9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsانوار البیان

Ayah 9:1

بَرَآءَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَى الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَؕ Open ayah 9:1 in the Quran reader

(اے اہل اسلام اب) خدا اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے مشرکوں سے جن سے تم نے عہد کر رکھا تھا بیزاری (اور جنگ کی تیاری ہے)

(9:1) براء ۃ۔ بیزاری۔ بیزار ہونا۔ خلاصہ۔ چھٹکارا پانا۔ بری ہونا۔ قطع تعلقی۔ مصدر ہے۔ البرئ۔ البرائ۔ التبری کے اصل معنی کسی مکروہ امر سے نجات حاصل کرنے کے ہیں۔ اس لئے کہا جاتا ہے برات من المرض۔ میں نے مرض سے نجات پائی اور برات من فلان میں فلاں سے بیزار ہوں۔ اور قرآن میں ہے : ان اللہ بریٔ من المشرکین ورسولہ (9:3) اللہ تعالیٰ مشرکوں سے بیزار ہے اور اس کا رسول بھی۔ اور انتم بریئون من اعمل وانا بریٔ مما تعملون (10:41) تم میرے عملوں سے بری الزمہ ہو اور میں تمہارے عملوں سے بری الذمہ ہوں۔ براء ۃ خبر ہے جس کا مبتدا ھذہ محذوف ہے۔ یعنی ھذہ براء ۃ۔ یہ (اعلان) برات (قطع تعلقی) ہے۔ من اللہ ورسولہ اللہ اور اللہ کے رسول کی طرف سے الی الذین عاھدتم من المشرکین۔ مشرکوں میں سے ان لوگوں کی طرف جن سے تم نے (مسلمانوں نے) معاہدہ کر رکھا ہے (جیسا کہ کہتے ہیں ھذا کتب من فلان الی فلان یہ تحریر فلاں کی جانب سے فلاں کی طرف) ۔ اس کا پس منظر مختصراً یہ ہے کہ سنہ 9 ھ میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو امیر الحج مقرر فرما کر مکہ روانہ کیا۔ ان کے جانے کے بعد آیات سورة برأۃ 1 تا 37 نازل ہوئیں۔ جن میں ساف صاف حکم دیا گیا تھا کہ اب کفر کے ساتھ سابقہ معاہدے منسوخ ہیں۔ رسالت مآب علیہ التحیۃ والسلام نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو پیچھے بھیجا کہ حج کے دن ان احکام خداوندی کا اعلان عام کردیں۔ چناچہ دسویں ذوالحجہ کو جمرۃ العقبہ کے پاس کھڑے ہوکر حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے یہ آیات تلاوت فرمائیں۔ اس سورة کے ابتدا میں بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں ہے۔ علماء نے اس کی متعدد وجوہات لکھی ہیں لیکن صحیح بات وہی ہے جو حضرت امام رازی (رح) نے فرمائی ہے :۔ کہ رسول مقبول ﷺ نے خود اس سورة کے آغاز میں بسم اللہ نہیں لکھوائی اس لئے صحابہ کرام ؓ نے بھی نہیں لکھی۔ اور بعد کے لوگ بھی اس کی پیروی کرتے چلے آئے۔
Ayah 9:2

فَسِیْحُوْا فِی الْاَرْضِ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللّٰهِ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ مُخْزِی الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:2 in the Quran reader

تو (مشرکو تم) زمین میں چار مہینے چل پھر لو اور جان رکھو کہ تم خدا کو عاجز نہ کرسکو گے اور یہ بھی کہ خدا کافروں کو رسوا کرنے والا ہے۔

(9:2) فسیحوا۔ ساح یسیح (باب ضرب) سیح سے امر ، جمع مذکر حاضر۔ تم پھر لو۔ سیاحت کرلو۔ گھوم پھر لو۔ چل پھر لو۔ الساحۃ کے معنی ففراخ جگہ کے ہیں۔ اسی اعتبار سے مکان کے صحن کو ساحۃ الدار کہا جاتا ہے۔ وسیع مکان میں ہمیشہ جاری رہنے والے پانی کو سالح کہا جاتا ہے۔ ساح فلان فی الارض کے معنی پانی کی طرح زمین میں چکر کاٹنے کے ہیں۔ اسی سے ہمیشہ سفر کرنے والے کو سائح یاسیاح کہا جاتا ہے۔ اور آیت 9:112 میں السائحون سے مراد روزہ رکھنے والے ہیں۔ فسیحوا میں خطاب مشرکین سے ہے۔ انکم غیر معجزی اللہ۔ تم اللہ کو عاجز کرسکنے والے نہیں ہو۔ یعنی نہ تو تم اس کے قبضہ سے بچ کر نکل سکتے ہو اور نہ اس کے پلان کو فیل کرسکتے ہو۔ وان اللہ مخزی الکافرین۔ اور یقینا اللہ تعالیٰ کافروں کو ذلیل کرنے والا ہے ینی اس دنیا میں قتل و شکست کی ذلت اور آخرت میں عذاب کی ذلت۔
Ayah 9:3

وَ اَذَانٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَى النَّاسِ یَوْمَ الْحَجِّ الْاَكْبَرِ اَنَّ اللّٰهَ بَرِیْٓءٌ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ١ۙ۬ وَ رَسُوْلُهٗ١ؕ فَاِنْ تُبْتُمْ فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللّٰهِ١ؕ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ Open ayah 9:3 in the Quran reader

اور حج اکبر کے دن خدا اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے لوگوں کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ خدا مشرکوں سے بیزار ہے اور اس کا رسول ﷺ بھی (ان سے دستبردار ہے) پس اگر تم توبہ کرلو تو تمہارے حق میں بہتر ہے اور اگر نہ مانو (اور خدا سے مقابلہ کرو) تو جان رکھو کہ تم خدا کو ہرا نہیں سکو گے اور (اے پیغمبر ﷺ ! ) کافروں کو دکھ دینے والے عذاب کی خبر سنا دو ۔

(9:3) اذان من اللہ ۔۔ الی الناس۔ تمام لوگوں کے لئے اطلاع عام۔ برأت صرف ان مشرکین سے تھی جن کے ساتھ معاہدات تھے اور اذان تمام لوگوں کے لئے اس برأت کی اطلاع عام۔ یوم الحج الاکبر۔ بڑے حج کا دن یعنی یوم عرفات 9 ذوالحج کا دن۔ جس دن حجاج میدان عرفات میں قیام کرتے ہیں۔ اور غروب آفتاب سے قبل مزدلفہ کی طرف جانے کے لئے نکل آتے ہیں۔ 8 ۔ 9 ۔ 10 ذوالحج کے ایام ہیں۔ مناسک حج میں میدان عرفات میں قیام سب سے اہم ہے۔ یا اس سے یوم البخر بھی مراد ہوسکتا ہے یعنی دسویں ذوالحج کیونکہ اس دن مناسک حج پوری ہوجاتی ہیں۔ یعنی حجاج طواف اور قربانی سے فارغ ہوجاتے ہیں۔ یا جملہ ایام حج مراد ہیں کہ عرب میں عمرہ کو حج اصغر کہتے ہیں اور ذی الحجہ کی مقررہ تاریخوں میں جو حج ہوتا ہے اسے حج اکبر کہا جاتا ہے۔ لیکن یہاں چونکہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے 10 ذوالحجہ کو اعلان سنایا تھا لہٰذا یہاں مراد یوم النحر ہی ہوسکتا ہے (یعنی آج حج اکبر کے دن اللہ اور اللہ کے رسول کی طرف سے یہ اعلان عام کیا جاتا ہے) بریٔ۔ بری۔ بری الذمہ۔ بیزار۔ ملاحظہ ہو (9:1) ورسولہ۔ واؤ حرف عطف۔ رسولہ مضاف مضاف الیہ مل کر معطوف ۔ اس کا معطوف علیہ اللہ ہے۔ عام قاعدہ کے مطابق معطوف اور معطوف الیہ کا اعراب ایک ہی ہونا چاہیے تھا۔ یعنی اللہ کی طرح رسولہٗ بھی منصوب ہونا چاہیے تھا۔ لیکن اس کے مرفوع ہونے کی وجہ یہ ہے کہ رسولہٗ مضاف مضاف الیہ مل کر مبتدا ہے اور اس کی خبر بریٔ محذوف ہے اور جملہ ورسولہٗ بریٔ بصورت جملہ پہلے جملہ ان اللہ بریٔ کا معطوف ہے۔ ان تبتم۔ اگر تم تائب ہوجاؤ۔ یہاں خلاف مشرکین سے ہے کہ اگر تم شرک و کفر سے باز آجاؤ۔ ان تولیتم۔ اگر تم پھرگئے۔ ولی (تفعل) سے ماضی جمع مذکر حاضر۔ بشیر۔ تو خوشخبری دے۔ تو بشارت دے۔ تو خبر دے۔ تبشیر (تفعیل) سے امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ بشارت استہزاء کے طور پر ہوا ہے۔
Ayah 9:4

اِلَّا الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ ثُمَّ لَمْ یَنْقُصُوْكُمْ شَیْئًا وَّ لَمْ یُظَاهِرُوْا عَلَیْكُمْ اَحَدًا فَاَتِمُّوْۤا اِلَیْهِمْ عَهْدَهُمْ اِلٰى مُدَّتِهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:4 in the Quran reader

البتہ جن مشرکوں کے ساتھ تم نے عہد کیا ہو اور نہوں نے تمہارا کسی طرح کا قصور نہ کیا ہو اور نہ تمہارے مقابلے میں کسی کی مدد کی ہو تو جس مدت تک ان کے ساتھ عہد کیا ہو اسے پورا کرو (کہ) خدا پرہیزگاروں کو دوست رکھتا ہے۔

