امن مانگنے والوں کو امن دو منافقوں کی گردن ماردو
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم فرماتا ہے کہ جن کافروں سے آپ کو جہاد کا حکم دیا گیا ہے ان میں سے اگر کوئی آپ سے امن طلب کرے تو آپ اس کی خواہش پوری کردیں اسے امن دیں یہاں تک کہ وہ قرآن کریم سن لے آپ کی باتیں سن لے دین کی تعلیم معلوم کرلے حجت ربانی پوری ہوجائے۔ پھر اپنے امن میں ہی اسے اس کے وطن پہنچا دو بےخوفی کے ساتھ یہ اپنے امن کی جگہ پہنچ جائے ممکن ہے کہ سوچ سمجھ کر حق کو قبول کرلے۔ یہ اس لئے ہے کہ یہ بےعلم لوگ ہیں انہیں دینی معلومات بہم پہنچاؤ اللہ کی دعوت اس کے بندوں کے کانوں تک پہنچادو۔ مجاہد فرماتے ہیں کہ جو تیرے پاس دینی باتیں سننے…
Read the full tafseer →سورة التَّوْبَة 8
یعنی دوران جنگ میں اگر کوئی دشمن تم سے درخواست کرے کہ میں اسلام کو سمجھنا چاہتا ہوں تو مسلمانوں کو چاہیے کہ اسے امان دے کر اپنے ہاں آ نے کا موقع دیں اور اسے سمجھائیں، پھر اگر وہ قبول نہ کرے تو اسے اپنی حفاظت میں اس کے ٹھکانے تک واپس پہنچا دیں۔ فقہ اسلامی میں ایسے شخص کو جو امان لے کر دارالاسلام میں آئے مُستامن کہا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور اگر کوئی شخص مشرکین میں سے (زمانہ اباحت قتل میں بعد ختم میعاد امن کے توبہ و اسلام کے فوائد و برکات سن کر اس طرف راغب ہو اور حقیقت و حقّیت اسلام کی تلاش کی غرض سے آپ کے پاس آکر) آپ سے پناہ کا طالب ہو (تاکہ اطمینان سے سن سکے اور سمجھ سکے) تو (ایسی حالت میں) آپ اس کو پناہ دیجئے تاکہ وہ کلام الہٰی (مراد مطلق دلائل دین حق کے ہیں) سن لے پھر (اس کے بعد) اس کو اس کی امن کی جگہ میں پہنچا دیجئے (یعنی پہنچنے دیجئے تاکہ وہ سوچ سمجھ کر اپنی رائے قائم کرلے) یہ حکم (اتنی پناہ دینے کا) اس سبب سے (دیا جاتا) ہے کہ وہ ایسے لوگ ہیں کہ پوری خبر نہیں رکھتے (اس لئے قدرے مہلت دینا ضروری ہے۔ جماعت اول…
Read the full tafseer →اتمام حجت کی خاطر آخری رعایت : اوپر والی آیت میں مشرکین کی داروگیر کا جو حکم ہوا ہے، اتمام حجت کی خاطر اس آخری رعایت ہے۔ فرمایا کہ وَاِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ اسْتَجَارَكَ فَاَجِرْهُ حَتّٰي يَسْمَعَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ اَبْلِغْهُ مَاْمَنَهٗ۔ اس دارو گیر کے دوران میں اگر کوئی شخص امان کا طالب ہو تو اس کو امان کی جگہ پر پہنچا دو تاکہ وہ ٹھنڈے دل سے اپنے معاملہ پر غور کر کے فیصلہ کرسکے کہ وہ اسلام قبول کرتا ہے یا تلوار۔ یہ امان بخشی۔ جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا ہے، محض اتمام حجت کے نقطہ نظر سے تھی۔ اس کے معنی یہ نہیں تھے کہ وہ اس داروگیر کے حکم سے امان پا گیا۔ اگر وہ ایمان نہ قبول کرے گا تو…
Read the full tafseer →6۔ 1 اس آیت میں مذکورہ حربی کافروں کے بارے میں ایک رخصت دی گئی ہے کہ اگر کوئی کافر پناہ طلب کرے تو اسے پناہ دے دو ، یعنی اسے اپنی حفظ وامان میں رکھو تاکہ کوئی مسلمان اسے قتل نہ کرسکے اور تاکہ اسے اللہ کی باتیں سننے اور اسلام کے سمجھنے کا موقعہ ملے، ممکن ہے اس طرح اسے توبہ اور قبول اسلام کی توفیق مل جائے۔ لیکن اگر وہ کلام اللہ سننے کے باوجود مسلمان نہیں ہوتا تو اسے اس کی جائے امن تک پہنچا دو ، مطلب یہ ہے کہ اپنی امان کی پاسداری آخر تک کرنی ہے، جب تک وہ اپنے مستقر تک بخیریت واپس نہیں پہنچ جاتا، اس کی جان کی حفاظت تمہاری ذمہ داری ہے۔
6۔ 2 یعنی پناہ کے طلبگاروں کو پناہ کی رخصت اس لئے دی گئی ہے کہ…
Read the full tafseer →5: مشرکین کی مذکورہ قسموں کو اس آیت نے اپنی مہلت کے علاوہ یہ مزید سہولت عطا فرمائی کہ اگر ان میں سے کوئی مزید مہلت مانگے اور وہ اسلام کی دعوت پر غور کرنا چاہتا ہو تو اسے پناہ دی جائے اور اللہ کا کلام سنایا جائے، یعنی اسلام کی حقانیت کے دلائل سمجھائے جائیں۔
صرف اللہ کا کلام سنانے پر اکتفا نہ کیا جائے، بلکہ اسے ایسی امن کی جگہ فراہم کی جائے جہاں وہ اطمینان کے ساتھ کسی دباؤ کے بغیر اسلام کی حقانیت پر غور کرسکے۔
(توضیح القرآن)
