Ayah 9:11 سورة توبہ کی وجہ تسمیہ اور اس کی عظمت شان : اس سورة کریمہ کا نام " براءۃ " بھی ہے کہ اسی لفظ سے یہ شروع ہوتی ہے اور اسمیں مشرکین مکہ سے براءت و بیزاری کا اعلان بھی ہے۔ اور اس کو " توبہ " بھی کہتے ہیں کہ اس میں توبہ کا تذکرہ بھی کئی بار آیا ہے اور توبہ سے متعلق ایک خاص عبرت انگیز اور سبق آموز واقعہ اور قصہ بھی اس میں مذکور ہے۔ اس کے علاوہ اس سورة کریمہ کے اور بھی بہت سے نام آئے ہیں۔ مثلاً " فاضحہ "، " مخزیۃ "، " مشردۃ " اور سورة " العذاب " وغیرہ۔ اس کی مزید تفصیلات انشاء اللہ اپنی مفصل تفسیر میں پیش کی جائیں گی ۔ والتوفیق بید اللہ ۔ سو یہ اس سورة کریمہ کی عظمت شان کا ایک مظہر ہے۔ اس کے شروع میں بسم اللہ اس لئے نہیں لکھی جاتی کہ آنحضرت ۔ ﷺ ۔ سے ثابت نہیں۔ اور قرآن پاک کی ترتیب توقیفی ہے کہ جیسا اللہ پاک کی طرف سے حضرت جبریل امین کے واسطے سے حکم ہوتا تھا، اسی کے مطابق آنحضرت ﷺ عمل فرماتے تھے۔ اور یہاں پر جبریل امین نے اس کی ہدایت نہیں فرمائی تھی۔ اس لئے بسم اللہ نہیں لکھی گئی۔ اور مستدرک حاکم میں حضرت علی ۔ ؓ ۔ سے مروی ہے کہ سورة توبہ کے شروع میں بسم اللہ اس لئے نہیں لکھی گئی کہ بسم اللہ امان کی نشانی ہے، جبکہ اس سورة کریمہ میں رفع امان کا حکم ہے۔ (روح، ابن کثیر، قاسمی وغیرہ) ۔ مگر یہ ایک تفسیری نکتہ ہوسکتا ہے نہ کہ اصل وجہ اور علت۔ اصل وجہ تو وہی ہے جو کہ اوپر بیان کی گئی۔ اور یہ سورة کریمہ غزوئہ تبوک سے واپسی پر آنحضرت ۔ ﷺ ۔ پر نازل ہوئی جبکہ آپ ﷺ نے حضرت صدیق اکبر۔ ؓ ۔ کو حج کا امیر بنا کر بھیجا تھا۔ بعد میں آپ ﷺ نے حضرت علی ۔ ؓ ۔ کو بھیجا کہ آپ ؓ جا کر یہ آیتیں مشرکین کو سنا دیں۔ حضرت علی ؓ کے پہنچنے پر حضرت ابوبکر ؓ نے ان سے پوچھا کہ آپ امیر بن کر آئے ہیں یا مامور بن کر ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ نہیں بلکہ مامور بن کر۔ چناچہ آپ ؓ نے حضرت صدیق اکبر ؓ کی امارت میں مشرکین مکہ کو یہ آیات پڑھ کر سنائیں جن میں معاہدئہ صلح کے خاتمے کا اعلان ہے۔ اور اس کے ساتھ ہی ان کو مزید یہ سنایا کہ کوئی مشرک جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ نیز آئندہ نہ تو کوئی مشرک بیت اللہ کا حج کرسکے گا اور نہ ہی کسی کو ننگا ہو کر طواف کرنے کی اجازت ہوگی ۔ جیسا کہ مشرکین عرب کا قدیم زمانے سے یہ دستور چلا آ رہا تھا ۔ سو اس واقعہ میں خلافت صدیق اکبر ؓ کی گویا تصریح فرما دی گئی۔ لہذا روا فض کا حضرت علی ۔ ؓ ۔ کو خلیفہ بلا فصل کہنا باطل اور مردود ہے۔
2 اِعلان براءت کی نسبت رسول کی طرف باعتبار تبلیغ کے : سو یہ اعلان تو اصل میں اللہ پاک کی طرف سے ہی ہے مگر چونکہ اس کے پہنچانے والے اور اللہ پاک کی طرف سے اس کا اعلان فرمانے والے آپ کے رسول ہی ہیں ﷺ اس لئے اس کی نسبت دونوں کی طرف فرمائی گئی ہے۔ اور آنحضرت ﷺ کے انتقال و وصال کے بعد اس طرح کہنا درست نہیں جیسا کہ احادیث کریمہ میں مصرح ہے۔ لہذا اہل بدعت وغیرہ اہل ھوی کا اس سے اپنے شرکیہ الفاظ کے لئے استدلال کرنا صحیح نہیں کہ یہ قیاس مع الفارق اور اصول و نصوص کے معارض و متصادم ہے۔ (المراغی وغیرہ) ۔ بہرکیف اس طرح اعلان فرما دیا گیا کہ مشرکین کے ساتھ کیے گئے تمام عہد منسوخ ہیں اور اس اعلان براءت کی وجہ ۔ جیسا کہ آگے آیت نمبر 3 میں ارشاد فرمایا جا رہا ہے ۔ یہ تھی کہ بہت سے قبائل اپنے معاہدات کی ذمہ داریوں کو وفاداری اور راستبازی کے ساتھ نباہ نہیں رہے تھے۔ اس لیے اس قسم کے معاہدات کے کالعدم ہونے کا اعلان کردیا گیا۔ صرف ان قبائل کے معاہدات کو باقی رکھا گیا جنہوں نے کوئی غداری یا عہد شکنی نہیں کی تھی۔ اور وہ بھی صرف ان کی مقررہ مدت تک کے لیے۔ اور یہاں پر لفظ براءت کے بعد حرف " الی " آیا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ اس ارشاد میں ابلاغ کا مفہوم بھی مضمر ہے۔ یعنی اس براءت و دستبرداری کی اطلاع تمام ناقض عہد مشرکوں کو پہنچادی جائے جیسا کہ بعد والی آیت کریمہ میں اس کی تصریح بھی آرہی ہے۔
Ayah 9:23 چار ماہ کی مہلت سے مراد ؟ : یعنی دس ذوالحجہ۔ 9 ھجری سے لے کر دس ربیع الثانی تک، یعنی جس دن ان کو یہ اعلان پہنچایا گیا تھا اس دن سے لے کر چار ماہ کی مدت پوری ہونے تک، اس دوران ان سے کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کی جائے گی۔ اس کے بعد ان کو تین باتوں میں سے ایک کے اختیار کرنے کا حق ہوگا کہ یا تو وہ دین حق کو قبول کرکے دوزخ کی آگ سے بچیں اور دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز ہوں یا اسلام کے ماتحت ہو کر رہیں۔ یا پھر ان کے مستقبل کا فیصلہ تلوار کے ذریعے ہوگا۔ بہرکیف اوپر والی آیت کریمہ کا خطاب مسلمانوں سے تھا۔ ان کے ذریعے مشرکین کے لیے اعلان براءت کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا تھا لیکن اس آیت کریمہ میں خطاب کا رخ براہ راست مشرکین کی طرف ہوگیا۔ اور خطاب کی اس تبدیلی میں دھمکی کی شدت اور اس کے فیصلہ کن ہونے کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے۔ سو اس سے مشرکین کے لیے واضح کردیا گیا کہ اب تم لوگوں کو صرف چار ماہ کی مہلت حاصل ہے۔ اس کے بعد تمہارے معاہدات کے بارے میں اللہ اور اس کے رسول پر کوئی ذمہ داری نہیں ہوگی اور تمہیں اپنے کیے کرائے کا بھگتان بھگتنا ہوگا۔ پھر نہ کہنا کہ ہمیں خبر نہیں ہوئی تھی۔
4 اللہ کو کوئی عاجز نہیں کرسکتا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ یقینا جان لو کہ تم عاجز نہیں کرسکتے اللہ کو کہ اس کی گرفت و پکڑ سے نکل کر کہیں بھاگ جاؤ، جیسا کہ دنیاوی حکومتوں میں ہوتا ہے کہ وہ بعض اوقات کسی مجرم کو پکڑنے اور اس کو قرار واقعی سزا دینے سے عاجز آجاتی ہیں۔ سو اللہ تعالیٰ کے یہاں ایسا ہونا ممکن نہیں کہ اس کو کوئی عاجز نہیں کرسکتا اور کسی کی یہ جان نہیں کہ وہ اس خالق ومالک کی گرفت و پکڑ سے بھاگ سکے۔ سو عقل و نقل کا تقاضا یہ ہے کہ انسان بغاوت و سرکشی کی روش ترک کر کے اپنے خالق ومالک کی اطاعت و بندگی کی راہ کو اپنائے ورنہ اس کے عقاب اور اس کی گرفت و پکڑ کے لیے تیار ہو جائی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ زیغ وضلال کی ہر شکل سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
