کافروں کی دشمنی
اللہ تعالیٰ کافروں کے مکر و فریب اور ان کی دلی عداوت سے مسلمانوں کو آگاہ کرتا ہے تاکہ وہ ان کی دوستی اپنے دل میں نہ رکھیں نہ ان کے قول وقرار پر مطمئن رہیں ان کا کفر شرک انہیں وعدوں کی پابندی پر رہنے نہیں دیتا۔ یہ تو وقت کے منتظر ہیں ان کا بس چلے تو یہ تو تمہیں کچے چبا ڈالیں نہ قرابت داری کو دیکھیں نہ وعدوں کی پاسداری کریں۔ ان سے جو ہو سکے وہ تکلیف تم پر توڑیں اور خوش ہوں۔ آل کے معنی قرابت داری کے ہیں۔ ابن عباس سے بھی یہی مروی ہے اور حضرت حسان کے شعر میں بھی یہی معنی کئے گئے ہیں کہ وہ اپنے غلبہ کے وقت اللہ کا بھی لحاظ نہ کریں گے نہ کسی اور کا۔ یہی لفظ ال ایل بن کر جبریل میکائیل…
Read the full tafseer →سورة التَّوْبَة 10
یعنی بظاہر تو وہ صلح کی شرطیں طے کرتے ہیں مگر دل میں بدعہدی کا ارادہ ہوتا ہے اور اس کا ثبوت تجربے سے اس طرح ملتا ہے کہ جب کبھی انہوں نے معاہدہ کیا توڑنے ہی کے لیے کیا۔
سورة التَّوْبَة 11
یعنی ایسے لوگ ہیں جنہیں نہ اخلاقی ذمہ داریوں کا احساس ہے اور نہ اخلاق کی پابندیوں کے توڑنے میں کوئی باک۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
اس کے بعد عہد شکنی کرنے والوں کا جہاں یہ حال بیان فرمایا کہ ان لوگوں کے دلوں میں شروع ہی سے خیانت تھی وفائے عہد کا ارادہ ہی نہ تھا یہاں بھی اَكْثَرُهُمْ فٰسِقُوْنَ فرما کر اشارہ کردیا کہ ان میں بھی سب کا یہ حال نہیں بعض شریف لوگ ایسے بھی ہیں جو عہد پر قائم رہنا چاہتے تھے مگر دوسروں کے سامنے ان کی بات نہ چلی۔
یہ وہی مضمون ہے جس کی ہدایت قرآن کریم نے دوسری جگہ صاف لفظوں میں اس طرح دی ہے (آیت) لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓي اَلَّا تَعْدِلُوْا۔ یعنی کسی قوم کی عداوت تمہیں اس پر آمادہ نہ کردے کہ تم انصاف کو چھوڑ بیٹھو۔
اس کے بعد نویں آیت میں ان غدار مشرکین کی غداری کی علت اور ان کے مرض…
Read the full tafseer →فرمایا كَيْفَ وَاِنْ يَّظْهَرُوْا عَلَيْكُمْ لَا يَرْقُبُوْا فِيْكُمْ اِلًّا وَّلَا ذِمَّةً الایہ۔
معاشرتی و سیاسی تعلقات کی بنیادیں : تعلقات کی بنیاد دو ہی چیزیں پر ہوتی ہے۔ معاشرتی تعلقات کی بنیاد رشتہ رحم و قرابت کے پاس ولحاظ پر اور سیاسی روابط کی بنیاد باہمی معاہدات کی عائد کردہ ذمہ داریوں کے احترام پر۔ پہلی کو ’ ال ‘ سے تعبیر فرمایا ہے جو ان حقوق کی طرف اشارہ کرتا ہے جو ایک اصلی و نسلی، ایک جوہر و معدن سے ہونے یا قرابت اور پڑوس کی بنا پر ایک دوسرے پر آپ سے آپ قائم ہوجاتے ہیں۔ دوسری کو ذمہ سے تعبیر فرایا ہے جو ان ذمہ داریوں کی طرف اشارہ کرتا ہے جو کسی معاہدہ میں شریک ہونے والی پارٹیوں پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
8۔ 1 مشرکین کی زبانی باتوں کا کیا اعتبار، جب کہ ان کا یہ حال ہے کہ اگر تم پر غالب آجائیں تو کسی قرابت اور عہد کا پاس نہیں کریں گے۔ بعض مفسرین کے نزدیک پہلا کیف مشرکین کے لئے ہے اور دوسرے سے یہودی مراد ہیں، کیونکہ ان کی صفت بیان کی گئی ہے کہ اللہ کی آیتوں کو کم قیمت پر بیچ دیتے ہیں۔ اور یہ وطیرہ یہودیوں کا ہی رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
7: آیت نمبر 7 سے لے کر آیت نمبر 16 تک اتنی بات تو واضح ہے کہ اس میں کفار قریش کا ذکر ہے، اور ان کی بد عہدی کا ذکر کیا گیا ہے اور مسلمانوں کو تاکید کی گئی ہے کہ ان کے قول وقرار پر بھروسہ نہ کریں، اور اگر وہ بد عہدی کریں تو ان کے ساتھ جنگ کی جائے۔ لیکن اس معاملے میں مفسرین کی آراء مختلف ہیں کہ یہ آیات کب نازل ہوئی تھیں۔ مفسرین کی ایک جماعت کا کہنا ہے کہ یہ آیتیں فتح مکہ سے پہلے اس وقت نازل ہوئی تھیں جب کفار قریش کے ساتھ مسلمانوں نے حدیبیہ میں جو معاہدہ کیا تھا وہ باقی تھا۔ اور ان آیتوں میں یہ پیشینگوئی کی گئی ہے کہ یہ لوگ اپنے معاہدے پر قائم نہیں رہیں گے لہذا اگر وہ عہد شکنی کریں تو ان کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
