پابندی عہد کی شرائط
اوپر والے حکم کی حکمت بیان ہو رہی ہے کہ چارہ ماہ کی مہلت دینے پر لڑائی کی اجازت دینے کی وجہ سے ہے کہ وہ اپنے شرک و کفر کو چھوڑ نے اور اپنے عہد و پیمان پر قائم رہنے والے ہی نہیں۔ ہاں صلح حدیبیہ جب تک ان کی طرف سے نہ ٹوٹے تم بھی نہ توڑنا۔ یہ صلح دس سال کے لیے ہوئی تھی۔ ماہ ذی القعدہ سنہ006ہجری سے حضور ﷺ نے اس معاہدہ کو نبھایا یہاں تک کے قریشیوں کی طرف سے معاہدہ توڑا گیا ان کے حلیف بنو بکر نے رسول اللہ ﷺ کے حلیف خزاعہ پر چڑھائی کی بلکہ حرم میں بھی انہیں قتل کیا اس بنا پر رمضان شریف008ہجری میں حضور ﷺ نے ان پر چڑھائی کی۔ رب العالمین نے مکہ آپ کے ہاتھوں فتح کرایا اور انہیں آپ کے…
Read the full tafseer →سورة التَّوْبَة 9
یعنی بنی کنانہ اور بنی خزاعہ اور بنی ضمرہ
Read the full tafseer →کفار کے مقابلہ میں بھی سچائی پر قائم رہنے اور ان کے متعلق مبالغہ آمیزی سے پرہیز کرنے کی تعلیمقرآن کریم کے اس بیان نے مسلمانوں کو یہ ہدایت دی کہ اپنے دشمن مخالفین کے معاملہ میں بھی جب کوئی گفتگو آئے تو سچائی اور انصاف کو ہاتھ سے نہ دیں مبالغہ آمیزی سے کام نہ لیں جیسا کہ ان آیات میں مشرکین مکہ کے بارے میں اس کی پوری رعایت کی گئی ہے کہ اگرچہ معدودے چند لوگوں کے سوا سبھی نے عذر و عہد شکنی کی تھی اور ایسے حالات میں عام طور پر کہنے والے سبھی کو برا کہا کرتے ہیں مگر قرآن کریم نے (آیت) اِلَّا الَّذِيْنَ عٰهَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَام فرما کر ان لوگوں کا استثناء کردیا جنہوں نے عہد شکنی نہیں…
Read the full tafseer →اعلان براءت کے وجوہ : یہ اعلان براءت کے وجوہ اور دلائل بیان ہو رہے ہیں۔ خطاب اگرچہ بظاہر عام ہے لیکن روئے سخن ان مسلمانوں کی طرف خاص طور سے ہے جو مشرکین کے اندر تعلقات اور عزیز داریوں کے باعث اس اعلان سے تشویش میں مبتلا ہوگئے تھے۔ اس اعلان سے اتنی بات تو ہر شخص کے سامنے آگئی کہ اب حدیبیہ کے اس معاہدے کے دن بھی قریب آ لگے ہیں جس نے مسلمانوں اور قریش کے درمیان ایک دوسرے سے ملنے جلنے کی راہ کھول دی۔ جو لوگ ضعیف الایمان تھے قدرتی طور پر ان کا ایمان ایک سخت آزمائش میں پڑگیا۔ قریش میں گھر گھر ان کی عزیز داریاں تھیں اور وہ توقع لیے بیٹھے تھے کہ ملنے جلنے کا یہ دروازہ کھلا رہے گا اور وہ کفر اور اسلام…
Read the full tafseer →7۔ 1 یہ استہفام نفی کے لئے ہے، یعنی جن مشرکین سے تمہارا معاہدہ ہے، ان کے علاوہ اب کسی سے معاہدہ باقی نہیں رہا ہے۔
7۔ 2 یعنی عہد کی پاسداری، اللہ کے ہاں بہت پسندیدہ امر ہے۔ اس لئے معاملے میں احتیاط ضروری ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
7: آیت نمبر 7 سے لے کر آیت نمبر 16 تک اتنی بات تو واضح ہے کہ اس میں کفار قریش کا ذکر ہے، اور ان کی بد عہدی کا ذکر کیا گیا ہے اور مسلمانوں کو تاکید کی گئی ہے کہ ان کے قول وقرار پر بھروسہ نہ کریں، اور اگر وہ بد عہدی کریں تو ان کے ساتھ جنگ کی جائے۔ لیکن اس معاملے میں مفسرین کی آراء مختلف ہیں کہ یہ آیات کب نازل ہوئی تھیں۔ مفسرین کی ایک جماعت کا کہنا ہے کہ یہ آیتیں فتح مکہ سے پہلے اس وقت نازل ہوئی تھیں جب کفار قریش کے ساتھ مسلمانوں نے حدیبیہ میں جو معاہدہ کیا تھا وہ باقی تھا۔ اور ان آیتوں میں یہ پیشینگوئی کی گئی ہے کہ یہ لوگ اپنے معاہدے پر قائم نہیں رہیں گے لہذا اگر وہ عہد شکنی کریں تو ان کے ساتھ…
Read the full tafseer →سابقہ آیات میں ، اسلامی حکومت اور جزیرۃ العرب کے دوسرے معاشروں اور مشرکین جزیرۃ العرب کے مابین تعلقات کی آخری شکل کو منضبط کیا گیا تھا۔ اس اقدام کا مقصد یہ تھا کہ اسلامی حکومت اور ان دوسرے گروپوں کے درمیان معاہدے اور امن کی حالت ختم ہوجائے اور ان میں سے بعض کو چار ماہ کی مہلت دے دی جائے اور بعض کو انتہائے مدت معاہدہ تک کی مہلت دی جائے اور ان حالات میعاد کے ختم ہونے کے بعد تعلقات کی صرف دو صورتیں رہ جائیں یا تو اسلام قبول کرکے نماز قائم کریں اور زکوۃ دیں یعنی اسلام قبول کرکے تمام فرائض کے پابند ہوجائیں اور قتال ، قیدی اور مورچہ بندی کے لیے تیار ہوجائیں۔