(9:4) لم ینقصوکم۔ نقص ینقص (باب نصر) نقصاد نقصانا۔ کم ہونا ۔ گھٹنا۔ کم کرنا۔ گھٹانا نقضت زیدا حقہ میں نے زید کے حق میں کمی کردی اس کے حق کو گھٹا دیا۔ لم ینقصوا۔ مضارع نفی جحد بلم۔ کم ضمیر جمع مذکر حاضر۔ انہوں نے تمہارے حق میں کمی نہیں کی۔ یعنی تمہاری حق تلفی نہیں کی۔ تمہارا نقصان نہیں کیا۔ انہوں نے تمہارا قصور نہیں کیا۔ (انہوں نے تکمیل عہد میں کمی نہیں کی) ۔ لم یظاھروا علیکم۔ ظاھر یظاھر مظاھرۃ (باب مفاعلۃ) ایک دوسرے کی امدا کرنا۔ علیکم۔ تمہارے خلاف۔ مضارع نفی جحد بلم۔ جمع مذکر غائب انہوں نے تمہارے خلاف کسی دوسرے کی مدد نہیں کی۔
Ayah 9:5

فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ وَ خُذُوْهُمْ وَ احْصُرُوْهُمْ وَ اقْعُدُوْا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ١ۚ فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:5 in the Quran reader

جب عزت کے مہینے گزر جائیں تو مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کردو اور پکڑ لو اور گھیر لو اور ہر گھات کی جگہ پر ان کی تاک میں بیٹھے رہو۔ پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز پڑھنے اور زکوٰۃ دینے لگیں تو ان کی راہ چھوڑ دو ۔ بیشک خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

(9:5) انسلخ۔ وہ گزر گیا۔ (یعنی حرمت والے مہنے گزر جائیں) نیز ملاحظہ ہو (7:175) احصروہم (باب نصر۔ باب ضرب) ان کو محصور رکھو۔ ان کو قید رکھو۔ ان کو روکے رکھو۔ امر جمع مذکر حاضر۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب حصر سے۔ مرصد۔ واحد۔ مراصد۔ جمع ۔ ظرف مکان۔ گھاٹ کی جگہ ۔ رصد یرصد (نصر) نگاہ رکھنا۔ گھات لگانا۔ واقعدوا لہم کل مرصد۔ ان کی تاک میں ہر گھات کی جگہ بیٹھو۔ فخلوا سبیلہم۔ تو ان کا راستہ چھوڑ دو ۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تخلیۃ (تفعیل) سے مصدر چھوڑ دینا۔
Ayah 9:6

وَ اِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ اسْتَجَارَكَ فَاَجِرْهُ حَتّٰى یَسْمَعَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ اَبْلِغْهُ مَاْمَنَهٗ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 9:6 in the Quran reader

اور اگر کوئی مشرک تم سے پناہ کا خواستگار ہو تو اس کو پناہ دو یہاں تک کہ کلام خدا سننے لگے پھر اس کو امن کی جگہ واپس پہنچا دو ۔ اس لئے کہ یہ بیخبر لوگ ہیں۔

(9:6) استجارک۔ اس کا مادہ جور ہے الجار۔ پڑوسی۔ ہمسایہ ۔ استجار۔ اس نے پناہ طلب کی۔ استجارک۔ اس نے تجھ سے پناہ طلب کی۔ استجارۃ (افتعال) ماضی واحد مذکر غائب ک ضمیر واحد مذکر حاضر۔ جار پناہ دینے والا۔ مددگار۔ وانی جارلکم (8:48) اور میں تمہارا حامی مددگار ہوں۔ اور وھو یجیر ولا یجار علیہ (23:88) اور وہ پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابل کوئی پناہ نہیں دے سکتا۔ اور معنی قرب کے اعتبار سے جار عن الطریق کا محاورہ استعمال ہوتا ہے۔ جس کے معنی ہیں راستہ سے ایک طرف مائل ہونے کے۔ پھر مطلقاً حق سے عدول کرنے کے لئے اس کو اصل قرار دے کر اس سے الجور بمعنی ظلم بنایا گیا۔ قرآن حکیم میں ہے ومنھا جائر (16:9) اور بعض راستے سیدھی راہ سے ایک جانب مائل ہو رہے ہیں۔ جو روستم۔ ظلم و ستم کے معنی میں عام استعمال ہوتا ہے۔ فاجرہ۔ پس اس کو پناہ دے۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔ وان احد من المشرکین استجارن فاجرہ۔ یہاں پناہ طلب کرنے سے مراد یہ ہے کہ اگر کوئی مشرک چار ماہ کی مدت گزرنے کے بعد بھی اس مطلب کے لئے پناہ مانگے کہ وہ قرآن حکیم کے پیغام کو سمجھنے اور اپنی غلط فہمیاں ۔ شک و شبہات دور کرنے کے لئے موقعہ چاہتا ہے تو اسے یہ موقعہ فراہم کرنا چاہیے۔ (اگلا جملہ حتی یسمع کلم اللہ اس معنی کی طرف اشارہ ہے) مامنہ۔ مامن۔ جائے امن۔ ظرف مکان۔ مامنہ مضاف مضاف الیہ ۔ اس کی جائے امن۔ (اس کی قوم کی بستی ہو یا کوئی اور جگہ جہاں وہ امن پاسکے) امن ۔ امانۃ۔ امان مصدر۔
Ayah 9:7

كَیْفَ یَكُوْنُ لِلْمُشْرِكِیْنَ عَهْدٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عِنْدَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَّا الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ۚ فَمَا اسْتَقَامُوْا لَكُمْ فَاسْتَقِیْمُوْا لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:7 in the Quran reader

بھلا مشرکوں کے لئے (جنہوں نے عہد توڑ ڈالا) خدا اور اس کے رسول ﷺ کے نزدیک عہد کیونکر (قائم) رہ سکتا ہے ؟ ہاں جن لوگوں کے ساتھ تم نے مسجد محترم (یعنی خانہ کعبہ) کے نزدیک عہد کیا ہے اگر وہ (اپنے عہد پر) قائم رہیں تو تم بھی اپنے قول وقرار (پر) قائم رہو۔ بیشک خدا پرہیزگاروں کو دوست رکھتا ہے۔

(9:7) کیف۔ کیسا۔ کیسے۔ کیونکر۔ یہاں بطور استفہام انکاری استعمال ہوا ہے۔ کیف یکون للمشرکین عھد عند اللہ وعندہ رسولہ۔ ان (عہد شکن) مشرکین کے لئے اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک کوئی معاہدہ کیونکر ہوسکتا ہے (یعنی نہیں ہوسکتا) ۔ یعنی اگر یہ مشرکین اللہ اور اللہ کے رسول کے ساتھ کئے گئے معاہدوں کو بار بار توڑنے کا ارتکاب کرتے ہیں تو اللہ اور اللہ کا رسول ان کے ساتھ عہد کا پاس کیسے کرسکتے ہیں ۔ فما۔ ما مصدریہ ظرفیہ یا جزائیہ ہے (مثال مصدریہ وضاقت علیہم الارض بما رحبت (10:25) اور باوجود فراخ ہونے کے ان پر زمین تنگ ہوگئی۔ مثال مصدریہ ظرفیہ :۔ واوصانی بالصلوۃ والزکوۃ مادمت حیا (19:31) اور اس نے مجھے تاکید کی ہے نماز کی اور زکوۃ کی جب تک میں زندہ ہوں۔ مثال جزائیہ :۔ ما یفعل افعل (جو کچھ وہ کرے گا میں کروں گا) ۔ یہاں اس آیت میں بمعنی مصدریہ ظرفیہ ہے۔ یعنی جب تک وہ تمہارے معاہدہ پر قائم رہیں تم بھی ان کے لئے قائم رہو۔
Ayah 9:8

كَیْفَ وَ اِنْ یَّظْهَرُوْا عَلَیْكُمْ لَا یَرْقُبُوْا فِیْكُمْ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّةً١ؕ یُرْضُوْنَكُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ تَاْبٰى قُلُوْبُهُمْ١ۚ وَ اَكْثَرُهُمْ فٰسِقُوْنَۚ Open ayah 9:8 in the Quran reader

(بھلا ان سے عہد) کیونکر (پورا کیا جائے جب انکا حال یہ ہے) کہ اگر تم پر غلبہ پالیں تو نہ قرابت کا لحاظ کریں نہ عہد کا ؟ یہ منہ سے تو تمہیں خوش کردیتے ہیں لیکن ان کے دل (ان باتوں کو قبول نہیں کرتے) اور ان میں سے اکثر نافرمان ہیں۔