اب یہ بات بتائی جاتی ہے کہ اصولاً مشرکین کے ساتھ کے ساتھ اب معاہدے کیوں ممنوع کردیے گئے ؟ اس کے تاریخی اسباب یہاں گنوائے جاتے ہیں۔ عملی ضرورت بتائی جا رہی ہے اور فریقین کے درمیان نظریاتی اور ایمانی جدائیاں اور تضادات کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔
۔۔۔
مشرکین کے ساتھ اللہ اور رسول اللہ کا کوئی عہد کیسے ہوسکتا ہے ؟ وہ تو عہد کرتے بھی اس وقت ہیں جھب وہ تمہارے مقابلے سے عاجز ہوجائیں اور اگر وہ تم پر غالب آجائیں اور فاتح ہوجائیں تو تمہارے ساتھ وہ کام کریں جن کا تم تصور ہی نہیں کرسکتے۔ پھر وہ کسی معاہدے کا بھی خیال نہ رکھیں ، اپنی کسی ذمہ داری کا کوئی پاس نہ رکھیں ، وہ تمہارے خلاف مذموم افعال کے ارتکاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
2 پچھلی آیات میں جو براءۃ کا اعلان کیا گیا تھا، یہاں اس کی حکمت بیان فرماتے ہیں۔ یعنی ان مشرکین عرب سے کیا عہد قائم رہ سکتا ہے اور آئندہ کیا صلح ہوسکتی ہے جن کا حال تم مسلمانوں کے ساتھ یہ ہے کہ اگر کسی وقت ذرا قابو تم پر حاصل کرلیں تو ستانے اور نقصان پہنچانے میں نہ قرابت کا مطلق لحاظ کریں اور نہ قول وقرار کا۔ چونکہ اتفاق سے تم پر غلبہ اور قابو حاصل نہیں ہے، اس لیے محض زبانی عہد و پیمان کر کے تم کو خوش رکھنا چاہتے ہیں، ورنہ ان کے دل ایک منٹ کے لیے بھی اس عہد پر راضی نہیں۔ ہر وقت عہد شکنی کا موقع تلاش کرتے رہتے ہیں۔ چونکہ ان میں اکثر لوگ غدار اور بدعہد ہیں اگر کوئی اکا دکا وفائے عہد کا خیال بھی…
Read the full tafseer →آیت 8 کَیْفَ وَاِنْ یَّظْہَرُوْا عَلَیْکُمْ لاَ یَرْقُبُوْا فِیْکُمْ الاًّ وَّلاَ ذِمَّۃً ط
ایسے لوگوں سے آخر کوئی معاہدہ کیوں کر قائم رہ سکتا ہے جن کا کردار یہ ہو کہ اگر وہ تم پر غلبہ حاصل کرلیں تو پھر نہ قرابت داری کا لحاظ کریں اور نہ معاہدے کے تقدس کا پاس۔
یُرْضُوْنَکُمْ بِاَفْوَاہِہِمْ راضی کرنا چاہتے ہیں تم لوگوں کو اپنے منہ کی باتوں سے
اب وہ صلح کی تجدید کی خاطر آئے ہیں تو اس کے لیے بظاہر خوشامد اور چاپلوسی کر رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ اس طرح آپ لوگوں کو راضی کرلیں۔
وَتَاْبٰی قُلُوْبُہُمْ ج وَاَکْثَرُہُمْ فٰسِقُوْنَ
جو باتیں وہ زبان سے کر رہے ہیں وہ ان کے دل کی آواز نہیں ہے۔ دل سے وہ…
Read the full tafseer →8 چونکہ اب ان کا مسلمانوں پر قابو نہیں رہا اور مسلمان ایک مقابلہ کی طاقت بن چکے ہیں اس لیے وہ معاہدہ کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں لیکن اس وقت بھی زبانی دعوے کر کے تمہیں خوش رکھنا چاہتے ہیں۔ ورنہ ان کے دل ایک منٹ کے لیے بھی اس عہد پر راضی نہیں ہوتے اور عہد شکنی کے لیے مناسب موقعہ کے انتظار میں رہتے ہیں پھر جب انہیں ایسا موقعہ میسر آجاتا ہے تو پھر انہیں نہ اپنا عہد یاد رہتا ہے اور نہ قرابت کا خیال آتا ہے ایسی بدعہد اور دغا باز قوم سے اللہ اور اس کے رسول کا کیا عہد ہوسکتا ہے ؟
Read the full tafseer →16 ۔ اور فسق و بدعملی کی ایک فرد عہد شکنی ہے) گویا ان مشرک جاہلیوں کی ذہینت بھی آج کل کی مہذب فرنگی قوموں کی سی تھی کہ آپس میں معاہدوں میں لحاظ صرف وقتی مصلحت جوئی کا رہے۔ الا۔ ال، کے معنی قرابت و عزیز داری کے ہیں۔ الال علی ماروی عن ابن عباس الرحم والقرابۃ والی ذلک ذھب الضحاک (روح) (آیت) ” فسقون “۔ فاسق تو ہر کافر ہوتا ہے۔ یہاں مقصود ان کی بد اعمالی خصوصا عہد شکنی کو نمایاں کرنا ہے۔ اے ناقضون العھد وکل کافر فاسق ولکنہ ارادھھنا المجاھرین بالقبائح ونقض العھد (قرطبی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–16
آیت نمبر 8 تا 16