جب صورت حالات ایسی ہوجائے تو پھر اگلی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
2 پچھلی آیات میں جو براءۃ کا اعلان کیا گیا تھا، یہاں اس کی حکمت بیان فرماتے ہیں۔ یعنی ان مشرکین عرب سے کیا عہد قائم رہ سکتا ہے اور آئندہ کیا صلح ہوسکتی ہے جن کا حال تم مسلمانوں کے ساتھ یہ ہے کہ اگر کسی وقت ذرا قابو تم پر حاصل کرلیں تو ستانے اور نقصان پہنچانے میں نہ قرابت کا مطلق لحاظ کریں اور نہ قول وقرار کا۔ چونکہ اتفاق سے تم پر غلبہ اور قابو حاصل نہیں ہے، اس لیے محض زبانی عہد و پیمان کر کے تم کو خوش رکھنا چاہتے ہیں، ورنہ ان کے دل ایک منٹ کے لیے بھی اس عہد پر راضی نہیں۔ ہر وقت عہد شکنی کا موقع تلاش کرتے رہتے ہیں۔ چونکہ ان میں اکثر لوگ غدار اور بدعہد ہیں اگر کوئی اکا دکا وفائے عہد کا خیال بھی…
Read the full tafseer →فتح مکہ سے قبل صورت حال ایسی تھی کہ مکہ مکرمہ پر حملہ کرنے کے سلسلے میں بہت سے لوگ تذبذب اور الجھن کا شکار تھے۔ بعض مسلمانوں کے بیوی بچے اور بہت سے کمزور مسلمان جو ہجرت نہیں کر پائے تھے ‘ ابھی تک مکہ میں پھنسے ہوئے تھے۔ اکثر لوگوں کو خدشہ تھا کہ اگر مکہ پر حملہ ہوا تو بہت خون خرابہ ہوگا اور مکہ میں موجود تمام مسلمان اس کی زد میں آجائیں گے۔ اگرچہ بعد میں بالفعل جنگ کی نوبت نہ آئی مگر مختلف ذہنوں میں ایسے اندیشے بہر حال موجود تھے۔ اس سلسلے میں زیادہ بےچینی منافقین نے پھیلائی ہوئی تھی۔ چناچہ ان آیات میں مسلمانوں کو مکہ پر حملہ کرنے کے لیے آمادہ کیا جا رہا ہے۔
آیت 7 کَیْفَ یَکُوْنُ…
Read the full tafseer →7 صلح حدیبیہ اور حلیف قبائل :۔ ان سے مراد وہ تین مشرک قبائل ہیں بنو خزاعہ، بنو کنانہ اور بنو ضمرہ۔ جو صلح حدیبیہ کے وقت مسلمانوں کے حلیف بنے تھے۔ اور جب اعلان برأت ہوا تو ان سے معاہدہ کی میعاد میں ابھی نو مہینے باقی تھے۔ اس سورة کی آیت نمبر 4 کے مطابق اس مدت میں ان سے تعرض نہیں کیا گیا۔ نیز اس آیت کی رو سے اس بات کی بھی اجازت دے دی گئی کہ کوئی مشرک جب تک اپنے معاہدہ پر قائم رہتا ہے اس وقت تو تمہیں بہرحال قائم رہنا چاہیے اور اگر وہ اپنا عہد توڑتا ہے تو اس وقت تمہیں بھی مخالفانہ کارروائی کرنے کی اجازت ہے۔ بالفاظ دیگر معاہدہ کی خلاف ورزی کی ابتداء تمہاری طرف سے بہرصورت نہیں ہونی چاہیے اور اس کی…
Read the full tafseer →14 ۔ (اور ان سے امید ہے کہ وہ عہد کو قائم رکھیں گے) (آیت) ” المشرکین “۔ سے مراد یہاں بھی وہی عہد شکن مشرکین ہیں جن کا ذکر اوپر سے چلا آرہا ہے۔ المراد من المشرکین الناکثون (روح) (آیت) ” کیف “۔ یہاں استفہام کے معنی میں نہیں، استنکار کے معنی میں اور اظہار عجب کے لئے ہے۔ استفھام یعنی الانکار والاستبعاد (کشاف۔ بیضاوی) کیف ھنا للتعجب کما تقول کیف یسبقنی فلان اے لاینبغی ان یسبقنی (قرطبی)
15 ۔ (اور تقوی ہی کی ایک اعلی فرد یہ ہے کہ ہر ترغیب اور موقع کے باوجود انسان اپنے عہد پر قائم رہے) (آیت) ” فما استقاموا لکم “۔ یعنی تمہارے مقابلہ میں اپنا عہد نہ توڑیں۔ ولم یظھر منھم نکث۔ اے فما اقاموا علی وفاء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
وَاِنْ اَحَد مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ اسْتَجَارَک فَاَجِرْہُ ، اس آیت میں مذکورہ حربی کافروں کے بارے میں ایک رخصت دی گئی ہے کہ اگر کوئی کافر پناہ طلب کرے تو اسے پناہ دے دو یعنی اس کو امان میں رکھو تاکہ کوئی مسلمان اس کو قتل نہ کرسکے، اور اس کو قرآن سننے اور اسلام کو سمجھنے کا موقع ملے ممکن ہے کہ اس طرح اسے توبہ اور قبول اسلام کی توفیق مل جائے لیکن اگر وہ کلام اللہ سننے کے باوجود مسلمان نہیں ہوتا تو اسے اس کی جائے پناہ تک پہنچا دو ۔
مسئلہ : وَاَقَامُوا الصَّلوٰةَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوةَ ، مخصوص یہی دو عمل مراد نہیں ہیں یہ دونوں عمل بطور نمونہ کے ہیں، مراد یہ ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ کام کرنے لگیں،…