6: یعنی صرف اللہ کا کلام سنانے پر اکتفا نہ کیا جائے، بلکہ اسے ایسی امن کی جگہ فراہم کی جائے جہاں وہ اطمینان کے ساتھ کسی دباؤ کے بغیر اسلام کی حقانیت پر غور کرسکے۔
Read the full tafseer →اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی بےحد خواہش ہے کہ ہر شخص ہدایت پائے اور راہ راست پر آجائے اور اگر مشرکین میں سے کوئی شخص دار الاسلام میں پناہ طلب کرے تو اسے پناہ دینا دار الاسلام کا فرض ہے ، کیونکہ جب مشرکین دار الاسلام پناہ گیر ہوں گے تو پھر وہ دار الاسلام کے ساتھ جنگ نہ کرسکیں گے۔ لہذا ان کو پناہ دینا اور قرآن سنان اور دین اسلام کے اصولوں سے ان کو شناسا کرنا مفید مطلب ہے۔ ممکن ہے کہ اس طرح ان کے دل کھل جائیں ، وہ ہدایت پا لیں اور قبول کرلیں۔ اگر وہ نہ بھی قبول کریں تب بھی اللہ نے اہالیان دار الاسلام پر یہ فرض کردیا ہے کہ وہ ان کی حفاظت کریں اور ایسے ملک تک پہنچا دیں جہاں وہ امن وامان سے رہ…
Read the full tafseer →1 پہلے فرمایا تھا کہ اگر اپنی کفریات سے توبہ کر کے اسلام میں داخل ہوجائیں تو مامون ہیں۔ ممکن تھا کہ کسی شخص کو اصول اسلام سے آگاہ ہی نہ ہو وہ تحقیق و رفع شکوک کی غرض سے مسلمانوں کے پاس آنا چاہے، اس کی نسبت فرما دیا کہ اپنی پناہ اور حفاظت میں لے کر خدا کا کلام اور اسلام کے حقائق و دلائل سناؤ۔ اگر قبول نہ کرے تو اس کو قتل مت کرو، بلکہ کہیں ٹھکانے پر امن کی جگہ پہنچا دو ، جہاں پہنچ کر وہ مامون و مطمئن ہوجائے۔ اس کے بعد وہ سب کافروں کے برابر ہے۔ یہ امن دینے کا حکم اس لیے ہے کہ اسلامی اصول و حقائق سے ان لوگوں کو آگاہی نہیں ہے۔ لہذا ان کے سامنے حق خوب طرح واضح کردینا چاہیے۔ اگر اس کے بعد بھی عناد…
Read the full tafseer →آیت 6 وَاِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ اسْتَجَارَکَ فَاَجِرْہُ حَتّٰی یَسْمَعَ کَلٰمَ اللّٰہِ
جزیرہ نمائے عرب میں بہت سے لوگ ایسے بھی ہوں گے جنہوں نے ابھی تک رسول اللہ ﷺ کی دعوت کو سنجیدگی سے سنا ہی نہیں ہوگا۔ اتنے بڑے الٹی میٹم کے بعد ممکن ہے ان میں سے کچھ لوگ سوچنے پر مجبور ہوئے ہوں کہ اس دعوت کو سمجھنا چاہیے۔ چناچہ اسی حوالے سے حکم دیا جا رہا ہے کہ اگر کوئی شخص تم لوگوں سے پناہ طلب کرے تو نہ صرف اسے پناہ دے دی جائے ‘ بلکہ اسے موقع بھی فراہم کیا جائے کہ وہ قرآن کے پیغام کو اچھی طرح سن لے۔ یہاں پر کلام اللہ کے الفاظ قرآنی گویا شہادت دے رہے ہیں کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے۔
ثُمَّ اَبْلِغْہُ…
Read the full tafseer →6 مشرک کو امان مانگنے پر امان دینا اور اسلام سمجھانا چاہئے :۔ یعنی اگر کوئی مشرک اس چار ماہ کی معینہ مدت کے اندر یا بعد میں پکڑ دھکڑ کے دوران یہ درخواست کرے کہ مجھے اسلام کی تعلیم پوری طرح سمجھا دو ۔ تو اس کی اس درخواست کو رد نہیں کرنا چاہیے بلکہ اسے اپنے ہاں پناہ دو تاکہ دوسرا کوئی مسلمان بھی اس سے تعرض نہ کرے۔ پھر اسے اسلام کے اصول و ارکان اور اس کے حقائق پوری طرح سمجھا دو ۔ پھر بھی اگر وہ اسلام نہیں لاتا اور معاندانہ روش اختیار کرتا ہے تو وہیں اسے قتل نہ کردو بلکہ اسے اس کی حفاظت کے مقام پر پہنچا دو ۔ پھر اس کے بعد تم اس سے وہی سلوک کرسکتے ہو جو دوسرے مشرکوں سے کرنا چاہیے۔ یہ رعایت اس لیے…
Read the full tafseer →13 ۔ (بس انہیں پوری واقفیت حاصل کرنے کا موقع دیا جائے) اس علیت نے یہ صاف کردیا کہ مدار حکم مخاطب کی اس بیخبر ی پر ہے باقی جہاں اسلام کا پیام عام ہوچکا ہو اور بیخبر ی ولاعلمی کا کوئی قرینہ نہ ہو، وہاں یہ وجوب بھی باقی نہ رہے گا۔ (آیت) ” من المشرکین “۔ یعنی انہی واجب القتل مشرکین میں سے، اے من الذین امرتک بقتالھم (قرطبی) حتی کو یہاں بجائے ” یہاں تک “ کے ” تاکہ “ کے معنی میں لینا اور ترعلیلیہ قرار دینا بہتر ہوگا۔ حتی للتعلیل (روح) یصح ان تکون للتعلیل (بحر) یسمع “۔ سماع سے یہاں مراد محض سماع آواز نہیں بلکہ فہم و تدبر کے ساتھ سوچنا سمجھنا مراد ہے۔ وقدیر ا د بالسماع الفھم (بحر) ویتدبرہ (مدارک) لیس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