ترجمہ : مشرکوں کے لئے اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک کوئی عہد کیسے ہوسکتا ہے ؟ یعنی نہیں ہوسکتا، مراد وہ مشرکین ہیں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ (عہد شکنی کر کے) غداری کی، البتہ جن لوگوں سے تم نے مسجد حرام (حرم) کے قریب حدیبیہ کے مقام پر معاہدہ کیا اور وہ قریش ہیں جن کا ماقبل میں استثنا ہوچکا ہے، تو جب تک وہ تمہارے ساتھ عہد پر قائم رہیں اور معاہدہ کو نہ توڑیں، تو تم بھی ان کے ساتھ وفاء عہد پر قائم رہو، اور ما شرطیہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ متقیوں سے محبت رکھتا ہے، اور رسول ان کے ساتھ عہد پر قائم رہے یہاں تک کہ قریش نے خزاعہ کے خلاف بنی بکر کی مدد کر کے عہد کو توڑ دیا ان…
Read the full tafseer →کیف کیسے۔ تعجب کا مکرر اظہار کیا ‘ اس سے مقصود علت تعجب کا اظہار ہے ‘ یعنی یہ لوگ عہد پر کیسے قائم رہ سکتے ہیں ‘ یا ان لوگوں سے عہد کو پورا کرنے کا کیسے حکم دیا جاسکتا ہے حالانکہ ان کی یہ حالت ہے کہ
وان یظھروا علیکم لا یرقبوا فیکم الا ولا ذمہط حالانکہ اگر وہ تم پر کہیں غلبہ پاجائیں تو تمہارے بارے میں نہ قرابت کا پاس کریں نہ قول وقرار کا۔ لا یرقبوا نگہداشت نہیں کریں گے۔ ضحاک نے کہا : لحاظ نہیں کریں گے۔ قطرب نے کہا : رعایت نہیں کریں گے۔ اِلاًّ قتادہ نے کہا : حلف کا۔ حضرت ابن عباس نے الاًّ کا ترجمہ کیا ہے قرابت۔ یمان نے رشتہ داری اور سدی نے عہد۔ ذِمَّۃً کا ترجمہ بھی عہد ہی ہے ‘ لفظوں کا اختلاف…
Read the full tafseer →(8) اور ان لوگوں کا عہد کیسے قابل رعایت رہے گا، حالانکہ ان کی یہ حالت ہے کہ اگر وہ تم پر غلبہ پاجائیں تو وہ پھر تمہارے بارے میں نہ قرابت کا لحاظ کریں اور نہ کسی قول وقرار کا صرف اپنی زبانی باتوں سے تمہیں یہ لوگ راضی رکھتے ہیں۔
Read the full tafseer →كَيْفَ وَاِنْ يَّظْهَرُوْا عَلَيْكُمْ لَا يَرْقُبُوْا : مشرکین سے ”براءت“ کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کے معاہدے کا کوئی اعتبار نہیں، یہ لوگ زبان سے دوستی اور وفاداری کی میٹھی میٹھی باتیں کرتے ہیں اور دل میں یہ ہے کہ اگر کبھی موقع مل جائے تو معاہدے کو پس پشت ڈال کر ان مسلمانوں کو کچا چبا ڈالیں۔ ”اَلْاِلُّ“ کے معنی عہد، حلف، قرابت سبھی آتے ہیں اور یہاں آگے ”ذِمَّةً“ (عہد) الگ ذکر ہونے کی وجہ سے قرابت مراد ہے۔
Read the full tafseer →قولہ تعالیٰ : کیف وان یظھرو اعلیکم اس پر تعجب کا اعادہ فرمایا کہ ان کے لیے ان کے خبث اعمال کے باوجود عہد ہو، یعنی کیونکر ان کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے حالانکہ اگر وہ تم غالب آجائیں تو نہ لحاظ کریں تمہارے بارے میں کسی رشتہ داری کا اور نہ کسی عہد کا۔ کہا جاتا ہے ظھرت علی فلان یعنی میں اس پر غالب آگیا اور ظھرت البیت میں مکان پر چڑھا۔ اور اسی سے ہے : فما اسطاعو ان یظھر وہ پس انہوں نے طاقت نہ رکھی کہ وہ اس پر غالب آئیں۔ قو کی تعالیٰ : لا یر قبو فیکم الا و لاذمۃ، بر قبوا وہ محافظت ہے کریں۔ اور رقیب حفاظت کرنے والے کو کہتے ہیں اور یہ پہلے گزر چکا ہے۔
الا اس سے مراد عہد ہے۔ یہ حضرت مجاہد اور ابن زید…
Read the full tafseer →1:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الا ولا ذمۃ “ سے مراد ہے اللہ عزوجل ہیں۔
2:۔ ابن منذر وابوالشیخ نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الاولاذمۃ “ سے مراد ہیں۔
3:۔ طیالسی نے نافع بن ارزق (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ابن عباس سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے قول (آیت) ” الا ولا ذمۃ “ کے بارے میں بتایئے۔ تو انہوں نے فرمایا ” الا ولا “ سے قرابت یعنی رشتہ داری مراد ہے اور ذمہ سے عہد مراد ہے پوچھا کیا عرب کے لوگ اس کو جانتے ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے شاعر کو یہ کہتے ہوئے سنا۔
جری اللہ الا کان بینی وبینہم جزای ظلوم لا یوخر عاجلا
ترجمہ : خبردار سنو…