Read the full tafseer →کیف یکون للمشرکین عھد عند اللہ وعند رسولہ ان مشرکین (قریش) کا عہد اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے نزدیک کیسے قابل رعایت رہے گا۔ کیف یا یکون کی خبر ہے یا للمشرکین کی یا عند اللہ کی۔ اور استفہام انکار تعجبی کیلئے ہے ‘ یعنی یہ بات نہایت بعید ہے کہ باوجود بدکار اور اہل عناد ہونے کے مشرکین عہد کے پابند رہیں اور عہدشکنی نہ کریں ‘ یا یہ بات بعید ہے کہ مشرکین تو کئے ہوئے عہد کو توڑیں اور اللہ اور اللہ کا رسول اس عہد کی پابندی رکھیں۔
الا الذین عاھدتم عند المسجد الحرامج سوائے ان لوگوں کے جن سے مسجد حرام کے پاس تم نے معاہدہ کیا ہے۔ یہ استثناء مشرکین سے ہے ‘ اگر مشرکین سے مراد عہدشکن مشرک ہوں تو استثناء منقطع…
Read the full tafseer →(7) اللہ تعالیٰ تعجب کا اظہار فرماتے ہیں کہ ان لوگوں سے کس طرح معاہدہ قائم رہ سکتا ہے، البتہ بنی کنانہ جنہوں نے حدیبیہ کے سال کے بعد معاہدہ کیا ہے تو جب تک یہ عہد پورا کریں تم بھی اس کو پورا کرو، اللہ تعالیٰ بدعہدی سے بچنے والوں کو پسند فرماتے ہیں۔
Read the full tafseer →كَيْفَ يَكُوْنُ لِلْمُشْرِكِيْنَ عَهْدٌ : یعنی وہ لوگ جو ہیں ہی مشرک، جنھوں نے اپنے خالق کی توحید کا عہد ہی پورا نہیں کیا، ان کی طرف سے کوئی عہد پورا ہونا کیسے ممکن ہے، وہ تو جو عہد کرتے ہیں توڑ ڈالتے ہیں۔
اِلَّا الَّذِيْنَ عٰهَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ : ان سے مراد وہی لوگ ہیں جن کا ذکر پہلے (اِلَّا الَّذِيْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ ثُمَّ لَمْ يَنْقُصُوْكُمْ شَيْــــًٔـا وَّلَمْ يُظَاهِرُوْا عَلَيْكُمْ اَحَدًا فَاَتِمُّــوْٓا اِلَيْهِمْ عَهْدَهُمْ اِلٰى مُدَّتِهِمْ) [ التوبۃ : 4 ] میں گزر چکا ہے۔ صلح حدیبیہ جو رسول اللہ ﷺ اور کفار قریش کے درمیان دس سال کے لیے قرار…
Read the full tafseer →قولہ تعالیٰ : کیف یکون للمشرکین عھد عند اللہ وعند رسولہ الا الذین عھد تم عند المسجد الحرام یہاں کیف تعجب کے لیے ہے، جیسا کہ آپ کہتے ہیں : کیف یسبقنی فلان (یعنی اسے نہیں چاہیے کہ وہ مجھ پر سبقت لے جائے۔ اور عھد یکون کا اسم ہے۔ اور آیت میں اضمار ہے، ای کیف یکون للمشرکین عھد مع اضمار الفدر (1) (یعنی کیونکر مشرکین کے لیے عہد ہوسکتا ہے اس کے ساتھ کہ عذر اور دھوکہ دہی مخفی ہو) جیسا کہ شاعر نے کہا :
خبر تمانی انما الموت بالقری فیکف وھاتا ھضبۃ و کثیب
تقدیر عبار ہے ــ: فکیف مات، یہ زجاج سے منقول ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا معنی ہے کیونکہ ان مشرکوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی معاہدہ ہوسکتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
ا :۔ ابن منذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ثم ابلغہ مامنہ “ سے مراد ہے کہ اگر وہ اس کے موافق نہ ہو جو فیصلہ اس کے خلاف کیا جارہا ہے اور اس کا ارادہ ہو تو اس کو اس کی امن کی جگہ پہنچا دو اور یہ (حکم) منسوخ نہیں ہے۔
2:۔ ابوالشیخ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان احد من المشرکین استجارک فاجرہ حتی یسمع کلم اللہ “ سے مراد ہے کہ حکم دیا گیا کہ جو شخص اس کا ارادہ کرے کہ کسی مشرک کو امن دے اور اگر وہ اس کو قبول کرے (تو ٹھیک) ورنہ اس کا راستہ چھوڑدو یہاں تک کہ وہ اپنی امن کی جگہ آجائے اور حکم کیا گیا کہ ان کے اس حال پر مال خرچ کریں۔
3:۔ ابوالشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا…
Read the full tafseer →كَيْفَ [ کیسے ] يَكُوْنُ [ ہوگا ] لِلْمُشْرِكِيْنَ [ مشرکوں کے لیے ] عَهْدٌ [ کوئی عہد ] عِنْدَ اللّٰهِ [ اللہ کے پاس ] وَعِنْدَ رَسُوْلِهٖٓ [ اور اس کے رسول کے پاس ] اِلَّا [ سوائے ] الَّذِيْنَ [ ان کے جن سے ] عٰهَدْتُّمْ [ تم لوگوں نے معاہدہ کیا ] عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۚ [ مسجد حرام کے پاس ] فَمَا [ پس جب تک ] اسْتَقَامُوْا [ وہ لوگ سیدھے رہیں ] لَكُمْ [ تمہارے لیے ] فَاسْتَقِيْمُوْا [ تو تم لوگ سیدھے رہو ] لَهُمْ ۭ [ ان کے لیے ] اِنَّ اللّٰهَ [ بیشک اللہ ] يُحِبُّ [ پسند کرتا ہے ] الْمُتَّقِيْنَ [ تقوی کرنے والوں کو ]
