Ayahs 9:1–2سورة توبہ مدینہ میں نازل ہوئی اس میں ایک سو انتیس آیات اور سولہ رکوع ہیں
سُوْرَۃُ التَّوْبَۃِ
اس کا دوسرا نام سورة برأت بھی ہے اس میں کافروں سے برأت کا اعلان ہے اس لیے اس کو سورة برأت کہا جاتا ہے اور غزوہ تبوک کے موقعہ پر جو صحابی پیچھے رہ گئے تھے ان کی توبہ کا بھی اس میں ذکر ہے اس لیے دوسرا نام بھی معروف ہوگیا۔ یہ سورت مصحف عثمانی کی ترتیب میں سورة الانفال اور سورة یونس کے درمیان ہے۔
بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نہ لکھنے کی وجہ :
دیگر تمام سورتوں کے شروع میں بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ لکھی ہے لیکن سورة برأت کے شروع میں نہیں ہے۔ جامع القرآن حضرت عثمان بن عفان ؓ سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے سوال کیا کہ یہ کیا بات ہے آپ نے سورة انفال کو جو مثانی میں ہے (یعنی جس کی آیات سو سے کم ہیں) سورة برأت سے پہلے رکھ دیا حالانکہ برأت ان سورتوں میں سے ہے جن کی آیات سو سے زیادہ ہیں اور آپ نے ان دونوں کو ملا بھی دیا اور مزید یہ کہا کہ ان کے درمیان بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نہیں لکھی۔ اور ان دونوں کو ملا کر سبع طوال (یعنی لمبی سات سورتوں) میں شامل کردیا۔ ایسا کرنے کا کیا باعث ہے ؟
حضرت عثمان نے جواب دیا کہ رسول اللہ ﷺ کا یہ طریقہ تھا کہ جب کوئی آیت نازل ہوئی تھی تو آپ کا تبوں میں سے کسی کو بلا کر فرماتے تھے کہ اس آیت کو اس سورت میں شامل کر دو جس میں فلاں فلاں مضمون ہے اور سورة انفال اس سورتوں میں سے ہے جو مدینہ منورہ میں تشریف لانے کے بعد شروع میں نازل ہوئیں اور سورة برأت ان سورتوں میں سے ہے جو آخر میں نازل ہوئیں۔ رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوگئی اور آپ نے یہ بیان نہیں فرمایا کہ سورة برأت سورة انفال کا حصہ ہے اور چونکہ دونوں کا مضمون ایک دوسرے کے مضمون سے ملتا جلتا تھا اس لیے میں نے دونوں کو ملا دیا اور ان کے درمیان بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نہیں لکھی (کیونکہ نہ اس بات کا علم تھا کہ دونوں سورتیں مستقل ہیں اور نہ اس بات کی توضیح تھی کہ دونوں ایک ہی ہیں) اور میں نے ان کو ملا کر سبع طوال (یعنی سات لمبی سورتوں) میں شامل کردیا۔ (مطلب یہ ہے کہ سورة فاتحہ کے بعد چھ سورتیں تعداد آیات کے اعتبار سے خوب لمبی لمبی ہیں اور ان دونوں کا مجموعہ مل کر سات لمبی سورتیں ہوگئیں جن کو سبع طوال کہا جاتا ہے۔ (رواہ الترمذی فی ابواب التفسیر اوائل سورة التوبۃ)
حضرت عثمان ؓ کے بیان سے معلوم ہوگیا کہ سورة انفال اور سورة برأت کو اس لیے ملایا گیا ہے کہ دونوں کا مضمون آپس میں ملتا جلتا ہے اور درمیان میں (بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ) اس لیے نہیں لکھی کہ واضح طور پر ان کے پاس رسول اللہ ﷺ کی ارشاد فرمودہ کوئی ایسی چیز نہ تھی جس سے دونوں کا علیحدہ علیحدہ سورت ہونا معلوم ہوتا۔
قرآن مجید کی ترتیب یوں ہے کہ سورة فاتحہ کے بعد اول سبع طوال یعنی سورة بقرہ اور سورة آل عمران اور سورة نساء اور سورة مائدہ اور سورة انعام اور سورة اعراف اور سورة انفال اور سورة توبہ کا مجموعہ ہے (ان کو سات لمبی سورتیں کہا جاتا ہے) ان کے بعد وہ سورتیں ہیں جنہیں مئین کہا جاتا ہے اور یہ وہ سورتیں ہیں جن کی آیات سو سے کچھ زیادہ ہیں۔ پھر وہ سورتیں ہیں جنہیں مثانی کہا جاتا ہے۔ یہ سورتیں سورة یونس سے شروع ہوتی ہیں اور سورة حجرات سے لے کر ختم قرآن شریف تک جو سورتیں ہیں انہیں مفصل کہا جاتا ہے۔ پھر ان میں بھی تفصیل ہے سورة حجرات سے سورة بروج تک طوال مفصل اور سورة الطارق سے سورة بینہ تک اوساط مفصل اور سورة زلزال سے لے کر سورة والناس تک قصار مفصل ہیں۔ 1
سورۃ توبہ کی ابتدا میں بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نہ پڑھی جائے
اس تفصیل سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ جب کوئی تلاوت کرنے والا سورة انفال پڑھے اور اسے ختم کر کے متصلاً ہی سورة برأت شروع کرے تو بسم اللہ الرحمن الرحیم نہ پڑھے۔ کیونکہ سورة برأت کا مستقل سورة ہونا یقینی نہیں ہے۔
اگر سورة برأت ہی سے تلاوت کی ابتداء کرنا ہو تو اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھے یا نہ پڑھے اس میں دو قول ہیں راجح قول یہی ہے کہ اس صورت میں بسم اللہ نہ پڑھے۔ امام شاطبی (رح) نے اپنے قصیدہ میں اسی کو اختیار کیا ہے۔ و قال
وَ مَھْمَا تَصِلْھا أو بَدَأتَ بَرَأۃً لِتَنْزِیْلِھَا بالسَّیْفِ لَسْتَ مُبَسْمِلَا
اور جب برأت کی تلاوت کو انفال کے ساتھ ملاتے یا سورة برأت ہی سے تلاوت شروع کرے تو بسم اللہ نہ پڑھ کیونکہ یہ سورة تو تلوار کے ساتھ نازل ہوئی ہے) ۔
محقق ابن الجزری (رح) النشر میں لکھتے ہیں۔ لا خلاف فی حذف البسملۃ بین الانفال و برأۃ عن کل من بسمل بین السورتین و کذا فی الابتداء ببرأۃ علی الصحیح عند أھل الاداء۔ (اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ انفال اور برأت کے درمیان بسم اللہ نہیں ہے اور اسی طرح قرأ کے نزدیک سورة برأۃ سے تلاوت کی ابتداء کی صورت میں بھی بسم اللہ نہیں ہے) ۔
اس کے بعد برأت سے تلاوت شروع کرنے کی صورت میں بعض قرأ سے بسم اللہ پڑھنے کا جواز نقل کیا ہے لیکن اس کو تسلیم نہیں کیا اور آخر میں لکھا ہے و الصحیح عند الائمہ اولی بالاتباع ونعوذ باللہ من شر الابتداء۔ (جو صحیح ہے وہی ائمہ کے نزدیک اتباع کے لائق ہے اور ابتداء کی شرارت سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں) حضرت امام شاطبی ؓ نے جو یہ فرمایا لِتَنْزِیْلِھَابِالسَّیْفِ لَسْتَ مُبَسْمِلَا یہ حضرت علی سے منقول ہے، علامہ ابن القاصح سراج القاری شرح شاطبیہ میں لکھتے ہیں : قال ابن عباس سالت علیاً ؓ لما لم تکتب فی برأۃ بسم اللہ الرحمن الرحیم فقال لأن بسم اللہ أمان و برأۃ لیس فیھا امان نزلت بالسیف۔ ا ھ (حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں میں نے حضرت علی ؓ سے سوال کیا کہ سورة برأت کے شروع میں بسم اللہ کیوں نہیں لکھی گئی تو انہوں نے فرمایا اس لیے کہ بسم اللہ تو امن کا پیغام ہے اور سورة برأت میں امان نہیں ہے وہ تو تلوار کے ساتھ نازل ہوئی ہے) ۔