Read the full tafseer →كَيْفَ [ کیسے (ہوگا کوئی عہد) ] وَ [ اس حال میں کہ ] اِنْ [ اگر ] يَّظْهَرُوْا [ وہ لوگ غالب ہوں ] عَلَيْكُمْ [ تم لوگوں پر ] لَا يَرْقُبُوْا [ تو وہ لحاظ نہیں کریں گے ] فِيْكُمْ [ تم میں ] اِلًّا [ کسی رشتہ داری کا ] وَّلَا ذِمَّةً ۭ [ اور نہ کسی عہد کا ] يُرْضُوْنَكُمْ [ وہ راضی کرتے ہیں تم لوگوں کو ] بِاَفْوَاهِهِمْ [ اپنے مونہوں سے (یعنی باتوں سے) ] وَ [ حالانکہ ] تَاْبٰي [ انکار کرتے ہیں ] قُلُوْبُهُمْ ۚ [ ان کے دل ] وَاَكْثَرُهُمْ [ اور ان کے اکثر ] فٰسِقُوْنَ [ عہد سے نکلنے والے ہیں ]
ء ل ل : (ن) الا ۔ کسی حالت کا اتنا صاف اور واضح ہونا کہ انکار ممکن نہ ہو ۔ رشتہ دار ہونا ۔ ال ، رشتہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
مشرکین کو کسی قرابت داری اور معاہدہ کی پاسداری نہیں
ان آیات میں اول تو مشرکین کی بد عہدی کے مزاج کا تذکرہ فرمایا اور فرمایا کہ ان کا عہد اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ انہوں نے پہلے بھی عہد توڑا ہے اور آئندہ بھی توڑتے رہیں گے۔ ان کا حال یہ ہے کہ ظاہر میں زبانوں سے عہد ہے اور دلوں میں بغض کی آگ ہے اگر مسلمانوں پر غلبہ پاجائیں تو نہ کسی رشتہ داری کا لحاظ کریں اور نہ کسی معاہدہ کی ذمہ داری کا۔ بس یہ مسلمانوں کو اپنی زبانی باتوں سے راضی رکھنا چاہتے ہیں۔ (وفائے عہد اور اطاعت کا زبانی وعدہ کرتے ہیں) اور ان کے دل ان کی اپنی زبانی باتوں سے راضی نہیں ہیں۔ اور ان میں اکثر فاسق ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–12
اعلان براءت کی علت اور حکمت
قال اللہ تعالیٰ ۔ کیف یکون للمشرکین عھد۔۔۔ الی۔۔۔ لعلھم ینتھون
(ربط): گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کی براءت کا اعلان فرمایا۔ اب یہاں سے ان کے عہد کے تمام اور ختم کردینے کی علت اور حکمت بیان فرماتے ہیں کہ ان لوگوں کا عہد اور ان اور ان کی صلح قابل اعتبار نہیں صلح کے وقت ہی ان کے دل میں دغا ہوتی ہے جو بعد میں ظاہر ہوتی ہے اور ان کی بار بار عہد شکنیوں کے تجربہ سے یہ واضح ہوچکا ہے کہ یہ لوگ وفا کرنے کے لیے عہد نہیں کرتے بلکہ توڑنے کے لیے کرتے ہیں کہ اس وقت عہد کر کے مہلت حاصل کرلیں پھر موقعہ پا کر عہد کو توڑیں۔ جن لوگوں نے اب تک عہد نہیں توڑا نیت ان کی بھی یہی…
Read the full tafseer →8:“ کَیْفَ یَکُوْنُ لِلْمُشْرِکِیْنَ عَھْدٌ ” کی علت ہے یہاں مشرکین کے خبث باطن اور فساد نیت کو ظاہر فرمایا کہ ان سے وفاء عہد کیونکر ہوسکتا ہے اگر انہیں کبھی تم پر غلبہ حاصل ہوجائے تو وہ نہ تمہاری رشتہ داری کا پاس ولحاظ کریں گے اور نہ اپنے عہد و پیمان کا ان کی چکنی چپڑی باتوں پر مت اعتماد کرو۔ ان کا باطن خبیث اور ناپاک ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
ربط آیات :
اس سورة کی ابتداء میں پہلے کفار ومشرکین سے برائت کا اعلان ہوا ، پھر انہیں سوچ وبچار کرنے کے لیے چار ماہ کی مہلت دیے جانے کا ذکر ہوا کہ یہ مدت گزرنے کے بعد حالت جنگ قائم ہو جائیگی بشرطیکہ کفار ومشرکین نے ایمان نہ قبول کرلیا ہو یا وہ ملک سے چلے نہ گئے ہوں پھر یہ بیان ہوا کہ اس مہلت کے باوجود اگر کوئی غیر مسلم دین اسلام کے متعلق آگاہی حاصل کرنا چاہے ، قرآنی پروگرام کو سننے پر آمادہ ہوا وہ اہل ایمان سے اس مقصد کے لیے پناہ طلب کرے تو اسے پناہ دے دی جائے بلکہ اسلام کی وضاحت کرنے کے بعد اسے مزید مہلت دی جائے اور اسے اس کی جائے امن تک پہنچا دیا جائے تا کہ وہ ہر قسم کے دبائو سے آزاد ہو کر…
Read the full tafseer →كَيْفَ وَاِنْ يَّظْہَرُوْا عَلَيْكُمْ لَا يَرْقُبُوْا فِيْكُمْ اِلًّا وَّلَا ذِمَّۃً 0 ۭ يُرْضُوْنَكُمْ بِاَفْوَاہِہِمْ وَتَاْبٰي قُلُوْبُہُمْ 0 ۚ وَاَكْثَرُہُمْ فٰسِقُوْنَ 8 ۚ
كيف