(9:8) کیف۔ یہاں بھی استفہام انکاری یا اظہار حیرت و تعجب کے لئے ہے اس کی تکرار مشرکین کی متواتر عہد شکنی اور عدم ثبات کے لئے ہے۔ تقدیر کلام ہو ہے :۔ کیف یکون لہم عھد وان یظھروا علیکم۔ اور کیسے وہ سکتا ہے معاہدہ ان کے ساتھ جب کہ حال یہ ہے کہ تم پر برتری حاصل ہوجائے تو ۔۔ الخ۔ لا یرقبوا۔ مضارع منفی مجزوم (بوجہ جواب شرط) رقب مصدر۔ (باب نصر) پاس یا لحاظ نہیں کریں گے۔ رعایت نہیں کریں گے۔ رقب یرقب رقوب ورقابۃ رقبان۔ نگرانی کرنا۔ نگہبانی کرنا۔ انتظار کرنا۔ ڈرانا۔ الرقبۃ اصل میں گردن کو کہتے ہیں۔ پھر عرف عام میں غلام کے معنوں میں استعمال ہونے لگا ہے۔ قرآن حکیم ہیں ہے :۔ ومن قتل مؤمنا خطأتحریر رقبۃ مؤمنۃ (4:92) کہ جو شخص کسی مسلمان کو غلطی سے (بھ) مار ڈالے تو ایک مسلمان غلام آزاد کرائے۔ نگران کو رقیب کہتے ہیں یا تو اس لئے کہ وہ اس شخص کی گردن پر نظر رکھتا ہے جس کی نگرانی منظور ہوتی ہے یا اس لئے کہ وہ نگرانی کے لئے اپنی گردن بار بار الٹا کر دیکھتا ہے۔ انتظار کرنے کے معنی میں قرآن مجید میں ہے وارتقبوا انی معکم رقیب (11:93) تم بھی منتظر رہو میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں۔ ترقب (تفعل) انتظار کرتے ہوئے کسی چیز سے بچنا۔ جیسے قرآن کریم میں ہے فخرج منھا خائفا یترتب (28:21) موسیٰ (علیہ السلام) شہر سے نکل بھاگے اور دوڑتے جاتے تھے کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے۔ لہٰذا لایرقبوا۔ وہ (اپنے عہد کا) پاس نہیں کریں گے۔ (اپنے عہد کی) نگہبانی (پاسبانی) نہیں کریں گے۔ فیکم۔ تماہرے بارے میں ۔ الا۔ ان کے معنی قرابت ، عہد، حلف اور اللہ کے ہیں۔ قرابت کے معنوں میں حضرت حسان بن ثابت ؓ کا شعر ہے لعمرک ان اتک من قریش کال السقب من رأل النعام تیری جان کی قسم تیری قرابت قریش سے ایسی ہے جیسی کہ اونٹنی کے بچے کی قرابت شتر مرغ کے بچے سے ہے۔ اور عہد کے معنوں میں :۔ وجدنا ھموکاذبا الہم وذوا لال والعھد لایکذب ہم نے ان کو عہد کا جھوٹا پایا۔ حالانکہ عہد کرنے والا جھوٹ نہیں بولتا۔ اور حلف کے معنوں میں :۔ لولا نبو مالک والال مرقبۃ وما لک فیہم الا لاء والشرف (اوس بن حجر) اگر بنو مالک نے ہوتے اور قسم کہ جس کی پابندی کی گئی۔ اور بنو مالک ہی میں بخشیش ہیں اور شرافت ہے۔ اور اللہ کے معنی میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا قول :۔ ان ھذا الکلام لم یخرج من ال۔ یہ کلام اللہ تعالیٰ سے سرزد نہیں ہوا۔ لایرقبوا فیکم الا ولاذمۃ۔ تمہارے بار میں نہ قرابت کا لحاظ رکھیں گے اور نہ عہد کا اور نہ حلف کا اور نہ اللہ تعالیٰ کا۔ ذمۃ۔ عہد۔ اس کی جمع ذمم ہے۔ یرضونکم بافواھھم۔ ارضاء (افعال) سے مضارع جمع مذکر غائب۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر وہ تم کو راضی کرتے ہیں۔ وہ تم کو خوش کرتے ہیں۔ رضی مادہ ہے اور ثلاثی مجرد سے مصدر بھی۔ افواہہم۔ افواہ مضاف ہم مضاف الیہ۔ افواہ۔ فوہ کی جمع بمعنی منہ بافواھھم اپنے منہ سے یعنی زبانی کلامی۔ تابی۔ وہ انکار کرتے ہیں۔ لیکن یہاں ولقب جمع مکسر کے لئے مؤنث کا صیغہ استعمال ہوا ہے بمعنی ان کے دل انکار کرتے ہیں۔ اباء مصدر مضارع واحد مؤنث غائب ابی یابی (فتح) انکار کرنا۔ ناپسند کرنا۔ مکروہ جاننا۔ ناخوش ہونا (باب ضرب) سے بھی آتا ہے فاسقون۔ راستی سے نکل جانے والے۔ نافرمانی کرنے والے۔ حدود شریعت سے نکل جانے والے۔ اللہ کی اطاعت سے نکل جانے والے۔
Ayahs 9:9–11

اِشْتَرَوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 9:9 in the Quran reader

یہ خدا کی آیتوں کے عوض تھوڑا سا فائدہ حاصل کرتے اور (لوگوں کو) خدا کے راستے سے روکتے ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ جو کام یہ کرتے ہیں برے ہیں۔

لَا یَرْقُبُوْنَ فِیْ مُؤْمِنٍ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّةً١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُعْتَدُوْنَ Open ayah 9:10 in the Quran reader

یہ لوگ کسی مومن کے حق میں نہ تو رشتہ داری کا پاس کرتے ہیں نہ عہد کا۔ اور یہ حد سے تجاوز کرنے والے ہیں۔

فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِ١ؕ وَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 9:11 in the Quran reader

اگر یہ توبہ کرلیں اور نماز پڑھنے اور زکوٰۃ دینے لگیں تو دین میں تمہارے بھائی ہیں اور سمجھنے والے لوگوں کے لئے ہم اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں۔

(9:9) اشتروا۔ انہوں نے مول لیا۔ انہوں نے بیچا۔ اشتری یشتری اشتراء (افتعال) سے جس کے معنی خریدنا اور بیچنا دونوں آتے ہیں۔ اشتروا بایت اللہ ثمنا قلیلا۔ انہوں نے اللہ کی آیات کے بدلے تھوڑی سی قیمت قبول کرلی۔ (یعنی ہوائے نفس کے تابع ہوگئے اور اللہ کی آیات پر یقین نہ کیا) صدواعن۔ وہ پھرگئے۔ انہوں نے ترک کردیا۔ انہوں نے (دوسروں) کو روکا۔ باز رکھا۔ سائ۔ یسوء (نصر) ماضی واحد مذکر غائب سوء سے ۔ برا ہے۔ معتدون۔ اسم فاعل۔ جمع مذکر۔ مرفوع۔ المعتدی۔ واحد۔ حق سے تجاوز کرنے والے۔ اعتداء (افتعال) مصدر۔ یہ لفظ زیادتی کے ہر پہلو کو جامع ہے۔ یہاں مراد عہد شکنی ہے۔
Ayah 9:12

وَ اِنْ نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَ طَعَنُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ فَقَاتِلُوْۤا اَئِمَّةَ الْكُفْرِ١ۙ اِنَّهُمْ لَاۤ اَیْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَنْتَهُوْنَ Open ayah 9:12 in the Quran reader

اور اگر عہد کرنے کے بعد اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمہارے دین میں طعنے کرنے لگیں تو (ان) کفر کے پیشواؤں سے جنگ کرو (یہ بےایمان لوگ ہیں اور) ان کی قسموں کا کچھ اعتبار نہیں ہے۔ عجب نہیں کہ (اپنی حرکات سے) باز آجائیں۔

(9:12) نکثوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ نکث مصدر۔ (باب ضرب و نصر) انہوں نے عہد کو توڑا۔ نکثیۃ۔ عہد شکنی۔ جھوٹ۔ ایسا دشوار کام جس میں لوگ عہد و پیمان کو توڑ ڈالیں۔ طعنوا۔ انہوں نے ثعن کیا۔ انہوں نے عیب نکالا۔ طعن سے جس کا اصل معنی نیزہ مارنا ہے (باب ضرب۔ نصر۔ فتح) ہر وہ چیز جو دل کو دکھ پہنچانے والی ہو اس کو بھی طعن کہتے ہیں۔ مثلاً عیب جوئی۔ طعنہ زنی۔ طعن۔ بمعنی نیزہ زنی اکثر باب نصر سے آتا ہے۔ اور جب اس کا تعلق طعن بالقول سے ہو تو باب فتح سے۔ یہاں مراد عیب جوئی۔ نقص بینی کے ہیں۔ ائمۃ الکفر۔ رؤس المشرکین۔ کفر کے پیشوا۔ کافروں کے لیڈر۔ حضرت ابن عباس ؓ کے قول کے مطابق اس سے مراد ابوسفیان بن حرب۔ الحرث بن ہشام، سہیل بن عمرو، ابو جہل وغیرہ ہیں۔ ائمۃ امام کی جمع ہے۔ لیڈر، سردار، قائد، پیشوا، سرکردہ ینتھون۔ وہ بار رہتے ہیں۔ (شاہد وہ باز آجائیں) وہ باز آجائیں۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ انتھاء (افتعال) مصدر نہی مادہ
Ayahs 9:13–14

اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ وَ هَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَ هُمْ بَدَءُوْكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ؕ اَتَخْشَوْنَهُمْ١ۚ فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْهُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:13 in the Quran reader

بھلا تم ایسے لوگوں سے کیوں نہ لڑو (جنہوں نے اپنی) قسموں کو توڑ ڈالا اور پیغمبر (خدا) ﷺ کے جلا وطن کرنے کا عزم مصمم کرلیا اور انہوں نے تم سے (عہد شکنی کی) ابتداء کی ؟ کیا تم ایسے لوگوں سے ڈرتے ہو ؟ حالانکہ ڈرنے کے لائق خدا ہے بشرطیکہ ایمان رکھتے ہو۔

قَاتِلُوْهُمْ یُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَیْدِیْكُمْ وَ یُخْزِهِمْ وَ یَنْصُرْكُمْ عَلَیْهِمْ وَ یَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 9:14 in the Quran reader

ان سے خوب لڑو۔ خدا انکو تمہارے ہاتھوں سے عذاب میں ڈالے گا اور رسوا کرے گا اور تم کو ان پر غلبہ دے گا اور مومن لوگوں کے سینوں کو شفا بخشے گا۔

(9:13) الا تقاتلون۔ کیا تم جنگ نہیں کروگے۔ کیا تم نہیں لڑو گے۔ بدء وکم۔ انہوں نے پہلے تم سے شروع کیا۔ (یعنی زیادتی میں پہل انہوں نے کی) بذء سے ماضی جمع مذکر غائب۔
Ayah 9:15

وَ یُذْهِبْ غَیْظَ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ یَتُوْبُ اللّٰهُ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:15 in the Quran reader

اور انکے دلوں سے غصہ دور کرے گا اور جس پر چاہے گا رحمت کریگا اور خدا سب کچھ جانتا (اور) حکمت والا ہے۔

(9:15) ویذھب غیظ قلوبھم۔ ان کے دلوں کا غصہ دور کر دیگا۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب مؤمنین کی طرف راجع ہے۔
Ayah 9:16

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَكُوْا وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَ لَمْ یَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لَا رَسُوْلِهٖ وَ لَا الْمُؤْمِنِیْنَ وَلِیْجَةً١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 9:16 in the Quran reader

کیا تم لوگ یہ خیال کرتے ہو کہ (بےآزمائش) چھوڑ دیے جاؤ گے ؟ اور ابھی تو خدا نے ایسے لوگوں کو متمیز کیا ہی نہیں جنہوں نے تم سے جہاد کئے اور خدا اور اس کے رسول ﷺ اور مومنوں کے سوا کسی کو دلی دوست نہیں بنایا۔ اور خدا تمہارے (سب) کاموں سے واقف ہے۔