وَاِنْ اَحَد مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ اسْتَجَارَک فَاَجِرْہُ ، اس آیت میں مذکورہ حربی کافروں کے بارے میں ایک رخصت دی گئی ہے کہ اگر کوئی کافر پناہ طلب کرے تو اسے پناہ دے دو یعنی اس کو امان میں رکھو تاکہ کوئی مسلمان اس کو قتل نہ کرسکے، اور اس کو قرآن سننے اور اسلام کو سمجھنے کا موقع ملے ممکن ہے کہ اس طرح اسے توبہ اور قبول اسلام کی توفیق مل جائے لیکن اگر وہ کلام اللہ سننے کے باوجود مسلمان نہیں ہوتا تو اسے اس کی جائے پناہ تک پہنچا دو ۔
مسئلہ : وَاَقَامُوا الصَّلوٰةَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوةَ ، مخصوص یہی دو عمل مراد نہیں ہیں یہ دونوں عمل بطور نمونہ کے ہیں، مراد یہ ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ کام کرنے لگیں،…
Read the full tafseer →وان احد من المشرکین استجارک فاجرہ حتی یمسع کلام اللہ ثم ابلغہ ما منہ ط اور اگر کوئی مشرک آپ سے پناہ کا خواستگار ہو تو اس کو اتنی مدت کیلئے پناہ دے دو کہ وہ اللہ کا کلام سن لے ‘ پھر اس کو اس کے امن کے مقام تک (بحفاظت) پہنچا دو ۔
یعنی اگر وہ اسلام نہ لائے تو اس کی قوم کی بستی تک بحفاظت اس کو پہنچا دو ۔ اس کے بعد اگر وہ تم سے لڑے تو تم بھی لڑو اور قابو مل جائے تو قتل کر دو ۔
ذلک بانھم قوم لا یعلمون۔ یہ (وقتی امن یا یہ حکم) اسلئے ہے کہ یہ لوگ بےسمجھ ہیں۔ یعنی حق و باطل کا ان کو امتیاز نہیں ہے۔ کلام اللہ سننا ان کیلئے ضروری ہے تاکہ ان کو (اوّل) علم تو ہوجائے (کہ اللہ کا کیا پیام ہے اور اسلام کیا…
Read the full tafseer →(6) اور جو اس زمانہ میں بغرض تلاش حق آپ سے امن طلب کرے تو اسے امن دے دیجیے تاکہ وہ آپ کی زبان مبارک سے کلام الہی سن لے پھر اگر وہ ایمان نہ لائے تو اس کو اس کے وطن جانے دے دیجئے یہ حکم اس بنا پر ہے کہ یہ لوگ احکام الہی اور توحید الہی کی خبر نہیں رکھتے۔
Read the full tafseer →وَاِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ اسْتَجَارَكَ : یعنی امن کی مدت گزرنے کے بعد اگر کوئی مشرک، جس سے تمہارا کوئی عہد نہیں، تم سے درخواست کرے کہ مجھے اپنے ہاں پناہ دو تو اسے پناہ دے دو ، تاکہ وہ اللہ کا کلام سنے اور اگر آیا ہی اسلام کو سمجھنے یا اپنے شبہات دور کرنے کے لیے ہے تو اسے بدرجۂ اولیٰ پناہ دینی چاہیے۔ اب اگر وہ اسلام لانے کے لیے آمادہ نہ ہو اور اپنے ٹھکانے پر واپس جانا چاہے تو تم اسے اس کے ٹھکانے پر پہنچا دو ، کیونکہ ان لوگوں کو اسلام کی حقیقت معلوم نہیں، ممکن ہے وہ اللہ اور اس کے رسول کی باتیں سن کر، ان کا معاشرہ اور اخلاق و کردار دیکھ کر مسلمان ہوجائیں، پھر جب وہ اپنے ٹھکانے پر پہنچ…
Read the full tafseer →مسئلہ نمبر 1 ۔ قولہ تعالیٰ : وان احد منالمشرکین یعنی ان میں سے جنہیں قتل کرنے کے بارے میں آپ کو حکم دیا ہے۔ استجارک یعنی آپ اس سے پناہ طلب کرے، یعنی آپ کی امان اور آپ کی ذمہ داری کا مطالبہ کرے، تو ان سے وہ امان عطا فرمادیجئے تاکہ وہ قرآن کریم کو سنے، یعنی اس کے احکام اور اس کے اوا مر ونواہی کو سمجھے۔ پس اگر اس نے ایک امر بھی قبول کرلیا تو یہ اچھا ہے اور اگر وہ انکار کردے تو پھر اسے ان کی امن گاہ تک پہنچا دو (1) اور یہ وہ ہے جو میں کوئی اختلاف نہیں۔ واللہ اعلم
امام مالک (رح) نے کہا ہے : جب مسلمان ملکوں کے راستے میں کوئی حربی پایا گیا اور نے کہا : میں امان طلب کرنے کے لیے آیا ہوں ْ ۔ امام مالک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
ا :۔ ابن منذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ثم ابلغہ مامنہ “ سے مراد ہے کہ اگر وہ اس کے موافق نہ ہو جو فیصلہ اس کے خلاف کیا جارہا ہے اور اس کا ارادہ ہو تو اس کو اس کی امن کی جگہ پہنچا دو اور یہ (حکم) منسوخ نہیں ہے۔
2:۔ ابوالشیخ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان احد من المشرکین استجارک فاجرہ حتی یسمع کلم اللہ “ سے مراد ہے کہ حکم دیا گیا کہ جو شخص اس کا ارادہ کرے کہ کسی مشرک کو امن دے اور اگر وہ اس کو قبول کرے (تو ٹھیک) ورنہ اس کا راستہ چھوڑدو یہاں تک کہ وہ اپنی امن کی جگہ آجائے اور حکم کیا گیا کہ ان کے اس حال پر مال خرچ کریں۔