1 علامہ سیوطی نے الاتقان ص 65 میں قرآن کریم کی سورتوں کی ترتیب اس طرح لکھی ہے کہ پہلے سبع طوال یعنی سات لمبی سورتیں ہیں جو سورة انفال اور سورة توبہ کو ملا کر (گویا دونوں کو ایک قرار دے کر) سورة توبہ پر ختم ہو رہی ہیں (ان دونوں کو علیحدہ علیحدہ سورت مانا جائے تو سبع طوال میں نہیں آتی ہیں) سبع طوال کے بعد وہ سورتیں ہیں جنہیں مئتین کہا جاتا ہے (یہ ماءۃ کی جمع ہے) یہ وہ سورتیں ہیں جن کی آیات سو کے قریب یا سو سے زیادہ ہیں پھر ان کے بعد وہ سورتیں جنہیں مفصل کہا جاتا ہے۔ مفصل کی ابتداء کہاں سے ہے اس میں متعدد اقوال ہیں۔ ان میں سے ایک قول یہ ہے کہ سورة حجرات سے شروع ہو کر آخر قرآن تک جو سورتیں ہیں ان سب کا مجموعہ مفصل ہے یہی قول ہم نے اوپر تفسیر میں لکھ دیا ہے۔ مثانی کی انتہاء تو مفصل کی ابتداء سے معلوم ہوگئی۔ لیکن مثانی کی ابتداء کہاں سے ہے۔ اس کے بارے میں اکابر کے اقوال میں کوئی تصریح نہیں دیکھی۔
سورتوں کی مراجعت کرنے سے معلوم ہوا کہ مثانی کی ابتداء بظاہر سورة قصص سے ہونی چاہئے کیونکہ اس سے پہلی سورة میں ترانوے آیات اور اس میں اٹھاسی آیات ہیں (گو اس سے پہلے سورة حج میں اٹھہتر اور سورة نور میں چونسٹھ آیات گزر چکی ہیں) سورة قصص کے بعد عموماً وہ سورتیں ہیں جن کی آیات مئین والی سورتوں کی آیات سے کم ہی ہیں۔ البتہ درمیان میں سورة شعراء میں دو سو ستائیس اور سورة صافات میں ایک سو بیالیس آیات ہیں۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ترتیب میں آیات کی تعداد کی بجائے طول اور قصر کا لحاظ رکھا گیا ہے۔ آیات کی تعداد کا لحاظ نہیں رکھا گیا ہے۔ یعنی یہ بات نہیں دیکھی گئی کہ ہر اگلی سورت پچھلی سورت کی آیات کے اعتبار سے چھوٹی ہو۔ پھر یہ طول اور قصر بھی تقریبی ہے۔ اس بات کو پیش نظر رکھا جائے تو ان حضرات کی بات صحیح معلوم ہوتی ہے جنہوں نے فرمایا ہے کہ سورتوں کی ترتیب بھی توقیفی ہے۔ یہ جو ہم نے عرض کیا کہ ترتیب سورت میں آیات کی تعداد کی بجائے طول اور قصر کا لحاظ رکھا گیا ہے۔ اس کی ایک دلیل یہ ہے کہ بعض مرتبہ چھوٹی سورت میں آیات زیادہ ہوتی ہیں۔ (کمافی الصافات) اور بڑی سورت میں آیات کی تعداد کم ہوتی ہے (کمافی سورة الاحزاب فانھا اطول من الصافات وعددآیا تھا اقل منھا) ۔
اب ایک شق اور رہ گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ سورة برأۃ کے درمیان سے کسی جگہ سے تلاوت کی ابتداء کرے تو جس طرح دوسری سورتوں کے درمیان سے تلاوت کی صورت میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کا پڑھنا نہ پڑھنا دونوں درست ہیں اسی طرح سورة برأۃ کے درمیان سے ابتداء کرنے کی صورت میں بسم اللہ پڑھنے نہ پڑھنے کا اختیار ہے یا نہیں ؟ محقق ابن الجزری ” النشر “ میں فرماتے ہیں کہ میں نے اس کے بارے میں متقدمین کی کوئی نص نہیں دیکھی اور علی الاطلاق بہت سے اہل اداء نے سورتوں کے درمیان سے تلاوت شروع کرنے کی صورت میں جو دونوں باتوں کا اختیار دیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سورة برأت کے درمیان سے شروع کرنے کی صورت میں بھی دونوں صورتیں جائز ہیں۔ پھر لکھا ہے کہ ابو الحسن سخاوی نے اپنی کتاب جمال القراء میں سورة برأت کے درمیان سے تلاوت کی ابتداء کرنے کی صورت میں بسم اللہ پڑھنے کا جواز لکھا ہے اور ابو اسحاق جعبری کا رجحان نہ پڑھنے کی طرف ہے۔ پھر آخر میں محقق ابن الجزری نے دونوں باتوں کی تائید کی ہے اور کوئی فیصلہ نہیں دیا۔ گویا وہ بھی تخییر کے قائل ہیں۔ یعنی پڑھنا نہ پڑھنا دونوں کی گنجائش دی ہے۔
فائدہ : یہ جو بعض مصاحف میں سورة برأت کی ابتدا میں حاشیہ پر اعوذ باللہ من النار و من غضب الجبار و من شر الکفار لکھا ہوا ہے اور بہت سے حفاظ اس کے پڑھنے کو مستحب یا سنت سمجھتے ہیں اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ (کماذ کرہ فی الفتاوی الرشیدیۃ)
اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول مشرکین سے بری ہیں
آیات بالا کی تفسیر سمجھنے کے لیے یہ ذہن نشین کرلیا جائے کہ جس وقت سورة برأت نازل ہوئی ہے اس وقت کفار کی چار قسمیں تھیں۔ پہلی قسم کے تو وہ لوگ تھے جن سے مقام حدیبیہ میں 6 ھ میں معاہدہ ہوا تھا جبکہ آنحضرت ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ عمرہ کے لیے تشریف لے گئے تھے۔ اس موقعہ پر مشرکین نے آپ کو مکہ معظمہ میں داخل نہ ہونے دیا اور بڑی ردوکد کے بعد دس سال کے لیے صلح کرنے پر آمادہ ہوگئے۔ اس صلح میں یہ تھا کہ ایک فریق دوسرے فریق پر حملہ نہیں کرے گا اور نہ کوئی فریق کسی فریق کے حلیف پر حملہ آور ہوگا۔ پھر یہ واقعہ پیش آیا کہ قبیلہ بنی بکر نے (جو قریش کا حلیف تھا) رات کے وقت قبیلہ بنی خزاعہ پر حملہ کردیا اور قریش مکہ نے بنی بکر کو ہتھیار دیئے اور اپنے جوان ان کی امداد کے لیے بھیجے۔ اس طرح سے قریش نے عہد شکنی کی کیونکہ بنی خزاعہ پر حملہ کرنے والوں کے مددگار بن گئے جو مسلمانوں کے حلیف تھے جب آنحضرت ﷺ کو قریش کی عہد شکنی کی خبر ملی تو آپ نے جنگ کی تیاری کی اور 8 ھ میں اپنے صحابہ کو لے کر مکہ معظمہ پہنچے اور مکہ معظمہ فتح ہوگیا۔
کافروں کا دوسرا فریق وہ تھا جن سے صلح کا معاہدہ ایک خاص میعاد کے لیے کیا گیا تھا وہ لوگ اپنے معاہدہ پر قائم تھے۔ نقض عہد نہیں کیا تھا جیسے قبیلہ بنی ضمرہ اور قبیلہ بنی مدلج (یہ دونوں قبیلے بنی کنانہ میں سے تھے) ان سے جتنی مدت کے لیے صلح ہوئی تھی سورة برأت کے نزول کے وقت اس کے اختتام میں چند ماہ باقی تھے۔
مشرکین کا تیسرا فریق وہ تھا جن سے کسی مدت کے تعین کے بغیر معاہدہ ہوا تھا اور چوتھا فریق وہ تھا جن سے کسی قسم کا معاہدہ نہ تھا۔
پہلا فریق :
یعنی قریش مکہ جنہوں نے معاہدہ حدیبیہ کو توڑ دیا تھا وہ تو کسی رعایت اور مہلت کے مستحق نہ تھے ان کو بلا مہلت ہی جزیرہ عرب سے نکال دینا یا قتل کردینا درست تھا لیکن پھر بھی اشہر الحرام کا زمانہ ہونے کی وجہ سے ان کے ساتھ رعایت کی گئی کہ اشہر الحرام میں ان سے تعرض نہ کیا جائے اور اشہر الحرام گزر جانے کے بعد ان کے قتل کا حکم دیا گیا اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ اگر یہ کفر سے توبہ کرلیں اور اسلام کے کام کرنے لگیں (جس میں نمازیں پڑھنا اور زکوٰتیں ادا کرنا سب سے زیادہ اہم ہے) تو نہ انہیں قتل کریں نہ قید کریں کیونکہ وہ اب اپنے ہوگئے۔
دوسرا فریق :
وہ تھا جن سے کسی خاص میعاد کے لیے صلح کا معاہدہ کیا گیا تھا وہ اس پر قائم رہے نقض عہد نہ کیا تو ان کے بارے میں یہ حکم دیا (فَاَتِمُّوْٓا اِلَیْھِمْ عَھْدَھُمْ ) کہ ان کے معاہدہ کو اس کی مدت تک پورا کرو کیونکہ عہد کی خلاف ورزی اہل ایمان کا طریقہ نہیں ہے۔ جب مقابل فریق اپنا عہد پورا کر رہا ہے تو اہل ایمان تو بطور اولیٰ عہد پورا کرنے کا اہتمام کریں۔ یہ حکم قبیلہ بنی ضمرہ اور بنی مدلج کے متعلق تھا۔ اگر اہل ایمان نقض عہد کریں گے تو تقویٰ کے خلاف ہوگا۔ مومن کا کام ہے کہ تقویٰ اختیار کرے اسی لیے آخر میں فرمایا : (اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ ) (بلاشبہ اللہ تقویٰ والوں کو پسند فرماتا ہے) ۔