(9:16) حسبتم۔ تم نے گمان کیا۔ تم نے خیال کیا۔ ماضی بمعنی مضارع ۔ تم گمان کر رہے ہو۔ تم خیال کر رہے ہو۔ حسبان مصدر۔ صیغہ ماضی جمع مذکر حاضر۔ تترکوا۔ تم چھوڑ دئیے جاؤ گے۔ ترک سے مضارع مجہول جمع مذکر حاضر۔ ان کے عمل سے نون اعرابی گرگیا۔ لما۔ حرف جازم ہے مضارع پر داخل ہوکر اس کو جزم دیتا ہے اور ماضی منفی کے معنی میں کردیتا ہے۔ مثال کے لئے ملاحظہ ہو (2:214 اور 49:14) ۔ لما پر تفصیلی بحث کے لئے ملاحظہ ہو (2:214) یعلم۔ مضارع مجزوم بوجہ عمل لما۔ اس نے نہیں جانا۔ اس نے معلوم نہیں کیا۔ لما یعلم اللہ اللہ تعالیٰ نے ابھی تک معلوم نہیں کیا۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کا علم کسی امر کے وقوع ہونے پر موقوف نہیں وہ ہر اس چیز کا علم رکھتا ہے جو ہوچکی ہے یا ہو رہی ہے یا ہونیوالی ہے خواہ مستقبل قریب میں ہو یا مستقبل بعید میں۔ لہٰذا یہاں اللہ تعالیٰ کے علم سے مراد جاننا نہیں ہے بلکہ جتانا۔ پہچان کروانا دوسروں کے علم میں لانا اور امر معلوم کو ممیز و ممتاز کرنا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ابھی تک دوسروں کے سامنے اس امر کو نتھارا ہی نہیں۔ اس کی پہچان ہی نہیں کروائی۔ آیۃ ہذا کا ترجمہ یوں ہوگا۔ کہ کیا تمہارا خیال ہے کہ تمہیں یوں ہی چھوڑ دیا جائے گا حالانکہ ابھی تک تم میں سے مجاہدین کو اور اللہ اور اس کے رسول اور مؤمنین کے سوا کسی دوسرے کو اپنا ولی دوست یا ہمراز نہ بنانے والے اشخاص کی (امتحان لے کر) اس نے پہچان ہی نہیں کرائی۔ ابھی عاشقی کے امتحاں اور بھی ہیں۔ ولیجۃ۔ ولوج بمعنی دخول سے بنایا گیا ہے۔ گہرے دوست۔ اندرونی دوست۔ علامہ قرطبی (رح) فرماتے ہیں کہ :۔ قولیجۃ الرجل من یختص بدخلۃ امرہ دون الناس۔ ولیجہ وہ شخص جسے عامۃ الناس سے ورے اپنے اندرونی راز کے لئے مختص کیا جائے۔ اندرونی دوست یہ واحد اور جمع دونوں کے لئے آتا ہے۔
Ayahs 9:17–18

مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِیْنَ اَنْ یَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰهِ شٰهِدِیْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ١ۖۚ وَ فِی النَّارِ هُمْ خٰلِدُوْنَ Open ayah 9:17 in the Quran reader

مشرکوں کو زیبا نہیں کہ خدا کی مسجدوں کو آباد کریں (جبکہ) وہ اپنے آپ پر کفر کی گواہی دے رہے ہوں۔ ان لوگوں کے سب اعمال بیکار ہیں اور یہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔

اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَ وَ لَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰهَ فَعَسٰۤى اُولٰٓئِكَ اَنْ یَّكُوْنُوْا مِنَ الْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 9:18 in the Quran reader

خدا کی مسجدوں کو تو وہ لوگ آباد کرتے ہیں جو خدا پر اور روز قیامت پر ایمان لاتے اور نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے۔ یہی لوگ امید ہے کہ ہدایت یافتہ لوگوں میں (داخل) ہوں گے۔

(9:17) ما کان للمشرکین۔ مشرکوں کو یہ روا نہیں۔ ان کو یہ حو نہیں پہنچتا۔ ان کے لئے یہ جائز نہیں۔ ان کا یہ کام نہیں۔ ان تعمروا۔ مضارع منصوب بوجہ عمل ان جمع مذکر غائب۔ عمران مصدر (باب نصر) عمر مادہ۔ وہ آباد کریں۔ (آباد کرنے والوں میں وہاں جاکر نماز پڑھنے والے۔ عبادت کرنے والے متولی۔ مجاور۔ خادم سب شامل ہیں۔ مسجد اللہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول یعمروا کا۔ اللہ کی مسجدیں۔ اگرچہ یہ حکم عام ہے اور اس کا اطلاق تمام مساجد پر ہوسکتا ہے لیکن یہاں مراد مسجد حرام ہے جس میں کعبہ شریف واقع ہے ۔ (یعنی مشرکین مسجد حرام اور کعبہ مکرمہ کے متولی اور مجاور۔ خادم وغیرہ نہیں بن سکتے اور نہ ہی وہ اس میں اب عبادت کرسکتے ہیں) ۔ شاھدین۔ گواہ ۔ ماننے والے۔ شہادت دینے والے۔ شھادۃ اور شھود سے اسم مذکر شاہد واحد واؤ سے حال ہے۔ تقدیر کلام یوں ہے :۔ ما کان للمشرکین ان یعمروا مسجد اللہ وھم شاھدون علی انفسھم بالکفر۔ وھم حذف ہوگیا اور شھدین (بحالت نصب) ہوگیا۔ حبطت۔ ماضی واحد مؤنث غائب۔ وہ اکارت گئے۔ ضائع ہوگئے حیط مصدر۔
Ayah 9:19

اَجَعَلْتُمْ سِقَایَةَ الْحَآجِّ وَ عِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ جٰهَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ لَا یَسْتَوٗنَ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۘ Open ayah 9:19 in the Quran reader

کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجد محترم (یعنی خانہ کعبہ) کو آباد کرنا اس شخص کے اعمال جیسا خیال کیا ہے جو خدا اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے۔ اور خدا کی راہ میں جہاد کرتا ہے ؟ یہ لوگ خدا کے نزدیک برابر نہیں ہیں۔ اور خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

(9:19) سفایۃ۔ پانی پلانا۔ عمارۃ۔ آباد کرنا۔ صاحب ضیاء القرآن ۔ مظہری۔ قرطبی و بیضاوی لکھتے ہیں :۔ الفاظ آیت سقایۃ وعمارۃ مصدر ہیں۔ اگر یہ اسم فاعل کے معنی میں استعمال ہوں تو کلام میں کسی لفظ کو مقدر ماننے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی معنی ہوگا :۔ کہ حاجیوں کو پانی پلانے والا اور مسجد کو آباد کرنے والا اس شخص کی طرح نہیں ہوسکتا جو اللہ اور قیامت پر ایمان لائے اور جہاد کرے۔ اور اگر مصدری معنی ہی میں مستعمل ہو تو پھر کلام میں حذف ماننا پڑیگا۔ اور اس کی دو صورتیں ہیں یا تو مشبہ میں محذوف مانیں تو اس وقت تقدیر کلام یوں ہوگی۔ اجعلتم اہل السقایۃ الحاج وعمارۃ المسجد الحرام۔۔ اور یا مشبہ بہٖ میں محذوف مانیں تو اس وقت تقدیر کلام ہوگی : اجعلتم سقایۃ الحاج وعمارۃ المسجد الحرام کا یمان من امن باللہ والیوم الاخرو جھاد من جاھد فی سبیل اللہ۔ لایستون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب استواء (افتعال) مصدر۔ وہ برابر نہیں ہیں ۔
Ayahs 9:20–22

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ۙ اَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 9:20 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور وطن چھوڑ گئے اور خدا کی راہ میں مال اور جان سے جہاد کرتے رہے خدا کے ہاں ان کے درجے بہت بڑے ہیں اور وہی مراد کو پہنچنے والے ہیں۔

یُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ وَ رِضْوَانٍ وَّ جَنّٰتٍ لَّهُمْ فِیْهَا نَعِیْمٌ مُّقِیْمٌۙ Open ayah 9:21 in the Quran reader

ان کا پروردگار ان کو اپنی رحمت کی اور خوشنودی کی اور بہشتوں کی خوشخبری دیتا ہے جن میں ان کے لئے نعمت ہائے جاودانی ہے۔

خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 9:22 in the Quran reader

(اور وہ) ان میں ابدا لآباد رہیں گے۔ کچھ شک نہیں کہ خدا کے ہاں بڑا صلہ (تیار) ہے۔

(9:20) اعظم درجۃ عند اللہ۔ ای اعظم درجۃ من اہل السقایۃ والعمارۃ عند اللہ۔ یعنی اللہ کے نزدیک ایمان والوں۔ ہجرت کرنے والوں اور اپنے جان و مال سے جہاد کرنے والوں کو درجہ اہل سقاء و اہل عمارت سے بہت بڑا ہے۔ یبشرہم۔ وہ ان کو خوشخبری دیتا ہے تبشیر (تفعیل) سے مضارع واحد مذکر غائب ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ رضوان۔ رضا مندی، خوشنودی۔ مرضی۔ رضا۔ رضی یرضی کا مصدر ہے رضوان اور جنت۔ بوجہ ب حرف جر کے مجرور ہیں فیہا میں ھا ضمیر واحد مؤنث جنت کی طرف راجع ہے۔ نعیم۔ اسم نکرہ۔ نعمت۔ راعت۔ نعمت کثیرہ۔ فی جنت النعیم (156:12) نعمتوں کی بہشت میں اور جنت النعیم (21:8) نعمتوں کے باغ میں ۔ مقیم۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ دوامی۔ لازوال۔ اقامۃ سے۔ نعیم مقیم لازوال دائمی نعمتیں۔
Ayah 9:23

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰبَآءَكُمْ وَ اِخْوَانَكُمْ اَوْلِیَآءَ اِنِ اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ عَلَى الْاِیْمَانِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 9:23 in the Quran reader

اے اہل ایمان ! اگر تمہارے (ماں) باپ اور (بہن ' بھائی) ایمان کے مقابلے کفر کو پسند کریں تو ان سے دوستی نہ رکھو۔ اور جو ان سے دوستی رکھیں گے وہ ظالم ہیں۔

