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوۃَ فَخَــلُّوْا سَـبِيْلَہُمْ 0 ۭ اِنَّ اللہَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ 5
إذا
إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له
( اذ ا ) اذ ا
۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو…
Read the full tafseer →1 ؎ ذیقعدہ ٗ ذی الحج رجب ٗ محرم یعنی ان چار مہینوں میں حسب دستور قدیم عرب امن ہے۔ اس کے بعد جو کوئی مشرک مل جائے اس سے لڑو جن قبائل مشرکین سے عہد و پیمان امن ابتدائِ اسلام میں ہوا تھا اب وہ بذریعہ اس اعلان کے توڑ دیا گیا۔ یہ سورة مدینہ میں فتح مکہ کے بعد نازل ہوئی جبکہ اسلام کا زور ہوگیا اور بڑے بڑے قبائلِ عرب اسلام میں آگئے تھے۔ اب اس عہد کی ضرورت نہیں رہی۔ اگر کوئی عہد ہو اس کی میعاد تمام ہونے پر ضرور ہے کہ پیشتر سے اعلان کردیا جاوے۔ اس سورة میں یہ اعلان ہے براءۃ کے معنی ہیں بیزاری اور یکسوئی کے جس کا مرادی ترجمہ صاف جواب بہت مناسب ہے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
فَاِذَاانْسَلَخَ الْاَشْھُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ وَجَدْ تُّمُوْھُمْ وَخُذُوْھُمْ وَاحْصُرُوْھُمْ وَاقْعُدُوْا لَھُمْ کُلَّ مَرْصَدٍج فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَھُمْ ط اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (التوبۃ : 5 )
(پھر جب اشھرحرم گزرجائیں تو مشرکین کو قتل کرو جہاں بھی انھیں پائو اور انھیں پکڑو اور انھیں گھیرو اور ہر جگہ ان کی تاک میں بیٹھو پھر اگر وہ توبہ کریں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو ان کا راستہ چھوڑ دو بیشک اللہ بخشنے والا رحم کرنیوالا ہے۔ )
اشھرِ حرم کا مفہوم
بعض اہل علم کا خیال ہے کہ جزیرہ عرب کے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : جن مشرکوں نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تھی ان کو چار مہینے اور جنھوں نے مسلمانوں سے کیے ہوئے عہد کی پاسداری کی ان کو معاہدے کے اختتام تک مہلت دی گئی ہے۔
نبی اکرم ﷺ سے معاہدات کرنے والے کفار اور مشرکین کی دو قسمیں تھیں ایک وہ جنھوں نے حدیبیہ کے مقام پر صلح کا معاہدہ کرنے کے باوجود اسے توڑ دیا تھا۔ ان کو چار مہینے کی مہلت دی گئی لیکن جو لوگ آپ سے کیے ہوئے عہد کی پاسداری کر رہے تھے انھیں عہد کے اختتام تک مہلت دی گئی ہے۔ اس لیے انھیں برأتِ عہد سے مستثنٰی قرار دیتے ہوئے وضاحت فرمائی کہ ان مشرکوں کے ساتھ ابھی برأت کا اعلان نہیں ہے جنھوں نے نہ عہد کی خلاف ورزی کی اور نہ ہی…
Read the full tafseer →عہد توڑنے والوں کے خلاف کارروائی کا حکم :
آیت 5: فَاِذَا انْسَلَخَ (جب گزر جائیں) گزرنا یا نکلنا الْاَشْھُرُ الْحُرُمُ (حرمت والے مہینے) جن میں عہد توڑنے والوں کو بھی چلنے پھرنے کی اجازت دی گئی۔ فَاقْتُلُوْا الْمُشْرِکِیْنَ (تو ان مشرکین کو قتل کرو) وہ جنہوں نے عہد کو توڑ دیا۔ اور تمہارے خلاف دشمنوں کی معاونت کی۔ حَیْثُ وَجَدْ تُّمُوْھُمْ (جہاں تم چاہو) حرم میں یاحل میں وَخُذُوْھُمْ (اور ان کو پکڑو) اور ان کو قید کرلو۔ الاخذ۔ قید و بند میں ڈالنا۔ وَاحْصُرُوْھُمْ (اور ان کو باندھو) اور ان کو قید کرلو۔ اور علاقہ میں تصرف سے روک دو ۔ وَاقْعُدُوْا لَھُمْ کُلَّ مَرْصَدٍ (اور دائو گھات کے مواقع میں…