3:۔ ابوالشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا…
Read the full tafseer →وَاِنْ [ اور اگر ] اَحَدٌ [ کوئی ایک ] مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ [ مشرکوں میں سے ] اسْتَجَارَكَ [ پناہ مانگے آپ سے ] فَاَجِرْهُ [ تو آپ پناہ دیں اس کو ] حَتّٰي [ یہاں تک کہ ] يَسْمَعَ [ وہ سن لے ] كَلٰمَ اللّٰهِ [ اللہ کے کلام کو ] ثُمَّ [ پھر ] اَبْلِغْهُ [ آپ پہنچا دیں اس کو ] مَاْمَنَهٗ [ اس کی امن کی جگہ پر ] ذٰلِكَ [ یہ ] بِاَنَّهُمْ [ اس سبب سے کہ وہ لوگ ] قَوْمٌ [ ایک ایسی قوم ہیں جو ] لَّا يَعْلَمُوْنَ [ علم نہیں رکھتے ]
Read the full tafseer →پھر فرمایا (وَ اِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ اسْتَجَارَکَ فَاَجِرْہُ حَتّٰی یَسْمَعَ کَلٰمَ اللّٰہِ ) (اگر کوئی مشرک آپ سے پناہ مانگے تو اسے پناہ دیجیے۔ یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سنے)
علامہ ابوبکر جصاص فرماتے ہیں کہ اس آیت سے معلوم ہوا کہ جب کوئی کافر حربی امان طلب کرے تو اسے امان دینا جائز ہے۔ وہ امان طلب کر کے مسلمانوں کے پاس آئے، اللہ کا کلام سنے، توحید کو سمجھے نبی اکرم ﷺ کی نبوت کے دلائل معلوم کرے تو اس کے لیے ایسا موقعہ فراہم کیا جائے۔ اس کے بعد لکھتے ہیں اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جب کوئی کافر ہم سے دلائل توحید کا اور دلائل رسالت کا مطالبہ کرے تاکہ وہ سمجھنے کے بعد دونوں باتوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
سورة توبہ مدنی ہے اور اس میں ایک سو انتیس آیتیں اور سولہ رکوع ہیں
بسم اللہ الرحمن الرحیم
تفسیر سورة توبہ
یہ بسم اللہ اس سورت کی تفسیر کے شروع اور آغاز کے لیے ہے نہ کہ سورة برات کی تلاوت کے لیے سوہ توبہ بالاتفاق مدنی ہے فتح مکہ کے بعد نازل ہوئی اس سورة میں ایک سو انتیس اور بقول بعض ایک سو تیس آیتیں ہیں اور سولہ رکوع ہیں۔
اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ اس سورت کا بیشتر حصہ تو مدینہ میں نازل ہوا مگر آیت ما کان للنبی والذین آمنوا ان یستغروا للمشرکین ولو کانوا اولی قربی۔ یہ آیتیں ابو طالب کے بارے میں مکہ مکرمہ میں نازل ہوئیں جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے۔
اسماء سورت :
اس سورت کے بہت سے نام ہیں جن میں سے…
Read the full tafseer →6: اشہر حرم یا مدت عہد گذر جانے کے بعد اگر کوئی مشرک آپ سے آمن کا طالب ہو اور آپ کے قرب و جوار میں رہنے کا متنمنی ہو تو آپ اسے امان دے دیں اور اپنے پاس رہنے دیں تاکہ اسے براہ راست آپ کی زبان سے اللہ کا کلام سننے کا موقع مل جائے اور وہ آپ کی دعوت کو سمجھ سکے۔ اس کے بعد اسے اس کے گھر یا کسی ایسی جگہ پہنچا دیں جہاں اسے کسی قسم کا ڈر اور خطرہ نہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
ربطِ آیات :
پہلے درس میں مشرکین سے بیزاری کا اعلان تھا۔ پھر معاہدات کی خلاف ورزی کرنیوالوں کے لیے چار ماہ کی مدت فرمائی کہ اگر وہ اس عرصہ میں کفر وشرک کو چھوڑ کر ایمان قبول کرلیں تو ٹھیک ہے ، ورنہ وہ ملک بدر ہوجائیں چار ماہ کی مدت میں اگر نہ وہ ایمان لائیں اور نہ ملک چھوڑیں تو پھر ان کے خلاف جہاد ہوگا۔ البتہ جو لوگ معاہدے کی پابندی کر رہے ہیں ان کے متعلق فرمایا کہ مقررہ مدت تک ان کے خلاف کوئی کاروائی نہ کی جائے اور انہیں سوچ وبچار کا موقع دیا جائے۔
حرمت والے مہینے :
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” فاذا انسلخٰ الاشھر الحرم “ جب حرمت والے مہینے گزر جائیں یہاں پر حرمت والے مہینوں سے مراد یہی چار ماہ ہیں…
Read the full tafseer →وَاِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ اسْتَجَارَكَ فَاَجِرْہُ حَتّٰي يَسْمَعَ كَلٰمَ اللہِ ثُمَّ اَبْلِغْہُ مَاْمَنَہٗ 0 ۭ ذٰلِكَ بِاَنَّہُمْ قَوْمٌ لَّا يَعْلَمُوْنَ 6 ۧ
أحد
أَحَدٌ يستعمل علی ضربین :
أحدهما : في النفي فقط
والثاني : في الإثبات .