ترکیب : (آیت ۔ 7) فما استقاموا میں ماظرفیہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
مشرکین کو کسی قرابت داری اور معاہدہ کی پاسداری نہیں
ان آیات میں اول تو مشرکین کی بد عہدی کے مزاج کا تذکرہ فرمایا اور فرمایا کہ ان کا عہد اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ انہوں نے پہلے بھی عہد توڑا ہے اور آئندہ بھی توڑتے رہیں گے۔ ان کا حال یہ ہے کہ ظاہر میں زبانوں سے عہد ہے اور دلوں میں بغض کی آگ ہے اگر مسلمانوں پر غلبہ پاجائیں تو نہ کسی رشتہ داری کا لحاظ کریں اور نہ کسی معاہدہ کی ذمہ داری کا۔ بس یہ مسلمانوں کو اپنی زبانی باتوں سے راضی رکھنا چاہتے ہیں۔ (وفائے عہد اور اطاعت کا زبانی وعدہ کرتے ہیں) اور ان کے دل ان کی اپنی زبانی باتوں سے راضی نہیں ہیں۔ اور ان میں اکثر فاسق ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–12
اعلان براءت کی علت اور حکمت
قال اللہ تعالیٰ ۔ کیف یکون للمشرکین عھد۔۔۔ الی۔۔۔ لعلھم ینتھون
(ربط): گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کی براءت کا اعلان فرمایا۔ اب یہاں سے ان کے عہد کے تمام اور ختم کردینے کی علت اور حکمت بیان فرماتے ہیں کہ ان لوگوں کا عہد اور ان اور ان کی صلح قابل اعتبار نہیں صلح کے وقت ہی ان کے دل میں دغا ہوتی ہے جو بعد میں ظاہر ہوتی ہے اور ان کی بار بار عہد شکنیوں کے تجربہ سے یہ واضح ہوچکا ہے کہ یہ لوگ وفا کرنے کے لیے عہد نہیں کرتے بلکہ توڑنے کے لیے کرتے ہیں کہ اس وقت عہد کر کے مہلت حاصل کرلیں پھر موقعہ پا کر عہد کو توڑیں۔ جن لوگوں نے اب تک عہد نہیں توڑا نیت ان کی بھی یہی…
Read the full tafseer →7: یہاں سے موانع قتال کے جواب کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ یعنی ایسے چار شبہات کا ازالہ کیا گیا ہے جو مشرکین سے جہاد کرنے کی راہ میں حائل ہوسکتے تھے۔ یہ پہلے مانع کا جواب ہے۔ مانع یہ تھا کہ مشرکین سے تو مسلمانوں معاہدہ کر رکھا ہے پھر ان سے قتال کیوں کر جائز ہوسکتا ہے تو فرمایا کہ جن مشرکین نے اپنا عہد توڑ دیا اور مسلمانوں کے خلاف دشمن کو مدد دی اللہ اور رسول کے نزدیک ان کا عہد کیونکر باقی رہ سکتا ہے ان کے نقض عہد کی وجہ سے معاہدہ ختم ہوگیا اس لیے نبذ عہد کا اعلان کر کے اور چار ماہ کی مہلت دے کر ان سے ڈٹ کر قتال کرو۔ “ اِلَّا الَّذِیْنَ عٰھَدْتُّمْ الخ ” البتہ وہ مشرکین جو اپنے عہد پر قائم ہیں جب تک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
ربط آیات :
اس سورة کی ابتداء میں پہلے کفار ومشرکین سے برائت کا اعلان ہوا ، پھر انہیں سوچ وبچار کرنے کے لیے چار ماہ کی مہلت دیے جانے کا ذکر ہوا کہ یہ مدت گزرنے کے بعد حالت جنگ قائم ہو جائیگی بشرطیکہ کفار ومشرکین نے ایمان نہ قبول کرلیا ہو یا وہ ملک سے چلے نہ گئے ہوں پھر یہ بیان ہوا کہ اس مہلت کے باوجود اگر کوئی غیر مسلم دین اسلام کے متعلق آگاہی حاصل کرنا چاہے ، قرآنی پروگرام کو سننے پر آمادہ ہوا وہ اہل ایمان سے اس مقصد کے لیے پناہ طلب کرے تو اسے پناہ دے دی جائے بلکہ اسلام کی وضاحت کرنے کے بعد اسے مزید مہلت دی جائے اور اسے اس کی جائے امن تک پہنچا دیا جائے تا کہ وہ ہر قسم کے دبائو سے آزاد ہو کر…
Read the full tafseer →كَيْفَ يَكُوْنُ لِلْمُشْرِكِيْنَ عَہْدٌ عِنْدَ اللہِ وَعِنْدَ رَسُوْلِہٖٓ اِلَّا الَّذِيْنَ عٰہَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ 0 ۚ فَمَا اسْتَقَامُوْا لَكُمْ فَاسْتَقِيْمُوْا لَہُمْ 0 ۭ اِنَّ اللہَ يُحِبُّ الْمُتَّقِيْنَ 7
كيف
كَيْفَ : لفظ يسأل به عمّا يصحّ أن يقال فيه : شبيه وغیر شبيه، كالأبيض والأسود، والصحیح والسّقيم، ولهذا لا يصحّ أن يقال في اللہ عزّ وجلّ : كيف، وقد يعبّر بِكَيْفَ عن المسئول عنه كالأسود والأبيض، فإنّا نسمّيه كيف، وكلّ ما أخبر اللہ تعالیٰ بلفظة كَيْفَ عن نفسه فهو استخبار علی طریق التنبيه للمخاطب، أو توبیخا نحو : كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ [ البقرة/ 28] ، كَيْفَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–12