Read the full tafseer →(5) ” فاذا انسلخ الاشھر الحرم “ بعض نے کہا یہ چار مہینے رجب، ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم ہیں۔ مجاہد اور ابن اسحاق رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یہ معاہدہ کے مہینے ہیں کہ جس کا معاہدہ ہے تو اس کا معاہدہ چار ماہ تک باقی رہے گا اور جس کا عہد نہیں تھا تو اس کی مدت محرم ختم ہونے تک ۔ پچاس دن ہے ان مہینوں کو ” حروم “ اس وجہ سے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں مئومنین پر مشرکوں کے خون حرام کردیئے ہیں۔ مجاہد کے اس قول پر ایک اشکال ہوتا ہے کہ یہ تو پچاس دن ہوں گے۔ اشہر حرم تو پورے نہیں ہوں گے بلکہ اشہر حرم کا جزو اور حصہ ہوں گے اور اللہ تعالیٰ نے اشہر حرم کا گزر جانا فرمایا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ دس ذی الحجہ سے…
Read the full tafseer →5۔ اس آیت میں اللہ پاک نے حکم دیا کہ جب دسویں ذی الحجہ سے دسویں ربیع الآخر تک چار مہینے گذر جاویں تو خوب دل کھول کر مشرکوں سے لڑو اور جہاں کہیں پاؤ ان کو قتل کرو ظاہر آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانون کو اللہ پاک نے ہر جگہ قتل کا حکم اس آیت میں دیا ہے مگر بعض جگہ ان کو قتل کرنا منع ہے جیسا کہ اللہ پاک سورة بقر میں فرماتا ہے ولا تقاتلوھم عند المسجد الحرام (2۔ 191) اس آیت کے موافق بیت الحرام میں خونیریزی منع ہے اس آیت کی تفسیر میں صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے حضرت اللہ بن عباس ؓ کی حدیث بھی گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا حرم کی حد کے اندر قیامت تک لڑائی حرام ہے فتح مکہ کے دن فقط تھوڑی…
Read the full tafseer →آیت 5
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (آیت) ” پس جب گزر جائیں مہینے پناہ کے “ یعنی وہ مہینے جن میں معاہد مشرکین کے خلاف جنگ کو حرام ٹھہرایا گیا ہے اور یہ آسانی کے چار ماہ ہیں اور جن کے ساتھ چار ماہ سے زیادہ مدت کا معاہدہ کیا گیا ہے، اس مدت کو پورا کیا جائے۔ اس کے بعد ان کے ساتھ معاہدہ کی ذمہ داری ختم ہوجائے گی۔ : (آیت) ” پس مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کردو۔ “ یعنی وہ جس وقت اور جہاں کہیں بھی ہوں (وخذوھم) ” ان کو قیدی بناؤ “ (واحصروھم) ” اور ان کو گھیر لو۔ “ یعنی ان پر زمین تنگ کردو۔ اللہ کی اس زمین میں انہیں اس طرح نہ چھوڑ دو کہ وہ کھلے دندناتے پھرتے رہیں، جس کو اللہ تعالیٰ نے پانے بندوں کے لئے…
Read the full tafseer →اشہر حرم گزرنے پر مشکین سے قتال
قول باری ہے (فاذا انسلخ الاشھر الحرم فاقتلو المشرکین حیث و جدتموھم پس جب حرمت کے مہینے گزر جائیں تو مشرکین کو قتل کرو جہاں پائو) معاویہ بن صالح نے علی بھ ابی طلحہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ قول باری (لست علیھم بسطیطر آپ ﷺ ان پر کچھ مسلط تو نہیں ہیں) نیز (وما انت علیھم بجبار اور آپ ان پر جبر کرنے والے بنا کر نہیں بھیجے گئے) نیز (قل للذین امنوا یغفروا للذین لا یرجون ایام اللہ جو لوگ ایمان لے آئے ہیں ان سے کہہ دیجئے کہ وہ ان لوگوں کے ساتھ درگزر سے کام لیں جو اللہ کے معاملات کا یقین نہیں رکھتے) ان سب کو ان دو آیات نے منسوخ کردیا ہے۔ پہلی آیت…