كَيْفَ : لفظ يسأل به عمّا يصحّ أن يقال فيه : شبيه وغیر شبيه، كالأبيض والأسود، والصحیح والسّقيم، ولهذا لا يصحّ أن يقال في اللہ عزّ وجلّ : كيف، وقد يعبّر بِكَيْفَ عن المسئول عنه كالأسود والأبيض، فإنّا نسمّيه كيف، وكلّ ما أخبر اللہ تعالیٰ بلفظة كَيْفَ عن نفسه فهو استخبار علی طریق التنبيه للمخاطب، أو توبیخا نحو : كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ [ البقرة/ 28] ، كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ [ آل عمران/ 86] ، كَيْفَ يَكُونُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–12
ترکیب : عہد اسم یکون اور خبر یا کیف ہے جو استفہام کے لئے مقدم کردیا گیا ہے یا للمشرکین ہے اور عند دونوں صورتوں عہدا یا یکون کا ظرف ہے یا عند اللّٰہ ہے فما زمانیہ یا شرطیہ ای فاستقیموا لھم مدۃ استقامتھم وان استقاموا فاستقیموا۔ یرضونکم حال ہے یا جملہ مستانفہ فان تابوا شرط فاخوانکم جواب۔
تفسیر : اس مقام پر ان کے عہد کو تمام کرنے کا سبب بیان فرماتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک مشرکین کا عہد کیونکر باقی رہ سکتا ہے ؟ بجز ان شخصوں کے کہ جن سے تم نے مسجد الحرام یعنی خانہ کعبہ کے پاس سال حدیبیہ میں عہد کیا تھا یعنی قریش کا ایک گروہ سب کو لوگوں نے بنو حمزہ بنو کنانہ کہا ہے جن کا پہلی آیات میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
کَیْفَ یَکُوْنُ لِلْمُشْرِکِیْنَ عَہْدٌ عِنْدَ اللّٰہِ وَعِنْدَ رَسُوْلِہٖٓ اِلَّا الَّذِیْنَ عٰھَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ج فَمَا اسْتَقَامُوْا لَکُمْ فَاسْتَقِیْمُوْا لَہُمْ ط اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ کَیْفَ وَاِنْ یَّظْھَرُوْا عَلَیْکُمْ لَا یَرْقُبُوْا فِیْکُمْ اِلًّا وَّلاَ ذِمَّۃً ط یُرْضُوْنَکُمْ بِاَفْوَاھِھِمْ وَتَاْبٰی قُلُوْبُھُمْ ج وَاَکْثَرُھُمْ فٰسِقُوْنَ ج ( التوبۃ : 7، 8)
(کیسے رہ سکتا ہے مشرکین سے کوئی معاہدہ اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک ؟ ہاں ! جن سے تم نے مسجدِحرام کے پاس معاہدہ کیا تو جب تک وہ قائم رہیں تم بھی قائم رہو، بیشک اللہ ایفائے عہد کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
فہم القرآن
ربط کلام : عہد اور رشتہ داری کے بارے میں کفار اور مشرکین کا رویہ۔
مشرکین اور اسلام دشمن طاقتوں کا ہمیشہ سے رویہ رہا ہے کہ جب مسلمانوں کے مقابلے میں اپنے آپ کو کمزور پاتے ہیں تو صلح اور اتحاد کا پرچم اٹھاکر مسلمانوں کو زبانی کلامی راضی کرنے کی کوشش کرتے ہیں اس کے لیے، بقائے باہمی، انسانی ہمدردی اور مذاہب کے درمیان ہم آہنگی کے نعرے لگاتے ہیں۔ حالانکہ ان باتوں کی ان کے نزدیک کوئی حیثیت نہیں ہوتی اور دل ہی دل میں یہ انکار کررہے ہوتے ہیں۔ جونہی مشکل وقت گزر جائے اور اپنے آپ کو طاقت ورمحسوس کریں تو کسی معاہدے اور تعلق داری کا پاس نہیں کرتے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان کے سامنے ہمیشہ مالی…
Read the full tafseer →کافروں کو کسی چیز کا پاس لحاظ نہیں :
آیت 8: کَیْفَ وَاِنْ یَّظْھَرُوْا عَلَیْکُمْ (کیسے ؟ حالانکہ ان کی حالت یہ ہے کہ اگر وہ تم پر کہیں غلبہ پاجائیں) دوبارہ اس لئے لائے تاکہ مسلمانوں کو بتلا دیا جائے کہ مشرکین سے عہد کی پابندی بعید تر ہے۔
نحو : فعل کو معلوم ہونے کی بناء پر حذف کردیا۔ ای کیف یکون لھم عہد و حالہم انہم ان یظہروا علیکم وہ معاہدہ کی پاسداری کیونکر کریں گے کہ انکا حال یہ ہے کہ اگر وہ تم پر کامیابی پالیں اس کے بعد بھی کہ معاہدے کی پختہ قسمیں اٹھا چکے لَایَرْقُبُوْا فِیْکُمْ اِلًّا (تمہارے متعلق وہ پاس ولحاظ نہ کریں گے قربت کا) وہ کسی قسم کی رعایت نہ کریں گے اور نہ قرابت کا لحاظ وَّ…
Read the full tafseer →(8) ” کیف وان یظھروا علیکم “ یہ بھی پہلی آیت پر لوٹ رہا ہے یعنی کیسے ہوسکتا ہے ان کے لئے عہد اللہ کے پاس کہ اگر وہ غالب آجائیں تم پر ” لا یرقبوا فیکم الا ولا ذمۃ “ اخفش (رح) فرماتے ہیں کہ کیسے تم ان سے قتال نہیں کرتے حالانکہ اگر وہ تم پر کامیاب ہوجائیں تو وہ حفاظت نہ کریں گے اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ ” لا یرقبوا “ کا معنی وہ نہیں انتظار کریں گے۔