(9:23) لا تتخذو اولیائ۔ تم دوست مت بناؤ۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ اتخاذ (افتعال) سے۔ استحبوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ استحباب (استفعال) سے (اگر) وہ عزیز رکھیں۔ یتولہم۔ مضارع مجزوم واحد مذکر غائب۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب تولیٰ سے جو ان سے دوستی رکھے گا۔
Ayah 9:24

قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِیْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالُ اِ۟قْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَاۤ اَحَبَّ اِلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِیْ سَبِیْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 9:24 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر تمہارے باپ اور بیٹے اور بھائی اور عورتیں اور خاندان کے آدمی اور مال جو تم کماتے ہو اور تجارت جس کے بند ہونے سے ڈرتے ہو اور مکانات جن کو پسند کرتے ہو خدا اور اس کے رسول ﷺ سے اور خدا کی راہ میں جہاد کرنے سے تمہیں زیادہ عزیز ہوں تو ٹھہرے رہو یہاں تک کہ خدا اپنا حکم (یعنی عذاب) بھیجے۔ اور خدا نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

(9:24) عشیرتکم۔ تمہاری برادی۔ تمہار کنبہ۔ تمہارا قبیلہ۔ اقترفتموھا۔ اصل میں اقترقتم ہے واؤ اشباع کا ہے۔ اقترف یقترف اقتاف (افتعال) کمانا۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب اموال کی طرف راجع ہے۔ جو مال تم نے کمائے ہیں۔ کسادھا۔ مضاف مضاف الیہ کساد مصدر۔ تجارت نہ چلنا۔ سودا نہ بکنا۔ خریدار نہ ملنا۔ (باب نصر و کرم) سوق کا سد۔ وہ بازار جس میں خریدار کم ہوں ۔ اردو میں کساد بازاری اس وقت بولتے ہیں جب بازار میں خریدو فروکت مدہم پڑجائے۔ فتربصوا۔ پس تم انتظار کرو۔ تم منتظر رہو۔ تم راہ دیکھو۔ تربص (تفعل) سے امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ فتربصوا حتی یاتی اللہ بامرہ تہدید و تخویف کے لئے ہے (یعنی تو پھر اب عذاب الٰہی کا اتنظار کرو 9 پس انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا فیصلہ تمہارے سامنے لے آئے۔
Ayah 9:25

لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ فِیْ مَوَاطِنَ كَثِیْرَةٍ١ۙ وَّ یَوْمَ حُنَیْنٍ١ۙ اِذْ اَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَیْئًا وَّ ضَاقَتْ عَلَیْكُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّیْتُمْ مُّدْبِرِیْنَۚ Open ayah 9:25 in the Quran reader

خدا نے بہت سے موقعوں پر تم کو مدد دی ہے۔ اور (جنگ) حنین کے دن جبکہ تم کو اپنی (جماعت کی) کثرت پر غرہّ تھا تو وہ تمہارے کچھ بھی کام نہ آئی۔ اور زمین باوجود (اتنی بڑی) فراخی کے تم پر تنگ ہوگئی۔ پھر تم پیٹھ پھیر کر پھرگئے۔

(9:25) مواطن۔ مواقع جنگ۔ لوگوں کے رہنے کی جگہ۔ موطین واحد وطن مصدر (باب ضرب) جگہ پکڑنا۔ مقیم ہونا۔ ابطان (باب افعال) توطین (تفعیل) استیطان (استفعال) تینوں ابواب سے بمعنی رہنے کہ جگہ اختیار کرنا۔ توطن (تفعل) جگہ پکڑلینا۔ کسی چیز پر دل بستہ ہوجانا۔ مواطن۔ ظرف مکان فی حرف جاء کی وجہ سے ن مکسور ہونا چاہیے تھا ۔ لیکن ایسی جمع جو منتہی الجموع کے وزن پر ہو یعنی ایسی جمع جس کے پہلے دو حرف مفتوح اور تیسری جگہ الف ہو جیسے مساجد۔ مصابیح یہ جمع قائم مقام دو سببوں کے ہے۔ لہٰذا مواطن غیر منصرف ہے اور اس وجہ سے ن کے نیچے کسرہ نہیں آیا۔ مواطن کثیرۃ سے مراد یہاں وہ جنگیں ہیں جن میں باوجود دشمن کے مقابلہ میں قلت کی وجہ سے مسلمانوں کو خدا وند تعالیٰ نے فتح و کامرانی سے سرفراز فرمایا۔ مثلاً بدر۔ بنو قریظہ اور بنو نظیر کے خلاف جنگیں۔ حدیبیہ۔ خیبر۔ مکہ وغیرہ۔ ویوم حنین کیا اس کا عطف مواطن کثیرۃ پر ہے تو اس صورت میں یوم مفتوح کیوں آیا ہے اس کی متعدد توضیحات دی گئی ہیں۔ لیکن بعض کے نزدیک یہ نیا جملہ ہے اور اس سے پہلے اذکروا مضمر ہے اور تقدیر کلام یوں ہے واذکروا یوم حنین۔ اور یاد کرو جنگ حنین کا واقعہ۔ لم تغن۔ تغن اصل میں تغنی تھا۔ لم کی وجہ سے ی حذف ہوگئی۔ وہ کام نہ آئی (یعنی کثرت) ۔ بما۔ میں ما مصدریہ ہے ب بمعنی مع کے ہے۔ رحبت۔ وہ کشادہ ہوئی۔ وہ فراخ ہوئی (باب کرم) رحب سے جس کے معنی فراخ ہونے کے ہے ماضی واحد مؤنث غائب۔ بما رحبت۔ باوجود کشادہ اور فراخ ہونے کے۔ باوجود اپنی وسعت کے اور کشادگی کے (نیز ملاحظہ ہو 9:7) ولیتم۔ تم پیٹھ دے کر بھاگ نکلے۔ ماضی جمع مذکر حاضر۔ تولیۃ سے۔ مدبرین۔ پیٹھ دکھانے والے۔ پیٹھ دکھا کر بھاگنے والے۔ دبر ہر چیز کے پچھلے حصہ کو کہتے ہیں۔
Ayah 9:26

ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا وَ عَذَّبَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزَآءُ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:26 in the Quran reader

پھر خدا نے اپنے پیغمبر ﷺ پر اور مومنوں پر اپنی طرف سے تسکین نازل فرمائی اور (تمہاری مدد کو فرشتوں کے) لشکر جو تمہیں نظر نہیں آتے تھے (آسمان سے) اتارے اور کافروں کو عذاب دیا۔ اور کفر کرنے والوں کی یہی سزا ہے۔

(9:26) سکینتہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ سکینہ وہ اطمینان ۔ چین و قرار اور سکون ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندہ کے قلب میں اس وقت نازل فرماتا ہے جب کہ وہ ہولناکیوں کی شدت سے مضطرب ہوجاتا ہے۔ پھر اس کے بعد جو کچھ بھی اس پر گزرے وہ اس سے گھبراتا نہیں یہ اس کے لئے ایمان کی زیادتی یقین میں قوت اور استقلال پیدا کردیتا ہے۔ لم تروھا۔ اصل میں ترون (مضارع جمع مذکر حاضر) لم کی وجہ سے ن اعرابی گرگیا ۔ جن کو تم نے نہ دیکھا۔
Ayah 9:27

ثُمَّ یَتُوْبُ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:27 in the Quran reader

پھر خدا اس کے بعد جس پر چاہے مہربانی سے توجہ فرمائے۔ اور خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

(9:27) یتوب اللہ۔ اللہ اپنے طرف لوٹنے کی توفیق دیگا۔ (یعنی کافروں میں سے جسے چاہے گا اپنی طرف لوٹنے کی توفیق عطا فرمائے گا اور ان کو اسلام سے مشرف فرمائیگا۔ تاب یتوب (نصر) بمعنی لوٹنا۔ رجوع کرنا (جب اللہ کی طرف اس کی نسبت ہو تو بمعنی لوٹنے یا رجوع کرنے کی توفیق بخشنا ۔ تو بہ قبول کرنا۔ رحمت سے توجہ فرمانا)
Ayah 9:28

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ فَلَا یَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هٰذَا١ۚ وَ اِنْ خِفْتُمْ عَیْلَةً فَسَوْفَ یُغْنِیْكُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖۤ اِنْ شَآءَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:28 in the Quran reader

مومنو ! مشرک تو نجس ہیں تو اس برس کے بعد وہ خانہ کعبہ کے پاس نہ جانے پائیں اور اگر تم کو مفلسی کا خوف ہو تو خدا چاہے گا تو تم کو اپنے فضل سے غنی کردے گا۔ بیشک خدا سب کچھ جانتا (اور) حکمت والا ہے۔

(9:28) نجس۔ نجس و نجاسۃ۔ مصدر (باب سمع ۔ نصر) ناپاک ، پلید، خواہ ظاہری ہو یا باطنی۔ یہاں مصدر استعمال ہوا ہے۔ مذکر، مؤنث۔ تثنیہ، جمع سب پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ عیلۃ۔ فقر۔ مفلسی۔ عال یعیل (ضرب) سے مصدر ہے (یعنی اگر مشرکین کے داخلہ پر بندش سے تمہیں تجارتی کاروبار میں کساد بازاری یا آمدنی میں کمی کا اندیشہ ہو تو فسوف یغنیکم اللہ عنقریب اللہ تعالیٰ تمہیں غنی کر دے گا۔
Ayah 9:29

قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ لَا یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ لَا یَدِیْنُوْنَ دِیْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰى یُعْطُوا الْجِزْیَةَ عَنْ یَّدٍ وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ۠ Open ayah 9:29 in the Quran reader

جو لوگ اہل کتاب میں سے خدا پر ایمان نہیں لاتے اور نہ روز آخرت پر (یقین رکھتے ہیں) اور نہ ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جو خدا اور اس کے رسول ﷺ نے حرام کی ہیں اور نہ دین حق کو قبول کرتے ہیں ان سے جنگ کرو۔ یہاں تک کہ ذلیل ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں۔