تیسرا فریق :
(جن سے کسی مدت کے تعین کے بغیر معاہدہ ہوا تھا) اور چوتھا فریق (جن سے کسی قسم کا معاہدہ نہ تھا) ان کے بارے میں سورة برأت کے شروع سے لے کر (وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ ) تک تین آیات میں اعلان فرمایا اور ان کو چار مہینے کی مدت دی گئی اور کافروں سے فرمایا کہ تم اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے۔ سر زمین عرب میں چار مہینے چلو پھرو اور چار ماہ کے بعد بھی یہ نہ سمجھنا کہ جزیرۃ العرب سے چلے گئے تو اللہ تعالیٰ کی گرفت سے آزاد ہوجاؤ گے تم اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں کرسکتے وہ کافروں کو ضرور ذلیل کرے گا۔ الفاظ کا رخ تو ان لوگوں کی طرف ہے جن سے کوئی عہد تھا اور اس کی میعاد مقرر نہ تھی لیکن اس میں وہ لوگ بھی داخل ہوگئے جن سے کچھ بھی معاہدہ نہ تھا۔
Ayahs 9:3–4ھ میں حضرت ابوبکر کے زیر امارت حج کی ادائیگی اور مشرکین سے برأت کا اعلان :
برأت کے مفہوم کو دوبارہ (وَ اَذَانٌ مِّنَ اللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ ) فرما کر دہرا دیا اور 9 ھ میں جو حج ہوا (جو فتح مکہ کے بعد پہلا حج تھا) اس میں حضرت ابوبکر اور حضرت علی ؓ کے ذریعہ مواقف حج میں اعلان کروا دیا کہ اللہ اور اس کا رسول مشرکین سے بری ہے اور اس کے علاوہ بھی بعض امور کا اعلان کروایا گیا تھا۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے حضرت ابوہریرہ کو اعلان کرنے پر مامور فرمایا۔
صحیح بخاری (ص 271 ج 2) میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ جس حج میں رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر صدیق کو امیر بنا کر بھیجا تھا اس میں انہوں نے یوم النحر (ذوالحجہ کی دسویں تاریخ کو) جن لوگوں کو اعلان کرنے کے لیے بھیجا تھا ان میں میں بھی تھا تاکہ یہ لوگ منیٰ میں اعلان کردیں الا لا یحج بعد العام مشرک لا یطوف بالبیت عریان۔ (خبر دار اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرے اور کوئی شخص ننگے ہونے کی حالت میں بیت اللہ کا طواف نہ کرے) مشرکین ننگے ہو کر بیت اللہ کا طواف کیا کرتے تھے۔ اس لیے یہ اعلان کروایا۔ حضرت ابوبکر صدیق کو رسول اللہ ﷺ نے امیر حج بنا کر بھیج دیا تھا پھر پیچھے سے حضرت علی کو بھی بھیجا تاکہ ان کے ذریعہ اعلان کروایا جائے اور وجہ اس کی یہ تھی کہ آپ کی خدمت میں یہ رائے پیش کی گئی تھی کہ اہل عرب کا یہ طریقہ ہے کہ عہد اور نقض عہد کے بارے میں اسی شخص کے اعلان کو معتبر سمجھتے تھے جو خاص اسی قبیلے کا ہو جس سے معاہدہ تھا۔ رسول اللہ ﷺ کا معاہدہ قبیلے کی حیثیت سے تو نہ تھا مسلمانوں کی جماعت کا امام ہونے کی حیثیت سے تھا اور دین اسلام کی طرف سے تھا لیکن احتمال تھا کہ لوگ اسے بنی ہاشم کا معاہدہ سمجھیں اس لیے حضرت علی ؓ کو بھیجا جانا مناسب سمجھا جو بنی ہاشم ہی کے ایک فرد تھے۔ حضرت علی سورة برأت کے مطابق اعلان کرتے تھے اور مشرکین کو پوری طرح اعلان سناتے تھے چونکہ اتنے بڑے اجتماع میں شخص واحد کافی نہ تھا اس لیے حضرت ابوہریرہ اور دیگر حضرات کو بھی حضرت ابوبکر نے اس کام پر لگایا۔
معالم التنزیل (ص 267 ج 2) میں زید بن تبیع سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے حضرت علی سے سوال کیا کہ آپ کو اس حج میں کیا پیغام دے کر بھیجا گیا تھا (جس میں آپ اعلان کرنے پر مامور ہوئے تھے) انہوں نے فرمایا کہ مجھے چار چیزوں کا اعلان کرنے کا حکم ہوا تھا۔ اول یہ کہ آئندہ بیت اللہ کا طواف کوئی شخص ننگا ہونے کی حالت میں نہ کرے۔ دوم یہ کہ رسول اللہ ﷺ کا جس قبیلے سے کوئی معاہدہ ہے تو یہ معاہدہ صرف اپنی مدت تک ہے اور جس سے کوئی معاہدہ نہیں اس کو چار ماہ کی مہلت دی جا رہی ہے (چار ماہ تک زمین میں چلیں پھریں) مسلمان ان سے کوئی تعرض نہ کریں گے یہ مدت ختم ہوجانے کے بعد ان کے خون کی حفاظت کی کوئی ذمہ داری نہ ہوگی۔ سوم یہ کہ جنت میں مومن کے سوا کوئی شخص داخل نہ ہوگا۔ چہارم یہ کہ اس سال کے بعد مشرکین اور مسلمین (حج میں) جمع نہ ہوں گے یعنی کسی مشرک کو اس سال کے بعد حج کرنے کی اجازت نہیں ہوگی نیز صاحب معالم التنزیل ( ص 266 ج 2) لکھتے ہیں کہ یہ چار ماہ کی مدت مقرر کی گئی کہ اس کے بعد امان نہ ہوگی اس کی ابتداء حج کے دن سے ہے جس میں برأت کا اعلان کیا گیا تھا اور یہ مدت دس ذوالحجہ سے لے کر دس ربیع الآخر تک تھی چونکہ مدت کا شمار اعلان کے بعد ہی سے معتبر ہوسکتا ہے۔
Ayah 9:59 (فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْھُرُ الْحُرُمُ ) (الآیۃ) حضرت مجاہد اور ابن اسحاق نے فرمایا ہے کہ اس آیت میں جن أشہر الحرام کا ذکر ہے ان سے وہی مہینے مراد ہیں جن کا شروع سورت میں ذکر آیا ہے جن لوگوں کے ساتھ کوئی معاہدہ بلا تعیین مدت کا تھا اور جن سے کوئی عہد نہ تھا ان کو چار ماہ کی مہلت دی گئی اور جنہوں نے نقض عہد کیا تھا یعنی قریش مکہ ان کو چار ماہ کی مدت میں سے بیس دن ذی الحجہ کے اور پورا مہینہ محرم کا گزر جانے تک کی مہلت دی گئی۔ صاحب معالم التنزیل نے یہ بات لکھی ہے اور علامہ نسفی نے بھی مدارک التنزیل میں ایسا ہی فرمایا ہے
صاحب روح المعانی نے بھی یوں ہی لکھا ہے کہ اشہر الحرام سے وہ مہینے مراد نہیں ہیں جو عرب میں معروف و مشہور تھے (یعنی ذیقعدہ، ذوالحج، محرم اور رجب 1 ) اور یہ اس لیے فرمایا کہ جس وقت برأت کا اعلان ہوا تھا ان میں سے صرف بیس دن ذی الحجہ کے اور ایک مہینہ محرم کا باقی رہ گیا تھا اور رجب تک پہنچنے کے لیے بیچ میں پانچ مہینے کا فصل تھا اگر ان پانچ مہینوں کو بھی حساب میں لگا دیا جائے تو میعاد لمبی ہوجاتی حالانکہ چار مہینوں سے زیادہ کسی کو مہلت نہیں دی گئی۔ آیت کریمہ میں یہ فرمایا کہ جب اشہر الحرام نکل جائیں تو مشرکین کو قتل کرو جہاں بھی پاؤ ان کو پکڑو اور انہیں روک لو۔ روکنے کی تفسیر کرتے ہوئے حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ ان کو قلعہ بند کر دو ، باہر نکلنے سے روک دو اور ان کے لیے ہر گھات کی جگہ میں بیٹھ جاؤ یعنی مکہ کے راستوں میں بیٹھو، مشرکین کو اس میں داخل نہ ہونے دو ۔ (فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَوُا الزَّکٰوۃَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَھُمْ ) یعنی اگر وہ شرک سے توبہ کرلیں اور اسلام قبول کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو ان کا راستہ چھوڑ دو ۔ ان پر چلنے پھرنے کی اور مکہ معظمہ میں داخل ہونے پر کوئی پابندی نہیں۔ (اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ) (بےشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے) جب اسلام قبول کرلیا تو زمانہ کفر میں جو کچھ کیا تھا سب ختم ہے اس پر دارو گیر نہیں۔