Read the full tafseer →11 " اَشہرِ حُرم " سے مقصود و مراد ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب گزر جائیں حرمت والے مہینے تو تم ان مشرکوں کو قتل کرو جہاں بھی ان کو پاؤ۔ یعنی وہی معروف مہینے جو " اَشہرِ حُرم " کہلاتے ہیں اور جن میں جہاد و قتال منع ہے۔ اور یہ اس لئے کہ " اَشہرِ حُرم " سے مراد اصل اور حقیقت کے اعتبار سے یہی مہینے ہیں۔ یہ قول ابن جریر کا ہے اور یہی مروی ہے ابن عباس ؓ اور ضحاک وغیرہ سے۔ لیکن جمہور علماء کے نزدیک اس سے مراد وہ مشہور و معروف " اَشہرِ حُرم " نہیں کہ وہ متواتر اور لگاتار نہیں پائے جاتے۔ اس لئے وہ یہاں پر مراد نہیں ہوسکتے بلکہ ان سے یہاں پر مراد وہ چار مہینے ہیں جن میں ان مشرکین سے قتال کو منع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
مشرکوں سے سختی اور رعایت
تشریح : جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے کہ 10 رمضان 8 ہجری کو نبی کریم ﷺ مدینہ سے مکہ پر حملہ کرنے کے لیے روانہ ہوئے اور مکہ بغیر خون بہائے اور جنگ کے فتح کرلیا گیا۔ ذی الحجہ 9 ھ کو اعلان عام کردیا گیا کہ قبائل عرب سے تمام معاہدات ختم کیے جاتے ہیں کیونکہ عہد شکنی کی ابتدا قریش مکہ کی طرف سے ہوئی تھی۔ یہاں بھی مسلمانوں کی اخلاقی سر بلندی کا اظہار کیا جا رہا ہے وہ اس طرح کہ حکم الٰہی یوں دیا جا رہا ہے کہ مکہ کے اطراف میں رہنے والے غیرمسلموں کو جان و امال کی امان دی گئی۔ ان غیرمسلموں کی چار قسمیں تھیں۔ ایک تو وہ جنہوں نے حدیبیہ کا معاہدہ توڑا۔ دوسرے وہ جن سے خاص مدت تک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
سورة التوبۃ
اسے سورة برات بھی کہا جاتا ہے کہ اس میں کفار سے برائت کے احکام نازل ہوئے اور قبول تو بہ کی بشارت کے باعث توبہ کہلاتی ہے ۔ اس میں عجیب بات یہ ہے کہ اس کے شروعی میں بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں لکھا جاتا ۔ دراصل کسی بھی سورة کی مختلف آیات جب نازل ہوتیں تو بذریعہ وحی ان کا مقام بھی بتادیا جاتا چناچہ آپ ﷺ کاتنان وحی کو انھیں وہاں درج کرنے ارشاد فرماتے اور جب کوئی نئی سورة نازل ہوتی تو اس سے پہلے بسم اللہ لکھنے کا ارشاد ہوتا ۔ یہ مدنی اور آخری سورتوں میں سے ہے مگر جب نازل ہوئی تو بسم اللہ لکھنے کا حکم نازل نہ ہوا نہ ہی کاتبان وحی کو کچھ فرمایا گیا اور یہ اسی طرح بغیر بسم اللہ کے لکھ دی…
Read the full tafseer →ف 9 یعنی وہ چار مہینے ان کی ان مشرکین کو مہلت دی گئی تھی، ابن عباس ؓ نے فرمایا مراد وہی ادب کے مہینے ہیں یعنی رجب، ذوالحج اور محرم کی آخری تایخ تک ان کو مہلت ہے۔ شروع صفر سے ان کے خلاف جنگ ہے۔ ( وحیدی)