ترکیب : عہد اسم یکون اور خبر یا کیف ہے جو استفہام کے لئے مقدم کردیا گیا ہے یا للمشرکین ہے اور عند دونوں صورتوں عہدا یا یکون کا ظرف ہے یا عند اللّٰہ ہے فما زمانیہ یا شرطیہ ای فاستقیموا لھم مدۃ استقامتھم وان استقاموا فاستقیموا۔ یرضونکم حال ہے یا جملہ مستانفہ فان تابوا شرط فاخوانکم جواب۔
تفسیر : اس مقام پر ان کے عہد کو تمام کرنے کا سبب بیان فرماتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک مشرکین کا عہد کیونکر باقی رہ سکتا ہے ؟ بجز ان شخصوں کے کہ جن سے تم نے مسجد الحرام یعنی خانہ کعبہ کے پاس سال حدیبیہ میں عہد کیا تھا یعنی قریش کا ایک گروہ سب کو لوگوں نے بنو حمزہ بنو کنانہ کہا ہے جن کا پہلی آیات میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
کَیْفَ یَکُوْنُ لِلْمُشْرِکِیْنَ عَہْدٌ عِنْدَ اللّٰہِ وَعِنْدَ رَسُوْلِہٖٓ اِلَّا الَّذِیْنَ عٰھَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ج فَمَا اسْتَقَامُوْا لَکُمْ فَاسْتَقِیْمُوْا لَہُمْ ط اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ کَیْفَ وَاِنْ یَّظْھَرُوْا عَلَیْکُمْ لَا یَرْقُبُوْا فِیْکُمْ اِلًّا وَّلاَ ذِمَّۃً ط یُرْضُوْنَکُمْ بِاَفْوَاھِھِمْ وَتَاْبٰی قُلُوْبُھُمْ ج وَاَکْثَرُھُمْ فٰسِقُوْنَ ج ( التوبۃ : 7، 8)
(کیسے رہ سکتا ہے مشرکین سے کوئی معاہدہ اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک ؟ ہاں ! جن سے تم نے مسجدِحرام کے پاس معاہدہ کیا تو جب تک وہ قائم رہیں تم بھی قائم رہو، بیشک اللہ ایفائے عہد کرنے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : مشرکین سے کیے ہوئے معاہدات سے برأت کرنے کی وجوہات۔
اسلام اللہ تعالیٰ کا آخری اور مکمل دین ہے اسے اللہ تعالیٰ نے باقی ادیان پر غالب رہنے کے لیے نازل فرمایا ہے۔ اس کا غلبہ اس صورت میں ہی ہوسکتا ہے جب سچے مسلمان باہم متحد اور اپنے وسائل کو یکجا کرتے ہوئے جہاد کے لیے تیار رہیں گے۔ نبی ﷺ نے انھی بنیادوں پر صحابہ ؓ کی جماعت تیار فرمائی تھی جو جماعت اس قابل ہوئی کہ انھوں نے حدود حرم سے مشرکین کو نکال باہر کیا جب مشرکین کے دیس نکالے کا اعلان ہوا۔ تو انھوں نے اس پر مسلمانوں کے خلاف شدید پروپیگنڈہ کیا جس کا یہ جواب دیا گیا ہے کہ مشرکین کے عہد کی اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک کوئی…
Read the full tafseer →مشرک عہد پر قائم نہیں رہ سکتا :
آیت 7: کَیْفَ یَکُوْنُ لِلْمُشْرِکِیْنَ عَھْدٌ عِنْدَ اللّٰہِ وَعِنْدَ رَسُوْلِہٖٓ (ان مشرکین کا عہد اللہ تعالیٰ کے نزدیک اور اس کے رسول کے نزدیک کیسے رہے گا) نحو : کیف یہ استفہام انکاری کے معنی میں ہے یعنی انکا عہد پر قائم رہنا اوپری و عجیب بات
ہے پس تم ان سے یہ توقع مت رکھو اور نہ دلوں میں یہ بات لائو اور نہ ان کے قتل کے متعلق سوچو۔ پھر اِلَّا الَّذِیْنَ عٰھَدْتُّمْ (مگر وہ جن سے تم نے عہد لیا ہے) سے استدراک کیا۔ کہ اس سے وہ لوگ مستثنیٰ ہیں جن سے تم نے معاہدہ کیا۔ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ (مسجد حرام کے پاس) اور ان سے نقض عہد آج تک پیش نہیں آیا۔ جیسے بنو…
Read the full tafseer →كَيْفَ يَكُوْنُ لِلْمُشْرِكِيْنَ عَهْدٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَعِنْدَ رَسُوْلِهٖٓ یہ سوال تعجب کے کے طریقے پر ہے اور اس کا مطلب انکار کرنا ہے یعنی یہ لوگ دھوکہ دیتے ہیں اور عہد توڑتے ہیں تو ان کا اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر کوئی عہد نہیں ہے ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے استثناء کیا اور فرمایا ” الا الذین عھدتم عند المسجد الحرام “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ قریش ہیں اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ یہ اہل مکہ ہیں جن سے رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ کے دن معاہدہ کیا تھا ” فما استقاموا لکم فاستقیموا لھم “ پھر وہ سیدھے نہیں رہے اور عہد کو توڑا اور بنی بکر کی خزاعہ پر حملہ میں مدد کی تو فتح مکہ کے بعد رسول اللہ ﷺ نے ان کے…