وَاحْصُرُوْ ھُمْ سے دشمنوں کا محاصرہ کرنے کا جواز معلوم ہوا اور (وَ اقْعُدُوْا لَھُمْ ) سے معلوم ہوا کہ دشمنوں سے حفاظت کے لیے ان سے چوکنا رہنے کے لیے اپنے ملکوں اور شہروں میں چوکیاں مقرر کرنے کی ضرورت ہے۔
علامہ ابوبکر جصاص احکام القرآن (ص 83 ج 3) میں لکھتے ہیں کہ (فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ فََخَلُّوْا سَبِیْلَھُمْ ) سے معلوم ہوا کہ جب کوئی شخص شرک و کفر سے توبہ کرے تو اسے قتل نہ کیا جائے۔ البتہ حصر اور حبس کا حکم باقی رہے گا۔ جو شخص قصداً نماز چھوڑے اور اس پر اصرار کرے اور زکوٰۃ نہ دے امام المسلمین کے لیے جائز ہے کہ اسے محبوس رکھے۔ اس کا چھوڑ دینا اس وقت تک واجب نہیں جب تک کہ وہ نماز نہ پڑھے اور زکوٰۃ نہ دے۔
Ayah 9:6پھر فرمایا (وَ اِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ اسْتَجَارَکَ فَاَجِرْہُ حَتّٰی یَسْمَعَ کَلٰمَ اللّٰہِ ) (اگر کوئی مشرک آپ سے پناہ مانگے تو اسے پناہ دیجیے۔ یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سنے)
علامہ ابوبکر جصاص فرماتے ہیں کہ اس آیت سے معلوم ہوا کہ جب کوئی کافر حربی امان طلب کرے تو اسے امان دینا جائز ہے۔ وہ امان طلب کر کے مسلمانوں کے پاس آئے، اللہ کا کلام سنے، توحید کو سمجھے نبی اکرم ﷺ کی نبوت کے دلائل معلوم کرے تو اس کے لیے ایسا موقعہ فراہم کیا جائے۔ اس کے بعد لکھتے ہیں اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جب کوئی کافر ہم سے دلائل توحید کا اور دلائل رسالت کا مطالبہ کرے تاکہ وہ سمجھنے کے بعد دونوں باتوں کو مان لے تو ہمارے ذمہ واجب ہوگا کہ پوری طرح حجت قائم کریں اور توحید و رسالت کو واضح طور پر بیان کریں اور جب کوئی شخص ہم سے توحید اور رسالت کے دلائل طلب کرے تو دلائل بیان کرنے اور حجت قائم کرنے سے پہلے اس کو قتل کرنا جائز نہیں۔ پھر لکھتے ہیں کہ (ثُمَّ اَبْلِغْہُ مَاْمَنَہٗ ) سے معلوم ہوا کہ امام المسلمین پر واجب ہے کہ جو کوئی حربی امان لے کر آئے اس کی حفاظت کرے تاکہ کوئی شخص اسے قتل نہ کرے اور کسی طرح کی تکلیف نہ پہنچائے نیز اس سے یہ بھی واضح ہوا کہ جو لوگ اہل ذمہ ہیں امام المسلمین کے ذمہ ان کی حفاظت واجب ہے تاکہ کوئی مسلمان ان پر ظلم و زیادتی نہ کرے۔
کافر حربی کو واپس ان کی جائے امن پہنچانے کا جو حکم ہے اس سے یہ مستنبط ہوا کہ کافر حربی کو دارالاسلام میں مستقل طور پر قیام نہ کرنے دیا جائے۔ اس میں حنفیہ کا مذہب یہ ہے کہ اگر ایک سال دارالاسلام میں رہ گیا تو ذمی ہوجائے گا اور اہل ذمہ کے احکام اس پر نافذ ہوں گے جزیہ بھی مقرر کردیا جائے گا۔ (احکام القرآن ص 84۔ 83 ج 3)
1 اہل عرب ان مہینوں میں قتال نہیں کرتے تھے اور اسلام کے ابتدائی دور میں بھی ان میں قتال کرنا ممنوع تھا۔ 12
پھر فرمایا (ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْلَمُوْنَ ) یہ حکم اس وجہ سے ہے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو نہیں جانتے (کہ اسلام کیا ہے اور دعوت اسلام کی کیا حقیقت ہے اور اسلام قبول کرنے کی کیا ضرورت ہے ؟ ) فلا بد من اعطاءھم الامان حتی یسمعوا اویفھموا الحق (پس انہیں امان دینا ضروری ہے تاکہ وہ سن لیں یا حق کو سمجھ لیں) ۔ (مدارک التنزیل ص 117 ج 2)
فائدہ : یوم الحج الأکبر جو فرمایا ہے اس سے ایام حج مراد ہیں۔ خاص کر وہ ایام جن میں منیٰ میں قیام ہوتا ہے۔ لفظ یوم کو بطور جنس لایا گیا ہے۔ اور الحج الأکبر سے کیا مراد ہے ؟ حضرت زہری شعبی اور عطا نے فرمایا کہ اس سے حج مراد ہے کیونکہ عمرہ حج اصغر ہے اور حج، حج اکبر ہے حج اکبر کا وہ معنی جو مشہور ہے کہ یوم عرفہ جمعہ کے دن ہو یہاں وہ معنی مراد نہیں۔ اب رہی یہ بات کہ جمعہ کے دن حج ہو تو اس کی فضیلت دوسرے حجوں سے زیادہ ہے یا نہیں ؟ بعض روایات سے اس کی فضیلت عام حجوں سے ستر گنا زیادہ معلوم ہوتی ہے۔ ملاعلی قاری (رح) نے اس بارے میں ” الحظ الا وفر فی الحج الاکبر “ کے نام سے ایک رسالہ لکھا ہے۔
Ayahs 9:7–10مشرکین کو کسی قرابت داری اور معاہدہ کی پاسداری نہیں
ان آیات میں اول تو مشرکین کی بد عہدی کے مزاج کا تذکرہ فرمایا اور فرمایا کہ ان کا عہد اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ انہوں نے پہلے بھی عہد توڑا ہے اور آئندہ بھی توڑتے رہیں گے۔ ان کا حال یہ ہے کہ ظاہر میں زبانوں سے عہد ہے اور دلوں میں بغض کی آگ ہے اگر مسلمانوں پر غلبہ پاجائیں تو نہ کسی رشتہ داری کا لحاظ کریں اور نہ کسی معاہدہ کی ذمہ داری کا۔ بس یہ مسلمانوں کو اپنی زبانی باتوں سے راضی رکھنا چاہتے ہیں۔ (وفائے عہد اور اطاعت کا زبانی وعدہ کرتے ہیں) اور ان کے دل ان کی اپنی زبانی باتوں سے راضی نہیں ہیں۔ اور ان میں اکثر فاسق ہیں۔ یعنی شرارت سے بھرے ہوئے ہیں کہ کسی بھی عہد کی پاسداری کرنے کو تیار نہیں۔ اکا دکا کوئی شخص عہد کی پاسداری کرنا چاہے تو اس کی بات چلنے والی نہیں ہے۔ یہ لوگ اللہ کے احکام کو قبول نہیں کرتے کیونکہ ان کے سامنے حقیر دنیا ہے۔ انہوں نے حقیر دنیا کو لے لیا اور اللہ کے احکام کو چھوڑ دیا۔ تھوڑی سی حقیر دنیا کے جانے کا جو وہم تھا اس کی وجہ سے انہوں نے ایمان قبول نہ کیا کیونکہ جو شخص دنیا ہی کو سامنے رکھے گا وہ اللہ کے راستہ پر نہیں چل سکتا ایسے لوگ خود بھی ایمان قبول نہیں کرتے اور دوسروں کو بھی ایمان قبول نہیں کرنے دیتے۔ جن کاموں میں یہ لگے ہوئے ہیں ان کے یہ کام برے ہیں۔ (لَا یَرْقُبُوْنَ فِیْ مُؤْمِنٍ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّۃً ) (کسی مومن کے بارے میں ان کے پاس نہ قرابت داری کی رعایت ہے۔ نہ معاہدہ کی پاسداری ہے) (وَ اُولٰٓءِکَ ھُمُ الْمُعْتَدُوْنَ ) (اور یہ وہ لوگ ہیں جو ظلم و زیادتی کرنے والے ہیں۔ ) (کَیْفَ یَکُوْنُ لِلْمُشْرِکِیْنَ عَھْدٌ عِنْدَ اللّٰہِ وَ عِنْدَ رَسُوْلِہٖٓ) فرمانے کے بعد متصلاً ہی یوں فرمایا۔ (اِلَّا الَّذِیْنَ عٰھَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ) علامہ نسفی فرماتے ہیں کہ استثناء میں ان لوگوں کا ذکر ہے جن سے مسجد حرام کے قریب عہد ہوا تھا اور جو عہد پر قائم رہے۔ اور ان کی مدت معاہدہ باقی تھی جیسے بنی کنانہ اور بنی ضمرہ۔ ایسے لوگوں کے بارے میں حکم دیا کہ ان کے عہد کی رعایت کرو۔ (فَمَا اسْتَقَامُوْا لَکُمْ ) (جب تک وہ تمہارے ساتھ سیدھے رہیں یعنی مدت معاہدہ میں نقض عہد نہ کریں) (فَاسْتَقِیْمُوْا لَھُمْ ) (تم بھی ان کے ساتھ سیدھے رہو) یعنی وفاء عہد کرو عہد کی خلاف ورزی نہ کرو۔ کیونکہ یہ تقویٰ کے خلاف ہے اور اللہ تعالیٰ اہل تقویٰ کو دوست رکھتا ہے۔ اس میں (اَتِمُّوْٓا اِلَیْھِمْ عَھْدَھُمْ ) کے مضمون کا اعادہ ہے اور اتنی بات زائد ہے کہ جب تک وہ مستقیم رہیں تم بھی مستقیم رہو اگر وہ عہد توڑ دیں تو تم پر عہد پورا کرنے کی پابندی نہیں۔ صاحب روح المعانی نے بھی یہی بات کہی ہے۔ فرماتے ہیں۔ وأیاً ما کان فحکم الامر بالاستقامۃ ینتھی بانتھاء مدۃ العھد فیرجع ھذا الی الامر بالاتمام المار الخ (ص 55 ج 10) (اور جو بھی ہو عہد ہر استقامت کا حکم معاہدہ کی مدت ختم ہونے پر ختم ہوجاتا ہے پھر یہ حکم گزشتہ عہد کی تکمیل کی طرف لوٹتا ہے) ۔
Ayah 9:11آخر میں فرمایا (فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ فَاِخْوَانُکُمْ فِی الدِّیْنِ ) کہ لوگ اگر کفر سے توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو پھر تمہارے دینی بھائی ہوں گے (ان سے لڑنے کا کوئی موقع نہیں) (وَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ ) (اور ہم ان لوگوں کے لیے جو جانتے ہیں اور سمجھتے ہیں اپنی آیات تفصیل سے بیان کرتے ہیں) تاکہ فکر سے کام لیں اور ہر بات کو سمجھیں اور احکام خداوندی کے پابند رہیں۔
فائدہ : آیات بالا میں جو کافروں اور مشرکوں کے بارے میں یہ فرمایا ہے کہ ” اگر تم پر غالب ہوجائیں تو کسی رشتہ داری کا معاہدہ کا لحاظ نہ کریں گے وہ تمہیں زبانی باتوں سے راضی رکھتے ہیں اور ان کے دل انکاری ہیں “۔ ہمیشہ سے کافروں اور مشرکوں کا یہی حال رہا ہے اور اب بھی ہے کہ مسلمانوں کے قتل و قتال سے بچنے کے لیے اور ان کے جذبہ جہاد کو ٹھنڈا کرنے کے لیے قومیت، وطنیت اور یک جہتی کی بنیاد پر اتحاد اور اتفاق کی تلقین کرتے رہتے ہیں اور معاہدات بھی کرلیتے ہیں لیکن اگر کبھی ان کو اپنا موقعہ لگ جائے تو ہر طرح کے تعلقات توڑ کر سارے معاہدوں کی پاسداری چھوڑ کر مسلمانوں کا قتل عام شروع کردیتے ہیں۔ یہی حال ان فرقوں کا ہے جو فرقے اسلام کے نام لیوا ہیں لیکن اسلامی عقائد سے منحرف ہونے کی وجہ سے مسلمان نہیں بلکہ ان فرقوں کی بنیاد ہی اسلام اور مسلمان کی کمر میں خنجر گھونپنے پر ہے یہ لوگ اسلام کے نام پر مسلمانوں کی دشمنی میں کوئی کسر نہیں رکھتے۔ جب بھی موقعہ لگتا ہے مسلمانوں کے قتل و خون سے باز نہیں آتے۔ صدہا سال سے یہی ہو رہا ہے۔
Ayah 9:12کفر کے سرغنوں سے جنگ کرو، ان کی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں
ان آیات میں قریش مکہ کی بد عہدی اور عہد شکنی کا تذکرہ ہے اور ان سے جنگ کرنے کی ترغیب ہے۔ ان لوگوں سے 6 ھ میں حدیبیہ کے مقام پر معاہدہ ہوا تھا۔ جس کی دس شرطوں میں سے ایک یہ شرط بھی تھی کہ دس سال تک ایک فریق دوسرے فریق پر حملہ آور نہ ہوگا اور نہ کوئی فریق کے حلیف پر حملہ کرے گا اور نہ کسی حملہ آور کی مدد کرے گا لیکن قریش مکہ نے معاہدہ توڑ دیا اور قبیلہ بنی خزاعہ (جو رسول اللہ ﷺ کا حلیف تھا) کے خلاف قریش مکہ نے قبیلہ بنی بکر کی ہتھیاروں سے اور جوانوں سے مدد کی۔ اب جبکہ انہوں نے اپنا عہد توڑ ڈالا، اور نہ صرف یہ کہ عہد توڑا بلکہ تمہارے دین کو طعن وتشنیع کا نشانہ بنایا تو ان سے جنگ کرو۔
فَقَاتِلُوْھُمْ کی بجائے (فَقَاتِلُوْٓا اَءِمَّۃَ الْکُفْرِ ) فرمایا۔ اس سے تمام مشرکین قریش مراد ہیں جو پورے عرب کے مشرکوں کے سرغنے بنے ہوئے تھے نہ ایمان قبول کرتے تھے اور نہ دوسروں کو قبول کرنے دیتے تھے اور قبائل عرب نے انہیں اپنا مقتدیٰ بنا رکھا تھا جو اس انتظار میں تھے کہ یہ لوگ مسلمان ہوں گے تو ہم بھی مسلمان ہوجائیں گے یا (اَءِمَّۃَ الْکُفْرِ ) سے قریش کے سردار مراد ہیں جیسے ابو جہل اور سہیل بن عمرو اور عکرمہ بن أبی جہل اور ابو سفیان بن حرب وغیر ہم، حضرت ابن عباس ؓ نے اسی کو اختیار فرمایا۔ وہ فرماتے تھے کہ یہ آیت قریش مکہ کے سرداروں کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے نقض عہد بھی کیا اور رسول اللہ ﷺ کو مکہ معظمہ سے جلا وطن کرنے کا مشورہ بھی دیا جبکہ دارالندوہ میں جمع ہوئے تھے (اِنَّھُمْ لَآ اَیْمَانَ لَھُمْ ) (ان کی قسمیں کوئی حقیقت نہیں رکھتیں) (لَعَلَّھُمْ یَنْتَھُوْنَ ) تم ان سے جنگ کرو تاکہ یہ تمہارے دین پر طعن کرنے اور مقابلہ میں جنگ کے لیے کھڑے ہونے سے باز آجائیں اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ کفر سے باز آجائیں۔ (معالم التنزیل ص 272 ج ببعض زیادۃ)
قریش مکہ تو عہد توڑ چکے تھے پھر حرف شرط کے ساتھ ان کے عہد کو توڑنے کو کیوں ذکر فرمایا ؟ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ نقض عہد پر قائم رہیں اور ایمان نہ لائیں تو ان سے قتال کرو۔ احقر کے ذہن پر یہ وارد ہوا ہے کہ جملہ شرطیہ لا کر آئندہ آنے والوں کی طرف اشارہ فرمایا ہے اور مطلب یہ ہے کہ قریش مکہ تو عہد توڑ ہی چکے ہیں ان کے علاوہ آئندہ بھی کافروں کی جو جماعت نقض عہد کرے اور تمہارے دین میں طعن کرے ان سے جنگ کرنا اور خاص کر کفر کے سرغنوں کو قتل کرنے کا اہتمام کرنا۔ ان لوگوں کی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں۔ ایسے لوگوں سے قتال کرتے رہو گے تو وہ تمہارے دین میں طعن کرنے اور جنگ کرنے کی ہمت سے باز رہیں گے۔
علامہ نسفی نے مدارک التنزیل میں لکھا ہے کہ جب کوئی ذمی دین اسلام میں علانیہ طور پر طعن کرے اس کا قتل جائز ہے کیونکہ عہد ذمہ میں یہ بات بھی ہے کہ اسلام پر طعن نہ کریں گے سو جب طعن کردیا تو اس نے اپناعہد توڑ دیا اور عہد ذمہ سے نکل گیا۔ 1 ھ
Ayah 9:13پھر فرمایا (اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّکَثُوْٓا اَیْمَانَھُمْ وَ ھَمُّوْا بِاِخْرَاج الرَّسُوْلِ وَ ھُمْ بَدَءُ وْکُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍ ) (کیا تم ان لوگوں سے قتال نہیں کرتے جنہوں نے اپنی قسموں کو توڑ دیا اور رسول اللہ ﷺ کو مکہ معظمہ سے نکال دینے کا ارادہ کیا اور پھر خود ہی قتال کی ابتداء کی) یعنی بنی خزاعہ کے مقابلہ میں (جو تمہارے حلیف تھے) بنی بکر کی مدد کی۔ (اَتَخْشَوْنَھُمْ فَاللّٰہُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْہُ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ) کیا تم ان سے ڈرتے ہو اور ترک قتال کرتے ہو اور اللہ تعالیٰ اس کا زیادہ مستحق ہے کہ تم اس سے ڈرو (اس کا حکم مانو اور قتال مت چھوڑو) اگر تم مومن ہو (تو ایمان کے تقاضوں کو پورا کرو جس میں حکم قتال کی تعمیل بھی ہے) ۔