(9:29) لا یحرمون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب تحریم (تفعیل) مصدر وہ حرام قرار نہیں دیتے۔ لا یدینون۔ مضارو منفی، جمع مذکر غائب (باب ضرب) وہ مذہب اختیار نہیں کرتے وہ دین اختیار نہیں کرتے۔ دان و تدین ب۔ مذہب اختیار کرنا۔ دین الحق۔ سچا دین یعنی اسلام۔ عن ید۔ (اپنے) ہاتھ سے ۔ دلی اطاعت کے طور پر۔ وہم صاغرون۔ اور وہ اپنے صغیر (حقیر اور مغلوب) ہونے کا دلی احساس رکھتے ہوں اپنے آپ کو حقیر و صغیر جانتے ہوئے۔
Ayah 9:30

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ عُزَیْرُ اِ۟بْنُ اللّٰهِ وَ قَالَتِ النَّصٰرَى الْمَسِیْحُ ابْنُ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ قَوْلُهُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ١ۚ یُضَاهِئُوْنَ قَوْلَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١٘ۚ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 9:30 in the Quran reader

اور یہود کہتے ہیں کہ عزیر خدا کے بیٹے ہیں اور عیسائی کہتے ہیں کہ مسیح (علیہ السلام) خدا کے بیٹے ہیں۔ یہ ان کے منہ کی باتیں ہیں۔ پہلے کافر بھی اسی طرح کی باتیں کہا کرتے تھے۔ یہ بھی انہیں کی ریس کرنے لگے ہیں۔ خدا انکو ہلاک کرے یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں ؟

(9:30) یضاھئون۔ مضاھاۃ (مفاعلۃ) وہ مشابہت پیدا کر رہے ہیں۔ وہ نقل اتار رہے ہیں۔ ایسی باتیں کر رہے ہیں جیسے قول الذین کفروا۔ ضھی۔ مثل، مانند، شبیہ، ضھی۔ مصدر (ناقص یائی (باب سمع) عورت کا مرد کی طرح ہوجانا کہ نہ حیض ہو ۔ نہ حمل نہ پستان۔ ضھیائ۔ مرد نما عورت ۔ مضاھات مشابہت۔ ضھی مادہ ۔ بعض کے نزدیک یہ مہموز اللام (ضھائ) اور اس کی قرأت یضاھئون ہے ناقص یائی کی صورت میں قرأت یضاھون ہوگی۔ قاتلہم اللہ۔ بددعا کا کلمہ ہے : خدا ان کو غارت کرے۔ یا ان کے قول کی ” عزیر اللہ کا بیٹا ہے “ اور یہ کہ ” مسیح اللہ کا بیٹا ہے “ کی قباحت کر کلمہ تعجب ہے۔ انی یؤفکون۔ انی بمعنی کیف۔ کہاں ۔ کیسے۔ کیونکر۔ کتنے۔ یؤفکون۔ مضارع مجہول جمع مذکر غائب۔ افک (ضرب) سے۔ کسی شے کا اصلی جانب سے منہ پھیرنے کا نام افک ہے۔ جھوٹ ۔ بہتان۔ ان ہر دو میں یہ صفت بدرجہ اتم موجود ہے۔ کیسے بھٹکائے جا رہے ہیں۔۔ یا اس کا ترجمہ یوں بھی ہوسکتا ہے۔ کدھر جھٹکے چلے جا رہے ہیں۔ اور فعل مجہول محض ان کی ہٹ دھرمی کو ظاہر کرنے کے لئے لایا گیا ہے کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ کوئی بیرونی طاقت ان کو جبراً بھگا رہی ہے۔ ایسی دیگر مثالیں 11:78 اور 7:120 میں ملاحظہ فرماویں۔ افک الف کے فتح اور کسرہ دونوں کے ساتھ مستعمل ہے۔ بمعنی جھوٹ بولنا۔
Ayah 9:31

اِتَّخَذُوْۤا اَحْبَارَهُمْ وَ رُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ١ۚ وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوْۤا اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ سُبْحٰنَهٗ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 9:31 in the Quran reader

انہوں نے اپنے علماء اور مشائخ اور مسیح ابن مریم کو اللہ کے سوا خدا بنا لیا حالانکہ ان کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ خدائے واحد کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اس کے سواء کوئی معبود نہیں اور وہ ان لوگوں کے شریک مقرر کرنے سے پاک ہے۔

(9:31) احبارھم۔ مضاف مضاف الیہ۔ احبار جمع حبر کی۔ اہل تفسیر اسے حبر (بالفتح) اور اہل لغت حبر (بالجر) پڑھتے ہیں۔ فرار کے نزدیک دونوں طرح صحیح ہے اس کا معنی ہے جید عالم جو طڑی عمدگی اور سلیقہ سے بات کرسکے۔ رھبانھم۔ مضاف مضاف الیہ۔ رھبان راھب کی جمع ہے جو رھبۃ بمعنی خوف سے ماخوذ ہے۔ یعنی وہ لوگ جو اپنی ساری زندگی اللہ کے خوف سے اس کی عبادت کے لئے وقف کردیں۔ ارباب۔ جمع ہے رب کی۔ معبود ان۔ المسیح ابن مریم ۔ فعل اتخذوا کا مفعول ثالث پہلے دو مفعول احبارھم اور رھبانہم ہیں۔ یہاں رب (اربابا) ماننے سے مراد یہ ہے کہ معاصی میں ان کا حکم ماننا۔ ان کے حرام کو حلال کہنے کو حلال ماننا۔ اور حلال کو حرام کہنے کو حرام ماننا۔
Ayah 9:32

یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ یَاْبَى اللّٰهُ اِلَّاۤ اَنْ یُّتِمَّ نُوْرَهٗ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 9:32 in the Quran reader

یہ چاہتے ہیں کہ خدا کے نور کو اپنے منہ سے (پھونک مار کر) بجھا دیں اور خدا اپنے نور کو پورا کئے بغیر رہنے کا نہیں اگرچہ کافروں کو برا ہی لگے۔

(9:32) یطفئوا۔ مضارع منصوب جمع مذکر غائب۔ اطفاء (افعال) سے مصدر ۔ اصل میں یطفئون تھا۔ ان کی وجہ سے نون اعرابی گرگیا۔ کہ وہ بجھا دیں۔ نور اللہ۔ یہاں مراد اسلام ہے۔ دین اللہ۔ افواھم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کے منہ ۔ اس کا ترجمہ اپنی اپنی پھونکوں سے بھی ہوسکتا ہے۔ افواہ۔ فم کی جمع ہے جس کے معنی منہ کے ہیں۔ فم کی اصل فوۃ تھی۔ ہ کو گرا کر واؤ کو میم سے بدل دیا گیا۔ قرآن مجید میں جہاں صرف منہ سے کہنے پر بات رکھی گئی ہے وہاں دروح بیانی کی طرف اشارہ ہے اور اس طرف تنبیہ ہے کہ اعتقاد واقع کے مطابق نہیں۔ یابی۔ مضارع واحد مذکر غائب اباء مصدر (باب فتح) وہ انکار کرتا ہے وہ نہیں مانتا۔ لو۔ اگرچہ۔ کرہ۔ ناپسند کریں۔ ماضی واحد مذکر غائب ۔ (باب سمع) یہاں جمع کے لئے استعمال ہوا ہے۔
Ayah 9:33

هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ١ۙ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ Open ayah 9:33 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے اپنے پیغمبر ﷺ کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اس (دین) کو (دنیا کے) تمام دینوں پر غالب کرے اگرچہ کافر ناخوش ہی ہوں۔

(9:33) لیظھرہ۔ کہ اس کو غالب کرے ۔ ہ کی ضمیر دین کی طرف راجع ہے۔ علی الدین کلہ۔ تمام دینوں پر۔ اگر یظھرہ کی ضمیر کا مرجع رسول اللہ ﷺ ہوں تو علی الدین کلہ بمعنی علی اہل الادیان کلہم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ حضرت محمد ﷺ کو تمام دینوں کے پیرؤوں پر غالب کریگا۔
Ayah 9:34

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَ الرُّهْبَانِ لَیَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَ الْفِضَّةَ وَ لَا یُنْفِقُوْنَهَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ Open ayah 9:34 in the Quran reader

مومنو ! (اہل کتاب کے) بہت سے عالم اور مشائخ لوگوں کا مال ناحق کھاتے اور (ان کو) راہ خدا سے روکتے ہیں اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اس کو خدا کے راستے میں خرچ نہیں کرتے انکو اس دن کے عذاب الیم کی خبر سنا دو ۔

(9:34) یصدون۔ ای ینعون الناس (عن الایمان وعن الاسلام لوگوں کو اسلام سے روکتے تھے۔ والذین یکنزون۔ میں اشارہ کثیرا من الاحبار والرھبان کی طرف ہے۔ یکنزون مضارع جمع مذکر غائب۔ کنز مصدر (باب ضرب) وہ جمع کرکے رکھ چھوڑتے ہیں۔ الذھب والفضۃ۔ سونا اور چاندی۔ بمعنی مال و دولت۔ فبشرھم۔ بشیر۔ تو خوشخبری دے۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ تبشیر (تفعیل) سے بشارت کا لفظ طنزاً استعمال ہوا ہے۔ ہم ضمیر الذین یکنزون کی طرف راجع ہے۔
Ayah 9:35

یَّوْمَ یُحْمٰى عَلَیْهَا فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوٰى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَ جُنُوْبُهُمْ وَ ظُهُوْرُهُمْ١ؕ هٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ فَذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُوْنَ Open ayah 9:35 in the Quran reader

جس دن وہ مال دوزخ کی آگ میں (خوب) گرم کیا جائے گا پھر اس سے ان (بخیلوں) کی بیشانیاں اور پہلو اور پیٹھیں داغی جائیں گی (اور کہا جائے گا کہ) یہ وہی ہے جو تم نے اپنے لئے جمع کیا تھا سو جو تم جمع کرتے تھے (اب) اس کا مزہ چکھو۔