5 کفر وانکار موجب ذلت و رسوائی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یقینا اللہ رسوا کرنے والا ہے کافروں کو۔ اس دنیا میں بھی طرح طرح کی تذلیل و تخویف سے اور آخرت میں بھی وہاں کے دائمی اور نہایت ہی ہولناک عذاب سے۔ نیز کافرین کی تصریح سے معلوم ہوا کہ یہ ذلت و رسوائی کا عذاب دراصل کافروں ہی کے لئے ہے جبکہ اہل ایمان کی سزا ان کی مغفرت و بخشش اور رفع درجات کے لئے ہوگی ۔ سبحان اللہ ! ۔ کیسی عظیم الشان دولت ہے یہ ایمان و یقین کی دولت کہ اس کے بعد خیر ہی خیر ہے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ۔ وَالْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعٰالَمِیْنَ الََّذِیْ شَرَّفَنَا بِنِعْمَۃِ الاِیْمَانِ وَالْیَقِیْنِ ۔ اللّٰھُمَّ فَزِدْنَا مِنْہُ وَثَبِّتْنَا عَلَیْہِ ۔ سو اس ارشاد ربانی میں مشرکین کیلئے تنبیہ و تہدید ہے کہ ایسے لوگ اس مہلت سے فائدہ اٹھائیں اور باز آجائیں اپنے شرک سے۔ ورنہ یہ اس سنگین اور ہولناک انجام سے کسی بھی طرح بچ نہیں سکیں گے جو ان کے کفر و شرک کی بناء پر ان کیلئے مقدر ہوچکا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 9:36 ہر حج حج اکبر ہوتا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اعلان ہے کہ اور اس کے رول کی طرف سی سب لوگوں کے لیے حج اکبر کے دن۔ واضح رہے کہ ہر حج حج اکبر ہوتا ہے کہ اس کا اطلاق عمرہ کے مقابلے میں آتا ہے جو کہ حج اصغر کہلاتا ہے۔ (محاسن، کشاف، مدارک وغیرہ) ۔ عوام کے یہاں جو جمعہ کے دن کے حج کو حج اکبر کہا جاتا ہے اس کی کوئی اصل نہیں۔ البتہ اگر اس کے ثواب کے اعتبار سے اس کو یہ نام دیا جائے تو اس کی گنجائش نکل سکتی ہے کہ جمعہ کے دن کے حج کا ثواب زیادہ ہے، جیسا کہ روایات میں وارد ہے۔ مگر یہ اصطلاح نہ تو قرآن و سنت سے کہیں ثابت ہے اور نہ ہی سلف صالح سے۔ بلکہ قرآن و سنت کے مطابق ہر سال کا حج حج اکبر ہے کہ عمرہ کو حج اصغر کہا جاتا ہے اور اس کے مقابلے میں حج حج اکبر کہلاتا ہے۔ چناچہ اس سے امام جصاص نے یہ مسئلہ مستنبط کیا ہے کہ ایام حج میں عمرہ نہیں ہوسکتا کیونکہ ان ایام کو قرآن نے حج اکبر کیلئے مخصوص فرما دیا ہے۔ (معارف وغیرہ) ۔ بہرکیف عوام میں جو مشہور ہے اس کی کوئی اصل نہیں۔
7 توبہ قدرت کی ایک عظیم الشان عنایت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تم لوگوں نے توبہ کرلی اپنے کفر و شرک اور نفاق و شقاق سے۔ اور لوٹ آئے تم نور توحید و ایمان کی طرف اور داخل ہوجاؤ تم اسلام کے حظیرئہ قدس میں۔ (صفوۃ، محاسن وغیرہ) ۔ سو توبہ باعث نجات اور ذریعہ فوز و فلاح ہے اور اس کے ذریعے پچھلے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں، خواہ وہ کتنے ہی بڑے اور کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں۔ سو توبہ قدرت کی ایک عظیم الشان عنایت ہے جس سے اس نے اپنے بندوں کو نوازا ہے۔ بہرکیف اس ارشاد میں مشرکین کے لیے توبہ اور رجوع الی اللہ کی ترغیب ہے کہ وہ سچے دل سے توبہ کریں اور اپنی سابقہ روش کو ترک کر کے حق کی طرف رجوع کریں تاکہ ان کی بگڑی بنے اور ان کی دنیا بھی اچھی ہو اور آخرت بھی۔ سو توبہ کا دروازہ ایک عظیم الشان دروازہ ہے جو حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ نے اپنی رحمت و عنایت سے اپنے بندوں کے لیے کھولا ہے ۔ فالحمد للہ جل و علا -
8 توبہ سے خود توبہ کرنے والا کا بھلا : سو اس میں تصریح فرما دی گئی کہ اگر تم لوگوں نے توبہ کرلی تو اس میں خود تمہارا اپنا ہی بھلا ہے کہ توبہ سے سرفرازی دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ ہے کہ اس طرح تم لوگ ایمان و یقین کی برکتوں اور سعادتوں سے اس دنیا میں بھی فیضیاب و بہرہ ور ہوؤ گے اور آخرت کی حقیقی اور ابدی زندگی میں بھی۔ اور وہاں کے عذاب الیم سے بچ کر تم لوگ جنت کی نعیم مقیم سے سرفراز ہو سکو گے۔ سو توبہ سے سرفرازی دارین کی فوز و فلاح کا ذریعہ اور اس سے محرومی دنیا و آخرت کی خیرات و برکات سے محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ پس توبہ اور سچی اور حقیقی توبہ میں خود تمہارا ہی بھلا ہے۔ پس سچی اور حقیقی توبہ کو اپنا کر تم لوگ اپنے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان کرلو قبل اس سے کہ فرصت حیات تمہارے ہاتھ سے نکل جائے ۔ فاستغفروا اللہ الذی لا الہ الا ہو الحی القیوم واتوب الیہ -
9 کافروں کیلئے دردناک عذاب کی خوشخبری : سو ارشاد فرمایا گیا کہ خوشخبری سنا دو کافروں کو دردناک عذاب کی جو کہ دنیا میں ان کو قتل و قید وغیرہ کی صورت میں ملے گا اور آخرت میں دوزخ کے دائمی عذاب کی صورت میں۔ اور جو کہ طبعی نتیجہ ہوگا ان کے اس کفر و انکار کا جس کو انہوں نے خود اپنائے رکھا تھا۔ سو کفر و انکار دارین کی ہلاکت و تباہی کا باعث اور منبع شر و فساد ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور اس کے برعکس ایمان و یقین کی دولت دارین کی سعادت و سرخروئی سے بہرہ مند اور سرفراز کرنے والی دولت ہے کہ اس سے انسان اس دنیا میں حیات طیبہ [ پاکیزہ زندگی ] اور سچی عزت و عظمت سے سرفراز و بہرہ ور ہوتا ہے اور آخرت میں جنت کی نعیم مقیم سے سرفراز ہوگا جو کہ اصل اور حقیقی کامیابی ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل ۔ سبحانہ وتعالی ۔ پر جو لوگ ایمان سے محروم ہیں وہ سراسر اور ہولناک خسارے میں ہیں ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 9:410 تقویٰ و پرہیزگاری باعث سعادت و ذریعہ سرفرازی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک اللہ پسند فرماتا ہے پرہیزگاروں کو جو ہمشہ ڈرتے اور بچتے رہتے ہیں اس کی ناراضگی اور نافرمانی کی ہر شکل سے۔ اور جب کوئی کوتاہی ان سے بتقاضائے بشریت سرزد ہوجاتی ہے تو وہ اس کی معافی کیلئے فوری اور دل و جان سے اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ اس لئے ان کے لائق اور شایان شان یہی ہے کہ وہ اپنے خالق ومالک کے نام پر باندھے گئے ہر عہد و پیمان کی پاسداری کریں اور حتی المقدور اس کو پوری طرح نبھائیں۔ سو تقویٰ و پرہیزگاری دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ اسی سے انسان کو دنیا کی اس عارضی زندگی میں طرح طرح کی عنایتیں نصیب ہوتی ہیں اور اسی سے اس کو آخرت کی اس حقیقی اور ابدی زندگی میں وہاں کی نعیم مقیم سے سرفرازی نصیب ہوگی ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وہو علی ما یشاء قدیر۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر گامزن رکھے اور نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 9:511 " اَشہرِ حُرم " سے مقصود و مراد ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب گزر جائیں حرمت والے مہینے تو تم ان مشرکوں کو قتل کرو جہاں بھی ان کو پاؤ۔ یعنی وہی معروف مہینے جو " اَشہرِ حُرم " کہلاتے ہیں اور جن میں جہاد و قتال منع ہے۔ اور یہ اس لئے کہ " اَشہرِ حُرم " سے مراد اصل اور حقیقت کے اعتبار سے یہی مہینے ہیں۔ یہ قول ابن جریر کا ہے اور یہی مروی ہے ابن عباس ؓ اور ضحاک وغیرہ سے۔ لیکن جمہور علماء کے نزدیک اس سے مراد وہ مشہور و معروف " اَشہرِ حُرم " نہیں کہ وہ متواتر اور لگاتار نہیں پائے جاتے۔ اس لئے وہ یہاں پر مراد نہیں ہوسکتے بلکہ ان سے یہاں پر مراد وہ چار مہینے ہیں جن میں ان مشرکین سے قتال کو منع فرمایا گیا تھا اور ان کو ان میں امان دی گئی تھی اور جن کو " اشہر تسییر " کہا جاتا ہے۔ یعنی چلنے پھرنے کے مہینے کہ ان میں ان کو { فَسِیْحُوْا فِی الاَرْضِ } کے حکم و ارشاد سے چلنے پھرنے کی اجازت دی گئی ہے اور جو دس ذوالحجہ سے شروع ہو کر دس ربیع الثانی کو پورے ہوتے ہیں۔ (ابن جریر، ابن کثیر، صفوۃ التفاسیر اور مدارک التنزیل وغیرہ) ۔ بہرکیف چار مہینوں کے اندر مشرکین امن وامان میں رہیں گے۔ اس کے بعد ان کیلئے ان تین میں سے ایک کو اختیار کرنا ہوگا۔ یا اسلام یا جلاوطنی یا قتل، جیسا کہ آگے بھی آ رہا ہے۔ کیونکہ ارض حرم سے مشرکوں کے غلبہ وتسلط کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کرنا مامور و مطلوب تھا۔
12 مدت مہلت ختم ہونے کے بعد مشرکوں کو قتل کرنے کا حکم : یعنی جو بھی طریقہ تم سے ممکن ہو اور جیسا تم مناسب سمجھو ان کفار و مشرکین کے خلاف اقدام کرو تاکہ پاک ہوجائے وہ ارض مقدس ان کے کفر و شرک اور اس کی ظلمات سے۔ اور ان کو قتل کرو جہاں بھی یہ ملیں اور جب بھی یہ تمہیں ملیں۔ حل میں یا حرم میں۔ " اَشہرِ حُرم " میں یا کسی اور وقت میں۔ قالہ ابن عباس (زاد المسیر) ۔ اسی لئے اس آیت کریمہ کو " آیۃ السیف " کہا جاتا ہے جبکہ دوسرا قول اس میں بعض اہل علم کا یہ ہے کہ یہ اجازت صرف حل میں ہے حرم میں نہیں ۔ والظاھر ھوالاول ۔ بہرکیف مدت مہلت ختم ہونے کے بعد مشرکین کو تین میں سے ایک بات کو اختیار کرنا ہوگا جن میں آخری بات قتل ہیـ ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف اس سے ان مشرکین کے خلاف ہر قسم کی جنگی کاروائی کی اجازت دی گئی اور اس کا حکم فرمایا گیا ہے تاکہ ہر پہلو سے ان بدبختوں کا ناطقہ بند کردیا جائے اور اس شدت سے ان کے دار و گیر کے اس حکم وارشاد کی وجہ یہ ہے کہ اس کی نوعیت محض دشمن کے خلاف ایک عام حکم کی نہیں تھی۔ بلکہ یہ دراصل مشرکین عرب کے بارے میں اس سنت الہی اور دستور خداوندی کا ذکر وبیان ہے جو رسولوں کی تکذیب کرنے والی قوموں کے حق میں ہمیشہ ظہور پذیر ہوئی ہے۔ کہ ایسی قومیں جب بدبختی کی انتہاء کو پہنچ جاتی ہیں تو وہ اپنے حق وجود وبقاء سے محروم ہوجاتی ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
13 اللہ تعالیٰ کی بخشش و رحمت کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک اللہ بڑا ہی غفور اور رحیم ہے۔ سو یہ اسی وحدہ لاشریک کی شان مغفرت ہے کہ عمر بھر کے شرک کی سیاہی کو بھی وہ چند لمحوں میں مٹا اور معاف فرما دیتا ہے اور صرف یہی نہیں بلکہ مزید یہ کہ وہ رحمتوں سے بھی نوازتا ہے کہ وہ غفور کے ساتھ رحیم بھی ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ پس اس کے حضور رجوع صحیح طور پر اور صدق دل سے ہونا چاہیئے کہ وہاں ظاہر داری نہیں چل سکتی بلکہ قدر و قیمت صرف حق اور حقیقت ہی کی ہے۔ پس اگر یہ لوگ صدق دل سے توبہ کر کے راہ حق کی طرف رجوع کرلیں اور سچے دل سے دین حق کو قبول کرلیں جسکی ظاہری علامت اور نشانی یہ ہے کہ یہ نماز قائم کریں اور زکاۃ ادا کریں تو تم لوگ ان کا راستہ خالی کردو اور ان کو کچھ مت کہو کہ اللہ تعالیٰ بڑا ہی غفور و رحیم ہے۔ وہ ان کی گزشتہ خطائیں اور کو تاہیاں معاف فرما دے گا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ مگر جو اپنے کفر و باطل پر اڑے رہیں گے ان کو اس کا بھگتان بہرحال بھگتنا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 9:614 مشرکوں کیلئے ایک رعایت کا ذکر : سو اس سے ان مشرکین کے لیے خاص رعایت کا ذکر فرمایا گیا ہے اور اس کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ یہ لوگ جانتے نہیں۔ اس لئے یہ اس رعایت کے مستحق ہیں۔ پھر حق اور حقیقت کو جاننے کے بعد یہ اپنی مرضی سے جو راستہ خود اختیار کریں اسی طرح کا معاملہ ان سے کیا جائے۔ بہرکیف یہ مشرکوں کیلئے ایک رعایت کا ذکر وبیان ہے تاکہ ان کو حق اور حقیقت کا علم حاصل ہوسکے اور اس کے بعد ان کیلئے کسی عذر و معذرت اور حیل و حجت کی کوئی گنجائش باقی نہ رہ جائے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر ان میں سے کوئی امان کا طالب ہو تو اس کو امان دے دی جائے اور اس کو اللہ اور اس کے رسول کی دعوت اور اس کا مقصد اچھی طرح سمجھا دیا جائے۔ اور اس کے بعد اس کو اس کی امان کی جگہ پہنچا دیا جائے تاکہ وہ اپنے معاملے پر ٹھنڈے دل سے غور و فکر کرلے اور خوب سوچ کر فیصلہ کرلے کہ وہ اسلام قبول کرتا ہے یا تلوار۔ سو یہ امان بخشی اور پناہ اس کے لیے اتمام حجت کے نقطہ نظر سے تھی جو کہ دین حق کی رحمت و عنایت کا ایک مظہر ہے ۔ فالحمد للہ رب العالمین -
Ayah 9:715 مشرکوں کیلئے کوئی عہد و پیمان کس طرح ؟ : استفہام انکار واستبعاد کے لئے ہے۔ یعنی ایسا نہیں ہوسکتا کہ جن لوگوں کا حال یہ ہو اور ان کے کرتوت ایسے اور ایسے ہوں کہ وہ کس طرح پاس ولحاظ کریں گے اپنے کسی عہدو پیمان کا۔ پس ایسوں سے اس طرح کی کوئی توقع سرے سے رکھو ہی نہیں تاکہ نہ تم دھوکے میں پڑو اور نہ بعد میں تکلیف اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑے۔ کیونکہ جس سے کسی بات کی توقع نہ ہو اس پر کوئی افسوس کیسا اور کیونکر ؟ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے مشرکوں کے لیے کسی عہد و پیمان کی کوئی ذمہ داری بجز ان لوگوں کے جنہوں نے تم سے معاہدہ کیا تھا مسجد حرام کے پاس اللہ اور اس کے رسول کے ذمہ کس طرح ہوسکتی ہے جبکہ ان کا حال یہ ہے کہ یہ تمہارے ساتھ ہمدردی اور صلح صفائی کے بجائے موقع کی تلاش میں رہتے ہیں۔ سو اگر ان کا تم لوگوں پر کوئی زور چل جائے تو یہ نہ کسی قرابت کا لحاظ کریں اور نہ کسی طرح کے کسی عہد و پیمان کا۔ یہ لوگ تو بس تمہیں اوپر اوپر کی باتوں سے خوش کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کے دل تمہارے اوپر غم و غصہ سے کھول رہے ہیں اور ان کی اکثریت بد عہدوں کی ہے۔ سو ایسے بدعہدوں کے کسی عہد و پیمان کا کوئی اعتبار نہیں ہوسکتا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