Ayah 9:14اس کے بعد فرمایا (قَاتِلُوْھُمْ یُعَذِّبْھُمُ اللّٰہُ بِاَیْدِیْکُمْ وَ یُخْزِھِمْ وَ یَنْصُرْکُمْ عَلَیْھِمْ وَ یَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَ ) اس آیت میں قتال کا حکم بھی ہے اور مدد کا وعدہ بھی فرمایا کہ تم ان سے جنگ کرو اللہ تعالیٰ ان کو تمہارے ہاتھوں عذاب دے گا اور ذلیل کرے گا اور ان کے مقابلہ میں تمہاری مدد فرمائے گا۔ اور یہ بھی فرمایا کہ کافروں کی طرف سے جو عہد شکنی ہوئی اور جو انہوں نے اسلام کو مٹانے کے لیے حرکتیں کیں اس سے جو مسلمانوں کے دلوں میں رنج و غم ہے اس جنگ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اس کو بھی دور فرما دے گا۔ اہل ایمان کے دلوں کو اللہ تعالیٰ شفا دے گا ان کے دل ٹھنڈے ہوجائیں گے۔ کیونکہ جنگ کے نتیجہ میں کافر مقتول اور ذلیل و خوار ہوں گے اور مسلمان اپنی آنکھوں سے کافروں کا برا انجام دیکھ لیں گے۔
Ayah 9:15مزید فرمایا (وَ یُذْھِبْ غَیْظَ قُلُوْبِھِمْ ) اور اللہ ان کے دلوں کی جلن کو دور فرما دے گا۔ یہ جملہ اولیٰ پر عطف ہے اور اس کے مفہوم کی تاکید ہے اور اس میں اہل ایمان کی خوشی کو دوسرے الفاظ میں بیان فرما دیا ہے۔ جس سے مبالغہ مقصود ہے، مطلب یہ ہے کہ اہل ایمان خوب زیادہ خوش ہوں گے۔ صاحب روح المعانی یہ بات لکھنے کے بعد لکھتے ہیں کہ اذہاب الغیظ شفاء صدور سے زیادہ ابلغ ہے اور یہ ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ترقی ہے۔ اس کے بعد لکھتے ہیں کہ بعض علماء نے یوں بھی فرمایا ہے کہ شفاء الصدور فتح مکہ کے وعدہ سے ہوگیا اذھاب الغیظ فتح مکہ سے ہوگیا لیکن صاحب روح المعانی اس قول سے راضی نہیں۔
اس کے بعد فرمایا (وَ یَتُوْبُ اللّٰہُ عَلٰی مَنْ یَّشَآءُ ) (اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہے توبہ نصیب فرمائے) تمہیں جو حکم ہوا ہے وہ کرو۔ تمہارا کام قتال ہے اور اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر میں جو کچھ ہے وہ بھی واقع ہوگا جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ اسلام کی توفیق دے گا اور کفر چھوڑنے پر جو ان کی توبہ قبول فرمائے گا یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر فضل ہے۔ وہ جس پر چاہے اپنا فضل فرما دے جسے اسلام کی نعمت سے نوازنا ہوگا وہ تمہارے مقابل صف آرا ہو کر بھی بچ کر نکل جائے گا اور اسلام قبول کرلے گا۔ جیسا کہ ابو سفیان اور عکرمہ بن ابی جہل اور سہیل بن عمرو جو مشرکین کے رؤساء تھے بعد میں مسلمان ہوگئے۔ (وَ اللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ) اور اللہ جاننے والا ہے اسے معلوم ہے کہ کون اسلام قبول کرے گا اور کون کفر پر مرے گا اور وہ حکیم بھی ہے، وہ اپنی حکمت کے موافق جس کو چاہے نواز دے۔ کسی کا اس میں دخل نہیں ہے۔
فائدہ : یہاں یہ اشکال ہوتا ہے کہ مکہ تو 8 ھ میں فتح ہوچکا تھا اور سورة برأۃ 9 ھ میں نازل ہوئی۔ پھر ان آیات میں کون سے جہاد کی ترغیب دی گئی ہے ؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے صاحب روح المعانی ص 62 ج 10 لکھتے ہیں کہ سورة برأت کی ابتدائی آیات فتح مکہ کے بعد نازل ہوئی تھیں اور یہ آیات اس سے پہلے نازل ہوچکی تھیں 1 ھ اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ قیامت تک آنے والے مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنی مدد اور نصرت کی خوشخبری دی ہے اور یہ بتایا ہے کہ اہل کفر سے جو تمہیں تکلیف پہنچے گی اور ان کی شرارتوں کی وجہ سے جو تمہارے دل میں غیظ و غضب ہوگا اللہ تعالیٰ اس کو دور کر دے گا اور تمہاری مدد فرمائے گا اور کافروں کو ذلیل کرے گا اور تمہارے دلوں کو کافروں کی ذلت دکھا کر شفا عطا فرمائے گا۔ جس طرح اہل مکہ میں قتال کے لیے بعض چیزیں جمع ہوگئی تھیں کہ انہوں نے اپناعہد توڑا اور تمہارے دین میں طعن کیا اور رسول اللہ ﷺ کو جلا وطن کرنے کا مشورہ کیا اور مسلمانوں پر حملہ کرنے کی پہل کی اس طرح کی بہت سی باتیں آئندہ بھی کافروں کی طرف سے پیش آسکتی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ تو تمہارے درمیان نہ ہوں گے۔ کیونکہ وہ دنیا سے تشریف لے جا چکے ہوں گے اور ان کے بعد کوئی نبی اور رسول بھی نہیں لیکن اس طرح کے واقعات پیش آسکتے ہیں۔ اگر ایسا ہو تو ان سے لڑو تاکہ کافر ذلیل و خوار ہوں اور تمہارے دل ٹھنڈے ہوں۔ خطاب کا رخ حضرات صحابہ کو ہے لیکن عموم خطاب میں سب مسلمان داخل ہیں۔
Ayah 9:16اس کے بعد جہاد کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا : (اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَکُوْا) (الآیۃ) کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ تم یونہی چھوڑ دیئے جاؤ گے اور تمہارا امتحان نہ ہوگا ؟ ایسا خیال نہ کرو۔ امتحان ضرور ہوگا اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جان لے گا جنہوں نے جہاد کیا اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ اور مومنین سے سچی محبت کرنے والے عملی طور پر ان لوگوں سے علیحدہ ہو کر ممتاز ہوجائیں گے جنہوں نے جہاد سے جان چھڑائی اور جنہوں نے کافروں اور مشرکوں کو راز داربنایا۔ یہ امتحان والا مضمون دیگر آیات میں بھی ہے۔ سورة نساء میں گزر چکا ہے۔
(مَا کَان اللّٰہُ لِیَذَرَ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلٰی مَآ اَنْتُمْ عَلَیْہِ حَتّٰی یَمِیْزَ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ ) (اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس حالت پر رکھنا نہیں چاہتا جس پر تم اب ہو جب تک کہ پاک کو ناپاک سے متمیز نہ فرما دے)
اور سورة عنکبوت میں فرمایا ہے :
(اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَکُوْٓا اَنْ یَّقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا وَ ھُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ ) (کیا لوگوں نے گمان کیا ہے کہ صرف یوں کہنے سے چھوڑ دیئے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے اور ان کی جانچ نہ کی جائے گی) ۔ آخر میں فرمایا۔ (وَ اللّٰہُ خَبِیْرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ ) (اور اللہ تعالیٰ تمہارے کاموں سے باخبر ہے) وہ اپنے علم کے مطابق جزا دے گا۔
Ayah 9:17مشرکین اس کے اہل نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی مسجدوں کو آباد کریں