فأمّا المختص بالنفي فلاستغراق جنس الناطقین، ويتناول القلیل والکثير علی طریق الاجتماع والافتراق، نحو : ما في الدار أحد، أي : لا واحد ولا اثنان فصاعدا لا مجتمعین ولا مفترقین، ولهذا المعنی لم يصحّ استعماله في الإثبات، لأنّ نفي المتضادین يصح، ولا يصحّ إثباتهما، فلو قيل : في الدار واحد لکان فيه إثبات واحدٍ منفرد مع إثبات ما فوق الواحد مجتمعین ومفترقین،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–12
ترکیب : عہد اسم یکون اور خبر یا کیف ہے جو استفہام کے لئے مقدم کردیا گیا ہے یا للمشرکین ہے اور عند دونوں صورتوں عہدا یا یکون کا ظرف ہے یا عند اللّٰہ ہے فما زمانیہ یا شرطیہ ای فاستقیموا لھم مدۃ استقامتھم وان استقاموا فاستقیموا۔ یرضونکم حال ہے یا جملہ مستانفہ فان تابوا شرط فاخوانکم جواب۔
تفسیر : اس مقام پر ان کے عہد کو تمام کرنے کا سبب بیان فرماتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک مشرکین کا عہد کیونکر باقی رہ سکتا ہے ؟ بجز ان شخصوں کے کہ جن سے تم نے مسجد الحرام یعنی خانہ کعبہ کے پاس سال حدیبیہ میں عہد کیا تھا یعنی قریش کا ایک گروہ سب کو لوگوں نے بنو حمزہ بنو کنانہ کہا ہے جن کا پہلی آیات میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
فَاِذَاانْسَلَخَ الْاَشْھُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ وَجَدْ تُّمُوْھُمْ وَخُذُوْھُمْ وَاحْصُرُوْھُمْ وَاقْعُدُوْا لَھُمْ کُلَّ مَرْصَدٍج فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَھُمْ ط اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (التوبۃ : 5 )
(پھر جب اشھرحرم گزرجائیں تو مشرکین کو قتل کرو جہاں بھی انھیں پائو اور انھیں پکڑو اور انھیں گھیرو اور ہر جگہ ان کی تاک میں بیٹھو پھر اگر وہ توبہ کریں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو ان کا راستہ چھوڑ دو بیشک اللہ بخشنے والا رحم کرنیوالا ہے۔ )
اشھرِ حرم کا مفہوم
بعض اہل علم کا خیال ہے کہ جزیرہ عرب کے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : دین میں کفر و شرک سے بڑھ کر کوئی گناہ نہیں اس کے باوجود توبہ کا دروازہ کھلا رکھا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے توبہ کرنے، نماز اور زکوٰۃ ادا کرنے والے کو اپنی بخشش اور رحمت کی یقین دہانی کروائی ہے۔ اس کے لیے مشرکین کو موقع فراہم کیا جا رہا ہے جو کسی وجہ سے مسلمانوں کے ہاں پناہ گزیں ہونا چاہے۔ تو حکم ہے کہ انھیں پناہ دینی چاہیے تاکہ قرآن مجید سننے اور سمجھنے کے ساتھ انھیں مسلمانوں کا اخلاق اور کردار دیکھنے کا موقع ملے اگر وہ ایمان نہ لائیں گے تو ان پر پوری طرح اتمام حجت ہوجائے گی۔ پناہ کی مدت ختم ہونے کے بعد ان کی باسلامت واپسی بھی اسلامی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ پناہ دینا اس لیے…
Read the full tafseer →پناہ کی اجازت :
آیت 6: وَاِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ اسْتَجَارَکَ فَاَجِرْہُ (اگر کوئی مشرکین میں سے تمہاری پناہ کا طالب ہو۔ تو آپ اس کو پناہ دیں) نحو : احدٌ کا لفظ فعل مضمر کی وجہ سے مرفوع ہے۔ جس کی تفسیر فعل ظاہر کر رہا ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے وان استجارک احد ٌ استجارک۔ مطلب یہ ہے۔ اگر ان مہینوں کے گزرنے کے بعد کوئی مشرک تمہارے پاس آجائے جس کے ساتھ تمہارا کوئی معاہدہ نہیں اور وہ تم سے امن کا خواہاں ہے تاکہ توحید، قرآن سے استفادہ کرے تو اس کو امن دے دو ۔
حَتّٰی یَسْمَعَ کَلٰمَ اللّٰہِ (یہاں تک کہ وہ کلام الٰہی سن لے) اور اس میں تدبر کرے اور اسلام کی حقیقت اس کے سامنے آجائے۔ ثُمَّ…