16 مشرکوں کے عام حکم سے استثنائ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے مشرکوں کے لیے اللہ اور اس کے رسول کے یہاں کوئی عہد کس طرح ہوسکتا ہے ؟ بجز ان لوگوں کے جنہوں نے تم سے معاہدہ کیا تھا مسجد حرام کے پاس۔ یعنی صلح حدیبیہ کے موقع پر۔ اس استثناء سے مراد روایات کے مطابق بنوکنانہ اور بنو ضمرہ ہیں کہ یہ لوگ اپنے عہد و پیمان پر قائم رہے تھے۔ سو ان سے لڑنے کی نوبت نہیں آئی۔ یہاں تک کہ وہ بلامقابلہ خود بخود اسلام میں داخل ہوگئے۔ (المراغی، الجامع وغیرہ) ۔ سو اس میں یہ درس دیا گیا کہ " موفی " یعنی " وفادار " کو " غادر " یعنی " بدعہد " کی طرح نہیں سمجھنا چاہیئے۔ (صفوۃ وغیرہ) ۔ لیکن راجح قول کے مطابق اس سے مراد صلح حدیبیہ کا وہ عہد ہے جو آنحضرت ﷺ نے مشرکین مکہ سے حدیبیۃ کے مقام پر کیا تھا۔ جو کہ ارض حرم میں واقع ہے۔ اور یہ اس لیے کہ اس عہد کا تعارف مسجد حرام کی نسبت سے کرایا گیا کیونکہ ہجرت کے بعد آنحضرت ﷺ نے جو بھی معاہدے مشرکین سے کیے ان میں یہی معاہدہ ہے کہ جو مسجد حرام کے قرب و جوار میں طے پایا تھا۔ سو اس نسبت کے ساتھ ذکر کرنے سے ایک طرف تو اس معاہدے کا تعارف ہوگیا اور دوسری طرف اس سے اس کی غیر معمولی اہمیت اور عظمت بھی واضح ہوگئی کہ اس کی تکمیل جوار حرم میں ہوئی۔ سو ایسے وفادار لوگوں کا معاملہ عام مشرکوں سے الگ ہے۔ اور یہی تقاضا ہے عقل ونقل دونوں کا۔
17 سیدھوں کے ساتھ سیدھے رہنے کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب تک یہ لوگ تمہارے ساتھ سیدھے رہیں تم بھی ان کے ساتھ سیدھے رہو اور ایسوں کے ساتھ کسی عہد شکنی کا ارتکاب مت کرو کہ عہد شکنی ویسے بھی تمہاری شان کے لائق اور تمہارے دین میں جائز نہیں۔ تو پھر ایسے وفا شعاروں کے ساتھ عہد شکنی کا کیا سوال پیدا ہوسکتا ہے۔ سو اس ارشاد ربانی میں یہ اہم اور بنیادی تعلیم دی گئی ہے کہ سیدھوں کے ساتھ سیدھے رہو اور ان کے ساتھ کسی کجی کا معاملہ مت کرو۔ پس جب تک قریش اس معاہدے پر قائم رہیں تم بھی قائم رہو۔ اور اگر وہ اس کو توڑ دیں تو تم بھی توڑ دو کہ کوئی بھی عہد صرف ایک طرف سے قائم نہیں رہ سکتا۔ بلکہ طرفین سے اس کو نبھانے کی ضرورت ہوتی ہے اور جیسا کہ ابھی اوپر والے حاشیے میں گزرا ا سے مراد صلح حدیبیۃ کا معاہدہ ہے۔ سو اس سے اسی معاہدئہ حدیبیۃ کے بارے میں ہدایت فرمائی گئی کہ جب تک قریش اس کو قائم رکھیں تم بھی اس کو قائم رکھو۔ سو مسلمانوں نے ایسا ہی کیا۔ لیکن جب قریش نے اس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آنحضرت ﷺ کے حلیف بنو غزاعہ کے خلاف اپنے حلیف بنوبکر کی مدد کی تو یہ معاہدہ ختم ہوگیا جس کے نتیجے میں آنحضرت ﷺ نے مکہ پر فوج کشی کی اور اس کو فتح کرلیا۔
18 پرہیزگاروں کے لیے معیت خداوندی کا مژدئہ جانفزا : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ تقوی و پرہیزگاری محبت خداوندی سے سرشاری کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک اللہ محبت رکھتا ہے پرہیزگاروں سے یعنی ان سے جو بچتے اور ڈرتے رہتے ہیں اپنے رب کی نافرمانی اور ناراضگی سے۔ اس لئے ایسوں کو چاہیئے کہ کسی طرح کی عہد شکنی اور بےوفائی کا ارتکاب نہ کریں کہ ایسا کرنا رب کی ناراضگی کا باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو تقویٰ و پرہیزگاری رب تعالیٰ کے یہاں محبوب و مقبول بننے کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ پس انسان تقویٰ و پرہیزگاری اور عدل و انصاف میں جتنا آگے بڑھتا اور ترقی کرتا جائے گا، اتنا ہی وہ اللہ تعالیٰ کی محبت کے شرف سے مشرف ہوتا جائے گا ۔ وباللہ التوفیق ۔ اللہ تعالیٰ ہر مرحلہ اور موڑ پر تقویٰ و پرہیزگاری سے بہرہ ور رکھے اور نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے ہمیشہ اور ہر حال میں محفوظ اور اپنی خاص حفاظت و پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayah 9:819 معاشرتی استحکام کی دو اہم بنیادوں کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ رشتہ داری اور عہد و پیمان کی پابندی معاشرتی استحکام کی دو اہم بنیادیں ہیں۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ اگر یہ تم پر کہیں غلبہ پالیں تو تمہارے بارے میں نہ کسی رشتہ داری کا پاس ولحاظ کریں اور نہ کسی عہد و پیمان کا۔ سو یہ ایسے بےوفا اور دھوکہ باز ہیں کہ نہ کسی رشتہ داری کا لحاظ کرتے ہیں جو کہ دو گروہوں اور فریقوں کے درمیان ایک قدرتی اور غیر اختیاری رابطہ اور بندھن ہوتا ہے اور نہ ہی یہ کسی ایسے عہد و پیمان کا پاس ولحاظ کرتے ہیں جو کہ دو طرفوں کے درمیان اپنے ارادہ و اختیار سے عائد کردہ ہوتا ہے۔ سو رشتہ داری اور عہد کا التنرام اور اس کی پابندی و پاسداری دو ایسی اہم اور عظیم الشان بنیادیں ہیں جن پر بڑی حد تک معاشرتی امن و استحکام موقوف ہے۔ مگر یہ ظالم لوگ اپنے قول وقرار، عمل و کردار اور گریز و فرار سے انہی دو بنیادوں کو مٹا کر معاشرتی نظام اور اصلاح و استحکام کو تباہ کردینا چاہتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
20 منکرین و معاندین کی منافقانہ پالیسی کا ذکر وبیان : سو ان لوگوں کی منافقانہ پالیسی کے ذکر وبیان کے سلسلے میں واضح فرما دیا گیا کہ ان کا ظاہر کچھ اور باطن کچھ اور۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ تم کو اپنے مونہوں سے راضی کرنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ ان کے دل اس کا انکار کرتے ہیں۔ اور ان کی اکثریت فاسقوں اور بدکاروں کی ہے۔ اور ان کا یہ رویہ اس لیے ہے کہ یہ لوگ تم لوگوں کو راضی کرکے تم سے دنیاوی مفاد حاصل کرسکیں کہ ان کے سامنے چند روزہ دنیاوی زندگی اور اس کے وقتی فوائد و منافع ہی سب کچھ ہیں۔ یہ اسی کے لئے جیتے اور اسی کے لئے مرتے ہیں۔ اسی کے متاع فانی اور حطام زائل کو سمیٹنے ہی کو یہ لوگ سب کچھ سمجھتے ہیں، جیسا کہ ابنائے دنیا کا ہمیشہ یہی حال رہا۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے۔ سو ایسے لوگوں کا ایمان و یقین اور عقیدئہ و عمل سب کچھ اسی محور کے گرد گھومتا ہے۔ صدق و اخلاص کی متاع گرانمایہ کی انکے یہاں کوئی قدر و قیمت نہیں ہوتی۔ اس لیے ایسے لوگ اپنے مونہوں کی باتوں سے تم لوگوں کو خوش کرنا چاہتے ہیں مگر ان کے دل اس کے انکاری ہوتے ہیں۔ مگر اس طرح یہ لوگ خود اپنے آپ ہی کو دھوکہ دے رہے ہیں کہ ان کی باتیں اللہ سے تو نہیں چھپ سکتیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 9:9–1021 حق فروشی کے عوض میں دنیا ساری کی دولت بھی ہیچ ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے اللہ کی آیتوں کے بدلے میں دنیائے دوں کے تھوڑے سے اور گھٹیا مول کو اپنا لیا اور اس طرح یہ سب سے بڑے مجرم اور خسارے کے مرتکب ہوئے کہ حق فروشی اور نور ایمان سے محرومی جڑ بنیاد ہے ہر فتنہ و فساد اور سب سے بڑے نقصان اور حقیقی خسارے کی ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور راہ حق سے روکنا اور اس ضمن میں سدِّ راہ بننا اور بھی زیادہ ہلاکت و تباہی کا باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو حق فروشی اور نور ایمان و یقین سے محرومی کے بدلے میں اگر دنیا ساری کی دولت بھی مل جائے تو بھی ہیچ ہے۔ تو ایسے میں ان چند ٹکوں کی حیثیت ہی کیا ہوسکتی ہے جو حق فروشی کے عوض ملیں۔ سو ان کے بدلے میں حق سے منہ موڑ لینا کس قدر ہولناک خسارے کا سودا ہے مگر دنیائے دوں کی چکاچوند پر فریفتہ ہوجانے والوں کو یہ حقیقت سمجھ نہیں آتی ۔ الا ماشاء اللہ جل و علا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