(9:35) یحی۔ مضارع مجہول واحد مذکر غائب احماء (افعال) مصدر۔ خوب گرم کیا جائے گا۔ پتا یا جائے گا۔ حمی سے۔ اس مادہ سے متعدد الفاظ متعدد معانی میں استعمال ہوئے ہیں۔ مثلاً قرآن میں ہے فی عین حامیۃ (18:86) گرم چشمے میں۔ یا جیسا ایک دوسری قرأت میں ہے۔ فی عین حمیۃ۔ سیاہ بدبودار کیچڑ والے چشمے میں۔ حمیۃ الجاہلیۃ (48:36) جاہلانہ حمیت۔ (ضد۔ کد۔ نفرت) من حما مسنون۔ سڑے ہوئے گارے سے ۔ اسی طرح عربی میں بولتے ہیں حمیت انفی محمیۃ۔ میں نے اپنی عزت کی حفاظت کی۔ اسی سے حامی۔ مددگار۔ حمایت کرنے والا۔ وغیرہ وغیرہ۔ یحمی علیہا۔ اصل میں (یوم) تحمی الناد علیہا تھا۔ اس صورت میں تحمی مسند اور النار مسند الیہ ہے۔ النار کو حذف کردیا گیا ۔ تو علیہا جار مجرور ہوکر مسند الیہ ہوا۔ اس انتقال اسناد کی وجہ سے تحمی (صیغہ واحد مؤنث غائب ) کی بجائے یحمی (صیغہ واحد مذکر حائب) لایا گیا جیسے کہتے ہیں رفعت القصۃ الی الامیر اور جب القصہ کو حذف کیا جائیگا تو رفع الی الامیر کہیں گے علیہا میں ضمیر ھا اور اس طرح آیۃ سابقہ میں ینفقونھا میں اور آیۃ ہذا میں تکوی بھا میں ضمیر واحد مؤنث غائب لائی گئی ہے ۔ حالانکہ اس کا اشارہ الزھب والفضۃ کی طرف ہے۔ جو تثنیہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ الذھب والفضۃ سے مراد کثرت ودنانیر (دینار کی جمع) اور کثرت دراہم (درہم کی جمع) ہے اور بوجہ جمع مذکر غیر سالم کے ان کی ضمیر واحد مؤنث لائی گئی ہے یوم یحمی علیہا فی نارجھنم۔ جس دن تپایا جائے گا اسی سونے اور چاندی کو یا اس سے بنائے ہوئے سکوں کو دوزخ کی آگ میں۔ فتکوی۔ مضارع مجہول واحد مؤنث غائب کی سے (باب ضرب) کوی یکوی۔ کو یت الدابۃ بالنار کیا۔ میں نے جانور کو گرم لوہے سے داغ دیا۔ فتکوی پس داغ دئیے جائیں گے۔ (ان سونے چاندی یا ان کے سکوں سے) ۔ جباھھم۔ مضاف مضاف الیہ۔ جباہ جھۃ کی جمع ان کی پیشانیاں۔ جنوبھم۔ مضاف مضاف الیہ۔ جنوب جنب کی جمع ان کے پہلو۔ ظھورھم۔ مضار مضاف الیہ۔ ظھور ظھر کی جمع ان کی پیٹھیں۔ ان کی پشتیں۔ ھذا ما کنزتم۔ ای یقول لہم ھذا ماکنزتم۔
Ayah 9:36

اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ مِنْهَاۤ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ١ۙ۬ فَلَا تَظْلِمُوْا فِیْهِنَّ اَنْفُسَكُمْ وَ قَاتِلُوا الْمُشْرِكِیْنَ كَآفَّةً كَمَا یُقَاتِلُوْنَكُمْ كَآفَّةً١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:36 in the Quran reader

خدا کے نزدیک مہینے گنتی میں (بارہ ہیں یعنی) اس روز (سے) کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا کتاب خدا میں (برس کے) بارہ مہینے (لکھے ہوئے) ہیں ان میں سے چار مہینے ادب کے ہیں۔ یہی دین (کا) سیدھا راستہ ہے۔ تو ان (مہینوں) میں (قتال ناحق سے) اپنے آپ پر ظلم نہ کرنا اور اور تم سب کے سب مشرکوں سے لڑو۔ جیسے وہ سب کے سب تم سے لڑتے ہیں۔ اور جان رکھو کہ خدا پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔

(9:36) عدۃ گنتی ۔ شمار۔ عدت یعنی وہ گنتی کے دن جن کے گزر جانے پر مطلقہ یا بیوہ سے نکاح حلال ہوجاتا ہے۔ حرم۔ ادب والے۔ عزت والے۔ حرام کی جمع ۔ بمعنی حرمت والا۔ حرام۔ ممنوع ۔ جس چیز سے منع کردیا جائے وہ حرام ہے۔ حرمت کے ماہ کو بھی شہر حرام اس واسطے کہا جاتا ہے کہ ایسے ماہ میں اللہ تعالیٰ نے بعض ان چیزوں کو حرام کردیا ہے جو دوسرے اوقات میں حلال ہیں۔ اربعۃ حرم۔ چار حرمت والے مہینے یعنی ذوالقعدہ، ذوالحجہ، المحرم، الرجب۔ القیم۔ صیغہ صفت۔ مفرد۔ مذکر۔ درست۔ ٹھیک۔ سیدھا۔ الدین القیم (موصوف و صفت) ایسا دین معاش و معاد اور دنیا و آخرت کو درست کرنے والا ہے۔ فیہن۔ میں ھن ضمیر جمع مؤنث غائب کا مرجع اربعۃ حرم ہے یا اس کا مرجع اثنا عشر شھرا بھی ہوسکتا ہے۔ یعنی بارہ مہینے (ہمیشہ) اپنے نفسوں پر ظلم کرنے سے بچو۔ کافۃ۔ اسم فاعل۔ مفرد، مؤنث۔ کاف مذکر کا فات جمع کف سادہ (مضاعف ثلاثی) و نیز مصدر۔ یا یہ اسم فاعل مفرد مذکر بھی ہوسکتا ہے۔ اس صورت میں تاء علامت مبالغہ ہوگی۔ استعمال میں یہ ہمیشہ حال۔ منصوب اور نکرہ ہوتا ہے جس کے معنی سب کے سب پورے کے پورے۔ جماعۃ۔ قرآن میں ہے وما ارسلنک الا کافۃ للناس (24:28) اور (اے محمد) ہم نے آپ کو سب لوگوں کے لئے (بشیر و نذیر بنا کر) بھیجا ہے۔ امام راغب نے اس کا ترجمہ کیا ہے۔ ہم نے تم کو گناہوں سے روکنے ولا بنا کر بھیجا ہے۔
Ayah 9:37

اِنَّمَا النَّسِیْٓءُ زِیَادَةٌ فِی الْكُفْرِ یُضَلُّ بِهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُحِلُّوْنَهٗ عَامًا وَّ یُحَرِّمُوْنَهٗ عَامًا لِّیُوَاطِئُوْا عِدَّةَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ فَیُحِلُّوْا مَا حَرَّمَ اللّٰهُ١ؕ زُیِّنَ لَهُمْ سُوْٓءُ اَعْمَالِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ۠ Open ayah 9:37 in the Quran reader

امن کے کسی مہینے کو ہٹا کر آگے پیچھے کردینا کفر میں اضافہ (کرتا) ہے۔ اس سے کافر گمراہی میں پڑے رہتے ہیں۔ ایک سال تو اسکو حلال سمجھ لیتے ہیں اور دوسرے سال حرام۔ تاکہ ادب کے مہینوں کی جو خدا نے مقرر کیئے ہیں گنتی پوری کرلیں اور جو خدا نے منع کیا ہے اس کو جائز کرلیں۔ انکے برے اعمال ان کو بھلے دکھائی دیتے ہیں اور خدا کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

(9:37) النسییٔ۔ النساء کے معنی کسی چیز کو اس کے وقت سے مؤخر کردینے کے ہیں اسی سے محاورہ ہے نسئت المرأۃ۔ عورت کے حیض کا مقرر وقت ٹل گیا۔ حیض آنے میں تاخیر ہوگئی۔ نساۃ نسییٔ ونسیئۃ۔ تاخیر۔ اسی سے ہے منساۃ لاٹھی یا ڈنڈا کہ اس سے کسی چیز کو پیچھے ہٹایا جاتا ہے۔ اور اسی سے نسا اللہ فی اجلک۔ اللہ تمہاری اجل میں تاخیر کردے۔ یعنی تمہاری عمر دراز کرے۔ عرب کا قدیم دستور تھا کہ ذوالقعدہ ذوالحجہ، محرم اور رجب المرجب کے مہینوں کو احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ اور اس میں کسی قسم کا جنگ و جدال جائز نہیں سمجھتے تھے لیکن جب ان کا بگاڑ عروج کو پہنچا تو ان میں سے بعض زورآور قبائل اپنے مفاد کی خاطر بعض دفعہ اعلان کردیتے کہ اس سال ہم نے فلاں مہینے کو اشہر حرم سے خارج کردیا ہے اور اس کی بجائے فلاں مہینے کو اشہر حرم میں داخل کرلیا ہے۔ اس طرح وہ چار مہینوں کی گنتی تو پوری کرلیتے لیکن اپنی مرضی سے ان کے تعین میں ردوبدل کرلیتے ۔ اس قسم کا ردوبدل النسی کہلاتا تھا۔ زیادۃ۔ زاد یزید (ضرب) کا مصدر ہے زیادتی ۔ زیادہ ہونا۔ زیادہ کرنا۔ النسیٔ کفر میں مزید اضافہ کا باعث ہے۔ یضل۔ مضارع مجہول واحد مذکر غائب اضلال (افعال) سے گمراہ کئے جاتے ہیں۔ یضل بہ الذین کفروا۔ یعنی کافر لوگ اس النسیٔ کے ذریعہ مزید گمراہ کئے جاتے ہیں۔ ان کے سردار نسی کے ذریعہ ان کو گمراہ کرتے ہیں۔ اس جگہ فعل (یضل) مسند اور الذین کفروا (مفعول مالم یسم فاعلہ) مسند الیہ ہے۔ فعل کا اسناد مفعول کی طرف کرنے کی قرآن میں متعدد مثالیں ہیں۔ مثلاً اسی آیۃ میں آگے آیا ہے زین لہم سوء اعمالہم۔ یحلونہ عاما ویحرمونہ عاما۔ حلال قرار دے لیتے ہیں اس کو کسی سال اور حرام قرار دے دیتے ہیں اسے کسی سال یعنی کسی سال حرمت کے مہینے کو ماہ حرام رہنے دیتے ہیں اور کسی سال اس کو حلال قرار دے دیتے ہیں۔ یعنی کسی سال اس میں قتل و غارت کو جائز قرار دے لیتے ہیں یحرمونہ اور یحلونہ ہر دو میں ضمیر واحد مذکر غائب النسیٔ کی طرف راجع ہے۔ جس سے وہ ماہ حرام کو بدل دیا کرتے تھے لیواطئوا۔ مضارع جمع مذکر غائب مواطاۃ (مفاعلۃ) مصدر تاکہ موافقت پیدا کرلیں درست کرلیں۔ برابر کرلیں۔ لیواطئوا عدۃ ما حرم اللہ۔ تاکہ جس تعداد کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے اس کے ساتھ موافقت پیدا کرلیں۔ مہینوں کی گنتی کو برابر کرلیں۔ فیحلوا ما حرم اللہ۔ پس اس طرح جسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے اس کو اپنی مطلب برآری کے لئے حلال کرلیں۔ زین۔ مزین کرکے دکھایا گیا۔ خوشنما کرکے دکھایا گیا۔ تزئین (تفعیل) سے ماضی مجہول واحد مذکر غائب۔ سوء اعمالہم۔ ان کے اعمال کی برائی ۔ قباحت۔ گناہ۔ برا کام ۔ عیب۔ ساء یسوء سوء (باب نصر) سے اسم ہے۔ ان کے برے اعمال۔ ان کے اعمال میں سے برے عمل۔
Ayah 9:38