Read the full tafseer →7۔ اس آیت میں اللہ پاک نے یہ فرمایا کہ کیونکر ان مشرکوں کا عہد قائم رہ سکتا ہے ان کی حالت تو یہ ہے کہ خدا اور اس کے رسول کے یہ لوگ منکر ہیں پھر فرمایا کہ جو لوگ اپنے عہد پر قائم رہیں ان کے ساتھ تم بھی ویسا ہی کرو کہ اپنے عہد پر قائم رہو کیونکہ خدا کو احتیاط کرنے والے لوگ بہت پسند ہیں خدا ان کو دوست رکھتا ہے جو اپنے قول پر قائم رہیں اس واسطے کہ یہ صفت متقی لوگوں کی ہے وہ لوگ جنہوں نے عہد کو نباہا بنی خزاعہ ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن سے حدیبیہ کے دن حرم پاک کے نزدیک عہد ہوا تھا اور یہ عہد دس برس کا تھا انہیں کے متعلق یہ حکم ہوا کہ ان سے عہد پورا کرو جب تک یہ لوگ اپنے قول وقرار پر قائم ہیں یہ صلح 6…
Read the full tafseer →آیت 7
یہ اس حکمت الٰہی کا بیان ہے جو اس بات کی موجب ہے کہ اللہ اور اس کا رسول مشرکین سے بری ہوں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :: (آیت) ” کیوں کر ہو مشرکین کے لئے کوئی عہد اللہ کے نزدیک اور اس کے رسول کے نزدیک ؟ “ کیا انہوں نے واجبات ایمان کو قائم کیا ہے ؟ یا انہوں نے رسول اللہ ﷺ اور اہل ایمان کو اذیت دینا چھوڑ دی ہے ؟۔۔۔ (بلکہ) انہوں نے حق کے خلاف جنگ کی اور باطل کی مدد کی۔ کیا انہوں نے زمین میں فساد پھیلانے کی بھرپور کوشش کر کے اپنے آپ کو اس بات کا مستحق نہیں ٹھہرا لیا کہ اللہ تعالیٰ ان سے بری الذمہ ہو، اللہ اور اس کے رسول کے ہاں ان کے لئے کوئی عہد اور ذمہ نہ ہو ؟ (الا الذین عھد تم) ” سوائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
مشرک حربی اگر اسلام فہمی کے لئے امان طلب کرے تو امان دی جائے
قول باری ہے (و ان احد من المشرکین استجارک فاجرہ حتی یسمع کلام اللہ اور اگر مشرکین میں سے کوئی شخص پناہ مانگ کر تمہارے پاس آنا چاہے (تاکہ اللہ کا کلام سنے) تو اسے پناہ دے دو یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سن لے) آیت حربی کو امان دینے کے جواز کی مقتضی ہے جب وہ ہم سے اسلام کی صداقت کو ثابت کرنے والے دلائل سننے کی خاطر پناہ مانگ کر ہمارے پاس آنا چاہے تو اسے پناہ دینا ہمارے لئے جائز ہوگا اس لئے کہ قول باری (استجارک) کے معنی ہیں تم سے امان طلب کرے “ اور قول باری (فاجرہ) کے معنی ہیں ” اسے امان دے دو “ تاکہ دلائل موجود ہیں یہ امر اس پر بھی…
Read the full tafseer →15 مشرکوں کیلئے کوئی عہد و پیمان کس طرح ؟ : استفہام انکار واستبعاد کے لئے ہے۔ یعنی ایسا نہیں ہوسکتا کہ جن لوگوں کا حال یہ ہو اور ان کے کرتوت ایسے اور ایسے ہوں کہ وہ کس طرح پاس ولحاظ کریں گے اپنے کسی عہدو پیمان کا۔ پس ایسوں سے اس طرح کی کوئی توقع سرے سے رکھو ہی نہیں تاکہ نہ تم دھوکے میں پڑو اور نہ بعد میں تکلیف اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑے۔ کیونکہ جس سے کسی بات کی توقع نہ ہو اس پر کوئی افسوس کیسا اور کیونکر ؟ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے مشرکوں کے لیے کسی عہد و پیمان کی کوئی ذمہ داری بجز ان لوگوں کے جنہوں نے تم سے معاہدہ کیا تھا مسجد حرام کے پاس اللہ اور اس کے رسول کے ذمہ کس طرح ہوسکتی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
بد عہد قوم کے اوصاف
تشریح : اب ان آیات میں تقریباً پچھلی آیات کا اعادہ کیا گیا ہے۔ اور مسلمانوں کو سمجھایا جا رہا ہے کہ مومن اور کافر کی فطرت میں بہت فرق ہے مومن عہد کا پاس سختی سے کرتا ہے جبکہ کافر و مشرک فطرتاً بدعہد، منافق اور بدخصلت ہوتا ہے اس سے مخلص ہونے کی توقع ہرگز نہیں کرنی چاہیے، وہ تو موقع پاتے ہی مسلمانوں کو تکلیف پہنچانے اور نقصان پہنچانے کی پوری کوشش کرتے ہیں اور ہرگز کوئی لحاظ نہیں کرتے نہ تو اپنے رشتہ دار ہونے کا خیال کرتے ہیں اور نہ ہی عہد و پیماں کا ہی خیال کرتے ہیں، اس لیے ان لوگوں پر اعتبار کرتے ہوئے بڑے ہوشیار اور محتاط رہو۔ جب معاہدہ منسوخ کرنے کا اعلان ہوا تو ان لوگوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–16