22 برے کاموں کے نتیجے برے ۔ والعیاذ باللہ : کہ سو ارشاد فرمایا گیا کہ بڑے ہی برے ہیں وہ کام جو یہ لوگ کرتے ہیں اپنے ایسے برے کاموں سے یہ لوگ نور حق و ہدایت سے محروم ہوتے ہیں اور اپنے علاوہ دوسروں کی بھی ہلاکت و تباہی کا سامان کرتے ہیں اور اس طرح ان کا جرم دوہرا اور ڈبل ہوجاتا ہے کہ یہ ضلال کے ساتھ اضلال کے بھی مرتکب ہوتے ہیں۔ اور اس طرح یہ اپنے بوجھوں کے ساتھ دوسروں کے بوجھ بھی اٹھائیں گے۔ سو برے کاموں کے نتیجے برے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ان ارشادات سے ان بعض اہم وجوہ کو واضح فرمایا گیا ہے جن کی بناء پر ان لوگوں سے اعلان براءت فرمایا گیا ہے کہ ان لوگوں کا معاملہ نہ اپنے خالق کے ساتھ درست ہے اور نہ اسکی مخلوق کے ساتھ۔ کیونکہ حضرت خالق ۔ جل مجدہ ۔ کے ساتھ حسن تعلق کی اساس و بنیاد اس کی وحدانیت ویکتائی پر سچا پکا ایمان و یقین رکھنے اور اس کی اطاعت و بندگی بجا لانے پر مبنی و موقوف ہے اور اس سے یہ لوگ محروم ہیں۔ اور اس کی مخلوق کے ساتھ حسن سلوک اور رشتہ و عہد کی پابندی پر موقوف ہے۔ مگر ان بدبختوں نے ان سب کی خلاف ورزی کی۔ تو پھر ایسوں کے ساتھ کوئی رشتہ وتعلق کس طرح قائم رہ سکتا ہے ؟ ۔ اللہ ہر شر سے اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 9:1123 نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا ایمان کا نشان و ثبوت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر یہ لوگ توبہ کرلیں اپنے کفر و باطل سے اور نماز قائم کریں اور زکاۃ ادا کرین تو یہ تمہارے دینی بھائی ہیں جو تمہارے حقوق وہی ان کے حقوق اور جو تمہارے فرائض وہی ان کے فرائض۔ اور تمہار باہمی معاملہ بھائیوں کا سا ہوگا ۔ سبحان اللہ ۔ کیسی عظیم الشان اور انقلاب آفرین ہے ایمان و یقین کی یہ دولت کہ اس کے اثر اور اس کی برکت سے کفر و شرک کی ظلمات سے نکلتے ہی ایک انسان دوسرے تمام مسلمانوں کے برابر کا درجہ پا لیتا ہے، خواہ وہ نسلاً بعد نسل ہی مسلمان کیوں نہ چلے آتے ہوں۔ اور یہ ابھی اسلام لانے والا نومسلم ان سب کا دینی بھائی قرار دیا جاتا ہے۔ اور یہ دینی رشتہ اس قدر قوی اور مضبوط ہے کہ دوسرے تمام رشتے اس کے مقابلے میں ہیچ ہیں۔ اور یہ دینی اخوت و بھائی چارگی نسبی اور صلبی بھائی چارگی سے بھی کہیں بڑھ کر مؤثر، قوی اور مضبوط و مستحکم ہے۔ تو کیا ہے کوئی جو اسلام کی اس مقدس اور پاکیزہ مساوات کا کوئی نمونہ اسلام کے سوا کہیں اور دکھا سکے ؟ یہاں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نمازوں کا قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا اسلام کی علامت و نشانی ہے۔ نیز یہ کہ ہم کسی کے ایمان و اسلام کی تصدیق کے لئے اس کی ایسی ظاہری نشانیوں پر اعتماد کرنے ہی کے پابند ہیں۔ باطن کو کریدنے اور دلوں کے حالات کو جاننے اور ٹٹولنے کے ہم مکلف نہیں، جیسا کہ فرمایا گیا ۔ " نحن نحکم بالظواہر والسرائر الی اللہ " ۔ یعنی " ہم ظاہر پر حکم لگاتے ہیں باطن کا معاملہ اللہ کے حوالے "۔ سو سچی توبہ کے بعد یہ لوگ تمہارے دینی بھائی ہیں۔ اور سچی توبہ کی ظاہری علامت اور نشانی یہ ہے کہ یہ لوگ نماز قائم کریں اور زکاۃ ادا کریں۔
24 علم صحیح کی عظمت و اہمیت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم کھول کر بیان کرتے ہیں اپنے احکام ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں کہ اس سے فائدہ وہی حضرات اٹھا سکتے ہیں جو دولت علم سے مالا مال ہوں۔ ورنہ یوں تو ہدایت کا یہ نور سارے جہانوں کے لئے عام اور سب کے لئے ایک برابر اور یکساں ہے۔ سو اس سے علم صحیح کی عظمت و اہمیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ یہی وہ نور ہے جس سے انسان کے لئے راہ حق و صواب کھلتی اور واضح ہوتی ہے۔ اور علم سے مراد دین حق کا علم ہے کہ یہی وہ علم ہے جو انسان کیلئے راہ حق واضح کرتا ہے۔ سو اس آیت کریمہ کے اس آخری جملے میں کفار و مشرکین اور مسلمانوں کے دونوں گروہوں کے لیے تنبیہی مضمون ہے کہ ہم نے اپنی آیات اور نشانیوں کو تفصیل سے بیان کردیا ہے اور ایسا کہ جو لوگ جاننا چاہیں ان کے لیے کسی طرح کا کوئی خفا باقی نہیں رہ گیا۔ اب دونوں فریقوں میں سے جو بھی کوئی ان کے تقاضوں کے خلاف ورزی کرے گا اس کی ذمہ داری خود اسی پر ہوگی اور اس کو اس کا بھگتان بہرحال بھگتنا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ پس ہر گروہ اپنا محابہ خود کرے اور اپنے احوال کی اصلاح کرلے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayah 9:1225 کفر کے پیشواؤں کیخلاف جنگ کرنے کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر یہ لوگ توڑ دیں اپنی قسموں کو اپنے عہد کے بعد تو لڑو تم کفر کے ان پیشواؤں سے جو کہ نور ایمان کے مقابلے میں ظلمت کفر کو پھیلانے میں لگے ہوئے ہیں۔ اور دنیا کو نور حق و ہدایت سے محروم کرنے کے درپے ہیں۔ سو تم لڑو ان سے تاکہ کمر ٹوٹے کفر و باطل کی اور راستہ صاف ہوجائے حق اور اہل حق کا۔ سو یہاں پر کفر کے پیشواؤں سے لڑنے کا حکم دیا گیا۔ کیونکہ ایسے ہی لوگ حق اور اہل حق کیخلاف جنگ کی پیشوائی کرتے ہیں۔ اور ان کا زور توڑنے سے ان کی جنگ کا بھی خاتمہ ہوجائے گا اور ائمہ کفر کا لفظ اگرچہ عام ہے اور یہ سب ہی پیشوایان کفر کو شامل ہے لیکن اس کے اولین مصداق کفار قریش ہی ہیں کیونکہ دین کے معاملے میں سارا عرب ان ہی کے تابع تھا۔ اور اس ضمن میں ان کو پیشوائی اور سرداری کا ایک خاص مرتبہ و مقام حاصل تھا۔ سو جب یہ لوگ سارے کفر اور کفار کے امام اور سرغنہ ہیں تو تم ان سے لڑو کہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سب فتنوں کی قیادت یہی لوگ کرتے ہیں۔ پس ان کی پیشوائی کا خاتمہ ان فتنوں کا خاتمہ ہے۔