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَا لَكُمْ اِذَا قِیْلَ لَكُمُ انْفِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اثَّاقَلْتُمْ اِلَى الْاَرْضِ١ؕ اَرَضِیْتُمْ بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا مِنَ الْاٰخِرَةِ١ۚ فَمَا مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا قَلِیْلٌ Open ayah 9:38 in the Quran reader

مومنو ! تمہیں کیا ہوا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ خدا کی راہ میں (جہاد کے لئے) نکلو تو تم (کاہلی کے سبب سے) زمین پر گرے جاتے ہو ؟ یعنی گھروں سے نکلنا نہیں چاہتے کیا تم آخرت کی نعمتوں کو چھوڑ کر دنیا کی زندگی پر خوش ہو بیٹھے ہو دنیا کی زندگی کے فائدے تو آخرت کے مقابل بہت ہی کم ہیں۔

(9:38) ما لکم۔ تمہیں کیا ہوگیا ہے ۔ اور جگہ ہے وقال الانسان مالہا (99:3) اور انسان کہہ گا اس کو (یعنی زمین کو) کیا ہوگیا ہے۔ انفروا۔ نفر ینفر (ضرب سے امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تم نکلو۔ نفر کے اصل معنی ہیں منتشر ہونا۔ لیکن مختلف حروف کے ساتھ مختلف معانی دیتا ہے مثلاً نفرعن کسی چیز سے روگردانی کرنا۔ نفر الی۔ کسی چیز کی طرف روڈ کر جانا۔ نصر من۔ کسی چیز سے کترانا۔ یہاں آیۃ ہذا میں نفر سے نکلنا۔ کوچ کرنا کے معانی لئے گئے ہیں۔ انفروا فی سبیل اللہ تم خدا کے راستہ میں نکلو۔ (یہ آیت جنگ تبوک کے موقعہ پر نازل ہوئی) ۔ اثاقلتم۔ ماضی جمع مذکر حاضر اصل میں تثاقلم (باب تفاعل) تھا ت کو ث میں مدغم کیا گیا۔ حرف مدغم بمقام دو حروف کے ہے جن میں پہلا حرف ساکن ہے چونکہ حرف ساکن سے ابتدا نہیں کی جاسکتی۔ لہٰذا حرف مدغم سے پہلے ہمزہ وصل لایا گیا۔ اثاقلتم ہوگیا۔ جس کا مطلب ہے کہ تم بوجھ کے سبب جھک گئے۔ اثاقلتم الی الارض۔ تم بوجھل ہوکر زمین ہی سے لگ گئے۔ یعنی جہاد کے لئے نکلنے کی بجائے تمہارے پاؤں زمین سے جم کر رہ گئے۔ قرآن حکیم میں اور بھی ایسی مثالیں ہیں مثلاً (1) واذا قتلتم نفسا فادرأتم فیہا (2:72) اور (یاد کرو) جب تم نے ایک شخص کو قتل کیا تھا پھر تم اس کے بارے میں ایک دوسرے سے جھگڑنے لگے تھے۔ اصل میں تداراتم تھا۔ تا کو دال میں مدغم کیا چونکہ مدغم سے ابتداء نہیں ہوسکتی بوجہ سکون کے لہٰذا ہمزہ وصل زیادہ کیا گیا ۔ (2) حتی اذا ادارکوا فیہا جمیعا (7:38) (3) حتی اذا اخذت الارض زخرفھا وازینت (10:24) کہ اصل میں تدارکوا اور تزینت تھا۔
Ayah 9:39

اِلَّا تَنْفِرُوْا یُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا١ۙ۬ وَّ یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ وَ لَا تَضُرُّوْهُ شَیْئًا١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 9:39 in the Quran reader

اگر تم نہ نکلو گے تو خدا تم کو بڑی تکلیف کا عذاب دے گا۔ اور تمہاری جگہ اور لوگ پیدا کر دے گا (جو خدا کے پورے فرمانبردار ہونگے) اور تم اسکو کچھ نقصان نہ پہنچا سکو گے۔ اور خدا ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔

(9:39) الا۔ ان لا۔ الا تنفروا۔ اگر تم نہیں نکلو گے (اللہ کی راہ میں جہاد کے لئے) ۔ یعذبکم۔ مضارع مجزوم واحد مذکر غائب۔ مجزوم بواجہ شرط کے کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ یستبدل۔ مضارع مجزوم بوجہ جواب شرط۔ صیغہ واحد مذکر حاضر۔ وہ بدل کرلے آئے گا۔ ولا تضروہ۔ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہے ۔ جو کہ محذوف ہے۔
Ayah 9:40

اِلَّا تَنْصُرُوْهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللّٰهُ اِذْ اَخْرَجَهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ هُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا١ۚ فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلَیْهِ وَ اَیَّدَهٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَ جَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِیْنَ كَفَرُوا السُّفْلٰى١ؕ وَ كَلِمَةُ اللّٰهِ هِیَ الْعُلْیَا١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:40 in the Quran reader

اگر تم پیغمبر ﷺ کی مدد نہ کرو گے تو خدا ان کا مددگار ہے (وہ وقت تم کو یاد ہوگا) جب انکو کافروں نے گھر سے نکال دیا (اس وقت) دو (ہی شخص تھے جن) میں (ایک ابوبکر ؓ تھے) دوسرے (خود رسول اللہ ﷺ جب وہ دونوں غار (ثور) میں تھے اس وقت پیغمبر ﷺ اپنے رفیق کو تسلی دیتے تھے کہ غم نہ کرو خدا ہمارے ساتھ ہے۔ تو خدا نے ان پر اپنی تسکین نازل فرمائی اور ان کو ایسے لشکروں سے مدد دی جو تم کو نظر نہیں آتے تھے اور کافروں کی بات کو پست کردیا۔ اور بات تو خدا ہی کی بلند ہے اور خدا زبردست (اور) حکمت والا ہے۔

(9:40) الا تنصروہ۔ میں ہ ضمیر واحد مذکر حاضر کا مرجع رسول اللہ ﷺ ہیں الا تنصروہ فقد نصرہ اللہ۔ ای ان لم تنصروہ فسینصرہ اللہ کما نصرہ (اذ اخرجہ الذین کفروا اثانی اثنین) اگر تم نے (یہ خطاب ہے تثاقل کرنے والوں سے جو جنگ تبوک کے لئے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نہ نکلے تھے) رسول کی مدد نہیں کی (تو کیا ہوا) اللہ تعالیٰ خود اس کی مدد فرمائے گا۔ جیسا کہ اس نے مدد فرمائی تھی جب کافروں نے ان کو (مکہ سے) نکالا تھا۔ جب کہ دو میں سے دوسرا وہ تھا (یعنی دو افراد تھے۔ ایک اور دوسرا وہ خود۔ قلت تعداد پر زور دینے کے لئے یہ محاورہ استعمال ہوا ہے) (ثانی اثنین) منصوب ہے بوجہ نصرہ اللہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب پر حال ہونے کے۔ اذھما بدل ہے اذا خرجہ کا۔ اسی طرح اذ یقول بدل ثانی ہے۔ لصاحبہ۔ صاحب (ساتھی) سے مراد حضرت ابوبکر صدیق ؓ ہیں اور ہ ضمیر کا مرجع رسول اکر م ﷺ ہیں۔ فانزل اللہ سکینتہ علیہ۔ میں ضمیر ہ واحد مذکر غائب کا مرجع رسول اکرم ﷺ ہیں کیونکہ اس کے فوراً بعد کا جملہ وایدہ بجنود لم تروھا جو کہ صریحاً حضور ﷺ کے متعلق ہے فانزل اللہ سکینۃ علیہ۔ پر عطف ہے اور معطوف و معطوف علیہ میں شرکت احوال لازم ہے۔ بعض کے نزدیک اس ضمیر کا مرجع حضرت ابوبکر صدیق ہیں۔ کیونکہ خوف کی حالت ان پر طاری تھی اور انہیں سکینہ کی ضرورت تھی۔ لم تروھا۔ مضارع نفی جحد بلم۔ جمع مذکر حاضر۔ تروا اصل میں ترون تھا ۔ لم کی وجہ سے نون اعرابی گرگیا۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع جنود ہے۔ کلمۃ۔ بات۔ السفلی۔ اسم تفضیل ہے۔ سفول صیغہ واحد مؤنث۔ سفلی جب ال کے ساتھ آئے جیسا کہ موجودہ شکل میں ہے تو تفضیل کل کے معنی دیتا ہے السفلی۔ سب سے نیچی۔ سرنگون۔ علیا کی ضد ہے العلیا سب سے بلند۔