قطرب کہتے ہیں کہ معنی یہ ہے کہ وہ تم میں کسی رشتہ داری کی رعایت نہیں کرتے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ” الا “ بمعنی قرابت ہے اور یمان کہتے ہیں رشتہ داری کے معنی میں ہے اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ ” الال “ بمعنی عہد ہے۔ سدی (رح) فرماتے ہیں کہ ” الا ولا…
Read the full tafseer →8۔ اوپر مشرکوں کی ظاہری بدعہدی کا ذکر فرما کر اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کے دل کی باتوں سے آنحضرت ﷺ کو یہ خبردار کیا کہ کیوں کر ان لوگوں سے صلح قائم رکھ سکو گے ان کی حالت تو یہ ہے کہ فقط منہ سے قول وقرار کرتے ہیں اور ان کے دل میں تو یہ ہے کہ اگر مسلمانوں پر ان کا قابو پڑجاوے تو ایک کوئی بھی زندہ نہ رکھیں نہ قرابت کا لحاظ کریں ورنہ اپنے عہد کا یہ لوگ بڑے ہی بےحکم ہیں ان کے دل کب مانتے ہیں جو یہ اپنے قول پر قائم رہیں گے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے اِلاَّ وَّلا َذِمَّۃً کی تفسیر میں یہ بیان کیا ہے کہ اس سے مراد قرابت اور عہد ہے اوپر گذر چکا ہے کہ صلح حدیبیہ کے عہد پر بعضے مشرک قبیلے قائم تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
آیت 8
(کیف) ” کیسے “ یعنی اللہ تعالیٰ کے ہاں مشرکین کے لئے کیسے عہد و میثاق ہوسکتا ہے۔ (وان یظھروا علیکم) ” کہ اگر وہ تم پر غلبہ پالیں ‘ ان کا حال تو یہ ہے کہ اگر ان کو تم پر قدرت اور غلبہ حاصل ہو تو تم پر کوئی نہیں کریں گے۔ : (آیت) ” تو نہ قرابت کا لحاظ کریں نہ عہد کا۔ “ یعنی وہ کسی عہد اور قرابت کا لحاظ نہیں رکھیں گے، وہ تمہارے بارے میں اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈریں گے، بلکہ وہ تمہیں بدترین عذاب دیں گے۔ اگر وہ غالب آجائیں تو ان کا تمہارے ساتھ یہ حال ہوگا لیکن اگر وہ تم سے ڈر کر تمہارے ساتھ کوئی معاملہ کرتے ہیں تو تمہیں ان کے بارے میں دھوکے میں نہیں آنا چاہیے، کیونکہ (یرضونکم باقواھھم وتابی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
مشرک حربی اگر اسلام فہمی کے لئے امان طلب کرے تو امان دی جائے
قول باری ہے (و ان احد من المشرکین استجارک فاجرہ حتی یسمع کلام اللہ اور اگر مشرکین میں سے کوئی شخص پناہ مانگ کر تمہارے پاس آنا چاہے (تاکہ اللہ کا کلام سنے) تو اسے پناہ دے دو یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سن لے) آیت حربی کو امان دینے کے جواز کی مقتضی ہے جب وہ ہم سے اسلام کی صداقت کو ثابت کرنے والے دلائل سننے کی خاطر پناہ مانگ کر ہمارے پاس آنا چاہے تو اسے پناہ دینا ہمارے لئے جائز ہوگا اس لئے کہ قول باری (استجارک) کے معنی ہیں تم سے امان طلب کرے “ اور قول باری (فاجرہ) کے معنی ہیں ” اسے امان دے دو “ تاکہ دلائل موجود ہیں یہ امر اس پر بھی…
Read the full tafseer →19 معاشرتی استحکام کی دو اہم بنیادوں کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ رشتہ داری اور عہد و پیمان کی پابندی معاشرتی استحکام کی دو اہم بنیادیں ہیں۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ اگر یہ تم پر کہیں غلبہ پالیں تو تمہارے بارے میں نہ کسی رشتہ داری کا پاس ولحاظ کریں اور نہ کسی عہد و پیمان کا۔ سو یہ ایسے بےوفا اور دھوکہ باز ہیں کہ نہ کسی رشتہ داری کا لحاظ کرتے ہیں جو کہ دو گروہوں اور فریقوں کے درمیان ایک قدرتی اور غیر اختیاری رابطہ اور بندھن ہوتا ہے اور نہ ہی یہ کسی ایسے عہد و پیمان کا پاس ولحاظ کرتے ہیں جو کہ دو طرفوں کے درمیان اپنے ارادہ و اختیار سے عائد کردہ ہوتا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
بد عہد قوم کے اوصاف