معالم التنزیل (ص 273 ج 2) میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ جب غزوۂ بدر کے موقع پر حضرت عباس کو قید کرلیا گیا تو مسلمانوں نے عباس کو عار دلائی کہ تم کفر اختیار کیے ہوئے ہو اور اور تمہارے اندر قطع رحمی بھی ہے (کیونکہ رسول اللہ ﷺ کو مشرکین نے مکہ سے ہجرت کرنے پر مجبور کردیا تھا) اور اس بارے میں حضرت علی نے سخت باتیں کہہ دیں تو اس کے جواب میں عباس نے کہا کہ آپ لوگ ہماری برائیاں تو ذکر کرتے ہیں کیا بات ہے کہ ہماری خوبیاں ذکر نہیں کرتے حضرت علی نے فرمایا کیا تمہارے پاس خوبیاں بھی ہیں ؟ عباس نے کہا کہ ہاں ! ہم مسجد حرام کو آباد کرتے ہیں اور کعبہ کی دربانی کرتے ہیں اور حجاج کو پانی پلاتے ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ (مَا کَانَ لِلْمُشْرِکِیْنَ اَنْ یَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰہِ ) (آخر تک) نازل فرمائی۔ اور یہ بتادیا کہ مشرکوں کا یہ کام نہیں کہ مسجدوں کو آباد کریں۔ مشرک ہوتے ہوئے مسجد کی آبادی کا کوئی معنی نہیں۔ کعبہ شریف تو شرک کے دشمن حضرات ابراہیم (علیہ السلام) نے بنایا تھا۔ کعبہ اور کعبہ کی مسجد کی بنیاد توحید پر ہے جو لوگ اپنے اقرار و اعمال سے یہ گواہی دے رہے ہیں کہ ہم کافر ہیں یعنی اللہ کے بھیجے ہوئے دین کو نہیں مانتے ان کا مسجد کو آباد کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ کیونکہ وہاں یہ لوگ شرک کرتے ہیں اگر ظاہری کوئی آبادی کردی یعنی اس کے متولی بن کر کچھ در و دیوار کی دیکھ بھال کرلی تو کفر اور شرک جیسی بغاوت کے سامنے یہ بےحقیقت ہے پھر مسجد حرام میں جاتے تھے تو سیٹیاں اور تالیاں بجاتے تھے (جیسا کہ سورة انفال کے چوتھے رکوع میں گزر چکا ہے) ایسا آباد کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک آباد کرنے میں شمار نہیں ہے، صاحب معالم التنزیل (ص 273 ج 2) لکھتے ہیں : أی ما ینبغی للمشرکین أن یعمروا مساجد اللہ، اوجب علی المسلمین منعھم من ذلک لأن المساجد انما تعمر لعبادۃ اللہ وحدہ فمن کان کافرا باللہ فلیس من شانہ ان یعمرھا (یعنی اللہ کی مسجدوں کو آباد کرنا مشرکوں کا کام نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر واجب کیا ہے کہ وہ مشرکوں کو اللہ کے گھر سے روکیں کیونکہ مسجدیں خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت سے آباد ہوتی ہیں جو اللہ کا منکر ہے مسجدوں کو آباد کرنا اس کا کام نہیں ہے) پھر فرمایا (اُولٰٓءِکَ حَبِطَتْ اَعْمَالُھُمْ ) کہ ان کے سب اعمال اکارت چلے گئے (کیونکہ کفر کے ساتھ کوئی بھی عمل اگرچہ بظاہر عبادت ہو آخرت میں کوئی نفع دینے والا نہیں) (وَ فِی النَّارِھُمْ خٰلِدُوْنَ ) (اور وہ ہمیشہ دوزخ میں رہنے والے ہیں) ۔
Ayah 9:18مساجد کو آباد کرنا اہل ایمان کا کام ہے :
اس کے بعد فرمایا (اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰہِ مَنْ اٰمَنَ باللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَقَام الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَی الزَّکٰوۃَ وَ لَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰہَ ) (اللہ کی مسجدوں کو وہی لوگ آباد کرتے ہیں جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لائے اور جنہوں نے نماز قائم کی اور زکوٰۃ ادا کی اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے) اس میں بتایا کہ مسجدوں کو آباد کرنا اہل ایمان کا کام ہے جو اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور اللہ کے مقرر فرمودہ فرائض کو انجام دیتے ہیں (اس میں دو چیزوں کا خصوصی تذکرہ فرمایا یعنی نماز قائم کرنا زکوٰۃ دینا) اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے یعنی اللہ تعالیٰ نے جو احکام بھیجے ہیں ان پر عمل کرنے میں قوم یا قبیلہ اور اہل وطن کے اعتراض کو نہیں دیکھتے کہ کوئی کیا کہے گا اللہ کے دین پر کسی کا خیال کیے بغیر عمل کرتے ہیں اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتے۔ پھر ان لوگوں کا اخروی انجام بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا (فَعَسآی اولٰٓءِکَ اَنْ یَّکُوْنُوْا مِنَ الْمُھْتَدِیْنَ ) یعنی اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جنت تک پہنچنے کا راستہ بتادے گا۔ دنیا میں اللہ کی اطاعت اور عبادت میں لگنا نصیب ہوگا اور پھر یہ اطاعت اور عبادت جنت میں داخل ہونے کا ذریعہ بن جائے گی، مسجد بنانا اور اس کا نظم و نسق سنبھالنا، مرمت کرنا، نمازیوں کی واقعی ضرورتیں پوری کرنا یہ سب مسجد کی آباد کاری میں داخل ہے۔ لیکن مسجد کی آباد کاری جو دوسری شان سے ہے وہ اس سے بڑھ کر ہے اور وہ یہ ہے کہ مساجد کو نمازوں سے، ذکر سے تلاوت سے تعلیمی حلقوں سے تدریس قرآن سے آباد رکھا جائے کیونکہ مساجد کی اصل بناء انہی امور کے لیے ہے۔ حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب تم کسی شخص کو دیکھو کہ مسجد کا دھیان رکھتا ہے تو اس کے لیے ایمان کی گواہی دے دو ، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰہِ مَنْ اٰمَنَ باللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ ) (اللہ کی مسجدوں کو وہی شخص آباد رکھتا ہے جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لایا) ۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 69 عن الترمذی و ابن ماجہ والدارمی)
مساجد میں کیا کیا کام ممنوع ہیں ؟
جیسے اعمال صالحہ نماز، ذکر، تلاوت وغیرہ سے مسجد کو آباد رکھنے کی فضیلت ہے وہاں ان چیزوں کا ارتکاب مسجد کی آباد کاری کے خلاف ہے۔ مساجد میں ایسے اشعار پڑھنا جو دینی اعتبار سے اچھے نہ ہوں اور خریدو فروخت کرنا اور بدبو دار چیزیں کھا پی کر مسجد میں جانا (جس میں بیڑی، سگریٹ، تمباکو والے پان کی بدبو بھی شامل ہے) اور مساجد میں دنیا کی باتیں کرنا۔ مساجد میں تھوک، بلغم ڈالنا، گم شدہ چیز تلاش کرنا اور مخلوق سے سوال کرنا۔ یہ سب امور مسجد میں ممنوع ہیں اور مسجد کی شان کے خلاف ہیں۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب کوئی شخص مسجد میں کسی گمشدہ چیز کے تلاش کرنے والے کی آواز سنے تو یوں کہہ دے لا ردھا اللہ علیک (کہ اللہ تجھے یہ چیز واپس نہ دے) کیونکہ مسجدیں اس کام کے لیے نہیں بنائی گئیں۔ (رواہ مسلم ص 210 ج 1، ابو داؤد ص 68 ج 1)
نیز حضرت ابوہریرہ ؓ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب تم کسی کو دیکھو کہ مسجد میں بیچتا ہے یا خریدتا ہے تو کہہ دو کہ اللہ تیری تجارت میں نفع نہ دے۔ (مشکوٰۃ ص 70)
رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ مسجدوں میں ان کی باتیں دنیاوی امور کے بارے میں ہوں گی۔ سو تم ان کے پاس مت بیٹھنا کیونکہ اللہ کو ان کی حاجت نہیں ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 71 عن البیہقی فی شعب الایمان)
مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ان کا یہ عمل مبغوض ہے ان کے پاس بیٹھ کر اپنا برا نہ کرو۔ حضرت حکیم بن حزام نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے مساجد میں حدود قصاص جاری کرنے سے اور (غیر دینی) اشعار پڑھنے سے منع فرمایا (رواہ ابو داؤد ص 261 ج 2) حضرت معاویہ بن قرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں درختوں یعنی پیاز اور لہسن کے کھانے سے منع فرمایا اور فرمایا کہ جو شخص انہیں کھائے ہماری مسجد کے پاس نہ آئے اور فرمایا کہ اگر تمہیں کھانا ہو تو ان کو پکا کر کھاؤ۔ جس سے ان کی بدبو چلی جائے گی۔ (رواہ ابو داؤد، ص 179 ج 2، وفی مسلم عدۃ روایات فی ہذا المعنی ص 209 ج 1)
مسجد کی صفائی کا اجر وثواب :
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھ پر میری امت کے ثواب کے کام پیش کیے گئے یہاں تک کہ کوئی شخص اگر مسجد سے ایسی چیز نکال دے جو دیکھنے میں نا گوار ہو (اگرچہ معمولی سا کوڑا کچرا تنکا ہو) تو وہ بھی مجھے امت کے ثواب کے کاموں میں دکھایا گیا اور مجھ پر میری امت کے گناہ پیش کیے تو اس سے بڑھ کر میں نے کوئی گناہ نہیں دیکھا کہ کسی شخص کو قرآن مجید کی کوئی سورت یا آیت عطا کی گئی پھر وہ اسے بھول گیا۔ (ابو داؤد ص 66 ج 1)
آج کل مسجدوں کی ظاہری آبادی ہی رہ گئی ہے۔ خوبصورت قالین، جھاڑ، فانوس، در و دیوار پر پھول دار نقشے، چمکدار فرش وغیرہ وغیرہ۔ ان چیزوں میں بڑھ چڑھ کر مقابلہ میں حصہ لیا جاتا ہے اور نمازوں میں حاضری اور تلاوت اور نمازوں کے انتظار میں بیٹھے رہنے کی طرف توجہ نہیں دی جاتی اور یہ ظاہری زیب وزینت کی چیزیں شرعاً پسندیدہ بھی نہیں ہیں۔ کیونکہ ان سے نمازوں کے خشوع و خضوع میں فرق آتا ہے۔ حضرت أنس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ لوگ مسجدیں بنا بنا کر آپس میں فخر کریں گے۔ (رواہ ابو داؤد ص 65 ج 1)
ایک حدیث میں مسجدوں کی زیب وزینت پر توجہ دینے والوں کے بارے میں فرمایا ہے کہ مساجد ھم عامرۃ وھی خراب من الھدیٰ (ان کی مسجدیں آباد ہوں گی اور ہدایت کے اعتبار سے ویران ہوں گی) ۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 38)
Ayah 9:19حجاج کو پانی پلانا اور مسجد حرام کو آباد کرنا ایمان اور جہاد کے برابر نہیں :
پھر فرمایا (اَجَعَلْتُمْ سِقَایَۃَ الْحَآجِّ وَ عِمَارَۃَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ) (الآیۃ) اس کے بارے میں دو سبب نزول نقل کیے گئے ہیں۔ ان میں ایک تو وہی ہے جو پہلے مذکور ہوا کہ جب بدر میں مشرکین کو قید کیا جن میں عباس بن عبدالمطلب بھی تھے اور عباس کو کفر اختیار کرنے پر عار دلائی گئی تو انہوں نے کہا کہ اگر تم ہم سے اسلام میں اور ہجرت میں اور جہاد میں آگے بڑھ گئے تو ہم بھی تو مسجد حرام کو آباد کرتے ہیں اور حجاج کو پانی پلاتے ہیں اس پر آیت بالا نازل ہوئی۔ (معالم التنزیل ص 275 ج 2)
مطلب یہ ہے کہ کیا حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد حرام کے در و دیوار کی دیکھ بھال کرنے کو تم نے اس شخص کے عمل کے برابر کردیا جو اللہ پر اور آخرت پر ایمان لایا اور جس نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا ؟ یہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے یعنی ایمان اور جہاد والوں کے مقابلہ میں حجاج کو پانی پلانے اور مسجد حرام کی دیکھ بھال جبکہ ایمان نہ ہو اس کی کچھ بھی حیثیت نہیں۔ کفر و شرک کے ساتھ کوئی بھی عمل مقبول اور معتبر نہیں۔
اور دوسرا سبب نزول یہ لکھا ہے کہ حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے منبر کے پاس تھا۔ ایک شخص نے کہا کہ اگر میں حجاج کو پانی پلاؤں اور اس کے بعد دوسرا کوئی نیک عمل نہ کروں تو مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ دوسرے نے کہا کہ اگر میں مسجد حرام کو آباد کرنے کے علاوہ کوئی عمل نہ کروں تو مجھے دوسرے اعمال کے چھوٹ جانے کی کوئی پرواہ نہیں، تیسرے شخص نے کہا کہ تم نے جو اپنے اعمال کے بارے میں کہا ان اعمال سے بڑھ کر جہاد فی سبیل اللہ ہے، ان لوگوں کو حضرت عمر ؓ نے جھڑک دیا اور فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت عالی میں حاضر ہو کر اس بارے میں دریافت کروں گا جس میں تم اختلاف کر رہے ہو، چناچہ انہوں نے خدمت عالی میں حاضر ہو کر سوال کیا اس پر آیت بالا نازل ہوئی۔ (معالم التنزیل ص 275 ج 2)
اس سے معلوم ہوا کہ ایمان تو تمام اعمال سے افضل ہے ہی جہاد فی سبیل اللہ بھی حجاج کو پانی پلانے اور مسجد حرام کی دیکھ بھال اور تولیت سے افضل ہے۔
اللہ تعالیٰ شانہٗ نے فرمایا (لَا یَسْتَوٗنَ عننْدَ اللّٰہِ ) یہ لوگ اللہ کے نزدیک برابر نہیں ہیں۔ (وَ اللّٰہُ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ ) اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا (ظالموں سے مشرک مراد ہیں وہ شرک پر قائم ہوتے ہوئے حق اور صحیح بات کو نہیں مانتے) ۔
Ayah 9:20مومن مہاجرین اور مجاہدین کو بشارت :
اس کے بعد ایمان اور ہجرت اور جہاد فی سبیل اللہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا (اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ ھَاجَرُوْا وَجٰھَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِاَمْوَالِھِمْ وَ اَنْفُسِھِمْ اَعْظَمُ دَرَجَۃً عِنْدَ اللّٰہِ ) (جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور اپنے مالوں اور جانوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا درجہ کے اعتبار سے اللہ کے نزدیک یہ لوگ بہت بڑے ہیں، اور یہ لوگ ہی کامیاب ہیں)
Ayah 9:21مزید فرمایا (یُبَشِّرُھُمْ رَبُّھُمْ بِرَحْمَۃٍ مِّنْہُ وَ رِضْوَانٍ وَّ جَنّٰتٍ لَّھُمْ فِیْھَا نَعِیْمٌ مُّقِیْمٌ) (ان کا رب انہیں بشارت دیتا ہے اپنی رحمت کی اور رضا مندی کی اور باغوں کی جن میں ان کے لیے دائمی نعمتیں ہوں گی)
Ayah 9:22(خٰلِدِیْنَ فِیْھَآ اَبَدًا) (وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے) (اِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہٗٓ اَجْرٌ عَظِیْمٌ) (بےشک اللہ کے پاس بڑا اجر ہے) ۔