26 غداروں کی قسموں کو کوئی اعتبار نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ یہ ایسے لوگ ہیں کہ کوئی اعتبار نہیں ان کی قسموں کا کہ ان کی نیت اپنی ان قسموں سے وعدہ وفائی اور عہد برآئی کی نہیں بلکہ دھوکہ دہی اور فریب کاری کی ہوتی ہے۔ اور جس قرأت میں " اِیمان " یعنی ھمزہ کی زیر سے پڑھا گیا ہے اس کے مطابق اس کا مطلب یہ ہوگا کہ چونکہ ان کا سرے سے ایمان ہی نہیں اس لئے یہ کسی حفظ وامان کے بھی مستحق بھی نہیں۔ پس معلوم ہوا کہ دین کے کسی حکم میں طعنہ زنی کرنا اور اس کا مذاق اڑانا کفر ہے۔ (قرطبی وغیرہ) ۔ اور یہ ایسا کفر ہے کہ اس کے بعد ایسے لوگوں کے نہ کسی دعوائے ایمان کا کوئی اعتبار ہے اور نہ ان کی کسی قسم اور قول وقرار کا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ الا یہ کہ ایسے لوگ سچے دل سے توبہ کر کے حق کی طرف رجوع کرلیں ورنہ ان کی قسموں کا نہ کوئی وزن ہے نہ اعتبار۔ اس لیے ان کا قول وقرار نہ ہونے کے برابر ہے۔ " ان کے دلوں میں کچھ ہوتا ہے اور زبانوں پر کچھ اور "۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد ہے { یَقُوْلُوْنَ بِاَلْسِنَتِہِمْ مَّا لَیْسَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ } ان کو جونہی موقعہ ملتا ہے اپنی قسموں کو توڑ دیتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
27 اسلامی جہاد و قتال رحمت خداوندی کا ایک مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے لڑو تاکہ یہ لوگ باز آجائیں اپنے کفر و باطل سے اور اس طرح یہ بچ جائیں اس ہولناک انجام سے جس کی طرف یہ اپنے کفر و انکار کی بناء پر بڑھے چلے جارہے ہیں۔ پس معلوم ہوا کہ اسلامی جہاد و قتال سے مقصود دراصل کفار و مشرکین اور دوسرے بندگان خدا ہی کی خیر خواہی ہے کہ اس طرح یہ لوگ یہ کفر و شرک سے باز آ کر دوزخ کے دائمی عذاب سے بچ سکیں۔ سو اسلامی جہاد و قتال بھی دراصل ایک مظہر ہے خدائے رحمن و رحیم کی اس عظیم الشان رحمت و عنایت کا جو اس کی طرف سے اس کے بندوں کے لئے ہر چار سو پھیلی ہوئی ہے ۔ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی وَتَبَارَکَ وَتَقَدَّسَ ۔ سو اسلامی جہاد و قتال سراسر رحمت و خیر ہے۔ اس کا دنیاوی مال و دولت کے حصول یا اتباع ہویٰ وغیرہ سے کچھ تعلق نہیں ہوتا اور نہ یہ کسی قومی، علاقائی یا لسانی عصبیت کی بنیاد پر ہوتا ہے بلکہ یہ خالص اللہ تعالیٰ کی رضا، بندگان خدا کی بہتری و خیرخواہی اور کلمہ حق کی سربلندی کے لیے ہوتا ہے " لِتَکُوْنَ کَلِمَۃُ اللّٰہِ ہِیَ الْعُلْیٰا "۔ سو یہ جہاد اسلامی کی ایک امتیازی شان ہے کہ یہ صرف حق کی سربلندی کے لیے ہوتا ہے اور بس ۔ والحمد للہ جل وعلا -
Ayah 9:1328 جہاد فی سبیل اللہ کیلئے ترغیب وتحریض : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تم لوگ لڑو گے نہیں ایسے لوگوں سے جنہوں نے توڑ دیا اپنی قسموں کو اور انہوں نے ٹھان لی اللہ کے رسول کو ان کے گھر سے نکالنے کی۔ یہ استفہام تحریض و ترغیب کے لئے ہے۔ یعنی ایسوں سے تم کو ضرور لڑنا چاہیئے جن کے یہ اور یہ کرتوت اور ایسے اور ایسے جرائم اور سیاہ کارنامے ہوں کہ ان میں سے ہر ایک بات اس کا تقاضا کرتی ہے کہ تم ان سے جنگ کرو۔ چہ جائے کہ جب یہ سب ہی اسباب فساد و بگاڑ یکجا طور پر موجود ہوں۔ (الکبیر للرازی وغیرہ) ۔ سو ایسے میں تم لوگوں کو ان کفار و مشرکین سے ضرور جنگ و جہاد کرنا چاہیئے۔ یہ تمہارے دین و ایمان اور تمہاری دینی غیرت کا تقاضا ہے۔ بہرکیف اس میں اہل حق کو اہل باطل کے خلاف جہاد کے لیے ابھارا گیا ہے کہ جن لوگوں کے جرائم یہ اور یہ ہیں ان سے تم کو ضرور لڑنا چاہیے۔ تاکہ فتنہ و فساد کا قلع قمع ہو سکے۔
29 معاندین و منکرین کی بدبختی اور ہٹ دھرمی کے ایک اور نمونے کا ذکر وبیان : سو اس سے ان بدبختوں کی ہٹ دھرمی اور بدبختی کا ایک اور نمونہ سامنے آتا ہے کہ انہوں نے اللہ کے رسول کو ان کے گھر سے نکالنے کا پروگرام بنایا حالانکہ اللہ کے رسول کے اخراج کا ارادہ و فیصلہ عذاب خداوندی کو دعوت دینا ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ارشاد فرمایا کہ ان بدبخت لوگوں نے اللہ کے رسول کو نکال باہر کرنے کی ٹھان لی۔ یعنی مکہ مکرمہ سے۔ چناچہ رؤسائے مکہ نے اپنے پارلیمنٹ ہاؤس " دار الندوہ " میں اس کے لئے باقاعدہ میٹنگ کر کے اپنے اس گھناؤنے جرم کے ارتکاب کا فیصلہ کیا، جیسا کہ سورة اَنفال میں ذکر فرمایا گیا ہے { وَاِذْ یَمْکُرُ بِکَ الَّذیْنَ کَفَرُوْا لِیُثْبِتُوْکَ اَوْ یَقْتُلُوکَ اَوْ یُخِْرجُوْکَ } الآیۃ (الانفال : 30) ۔ اور " دارالندوہ " کی اس سازش و قرارداد میں مشرکین مکہ نے اگرچہ ان تین باتوں ہی کے بارے میں غور کیا تھا یعنی قتل، قید اور اخراج، مگر واقع میں چونکہ ان تینوں میں سے ایک ہی صورت ظہور پذیر ہوئی تھی اس لئے یہاں اسی ایک کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ یعنی اخراج و جلاوطنی۔ (روح، ابن کثیر، صفوہ، محاسن وغیرہ) ۔ سو رسول کے اخراج کا ارادہ و پروگرام دراصل عذاب خداوندی کو دعوت دینا ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ پس ایسے کفار سے لڑنا اور ان سے جنگ کرنا تمہارے دین و ایمان کا تقاضا ہے اے ایمان والو۔ سو تم ان سے لڑو تاکہ ایسے بدبختوں کو تمہارے ہاتھ سے سزا ملے۔ فتنے کا خاتمہ ہو اور راہ حق کے سلسلے میں کوئی رکاوٹ باقی نہ رہے۔
30 جہاد و قتال کے ایک اہم باعث کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ جہاد و قتال کا ایک اہم باعث اور جنگ کا ایک داعیہ، کفار کا شرانگیزی میں پہل کرنا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ انہوں نے تم سے پہل کی لڑائی میں اور ظلم و زیادتی میں۔ یعنی غزوئہ بدر کے موقعہ پر، کہ جب ان کا قافلہ صحیح وسالم نکل گیا تھا تو انہوں نے واپسی کی بجائے جنگ ہی کا پروگرام بنایا تھا اور اپنے غرور و سرکشی کی بناء پر واپس ہونے سے انکار کردیا تھا۔ (ابن کثیر، محاسن التاویل وغیرہ) ۔ چناچہ روایات کے مطابق اس موقع پر جب کفار کے سرغنہ ابوجہل سے کہا گیا کہ اب جبکہ ہمارا قافلہ صحیح وسالم نکل گیا، ہمارے خروج کا مقصد پورا ہوگیا اور جنگ کا خطرہ ٹل گیا تو اب ہمیں واپس ہوجانا چاہیئے۔ تو اس لعین نے کہا نہیں بلکہ ہم آگے جائیں گے۔ بدر میں پڑاؤ ڈالیں گے۔ اونٹ کاٹیں گے، شراب کے دور چلیں گے اور گانے والیاں گائیں گی تاکہ عربوں پر ہماری دھاک بیٹھ جائے اور آئندہ کسی کو ہماری طرف آنکھ اٹھانے کی ہمت و جرأت نہ ہوسکے۔ سو کفار کا شرانگیزی میں پہل کرنا جنگ اور جہاد و قتال کا ایک بڑا داعیہ ہے۔ اس لیے تمہیں ان کے خلاف جہاد کے لیے اٹھ کھڑا ہونا چاہئے۔ تاکہ زیادتی کرنے والے یہ ظالم اپنے کیے کی کچھ سزا بھگت سکیں۔