1 گھات کی جگہ سے مراد وہ راستہ ہے یا جگہ ہے جہاں سے دشمن کے گزر نے کی تو فیق ہو اور جہاں سے اس پر حملہ کر کے اس کا کام تمام کرنا ممکن ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ان مشرکین سے صرف میدان جنگ میں لڑنا ہی کافی نہیں ہے بلکہ جس طریقے سے بھی تم ان پر قابو پاکر انہیں قتل کرسکتے ہو ضرور قتل کرو، ( کبیر)2 شاہ صاحب اپنے فوائد میں لکھتے ہیں : جن وہ عدم ٹھہر گیا تھا اور دغا ان سے نہ دیکھی ان کی صلح قائم رہی اور جن سے…
Read the full tafseer →(9:5) انسلخ۔ وہ گزر گیا۔ (یعنی حرمت والے مہنے گزر جائیں) نیز ملاحظہ ہو (7:175)
احصروہم (باب نصر۔ باب ضرب) ان کو محصور رکھو۔ ان کو قید رکھو۔ ان کو روکے رکھو۔ امر جمع مذکر حاضر۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب حصر سے۔
مرصد۔ واحد۔ مراصد۔ جمع ۔ ظرف مکان۔ گھاٹ کی جگہ ۔ رصد یرصد (نصر) نگاہ رکھنا۔ گھات لگانا۔ واقعدوا لہم کل مرصد۔ ان کی تاک میں ہر گھات کی جگہ بیٹھو۔
فخلوا سبیلہم۔ تو ان کا راستہ چھوڑ دو ۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تخلیۃ (تفعیل) سے مصدر چھوڑ دینا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
تعارف :
٭اس سورة کے دو نام آتے ہیں۔ (1) سورة توبہ۔ (2) سورة برأت۔
٭ توبہ کے معنی پلٹنے اور لوٹنے کے ہیں۔ جب کوئی اللہ کا بندہ گناہوں سے نادم ہو کر سچے دل سے اللہ کی طرف یعنی نیکیوں کی طرف پلٹتا ہے اس کو توبہ کہتے ہیں۔ چونکہ اس سورة میں چند صحابہ کرام ؓ کی توبہ قبول کی گئی ہے اس لئے اس کا نام سورة توبہ رکھا گیا ہے۔
٭ سورة براء ت… براءت کے معنی چھٹکارا پانا۔ بیزاری اور نفرت کا اظہار کرنا ہے۔ چونکہ کفار و مشرکین مسلسل اپنی عہد شکنیوں کے مجرم تھے اس لئے مسلمانوں نے جو معاہدے کیے جاتے ان کو ختم کرکے کفار و مشرکین کو حرمین سے نکالنے اور کفارو مشرکین کی بد عہدیوں سے نفرت کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس لئے…
Read the full tafseer →کفار کے امان کا ذکر
اس آیت میں اللہ نے حکم دیا کہ جب دسویں ذی الحجہ سے دسویں ربیع الآخر تک چار مہینے گزرجاویں تو خوب سل کھول کر مشرکوں سے لڑو اور جہاں ان کو پاؤ ان کو قتل کرو۔ ظاہر آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے ہر جگہ قتل کا حکم اس آیت میں دیا گیا ہے مگر بعض جگہ ان کو قتل کرنا منع ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ سورة بقرہ میں فرماتا ہے ولا تقتلو ھم عند المسجد الحرام۔ اس آیت سے بیت الحرام میں خونریزی منع ہے جو قیامت تک رہے گی۔ پھر فرمایا کہ ہر جگہ ان کی تاک میں رہو اور ان کو گرفتار کرو۔ محاصرہ کرو کہ نکلنے نہ پائیں۔ پھر گرفتاری کے بعد خواہ ان کو قید رکھو یا مارو تمہیں اختیار ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
[4] یعنی وہ چار مہینے جن کی مہلت مشرکین کو دی گئی تھی۔ ان مہینوں کو حرمت کے مہینے اس لئے کہا گیا کہ ان میں یعنی اس مہلت کے زمانے میں مسلمانوں کے لئے مشرکین پر حملہ آور ہونا جائز نہ تھا۔
[5] یعنی ان سے کسی طرح کا تعرض نہ کرو، بشرطیکہ وہ نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں۔ محض کفر و شرک سے توبہ کرنے سے یہ نہیں مانا جائے گا کہ انہوں نے کفر چھوڑ کر اسلام اختیار کیا ہے۔