تشریح : اب ان آیات میں تقریباً پچھلی آیات کا اعادہ کیا گیا ہے۔ اور مسلمانوں کو سمجھایا جا رہا ہے کہ مومن اور کافر کی فطرت میں بہت فرق ہے مومن عہد کا پاس سختی سے کرتا ہے جبکہ کافر و مشرک فطرتاً بدعہد، منافق اور بدخصلت ہوتا ہے اس سے مخلص ہونے کی توقع ہرگز نہیں کرنی چاہیے، وہ تو موقع پاتے ہی مسلمانوں کو تکلیف پہنچانے اور نقصان پہنچانے کی پوری کوشش کرتے ہیں اور ہرگز کوئی لحاظ نہیں کرتے نہ تو اپنے رشتہ دار ہونے کا خیال کرتے ہیں اور نہ ہی عہد و پیماں کا ہی خیال کرتے ہیں، اس لیے ان لوگوں پر اعتبار کرتے ہوئے بڑے ہوشیار اور محتاط رہو۔ جب معاہدہ منسوخ کرنے کا اعلان ہوا تو ان لوگوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–16
آیات 7 تا 16
اسرار و معارف
مشرکین کے وعدوں کا کیا بھر وسہ اور وہ بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے نزدیک کہ جب انھیں عظمت باری کا احساس ہے نہ عظمت رسالت کا پاس مزاج میں کفر وشرک رچابسا ہوا ہے تو ایسے لوگوں سے خیر کی کیا تو قع کی جاسکتی ہے یہی وجہ ہے کہ انھوں نے خود بد عہدی کی اور نقصان بھی اٹھایا مسلمانوں نے عہد نبھایا تو فتح دکامرانی سے سرفراز ہوئے سوائے اس جماعت یا ان لوگوں کے جنہوں نے حرم کے نزدیک معاہدہ کیا تھا اگرچہ وہ بھی ابھی تک اسلام کی برکات سے محروم تھے مگر ان سے بھلے تھے کہ انھوں نے عہد نبھایا۔
اچھی بات کی تعریف
گویا اچھے عمل کی تعریف کی جانی چاہیئے خواہ وہ کافر سے ظاہر ہوبھلائی بہرحال…
Read the full tafseer →ف 8 مشرکین سے برات کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کے معاہدہ کا کوئی اعتبار نہیں۔ یہ لوگ زبان سے دوستی اور وفاداری کی میٹھی میٹھی باتیں کرتے ہیں اور دل میں یہ ہے کہ اگر کبھی موقع مل جائے تو معاہدہ کو پس پشت ڈال کر ان مسلمانوں کو کچا چبا ڈالیں۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں الال کے معنی قرابت اور ذمہ کے معنی عہد کے ہیں۔ ( ابن کثیر )
Read the full tafseer →(9:8) کیف۔ یہاں بھی استفہام انکاری یا اظہار حیرت و تعجب کے لئے ہے اس کی تکرار مشرکین کی متواتر عہد شکنی اور عدم ثبات کے لئے ہے۔ تقدیر کلام ہو ہے :۔ کیف یکون لہم عھد وان یظھروا علیکم۔ اور کیسے وہ سکتا ہے معاہدہ ان کے ساتھ جب کہ حال یہ ہے کہ تم پر برتری حاصل ہوجائے تو ۔۔ الخ۔
لا یرقبوا۔ مضارع منفی مجزوم (بوجہ جواب شرط) رقب مصدر۔ (باب نصر) پاس یا لحاظ نہیں کریں گے۔ رعایت نہیں کریں گے۔ رقب یرقب رقوب ورقابۃ رقبان۔ نگرانی کرنا۔ نگہبانی کرنا۔ انتظار کرنا۔ ڈرانا۔ الرقبۃ اصل میں گردن کو کہتے ہیں۔ پھر عرف عام میں غلام کے معنوں میں استعمال ہونے لگا ہے۔ قرآن حکیم ہیں ہے :۔ ومن قتل مؤمنا خطأتحریر رقبۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–12
آیات : 7 تا 12
لغات القرآن۔
استقاموا۔ سیدھے ہیں۔ ان یظھروا۔ اگر وہ غالب آجائیں۔ لا یرقبوا۔ لحاظ نہ کریں گے۔ الا ۔ قریبی دوستی۔ رشتہ داری۔ ذمۃ۔ عہد۔ معاہدہ۔ یرضون۔ وہ راضی کرتے ہیں۔ افواہ۔ (فوہ) ۔ منہ۔ اشتروا۔ خرید لیا۔ لے لیا۔ ثمنا قلیلا۔ گھٹا ا قیمت۔ تھوڑی قیمت۔ المتعدون۔ حد سے نکل جانے والے۔ اخوان۔ (اخ) ۔ بھائی۔ نکثوا۔ توڑ دیں۔ ایمانھم۔ اپنی قسمیں۔ طعنوا۔ طعنے دیں۔ برائیاں نکالیں۔ ائمۃ الکفر۔ کفر کے سردار ۔ سرغنے۔
تشریح :
قرآن کریم کی ان آیات سے جو ہدایات ربانی فراہم ہوتی ہیں وہ حسب ذیل ہیں۔
(1) وہ معاہدے جو رسول اللہ ﷺ نے مسجد حرام کے پاس اور اس کے آس پاس کے قبیلوں یعنی بنو کنانہ، بنو…
Read the full tafseer →اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مشرکون کے دل کی باتوں سے آنحضرت ﷺ کو خبردار کیا کہ کیونکر ان لوگوں سے صلح قائم رکھ سکو گے۔ ان کی حالت تو یہ ہے کہ اگر مسلمانوں پر ان کا قابو پڑجاوے تو ایک کو بھی زندہ نہ رکھیں۔ نہ قرابت کا لحاظ کریں اور نہ اپنے عہد کا۔ یہ لوگ بڑے ہی بےحکم ہیں۔ ان کے دل کب مانتے ہیں جو یہ لوگ اپنے قول پر قائم رہیں گے۔ غرضیکہ اس آیت میں زبان کا پاس نہ رکھنے اور بد عہدی کی بڑی مذمت آئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