Read the full tafseer →6” وان احد من المشرکین استجارک “ یعنی جن مشرکین کے قتل کا میں نے حکم دیا ہے اگر ان میں سے کوئی آپ سے پناہ مانگے اور امن طلب کرے تاکہ وہ اللہ کے کلام کو سن لے ” فاجرہ “ تو اس کو پناہ اور امان دے دیں ” حتی یسمع کلم اللہ ثم ابلغہ مامنہ “ یعنی اگر وہ اسلام نہ لائیں تو اس کو اس کی امن کی جگہ یعنی اس کی قوم کے پاس پہنچا دیں۔ پھر اگر وہ آپ سے لڑائی کرے اور آپ لڑنے پر قادر ہوں تو اس کو قتل کردیں۔ ذلک بانھم قوم لا یعلمون یعنی اللہ کے دین اور اس کی توحید کو نہیں جانتے تو وہ اللہ کا کلام سننے کے محتاج ہیں۔ حسن (رح) فرماتے ہیں کہ یہ آیت محکم ہے قیامت کے دن تک
Read the full tafseer →6۔ اس آیت میں اللہ پاک نے یہ ارشاد فرمایا کہ جن مشرکوں سے تمہیں لڑنیکا حکم دیا ہے اگر ان میں کا کوئی شخص امان چاہے تو اس کو امان دو تاکہ وہ اللہ کا کلام سن لیوے اور دین کی حجت اس پر تمام ہوجائے پھر اس کو اس کے گھر تک امن امان سے پہنچا دو جب وہ امن کی جگہ پہنچ جائے تو تمہیں اختیار ہے اس سے لڑائی لڑو کیونکہ اپنے گھر پہنچ جانے کے بعد وہ تمہاری امان سے نکل گیا اور وہ اپنی پچھلی حالت پر آگیا اب اس سے لڑنا تمہارے واسطے مباح ہے یہ امان اس لئے مشروع ہے کہ یہ لوگ خدا کے دین کو پہچان لیں اور اسلام کا چرچہ تمام لوگوں میں پھیل جائے مجاہد اس آیت کی تفسر میں یہ بیان کرتے ہیں کہ جو شخص تمہارے پاس اس غرض سے…
Read the full tafseer →آیت 6
اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد : (آیت) ” تمام اشخصا کے لئے اور تمام احوال میں ایک عام حکم ہے۔ ہاں اگر مصلحت ان میں سے کسی کو قریب کرنے کا تقاضا کرتی ہو تو یہ جائز، بلکہ واجب ہے چناچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : : (آیت) ” اگر مشرکین میں سے کوئی آپ سے پناہ طلب کرے، یعنی وہ یہ چاہے کہ آپ اسکو ضرر سے بچا لیں تو اس مقصد کے لئے اس کو پناہ دے دیں تاکہ وہ اللہ کا کلام سن لے اور اسلام میں اچھی طرح غور فکر کرلے۔ (فاجرہ حتی یسمع کلم اللہ) ” تو اس کو پناہ دے دو یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سنے۔ “ یعنی پھر اگر وہ اسلام قبول کرلے تو بہتر ورنہ اسے امن کی جگہ پہنچا دیں یعنی وہ جگہ جہاں وہ مامون ہو اور اس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
مشرک حربی اگر اسلام فہمی کے لئے امان طلب کرے تو امان دی جائے
قول باری ہے (و ان احد من المشرکین استجارک فاجرہ حتی یسمع کلام اللہ اور اگر مشرکین میں سے کوئی شخص پناہ مانگ کر تمہارے پاس آنا چاہے (تاکہ اللہ کا کلام سنے) تو اسے پناہ دے دو یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سن لے) آیت حربی کو امان دینے کے جواز کی مقتضی ہے جب وہ ہم سے اسلام کی صداقت کو ثابت کرنے والے دلائل سننے کی خاطر پناہ مانگ کر ہمارے پاس آنا چاہے تو اسے پناہ دینا ہمارے لئے جائز ہوگا اس لئے کہ قول باری (استجارک) کے معنی ہیں تم سے امان طلب کرے “ اور قول باری (فاجرہ) کے معنی ہیں ” اسے امان دے دو “ تاکہ دلائل موجود ہیں یہ امر اس پر بھی…
Read the full tafseer →14 مشرکوں کیلئے ایک رعایت کا ذکر : سو اس سے ان مشرکین کے لیے خاص رعایت کا ذکر فرمایا گیا ہے اور اس کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ یہ لوگ جانتے نہیں۔ اس لئے یہ اس رعایت کے مستحق ہیں۔ پھر حق اور حقیقت کو جاننے کے بعد یہ اپنی مرضی سے جو راستہ خود اختیار کریں اسی طرح کا معاملہ ان سے کیا جائے۔ بہرکیف یہ مشرکوں کیلئے ایک رعایت کا ذکر وبیان ہے تاکہ ان کو حق اور حقیقت کا علم حاصل ہوسکے اور اس کے بعد ان کیلئے کسی عذر و معذرت اور حیل و حجت کی کوئی گنجائش باقی نہ رہ جائے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر ان میں سے کوئی امان کا طالب ہو تو اس کو امان دے دی جائے اور اس کو اللہ اور اس کے رسول کی دعوت اور اس کا مقصد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
مشرکوں سے سختی اور رعایت