آیات 7 تا 16
اسرار و معارف
مشرکین کے وعدوں کا کیا بھر وسہ اور وہ بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے نزدیک کہ جب انھیں عظمت باری کا احساس ہے نہ عظمت رسالت کا پاس مزاج میں کفر وشرک رچابسا ہوا ہے تو ایسے لوگوں سے خیر کی کیا تو قع کی جاسکتی ہے یہی وجہ ہے کہ انھوں نے خود بد عہدی کی اور نقصان بھی اٹھایا مسلمانوں نے عہد نبھایا تو فتح دکامرانی سے سرفراز ہوئے سوائے اس جماعت یا ان لوگوں کے جنہوں نے حرم کے نزدیک معاہدہ کیا تھا اگرچہ وہ بھی ابھی تک اسلام کی برکات سے محروم تھے مگر ان سے بھلے تھے کہ انھوں نے عہد نبھایا۔
اچھی بات کی تعریف
گویا اچھے عمل کی تعریف کی جانی چاہیئے خواہ وہ کافر سے ظاہر ہوبھلائی بہرحال…
Read the full tafseer →ف 4 یا ان کا عہد کیونکر عہد ہوسکتا ہے وہ تو بےایمان ہیں جب بھی عہد کرتے ہیں اسے توڑ ڈالتے ہیں۔ ( وحیدی)5 یعنی صلح حدیبیہ جو آنحضرت ﷺ اور کفار قریش کے درمیان دس سال کے لیے قرار پائی۔ یہ صلح نامہ چونکہ حدود حرم کے اندر طر پایا تھا اس لیے اسے عندالمسجد الحرم فرما دیا۔ ( ابن کثیر)6 یعنی ان سے قتال نہ کرو چناچہ رسول اللہ ﷺ اس معاہدہ پر قائم ر ہے۔ اس معاہدہ میں شرط یہ تھی کہ ایک دوسرے پر حملہ آور نہیں ہوں گے اور نہ دوسرے کے خلاف کسی کی مدد کریں گے۔ اس معاہدہ میں بنو خزاعہ مسلمانوں کے ساتھ شامل تھے اور بنو بکر قریش کے حلیف تھے مگر کچھ عرصہ بعد بنو بکر اور بنو خز اعہ کے مابین لڑائی چھڑگئی اور مشرکین…
Read the full tafseer →(9:7) کیف۔ کیسا۔ کیسے۔ کیونکر۔ یہاں بطور استفہام انکاری استعمال ہوا ہے۔ کیف یکون للمشرکین عھد عند اللہ وعندہ رسولہ۔ ان (عہد شکن) مشرکین کے لئے اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک کوئی معاہدہ کیونکر ہوسکتا ہے (یعنی نہیں ہوسکتا) ۔ یعنی اگر یہ مشرکین اللہ اور اللہ کے رسول کے ساتھ کئے گئے معاہدوں کو بار بار توڑنے کا ارتکاب کرتے ہیں تو اللہ اور اللہ کا رسول ان کے ساتھ عہد کا پاس کیسے کرسکتے ہیں ۔
فما۔ ما مصدریہ ظرفیہ یا جزائیہ ہے (مثال مصدریہ وضاقت علیہم الارض بما رحبت (10:25) اور باوجود فراخ ہونے کے ان پر زمین تنگ ہوگئی۔ مثال مصدریہ ظرفیہ :۔ واوصانی بالصلوۃ والزکوۃ مادمت حیا (19:31) اور اس نے مجھے تاکید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–12
آیات : 7 تا 12
لغات القرآن۔
استقاموا۔ سیدھے ہیں۔ ان یظھروا۔ اگر وہ غالب آجائیں۔ لا یرقبوا۔ لحاظ نہ کریں گے۔ الا ۔ قریبی دوستی۔ رشتہ داری۔ ذمۃ۔ عہد۔ معاہدہ۔ یرضون۔ وہ راضی کرتے ہیں۔ افواہ۔ (فوہ) ۔ منہ۔ اشتروا۔ خرید لیا۔ لے لیا۔ ثمنا قلیلا۔ گھٹا ا قیمت۔ تھوڑی قیمت۔ المتعدون۔ حد سے نکل جانے والے۔ اخوان۔ (اخ) ۔ بھائی۔ نکثوا۔ توڑ دیں۔ ایمانھم۔ اپنی قسمیں۔ طعنوا۔ طعنے دیں۔ برائیاں نکالیں۔ ائمۃ الکفر۔ کفر کے سردار ۔ سرغنے۔
تشریح :
قرآن کریم کی ان آیات سے جو ہدایات ربانی فراہم ہوتی ہیں وہ حسب ذیل ہیں۔
(1) وہ معاہدے جو رسول اللہ ﷺ نے مسجد حرام کے پاس اور اس کے آس پاس کے قبیلوں یعنی بنو کنانہ، بنو…
Read the full tafseer →قریش کے خلاف معاہدہ اور بد عہدی کا ذکر
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ کیونکر ان مشرکوں کا عہد قائم رہ سکتا ہے ان کی حالت تو یہ ہے کہ خدا اور اس کے رسول کے یہ لوگ منکر ہیں۔ پھر فرمایا کہ جو لوگ اپنے عہد پر قائم رہیں ان کے ساتھ تم بھی ویساہی کرو کہ اپنے عہد پر قائم رہو۔ کیونکہ خدا کو احتیاط کرنے وا لے لوگ بہت پسند ہیں، خدا ان کو دوست رکھتا ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ اس آیت میں مشرکین مکہ اور قبیلہ بنی بکر کو بد عہد فرمایا، اور قبیلہ خزاعہ کو عہد پر قائم رہنے والے لوگوں میں شمار فرمایا۔ اور حدیبیہ کے صلح نامہ کو عہد فرمایا۔ حدیبیہ کی صلح کو صاف طور پر حرم کی حد کے اندر کا عہد جو نہیں فرمایا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