31 ڈرنا ہمیشہ اللہ ہی سے چاہیئے : سو ارشاد فرمایا گیا کیا تم ان لوگوں سے ڈرتے ہو ؟ حالانکہ اللہ زیادہ حق دار ہے اس بات کا کہ تم اسی سے ڈرو۔ استفہام یہاں پر توبیخ و تقریع کے لئے ہے۔ یعنی ایسا نہیں ہونا چاہیئے کہ تم لوگ اس ڈر اور خوف کی بنا پر ان سے جہاد و قتال کے لئے تیار نہ ہوؤ۔ (فتح القدیر وغیرہ) ۔ کہ نفع و نقصان اسی وحدہ لاشریک کے قبضہء قدرت واختیار میں ہے۔ پس ڈرنا ہر حال میں اسی وحدہ لاشریک سے چاہیئے نہ کہ ان لوگوں سے جن کے اختیار میں کچھ بھی نہیں۔ اور ہمیشہ فکر و کوشش اسی کی ہونی چاہیئے کہ اس خالق ومالک کے ساتھ ہمارا تعلق صحیح رہے تاکہ اس کی توفیق و عنایت اور نصرت و امداد ہمارے شامل حال رہے کہ اس کے بعد کسی کی پرواہ نہیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید ۔ سبحانہ وتعالی -
Ayah 9:1432 ایمانداری کا تقاضا کہ انسان ہمیشہ اللہ ہی سے ڈرے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ہی اصل حق دار ہے اس بات کا کہ تم لوگ ہمیشہ اسی سے ڈرو اگر تم واقعی ایماندار ہو کہ ایماندای کا تقاضا یہی ہے کہ اللہ ہی سے ڈرا جائے اور اس کے سوا کسی سے بھی نہ ڈرا جائے۔ مگر افسوس کہ آج کا مسلمان اوہام و خرافات تک سے ڈرتا ہے۔ وہ قبروں سے ڈرتا، مردوں سے ڈرتا اور ننگ دھڑنگ ملنگوں اور پاگلوں سے ڈرتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ بڑے بڑے درختوں اور پتھروں تک سے ڈرتا ہے اور ان کو " مقدس درخت " اور " بھاری پتھر " قرار دے کر طرح طرح کی شرکیات کا ارتکاب کرتا ہے۔ چناچہ وہ وہاں پر یہ نذریں مانتا، نیازیں دیتا، چڑھاوے چڑھاتا اور جھنڈیاں باندھتا اور چلتے چلتے رک رک اور جھک جھک کر سلام کرتا اور اپنے ہاتھوں سے ان بےجان پتھروں کو چھوتا اور ان کو بوسے دیتا ہے کہ اس طرح مجھے پناہ مل جائے گی۔ اب مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا وغیرہ وغیرہ۔ تو پھر شرک اور کس بلا کا نام ہے ؟ اور خود ساختہ " کالی دیوی " سے ڈرنے والے ہندو کے شرک اور ان اوہام و خرافات سے ڈرنے والے اس کلمہ گو کے شرک میں آخر کیا فرق باقی رہ جاتا ہے ؟ ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ جل وعلا ۔ جبکہ قرآن حکیم صاف اور صریح طور پر کہتا ہے کہ اگر تم واقعی ایماندار ہو تو اللہ ہی سے ڈرو کہ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ انسان ہمیشہ اور ہر حال میں اسی وحدہ لاشریک سے ڈرے جو نفع و نقصان کا مالک ہے اور اس کائنات کی باگ ڈور اسی وحدہ لا شریک کے ہاتھ میں ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ -
33 اہل کفر وباطل کی سزا اہل ایمان کے ہاتھوں : سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ اللہ کفار کو تمہارے ہاتھوں عذاب دے گا اور ان کی رسوائی کا سامان کرے گا۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ تم ان سے لڑو اللہ ان کو عذاب دے گا خود تمہارے ہاتھوں کہ یہ تمہارے ہاتھوں سے قتل ہوں گے، قید ہوں گے، پکڑے جائیں گے، جکڑے جائیں گے۔ اور اس طرح ان کی تحقیر و تذلیل میں اور اضافہ ہوگا اور تمہاری عزت و عظمت اور خوشی و مسرت دوبالا ہوگی۔ سو عذاب تو ان کو اللہ دے گا لیکن اس کے اس عذاب کا ظہور و وقوع تمہارے ذریعے اور تمہارے ہاتھوں سے ہوگا۔ بشرطیکہ تمہارا ایمان و عقیدہ صحیح ہو اور تمہارا تعلق و رشتہ اپنے خالق ومالک سے درست اور قوی ہو۔ اور تمہارا بھروسہ و توکل اور اعتماد اسی مالک الملک وحدہ لاشریک پر ہو۔ اور تمہارا دامن شرک اور اس کے شوائب سے محفوظ اور پاک ہو ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید ۔ بہرکیف اس ارشاد سے مسلمانوں کی حوصلہ افزائی فرمائی گئی ہے کہ تم راہ حق میں لڑنے اور جہاد کرنے سے کنی مت کتراؤ اور تم دشمنوں سے ضرور لڑو۔ اللہ تمہارے ہاتھوں سے انکو عذاب دے گا اور ان کو رسوا کرے گا۔ سو بندئہ کا ہاتھ دراصل اللہ کا ہاتھ ہے۔
34 اہل ایمان کے لیے نصرت خداوندی اور شفا بخشی کا وعدہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تمہاری مدد فرمائے گا اور وہ شفا بخشے گا اہل ایمان کے سینوں کو کہ مدد فرمانا اصل میں اسی کی شان اور اسی کا کام ہے۔ مافوق الاسباب مدد تو ہوتی ہی اسی وحدہ لاشریک کی طرف سے ہے۔ وہ اس کے سوا کسی اور میں ماننا شرک ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ مگر ماتحت الاسباب مدد بھی دراصل اسی کی طرف سے ہوتی ہے کہ اسباب و وسائل بھی حقیقت میں اسی کی توفیق و عنایت سے انسان کے لئے مفید و سودمند بنتے ہیں۔ ورنہ یہ بھی الٹا ہلاکت و تباہی کا باعث بن جاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور جب حضرات انبیاء و رسل اور ان کے بھی افضل اور امام اور حضرات صحابہ کرام تک بھی اسی وحدہ لاشریک کی مدد و نصرت کے محتاج ہیں۔ تو پھر اور کون ہوسکتا جو حاجت روائی و مشکل کشائی کا دم بھر سکے اور اس کو اس مرتبہ ومقام پر فائز کیا جاسکے ؟ پس غلط ہے وہ کچھ جو کہ اس کے برعکس جاہل لوگ کہتے اور کرتے ہیں اور راہ حق و صواب سے ہٹے ہوئے ہیں وہ لوگ جو اللہ پاک کے سوا اوروں کو حاجت روا و مشکل کشا قرار دے کر پوجتے پکارتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ پس مدد اللہ تعالیٰ ہی کی مدد ہے اور وہی مدد فرماتا ہے اپنے انبیاء و رسل اور اپنے خاص بندوں کی۔ اور سب اسی کے محتاج ہیں اور وہی سب کا حاجت روا اور مشکل کشا ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 9:1535 اللہ تعالیٰ کی صفت علم وحکمت کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ بڑا ہی جاننے والا نہایت ہی حکمت والا ہے۔ اس لئے وہی جانتا ہے کہ کون توبہ کے لائق اور ایمان کے قابل ہے اور کس کو توبہ کی توفیق ملنی چاہیئے اور کب اور کیسے ؟ کہ وہ ہی سب کچھ جاننے والا، علیم وخبیر اور حکیم مطلق ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور وہ اپنے بندوں سے جو بھی معاملہ فرماتا ہے وہ کامل علم اور نہایت حکمت پر مبنی ہوتا ہے۔ اس کا علم بھی کامل اور اس کی حکمت بھی کامل ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس لیے بندئہ مومن کا کام یہ ہے اور یہی ہونا چاہیے کہ وہ اس خدائے علیم و حکیم سے اپنا معاملہ درست رکھے۔ اپنے ظاہر کے اعتبار سے بھی اور اپنے باطن کے اعتبار سے بھی تاکہ اس کی عنایات اس کو نصیب ہو سکیں۔ اور جب اس کی عنایات نصیب ہوگئیں تو پھر کسی کی کیا پرواہ ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید ۔ سو ان دونون صفات کریمہ کے حوالہ و ذکر سے ایک طرف اہل ایمان کی لیے تسلیہ و تسکین کا سامان ہے کہ وہ راہ حق میں جن قربانیوں اور جانفشانیوں سے کام لے رہے ہیں وہ سب کچھ اس کے علم میں ہے۔ اور ان کو ان کے صلہ وبدلی سے ضرور نوازے گا اور اپنے کمال علم وحکمت کے تقاضوں کے مطابق نوازے گا ۔ سبحانہ وتعالی ۔ اور دوسری طرف اس میں منکرین و معاندین کے لیے تنبیہ وتحذیر بھی ہے کہ یہ لوگ حق اور اہل حق کے خلاف جو کچھ کر رہے ہیں وہ سب بھی اس علیم وحکیم خداوند قدوس کے علم میں ہے۔ ان کو اس کا بھگتان بہرحال بھگتنا ہوگا اگر یہ باز نہ آئے اپنی اس روش سے۔ اور یہ بھگتان ان کو اس کے کمال علم وحکمت کے مطابق بھگتنا ہوگا۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 9:1636 ابتلاء و آزمائش تقاضائے عدل وحکمت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تم لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تم لوگوں کو یونہی چھوڑ دیا جائے گا۔ استفہام انکار کے لئے ہے۔ یعنی ایسے نہیں ہوسکتا اور ان لوگوں کو ایسے نہیں سمجھنا چاہیئے کہ ان کو آزمائش و امتحان کے بغیر یونہی چھوڑ دیا جائے گا اور یہ یونہی جنت کے وارث بن جائیں گے۔ نہیں ایسے نہیں ہوگا بلکہ کھرے کھوٹے کی تمیز کے لئے ابتلاء و آزمائش ضرور ہونی ہے کہ اسی سے ظاہر اور واضح ہوسکتا ہے کہ کون اپنے دعوائے ایمان میں سچا ہے اور کون جھوٹا ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو تم لوگوں نے اگر یہ سمجھ رکھا تھا کہ تمہیں یونہی چھوڑ دیا جائے گا اور تمہاری کوئی آزمائش نہیں ہوگی تو تمہارا یہ خیال غلط تھا۔ سو اس طرح کی آزمائش سے واضح ہوجائے گا کہ اپنی دعوے میں سچا اور کھرا کون ہے اور جھوٹا کون اور صحیح کون ہے اور غلط کون ؟۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ابتلاء و آزمائش تقاضائے عدل وحکمت ہے۔
37 علم سے مراد " رویت " یعنی دیکھنا : سو ارشاد فرمایا گیا ۔ { ولما یعلم اللہ } ۔ " اللہ نے ابھی تک جانا نہیں " یعنی اللہ نے ابھی تک دیکھا نہیں ان لوگوں کو " سو علم سے یہاں پر رویت یعنی دیکھنا مراد ہے۔ اور علم کی نفی سے مراد ملزوم کی نفی ہے بطور مبالغہ۔ یعنی لازم بول کر ملزوم مراد لیا گیا ہے۔ یعنی یہ کہ ایسی کوئی چیز ابھی وجود میں آئی ہی نہیں کیونکہ اگر وجود میں آئی ہوتی تو وہ اللہ پاک کے علم میں ضرور ہوتی۔ (المراغی، المحاسن وغیرہ) ۔ سو جنگ و جہاد ایک کسوٹی ہے جس سے غث و سمین اور کھرے کھوٹے میں تمیز ہوجاتی ہے اور اس سے معاملہ واضح ہوجاتا ہے۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ اپنے علم کامل و محیط کے اعتبار سے پوری طرح جانتا ہے کہ کون اپنے دعوے میں کتنا کھرا ہے لیکن اس نے اس فرق وتمیز کے لیے یہ کسوٹی رکھی ہے۔ کہ ابتلاء و آزمائش کے ذریعے عملی طور پر ان کو نکھار کر الگ کردیا جائے۔ تاکہ اس کے بعد کسی کے لیے انکار کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔
38 " وَلِیْجۃ " کا معنیٰ و مفہوم ؟ : " وَلِیْجۃ " لفظِ " وَلُوْج " سے ماخوذ ہے جس کے معنیٰ گھسنے اور داخل ہونے کے آتے ہیں " ای مَنْ یُّدَاخِلُہٗ فِیْ بَاطِنِ اُمُوْرِہ " (صفوۃ البیان) ۔ اسی لئے اس کا ترجمہ " رازداں " اور " جگری دوست " جیسے کلمات سے کیا جاتا ہے۔ مطلب اس استفہام کا یہ ہوا کہ تم کو اے مومنو ! یونہی نہیں چھوڑ دیا جائے گا بلکہ امتحان اور آزمائش لازمی ہے تاکہ کھرے کھوٹے اور اچھے برے کی تمیز ہوجائے اور وہ لوگ نکھر کر سامنے آجائیں جنہوں نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور انہوں نے اللہ اور اس کے رسول اور اہل ایمان کیخلاف کسی کو اپنا رازداں اور جگری دوست نہیں بنایا کہ مومن کی جگری دوستی مومن ہی سے ہوسکتی ہے اور مومن ہی سے ہونی چاہیئے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل -
39 اللہ تعالیٰ کے علم وآگہی کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا اور اللہ پوری طرح باخبر ہے ان تمام کاموں سے جو تم لوگ کرتے ہو۔ اس لئے اس سے تمہاری کوئی بھی حالت اور کیفیت پوشیدہ نہیں رہ سکتی اور اختبار و آزمائش تو محض تمہارے باطن کی کیفیت کے اظہار کے لئے ہوتا ہے تاکہ تمہارے اندر کا حال کھل کر اور نکھر کر سب کے سامنے آجائے۔ ورنہ وہ تو دلوں کے بھیدوں تک کو پوری طرح جانتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس لیے ہمیشہ فکر و کوشش اس امر کی ہونی چاہیئے کہ اس علیم وخبیر ذات اقدس و اعلی سے ہمارا معاملہ صحیح رہے۔ اپنے ظاہر کے اعتبار سے بھی اور باطن کے اعتبار سے بھی ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید ۔ وہو الہادی الی سواء السبیل -
Ayah 9:1740 مشرک کا کام نہیں کہ وہ مسجد کو آباد کرے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ مشرکوں کا یہ کام نہیں کہ وہ آباد کریں اللہ کی مسجدوں کو ( اور وہ انکے متولی اور مجاور بنیں) درآنحالیکہ وہ خود گواہی دے رہے ہوں اپنے اوپر کفر کی۔ اور وجہ اس کی ظاہر ہے کہ مسجد تو توحید و ایمان کا مرکز ہوتا ہے۔ اس کو آباد کرنا بھی مومن موحد ہی کام ہوسکتا ہے، نہ کہ مشرک کا۔ مگر واضح رہے کہ یہاں آبادی سے مراد غلبہ اور کنٹرول والی آبادی ہے کہ یہ صرف مسلمان کا حق ہے۔ پس غیر مسلم و مشرک کے لئے مسجد کی تعمیر یا مرمت وغیرہ کا کوئی ایسا کام کرنا منع نہیں جو کہ مسلمانوں کی ماتحتی میں اور انہی کے حکم و منشاء کے مطابق کیا جائے۔ البتہ کسی مسجد کا انتظام و انصرام اور اس کی تولیت و اہتمام کا حق کسی غیر مسلم کو نہیں پہنچ سکتا، جیسا کہ مشرکین مکہ نے مسجد حرام پر کر رکھا تھا۔ (معارف القرآن وغیرہ) ۔ بہرکیف شرک چونکہ نری نجاست ہے اور مشرک لوگ قطعی طور پر جہنمی ہیں۔ اس لیے ایسے لوگوں کو کسی مسجد کی تولیت کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔ یہ تو صرف ایمان والوں کا کام اور انہی کی شان ہے کہ وہ مسجدوں کے متولی بنیں اور ان کی خدمت کریں۔
41 کفر و شرک کا انجام خلود فی النار۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے لوگوں کے تمام اعمال اکارت چلے گئے اور انہوں نے ہمیشہ دوزخ میں رہنا ہے۔ سو اس میں تصریح فرما دی گئی کہ ایسے لوگوں کو ہمیشہ دوزخ میں ہی رہنا ہوگا کہ کفر و شرک کا آخری نتیجہ و انجام بہرحال یہی ہے۔ معلوم ہوا کہ خلود فی النار صرف کافر کے لئے ہے جس کے اعمال اس کے کفر و انکار کی بناء پر اکارت چلے گئے نہ کہ اہل ایمان کے لئے۔ سو کفر و شرک تمام خرابیوں کی خرابی اور جملہ شرو فساد کی جڑ بنیاد ہے، جس کے ساتھ کوئی نیکی بھی قابل قبول اور لائقِ اعتناء نہیں، خواہ وہ مسجد حرام کی آباد کاری اور حجاج کرام کی سقایت و خدمت کی نیکی ہی کیوں نہ ہو ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ الّذی لَا اِلْہَ الاّ ھُوَ ۔ سو اصل دولت ایمان و یقین کی دولت ہی ہے جو دارین کی سعادت و سرخروئی سے ہمکنار و سرفراز کرنے والی دولت ہے ورنہ اندھیرا ہی اندھیرا اور محرومی ہی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ایمان سعادت دارین کا ذریعہ ہے اور اس سے محرومی سب سے بڑا خسارہ ۔ والعیاذ باللہ العظیم -