تشریح : جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے کہ 10 رمضان 8 ہجری کو نبی کریم ﷺ مدینہ سے مکہ پر حملہ کرنے کے لیے روانہ ہوئے اور مکہ بغیر خون بہائے اور جنگ کے فتح کرلیا گیا۔ ذی الحجہ 9 ھ کو اعلان عام کردیا گیا کہ قبائل عرب سے تمام معاہدات ختم کیے جاتے ہیں کیونکہ عہد شکنی کی ابتدا قریش مکہ کی طرف سے ہوئی تھی۔ یہاں بھی مسلمانوں کی اخلاقی سر بلندی کا اظہار کیا جا رہا ہے وہ اس طرح کہ حکم الٰہی یوں دیا جا رہا ہے کہ مکہ کے اطراف میں رہنے والے غیرمسلموں کو جان و امال کی امان دی گئی۔ ان غیرمسلموں کی چار قسمیں تھیں۔ ایک تو وہ جنہوں نے حدیبیہ کا معاہدہ توڑا۔ دوسرے وہ جن سے خاص مدت تک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
سورة التوبۃ
اسے سورة برات بھی کہا جاتا ہے کہ اس میں کفار سے برائت کے احکام نازل ہوئے اور قبول تو بہ کی بشارت کے باعث توبہ کہلاتی ہے ۔ اس میں عجیب بات یہ ہے کہ اس کے شروعی میں بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں لکھا جاتا ۔ دراصل کسی بھی سورة کی مختلف آیات جب نازل ہوتیں تو بذریعہ وحی ان کا مقام بھی بتادیا جاتا چناچہ آپ ﷺ کاتنان وحی کو انھیں وہاں درج کرنے ارشاد فرماتے اور جب کوئی نئی سورة نازل ہوتی تو اس سے پہلے بسم اللہ لکھنے کا ارشاد ہوتا ۔ یہ مدنی اور آخری سورتوں میں سے ہے مگر جب نازل ہوئی تو بسم اللہ لکھنے کا حکم نازل نہ ہوا نہ ہی کاتبان وحی کو کچھ فرمایا گیا اور یہ اسی طرح بغیر بسم اللہ کے لکھ دی…
Read the full tafseer →ف 3 یعنی انہیں اسلام کی حقیقت معلوم نہیں اس لیے اگر کبھی کر ئی حربی کافر تم سے یہ درخواست کرے کہ مجھ اپنے ہاں پناہ دو تاکہ میں قرآن سنوں اور اسلام کے متعلق سمجھ حاصل کروں تو تمہیں اسے پناہ دے دینی چاہیے اب اگر وہ اسلام لانے کے لیے آمادہ نہ ہو اور اپنے ٹھکانے پر واپس جانا چاہے تو تم اسے اس کے ٹھکانے پر پہنچادو۔ پھر جب وہ اپنے ٹھکانے پر پہنچ جائے تو دوسرے مشرکین کی طرح اسے مارنا اور قتل کرنا بھی جائز ہے اس سے پہلے جائز نہیں یہ حکم ہمیشہ کے لیے ہے۔ ( ابن کثیر )
Read the full tafseer →(9:6) استجارک۔ اس کا مادہ جور ہے الجار۔ پڑوسی۔ ہمسایہ ۔ استجار۔ اس نے پناہ طلب کی۔ استجارک۔ اس نے تجھ سے پناہ طلب کی۔ استجارۃ (افتعال) ماضی واحد مذکر غائب ک ضمیر واحد مذکر حاضر۔ جار پناہ دینے والا۔ مددگار۔ وانی جارلکم (8:48) اور میں تمہارا حامی مددگار ہوں۔ اور وھو یجیر ولا یجار علیہ (23:88) اور وہ پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابل کوئی پناہ نہیں دے سکتا۔
اور معنی قرب کے اعتبار سے جار عن الطریق کا محاورہ استعمال ہوتا ہے۔ جس کے معنی ہیں راستہ سے ایک طرف مائل ہونے کے۔ پھر مطلقاً حق سے عدول کرنے کے لئے اس کو اصل قرار دے کر اس سے الجور بمعنی ظلم بنایا گیا۔ قرآن حکیم میں ہے ومنھا جائر (16:9) اور بعض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
تعارف :
٭اس سورة کے دو نام آتے ہیں۔ (1) سورة توبہ۔ (2) سورة برأت۔
٭ توبہ کے معنی پلٹنے اور لوٹنے کے ہیں۔ جب کوئی اللہ کا بندہ گناہوں سے نادم ہو کر سچے دل سے اللہ کی طرف یعنی نیکیوں کی طرف پلٹتا ہے اس کو توبہ کہتے ہیں۔ چونکہ اس سورة میں چند صحابہ کرام ؓ کی توبہ قبول کی گئی ہے اس لئے اس کا نام سورة توبہ رکھا گیا ہے۔
٭ سورة براء ت… براءت کے معنی چھٹکارا پانا۔ بیزاری اور نفرت کا اظہار کرنا ہے۔ چونکہ کفار و مشرکین مسلسل اپنی عہد شکنیوں کے مجرم تھے اس لئے مسلمانوں نے جو معاہدے کیے جاتے ان کو ختم کرکے کفار و مشرکین کو حرمین سے نکالنے اور کفارو مشرکین کی بد عہدیوں سے نفرت کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس لئے…