[6] یعنی بظاہر تو وہ صلح کا معاہدہ کرتے ہیں مگر دل میں بدعہدی کا ارادہ ہوتا ہے۔ چناچہ جب کبھی معاہدہ کیا تو توڑنے ہی کے لئے کیا۔ ایسے لوگوں کا عہد کیونکر عہد سمجھا جاسکتا ہے۔
[7] یعنی بنی کنانہ اور بنی ضمرہ کے ساتھ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–12
(ف 1) مقصد یہ ہے کہ ان لوگوں کے ساتھ معاہدہ کیوں کر قائم رہ سکتا ہے جب ان کے دلوں میں مسلمان کے خلاف سخت جذبات غیظ وغضب مشتعل ہیں اور موقع آنے پر یہ ذرا بھی نہیں چوکتے ، مسلمان چاہے عزیز ہو ، چاہے قریبی ، یہ لوگ وقت پر وار کرنے سے باز نہیں آتے ۔
زبان سے ضرور کہتے ہیں ہم تمہارے دوست ہیں ، مگر دل میں بدستور خبث پنہاں ہے ۔
اور یہ عجیب بات ہے کہ آج بھی مشرک کی یہی ذہنیت ہے مسلمان سے جب ملے گا تو نہایت عجز و انکسار کے ساتھ زبان سے نہایت میٹھا ہے ، مگر دل کا کڑوا اور ناپاک ہے ۔
حل لغات :
الا : قرابت ، رشتہ داری ۔
ذمۃ : عہد ۔
Read the full tafseer →7 بھلا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے نزدیک ان مشرکوں کے کسی عہد کا اعتبار کیونکر ہوسکتا ہے اور یہ لوگ اپنے عہد پر کیونکر قائم رہ سکتے ہیں مگر ہاں وہ لوگ جن سے تم نے مسجدِ حرام کے پاس عہد کیا تھا لہٰذا جب تک وہ لوگ تم سے سیدھی طرح رہیں تم بھی ان سے اپنے عہد پر قائم رہو بلاشبہ اللہ تعالیٰ بدعہدی سے بچنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں صلح والے تین قسم کے فرمائے ایک جن سے مدت نہیں ٹھہری ان کو جواب دیا مگر جو مکہ کی صلح میں شامل تھے جب تک وہ دغا نہ کریں یہ ادب ہے مکہ کا اور تیسرے جن سے مدت ٹھہری وہ صلح قائم رہی۔ لیکن آخر سب مشرک عرب کے ایمان لائے۔ 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
ف 5۔ کیونکہ رعایت تو اس عہد کی ہوتی ہے جس کو دوسراشخص خود نہ توڑے ورنہ رعایت نہیں باقی رہتی مطلب یہ کہ یہ لوگ عہد کو توڑیں گے اس وقت اس طرف سے بھی رعایت نہ ہوگی۔
6۔ یعنی ان سے امید ہے کہ یہ عہد قائم رکھیں گے۔
7۔ یعنی جب تک یہ لوگ عہد نہ توڑیں تم بھی مدت عہد کی ان سے پوری کرو چناچہ زمانہ نزول برات میں اس مدت میں نوماہ باقی رہے تھے اور بوجہ ان کی عہد شکنی نہ کرنے کے ان کی یہ مدت پوری کی گئی۔
8۔ پس تم بھی احتیاط رکھنے سے پسندیدہ حق ہوجاو گے۔
Read the full tafseer →عہد شکن مشرکوں کے دہ کی عنداللہ اور عندالرسول بھی کوئی حیثیت نہیں :
10 : یہ فطرتی بات ہے کہ جس طرف سے انسان کو کوئی ٹھوکر لگتی ہے اس طرف اس کا دھیان بار بار جاتا ہے۔ جب ان ہالات سے دو چار ہوتا ہے تو گزشتہ بھولی ہوئی باتیں پھر اس کو یاد آتی ہیں۔ قرآن کریم بھی صحیح معنوں میں ایک فطرت کا بیان ہے اس لئے ایک بات کو تصرف آیات کے ذریعہ بار بار ہر ایک بار ایک نئے رنگ سے پیش کرتا ہے جس سے مقصود تفہیم بھی ہے اور فطرت کو اجاگر کرنا بھی۔ یہی صورت حال اس جگہ ہے کہ ایک بار پھر گزشتہ آیت کی طرف توجہ مبذول کرتا ہے اور کہتا ہے کہ دشمنوں کی بےدر پے عہد شکنیوں اور ظلم و عداوت کی انتہا نے کس طرح اس اعلان جنگ کو…
Read the full tafseer →Uphold truth and commit no excess or injustice even against disbelievers is the teaching of Qur'an
This statement of the Qur'an provides guidance for Muslims that they should never surrender truth and justice even when they are dealing with confronting enemies. Whenever they have to take up an issue with them, they are required not to slip into taking exaggerated approaches and stances against them. This is as it has been demonstrated in these verses where full consideration has been given to the case of the disbelievers of Makkah. The fact was that most of them had broken their pledge.…
Read the full tafseer →