Read the full tafseer →(ف 1) اعلان جنگ کے بعد جنگ ضروری ہے اس میں کوئی دوستی اور مداہنت روا نہیں ،
جب کفر وشرک کی اذیتیں حد سے گذر جائیں جب اللہ کے بندوں کو محض ایمان کی وجہ سے مصائب کا آماجگاہ بنا لیا جائے ، جب اللہ سے دوستی کفر کے لئے باعث تکلیف ہو اور مسلمان کے لئے باعث ابتلا ، تو اس وقت آخری فیصلہ کی حاجت ہے یعنی جنگ اور اعلان کے بعد مشرک کے لئے کہیں جائے پناہ نہیں ، اس وقت بےدریغ قتل کرنا ہی خلق خدا کے ساتھ رحم کرنا ہے اس وقت شرارت و فساد کو بیخ وبن سے اکھاڑ ڈالنا ہی امن وسل امتی ہے ۔
البتہ اگر مشرک تائب ہوجائے ، کافر اسلام قبول کرلے ، اور نیک بننے کا عہد کرلے تو پھر اللہ کی آغوش رحمت واہے ، اسے کوئی تکلیف…
Read the full tafseer →5 پھر جب حرمت والے مہینے گزر جائیں تو پھر ان مشرکوں کو جہاں پائو قتل کرو اور ان کو گرفتار کرو اور ان کو بند کرو اور گھیرو اور ہر کمین گاہ پر ان کی تاک کے لئے بیٹھو پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز پڑھنے لگیں اور زکوٰۃ ادا کرنے لگیں تو ان کا راستہ چھوڑ دو بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا بڑی مہربانی کرنے والا ہے۔
یہ وہ لوگ ہیں جن سے کوئی عہد نہیں تھا یا انہوں نے عہد کرکے نقض عہد کیا اور بنی بکر سے خزاء پر حملہ کرایا مارنا، گھیرنا، تاک میں بیٹھنا غرض ! لڑائی میں جو کچھ ہوتا ہے اس سب کے کرنے کا حکم دیا گیا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جن سے وعدہ ٹھہر گیا تھا اور دغا ان سے نہ دیکھی ان کی صلح…
Read the full tafseer →ف 1۔ یعنی لڑائی میں جو ہوتا ہے سب کی اجازت ہے۔
Read the full tafseer →معاہدہ کے چار مہینے گزر جانے کے بعد محاربین کے قتل عام کی اجازت :
7: ” اشہر الحرام “ سے وہ حرمت کے مہینے نہیں جو سارے عرب میں نبی کریم ﷺ کی آمد سے پہلے بھی حرام سمجھے جاتے تھے اور آپ ﷺ نے بھی ان کی حرمت کو قائم رکھا بلکہ ان ” اشہر الحرام “ سے مراد وہ چار مہینے ہیں جن کے متعلق حج الاکبر میں اعلان کیا گیا تھا کہ اس اعلان کے بعد تم کو چار مہینے کی مہلت دی جارہی ہے کہ ان کے اندر جنگ نہیں ہوگی اور اگر تم نے اپنی اصلاح کرلی یعنی یا تو اسلام میں داخل ہو کر دین اسلام قبول کرلیا یا کم از کم حکومت اسلامی کی اقلیت ہو کر اقلیتوں کے انون کے مطابق امن کی زندگی پسند کرلی اور جنگ وجدال سے باز آنے کا وعدہ…
Read the full tafseer →7. Details as they appear in the fifth verse carry the seventh ruling. When war in defense of a correct objective breaks out against any power, all available combat resources should be used fully and conclusively. That is a time when showing mercy and appeasement would be showing cowardice.
From the same fifth verse comes the eighth ruling, that is, trust in a non-Muslim who has become a Muslim depends on three things. (A) Taubah (repentance) over disbelief in the past, (B) the establishing of Salah and (C) the paying of Zakah as due. Until these three conditions have been implemented…
Read the full tafseer →