Read the full tafseer →اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا کہ جن مشرکوں سے تمہیں لڑنے کا حکم دیا ہے اگر انہیں کا کوئی شخص امان چاہے تو اس کو امان دو تاکہ وہ اللہ کا کلام سن لیوے اور دین کی حجت اس پر تمام ہوجائے۔ پھر اس کو اس کے گھر تک امن وامان سے پہنچادو۔ جب وہ امن کی جگہ پہنچ جائے تو تمہیں اختیار ہے اس سے لڑائی لڑو کیونکہ اپنے گھر پہنچ جانے کے بعد وہ تمہاری امان سے نکل گیا اور وہ اپنی پچھلی حالت پر آگیا۔ اب اس سے لڑنا تمہارے واسطے مباح ہے۔ یہ امان اس لئے مشروع ہے کہ یہ لوگ خدا کے دین کو پہچان لیں اور اسلام کا چرچا تمام لوگوں میں پھیل جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
[4] یعنی وہ چار مہینے جن کی مہلت مشرکین کو دی گئی تھی۔ ان مہینوں کو حرمت کے مہینے اس لئے کہا گیا کہ ان میں یعنی اس مہلت کے زمانے میں مسلمانوں کے لئے مشرکین پر حملہ آور ہونا جائز نہ تھا۔
[5] یعنی ان سے کسی طرح کا تعرض نہ کرو، بشرطیکہ وہ نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں۔ محض کفر و شرک سے توبہ کرنے سے یہ نہیں مانا جائے گا کہ انہوں نے کفر چھوڑ کر اسلام اختیار کیا ہے۔
Read the full tafseer →پناہ دو :
(ف 2) ان حالات میں محض جبکہ کفر واسلام کے مباین جنگ کا آغاز ہوچکا ہو ، جب تلواریں نیام سے کھچ چکی ہوں ، اور خون کی ندیاں بہ رہی ہوں ، اگر کوئی مشرک تمہاری پناہ میں آجائے تو تمہارا اسلامی فرض یہ ہے کہ اسے پناہ دو کیونکہ اسلام کی جنگ صرف اس سے ہے جو اس کے ساتھ برسرپیکار ہے ۔
Read the full tafseer →6 اور اگر ان مشرکوں میں سے کوئی شخص آپ سے امان طلب کرے تو آپ اس کو پناہ دے دیجئے تاکہ وہ حقانیت اسلام معلوم کرنے کی غرض سے اللہ تعالیٰ کا کلام سن لے پھر اس کو اس کی امن کی جگہ میں حفاظت کے ساتھ پہنچا دیجئے یہ حکم اس لئے ہے کہ یہ ایسے لوگ ہیں جو صحیح علم اور پوری خبر نہی رکھتے یعنی اس قتل و قتال کے زمانے میں کوئی مشرک اس بات کا طالب ہو کہ میں قرآن سن کر اسلام کی حقانیت کو سمجھنا چاہتا ہوں آپ مجھ کو امان دیں تو آپ اس قسم کے طالب حقانیت کو موقع دیجئے اور اس کو امان دیکر اس وقت تک اس کی حفاظت کیجئے جب تک وہ اطمینان کے ساتھ کلام اللہ سنے پھر اس کو اپنی حفاظت میں اس جگہ پہنچا دیجئے جہاں وہ بےخوف…
Read the full tafseer →ف 2۔ مراد مطلق دلائل دین حق کے ہیں۔
3۔ یعنی پہنچے دیجیے کہ وہ سوچ سمجھ کر اپنی رائے قائم کرے۔
4۔ اس لیے قدرے مہلت دینا ضروری ہے۔
Read the full tafseer →اے پیغمبر اسلام ! مشرکوں میں سے اگر آپ سے کوئی امان طلب کرے تو ضرور امان دو :
9: پچھلی آیت کی اس آیت میں مزید وضاحت فرما دی گئی تتات کہ کسی کو غلطی نہ لگے اور وہ پچھلی آیت کا مفہوم غلط نہ سمجھ لے جیسا کہ سمجھ لیا گیا۔ گویا مشرکین کے ساتھ جو سختتی بیان کی گئی تھی اس میں ایک حد تک نرمی کردی گئی اس لئے پناہ طلب کرنا اور مقابلے کے لئے کھڑے ہوجانا دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے اس لئے وضاحت فرمادی کہ جو مقابلہ کے لئے اٹھے اس کے معاملہ میں نرمی نہیں ہوگی بلکہ اس کا علاج تلوار ہی سے ہوگا لیکن اگر کوئی شخص مشرک ہونے کے باوجود پناہ طلب کرے یعنی آپ کا حلیف ہونا چاہے تو آپ سے مدد طلب کرے یا آپ کے قریب…
Read the full tafseer →Commentary
It was said in the first five verses of Surah At-Taubah that, soon after the Conquest of Makkah, general amnesty was granted to all polytheists and disbelievers of Makkah and its environs. But, in view of their dismal record of treachery and breach of trust in the past, it was decided that no treaty would be signed with them in the future. It was despite this policy decision that injunctions to honor the treaty - made with these people earlier and which they had never contravened - were revealed whereby they were required to fulfill the terms of the treaty until it expired. As for…
Read the full tafseer →