[6] یعنی بظاہر تو وہ صلح کا معاہدہ کرتے ہیں مگر دل میں بدعہدی کا ارادہ ہوتا ہے۔ چناچہ جب کبھی معاہدہ کیا تو توڑنے ہی کے لئے کیا۔ ایسے لوگوں کا عہد کیونکر عہد سمجھا جاسکتا ہے۔
[7] یعنی بنی کنانہ اور بنی ضمرہ کے ساتھ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–12
(ف 1) مقصد یہ ہے کہ ان لوگوں کے ساتھ معاہدہ کیوں کر قائم رہ سکتا ہے جب ان کے دلوں میں مسلمان کے خلاف سخت جذبات غیظ وغضب مشتعل ہیں اور موقع آنے پر یہ ذرا بھی نہیں چوکتے ، مسلمان چاہے عزیز ہو ، چاہے قریبی ، یہ لوگ وقت پر وار کرنے سے باز نہیں آتے ۔
زبان سے ضرور کہتے ہیں ہم تمہارے دوست ہیں ، مگر دل میں بدستور خبث پنہاں ہے ۔
اور یہ عجیب بات ہے کہ آج بھی مشرک کی یہی ذہنیت ہے مسلمان سے جب ملے گا تو نہایت عجز و انکسار کے ساتھ زبان سے نہایت میٹھا ہے ، مگر دل کا کڑوا اور ناپاک ہے ۔
حل لغات :
الا : قرابت ، رشتہ داری ۔
ذمۃ : عہد ۔
Read the full tafseer →8 بھلا ان لوگوں کی رعایت کیوں کر ہوسکتی ہے اور ان سے عہد کیوں کر قائم رہ سکتا ہے جن کی حالت یہ ہے کہ اگر وہ کسی وقت تم پر غلبہ پالیں تو تمہارے بارے میں نہ کسی قرابت کا لحاظ کریں اور نہ کسی عہدو پیمان کا وہ تم کو محض اپنی زبانی باتوں سے خوش کرنا چاہتے ہیں اور صرف اپنے منہوں سے تم کو راضی کرتے ہیں اور ان کے دل ان کی باتوں کو نہیں مانتے اور ان میں سے اکثر بدعہد ہیں۔
یعنی جو عہد کا پابند نہیں رہنا چاہتے جب دل کسی بات سے متفق نہ ہو اور خوف کی وجہ سے ظاہری طور پر اقرار کرلیں تو اس اقرار کا ایسا ہی حشر ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
ف 5۔ کیونکہ رعایت تو اس عہد کی ہوتی ہے جس کو دوسراشخص خود نہ توڑے ورنہ رعایت نہیں باقی رہتی مطلب یہ کہ یہ لوگ عہد کو توڑیں گے اس وقت اس طرف سے بھی رعایت نہ ہوگی۔
6۔ یعنی ان سے امید ہے کہ یہ عہد قائم رکھیں گے۔
7۔ یعنی جب تک یہ لوگ عہد نہ توڑیں تم بھی مدت عہد کی ان سے پوری کرو چناچہ زمانہ نزول برات میں اس مدت میں نوماہ باقی رہے تھے اور بوجہ ان کی عہد شکنی نہ کرنے کے ان کی یہ مدت پوری کی گئی۔
8۔ پس تم بھی احتیاط رکھنے سے پسندیدہ حق ہوجاو گے۔
Read the full tafseer →بد عہدوں اور خائن لوگوں کا عہد بھی آخر کوئی عہد ہو سکتا ہے ؟
12: یہ تو اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہوا کہ اس نے تم کو مشرکوں پر غلبہ دے دیا جس کا اصل باعث تمہارا عہد پر قائم رہنا تھا۔ جب تک ان کا غلبہ رہا وہ بد عہدیاں کرتے رہے اور اب جب تم کو غلبہ عطا کیا تو اگر تم بھی بد عہدیاں کرو تو آخر تم میں اور ان میں کیا فرق رہا ؟ رہی ان کی بات کہ اب وہ غلبہ پاجائیں تو کیا کریں گے ؟ بالکل وہی جو آج تک کرتے آرہے ہیں کہ نہ وہ تمہاری قرابت داری کا کوئی لحاظ کریں گے اور نہ ہی کسی عہد و پیمان کا کوئی پاس کریں گے۔ اس لئے کہ یہ مثل ہے ” لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے “ اور یہ کہ ” اشارہ ہمیشہ عقل والوں کے لئے…
Read the full tafseer →Earlier when it was said that disbelieving people had nursed betrayal in their hearts right from the beginning and had no intention of staying faithful to their pledge, an exception was also granted. Similarly, when the text says: أَكْثَرُهُمْ فَاسِقُونَ (Most of them are sinners - 8), it hints that all of them were not like that. There were some nice people among them too, who wanted to stand by their commitment, but they were not heard before others.
This is the same subject the Holy Qur'an takes up elsewhere saying in very clear terms: لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَلَّا…
Read the full tafseer →